asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Aqziyate

From 3471 to 3640

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص قضا کا نگراں بنے وہ چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ؛منصب قضاء طلب کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٣٥٧١)

كِتَاب الْأَقْضِيَةِ بَابٌ فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3471

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جسے لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا اسے چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ؛منصب قضاء طلب کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٣٥٧٢)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، وَالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3572

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں زیادتی کر جاتا ہے تو وہ جہنمی ہے“۔ اور ایک وہ شخص جو علم نہ ہونے کے باوجود فیصلہ کرتا ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی ”تین قاضیوں“ والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ؛قاضی کا فیصلہ دیتے ہوئے غلطی کرنا؛جلد٣،ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٣٥٧٣)

بَابٌ فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ، فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ، فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3573

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد کرے اور درستگی کو پہنچ جائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، اور جب کوئی قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد کرے اور خطا کر جائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسی طرح ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ؛قاضی کا فیصلہ دیتے ہوئے غلطی کرنا؛جلد٣،ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٣٥٧٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ» فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3574

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آجائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ؛قاضی کا فیصلہ دیتے ہوئے غلطی کرنا؛جلد٣،ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٣٥٧٥)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ، ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ، فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3575

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ:(ارشاد باری تعالی ہے)(ترجمہ)'وہ لوگ جو اس چیز کے مطابق فیصلہ نہیں دیتے جو اللہ تعالی نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ کافر ہیں"(المائدہ ٤٤)یہ آیت یہاں تک ہے:" فاسق ہے"۔(مائدہ ٤٧)(حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں)یہ تین آیات یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی بطور خاص قریظہ اور نضیر قبیلوں سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ؛قاضی کا فیصلہ دیتے ہوئے غلطی کرنا؛جلد٣،ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٣٥٧٦)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي يَحْيَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44]، إِلَى قَوْلِهِ: {الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47] «هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ الثَّلَاثِ نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ خَاصَّةً فِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3576

عبدالرحمٰن بن بشر انصاری ازرق کہتے ہیں کہ کندہ کے دروازوں سے دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے اور حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے، تو ان دونوں نے کہا: کوئی ہے جو ہمارے درمیان فیصلہ کر دے! حلقے میں سے ایک شخص بول پڑا: ہاں، میں فیصلہ کر دوں گا، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکری لے کر اس کو مارا اور کہا: ٹھہر (عہد نبوی میں) قضاء میں جلد بازی کو مکروہ سمجھا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ؛عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٧٧)

بَابٌ فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ الْأَزْرَقِ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَبْوَابِ كِنْدَةَ وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ، فَقَالَا: أَلَا رَجُلٌ يُنَفِّذُ بَيْنَنَا، فَقَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْحَلْقَةِ أَنَا فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًى فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: «مَهْ إِنَّهُ كَانَ يُكْرَهُ التَّسَرُّعُ إِلَى الْحُكْمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3577

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس (عہدے) کے لیے مدد چاہی وہ اس کے سپرد کر دیا گیا، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی(یعنی سفارش نہیں کرواتا)تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے“۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ؛عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٧٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ، وُكِلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ، أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ». وَقَالَ وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ أَبُو عَوَانَةَ: عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3578

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے"ہم اپنے کام کے لیے کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کرے جو اس کا طلبگار ہو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ؛عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٧٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ نَسْتَعْمِلَ، أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3579

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الرِّشْوَةِ؛رشوت کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٨٠)

بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الرَّشْوَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3580

حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان (محاصل) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا“ اتنے میں انصار کا ایک سیاہ رنگ کا آدمی کھڑا ہوا،یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ کہتا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو (محاصل) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے، اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رکا رہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي هَدَايَا الْعُمَّالِ؛عمال کو ملنے والے تحفوں اور ہدیوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٨١)

بَابٌ فِي هَدَايَا الْعُمَّالِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا، فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟»، قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " وَأَنَا أَقُولُ: ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ، وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3581

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء (فیصلہ کرنے) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو ہدایت نصیب کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واضح ہو کر سامنے آ جائے گی“ وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الْقَضَاءُ؛فیصلہ کرنے کے آداب؛جلد٣،ص٣٠١؛حدیث نمبر؛٣٥٨٢)

بَابُ كَيْفَ الْقَضَاءُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ، وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ، فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ، كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ»، قَالَ: «فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا، أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3582

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے حق میں میں اس کے بھائی کے حق سے متعلق کسی چیز کا فیصلہ دوں تو وہ اس میں سے کچھ بھی حاصل نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لیے اگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہوگا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠١؛حدیث نمبر؛٣٥٨٣)

بَابٌ فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَيْءٍ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3583

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص اپنے میراث کے مسئلے میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان دونوں کے پاس ثبوت نہیں تھا صرف دعویٰ تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (پھر راوی نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی) تو دونوں رو پڑے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: میں نے اپنا حق تجھے دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”جب تم ایسا کر رہے ہو تو حق کو دو حصوں میں تقسیم کردو ، پھر قرعہ اندازی کر لو اور ایک دوسرے کو معاف کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠١؛حدیث نمبر؛٣٥٨٤)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ لَهُمَا، لَمْ تَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ إِلَّا دَعْوَاهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَبَكَى الرَّجُلَانِ، وَقَالَ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقِّي لَكَ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا إِذْ فَعَلْتُمَا مَا فَعَلْتُمَا فَاقْتَسِمَا، وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهَمَا، ثُمَّ تَحَالَّا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3584

ایک اور سند کے ساتھ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٥)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ، فَقَالَ: «إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3585

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے ممبر پر ارشاد فرمایا:اے لوگو!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بالکل درست ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالی انہیں ٹھیک راہ دکھاتا تھا،ہماری رائے صرف گمان اور اپنی سوچ پر مبنی ہوتی ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٦)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الرَّأْيَ إِنَّمَا كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصِيبًا لِأَنَّ اللَّهَ كَانَ يُرِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّكَلُّفُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3586

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُثْمَانَ الشَّامِيُّ: «وَلَا إِخَالُنِي رَأَيْتُ شَأْمِيًّا أَفْضَلَ مِنْهُ يَعْنِي حُرَيْزَ بْنَ عُثْمَانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3587

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ(کسی مقدمے کے) دونوں مخالف فریق،حاکم(قاضی)کے سامنے بیٹھیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب كَيْفَ يَجْلِسُ الْخَصْمَانِ بَيْنَ يَدَىِ الْقَاضِي؛دونوں فریق (مدعی اور مدعا علیہ) قاضی کے سامنے کس طرح بیٹھیں؟؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٨)

بَابُ كَيْفَ يَجْلِسُ الْخَصْمَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْقَاضِي حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3588

عبدالرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کو خط میں یہ لکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے:"کوئی بھی قاضی غصے کے عالم میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب الْقَاضِي يَقْضِي وَهُوَ غَضْبَانُ؛غصے کی حالت میں قاضی کا فیصلہ کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٩)

بَابُ الْقَاضِي يَقْضِي وَهُوَ غَضْبَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْضِي الْحَكَمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3589

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:(ارشاد باری تعالی ہے) "اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے درمیان فیصلہ کر دو یا پھر ان سے اعراض کرو"(تمہاری مرضی ہے)یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے اور ارشاد ہوا "اللہ تعالی نے جو نازل کیا ہے اس کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو"۔(المائدہ ٤٨) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب الْحُكْمِ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٩٠)

بَابُ الْحُكْمِ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ، أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ}، فَنُسِخَتْ، قَالَ: {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ} [المائدة: 48] "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3590

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ”جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ”اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت برابر کر دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب الْحُكْمِ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٣٥٩١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ، أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ} الْآيَةُ، قَالَ: كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا نِصْفَ الدِّيَةِ، وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ أَدَّوْا إِلَيْهِمُ الدِّيَةَ كَامِلَةً، فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3591

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن (کا گورنر) بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟“ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاسکو تو کیا کرو گے؟“ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے سینے پر مارا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی کردے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب اجْتِهَادِ الرَّأْىِ فِي الْقَضَاءِ؛فیصلے میں اجتہاد رائے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٣٥٩٢)

بَابُ اجْتِهَادِ الرَّأْيِ فِي الْقَضَاءِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ، مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: «كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟»، قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟»، قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا فِي كِتَابِ اللَّهِ؟» قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي، وَلَا آلُو فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ، رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3592

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا(تو اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب اجْتِهَادِ الرَّأْىِ فِي الْقَضَاءِ؛فیصلے میں اجتہاد رائے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٣٥٩٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3593

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے“۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: ”سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے“۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الصُّلْحِ؛صلح کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٣٥٩٤)

بَابٌ فِي الصُّلْحِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَوْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ شَكَّ الشَّيْخُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ» زَادَ أَحْمَدُ، «إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا، أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا» وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3594

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: ”اے کعب!“ تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن حدرد) سے فرمایا: ”اٹھو اور اسے ادا کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الصُّلْحِ؛صلح کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٣٥٩٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ: «يَا كَعْبُ»، فَقَالَ: لَبَّيْكَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشَارَ لَهُ بِيَدِهِ، أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ، قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ فَاقْضِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3595

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟یہ وہ شخص ہے جو اپنی گواہی دیتا ہے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)گواہی کے بارے میں خبر دیتا ہے اس سے پہلے کہ اس سے گواہی کا مطالبہ کیا جائے“۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الذي يأتي بشهادته» فرمایا، یا «يخبر بشهادته» کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ «اخبار» ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف «ابن ابی عمرۃ» کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الشَّهَادَاتِ؛گواہیوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٣٥٩٦)

بَابٌ فِي الشَّهَادَاتِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَدَانِيُّ، وأَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ، أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ، قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا»، شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَيَّتَهُمَا قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ مَالِكٌ: «الَّذِي يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ وَلَا يَعْلَمُ بِهَا الَّذِي هِيَ لَهُ»، قَالَ الْهَمَدَانِيُّ: وَيَرْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: «أَوْ يَأْتِي بِهَا الْإِمَامَ» وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ الْهَمَدَانِيِّ " قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: «ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ لَمْ يَقُلْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3596

یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس شخص کی سفارش اللہ کی کسی حد کے بارے میں رکاوٹ بن جائےتو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا؛جھگڑے میں حقیقت جاننے سے پہلے کسی ایک فریق کی مدد کرنا بڑا گناہ ہے؛جلد٣،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٣٥٩٧)

بَابٌ فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: جَلَسْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَجَلَسَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ، لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ عَنْهُ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3597

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی ظالم کے مقدمے میں مدد کرتا ہے وہ اللہ تعالی کے غضب کے ساتھ واپس آتا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا؛جھگڑے میں حقیقت جاننے سے پہلے کسی ایک فریق کی مدد کرنا بڑا گناہ ہے؛جلد٣،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٣٥٩٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ يَزِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: «وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3598

حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:(ترجمہ)”بتوں کی گندگی اور جھوٹی گواہی سے بچتے رہو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رہتے ہوئے اور اس کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوئے“ (سورۃ الحج: ۳۰) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي شَهَادَةِ الزُّورِ؛جھوٹی گواہی دینے کی برائی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٣٥٩٩)

بَابٌ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ يَعْنِي الْعُصْفُرِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ-: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: «عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ» ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَرَأَ {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ} [الحج: 31]

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3599

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت مسترد کردیا تھا، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ؛کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟؛جلد٣،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٣٦٠٠)

بَابُ مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، وَالْخَائِنَةِ وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْغِمْرُ: الْحِنَةُ، وَالشَّحْنَاءُ، وَالْقَانِعُ: الْأَجِيرُ التَّابِعُ مِثْلُ الْأَجِيرِ الْخَاصِّ "،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3600

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ؛کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟؛جلد٣،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٣٦٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ طَارِقٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا زَانٍ وَلَا زَانِيَةٍ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3601

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "کسی دیہاتی کی شہری کے خلاف گواہی جائز نہیں ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب شَهَادَةِ الْبَدَوِيِّ عَلَى أَهْلِ الأَمْصَارِ؛شہریوں کے خلاف دیہاتی کی گواہی کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٣٦٠٢)

بَابُ شَهَادَةِ الْبَدَوِيِّ عَلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3602

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ (عقبہ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں (میاں، بیوی) کو دودھ پلایا ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الشَّهَادَةِ فِي الرَّضَاعِ؛رضاعت (دودھ پلانے) کی گواہی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٣٦٠٣)

بَابُ الشَّهَادَةِ فِي الرَّضَاعِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ - وَحَدَّثَنِيهِ صَاحِبٌ لِي عَنْهُ وَأَنَا لِحَدِيثِ صَاحِبِي أَحْفَظُ - قَالَ: تَزَوَّجْتُ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا جَمِيعًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا لَكَاذِبَةٌ، قَالَ: «وَمَا يُدْرِيكَ؟ وَقَدْ قَالَتْ مَا قَالَتْ دَعْهَا عَنْكَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3603

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا ہے یہ ایوب کے ثقہ شاگردوں میں سے ایک ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الشَّهَادَةِ فِي الرَّضَاعِ؛رضاعت (دودھ پلانے) کی گواہی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٣٦٠٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، ح وحَدَّثَنَا عُثْمُانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ - وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ - فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: نَظَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَقَالَ: «هَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَصْحَابِ أَيُّوبَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3604

شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص کا مقام ”دقوقاء“ میں آخری وقت قریب آگیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو حضرت اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں (اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَفِي الْوَصِيَّةِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں کی گئی وصیت کے سلسلہ میں ذمی کی گواہی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٣٦٠٥)

بَابُ شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَفِي الْوَصِيَّةِ فِي السَّفَرِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاءَ هَذِهِ وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُ عَلَى وَصِيَّتِهِ فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فَأَخْبَرَاهُ وَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ وَوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللَّهِ مَا خَانَا وَلَا كَذَبَا وَلَا بَدَّلَا، وَلَا كَتَمَا، وَلَا غَيَّرَا وَإِنَّهَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُهُ فَأَمْضَى شَهَادَتَهُمَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3605

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی:(ترجمہ)"اے ایمان والو! تمہارے درمیان گواہی کا حکم یہ ہوگا، جب کسی شخص کو موت آجائے"۔(سورة المائدة: (۱۰۶) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَفِي الْوَصِيَّةِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں کی گئی وصیت کے سلسلہ میں ذمی کی گواہی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٣٦٠٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعُدَيِّ بْنِ بَدَّاءٍ، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ " فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعُدَيٍّ فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ، فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ " قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيهِمْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ} [المائدة: 106] الْآيَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3606

عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا کے حوالے سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں،یہ بات نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا میرے ساتھ چلو تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، چنانچہ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟“ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں“ پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟“حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے(یعنی ہم آپ کو سچا سمجھتے ہیں)، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب إِذَا عَلِمَ الْحَاكِمُ صِدْقَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَحْكُمَ بِهِ؛جب قاضی کو ایک ہی گواہ کے سچے ہونے کا یقین ہو تو اس کے لیے یہ بات جائز ہے کہ وہ اس ایک گواہ کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ دے دے؛جلد٣،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٣٦٠٧)

بَابٌ إِذَا عَلِمَ الْحَاكِمُ صِدْقَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَحْكُمَ بِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ، فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ، فَيُسَاوِمُونَهُ بِالْفَرَسِ وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ، فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسِ وَإِلَّا بِعْتُهُ؟ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ، فَقَالَ: «أَوْ لَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ؟» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا، وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلَى، قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ» فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ، يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا، فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ: «بِمَ تَشْهَدُ؟»، فَقَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3607

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قسم اور ایک گواہ کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٣٦٠٨)

بَابُ الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ، حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكَّيُّ، قَالَ: عُثْمَانُ سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3608

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں وہ"فیصلہ حقوق کے بارے میں تھا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٣٦٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ سَلَمَةُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ عَمْرٌو: فِي الْحُقُوقِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3609

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کوایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٣٦١٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَزَادَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُهَيْلٍ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ أَنِّي حَدَّثْتُهُ إِيَّاهُ وَلَا أَحْفَظُهُ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: «وَقَدْ كَانَ أَصَابَتْ سُهَيْلًا عِلَّةٌ أَذْهَبَتْ بَعْضَ عَقْلِهِ وَنَسِيَ بَعْضَ حَدِيثِهِ فَكَانَ سُهَيْلٌ، بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3610

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں ایک راوی کی غلطی کا ذکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٣٦١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ أَبِي مُصْعَبٍ، وَمَعْنَاهُ قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَقِيتُ سُهَيْلًا فَسَأَلْتُهُ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَبِيعَةَ أَخْبَرَنِي بِهِ عَنْكَ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ رَبِيعَةُ أَخْبَرَكَ عَنِّي فَحَدِّثْ بِهِ عَنْ رَبِيعَةَ عَنِّي

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3611

زُبیب عنبری کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون تمہارا گواہ ہے؟“ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟“ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ کسی کے بھی عمل کے ضائع ہونے کو ناپسند کرتا،تو ہم تم سے رسی بھی نہ لیتے“۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے (صورت حال) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ“ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: ”تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟“ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: ”تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے“ اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: ”جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو“ وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے (تلوار کے علاوہ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٣٦١٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي الزُّبَيْبَ، يَقُولُ بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ فَاسْتَاقُوهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكِبْتُ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرِ، قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَنْ بَيِّنَتُكَ؟» قُلْتُ: سَمُرَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ فَشَهِدَ الرَّجُلُ، وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ، فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الْآخَرِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَاسْتَحْلَفَنِي، فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ، وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّهُمْ لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ نَمَل مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالًا» قَالَ الزُّبَيْبُ: فَدَعَتْنِي أُمِّي، فَقَالَتْ: هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي: «احْبِسْهُ» فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ، وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ، فَقَالَ: «مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ؟» فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: «رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا»، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي، قَالَ: فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ فَأَعْطَانِيهِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: «اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ»، قَالَ: فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3612

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٣٦١٣)

بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: «أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3613

یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٣٦١٤)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3614

ایک اور سند کے ساتھ یہ الفاظ منقول ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٣٦١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3615

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اٹھانے کی بنیاد پر،تم اسے دو حصوں میں تقسیم کرلو، خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3616

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں“ (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے)۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦١٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَرِهَ الِاثْنَانِ الْيَمِينَ، أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا»، قَالَ سَلَمَةُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَقَالَ: إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3617

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: "ان کا اختلاف ایک جانور کے بارے میں تھا ان دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ہدایت کی کہ وہ قسم اٹھانے کی بنیاد پر قر اندازی کر لیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ، مِثْلَهُ قَالَ: فِي دَابَّةٍ، وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3618

ابن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے تحریر کر کے بھیجا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ کے قسم اٹھانے کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ قسم کھائے؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦١٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3619

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا،یعنی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف لینا تھا:کہ تم اس اللہ کے نام حلف اٹھاؤ،جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے،کہ تمہارے پاس اس کی کوئی چیز نہیں ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ مدعی کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب كَيْفَ الْيَمِينُ؛قسم کیسے کھائی جائے؟؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦٢٠)

بَابُ كَيْفَ الْيَمِينُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَعْنِي لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ «احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ» يَعْنِي لِلْمُدَّعِي، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو يَحْيَى: اسْمُهُ زِيَادٌ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3620

حضرت اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ (مشترک) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:(ترجمہ)"جو لوگ اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کی عوض میں تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں"یہ ایت آخر تک ہے“ (سورة آل عمران: ۷۷) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب إِذَا كَانَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ذِمِّيًّا أَيَحْلِفُ؛مدعی علیہ ذمی ہو تو اسے قسم کھلائی جائے یا نہیں؟؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦٢١)

بَابٌ إِذَا كَانَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ذِمِّيًّا أَيَحْلِفُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: «احْلِفْ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3621

حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے“ حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی (جو گزر چکی نمبر: ۳۲۴۴)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى عِلْمِهِ فِيمَا غَابَ عَنْهُ؛آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٣٦٢٢)

بَابُ الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى عِلْمِهِ فِيمَا غَابَ عَنْهُ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ، قَالَ: «هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ، وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ يَعْنِي لِلْيَمِينِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3622

حضرت وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اس پر کھیتی باڑی کرتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرم سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کندی سے) فرمایا: ”تو تیرے لیے قسم ہے“ تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى عِلْمِهِ فِيمَا غَابَ عَنْهُ؛آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٣٦٢٣)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الْحَضْرَمِيُّ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ لَا، قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ، لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: «لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3623

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا میں تم لوگوں کو اس اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر توریت نازل کی تھی تم لوگ زنا کرنے والے کے بارے میں توریت میں کیا حکم پاتے ہو اس کے بعد راوی نے سنگسار سے متعلق پورا واقعہ نقل کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب كَيْفَ يَحْلِفُ الذِّمِّيُّ؛ذمی کو کیسے قسم دلائی جائے؟؛جلد٣،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٣٦٢٤)

بَابُ كَيْفَ يَحْلِفُ الذِّمِّيُّ؟ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ، مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي لِلْيَهُودِ: «أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَى مَنْ زَنَى؟» - وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الرَّجْمِ -،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3624

Abu Daud Sharif Kitabul Aqziyate Hadees No# 3625

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ مُزْيَنَةَ مِمَّنْ كَانَ يَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَيَعِيهِ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3625

عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یعنی ابن صوریا(یہودیوں کے عالم)سے فرمایا: ”میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من و سلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب توریت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم (زانی کو پتھر مارنے) کا حکم ہے؟“ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب كَيْفَ يَحْلِفُ الذِّمِّيُّ؛ذمی کو کیسے قسم دلائی جائے؟؛جلد٣،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٣٦٢٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: يَعْنِي لِابْنِ صُورِيَا: «أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، وَأَقْطَعَكُمُ الْبَحْرَ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ، وَالسَّلْوَى، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَتَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمُ الرَّجْمَ؟»، قَالَ: ذَكَّرْتَنِي بِعَظِيمٍ، وَلَا يَسَعُنِي أَنْ أَكْذِبَكَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3626

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا: مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عاجز ہو جانے پر ملامت کرتا ہے،تم پر لازم ہے کہ تم سمجھ داری اختیار کرتے ہوئے(بھر پور طریقے سے کوئی کام کرو)، پھر جب تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو: میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى حَقِّهِ؛آدمی اپنے حق کے لیے قسم کھائے؛جلد٣،ص٣١٣؛حدیث نمبر؛٣٦٢٧)

بَابُ الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى حَقِّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ: لَمَّا أَدْبَرَ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ، فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3627

عمرو بن شرید اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:(قرض کی ادائیگی کی صلاحیت رکھنے والے)خوشحال شخص کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہتے ہیں عزت کو حلال کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا اور اس کی سزا کو حلال کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے قید کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ؛قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٣؛حدیث نمبر؛٣٦٢٨)

بَابٌ فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ، وَعُقُوبَتَهُ» قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: «يُحِلُّ عِرْضُهُ يُغَلَّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتَهُ يُحْبَسُ لَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3628

ہرماس بن حبیب ایک دیہاتی شخص سے روایت کرتے ہیں،میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”اس کو پکڑے رہو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے ساتھی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ؛قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٢٩)

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي: «الْزَمْهُ»، ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3629

بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہمت کی وجہ سے ایک شخص کو قید کر دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ؛قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣٠)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3630

بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو“ اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ؛قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ - قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ - حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، - قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ إِنَّ أَخَاهُ أَوْ عَمَّهُ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ -: إِنَّهُ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ» لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3631

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جانب نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا پھر میں نے عرض کیا: میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میرے وکیل کے پاس جانا تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا اور اگر وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْوَكَالَةِ؛وکیل بنانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣٢)

بَابٌ فِي الْوَكَالَةِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ: «إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3632

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جب تمہارا کسی راستے کے بارے میں اختلاف ہو جائے تو تم اسے(راستے کو)ساتھ ذراع مقرر کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣٣)

بَابٌ مِنَ الْقَضَاءِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَدَارَأْتُمْ فِي طَرِيقٍ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3633

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اس کی دیوار میں شہتیر(لکڑی)گاڑنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے“ یہ سن کر لوگوں نے سر جھکا لیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا بات ہے جو میں تمہیں اس حدیث سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا (یعنی اسے تم سے بیان کر کے ہی چھوڑوں گا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن ابی خلف کی حدیث ہے اور زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ، فَلَا يَمْنَعُهُ» فَنَكَّسُوا، فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ أَعْرَضْتُمْ؟ لَأُلْقِيَنَّهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا حَدِيثُ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ وَهُوَ أَتَمُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3634

حضرت ابوصرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف پہنچائے گا، اور جس نے کسی سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٣٦٣٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، - قَالَ: غَيْرَ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ - صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3635

Abu Daud Sharif Kitabul Aqziyate Hadees No# 3636

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ، قَالَ: فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ فَأَبَى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَبِيعَهُ فَأَبَى فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ فَأَبَى، قَالَ: «فَهِبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا وَكَذَا» أَمْرًا رَغَّبَهُ فِيهِ فَأَبَى، فَقَالَ: «أَنْتَ مُضَارٌّ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ: «اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3636

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے حرۃ کی نالیوں سے آنے والے پانی کے سلسلہ میں جھگڑا کیا جس سے وہ سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی کو بہنے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنے کھیت سینچ لو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو“ یہ سن کر انصاری کو غصہ آ گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں نا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنے کھیت سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ کھیت کے مینڈھوں تک بھر جائے“۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں یہ سمجھتا ہوں،یہ آیت مبارکہ اسی بارے میں نازل ہوئی تھی۔(ترجمہ) ”قسم ہے تیرے رب کی وہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ کو اپنا فیصل نہ مان لیں“ (سورة النساء: ۶۵) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٣٦٣٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ»، قَالَ: فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ» فَقَالَ الزُّبَيْرُ: «فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ، الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ» {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ} [النساء: 65] الْآيَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3637

ثعلبہ بن ابو مالک قرظی کہتے ہیں انہوں نے اپنے بزرگوں سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا بنو قریظہ میں زمین کا ایک ٹکڑا تھا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مہزور کے نالے کے متعلق جھگڑا لے کر آیا جس کا پانی سب تقسیم کر لیتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جب تک پانی ٹخنوں تک نہ پہنچ جائے اوپر والا نیچے والے کے لیے نہ روکے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٣٦٣٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَبِيهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ كُبَرَاءَهُمْ، يَذْكُرُونَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَهُ سَهْمٌ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَخَاصَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَهْزُورٍ يَعْنِي السَّيْلَ الَّذِي يَقْتَسِمُونَ مَاءَهُ: «فَقَضَى بَيْنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَاءَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ لَا يَحْبِسُ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3638

عمرو بن سعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہزور سے آنے والے پانی کے نالے کے بارے میں فیصلہ دیا تھا کہ اسے اس حد تک روکا جائے گا جب تک یہ ٹخنوں تک نہیں پہنچ جاتا پھر پہلے والا اسے بعد والے کے لیے چھوڑے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٣٦٣٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسِلُ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3639

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا ان میں سے ایک شخص کے کھجور کے درخت دوسرے کی زمین میں تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ اس درخت کو ناپا جائے اس درخت کو ناپا گیا تو وہ سات زراع کا تھا(ایک روایت میں یہ الفاظ ہے)وہ پانچ زراع کا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ فیصلہ دیا(درخت کے اطراف کی اتنی زمین درخت کا حصہ شمار ہوگی) عبدالعزیز کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٣٦٤٠)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُثْمَانَ، حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: اخْتَصَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فِي حَرِيمِ نَخْلَةٍ فِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا، «فَأَمَرَ بِهَا فَذُرِعَتْ، فَوُجِدَتْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ، وَفِي حَدِيثِ الْآخَرِ، فَوُجِدَتْ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ فَقَضَى بِذَلِكَ» قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: «فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ مِنْ جَرِيدِهَا فَذُرِعَتْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Aqziyate, Hadees No. 3640

Abu Dawood Shareef : Kitabul Aqziyate

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْأَقْضِيَةِ

|

•