asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabus Saide

From 2844 to 2861

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جس نے کتا پالا جو جانوروں کی حفاظت،شکار کرنے،کھیت کی حفاظت کے لیے نہ ہو تو اس کے اجر میں روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي اتِّخَاذِ الْكَلْبِ لِلصَّيْدِ وَغَيْرِهِ؛شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٨؛حدیث نمبر؛٢٨٤٤)

كِتَاب الصَّيْدِ بَابٌ فِي اتِّخَاذِ الْكَلْبِ لِلصَّيْدِ وَغَيْرِهِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2844

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اگر کتے مخلوق کی ایک مخصوص قسم نہ ہوتے،تو میں انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیتا البتہ تم ان میں سے سیاہ کتے کو مار دیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي اتِّخَاذِ الْكَلْبِ لِلصَّيْدِ وَغَيْرِهِ؛شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٨؛حدیث نمبر؛٢٨٤٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2845

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:(پہلے ایسا ہوا)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کو مار دینے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے آتی اور اس کے ساتھ کوئی کتا ہوتا تو اسے بھی مار دیا کرتے تھے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں انہیں مارنے سے منع کر دیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کالے کتے کو مارنا تم پر لازم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي اتِّخَاذِ الْكَلْبِ لِلصَّيْدِ وَغَيْرِهِ؛شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٨؛حدیث نمبر؛٢٨٤٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «أَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ». حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ يَعْنِي بِالْكَلْبِ فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2846

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں تربیت یافتہ کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتا ہے تو کیا میں اسے کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے تربیت یافتہ کتوں کو چھوڑو، اور اللہ کا نام اس پر لو تو ان کا شکار جس کو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں کھاؤ“۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ شکار کو قتل کر ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگرچہ وہ قتل کر ڈالیں جب تک دوسرا غیر شکاری کتا اس کے قتل میں شریک نہ ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٨؛حدیث نمبر؛٢٨٤٧)

بَابٌ فِي الصَّيْدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ، فَتُمْسِكُ عَلَيَّ، أَفَآكُلُ؟ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ». قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2847

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: میں اپنے تربیت یافتہ کتوں کو چھوڑتا ہوں اور وہ میرے لیے کسی شکار کو روک لیتے ہیں تو میں اسے کھا لیا کروں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم اپنے سکھاے ہوئے کتوں کو اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑو تو وہ جو شکار تمہارے لیے پکڑ کر رکھیں انہیں کھاؤ گرچہ وہ انہیں مار ڈالیں سوائے ان کے جنہیں کتا کھا لے، اگر کتا اس میں سے کھا لے تو پھر نہ کھاؤ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٩؛حدیث نمبر؛٢٨٤٨)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّا نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ. فَقَالَ لِي: «إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، وَإِنْ قَتَلَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2848

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بسم اللہ کہہ کر تیر چلاؤ، پھر اس شکار کو دوسرے روز پاؤ (یعنی شکار تیر کی چوٹ کھا کر نکل گیا پھر دوسرے روز ملا) اور وہ تمہیں پانی میں نہ ملا ہو، اور نہ تمہارے تیر کے زخم کے سوا اور کوئی نشان ہو تو اسے کھاؤ، اور جب تمہارے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی شامل ہو گیا ہو (یعنی دونوں نے مل کر شکار مارا ہو) تو پھر اس کو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ اس جانور کو کس نے قتل کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ دوسرے کتے نے اسے قتل کیا ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٩؛حدیث نمبر؛٢٨٤٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَوَجَدْتَهُ مِنَ الْغَدِ، وَلَمْ تَجِدْهُ فِي مَاءٍ وَلَا فِيهِ أَثَرٌ غَيْرُ سَهْمِكَ فَكُلْ، وَإِذَا اخْتَلَطَ بِكِلَابِكَ كَلْبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ لَا تَدْرِي لَعَلَّهُ قَتَلَهُ الَّذِي لَيْسَ مِنْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2849

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب تمہارا شکار پانی میں گر کر ڈوب کر مر جائے تو تم اسے نہ کھاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٩؛حدیث نمبر؛٢٨٥٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَتْ رَمِيَّتُكَ فِي مَاءٍ فَغَرِقَ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2850

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کتے یا باز کو تم سکھاے ہوے ہو اور اسے اللہ کا نام لے کر یعنی (بسم اللہ کہہ کر) شکار کے لیے چھوڑو تو جس شکار کو اس نے تمہارے لیے روک رکھا ہو اسے کھاؤ“۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے مار ڈالا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”جب اس نے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو سمجھ لو کہ اس نے شکار کو تمہارے لیے روک رکھا ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: باز جب کھا لے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور کتا جب کھا لے تو وہ مکروہ ہے اگر خون پی لے تو کوئی حرج نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٩؛حدیث نمبر؛٢٨٥١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ، ثُمَّ أَرْسَلْتَهُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ». قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: «إِذَا قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «الْبَازُ إِذَا أَكَلَ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَالْكَلْبُ إِذَا أَكَلَ كُرِهَ، وَإِنْ شَرِبَ الدَّمَ فَلَا بَأْسَ بِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2851

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے سلسلہ میں فرمایا: ”جب تم اپنے (شکاری) کتے کو چھوڑو، اور اللہ کا نام لے کر (یعنی بسم اللہ کہہ) کر چھوڑو تو (اس کا شکار) کھاؤ اگرچہ وہ اس میں سے کھا لے اور اپنے ہاتھ سے کیا ہوا شکار کھاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٩؛حدیث نمبر؛٢٨٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَيْدِ الْكَلْبِ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، وَكُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدَاكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2852

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے شکار کو تیر مارتا ہے پھر اسے دو دو تین تین دن تک تلاش کرتا پھرتا ہے، پھر اسے مرا ہوا پاتا ہے، اور اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو کیا وہ اسے کھائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر چاہے“ یا فرمایا: ”کھا سکتا ہے اگر چاہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٠٩؛حدیث نمبر؛٢٨٥٣)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَقْتَفِي أَثَرَهُ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، ثُمَّ يَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ أَيَأْكُلُ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِنْ شَاءَ» أَوْ قَالَ: «يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2853

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھالے کے ذریعے کے گئے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ” اگر اس کی دھار کے ذریعے(شکار کیا گیا) ہو تو تم اسے کھا لو اور اگر چوڑائی کی سمت سے(یعنی اسے لاٹھی کے طور پر استعمال کر کے شکار کیا گیا ہو)تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھا کر مرا ہوا ہوگا۔میں نے عرض کی میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں؟(اس بارے میں کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب «بِسْمِ اللهِ» پڑھ کر چھوڑو تو کھاؤ، ورنہ نہ کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کھایا ہو تو اس کو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے“۔ پھر میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرا کتا بھی آ کر اس کے ساتھ لگ جاتا ہے (تب کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت کھاؤ، اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ» تم نے صرف اپنے ہی کتے پر کہا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١١٠؛حدیث نمبر؛٢٨٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ». قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي؟ قَالَ: «إِذَا سَمَّيْتَ فَكُلْ وَإِلَّا فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ لِنَفْسِهِ». فَقَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ عَلَيْهِ كَلْبًا آخَرَ؟ فَقَالَ: «لَا تَأْكُلْ لِأَنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2854

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تربیت یافتہ اور بے تربیت یافتہ کتوں سے شکار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو اس پر اللہ کا نام لو“ (یعنی «بِسْمِ اللهِ» کہو) اور کھاؤ، اور جو شکار اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ کرو اور اس کے ذبح کو پاؤ (یعنی زندہ پاؤ) تو ذبح کر کے کھاؤ (ورنہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ کتا جو تربیت یافتہ نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا ذبح کے قائم مقام نہیں ہو سکتا)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١١٠؛حدیث نمبر؛٢٨٥٥)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ؟ قَالَ: «مَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا أَصَّدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2855

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ“۔ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: ”وہ کتا سدھایا ہوا (شکاری) ہو، اور اپنے ہاتھ سے (یعنی تیر سے) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کر سکو یا نہ کر سکو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١١٠؛حدیث نمبر؛٢٨٥٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ وَكَلْبُكَ» زَادَ عَنْ ابْنِ حَرْبٍ: «الْمُعَلَّمُ وَيَدُكَ فَكُلْ ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2856

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نامی ایک دیہاتی نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس شکار کے لیے تیار سدھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے سلسلہ میں مجھے بتائیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں انہیں کھاؤ“۔ ابو ثعلبہ نے کہا: خواہ میں ان کو ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ ابو ثعلبہ نے کہا: اگرچہ وہ کتے اس جانور میں سے کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ اس جانور میں سے کھا لیں“۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تیر کمان سے شکار کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا تیر کمان جو تمہیں لوٹا دے اسے کھاؤ، خواہ تم اسے ذبح کر پاؤ یا نہ کر پاؤ“۔ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ شکار تیر کھا کر میری نظروں سے اوجھل ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگرچہ وہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے جب تک کہ گلے سڑے نہیں، اور تمہارے تیر کے سوا اس کی ہلاکت کا کوئی اور اثر معلوم نہ ہو سکے“۔ پھر انہوں نے کہا: مجوسیوں (پارسیوں) کے برتن کے متعلق بتائیے جب کہ ہمیں اس کے سوا دوسرا برتن نہ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھو ڈالو اور اس میں کھاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّيْدِ؛شکار کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١١٠؛حدیث نمبر؛٢٨٥٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ». قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ؟ قَالَ: «نَعَمْ». قَالَ: فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ: «وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ». فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي؟ قَالَ: «كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ». قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ؟ قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي؟ قَالَ: «وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَضِلَّ أَوْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ». قَالَ: أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِنِ اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا. قَالَ: «اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2857

حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ جانور کے بدن سے جو چیز کاٹی جائے وہ مردار ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي صَيْدٍ قُطِعَ مِنْهُ قِطْعَةٌ؛جب شکار کا کوئی ایک حصہ کاٹ لیا جائے؛جلد٣،ص١١١؛حدیث نمبر؛٢٨٥٨)

بَابٌ فِي صَيْدٍ قُطِعَ مِنْهُ قِطْعَةٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2858

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صحراء اور بیابان میں رہے گا اس کا دل سخت ہو جائے گا، اور جو شکار کے پیچھے رہے گا وہ (دنیا یا دین کے کاموں سے) غافل ہو جائے گا، اور جو شخص بادشاہ کے پاس آئے جائے گا وہ فتنہ و آزمائش میں پڑے گا (اس سے دنیا بھی خراب ہو سکتی ہے اور آخرت بھی)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي اتِّبَاعِ الصَّيْدِ؛شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١١؛حدیث نمبر؛٢٨٥٩)

بَابٌ فِي اتِّبَاعِ الصَّيْدِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ مَرَّةً سُفْيَانُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2859

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ”جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا“ اور اتنا اضافہ ہے: ”جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي اتِّبَاعِ الصَّيْدِ؛شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١١؛حدیث نمبر؛٢٨٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى مُسَدَّدٍ، قَالَ: «وَمَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ» زَادَ: «وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2860

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شکار کو تیر مارو اور تین دن بعد اس جانور کو اس طرح پاؤ کہ تمہارا تیر اس میں موجود ہو تو جب تک کہ اس میں سے بدبو پیدا نہ ہو اسے کھاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الصَّيْدِ؛شکار کے احکام و مسائل؛باب فِي اتِّبَاعِ الصَّيْدِ؛شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١١؛حدیث نمبر؛٢٨٦١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَأَدْرَكْتَهُ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَهْمُكَ فِيهِ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Saide, Hadees No. 2861

Abu Dawood Shareef : Kitabus Saide

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الصَّيْدِ

|

•