
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص قضا کا نگراں بنے وہ چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ؛منصب قضاء طلب کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٣٥٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جسے لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا اسے چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ؛منصب قضاء طلب کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩٨؛حدیث نمبر؛٣٥٧٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں زیادتی کر جاتا ہے تو وہ جہنمی ہے“۔ اور ایک وہ شخص جو علم نہ ہونے کے باوجود فیصلہ کرتا ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی ”تین قاضیوں“ والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ؛قاضی کا فیصلہ دیتے ہوئے غلطی کرنا؛جلد٣،ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٣٥٧٣)
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد کرے اور درستگی کو پہنچ جائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے، اور جب کوئی قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد کرے اور خطا کر جائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسی طرح ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ؛قاضی کا فیصلہ دیتے ہوئے غلطی کرنا؛جلد٣،ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٣٥٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کی درخواست کرے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے پھر اس کے ظلم پر اس کا عدل غالب آجائے تو اس کے لیے جنت ہے، اور جس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آ جائے تو اس کے لیے جہنم ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ؛قاضی کا فیصلہ دیتے ہوئے غلطی کرنا؛جلد٣،ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٣٥٧٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ:(ارشاد باری تعالی ہے)(ترجمہ)'وہ لوگ جو اس چیز کے مطابق فیصلہ نہیں دیتے جو اللہ تعالی نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ کافر ہیں"(المائدہ ٤٤)یہ آیت یہاں تک ہے:" فاسق ہے"۔(مائدہ ٤٧)(حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں)یہ تین آیات یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی بطور خاص قریظہ اور نضیر قبیلوں سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْقَاضِي يُخْطِئُ؛قاضی کا فیصلہ دیتے ہوئے غلطی کرنا؛جلد٣،ص٢٩٩؛حدیث نمبر؛٣٥٧٦)
عبدالرحمٰن بن بشر انصاری ازرق کہتے ہیں کہ کندہ کے دروازوں سے دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے اور حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے، تو ان دونوں نے کہا: کوئی ہے جو ہمارے درمیان فیصلہ کر دے! حلقے میں سے ایک شخص بول پڑا: ہاں، میں فیصلہ کر دوں گا، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکری لے کر اس کو مارا اور کہا: ٹھہر (عہد نبوی میں) قضاء میں جلد بازی کو مکروہ سمجھا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ؛عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٧٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص منصب قضاء کا طالب ہوا اور اس (عہدے) کے لیے مدد چاہی وہ اس کے سپرد کر دیا گیا، جو شخص اس عہدے کا خواستگار نہیں ہوا اور اس کے لیے مدد نہیں چاہی(یعنی سفارش نہیں کرواتا)تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک فرشتہ نازل فرماتا ہے جو اسے راہ صواب پر رکھتا ہے“۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ؛عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٧٨)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے"ہم اپنے کام کے لیے کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کرے جو اس کا طلبگار ہو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْقَضَاءِ وَالتَّسَرُّعِ إِلَيْهِ؛عہدہ قضاء کو طلب کرنا اور فیصلہ میں جلدی کرنا صحیح نہیں ہے؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٧٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الرِّشْوَةِ؛رشوت کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٨٠)
حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جو شخص کسی کام پر ہمارا عامل مقرر کیا گیا، پھر اس نے ہم سے ان (محاصل) میں سے ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو وہ چوری ہے، اور وہ قیامت کے دن اس چرائی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا“ اتنے میں انصار کا ایک سیاہ رنگ کا آدمی کھڑا ہوا،یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: آپ کو میں نے ایسے ایسے فرماتے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ کہتا ہوں کہ ہم نے جس شخص کو کسی کام پر عامل مقرر کیا تو (محاصل) تھوڑا ہو یا زیادہ اسے حاضر کرے اور جو اس میں سے اسے دیا جائے اسے لے لے، اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رکا رہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي هَدَايَا الْعُمَّالِ؛عمال کو ملنے والے تحفوں اور ہدیوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛٣٥٨١)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے (قاضی) بنا کر بھیج رہے ہیں جب کہ میں کم عمر ہوں اور قضاء (فیصلہ کرنے) کا علم بھی مجھے نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو ہدایت نصیب کرے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا، جب تم فیصلہ کرنے بیٹھو اور تمہارے سامنے دونوں فریق موجود ہوں تو جب تک تم دوسرے کا بیان اسی طرح نہ سن لو جس طرح پہلے کا سنا ہے فیصلہ نہ کرو کیونکہ اس سے معاملے کی حقیقت واضح ہو کر سامنے آ جائے گی“ وہ کہتے ہیں: تو میں برابر فیصلہ دیتا رہا، کہا: پھر مجھے اس کے بعد کسی فیصلے میں شک نہیں ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب كَيْفَ الْقَضَاءُ؛فیصلہ کرنے کے آداب؛جلد٣،ص٣٠١؛حدیث نمبر؛٣٥٨٢)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں، تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے حق میں میں اس کے بھائی کے حق سے متعلق کسی چیز کا فیصلہ دوں تو وہ اس میں سے کچھ بھی حاصل نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لیے اگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہوگا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠١؛حدیث نمبر؛٣٥٨٣)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص اپنے میراث کے مسئلے میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان دونوں کے پاس ثبوت نہیں تھا صرف دعویٰ تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ (پھر راوی نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی) تو دونوں رو پڑے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہنے لگا: میں نے اپنا حق تجھے دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”جب تم ایسا کر رہے ہو تو حق کو دو حصوں میں تقسیم کردو ، پھر قرعہ اندازی کر لو اور ایک دوسرے کو معاف کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠١؛حدیث نمبر؛٣٥٨٤)
ایک اور سند کے ساتھ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٥)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے ممبر پر ارشاد فرمایا:اے لوگو!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بالکل درست ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالی انہیں ٹھیک راہ دکھاتا تھا،ہماری رائے صرف گمان اور اپنی سوچ پر مبنی ہوتی ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ؛جب قاضی(فیصلہ دیتے ہوئے)غلطی کر جاے؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٧)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ(کسی مقدمے کے) دونوں مخالف فریق،حاکم(قاضی)کے سامنے بیٹھیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب كَيْفَ يَجْلِسُ الْخَصْمَانِ بَيْنَ يَدَىِ الْقَاضِي؛دونوں فریق (مدعی اور مدعا علیہ) قاضی کے سامنے کس طرح بیٹھیں؟؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٨)
عبدالرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کو خط میں یہ لکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے:"کوئی بھی قاضی غصے کے عالم میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب الْقَاضِي يَقْضِي وَهُوَ غَضْبَانُ؛غصے کی حالت میں قاضی کا فیصلہ کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٨٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:(ارشاد باری تعالی ہے) "اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے درمیان فیصلہ کر دو یا پھر ان سے اعراض کرو"(تمہاری مرضی ہے)یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے اور ارشاد ہوا "اللہ تعالی نے جو نازل کیا ہے اس کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو"۔(المائدہ ٤٨) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب الْحُكْمِ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛٣٥٩٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ”جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ”اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت برابر کر دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب الْحُكْمِ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ؛ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٣٥٩١)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن (کا گورنر) بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟“ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاسکو تو کیا کرو گے؟“ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے سینے پر مارا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی کردے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب اجْتِهَادِ الرَّأْىِ فِي الْقَضَاءِ؛فیصلے میں اجتہاد رائے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٣٥٩٢)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا(تو اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛قضاء کے متعلق احکام و مسائل؛باب اجْتِهَادِ الرَّأْىِ فِي الْقَضَاءِ؛فیصلے میں اجتہاد رائے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛٣٥٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے“۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: ”سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے“۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الصُّلْحِ؛صلح کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٣٥٩٤)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: ”اے کعب!“ تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن حدرد) سے فرمایا: ”اٹھو اور اسے ادا کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الصُّلْحِ؛صلح کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٣٥٩٥)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟یہ وہ شخص ہے جو اپنی گواہی دیتا ہے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)گواہی کے بارے میں خبر دیتا ہے اس سے پہلے کہ اس سے گواہی کا مطالبہ کیا جائے“۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الذي يأتي بشهادته» فرمایا، یا «يخبر بشهادته» کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ «اخبار» ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف «ابن ابی عمرۃ» کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الشَّهَادَاتِ؛گواہیوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛٣٥٩٦)
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس شخص کی سفارش اللہ کی کسی حد کے بارے میں رکاوٹ بن جائےتو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا؛جھگڑے میں حقیقت جاننے سے پہلے کسی ایک فریق کی مدد کرنا بڑا گناہ ہے؛جلد٣،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٣٥٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی ظالم کے مقدمے میں مدد کرتا ہے وہ اللہ تعالی کے غضب کے ساتھ واپس آتا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِيمَنْ يُعِينُ عَلَى خُصُومَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَعْلَمَ أَمْرَهَا؛جھگڑے میں حقیقت جاننے سے پہلے کسی ایک فریق کی مدد کرنا بڑا گناہ ہے؛جلد٣،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٣٥٩٨)
حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:(ترجمہ)”بتوں کی گندگی اور جھوٹی گواہی سے بچتے رہو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رہتے ہوئے اور اس کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوئے“ (سورۃ الحج: ۳۰) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي شَهَادَةِ الزُّورِ؛جھوٹی گواہی دینے کی برائی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛٣٥٩٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت مسترد کردیا تھا، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ؛کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟؛جلد٣،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٣٦٠٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ؛کس کی گواہی نہیں مانی جائے گی؟؛جلد٣،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٣٦٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "کسی دیہاتی کی شہری کے خلاف گواہی جائز نہیں ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب شَهَادَةِ الْبَدَوِيِّ عَلَى أَهْلِ الأَمْصَارِ؛شہریوں کے خلاف دیہاتی کی گواہی کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٣٦٠٢)
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ (عقبہ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں (میاں، بیوی) کو دودھ پلایا ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الشَّهَادَةِ فِي الرَّضَاعِ؛رضاعت (دودھ پلانے) کی گواہی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛٣٦٠٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا ہے یہ ایوب کے ثقہ شاگردوں میں سے ایک ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الشَّهَادَةِ فِي الرَّضَاعِ؛رضاعت (دودھ پلانے) کی گواہی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٣٦٠٤)
شعبی کہتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص کا مقام ”دقوقاء“ میں آخری وقت قریب آگیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو حضرت اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں (اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَفِي الْوَصِيَّةِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں کی گئی وصیت کے سلسلہ میں ذمی کی گواہی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٣٦٠٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی:(ترجمہ)"اے ایمان والو! تمہارے درمیان گواہی کا حکم یہ ہوگا، جب کسی شخص کو موت آجائے"۔(سورة المائدة: (۱۰۶) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَفِي الْوَصِيَّةِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں کی گئی وصیت کے سلسلہ میں ذمی کی گواہی کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛٣٦٠٦)
عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا کے حوالے سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں،یہ بات نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا میرے ساتھ چلو تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، چنانچہ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟“ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں“ پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟“حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے(یعنی ہم آپ کو سچا سمجھتے ہیں)، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب إِذَا عَلِمَ الْحَاكِمُ صِدْقَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَحْكُمَ بِهِ؛جب قاضی کو ایک ہی گواہ کے سچے ہونے کا یقین ہو تو اس کے لیے یہ بات جائز ہے کہ وہ اس ایک گواہ کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ دے دے؛جلد٣،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٣٦٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قسم اور ایک گواہ کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٣٦٠٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں وہ"فیصلہ حقوق کے بارے میں تھا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛٣٦٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کوایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٣٦١٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں ایک راوی کی غلطی کا ذکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٣٦١١)
زُبیب عنبری کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون تمہارا گواہ ہے؟“ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟“ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ کسی کے بھی عمل کے ضائع ہونے کو ناپسند کرتا،تو ہم تم سے رسی بھی نہ لیتے“۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے (صورت حال) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ“ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: ”تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟“ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: ”تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے“ اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: ”جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو“ وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے (تلوار کے علاوہ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛٣٦١٢)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٣٦١٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٣٦١٤)
ایک اور سند کے ساتھ یہ الفاظ منقول ہے:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١٠؛حدیث نمبر؛٣٦١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اٹھانے کی بنیاد پر،تم اسے دو حصوں میں تقسیم کرلو، خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں“ (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے)۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦١٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: "ان کا اختلاف ایک جانور کے بارے میں تھا ان دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ہدایت کی کہ وہ قسم اٹھانے کی بنیاد پر قر اندازی کر لیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛ باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ؛دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦١٨)
ابن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے تحریر کر کے بھیجا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ کے قسم اٹھانے کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ قسم کھائے؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦١٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا،یعنی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف لینا تھا:کہ تم اس اللہ کے نام حلف اٹھاؤ،جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے،کہ تمہارے پاس اس کی کوئی چیز نہیں ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ مدعی کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب كَيْفَ الْيَمِينُ؛قسم کیسے کھائی جائے؟؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦٢٠)
حضرت اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ (مشترک) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:(ترجمہ)"جو لوگ اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کی عوض میں تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں"یہ ایت آخر تک ہے“ (سورة آل عمران: ۷۷) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب إِذَا كَانَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ذِمِّيًّا أَيَحْلِفُ؛مدعی علیہ ذمی ہو تو اسے قسم کھلائی جائے یا نہیں؟؛جلد٣،ص٣١١؛حدیث نمبر؛٣٦٢١)
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے“ حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی (جو گزر چکی نمبر: ۳۲۴۴)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى عِلْمِهِ فِيمَا غَابَ عَنْهُ؛آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٣٦٢٢)
حضرت وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اس پر کھیتی باڑی کرتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرم سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کندی سے) فرمایا: ”تو تیرے لیے قسم ہے“ تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى عِلْمِهِ فِيمَا غَابَ عَنْهُ؛آدمی سے کسی ایسے مسئلہ میں جو اس کی موجودگی میں نہ ہوا ہو اس کے علم کی بنیاد پر قسم دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٣٦٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا میں تم لوگوں کو اس اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس نے حضرت موسی علیہ السلام پر توریت نازل کی تھی تم لوگ زنا کرنے والے کے بارے میں توریت میں کیا حکم پاتے ہو اس کے بعد راوی نے سنگسار سے متعلق پورا واقعہ نقل کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب كَيْفَ يَحْلِفُ الذِّمِّيُّ؛ذمی کو کیسے قسم دلائی جائے؟؛جلد٣،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٣٦٢٤)
Abu Daud Sharif Kitabul Aqziyate Hadees No# 3625
عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یعنی ابن صوریا(یہودیوں کے عالم)سے فرمایا: ”میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من و سلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب توریت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم (زانی کو پتھر مارنے) کا حکم ہے؟“ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب كَيْفَ يَحْلِفُ الذِّمِّيُّ؛ذمی کو کیسے قسم دلائی جائے؟؛جلد٣،ص٣١٢؛حدیث نمبر؛٣٦٢٦)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا: مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عاجز ہو جانے پر ملامت کرتا ہے،تم پر لازم ہے کہ تم سمجھ داری اختیار کرتے ہوئے(بھر پور طریقے سے کوئی کام کرو)، پھر جب تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو: میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ عَلَى حَقِّهِ؛آدمی اپنے حق کے لیے قسم کھائے؛جلد٣،ص٣١٣؛حدیث نمبر؛٣٦٢٧)
عمرو بن شرید اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:(قرض کی ادائیگی کی صلاحیت رکھنے والے)خوشحال شخص کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہتے ہیں عزت کو حلال کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا اور اس کی سزا کو حلال کرنے سے مراد یہ ہے کہ اسے قید کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ؛قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٣؛حدیث نمبر؛٣٦٢٨)
ہرماس بن حبیب ایک دیہاتی شخص سے روایت کرتے ہیں،میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”اس کو پکڑے رہو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے ساتھی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ؛قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٢٩)
بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہمت کی وجہ سے ایک شخص کو قید کر دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ؛قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣٠)
بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو“ اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَغَيْرِهِ؛قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جانب نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا پھر میں نے عرض کیا: میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میرے وکیل کے پاس جانا تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا اور اگر وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْوَكَالَةِ؛وکیل بنانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جب تمہارا کسی راستے کے بارے میں اختلاف ہو جائے تو تم اسے(راستے کو)ساتھ ذراع مقرر کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اس کی دیوار میں شہتیر(لکڑی)گاڑنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے“ یہ سن کر لوگوں نے سر جھکا لیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا بات ہے جو میں تمہیں اس حدیث سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا (یعنی اسے تم سے بیان کر کے ہی چھوڑوں گا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن ابی خلف کی حدیث ہے اور زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٤؛حدیث نمبر؛٣٦٣٤)
حضرت ابوصرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف پہنچائے گا، اور جس نے کسی سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٣٦٣٥)
Abu Daud Sharif Kitabul Aqziyate Hadees No# 3636
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے حرۃ کی نالیوں سے آنے والے پانی کے سلسلہ میں جھگڑا کیا جس سے وہ سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی کو بہنے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنے کھیت سینچ لو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو“ یہ سن کر انصاری کو غصہ آ گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں نا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنے کھیت سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ کھیت کے مینڈھوں تک بھر جائے“۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں یہ سمجھتا ہوں،یہ آیت مبارکہ اسی بارے میں نازل ہوئی تھی۔(ترجمہ) ”قسم ہے تیرے رب کی وہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ کو اپنا فیصل نہ مان لیں“ (سورة النساء: ۶۵) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٥؛حدیث نمبر؛٣٦٣٧)
ثعلبہ بن ابو مالک قرظی کہتے ہیں انہوں نے اپنے بزرگوں سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا بنو قریظہ میں زمین کا ایک ٹکڑا تھا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مہزور کے نالے کے متعلق جھگڑا لے کر آیا جس کا پانی سب تقسیم کر لیتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جب تک پانی ٹخنوں تک نہ پہنچ جائے اوپر والا نیچے والے کے لیے نہ روکے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٣٦٣٨)
عمرو بن سعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہزور سے آنے والے پانی کے نالے کے بارے میں فیصلہ دیا تھا کہ اسے اس حد تک روکا جائے گا جب تک یہ ٹخنوں تک نہیں پہنچ جاتا پھر پہلے والا اسے بعد والے کے لیے چھوڑے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٣٦٣٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا ان میں سے ایک شخص کے کھجور کے درخت دوسرے کی زمین میں تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ اس درخت کو ناپا جائے اس درخت کو ناپا گیا تو وہ سات زراع کا تھا(ایک روایت میں یہ الفاظ ہے)وہ پانچ زراع کا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ فیصلہ دیا(درخت کے اطراف کی اتنی زمین درخت کا حصہ شمار ہوگی) عبدالعزیز کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَقْضِيَةِ؛باب فِي الْقَضَاءِ؛قضاء سے متعلق (مزید) مسائل کا بیان؛جلد٣،ص٣١٦؛حدیث نمبر؛٣٦٤٠)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Aqziyate
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْأَقْضِيَةِ
|
•