
حضرت عامر رضی اللہ عنہ، جن کا تعلق خضر قبیلے سے ہے،وہ بیان کرتے ہیں:ہم اپنے علاقے میں موجود تھے اسی دوران ہمارے سامنے بڑے اور چھوٹے جھنڈے آے تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے، تو میں آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے ایک کمبل پر جو آپ کے لیے بچھایا گیا تھا تشریف فرما تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد آپ کے اصحاب اکٹھا تھے، میں بھی جا کر انہیں میں بیٹھ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا: ”جب مومن بیمار پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی بیماری سے شفا عطا کرتا ہے تو وہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت، اور جب منافق بیمار پڑتا ہے پھر اسے عافیت دے دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کے مانند ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا ہو، اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کس لیے باندھا گیا اور کیوں چھوڑ دیا گیا“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیماریاں کیا ہیں؟ اللہ کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہمارے پاس سے اٹھ جاؤ،کیونکہ تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں“۔عامر کہتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا جس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف آ نکلا، راستے میں درختوں کا ایک جھنڈ دیکھا اور وہاں چڑیا کے بچوں کی آواز سنی تو انہیں پکڑ کر اپنے کمبل میں رکھ لیا، اتنے میں ان بچوں کی ماں آ گئی، اور وہ میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لیے ان بچوں سے کمبل ہٹا دیا تو وہ بھی ان بچوں پر آ گری، میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا، اور وہ سب میرے ساتھ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو یہاں رکھو“، میں نے انہیں رکھ دیا، لیکن ماں نے اپنے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کیا تم اس چڑیا کے اپنے بچوں کے ساتھ محبت کرنے پر حیران ہو؟“، صحابہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت رکھتا ہے جتنی یہ چڑیا اپنے بچوں سے رکھتی ہے، تم انہیں ان کی ماں کے ساتھ لے جاؤ اور وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے انہیں لائے ہو“، تو وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الأَمْرَاضِ الْمُكَفِّرَةِ لِلذُّنُوبِ؛گناہوں کے لیے کفارہ بننے والی بیماریوں کا بیان؛جلد٣،ص١٨٢؛حدیث نمبر؛٣٠٨٩)
ابراہیم بن مہدی سلمی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا،جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے،روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا: ” جب کسی بندے کا اللہ کی بارگاہ میں کوئی مقام طے ہو چکا ہو اور آدمی اپنے اعمال کی وجہ سے وہاں تک نہ پہنچ سکتا ہو تو اللہ تعالی اسے اس کے جسم یا مال یا اولاد کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے(اور اس کے اجر کے طور پر اسے اس مقام پر فائز کر دیتا ہے)“۔ ابن نفیل نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے:"پھر وہ اسے اس پر صبر کرنے کی توفیق بھی دیتا ہے" اس کے بعد دونوں راوی یہ الفاظ نقل کرنے میں متفق ہیں۔ " اللہ تعالی اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی کی طرف سے پہلے سے طے ہوتا ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الأَمْرَاضِ الْمُكَفِّرَةِ لِلذُّنُوبِ؛گناہوں کے لیے کفارہ بننے والی بیماریوں کا بیان؛جلد٣،ص١٨٢؛حدیث نمبر؛٣٠٩٠)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا: ”جب بندہ کوئی نیک عمل (پابندی سے) کر رہا ہو، پھر کوئی مرض، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کر سکے، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب إِذَا كَانَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ عَمَلاً صَالِحًا فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ أَوْ سَفَرٌ؛جب کوئی آدمی(باقاعدگی سے)کوئی نیک عمل کرتا ہو اور پھر بیماری یا سفر کی وجہ سے اسے انجام نہ دے سکے؛جلد٣،ص١٨٣؛حدیث نمبر؛٣٠٩١)
سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: ”خوش خبری قبول کرو، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب عِيَادَةِ النِّسَاءِ؛عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان؛جلد٣،ص١٨٤؛حدیث نمبر؛٣٠٩٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ!“، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» ”جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا“ (سورۃ النساء: ۱۲۳)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو جب کوئی پریشانی لائق ہوتی ہے یا اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کو اس کے سب سے برے عمل کا بدلہ دیا جاتا ہے اور قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا اسے عذاب بھی دیا جائے گا“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا“ (سورۃ الانشقاق: ۸)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے، اے عائشہ! جس شخص سے حساب میں پوچھ گچھ کی جائے گی اسے عذاب دیا جائے“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں روایت کی یہ الفاظ ابن بشار کے نقل کردہ ہیں وہ یہ کہتے ہیں ابن ابو ملیکہ نے اس بارے میں حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب عِيَادَةِ النِّسَاءِ؛عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان؛جلد٣،ص١٨٤؛حدیث نمبر؛٣٠٩٣)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو آپ نے اس میں موت کے اثرات دیکھے، فرمایا: ”میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا“، اس نے کہا: عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا ہوا ، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے (عبداللہ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی مر گیا، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعِيَادَةِ؛عیادت (بیمار پرسی) کا بیان؛جلد٣،ص١٨٤؛حدیث نمبر؛٣٠٩٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا: ”تم مسلمان ہو جاؤ“، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ”ابوالقاسم کی اطاعت کرو“، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: ”تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي عِيَادَةِ الذِّمِّيِّ؛ذمی کی بیمار پرسی کا بیان۔؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لاتے تھے نہ تو آپ کسی گھوڑے پر سوار ہوتے تھے ورنہ کسی خچر پر سوار ہوتے تھے(یعنی پیدل تشریف لاتے تھے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛الْمَشْىِ فِي الْعِيَادَةِ؛عیادت کے لیے پیدل چل کر جانے کا بیان؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٦)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر «خریف» کی مسافت کی مقدار دور کر دیا جاتا ہے“، میں نے کہا! اے ابوحمزہ! «خریف» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سال۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ جن احادیث کو روایت کرنے میں منفرد ہے ان میں ایک یہ روایت بھی ہے کہ ادمی کو وضو کر کے عیادت کرنی چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ؛باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٧)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو شخص کسی بیمار کی شام کے وقت عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے، اور جو شخص صبح کے وقت عیادت کے لیے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ؛باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے تاہم اس میں باغ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ؛باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٩)
عبداللہ بن نافع بیان کرتے ہیں(ان کے والد) نافع حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے غلام تھے وہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو مرفوع روایت کے طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دوسری سند سے بھی نقل کیا گیا ہے جو مستند نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ؛باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا؛جلد٣،ص١٨٦؛حدیث نمبر؛٣١٠٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں غزوہ خندق کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْعِيَادَةِ مِرَارًا؛بیمار کی کئی بار عیادت (بیمار پرسی) کا بیان؛جلد٣،ص١٨٦؛حدیث نمبر؛٣١٠١)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میری انکھوں میں تکلیف لائق ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعِيَادَةِ مِنَ الرَّمَد؛آنکھ کی بیماری میں مبتلا شخص کی عیادت کا بیان؛جلد٣،ص١٨٦؛حدیث نمبر؛٣١٠٢)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاؤ، اور جس سر زمین میں وہ پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون سے بچنے کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر (کہیں اور) نہ جاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْخُرُوجِ مِنَ الطَّاعُونِ؛طاعون سے نکل بھاگنا؛جلد٣،ص١٨٦؛حدیث نمبر؛٣١٠٣)
عائشہ بنت سعد بیان کرتی ہیں:ان کے والد(حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ)نے یہ بات نقل کی کہ میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی: «اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته» ”اے اللہ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ بِالشِّفَاءِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ؛عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا؛جلد٣،ص١٨٧؛حدیث نمبر؛٣١٠٤)
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"بھوکے کو کھانا کھلاؤ،بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو ازاد کرواؤ۔" سفیان کہتے ہیں لفظ"عانی"سے مراد قیدی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ بِالشِّفَاءِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ؛عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا؛جلد٣،ص١٨٧؛حدیث نمبر؛٣١٠٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم» ”میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفاء دے“ تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ؛عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا؛جلد٣،ص١٨٧؛حدیث نمبر؛٣١٠٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ یہ تیرے دشمن کو زخمی کردے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ؛عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا؛جلد٣،ص١٨٧؛حدیث نمبر؛٣١٠٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہو جانے کی وجہ سے (گھبرا کر) موت کی دعا ہرگز نہ کرے بلکہ اسے یہ کہنا چاہئے: «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت مجھے موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ؛موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١٠٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:کوئی بھی شخص موت کی آرزو ہرگز نہ کرے،اس کے بعد حسب سابق نقل کیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ؛موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١٠٩)
عبید بن خالد ایک صحابی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اچانک موت،ناراضگی کی پکڑ ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ؛موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١١٠)
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے تو ان کو بیہوش پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا تو انہوں نے آپ کو جواب نہیں دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، اور فرمایا: ”اے ابوربیع! تمہارے حوالے سے ہم(تقدیر کے حکم کے آگے)مغلوب ہوگئے ہیں “، یہ سن کر عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں تو ابن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دو (رونے دو انہیں) جب واجب ہو جائے تو کوئی رونے والی نہ روئے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول: واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت“، عبداللہ بن ثابت کی بیٹی کہنے لگیں: میں پوری امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے جہاد میں حصہ لینے کی پوری تیاری کر لی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیت کے موافق اجر و ثواب دے گا، تم لوگ شہادت کسے سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہو جانا شہادت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں: طاعون میں مر جانے والا شہید ہے، ڈوب کر مر جانے والا شہید ہے، ”ذات الجنب“ (نمونیہ) سے مر جانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری (دستوں وغیرہ) سے مر جانے والا شہید ہے، جل کر مر جانے والا شہید ہے، جو دیوار گرنے سے مر جائے شہید ہے، اور عورت جو حالت حمل میں ہو اور مر جائے تو وہ بھی شہید ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ مَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ؛اس شخص کی فضیلت جو طاعون سے مر جائے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا اور خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، تو خبیب ان کے پاس قید رہے (جب حرمت کے مہینے ختم ہو گئے) تو وہ سب ان کے قتل کے لیے جمع ہوئے، خبیب بن عدی نے حارث کی بیٹی سے استرہ طلب کیا جس سے وہ ناف کے نیچے کے بال کی صفائی کر لیں، اس نے انہیں استرہ دے دیا، اسی حالت میں اس کا ایک چھوٹا بچہ خبیب کے پاس جا پہنچا وہ بےخبر تھی یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ اکیلے ہیں، بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے، اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے، یہ دیکھ کر وہ سہم گئی اور ایسی گھبرائی کہ خبیب بھانپ گئے اور کہنے لگے: کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا، میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصہ کو شعیب بن ابوحمزہ نے زہری سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی ہے کہ حارث کی بیٹی نے انہیں بتایا کہ جب لوگوں نے خبیب کے قتل کا متفقہ فیصلہ کر لیا تو انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے اس سے استرہ مانگا تو اس نے انہیں دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمَرِيضِ يُؤْخَذُ مِنْ أَظْفَارِهِ وَعَانَتِهِ؛قریب الموت مریض کے ناخن کاٹے جائیں اور زیر ناف کی صفائی بھی کی جائے؛جلد٣،ص١٨٩؛حدیث نمبر؛٣١١٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "کوئی شخص جب فوت ہو تو اسے اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ؛مستحب ہے کہ انسان موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١١٣)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مردہ اپنے انہیں کپڑوں میں (قیامت میں) اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَطْهِيرِ ثِيَابِ الْمَيِّتِ عِنْدَ الْمَوْتِ؛مستحب ہے کہ قریب الموت آدمی کے کپڑے پاک صاف کر دیے جائیں؛جلد٣،ص١٨٩؛حدیث نمبر؛٣١١٤)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی مرنے والے شخص کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو اس لیے کہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں“، تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر) انتقال کر گئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں کیا کہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم اغفر له وأعقبنا عقبى صالحة» ”اے اللہ! ان کو بخش دے اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما“۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقَالَ عِنْدَ الْمَيِّتِ مِنَ الْكَلاَمِ؛میت کے پاس کس قسم کی گفتگو کی جائے؟؛جلد٣،ص١٨٩؛حدیث نمبر؛٣١١٥)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا آخری کلام «لا إله إلا الله» ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ (اس لئے مرتے وقت مرنے والے کے قریب «لا إله إلا الله» کہنا چاہئے تاکہ اس کی زبان پر بھی یہ کلمہ جاری ہو جائے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلْقِينِ؛قریب المرگ کو تلقین کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٠؛حدیث نمبر؛٣١١٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والے کو کلمہ «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلْقِينِ؛قریب المرگ کو تلقین کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٠؛حدیث نمبر؛٣١١٧)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بند کر دیا (یہ دیکھ کر)ان کے گھر والوں نے چینخ کر رونا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اپنے حق میں صرف خیر کی دعا کرو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله رب العالمين اللهم افسح له في قبره ونور له فيه» ”اے اللہ! ابوسلمہ کو بخش دے، انہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کے درجات بلند فرما اور اس کے پسماندگان کا نگران تو بن جا، اے سارے جہان کے پالنہار! ہمیں اور انہیں (سبھی کو) بخش دے، ان کے لیے قبر میں کشادگی فرما اور ان کی قبر میں روشنی کر دے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تغميض الميت» (آنکھ بند کرنے کا عمل) روح نکلنے کے بعد ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن محمد بن نعمان مقری سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے ابومیسرہ سے جو ایک عابد شخص تھے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر معلم کی آنکھ جو ایک عابد آدمی تھے مرتے وقت ڈھانپ دی تو ان کے انتقال والی رات میں خواب میں دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارا میرے مرنے سے پہلے میری آنکھ کو بند کر دینا میرے لیے باعث مشقت و تکلیف رہی (یعنی آنکھ مرنے سے پہلے بند نہیں کرنی چاہیئے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ؛میت کی آنکھیں بند کر دینی چاہیں؛جلد٣،ص١٩٠؛حدیث نمبر؛٣١١٨)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے (تھوڑی ہو یا زیادہ) تو اسے چاہیئے کہ: «إنا لله وإنا إليه راجعون»، «اللهم عندك أحتسب مصيبتي فآجرني فيها وأبدل لي خيرا منها» بیشک ہم اللہ کے ہیں اور لوٹ کر بھی اسی کے پاس جانے والے ہیں، اے اللہ! میں تیرے ہی پاس اپنی مصیبت کو پیش کرتا ہوں تو مجھے اس مصیبت کے بدلے جو مجھے پہنچ چکی ہے ثواب عطا کر اور اس مصیبت کو خیر سے بدل دے، کہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلْقِينِ؛باب فِي الاِسْتِرْجَاعِ؛کسی بھی مصیبت کے وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩١؛حدیث نمبر؛٣١١٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو(وصال کے بعد)دھاری دار(یمنی)چادر میں ڈھانپ دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلْقِينِ؛باب فِي الْمَيِّتِ يُسَجَّى؛میت کو ڈھانپ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٩١؛حدیث نمبر؛٣١٢٠)
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں پر سورۃ، يس، پڑھو“۔یہ الفاظ ابن العلاء کے نقل کردہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الْمَيِّتِ؛قریب المرگ کے پاس قرآن پڑھنے کا مسئلہ؛جلد٣،ص١٩١؛حدیث نمبر؛٣١٢١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابوطالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوے، آپ کے چہرے مبارک پر شدید غم کے اثرات نمایاں تھے، اور اس کے بعد راوی نےواقعہ کی تفصیل بتائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْجُلُوسِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ؛مصیبت کے وقت (غم کے سبب سے) بیٹھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٢؛حدیث نمبر؛٣١٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک میت کو دفنایا، جب ہم تدفین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، ہم بھی آپ کے ساتھ لوٹے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میت کے دروازے کے سامنے آئے تو رک گئے، اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک عورت چلی آرہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو پہچان لیا، جب وہ چلی گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی؟“، انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں اس گھر والوں کے پاس آئی تھی تاکہ میں ان کے ساتھ رحم دلی کا اظہار کروں یا ان کی تعزیت کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم ان کے ساتھ کُدی (مکہ میں ایک جگہ ہے) گئی تھی“، انہوں نے کہا: معاذاللہ! میں تو اس بارے میں آپ کا بیان سن چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان کے ساتھ کدی گئی ہوتی تو میں ایسا ایسا کرتا“، (اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت رویے کا اظہار فرمایا)۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ربیعہ سے کدی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جیسا کہ میں سمجھ رہا ہوں اس سے قبرستان مراد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّعْزِيَةِ؛تعزیت کا بیان؛جلد٣،ص١٩٢؛حدیث نمبر؛٣١٢٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور صبر کرو“، اس عورت نے کہا: آپ کو میری مصیبت کے ساتھ کیا واسطہ؟، تو اس سے کہا گیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں (جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی) تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو“ یا فرمایا: ”صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّبْرِ عِنْدَ الصَّدْمَةِ؛مصیبت کے وقت صبر کرنا؛جلد٣،ص١٩٢؛حدیث نمبر؛٣١٢٤)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی(حضرت زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ کو یہ پیغام دے کر بلا بھیجا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کے موت کا وقت قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اس وقت میں اور سعد اور میرا خیال ہے کہ ابی بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواباً) سلام کہلا بھیجا، اور فرمایا: ”ان سے (جا کر) کہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو لیا ہے وہ اس کی ملکیت ہے(اور جو دیا ہے وہ بھی اس کی ملکیت ہے)، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے“۔ پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دے کر کہلایا کہ آپ ضرور تشریف لائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، بچہ آپ کی گود میں رکھا گیا، اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، حضرت سعد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے، اللہ جس کے دل میں چاہتا ہے اسے ڈال دیتا ہے، اور اللہ انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو دوسروں کے لیے رحم دل ہوتے ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛میت پر رونا؛جلد٣،ص١٩٣؛حدیث نمبر؛٣١٢٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے یہاں بیٹا پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا“، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی،حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں دیکھا کہ وہ آخری سانسیں لے رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، آپ نے فرمایا: ”آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛میت پر رونا؛جلد٣،ص١٩٣؛حدیث نمبر؛٣١٢٦)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٣؛حدیث نمبر؛٣١٢٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی عورت اور(نوحہ کو)غور سے سننے والی عورت پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٣؛حدیث نمبر؛٣١٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے“، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات کا ذکر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا،کیا یہ بات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے(اس کی حقیقت یہ ہے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قبر والے کو تو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اس پر رو رہے ہیں“، پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت تلاوت کی«ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ (سورۃ الإسراء: ۱۵) پڑھی۔ ابومعاویہ کی روایت میں «على قبر» کے بجائے «على قبر يهودي» ہے، یعنی ایک یہودی کے قبر کے پاس سے گزر ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٤؛حدیث نمبر؛٣١٢٩)
یزید بن اوس کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار تھے میں ان کے پاس (عیادت کے لیے) گیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں یا رونا چاہا، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے، تو وہ چپ ہو گئیں، یزید کہتے ہیں: جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں ان کی اہلیہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قول: ”کیا تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے“ پھر آپ چپ ہو گئیں کا کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو (میت کے غم میں) اپنا سر منڈوائے، جو گال پیٹتا ہے، اور جو کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٤؛حدیث نمبر؛٣١٣٠)
اسید بن ابواسید ایک خاتون کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا تھا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو عہد لیا تھا جو نیکی کے بارے میں تھا اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ہم بھلائی کے کام میں نافرمانی نہیں کریں گے،اور نوحہ کرتے ہوئے اپنے چہرے کو نہیں نوچیں گے واویلا نہیں کریں گے، کپڑے نہیں پھاڑیں گے،اور بال نہیں نوچیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٤؛حدیث نمبر؛٣١٣١)
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان کے گھر والوں کے لیے ایسی صورتحال آگئی ہے،جس نے انہیں مشغول کردیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب صَنْعَةِ الطَّعَامِ لأَهْلِ الْمَيِّتِ؛اہل میت کے لیے کھانا تیار کرنا؛جلد٣،ص١٩٤؛حدیث نمبر؛٣١٣٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص کے سینے یا حلق میں تیر آکر لگا جس کے نتیجے میں اس کا انتقال ہوگیا،تو اسے اسی طرح اپنے کپڑوں میں لپیٹا گیا جیسے وہ تھا،راوی بیان کرتے ہیں:اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٥؛حدیث نمبر؛٣١٣٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کے بارے میں یہ فرمایا ان کے ہتھیار اور چمڑے کا(اوپری لباس)وغیرہ اتار لیے جائے اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٥؛حدیث نمبر؛٣١٣٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا تھا انہیں ان کے خون سمیت دفن کر دیا گیا تھا اور ان کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کی گئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٥؛حدیث نمبر؛٣١٣٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ احد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ (حمزہ بن عبدالمطلب) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے،جس کی بے حرمتی کی گئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: ”اگر مجھے اس کا خیال نہ ہوتا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ (کی بہن)"صفیہ"یہ برداشت نہیں کر سکیں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے“۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، (حال یہ تھا) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٥؛حدیث نمبر؛٣١٣٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس سے ہوا جس کی بے حرمتی کی گئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ شہداء میں سے کسی اور کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں احد کے شہداء میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے آپ دریافت کرتے تھے کہ ان دونوں میں سے کسے قرآن زیادہ آتا ہے جب ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لحد میں قبلہ کی سمت آگے رکھتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں ان سب کا گواہ ہوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ان کے خون سمیت دفن کر دیا جائے اور انہیں غسل نہ دیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٣٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ایک کپڑے میں اکھٹا کیا گیا(یعنی ایک ساتھ کفن دیا گیا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٣٩)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تم اپنے زانوں کو ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ یا مردہ کے زانوں کی طرف نہ دیکھو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي سَتْرِ الْمَيِّتِ عِنْدَ غَسْلِهِ؛میت کو غسل دیتے ہوئے اس کے لیے پردہ کرنا؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٤٠)
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، (یہ سن کر) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي سَتْرِ الْمَيِّتِ عِنْدَ غَسْلِهِ؛میت کو غسل دیتے ہوئے اس کے لیے پردہ کرنا؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٤١)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (حضرت زینب رضی اللہ عنہا) کا انتقال ہوا آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”تم انہیں تین بار، یا پانچ بار پانی اور بیر کی پتی سے غسل دینا، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھنا اور آخری بار کافور ملا دینا، اور جب غسل دے کر فارغ ہونا، مجھے اطلاع دینا، تو جب ہم غسل دے کر فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی، آپ نے ہمیں اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا: ”یہ ان کے بدن پر لپیٹ دو“۔ قعنبی کی روایت میں خالک سے مروی ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازار کو۔ مسدد کی روایت میں ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے پاس آنے کا“ ذکر نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٢)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے اس صاحبزادی کی تین چوٹیاں بنا دی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٣)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے اس صاحبزادی کے سر میں تین چوٹیاں بنا دی تھی آگے والے بالوں کو پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا اور اطراف میں دو چوٹیاں بنا دی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٤)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو اپنے صاحبزادی کو غسل دینے کے بارے میں یہ فرمایا اس کے دائیں طرف والے اعضاء اور ان اعضا میں سے وضو والے مقامات سے آغاز کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول ہے جو امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی نقل کردہ روایت کے مانند ہے،حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے پہلی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "یا سات مرتبہ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ(غسل دینا)"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٦)
محمد بن سیرین کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے غسل دینے کی روایت حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے حاصل کی ہے کہ میت کو دو یا تین مرتبہ پانی کے ہمراہ بیری کے پتوں اور کافور سے غسل دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٤٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا جس میں اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جن کا انتقال ہو گیا تھا، انہیں معمولی سا کفن دیا گیا، اور رات میں دفن کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا رات میں کسی کو جب تک اس پر نماز جنازہ نہ پڑھ لی جائے مت دفناؤ، إلا یہ کہ انسان کو انتہائی مجبوری ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٤٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یمنی دھاری دار چادر میں لپیٹے گئے، پھر وہ چادر نکال لی گئی (اور سفید چادر رکھی گئی)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٤٩)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور ورثاء صاحب حیثیت (مالدار) ہوں تو اسے دھاری دار منقش چادر میں کفن دینا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٥٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں قمیص اور عمامہ شامل نہیں تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٥١)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: "سوتی کپڑے کے بنے ہوئے" راوی بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے لوگوں نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کپڑوں اور ایک دھاری دار چادر میں کفن دیا گیا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ دھاری دار چادر لائی گئی تھی پھر لوگوں نے اسے واپس کر دیا تھا اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن نہیں دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے بنے ہوئے تین کپڑوں میں کفن دئیے گئے، دو کپڑے (چادر اور تہہ بند) اور ایک وہ قمیص جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال ہوا تھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: تین کپڑوں میں کفن دیے گئے، سرخ جوڑا (یعنی چادر و تہہ بند) اور ایک وہ قمیص تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرمائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٣)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:کفن مہنگا نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:کفن مہنگا نہ بناؤ، کیونکہ یہ بہت جلد چھین لیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ الْمُغَالاَةِ فِي الْكَفَنِ؛کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٤)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شہید ہوگئے تو انہیں کفن دینے کے لیے ایک اونی چادر کے سوا اور کچھ میسر نہ آیا، اور وہ اونی چادر بھی ایسی چھوٹی تھی کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے تھے، اور اگر ان کے دونوں پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونی چادر سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر کچھ اذخر (گھاس) ڈال دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ الْمُغَالاَةِ فِي الْكَفَنِ؛کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٥)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"سب سے بہتر کفن حلہ ہے اور سب سے بہترین قربانی سینگوں والی مینڈھے کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ الْمُغَالاَةِ فِي الْكَفَنِ؛کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٦)
بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے کہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار دیا، پھر کرتہ دیا، پھر اوڑھنی دی، پھر چادر دی، پھر ایک اور کپڑا دیا، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا۔ لیلیٰ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس تشریف فرما تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَفَنِ الْمَرْأَةِ؛عورت کے کفن کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛٣١٥٧)
Abu Daud Sharif Kitabul Janayiz Hadees No# 3158
حضرت حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے، اور فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ طلحہ کی موت کا وقت قریب ہے، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب التَّعْجِيلِ بِالْجَنَازَةِ وَكَرَاهِيَةِ حَبْسِهَا؛جنازہ لے جانے میں جلدی کرنا مستحب اور اسے روکے رکھنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛٣١٥٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار کاموں کے بعد غسل کرتے تھے: جنابت سے، جمعہ کے دن، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ؛میت کو غسل دے کر،غسل کرنا؛جلد٣،ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛٣١٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص میت کو غسل دے اسے غسل کرنا چاہیے اور جو جنازے کو کندھا دے اسے وضو کرنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ؛میت کو غسل دے کر،غسل کرنا؛جلد٣،ص٢٠١؛حدیث نمبر؛٣١٦١)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے) اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، میں نے احمد بن حنبل سے سنا ہے: جب ان سے میت کو غسل دینے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اسے وضو کر لینا کافی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوصالح نے اس حدیث میں اپنے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان زائدہ کے غلام اسحاق کو داخل کر دیا ہے، نیز مصعب کی روایت ضعیف ہے اس میں کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ؛میت کو غسل دے کر،غسل کرنا؛جلد٣،ص٢٠١؛حدیث نمبر؛٣١٦٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ان کی میت کو بوسہ دیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ؛میت کو بوسہ دینا؛جلد٣،ص٢٠١؛حدیث نمبر؛٣١٦٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:کچھ لوگوں نے قبرستان میں(رات کے وقت) روشنی دیکھی وہ اس کے پاس آئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر میں موجود تھے، اور یہ فرما رہے تھے:"اپنے ساتھی کو مجھے پکڑا" اور یہ وہ شخص تھا جو بلند آواز میں ذکر کیا کرتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الدَّفْنِ بِاللَّيْلِ؛رات کے وقت میت کو دفن کرنا؛جلد٣،ص٢٠١؛حدیث نمبر؛٣١٦٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں غزوہ احد کے روز ہم نے شہداء کو کسی اور جگہ لے جا کر دفن کرنے کے لیے اٹھایا ہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آ کر اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے ہیں کہ شہداء احدکو ان کی شہادت کی جگہوں میں دفن کرو،تو ہم نے ان کو انہیں کی جگہوں پر لوٹا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمَيِّتِ يُحْمَلُ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ وَكَرَاهَةِ ذَلِكَ؛میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ناپسندیدہ ہے؛جلد٣،ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛٣١٦٥)
حضرت مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان مر جائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا“۔ راوی کہتے ہیں: نماز (جنازہ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الصُّفُوفِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛نماز جنازہ میں صف بندی کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛٣١٦٦)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہمیں(خواتین)کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا تھا تاہم اس حوالے سے ہمارے ساتھ سختی نہیں کی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ؛عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا؛جلد٣،ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛٣١٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط (کا ثواب) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط (کا ثواب) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا؛جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت؛جلد٣،ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛٣١٦٨)
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ(چھوٹا گھر جسے دیواروں سے گھیر کر محفوظ کر دیا گیا ہو۔)خباب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے (یہ سنا تو) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا؛جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٦٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:" جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور 40 ایسے لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے ہو تو اس شخص کے بارے میں ان کی سفارش کو قبول کیا جاتا ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا؛جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جنازے کے ساتھ آواز یا آگ کو نہ لے جایا جائے۔ایک راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:"جنازے کے آگے نہ چلا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّارِ يُتْبَعُ بِهَا الْمَيِّتُ؛میت کے ساتھ آگ لے جانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٧١)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما)کے حوالے سے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:جب تم کوئی جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ جب تک وہ آگے نہیں گزر جاتا یا اسے رکھ نہیں دیا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٧٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو“ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ”یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے“ اور اسے ابومعاویہ نے سہیل سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری ابومعاویہ سے زیادہ حافظہ والے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٧٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچانک ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر جب ہم اسے اٹھانے کے لیے بڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی یہودی کا جنازہ ہے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت پریشان کن چیز ہے، لہٰذا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛٣١٧٤)
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کی وجہ سے کھڑے ہو جایا کرتے تھے بعد میں آپ بیٹھے رہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛٣١٧٥)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا، بیٹھتے نہ تھے، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں (اس کے بعد سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے، اور فرمایا: ”(مسلمانو!) تم (بھی) بیٹھے رہو، ان کے خلاف کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛٣١٧٦)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا (پیدل ہی گئے) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: ”جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الرُّكُوبِ فِي الْجَنَازَةِ؛جنازہ میں سوار ہو کر جانا؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٧٧)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی، اور ہم موجود تھے، پھر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے) ایک گھوڑا لایا گیا اسے باندھ کر رکھا گیا یہاں تک کہ آپ سوار ہوگئے، آپ اسے درمیانی رفتار سے تیز چلاتے رہے ، اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہو کر تیز چلنے لگے (تاکہ آپ کا ساتھ نہ چھوٹے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الرُّكُوبِ فِي الْجَنَازَةِ؛جنازہ میں سوار ہو کر جانا؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٧٨)
سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْمَشْىِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ؛جنازے کے آگے آگے چلنا؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٧٩)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے، آگے دائیں بائیں طرف چل سکتا ہے جبکہ اس کے قریب رہے،اور جو بچہ مردہ پیدا ہو اس کی نماز جنازہ ادا کی جاے گی،ان کے والدین کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْمَشْىِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ؛جنازے کے آگے آگے چلنا؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنازے کو تیزی سے لے کر جاؤ کیونکہ اگر وہ نیک ہوگا تو تم ایک بھلائی کی طرف اس کو لے کر جا رہے ہو اور اگر وہ اس کے علاوہ ہوگا تو تم اپنی گردنوں سے اس برائی کو اتار دو گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جنازہ جلدی لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٨١)
عیینہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے، اتنے میں ہم سے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنی لاٹھی لہرایا (ڈرانے کے لیے) اور کہا: ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم (جنازے لے کر) تیز چلا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جنازہ جلدی لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٨٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوئے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اپنے خچر کو تیزی سے چلاتے ہوئے تشریف لائے انہوں نے اپنے کوڑے کے ذریعے اشارہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جنازہ جلدی لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٨٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنازے میں چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:درمیانی رفتار، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم سے دور ہی رہنا چاہیے، جنازہ کی پیروی کی جائے گی (یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جنازہ جلدی لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛٣١٨٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص بیمار ہوا پھر اس کی موت کی خبر پھیلی تو اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا؟“، وہ بولا: میں اسے دیکھ کر آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا ہے“، وہ پھر لوٹ گیا، پھر اس کے مرنے کی خبر پھیلی، پھر وہی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: وہ مر گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا ہے“، تو وہ پھر لوٹ گیا، اس کے بعد پھر اس کے مرنے کی خبر مشہور ہوئی، تو اس کی بیوی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس کے مرنے کی آپ کو خبر دو، اس نے کہا: اللہ کی لعنت ہو اس پر۔ پھر وہ شخص مریض کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس نے تیر کے پیکان سے اپنا گلا کاٹ ڈالا ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے آپ کو بتایا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیسے پتا لگا؟“، اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے اس نے تیر کی پیکان سے اپنا گلا کاٹ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے خود دیکھا ہے؟“، اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھوں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِمَامِ لاَ يُصَلِّي عَلَى مَنْ قَتَلَ نَفْسَه؛امام خودکشی کرنے والے کا جنازہ نہ پڑھائے؛جلد٣،ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛٣١٨٥)
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا کرنے سے منع بھی نہیں کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَتْهُ الْحُدُودُ؛حدنافذ ہونے کی وجہ سے مرنے والے کی نماز جنازہ ادا کرنا؛جلد٣،ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛٣١٨٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر 18 ماہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلاَةِ عَلَى الطِّفْلِ؛بچے کی نماز جنازہ؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٨٧)
یہی بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقاعد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی تھی۔ عطاء رحمت اللہ تعالی علیہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے کی نماز جنازہ ادا کی تھی اس وقت ان صاحبزادے کی عمر 70 دن تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلاَةِ عَلَى الطِّفْلِ؛بچے کی نماز جنازہ؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٨٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی تھی۔ یہی بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقاعد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٨٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو صاحبزادوں کی نماز جنازہ مسجد میں ہی ادا کی تھی، ایک سہیل اور ایک ان کے بھائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص مسجد میں نماز جنازہ ادا کرتا ہے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٩١)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے روکتے تھے: ایک تو جب سورج بلند ہو رہا ہو، دوسرے جب عین زوال کا وقت ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے اور تیسرے جب سورج ڈوبنے لگے یہاں تک کہ ڈوب جائے یا اسی طرح کچھ فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدَّفْنِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا؛سورج طلوع یا غروب ہوتے وقت دفن کرنا؛جلد٣،ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٣١٩٢)
حارث بن نوفل کے غلام عمار کا بیان ہے کہ وہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئے تو لڑکا امام والی طرف میں رکھا گیا تو میں نے اسے ناپسند کیا اس وقت لوگوں میں ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم موجود تھے اس پر ان لوگوں نے کہا: سنت یہی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب إِذَا حَضَرَ جَنَائِزَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ مَنْ يُقَدِّمُ؛مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے آ جائیں تو کسے آگے رکھا جائے؟؛جلد٣،ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٣١٩٣)
نافع ابوغالب بیان کرتے ہیں میں مربد نامی ایک جگہ میں تھا اتنے میں ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ بہت سارے لوگ تھے، لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے، یہ سن کر میں بھی جنازہ کے ساتھ ہو لیا، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ باریک شال اوڑھے ہوئے چھوٹی گھوڑی پر سوار ہے، دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ایک کپڑے کا ٹکڑا ڈالے ہوئے ہے، میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ بزرگ صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں، پھر جب جنازہ رکھا گیا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، میں ان کے پیچھے تھا، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، چار تکبیریں کہیں (اور تکبیریں کہنے میں) نہ بہت دیر لگائی اور نہ بہت جلدی کی، پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا: ابوحمزہ! (انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) یہ انصاری عورت کا بھی جنازہ ہے (اس کی بھی نماز پڑھا دیجئیے) یہ کہہ کر اسے قریب لائے، وہ ایک سبز تابوت میں تھی، وہ اس کے کمر کے مقابل کے کھڑے ہوئے، اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی نماز مرد کی پڑھی تھی، پھر اس کے بعد بیٹھے، تو علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح جنازے کی نماز پڑھا کرتے تھے جس طرح آپ نے پڑھی ہے؟ چار تکبیریں کہتے تھے، مرد کے سر کے سامنے اور عورت کے اس کے کمر مقابل کھڑے ہوتے تھے، انہوں نے کہا: ہاں۔ علاء بن زیاد نے (پھر) کہا: ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں غزوہ حنین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، مشرکین نکلے انہوں نے ہم پر حملہ کیا یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے دیکھا اور قوم (کافروں) میں ایک حملہ آور شخص تھا جو ہمیں مار کاٹ رہا تھا (پھر جنگ کا رخ پلٹا) اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دی اور انہیں (اسلام کی چوکھٹ پر) لانا شروع کر دیا، وہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اگر اللہ اس شخص کو لایا جو اس دن ہمیں مار کاٹ رہا تھا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے، پھر وہ (قیدی) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے توبہ کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کرنے میں توقف کیا تاکہ دوسرا بندہ (یعنی نذر ماننے والا صحابی) اپنی نذر پوری کر لے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیعت لینے سے پہلے ہی اس کی گردن اڑا دے) لیکن وہ شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا کہ آپ اسے اس کے قتل کا حکم فرمائیں اور ڈر رہا تھا کہ ایسا نہ ہو میں اسے قتل کر ڈالوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کچھ نہیں کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کر لی، تب اس صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نذر تو رہ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جو اب تک رکا رہا اور اس سے بیعت نہیں کی تھی تو اسی وجہ سے کہ اس دوران تم اپنی نذر پوری کر لو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں آنکھ کے ذریعے اشارہ کیوں نہ فرما دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے مناسب نہیں ہے کہ وہ آنکھ سے اشارہ کرے“۔ ابوغالب کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عورت کے کمر کے مقابل کھڑے ہونے کے بارے میں پوچھا کہ (وہ وہاں کیوں کھڑے ہوئے) تو لوگوں نے بتایا کہ پہلے تابوت نہ ہوتا تھا تو امام عورت کے کولہے کے پاس کھڑا ہوتا تھا تاکہ مقتدیوں سے اس کی نعش چھپی رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله» سے اس کے قتل کی نذر پوری کرنے کو منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے آ کر یہ کہا تھا کہ میں نے توبہ کر لی ہے، اور اسلام لے آیا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ إِذَا صَلَّى عَلَيْه؛جنازہ پڑھاتے ہوئے امام میت کے مقابل کہاں کھڑا ہو؟؛جلد٣،ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٣١٩٤)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک خاتون کی نماز جنازہ ادا کی جس کا اپنے بچے کی پیدائش کے وقت انتقال ہو گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ میں اس کے وسطہ کے مقابل میں کھڑے ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ إِذَا صَلَّى عَلَيْهِ؛جنازہ پڑھاتے ہوئے امام میت کے مقابل کہاں کھڑا ہو؟؛جلد٣،ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٣١٩٥)
امام شعبی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تازہ بنی ہوئی قبر کے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی صفیں بنوائی اور اس کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی۔ امام شعبی سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو کس نے یہ حدیث بیان کی انہوں نے فرمایا ایک ایسے ثقہ راوی نے جو اس موقع پر موجود تھا وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جنازے کی تکبیرات کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٣١٩٦)
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے(مرحومین) کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے ایک مرتبہ انہوں نے نماز جنازہ میں پانچ تکبیر کہیں میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ(یعنی پانچ تکبیریں بھی)کہا کرتے تھے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ابن مثنی کی نقل کردہ روایت میں،میں زیادہ"معقن" ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جنازے کی تکبیرات کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٣١٩٧)
طلحہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں میں نے ایک نماز جنازہ ادا کی تو انہوں نے اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور بتایا یہ سنت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب مَا يُقْرَأُ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جنازے میں قرآت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٣١٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جب تم کسی میت کی نماز جنازہ ادا کرو تو صرف اسی کے لیے دعا کرو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ؛میت کے لیے دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٣١٩٩)
علی بن شماخ کہتے ہیں میں مروان کے پاس موجود تھا، مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا اس کے ہمراہ جو تم نے کہا ہے،مروان نے جواب دیا: جی ہاں!راوی کہتے ہیں ان دونوں کے درمیان پہلے کوئی بات چیت چل رہی تھی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» ”اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے، تو نے ہی اس کو پیدا کیا ہے، تو نے ہی اسے اسلام کی راہ دکھائی ہے، تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے، تو اس کے ظاہر و باطن کو زیادہ جاننے والا ہے، ہم اس کی سفارش کرنے آئے ہیں تو اسے بخش دے“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں شعبہ نے علی بن شماخ کا نام بیان کرتے ہوئے غلطی کی ہے انہوں نے اس راوی کا نام عثمان بن شماس نقل کیا ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں میں نے احمد بن ابراہیم موصلی کو امام احمد بن حنبل کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں جب بھی حماد بن زید کی محفل میں بیٹھا تو انہوں نے اس محفل میں عبدالوارث اور جعفر بن سلیمان سے روایت کرنے سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ؛میت کے لیے دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٣٢٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» ”اے اللہ! تو بخش دے، ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کو، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے ایمان پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جس کو موت دے اسے اسلام پر موت دے، اے اللہ! ہم کو تو اس کے ثواب سے محروم نہ رکھنا، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ؛میت کے لیے دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١١؛حدیث نمبر؛٣٢٠١)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر» ”اے اللہ! فلاں کا بیٹا فلاں تیری امان و پناہ میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ (عذاب) سے بچا لے“۔ عبدالرحمٰن کی روایت میں: «في ذمتك» کے بعد عبارت اس طرح ہے: «وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! وہ تیری امان میں ہے، اور تیری حفاظت میں ہے، تو اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو وعدہ وفا کرنے والا اور حق ادا کرنے کا اہل ہے، اے اللہ! تو اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، تو بہت بخشنے والا، اور رحم فرمانے والا ہے“۔ عبدالرحمن کہتے ہیں یہ روایت مروان بن جناح سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ؛میت کے لیے دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١١؛حدیث نمبر؛٣٢٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سیاہ فام عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو انتقال کر گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی؟“ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ“، لوگوں نے بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر جنازہ پڑھنا؛جلد٣،ص٢١١؛حدیث نمبر؛٣٢٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کے انتقال کی اطلاع اسی دن دے دی تھی جس دن اس کا انتقال ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر عید گاہ تشریف لے گئے آپ نے ان کی صفیں بنوائیں اور اپ نے اس کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمُسْلِمِ يَمُوتُ فِي بِلاَدِ الشِّرْكِ؛جو مسلمان مشرکین کے علاقے میں فوت ہو جائے؛جلد٣،ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٣٢٠٤)
ابو بردہ اپنے والد حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم نجاشی کے ملک چلے جائیں،(اس کے بعد راوی نے حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ مذکور ہے) نجاشی نے کہا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)وہی شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام نے بشارت دی اگر میری بادشاہت کی مصروفیات نہ ہوتی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریفین اٹھاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمُسْلِمِ يَمُوتُ فِي بِلاَدِ الشِّرْكِ؛جو مسلمان مشرکین کے علاقے میں فوت ہو جائے؛جلد٣،ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٣٢٠٥)
مطلب بیان کرتے ہیں:جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جایا گیا اور وہ دفن کئے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک پتھر اٹھا کر لانے کا حکم دیا (تاکہ اسے علامت کے طور پر رکھا جائے) وہ اٹھا نہ سکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اٹھ کر گئے اور اپنی دونوں آستینیں چڑھائیں۔ کثیر (راوی) کہتے ہیں: مطلب نے کہا: جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مجھ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کی سفیدی جس وقت کہ آپ نے اسے کھولا دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا کر ان کے سر کے قریب رکھا اور فرمایا: ” اس کے ذریعے مجھے اپنے بھائی کی قبر کی شناخت رہے گی اور میرے اہل خانہ میں سے جو بھی فوت ہوگا میں اسے اس کے قریب دفن کروں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي جَمْعِ الْمَوْتَى فِي قَبْرٍ وَالْقَبْرُ يُعَلَّمُ؛ایک قبر میں کئی میتوں کو اکٹھا کرنے اور قبر پر نشان رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٣٢٠٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے:"مردے کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کے مترادف ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْحَفَّارِ يَجِدُ الْعَظْمَ هَلْ يَتَنَكَّبُ ذَلِكَ الْمَكَانَ؛قبر کھودنے والے کو کوئی ہڈی مل جائے تو کیا وہ اس جگہ کو کریدے؛جلد٣،ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٣٢٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:(قبر میں)لحد (بنانے کا طریقہ)ہمارے لیے اور شق کا (طریقہ)دوسروں کے لیے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي اللَّحْدِ؛قبر میں لحد بنانے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢٠٨)
عامر شعبی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی،حضرت فضل اورحضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا، اور انہیں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا۔ شعبی کہتے ہیں: مجھ سے مرحب یا ابومرحب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی داخل کر لیا تھا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (کفن،دفن سے) فارغ ہونے کے بعد کہا کہ: آدمی کے اس طرح کے(یعنی کفن دفن کے)معاملات اس کے خاندان ان کے افراد ہی سرانجام دیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛: جنازے کے احکام و مسائل؛ باب كَمْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؛میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں؟؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢٠٩)
حضرت ابو مرحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے گویا میں اس وقت بھی ان چاروں حضرات کو دیکھ رہا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛: جنازے کے احکام و مسائل؛ باب كَمْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؛میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں؟؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢١٠)
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں:حارث نے یہ وصیت کی کہ حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو انہوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر انہوں نے اس کو قبر کے پائنتی کی طرف سے قبر میں اتارا اور بولے یہ سنت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمَيِّتِ يُدْخَلُ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ؛میت کو کیسے (کس طرف سے) قبر میں اتارا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢١١)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں شرکت کے لیے گئے جب ہم قبرستان پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی بیٹھ گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْجُلُوسِ عِنْدَ الْقَبْرِ؛قبر کے پاس کس طرح بیٹھیں؟؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢١٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی میت کو قبر میں اتارتے تو یہ پڑھتے تھے(ترجمہ) "اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے،اور اللہ کے رسول کی سنت پر(میں اسے سپرد خاک کرتا ہوں) روایت کے یہ الفاظ مسلم بن ابراہیم کے نقل کردہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ؛میت کو قبر میں رکھنے کے وقت کی دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا“، تو میں گیا، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةُ مُشْرِكٍ؛مسلمان کا مشرک رشتہ دار مر جائے تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٤)
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں تو(شہداء کو دفن کرنے کے حوالے سے) آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کشادہ قبر کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو“، پوچھا گیا: آگے کسے رکھیں؟ فرمایا: ”جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے ساتھ دفن ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ؛قبر گہری کھودنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "(قبروں کو)گہرا رکھنا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ؛قبر گہری کھودنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ؛قبر گہری کھودنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٧)
ابوہیاج اسدی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے بھیجا انہوں نے مجھ سے فرمایا میں تمہیں اسی کام کے لیے بھیج رہا ہوں جس کام کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا وہ یہ کہ میں ہر اونچی قبر کو برابر کر دوں اور ہر مورتی کو مٹا دوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛قبر کو برابر کرنا؛جلد٣،ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٣٢١٨)
ابو علی ہمدانی بیان کرتے ہیں ہم روم کی سرزمین پر روڈس میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہو گیا تو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اس کی قبر کو برابر کر دیا گیا پھر انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبر کو برابر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں روڈس سمندر میں ایک جزیرہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛قبر کو برابر کرنا؛جلد٣،ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٣٢١٩)
قاسم بیان کرتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی:امی جان!آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ساتھیوں (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ)کی قبریں دکھائیں تو انہوں نے مجھے تین قبریں دکھائی جو نہ اونچی تھی اور نہ ہی زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھی،ان پر سرخ میدان کی کنکریاں ڈالی ہوئی تھیں۔ (سنن ابو داؤد کے راوی)ابو علی بیان کرتے ہیں یہ بات بیان کی جاتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک قبلہ کی سمت میں آگے کی طرف ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے مقابل پیچھے کی طرف ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛قبر کو برابر کرنا؛جلد٣،ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٣٢٢٠)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو دفن کر کے فارغ ہو جاتے تو آپ اس کی قبر کے پاس ٹھہر کر فرماتے اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو کیونکہ اب اس سے سوال کیے جائیں گے امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں(اس سند کے ایک راوی کے باپ کا نام) بحیر بن ریسان ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِغْفَارِ عِنْدَ الْقَبْرِ لِلْمَيِّتِ فِي وَقْتِ الاِنْصِرَاف؛(دفن کے بعد) قبر سے واپسی کے وقت میت کے لیے استغفار کا بیان؛جلد٣،ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٣٢٢١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اسلام میں"عقر"کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ امام عبدالرزاق رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں وہ لوگ قبر کے پاس ذبح کرتے تھے یعنی گائے یا کسی اور چیز کو ذبح کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ الذَّبْحِ عِنْدَ الْقَبْرِ؛قبر کے قریب ذبح ہونے کا مکروہ ہونا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا کی پھر واپس تشریف لائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمَيِّتِ يُصَلَّى عَلَى قَبْرِهِ بَعْدَ حِينٍ؛(میت کے انتقال کے)کچھ عرصہ بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے آٹھ سال بعد شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا کی یوں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ اور مرحوم لوگوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمَيِّتِ يُصَلَّى عَلَى قَبْرِهِ بَعْدَ حِينٍ؛(میت کے انتقال کے)کچھ عرصہ بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے منع کرتے ہوئے سنا ہے کہ قبر پر بیٹھا جائے،یا اس پر چونا لگایا جائے، یا اس پر عمارت تعمیر کی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر عمارت بنانا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٥)
یہی روایت ایک اور سنت کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ (امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:)عثمان نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:"یا اس پر زیادہ کیا جائے" سلیمان بن موسی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:" یا اس پر کوئی چیز تحریر کی جائے" مسدد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں:"یا اس پر زیادہ کیا جائے" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں مسدد کی روایت میں لفظ"؛اَن"مجھ سے مخفی رہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر عمارت بنانا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اللہ تعالی یہودیوں کو برباد کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر عمارت بنانا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:آدمی کا ایسے انگارے پر بیٹھنا جو اس کے کپڑے جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْقُعُودِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٣٢٢٨)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:قبروں پر بیٹھو نہیں اور ان کی طرف رخ کر کے نماز ادا نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْقُعُودِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٣٢٢٩)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بشیر رضی اللہ عنہ (جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تمہارا کیا نام ہے؟“، انہوں نے کہا: زحم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو“کہتے ہیں: اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”یہ لوگ خیر کثیر (دین اسلام) سے پہلے گزر (مر) گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں پر سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں نے خیر کثیر (بہت زیادہ بھلائی) حاصل کی“ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جوتیوں والے! تجھ پر افسوس ہے، اپنی جوتیاں اتار دے“ اس آدمی نے (نظر اٹھا کر) دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے ہی انہیں اتار دیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْمَشْىِ فِي النَّعْلِ بَيْنَ الْقُبُورِ؛قبروں کے درمیان جوتا پہن کر چلنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٣٢٣٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس جانے لگتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْمَشْىِ فِي النَّعْلِ بَيْنَ الْقُبُورِ؛قبروں کے درمیان جوتا پہن کر چلنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٣٢٣١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:(غزوہ احد کے شہداء میں)میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا اس حوالے سے میرے ذہن میں کچھ الجھن تھی میں نے چھ ماہ کے بعد انہیں قبر سے نکالا تو ان کے جسم میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی سوائے ان کی داڑھی کے کچھ بالوں کے جو زمین سے لگے ہوئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَحْوِيلِ الْمَيِّتِ مِنْ مَوْضِعِهِ لِلأَمْرِ يَحْدُثُ؛کسی ضرورت سے مردے کو قبر سے نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وجبت» ”واجب ہوگئی“ پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: «وجبت» ”واجب ہوگئی“ پھر فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛میت کی تعریف کرنا؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لائے آپ خود بھی روئے اور اپنے اس پاس افراد کو بھی رولا دیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میں نے اپنے پروردگار سے ان کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے دے دی گئی،تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ؛قبروں کی زیارت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٤)
ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"پہلے میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ ان کی زیارت میں نصیحت ہوتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ؛قبروں کی زیارت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر جانے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں پر اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي زِيَارَةِ النِّسَاءِ الْقُبُورَ؛عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ(دعا)پڑھی(ترجمہ)اے مسلمانوں کی بستی کے رہنے والو!تم پر سلام ہو اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا زَارَ الْقُبُورَ أَوْ مَرَّ بِهَا؛قبروں کی زیارت کے وقت یا وہاں سے گزرتے وقت کی دعا کا بیان؟جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٣٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جو سواری سے گر کر مر گیا تھا، وہ حالت احرام میں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کے دونوں کپڑوں (تہبند اور چادر) ہی میں دفناؤ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو، اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں: ۱- ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا۔ ۲- دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے۔ ۳- تیسرے یہ کہ اس (محرم) کا سر نہ ڈھانپو۔ ۴- چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ۔ ۵- پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؛محرم کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٣٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: "اسے دو کپڑوں میں کفن دو" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے:"دو کپڑوں میں"ایک نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:فدو کپڑوں میں" ایک نے یہ نقل کی ہے:" اس کے دو کپڑوں میں"۔ صرف سلیمان نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:" تم اسے خوشبو نہ لگانا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؛محرم کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٣٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے یعنی"دو کپڑوں میں" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؛محرم کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٤٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک محرم شخص سواری سے گر کر مر گیا اس(کی میت)کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا آپ نے فرمایا اسے غسل دو،اسے کفن دو، اس کے سر کو ڈھانپو،اسے خوشبو نہ لگاؤ،(قیامت کے دن)یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے زندہ ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؛محرم کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٤١)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Janayiz
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْجَنَائِزِ
|
•