
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: علم دین تین قسم کے ہیں ان کے علاوہ جو بھی ہیں وہ اضافی شمار ہوں گے،محکم آیات،ثابت شدہ سنت اور انصاف پر مبنی وراثت کی(تقسیم) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛علم فرائض سیکھنے کا بیان؛جلد٣،ص١١٩؛حدیث نمبر؛٢٨٨٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے پیدل چل کر تشریف لائے، مجھ پر غشی طاری تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کر سکا تو آپ نے وضو کیا اور وضو کے پانی کا مجھ پر چھینٹا مارا تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا مال کیا کروں اور بہنوں کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، اس وقت میراث کی آیت (ترجمہ)« لوگ تم سے دریافت کرتے ہیں تو تم فرما دو اللہ تعالی تم لوگوں کو کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے (سورۃ النساء: ۱۷٦)، اتری۔ (کلالہ: ایسا شخص جو نہ باپ چھوڑے نہ کوئی اولاد، اس کے سلسلہ میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی مر جائے اور اس کی اپنی کوئی اولاد نہ ہو صرف ایک بہن ہو تو آدھا مال لے گی، دو ہوں تو ثلث لے لیں گی، اگر بہن بھائی دونوں ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا اخیر تک۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَلاَلَةِ؛کلالہ کا بیان؛جلد٣،ص١١٩؛حدیث نمبر؛٢٨٨٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے چہرے پر دم کیا تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نیکی کرو“، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی کرو“، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے“۔ جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔(ترجمہ)" لوگ تم سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں تم یہ فرما دو اللہ تعالی" کلالہ"کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مَنْ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ؛جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں؛جلد٣،ص١١٩؛حدیث نمبر؛٢٨٨٧)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اخری آیت کلالہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی(جو یہ ہے) "لوگ تم سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں تم یہ فرما دو اللہ تعالی کلالہ کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مَنْ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ؛جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں؛جلد٣،ص١٢٠؛حدیث نمبر؛٢٨٨٨)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی یا رسول اللہ!لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں مسئلہ دریافت کرتے ہیں،کلالہ سے کیا مراد ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے گرمی کے موسم میں نازل ہونے والی سورت کافی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا یہ وہ شخص ہوگا جو ایسی حالت میں انتقال کر جائے کہ اس کی اولاد بھی نہ ہو اور ماں باپ بھی نہ ہو انہوں نے جواب دیا یہ ایسا ہی ہے لوگوں نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مَنْ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ؛جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں؛جلد٣،ص١٢٠؛حدیث نمبر؛٢٨٨٩)
ہزیل بن شرحبیل اودی کہتے ہیں ایک شخص حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی اور ایک سگی بہن (یعنی ایک شخص ان کو وارث چھوڑ کر مرے) تو اس کی میراث کیسے بٹے گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور سگی بہن کو آدھا ملے گا، اور انہوں نے پوتی کو کسی چیز کا وارث نہیں کیا (اور ان دونوں نے پوچھنے والے سے کہا) تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جا کر پوچھو تو وہ بھی اس مسئلہ میں ہماری موافقت کریں گے، تو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اور انہیں ان دونوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا:اگر میں بھی یہی جواب دوں)تو میں گمراہ ہو جاؤں گا اور میں ہدایت یافتہ نہیں ہوں گا، لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور وہ یہ کہ ”بیٹی کا آدھا ہو گا“ اور پوتی کا چھٹا حصہ ہو گا دو تہائی پورا کرنے کے لیے (یعنی جب ایک بیٹی نے آدھا پایا تو چھٹا حصہ پوتی کو دے کر دو تہائی پورا کر دیں گے) اور جو باقی رہے گا وہ سگی بہن کا ہو گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ؛صلبی اولاد کی وراثت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص١٢٠؛حدیث نمبر؛٢٨٩٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو اسواف (مدینہ کے حرم) میں ایک انصاری عورت کے پاس پہنچے، وہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی، اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! یہ دونوں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں ہیں، جو جنگ احد میں آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور میراث لے لیا، ان کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! ان کا نکاح نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کے پاس مال نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمائے گا“، پھر سورۃ نساء کی یہ آیتیں «يوصيكم الله في أولادكم»(نساء ١١)نازل ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو اور اس کے دیور کو بلاؤ“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لڑکیوں کے چچا سے کہا: ”دو تہائی مال انہیں دے دو، اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو انہیں دینے کے بعد بچا رہے وہ تمہارا ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں بشر نے غلطی کی ہے، یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی تھیں، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ؛صلبی اولاد کی وراثت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص١٢٠؛حدیث نمبر؛٢٨٩١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ آئی اس نے عرض کی یا رسول اللہ!حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے دو بیٹیاں چھوڑی ہیں(اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے) امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہ روایت زیادہ مستند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ؛صلبی اولاد کی وراثت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص١٢١؛حدیث نمبر؛٢٨٩٢)
اسود بن یزید بیان کرتے ہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے میت کے بہن اور بیٹی کو وارث قرار دیا انہوں نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو نصف حصہ دیا تھا یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں تھے اور اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم با حیات تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ؛صلبی اولاد کی وراثت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص١٢١؛حدیث نمبر؛٢٨٩٣)
قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ میت کی نانی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میراث میں اپنا حصہ دریافت کرنے آئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن پاک) میں تمہارا کچھ حصہ نہیں ہے، اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں معلوم، تم جاؤ میں لوگوں سے دریافت کر کے بتاؤں گا، پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے چھٹا حصہ دلایا ہے، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے (جو اس معاملے کو جانتا ہو) تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے اسی کو نافذ کر دیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں دادی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا میراث مانگنے آئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے حصہ کا ذکر نہیں ہے اور پہلے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) جو حکم ہو چکا ہے وہ نانی کے معاملے میں ہوا ہے، میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا، لیکن وہی چھٹا حصہ تم بھی لو، اگر نانی بھی ہو تو تم دونوں ( «سدس») کو بانٹ لو اور جو تم دونوں میں اکیلی ہو (یعنی صرف نانی یا صرف دادی) تو اس کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْجَدَّةِ؛دادی اور نانی کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢١؛حدیث نمبر؛٢٨٩٤)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی یا نانی کے لیے چھٹا حصہ مقرر کیا ہے جبکہ ان سے پہلے ماں موجود نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْجَدَّةِ؛دادی اور نانی کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢١؛حدیث نمبر؛٢٨٩٥)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے“، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے“، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: ”یہ دوسرا «سدس» تمہارے لیے تحفہ ہے“ قتادہ کہتے ہیں لوگوں کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کون سی چیز نے اسے وارث قرار دیا تھا۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ «سدس» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ؛دادا کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٢؛حدیث نمبر؛٢٨٩٦)
حسن بصری کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (جانتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں ہے پھر تو یہ فائدہ نہیں دے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ؛دادا کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٢؛حدیث نمبر؛٢٨٩٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوی الفروض میں مال کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کر دو ذوی الفروض جسے چھوڑ دے وہ (میت)کے قریبی مرد رشتہ دار کو ملے گا“ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ؛عصبہ کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٢؛حدیث نمبر؛٢٨٩٨)
حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرضہ یا مال،بال بچے چھوڑ جائے تو وہ میری طرف آئیں گے، اور کبھی راوی نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی طرف آئیں گے اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا میں وارث ہوں، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور اس شخص کا ترکہ لوں گا، ایسے ہی ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث ہو گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ ذوی الارحام کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٣؛حدیث نمبر؛٢٨٩٩)
حضرت مقدام کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مؤمن کے لیے اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں، جو کوئی اپنے ذمہ قرض چھوڑ جائے یا عیال چھوڑ جائے تو اس کا قرض ادا کرنا یا اس کے عیال کی پرورش کرنا میرے ذمہ ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے، اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور جس کا کوئی والی نہیں، اس کا ماموں اس کا والی ہے (یہ) اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے، راشد نے ابن عائذ سے، ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے اور اسے معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے اس میں «عن المقدام» کے بجائے «سمعت المقدام» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ضيعة» کے معنی «عیال» کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ ذوی الارحام کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٣؛حدیث نمبر؛٢٩٠٠)
حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا، اور اس کے مال کا وارث ہو گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ ذوی الارحام کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٣؛حدیث نمبر؛٢٩٠١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فوت ہو گیا، کچھ مال چھوڑ گیا اور کوئی وارث نہ چھوڑا، نہ کوئی اولاد، اور نہ کوئی عزیز، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی روایت سب سے زیادہ کامل ہے، مسدد کی روایت میں ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہاں کوئی اس کا ہم وطن ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ترکہ اس کو دے دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ ذوی الارحام کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٣؛حدیث نمبر؛٢٩٠٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو“۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو“، وہ شخص ابھی اٹھ کے گیا ہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس بلا کے لاؤ“، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا“۔ (کیونکہ جو سب سے بڑا ہو گا وہ اپنے جد اعلیٰ سے زیادہ قریب ہو گا اور جو اپنے جد اعلیٰ سے قریب ہو گا ازد سے بھی زیادہ قریب ہو گا کیونکہ خزاعہ ازد ہی کی ایک شاخ ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ ذوی الارحام کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٤؛حدیث نمبر؛٢٩٠٣)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خزاعہ (قبیلہ) کا ایک شخص فوت ہوگیا، اس کی میراث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا: ”اس کا کوئی وارث یا ذی رحم تلاش کرو“ تو نہ اس کا کوئی وارث ملا، اور نہ ہی کوئی ذی رحم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خزاعہ میں سے جو بڑا ہو اسے میراث دیدو“۔ یحییٰ کہتے ہیں: ایک بار میں نے شریک سے سنا وہ اس حدیث میں یوں کہتے تھے: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اسے دے دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ ذوی الارحام کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٤؛حدیث نمبر؛٢٩٠٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں وفات پا گیا اور ایک غلام کے سوا جسے وہ آزاد کر چکا تھا کوئی وارث نہ چھوڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کوئی اس کا وارث ہے؟“ لوگوں نے کہا: کوئی نہیں سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو اس کا ترکہ دلا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ ذوی الارحام کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٤؛حدیث نمبر؛٢٩٠٥)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”عورت تین شخص کی میراث حاصل کر لیتی ہے: اپنے غلام کی، اپنے اس بچے کی جو اسے کہیں سے ملا ہو اور اس بچے کی جس کے بارے میں اس نے شوہر سے لعان کیا ہو، (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلاَعِنَةِ؛ لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٥؛حدیث نمبر؛٢٩٠٦)
مکحول رحمت اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کی میراث اس کی ماں کو اور اس کی ماں کے بعد اس کی ماں کے ورثہ کو دی تھی یا(مقرر کی تھی) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلاَعِنَةِ؛ لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٥؛حدیث نمبر؛٢٩٠٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلاَعِنَةِ؛ لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان؛جلد٣،ص١٢٥؛حدیث نمبر؛٢٩٠٨)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب هَلْ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ؛کیا مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص١٢٥؛حدیث نمبر؛٢٩٠٩)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کل آپ (مکہ میں) کہاں اتریں گے؟ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے موقع کی بات ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جائے قیام چھوڑی ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بنی کنانہ کے خیف یعنی وادی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر جمے رہنے کی قسم کھائی تھی“۔ بنو کنانہ نے قریش سے عہد لیا تھا کہ وہ بنو ہاشم سے نہ نکاح کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں اپنے یہاں جگہ (یعنی پناہ) دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف ایک وادی کا نام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب هَلْ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ؛کیا مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص١٢٥؛حدیث نمبر؛٢٩١٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: دو مختلف دینوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب هَلْ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ؛کیا مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص١٢٥؛حدیث نمبر؛٢٩١١)
حضرت عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ دو بھائی اپنا جھگڑا یحییٰ بن یعمر کے پاس لے گئے ان میں سے ایک یہودی تھا، اور ایک مسلمان، انہوں نے مسلمان کو میراث دلائی، اور کہا کہ ابوالاسود نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ ان سے ایک شخص نے بیان کیا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” اسلام اضافہ کرتا ہے کمی نہیں کرتا،تو انہوں نے مسلمان کو وارث قرار دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب هَلْ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ؛کیا مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص١٢٦؛حدیث نمبر؛٢٩١٢)
ابو اسود دیلی بیان کرتے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی کی وراثت کا مسئلہ لایا گیا جس کا وارث ایک مسلمان بنتا تھا،اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حسب سابق حدیث منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب هَلْ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ؛کیا مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے؟؛جلد٣،ص١٢٦؛حدیث نمبر؛٢٩١٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں جو ترکہ تقسیم ہو گیا ہو وہ زمانہ اسلام میں بھی اسی حال پر باقی رہے گا، اور جو ترکہ اسلام کے زمانہ تک تقسیم نہیں ہوا تو اب اسلام کے آ جانے کے بعد اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَسْلَمَ عَلَى مِيرَاثٍ؛میراث کی تقسیم سے پہلے اگر وارث مسلمان ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص١٢٦؛حدیث نمبر؛٢٩١٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا کہ ہم اسے اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچیں گے کہ اس کا حق ولاء ہمیں حاصل ہو،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ ”خریدنے میں تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْوَلاَءِ؛ولاء (آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث) کا بیان؛جلد٣،ص١٢٦؛حدیث نمبر؛٢٩١٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ولاء کا حق حاصل ہوتا ہے جو قیمت ادا کرتا ہے اور نعمت کا ولی بنتا ہے یعنی(ازاد کرتا ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْوَلاَءِ؛ولاء (آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث) کا بیان؛جلد٣،ص١٢٦؛حدیث نمبر؛٢٩١٦)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، اس کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے، پھر لڑکوں کی ماں مر گئی، اور وہ لڑکے اپنی ماں کے گھر کے اور اپنی ماں کے آزاد کئے ہوئے غلاموں کی ولاء کے مالک ہوئے، اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان لڑکوں کے عصبہ (یعنی وارث) ہوئے اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں لے کر شام کی طرف چلے گئے ، اور وہ وہاں مر گئے تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آئے اور اس عورت کا ایک آزاد کیا ہوا غلام مر گیا اور مال چھوڑ گیا تو اس عورت کے بھائی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اس عورت کے ولاء کا مقدمہ لے گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ولاء اولاد یا باپ حاصل کرے تو وہ اس کے عصبوں کو ملے گی خواہ کوئی بھی ہو (اولاد کے یا باپ کے مر جانے کے بعد ماں کے وارثوں کو نہ ملے گی)“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس باب میں ایک فیصلہ نامہ لکھ دیا اور اس پر عبدالرحمٰن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک اور شخص کی گواہی ثابت کر دی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو پھر ان لوگوں نے جھگڑا کیا یہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے پاس لے گئے انہوں نے عبدالملک کے پاس مقدمہ کو بھیج دیا، عبدالملک نے کہا: یہ فیصلہ تو ایسا لگتا ہے جیسے میں اس کو دیکھ چکا ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر عبدالملک نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا اور وہ ولاء اب تک ہمارے پاس ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْوَلاَءِ؛ولاء (آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث) کا بیان؛جلد٣،ص١٢٧؛حدیث نمبر؛٢٩١٧)
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ!جب کوئی شخص کسی دوسرے مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں سنت کیا ہوگی؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کی زندگی اور موت(ہر عالم میں)دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ حقدار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَىِ الرَّجُلِ؛ ایک ادمی کا دوسرے ادمی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا؛جلد٣،ص١٢٧؛حدیث نمبر؛٢٩١٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے یا اس سے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛ باب فِي بَيْعِ الْوَلاَءِ؛ولاء بیچنے کا بیان؛جلد٣،ص١٢٧؛حدیث نمبر؛٢٩١٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جب(پیدا ہونے والا)بچہ چینخ کر روئے( اور پھر انتقال کر جائے)تو اس کی وراثت( کے احکام جاری ہوں گے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمَوْلُودِ يَسْتَهِلُّ ثُمَّ يَمُوت؛ جب نومولود بچہ چینخ کر رونے کے بعد انتقال کر جائے( تو اس کی میراث کے احکام)؛جلد٣،ص١٢٨؛حدیث نمبر؛٢٩٢٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» ”اور وہ لوگ جنہیں تمہاری قسموں نے باندھا ہے تم ان کو ان کا حصہ دے دو“ (سورۃ النساء: ۳۳) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت: «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» ”اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں“ (سورۃ الانفال: ۷۵) سے منسوخ ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب نَسْخِ مِيرَاثِ الْعَقْدِ بِمِيرَاثِ الرَّحِمِ؛رشتے کی میراث سے حلف و اقرار سے حاصل ہونے والی میراث کی منسوخی کا بیان؛جلد٣،ص١٢٨؛حدیث نمبر؛٢٩٢١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو اس مواخات (بھائی چارہ) کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان کرا دی تھی وہ انصار کے وارث ہوتے (اور انصار ان کے وارث ہوتے) اور عزیز و اقارب وارث نہ ہوتے، لیکن جب یہ آیت «ولكل جعلنا موالي مما ترك» ”ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ کر مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیے ہیں“ (سورۃ النساء: ۳۳) نازل ہوئی تو «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» والی آیت کو منسوخ کر دیا، اور اس کا مطلب یہ رہ گیا کہ ان کی اعانت، خیر خواہی اور سہارے کے طور پر جو چاہے کر دے نیز ان کے لیے وہ (ایک تہائی مال) کی وصیت کر سکتا ہے، میراث ختم ہو گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب نَسْخِ مِيرَاثِ الْعَقْدِ بِمِيرَاثِ الرَّحِمِ؛رشتے کی میراث سے حلف و اقرار سے حاصل ہونے والی میراث کی منسوخی کا بیان؛جلد٣،ص١٢٨؛حدیث نمبر؛٢٩٢٢)
داود بن حصین کہتے ہیں کہ میں ام سعد بنت ربیع رضی اللہ عنہا کے یہاں(کلام پاک) پڑھتا تھا وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم بچی تھیں، میں نے اس آیت «والذين عقدت أيمانكم» کو پڑھا تو کہنے لگیں: اس آیت کو نہ پڑھو، یہ ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے متعلق اتری ہے، جب عبدالرحمٰن نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ میں ان کو وارث نہیں بناؤں گا پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں) کہ وہ ان کا حصہ دیں۔عبد العزیز نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں:انہوں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا،جب تک تلوار کے ذریعے انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس نے «عقدت» کہا اس نے اس سے «حلف» اور جس نے «عاقدت» کہا اس نے اس سے «حالف» مراد لیا اور صحیح طلحہ کی حدیث ہے جس میں «عاقدت» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب نَسْخِ مِيرَاثِ الْعَقْدِ بِمِيرَاثِ الرَّحِمِ؛رشتے کی میراث سے حلف و اقرار سے حاصل ہونے والی میراث کی منسوخی کا بیان؛جلد٣،ص١٢٩؛حدیث نمبر؛٢٩٢٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ: «والذين، آمنوا وهاجروا»، «والذين آمنوا ولم يهاجروا» ”جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی تو وہ ان کے وارث نہیں ہوں گے“ (سورۃ الانفال: ۷۲) تو اعرابی مہاجر کا وارث نہ ہوتا اور نہ مہاجر اس کا وارث ہوتا اس کے بعد «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» ”اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں“ (سورۃ الانفال: ۷۵) والی آیت سے یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب نَسْخِ مِيرَاثِ الْعَقْدِ بِمِيرَاثِ الرَّحِمِ؛رشتے کی میراث سے حلف و اقرار سے حاصل ہونے والی میراث کی منسوخی کا بیان؛جلد٣،ص١٢٩؛حدیث نمبر؛٢٩٢٤)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (زمانہ کفر کی) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں (بھلے کام کے لیے) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْحِلْفِ؛حلف(کسی کو اپنا حلیف قرار دینا)کا بیان؛جلد٣،ص١٢٩؛حدیث نمبر؛٢٩٢٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا، تو ان (یعنی انس) سے کہا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا ہے کہ اسلام میں حلف (عہد و پیمان) نہیں ہے؟ تو انہوں نے دو یا تین بار زور دے کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل کر رہیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْحِلْفِ؛حلف(کسی کو اپنا حلیف قرار دینا)کا بیان؛جلد٣،ص١٢٩؛حدیث نمبر؛٢٩٢٦)
سعید کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یعنی ضحاک کو) دیہات والوں پر عامل بنایا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛وراثت کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمَرْأَةِ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا؛عورت اپنے شوہر کی دیت سے حصہ پائے گی؛جلد٣،ص١٢٩؛حدیث نمبر؛٢٩٢٧)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Faraiz
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْفَرَائِضِ
|
•