
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَصِيَّة؛وصیت کا حکم دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص١١٢؛حدیث نمبر؛٢٨٦٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار کوئی درہم کوئی اونٹ یا بکری(ورثے میں)نہیں چھوڑا اور نہ ہی اپ نے(اپنے مال کے بارے میں)کوئی وصیت کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَصِيَّة؛وصیت کا حکم دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص١١٢؛حدیث نمبر؛٢٨٦٣)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ بیمار ہوئے (ابن ابی خلف کی روایت میں ہے: مکہ میں، آگے دونوں راوی متفق ہیں کہ) اور شدید بیمار ہوگئےتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں بہت مالدار ہوں اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پوچھا: کیا آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر عرض کیا: تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہائی مال (دے سکتے ہو) اور تہائی مال بھی بہت ہے، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور جو چیز بھی تم اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اٹھا کر دو گے تو اس کا ثواب بھی پاؤ گے"، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے، اور میں اپنی بیماری کی وجہ سے مکہ ہی میں رہ جاؤں گا، جب کہ صحابہ مکہ چھوڑ کر ہجرت کر چکے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم پیچھے رہ گئے، اور میرے بعد میرے غائبانہ میں بھی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرتے رہے تو تمہارا درجہ بلند رہے گا، امید ہے کہ تم زندہ رہو گے، یہاں تک کہ تمہاری ذات سے کچھ اقوام کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ کو نقصان و تکلیف“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ: ”اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما، اور انہیں ان کے ایڑیوں کے بل پیچھے کی طرف نہ پلٹا“ تاہم سعد بن خلا پر افسوس ہے،(بیان کرتے ہیں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَا لاَ يَجُوزُ لِلْمُوصِي فِي مَالِهِ؛وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان؛جلد٣،ص١١٢؛حدیث نمبر؛٢٨٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو، اور تمہیں زندگی کی امید ہو، اور محتاجی کا خوف ہو، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ: فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اتنا، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہو چکا ہو گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ؛صحت کے عالم میں صدقہ کرنے کی فضیلت؛جلد٣،ص١١٣؛حدیث نمبر؛٢٨٦٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ادمی کا اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا اس کے حق میں موت کے وقت اس کے سو درہم صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ؛صحت کے عالم میں صدقہ کرنے کی فضیلت؛جلد٣،ص١١٣؛حدیث نمبر؛٢٨٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں (کسی کو محروم کر دیتے ہیں، کسی کا حق کم کر دیتے ہیں) تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے“۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں: اس موقع پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ(ترجمہ)"وصیت کر لینے کے بعد جو وہ وصیت کرے اور قرض(ادا کرنے کے بعد)کسی کو نقصان پہنچائے بغیر یہ" آیت انہوں نے یہاں تک پڑھی"بڑی کامیابی"۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی اشعت بن جابر، نصر بن علی کے دادا ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ؛صحت کے عالم میں صدقہ کرنے کی فضیلت؛جلد٣،ص١١٣؛حدیث نمبر؛٢٨٦٧)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر!میں تمہیں کمزور سمجھتا ہوں میں تمہارے لیے ایسی بات کو پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں کے امیر نہ بننا اور یتیم کے مال کے نگران نہ بننا۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں اہل مصر اسے روایت کرنے میں"منفرد"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّخُولِ فِي الْوَصَايَا؛وصی بننا اور ذمہ داری قبول کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٨٦٨)
عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں(انہوں نے یہ آیت پڑھی)"اگر تم کوئی بھلائی یعنی مال چھوڑو تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرو"(بقرہ ١٨٠) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے وصیت اسی طرح ہوتی تھی یہاں تک کہ میراث سے متعلق آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي نَسْخِ الْوَصِيَّةِ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ؛ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان؛جلد٣،ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٨٦٩)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:اللہ تعالی نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے اس لیے وارث کے لیے وصیت نہیں ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْوَصِيَّةِ لِلْوَارِثِ؛وارث کے لیے وصیت کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٨٧٠)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو مستحسن ہے“ (سورۃ الانعام: ۱۵۲): اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں“ (سورۃ النساء: ۱۰) نازل فرمائی تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے جدا کر دیا تو یتیم کا کھانا بچ رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا سڑ جاتا، یہ امر لوگوں پر شاق گزرا تو انہوں نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اللہ نے یہ آیت لوگ "تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو ان کے ساتھ بھلائی زیادہ بہتر ہے اور تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں"(سورۃ البقرہ: ۲۲۰) اتاری تو لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مُخَالَطَةِ الْيَتِيمِ فِي الطَّعَامِ؛یتیم کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شریک کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٨٧١)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں محتاج ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے یتیم کے مال سے کھاؤ، لیکن فضول خرچی نہ کرنا، نہ جلد بازی دکھانا (اس کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے) نہ اس کے مال سے کما کر اپنا مال بڑھانا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَا لِوَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يَنَالَ مِنْ مَالِ الْيَتِيم؛یتیم کے مال سے اس کا ولی کتنا کھا سکتا ہے؟؛جلد٣،ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٨٧٢)
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات یاد رکھی ہے بالغ ہو جانے کے بعد یتیمی باقی نہیں رہتی اور صبح سے لے کر شام تک چپ کے روزے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ مَتَى يَنْقَطِعُ الْيُتْمُ؛یتیم کس عمر تک یتیم رہے گا؟؛جلد٣،ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٨٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں (کبیرہ گناہوں) سے بچو“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي أَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ باب: یتیم کا مال کھانا سخت گناہ کا کام ہے؛جلد٣،ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٨٧٤)
حضرت عمیر بن قتادۃ لیثی رضی اللہ عنہ (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نو ہیں“، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر بیان ہوئی، اور اس میں: ”مسلمان ماں باپ کی نافرمانی، اور بیت اللہ جو کہ زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے کی حرمت کو حلال سمجھ لینے“ کا اضافہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي أَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ؛یتیم کا مال کھانا سخت گناہ کا کام ہے؛جلد٣،ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٨٧٥)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کے دن شہید کر دیے گئے، اور ان کے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہ تھا، جب ہم ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل جاتے اور جب دونوں پاؤں ڈھانکتے تو ان کا سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر اذخر ڈال دو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْكَفَنَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ؛ اس بات کی دلیل کے کفن بھی تمام مال کے ساتھ شامل ہوگا؛جلد٣،ص١١٦؛حدیث نمبر؛٢٨٧٦)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی“، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو اس کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (کر لو)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَهَبُ ثُمَّ يُوصَى لَهُ بِهَا أَوْ يَرِثُهَا؛ کوئی شخص جب کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسی چیز کی اس شخص کے لیے وصیت کر دی جائے یا اس کا وارث بن جائے؛جلد٣،ص١١٦؛حدیث نمبر؛٢٨٧٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی مال نہیں ملا تو اس کے متعلق مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو زمین کی اصل (ملکیت) کو روک لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو“، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا کہ نہ زمین بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی، اور نہ میراث میں تقسیم ہو گی (بلکہ) اس سے فقراء، قرابت دار، غلام، مجاہدین اور مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ بشر کی روایت میں ”مہمان کا اضافہ ہے“، باقی میں سارے راوی متفق ہیں: ”جو اس کا والی ہو گا دستور کے مطابق اس کے منافع سے اس کے خود کھانے اور دوستوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ مال جمع کر کے رکھنے والا نہ ہو“۔ بشر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ محمد (ابن سیرین) کہتے ہیں: ”مال جوڑنے والا نہ ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُوقِفُ الْوَقْفَ؛ کسی شخص کا کسی چیز کو وقف کرنا؛جلد٣،ص١١٦؛حدیث نمبر؛٢٨٧٨)
یحییٰ بن سعید سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقہ کے متعلق روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقے کی کتاب نقل کر کے دی، اس میں یوں لکھا ہوا تھا: ” «بسم الله الرحمن الرحيم»، یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ کے بندے عمر نے ثمغ (اس مال یا باغ کا نام ہے جس کو عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ یا خیبر میں وقف کیا تھا) کے متعلق لکھا ہے“، پھر وہی تفصیل بیان کی جو نافع کی حدیث میں ہے اس میں ہے: ”مال جوڑنے والے نہ ہوں، جو پھل اس سے گریں وہ مانگنے اور نہ مانگنے والے فقیروں اور محتاجوں کے لیے ہیں“، راوی کہتے ہیں: اور انہوں نے پورا قصہ بیان کیا، اور کہا کہ: ”ثمغ کا متولی پھلوں کے بدلے (باغ کے) کام کاج کے لیے غلام خریدنا چاہے تو اس کے پھل سے خرید سکتا ہے“، معیقیب نے اسے لکھا اور عبداللہ بن ارقم نے اس بات کی یوں گواہی دی۔ ” «بسم الله الرحمن الرحيم»، یہ وہ وصیت نامہ ہے جس کی اللہ کے بندے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی اگر مجھے کوئی حادثہ پیش آ جائے (یعنی مر جاؤں) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور غلام جو اس میں ہے اور خیبر کے میرے سو حصے اور جو غلام وہاں ہیں اور میرے سو وہ حصے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر سے قریب کی وادی میں دیئے تھے ان سب کی متولیہ تاحیات حفصہ رضی اللہ عنہا رہیں گی،حفصہ رضی اللہ عنہا کے بعد ان کے اہل میں سے جو صاحب رائے ہو گا وہ متولی ہو گا لیکن کوئی چیز نہ بیچی جائے گی، نہ خریدی جائے گی، سائل و محروم اور اقرباء پر ان کی ضروریات کو دیکھ کر خرچ کیا جائے گا، ان کا متولی اگر اس میں سے کھائے یا کھلائے یا ان کی حفاظت و خدمت کے لیے ان کی آمدنی سے غلام خرید لے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُوقِفُ الْوَقْفَ؛ کسی شخص کا کسی چیز کو وقف کرنا؛جلد٣،ص١١٧؛حدیث نمبر؛٢٨٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے): ایک صدقہ جاریہ، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ؛میت کی جانب سے صدقہ کرنا؛جلد٣،ص١١٧؛حدیث نمبر؛٢٨٨٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک انتقال کر گئیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ کرتیں اور (اللہ کی راہ میں) دیتیں، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ جائز ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ عَنْ غَيْرِ، وَصِيَّةٍ، يُتَصَدَّقُ عَنْه؛وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٨؛حدیث نمبر؛٢٨٨١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے، کیا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (پہنچے گا)“، اس نے کہا: میرے پاس کھجوروں کا ایک باغ ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ عَنْ غَيْرِ، وَصِيَّةٍ، يُتَصَدَّقُ عَنْه؛وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٨؛حدیث نمبر؛٢٨٨٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عاص بن وائل نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے، اس کے بعد اس کے (دوسرے) بیٹے عمرو نے ارادہ کیا کہ باقی پچاس وہ اس کی طرف سے آزاد کر دیں، پھر انہوں نے کہا: (ہم رکے رہے) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی تو ہشام نے اس کی طرف سے پچاس غلام آزاد کر دیئے ہیں، اور پچاس غلام ابھی آزاد کرنے باقی ہیں تو کیا میں انہیں اس کی طرف سے آزاد کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ (باپ) مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا حج کرتے تو اسے ان کا ثواب پہنچتا“۔ (لیکن جب وہ کافر مرا ہے اور کافر کا کوئی عمل اللہ کے یہاں مقبول نہیں لہٰذا اس کی طرف سے تمہارے غلام آزاد کرنے سے اسے کوئی فائدہ نہیں۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ الْحَرْبِيِّ يُسْلِمُ وَلِيُّهُ أَيَلْزَمُهُ أَنْ يُنْفِذَهَا؛کیا کافر کی وصیت کا نفاذ مسلم ولی (وارث) پر لازم ہو گا؟؛جلد٣،ص١١٨؛حدیث نمبر؛٢٨٨٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور اپنے ذمہ ایک یہودی کا تیس وسق کھجور کا قرضہ چھوڑ گئے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے (مہلت دینے سے) انکار کر دیا، تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی کہ آپ چل کر اس سے سفارش کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور یہودی سے بات کی کہ وہ (اپنے قرض کے بدلے میں) ان کے کھجور کے باغ میں جتنے پھل ہیں لے لے لیکن اس نے انکار کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”اچھا جابر کو مہلت دے دو“، اس نے اس سے بھی انکار کیا، امام ابوداؤد کہتے اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَهُ وَفَاءٌ يُسْتَنْظَرُ غُرَمَاؤُهُ وَيُرْفَقُ بِالْوَارِثِ؛مال چھوڑ کر مرنے والے قرضدار کے وارث کو قرض خواہوں سے مہلت دلانا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١١٩؛حدیث نمبر؛٢٨٨٤)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Wasaya
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْوَصَايَا
|
•