
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائے گا وہ جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر جانے کے لیے تیار رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب التَّغْلِيظِ فِي الأَيْمَانِ الْفَاجِرَة؛جھوٹی قسم کھانے پر وعید کابیان؛جلد٣،ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٣٢٤٢)
حضرت عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا“۔حضرت اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں (جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہارے پاس گواہ ہیں؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: بے شک جو لوگ اللہ کے نام کی قسموں اور عہدوں کے عوض میں تھوڑی رقم حاصل کرتے ہیں"یہ آیت اخر تک ہے۔آل عمران: ۷۷) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لأَحَدٍ؛جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٢٠؛حدیث نمبر؛٣٢٤٣)
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تمہارے پاس «بیّنہ» (ثبوت اور دلیل) ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی، (یہ سن کر) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت) فرمایا: ”جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو وہ معذور ہوگا“ (یہ سنا تو) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لأَحَدٍ؛جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٣٢٤٤)
حضرت علقمہ بن وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے“ (جیسی وہ قسم کھا لے اسی کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا)، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول: وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ کچھ بھی ہو) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے (یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو)“ پھر وہ قسم کھانے چلا، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھا لی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ يَمِينًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً لأَحَدٍ؛جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٣٢٤٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص میرے اس ممبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا اگرچہ وہ ایک تازہ مسواک کے بارے میں کیوں نہ ہو تو اسے جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)اس کے لیے جہنم واجب ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي تَعْظِيمِ الْيَمِينِ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ممبر کے پاس قسم اٹھانے کا اہم ہونا؛جلد٣،ص٢٢١؛حدیث نمبر؛٣٢٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص قسم اٹھاتے ہوئے اپنی قسم میں یہ کہے:لات کی قسم!تو اسے لا الہ الا اللہ پڑھ لینا چاہیے اور جو شخص اپنے ساتھیوں سے یہ کہے کہ آؤ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں تو اسے صدقہ کرنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛4. باب الْحَلِفِ بِالأَنْدَادِ؛بتوں کے نام کی قسم اٹھانا؛جلد٣،ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٣٢٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اپنے باپ دادا کی اور اپنی ماؤں کی قسم نہ اٹھاؤ اور نہ ہی بتوں کی قسم اٹھاؤ قسم صرف اللہ کے نام کی اٹھاؤ اور اللہ کے نام کی قسم بھی تم اس وقت اٹھاؤ جب تم سچے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٣٢٤٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں؛حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ چند سواروں کے درمیان موجود تھے اور اپنے والد کے نام کی قسم اٹھا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے تمہیں اس بات سے منع کیا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم اٹھاؤ جس نے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ تعالی کے نام کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٣٢٤٩)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے سنا(امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں)اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)یعنی تمہارے باپ داداؤں،ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا بھولے سے کبھی بھی یہ قسم نہیں اٹھائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٢؛حدیث نمبر؛٣٢٥٠)
سعد بن عبیدہ بیان کرتے ہیں،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو یہ قسم اٹھاتے ہوئے دیکھا کعبہ کی قسم!تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:جو شخص اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھائے اس نے شرک کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٣٢٥١)
حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں (یہ حدیث ایک دیہاتی کے قصے سے متعلق ہے جس میں یہ الفاظ ہیں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کامیاب ہو گیا اس کے باپ کی قسم اگر اس نے ٹھیک کہا ہے یہ جنت میں داخل ہو گیا اس کے باپ کی قسم اگر اس نے ٹھیک کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ؛باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے؛جلد٣،ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٣٢٥٢)
حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس نے امانت سے متعلق قسم اٹھائی اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالأَمَانَةِ؛امانت کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٣٢٥٣)
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمین لغو یہ ہے کہ آدمی کا اپنے گھر میں کلام ہے یعنی اللہ کی قسم!ایسا نہیں ہے،اللہ کی قسم ایسا ہی ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو (مارنے سے پہلے) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب لَغْوِ الْيَمِينِ؛یمین لغو کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٣؛حدیث نمبر؛٣٢٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:تمہاری قسم سے وہ مفہوم مراد ہوگا جس کا تمہارا ساتھی تصدیق کرے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ بیان کرتے ہیں اس حدیث کے راوی عبداللہ بن ابو صالح اور عباد بن ابو صالح دونوں نام ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْمَعَارِيضِ فِي الْيَمِينِ؛ قسم میں ذومعنی جملہ استعمال کرنا؛جلد٣،ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٣٢٥٥)
حضرت سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے اور ہمارے ساتھ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا (لیکن) میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْمَعَارِيضِ فِي الْيَمِينِ؛ قسم میں ذومعنی جملہ استعمال کرنا؛جلد٣،ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٣٢٥٦)
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص اسلام کی بجائے کسی اور مذہب کی قسم اٹھائے اور وہ جھوٹی بھی ہو تو وہ شخص ایسا ہوگا جو اس نے کہا ہے اور جو شخص کسی چیز کے ذریعے خود کشی کر لے تو قیامت کے دن سے اسی چیز کے ذریعے عذاب دیا جائے گا اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو اس کے بارے میں کوئی نظر نہیں ہوتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْحَلِفِ بِالْبَرَاءَةِ وَبِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلاَمِ؛ اسلام سے بری ہونے یا اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٣٢٥٧)
حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص نے قسم اٹھاتے ہوئے یہ کہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹا ہو تو بھی وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا ہے اور اگر وہ سچا ہو تو وہ کبھی بھی سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہیں آسکے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْحَلِفِ بِالْبَرَاءَةِ وَبِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلاَمِ؛ اسلام سے بری ہونے یا اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٢٢٤؛حدیث نمبر؛٣٢٥٨)
یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے روٹی کے ٹکڑے کے اوپر کھجور رکھی اور فرمایا یہ اس کا سالن ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ أَنْ لاَ يَتَأَدَّمَ؛سالن نہ کھانے کی قسم کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٥٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ أَنْ لاَ يَتَأَدَّمَ؛سالن نہ کھانے کی قسم کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات پتہ چلی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور انشاء اللہ کہہ دے تو اس نے استثناء کر لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ؛قسم میں استثناء یعنی «إن شاء الله» کہہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص قسم اٹھائے اور استثناء کر لے تو اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اس سے رجوع کرے اور اگر چاہے تو اسے چھوڑ دے تو وہ قسم توڑنے والا نہیں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ؛قسم میں استثناء یعنی «إن شاء الله» کہہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان الفاظ میں قسم اٹھایا کرتے تھے"دلوں کو پھیرنے والی ذات کی قسم"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی"قسم"میں تاکید پیدا کرنی ہوتی تو یہ کہا کرتے تھے"اس ذات کی قسم!ابو القاسم کی جان جس کے دست قدرت میں ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟؛جلد٣،ص٢٢٥؛حدیث نمبر؛٣٢٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قسم اٹھانا ہوتی تھی تو یہ الفاظ کہتے تھے:"نہیں!میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں(اس کی قسم)"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٥)
حضرت لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ فدک کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت لقیط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں)اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث نقل کی جس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پروردگار کی قسم! (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قسم نہ دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا؛کیا لفظ"قسم"کے ذریعے"یمین"منعقد ہوجاتی ہے؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو“حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:میں آپ کی قسم دیتا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قسم مت دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا؛کیا لفظ"قسم"کے ذریعے"یمین"منعقد ہوجاتی ہے؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے تا ہم اس میں لفظ قسم کا ذکر نہیں ہے اور اس میں صرف یہ بات زائد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں،نہیں بتایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا؛کیا لفظ"قسم"کے ذریعے"یمین"منعقد ہوجاتی ہے؛جلد٣،ص٢٢٦؛حدیث نمبر؛٣٢٦٩)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بات چیت کیا کرتے تھے (جاتے وقت) کہہ گئے کہ میں واپس نہیں آ سکوں گا یہاں تک کہ تم اپنے مہمانوں کو کھلا پلا کر فارغ ہو جاؤ (یعنی میں دیر سے آ سکوں گا تم انہیں کھانا وغیرہ کھلا دینا) تو وہ (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ) ان کا کھانا لے کر آئے تو مہمان کہنے لگے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آئے بغیر نہیں کھائیں گے، پھر وہ آئے تو پوچھا: کیا ہوا تمہارے مہمانوں کا؟ تم کھانا کھلا کر فارغ ہو گئے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: میں ان کا کھانا لے کر ان کے پاس آیا مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا: قسم اللہ کی جب تک وہ (ابوبکر) نہیں آ جائیں گے ہم نہیں کھائیں گے، تو ان لوگوں نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ ہمارے پاس کھانا لے کر آئے تھے، لیکن ہم نے ہی انکار کر دیا کہ جب تک آپ نہیں آ جاتے ہیں ہم نہیں کھائیں گے، آپ نے کہا: کس چیز نے تمہیں کھانے سے روکا؟ انہوں نے کہا: آپ کے نہ ہونے نے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تو آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا، مہمانوں نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے کبھی نہ دیکھی، پھر کہا: کھانا لاؤ تو ان کا کھانا لا کر لگا دیا گیا تو انہوں نے «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کر دیا، مہمان بھی کھانے لگے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اطلاع دی گئی کہ صبح اٹھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور جو کچھ انہوں نے اور مہمانوں نے کیا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ سچے ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى الطَّعَامِ لاَ يَأْكُلُه؛کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٣٢٧٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں سالم کہتے ہیں مجھے یہ اطلاع نہیں ملی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ کے لیے کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى الطَّعَامِ لاَ يَأْكُلُهُ؛کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٣٢٧١)
حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں میں میراث کی تقسیم کا معاملہ تھا، ان میں کے ایک نے دوسرے سے میراث تقسیم کر دینے کے لیے کہا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبے کے خزانے میں جمع ہوجائےگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کعبہ تمہارے مال سے بےنیاز ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے کر اپنے بھائی سے (تقسیم میراث کی) بات چیت کرو (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”قسم اور نذر اللہ کی نافرمانی اور رشتہ توڑنے میں نہیں اور نہ اس مال میں ہے جس میں تمہیں اختیار نہیں (ایسی قسم اور نذر لغو ہے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ؛رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٧؛حدیث نمبر؛٣٢٧٢)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:نذر صرف اس چیز کے بارے میں ہوتی ہے جس میں اللہ کی رضا کا ارادہ کیا گیا ہو اور قطع رحمی کے بارے میں قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ؛رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٣٢٧٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول تمام روایات میں یہی مذکور ہے،آدمی اس قسم کا کفارہ دے،ماسوائے ان چیز کے جو عام سی ہو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پہلے کی تھی، پھر ترک کر دیا، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے، احمد کہتے ہیں: ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الْيَمِينِ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ؛رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٣٢٧٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے ثبوت طلب کیا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعا علیہ سے قسم لی اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی اور کہا اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے تم نے جو کیا تمہارے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھنے کی وجہ سے تمہاری مغفرت کر دی گئی۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ يَحْلِفُ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا؛جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانے والے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٨؛حدیث نمبر؛٣٢٧٥)
ابوبردہ نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:اللہ کی قسم!اگر اللہ نے چاہا تو میں نے جو بھی قسم اٹھائی اور پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر محسوس کیا تو میں اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہو،(راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں)وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ دوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب الرَّجُلِ يُكَفِّرُ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ؛قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٧٦)
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب الرَّجُلِ يُكَفِّرُ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ؛قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٧٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو پھر وہ کام کرو جو زیادہ بہتر ہو۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں؛اس بارے میں روایات حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ،حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ان سے منقول بعض روایات میں حانث ہونے کا ذکر کفارے سے پہلے ہے اور بعض میں کفارے کا ذکر حانث ہونے سے پہلے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب الرَّجُلِ يُكَفِّرُ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ؛قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٧٨)
حضرت عبدالرحمٰن بن حرملہ کہتے ہیں کہ حضرت ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ رضی اللہ عنہاقبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں پھر وہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں، آپ نے ہم کو ایک صاع ہبہ کیا، اور ہم سے بیان کیا کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے سے روایت ہے، اور انہوں نے ام المؤمنین صفیہ سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین کہتی ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو جانچا یا کہا میں نے اس کا اندازہ کیا تو ہشام بن عبدالملک کے مد سے دو مد اور آدھے مد کے برابر پایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ؛قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٧٩)
ابو عمر کہتے ہیں ہمارے پاس مکوک تھا جس کو "خالد کا مکوک"کہا جاتا تھا، جبکہ"کیلجہ"(نامی پیمانہ)ہارون کا تھا،محمد نامی راوی کہتے ہیں:خالد کا صاع، ہشام بن عبد الملک کا صاع تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ؛قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٨٠)
امیہ بن خالد کہتے ہیں جب خالد قسری کو والی بنایا گیا تو اس نے صاع کو کم کردیا، تو ایک صاع سولہ رطل کا ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن محمد بن خلاد کو حبشیوں نے سامنے کھڑا کر کے قتل کر دیا تھا انہوں نے ہاتھ سے بتایا کہ اس طرح (یہ کہہ کر) ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے باطن کو زمین کی طرف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے جنت میں داخل فرما دیا، تو میں نے کہا: پھر تو آپ کو حبشیوں کے سامنے کھڑا کر کے قتل کئے جانے سے کچھ نقصان نہ پہنچا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب كَمِ الصَّاعُ فِي الْكَفَّارَةِ؛قسم کے کفارہ میں کون سا صاع معتبر ہے؟؛جلد٣،ص٢٢٩؛حدیث نمبر؛٣٢٨١)
حضرت معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو میری یہ بات بہت بری لگی، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آؤ“ میں اسے لے کر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ؛مؤمن غلام یا کنیز؛جلد٣،ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٣٢٨٢)
ابو سلمہ،شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ (حبش کے پاس ایک ریاست ہے) کی ایک کالی لونڈی ہے۔۔۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ؛مؤمن غلام یا کنیز؛جلد٣،ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٣٢٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (لونڈی) سے پوچھا: ”ﷲ کہاں ہے؟“ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی آسمان میں ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی (یہ کہا) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لونڈی لے کر آنے والے شخص سے) کہا: ”اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ؛مؤمن غلام یا کنیز؛جلد٣،ص٢٣٠؛حدیث نمبر؛٣٢٨٤)
حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا“ پھر کہا: ”ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا)“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ”پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ بَعْدَ السُّكُوتِ؛قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٣٢٨٥)
عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا“، پھر فرمایا: ”ان شاءاللہ“ پھر فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ان شاءاللہ“ پھر فرمایا: ”قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا“ پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا: ”ان شاءاللہ“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ بَعْدَ السُّكُوتِ؛قسم کھا کر خاموش ہو جانے کے بعد ان شاءاللہ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٣٢٨٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کر دیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے ہیں: نذر کسی چیز(یعنی مصیبت)کو واپس نہیں کرتی اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے۔ مسدد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں نذر کسی چیز(یعنی مصیبت)کو واپس نہیں کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ النَّذْرِ؛نذر کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٣١؛حدیث نمبر؛٣٢٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ کہتا ہے:) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو لیکن نذر اسے اس تقدیر سے ملاتی ہے جسے میں نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، یہ بخیل سے وہ چیز نکال لیتی ہے جسے وہ اس نذر سے پہلے نہیں نکالتا ہے (یعنی اپنی بخالت کے سبب صدقہ خیرات نہیں کرتا ہے مگر نذر کی وجہ سے کر ڈالتا ہے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ النَّذْرِ؛نذر کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٣٢٨٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اس بات کی نذر مانے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اس کی اطاعت کرنی چاہیے اور جو یہ نذر مانے کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرے گا تو اسے اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي النَّذْرِ فِي الْمَعْصِيَةِ؛معصیت (گناہ) کی نذر کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٣٢٨٩)
Abu Daud Sharif Kitabul Imane Wan Nojore Hadees No# 3290
اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن شبویہ کو کہتے سنا: ابن مبارک نے کہا ہے (یعنی اس حدیث کے بارے میں) کہ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ زہری نے اسے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق وہ روایت کر رہی ہے جسے ہم سے ایوب یعنی ابن سلیمان نے بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اس حدیث کو ہم پر خراب کر دیا ہے ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کے نزدیک اس حدیث کا خراب ہونا صحیح ہے؟ اور کیا ابن اویس کے علاوہ کسی اور نے بھی اسے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایوب یعنی ایوب بن سلیمان بن بلال ان سے قوی و بہتر راوی ہیں اور اسے ایوب نے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٣٢٩١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اور عمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٢؛حدیث نمبر؛٣٢٩٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ پیدل حج کرے گی اور سر پر کوئی چیز نہیں لے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ سر پر چادر لے اور سواری پر سوار ہو اورتین دن کے روزے رکھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٣؛حدیث نمبر؛٣٢٩٣)
عبدالرزاق کہتے ہیں: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٣؛حدیث نمبر؛٣٢٩٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ!میری بہن نے یہ نذر مانی ہے(کہ وہ پیدل حج کے لیے جائے گی)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی تمہاری بہن کے مشقت کا شکار ہونے کا کوئی اجر نہیں دے گا اسے سوار ہو کر حج کرنا چاہیے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کے لیے جائے گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا:اس سے کہو کہ وہ سوار ہوجائے،اور جانور قربان کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ پتہ چلا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کے لیے جائے گی تو آپ نے فرمایا: "اللہ تعالی اس کی نذر سے بے نیاز ہے تم اس سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے۔" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:تم اپنی بہن سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٨)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میری بہن نے یہ نذر مانی کہ وہ پیدل بیت اللہ تک جائے گی اس نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کروں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٤؛حدیث نمبر؛٣٢٩٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان (سہارا لے کر) چلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے (خانہ کعبہ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے“ آپ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ابی عمرو نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کے ناک میں رسی ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی رسی کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے یہ نذر مانی کہ وہ پیدل چل کے حج کرے گی حالانکہ وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی تمہارے بہن کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے اسے سوار ہو جانا چاہیے اور قربانی کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠٣)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی:میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل چل کے جانے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی تمہاری بہن کے بیت اللہ تک پیدل جانے پر کچھ نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ رَأَى عَلَيْهِ كَفَّارَةً إِذَا كَانَ فِي مَعْصِيَةٍ؛جن کے نزدیک ایسے شخص پر کفارہ لازم ہوگا جبکہ نذر معصیت سے متعلق ہو؛جلد٣،ص٢٣٥؛حدیث نمبر؛٣٣٠٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہیں پڑھ لو“ (یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے)، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”یہیں پڑھ لو“ پھر اس نے (سہ بارہ) وہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تمہاری مرضی (چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ)“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی:میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل چل کے جانے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی تمہاری بہن کے بیت اللہ تک پیدل جانے پر کچھ نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؛بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر ماننے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٣٣٠٥)
حضرت عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں (یعنی مسجد الحرام میں) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا“ (وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؛بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر ماننے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٣٣٠٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی جانب سے پوری کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ؛میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٣٣٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آ گئی، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مسئلہ پوچھنے) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ؛میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٦؛حدیث نمبر؛٣٣٠٨)
حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہیں تمہارا اجر لازم ہوگیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی“ اس نے کہا: وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا، پھر عمرو (عمرو بن عون) کی حدیث (نمبر ۳۳۰۸) کی طرح ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛ باب فِي قَضَاءِ النَّذْرِ عَنِ الْمَيِّتِ؛میت کی طرف سے نذر پوری کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٣٣٠٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ؛مرنے والے کے باقی روزے اس کا ولی پورا کرے؛جلد٣،ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٣٣١٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے جو شخص مر جائے اور اس کے ذمے روزے لازم ہو تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ؛مرنے والے کے باقی روزے اس کا ولی پورا کرے؛جلد٣،ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٣٣١١)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بجا کر) اپنی نذر پوری کر لو“ اس نے کہا: میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر (بھی) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کسی صنم (بت) کے لیے؟“ اس نے کہا: نہیں، پوچھا: ”کسی دوسرے وثن (بت) کے لیے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر کو پوری کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا؛جلد٣،ص٢٣٧؛حدیث نمبر؛٣٣١٢)
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک جگہ کا نام ہے) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو کیونکہ اللہ تعالی کی نافرمانی سے متعلق نظر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور اس نظر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی جو ایسی چیز کے بارے میں ہو جس کا انسان مالک نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر کو پوری کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا؛جلد٣،ص٢٣٨؛حدیث نمبر؛٣٣١٣)
حضرت میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے پوری توجہ سے آپ کو دیکھا، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس درہ تھا جس طرح مدرسہ کے معلمین کے پاس ہوتا ہے، میں نے دیہاتیوں کے شور و غوغا کی آوازیں سنیں،تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور (جا کر) آپ کے قدم پکڑ لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو“ انہوں نے (بکریاں) اکٹھا کیں، اور انہیں ذبح کرنے لگے، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر کو پوری کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا؛جلد٣،ص٢٣٨؛حدیث نمبر؛٣٣١٤)
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں؛تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہاں کوئی بت ہے؟ یا وہاں زمانے جاہلیت میں کوئی عید ہوتی تھی؟ انہوں نے عرض کی:جی نہیں،میں نے دریافت کیا:میری والدہ کے ذمے پر پیدل چلنے کی نظر تھی تو کیا میں اسے پورا کر دوں؟ بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:کیا ہم اسے پورا کر دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:جی ہاں! (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر کو پوری کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا؛جلد٣،ص٢٣٨؛حدیث نمبر؛٣٣١٥)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عضباء(نامی اونٹنی)بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اس نے کہا: محمد! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی (عضباء) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے“۔ راوی کہتے ہیں: ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے (آپ نے کوئی جواب نہیں دیا) تو اس نے پکارا: اے محمد! اے محمد! عمران کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے، اس کے پاس لوٹ آئے، اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم یہ کہتے ہو تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو(یعنی ازاد ہو)اور تم ہر طرح کی کامیابی حاصل کر لو گے“ اس نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”یہ تمہاری ضرورت کی چیزیں ہیں(یعنی تمہارے کھانے پینے کی چیزیں ہیں)پھر اس کے بعد ان دو آدمیوں کے عوض میں اس شخص کو فدیہ کے طور پر دیا گیا“۔ راوی کہتے ہیں: اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا (یعنی واپس نہیں کیا)۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں آرام کے لیے چھوڑ دیتے، ایک رات وہ سب سو گئے، تو عورت (نکل بھاگنے کے ارادہ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ نے اسے بلوایا، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنا برا ہے جو تم نے اسے(اونٹنی کو) بدلہ دینا چاہا، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عورت ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ؛جو چیز آدمی کی ملکیت میں نہ ہو اس کے بارے میں نذر ماننا؛جلد٣،ص٢٣٩؛حدیث نمبر؛٣٣١٦)
حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے یہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے وہ صاحبزادے ہیں جب حضرت کعب نابینا ہو گئے تھے تو یہ انہیں ساتھ لے کر چلا کرتے تھے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے“ تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٣٣١٧)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی جب توبہ قبول ہوئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی میں اپنے مال سے لا تعلق ہوتا ہوں(اس کے بعد حسب سابق روایت ہے، جو ان الفاظ تک ہے)تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٣٣١٨)
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنی قوم کے اس محلے سے بھی لاتعلق ہو جاؤں جہاں میں نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا اور میں اپنی ساری زمین صدقہ کر دوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک تہائی تمہارے لیے جائز ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٣٣١٩)
یہی روایات بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہیں تاہم اس میں حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٠؛حدیث نمبر؛٣٣٢٠)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ؛جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٣٣٢١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غیر نامزد(جسے اس نے متعین نہ کیا ہو)نذر مانے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو کسی گناہ کی نذر مانے تو اس کا (بھی) کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے پوری کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، اور جو کوئی ایسی نذر مانے جسے وہ پوری کر سکتا ہو تو وہ اسے پوری کرے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع وغیرہ نے اس حدیث کو عبداللہ بن سعید (بن ابوہند) سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لاَ يُطِيقُهُ؛جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٣٣٢٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں عمرو بن حارث نے اسے کعب بن علقمہ کے حوالے سے ابن شماسہ کے حوالے سے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ:غیر معین نذر ماننے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤١؛حدیث نمبر؛٣٣٢٣)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند حدیث نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ:غیر معین نذر ماننے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٣٣٢٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل؛باب مَنْ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَدْرَكَ الإِسْلاَمَ؛زمانہ جاہلیت میں نذر مانی پھر مسلمان ہو گیا تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٢٤٢؛حدیث نمبر؛٣٣٢٥)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Imane Wan Nojore
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ
|
•