asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Wasaya

From 2862 to 2884

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَصِيَّة؛وصیت کا حکم دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص١١٢؛حدیث نمبر؛٢٨٦٢)

كِتَاب الْوَصَايَا بَابُ مَا جَاءَ فِي مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَصِيَّةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2862

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار کوئی درہم کوئی اونٹ یا بکری(ورثے میں)نہیں چھوڑا اور نہ ہی اپ نے(اپنے مال کے بارے میں)کوئی وصیت کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَصِيَّة؛وصیت کا حکم دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص١١٢؛حدیث نمبر؛٢٨٦٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2863

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ بیمار ہوئے (ابن ابی خلف کی روایت میں ہے: مکہ میں، آگے دونوں راوی متفق ہیں کہ) اور شدید بیمار ہوگئےتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں بہت مالدار ہوں اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پوچھا: کیا آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر عرض کیا: تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہائی مال (دے سکتے ہو) اور تہائی مال بھی بہت ہے، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور جو چیز بھی تم اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اٹھا کر دو گے تو اس کا ثواب بھی پاؤ گے"، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے، اور میں اپنی بیماری کی وجہ سے مکہ ہی میں رہ جاؤں گا، جب کہ صحابہ مکہ چھوڑ کر ہجرت کر چکے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم پیچھے رہ گئے، اور میرے بعد میرے غائبانہ میں بھی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرتے رہے تو تمہارا درجہ بلند رہے گا، امید ہے کہ تم زندہ رہو گے، یہاں تک کہ تمہاری ذات سے کچھ اقوام کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ کو نقصان و تکلیف“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ: ”اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما، اور انہیں ان کے ایڑیوں کے بل پیچھے کی طرف نہ پلٹا“ تاہم سعد بن خلا پر افسوس ہے،(بیان کرتے ہیں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَا لاَ يَجُوزُ لِلْمُوصِي فِي مَالِهِ؛وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان؛جلد٣،ص١١٢؛حدیث نمبر؛٢٨٦٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي مَا لَا يَجُوزُ لِلْمُوصِي فِي مَالِهِ؟ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضَ مَرَضًا - قَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ - بِمَكَّةَ، ثُمَّ اتَّفَقَا أَشْفَى فِيهِ فَعَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: «لَا». قَالَ: فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ: «لَا». قَالَ: فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةُ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكِ». قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي؟ قَالَ: «إِنَّكَ إِنْ تُخَلَّفْ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ لَا تَزْدَادُ بِهِ إِلَّا رِفْعَةً وَدَرَجَةً لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ». ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2864

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو، اور تمہیں زندگی کی امید ہو، اور محتاجی کا خوف ہو، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ: فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اتنا، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہو چکا ہو گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ؛صحت کے عالم میں صدقہ کرنے کی فضیلت؛جلد٣،ص١١٣؛حدیث نمبر؛٢٨٦٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2865

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ادمی کا اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا اس کے حق میں موت کے وقت اس کے سو درہم صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ؛صحت کے عالم میں صدقہ کرنے کی فضیلت؛جلد٣،ص١١٣؛حدیث نمبر؛٢٨٦٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ عِنْدَ مَوْتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2866

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں (کسی کو محروم کر دیتے ہیں، کسی کا حق کم کر دیتے ہیں) تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے“۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں: اس موقع پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ(ترجمہ)"وصیت کر لینے کے بعد جو وہ وصیت کرے اور قرض(ادا کرنے کے بعد)کسی کو نقصان پہنچائے بغیر یہ" آیت انہوں نے یہاں تک پڑھی"بڑی کامیابی"۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی اشعت بن جابر، نصر بن علی کے دادا ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الإِضْرَارِ فِي الْوَصِيَّةِ؛صحت کے عالم میں صدقہ کرنے کی فضیلت؛جلد٣،ص١١٣؛حدیث نمبر؛٢٨٦٧)

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْصَّمَدِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُدَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ» قَالَ: وَقَرَأَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ هَا هُنَا {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ} [النساء: 12] حَتَّى بَلَغَ: {ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [النساء: 13] قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا يَعْنِي الْأَشْعَثَ بْنَ جَابِرٍ جَدَّ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2867

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر!میں تمہیں کمزور سمجھتا ہوں میں تمہارے لیے ایسی بات کو پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں کے امیر نہ بننا اور یتیم کے مال کے نگران نہ بننا۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں اہل مصر اسے روایت کرنے میں"منفرد"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّخُولِ فِي الْوَصَايَا؛وصی بننا اور ذمہ داری قبول کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٨٦٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّخُولِ فِي الْوَصَايَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي فَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ مِصْرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2868

عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں(انہوں نے یہ آیت پڑھی)"اگر تم کوئی بھلائی یعنی مال چھوڑو تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرو"(بقرہ ١٨٠) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے وصیت اسی طرح ہوتی تھی یہاں تک کہ میراث سے متعلق آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي نَسْخِ الْوَصِيَّةِ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ؛ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان؛جلد٣،ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٨٦٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي نَسْخِ الْوَصِيَّةِ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ} [البقرة: 180]، فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2869

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:اللہ تعالی نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے اس لیے وارث کے لیے وصیت نہیں ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْوَصِيَّةِ لِلْوَارِثِ؛وارث کے لیے وصیت کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٨٧٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَصِيَّةِ لِلْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2870

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو مستحسن ہے“ (سورۃ الانعام: ۱۵۲): اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں“ (سورۃ النساء: ۱۰) نازل فرمائی تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے جدا کر دیا تو یتیم کا کھانا بچ رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا سڑ جاتا، یہ امر لوگوں پر شاق گزرا تو انہوں نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اللہ نے یہ آیت لوگ "تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو ان کے ساتھ بھلائی زیادہ بہتر ہے اور تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں"(سورۃ البقرہ: ۲۲۰) اتاری تو لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مُخَالَطَةِ الْيَتِيمِ فِي الطَّعَامِ؛یتیم کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شریک کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٤؛حدیث نمبر؛٢٨٧١)

بَابُ مُخَالَطَةِ الْيَتِيمِ فِي الطَّعَامِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [الأنعام: 152] وَ {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا} [النساء: 10]، الْآيَةَ انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ، فَجَعَلَ يَفْضُلُ مِنْ طَعَامِهِ فَيُحْبَسُ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى -[115]- قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ} [البقرة: 220]، فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2871

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں محتاج ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے یتیم کے مال سے کھاؤ، لیکن فضول خرچی نہ کرنا، نہ جلد بازی دکھانا (اس کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے) نہ اس کے مال سے کما کر اپنا مال بڑھانا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَا لِوَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يَنَالَ مِنْ مَالِ الْيَتِيم؛یتیم کے مال سے اس کا ولی کتنا کھا سکتا ہے؟؛جلد٣،ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٨٧٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي مَا لِوَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يَنَالَ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِي يَتِيمٌ. قَالَ: فَقَالَ: «كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ، وَلَا مُبَادِرٍ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2872

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات یاد رکھی ہے بالغ ہو جانے کے بعد یتیمی باقی نہیں رہتی اور صبح سے لے کر شام تک چپ کے روزے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ مَتَى يَنْقَطِعُ الْيُتْمُ؛یتیم کس عمر تک یتیم رہے گا؟؛جلد٣،ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٨٧٣)

بَابُ مَا جَاءَ مَتَى يَنْقَطِعُ الْيُتْمُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ، وَلَا صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2873

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں (کبیرہ گناہوں) سے بچو“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي أَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ باب: یتیم کا مال کھانا سخت گناہ کا کام ہے؛جلد٣،ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٨٧٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي أَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ». قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «أَبُو الْغَيْثِ سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2874

حضرت عمیر بن قتادۃ لیثی رضی اللہ عنہ (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نو ہیں“، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر بیان ہوئی، اور اس میں: ”مسلمان ماں باپ کی نافرمانی، اور بیت اللہ جو کہ زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے کی حرمت کو حلال سمجھ لینے“ کا اضافہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي أَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ؛یتیم کا مال کھانا سخت گناہ کا کام ہے؛جلد٣،ص١١٥؛حدیث نمبر؛٢٨٧٥)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوْزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ- بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكَبَائِرُ؟ فَقَالَ: «هُنَّ تِسْعٌ»، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ زَادَ: «وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2875

حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کے دن شہید کر دیے گئے، اور ان کے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہ تھا، جب ہم ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل جاتے اور جب دونوں پاؤں ڈھانکتے تو ان کا سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر اذخر ڈال دو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْكَفَنَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ؛ اس بات کی دلیل کے کفن بھی تمام مال کے ساتھ شامل ہوگا؛جلد٣،ص١١٦؛حدیث نمبر؛٢٨٧٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْكَفَنَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ قَالَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ: قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ إِلَّا نَمِرَةٌ كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2876

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی“، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو اس کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (کر لو)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَهَبُ ثُمَّ يُوصَى لَهُ بِهَا أَوْ يَرِثُهَا؛ کوئی شخص جب کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسی چیز کی اس شخص کے لیے وصیت کر دی جائے یا اس کا وارث بن جائے؛جلد٣،ص١١٦؛حدیث نمبر؛٢٨٧٧)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَهَبُ الْهِبَةَ، ثُمَّ يُوصَى لَهُ بِهَا أَوْ يَرِثُهَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بَنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ قَالَ: «قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ». قَالَتْ: وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ». قَالَتْ: وَإِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2877

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی مال نہیں ملا تو اس کے متعلق مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو زمین کی اصل (ملکیت) کو روک لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو“، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا کہ نہ زمین بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی، اور نہ میراث میں تقسیم ہو گی (بلکہ) اس سے فقراء، قرابت دار، غلام، مجاہدین اور مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ بشر کی روایت میں ”مہمان کا اضافہ ہے“، باقی میں سارے راوی متفق ہیں: ”جو اس کا والی ہو گا دستور کے مطابق اس کے منافع سے اس کے خود کھانے اور دوستوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ مال جمع کر کے رکھنے والا نہ ہو“۔ بشر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ محمد (ابن سیرین) کہتے ہیں: ”مال جوڑنے والا نہ ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُوقِفُ الْوَقْفَ؛ کسی شخص کا کسی چیز کو وقف کرنا؛جلد٣،ص١١٦؛حدیث نمبر؛٢٨٧٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُوقِفُ الْوَقْفَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا». فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلَا يُوهَبُ وَلَا يُوَرَّثُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ وَزَادَ عَنْ بِشْرٍ: «وَالضَّيْفِ»، ثُمَّ اتَّفَقُوا: لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. زَادَ عَنْ بِشْرٍ قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2878

یحییٰ بن سعید سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقہ کے متعلق روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقے کی کتاب نقل کر کے دی، اس میں یوں لکھا ہوا تھا: ” «بسم الله الرحمن الرحيم»، یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ کے بندے عمر نے ثمغ (اس مال یا باغ کا نام ہے جس کو عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ یا خیبر میں وقف کیا تھا) کے متعلق لکھا ہے“، پھر وہی تفصیل بیان کی جو نافع کی حدیث میں ہے اس میں ہے: ”مال جوڑنے والے نہ ہوں، جو پھل اس سے گریں وہ مانگنے اور نہ مانگنے والے فقیروں اور محتاجوں کے لیے ہیں“، راوی کہتے ہیں: اور انہوں نے پورا قصہ بیان کیا، اور کہا کہ: ”ثمغ کا متولی پھلوں کے بدلے (باغ کے) کام کاج کے لیے غلام خریدنا چاہے تو اس کے پھل سے خرید سکتا ہے“، معیقیب نے اسے لکھا اور عبداللہ بن ارقم نے اس بات کی یوں گواہی دی۔ ” «بسم الله الرحمن الرحيم»، یہ وہ وصیت نامہ ہے جس کی اللہ کے بندے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی اگر مجھے کوئی حادثہ پیش آ جائے (یعنی مر جاؤں) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور غلام جو اس میں ہے اور خیبر کے میرے سو حصے اور جو غلام وہاں ہیں اور میرے سو وہ حصے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر سے قریب کی وادی میں دیئے تھے ان سب کی متولیہ تاحیات حفصہ رضی اللہ عنہا رہیں گی،حفصہ رضی اللہ عنہا کے بعد ان کے اہل میں سے جو صاحب رائے ہو گا وہ متولی ہو گا لیکن کوئی چیز نہ بیچی جائے گی، نہ خریدی جائے گی، سائل و محروم اور اقرباء پر ان کی ضروریات کو دیکھ کر خرچ کیا جائے گا، ان کا متولی اگر اس میں سے کھائے یا کھلائے یا ان کی حفاظت و خدمت کے لیے ان کی آمدنی سے غلام خرید لے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُوقِفُ الْوَقْفَ؛ کسی شخص کا کسی چیز کو وقف کرنا؛جلد٣،ص١١٧؛حدیث نمبر؛٢٨٧٩)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بِنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، " عَنْ صَدَقَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَسَخَهَا لِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا كَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ فِي ثَمْغٍ، فَقَصَّ مِنْ خَبَرِهِ نَحْوَ حَدِيثِ نَافِعٍ، قَالَ: «غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، فَمَا عَفَا عَنْهُ مِنْ ثَمَرِهِ فَهُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ». قَالَ: وَسَاقَ الْقِصَّةَ قَالَ: وَإِنْ شَاءَ وَلِيُّ ثَمْغٍ اشْتَرَى مِنْ ثَمَرِهِ رَقِيقًا لِعَمَلِهِ. وَكَتَبَ مُعَيْقِيبٌ، وَشَهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ أَنَّ ثَمْغًا وَصِرْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ وَالْعَبْدَ الَّذِي فِيهِ وَالْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ وَرَقِيقَهُ الَّذِي فِيهِ، وَالْمِائَةَ الَّتِي أَطْعَمَهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوَادِي تَلِيهِ حَفْصَةُ مَا عَاشَتْ، ثُمَّ يَلِيهِ ذُو الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَنْ لَا يُبَاعَ وَلَا يُشْتَرَى يُنْفِقُهُ حَيْثُ رَأَى مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِي الْقُرْبَى، وَلَا حَرَجَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ إِنْ أَكَلَ أَوْ آكَلَ أَوِ اشْتَرَى رَقِيقًا مِنْهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2879

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے): ایک صدقہ جاریہ، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ؛میت کی جانب سے صدقہ کرنا؛جلد٣،ص١١٧؛حدیث نمبر؛٢٨٨٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2880

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک انتقال کر گئیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ کرتیں اور (اللہ کی راہ میں) دیتیں، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ جائز ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ عَنْ غَيْرِ، وَصِيَّةٍ، يُتَصَدَّقُ عَنْه؛وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٨؛حدیث نمبر؛٢٨٨١)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ عَنْ غَيْرِ وَصِيَّةٍ يُتَصَدَّقُ عَنْهُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَتَصَدَّقَتْ وَأَعْطَتْ، أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ فَتَصَدَّقِي عَنْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2881

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے، کیا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (پہنچے گا)“، اس نے کہا: میرے پاس کھجوروں کا ایک باغ ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ عَنْ غَيْرِ، وَصِيَّةٍ، يُتَصَدَّقُ عَنْه؛وصیت کئے بغیر مر جائے تو اس کی طرف سے صدقہ دینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص١١٨؛حدیث نمبر؛٢٨٨٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ فَقَالَ: «نَعَمْ». قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2882

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عاص بن وائل نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے، اس کے بعد اس کے (دوسرے) بیٹے عمرو نے ارادہ کیا کہ باقی پچاس وہ اس کی طرف سے آزاد کر دیں، پھر انہوں نے کہا: (ہم رکے رہے) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی تو ہشام نے اس کی طرف سے پچاس غلام آزاد کر دیئے ہیں، اور پچاس غلام ابھی آزاد کرنے باقی ہیں تو کیا میں انہیں اس کی طرف سے آزاد کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ (باپ) مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا حج کرتے تو اسے ان کا ثواب پہنچتا“۔ (لیکن جب وہ کافر مرا ہے اور کافر کا کوئی عمل اللہ کے یہاں مقبول نہیں لہٰذا اس کی طرف سے تمہارے غلام آزاد کرنے سے اسے کوئی فائدہ نہیں۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ الْحَرْبِيِّ يُسْلِمُ وَلِيُّهُ أَيَلْزَمُهُ أَنْ يُنْفِذَهَا؛کیا کافر کی وصیت کا نفاذ مسلم ولی (وارث) پر لازم ہو گا؟؛جلد٣،ص١١٨؛حدیث نمبر؛٢٨٨٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ الْحَرْبِيِّ يُسْلِمُ وَلِيُّهُ أَيُلْزِمُهُ أَنْ يُنْفِذَهَا؟ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ أَوْصَى أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ، فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً، فَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنْهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ، فَقَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْصَى بِعَتْقِ مِائَةِ رَقَبَةٍ، وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَةً، أَفَأُعْتِقُ عَنْهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ بَلَغَهُ ذَلِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2883

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور اپنے ذمہ ایک یہودی کا تیس وسق کھجور کا قرضہ چھوڑ گئے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے (مہلت دینے سے) انکار کر دیا، تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی کہ آپ چل کر اس سے سفارش کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور یہودی سے بات کی کہ وہ (اپنے قرض کے بدلے میں) ان کے کھجور کے باغ میں جتنے پھل ہیں لے لے لیکن اس نے انکار کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”اچھا جابر کو مہلت دے دو“، اس نے اس سے بھی انکار کیا، امام ابوداؤد کہتے اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْوَصَايَا؛وصیت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَهُ وَفَاءٌ يُسْتَنْظَرُ غُرَمَاؤُهُ وَيُرْفَقُ بِالْوَارِثِ؛مال چھوڑ کر مرنے والے قرضدار کے وارث کو قرض خواہوں سے مہلت دلانا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١١٩؛حدیث نمبر؛٢٨٨٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَهُ وَفَاءٌ يُسْتَنْظَرُ غُرَمَاؤُهُ وَيُرْفَقُ بِالْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ يَهُودَ فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ فَأَبَى، فَكَلَّمَ جَابِرٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ، «فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ، وَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْظِرَهُ فَأَبَى» وَسَاقَ الْحَدِيثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Wasaya, Hadees No. 2884

Abu Dawood Shareef : Kitabul Wasaya

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْوَصَايَا

|

•