
حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! (سن لو) ہر سال ہر گھر والے پر قربانی اور «عتیرہ» ہے کیا تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جس کو لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عتیرہ» منسوخ ہے یہ ایک منسوخ حدیث ہے۔ (عتیرہ» وہ ذبیحہ ہے جو اوائل اسلام میں رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کیا جاتا تھا، اسی کا دوسرا نام «رجبیہ» بھی تھا، بعد میں «عتیرہ» منسوخ ہو گیا۔) (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الضَّحَايَا کتاب: قربانی کے مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِيجَابِ الأَضَاحِي؛قربانی کے وجوب کا بیان؛جلد٣،ص٩٣؛حدیث نمبر؛٢٧٨٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اضحی کے دن (دسویں ذی الحجہ کو) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے“، ایک شخص نے عرض کی: اس بارے میں اپ کی کیا رائے ہے اگر مجھے صرف دودھ دینے والا جانور ملتا ہے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تم اپنے بال کتر لو، ناخن تراش لو، مونچھ کتر لو، اور زیر ناف کے بال لے لو، اللہ عزوجل کے نزدیک (ثواب میں) بس یہی تمہاری پوری قربانی ہے“۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الضَّحَايَا؛قربانی کے مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِيجَابِ الأَضَاحِي؛قربانی کے وجوب کا بیان؛جلد٣،ص٩٣؛حدیث نمبر؛٢٧٨٩)
حنش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الضَّحَايَا؛قربانی کے مسائل؛ باب الأُضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان؛جلد٣،ص٩٤؛حدیث نمبر؛٢٧٩٠)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے اس نے ذبح کرنا ہو تو جب ذوالحجہ کا چاند نکل آئے تو اپنے بال اور ناخن نہ کترے“۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں راویوں نے عمرو بن مسلم نامی راوی کے بارے میں امام مالک اور محمد بن عمرو پر اختلاف کیا ہے بعض نے اس کا نام عمر جبکہ اکثر نے اس کا نام عمرو روایت کیا ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہ عمرو بن مسلم بن اکیمہ لیثی جندعی ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الضَّحَايَا؛قربانی کے مسائل؛باب الرَّجُلُ يَأْخُذُ مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ؛قربانی کا ارادہ کرنے والا ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں بال نہ کاٹے؛جلد٣،ص٩٤؛حدیث نمبر؛٢٧٩١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کی آنکھ سیاہ ہو، سینہ، پیٹ اور پاؤں بھی سیاہ ہوں، پھر اس کی قربانی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ چھری لاؤ“، پھر فرمایا: ”اسے پتھر پر تیز کرو“، تو میں نے چھری تیز کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ میں لیا اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: «بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد» ”اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں، اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد کی جانب سے اسے قبول فرما“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قربانی کی۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الضَّحَايَا؛قربانی کے مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَايَا؛کس قسم کا جانور قربانی میں بہتر ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص٩٤؛حدیث نمبر؛٢٧٩٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کیے، جبکہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے قربان کیے تھے جو سینگوں والے اور چتکبرے تھے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الضَّحَايَا؛قربانی کے مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَايَا؛کس قسم کا جانور قربانی میں بہتر ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص٩٤؛حدیث نمبر؛٢٧٩٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سینگوں والے چتکبرے دو مینڈھو کی قربانی کی آپ نے ذبح کرتے ہوئے تکبیر کہی بسم اللہ پڑھی اور اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛قربانی کے مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَايَا؛کس قسم کا جانور قربانی میں بہتر ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص٩٥؛حدیث نمبر؛٢٧٩٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سینگ دار دو مینڈھے قربان کئے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك وعن محمد وأمته باسم الله والله أكبر» ”میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ابراہیم کے دین پر یکسوئی سے گامزن رہتے ہوئے، مشرکوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز میری تمام عبادتیں، میرا جینا اور میرا مرنا خالص اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی عطا ہے، اور خاص تیری رضا کے لیے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول کر، (بسم اللہ واللہ اکبر) اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ بہت بڑا ہے“ پھر ذبح کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛قربانی کے مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَايَا؛کس قسم کا جانور قربانی میں بہتر ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص٩٥؛حدیث نمبر؛٢٧٩٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سینگوں والا نر مینڈھا قربان کیا کرتے تھے جس کی آنکھوں،منہ اور پاؤں کے پاس سہائی یعنی سیاہ بال ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛قربانی کے مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَايَا؛کس قسم کا جانور قربانی میں بہتر ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص٩٥؛حدیث نمبر؛٢٧٩٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:صرف"مسنہ"کی قربانی کرو البتہ اگر اس کے حصول میں تمہیں دشواری ہو تو بھیڑ کا"جزع"ذبح کر دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يَجُوزُ مِنَ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا؛کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟؛جلد٣،ص٩٥؛حدیث نمبر؛٢٧٩٧)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں قربانی کے جانور تقسیم کیے تو آپ نے مجھے بکری کا بچہ"جذع"عطا کر دیا میں اسے لے کر واپس آنے لگا تو میں نے عرض کی یہ"جذع"ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی قربانی کر دو میں نے اس کی قربانی کر دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يَجُوزُ مِنَ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا؛کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟؛جلد٣،ص٩٥؛حدیث نمبر؛٢٧٩٨)
کلیب کہتے ہیں کہ ہم مجاشع نامی بنی سلیم کے ایک صحابی رسول کے ساتھ تھے اس وقت بکریاں مہنگی ہو گئیں تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے تھے: ”جذع (ایک سالہ) اس چیز سے کفایت کرتا ہے جس سے «ثنی» (وہ جانور جس کے سامنے کے دانت گر گئے ہوں) کفایت کرتا ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يَجُوزُ مِنَ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا؛کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟؛جلد٣،ص٩٦؛حدیث نمبر؛٢٧٩٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی، اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، تو اس نے قربانی کی (یعنی اس کو قربانی کا ثواب ملا) اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو وہ گوشت کی بکری ہو گی“، یہ سن کر حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر ڈالی اور میں نے یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے اور پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی، میں نے خود کھایا، اور اپنے اہل و عیال اور ہمسایوں کو بھی کھلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت کی بکری ہے“، تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میری طرف سے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی (یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يَجُوزُ مِنَ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا؛کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟؛جلد٣،ص٩٦؛حدیث نمبر؛٢٨٠٠)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے ماموں حضرت ابو بردر رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تمہاری بکری صرف گوشت والی بکری ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے پاس گھر میں پلا ہوا بکری کا ایک سال کا بچہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے ذبح کر لو لیکن تمہارے علاوہ کسی اور کے لیے یہ جائز نہیں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يَجُوزُ مِنَ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا؛کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟؛جلد٣،ص٩٦؛حدیث نمبر؛٢٨٠١)
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ: کون سا جانور قربانی میں درست نہیں ہے؟ تو آپ نے کہا:ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، میری انگلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں اور میری پوریں آپ کی پوروں سے چھوٹی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”چار طرح کے جانور قربانی کے لائق نہیں ہیں، ایک کانا جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو، اور چوتھے دبلا بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو“، میں نے کہا: مجھے قربانی کے لیے وہ جانور بھی برا لگتا ہے جس کے دانت میں نقص ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہیں ناپسند ہو اس کو چھوڑ دو لیکن کسی اور پر اس کو حرام نہ کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( «لا تنقى» کا مطلب یہ ہے کہ) اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الضَّحَايَا؛قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے؛جلد٣،ص٩٧؛حدیث نمبر؛٢٨٠٢)
یزید ذومصر کہتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: ابوالولید! میں قربانی کے لیے جانور ڈھونڈھنے کے لیے نکلا تو مجھے سوائے ایک بکری کے جس کا ایک دانت گر چکا ہے کوئی جانور پسند نہ آیا، تو میں نے اسے لینا اچھا نہیں سمجھا، اب آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس کو تم میرے لیے کیوں نہیں لے آئے، میں نے کہا: سبحان اللہ! آپ کے لیے درست ہے اور میرے لیے درست نہیں، انہوں نے کہا: ہاں تم کو شک ہے مجھے شک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بس «مصفرة والمستأصلة والبخقاء والمشيعة»، اور «كسراء» سے منع کیا ہے، «مصفرة» وہ ہے جس کا کان اتنا کٹا ہو کہ کان کا سوراخ کھل گیا ہو، «مستأصلة» وہ ہے جس کی سینگ جڑ سے اکھڑ گئی ہو، «بخقاء» وہ ہے جس کی آنکھ کی بینائی جاتی رہے اور آنکھ باقی ہو، اور «مشيعة» وہ ہے جو لاغری اور ضعف کی وجہ سے بکریوں کے ساتھ نہ چل پاتی ہو بلکہ پیچھے رہ جاتی ہو، «كسراء» وہ ہے جس کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ گیا ہو، (لہٰذا ان کے علاوہ باقی سب جانور درست ہیں، پھر شک کیوں کرتے ہو) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الضَّحَايَا؛قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے؛جلد٣،ص٩٧؛حدیث نمبر؛٢٨٠٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں (کہ اس میں ایسا نقص نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو) اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں، اور نہ «مقابلة» کی، نہ «مدابرة» کی، نہ «خرقاء» کی اور نہ «شرقاء» کی۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا «عضباء» کا بھی ذکر کیا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ( «عضباء» اس بکری کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوں اور سینگ ٹوٹے ہوں)۔ میں نے پوچھا «مقابلة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو، پھر میں نے کہا: «مدابرة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کے کان پچھلی طرف سے کٹے ہوں، میں نے کہا: «خرقاء» کیا ہے؟ کہا: جس کے کان پھٹے ہوں (گولائی میں) میں نے کہا: «شرقاء» کیا ہے؟ کہا: جس بکری کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں (نشان کے لیے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الضَّحَايَا؛قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے؛جلد٣،ص٩٧؛حدیث نمبر؛٢٨٠٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی کرنے سے منع کیا ہے جس کا کان یا سینگ جڑ سے کٹا ہوا ہو۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جری نامی راوی سدوس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور بصرہ کا رہنے والا اس کے حوالے سے صرف قتادہ نے روایت نقل کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الضَّحَايَا؛قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے؛جلد٣،ص٩٨؛حدیث نمبر؛٢٨٠٥)
قتادہ بیان کرتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے دریافت کیا"اعضب"سے کیا مراد ہے انہوں نے جواب دیا جس کا سینگ نصف یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الضَّحَايَا؛قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے؛جلد٣،ص٩٨؛حدیث نمبر؛٢٨٠٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اقدس میں ہم نے حج تمتع کرتے ہوئے ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی تھی ہم اس میں حصہ دار بن گئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْبَقَرِ وَالْجَزُورِ عَنْ كَمْ، تُجْزِئُ؛گائےاور اونٹ کی قربانی کتنے آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے؟؛جلد٣،ص٩٨؛حدیث نمبر؛٢٨٠٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے(قربان کیے جائیں گے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْبَقَرِ وَالْجَزُورِ عَنْ كَمْ، تُجْزِئُ؛گائےاور اونٹ کی قربانی کتنے آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے؟؛جلد٣،ص٩٨؛حدیث نمبر؛٢٨٠٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ اور سات آدمیوں کی طرف سے گائے قربان کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْبَقَرِ وَالْجَزُورِ عَنْ كَمْ، تُجْزِئُ؛گائےاور اونٹ کی قربانی کتنے آدمیوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے؟؛جلد٣،ص٩٨؛حدیث نمبر؛٢٨٠٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عید الاضحی کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ مکمل کیا تو آپ ممبر سے نیچے اترے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا آپ نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اسے ذبح کیا اور یہ دعا پڑھی(ترجمہ)اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالی سب سے بڑا ہے یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر ان شخص کی طرف سے ہے جو قربانی نہیں کر سکے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الشَّاةِ يُضَحَّى بِهَا عَنْ جَمَاعَةٍ؛ایک بکری کو چند لوگوں کی طرف سے قربان کرنا؛جلد٣،ص٩٩؛حدیث نمبر؛٢٨١٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں اپنی قربانی کا جانور ذبح کرتے تھے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب الإِمَامِ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى؛امام کا اپنی قربانی کو عیدگاہ میں ذبح کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٩٩؛حدیث نمبر؛٢٨١١)
عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قربانی کے موقع پر (مدینہ میں) کچھ اعرابی آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین روز تک کا گوشت رکھ لو، جو باقی بچے صدقہ کر دو“، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کے بعد جب پھر قربانی کا موقع آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگ اس سے پہلے اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی محفوظ رکھتے تھے، ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اب کیا ہوا؟“ تو انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے بکثرت لوگوں کی آمد کی وجہ سے تمہیں منع کیا تھا اب تم اس گوشت کو کھاؤ بھی،صدقہ بھی کرو اور ذخیرہ بھی کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي حَبْسِ لُحُومِ الأَضَاحِي؛قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنے کا بیان؛جلد٣،ص٩٩؛حدیث نمبر؛٢٨١٢)
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یادکے ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي حَبْسِ لُحُومِ الأَضَاحِي؛قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٠؛حدیث نمبر؛٢٨١٣)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ثوبان!اس بکری کا گوشت ہمارے لیے سنبھال کر رکھنا حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں تو ہمارے مدینہ منورہ آجانے تک میں اس کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلاتا رہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فی المسافر یضحی؛جلد٣،ص١٠٠؛حدیث نمبر؛٢٨١٤)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ایک یہ کہ: ”اللہ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کرنے کو لازم قرار دیا ہے لہٰذا جب تم (قصاص یا حد کے طور پر کسی کو) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو (یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کر لو تڑپا تڑپا کر مت مارو)“، (اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے) ”تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ وَالرِّفْقِ بِالذَّبِيحَةَِ باندھ کر مارنے کی ممانعت اور ذبیحہ کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا؛جلد٣،ص١٠٠؛حدیث نمبر؛٢٨١٥)
ہشام بن زید بیان کرتے ہیں میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے ہاں آیا تو انہوں نے کچھ نوجوانوں کو دیکھا کہ وہ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر ان پر(نشانہ بازی کرنے)سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ وَالرِّفْقِ بِالذَّبِيحَةَِ باندھ کر مارنے کی ممانعت اور ذبیحہ کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا؛جلد٣،ص١٠٠؛حدیث نمبر؛٢٨١٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(ارشاد باری تعالی ہے) "تم اس میں سے کھا لو جس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا"(١١٨) (ایک اور مقام پر یہ ارشاد فرمایا ہے) "اور تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ تعالی کا نام ذکر نہ کیا گیا" (انعام ١٢١) تو اسے منسوخ کر دیا گیا ہے اور اس سے استثناء کرتے ہوئے(یہ فرمایا) "اور جن کو کتاب دی گئی ان کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے"۔(مائدہ ٥) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛ باب فِي ذَبَائِحِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب کے ذبیحوں کا بیان؛جلد٣،ص١٠١؛حدیث نمبر؛٢٨١٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں:(ارشاد باری تعالی ہے) "بے شک شیاطین اپنے دوستوں کی طرف الہام کرتے ہیں"(انعام ١٢١)یعنی وہ یہ کہتے ہیں: جسے اللہ تعالی نے ذبح کیا ہو تم اسے نہ کھاؤ جس سے تم نے خود ذبح کیا اسے تم کھا لو" تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی اور تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ تعالی کا نام ذکر نہ کیا گیا۔(انعام ١٢١) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛ باب فِي ذَبَائِحِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب کے ذبیحوں کا بیان؛جلد٣،ص١٠١؛حدیث نمبر؛٢٨١٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی ہم اس سے تو کھا سکتے ہیں جسے ہم نے مار ڈالا ہو اور اس سے نہیں کھا سکتے جسے اللہ نے مار دیا (یہ بھلا کیا بات ہوئی)تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی:" اور تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ تعالی کا نام ذکر نہیں کیا گیا"(انعام ١٢١)یہ آیت کے اخر تک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛ باب فِي ذَبَائِحِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب کے ذبیحوں کا بیان؛جلد٣،ص١٠١؛حدیث نمبر؛٢٨١٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتیوں کے معاقرہ(یعنی ایک دوسرے کے مقابلے میں اونٹ ذبح کرنا)سے منع کیا ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں غندر نے یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ امام ابو داود علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ابو ریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ مُعَاقَرَةِ الأَعْرَابِ؛جن جانوروں کو اعرابی بطور فخر و مباہات ذبح کریں ان کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص١٠١؛حدیث نمبر؛٢٨٢٠)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے (بانس کی کھپچی) سے ذبح کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی کر لو جس(ذبیحہ)کا خون بہ جائے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھریاں ہیں“، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے، انہوں نے جلدی کی، اور کچھ مال غنیمت حاصل کر لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ پلٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے (کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے) چنانچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا (یعنی وہ چوٹ کھا کر گر گیا اور آگے نہ بڑھ سکا) اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الذَّبِيحَةِ بِالْمَرْوَةِ؛دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٢؛حدیث نمبر؛٢٨٢١)
حضرت محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ یا (شاید صفوان بن محمد بیان) کرتے ہیں میں نے دو خرگوش شکار کیے میں نے پتھر کے ذریعے انہیں ذبح کیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھا لینے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الذَّبِيحَةِ بِالْمَرْوَةِ؛دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٢؛حدیث نمبر؛٢٨٢٢)
عطاء بن یسار بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ وہ احد پہاڑ کے گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی پر اونٹنی چرا رہا تھا، تو وہ مرنے لگی، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الذَّبِيحَةِ بِالْمَرْوَةِ؛دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٢؛حدیث نمبر؛٢٨٢٣)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ کی کیا رائے ہے؟کہ ہم میں سے کوئی ایک شکار کو پکڑ لیتا لیکن اس کے پاس چھری نہیں ہوتی کیا وہ اسے پتھر سے یا لاٹھی کی دھار کے ذریعے ذبح کر دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اللہ کا نام لے کر جس چیز کے ذریعے چاہو خون بہا دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الذَّبِيحَةِ بِالْمَرْوَةِ؛دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٢؛حدیث نمبر؛٢٨٢٤)
ابو عشرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کے ران میں(نیزہ یا تیر)مار دو تو وہ بھی کافی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ «متردی» اور «متوحش» کے ذبح کا طریقہ ہے۔ (یعنی جو جانور گر پڑے اور ذبح کی مہلت نہ ملے۔ ایسا جنگلی جانور جو بھاگ نکلے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا جَاءَ فِي ذَبِيحَةِ الْمُتَرَدِّيَةِ؛اوپر سے نیچے گر جانے والے جانور کے ذبح کرنے کا طریقہ؛جلد٣،ص١٠٥؛حدیث نمبر؛٢٨٢٥)
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «شريطة الشيطان» سے منع فرمایا ہے۔ ابن عیسیٰ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے: اور وہ یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو اس کی کھال تو کاٹ دی جائے لیکن رگیں نہ کاٹی جائیں، پھر اسی طرح اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ (تڑپ تڑپ کر) مر جائے۔ ( «شریط» کے معنی نشتر مارنے کے ہیں، یہ «شریط» حجامت سے ماخوذ ہے، اسی وجہ سے اسے «شریط» کہا گیا ہے، اور شیطان کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ شیطان ہی اسے اس عمل پر اکساتا ہے، اس میں جانور کو تکلیف ہوتی ہے، خون جلدی نہیں نکلتا اور اس کی جان تڑپ تڑپ کر نکلتی ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْمُبَالَغَةِ فِي الذَّبْحِ؛ذبح میں غلو اور مبالغہ آمیزی کا بیان؛جلد٣،ص١٠٣؛حدیث نمبر؛٢٨٢٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اسے کھا لو“۔ مسدد کی روایت میں ہے: ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہو تو اسے کھا لو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے“ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛ باب مَا جَاءَ فِي ذَكَاةِ الْجَنِينِ؛جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے؛جلد٣،ص١٠٣؛حدیث نمبر؛٢٨٢٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے (یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛ باب مَا جَاءَ فِي ذَكَاةِ الْجَنِينِ؛جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے؛جلد٣،ص١٠٣؛حدیث نمبر؛٢٨٢٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہیں جو جاہلیت سے نکل کر ابھی نئے نئے ایمان لائے ہیں، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں تو کیا ہم اس میں سے کھائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بسم الله» کہہ کر کھاؤ (مطلب یہ ہے کہ تم اہل اسلام کے سلسلے میں نیک گمان رکھو کہ انہوں نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہو گا، پھر بھی شک و شبہ کو دور کرنے کے لئے کھاتے وقت «بسم الله» کہہ لیا کرو۔“۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ اللَّحْمِ لاَ يُدْرَى أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ؛جس گوشت کے بارے میں یہ نہ معلوم ہو کہ وہ «بسم اللہ» پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بغیر «بسم اللہ» کے، اس کے کھانے کا کیا حکم ہے؟؛جلد٣،ص١٠٤؛حدیث نمبر؛٢٨٢٩)
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلند آواز سے دریافت کیا: ہم زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں «عتيرة» کے نام کی قربانی کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں؟آپ نے فرمایا: ”جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو، اللہ کے لیے نیکی کرو، اور کھلاؤ“۔ پھر وہ کہنے لگا: ہم زمانہ جاہلیت میں «فرع» (یعنی قربانی) کرتے تھے، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چرنے والے جانور میں ایک «فرع» ہے، جس کو تمہارے جانور جنتے ہیں، یا جسے تم اپنے جانوروں کی «فرع» کھلاتے ہو، جب اونٹ بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے (نصر کی روایت میں ہے: جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو - خالد کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: مسافروں پر صدقہ کرو - یہ بہتر ہے“۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: کتنے جانوروں میں ایسا کرے؟ انہوں نے کہا: سو جانوروں میں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَتِيرَةِ؛عتیرہ (یعنی ماہ رجب کی قربانی) کا بیان؛جلد٣،ص١٠٤؛حدیث نمبر؛٢٨٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں فرع اور عتیرہ کی کوئی(حیثیت)نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَتِيرَةِ؛عتیرہ (یعنی ماہ رجب کی قربانی) کا بیان؛جلد٣،ص١٠٤؛حدیث نمبر؛٢٨٣١)
سعید بن مسیب فرماتے ہیں فرع سے مراد جانور کا پہلا بچہ ہوتا ہے اسے وہ لوگ ذبح کر دیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَتِيرَةِ؛عتیرہ (یعنی ماہ رجب کی قربانی) کا بیان؛جلد٣،ص١٠٥؛حدیث نمبر؛٢٨٣٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم ہر 50 بکریوں میں سے ایک بکری صدقہ کر دے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے فرع سے مراد اوٹنی کا سب سے پہلا بچہ ہے اسے وہ لوگ بتوں کے نام پر ذبح کر دیتے تھے پھر اس کا گوشت کھا لیتے اور اس کی کھال درخت پر ڈال دیتے تھے۔عتیرہ (وہ جانور ہوتا ہے)جسے رجب کے پہلے عشرے میں ذبح کیا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَتِيرَةِ؛عتیرہ (یعنی ماہ رجب کی قربانی) کا بیان؛جلد٣،ص١٠٥؛حدیث نمبر؛٢٨٣٣)
حضرت ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: ”(عقیقہ) میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر کی ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے «مكافئتان» کے معنی یہ کئے ہیں کہ دونوں (عمر میں) برابر ہوں یا قریب قریب ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٥؛حدیث نمبر؛٢٨٣٤)
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو (یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو)“، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: ”لڑکے کی طرف سے (عقیقہ میں) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٥؛حدیث نمبر؛٢٨٣٥)
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عقیقے میں) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی دراصل حدیث ہے، اور سفیان کی حدیث (نمبر: ۲۸۳۵) وہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٦؛حدیث نمبر؛٢٨٣٦)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے(جانور)ذبح کیا جائے بچے کا سر مونڈ کر اس پر خون بہایا جائے گا“۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے؟ تو کہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يدمى» ہمام کا وہم ہے، اصل میں «ويسمى» تھا جسے ہمام نے «يدمى» کر دیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٦؛حدیث نمبر؛٢٨٣٧)
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ہر بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی ہوتا ہے اس کی پیدائش کے ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے گا اور اس کا سر مونڈ کر اس کا نام رکھا جائے گا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: لفظ «يسمى» لفظ «يدمى» سے زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے اسی طرح قتادہ، ایاس بن دغفل اور اشعث سے اور ان لوگوں نے حسن سے روایت کی ہے، اس میں «ويسمى» کا لفظ ہے، اور اسے اشعث نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں بھی «ويسمى» ہی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٦؛حدیث نمبر؛٢٨٣٨)
حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:بچے کا عقیقہ ضروری ہے تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے میل کچیل دور کر دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٦؛حدیث نمبر؛٢٨٣٩)
حسن بصری فرماتے ہیں میل کچیل دور کرنے سے مراد سر مونڈنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٦؛حدیث نمبر؛٢٨٤٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے عقیقہ میں ایک ایک مینڈھا ذبح کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٧؛حدیث نمبر؛٢٨٤١)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ «عقوق» (ماں باپ کی نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا“ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو(عقیقہ)ناپسند فرمایا، اور فرمایا: ”جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی (عقیقہ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فرع» کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ” «فرع» حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے، ایک برس کا یا دو برس کا، پھر اس کو بیواؤں محتاجوں کو دے دو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو (پیدا ہوتے ہی) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو (یعنی کم ہو) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو، (گوشت نہ ہو گا تو پکاؤ گے کہاں سے) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٧؛حدیث نمبر؛٢٨٤٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ہم یہ کیا کرتے تھے کہ جب کسی کے ہاں بچہ ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس بچے کے سر پر اس بکری کا خون لگا دیتا جب اللہ تعالی نے اسلام عطا کیا تو ہم بکری ذبح کرتے تھے اور بچے کا سر مونڈ کر اس پر زعفران لگا دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الضَّحَايَا؛باب فِي الْعَقِيقَةِ؛عقیقہ کا بیان؛جلد٣،ص١٠٧؛حدیث نمبر؛٢٨٤٣)
Abu Dawood Shareef : Kitabud Dohaya
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الضَّحَايَا
|
•