asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Abwabul Ijarah

From 3416 to 3871

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیتہً دی، میں نے (جی میں) کہا یہ کوئی مال تو ہے نہیں، اس سے میں فی سبیل اللہ تیر اندازی کا کام لوں گا (پھر بھی) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ سے اس بارے میں پوچھوں گا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جن لوگوں کو قرآن پڑھنا لکھنا سکھا رہا تھا، ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی ہے، اور اس کی کچھ مالیت تو ہے نہیں، میں اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں پسند ہو کہ تمہیں آگ کا طوق پہنایا جائے تو اس کمان کو قبول کر لو۔‌‌‌‏“ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الْمُعَلِّمِ؛معلم (مدرس) کو تعلیم کی اجرت لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٦٤؛حدیث نمبر؛٣٤١٦)

أَبْوَابُ الْإِجَارَةِ فِي كَسْبِ الْمُعَلِّمِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ، وَالْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3416

Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3417

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ - قَالَ عَمْرٌو: وحَدَّثَنِي - عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، فَقُلْتُ: مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا» أَوْ «تَعَلَّقْتَهَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3417

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے پاس وہ لوگ جا کر ٹھہرے اور ان سے مہمان نوازی طلب کی تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا وہ پھر اس قبیلے کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ (ڈنک مار دیا)لیا، انہوں نے ہر چیز سے علاج کیا لیکن اسے کسی چیز سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا، تب ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس آتے جو تمہارے یہاں آ کر قیام پذیر ہیں، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو جو تمہارے ساتھی کو فائدہ پہنچائے (وہ آئے) اور ان میں سے ایک نے کہا: ہمارا سردار ڈس لیا گیا ہے ہم نے اس کی شفایابی کے لیے ہر طرح کی دوا کر لی لیکن کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے رہی ہے، تو کیا تم میں سے کسی کو کوئی دم کرنے آتا ہے جو ہمارے (ساتھی کو شفاء دے)؟ تو اس جماعت میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں، میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں، لیکن بھائی بات یہ ہے کہ ہم نے چاہا کہ تم ہمیں اپنا مہمان بنا لو لیکن تم نے ہمیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا، تو اب جب تک اس کا معاوضہ طے نہ کر دو میں جھاڑ پھونک کرنے والا نہیں، انہوں نے بکریوں کا ایک گلہ دینے کا وعدہ کیا تو وہ (صحابی) سردار کے پاس آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ شفایاب ہو گیا، گویا وہ رسی کی گرہ سے آزاد ہو گیا، تو ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ پوری پوری دے دی، تو صحابہ نے کہا: لاؤ اسے تقسیم کر لیں، تو اس شخص نے جس نے دم کیا تھا کہا: نہیں ابھی نہ کرو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے پوچھ لیں تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے پورا واقعہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیسے جانا کہ اس کا دم ہوتا ہے؟ تم نے اچھا کیا، اپنے ساتھ تم میرا بھی ایک حصہ لگانا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الأَطِبَّاءِ؛طبیبوں کی کمائی کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٥؛حدیث نمبر؛٣٤١٨)

بَابٌ فِي كَسْبِ الْأَطِبَّاءِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا فَنَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، قَالَ: فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَيِّ فَشَفَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَكُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ فَشَفَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، فَلَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ يَشْفِي صَاحِبَنَا؟، يَعْنِي رُقْيَةً، فَقَالَ رَجُلٌ: مِنَ الْقَوْمِ إِنِّي لَأَرْقِي وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا مَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ، فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَيَتْفِلُ حَتَّى بَرِئَ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَأَوْفَاهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُ عَلَيْهِ، فَقَالُوا: اقْتَسِمُوا، فَقَالَ الَّذِي رَقَى: لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْتَأْمِرَهُ، فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ عَلِمْتُمْ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ أَحْسَنْتُمْ وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3418

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الأَطِبَّاءِ؛طبیبوں کی کمائی کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٥؛حدیث نمبر؛٣٤١٩)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3419

خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ تم ان صاحب(یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو (منہ میں) لعاب جمع کرتے پھر وہ لعاب اس پر ڈال دیتے، پھر وہ شخص ایسا ہو گیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھاؤ، قسم ہے (یعنی اس ذات کی جس کے اختیار میں میری زندگی ہے) لوگ باطل دم کر کے کھاتے ہیں اور تم حق دم کر کے کھا رہے ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الأَطِبَّاءِ؛طبیبوں کی کمائی کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٠)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ فَأَتَوْهُ، فَقَالُوا: إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، فَارْقِ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ فَأَتَوْهُ بِرَجُلٍ مَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، فَرَقَاهُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، وَكُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ، ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ، لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3420

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:پچھنے لگانے والے کی آمدن حرام ہے،کتے کی قیمت حرام ہے اور فاحشہ عورت کی آمدن حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ؛پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢١)

بَابٌ فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3421

ابن محیصہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگانے والے کے معاوضے کے بارے میں اجازت لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا وہ مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کرتے رہے اور ان سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس کی آمدن کو اپنے اونٹ کو کھلا دے یا غلام کو کھلا دے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ؛پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ «فَنَهَاهُ عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ، حَتَّى أَمَرَهُ أَنْ أَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَرَقِيقَكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3422

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے،آپ نے پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ ادا کیا اگر آپ کو یہ علم ہوتا کہ یہ حرام ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے یہ نہ دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ؛پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3423

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجوروں کا ایک صاع دینے کا حکم دیا آپ نے اس کے اقا کو یہ ہدایت دی کہ وہ اس کے خراج میں تخفیف کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ؛پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3424

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیزوں کی کمائی سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ؛لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٦٦؛حدیث نمبر؛٣٤٢٥)

بَابٌ فِي كَسْبِ الْإِمَاءِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3425

طارق بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں حضرت رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی (زنا کی کمائی) سے منع فرمایا سوائے اس کمائی کے جو اس نے ہاتھ سے محنت کر کے کمائی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا،سوت کاتنا، روئی دھننا، جیسے کام۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ؛لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٢٦)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: جَاءَ رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: لَقَدْ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ، فَذَكَرَ أَشْيَاءَ " وَنَهَى عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا، وَقَالَ: هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخَبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3426

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز کی آمدنی سے منع کیا ہے جب تک یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کمائی کہاں سے آتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي كَسْبِ الإِمَاءِ؛لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٢٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3427

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے کتے کی قیمت،فاحشہ عورت کی آمدنی اور کاہن کے نذرانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي حُلْوَانِ الْكَاهِنِ؛کاہن اور نجومی کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٢٨)

بَابٌ فِي حُلْوَانِ الْكَاهِنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ: «عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3428

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر جانور کو جفتی کے لیے معاوضے کے عوض میں دینے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عَسْبِ الْفَحْلِ؛نر سے جفتی کرانے کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٢٩)

بَابٌ فِي عَسْبِ الْفَحْلِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3429

ابوماجدہ کہتے ہیں میں نے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، یا میرا کان کاٹ لیا گیا، (یہ شک راوی کو ہوا ہے)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے علاقے میں حج کے ارادے سے آئے، ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، تو انہوں نے ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ معاملہ تو قصاص تک پہنچ گیا ہے، کسی حجام (پچھنا لگانے والے) کو میرے پاس بلا کر لاؤ تاکہ وہ اس سے (جس نے کان کاٹا ہے) قصاص لے، پھر جب حجام (پچھنا لگانے والا) بلا کر لایا گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام ہبہ کیا اور میں نے امید کی کہ انہیں اس غلام سے برکت ہو گی تو میں نے ان سے کہا کہ اس غلام کو کسی حجام (پچھنہ لگانے والے)، سنار اور قصاب کے حوالے نہ کر دینا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالاعلی نے اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابن ماجدہ بنو سہم کے ایک فرد ہیں اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّائِغِ؛سنار (جوہری) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٧؛حدیث نمبر؛٣٤٣٠)

بَابٌ فِي الصَّائِغِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، قَالَ: قَطَعْتُ مِنْ أُذُنِ غُلَامٍ، أَوْ قُطِعَ مِنْ أُذُنِي فَقَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ حَاجًّا فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ فَرَفَعَنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ هَذَا قَدْ بَلَغَ الْقِصَاصَ ادْعُوا لِي حَجَّامًا لِيَقْتَصَّ مِنْهُ فَلَمَّا دُعِيَ الْحَجَّامُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنِّي وَهَبْتُ لِخَالَتِي غُلَامًا، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَارَكَ لَهَا فِيهِ، فَقُلْتُ لَهَا: «لَا تُسَلِّمِيهِ حَجَّامًا وَلَا صَائِغًا وَلَا قَصَّابًا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ ابْنُ مَاجِدَةَ، رَجُلٌ مَنْ بَنِي سَهْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3430

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الصَّائِغِ؛سنار (جوہری) کا بیان؛جلد٣،ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٣٤٣١)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيِّ، عَنِ ابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3431

Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3432

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيُّ، عَنِ ابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3432

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگا لے، (ایسے ہی) جس نے تابیر (اصلاح) کئے ہوئے (گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہو گا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے (کہ پھل میں لوں گا)“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعَبْدِ يُبَاعُ وَلَهُ مَالٌ؛بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٣٤٣٣)

بَابٌ فِي الْعَبْدِ يُبَاعُ وَلَهُ مَالٌ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3433

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کا واقعہ نقل کرتے ہیں، جبکہ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور والا مسئلہ نقل کیا ہے، امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں زہری اور نافع نے چار روایات میں اختلاف کیا ہے یہ ان میں سے ایک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعَبْدِ يُبَاعُ وَلَهُ مَالٌ؛بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٣٤٣٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِصَّةِ الْعَبْدِ. وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِصَّةِ النَّخْلِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَاخْتَلَفَ الزُّهْرِيُّ، وَنَافِعٌ، فِي أَرْبَعَةِ أَحَادِيثَ هَذَا أَحَدُهَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3434

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کوئی غلام فروخت کرے اور اس غلام کا کوئی مال ہو تو وہ مال فروخت کرنے والے کو ملے گا البتہ اگر خرید دار نے شرط عائد کی ہو(توحکم مختلف ہوگا)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعَبْدِ يُبَاعُ وَلَهُ مَالٌ؛بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٦٨؛حدیث نمبر؛٣٤٣٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3435

Abu Daud Sharif Kitabul Abwabul Ijarah Hadees No# 3436

بَابٌ فِي التَّلَقِّي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تَلَقَّوُا السِّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الْأَسْوَاقَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3436

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کر لینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر (ارزاں) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے (کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے)۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ (خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّلَقِّي؛(سوداگروں سے،منڈی سے باہر)ملاقات کرنا؛جلد٣،ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٣٤٣٧)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ، فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ فَاشْتَرَاهُ، فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ»، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ: يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ: " لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ أَنْ، يَقُولَ: إِنَّ عِنْدِي خَيْرًا مِنْهُ بِعَشَرَةٍ "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3437

Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3438

بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ النَّجْشِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنَاجَشُوا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3438

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ شہری شخص دیہاتی کے لیے کوئی چیز فروخت کرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا:شہری شخص کے دیہاتی کے لیے فروخت کرنے سے مراد کیا ہے انہوں نے فرمایا یہ کہ وہ اس کا ایجنٹ بن جائے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ؛شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٣٤٣٩)

بَابٌ فِي النَّهْيِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ» فَقُلْتُ: مَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ قَالَ: «لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3439

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت نہ کرے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے (مفہوم یہ ہے کہ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے (یہ ممانعت دونوں کو عام ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ؛شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٦٩؛حدیث نمبر؛٣٤٤٠)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الزِّبْرِقَانِ أَبَا هَمَّامٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ زُهَيْرٌ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ، أَوْ أَبَاهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت حَفْصَ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ يُقَالُ: لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَهِيَ كَلِمَةٌ جَامِعَةٌ لَا يَبِيعُ لَهُ شَيْئًا، وَلَا يَبْتَاعُ لَهُ شَيْئًا "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3440

سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھ والی اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا ایجنٹ بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ؛شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٣٤٤١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، قَدِمَ بِحَلُوبَةٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ فَانْظُرْ مَنْ يُبَايِعُكَ، فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3441

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت نہ کرے تم لوگوں کو(ان کے حال پر)چھوڑ دو اللہ تعالی انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کر دے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ؛شہری دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٣٤٤٢)

حَدَّثَنَا عُبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَذَرُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3442

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر نہ ملو(منڈی سے باہر راستے میں)، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اور اونٹ و بکری کا تصریہ نہ کرو جس نے کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدی تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے، چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو پسند کر کے اسے واپس کر دے، اور ساتھ میں ایک صاع کھجور دیدے“۔ (تصریہ؛تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو تصریہ کہتے ہیں تا کہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا؛جو شخص"تصریہ"والے جانور کو(غلطی سے)خرید لے اور پھر اسے ناپسند کرے؛جلد٣،ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٣٤٤٣)

بَابُ مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا، وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3443

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص تصریہ والی کوئی بکری خرید لیتا ہے تو تین دن تک اسے اس کو واپس کر دے ساتھ میں اناج کا ایک صاع دے،جو عمدہ قسم کی گندم نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا؛جو شخص"تصریہ"والے جانور کو(غلطی سے)خرید لے اور پھر اسے ناپسند کرے؛جلد٣،ص٢٧٠؛حدیث نمبر؛٣٤٤٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٌ، وَحَبِيبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا، وَصَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3444

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص تصریہ والی بکری خرید کر پھر اس کا دودھ دوہ لے تو اگر بعد میں وہ راضی ہو تو اسے اپنے پاس رکھے اگر پسند نہ کرے تو اس نے جو دودھ دوہ لیا تھا اس کے عوض میں کھجور کا ایک صاع دے دے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا؛جو شخص"تصریہ"والے جانور کو(غلطی سے)خرید لے اور پھر اسے ناپسند کرے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَخْلَدٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً، احْتَلَبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3445

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جس نے محفلہ جانور خریدا،تین دن تک اسے اختیار ہوگا اگر وہ چاہے تو اسے واپس کر دے اور اس کے ہمراہ اس کے دودھ کی مانند(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)اس سے دوگنی گندم بھی واپس کرے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَكَرِهَهَا؛جو شخص"تصریہ"والے جانور کو(غلطی سے)خرید لے اور پھر اسے ناپسند کرے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَ، أَوْ مِثْلَيْ لَبَنِهَا قَمْحًا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3446

حضرت معمر بن ابو معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احتکار (ذخیرہ اندوزی) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو“۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ (یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہو گا) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرنے والا وہ ہے جو بازار سے متعلق ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْحُكْرَةِ؛ذخیرہ اندوزی منع ہے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٧)

بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الحُكْرَةِ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ، أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ» فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: «فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ»، قَالَ وَمَعْمَرٌ: «كَانَ يَحْتَكِرُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ مَا الْحُكْرَةُ، قَالَ: «مَا فِيهِ عَيْشُ النَّاسِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " الْمُحْتَكِرُ: مَنْ يَعْتَرِضُ السُّوقَ "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3447

قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار (ذخیرہ اندودزی) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے (کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان (ابن سعید ثوری) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو (کوئی حرج نہیں ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْحُكْرَةِ؛ذخیرہ اندوزی منع ہے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَيَّاضِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: «لَيْسَ فِي التَّمْرِ حُكْرَةٌ»، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قَالَ: عَنِ الْحَسَنِ، فَقُلْنَا لَهُ: «لَا تَقُلْ عَنِ الْحَسَنِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَنَا بَاطِلٌ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَحْتَكِرُ النَّوَى، وَالْخَبَطَ وَالْبِزْرَ» وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ يُونُسَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ سُفْيَانَ، عَنْ كَبْسِ الْقَتِّ فَقَالَ: «كَانُوا يَكْرَهُونَ الْحُكْرَةَ» وَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ فَقَالَ: «اكْبِسْهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3448

علقمہ بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ مسلمانوں میں رائج سکے کو توڑ دیا جائے،البتہ اگر انتہائی ضرورت ہو تو(حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي كَسْرِ الدَّرَاهِمِ؛(بلاضرورت) درہم (چاندی کا سکہ) توڑنا (اور پگھلانا) منع ہے؛جلد٣،ص٢٧١؛حدیث نمبر؛٣٤٤٩)

بَابٌ فِي كَسْرِ الدَّرَاهِمِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ فَضَاءٍ-، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُكْسَرَ سِكَّةُ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةُ بَيْنَهُمْ إِلَّا مِنْ بَأْسٍ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3849

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص آیا اس نے عرض کی یا رسول اللہ!(بازار میں)چیزوں کے نرخ مقرر کر دیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی نہیں بلکہ میں دعا کر دیتا ہوں پھر ایک اور شخص آیا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ نرخ مقرر کر دیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی نہیں بلکہ اللہ تعالی (چیزوں کی قیمتوں کو)گھٹاتا اور بڑھاتا ہے مجھے یہ امید ہے کہ جب میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گا تو کوئی بھی شخص میری طرف سے ظلم کا دعوی دار نہیں ہوگا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْعِيرِ؛نرخ مقرر کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥٠)

بَابٌ فِي التَّسْعِيرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بِلَالٍ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ، فَقَالَ: «بَلْ أَدْعُو» ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ، فَقَالَ: «بَلِ اللَّهُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3450

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ چیزوں کے نرخ مہنگے ہو گئے ہیں آپ ہمارے لیے نرخ مقرر کر دے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی نرخ مقرر کرنے والا ہے وہ تنگی کرنے والا اور وسعت دینے والا ہے، رزق عطا کرنے والا ہے،مجھے یہ امید ہے کہ میں ایسی حالت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گا کہ تم میں سے کوئی بھی شخص جان یا مال کے حوالے سے مجھ سے زیادتی کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْعِيرِ؛نرخ مقرر کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَقَتَادَةُ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3451

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: ”کیسے بیچتے ہو؟“ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ (کے ڈھیر) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر (گیلا) تھا تو آپ نے فرمایا: ”جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے)“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْغِشِّ؛خرید و فروخت میں فریب اور دھوکہ دھڑی منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥٢)

بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْغِشِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَسَأَلَهُ كَيْفَ تَبِيعُ؟ فَأَخْبَرَهُ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3452

یحیی بیان کرتے ہیں؛سفیان اس وضاحت کو ناپسند کرتے تھے"وہ ہم میں سے نہیں" سے مراد"وہ ہماری مانند نہیں"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْغِشِّ؛خرید و فروخت میں فریب اور دھوکہ دھڑی منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥٣)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ، يَكْرَهُ هَذَا التَّفْسِيرَ «لَيْسَ مِنَّا» لَيْسَ مِثْلَنَا

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3453

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:خرید و فروخت کرنے والوں کو سودا ختم کرنے کا اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہیں ہو جاتے البتہ اگر بیع خیار ہو تو حکم مختلف ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٢؛حدیث نمبر؛٣٤٥٤)

بَابٌ فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3454

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں:یا پھر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے یہ کہہ دے:تم اختیار کر لو" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: " أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اخْتَرْ "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3455

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دونوں جب تک جدا نہ ہوں معاملہ ختم کر دینے کا اختیار رکھتے ہیں، مگر جب بیع خیار ہو، (تو جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے) بائع و مشتری کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ وہ اس اندیشے کے تحت اپنے ساتھی سے جدا ہو جائے کہ وہ سودا ختم ہو سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3456

ابو وضی کہتے ہیں ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ (بیچنے والا) اٹھا اور (اپنے) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی (زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کر لیا) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں (وہ جو فیصلہ کر دیں ہم مان لیں گے) وہ دونوں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت ابوبرزہ لشکر کے ایک جانب (پڑاؤ) میں تھے، ان دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”دونوں خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کر دینے کا اختیار ہے، جب تک کہ وہ دونوں (ایک مجلس سے) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہو جائیں“۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَةً لَنَا، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا بِغُلَامٍ، ثُمَّ أَقَامَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا فَلَمَّا أَصْبَحَا مِنَ الْغَدِ حَضَرَ الرَّحِيلُ، فَقَامَ إِلَى فَرَسِهِ يُسْرِجُهُ فَنَدِمَ، فَأَتَى الرَّجُلَ وَأَخَذَهُ بِالْبَيْعِ فَأَبَى الرَّجُلُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيَا أَبَا بَرْزَةَ فِي نَاحِيَةِ الْعَسْكَرِ فَقَالَا لَهُ: هَذِهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا»، قَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: حَدَّثَ جَمِيلٌ أَنَّهُ، قَالَ: مَا أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3457

یحییٰ بن ایوب بیان کرتے ہیں ابوزرعہ جب کسی شخص کے ساتھ کوئی سودا کرتے تھے تو اسے اختیار دیتے تھے پھر وہ یہ فرماتے تھے تم مجھے بھی اختیار دو پھر وہ یہ بیان کرتے تھے میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "دو آدمی باہمی رضا مندی کے بغیر ایک دوسرے سے جدا نہ ہو" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، قَالَ: مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: كَانَ أَبُو زُرْعَةَ إِذَا بَايَعَ رَجُلًا خَيَّرَهُ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: خَيِّرْنِي، وَيَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْتَرِقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3458

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کر دیں تو دونوں کے اس خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کر دی جائے گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوں، یا دونوں تین مرتبہ اختیار کی شرط نہ کر لیں“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي خِيَارِ الْمُتَبَايِعَيْنِ؛بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٥٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتِ الْبَرَكَةُ مِنْ بَيْعِهِمَا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَحَمَّادٌ، وَأَمَّا هَمَّامٌ، فَقَالَ: «حَتَّى يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَخْتَارَا» ثَلَاثَ مِرَارٍ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3459

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کسی مسلمان کے ساتھ اقالہ کر لے اللہ تعالی اس کی لغزشوں سے درگزر کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ الإِقَالَةِ؛اقالہ کی فضیلت؛جلد٣،ص٢٧٣؛حدیث نمبر؛٣٤٦٠)

بَابٌ فِي فَضْلِ الْإِقَالَةِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3460

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص ایک ہی سودے میں دو سودا کرے گا تو یا تو اس کے حصے میں کم قیمت آئے گی یا پھر سود ائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ؛ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت؛جلد٣،ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٣٤٦١)

بَابٌ فِيمَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ، فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3461

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم بیع عینہ کرو گے اور تم بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی سے مطمئن ہو جاؤ گے اور جہاد ترک کر دو گے تو اللہ تعالی تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو کسی بھی صورت میں زائل نہیں ہوگی جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہیں آجاتے۔" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت جعفر کی نقل کردہ ہے اور یہ الفاظ بھی اسی کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْعِينَةِ؛بیع عینہ منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٤؛حدیث نمبر؛٣٤٦٢)

بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ العِينَةِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ح وحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ إِسْحَاقَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «الْإِخْبَارُ لِجَعْفَرٍ وَهَذَا لَفْظُهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3462

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ کھجوروں میں ایک،ایک دو،دو تین،تین سال تک کے لیے بیع سلف کر لیتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کھجور میں بیع سلف کرتا ہے اسے متعین ماپ متعین وزن میں متعین مدت کے لیے سودا کرنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَفِ؛بیع سلف (سلم) کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٣٤٦٣)

بَابٌ فِي السَّلَفِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَةَ، وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3463

محمد یا عبداللہ بن مجالد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما میں بیع سلف کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو لوگوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں گیہوں، جو، کھجور اور انگور خریدنے میں سلف کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں سے (کرتے تھے) جن کے پاس یہ میوے نہ ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَفِ؛بیع سلف (سلم) کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٣٤٦٤)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، أَوْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُجَالِدٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ، فِي السَّلَفِ فَبَعَثُونِي، إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «إِنْ كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ» زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ، إِلَى قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَي، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3464

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں"ان لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتے تھے جن کے پاس وہ چیزیں نہیں ہوتی تھی" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں درست یہ ہے کہ راوی کا نام ابن ابو مجالد ہے جبکہ شعبہ نے اس روایت میں (راوی کا نام ذکر کرتے ہوئے)غلطی کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَفِ؛بیع سلف (سلم) کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٣٤٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: عَنْ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «الصَّوَابُ ابْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَشُعْبَةُ أَخْطَأَ فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3465

عبداللہ بن ابو اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام میں جہاد کیا تو شام کے کاشتکاروں میں سے بہت سے کاشتکار ہمارے پاس آتے، تو ہم ان سے بھاؤ اور مدت معلوم و متعین کر کے گیہوں اور تیل کا سلف کرتے (یعنی پہلے رقم دے دیتے پھر متعینہ بھاؤ سے مقررہ مدت پر مال لے لیتے تھے) ان سے کہا گیا: آپ ایسے لوگوں سے سلم کرتے رہے ہوں گے جن کے پاس یہ مال موجود رہتا ہو گا، انہوں نے کہا: ہم یہ سب ان سے نہیں پوچھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَفِ؛بیع سلف (سلم) کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٥؛حدیث نمبر؛٣٤٦٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الشَّامَ فَكَانَ يَأْتِينَا أَنْبَاطٌ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ فَنُسْلِفُهُمْ- فِي الْبُرِّ وَالزَّيْتِ سِعْرًا، مَعْلُومًا وَأَجَلًا مَعْلُومًا»، فَقِيلَ لَهُ: مِمَّنْ لَهُ ذَلِكَ قَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3466

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: ”تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجوروں میں جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائیں سلف نہ کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي السَّلَمِ فِي ثَمَرَةٍ بِعَيْنِهَا؛کسی متعین پھل کی بیع سلم کرنا؛جلد٣،ص٢٧٦؛حدیث نمبر؛٣٤٦٧)

بَابٌ فِي السَّلَمِ فِي ثَمَرَةٍ بِعَيْنِهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، نَجْرَانِيٍّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ»، ثُمَّ قَالَ: «لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3467

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی چیز میں بیع سلف کرتا ہے تو وہ اسے دوسری چیز میں تبدیل نہ کرے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب السَّلَفِ لاَ يُحَوَّلُ؛بیع سلف کے ذریعہ خریدی گئی چیز بدلی نہ جائے؛جلد٣،ص٢٧٦؛حدیث نمبر؛٣٤٦٨)

بَابُ السَّلَفِ لَا يُحَوَّلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي الطَّائِيَّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3468

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آ گئی چنانچہ اس پر بہت سارا قرض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خیرات دو“ تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے قرض خواہوں سے) فرمایا: ”جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے“ (یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي وَضْعِ الْجَائِحَةِ؛آفت آنے کی صورت میں ادائگی معاف(یا کم)کرنا؛جلد٣،ص٢٧٦؛حدیث نمبر؛٣٤٦٩)

بَابٌ فِي وَضْعِ الْجَائِحَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3869

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اگر تم اپنے بھائی کو کھجور فروخت کرو اور پھر اسے کوئی آفت لاحق ہو جائے تو تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا حلال نہیں ہے تم کسی حق کے بغیر کس بیناد پر اپنے بھائی کا مال حاصل کرو گے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي وَضْعِ الْجَائِحَةِ؛آفت آنے کی صورت میں ادائگی معاف(یا کم)کرنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٠)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَعْنَى، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ تَمْرًا فَأَصَابَتْهَا جَائِحَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3470

عطا بیان کرتے ہیں آفات سے مراد تمام ظاہری اسباب ہیں جو خرابی پیدا کر دیتے ہیں جس میں بارش،سردی،آندھی یا جل جانا وغیرہ شامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَفْسِيرِ الْجَائِحَةِ؛«جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧١)

بَابٌ فِي تَفْسِيرِ الْجَائِحَةِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " الْجَوَائِحُ: كُلُّ ظَاهِرٍ مُفْسِدٍ مِنْ مَطَرٍ، أَوْ بَرَدٍ، أَوْ جَرَادٍ، أَوْ رِيحٍ، أَوْ حَرِيقٍ "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3871

یحیی بن سعید فرماتے ہیں جس آفت کے نتیجے میں پورے مال کا ایک تہائی سے کم کا نقصان ہو وہ آفت شمار نہیں ہوتی یحییٰ کہتے ہیں مسلمانوں کا یہی طریقہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَفْسِيرِ الْجَائِحَةِ؛«جائحہ» (آفت) کسے کہیں گے؟؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا جَائِحَةَ فِيمَا أُصِيبَ دُونَ ثُلُثِ رَأْسِ الْمَالِ»، قَالَ يَحْيَى: «وَذَلِكَ فِي سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3472

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اضافی پانی استعمال کرنے سے نہ روکا جائے کیونکہ اس کے نتیجے میں گھاس اگنا بند ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٣)

بَابٌ فِي مَنْعِ الْمَاءِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3473

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرماے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی حکمران کی بیعت کرے اگر حکمران اسے کچھ دے تو وہ اس بیت کو پورا کرے اگر وہ اسے کچھ نہ دے تو وہ اس بیت کو پورا نہ کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ مَنَعَ ابْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ يَعْنِي كَاذِبًا، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3474

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں اللہ تعالی ان لوگوں کا تزکیہ نہیں کرے گا ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ سامان کے بارے میں وہ شخص یہ کہے گا اللہ کی قسم مجھے اس کے عوض میں اتنے اور اتنے پیسے دیے جا رہے تھے تو دوسرا شخص اس کی تصدیق کرتے ہوئے اسے حاصل کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَقَالَ فِي السِّلْعَةِ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ فَأَخَذَهَا

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3475

بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، (اجازت ملی) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کے درمیان داخل ہوگئے آپ کو بوسہ دینے لگے اور اپنے ساتھ چنٹانے لگے پھر انہوں نے عرض کی: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی“ پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمک“ پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھلائی کرتے رہنا تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٧؛حدیث نمبر؛٣٤٧٦)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بُهَيْسَةُ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟، قَالَ: «الْمَاءُ»، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟، قَالَ: «الْمِلْحُ»، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟، قَالَ: «أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3476

ابو خداش ایک مہاجر صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تین غزوات میں شرکت کی میں نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا مسلمان تین چیزوں میں ایک دوسرے کے حصے دار ہیں،گھاس،پانی اور آگ۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي مَنْعِ الْمَاءِ؛پانی سے روکنا؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٧٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ اللُّؤْلُؤِيُّ، أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ قَرْنٍ ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو خِدَاشٍ، وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا أَسْمَعُهُ، يَقُولُ: " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْكَلَإِ، وَالْمَاءِ، وَالنَّارِ "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3477

حضرت ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے"اضافی پانی کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ؛فاضل پانی کے بیچنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٧٨)

بَابٌ فِي بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3478

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت(استعمال کرنے)سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي ثَمَنِ السِّنَّوْرِ؛بلی کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٧٩)

بَابٌ فِي ثَمَنِ السِّنَّوْرِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ح وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: أَخْبَرَنَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3479

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي ثَمَنِ السِّنَّوْرِ؛بلی کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٨٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرَّةِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3480

حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت،فاحشہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي أَثْمَانِ الْكِلاَبِ؛کتے کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٨؛حدیث نمبر؛٣٤٨١)

بَابٌ فِي أَثْمَانِ الْكِلَابِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ: عَنْ «النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3481

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے اور اگر کوئی شخص آ کر کتے کی قیمت کا مطالبہ کرے تو تم اس کی ہتھیلی کو مٹی سے بھر دو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي أَثْمَانِ الْكِلاَبِ؛کتے کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٢)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَإِنْ جَاءَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّهُ تُرَابًا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3482

عون بن ابو جحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي أَثْمَانِ الْكِلاَبِ؛کتے کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَوْنُ ابْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3483

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کتے کی قیمت،کاہن کا نذرانہ اور فاحشہ عورت کی کمائی جائز نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي أَثْمَانِ الْكِلاَبِ؛کتے کی قیمت لینا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، أَنَّ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ، وَلَا حُلْوَانُ الْكَاهِنِ، وَلَا مَهْرُ الْبَغِيِّ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3484

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"بے شک اللہ تعالی نے شراب اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے،اس نے مردار اور اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے،اس نے خنزیر اور اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٥)

بَابٌ فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْمَيْتَةَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْخِنْزِيرَ وَثَمَنَهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3485

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا (آپ مکہ میں تھے): ”اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (ان سب کے باوجود بھی) وہ حرام ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٧٩؛حدیث نمبر؛٣٤٨٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةَ، وَالْخِنْزِيرَ، وَالْأَصْنَامَ» فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: «لَا هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3486

یزید بن ابو حبیب بیان کرتے ہیں عطا نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت مجھے لکھ کر بھیجی،اس کے بعد حسب سابق ہے جس میں یہ الفاظ نہیں"وہ حرام ہے" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٣٤٨٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ نَحْوَهُ لَمْ يَقُلْ هُوَ حَرَامٌ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3487

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن (حجر اسود) کے پاس تشریف فرما ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: ”اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی (تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کر دیا ہے“۔ خالد بن عبداللہ (خالد بن عبداللہ طحان) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: «لعن الله اليهود» کے بجائے: «قال ‏"‏ قاتل الله اليهود» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٣٤٨٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، وَخَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ بَرَكَةَ، قَالَ مُسَدَّدٌ: فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ، ثُمَّ اتَّفَقَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عِنْدَ الرُّكْنِ، قَالَ: فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ، فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، ثَلَاثًا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ» وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانِ: «رَأَيْتُ» وَقَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3488

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص شراب فروخت کرتا ہے اسے خنزیر کو بھی حلال سمجھنا چاہیے"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٣٤٨٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصِ الْخَنَازِيرَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3489

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہو گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ان آیات کی تلاوت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا گیا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨٠؛حدیث نمبر؛٣٤٩٠)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: «حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3490

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں" وہ آخری آیات،جو سود سے متعلق ہیں"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ؛شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ فِي الرِّبَا

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3491

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص کوئی اناج خریدے تو وہ اسے اگے اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک پہلے اپنے قبضے میں نہیں لے لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٢)

بَابٌ فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3492

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے، تو آپ ہمارے پاس(کسی شخص کو)بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ ہم اس اناج کو جگہ سے منتقل کر لیں جس جگہ پر ہم نے اسے خریدا ہے یا اس سے کسی ایسی جگہ پر منتقل کرے جو اس جگہ کے علاوہ ہو ایسا ہم اس اناج کو اگے فروخت کرنے سے پہلے کرے۔ راوی کہتے ہیں:اس سے مراد یہ ہے کہ اندازے کے تحت(کی گئی،خرید و فروخت)ممنوع ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ، فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ، قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ يَعْنِي جُزَافًا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3493

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پہلے لوگ بازار کے بالائی حصے کی جانب اندازے کے تحت اناج کی خرید و فروخت کر لیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اس طرح فروخت کرنے سے منع کر دیا جب تک وہ اسے(دوسری جگہ)منتقل نہیں کر لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا بِأَعْلَى السُّوقِ «فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3494

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کسی اناج کو فروخت کرے جس کو اس نے متعین ماپ کے ہمراہ خریدا ہو ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ اسے پوری طرح اپنے قبضے میں نہیں لے لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيِّ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3495

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے“۔ ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ سونے کے عوض میں گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ» زَادَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ؟ قَالَ: «أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرَجًّى»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3496

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جب کوئی شخص کوئی اناج خریدے تو اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے جب تک اسے اپنے قبضے میں نہیں لیتا"۔ مسدد نامی راوی نے یہ الفاظ زائد کیے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے ہر چیز اناج کی مانند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨١؛حدیث نمبر؛٣٤٩٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، - وَهَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ»، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ، زَادَ مُسَدَّدٌ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «وَأَحْسِبُ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَ الطَّعَامِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3497

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے لوگوں کو دیکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اقدس میں ان کی اس بات پر پٹائی ہوتی تھی جب وہ اناج کو کسی انداز کے تحت خرید لیتے تھے اور پھر اسے اپنے پالان تک پہنچانے سے پہلے اسے فروخت کر دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٣٤٩٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّاسَ يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوُا الطَّعَامَ جُزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ إِلَى رَحْلِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3498

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے بازار میں تیل خریدا، تو جب اس بیع کو میں نے مکمل کر لیا، تو مجھے ایک شخص ملا، وہ مجھے اس کا اچھا نفع دینے لگا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس سے سودا پکا کر لوں اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: جب تک کہ تم اسے جہاں سے خریدے ہو وہاں سے اٹھا کر اپنے ٹھکانے پر نہ لے آؤ نہ بیچنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کو اسی جگہ بیچنے سے روکا ہے، جس جگہ خریدا گیا ہے یہاں تک کہ تجار سامان تجارت کو اپنے ٹھکانوں پر لے آئیں۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى؛قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٣٤٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ، فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لِنَفْسِي، لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ: لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ، حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ، «فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ، حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3499

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ذکر کیا کہ خرید و فروخت میں اس کے ساتھ دھوکا ہو جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:جب تم کوئی سودا کرو تو یہ کہہ دو کہ دھوکہ نہیں چلے گا تو جب وہ شخص کوئی سودا کرتا تھا تو یہ کہتا تھا کہ دھوکا نہیں چلے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي الْبَيْعِ لاَ خِلاَبَةَ؛آدمی کا سودے کے وقت یہ کہنا:"کوئی دھوکہ نہیں ہے"؛جلد٣،ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٣٥٠٠)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي الْبَيْعِ لَا خِلَابَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا، ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ» فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ: لَا خِلَابَة "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3500

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خرید و فروخت کرتا تھا،لیکن اس کی زبان میں کچھ لکنت تھی،تو اس کے گھر والے اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! فلاں (کے خرید و فروخت) پر روک لگا دیجئیے، کیونکہ وہ سودا کرتا ہے لیکن اس کی سودا بازی کمزور ہوتی ہے (جس سے نقصان پہنچتا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے خرید و فروخت کرنے سے منع فرما دیا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھ سے خرید و فروخت کئے بغیر رہا نہیں جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر تم خرید و فروخت چھوڑ نہیں سکتے تو خرید و فروخت کرتے وقت کہا کرو:یہ اور یہ،لیکن اس میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی“۔ اور ابوثور کی روایت میں ( «أخبرنا سعيد» کے بجائے) «عن سعيد» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي الْبَيْعِ لاَ خِلاَبَةَ؛آدمی کا سودے کے وقت یہ کہنا:"کوئی دھوکہ نہیں ہے"؛جلد٣،ص٢٨٢؛حدیث نمبر؛٣٥٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُرُزِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: مُحَمَّدٌ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ، فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ: هَاءَ وَهَاءَ، وَلَا خِلَابَةَ "، قَالَ أَبُو ثَوْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3501

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے۔ امام مالک کہتے ہیں: جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس کے معنی یہ کہ کوئی شخص کسی سے کوئی غلام خریدتا ہے یا کوئی جانور کرائے پر لیتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے میں تمہیں ایک دینار دے رہا ہوں اس شرط پر اگر میں نے تمہیں سامان یا کرایہ نہیں دیا تو جو میں نے تمہیں دیا ہے وہ تمہارا ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فى الْعُرْبَانِ؛ بیعانہ کا حکم؛جلد٣،ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٣٥٠٢)

بَابٌ فِي الْعُرْبَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ»، قَالَ مَالِكٌ: " وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ، أَوْ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ: أُعْطِيكَ دِينَارًا عَلَى أَنِّي إِنْ تَرَكْتُ السِّلْعَةَ أَوِ الْكِرَاءَ فَمَا أَعْطَيْتُكَ لَكَ "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3502

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ!ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی تو کیا میں (اسے فروخت کرنے کے لیے)یا بازار سے وہ چیز خرید لوں(اور اس کے ساتھ سودا پہلے طے کر لوں)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسی چیز فروخت نہ کرو جو تمہارے پاس نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؛جو چیز آدمی کے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٣٥٠٣)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ؟ فَقَالَ: «لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3503

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:سلف(ادھار)اور بیع (سودا)اور ایک ہی بیع میں دو شرطیں عائد کرنا،اور ایسا منافع جس میں تاوان کی پابندی نہ ہو،اور ایسی چیز کو فروخت کرنا جو تمہارے پاس نہ ہو یہ سب جائز نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؛جو چیز آدمی کے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچے؛جلد٣،ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٣٥٠٤)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ تَضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3504

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اسے (یعنی اپنا) اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیچا اور اپنے سامان سمیت سوار ہو کر اپنے اہل تک پہنچنے کی شرط لگا لی، اور اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں نے تمہارے ساتھ یہ سودا اس لیے کیا ہے تاکہ تمہارا اونٹ حاصل کر لوں جاؤ تم اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور اونٹ کی قیمت بھی، یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي شَرْطٍ فِي بَيْعٍ؛بیع میں شرط کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٣؛حدیث نمبر؛٣٥٠٥)

بَابٌ فِي شَرْطٍ فِي بَيْعٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بِعْتُهُ يَعْنِي بَعِيرَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، قَالَ فِي آخِرِهِ: «تُرَانِي إِنَّمَا مَاكَسْتُكَ لِأَذْهَبَ بِجَمَلِكَ؟ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ فَهُمَا لَكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3505

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"غلام کی ضمانت تین دن تک ہوتی ہے" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ؛غلام کی ضمانت؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥٠٦)

بَابٌ فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3506

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں اگر تین دن میں آدمی غلام میں کوئی بیماری پائے تو وہ کسی ثبوت کے بغیر اسے واپس کر دے گا اور اگر تین دن کے بعد کوئی بیماری کو پاتا ہے تو پھر وہ ثبوت پیش کرنے کا پابند ہوگا کہ اس نے اس شخص سے اسے خریدا تھا تو اس وقت اس میں یہ بیماری موجود تھی۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:یہ وضاحت قتادہ کا کلام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ؛غلام کی ضمانت؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥٠٧)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ «إِنْ وَجَدَ دَاءً فِي الثَّلَاثِ لَيَالِي رُدَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ، وَإِنْ وَجَدَ دَاءً بَعْدَ الثَّلَاثِ كُلِّفَ الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ اشْتَرَاهُ، وَبِهِ هَذَا الدَّاءُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3507

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"خراج" ضمان کے حساب سے ہوتا ہے" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا؛جو شخص غلام خرید کر اس سے مزدوری کروائے اور پھر اس میں کوئی عیب پائے؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥٠٨)

بَابٌ فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3508

حضرت مخلد بن خفاف غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا: ”منافع اس کا ہو گا جو ضامن ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا؛جو شخص غلام خرید کر اس سے مزدوری کروائے اور پھر اس میں کوئی عیب پائے؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥٠٩)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أُنَاسٍ شَرِكَةٌ فِي عَبْدٍ فَاقْتَوَيْتُهُ وَبَعْضُنَا غَائِبٌ، فَأَغَلَّ عَلَيَّ غَلَّةً فَخَاصَمَنِي فِي نَصِيبِهِ إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَرُدَّ الْغَلَّةَ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَحَدَّثْتُهُ فَأَتَاهُ عُرْوَةُ، فَحَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3509

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام بائع کو واپس کرا دیا، تو بائع کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراج (منافع) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سند زیادہ مستند نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛ باب فِيمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَعْمَلَهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا؛جو شخص غلام خرید کر اس سے مزدوری کروائے اور پھر اس میں کوئی عیب پائے؛جلد٣،ص٢٨٤؛حدیث نمبر؛٣٥١٠)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا، ابْتَاعَ غُلَامًا فَأَقَامَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ، ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدِ اسْتَغَلَّ غُلَامِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِذَاكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3510

عبد الرحمن بن قیس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ اشعث نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام بیس ہزار میں خریدے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث سے ان کی قیمت منگا بھیجی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دس ہزار میں خریدے ہیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی شخص کو چن لو جو ہمارے اور تمہارے درمیان معاملے کا فیصلہ کر دے، اشعث نے کہا: آپ ہی میرے اور اپنے معاملے میں فیصلہ فرما دیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب بائع اور مشتری (بیچنے اور خریدنے والے) دونوں کے درمیان (قیمت میں) اختلاف ہو جائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو صاحب مال و سامان جو بات کہے وہی مانی جائے گی، یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ؛جب بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف ہو جائے اور بیچی گئی چیز موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٣٥١١)

بَابٌ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: اشْتَرَى الْأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ، مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلَافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاخْتَرْ رَجُلًا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ الْأَشْعَثُ: أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ، أَوْ يَتَتَارَكَانِ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3511

قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس کو ایک غلام فروخت کیا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جس کے الفاظ میں کچھ کمی و بیشی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ؛جب بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف ہو جائے اور بیچی گئی چیز موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٣٥١٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، بَاعَ مِنَ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، رَقِيقًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْكَلَامُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3512

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ ہر مشترکہ زمین یا باغ میں کیا جاسکتا ہے، کسی شریک کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے شریک کو آگاہ کئے بغیر بیچ دے، اور اگر بغیر آگاہ کئے بیچ دیا تو شریک اس کے لینے کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٣٥١٣)

بَابٌ فِي الشُّفْعَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ، أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ، حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3513

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ہر ایسے مال میں رکھا ہے جو تقسیم نہ ہوا لیکن جب حدود متعین ہو جائے اور راستے الگ ہو جائے تو اسے شفعہ کا حق نہیں رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٥؛حدیث نمبر؛٣٥١٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3514

Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3515

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَوْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَوْ عَنْهُمَا جَمِيعًا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قُسِّمَتِ الْأَرْضُ وَحُدَّتْ، فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3515

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "پڑوسی،اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥١٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، سَمِعَ أَبَا رَافِعٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3516

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:گھر کا پڑوسی،اپنے پڑوس کے گھر کا،(راوی کا شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)"زمین کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥١٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوِ الْأَرْضِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3517

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہوتا ہے اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا یہ اس صورت میں ہے جب دونوں کا راستہ ایک ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الشُّفْعَةِ؛شفعہ کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥١٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ يُنْتَظَرُ بِهَا، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3518

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص مفلس ہو جائے،کوئی شخص اپنے سامان کو اس کے پاس پائے،تو وہ اس سامان کا دوسرے کسی سے زیادہ حقدار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥١٩)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ الْمَعْنَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3519

ابوبکر بن عبدالرحمن،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص کوئی سامان فروخت کرے اور پھر اسے خریدنے والا شخص مفلس ہو جائے اور فروخت کرنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا ہو اور پھر وہ اپنے مال کو اس شخص کے پاس ویسا ہی پائے تو اس سامان کا مالک دیگر قرض خواہوں کے برابر شمار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٦؛حدیث نمبر؛٣٥٢٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ، الَّذِي ابْتَاعَهُ وَلَمْ يَقْبِضِ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا، فَوَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِي فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3520

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ابوبکر بن عبدالرحمن کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اگر اس نے قیمت میں سے کچھ ادائیگی کی بھی ہو تو وہ اس بارے میں دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٣٥٢١)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، زَادَ وَإِنْ كَانَ قَدْ قَضَى مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ فِيهَا،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3521

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں:جس میں یہ الفاظ ہیں اگر اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول کر لیا ہو تو باقی بچ جانے والی رقم کے بارے میں وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہوگا اور جو شخص فوت ہو جائے اس کے پاس کسی شخص کا سامان بعینہ موجود ہو تو خواہ اس دوسرے شخص نے اس کی قیمت میں سے کچھ اصول کیا ہو یا نہ کیا ہو وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہوگا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی نقل کردہ روایت زیادہ درست ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٣٥٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ يَعْنِي الْخَبَايِرِيَّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو الْهُذَيْلِ الْحِمْصِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ: «فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَتَاعُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ مَالِكٍ أَصَحُّ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3522

عمر بن خلدہ بیان کرتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو مفلس ہو گیا تھا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم لوگوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دوں گا جو شخص مفلس ہو جائے یا فوت ہو جائے اور پھر کوئی شخص اپنے سامان کو اس کے پاس پائے تو وہ اس سامان کا زیادہ حقدار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفْلِسُ فَيَجِدُ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَهُ؛آدمی مفلس کے پاس اپنا سامان بعینہ پائے تو اس کا زیادہ حقدار وہی ہو گا؛جلد٣،ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٣٥٢٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مَنْ أَفْلَسَ، أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3523

عامر شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کر دیا ہو، وہ اسے (کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے) تندرست کر لے تو وہ جانور اسی کا ہو جائے گا“۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے (ایک نہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَحْيَا حَسِيرًا؛ناکارہ جانور کو کارآمد بنا لینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٧؛حدیث نمبر؛٣٥٢٤)

بَابٌ فِيمَنْ أَحْيَا حَسِيرًا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَقَالَ عَنْ أَبَانَ: أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَجَدَ دَابَّةً قَدْ عَجَزَ عَنْهَا أَهْلُهَا أَنْ يَعْلِفُوهَا فَسَيَّبُوهَا، فَأَخَذَهَا فَأَحْيَاهَا فَهِيَ لَهُ»، قَالَ: فِي حَدِيثِ أَبَانَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: عَمَّنْ، قَالَ: عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا حَدِيثُ حَمَّادٍ وَهُوَ أَبْيَنُ وَأَتَمُّ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3524

شعبی مرفوع حدیث کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص کسی جانور کو تباہ کن حالت میں چھوڑ دے اور پھر کوئی شخص اسے زندگی فراہم کرے(یعنی اسے چارہ فراہم کرے)تو وہ جانور اس کا ہوگا جس نے اسے زندگی فراہم کی۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَحْيَا حَسِيرًا؛ناکارہ جانور کو کارآمد بنا لینے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٣٥٢٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ دَابَّةً بِمَهْلَكٍ فَأَحْيَاهَا رَجُلٌ فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3525

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہوا ہو تو اسے کھلانے پلانے کے بقدر دوہا جائے گا، اور سواری والا جانور رہن رکھا ہوا ہو تو کھلانے پلانے کے بقدر اس پر سواری کی جائے گی، اور جو سواری کرے اور دوہے اس پر اسے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ہو گی“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّهْنِ؛گروی رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٣٥٢٦)

بَابٌ فِي الرَّهْنِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَبَنُ الدَّرِّ يُحْلَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَالظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَحْلِبُ النَّفَقَةُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ عِنْدَنَا صَحِيحٌ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3526

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیاء و شہداء تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انہیں ملے گا اس پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے“ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہو گا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہو گا لیکن وہ اللہ کی کتاب کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے (مجسم) نور ہوں گے، وہ خود پرنور ہوں گے انہیں کوئی ڈر نہ ہو گا جب کہ لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں کوئی رنج و غم نہ ہو گا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: خبردار!بے شک اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے"( یونس: ۶۲) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّهْنِ؛گروی رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٣٥٢٧)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ، وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ، قَالَ: «هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ، وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا، فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ، وَإِنَّهُمْ عَلَى نُورٍ لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ، وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ» وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} [يونس: 62]

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3527

عمارہ بن عمیر،اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا میرے زیر کفالت ایک یتیم لڑکا ہے کیا میں اس کے مال میں سے کچھ کھا سکتی ہوں؟ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: آدمی جو کچھ کھاتا ہے اس میں سے پاکیزہ چیز وہ ہے جو وہ اپنی کمائی میں سے کھاتا ہے اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی کا حصہ ہے۔" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ؛آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے؛جلد٣،ص٢٨٨؛حدیث نمبر؛٣٥٢٨)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حِجْرِي يَتِيمٌ- أَفَآكُلُ مِنْ مَالِهِ؟ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَطْيَبِ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3528

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے بلکہ بہترین کمائی ہے، تو ان کے مال میں سے کھاؤ“ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ جب تم اس کے حاجت مند ہو (تو بقدر ضرورت لے لو) لیکن یہ الفاظ منکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ؛آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے؛جلد٣،ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٣٥٢٩)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ، فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، زَادَ فِيهِ «إِذَا احْتَجْتُمْ» وَهُوَ مُنْكَرٌ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3529

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ؛آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے؛جلد٣،ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٣٥٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي؟ قَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3530

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کے پاس جاے گا،جس نے اسے فروخت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَجِدُ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ؛جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس پائے تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٣٥٣١)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَجِدُ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3531

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت ہند رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور (اپنے شوہر کے متعلق) کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہیں مجھے خرچ کے لیے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بیٹوں کے لیے کافی ہو، تو کیا ان کے مال میں سے میرے کچھ لے لینے میں کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عام دستور کے مطابق بس اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بیٹوں کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ؛ ادمی کا حاصل ہونے والے مال میں سے اپنا حق حاصل کر لینا؛جلد٣،ص٢٨٩؛حدیث نمبر؛٣٥٣٢)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مَنْ تَحْتَ يَدِهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ، رَجُلٌ شَحِيحٌ وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا؟ قَالَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3532

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں، اگر ان کے مال میں سے ان سے اجازت لیے بغیر ان کی اولاد کے کھانے پینے پر کچھ خرچ کر دوں تو کیا میرے لیے کوئی حرج (نقصان و گناہ) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معروف (عام دستور) کے مطابق خرچ کرنے میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ؛ ادمی کا حاصل ہونے والے مال میں سے اپنا حق حاصل کر لینا؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٣)

حَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي بِالْمَعْرُوفِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3533

یوسف بن ماہک مکی بیان کرتے ہیں میں فلاں شخص کا خرچ لکھتا تھا،جو کچھ یتیم بچوں کا خرچ ہوتا تھا،جن بچوں کا وہ شخص نگراں تھا،تو ان بچوں نے ان کو مغالطے کا شکار کر کے ایک ہزار درہم حاصل کر لیے،اس نے وہ رقم ان کو ادا کر دی جب میں نے ان یتیموں کے مال میں زیادہ ادائیگی پائی تو میں نے کہا آپ وہ ایک ہزار اصول کر لیں جو وہ اپ سے لے گئے ہیں تو اس نے جواب دیا جی نہیں مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو تمہیں امین بنائے تم اسے امانت ادا کر دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ؛ ادمی کا حاصل ہونے والے مال میں سے اپنا حق حاصل کر لینا؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ؟، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3534

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص تمہیں امین بنائے اسے تم امانت ادا کر دو اور جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرنا"۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مِنْ تَحْتِ يَدِهِ؛ ادمی کا حاصل ہونے والے مال میں سے اپنا حق حاصل کر لینا؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ - قَالَ: ابْنُ الْعَلَاءِ، وَقَيْسٌ - عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3535

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تحفہ قبول کر لیتے تھے اور اس کے بدلے میں تحفہ دیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي قَبُولِ الْهَدَايَا؛ہدیہ اور تحفہ قبول کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٦)

بَابٌ فِي قَبُولِ الْهَدَايَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3536

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ کی قسم!میں اج کے بعد کسی شخص سے تحفہ قبول نہیں کروں گا صرف کسی قریشی مہاجر سے، یا انصاری سے یا دوس قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے یا ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے تحفہ قبول کروں گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي قَبُولِ الْهَدَايَا؛ہدیہ اور تحفہ قبول کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٠؛حدیث نمبر؛٣٥٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَايْمُ اللَّهِ، لَا أَقْبَلُ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا مِنْ أَحَدٍ هَدِيَّةً، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُهَاجِرًا قُرَشِيًّا، أَوْ أَنْصَارِيًّا، أَوْ دَوْسِيًّا، أَوْ ثَقَفِيًّا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3537

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے والا شخص اپنے قئے کو چاٹ لینے والے کی مانند ہے۔ ہمام اور قتادہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ہمارے نزدیک قے چاٹنا حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ؛ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٣٥٣٨)

بَابُ الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ» قَالَ هَمَّامٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: «وَلَا نَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3538

حضرت عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر (یا ہبہ کر کے) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ؛ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٣٥٣٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3539

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے، (اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ؛ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٣٥٤٠)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ، فَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوَقَّفْ فَلْيُعَرَّفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ثُمَّ لِيُدْفَعْ إِلَيْهِ مَا وَهَبَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3540

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی بھائی کی کوئی سفارش کی اور اس نے اس سفارش کے بدلے میں سفارش کرنے والے کو کوئی چیز ہدیہ میں دی اور اس نے اسے قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْهَدِيَّةِ لِقَضَاءِ الْحَاجَة؛کوئی کام کرنے پر تحفہ دینا؛جلد٣،ص٢٩١؛حدیث نمبر؛٣٥٤١)

بَابٌ فِي الْهَدِيَّةِ لِقَضَاءِ الْحَاجَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَفَعَ لِأَخِيهِ بِشَفَاعَةٍ، فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً عَلَيْهَا فَقَبِلَهَا، فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3541

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کوئی چیز (بطور عطیہ) دی، (اسماعیل بن سالم کی روایت میں ہے کہ انہیں اپنا ایک غلام بطور عطیہ دیا) اس پر میری والدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے (اور میرے بیٹے کو جو دیا ہے اس پر) آپ کو گواہ بنا لیجئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (آپ کو گواہ بنانے کے لیے) حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور (میری بیوی) عمرہ نے کہا ہے کہ میں آپ کو اس بات کا گواہ بنا لوں (اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ہوں) آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے اور کوئی لڑکا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سب کو اسی جیسی چیز دی ہے جو نعمان کو دی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ظلم ہے“ اور بعض کی روایت میں ہے: ”یہ جانب داری ہے، جاؤ تم میرے سوا کسی اور کو اس کا گواہ بنا لو (میں ایسے کاموں کی شہادت نہیں دیتا)“۔ مغیرہ کی روایت میں ہے: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ تمہارے سارے لڑکے تمہارے ساتھ بھلائی اور لطف و عنایت کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں (مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو (مجھے یہ امتیاز اور ناانصافی پسند نہیں)“۔ اور مجالد نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے: ”ان (بیٹوں) کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان سب کے درمیان عدل و انصاف کرو جیسا کہ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی روایت میں بعض نے: «أكل بنيك» کے الفاظ روایت کئے ہیں اور بعض نے «بنيك» کے بجائے «ولدك» کہا ہے، اور ابن ابی خالد نے شعبی کے واسطہ سے «ألك بنون سواه» اور ابوالضحٰی نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے «ألك ولد غيره» روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ؛باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩٢؛حدیث نمبر؛٣٥٤٢)

بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، وَأَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَأَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ أَنْحَلَنِي: أَبِي نُحْلًا، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ: مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نِحْلَةً غُلَامًا لَهُ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ: أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهَدَهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ: «أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَالَ: بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ، " هَذَا جَوْرٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «هَذَا تَلْجِئَةٌ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي» قَالَ مُغِيرَةُ: فِي حَدِيثِهِ «أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءٌ» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي» وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ «إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ بَعْضُهُمْ: «أَكُلَّ بَنِيكَ»، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «وَلَدِكَ» وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِيهِ: «أَلَكَ بَنُونَ سِوَاهُ»، وَقَالَ أَبُو الضُّحَى، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ: «أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3542

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیسا غلام ہے؟“ انہوں نے کہا: میرا غلام ہے، اسے مجھے میرے والد نے دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جیسے تمہیں دیا ہے کیا تمہارے سب بھائیوں کو دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے لوٹا دو“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ؛باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩٢؛حدیث نمبر؛٣٥٤٣)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْغُلَامُ؟» قَالَ: غُلَامِي أَعْطَانِيهِ أَبِي، قَالَ: «فَكُلَّ إِخْوَتِكَ أَعْطَى كَمَا أَعْطَاكَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَارْدُدْهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3543

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو،اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو۔" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ؛باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٤)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمُ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3544

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے (بشیر رضی اللہ عنہ سے) کہا: اپنا غلام میرے بیٹے کو دے دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر میرے لیے گواہ بنا دیں، تو بشیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: فلاں کی بیٹی (یعنی میری بیوی) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو غلام ہبہ کروں (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سب کو بھی تم نے ایسے ہی دیا ہے جیسے اسے دیا ہے“ کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ درست نہیں، اور میں تو صرف حق بات ہی کی گواہی دے سکتا ہوں“ (اس لیے اس ناحق بات کے لیے گواہ نہ بنوں گا) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَضِّلُ بَعْضَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ؛باپ اپنے بعض بیٹوں کو زیادہ عطیہ دے تو کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ، سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامًا، وَقَالَتْ لِي: أَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَهُ إِخْوَةٌ؟»، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3545

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں جبکہ اس کا شوہر اس کی عصمت کا مالک بن چکا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عَطِيَّةِ الْمَرْأَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا؛عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ دینا؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٦)

بَابٌ فِي عَطِيَّةِ الْمَرْأَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3546

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ دینا جائز نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي عَطِيَّةِ الْمَرْأَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا؛عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ دینا؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ، إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3547

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"عمری جائز ہے" («عمرى» ہبہ ہی کی ایک قسم ہے اس میں ہبہ کرنے والا ہبہ کی جانے والی چیز کو جسے ہبہ کر رہا ہے اس کی زندگی بھر کے لئے ہبہ کر دیتا ہے۔) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٨)

بَابٌ فِي الْعُمْرَى حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعُمْرَى جَائِزَةٌ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3548

یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٤٨ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٣؛حدیث نمبر؛٣٥٤٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3549

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے:"عمری اس کا ہوتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو۔" (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3550

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جس شخص کو عمری کے طور پر کوئی چیز دی گئی ہو تو یہ اس شخص کو اور اس کے پسماندگان کو ملے گی اس کا وارث وہ شخص ہوگا جو اس کے پسماندگان میں وارث ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥١)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ، وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3551

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الْعُمْرَى باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَكَذَا رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3552

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دی گئی اور اس کے بعد اس کے آنے والوں کے لیے بھی کہہ دی گئی ہو تو وہ عمریٰ اس کے اور اس کی اولاد کے لیے ہے، جس نے دیا ہے اسے واپس نہ ہو گی، اس لیے کہ دینے والے نے اس انداز سے دیا ہے جس میں وراثت شروع ہو گئی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٣)

بَابُ مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ، وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا، لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3553

یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ ابن شہاب کے حوالے سے منقول ہے۔ امام ابوداؤد کہتے:یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ ابن شہاب کے حوالے سے منقول ہے، تاہم اس کے الفاظ میں کچھ اختلاف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٤)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَاخْتُلِفَ عَلَى الْأَوْزَاعِيِّ، فِي لَفْظِهِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَوَاهُ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3554

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جس عمریٰ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے وہ ہے کہ دینے والا کہے کہ یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی ہے (تو اس میں وراثت جاری ہو گی اور دینے والے کی ملکیت ختم ہو جائے گی) لیکن اگر دینے والا کہے کہ یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو (تو اس سے استفادہ کرو) تو وہ چیز (اس کے مرنے کے بعد) اس کے دینے والے کو لوٹا دی جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٤؛حدیث نمبر؛٣٥٥٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَهَا - رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقُولَ: «هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ» فَأَمَّا إِذَا قَالَ: «هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ» فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3555

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے تو وہ اس کے وارثوں کا ہو جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٥٦)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُرْقِبُوا وَلَا تُعْمِرُوا فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا أَوْ أُعْمِرَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3556

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے (جو اپنا حق مانگ رہے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے“ پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو یہ (واپسی) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے“ (کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب مَنْ قَالَ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ؛کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٥٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاِويَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ طَارِقٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَاهَا ابْنُهَا حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ، فَمَاتَتْ، فَقَالَ ابْنُهَا: إِنَّمَا أَعْطَيْتُهَا حَيَاتَهَا وَلَهُ إِخْوَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ لَهَا حَيَاتَهَا وَمَوْتَهَا»، قَالَ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَيْهَا، قَالَ: «ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3557

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے عمری اس کے اہل کے لیے جائز ہے اور رقبہ اس کے اہل کے لیے جائز ہے(یعنی جسے دیا گیا ہے اس کی ملکیت شمار ہوگی) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّقْبَى؛رقبی کا (تفصیلی) بیان؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٥٨)

بَابٌ فِي الرُّقْبَى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا، وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3558

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔ اور فرمایا: ”رقبیٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی“ (یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّقْبَى؛رقبی کا (تفصیلی) بیان؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٥٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ، وَلَا تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3559

مجاہد کہتے ہیں: عمریٰ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہو گئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی، اور رقبیٰ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہو گی۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي الرُّقْبَى؛رقبی کا (تفصیلی) بیان؛جلد٣،ص٢٩٥؛حدیث نمبر؛٣٥٦٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ: لِلرَّجُلِ هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ وَالرُّقْبَى هُوَ أَنْ يَقُولَ الْإِنْسَانُ هُوَ لِلْآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ "

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3560

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ جو اصول کرتا ہے وہ اس پر لازم ہے جب تک وہ اسے ادا نہیں کر دیتا (یعنی واپس نہیں کر دیتا)پھر حسن اس روایت کو بھول گئے اور انہوں نے یہ کہا جو شخص تمہارا امین ہو اس پر ضمان نہیں ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦١)

بَابٌ فِي تَضْمِينِ الْعَوَرِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ»، ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ، فَقَالَ: «هُوَ أَمِينُكَ لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3561

حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہو گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦٢)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: «لَا، بَلْ عَمَقٌ مَضْمُونَةٌ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطٍ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3562

حضرت عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کے خاندان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صفوان! کیا تیرے پاس کچھ ہتھیار ہیں؟“ انہوں نے کہا: عاریۃً چاہتے ہیں یا زبردستی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبردستی نہیں عاریۃً“ چنانچہ اس نے آپ کو بطور عاریۃً تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی، پھر جب مشرکین ہار گئے اور صفوان رضی اللہ عنہ کی زرہیں اکٹھا کی گئیں تو ان میں سے کچھ زرہیں کھو گئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوان! تمہاری زرہوں میں سے ہم نے کچھ زرہیں کھو دی ہیں، تو کیا ہم تمہیں ان کا تاوان دے دیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! آج میرے دل میں(اسلام کی)جو جگہ ہے اس وقت نہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہیں عاریۃً دی تھیں پھر اسلام لے آئے (تو اسلام لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون تاوان لیتا؟) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ آلِ عَبدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا صَفْوَانُ، هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلَاحٍ؟»، قَالَ: عَوَرً أَمْ غَصْبًا، قَالَ: «لَا، بَلْ عَوَرً» فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ دِرْعًا، وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ فَفَقَدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ: «إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا، فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ؟» قَالَ: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَكَانَ أَعَارَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ، ثُمَّ أَسْلَمَ»،

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3563

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کی آل میں سے کچھ لوگوں نے یہ بات نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت کے طور پر لی اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ نَاسٍ، مِنْ آلِ صَفْوَانَ قَالَ: اسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3564

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!اناج بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہمارا افضل مال ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی (اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور (دودھ ختم ہو جانے کے بعد) واپس کر دیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے“ (یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا) (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٦؛حدیث نمبر؛٣٥٦٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَلَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامَ، قَالَ: «ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا» ثُمَّ قَالَ: «الْعَوَرُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمُ غَارِم»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3565

حضرت صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہارے پاس میرے قاصد پہنچیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا“ میں نے کہا: کیا اس عاریت کے طور پر دوں جس کا ضمان لازم آتا ہے یا اس عاریت کے طور پر جو مالک کو واپس دلائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالک کو واپس دلائی جانے والی عاریت کے طور پر“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان ہلال الرائی کے ماموں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ؛مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟؛جلد٣،ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٣٥٦٦)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُصْفُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا، وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا» قَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَعَوَرٌ مَضْمُونَةٌ، أَوْ عَوَرٌ مُؤَدَّاةٌ، قَالَ: «بَلْ مُؤَدَّاةٌ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «حَبَّانُ خَالُ هِلَالٍ الرَّائِيِّ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3566

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کے گھر میں تھے، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا، تو اس خاتون نے(جس کے گھر میں آپ تھے) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا (وہ دو ٹکڑے ہو گیا)، ابن مثنیٰ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے: ”تمہاری ماں کو غصہ آ گیا“ ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے (کہ آپ نے فرمایا: ”کھاؤ“ تو لوگ کھانے لگے، یہاں تک کہ جس گھر میں آپ موجود تھے اس گھر سے کھانے کا پیالہ آیا (اب ہم پھر مسدد کی حدیث کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ“ اور خادم کو (جو کھانا لے کر آیا تھا) اور پیالے کو روکے رکھا، یہاں تک کہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح و سالم پیالہ قاصد کو پکڑا دیا (کہ یہ لے کر جاؤ اور دے دو) اور ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے اس گھر میں روک لیا (جس میں آپ قیام فرما تھے)۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَفْسَدَ شَيْئًا يَغْرَمُ مِثْلَهُ؛جو شخص دوسرے کی چیز ضائع اور برباد کر دے تو ویسی ہی چیز تاوان میں دے؛جلد٣،ص٢٩٧؛حدیث نمبر؛٣٥٦٧)

بَابٌ فِيمَنْ أَفْسَدَ شَيْئًا يَغْرَمُ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمِهَا قَصْعَةً فِيهَا طَعَامٌ، قَالَ: فَضَرَبَتْ بِيَدِهَا فَكَسَرَتِ الْقَصْعَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ، وَيَقُولُ: «غَارَتْ أُمُّكُمْ» زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى «كُلُوا» فَأَكَلُوا حَتَّى جَاءَتْ قَصْعَتُهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى لَفْظِ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ قَالَ «كُلُوا» وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَحَبَسَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِهِ

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3567

Abu Daud Sharif Abwabul Ijarah Hadees No# 3568

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: مَا رَأَيْتُ صَانِعًا طَعَامًا مِثْلَ صَفِيَّةَ، صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَبَعَثَتْ بِهِ، فَأَخَذَنِي]- أَفْكَلٌ، فَكَسَرْتُ الْإِنَاءَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْتُ؟ قَالَ: «إِنَاءٌ مِثْلُ إِنَاءٍ وَطَعَامٌ مِثْلُ طَعَامٍ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3568

حرام بن محیصہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الْمَوَاشِي تُفْسِدُ زَرْعَ قَوْمٍ؛مویشی دوسروں کے کھیت برباد کر دیں تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٣٥٦٩)

بَابُ الْمَوَاشِي تُفْسِدُ زَرْعَ قَوْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْهُ عَلَيْهِمْ، «فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3569

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے پاس ایک اونٹنی تھی جو نقصان پہنچایا کرتی تھی، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کر دیا، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: ”دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے“۔ (اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛اَبْوَابُ الْإِجَارَةِ؛اجارے کے احکام و مسائل؛باب الْمَوَاشِي تُفْسِدُ زَرْعَ قَوْمٍ؛مویشی دوسروں کے کھیت برباد کر دیں تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٣٥٧٠)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا: «فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتْ مَاشِيَتُهُمْ بِاللَّيْلِ»

Abu Dawood Shareef, Abwabul Ijarah, Hadees No. 3570

Abu Dawood Shareef : Abwabul Ijarah

|

Abu Dawood Shareef : أَبْوَابُ الْإِجَارَةِ

|

•