asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Janayiz

From 3089 to 3241

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عامر رضی اللہ عنہ، جن کا تعلق خضر قبیلے سے ہے،وہ بیان کرتے ہیں:ہم اپنے علاقے میں موجود تھے اسی دوران ہمارے سامنے بڑے اور چھوٹے جھنڈے آے تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے، تو میں آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے ایک کمبل پر جو آپ کے لیے بچھایا گیا تھا تشریف فرما تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد آپ کے اصحاب اکٹھا تھے، میں بھی جا کر انہیں میں بیٹھ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا: ”جب مومن بیمار پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی بیماری سے شفا عطا کرتا ہے تو وہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت، اور جب منافق بیمار پڑتا ہے پھر اسے عافیت دے دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کے مانند ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا ہو، اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کس لیے باندھا گیا اور کیوں چھوڑ دیا گیا“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیماریاں کیا ہیں؟ اللہ کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہمارے پاس سے اٹھ جاؤ،کیونکہ تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں“۔عامر کہتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا جس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف آ نکلا، راستے میں درختوں کا ایک جھنڈ دیکھا اور وہاں چڑیا کے بچوں کی آواز سنی تو انہیں پکڑ کر اپنے کمبل میں رکھ لیا، اتنے میں ان بچوں کی ماں آ گئی، اور وہ میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لیے ان بچوں سے کمبل ہٹا دیا تو وہ بھی ان بچوں پر آ گری، میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا، اور وہ سب میرے ساتھ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو یہاں رکھو“، میں نے انہیں رکھ دیا، لیکن ماں نے اپنے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کیا تم اس چڑیا کے اپنے بچوں کے ساتھ محبت کرنے پر حیران ہو؟“، صحابہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت رکھتا ہے جتنی یہ چڑیا اپنے بچوں سے رکھتی ہے، تم انہیں ان کی ماں کے ساتھ لے جاؤ اور وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے انہیں لائے ہو“، تو وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الأَمْرَاضِ الْمُكَفِّرَةِ لِلذُّنُوبِ؛گناہوں کے لیے کفارہ بننے والی بیماریوں کا بیان؛جلد٣،ص١٨٢؛حدیث نمبر؛٣٠٨٩)

كِتَاب الْجَنَائِزِ بَابُ الْأَمْرَاضِ الْمُكَفِّرَةِ لِلذُّنُوبِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَنْظُورٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ عَامِرٍ الرَّامِ، أَخِي الْخَضِرِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ النُّفَيْلِيُّ: هُوَ الْخَضِرُ، وَلَكِنْ كَذَا قَالَ - قَالَ: إِنِّي لَبِبِلَادِنَا إِذْ رُفِعَتْ لَنَا رَايَاتٌ وَأَلْوِيَةٌ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا لِوَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ تَحْتَ شَجَرَةٍ قَدْ بُسِطَ لَهُ كِسَاءٌ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَيْهِ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ، فَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْقَامَ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَّقَمُ، ثُمَّ أَعْفَاهُ اللَّهُ مِنْهُ، كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ، وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ، وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْفِيَ كَانَ كَالْبَعِيرِ، عَقَلَهُ أَهْلُهُ، ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوهُ، وَلَمْ يَدْرِ لِمَ أَرْسَلُوهُ» فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ حَوْلَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْأَسْقَامُ؟ وَاللَّهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ عَنَّا، فَلَسْتَ مِنَّا»، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ، وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمَّا رَأَيْتُكَ أَقْبَلْتُ إِلَيْكَ فَمَرَرْتُ بِغَيْضَةِ شَجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ، فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي، فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي، فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ، مَعَهُنَّ فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي، فَهُنَّ أُولَاءِ مَعِي، قَالَ: «ضَعْهُنَّ عَنْكَ» فَوَضَعْتُهُنَّ، وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُومَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «أَتَعْجَبُونَ لِرُحْمِ أُمِّ الْأَفْرَاخِ فِرَاخَهَا؟» قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الْأَفْرَاخِ بِفِرَاخِهَا، ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ» فَرَجَعَ بِهِنَّ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3089

ابراہیم بن مہدی سلمی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا،جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے،روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا: ” جب کسی بندے کا اللہ کی بارگاہ میں کوئی مقام طے ہو چکا ہو اور آدمی اپنے اعمال کی وجہ سے وہاں تک نہ پہنچ سکتا ہو تو اللہ تعالی اسے اس کے جسم یا مال یا اولاد کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے(اور اس کے اجر کے طور پر اسے اس مقام پر فائز کر دیتا ہے)“۔ ابن نفیل نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے:"پھر وہ اسے اس پر صبر کرنے کی توفیق بھی دیتا ہے" اس کے بعد دونوں راوی یہ الفاظ نقل کرنے میں متفق ہیں۔ " اللہ تعالی اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی کی طرف سے پہلے سے طے ہوتا ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الأَمْرَاضِ الْمُكَفِّرَةِ لِلذُّنُوبِ؛گناہوں کے لیے کفارہ بننے والی بیماریوں کا بیان؛جلد٣،ص١٨٢؛حدیث نمبر؛٣٠٩٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ السَّلَمِيُّ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ، لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ، أَوْ فِي مَالِهِ، أَوْ فِي وَلَدِهِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ: «ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ - ثُمَّ اتَّفَقَا - حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3090

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا: ”جب بندہ کوئی نیک عمل (پابندی سے) کر رہا ہو، پھر کوئی مرض، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کر سکے، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب إِذَا كَانَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ عَمَلاً صَالِحًا فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ أَوْ سَفَرٌ؛جب کوئی آدمی(باقاعدگی سے)کوئی نیک عمل کرتا ہو اور پھر بیماری یا سفر کی وجہ سے اسے انجام نہ دے سکے؛جلد٣،ص١٨٣؛حدیث نمبر؛٣٠٩١)

بَابٌ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ أَوْ سَفَرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، وَلَا مَرَّتَيْنِ يَقُولُ: «إِذَا كَانَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا، فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ، أَوْ سَفَرٌ، كُتِبَ لَهُ كَصَالِحِ مَا كَانَ يَعْمَلُ، وَهُوَ صَحِيحٌ مُقِيمٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3091

سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: ”خوش خبری قبول کرو، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب عِيَادَةِ النِّسَاءِ؛عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان؛جلد٣،ص١٨٤؛حدیث نمبر؛٣٠٩٢)

بَابُ عِيَادَةِ النِّسَاءِ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، قَالَتْ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضَةٌ، فَقَالَ: «أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ، كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3092

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ!“، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» ”جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا“ (سورۃ النساء: ۱۲۳)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو جب کوئی پریشانی لائق ہوتی ہے یا اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کو اس کے سب سے برے عمل کا بدلہ دیا جاتا ہے اور قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا اسے عذاب بھی دیا جائے گا“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا“ (سورۃ الانشقاق: ۸)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے، اے عائشہ! جس شخص سے حساب میں پوچھ گچھ کی جائے گی اسے عذاب دیا جائے“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں روایت کی یہ الفاظ ابن بشار کے نقل کردہ ہیں وہ یہ کہتے ہیں ابن ابو ملیکہ نے اس بارے میں حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب عِيَادَةِ النِّسَاءِ؛عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان؛جلد٣،ص١٨٤؛حدیث نمبر؛٣٠٩٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ - عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ؟ قَالَ: «أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ؟»، قَالَتْ: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: 123]، قَالَ: «أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ، أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُهُ النَّكْبَةُ، أَوِ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِهِ وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ» قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8]، قَالَ: «ذَاكُمُ الْعَرْضُ، يَا عَائِشَةُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3093

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو آپ نے اس میں موت کے اثرات دیکھے، فرمایا: ”میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا“، اس نے کہا: عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا ہوا ، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے (عبداللہ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی مر گیا، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعِيَادَةِ؛عیادت (بیمار پرسی) کا بیان؛جلد٣،ص١٨٤؛حدیث نمبر؛٣٠٩٤)

بَابٌ فِي الْعِيَادَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ عَرَفَ فِيهِ الْمَوْتَ، قَالَ: «قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ» قَالَ: فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ سَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَهْ فَلَمَّا مَاتَ أَتَاهُ ابْنُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيّ، ٍ قَدْ مَاتَ فَأَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3094

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا: ”تم مسلمان ہو جاؤ“، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ”ابوالقاسم کی اطاعت کرو“، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: ”تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي عِيَادَةِ الذِّمِّيِّ؛ذمی کی بیمار پرسی کا بیان۔؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٥)

بَابٌ فِي عِيَادَةِ الذِّمِّيِّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ غُلَامًا، مِنَ الْيَهُودِ كَانَ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَسْلِمْ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3095

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لاتے تھے نہ تو آپ کسی گھوڑے پر سوار ہوتے تھے ورنہ کسی خچر پر سوار ہوتے تھے(یعنی پیدل تشریف لاتے تھے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛الْمَشْىِ فِي الْعِيَادَةِ؛عیادت کے لیے پیدل چل کر جانے کا بیان؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٦)

بَابُ الْمَشْيِ فِي الْعِيَادَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلَا بِرْذَوْنٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3096

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر «خریف» کی مسافت کی مقدار دور کر دیا جاتا ہے“، میں نے کہا! اے ابوحمزہ! «خریف» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سال۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ جن احادیث کو روایت کرنے میں منفرد ہے ان میں ایک یہ روایت بھی ہے کہ ادمی کو وضو کر کے عیادت کرنی چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ؛باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٧)

بَابٌ فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ، مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا» قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَمَا الْخَرِيفُ؟ قَالَ: «الْعَامُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ الْبَصْرِيُّونَ مِنْهُ الْعِيَادَةُ وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3097

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو شخص کسی بیمار کی شام کے وقت عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے، اور جو شخص صبح کے وقت عیادت کے لیے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ؛باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا مُمْسِيًا، إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَتَاهُ مُصْبِحًا، خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3098

یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے تاہم اس میں باغ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ؛باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا؛جلد٣،ص١٨٥؛حدیث نمبر؛٣٠٩٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ لَمْ يَذْكُرِ الْخَرِيفَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ، كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3099

عبداللہ بن نافع بیان کرتے ہیں(ان کے والد) نافع حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے غلام تھے وہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو مرفوع روایت کے طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دوسری سند سے بھی نقل کیا گیا ہے جو مستند نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ؛باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا؛جلد٣،ص١٨٦؛حدیث نمبر؛٣١٠٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ غُلَامُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ أَبُو مُوسَى، إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، يَعُودُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَسَاقَ مَعْنَى حَدِيثِ، شُعْبَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «أُسْنِدَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ صَحِيحٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3100

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں غزوہ خندق کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْعِيَادَةِ مِرَارًا؛بیمار کی کئی بار عیادت (بیمار پرسی) کا بیان؛جلد٣،ص١٨٦؛حدیث نمبر؛٣١٠١)

بَابٌ فِي الْعِيَادَةِ مِرَارًا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمَّا أُصِيبَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ فِي الْأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3101

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میری انکھوں میں تکلیف لائق ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعِيَادَةِ مِنَ الرَّمَد؛آنکھ کی بیماری میں مبتلا شخص کی عیادت کا بیان؛جلد٣،ص١٨٦؛حدیث نمبر؛٣١٠٢)

بَابٌ فِي الْعِيَادَةِ مِنَ الرَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: «عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3102

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاؤ، اور جس سر زمین میں وہ پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون سے بچنے کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر (کہیں اور) نہ جاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْخُرُوجِ مِنَ الطَّاعُونِ؛طاعون سے نکل بھاگنا؛جلد٣،ص١٨٦؛حدیث نمبر؛٣١٠٣)

بَابُ الْخُرُوجِ مِنَ الطَّاعُونِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ- اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ، فَلَا تُقْدِمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ» يَعْنِي الطَّاعُونَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3103

عائشہ بنت سعد بیان کرتی ہیں:ان کے والد(حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ)نے یہ بات نقل کی کہ میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی: «اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته» ”اے اللہ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ بِالشِّفَاءِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ؛عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا؛جلد٣،ص١٨٧؛حدیث نمبر؛٣١٠٤)

بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ بِالشِّفَاءِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا، قَالَ: اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3104

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"بھوکے کو کھانا کھلاؤ،بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو ازاد کرواؤ۔" سفیان کہتے ہیں لفظ"عانی"سے مراد قیدی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ بِالشِّفَاءِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ؛عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا؛جلد٣،ص١٨٧؛حدیث نمبر؛٣١٠٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ» قَالَ سُفْيَانُ: وَالْعَانِي الْأَسِيرُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3105

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم» ”میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفاء دے“ تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ؛عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا؛جلد٣،ص١٨٧؛حدیث نمبر؛٣١٠٦)

بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا، لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ عِنْدَهُ سَبْعَ مِرَارٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ، إِلَّا عَافَاهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَرَضِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3106

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ یہ تیرے دشمن کو زخمی کردے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ؛عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا؛جلد٣،ص١٨٧؛حدیث نمبر؛٣١٠٧)

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِلَى صَلَاةٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3107

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہو جانے کی وجہ سے (گھبرا کر) موت کی دعا ہرگز نہ کرے بلکہ اسے یہ کہنا چاہئے: «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت مجھے موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ؛موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١٠٨)

بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْعُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِالْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي "،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3108

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:کوئی بھی شخص موت کی آرزو ہرگز نہ کرے،اس کے بعد حسب سابق نقل کیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ؛موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا، يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ» فَذَكَرَ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3109

عبید بن خالد ایک صحابی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اچانک موت،ناراضگی کی پکڑ ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ؛موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١١٠)

بَابُ مَوْتُ الْفَجْأَةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ، رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَرَّةً: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً: عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ: «مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3110

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے تو ان کو بیہوش پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا تو انہوں نے آپ کو جواب نہیں دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، اور فرمایا: ”اے ابوربیع! تمہارے حوالے سے ہم(تقدیر کے حکم کے آگے)مغلوب ہوگئے ہیں “، یہ سن کر عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں تو ابن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دو (رونے دو انہیں) جب واجب ہو جائے تو کوئی رونے والی نہ روئے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول: واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت“، عبداللہ بن ثابت کی بیٹی کہنے لگیں: میں پوری امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے جہاد میں حصہ لینے کی پوری تیاری کر لی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیت کے موافق اجر و ثواب دے گا، تم لوگ شہادت کسے سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہو جانا شہادت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں: طاعون میں مر جانے والا شہید ہے، ڈوب کر مر جانے والا شہید ہے، ”ذات الجنب“ (نمونیہ) سے مر جانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری (دستوں وغیرہ) سے مر جانے والا شہید ہے، جل کر مر جانے والا شہید ہے، جو دیوار گرنے سے مر جائے شہید ہے، اور عورت جو حالت حمل میں ہو اور مر جائے تو وہ بھی شہید ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ مَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ؛اس شخص کی فضیلت جو طاعون سے مر جائے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١١١)

بَابٌ فِي فَضْلِ مَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ، وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ، فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ، فَصَاحَ النِّسْوَةُ، وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ، فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ» قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الْمَوْتُ» قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟» قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3111

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا اور خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، تو خبیب ان کے پاس قید رہے (جب حرمت کے مہینے ختم ہو گئے) تو وہ سب ان کے قتل کے لیے جمع ہوئے، خبیب بن عدی نے حارث کی بیٹی سے استرہ طلب کیا جس سے وہ ناف کے نیچے کے بال کی صفائی کر لیں، اس نے انہیں استرہ دے دیا، اسی حالت میں اس کا ایک چھوٹا بچہ خبیب کے پاس جا پہنچا وہ بےخبر تھی یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ اکیلے ہیں، بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے، اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے، یہ دیکھ کر وہ سہم گئی اور ایسی گھبرائی کہ خبیب بھانپ گئے اور کہنے لگے: کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا، میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصہ کو شعیب بن ابوحمزہ نے زہری سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی ہے کہ حارث کی بیٹی نے انہیں بتایا کہ جب لوگوں نے خبیب کے قتل کا متفقہ فیصلہ کر لیا تو انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے اس سے استرہ مانگا تو اس نے انہیں دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمَرِيضِ يُؤْخَذُ مِنْ أَظْفَارِهِ وَعَانَتِهِ؛قریب الموت مریض کے ناخن کاٹے جائیں اور زیر ناف کی صفائی بھی کی جائے؛جلد٣،ص١٨٩؛حدیث نمبر؛٣١١٢)

بَابُ الْمَرِيضِ يُؤْخَذُ مِنْ أَظْفَارِهِ وَعَانَتِهِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ، خُبَيْبًا، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا لِقَتْلِهِ، فَاسْتَعَارَ مِنَ ابْنَة الْحَارِثِ، مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ، حَتَّى أَتَتْهُ فَوَجَدَتْهُ مُخْلِيًا وَهُوَ عَلَى فَخْذِهِ، وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، فَفَزِعَتْ فَزْعَةً عَرَفَهَا فِيهَا، فَقَالَ: أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ، أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا - يَعْنِي - لِقَتْلِهِ اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَأَعَارَتْهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3112

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "کوئی شخص جب فوت ہو تو اسے اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ؛مستحب ہے کہ انسان موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھے؛جلد٣،ص١٨٨؛حدیث نمبر؛٣١١٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ: قَالَ: «لَا يَمُوتُ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3113

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مردہ اپنے انہیں کپڑوں میں (قیامت میں) اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَطْهِيرِ ثِيَابِ الْمَيِّتِ عِنْدَ الْمَوْتِ؛مستحب ہے کہ قریب الموت آدمی کے کپڑے پاک صاف کر دیے جائیں؛جلد٣،ص١٨٩؛حدیث نمبر؛٣١١٤)

بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَطْهِيرِ ثِيَابِ الْمَيِّتِ عِنْدَ الْمَوْتِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3114

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی مرنے والے شخص کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو اس لیے کہ فرشتے تمہارے کہے پر آمین کہتے ہیں“، تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر) انتقال کر گئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں کیا کہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم اغفر له وأعقبنا عقبى صالحة» ”اے اللہ! ان کو بخش دے اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما“۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقَالَ عِنْدَ الْمَيِّتِ مِنَ الْكَلاَمِ؛میت کے پاس کس قسم کی گفتگو کی جائے؟؛جلد٣،ص١٨٩؛حدیث نمبر؛٣١١٥)

بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقَالَ عِنْدَ الْمَيِّتِ مِنَ الْكَلَامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ» فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً» قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3115

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا آخری کلام «لا إله إلا الله» ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ (اس لئے مرتے وقت مرنے والے کے قریب «لا إله إلا الله» کہنا چاہئے تاکہ اس کی زبان پر بھی یہ کلمہ جاری ہو جائے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلْقِينِ؛قریب المرگ کو تلقین کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٠؛حدیث نمبر؛٣١١٦)

بَابٌ فِي التَّلْقِينِ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3116

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والے کو کلمہ «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلْقِينِ؛قریب المرگ کو تلقین کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٠؛حدیث نمبر؛٣١١٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3117

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بند کر دیا (یہ دیکھ کر)ان کے گھر والوں نے چینخ کر رونا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اپنے حق میں صرف خیر کی دعا کرو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله رب العالمين اللهم افسح له في قبره ونور له فيه‏» ”اے اللہ! ابوسلمہ کو بخش دے، انہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کے درجات بلند فرما اور اس کے پسماندگان کا نگران تو بن جا، اے سارے جہان کے پالنہار! ہمیں اور انہیں (سبھی کو) بخش دے، ان کے لیے قبر میں کشادگی فرما اور ان کی قبر میں روشنی کر دے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تغميض الميت» (آنکھ بند کرنے کا عمل) روح نکلنے کے بعد ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن محمد بن نعمان مقری سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے ابومیسرہ سے جو ایک عابد شخص تھے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر معلم کی آنکھ جو ایک عابد آدمی تھے مرتے وقت ڈھانپ دی تو ان کے انتقال والی رات میں خواب میں دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ تمہارا میرے مرنے سے پہلے میری آنکھ کو بند کر دینا میرے لیے باعث مشقت و تکلیف رہی (یعنی آنکھ مرنے سے پہلے بند نہیں کرنی چاہیئے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ؛میت کی آنکھیں بند کر دینی چاہیں؛جلد٣،ص١٩٠؛حدیث نمبر؛٣١١٨)

بَابُ تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرَهُ، فَأَغْمَضَهُ، فَصَيَّحَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ» ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ افْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " وَتَغْمِيضُ الْمَيِّتِ بَعْدَ خُرُوجِ الرُّوحِ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ الْمُقْرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَيْسَرَةَ رَجُلًا عَابِدًا يَقُولُ: غَمَّضْتُ جَعْفَرًا الْمُعَلِّمَ وَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي حَالَةِ الْمَوْتِ، فَرَأَيْتُهُ فِي مَنَامِي لَيْلَةَ مَاتَ، يَقُولُ: أَعْظَمُ مَا كَانَ عَلَيَّ تَغْمِيضُكَ لِي قَبْلَ أَنْ أَمُوتَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3118

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے (تھوڑی ہو یا زیادہ) تو اسے چاہیئے کہ: «إنا لله وإنا إليه راجعون»، «اللهم عندك أحتسب مصيبتي فآجرني فيها وأبدل لي خيرا منها» بیشک ہم اللہ کے ہیں اور لوٹ کر بھی اسی کے پاس جانے والے ہیں، اے اللہ! میں تیرے ہی پاس اپنی مصیبت کو پیش کرتا ہوں تو مجھے اس مصیبت کے بدلے جو مجھے پہنچ چکی ہے ثواب عطا کر اور اس مصیبت کو خیر سے بدل دے، کہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلْقِينِ؛باب فِي الاِسْتِرْجَاعِ؛کسی بھی مصیبت کے وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩١؛حدیث نمبر؛٣١١٩)

بَابٌ فِي الِاسْتِرْجَاعِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَتْ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَآجِرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْ لِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3119

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو(وصال کے بعد)دھاری دار(یمنی)چادر میں ڈھانپ دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلْقِينِ؛باب فِي الْمَيِّتِ يُسَجَّى؛میت کو ڈھانپ دینے کا بیان؛جلد٣،ص١٩١؛حدیث نمبر؛٣١٢٠)

بَابٌ فِي الْمَيِّتِ يُسَجَّى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجِّيَ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3120

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں پر سورۃ، يس، پڑھو“۔یہ الفاظ ابن العلاء کے نقل کردہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الْمَيِّتِ؛قریب المرگ کے پاس قرآن پڑھنے کا مسئلہ؛جلد٣،ص١٩١؛حدیث نمبر؛٣١٢١)

بَابُ الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيٍّ الْمَرْوَزِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَءُوا يس عَلَى مَوْتَاكُمْ» وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْعَلَاءِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3121

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابوطالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم شہید ہوگئے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوے، آپ کے چہرے مبارک پر شدید غم کے اثرات نمایاں تھے، اور اس کے بعد راوی نےواقعہ کی تفصیل بتائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْجُلُوسِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ؛مصیبت کے وقت (غم کے سبب سے) بیٹھنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٢؛حدیث نمبر؛٣١٢٢)

بَابُ الْجُلُوسِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمَّا قُتِلَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَسْجِدِ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ» وَذَكَرَ الْقِصَّةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3122

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک میت کو دفنایا، جب ہم تدفین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، ہم بھی آپ کے ساتھ لوٹے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میت کے دروازے کے سامنے آئے تو رک گئے، اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک عورت چلی آرہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو پہچان لیا، جب وہ چلی گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی؟“، انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں اس گھر والوں کے پاس آئی تھی تاکہ میں ان کے ساتھ رحم دلی کا اظہار کروں یا ان کی تعزیت کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم ان کے ساتھ کُدی (مکہ میں ایک جگہ ہے) گئی تھی“، انہوں نے کہا: معاذاللہ! میں تو اس بارے میں آپ کا بیان سن چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان کے ساتھ کدی گئی ہوتی تو میں ایسا ایسا کرتا“، (اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت رویے کا اظہار فرمایا)۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ربیعہ سے کدی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جیسا کہ میں سمجھ رہا ہوں اس سے قبرستان مراد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّعْزِيَةِ؛تعزیت کا بیان؛جلد٣،ص١٩٢؛حدیث نمبر؛٣١٢٣)

بَابٌ فِي التَّعْزِيَةِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي - مَيِّتًا فَلَمَّا فَرَغْنَا، انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْصَرَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا حَاذَى بَابَهُ وَقَفَ، فَإِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ، قَالَ: أَظُنُّهُ عَرَفَهَا فَلَمَّا ذَهَبَتْ، إِذَا هِيَ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَخْرَجَكِ يَا فَاطِمَةُ مِنْ بَيْتِكِ؟»، فَقَالَتْ: أَتَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ أَوْ عَزَّيْتُهُمْ بِهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟»، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِيهَا مَا تَذْكُرُ، قَالَ: «لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى» فَذَكَرَ تَشْدِيدًا فِي ذَلِكَ، فَسَأَلْتُ رَبِيعَةَ عَنِ الكُدَى؟ فَقَالَ: «الْقُبُورُ فِيمَا أَحْسَبُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3123

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور صبر کرو“، اس عورت نے کہا: آپ کو میری مصیبت کے ساتھ کیا واسطہ؟، تو اس سے کہا گیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں (جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی) تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو“ یا فرمایا: ”صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّبْرِ عِنْدَ الصَّدْمَةِ؛مصیبت کے وقت صبر کرنا؛جلد٣،ص١٩٢؛حدیث نمبر؛٣١٢٤)

بَابُ الصَّبْرِ عِنْدَ الصَّدْمَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَتَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَ لَهَا: اتَّقِي اللَّهَ، وَاصْبِرِي، فَقَالَتْ: وَمَا تُبَالِي أَنْتَ بِمُصِيبَتِي، فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى - أَوْ: عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ - "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3124

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی(حضرت زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ کو یہ پیغام دے کر بلا بھیجا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کے موت کا وقت قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اس وقت میں اور سعد اور میرا خیال ہے کہ ابی بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواباً) سلام کہلا بھیجا، اور فرمایا: ”ان سے (جا کر) کہو کہ اللہ تعالیٰ نے جو لیا ہے وہ اس کی ملکیت ہے(اور جو دیا ہے وہ بھی اس کی ملکیت ہے)، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے“۔ پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دے کر کہلایا کہ آپ ضرور تشریف لائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، بچہ آپ کی گود میں رکھا گیا، اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، حضرت سعد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے، اللہ جس کے دل میں چاہتا ہے اسے ڈال دیتا ہے، اور اللہ انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو دوسروں کے لیے رحم دل ہوتے ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛میت پر رونا؛جلد٣،ص١٩٣؛حدیث نمبر؛٣١٢٥)

بَابٌ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ، وَسَعْدٌ، وَأَحْسَبُ أُبَيًّا: أَنَّ ابْنِي - أَوْ بِنْتِي - قَدْ حُضِرَ فَاشْهَدْنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ، فَقَالَ: «قُلْ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ، إِلَى أَجَلٍ» فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَأَتَاهَا فَوُضِعَ الصَّبِيُّ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا؟ قَالَ: «إِنَّهَا رَحْمَةٌ، وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3125

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات میرے یہاں بیٹا پیدا ہوا، میں نے اس کا نام اپنے والد ابراہیم کے نام پر رکھا“، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی،حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں دیکھا کہ وہ آخری سانسیں لے رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، آپ نے فرمایا: ”آنکھ آنسو بہا رہی ہے، دل غمگین ہے، اور ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب کو پسند آئے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛میت پر رونا؛جلد٣،ص١٩٣؛حدیث نمبر؛٣١٢٦)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ - قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا، إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3126

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٣؛حدیث نمبر؛٣١٢٧)

بَابٌ فِي النَّوْحِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3127

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی عورت اور(نوحہ کو)غور سے سننے والی عورت پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٣؛حدیث نمبر؛٣١٢٨)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ- الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3128

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے“، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات کا ذکر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا،کیا یہ بات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے(اس کی حقیقت یہ ہے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قبر والے کو تو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے ہیں کہ اس پر رو رہے ہیں“، پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت تلاوت کی«ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ (سورۃ الإسراء: ۱۵) پڑھی۔ ابومعاویہ کی روایت میں «على قبر» کے بجائے «على قبر يهودي» ہے، یعنی ایک یہودی کے قبر کے پاس سے گزر ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٤؛حدیث نمبر؛٣١٢٩)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، وَأَبِي مُعَاوِيَةَ الْمَعْنَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ: وَهِلَ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ» ثُمَّ قَرَأَتْ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] قَالَ: عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَلَى قَبْرِ يَهُودِيٍّ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3129

یزید بن اوس کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار تھے میں ان کے پاس (عیادت کے لیے) گیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں یا رونا چاہا، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے، تو وہ چپ ہو گئیں، یزید کہتے ہیں: جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں ان کی اہلیہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے قول: ”کیا تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا ہے“ پھر آپ چپ ہو گئیں کا کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو (میت کے غم میں) اپنا سر منڈوائے، جو گال پیٹتا ہے، اور جو کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٤؛حدیث نمبر؛٣١٣٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ ثَقِيلٌ، فَذَهَبَتِ امْرَأَتُهُ لِتَبْكِيَ، أَوْ تَهُمَّ بِهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى: أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَسَكَتَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو مُوسَى، قَالَ يَزِيدُ: لَقِيتُ الْمَرْأَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا قَوْلُ أَبِي مُوسَى لَكِ أَمَا سَمِعْتِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَكَتِّ؟ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3130

اسید بن ابواسید ایک خاتون کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا تھا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو عہد لیا تھا جو نیکی کے بارے میں تھا اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ہم بھلائی کے کام میں نافرمانی نہیں کریں گے،اور نوحہ کرتے ہوئے اپنے چہرے کو نہیں نوچیں گے واویلا نہیں کریں گے، کپڑے نہیں پھاڑیں گے،اور بال نہیں نوچیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّوْحِ؛نوحے کا بیان؛جلد٣،ص١٩٤؛حدیث نمبر؛٣١٣١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَامِلٌ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّبَذَةِ، حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَعْرُوفِ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نَعْصِيَهُ فِيهِ: «أَنْ لَا نَخْمُشَ وَجْهًا، وَلَا نَدْعُوَ وَيْلًا، وَلَا نَشُقَّ جَيْبًا، وَأَنْ لَا نَنْشُرَ شَعَرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3131

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان کے گھر والوں کے لیے ایسی صورتحال آگئی ہے،جس نے انہیں مشغول کردیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب صَنْعَةِ الطَّعَامِ لأَهْلِ الْمَيِّتِ؛اہل میت کے لیے کھانا تیار کرنا؛جلد٣،ص١٩٤؛حدیث نمبر؛٣١٣٢)

بَابُ صَنْعَةِ الطَّعَامِ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ شَغَلَهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3132

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص کے سینے یا حلق میں تیر آکر لگا جس کے نتیجے میں اس کا انتقال ہوگیا،تو اسے اسی طرح اپنے کپڑوں میں لپیٹا گیا جیسے وہ تھا،راوی بیان کرتے ہیں:اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٥؛حدیث نمبر؛٣١٣٣)

بَابٌ فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ - أَوْ فِي حَلْقِهِ - فَمَاتَ فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ، قَالَ: وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3133

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کے بارے میں یہ فرمایا ان کے ہتھیار اور چمڑے کا(اوپری لباس)وغیرہ اتار لیے جائے اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٥؛حدیث نمبر؛٣١٣٤)

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3134

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا تھا انہیں ان کے خون سمیت دفن کر دیا گیا تھا اور ان کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کی گئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٥؛حدیث نمبر؛٣١٣٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وَهَذَا، لَفْظُهُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، «أَنَّ شُهَدَاءَ، أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا، وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3135

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ احد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ (حمزہ بن عبدالمطلب) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے،جس کی بے حرمتی کی گئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: ”اگر مجھے اس کا خیال نہ ہوتا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ (کی بہن)"صفیہ"یہ برداشت نہیں کر سکیں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے“۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، (حال یہ تھا) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٥؛حدیث نمبر؛٣١٣٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ يَعْنِي الْمَرْوَانِيَّ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْمَعْنَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: «لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ، حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا»، وَقَلَّتِ الثِّيَابُ وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى، فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ - زَادَ قُتَيْبَةُ: ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3136

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس سے ہوا جس کی بے حرمتی کی گئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ شہداء میں سے کسی اور کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٣٧)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَمْزَةَ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3137

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں احد کے شہداء میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے آپ دریافت کرتے تھے کہ ان دونوں میں سے کسے قرآن زیادہ آتا ہے جب ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لحد میں قبلہ کی سمت آگے رکھتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں ان سب کا گواہ ہوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ان کے خون سمیت دفن کر دیا جائے اور انہیں غسل نہ دیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٣٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ وَيَقُولُ: «أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟» فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3138

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ایک کپڑے میں اکھٹا کیا گیا(یعنی ایک ساتھ کفن دیا گیا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ؛شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٣٩)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3139

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تم اپنے زانوں کو ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ یا مردہ کے زانوں کی طرف نہ دیکھو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي سَتْرِ الْمَيِّتِ عِنْدَ غَسْلِهِ؛میت کو غسل دیتے ہوئے اس کے لیے پردہ کرنا؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٤٠)

بَابٌ فِي سَتْرِ الْمَيِّتِ عِنْدَ غُسْلِهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرَنَّ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3140

عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، (یہ سن کر) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي سَتْرِ الْمَيِّتِ عِنْدَ غَسْلِهِ؛میت کو غسل دیتے ہوئے اس کے لیے پردہ کرنا؛جلد٣،ص١٩٦؛حدیث نمبر؛٣١٤١)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: لَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَمْ نَغْسِلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ: «أَنْ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ»، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: «لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَلَهُ إِلَّا نِسَاؤُهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3141

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (حضرت زینب رضی اللہ عنہا) کا انتقال ہوا آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”تم انہیں تین بار، یا پانچ بار پانی اور بیر کی پتی سے غسل دینا، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھنا اور آخری بار کافور ملا دینا، اور جب غسل دے کر فارغ ہونا، مجھے اطلاع دینا، تو جب ہم غسل دے کر فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی، آپ نے ہمیں اپنا تہہ بند دیا اور فرمایا: ”یہ ان کے بدن پر لپیٹ دو“۔ قعنبی کی روایت میں خالک سے مروی ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازار کو۔ مسدد کی روایت میں ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے پاس آنے کا“ ذکر نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٢)

بَابُ كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ الْمَعْنَى، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي» فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» قَالَ: عَنْ مَالِكٍ، يَعْنِي إِزَارَهُ، وَلَمْ يَقُلْ مُسَدَّدٌ، دَخَلَ عَلَيْنَا،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3142

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے اس صاحبزادی کی تین چوٹیاں بنا دی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَأَبُو كَامِلٍ، بِمَعْنَى الْإِسْنَادِ: أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ أُخْتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3143

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے اس صاحبزادی کے سر میں تین چوٹیاں بنا دی تھی آگے والے بالوں کو پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا اور اطراف میں دو چوٹیاں بنا دی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: وَضَفَّرْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا مُقَدَّمَ رَأْسِهَا وَقَرْنَيْهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3144

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو اپنے صاحبزادی کو غسل دینے کے بارے میں یہ فرمایا اس کے دائیں طرف والے اعضاء اور ان اعضا میں سے وضو والے مقامات سے آغاز کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِي غُسْلِ ابْنَتِهِ: «ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا، وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3145

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول ہے جو امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی نقل کردہ روایت کے مانند ہے،حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے پہلی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "یا سات مرتبہ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ(غسل دینا)"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٧؛حدیث نمبر؛٣١٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، زَادَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِنَحْوِ هَذَا وَزَادَتْ فِيهِ أَوْ سَبْعًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3146

محمد بن سیرین کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے غسل دینے کی روایت حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے حاصل کی ہے کہ میت کو دو یا تین مرتبہ پانی کے ہمراہ بیری کے پتوں اور کافور سے غسل دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَيْفَ غُسْلُ الْمَيِّتِ؛میت کو کیسے غسل دیا جائے؟؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٤٧)

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْغُسْلَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، «يَغْسِلُ بِالسِّدْرِ مَرَّتَيْنِ، وَالثَّالِثَةَ بِالْمَاءِ وَالْكَافُورِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3147

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا جس میں اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جن کا انتقال ہو گیا تھا، انہیں معمولی سا کفن دیا گیا، اور رات میں دفن کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا رات میں کسی کو جب تک اس پر نماز جنازہ نہ پڑھ لی جائے مت دفناؤ، إلا یہ کہ انسان کو انتہائی مجبوری ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٤٨)

بَابٌ فِي الْكَفَنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَبَ يَوْمًا، فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ، حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3148

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یمنی دھاری دار چادر میں لپیٹے گئے، پھر وہ چادر نکال لی گئی (اور سفید چادر رکھی گئی)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٤٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أُدْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ ثُمَّ أُخِّرَ عَنْهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3149

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور ورثاء صاحب حیثیت (مالدار) ہوں تو اسے دھاری دار منقش چادر میں کفن دینا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٥٠)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَعيِلُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبٍ يَعْنِي ابْنَ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا تُوُفِّيَ أَحَدُكُمْ فَوَجَدَ شَيْئًا فَلْيُكَفَّنْ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3150

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں قمیص اور عمامہ شامل نہیں تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٨؛حدیث نمبر؛٣١٥١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، قَالَتْ: «كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3151

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: "سوتی کپڑے کے بنے ہوئے" راوی بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے لوگوں نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کپڑوں اور ایک دھاری دار چادر میں کفن دیا گیا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ دھاری دار چادر لائی گئی تھی پھر لوگوں نے اسے واپس کر دیا تھا اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن نہیں دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ زَادَ: مِنْ كُرْسُفٍ، قَالَ: فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ قَوْلُهُمْ: فِي ثَوْبَيْنِ وَبُرْدٍ حِبَرَةٍ، فَقَالَتْ: قَدْ أُتِيَ بِالْبُرْدِ، وَلَكِنَّهُمْ رَدُّوهُ وَلَمْ يُكَفِّنُوهُ فِيهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3152

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے بنے ہوئے تین کپڑوں میں کفن دئیے گئے، دو کپڑے (چادر اور تہہ بند) اور ایک وہ قمیص جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال ہوا تھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: تین کپڑوں میں کفن دیے گئے، سرخ جوڑا (یعنی چادر و تہہ بند) اور ایک وہ قمیص تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرمائے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْكَفَنِ؛کفن کا بیان؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ نَجْرَانِيَّةٍ: الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ، وَقَمِيصُهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ عُثْمَانُ: فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، وَقَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3153

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:کفن مہنگا نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:کفن مہنگا نہ بناؤ، کیونکہ یہ بہت جلد چھین لیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ الْمُغَالاَةِ فِي الْكَفَنِ؛کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٤)

بَابُ كَرَاهِيَةِ الْمُغَالَاةِ فِي الْكَفَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَا تُغَالِ لِي فِي كَفَنٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَغَالَوْا فِي الْكَفَنِ، فَإِنَّهُ يُسْلَبُهُ سَلْبًا سَرِيعًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3154

حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شہید ہوگئے تو انہیں کفن دینے کے لیے ایک اونی چادر کے سوا اور کچھ میسر نہ آیا، اور وہ اونی چادر بھی ایسی چھوٹی تھی کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے تھے، اور اگر ان کے دونوں پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونی چادر سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر کچھ اذخر (گھاس) ڈال دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ الْمُغَالاَةِ فِي الْكَفَنِ؛کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: إِنَّ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا نَمِرَةٌ، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الإِذْخِرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3155

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"سب سے بہتر کفن حلہ ہے اور سب سے بہترین قربانی سینگوں والی مینڈھے کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ الْمُغَالاَةِ فِي الْكَفَنِ؛کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے؛جلد٣،ص١٩٩؛حدیث نمبر؛٣١٥٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ، وَخَيْرُ الْأُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3156

بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے کہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار دیا، پھر کرتہ دیا، پھر اوڑھنی دی، پھر چادر دی، پھر ایک اور کپڑا دیا، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا۔ لیلیٰ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس تشریف فرما تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَفَنِ الْمَرْأَةِ؛عورت کے کفن کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛٣١٥٧)

بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَرْأَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ - وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ - عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، يُقَالُ لَهُ: دَاوُدُ، قَدْ وَلَّدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ لَيْلَى بِنْتَ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ وَفَاتِهَا، فَكَانَ أَوَّلُ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِقَاءَ، ثُمَّ الدِّرْعَ، ثُمَّ الْخِمَارَ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةَ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخَرِ»، قَالَتْ: «وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ مَعَهُ كَفَنُهَا يُنَاوِلُنَاهَا ثَوْبًا ثَوْبًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3157

Abu Daud Sharif Kitabul Janayiz Hadees No# 3158

بَابٌ فِي الْمِسْكِ لِلْمَيِّتِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْيَبُ طِيبِكُمُ الْمِسْكُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3158

حضرت حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے، اور فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ طلحہ کی موت کا وقت قریب ہے، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب التَّعْجِيلِ بِالْجَنَازَةِ وَكَرَاهِيَةِ حَبْسِهَا؛جنازہ لے جانے میں جلدی کرنا مستحب اور اسے روکے رکھنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛٣١٥٩)

بَابُ التَّعْجِيلِ بِالْجَنَازَةِ وَكَرَاهِيَةِ حَبْسِهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ أَبُو سُفْيَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هُوَ ابْنُ يُونُسَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ، مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ: «إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ، لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3159

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار کاموں کے بعد غسل کرتے تھے: جنابت سے، جمعہ کے دن، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ؛میت کو غسل دے کر،غسل کرنا؛جلد٣،ص٢٠٠؛حدیث نمبر؛٣١٦٠)

بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَة، ِ وَمِنَ الحِجَامَةِ، وَغُسْلِ الْمَيِّتِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3160

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص میت کو غسل دے اسے غسل کرنا چاہیے اور جو جنازے کو کندھا دے اسے وضو کرنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ؛میت کو غسل دے کر،غسل کرنا؛جلد٣،ص٢٠١؛حدیث نمبر؛٣١٦١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ غَسَّلَ الْمَيِّتَ فَلْيَغْتَسِلْ، وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3161

یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے) اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، میں نے احمد بن حنبل سے سنا ہے: جب ان سے میت کو غسل دینے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اسے وضو کر لینا کافی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوصالح نے اس حدیث میں اپنے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان زائدہ کے غلام اسحاق کو داخل کر دیا ہے، نیز مصعب کی روایت ضعیف ہے اس میں کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ؛میت کو غسل دے کر،غسل کرنا؛جلد٣،ص٢٠١؛حدیث نمبر؛٣١٦٢)

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ إِسْحَاقَ، مَوْلَى زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مَنْسُوخٌ، وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، وَسُئِلَ عَنِ الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ؟ فَقَالَ: «يُجْزِيهِ الْوُضُوءُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " أَدْخَلَ أَبُو صَالِحٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي إِسْحَاقَ مَوْلَى زَائِدَةَ، قَالَ: وَحَدِيثُ مُصْعَبٍ ضَعِيفٌ فِيهِ خِصَالٌ لَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3162

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ان کی میت کو بوسہ دیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ؛میت کو بوسہ دینا؛جلد٣،ص٢٠١؛حدیث نمبر؛٣١٦٣)

بَابٌ فِي تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ، حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3163

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:کچھ لوگوں نے قبرستان میں(رات کے وقت) روشنی دیکھی وہ اس کے پاس آئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر میں موجود تھے، اور یہ فرما رہے تھے:"اپنے ساتھی کو مجھے پکڑا" اور یہ وہ شخص تھا جو بلند آواز میں ذکر کیا کرتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الدَّفْنِ بِاللَّيْلِ؛رات کے وقت میت کو دفن کرنا؛جلد٣،ص٢٠١؛حدیث نمبر؛٣١٦٤)

بَابٌ فِي الدَّفْنِ بِاللَّيْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَى نَاسٌ نَارًا فِي الْمَقْبَرَةِ، فَأَتَوْهَا فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ: «نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمْ» فَإِذَا هُوَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3164

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں غزوہ احد کے روز ہم نے شہداء کو کسی اور جگہ لے جا کر دفن کرنے کے لیے اٹھایا ہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آ کر اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے ہیں کہ شہداء احدکو ان کی شہادت کی جگہوں میں دفن کرو،تو ہم نے ان کو انہیں کی جگہوں پر لوٹا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمَيِّتِ يُحْمَلُ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ وَكَرَاهَةِ ذَلِكَ؛میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ناپسندیدہ ہے؛جلد٣،ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛٣١٦٥)

بَابٌ فِي الْمَيِّتِ يُحْمَلُ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ وَكَرَاهَةِ ذَلِكَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا حَمَلْنَا الْقَتْلَى يَوْمَ أُحُدٍ لِنَدْفِنَهُمْ، فَجَاءَ مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَضَاجِعِهِمْ» فَرَدَدْنَاهُمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3165

حضرت مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان مر جائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا“۔ راوی کہتے ہیں: نماز (جنازہ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي الصُّفُوفِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛نماز جنازہ میں صف بندی کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛٣١٦٦)

بَابٌ فِي الصُّفُوفِ عَلَى الْجَنَازَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدٍ الْيَزَنِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَوْجَبَ»، قَالَ: فَكَانَ مَالِكٌ «إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِلْحَدِيثِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3166

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہمیں(خواتین)کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا تھا تاہم اس حوالے سے ہمارے ساتھ سختی نہیں کی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ؛عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا؛جلد٣،ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛٣١٦٧)

بَابُ اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «نُهِينَا أَنْ نَتَّبِعَ الْجَنَائِزَ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3167

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط (کا ثواب) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط (کا ثواب) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا؛جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت؛جلد٣،ص٢٠٢؛حدیث نمبر؛٣١٦٨)

بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْوِيهِ، قَالَ: «مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ - أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ -».

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3168

عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ(چھوٹا گھر جسے دیواروں سے گھیر کر محفوظ کر دیا گیا ہو۔)خباب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے (یہ سنا تو) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا؛جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٦٩)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُسَيْنٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ وَهُوَ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَهُ- عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا» فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيث سُفْيَان، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3169

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:" جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور 40 ایسے لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے ہو تو اس شخص کے بارے میں ان کی سفارش کو قبول کیا جاتا ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا؛جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٧٠)

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3170

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جنازے کے ساتھ آواز یا آگ کو نہ لے جایا جائے۔ایک راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:"جنازے کے آگے نہ چلا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّارِ يُتْبَعُ بِهَا الْمَيِّتُ؛میت کے ساتھ آگ لے جانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٧١)

بَابٌ فِي النَّارِ يُتْبَعُ بِهَا الْمَيِّتُ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنِي بَابُ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَةُ بِصَوْتٍ، وَلَا نَارٍ» زَادَ هَارُونُ: «وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3171

حضرت سالم اپنے والد(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما)کے حوالے سے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:جب تم کوئی جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ جب تک وہ آگے نہیں گزر جاتا یا اسے رکھ نہیں دیا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٧٢)

بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا، حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3172

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو“ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ”یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے“ اور اسے ابومعاویہ نے سہیل سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری ابومعاویہ سے زیادہ حافظہ والے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٣؛حدیث نمبر؛٣١٧٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَبِعْتُمُ الْجَنَازَةَ فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ فِيهِ: «حَتَّى تُوضَعَ بِالْأَرْضِ»-، وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ: «حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَسُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3173

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچانک ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر جب ہم اسے اٹھانے کے لیے بڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی یہودی کا جنازہ ہے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت پریشان کن چیز ہے، لہٰذا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛٣١٧٤)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا، فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ؟ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً فَقُومُوا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3174

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کی وجہ سے کھڑے ہو جایا کرتے تھے بعد میں آپ بیٹھے رہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛٣١٧٥)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الْجَنَائِزِ ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3175

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا، بیٹھتے نہ تھے، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں (اس کے بعد سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے، اور فرمایا: ”(مسلمانو!) تم (بھی) بیٹھے رہو، ان کے خلاف کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ؛جلد٣،ص٢٠٤؛حدیث نمبر؛٣١٧٦)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، فَمَرَّ بِهِ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: هَكَذَا نَفْعَلُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «اجْلِسُوا خَالِفُوهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3176

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا (پیدل ہی گئے) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: ”جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الرُّكُوبِ فِي الْجَنَازَةِ؛جنازہ میں سوار ہو کر جانا؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٧٧)

بَابُ الرُّكُوبِ فِي الْجَنَازَةِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِدَابَّةٍ وَهُوَ مَعَ الْجَنَازَةِ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي، فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ، فَلَمَّا ذَهَبُوا رَكِبْتُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3177

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی، اور ہم موجود تھے، پھر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے) ایک گھوڑا لایا گیا اسے باندھ کر رکھا گیا یہاں تک کہ آپ سوار ہوگئے، آپ اسے درمیانی رفتار سے تیز چلاتے رہے ، اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہو کر تیز چلنے لگے (تاکہ آپ کا ساتھ نہ چھوٹے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الرُّكُوبِ فِي الْجَنَازَةِ؛جنازہ میں سوار ہو کر جانا؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٧٨)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: «صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ شُهُودٌ، ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ فَعُقِلَ حَتَّى رَكِبَهُ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3178

سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْمَشْىِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ؛جنازے کے آگے آگے چلنا؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٧٩)

بَابُ الْمَشْيِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3179

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے، آگے دائیں بائیں طرف چل سکتا ہے جبکہ اس کے قریب رہے،اور جو بچہ مردہ پیدا ہو اس کی نماز جنازہ ادا کی جاے گی،ان کے والدین کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْمَشْىِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ؛جنازے کے آگے آگے چلنا؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٨٠)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَحْسَبُ أَنَّ أَهْلَ زِيَادٍ أَخْبَرُونِي أَنَّهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا، وَأَمَامَهَا، وَعَنْ يَمِينِهَا، وَعَنْ يَسَارِهَا قَرِيبًا مِنْهَا، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3180

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنازے کو تیزی سے لے کر جاؤ کیونکہ اگر وہ نیک ہوگا تو تم ایک بھلائی کی طرف اس کو لے کر جا رہے ہو اور اگر وہ اس کے علاوہ ہوگا تو تم اپنی گردنوں سے اس برائی کو اتار دو گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جنازہ جلدی لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٨١)

بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3181

عیینہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے، اتنے میں ہم سے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنی لاٹھی لہرایا (ڈرانے کے لیے) اور کہا: ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم (جنازے لے کر) تیز چلا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جنازہ جلدی لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٨٢)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ وَكُنَّا نَمْشِي مَشْيًا خَفِيفًا، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ فَرَفَعَ سَوْطَهُ، فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَرْمُلُ رَمَلًا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3182

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوئے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اپنے خچر کو تیزی سے چلاتے ہوئے تشریف لائے انہوں نے اپنے کوڑے کے ذریعے اشارہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جنازہ جلدی لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٥؛حدیث نمبر؛٣١٨٣)

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ عُيَيْنَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَا: فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَقَالَ: فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ بَغْلَتَهُ وَأَهْوَى بِالسَّوْطِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3183

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنازے میں چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:درمیانی رفتار، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم سے دور ہی رہنا چاہیے، جنازہ کی پیروی کی جائے گی (یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جنازہ جلدی لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛٣١٨٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَحْيَى الْمُجَبِّرِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ، فَقَالَ: «مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُنْ خَيْرًا تَعَجَّلَ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، وَالْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَا تُتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ ضَعِيفٌ هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَحْيَى الْجَابِرُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَهَذَا كُوفِيٌّ وَأَبُو مَاجِدَةَ بَصْرِيٌّ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " أَبُو مَاجِدَةَ، هَذَا لَا يُعْرَفُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3184

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص بیمار ہوا پھر اس کی موت کی خبر پھیلی تو اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا؟“، وہ بولا: میں اسے دیکھ کر آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا ہے“، وہ پھر لوٹ گیا، پھر اس کے مرنے کی خبر پھیلی، پھر وہی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: وہ مر گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا ہے“، تو وہ پھر لوٹ گیا، اس کے بعد پھر اس کے مرنے کی خبر مشہور ہوئی، تو اس کی بیوی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس کے مرنے کی آپ کو خبر دو، اس نے کہا: اللہ کی لعنت ہو اس پر۔ پھر وہ شخص مریض کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس نے تیر کے پیکان سے اپنا گلا کاٹ ڈالا ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے آپ کو بتایا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیسے پتا لگا؟“، اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے اس نے تیر کی پیکان سے اپنا گلا کاٹ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے خود دیکھا ہے؟“، اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں اس کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھوں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الإِمَامِ لاَ يُصَلِّي عَلَى مَنْ قَتَلَ نَفْسَه؛امام خودکشی کرنے والے کا جنازہ نہ پڑھائے؛جلد٣،ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛٣١٨٥)

بَابُ الْإِمَامِ لَا يُصَلِّي عَلَى مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ جَارُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ قَدْ مَاتَ، قَالَ: «وَمَا يُدْرِيكَ؟» قَالَ: أَنَا رَأَيْتُهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ» قَالَ: فَرَجَعَ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ» فَرَجَعَ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: «وَمَا يُدْرِيكَ؟» قَالَ: رَأَيْتُهُ يَنْحَرُ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ مَعَهُ، قَالَ: «أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «إِذًا لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3185

حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا کرنے سے منع بھی نہیں کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَتْهُ الْحُدُودُ؛حدنافذ ہونے کی وجہ سے مرنے والے کی نماز جنازہ ادا کرنا؛جلد٣،ص٢٠٦؛حدیث نمبر؛٣١٨٦)

بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ قَتَلَتْهُ الْحُدُودُ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، حَدَّثَنِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ عَلَى مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3186

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر 18 ماہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلاَةِ عَلَى الطِّفْلِ؛بچے کی نماز جنازہ؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٨٧)

بَابٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الطِّفْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3187

یہی بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقاعد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی تھی۔ عطاء رحمت اللہ تعالی علیہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے کی نماز جنازہ ادا کی تھی اس وقت ان صاحبزادے کی عمر 70 دن تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلاَةِ عَلَى الطِّفْلِ؛بچے کی نماز جنازہ؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٨٨)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَهِيَّ، قَالَ: «لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَقَاعِدِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ، قِيلَ لَهُ: حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ لَيْلَةً

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3188

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی تھی۔ یہی بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقاعد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٨٩)

بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3189

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو صاحبزادوں کی نماز جنازہ مسجد میں ہی ادا کی تھی، ایک سہیل اور ایک ان کے بھائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٩٠)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، َ عَلَى ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ: سُهَيْلٍ، وَأَخِيهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3190

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص مسجد میں نماز جنازہ ادا کرتا ہے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؛جلد٣،ص٢٠٧؛حدیث نمبر؛٣١٩١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي صَالِحٌ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِد، ِ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3191

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے روکتے تھے: ایک تو جب سورج بلند ہو رہا ہو، دوسرے جب عین زوال کا وقت ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے اور تیسرے جب سورج ڈوبنے لگے یہاں تک کہ ڈوب جائے یا اسی طرح کچھ فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدَّفْنِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا؛سورج طلوع یا غروب ہوتے وقت دفن کرنا؛جلد٣،ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٣١٩٢)

بَابُ الدَّفْنِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، قَالَ: " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِن، َّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ " أَوْ كَمَا، قَالَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3192

حارث بن نوفل کے غلام عمار کا بیان ہے کہ وہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئے تو لڑکا امام والی طرف میں رکھا گیا تو میں نے اسے ناپسند کیا اس وقت لوگوں میں ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم موجود تھے اس پر ان لوگوں نے کہا: سنت یہی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب إِذَا حَضَرَ جَنَائِزَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ مَنْ يُقَدِّمُ؛مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے آ جائیں تو کسے آگے رکھا جائے؟؛جلد٣،ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٣١٩٣)

بَابٌ إِذَا حَضَرَ جَنَائِزُ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ مَنْ يُقَدَّمُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ، مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ شَهِدَ جَنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ، وَابْنِهَا، فَجُعِلَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، وَفِي الْقَوْمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالُوا: «هَذِهِ السُّنَّةُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3193

نافع ابوغالب بیان کرتے ہیں میں مربد نامی ایک جگہ میں تھا اتنے میں ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ بہت سارے لوگ تھے، لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے، یہ سن کر میں بھی جنازہ کے ساتھ ہو لیا، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ باریک شال اوڑھے ہوئے چھوٹی گھوڑی پر سوار ہے، دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ایک کپڑے کا ٹکڑا ڈالے ہوئے ہے، میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ بزرگ صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں، پھر جب جنازہ رکھا گیا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، میں ان کے پیچھے تھا، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، چار تکبیریں کہیں (اور تکبیریں کہنے میں) نہ بہت دیر لگائی اور نہ بہت جلدی کی، پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا: ابوحمزہ! (انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) یہ انصاری عورت کا بھی جنازہ ہے (اس کی بھی نماز پڑھا دیجئیے) یہ کہہ کر اسے قریب لائے، وہ ایک سبز تابوت میں تھی، وہ اس کے کمر کے مقابل کے کھڑے ہوئے، اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی نماز مرد کی پڑھی تھی، پھر اس کے بعد بیٹھے، تو علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح جنازے کی نماز پڑھا کرتے تھے جس طرح آپ نے پڑھی ہے؟ چار تکبیریں کہتے تھے، مرد کے سر کے سامنے اور عورت کے اس کے کمر مقابل کھڑے ہوتے تھے، انہوں نے کہا: ہاں۔ علاء بن زیاد نے (پھر) کہا: ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں غزوہ حنین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، مشرکین نکلے انہوں نے ہم پر حملہ کیا یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے دیکھا اور قوم (کافروں) میں ایک حملہ آور شخص تھا جو ہمیں مار کاٹ رہا تھا (پھر جنگ کا رخ پلٹا) اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دی اور انہیں (اسلام کی چوکھٹ پر) لانا شروع کر دیا، وہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اگر اللہ اس شخص کو لایا جو اس دن ہمیں مار کاٹ رہا تھا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے، پھر وہ (قیدی) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے توبہ کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کرنے میں توقف کیا تاکہ دوسرا بندہ (یعنی نذر ماننے والا صحابی) اپنی نذر پوری کر لے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیعت لینے سے پہلے ہی اس کی گردن اڑا دے) لیکن وہ شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا کہ آپ اسے اس کے قتل کا حکم فرمائیں اور ڈر رہا تھا کہ ایسا نہ ہو میں اسے قتل کر ڈالوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کچھ نہیں کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کر لی، تب اس صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نذر تو رہ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جو اب تک رکا رہا اور اس سے بیعت نہیں کی تھی تو اسی وجہ سے کہ اس دوران تم اپنی نذر پوری کر لو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں آنکھ کے ذریعے اشارہ کیوں نہ فرما دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے مناسب نہیں ہے کہ وہ آنکھ سے اشارہ کرے“۔ ابوغالب کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عورت کے کمر کے مقابل کھڑے ہونے کے بارے میں پوچھا کہ (وہ وہاں کیوں کھڑے ہوئے) تو لوگوں نے بتایا کہ پہلے تابوت نہ ہوتا تھا تو امام عورت کے کولہے کے پاس کھڑا ہوتا تھا تاکہ مقتدیوں سے اس کی نعش چھپی رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله» سے اس کے قتل کی نذر پوری کرنے کو منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے آ کر یہ کہا تھا کہ میں نے توبہ کر لی ہے، اور اسلام لے آیا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ إِذَا صَلَّى عَلَيْه؛جنازہ پڑھاتے ہوئے امام میت کے مقابل کہاں کھڑا ہو؟؛جلد٣،ص٢٠٨؛حدیث نمبر؛٣١٩٤)

بَابُ أَيْنَ يَقُومُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ إِذَا صَلَّى عَلَيْهِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ قَالُوا: جَنَازَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَتَبِعْتُهَا فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ عَلَيْهِ كِسَاءٌ رَقِيقٌ عَلَى بُرَيْذِينَتِهِ، وَعَلَى رَأْسِهِ خِرْقَةٌ تَقِيهِ مِنَ الشَّمْسِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا الدِّهْقَانُ؟ قَالُوا: هَذَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَأَنَا خَلْفَهُ لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، لَمْ يُطِلْ وَلَمْ يُسْرِعْ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ. فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ، فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلَاتِهِ عَلَى الرَّجُلِ، ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، يَا أَبَا حَمْزَةَ، «هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، عَلَى الْجَنَازَةِ كَصَلَاتِكَ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ»، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَهُ حُنَيْنًا، فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ فَحَمَلُوا عَلَيْنَا، حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا، وَيَحْطِمُنَا، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، وَجَعَلَ يُجَاءُ بِهِمْ فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا: إِنْ جَاءَ اللَّهُ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمَ يَحْطِمُنَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِيءَ بِالرَّجُلِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُبَايِعُهُ، لِيَفِيَ الْآخَرُ بِنَذْرِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَتَصَدَّى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ، وَجَعَلَ يَهَابُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْتُلَهُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا بَايَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَذْرِي؟ فَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمَ إِلَّا لِتُوفِيَ بِنَذْرِكَ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ» قَالَ أَبُو غَالِبٍ: «فَسَأَلْتُ عَنْ صَنِيعِ أَنَسٍ فِي قِيَامِهِ عَلَى الْمَرْأَةِ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا، فَحَدَّثُونِي أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّهُ لَمْ تَكُنِ النُّعُوشُ، فَكَانَ الْإِمَامُ يَقُومُ حِيَالَ عَجِيزَتِهَا يَسْتُرُهَا مِنَ الْقَوْمِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» نُسِخَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَفَاءُ بِالنَّذْرِ فِي قَتْلِهِ، بِقَوْلِهِ إِنِّي قَدْ تُبْتُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3194

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک خاتون کی نماز جنازہ ادا کی جس کا اپنے بچے کی پیدائش کے وقت انتقال ہو گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ میں اس کے وسطہ کے مقابل میں کھڑے ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ إِذَا صَلَّى عَلَيْهِ؛جنازہ پڑھاتے ہوئے امام میت کے مقابل کہاں کھڑا ہو؟؛جلد٣،ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٣١٩٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3195

امام شعبی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تازہ بنی ہوئی قبر کے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی صفیں بنوائی اور اس کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی۔ امام شعبی سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو کس نے یہ حدیث بیان کی انہوں نے فرمایا ایک ایسے ثقہ راوی نے جو اس موقع پر موجود تھا وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جنازے کی تکبیرات کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٣١٩٦)

بَابُ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ رَطْبٍ فَصَفُّوا عَلَيْهِ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا»، فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3196

ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے(مرحومین) کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے ایک مرتبہ انہوں نے نماز جنازہ میں پانچ تکبیر کہیں میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ(یعنی پانچ تکبیریں بھی)کہا کرتے تھے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ابن مثنی کی نقل کردہ روایت میں،میں زیادہ"معقن" ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جنازے کی تکبیرات کا بیان؛جلد٣،ص٢٠٩؛حدیث نمبر؛٣١٩٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَرْقَمَ، يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى أَتْقَنُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3197

طلحہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں میں نے ایک نماز جنازہ ادا کی تو انہوں نے اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور بتایا یہ سنت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب مَا يُقْرَأُ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جنازے میں قرآت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٣١٩٨)

بَابُ مَا يَقْرَأُ عَلَى الْجَنَازَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: «إِنَّهَا مِنَ السُّنَّةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3198

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جب تم کسی میت کی نماز جنازہ ادا کرو تو صرف اسی کے لیے دعا کرو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ؛میت کے لیے دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٣١٩٩)

بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ: «إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3199

علی بن شماخ کہتے ہیں میں مروان کے پاس موجود تھا، مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا اس کے ہمراہ جو تم نے کہا ہے،مروان نے جواب دیا: جی ہاں!راوی کہتے ہیں ان دونوں کے درمیان پہلے کوئی بات چیت چل رہی تھی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» ”اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے، تو نے ہی اس کو پیدا کیا ہے، تو نے ہی اسے اسلام کی راہ دکھائی ہے، تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے، تو اس کے ظاہر و باطن کو زیادہ جاننے والا ہے، ہم اس کی سفارش کرنے آئے ہیں تو اسے بخش دے“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں شعبہ نے علی بن شماخ کا نام بیان کرتے ہوئے غلطی کی ہے انہوں نے اس راوی کا نام عثمان بن شماس نقل کیا ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں میں نے احمد بن ابراہیم موصلی کو امام احمد بن حنبل کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں جب بھی حماد بن زید کی محفل میں بیٹھا تو انہوں نے اس محفل میں عبدالوارث اور جعفر بن سلیمان سے روایت کرنے سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ؛میت کے لیے دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١٠؛حدیث نمبر؛٣٢٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ؟ قَالَ: أَمَعَ الَّذِي قُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كَلَامٌ كَانَ بَيْنَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " أَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي اسْمِ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ فِيهِ: عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاسٍ، وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، الْمُوصِلِيَّ يُحَدِّثُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ أَنِّي جَلَسْتُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مَجْلِسًا إِلَّا نَهَى فِيهِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3200

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» ”اے اللہ! تو بخش دے، ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کو، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے ایمان پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جس کو موت دے اسے اسلام پر موت دے، اے اللہ! ہم کو تو اس کے ثواب سے محروم نہ رکھنا، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ؛میت کے لیے دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١١؛حدیث نمبر؛٣٢٠١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا، وَمَيِّتِنَا، وَصَغِيرِنَا، وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيمَانِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3201

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر» ”اے اللہ! فلاں کا بیٹا فلاں تیری امان و پناہ میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ (عذاب) سے بچا لے“۔ عبدالرحمٰن کی روایت میں: «في ذمتك» کے بعد عبارت اس طرح ہے: «وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! وہ تیری امان میں ہے، اور تیری حفاظت میں ہے، تو اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو وعدہ وفا کرنے والا اور حق ادا کرنے کا اہل ہے، اے اللہ! تو اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، تو بہت بخشنے والا، اور رحم فرمانے والا ہے“۔ عبدالرحمن کہتے ہیں یہ روایت مروان بن جناح سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ؛میت کے لیے دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١١؛حدیث نمبر؛٣٢٠٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ - وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَمُّ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ - قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مِنْ ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ - وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِ، اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ "، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: عَنْ مَرْوَانَ بْنِ جَنَاحٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3202

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سیاہ فام عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو انتقال کر گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی؟“ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ“، لوگوں نے بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر جنازہ پڑھنا؛جلد٣،ص٢١١؛حدیث نمبر؛٣٢٠٣)

بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ - أَوْ رَجُلًا - كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ: مَاتَ، فَقَالَ: «أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهِ؟» قَالَ: «دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ؟» فَدَلُّوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3203

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کے انتقال کی اطلاع اسی دن دے دی تھی جس دن اس کا انتقال ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر عید گاہ تشریف لے گئے آپ نے ان کی صفیں بنوائیں اور اپ نے اس کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمُسْلِمِ يَمُوتُ فِي بِلاَدِ الشِّرْكِ؛جو مسلمان مشرکین کے علاقے میں فوت ہو جائے؛جلد٣،ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٣٢٠٤)

بَابٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمُسْلِمِ يَمُوتُ فِي بِلَادِ الشِّرْكِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَفَّ بِهِمْ، وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3204

ابو بردہ اپنے والد حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم نجاشی کے ملک چلے جائیں،(اس کے بعد راوی نے حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ مذکور ہے) نجاشی نے کہا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)وہی شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام نے بشارت دی اگر میری بادشاہت کی مصروفیات نہ ہوتی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریفین اٹھاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمُسْلِمِ يَمُوتُ فِي بِلاَدِ الشِّرْكِ؛جو مسلمان مشرکین کے علاقے میں فوت ہو جائے؛جلد٣،ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٣٢٠٥)

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْطَلِقَ إِلَى أَرْضِ النَّجَاشِيِّ - فَذَكَرَ حَدِيثَهُ - قَالَ النَّجَاشِيُّ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَلَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَحْمِلَ نَعْلَيْهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3205

مطلب بیان کرتے ہیں:جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جایا گیا اور وہ دفن کئے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک پتھر اٹھا کر لانے کا حکم دیا (تاکہ اسے علامت کے طور پر رکھا جائے) وہ اٹھا نہ سکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اٹھ کر گئے اور اپنی دونوں آستینیں چڑھائیں۔ کثیر (راوی) کہتے ہیں: مطلب نے کہا: جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث مجھ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کی سفیدی جس وقت کہ آپ نے اسے کھولا دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا کر ان کے سر کے قریب رکھا اور فرمایا: ” اس کے ذریعے مجھے اپنے بھائی کی قبر کی شناخت رہے گی اور میرے اہل خانہ میں سے جو بھی فوت ہوگا میں اسے اس کے قریب دفن کروں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي جَمْعِ الْمَوْتَى فِي قَبْرٍ وَالْقَبْرُ يُعَلَّمُ؛ایک قبر میں کئی میتوں کو اکٹھا کرنے اور قبر پر نشان رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٣٢٠٦)

بَابٌ فِي جَمْعِ الْمَوْتَى فِي قَبْرٍ وَالْقَبْرُ يُعَلَّمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، بِمَعْنَاهُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ كَثِيرٌ: قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي ذَلِكَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ: «أَتَعَلَّمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي، وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3206

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے:"مردے کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کے مترادف ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْحَفَّارِ يَجِدُ الْعَظْمَ هَلْ يَتَنَكَّبُ ذَلِكَ الْمَكَانَ؛قبر کھودنے والے کو کوئی ہڈی مل جائے تو کیا وہ اس جگہ کو کریدے؛جلد٣،ص٢١٢؛حدیث نمبر؛٣٢٠٧)

بَابٌ فِي الْحَفَّارِ يَجِدُ الْعَظْمَ هَلْ يَتَنَكَّبُ ذَلِكَ الْمَكَانَ؟ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3207

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:(قبر میں)لحد (بنانے کا طریقہ)ہمارے لیے اور شق کا (طریقہ)دوسروں کے لیے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي اللَّحْدِ؛قبر میں لحد بنانے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢٠٨)

بَابٌ فِي اللَّحْدِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3208

عامر شعبی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی،حضرت فضل اورحضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا، اور انہیں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا۔ شعبی کہتے ہیں: مجھ سے مرحب یا ابومرحب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی داخل کر لیا تھا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (کفن،دفن سے) فارغ ہونے کے بعد کہا کہ: آدمی کے اس طرح کے(یعنی کفن دفن کے)معاملات اس کے خاندان ان کے افراد ہی سرانجام دیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛: جنازے کے احکام و مسائل؛ باب كَمْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؛میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں؟؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢٠٩)

بَابُ كَمْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: «غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ، وَالْفَضْلُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهُ»، قَالَ: حَدَّثَنَا مُرَحَّبٌ أَوْ أَبُو مُرَحَّبٍ، أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ قَالَ: «إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3209

حضرت ابو مرحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے گویا میں اس وقت بھی ان چاروں حضرات کو دیکھ رہا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛: جنازے کے احکام و مسائل؛ باب كَمْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؛میت کو اتارنے کے لیے قبر میں کتنے آدمی اتریں؟؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَحَّبٍ، " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ أَرْبَعَةً "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3210

ابو اسحاق بیان کرتے ہیں:حارث نے یہ وصیت کی کہ حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو انہوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر انہوں نے اس کو قبر کے پائنتی کی طرف سے قبر میں اتارا اور بولے یہ سنت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْمَيِّتِ يُدْخَلُ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ؛میت کو کیسے (کس طرف سے) قبر میں اتارا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢١١)

بَابٌ فِي الْمَيِّتِ يُدْخَلُ مِنْ رِجْلَيْهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: أَوْصَى الْحَارِثُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، " فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ الْقَبْرِ، وَقَالَ: هَذَا مِنَ السُّنَّةِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3211

حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں شرکت کے لیے گئے جب ہم قبرستان پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی بیٹھ گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْجُلُوسِ عِنْدَ الْقَبْرِ؛قبر کے پاس کس طرح بیٹھیں؟؛جلد٣،ص٢١٣؛حدیث نمبر؛٣٢١٢)

بَابُ الْجُلُوسِ عِنْدَ الْقَبْرِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمْ يُلْحَدْ بَعْدُ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَجَلَسْنَا مَعَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3212

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی میت کو قبر میں اتارتے تو یہ پڑھتے تھے(ترجمہ) "اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے،اور اللہ کے رسول کی سنت پر(میں اسے سپرد خاک کرتا ہوں) روایت کے یہ الفاظ مسلم بن ابراہیم کے نقل کردہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ؛میت کو قبر میں رکھنے کے وقت کی دعا کا بیان؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٣)

بَابٌ فِي الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، َ كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، هَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3213

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنے باپ کو گاڑ کر آؤ، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا“، تو میں گیا، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةُ مُشْرِكٍ؛مسلمان کا مشرک رشتہ دار مر جائے تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٤)

بَابُ الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةٌ مُشْرِكٌ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، قَالَ: «اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ، ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا، حَتَّى تَأْتِيَنِي» فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3214

حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں غزوہ احد کے دن انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم زخمی اور تھکے ہوئے ہیں تو(شہداء کو دفن کرنے کے حوالے سے) آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کشادہ قبر کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمی رکھو“، پوچھا گیا: آگے کسے رکھیں؟ فرمایا: ”جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد عامر رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے اور دو یا ایک آدمی کے ساتھ دفن ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ؛قبر گہری کھودنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٥)

بَابٌ فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَهُمْ عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا، قَالَ: «احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ» قِيلَ: فَأَيُّهُمْ يُقَدَّمُ؟ قَالَ: «أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا» قَالَ: أُصِيبَ أَبِي يَوْمَئِذٍ عَامِرٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ قَالَ وَاحِدٌ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3215

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "(قبروں کو)گہرا رکھنا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ؛قبر گہری کھودنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي الْأَنْطَاكِيَّ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ فِيهِ: وَأَعْمِقُوا،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3216

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ؛قبر گہری کھودنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٤؛حدیث نمبر؛٣٢١٧)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3217

ابوہیاج اسدی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے بھیجا انہوں نے مجھ سے فرمایا میں تمہیں اسی کام کے لیے بھیج رہا ہوں جس کام کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا وہ یہ کہ میں ہر اونچی قبر کو برابر کر دوں اور ہر مورتی کو مٹا دوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛قبر کو برابر کرنا؛جلد٣،ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٣٢١٨)

بَابٌ فِي تَسْوِيَةِ الْقَبْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي هَيَّاجٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي عَلِيٌّ، قَالَ لِي: أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ لَا أَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3218

ابو علی ہمدانی بیان کرتے ہیں ہم روم کی سرزمین پر روڈس میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہو گیا تو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اس کی قبر کو برابر کر دیا گیا پھر انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبر کو برابر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں روڈس سمندر میں ایک جزیرہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛قبر کو برابر کرنا؛جلد٣،ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٣٢١٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِرُودِسَ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «رُودِسُ جَزِيرَةٌ فِي الْبَحْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3219

قاسم بیان کرتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی:امی جان!آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ساتھیوں (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ)کی قبریں دکھائیں تو انہوں نے مجھے تین قبریں دکھائی جو نہ اونچی تھی اور نہ ہی زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھی،ان پر سرخ میدان کی کنکریاں ڈالی ہوئی تھیں۔ (سنن ابو داؤد کے راوی)ابو علی بیان کرتے ہیں یہ بات بیان کی جاتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک قبلہ کی سمت میں آگے کی طرف ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے مقابل پیچھے کی طرف ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛قبر کو برابر کرنا؛جلد٣،ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٣٢٢٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهِ اكْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «فَكَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلَاثَةِ قُبُورٍ لَا مُشْرِفَةٍ، وَلَا لَاطِئَةٍ مَبْطُوحَةٍ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ» قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: يُقَالُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَدَّمٌ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَعُمَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، رَأْسُهُ عِنْدَ رِجْلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3220

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو دفن کر کے فارغ ہو جاتے تو آپ اس کی قبر کے پاس ٹھہر کر فرماتے اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو کیونکہ اب اس سے سوال کیے جائیں گے امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں(اس سند کے ایک راوی کے باپ کا نام) بحیر بن ریسان ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِغْفَارِ عِنْدَ الْقَبْرِ لِلْمَيِّتِ فِي وَقْتِ الاِنْصِرَاف؛(دفن کے بعد) قبر سے واپسی کے وقت میت کے لیے استغفار کا بیان؛جلد٣،ص٢١٥؛حدیث نمبر؛٣٢٢١)

بَابُ الِاسْتِغْفَارِ عِنْدَ الْقَبْرِ لِلْمَيِّتِ فِي وَقْتِ الِانْصِرَافِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «بَحِيرٌ ابْنُ رَيْسَانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3221

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اسلام میں"عقر"کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ امام عبدالرزاق رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں وہ لوگ قبر کے پاس ذبح کرتے تھے یعنی گائے یا کسی اور چیز کو ذبح کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ الذَّبْحِ عِنْدَ الْقَبْرِ؛قبر کے قریب ذبح ہونے کا مکروہ ہونا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٢)

بَابُ كَرَاهِيَةِ الذَّبْحِ عِنْدَ الْقَبْرِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ»، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: «كَانُوا يَعْقِرُونَ عِنْدَ الْقَبْرِ بَقَرَةً أَوْ شَاةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3222

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا کی پھر واپس تشریف لائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمَيِّتِ يُصَلَّى عَلَى قَبْرِهِ بَعْدَ حِينٍ؛(میت کے انتقال کے)کچھ عرصہ بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٣)

بَابُ الْمَيِّتِ يُصَلَّى عَلَى قَبْرِهِ بَعْدَ حِينٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ، صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3223

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے آٹھ سال بعد شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا کی یوں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ اور مرحوم لوگوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمَيِّتِ يُصَلَّى عَلَى قَبْرِهِ بَعْدَ حِينٍ؛(میت کے انتقال کے)کچھ عرصہ بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٤)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ - بِهَذَا الْحَدِيثِ - قَالَ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3224

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے منع کرتے ہوئے سنا ہے کہ قبر پر بیٹھا جائے،یا اس پر چونا لگایا جائے، یا اس پر عمارت تعمیر کی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر عمارت بنانا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٥)

بَابٌ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى أَنْ يَقْعُدَ عَلَى الْقَبْرِ، وَأَنْ يُقَصَّصَ وَيُبْنَى عَلَيْهِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3225

یہی روایت ایک اور سنت کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ (امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:)عثمان نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:"یا اس پر زیادہ کیا جائے" سلیمان بن موسی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:" یا اس پر کوئی چیز تحریر کی جائے" مسدد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں:"یا اس پر زیادہ کیا جائے" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں مسدد کی روایت میں لفظ"؛اَن"مجھ سے مخفی رہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر عمارت بنانا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ عُثْمَانُ: أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ، وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى: أَوْ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ حَرْفُ وَأَنْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3226

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اللہ تعالی یہودیوں کو برباد کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر عمارت بنانا؛جلد٣،ص٢١٦؛حدیث نمبر؛٣٢٢٧)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3227

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:آدمی کا ایسے انگارے پر بیٹھنا جو اس کے کپڑے جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْقُعُودِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٣٢٢٨)

بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْقُعُودِ عَلَى الْقَبْرِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ، حَتَّى تَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3228

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:قبروں پر بیٹھو نہیں اور ان کی طرف رخ کر کے نماز ادا نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْقُعُودِ عَلَى الْقَبْرِ؛قبر پر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٣٢٢٩)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3229

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بشیر رضی اللہ عنہ (جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تمہارا کیا نام ہے؟“، انہوں نے کہا: زحم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو“کہتے ہیں: اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”یہ لوگ خیر کثیر (دین اسلام) سے پہلے گزر (مر) گئے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں پر سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”ان لوگوں نے خیر کثیر (بہت زیادہ بھلائی) حاصل کی“ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جوتیوں والے! تجھ پر افسوس ہے، اپنی جوتیاں اتار دے“ اس آدمی نے (نظر اٹھا کر) دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے ہی انہیں اتار دیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْمَشْىِ فِي النَّعْلِ بَيْنَ الْقُبُورِ؛قبروں کے درمیان جوتا پہن کر چلنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٣٢٣٠)

بَابُ الْمَشْيِ فِي النَّعْلِ بَيْنَ الْقُبُورِ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، فَهَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا اسْمُكَ؟» قَالَ: زَحْمٌ، قَالَ: «بَلْ، أَنْتَ بَشِيرٌ»، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: «لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا» ثَلَاثًا ثُمَّ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: «لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا» وَحَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةٌ، فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ، فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ، وَيْحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ» فَنَظَرَ الرَّجُلُ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَهُمَا فَرَمَى بِهِمَا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3230

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس جانے لگتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب الْمَشْىِ فِي النَّعْلِ بَيْنَ الْقُبُورِ؛قبروں کے درمیان جوتا پہن کر چلنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٧؛حدیث نمبر؛٣٢٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3231

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:(غزوہ احد کے شہداء میں)میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا اس حوالے سے میرے ذہن میں کچھ الجھن تھی میں نے چھ ماہ کے بعد انہیں قبر سے نکالا تو ان کے جسم میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی سوائے ان کی داڑھی کے کچھ بالوں کے جو زمین سے لگے ہوئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَحْوِيلِ الْمَيِّتِ مِنْ مَوْضِعِهِ لِلأَمْرِ يَحْدُثُ؛کسی ضرورت سے مردے کو قبر سے نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٢)

بَابٌ فِي تَحْوِيلِ الْمَيِّتِ مِنْ مَوْضِعِهِ لِلْأَمْرِ يَحْدُثُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ، فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ، فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا، إِلَّا شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3232

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وجبت» ”واجب ہوگئی“ پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: «وجبت» ”واجب ہوگئی“ پھر فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛میت کی تعریف کرنا؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٣)

بَابٌ فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: «وَجَبَتْ» ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: «وَجَبَتْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاءُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3233

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لائے آپ خود بھی روئے اور اپنے اس پاس افراد کو بھی رولا دیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میں نے اپنے پروردگار سے ان کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے دے دی گئی،تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ؛قبروں کی زیارت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٤)

بَابٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيَسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى، وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي تَعَالَى عَلَى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَاسْتَأْذَنْتُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ بِالْمَوْتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3234

ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"پہلے میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ ان کی زیارت میں نصیحت ہوتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ؛قبروں کی زیارت کا بیان؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3235

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر جانے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں پر اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛ باب فِي زِيَارَةِ النِّسَاءِ الْقُبُورَ؛عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢١٨؛حدیث نمبر؛٣٢٣٦)

بَابٌ فِي زِيَارَةِ النِّسَاءِ الْقُبُورَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3236

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ(دعا)پڑھی(ترجمہ)اے مسلمانوں کی بستی کے رہنے والو!تم پر سلام ہو اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا زَارَ الْقُبُورَ أَوْ مَرَّ بِهَا؛قبروں کی زیارت کے وقت یا وہاں سے گزرتے وقت کی دعا کا بیان؟جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٣٧)

بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا زَارَ الْقُبُورَ أَوْ مَرَّ بِهَا حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ، فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3237

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جو سواری سے گر کر مر گیا تھا، وہ حالت احرام میں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کے دونوں کپڑوں (تہبند اور چادر) ہی میں دفناؤ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو، اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں: ۱- ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا۔ ۲- دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے۔ ۳- تیسرے یہ کہ اس (محرم) کا سر نہ ڈھانپو۔ ۴- چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ۔ ۵- پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؛محرم کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٣٨)

بَابُ الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ، فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ: «كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " خَمْسُ سُنَنٍ، كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ: أَيْ يُكَفَّنُ الْمَيِّتُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ: أَيْ إِنَّ فِي الْغَسْلَاتِ كُلِّهَا سِدْرًا، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، وَكَانَ الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ "،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3238

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: "اسے دو کپڑوں میں کفن دو" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے:"دو کپڑوں میں"ایک نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:فدو کپڑوں میں" ایک نے یہ نقل کی ہے:" اس کے دو کپڑوں میں"۔ صرف سلیمان نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:" تم اسے خوشبو نہ لگانا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؛محرم کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٣٩)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ قَالَ: وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ أَيُّوبُ: ثَوْبَيْهِ، وَقَالَ عَمْرٌ: وثَوْبَيْنِ، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: قَالَ أَيُّوبُ: فِي ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ عَمْرٌو: فِي ثَوْبَيْهِ، زَادَ سُلَيْمَانُ: وَحْدَهُ وَلَا تُحَنِّطُوهُ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3239

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے یعنی"دو کپڑوں میں" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؛محرم کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٤٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ فِي ثَوْبَيْنِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3240

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک محرم شخص سواری سے گر کر مر گیا اس(کی میت)کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا آپ نے فرمایا اسے غسل دو،اسے کفن دو، اس کے سر کو ڈھانپو،اسے خوشبو نہ لگاؤ،(قیامت کے دن)یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے زندہ ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجَنَائِزِ؛جنازے کے احکام و مسائل؛باب الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؛محرم کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٢١٩؛حدیث نمبر؛٣٢٤١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Janayiz, Hadees No. 3241

Abu Dawood Shareef : Kitabul Janayiz

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْجَنَائِزِ

|

•