
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو (لوگوں) سے دور چلے جاتے تھے_ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الطہارت جلد ١ ص ١ حدیث نمبر ١ حکم حدیث حسن صحيح)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قضائے حاجت کرنا ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اتنی دور) چلے جاتے کہ کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے (ابوداؤد شریف كِتَاب الطَّهَارَةِ؛بَابُ التَّخَلِّي عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ١ حدیث ٢ حکم حدیث صحيح؛
ابو تیاح بیان کرتے ہیں:مجھے ایک بزرگ نے یہ بات بتائی :جب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بصری تشریف لائے تو انہیں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے منقول کچھ احادیث بیان کی گئیں؛ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا :حضرت ابو موسیٰ اشعری نے انہیں جواب میں لکھا :ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کا ارادہ فرمایا؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کی جڑ کے پاس موجود نرم مٹی کے پاس آئے اور وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب فرمایا ؛پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جب کسی شخص کو پیشاب کرنا ہو؛ تو اسے پیشاب کرنے کے لئے(مناسب) جگہ تلاش کرنی چاہیے (سنن ابی داؤد شریف کتاب الطہارت باب الرجل یتبوا لبولہ یعنی آدمی کا پیشاب کرنے کے لئے جگہ تیار کرنا حدیث نمبر ٣ حکم حدیث إسناده ضعيف لإبهام شيخ أبي التياح. حماد: هو ابن سلمة، وأبو التياح: هو يزيد بن حميد الضُّبَعي. وأخرجه البيهقي ١/ ٩٣ من طريق أبي داود، بهذا الإسناد. وأخرجه الطيالسي (٥١٩)، وأحمد (١٩٥٣٧) و (١٩٥٣٧) و (١٩٧١٤)، والروياني (٥٥٨)، والحاكم ٣/ ٤٦٥ - ٤٦٦، والبيهقي ١/ ٩٣ - ٩٤ من طريق شعبة، عن أبي التياح، به.=محقق الارنووط)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے حماد کی روایت میں ہے تو کہتے اے اللہ میں تیری پناہ پکڑتا اور عبدالوارث کی روایت میں ہے تو کہتے میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں ناپاکی اور ناپاکوں سے۔کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ (ابوداؤد شریف کتاب الطہارۃ؛ باب ما يقول الرجل إذا دخل الخلاء؛ جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر٤ حکم حدیث انسادہ صحیح"الانرووط)
ابن خطاب نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے یہی حدیث روایت کی کہ کہتے ہیں اے اللہ میں تیری پناہ پکڑتا ہوں شعبہ کی روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کہا میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں اور وہیب نے عبدالعزیز سے روایت کی پس اللہ کی پناہ پکڑنی چاہیے۔کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ؛جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر؛٥؛إسناده صحيح"الارنووط؛
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شیاطین حاضر ہوتے رہتے ہیں لہذا جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں جائے تو اسے کہنا چاہیے میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں ناپاکی اور ناپاکیوں سے۔کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ؛جلد ١ ص ٦؛حدیث نمبر٦؛إسناده صحيح"الارنووط
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کے نبی نے ہر چیز آپ لوگوں کو سکھا دی یہاں تک کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی۔فرمایا یہی بات ہے کہ آپ نے منع فرمایا ہے کہ بول و براز کے وقت ہم قبلہ کی طرف منہ رکھے اور یہ کہ ہم دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کریں اور ہم سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے یا گوبر اور ہڈی سے استنجا نہ کرے۔ كتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ٦؛حديث نمبر٧؛إسناده صحيح؛ "الارنووطَ
باب قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی کراہت۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے باپ کی طرح ہوں کیوں کہ تمہیں تعلیم دیتا ہوں جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تو قبلہ کی جانب منہ نہ کرے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور آپ تین ڈھیلوں کا حکم فرماتے نیز گوبر اور ہڈی کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرماتے۔ كتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ"جلد ١ ص ٧؛حديث نمبر٨؛إسناده قوي من أجل محمد بن عجلان، ففيه كلام يحطه عن رتبة الثقة، وباقي رجاله ثقات. ابن المبارك: هو عبد الله، وأبو صالح: هو ذكوان السمان. وأخرجه النسائي في "المجتبى" (٤٠)، وابن ماجه (٣١٢) و (٣١٣) من طريق محمد بن عجلان، بهذا الإسناد. وهو في "مسند أحمد" (٧٣٦٨)، و"صحيح ابن حبان" (١٤٣١) و (١٤٤٠). وأخرجه مسلم (٢٦٥) من طريق سهيل بن أبي صالح، عن القعقاع، به، بلفظ: "إذا جلس أحدكم على حاجته، فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها". الروث: هو رجيع ذوات الحوافر، والرمة: العظم البالي.
باب قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی کراہت۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی قضا ے حاجت کے لیے بیٹھے تو قبلہ کی جانب منہ نہ رکھے۔پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت بلکہ مشرق یا مغرب کو منہ رکھےجب ہم شام میں آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے ہیں تو ہم قبلہ کی جانب سے پھر جاتے اور اللہ تعالی سے معافی چاہتے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ٨؛حدیث نمبر٩؛إسناده صحيح"الارنووط؛
حضرت معقل بن ابو معقل اسدی کا بیان ہے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب یا پاخانے کے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابو زید بنی ثعلبہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ كتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ٩؛حدیث نمبر١٠؛إسناده ضعيف لجهالة أبي زيد مولى بني ثعلبة. وهيب: هو ابن خالد.وأخرجه ابن ماجه (٣١٩) من طريق عمرو بن يحيى المازني، بهذا الإسناد. وهو في مسند أحمد" (١٧٨٣٨).
مروان اصغر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے قبلہ کی جانب اپنا اونٹ بٹھایا اور پھر اس کی طرف پیشاب کرنے لگے میں عرض گزار ہوا کہ اے ابوعبدالرحمن کیا ایسا کرنے سے منع نہیں فرمایا گیا ہے؟ فرمایا کیوں نہیں خالی جگہ میں ایسا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے لیکن جب تمہارے اور قبیلے کے درمیان کوئی ایسی چیز ہو جو تمہیں چھپا لے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں نہیں۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ١٠؛حديث نمبر١١٤؛ اسناده ضعيف؛ الارنووط؛
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا بیان ہے کہ میں اپنے مکان کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ دو اینٹوں پر بیٹھے بیت المقدس کی جانب منہ کرکے حاجت رفع فرما رہے ہیں۔ ابو داؤد شریف؛ کتاب الطهاره بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛جلد ١ ص ١٠؛ حديث نمبر ١٢؛ إسناده صحيح.
مجاہد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پیشاب کرتے وقت قبلہ کی جانب منہ کرنے سے منع فرمایا ہے پھر وصال سے ایک سال پہلے میں نے آپ کو ادھر منہ کرتے ہوئے دیکھا۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهاره بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛جلد ١ ص ١٠؛حديث نمبر١٣؛"إسناده حسن" الارنووط)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قبلہ حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین کے نزدیک نہ ہو جاتے اس وقت تک کپڑا نہ اٹھاتے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالسلام بن حر ب ،اعمش،حضرت انس بن مالک والی سند ضعیف ہے ۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارات،بَابُ كَيْفَ التَّكَشُّفُ عِنْدَ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ١٢؛حديث نمبر ١٤؛حديث حسن"الارنووط؛
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو دو آدمی قضائے حاجت کیلئے نکلے اور اپنے ستر کھول کر آپس میں گفتگو کرتے رہیں تو اللہ تعالی اس بات سے ناراض ہوتا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے عکرمہ بن عمار ہی نے روایت کیا ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ الْكَلَامِ عِنْدَ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ١٢؛حديث نمبر١٥؛إسناده ضعيف لجهالة هلال بن عياض، ويقال: عياض بن هلال، وهو الراجح في اسمه، فقد تفرد بالرواية عنه يحيى بن أبي كثير. وفي إسناده اضطراب بيَّناه في " المسند" (١١٣١٠). وأخرجه النسائي في "الكبرى" (٣٦) و (٣٧)، وابن ماجه (٣٤٢) من طريق عكرمة بن عمار، بهذا الإسناد."الارنووط-
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا جب کہ آپ پیشاب کر رہے تھے تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے اسے جواب نہ دیا۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کرکے پھر اس آدمی کو سلام کا جواب دیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ أَيَرُدُّ السَّلَامَ وَهُوَ يَبُولُ؛جلد١ص ١٣؛حديث نمبر١٦؛إسناده صحيح؛الارنووط؛
حضرت مہاجربن قنفز رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے انہوں نے سلام عرض کیا لیکن آپ نے انہیں جواب مرحمت نہ فرمایایہاں تک وضو فرما لیا پھر ان سے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالی کا ذکر کرنا ناپسند کیا مگر پاکی کی حالت میں یا فرمایا کہ حالت طہارت میں ۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارة،بَابُ أَيَرُدُّ السَّلَامَ وَهُوَ يَبُولُ؛جلد١ص ١٤؛حديث نمبر١٧؛إسناده صحيح؛الارنووط؛
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کا ذکر ہر حالت (وضو ہو یا نہ ہو) میں کر لیاکرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارة ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ؛جلد ١ ص ١٤؛حديث نمبر١٨؛إسناده صحيح؛الارنووط؛
زہری سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنی انگشتری مبارک کو اتار دیا کرتے تھے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہیں اور یہ معروف اس سند کے ساتھ ہیں ابن جریج،زیاد بن سعد الزہری ،حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور پھر اسے ڈال دیا۔ مذکورہ روایت میں ہمام کو وہم ہوا اور ہمام کے سوا کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ الْخَاتَمِ يَكُونُ فِيهِ ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى يُدْخَلُ بِهِ الْخَلَاءُ؛جلد ١ ص ١٦؛حديث نمبر١٩؛إسناده ضعيف؛ الارنووط؛
طاؤس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ پر عذاب نہیں دیے جا رہے ہے جہاں تک اس کا تعلق ہے تو یہ پیشاب کی چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا۔ اور وہ چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔پھر آپ نے کھجورکی ایک ترٹہنی منگوائی اور چیر کر دو حصے کئے ایک حصہ اس قبر پر اور دوسرا حصہ اس خبر پر گاڑ دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں شاید ان دونوں کے عذاب میں کمی ہوتی رہے۔ ہناد نے فرمایا کہ پاک کرنے کی جگہ کو پاک نہیں کرتا تھا ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ؛جلد١ص ١٧َ؛حديث نمبر٢٠؛إسناده صحيح؛الارنووط؛
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنیٰ روایت کرتے ہوئے فرمایاـ اپنے پیشاب سے چھپتا نہ تھا اور ابو معاویہ نے فرمایا کہ بچتا نہ تھا ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ؛جلد ١ ص ١٨؛حديث نمبر٢١؛إسناده صحيح؛الارنووط ؛
عبدالرحمن بن حسنہ کا بیان ہے کہ میں اور عمرو بن العاص دونوں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ایک ڈھال لے کر باہر نکلے۔پھر اس کے ساتھ پردہ کرکے آپ نےپیشاب کیا۔ہم نے کہا کہ ان کی طرف دیکھئے جو عورتوں کی طرح چھپ کر پیشاب کرتے ہیں آپ نے یہ بات سن کر فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟جب ان میں سے کسی کو پیشاب لگ جاتا تو اس جگہ کو کاٹ دیتےجہاں پیشاب لگا ہوا ہوتا۔اس نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ منصور،ابو وائل ابوموسی نے اس حدیث میں فرمایا،،آدمی اپنی جلد کو،،عاضم،ابووائل ابوموسیٰ۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا،،آدمی اپنے جسم کے حصے کو،،۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ؛جلد ١ ص ١٨؛حديث نمبر٢٢؛إسناده صحيح؛الارنووط؛
حفص بن عمر اور مسلم بن ابراہیم شعبہ سے مسدد ابوعوانہ حفص، سلیمان، ابو وائل حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کی کوڑی پر تشریف فرما ہوئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی منگوا کر اپنے موزوں پر مسح فرمایا ۔امام ابو داؤد کا بیان ہے کہ مسدد نے یہ بھی فرمایا میں پیچھے ہٹنے لگا تو مجھے بلا لیا یہاں تک کہ میں آپ کے کے پیٹھ پیچھے تھا۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارة،بَابُ الْبَوْلِ قَائِمًا،؛جلد ١ ص ١٩؛حديث نمبر٢٣؛اسناده صحيح؛ الارنووط؛
امیمہ بنت رقیقہ نے اپنی والدہ ماجدہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک لکڑی کا پیالہ تھا جو آپ کے تخت کے نیچے رکھا جاتا،تا کہ رات کے وقت اس میں پیشاب کر لیں۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارة،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَبُولُ بِاللَّيْلِ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ يَضَعُهُ عِنْدَهُ؛جلد ١ ص ١٩حديث نمبر٢٤؛إسناده ضعيف،؛ الارنووط؛
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاکہ لعنت کے دو کاموں سے بچتے رہا کرو لوگ عرض گزار ہوئے یا رسول اللّٰہ لعنت کےدو کام کون سے ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے راستوں اور سایہ دار جگہوں میں قضائے حاجت سے فارغ ہونا۔ ابو داؤد شریف؛جلد ١ ص ٢٠؛كتاب الطهارة،بَابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَوْلِ فِيهَا،حديث نمبر٢٥
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا لعنت کے تین کاموں سے بچو یعنی لوگوں کے اترنے، راستہ چلنے اور سائے کی جگہوں میں قضاۓ حاجت کرنے سے ۔ ( ابو داؤد شریف ،؛ جلد ١ ص ٢١؛كتاب الطهارة،بَابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَوْلِ فِيهَا،حديث نمبر٢١ حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط"
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی غسل خانے میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اسی میں نہائے گا احمد کی روایت میں ہے کہ پھر اسی میں وضو کرےگا حالانکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ۔ ( ابو داود،شریف؛جلد ١ ص ٢٢؛كتاب الطهارة،بَابٌ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ،حديث نمبر٢٧؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"
حمید حمیری یعنی ابن عبدالرحمن کا بیان ہے کہ ان کی ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایسے صحبت یافتہ سے ہوئی جیسے حضرت ابو ہریرہ کی صحبت حاصل ہوئی تھی اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے روزانہ کنگھی کرنے اور اپنے نہانے کی جگہ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابو داود،شریف ؛جلد ١ ص ٢٣؛كتاب الطهارة،بَابٌ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ،حديث نمبر٢٨؛حکم حدیث صحيح "الارنووط"
قتادہ نےحضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ معاذ بن ہشام کا بیان ہے کہ قتادہ سے پوچھا گیا کہ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں مکروہ ہے ؟فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ وہ جنات کے رہنے کی جگہ ہیں۔ (ابو داود شریف؛جلد ١ ص ٢٣؛كتاب الطهارة،بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؛حديث نمبر٢٩؛حکم حدیث رجالہ ثقات؛الارنووط؛
یوسف بن ابوبردہ کے والد ماجد کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے نکلتے تو کہا کرتے تھے بخشش تیری (خدا کی) طرف سے ہے۔ ( ابو داود،شریف ؛جلد ١ ص ٢٤؛كتاب الطهارة،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الخَلَاءِ،حديث نمبر٣٠؛حکم حدیث حسن"الارنووط؛
یحیی بن عبداللہ بن ابو قتادہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ سے اپنا دایاں ہاتھ نہ لگائے اور جب بیت الخلاء میں جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجا نہ کرے اور جب پانی یا کوئی چیز پیے تو ایک ہی سانس میں نہ پئے۔ ( ابو داود شریف جلد ٢ ص ٢٥،كتاب الطهارة،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الِاسْتِبْرَاءِ، حديث نمبر٣١؛
حارثہ بن وہب خزاعی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھا نے پینے اور کپڑے پہننے کے لئے دایا دست مبارک استعمال کیا کرتے تھے اور ان کے سوا باقی تمام کاموں کے لئے دوسرا دست اقدس استعمال کرتے تھے۔ ( ابو داود شریف جلد ٢ ص ٢٥،كتاب الطهارة،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الِاسْتِبْرَاءِ، حديث نمبر٣٢
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دایا دست وضو اور کھانے کیلئے تھا اور دوسرا دست مبارک سے آپ استنجا کرنے اور نجاست ہٹانے میں استعمال فرماتے تھے۔ ( ابو داود شریف جلد ٢ ص ٢٦،كتاب الطهارة،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الِاسْتِبْرَاءِ، حديث نمبر٣٣؛حکم حدیث رجالہ ثقات"الارنووط"
محمد بن حاتم بن زبیر ،عبدالوہاب بن عطاء،سعید،ابو معشرابراہیم،اسود،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کے ہم معنیٰ روایت کی ہے۔ (ابو داود شریف جلد ٢ ص ٢٦؛،كتاب الطهارة،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الِاسْتِبْرَاءِ، حديث نمبر٣٤؛حکم حدیث صحيح حدیث "الارنووط"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سرمہ لگائے تو طاق مرتبہ لگانا چاہیے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔جو استنجا کرے تو طاق ڈھیلے لے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جو کھانا کھائے تو دانتوں میں خلال کرنے سے جو نکلے اسے پھینک دینا چاہئے اور جو زبان سے لگا رہے اسے نگل جانا چاہیے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جو قضائے حاجت کے لیے جائے تو پردہ پوشی کر لینی چاہیے اگر کوئی اوٹ نہ ملے تو ریت کا ڈھیر بنا کر اس کی آڑ لے لینی چاہئے۔ کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ابو داود الشريف،جلد ٢ ص ٢٧؛كتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِتَارِ فِي الْخَلَاءِ،حديث نمبر٣٥؛حکم حدیث؛ضعیف حدیث؛ الارنووط؛
رویفع نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں کوئی دوسرے مسلمان بھائی سے اونٹ اس شرط پہ لے لیا کرتا کہ جو منافع ہو وہ نصف آپ کا اور نصف ہماراہوگا اور ہم میں سے ایک کی طرف سے تیر کا پیکال اوپر ہوتا جبکہ دوسرے کی لکڑی ہوتی ۔پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے رویفع ! شاید تمہاری عمر دراز ہو اور میرے بعد بھی زندہ رہو تو لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے بھی اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا گھوڑے کی گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس سے بیزار ہیں۔ (ابو داوود شريف جلد ١ ص ٢٨؛كتاب الطهارة,بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ, حديث نمبر٣٦؛حکم حدیث"حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شيان القتباني -وهو ابن أمية-, لكنه متابع كما سيأتي بعده. وأخرج المرفوع منه النسائي في "الكبرى" (٩٢٨٤) من طريق حيوة بن شريح، عن عياش القتباني، أن شييم بن بيتان حدثه أنه سمع رويفع بن ثابت ... فذكره. وهو في "مسند أحمد" (١٧٠٠٠). وانظر تمام الكلام عليه فيه. والقصة التي في أوله أخرجها أحمد (١٦٩٩٥). وانظر ما بعده."الارنووط)
ابو سالم جیشانی سے روایت ہے ان کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو اس کا اس وقت ذکر کرتے تھے جب کی قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے (مصر میں) یہ ان کے ساتھ باب الیون پر تھے ۔امام ابوداؤد نے کہا فرمایا کہ الیون والا قلعہ فسطاط (مصر میں) پہاڑ کے اوپر ہے۔ (ابوداؤد شریف جلد ١؛ص ٢٨؛،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ،حدیث نمبر٣٧؛حکم حدیث انسادہ صحیح"الانرووط"
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں گوبر اور مینگنیوں کے ساتھ استنجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٢٩،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ،حدیث نمبر٣٨؛حکم حدیث صحيح"الارنووط؛
عبد اللّٰہ بن دیلمی کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جنات کا ایک وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزارہوا کہ اےمحمد! آپ کی امت ہڈی گوبر اور کوئلے سے استنجا کرتی ہے حالانکہ اللہ عزوجل نے ان چیزوں میں ہماری روزی رکھی ہے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان چیزوں کے ساتھ استنجا کرنے سے منع فرمادیا۔ (ابوداؤد شریف،جلد ١ ص ٣٠؛کتاب الطہارۃ،بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ،حدیث نمبر٣٩؛حکم حدیث اسنادہ ضعیفَ؛الارنووط؛
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی قضا ئے حاجت کے لیے جائے تو اسے چاہیے کہ پاکی حاصل کرنے کے لیے تین پتھر ساتھ لے جائے کیوں کہ یہ (پاک ہونے کے لیے) اسے کفایت کریں گے۔ (ابو داؤد شريف جلد ١ ص ٣٠،كتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ،حديث نمبر ٤٠؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"
عمروبن خزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے استنجا کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ تین ڈھیلوں سے جن میں گوبرنہ ہو۔ (ابو داؤد شريف،جلد ١ ص ٣١؛ كتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ،حديث نمبر ٤١؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"
عبداللہ بن ابی ملیکہ کی والدہ ماجدہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا،رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیشاب کرنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پانی لے کر آپ کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے، فرمایا کہ عمر یہ کیا ہے عرض گزار ہوئے کہ دھونے کے لئے پانی فرمایا کہ مجھے یہ حکم نہیں دیاگیا ہے کہ جب بھی پیشاب کروں تو دھویا کروں اور اگر میں ایسا کرتا تو یہ سنت مؤکدہ ہو جاتی۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٢ ،کتاب الطہارۃ،باب الاستبراء،حدیث نمبر٤٢؛حکم حدیث ضعیف؛الارنووط"
عطاءبن میمونہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تشریف لے گئے آپ کے ساتھ لوٹا لیے ہوئے ایک لڑکا تھا، جو ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے پانی ایک بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا جب حضور قضاۓ حاجت سے فارغ ہوکر ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے پانی سے استنجاء کیا۔ (ابوداؤد شریف،جلد ١ ص ٣٢؛کتاب الطہارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ،حدیث نمبر٤٣؛حکم حدیث صحيح "الارنووط؛
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آیت اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں) سورۃ التوبہ آیت ١٠٨), فرمایا چونکہ وہ پانی سے استنجاکیا کرتے تھے اس لیے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٣؛ ،کتاب الطہارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ،حدیث نمبر٤٤؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب بیت الخلا میں جاتے تو میں پیالےیا چھاگل میں پانی لے کر حاضر خدمت ہو جاتا۔پس آپ اس طرح کرتے تو پھر اپنے دست مبارک کو زمین پر رگڑ تے، پھر دوسرے برتن کے اندر میں آپ کی خدمت میں پانی پیش کرتا تو اس سے وضو فرماتے۔ (ابو داود شريف,جلد ١ ص ٣٤؛كتاب الطهارة،بَابُ الرَّجُلِ يَدْلُكُ يَدَهُ بِالْأَرْضِ إِذَا اسْتَنْجَى ,حديث نمبر٤٥؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط"
اعراج کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مرفوعاً روایت کی کہ حضور نے فرمایا اگر میں اسے مسلمانوں پر تنگی نہ جانتا تو انہیں نماز عشاء دیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٤؛كتاب الطهارة,بَابُ السِّوَاكِ حديث نمبر٤٥؛حکم حدیث صحیح م؛ الارنووط؛
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ابو سلمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت زید کو دیکھا کہ مسجد میں بیٹھے رہتے اور مسواک ان کےکان پر یوں رکھی ہوتی جیسے کاتب اپنے کان پر قلم رکھتا ہے اور جب بھی نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو مسواک کر لیتے۔ ( ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٦؛كتاب الطهارة,بَابُ السِّوَاكِ حدیث نمبر ٤٧؛حکم حدیث صحيح"الارنووط؛
محمد بن یحییٰ بن حبان کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا کیا وجہ ہے کہ وضو ہو یا نہ ہو لیکن حضرت ابن عمر ہر نماز کیلئے وضو کرتے ہیں۔ فرمایا مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب اور ان سے حضرت عبداللہ بن حنظلہ بن ابو عمر نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کیلئے وضو کرنے کا حکم فرمایا خواہ وضو ہو یا نہ ہون اس میں آپ نے مشقت محسوس فرمائی توہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم فرمایا۔ حضرت ابن عمر نے دیکھا کہ ان کے اندر ہر اس کام کی قوت ہے تو ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنا ترک نہ فرماتے۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٧؛'كتاب الطهارة,بَابُ السِّوَاكِ؛حديث نمبر٤٨؛حکم حدیث حسن"الارنووط؛
ابو بردہ نے اپنے والد ماجد حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ ہم سواریاں مانگنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ زبان مبارک پر مسواک پھر رہے تھے سلیمان کی روایت میں ہے کہ فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کو زبان مبارک کے ایک جانب کر کے آہ آہ کہہ رہے تھے جیسے کوئی قے کرتا ہے۔ (ابود عود الشريف؛ جلد ١ ص ٣٨؛كتاب الطهارة, باب كيف:يستاك ،حديث نمبر٤٩؛حکم حدیث صحيح "الارنووط"
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور آپ کی خدمت میں دو آدمی موجود تھے جن میں ایک آدمی دوسرے سے بڑا تھا۔ پس آپ پر مسواک کی فضیلت میں وحی فرمائی گئی اور بڑے آدمی کو مسواک عطا فرمانے کا حکم ہوا۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٨؛ ،کتاب الطہارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَسْتَاكُ بِسِوَاكِ غَيْرِهِ،حدیث نمبر٥٠؛حکم حدیث صحيح"الارنووط"
مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ کس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروعات کرتے تھے جب آپ گھر میں داخل ہوتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مسواک سے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطہارۃ باب في الرجل يستاك بسواك غيره؛ جلد ١ ص ٣٨؛حدیث نمبر ٥١؛ وإسناده صحيح. مسعر: هو ابن كدام، وشريح: هو ابن هانئ الحارثي.وأخرجه مسلم (٢٥٣)، والنسائي في "الكبرى" (٧)، وابن ماجه (٢٩٠) من طرق عن المقدام بن شريح، بهذا الإسناد.وهو فى "مسند أحمد" (٢٤١٤٤)، و"صحيح ابن حبان" (١٠٧٤) و (٢٥١٤).الارنووط؛
کثیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مسواک کرتے- پھر دھونے کے لئے مجھے عنایت فرما دیتے پس اسے لے کر میں مسواک کرنے لگتی پھر اسے دھو کر آپ کی خدمت اقدس میں پیش کر دیتی۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ غَسْلِ السِّوَاكِ،جلد ١ ص ٣٩؛حدیث نمبر ٥٢؛حکم حدیث ؛إسناده حسن، كثير -وهو ابن عبيد التيمي رضيع عائشة- روى عنه جمع، وذكره ابن حبان فى "الثقات"، ولا يُعلم فيه جرح، فمثلُه يكونُ حسَن الحديث.وأخرجه البيهقي ١/ ٣٩ من طريق أبي داود، بهذا الإسناد؛ الارنووط؛
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا دس باتیں پیدائشی سنت ہیں یعنی مونچھیں کتروانا"داڑھی بڑھانا"مسواک کرنا" پانی سے ناک صاف کرنا" ناخن کاٹنا"انگلیوں کےجوڑوں کو دھونا" بغل کے بال اکھاڑنا"زیر ناف منڈانا" اور پانی کے ساتھ استنجاکرنا۔زکریا کا بیان ہے کہ مصعب بن شیبہ نے فرمایا دسویں بات میں بھول گیا ہوں،شاید وہ کلی کرنا ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ السِّوَاكِ مِنَ الْفِطْرَة،جلد ١ ص ٤٠؛حدیث نمبر ٥٣؛حکم حدیث ؛الصحيح وقفه، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن شيبة، وقد انفرد برفعه، وباقي رجاله ثقات.وأخرجه مسلم (٢٦١) في الشواهد، والترمذي (٢٩٦١)، والنسائي في "الكبرى" (٩٢٤١)، وابن ماجه (٢٩٣) من طريقين عن زكريا بن أبي زائدة، بهذا الإسناد.وهو في "مسند أحمد" (٢٥٠٦٠).وأخرجه النسائي في "المجتبى" (٥٠٤١) من طريق سليمان التيمي، و (٥٠٤٢) من طريق جعفر بن إياس أبي بشر، كلاهما عن طلق بن حبيب قولَه. وقال النسائي: حديث سليمان التيمي وجعفر بن إياس أشبه بالصواب من حديث مصعب بن شيبة، ومصعب منكر الحديث. وقال الدارقطني في "العلل" ٥/ الورقة ٢٤: وهما أثبت من مصعب بن شيبة وأصح حديثاً. وقال ابن حجر في "التخليص"، ١/ ٧٧: وهو معلول.؛ الارنووط؛
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیدائشی سنتوں میں سے کلی کرنا اور ناک صاف کرنا ہے پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا لیکن داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا مگر ختنہ اور ازار پر پانی چھڑکنا زیادہ بیان کیا اور پانی سے استنجا کرنے کا ذکر نہ کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے اور فرمایا کہ وہ پانچ ہیں اور سرسے متعلقہ ہیں اور جن میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا اور داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں فرمایا ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح حدیث روایت کی حماد طلق بن حبیب اور مجاہد بکر بن عبد اللہ بن مزنی ہے،انہی کے لفظوں میں لیکن داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا اور جو حدیث محمد بن عبداللہ بن ابو مریم ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی اس میں داڑھی بڑھانا ہے اور ابراہیم نخعی نے داڑھی بڑھانے اور ختنہ کا ذکر کیا ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ السِّوَاكِ مِنَ الْفِطْرَةِ ؛جلد ١ ص ٤١؛حدیث نمبر٥٤؛حکم حدیث ؛إسناده ضعیف ؛الارنووط؛
ابو وائل کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب رات کوقیام کرتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے صاف فرمایا کرتے تھے۔ ( ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ،جلد ١ ص ٤٢؛حدیث نمبر٥٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛ الارنووط؛
سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی ۔ جب آپ رات میں قیام فرماتے تو استنجا کرنے کے بعد مسواک کرتے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٤٢ ،بَابُ السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ،حدیث نمبر٥٦؛حکم حدیث صحيح"الارنووط
ام محمد نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رات یا دن میں خواب سے بیدار نہ ہوتے مگر وضو کرنے سے پہلے مسواک فرما لیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٤٣،بَابُ السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ،حدیث نمبر٥٧؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"
علی بن عبداللہ نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس (اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ کے حجرے میں) گزاری جب آپ فارغ ہوئے اور وضو کرنا چاہا تو مسواک کی پھر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں۔ ''بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلنے میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے(١٩٠:٣) یہاں تک کہ آخر کے نزدیک جا پہنچے یاسورت ختم کر دی. پھر وضو کر کے جائے نماز پر آگئے اور دو رکعت نماز پڑھی پھر اپنے بستر کی طرف لوٹے اور سو گئے۔جتنی دیر اللہ نے چاہاپھر بیدار ہوئے اور پہلے کی طرح کیا پھر بستر کی طرف لوٹے اور سو گئے پھر بیدار ہوئے اور پہلے کی طرح کیا ہر دفعہ مسواک کرتے اور دو رکعت نماز پڑھتے پھر وتر پڑھتے امام ابوداؤد نے فرمایا ابن فضیل کا بیان ہے کہ حصین نے فرمایا پھر مسواک کی اور وضو فرمایا اورآپ کہتے ان فی خلق السماوات والارض آخر سورت تک۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٤٣؛،بَابُ السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ،حدیث نمبر٥٨؛حکم حدیث صحيح"الارنووط؛
ابوالملیح نے اپنے والد ماجد حضرت اسامہ بن عمیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ اس صدقہ کو قبول نہیں فرماتا جو چوری کے مال سے ہو اور نہ اس نماز کو جو بغیر طہارت کے ہو۔ (ابوداؤد شریف ،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٤٤؛،بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٥٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جلا جلالہٗ نماز کو قبول نہیں فرماتا جب تک کوئی بےوضو ہو یہاں تک کہ وضو کر لے (۔ابوداؤد شریف ،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٤٥؛،بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٦٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط ؛
محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کی کنجی طہارت ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر کہنا اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے (۔ابوداؤدشریف ،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٤٥؛،بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٦١؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط ؛
غطیف محمد،ابی غطیف الہذلی کا بیان ہے کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے پاس تھا۔جب ظہر کی اذان ہوئی تو انہوں نے وضو کر کے نماز پڑھی جب عصر کی اذان ہوئی تب بھی وضو کر کے نماز پڑھی میں نے یہ بات ان کی خدمت میں عرض کی تو ارشاد ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جو وضوء کی حالت میں وضو کرے اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائے گی۔ ( ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٤٦؛ بَابُ الرَّجُلِ يُجَدِّدُ الْوُضُوءَ مِنْ غَيْرِ حَدَثٍ حدیث نمبر٦٢؛حکم حدیث إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زياد -وهو الإفريقي- وجهالة أبي غطيف -أو غطيف- الهذلي.وأخرجه الترمذي (٦٠)، وابن ماجه (٥١٢) من طريق عبد الرحمن بن زياد الإفريقي، بهذا الإسناد. وضعفه الترمذي.(الارنووط"
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ ان کے والد محترم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ایسے پانی(جوہر) کے متعلق پوچھا گیا جس میں جنگلی جانور اور پرندے آتے جاتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جب پانی دو قلوں کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں عثمان اور حسن بن علی نے اسے محمد بن عباد بن جعفر سے بھی روایت کیا ہےامام ابوداؤد نے فرمایا کہ(محمد بن عباد بن جعفر نہیں بلکہ) صحیح نام محمد بن جعفر ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٤٧؛،بَابُ مَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، حدیث نمبر٦٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح ؛الارنووط ؛
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عمر عمر سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا جو جنگل میں ہو۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٤٧؛،بَابُ مَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، حدیث نمبر٦٤؛حکم حدیث اسنادہ حسن؛ الارنووط؛
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ میرے والد محترم نے مجھ سے حدیث روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔جب پانی دو قلوں کے برابر ہوتووہ نجس (ناپاک) نہیں ہوتا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حماد بن یزید نے اس حدیث کو عاصم سے موقوفا روایت کیا ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٤٨؛ ،بَابُ مَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، حدیث نمبر٦٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن ؛الارنووط ؛
عبیداللہ بن عبداللہ بن رافع نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش پیش کی گئی کہ ہم بیربضاع سے وضو کرتے ہیں حالانکہ اس میں حیض کے کپڑے کتوں کا گوشت اور گندی چیزیں پھینکی جاتی ہیں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے اسے کوئی چیز نجس (ناپاک) نہیں کرتی۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٥٠؛ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ، حدیث نمبر٦٦؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛
عبیداللہ بن عبدالرحمن بن رافع انصاری عدوی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب کہ حضور کی خدمت میں یہ گزارش کی گئی کہ آپ کو بھی بیر بضاع میں سے لا کر پانی پلایا جاتا ہے اور وہ ایسا ہے کہ اس میں کتوں کا گوشت، حیض کے کپڑے اور لوگوں کے فضلات وغیرہ ڈالے جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے اسے کوئی چیز نجس (ناپاک) نہیں کرتی ۔امام ابو داؤد کا بیان ہے کہ میں نے قتیبہ بن سعید کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے بیت بضاع کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ اس کا پانی اتنا ہوتا ہے کہ ناف تک آئے ۔میں نے پوچھا کہ جب کم ہوجاتا ہے؟ کہاکہ ستر گھٹنے سے نیچے مجھے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے اندازہ کرنے کی غرض سے بیربضاع کی اپنی چادر کے ساتھ پیمائش کی۔ چنانچہ ناپنے پر چوڑائی چھ ذراع (چھ گز) نکلی پھر میں نے اس شخص سے پوچھا جس نے میرے لیے باغ کا دروازہ کھولا اور مجھے اس تک جانے دیا تھا کہ جس حالت پر یہ پہلے تھا کیا وہ تعمیر بدل گئی ہے؟ کہا نہیں اور میں نے اس کے پانی کا رنگ بدلا ہوا ہی دیکھا ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٥٠؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ، حدیث نمبر٦٧؛حکم حدیث صحيح"الارنووط؛
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے لگن سے غسل کیا پس نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس سے وضویا غسل کرنے کے لیے آئے۔وہ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ میں جنابت سے تھی۔رسول اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (بچاہوا) پانی تو جنبی نہ ہوتا۔وہ حضرت ابن عباس کی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا تھیں۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١؛ص ٥١؛ بَابُ الْمَاءِ لَا يُجْنِبُ،حدیث نمبر ٦٨؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اسی پانی سے غسل کرنا پڑے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٥١؛،بَابُ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ،حدیث نمبر٦٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط ؛
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے اور اس پانی کے اندر جا کر غسل جنابت نہ کرے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٥٣؛،بَابُ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ،حدیث نمبر٧٠؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال کر کتا پی جائے تو اسے سات مرتبہ دھو کر پاک کرے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،؛جلد ١ ص ٥٣؛بَابُ الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر٧١؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛
حماد بن زید،ایوب محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی معنی کی روایت کیا لیکن دونوں روایت مرفوع نہیں ہیں اور یہ بھی کہا کہ جب چلی جائے تو ایک مرتبہ دھوئے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٥٤؛ ،بَابُ الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر٧٢؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھویا کرو ساتویں دفعہ مٹی سے مانجھ کر دھونا چاہیے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابوصالح اور ابورزین اور اعرج اور ثابت احنف اور ہمام بن منبہ اور ابوسدی عبدالرحمن نے بھی اسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے مٹی کا ذکر نہیں کیا۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،؛جلد ١ ص ٥٥؛بَابُ الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر٧٣؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کتوں کو مار دینے کا حکم فرمایا۔ پھر ارشاد ہوا کہ تمہارا وہ کیا بگاڑتے ہیں؟ چنانچہ شکاری کتے اور ریوڑ کی رکھوالی کرنے والے کتے کی اجازت دی اور فرمایا کہ جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھویا کرو اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھ لیا کرو۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٥٥؛بَابُ الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر٧٤؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛
کبشہ بنت کعب بن مالک سے روایت ہے جو ابن ابو قتادہ کے نکاح میں تھیں کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ اندر تشریف لائے تو میں نے ان کے حضور وضوکے لیے پانی رکھ دیا پس ایک بلی آئی اور اس میں سے پانی پینے لگی انہوں نے اس کے لیے برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ وہ پانی پی چکی۔ کبشہ کا بیان ہے کہ میں نے یہ منظر دیکھتی رہی۔ فرمایا اے بھتیجی! کیا تم اس بات پر تعجب کرتی ہو؟ میں عرض گزارہوئی کہ ہاں۔ ارشاد ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ ناپاک نہیں ہے یہ تو تمہارے پاس پھر نے پھر اتے والی چیزوں میں سے ہے۔ (ابودادؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٥٦؛ بَابُ سُؤْرِ الْهِرَّةِ،حدیث نمبر٧٥؛حکم حدیث صحيح "الارنووط؛
صالح بن دینار التمار کی والدہ ماجدہ نے اپنی آزاد کردہ لونڈی کو ہرہسہ لے کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں بھیجا اس نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ حضرت صدیقہ نے اسے رکھنے کا اشارہ کردیا۔ پس ایک بلی آئی اور اس میں سے کھانے لگیں تب یہ فارغ ہوئی تو اسے جگہ سے کھانے لگی جہاں سے بلی نے کھایا تھا اور ارشاد ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہے کہ یہ تو تمہارے پاس پھر نے پھرانے والی چیزوں میں سے ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بلی کے بچے ہوئے پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ (۔ابودادؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٥٧ ،بَابُ سُؤْرِ الْهِرَّةِ،حدیث نمبر٧٦؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک ہی برتن میں پانی لے کر غسل کر لیا کرتے تھے۔ ہم دونوں حالت جنابت میں ہوتے تھے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٥٨؛بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،حدیث نبر٧٧؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛
ام صبیہ جہنیہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:کہ ایک ہی برتن میں وضو کرتے ہوئے کبھی میرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپس میں ٹکرا جاتے تھے۔(جب کبھی ایک ہی برتن میں پانی لے کر وضو کرتے)۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٥٩؛بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،حدیث نبر٧٨؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛
عبداللہ بن مسلمہ،مالک، نافع، مسدد، حماد،ایوب نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں مرد اور عورت وضو کر لیا کرتے تھے مسدد نے کہا کہ سب مل کر ایک ہی برتن سے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٦٠ بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،حدیث نبر٧٩؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط ؛
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:کہ ہم اور عورتیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں ایک برتن سے وضو کر لیا کرتے تھے ہم سب اسی میں ہاتھ ڈالا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٦٠؛،بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،حدیث نبر٨٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
حمید الحمیری کا بیان ہے کہ مجھے ایک ایسا شخص ملا جسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صحبت کا شرف چار سال حاصل رہا تھا۔ جیسے حضور کی صحبت حضرت ابو ہریرہ نے پائی انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا آدمی عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے مسددنے یہ بھی کہا کہ چلو سے اکھٹے پانی لینا چاہیے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦١؛ ،بَابُ النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ،حدیث نمبر٨١؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛
ابوحاجب نے حضرت حکم بن عمرو اقرع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اس پانی سے وضو کرے جو عورت کی طہارت سے بچا ہو۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦١،بَابُ النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ،حدیث نمبر٨٢؛حکم حدیث رجالہ ثقات؛الارنووط؛
بنی عبدالدار سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہوا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور ہمارے پاس تھوڑا پانی ہوتا ہے جب کہ ہم اس سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں لہذا کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٦٢؛ ،بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ،٨٣؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛
ابوزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے جنات کی حاضری والی رات میں فرمایا کہ تمہاری چھاگل میں کیا ہے؟عرض گزار ہوا کہ نبیذ ہے فرمایا کہ کھجور پاک ہے اور پانی پاک کرنے والا ہے ۔(ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٦٣؛،بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف؛ الارنووط؛
علقمہ کا بیان ہےکہ میں حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں عرض گزار ہوا کہ آپ حضرات میں سے جنات والی رات رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کون موجود تھا؟فرمایا کہ ہم میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا (۔ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٦٣؛ ،بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
ابن جریج نے عطاء سے روایت کی ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور فرمایا کہ تیمم کرنا میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔(ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،؛جلد ١ ص ٦٤؛ بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح ؛الارنووط ؛
ابوخلدہ نے ابوالعالیہ سے اس آدمی سے متعلق پوچھا جو جنابت کی حالت میں ہے اور اس کے پاس پانی بھی نہ ہو لیکن نبیذہوتو کیا وہ نبیذ سے غسل کرے؟فرمایا کہ نبیذ کے ساتھ غسل نہ کرے۔ ۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٦٤؛،بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
ہشام بن عروہ نے اپنے والد ماجد اور ابن زبیر سے روایت کی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ حج یا عمرہ کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ کافی آدمی تھے جن کی یہ امامت کراتے تھے ایک روز جب صبح کی نماز ہونے لگی تو انہوں نے فرمایا کیا آپ میں سے کسی ایک کو کھڑا کر لو اور خود قضائے حاجت کے لیے چلے گئے کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو بیت الخلا جانا پڑے اور ادھر نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے بیت الخلاء میں جانا چاہیے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦٥؛،بَابٌ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ؟،حدیث نمبر٨٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں موجود تھے۔ کہ ان کا کھانا لایا گیا پھر قاسم بن محمد کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے حضرت صدیقہ کا ارشاد ہوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کھانا پیش ہو جائے تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس وقت پڑھی جائے جب پاخانہ یا پیشاب ۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،جلد ١ ص ٦٦؛ بَابٌ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ؟،حدیث نمبر٨٩؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط؛
ابو حی مؤذن نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین باتوں کا کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ ایسا شخص لوگوں کی امامت نہ کرے جو لوگوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے ہی دعا کرے اگر اس نے ایسا کیا تو خیانت کی اور اجازت دینے سے پہلے دوسرے کے گھر اندر نہ جھانکے اگر ایسا کیا تو گویا اندر داخل ہوگیا اور پیشاب پاخانے کےوقت نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ بوجھ ہلکا کرے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦٧؛،بَابٌ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ؟،حدیث نمبر ٩٠؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
ابو حی مؤذن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ پیشاب یا پاخانہ کے حاجت کے وقت نماز پڑھے ۔یہاں تک کہ بوجھ ہلکا کرلے۔پھر اس لفظ پر ایسا ہی اضافہ کرکے فرمایا۔اور جو اللہ اور یوم قیامت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ لوگوں کی امامت کرائے مگر ان کی اجازت سے اور انہیں چھوڑ کر اپنے لیے ہی دعا نہ مانگے ۔اگرایسا کیا تو لوگوں کے ساتھ خیانت کی ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ شام والوں کی حدیث ہے اور اس میں کوئی ایک بھی ان کا شریک نہیں۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٦٧؛بَابٌ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ؟،حدیث نمبر ٩١؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ آبان نے قتادہ سے اس کی روایت کی اور فرمایا کہ میں نے اسے صفیہ سے سنا ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٦٨؛بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٩٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
سالم بن ابی الجعد کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦٨؛،بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٩٣؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط؛
عباد بن تمیم نے اپنی دادی جان حضرت ام عمارہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وضو فرمانا تھا تو آپ کے حضور ایک پانی پیش کیا گیا جو ایک مد کا دو تہائی ہوگا۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦٩؛ ،بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٩٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح ؛الارنووط؛
عبد اللہ بن جبر کا بیان ہے حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسے برتن سے وضو فرما لیتے جس میں دو رطل پانی آتا اور ایک صاع پانی سے غسل فرمالیتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ شعبہ عبد اللّٰہ بن عبدااللہ بن جبربنے فرمایا کہ میں نے حضرت انس سے سنا مگر اس میں فرمایا کہ ایک ملوک پانی سے وضو فرمالیتے اور دو رطل کا ذکر نہ کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یحیی بن آدم نے شریک سے اس کی روایت کرکے فرمایا کہ انہوں نے ابن جبر بن عتیک سے فرمایا کہ سفیان ،عبد اللہ بن عیسیٰ نے جبر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے امام احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا کے صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے امام ابو داود نے فرمایا کہ ابن ابی ذئب والاصاع ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاصاع ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٩٥؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف؛الارنووط؛
ابو نعامہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ نے سنا کہ ان کا صاحبزادہ اس طرح دعا کر رہا ہے اے اللہ!میں تجھ سے جنت کے دائیں جانب محل کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس میں داخل ہو جاؤ انہوں نے فرمایا کہ بیٹا اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اب اس امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے نکلیں گے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،؛جلد ١ ص ٧١؛بَابُ الْإِسْرَافِ فِي الْمَاءِ،حدیث نمبر ٩٦؛حکم حدیث حسن حدیث؛الارنووط؛
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ ایڑیاں خشک ہیں۔ فرمایا کہ ایڑیوں کے لیے آگ میں خرابی ہے لہٰذا پورا وضو کیا کرو۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٧٢؛،بَابٌ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٩٧؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛
ہشام بن عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔میں غسل کرتی تو میں اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کانسی کے ایک ہی گھڑے سے غسل کرلیا کرتے تھے (۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ جلد ١ ص ٧٢؛،بَابُ الْوُضُوءِ فِي آنِيَةِ الصُّفْرِ،حدیث نمبر ٩٨؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛
محمد بن علاء اسحاق بن منصور،حماد بن سلمہ ،ایک آدمی ہشام بن عروہ ان کے والد ماجد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،جلد ١ ص ٧٣؛بَابُ الْوُضُوءِ فِي آنِيَةِ الصُّفْرِ،حدیث نمبر ٩٩؛حکم حدیث صحيح"الارنووط"
عمروبن یحییٰ نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن زید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے پس ہم نے آپ کے لیے پتیل کے ایک پیالے میں پانی نکالا تو آپ نے اس سے وضو فرمایا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،جلد ١ ص ٧٤؛بَابُ الْوُضُوءِ فِي آنِيَةِ الصُّفْرِ،حدیث نمبر ١٠٠؛حکم حدیث اسنادہ صحيح؛ الارنووط؛
حضرت ابوہریرہ رضی للہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی نماز نہ ہوگی جس کا وضو نہیں ہے اور اس کا وضو (کامل) نہیں ہے جو اس پر اللہ کا نام نہ لے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٧٤؛ ،بَابٌ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٠١؛حکم حدیث ضعیف؛ الارنووط؛
دراوردی کا بیان ہے کہ ربیعہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ،،اس کا وضو نہیں جو اس پر اللہ کا نام نہ لے،، کی تفسیر میں فرمایا کہ اور جو غسل کرے تو نماز کا وضو اور جنابت کا احساس نہیں ہوگا (دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بات نماز کے وضواور غسل جنابت کے متعلق نہیں ہے) (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٧٥؛،بَابٌ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٠٢؛حکم حدیث اسنادہ قوی؛ الارنووط؛
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کے وقت سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالیں یہاں تک کہ تین دفعہ دھو لیں کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٧٥؛بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا ،حدیث نمبر١٠٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
ابو صالح کا بیان ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ دو مرتبہ دھوئے یا تین دفعہ اور ابورزین کا ذکر نہیں کیا۔ (ا؛بوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٧٦؛بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا ،حدیث نمبر١٠٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
ابو مریم کا بیان ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے یہاں تک کہ اسے تین مرتبہ دھو لے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہا رات گزاری یا اس کا ہاتھ کہاں گھومتا پھرتا رہا۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٧٦؛ بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا ،حدیث نمبر١٠٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
حمران بن ابان مولی عثمان بن عفان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا۔پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈال کرانہیں دھو یا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین دفعہ دھو یا پھر اسی طرح بائیں ہاتھ کو پھر سر کا مسح کیا۔پھر اپنے دائیں قدم کو تین مرتبہ دھو یا پھر اسی طرح بائیں قدم پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اپنے اسی وضو کی طرح وضو فرماتے دیکھا۔ پھر فرمایا کہ جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعت پڑھے جن میں اپنے نفس سے بات نہ کرے تو اللہ تعالی اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٧٧؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٠٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
حمران کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا لیکن اس میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر نہ کیا اور اس نے کہا کہ تین مرتبہ سر کا مسح کیا پھر تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اسی طرح وضو فرماتے دیکھا ہے اور فرمایا کہ جو اس سے کم بھی وضو کرے تب بھی اسے کفایت کرے گا اور نماز کے بارے میں کوئی ذکر نہ کیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٧٨؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٠٧؛حکم حدیث؛صحیح؛تحقیق البانی؛
عثمان بن عبدالرحمن کا بیان ہے کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سے وضو کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے پانی مانگا یا تو لوٹے میں لایا گیا جسے انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر ڈالا اور پھر اسی پانی میں داخل کیا تو تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی لیا اور تین دفعہ منہ دھویا پھر تین مرتبہ دایاں ہاتھ دھویا اور تین مرتبہ بایاں ہاتھ دھویا ۔پھر اپنا ہاتھ داخل کرکے پانی لیا اور اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا اور ان کے اندرونی اور بیرونی حصوں کو ایک مرتبہ دھو یا پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا کہ وضو کے متعلق پوچھنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس سلسلے میں حضرت عثمان سے جو صحیح حدیثیں مروی ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح ایک دفعہ ہے کیونکہ ہر عضو کو تین بار دھونا بتا کر فرمایا کہ سر کا مسح کرے اور دوسرے ارکان کی طرح اس کا عدد بیان نہیں فرمایا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٧٩؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابو علقمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا تو پہلے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں کو کو پنجوں تک دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیا تین تین مرتبہ اور ہر ایک کا دھونا تین تین مرتبہ بیان کر کے فرمایا کہ اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے دونوں پیر دھوئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا جیسے وضو کرتے ہوئے تم نے مجھے دیکھا ہے پھر باقی حدیث زہری کی طرح پوری بیان کی۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٧٩؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٠٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
عامر بن شقیق بن جمرہ کا بیان ہے کہ شقیق بن سلمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی کلائیاں تین تین مرتبہ دھوئیں اور تین دفعہ سر کا مسح کیا پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ وکیع نے اسرائیل سے بھی اسے روایت کیا ہے اور صرف یہی کہا کہ تین تین مرتبہ اعضاء دھوئے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٠؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٠؛حکم حدیث؛حسن صحيح؛البانی؛
خالد بن علقمہ نے عبد خیر سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے نماز پڑھ لی تھی۔پس انہوں نے وضوکے لیے پانی منگوایا ہم نے آپس میں کہا کہ یہ وضوکے پانی کا کیا کریں گے جب کہ نماز پڑھ چکے ہیں۔ لہذا ہمیں سکھانا چاہتے ہیں پس ایک برتن میں پانی لاکر اور ایک طشت پیش کر دیا گیا پہلے انہوں نے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئیں پھر تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی لیا۔کلی کرنے اور ناک میں پانی لینے کے لئے اسی ہتھیلی میں پانی لیا۔ پھر تین مرتبہ اپنا منہ دھویا۔ پھر تین مرتبہ دایاں ہاتھ دھویا اور تین مرتبہ بایاں ہاتھ۔ پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر ایک دفعہ اپنے سر کا مسح کیا پھر دایاں پیر تین مرتبہ دھویا اور بایاں پیر بھی تین مرتبہ۔ پھر فرمایا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو معلوم کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے تو وہ ایسا ہی تھا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨١؛ ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١١؛حکم حدیث صحيح حدیث؛الارنووط؛
خالد بن علقمہ ہمدانی کا بیان ہے کہ عبد خیر نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھنے کے بعد رحبہ میں داخل ہوئےاور پانی منگوایا تو ایک لڑکے نے برتن میں پانی لا کر طشت سمیت پیش کیا۔ راوی کا بیان ہےکہ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر تین مرتبہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا یا پھر دایاں ہاتھ داخل کیا اور تین دفعہ کلی کی۔پھر تین دفعہ ناک میں پانی لیا۔ پھر ابو عوانہ والی حدیث کے قریب قریب بیان کیا کہ آگے اور پیچھے سے سر کا ایک مرتبہ مسح پر مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨١؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
مالک بن عرفطہ نے عبد خیر سے سنا کہ میں نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ ان کے لیے کرسی لائی گئی تو اس پر جلوہ افروز ہوئے۔ پھر پانی کا ایک کوزہ لایا گیا تو انہوں نے تین دفعہ اپنے ہاتھ دھوئے ۔پھر کلی کی اور اسی ایک چلو سے ناک میں پانی لیا اور پھر باقی حدیث بیان کی۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٢؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
زربن حبیش نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سنااور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے متعلق پوچھا گیا تھا تو حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے سر کا مسح کیا اور یہاں تک کہ پانی ٹپکنے کو تھا ۔پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح وضو فرمایا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٢؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
ابوفروہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلی سے روایت کی کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ انہوں نے اپنے مبارک چہرے کو تین دفعہ دھویا اور اپنی دونوں کلائیاں تین تین دفعہ دھوئیں اور اپنے سر کا ایک دفعہ مسح کیا پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بھی اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٣؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
ابو حیہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو ان کا سارا وضو بیان کیا کہ تین تین مرتبہ تھا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئیں پھر فرمایا میں نے یہ پسند کیا کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنا دکھادوں۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٣؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٦؛حکم حدیث حدیث صحیح؛ الارنووط؛
عبیداللہ خولانی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور وہ پانی سے استنجا کر چکے تھے پس انہوں نے وضوکے لیے پانی منگوایا تو ہم نے ایک پیالے میں پانی لا کر ان کے سامنے رکھ دیا پس انہوں نے فرمایا اے ابن عباس کیا میں تمہیں نہ دکھاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کیسے وضوفرمایا کرتے تھے ؟ میں عرض گزار ہوا کیوں نہیں۔ پس انہوں نے اپنے ہاتھ پر برتن سے پانی ڈالا اور اسے دھویا پھر اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئے پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کر کے برتن میں ڈالے اور لپ میں پانی بھر کر اپنے منہ پر مارا پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کی گرد پھیرکر دوسری اور تیسری دفعہ ایسا ہی کیا پھر اپنے دائیں چلو میں پانی لے کر پیشانی پر ڈالا اور اسے چہرے پر بہنے دیا۔ پھر اپنی دونوں کلائیاں کہنیوں تک تین مرتبہ دھوئے۔ پھر سر کا مسح کیا اور کانوں کے بیرونی حصے کا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر برتن میں داخل کیا اور لپ پانی لے کر اپنے پیر پر مارا جس میں جوتا پہنا ہوا تھا اور اسے اس کے ساتھ ملا۔پھر دوسرے پیر کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا میں عرض گزار ہوا کہ جوتوں سمیت ؟فرمایا کہ جوتوں سمیت ہی۔ میں دوبارہ عرض گزار ہوا کہ جوتوں سمیت میں؟ فرمایا کہ جوتوں سمیت ہی۔تھی میں سہ بارہ عرض گزار ہوا کہ جوتوں سمیت؟ فرمایا کہ جوتوں سمیت ہی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن جریج کی حدیث اس حدیث علی سے مشابہت رکھتی ہے۔اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ہے کہ اپنے سرکا مسح ایک مرتبہ کیا اور اس میں ابن وہب نے ابن جریج سے روایت کی ہے کہ اپنے سر کا مسح تین دفعہ کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ جلد ١ ص ٨٤؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٧؛حکم حدیث اسنادہ حسن؛الارنووط؛
عمروبن یحییٰ مازنی کے والد ماجد نے حضرت عبد اللّٰہ بن زید رضی اللّٰہ عنہ سے گزارش کی جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے جد امجد تھے کہ کیا آپ ہمیں دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عبداللہ بن زید نے فرمایا ہاں چنانچہ وضو کے لئے پانی منگوا کر پہلے اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دونوں ہاتھ دھوئیں پھر تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی ڈالا پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا کہ انہیں آگے سے لے گئے اور پیچھے سے پیشانی تک لائے پھر انھیں گدّی تک لے گئے اور اسی جگہ تک واپس لے آئے جہاں سے ابتدا کی تھی پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٦؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
عمروبن یحییٰ مازنی کے والد ماجد نے حضرت عبدااللہ بن زید بن عاصم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مزکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہوئے کہا پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیا ایک ہی چلو پانی سے اور ایسا تین دفعہ کیا۔ پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٦؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
حبان بن واسع کے والد ماجد نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ تعالی عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا پھر اپنے سر کا مسح کیا نیا پانی لے کر اس پانی سے نہ کیا جو ہاتھوں میں لگا ہوا تھا اور اپنے دونوں پیر دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کر دیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٧؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٠؛اسنادہ صحیح؛الارنووط؛
عبدالرحمن بن میسرہ حضرمی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت مقدام بن معد یکرب کندی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کے لیے پانی پیش کیا گیا تو آپ وضو کرنے لگے چنانچہ تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو دھویا اور تین مرتبہ اپنا مبارک چہرہ دھویا پھر تین مرتبہ اپنی دونوں کلائیاں دھوئے پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے سر کا مسح فرمایا اور کانوں کا ان کے باہر اور اندر سے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،جلد ١ ص ٨٧؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط؛
عبدالرحمن بن میسرہ کا بیان ہے کہ حضرت مقدام بن معد یکرب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا جب آپ سر کے مسح تک پہنچے تو اپنی ہتھیلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھ کر انہیں پیچھے لے گئے یہاں تک کہ گدی تک جا پہنچے تو پھر واپس لائے یہاں تک کہ اسی جگہ آ پہنچے جہاں سے ابتدا کی تھی محمود کا بیان ہے کہ یہ مجھے حریز بن عثمان نے بتایا ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،جلد؛١؛ص ٨٨؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٢؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
محمود بن خالد اور ہشام بن خالد نے اسی سند کے ساتھ ولید سے اس معنی کی روایت کرتے ہوئے کہا اور مسح کیا اپنے دونوں کانوں کا ان کے باہر اور اندر کی جانب ۔ہشام نے یہ بھی کہا کہ اپنی انگلیاں کانوں کے سوراخ میں داخل کیں ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٨؛ ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٣؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
یزید بن ابو مالک کا بیان ہے کہ حضرت معاویہ نے لوگوں کے لئے وضو کیا جیسا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا تھا جب وہ سر تک پہنچے تو بائیں ہاتھ سے چلو میں پانی لے کر سر کے درمیان میں ڈالا جو ٹپکنے لگا یا ٹپکنے کے قریب ہوگیا پھر سر کے اگلے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کیا اورپھر پچھلےحصے سے آگلے تک کیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٩؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٤؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
محمود بن خالد نے ولید سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ ۔روایت کرتے ہوئے کہا۔پس انہیں تین تین دفعہ دھویا دونوں پیر دھوئے بغیر کسی گنتی کے ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٩؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٥؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
عبداللہ بن محمد بن عقیل کا بیان ہے کہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لایا کرتے تھے ایک مرتبہ فرمایا کہ میرے وضو کے لئے پانی لاؤ پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاـ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین تین مرتبہ دھوئے اور مبارک چہرہ تین دفعہ دھویا اور ایک دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ (بازو)تین تین مرتبہ دھوئے اور دو دفعہ سر کا مسح کیا سر کے پیچھے سے ابتدا کی اور پھر آگے سے اور پھر اندر سے دونوں کانوں کا مسح کیا اور تین تین مرتبہ دونوں پیر دھوئے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا یہی معنی ہیں حدیث مسدد کے ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٩٠؛ ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٦؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛
اسحاق بن اسمٰعیل، سفیان نے ابن عقیل سے مذکورہ حدیث کی روایت کی اور بعض باتوں میں اختلاف کرتے ہوئے کہا اور تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی ڈالا ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٩٠؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٧؛حکم حدیث شاذ؛ البانی؛
عبداللہ بن محمد بن عقیل کا بیان ہے کہ حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو فرمایا تو سارے سر کا مسح کیا یہ بالوں کی ابتدا سے ہر جانب بالوں کے جھکاؤ کے لحاظ سے کہ کسی بال کو اس کی ہیئت سے نہ ہلاتے ـ یعنی بالوں کو اسی حالت پر رکھتے ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٩١؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٨؛حکم حدیث حسن؛البانی؛
عبداللہ بن محمد بن عقیل کا بیان ہے کہ حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالی عنہا نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے سر کا مسح فرمایا اس کے اگلے حصے کا ،پچھلے حصے کا ،دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک ہی مرتبہ ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،ج ١ ص ٩١؛حدیث نمبر ١٣٩؛حکم حدیث حسن؛تحقیق البانی؛
حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اسی پانی سے کیا جو ہاتھوں میں لگا ہوا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،ج ١ ص ٩١؛حدیث نمبر ١٣٠؛حکم حدیث حسن؛البانی؛
عبد اللہ بن محمد بن عقیل نے حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو اپنے کانوں کے دونوں سوراخوں میں انگلیاں داخل فرمائیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٣١؛ج ١ ص ٩٢؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛
طلحہ بن مصرف کے والد ماجد نے اپنے والد محترم سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کا مسح ایک دفعہ کرتے دیکھا ہے یہاں تک کہ گردن کی ابتدا تک پہنچ جاتے اور مسدد نے کہا کہ اپنے سر کا مسح کیا اس کے اگلے حصے سے پچھلے آخری حصّے تک حتیٰ کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا۔مسدد کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث یحییٰ سے بیان کی تو انہوں نے اسے منکر ٹھہرایا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے امام احمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابن عینیہ اسے منکر قرار دیتے اور فرماتے طلحہ عن ابیہ عن جدہ یہ کیا ہے؟ ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٣٢؛ج ١ ص ٩٣؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط؛
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر ساری حدیث میں تین تین کا ذکر کیا اور فرمایا کہ سر اور کانوں کا مسح صرف ایک بار ہی فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٣٣؛ج ١ ص ٩٤؛حکم حدیث صحيح "الارنووط؛
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھ کے دونوں کویوں کو بھی ملتے تھے ان کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا دونوں کان سر کا حصہ ہیں سلیمان بن حرب نے کہا کہ حضرت ابو امامہ ایسا ہی فرمایا کرتے تھے قتیبہ سے حماد نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کانوں کے متعلق یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی یا حضرت ابو امامہ نے۔قتیبہ نے سنان ابی ربیعہ سے کہا ہے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن ابی ربیعہ وہی ہیں جن کی کنیت ابوربیعہ ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٣٤؛ج ١ ص ٩٥؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط؛
عمر بن شعیب کے والد ماجد سے ان کے والد محترم نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔یارسول اللّٰہ وضو کا طریقہ کیا ہے؟ پس آپ نے برتن میں پانی منگوایا اور اس سے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے۔پھر تین مرتبہ اپنا مبارک چہرہ دھویا۔ پھر تین تین دفعہ اپنی کلائیاں دھوئیں ۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنی انگلیوں کو کانوں کے سوراخوں میں داخل کیا اور دونوں انگوٹھوں کے ساتھ کانوں کے بیرونی حصے کا اور شہادت کی دونوں انگلیوں سے کانوں کے اندرونی حصے کا مسح کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا کہ وضو کا طریقہ یہ ہے جس نے اس پر کچھ اضافہ کیا یا کچھ کمی کی تو اس نے برا کیا اور ظلم کیایا ظلم کیا اور برا کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا،حدیث نمبر ١٣٥؛ج ١ ص ٩٥؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دودفعہ وضو کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ،حدیث نمبر ١٣٦؛ج ١ ص ٩٦؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
عطاء بن یسار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے ہم سے فرمایا۔کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں یہ دکھاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے پس انہوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دائیں ہاتھ میں ایک چلو پانی لے کر اس سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا پھر دوبارہ پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو اکھٹا کیا اور مبارک چہرے کو دھویا پھر اور پانی لے کر اس سے دایاں ہاتھ دھو یا پھر اور پانی لے کر اس سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر پانی سے ایک چلو لے کر اسے گرا دیا اور اس تری سے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا پھر ایک چلو پانی اور لے کر اپنے دائیں پیر پر چھڑکا اور پاؤں میں جوتا تھا تو اس پر ہاتھوں سے مسح کیا کہ ایک ہاتھ اور پاؤں کے اوپر اور دوسرا جوتے کے نیچے رکھا۔پھر اسی طرح بائیں پیر کا مسح کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ،حدیث نمبر ١٣٧؛ج ١ ص ٩٦؛حکم حدیث صحيح ؛تحقیق الارنووط؛
عطاء بن یسار سے روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا وضو نہ دکھاؤ؟ پس انہوں نے ایک ایک دفعہ وضو کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً،حدیث نمبر ١٣٨؛ج ١ ص ٩٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
طلحہ بن مصرف سے ان کے والد ماجد نے اور ان سے ان کے والد محترم نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ وضو فرما رہے تھے اور پانی آپ کے چہرہ اقدس اور داڑھی مبارک سے سینہ پرنور پر بہہ رہا تھا۔ پس میں نے دیکھا کہ آپ نے کلی کرنے اور ناک میں پانی لینے کے درمیان فرق رکھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْفَرْقِ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ،حدیث نمبر ١٣٩؛ج ١؛ص ٩٧؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط؛
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی لے اور ناک سنکے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر١٤٠؛ج ١ ص ٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ناک کو دویاتین مرتبہ مبالغہ کے ساتھ سنک لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر ١٤١؛ج ١ ص ٩٨؛حکم حدیث اسنادہ قوی تحقیق الارنووط؛
حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں بنی منتفق کا وفد بنا کر یا ان کے وفد میں شامل ہوکر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جانب روانہ ہوا ۔جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو کاشانہ اقدس پر آپ کو نہ پایا اور وہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ کا حکم دیا جو ہمارے لئے بنایا گیا اور تھالی لائی گئی اورقتیبہ نے تھالی اور کھجوروں کا ذکر نہیں کیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا کہ تمہیں کچھ کھلایا یا تمہارے متعلق کسی چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ہم عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللّٰہ ہاں !اسی اثنا میں کہ ہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چرواہا گزرا جو بکریوں کو چاراگاہ کی طرف لے جارہا تھا اور اس کے ساتھ ایک نومولود بچہ تھا جو ممیا رہاتھا فرمایا کہ اے فلاں کیا بچہ دیا ہے عرض گزار ہوا کہ پٹھیا۔ فرمایا کہ اس کے بدلے ہمارے لئے ایک بکری ذبح کر دو پھر فرمایا کہ اپنے لئے نہ سمجھ لینا بلکہ اسے ہمارے لئے ذبح کرنا۔ ریوڑ میں سوبکریاں ہیں اور ہم ان میں اضافہ کرنا نہیں چاہتے۔ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی جگہ ہم بکری ذبح کروا لیتے ہیں۔ میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ میری بیوی بد زبان ہے فرمایا کہ تو اسے طلاق دے دو میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ ہم نے ایک عرصہ اکھٹے گزارا ہے اس سے بچے بھی ہیں۔ فرمایا تو اسے نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہوگی تو سمجھ جائے گی اور اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارنا میں گزار ہوا یا رسول اللہ مجھےوضوکے متعلق بتایئے فرمایا پورا وضو کیا کرواور انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو اور ناک میں مبالغے کے ساتھ پانی لیا کرو ماسوائے اس حالت کے کہ تم روزہ دار ہو ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر١٤٢؛ج ١ ص ١٠٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛
عاصم بن لقیط بن صبرہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ وہ بنی منافق کا وفد لائے تو وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر معنا مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تھوڑی ہی دیر میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لے آئے آگے کو جھکتے ہوئے اور راوی نے خزیرہ کی جگہ عصیدہ کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر١٤٣؛ج ١ ص ١٠٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
محمد بن یحییٰ بن فارس ابوعاصم ،ابن جریج نے یہ حدیث اسی طرح روایت کرتے ہوئے اس میں کہا ۔جب وضو کرو تو کلی کرلیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر١٤٤؛ج ١ ص ١٠١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو ایک چلو پانی لے کر تھوڑی کے نیچے لگاتے اور داڑھی مبارک میں اس کے ساتھ خلال کرتے اور فرمایا کہ میرے پروردگار نے مجھے یہی حکم دیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ،حدیث نمبر١٤٥؛ج ١ ص ١٠١؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛
راشد بن سعد کا بیان ہے کہ حضرت ثوبان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تو ان لوگوں کو سردی لگی ۔جب وہ خدمت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں واپس آکر حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں حکم فرمایا کہ پگڑیوں اور موزوں پر مسح کیا کریں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ،حدیث نمبر١٤٦؛ج ١ ص ١٠٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
ابومعقل سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور آپ کے اوپر قطری کا بنا ہوا عمامہ تھا پس آپ نے اپنا دست مبارک عمامے کے نیچے داخل کر کے سر اقدس کے اگلے حصے کا مسح کیا اور مقدس عمامے کی بندش کو نہ توڑا ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ،حدیث نمبر١٤٧؛ج ١ ص ١٠٤؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط؛
ابوعبدالرحمن حبلی سے روایت ہے کہ حضرت مستورد بن شداد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلی کو اپنی چھنگلی انگشت مبارک سے ملتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ،حدیث نمبر ١٤٨؛ج ١ ص ١٠٤؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
عروہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اپنے والد ماجد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ غزوہ تبوک میں نماز فجر سے پہلےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چھوڑ کر لوگوں سے ایک جانب ہو گئے تو میں نے بھی آپ کے ساتھ راستہ چھوڑ دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ جب واپس آئے تو میں نے آپ کے دست پر چھا گل سے پانی ڈالاپس آپ نے دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنا پرنور چہرہ دھویا پھر اپنی کلائیوں سے کپڑا ہٹانا چاہا تو جبہ مبارک کی دونوں آستین تنگ تھی پس اپنے ہاتھ داخل کئے اور انہیں جبہ کے نیچے سے نکال لیا اور پھر دونوں کو کہنیوں تک دھو یا اور سر کا مسح فرمایا پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کر کے سوار ہوگئے پس ہم سفر کرتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ جب لوگوں سے ملے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے جنہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو آگے کھڑا کر لیا تھا نماز کا وقت ہو جانے کے باعث لوگوں کو نماز پڑھانے لگے تھے حضرت عبدالرحمن کو ہم سپایاکہ وہ لوگوں کو نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوگئے لہذا حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پیچھے آپ نے دوسری رکعت پڑھی جب حضرت عبدالرحمن نے سلام پھیر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باقی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے جبکہ مسلمان فارغ ہو چکے تھے پس انہوں نے کثرت سے تسبیح کہنا شروع کر دیں کیونکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز پڑھ لی جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سلام پھیراتو ان سے فرمایا۔تم نے درست کیا تم نے اچھا کیا۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ،حدیث نمبر ١٤٩؛ج ١ ص ١٠٥؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛
حضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اپنی پیشانی مبارک پر مسح کیا اور ذکر کیا کہ عمامہ کے اوپر معتمر ان کے والد ماجد بکربن عبداللّٰہ،حسن،ابن مغیرہ بن شعبہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم موزوں اور اپنی پیشانی مبارک اور اپنے عمامہ مبارک پر مسح فرمایا کرتے تھے۔بکر کا بیان ہے کہ اسے میں نے ابن مغیرہ سے سنا ہے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٠؛ج ١ ص ١٠٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
عروہ بن شعبہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ ہم چند سوار رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل تھی ۔پس حضور اپنی حاجت کے لیے ایک جانب نکلے جب واپس تشریف لائے تو میں چھاگل لیے ہوئے ملا پس میں نے پانی ڈالا تو آپ نے دونوں ہاتھ دھوئے اور مبارک چہرہ بھی ۔پھر اپنی کلائیاں نکالنے کا ارادہ کیا اور آپ نے رومی جبوں میں سے صوف کا جبہ پہنا ہوا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں پس آپ نے انھیں نیچے کی جانب نکال لیا ۔پھر میں موزے اتار نے کے لیے جھکا تو مجھ سے فرمایا کہ موزوں کو رہنے دو کیوں کہ میں نے انھیں اس وقت پہنا تھا جبکہ میرے دونوں قدم طہارت سے تھے پس آ پ نے ان پر مسح فرمایا۔ یونس کے والد ماجد سے شعبی نے فرمایا کہ عروہ نے اپنے والد ماجد کی شہادت دی اور ان کے والد ماجد نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شہادت دی۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥١؛ج ١ ص ١٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
زرارہ بن اوفی سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیچھے رہ گئے۔ پھر پورے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا پس نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کی طرف سے جاری رکھنے کا اشارہ فرمایا پس میں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے پیچھے ایک رکعت پڑھی۔ جب انہوں نے سلام پھیر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر وہ رکعت پڑھی جو رہ گئی تھی اور اس پر کوئی اور اضافہ نہیں کیا۔ امام ابوداؤد نے فرمایا آیا کہ حضرت ابو سعید خدری حضرت ابن زبیر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہم فرمایا کرتے تھے کہ جو طاق رکعتیں پائے تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٢؛ج ١ ص ١٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
ابو عبدالرحمن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی موجود تھے جب کہ وہ حضرت بلال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دریافت کررہے تھے پس حضرت بلال نے فرمایا کہ حضور حاجت کے لئے باہر تشریف لے جاتے چنانچہ آپ کی خدمت میں پانی پیش کیا جاتا تو وضو فرماتے اور مسح کرتے اپنے عمامےاور موزوں پر۔ امام ابوداؤد نے فرمایا یہ وہ ابو عبداللہ راوی ہے جو بنی تمیم بن مرہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٣؛ج ١ ص ١٠٩؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛
ابوزرعہ بن عمروبن جریر سے روایت ہے کہ حضرت جریر بن عبدااللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پیشاب کرکے وضو کیا تو موزوں پر مسح کیا اور فرمایا کہ میرے لیے مسح کرنے میں کیا رکاوٹ ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ایسا سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے ہوتا تھا۔انھوں نے کہا کہ میں نے سورۃ المائدہ کی نازل ہو جانے کے بعد اسلام قبول کیا۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٤؛ج ١ ص ١٠١٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛
ابوبردہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دوسیاہ اور سادے موزے آپ کے پہننے کے لئے تحفے کے طور پر بھیجے۔ آپ نے انہیں پہنا پھر وضو فرمایا اور ان کے اوپر مسح کیا مسدد نے دلہم بن صالح سے کہا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث کو صرف اہل بصرہ نے ہی روایت کیا ہے۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٥؛ج ١ ص ١٠١١؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛
عبد الرحمن بن ابونعم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا۔ تو میں عرض گزار ہوا یا رسول اللہ کیا آپ بھول گئے ہیں؟ فرمایا بلکہ تم بھول گئے ہو کیونکہ مجھے میرے رب عزوجل نے یہی حکم فرمایا ہے۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٦؛ج ١ ص ١٠١١؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط ؛
ابو عبداللہ جدولی نے حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موزوں پر مسح کی مدت مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک رات دن ہے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ،حدیث نمبر ١٥٧؛ج ١ ص ١٠١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
ابی بن عمارہ سے حضرت یحییٰ بن ایوب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی جانب نماز پڑھی تھی کہ میں عرض گزارہوا یا رسول اللہ کیا میں موزوں پر مسح کر لیا کرو؟فرمایا ہاں۔ عرض کی کہ ایک دن فرمایا دو دن عرض گزار ہوئے تین دن فرمایا اور جو تم چاہو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن ابی مریم مصری، یحییٰ بن ایوب، عبد الرحمن بن رزین، محمد بن یزید بن ابو زیاد، عبادہ بن نستی نے ابی بن عمارہ سے جو روایت کی ہے اس میں کہا۔ یہاں تک کہ سات تک پہنچے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جو تمہارا دل چاہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس کی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے اور یہ مضبوط نہیں ہے اور اسے یحیی بن اسحاق شیلحینی نے یحیٰی بن ایوب سے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے۔ نوٹ:امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک موزوں پر مسح کی مدت مقیم کے لئے ایک دن ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن تین رات ہے۔ موزوں پر مسح کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہےاس کا انکار وہی کرے گا جو بدعتی یا بدمذہب ہو واللہ تعالی اعلم۔ ابوداؤد شریف مترجم:مولانا عبد الحکیم خاں اختر شاہ جہاں پوری ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ،حدیث نمبر ١٥٨؛ج ١ ص ١١٣؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط ؛
ہزیل بن شرحبیل نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےوضو فرمایا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن مہدی اسے بیان نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت مغیرہ سے مشہور روایت یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور اسی طرح حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں پر مسح کیا یہ روایت متصل نہیں اور یہ مضبوط بھی نہیں۔ حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت براء بن عازب، حضرت انس بن مالک، حضرت ابو امامہ، حضرت سہل بن سعد اور حضرت عمر بن حریث کیا حضرت عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی اس کی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ،حدیث نمبر ١٥٩؛ج ١ ص ١١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
عباد کو حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اپنے جوتوں اور پیروں پر مسح کیا۔عباد نے کہا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک قوم کی دو کنؤں کی درمیانی نالی پر تشریف فرما ہوئے۔ مسدد نے دو کنؤں کے درمیانی نالی کا ذکر نہیں کیا۔پھر دونوں اس بات پر متفق ہیں اور مسح کیا اپنےجوتوں اور اپنے دونوں پیروں پر۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ،حدیث نمبر١٦٠؛ج ١ ص ١١٦؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛
عروہ بن زبیر نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم موزوں پر مسح فرمایا کرتے تھے۔محمد بن صباح کے سوا دوسرے حضرات نے کہا کہ موزوں کی پشت پر مسح فرمایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦١؛ج ١ ص ١١٧؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛
عبد خیر کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اگر دین میں رائے کو دخل ہو تو موزوں کے اوپر والے حصے کی نسبت نیچے کی طرف مسح کرنا بہتر ہوتا حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح فرماتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦٢؛ج ١ ص ١١٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
یزید بن عبد العزیز نے اعمش سے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ حدیث کو روایت کرتے ہوئے فرمایا۔میں پیروں کے تلوؤں کو دھونا مقدم شمار کیا کرتا تھا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو موزوں کے ظاہری حصے پر مسح فرماتے ہوئے دیکھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦٣؛ج ١ ص ١١٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
اعمش نے مذکورہ حدیث کو روایت کرتے ہوئے فرمایا اگر دین رائے پر منحصر ہوتا تو پیروں کے تلوے مسح کے ظاہری حصے سے زیادہ حقدار تھے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ظاہری حصے پر مسح فرمایا وکیع نے اعمش سے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہوئے فرمایا میں سمجھتا تھا کہ مسح کرنے میں ظاہری حصے سے تلوے مقدم ہیں یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ان کی ظاہری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔وکیع کا بیان ہے کہ موزوں پر ایسا عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے وکیع کی طرح روایت کی ہے۔ابوالسوداء ابن عبد خیر ، عبدخیر نے فرمایا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے دونوں قدموں کی پشت کو دھویا اور فرمایا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا۔ پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦٤؛ج ١ ص ١١٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
رجاءبن حیاۃ کا بیان ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کاتب سے فرمایا کہ غزوہ تبوک کے دوران نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو موزوں پر اوپر اور نیچے مسح کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہونچی ہے کہ ثوربن یزید نے یہ حدیث رجاء بن حیات سے نہیں سنی(یعنی منقطع ہے)۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦٥؛ج ١ ص ١٢٠؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط ؛
مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت سفیان بن حکم ثقفی یا حضرت حکم بن سفیان ثقفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرلیتے اور میانی پر پانی چھڑک لیتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ایک جماعت نے اس اسناد میں سفیان کی موافقت کی ہے۔بعض حضرات نے الحکم اور بعض نے ابن الحکم کہا ہے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِانْتِضَاحِ،حدیث نمبر١٦٦؛ج ١؛ص ١٢٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی ؛
مجاہد ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ علیہ السلام نے پیشاب کیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا (سنن ابی داؤد شریف کتاب الطہارت ج ١ ص ١٢١؛حدیث نمبر ١٦٧؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛
مجاہد نے حکم یا ابن حکم سے اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا۔پھر وضو فرمایا اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِانْتِضَاحِ،حدیث نمبر١٦٨؛ج ١؛ص ١٢١؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛
جبیر بن نفیر سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور باری سے اپنے ساتھیوں کی خدمت کرتے اور اونٹ چرایا کرتے تھے۔ایک روز اونٹ چرانے کی باری میری تھی۔میں تیسرے پہر انہیں لیکر آیا تو میں نے پایا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اس وقت میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو ان میں اپنے دل اور اپنی نگاہ کے ساتھ متوجہ رہے مگر اس کے لیے (جنت یا نجات) واجب ہو جاتی ہے۔میں نے کہا واہ واہ! یہ کتنی اچھی بات ہے۔ میرے سامنے کھڑے ہوئے ایک آدمی نے کہا۔اے عقبہ! آپ سے پہلے جو بات ارشاد فرمائی اس سے بھی اچھی تھی میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تھے میں نے کہا اے ابو حفص وہ کیا ہے وہ کہنے لگے کہ آپ کے آنے سے پہلے ابھی ابھی فرمایا ہے کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہیں کہ وضو کرے تو وضو اچھی طرح کرے پھر وضو سے فارغ ہونے پر کہے میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد مصطفی اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَوَضَّأَ،حدیث نمبر١٦٩؛ج ١ ص ١٢٢؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی ہے اور اس میں اونٹ چرانے کا ذکر نہیں کیا۔بتاتے ہوئے فرمایا۔پس اچھی طرح وضو کرے۔پھر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر کہے ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَوَضَّأَ،حدیث نمبر١٧٠؛ج ١ ص ١٢٤؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط ؛
محمد یعنی ابواسد بن عامر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے وضو کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے تازہ وضو فرمایا کرتے تھے اور ہم ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ لیا کرتی تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّ الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر١٧١؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛
سلیمان نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھائیں اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔حضرت عمر عرض گزار ہوئے کہ آج میں نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ پہلے آپ نہیں کرتے تھے۔فرمایاکہ میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّ الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر١٧٢؛ج ١ ص ١٢٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
قتادہ بن دعامہ نے حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہا ایک آدمی وضو کر کے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس نے ناخن برابر جگہ اپنے پیر میں خشک چھوڑ کر رکھی تھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث جریر بن حازم سے معروف نہیں ہے اور اسے صرف ابن وہب ہی روایت کیا ہے جبکہ معقل بن عبیداللہ جزری،ابوالزبیر،جابر، حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسی کے مانند روایت کی ہے جس میں فرمایا۔واپس جاؤاور اچھی طرح وضو کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٧٣؛ج ١ ص ١٢٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
حضرت حسن نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے معنا حدیث قتادہ کی طرح روایت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٧٤؛ج ١ ص ١٢٦؛حکم حدیث رجالہ ثقات؛ تحقيق الارنووط؛
خالد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس کے قدم پر ایک درہم کے برابر ایسی جگہ تھی جسے پانی نہیں پہنچاتھا۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٧٥"ج ١ ص ١٢٧؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط ؛
سعید بن مسیب اور عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ ان کے چچا حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اگر آدمی کو نماز میں ہوا خارج ہونے کا شک گزرے۔فرمایا کہ نماز نہ توڑے یہاں تک کہ آواز سنے یا بدبو پائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ،حدیث نمبر١٧٦؛ج ١ ص ١٢٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے اندر ہو اور وہ اپنی پیٹھ میں حرکت محسوس کرے اور شک میں مبتلا ہو جائے کہ وضو ٹوٹایانہ ٹوٹا تو نماز نہ توڑے یہاں تک کہ آواز سنے یا بدبومحسوس کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ،حدیث نمبر١٧٧؛ج ١ ص ١٢٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں بوسہ دیا اور وضو نہ کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے۔کیونکہ ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ سے کچھ بھی نہیں سنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ،حدیث نمبر١٧٨؛ج ١ ص ١٢٨؛حکم حدیث صحیح تحقیق الارنووط ؛
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات میں سے ایک کو بوسہ دیا پھر نماز کیلئے نکلے اور وضو نہیں فرمایا عروہ کا بیان ہے کہ میں نے اس سے کہا۔ وہ آپ ہی ہو گی بس وہ ہنس پڑی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ،حدیث نمبر١٧٩؛ج ١ ص ١٢٩؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط ؛
ابراہیم بن مخلد طالقانی،عبدالرحمان بن مغراء،اعمش ان کے چند ساتھی،عروہ مزنی نے اس کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یحیٰی بن سعید القطان نے ایک آدمی سے کہاکہ یہ دونوں حدیثیں مجھ سے نقل کرو یعنی اعمش کی حدیث بواسطہ حبیب اور اسی اسناد کے ساتھ اس کی حدیث کہ مستحاضہ ہرنماز کے لیے وضو کرے ۔ یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے یہ غلط نقل کی گئی ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ سفیان ثوری سے مروی ہے کہ ہم سے حبیب نے نہیں روایت کی مگر عروہ مزنی کے واسطے سے یعنی انہوں نے عروہ بن زبیر سے کوئی حدیث روایت نہیں کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حمزہ الزیات حبیب،عروہ بن زبیر،حضرت عائشہ اس اسناد کے ساتھ یہ حدیث صحیح روایت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ،حدیث نمبر١٨٠؛ج ١ ص ١٣٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط ؛
عبداللہ بن ابوبکر نے عروہ بن زبیر کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں مروان بن الحکم کے پاس گیا تو ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے مروان نے کہا اور شرمگاہ چھونے سے بھی۔عروہ نے کہا مجھے یہ معلوم نہیں۔مروان نے کہا کہ مجھے حضرت بسرہ بنت صفوان نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اپنی شرم گاہ کو چھوئے تو وضو کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ،١٨١؛ج ١ ص ١٣٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
قیس بن طلق نے اپنے والد ماجد حضرت طلق بن علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ایک بدوی شخص آکر عرض گزار ہوا یا نبی اللہ اگر کوئی وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگا بیٹھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی جسم کا ایک حصہ ہے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٨٢؛ج ١ ص ١٣١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط؛؛
مسدد،محمد بن جابر نے حضرت قیس بن طلق سے مذکورہ حدیث کو اسی اسناد کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے اضافہ کیا کہ نماز میں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٨٣؛ج ١ ص ١٣٢؛حکم حدیث حسن؛تحقيق الارنووط ؛
عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اس کے بعد وضو کیا کرو۔ بکری کے گوشت کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ اس کے بعد وضو نہ کرو۔ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو۔ کیوں کہ ان کا تعلق شیاطین سے ہے اور بکریوں کے ریوڑوں میں نماز پڑھنے کی بابت دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ ان میں نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ وہ برکت کی جگہ ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ،حدیث نمبر١٨٤؛ج ١ ص ١٣٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
ہلال بن میمون جہنی نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی۔ہلال نے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری کے سوا مجھے اس کی کوئی سند معلوم نہیں ۔ایوب اور عمرو نے بھی اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک لڑکے کے پاس سے گزرے جو بکری کی کھال اتار رہا تھا پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ایک طرف ہو جاؤ میں اتار کر دکھاتا ہوں پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک کھال اور گوشت کے درمیان اندر داخل کیا حتی کہ وہ بغل تک چلا گیا پھر آپ نے جا کر لوگوں کو نماز پڑھائی اور نیا وضو نہ کیا۔ عمر نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا کہ پانی کو ہاتھ بھی نہ لگایااور اسے حلال بن میمون سے روایت کیا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا کہ اسے عبد الواحد بن زیاد، ابومعاویہ، حلال اور عطا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سے متصل روایت کیا اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ اللَّحْمِ النِّيءِ وَغَسْلِهِ،حدیث نمبر١٨٥؛ج ١ ص ١٣٣؛حکم حدیث اسنادہ قوی تحقیق الارنووط؛
جعفر کے والد ماجد نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا گزر عالیہ بستیوں میں سے ایک بستی کے بازار میں سے ہواجو دونوں جانب تھا۔ پس آپ کو چھوٹے کانوں والا بکری کا ایک مردہ بچہ ملا آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھا لیا پھر فرمایا کہ تم میں سے کون پسند کرتا ہے کس کا ہو پھر باقی حدیث آخر تک بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الْمَيْتَةِ،حدیث نمبر١٨٦؛ج ١ ص ١٣٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
عطاء بن یسار نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بکری کی دستی کا گوشت کھا کر نماز پڑھی اور وضو نہ فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٨٧؛ج ١ ص ١٣٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
مغیرہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ایک ران کا حکم فرمایا جو بھونی گئی۔ آپ چھری لے کر اس میں سے میرے لئے کاٹنے لگے کہ اتنے میں حضرت بلال نماز کے لیے بلانے آگئے۔ پس آپ نے چھری ڈال دی اور فرمایا اس کے ہاتھ خاک آلود ہو اسے ہو کیا گیا ہے اور نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے۔انباری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں جنہیں آپ نے مسواک پر رکھ کر کاٹ دیا یا یہ فرمایا کہ میں تیرے بالوں کو مسواک پر رکھ کر کاٹ دیتا ہوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٨٨؛ج ١ ص ١٣٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا،پھر اپنا دست مبارک اس فرش سے پونچھ لیا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا ،پھر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٨٩؛ج ١ ص ١٣٦؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط ؛
یحییٰ بن یعمر نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بکری کی دستی کا گوشت تناول فرمایا پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٩٠؛ج ١ ص اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
محمود بن مکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حضور روٹی اور گوشت پیش کیا ۔آپ نے تناول فرمایا۔پھر وضو کے لیے پانی منگوا کر اس سے وضو کیا پھر ظہر کی نماز پڑھ کر اپنا باقی کھانا منگوایا ۔پس کھاکر پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور دوبارہ وضو نہ فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٩١؛ج ١ ص ١٣٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دونوں صورتوں میں سےآخری فعل رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ آگ سے پکی ہوئی چیز کھاکر وضو نہیں فرمایا کرتے تھے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ مذکورہ بالا حدیث کا خلاصہ ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٩٢؛ج ١ ص ١٣٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ مصر میں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن حارث بن جزءرضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے تو میں نے مصر کی مسجد میں انہیں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی کے گھر میں سات یا چھ آدمیوں کو میں نے اپنے ساتھ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیکھا ۔پس حضرت بلال گزرے اور انہوں نے نماز کے لیے آواز دی۔پس ہم باہر نکلے تو تو ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر پک رہی تھی ۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تمہاری ہانڈی پک گئی ہے؟عرض گزار ہوا ہاں آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔آپ نے اس میں سے ایک بوٹی اٹھائی اور اسے چباتے رہے ،یہاں تک کہ نماز کی تکبیر کہی اور ایسا کرتے ہوئے میں نے آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٩٣؛ج ١ ص ١٣٨؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کرنا ہوتا ہے آگ سے پکی ہوئی چیز کھاکر۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٩٤؛ج ١ ص ١٣٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
ابوسلمہ نے ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ سے روایت کی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ام المومنین نے انہیں ایک پیالہ ستوپلائے ۔انہوں نے پانی منگوا کر کلی کی فرمایا اے میرے بھانجے!تم وضو کیوں نہیں کرتے جبکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آگ سے پکائی ہوئی چیز کھاکر وضو کیا کرو یا فرمایا کہ جس کو آگ نے مس کیا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٩٥؛ج ١ ص ١٣٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"تحقیق الارنووط
عبید بن عبداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرماکر پانی منگوایا تو کلی کی ۔پھر فرمایا کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ اللَّبَنِ،حدیث نمبر١٩٦؛ج ١ ص ١٤٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
توبہ عنبری نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرماکر کلی نہیں کی اور نہ وضو کیا اور نماز پڑھ لی۔زید نے فرمایا کہ اس بوڑھے کو یہ شعبہ نے بتایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٩٧؛ج ١ ص ١٤٠؛حکم حدیث حسن تحقیق البانی؛
عقیل بن جابر کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ۔ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے یعنی غزوہِ ذات الرقاع میں۔پس ایک آدمی نے کسی مشرک کی بیوی کو ماردیا تو اس نے قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کے محمد کے ایک ساتھی کا خون نہ بہادوں۔پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش قدم کو دیکھتا ہوا نکلا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل پر اترے تو فرمایا کہ کون ہمارا پہرہ دیگا؟ ایک مہاجراور ایک انصار نے یہ ذمہ لے لیا۔فرمایا کہ گھاٹی کے دہانے پر چلے جاؤ جب دونوں حضرات گھاٹی کے دہانے پر پہنچ گئے تو مہاجر لیٹ گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ایک شخص آیا اور دیکھ کر اس نے پہچان لیا کہ یہ قوم کے نگران ہیں۔پس اس نے ایک تیر مارا جو انہیں آلگا۔انہوں نے اسے نکال دیا،یہاں تک کہ اس نے تین تیر مارے پھر انہوں نے ر کوع سجدہ کر کے اپنے ساتھی کو بتایا تیر اندازوں نے جب دیکھا کہ وہ خبر دار ہو گئے تو بھاگ گیا۔ جب مہاجرین نے انصار کا خون دیکھا تو تعجب سے کہا کہ آپ نے مجھے پہلے ہی تیر پر کیوں نہیں بتایا؟کہا کہ میں ایک سورت پڑھ رہا تھا جسے توڑنا میں نے پسند نہ کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الدَّمِ،حدیث نمبر١٩٨؛ج ١ ص ١٤١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط ؛
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں اتنی دیر کر دی کہ ہم مسجد میں سو گئے ہم دوبارہ بیدار ہو کر سو گئے ہم سہ بارہ بیدار ہوکر سو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا تمہارے سوا کوئی ایک بھی نہیں جو نماز کے انتظار میں ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر١٩٩َ؛ج ١ ص ١٤٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب اتنی دیر تک نماز عشاء کا انتظار کرتے کہ ان کے سر جھک جاتے پھر نماز پڑھتے اور دوبارہ وضو نہ کرتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ شعبہ نے قتادہ سے جو روایت کی اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہمارے سر جھک جاتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن ابوالعروبہ نے اسے قتادہ سے دوسرے لفظوں میں روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر٢٠٠؛ج ١ ص ١٤٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز عشاء کی اقامت کہی گئی تو ایک آدمی کھڑا ہوکر عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہ! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔پس آپ کھڑے ہوکر اس سے سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ لوگ اونگھنے لگے یا بعض حضرات۔پھر آپ نے ان کے ساتھ نماز پڑھی اور راوی نے دوبارہ وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر٢٠١؛ج ١ ص ١٤٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
ابولعالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سجدہ کرتے سوجاتے اور خراٹے لیتے رہتے ۔پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھ لیتے اور دوبارہ وضو نہ کرتے میں عرض گزار ہوا کہ آپ نے بغیر وضو کیے نماز پڑھ لی حالانکہ آ پہنچی سوگئے تھے۔فرمایا کہ وضو اس پر لازم ہے جو ٹیک لگا کر سوجائے۔عثمان اورہناد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب ٹیک لگائے گا تو تو جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں گے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ کہنا کہ وضو اس پر ہے جو ٹیک لگا کر سویا ہو ۔یہ حدیث منکر ہے کیونکہ یزید دالانی کے سوا اسے قتادہ سے کسی نے روایت نہیں کیا۔حدیث کے پہلے حصے کو حضرت ابن عباس سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے لیکن انہوں اس بات کا ذکر تک نہیں کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔شعبی نے فرمایا کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے چار حدیثیں سنی ہیں۔ 1۔یونس بن متی کے متعلق حدیث۔ 2۔نماز کے متعلق ابن عمر سے حدیث۔ 3۔قضاء ثلاثہ کی حدیث۔ 4۔حضرت ابن عباس کی یہ حدیث کہ مجھ سے کتنے ہی پسندیدہ حضرات نے حدیث بیان کی ہے جن میں سے حضرت عمر بھی ہیں اور حضرت عمر مجھے ان میں سب سے پسندہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر٢٠٢؛ج ١ ص ١٤٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط؛
حضرت عبدالرحمن بن عائذ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مقعد کی ڈاٹ آنکھیں ہیں(یعنی بیدار آدمی کے علم میں یہ بات رہتی ہے کہ مقعد سے کچھ نکلا یا نہ نکلا)جو سوجائے اسے وضو کرنا چاہیے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر٢٠٣؛ج ١ ص ١٤٦؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی؛
شقیق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم پیدل چلنے کے بعد پیروں کو دھویا نہیں کرتے تھے نیز نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹا نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ الْأَذَى بِرِجْلِهِ،حدیث نمبر٢٠٤؛ج ١ ص ١٤٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
مسلم بن سلام نے حضرت علی بن طلق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے دوران نماز کسی کی ہوا خارج ہوجائے تو اسے چاہیے کہ لوٹ جائے اور وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ يُحْدِثُ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٢٠٥؛ج ١ ص ١٤٨؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛
حصین بن قبیصہ کا بیان ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ میری مذی بہت بہتری تھی مجھے بار بار غسل کرنا پڑتا جو مجھے اپنے اوپر بوجھ نظر آیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا یا آپ سے ذکر کروایا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو ۔جب تم مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھوکر اسی طرح وضو کرلیا کرو جیسے نماز کے لیے کرتے ہیں۔اور جب تم پانی(مذی)بہاؤتو غسل کیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢٠٦؛ج ١ ص ١٤٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
مقداد بن اسود کا بیان ہے کہ ان سے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق پوچھیے جو اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس کی مذی نکل آئے تو اس پر کیا لازم ہے ؟چونکہ میرے نکاح میں حضور کے صاحزادی ہے اس لیے خود پوچھنے میں مجھے عار محسوس ہوتی ہے۔حضرت مقداد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی یہ چیز دیکھے تو اپنی شرمگاہ کو دھوکر اسی طرح وضو کرے جیسے نماز کے لیے کرتا یے۔۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢٠٧؛ج ١ ص ١٤٩؛؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مقداد سے کہا۔پھر مذکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مقداد کے دریافت کرنے پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی شرمگاہ اور دونوں خصیوں کو دھولینا چاہیے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ سفیان ثوری اور ایک جماعت نے ہشام،عروہ،حضرت مقداد ،حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢٠٨؛ج ١ ص ١٥١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
ہشام بن عروہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت مقداد رضی اللّٰہ عنہ سے کہا۔پھر معنا مذکورہ حدیث بیان کی ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے مفضل بن فضالہ،ثوری،ابن عیینہ،ہشام،عروہ بن زبیر نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور ابن اسحاق،ہشام بن عروہ،عروہ بن زبیر،حضرت مقداد رضی اللّٰہ عنہ نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اور فوطول کا ذکر نہیں فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢٠٩؛ج ١ ص ١٥١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
سعید بن عبید بن سباق نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میری شدت کے ساتھ مذی نکلا کرتی ہے جس کے باعث کثرت سے غسل کرنا پڑتا ہے۔پس میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو فرمایا کہ اس کے لیے تمہیں وضو کرلینا کافی ہے۔میں عرض گزار ہوا کہ یارسول اللّٰہ!جو میرے کپڑے میں لگ جاتی ہے اس کے لیے کیا کروں؟فرمایا کہ تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ جہاں تم اپنے کپڑے پر لگی ہوئی دیکھو تو اس پر ایک چلو پانی چھڑک لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢١٠؛ج ١ ص ١٥١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط؛
علاء بن حارث نے حرام بن حکیم سے روایت کی ہے کہ ان کے چچا جان حضرت عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوا کہ غسل کن چیزوں سے واجب ہوتا ہے اور غسل کرنے کے بعد پانی نکل آئے؟فرمایا کہ یہ مذی ہوتی ہے اور ہر مرد کی مذی خارج ہوتی ہے اس کے باعث اپنی شرمگاہ اور فوطول کو دھولیا کرواور نماز کے وضو کی طرح وضو کرلیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢١١؛ج ١ ص ١٥٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
علاء بن حارث نے حرام بن حکیم سے روایت کی ہے کہ ان کے چچا جان حضرت سہل بن حنیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے لیے اپنی بیوی سے کیا چیز جائز ہے ۔جب کہ وہ حائضہ ہے؟فرمایا کہ تہبند سے اوپر تمہارے لیے سب کچھ جائز ہے اور حائضہ کے ساتھ کھانے پینے کا بھی ذکر کیا ۔پھر باقی حدیث آخر تک بیان کی ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ في مباشرة الحائض ومواكلتها،حدیث نمبر٢١٢؛ج ١ ص ١٥٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
عبدالرحمن بن عائذ ازدی نے ہشام یعنی ابن قرط امیر حمص سے روایت کی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آدمی کے لیے اپنی بیوی سے کیا چیزیں جائز ہیں جب کہ وہ حائضہ ہو؟فرمایا کہ تہبند سے اوپر سب کچھ جائز ہے اور اس سے بچنا افضل ہے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ سند قوی نہیں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ في مباشرة الحائض ومواكلتها،حدیث نمبر٢١٣؛ج ١ ص ١٥٣؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
حضرت سہل بن سعد ساعدی نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع اسلام میں کپڑوں کی قلت کے باعث لوگوں کو اس (دخول سے غسل لازم نہ آنے) کی رخصت (معافی) عطا فرمائی تھی پھر غسل کا حکم فرمایا اور غسل درک کرنے سے منع فرما دیا گیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ایسا سمجھنے سے منع فرما دیا کہ پانی نکلنے سے غسل لازم آئے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْإِكْسَالِ،حدیث نمبر ٢١٤؛؛ج ١ ص ١٥٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
حضرت سہل بن سعد ساعدی نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ جو فتویٰ دیتے تھے کہ انزال ہونے سے غسل لازم آتا ہے یہ رخصت تھی کہ شروع اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معافی عطا فرمائی تھی ۔پھر اس کے بعد غسل کرنے کا حکم فرمادیا گیا ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابوغسان سے مراد محمد بن مطرف ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْإِكْسَالِ،حدیث نمبر ٢١٥؛ج ١ ص ١٥٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد اور عورت کی چاروں شاخوں (دونوں رانوں اور پنڈلیوں) کے درمیان بیٹھ گیا اور ختنہ ختنہ سے جا ملا تو غسل واجب ہو گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْإِكْسَالِ،حدیث نمبر ٢١٦؛ج ١ ص ١٥٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی (احتلام کی منی )نظر آنے سے غسل ہے. ابوسلمہ ایسا ہی کیا کرتے تھے (یعنی انزال ہونے پر غسل کیا کرتے تھے)۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْإِكْسَالِ،حدیث نمبر ٢١٧؛ج ١ ص ١٥٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی روز ایک غسل سے اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ہوآتے تھے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح ہشام بن زید نے حضرت انس سے روایت کی ہے اور معمر قتادہ نے حضرت انس سے روایت کی ہے اور صالح بن ابوالاخضر نے زہری سے ،سب نے حضرت انس سے انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَعُودُ،حدیث نمبر٢١٨؛ج ١ ص ١٥٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
حضرت ابورافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے (صحبت کی) ایک سے فارغ ہو کر غسل کر تےپھر دوسرے سے فارغ ہوکر۔ راوی کا بیان ہے میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ آپ ایک ہی بار غسل کیوں نہیں فرمالیتے فرمایا طہارت بہتری اور جسمانی طہارت اس میں زیادہ ہے۔ امام ابوداؤد نےفرمایا کہ حضرت انس کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ،حدیث نمبر٢١٩؛ج ١ ص ١٥٨؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی؛
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس گیا۔پھر دوبارہ جانا چاہے تو دونوں کے درمیان وضو کرلے۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ،حدیث نمبر٢٢٠؛ج ١ ص ١٥٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ رات کے وقت وہ جنابت کی حالت میں ہوتے ہیں۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وضو کرواپنی شرمگاہ کو دھو لو اور سوجایا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَنَامُ،حدیث نمبر٢٢١؛ج ١ ص ١٥٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
زہری نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز کے وضو کی طرح وضو فرمالیا کرتے تھے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْجُنُبِ يَأْكُلُ،حدیث نمبر٢٢٢؛ج ١ ص ١٥٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
یونس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حالت جنابت میں جب کھانے کا ارادہ فرماتےتو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو لیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن وہب نے یونس سے روایت کرتے ہوئے جو کھانے کے متعلق کہا کہ حضرت عائشہ کا قول ہے۔ اس کی صالح بن عبدالاخضرنے زہری سے ابن مبارک کے مطابق روایت کی ماسوائے اس کے کہ جب کہ عروہ یا ابو سلمہ سے روایت کی۔ اوزاعی، یونس، زہری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن مبارک کے مطابق روایت کی۔۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْجُنُبِ يَأْكُلُ،حدیث نمبر٢٢٣؛ج ١ ص ١٦٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے یاسونے کا ارادہ فرماتے تو وضو کرلیتے حالانکہ آپ جنابت کی حالت میں ہوتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ: يَتَوَضَّأُ الْجُنُبُ،حدیث نمبر٢٢٤؛ج ١ ص ١٦١؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط؛
یحییٰ بن یعمر نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےجنبی کو رخصت مرحمت فرمائی ہے کہ جب کھائے یا سوئے تو وضو کرلے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث میں یحیی بن یعمر اور حضرت عمار بن یاسر کے(علاوہ)ایک آدمی اور ہے۔حضرت علی، حضرت ابن عمرو بن العاص، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کریں تو وضو کر لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ: يَتَوَضَّأُ الْجُنُبُ،حدیث نمبر٢٢٥ ؛ج ١ ص ١٦١؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط؛
عضیف بن حارث کا بیان ہے کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں میں عرض گزار ہوا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصے میں غسل فرماتے ہوئے دیکھا یا پچھلے میں؟ فرمایا کہ کبھی پہلے حصے میں غسل فرماتے اور کبھی پچھلے میں۔ تکبیر کہتے ہوئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا جس نے اس کام میں آسانی فرمائیں میں عرض گزار ہوا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھتے ہوئے دیکھا یا پچھلی میں ؟ فرمایا کہ کبھی رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور کبھی پچھلے میں۔ تکبیر کہتے ہوئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ جس نے اس کام میں آسانی فرمائی۔ میں عرض گزار ہوا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قرآن مجید پڑھتے دیکھا یا آہستہ؟ فرمایا کہ کبھی بلند آواز سے تلاوت کرتے اور کبھی آہستہ۔ تکبیر کہتے ہوئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا جس نے اس کام میں آسانی فرمائی۔ بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ،حدیث نمبر٢٢٦؛ج ١ ص ١٦٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
عبد اللّٰہ بن نجی کے والد ماجد نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر،کتایا جنبی ہو۔ بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ،حدیث نمبر٢٢٧؛ج ١ ص ١٦٢؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛
ابو اسحاق نے اسود سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجایا کرتے تھے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حسن بن علی نے واسطہ نے یزید بن ہارون کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابواسحاق کی یہ حدیث ایک وہم ہے۔ بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ،حدیث نمبر٢٢٨؛ج ١ ص ١٦٣؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛
عبداللہ بن سلمہ کا بیان ہے کہ میں دو آدمیوں کے ساتھ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔میرے خیال میں ایک ہمارے قبیلے سے اور ایک بنی اسد سے تھا۔حضرت علی نے دونوں کو اپنے سامنے بلاکر فرمایا کہ ماشاء اللّٰہ تم دونوں طاقتور ہو، جانفشانی سے اپنے دین کی خدمت کرنا۔پھر آپ کھڑے ہوئے اور قضائے حاجت کے لیے چلے گئے (لٹرین)میں۔پھر باہر آئے تو پانی منگوایا تو اس میں سے ایک چلو پانی لیکر منہ پر پھیرا ۔اور قرآن مجید پڑھنے لگے۔لوگوں کویہ بات ناپسند ہوئی تو فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکل کر ہمیں قرآن مجید پڑھاتے اور ہمارے ساتھ گوشت کھاتے اور اس میں کوئی جھجھک محسوس نہ فرماتے یا یہ فرمایا کہ جنابت کے سوا قرآن مجید سے آپ کو کوئی چیز نہیں روکتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ،حدیث نمبر٢٢٩؛ج ١ ص ١٦٤؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط؛
ابو وائل نے حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مکے تو ان کی جانب جھکے یہ عرض گزار ہوئے کہ میں جنبی ہوں ۔فرمایا کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَافِحُ،حدیث نمبر٢٣٠؛ج ١ ص ١٦٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
ابورافع کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مدینہ منورہ کے ایک راستے میں ملے جب کہ میں حالت جنابت میں تھا۔پس میں ایک جانب ہٹ کر وہاں سے چلاگیا اور غسل کرکے حاضر بارگاہ ہواتو فرمایا اے ابوہریرہ تم کہاں تھے؟ عرض گزار ہوا کہ میں جنبی تھا اور طہارت کے بغیر آپ کی بارگاہ میں بیٹھنا میں نے ناپسند کیا۔فرمایا سبحان اللہ!مسلمان تو کبھی ناپاک نہیں ہوتا ۔فرمایا کہ حدیث بشر تو حمید نے بکر سے روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَافِحُ،حدیث نمبر٢٣١؛ج ١ ص ١٦٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
جمرہ بنت دجاجہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کے بعض صحابہ کرام نے اپنے گھروں کے دروازے آنے جانے کے لیے مسجد کے اندر نکال لیتے تھے۔فرمایاکہ ان کے دروازے مسجد کی طرف سے بند کرو پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور اس سلسلے میں لوگوں نے کچھ بھی نہ کیا،اس امید پر کہ شاید اجازت نازل ہوجائے ۔کچھ دیر بعد آپ دوبارہ ان کے پاس تشریف لائےتو فرمایا کہ ان کے دروازے مسجد کی طرف سے بند کرو دو کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ،حدیث نمبر٢٣٢؛ج ١ ص ١٦٦؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط ؛
حسن نے ابوبکرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھانے کے لیے مسجد میں داخل ہوئے تو دست مبارک سے اپنی جگہ رہنے کا اشارہ فرمایا۔پھر واپس تشریف لائے توآپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔پس لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَلِّ بِالْقَوْمِ وَهُوَ نَاسٍ،حدیث نمبر٢٣٣؛ج ١ ص ١٦٨؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط ؛
حماد بن سلمہ نے اپنی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کو معنا روایت کیا اور اس کے شروع میں کہا کہ آپ نے تکبیر کہہ لی اور اس کے آخر میں کہا کہ جب آپ نماز پوری کر چکے تو فرمایا کہ میں بھی ایک بشر ہوں اور میں جنبی تھا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا کہ زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب آپ مصلے پر کھڑے ہوئے اور ہم نے انتظار کیا کہ آپ تکبیر کہیں تو اپ لوٹ چلے۔ پھر فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہنا اسے روایت کرتے ہوئے کہا ایوب اور ابن عوف اور ہشام محمد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تکبیر کہی پھر لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو جا کر غسل فرمایا اسی طرح روایت کی ہے مالک اسماعیل بن ابوحکیم، عطاء بن یسار نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تکبیر کہی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ہم سے حدیث بیان کی اسی طرح مسلم بن ابراہیم،ابان یحییٰ،ربیع ابن محمد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے تکبیر کہی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَلِّ بِالْقَوْمِ وَهُوَ نَاسٍ،حدیث نمبر٢٣٤؛ج ١ ص ١٦٩؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط ؛
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی اقامت کہی گئی اور لوگوں نے صفیں بنالیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے تو لوگوں سے فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہنا پھر کاشانہ اقدس کی جانب لوٹ گئے پھر مکان عرش آستانہ سے نکل کر ہمارے پاس جلوہ افروز ہوئے توسر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا غسل کرنے کے باعث اور ہم صف بستہ تھے۔ یہ روایت ابن حرب کے لفظوں میں ہے۔عیاش بن ارزضق نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ ہم کھڑے ہو کر آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ غسل کرکے ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَلِّ بِالْقَوْمِ وَهُوَ نَاسٍ،حدیث نمبر٢٣٥؛ج ١ ص ١٨٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو تری دیکھے اوراسے احتلام یاد نہ ہو ۔فرمایا وہ غسل کرے اور اس شخص کے متعلق جس نے دیکھا کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن تری نہ پائے۔فرمایا کہ اس پر غسل نہیں ہے۔حضرت ام سلیم عرض گزار ہوئیں کہ اگر عورت ایسا دیکھے توکیا اس پر غسل ہے؟فرمایا کہ ہاں اس سلسلے میں عورتیں مردوں کے طرح ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَجِدُ الْبِلَّةَ فِي مَنَامِهِ،حدیث نمبر٢٣٦؛ج ١ ص ١٧١؛حکم حدیث حسن لغيره تحقيق الارنووط
عروہ حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ام سلیم جو حضرت انس بن مالک کی والدہ ماجدہ ہیں عرض گذار ہوئی کہ یا رسول اللہ! بے شک اللہ تعالی حق بات سے نہیں شرماتا کہ جب عورت خواب میں وہی دیکھے (احتلام) جو مرد دیکھتا ہے تو اسے غسل کرنا چاہیے جبکہ پانی (منی) دیکھے؟حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسے غسل کرنا چاہیے جب کہ پانی دیکھے حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میں ان کے پاس گئی اور ان سے کہا آپ پر افسوس ہے کیا عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جانب متوجہ ہوکر فرمایا اے عائشہ تمہارے دائیں ہاتھ میں مٹی لگے اور(بچے جو ماں کی طرح ہوتے ہیں تو)یہ مشابہت کہاں سے ہوتی ہے۔ اورامام ابوداؤد نے فرمایا اسی طرح روایت کی ہے زبیدی، عقیل اور یونس وغیرہ نے الخ۔۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ،حدیث نمبر٢٣٧؛ج ١ ص ١٧٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت فرمایاکرتے جو فرق ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایاکہ معمر نے اس حدیث کو زھری سے روایت کیا ہے جس میں حضرت صدیقہ نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے اس میں ایک فرق پانی ہوتا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن عینیہ نے بھی حدیث مالک کی مانند روایت کی ہے۔ امام ابو داؤد کا بیان ہے کہ میں نے امام احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک فرق رطل کا ہوتا ہے۔ جس نے آٹھ رطل کہا اس کی بات درست نہیں ہے۔ امام ابو داؤد کا بیان ہے کہ میں نے امام احمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے صدقہ فطر میں ہمارے رطل سے پانچ اور ایک تہائی دیے تو اس نے پورا صدقہ فطر دیا۔ ان سے کہا گیا کہ صیحافی کھجور بھاری ہوتی ہے۔ فرمایا کہ صحافی عمدہ ہے اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ الَّذِي يُجْزِئُ فِي الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٣٨؛ج ١ ص ١٧٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛
سلیمان بن صرد نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور غسل جنابت کا ذکر کیا۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اپنے سر پر تین لپ ڈالتاہوں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا (کہ اس طرح پانی ڈالتا ہوں) ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٣٩؛ج ١ ص ١٧٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو تو برتن میں پانی منگواتے جو دودھ دوہنے والے برتن جتنا ہوتا ۔پھر چلو میں پانی لیکر پہلے سر کے دائیں جانب ڈالتے ،پھر بائیں جانب پھر دونوں ہتھیلیوں میں لے کر سرکے اوپر۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٠؛ج ١ ص ١٧٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی؛
بنی تمیم اللّٰہ بن ثعلبہ کے ایک فرد جمیع بن عمیر کا بیان ہے کہ میں اپنی والدہ ماجدہ اور خالہ جان کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ان میں سے ایک نے پوچھا کہ آپ غسل کے وقت کیا کرتے ہیں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو فرماتے ،پھر اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے اور ہم چوٹیوں کے باعث اپنے سر پر پانچ مرتبہ پانی ڈالا کرتی ہیں ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤١؛ج ١ ص ١٧٥؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے سلیمان راوی نے کہا کہ ابتداء کرتے تو دائیں ہاتھ سے۔مسدد راوی نے کہا کہ دونوں ہاتھ دھوتے برتن سے دائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر۔پھر دونوں حضرات متفق ہوگئے۔کہ اپنی شرمگاہ کو دھوتے ۔مسددنے کہا کہ بائیں ہاتھ پر ڈالتے اور کبھی بطور کنایہ شرمگاہ کہا۔پھر وضو کرتے نماز وضو کی طرح۔پھر برتن میں دونوں ہاتھ داخل کرکے بالوں میں خلال کرتے،یہاں تک کہ جب دیکھتے کہ پانی جلد تک پہنچ گیا یا جلد صاف ہوگئی تو تین دفعہ سرپر پانی ڈالتے پھر جتنا پانی بچ جاتا اسے اپنے اوپر ڈال لیتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٢؛ج ١ ص ١٧٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو اپنی ہتھیلیوں سے شروع فرماتے کہ انھیں دھوکر پھر جوڑوں کو دھوتے اور ان پر پانی ڈالتے تاکہ وہ صاف ہو جائیں اور آنکھیں دیوار سے رگڑتے ۔پھر وضو فرماتے اور اپنے سر مبارک پر پانی ڈالتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٣؛ج ١ ص ١٧٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
شعبی کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس دیوار پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نشان دکھادوں جہاں آپ غسل جنابت فرماتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٤؛ج ١ ص ١٧٧؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
حضرت ابن عباس سے ان کی خالہ جان حضرت میمونہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا تاکہ اس کے ساتھ غسل جنابت فرمائیں تو آپ نے برتن سے دائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اسے دویاتین دفعہ دھویا ۔پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک کر اسے دوسرے دست مبارک سے دھویا۔پھر اپنا دست مبارک زمین پر مارکر اسے دھویا ۔پھر کلی،ناک میں پانی ڈالا،پرنور چہرہ دھویااور دونوں ہاتھ بھی۔اپنے سر اقدس اور جسم اطہر پر پانی بہایا۔پھر اس مقام سے ہٹ کر اپنے دونوں پیر دھوئے تو میں نے رومال پیش کیا جو نہ لیا اور آپ کے جسم اطہر سے پانی ٹپکتا رہا۔اعمش کا بیان ہے کہ میں نے ابراہیم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا کہ صحابہ کرام رومال میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔لیکن عادت بنالینا انہیں ناپسند تھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مسدد نے عبداللہ بن داؤد سے کہا۔صحابہ کرام عادت کو ناپسند فرماتے تھے؟فرمایا کہ بات یہی ہے لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایاہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٥؛ج ١ ص ١٧٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابن ابی ذئب کا بیان ہے کہ شعبہ نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جب غسل جنابت فرماتے تو دائیں ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر سات مرتبہ پانی ڈالتے،پھر اپنی شرمگاہ کو دھوتے۔ایک مرتبہ وہ پانی ڈالنے کی تعداد بھول گئے تو مجھ سے پوچھا کہ میں نے کتنی دفعہ پانی ڈالا ہے؟میں عرض گزار ہوا کہ مجھے تو معلوم نہیں۔فرمایا کہ تمہاری ماں نہ رہے ،تمہیں معلوم کرنے سے کس نے روکا؟پہ ہر نماز کے وضو کی طرح وضو فرماتے۔پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔پہر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس طرح طہارت فرماتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٦؛ج ١ ص ١٧٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط؛
عبداللہ بن عصم کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نمازیں پچاس تھیں نیز غسل جنابت سات دفعہ کیا جاتا اور پیشاب لگنے سے کپڑے کو سات دفعہ دھویا جاتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر سوال کرتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ مقرر فرما دیں گئیں۔ نیز جنابت سے ایک دفعہ غسل کیا جاتا اور پیشاب لگنے سے کپڑے کو ایک دفعہ دھویا جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٧؛ج ١ ص ١٨٠؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک ہر بال کے نیچے جنابت ہے لہذا ہر بال کو دھو لیا کرو اور جسم کو صاف کر لیا کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حارث بن دحیہ کی حدیث منکر ہے کیوں کہ وہ ضعیف ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٨؛ج ١ ص ١٨٠؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
زادان نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے اپنے غسل جنابت میں ایک بال کی جگہ بھی چھوڑدی جسے نہ دھویا اسے آگ کا اس طرح عذاب دیا جائے گا۔حضرت علی نے فرمایا کہ اسی لیے میں اپنے سر کا دشمن ہوں،اسی لیے میں اپنے سر کا دشمن ہوں،اسی لیے میں اپنے سر کا دشمن ہوں اور اپنے بالوں کو بنوایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٩؛ج ١ ص ١٨١؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
اسود نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غسل کرکے دورکعتیں نماز پڑھتے تھے اور نماز فجر ادا کرتے تھے اور میرا نہیں خیال کہ آپ غسل فرمالینے کے بعد کبھی تازہ وضو کرتے تھے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٠؛ج ١ ص ١٨١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبداللہ بن رافع مولی ام سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے ایک عورت نے زہیر سے کہا کہ وہ عرض گزار ہوئی یا رسول اللّٰہ!میں اپنی چوٹی سختی سے باندھتی ہوں ۔کیا غسل جنابت کے لیے اسے کھولا کروں؟فرمایا کہ تمہارے لیے سر پر تین لپ پانی ڈال لینا کافی ہے۔زہیر کا بیان ہے کہ تین لپ پانی سر پر ڈال کر اسے سارے جسم پر بہاؤ تو اس وقت تم پاک ہو جاؤگی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر ٢٥١؛ج ١ ص ١٨٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
مقبرہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ ایک عورت حضرت ام سلمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ۔مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی خاطر میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔معنا بیان کرتے ہوئے اس میں کہا ہر مرتبہ لپ ڈالنے کے ساتھ اپنی لٹوں کو نچوڑ لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٢؛ج ١ ص ١٨٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم سے جب کسی کو غسل جنابت کی حاجت ہوتی تو تین لپ پانی لیتے اور دونوں ہاتھوں کو اکھٹا کرکے بتایا کہ ایسے۔پس اپنے سر پر پانی ڈالتے نیز ایک چلو پانی لے کر ایک جانب ڈالتے اور دوسرا چلو لے کر دوسری جانب ڈالا جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٣؛ج ١ ص ١٨٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عائشہ بنت طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم غسل کرتے حالانکہ ہم نے سر پر لیپ کیا ہوا ہوتا۔اور ہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتیں احرام سے باہر اور حالت احرام میں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٤؛ج ١ ص ١٨٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ضمضم بن زرعہ نے شریح بن عبید سے روایت کی ہے کہ جبیر بن نفیر نے غسل جنابت کے متعلق مجھے فتویٰ دیاکہ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو حضور نے فرمایا مرد اپنا سر کھول کردھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے اور عورت کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپ پانی اپنے سر پر نہ ڈالے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٥؛ج ١ ص ١٨٤؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
بنی سواءۃ کے ایک آدمی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم غسل جنابت کرتے ہوئے اپنے سر مبارک کو خطمی سے دھوتے تو اسی کو کافی سمجھتے اور پھر سر پر پانی نہ بہاتے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِخِطْمِيٍّ أَيُجْزِئُهُ ذَلِكَ،حدیث نمبر٢٥٦؛ج ١ ص ١٨٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
بنی سواءۃ بن عامر کے ایک شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے اس پانی کے متعلق روایت کی ہے جو مردوعورت کے درمیان ہے۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لےکر اسے پانی (منی)پر ڈالتے اور دوسرا چلو پانی لےکر اسے اپنے جسم اطہر پر ڈالتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ،حدیث نمبر٢٥٧؛ج ١ ص ١٨٥؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
ثابت البنانی سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ یہود کی جب کسی عورت کو حیض آتا تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ اسے گھر میں اپنے ساتھ رکھتے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو اللہ تعالی نے اس کے متعلق یہ نازل فرمایا اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم، تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے۔تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں میں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں گھروں میں اپنے پاس رکھو اور جماع کے سوا ان کے ساتھ سب کچھ کرو بس یہود نے کہا کہ یہ شخص ہمارے معاملات میں سے کوئی ایسی چیز چھوڑنا نہیں چاہتاجس میں ہماری مخالفت نہ کرے۔چنانچہ حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشیر دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے۔ یا رسول اللہ! یہودی ایسا کہتے ہیں تو کیوں نہ ہم حیض میں جماع کر لیا کریں؟اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرنور چہرے کارنگ بدل گیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ان دونوں حضرات پر غصہ آیا ہے پس وہ دونوں نکل گئے اسی اثنا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا پس آپ نے ان دونوں حضرات کو بلا کر انہیں دودھ پلایا تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ ناراضگی ان پر نہیں تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَمُجَامَعَتِهَا،حدیث نمبر٢٥٨؛ج ١ ص ١٨٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
مقداد بن شریح نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حالت حیض کے اندر میں ہڈی چوس رہی تھی تو میں نے وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دےدی تو آپ نے اپنا منہ اسی جگہ پر رکھا جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہواتھا۔اور میں پانی پی کر آپ کو دیتی تو آپ اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں منہ رکھ کر میں پی رہی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَمُجَامَعَتِهَا،حدیث نمبر٢٥٩؛ج ١ ص ١٨٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
منصور بن عبدالرحمن نے سفیہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میری گود میں اپنا سرمبارک رکھ کر تلاوت فرماتے اور میں حائضہ ہوتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَمُجَامَعَتِهَا،حدیث نمبر٢٦٠؛ج ١ ص ١٨٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
قاسم بن محمد بن ابوبکر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے مجھے نماز پڑھنے کا بوریہ لادو میں عرض گزار ہوئی کہ حائضہ ہوں ۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تونہیں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْحَائِضِ تُنَاوِلُ مِنَ الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٢٦١؛ج ١ ص ١٨٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابوقلابہ نےمعاذہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا حائضہ نماز کی قضا پڑھے؟فرمایاکہ کیا تم حروریہ(خارجہ)ہو؟ہمیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا اور ہم قضا نہ پڑھتے اور نہ ہمیں قضا پڑھنے کا حکم فرمایا گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْحَائِضِ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٦٢؛ج ١ ص ١٨٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
معاذہ عدویہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مذکورہ حدیث کو روایت کیا ہے۔اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ہمیں روزے کی قضا رکھنے کا حکم دیا لیکن نماز کی قضا پڑھنے کا حکم نہیں فرمایا گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْحَائِضِ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٦٣؛ج ١ ص ١٨٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
مقسم نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کربیٹھے تو وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس طرح یہ روایت صحیح ہے کہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے اور کبھی کبھار شعبہ اسے مرفوعاً روایت نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ،حدیث نمبر٢٦٤؛ج ١ ص ١٨٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی؛
مقسم سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اگر حیض کے شروع میں جماع کیا تو ایک دینار اور اور حیض ختم ہونے کے قریب کیا ہوتو نصف دینار صدقہ دے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح روایت کی ہے ابن جریج،عبدالکریم نے مقسم سے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ،حدیث نمبر٢٦٥؛ج ١ ص ١٩٠؛حکم حدیث اسنادہ موقوف تحقیق البانی؛
مقسم نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدمی حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اسے چاہیے کہ نصف دینار صدقہ دے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح روایت کی ہے علی بن بذیمہ،مقسم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔اوزاعی،یزیدبن ابومالک،عبد الحمید بن عبد الرحمن نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ دینار کا٥/٢حصہ صدقہ دے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ،حدیث نمبر٢٦٦؛ج ١ ص ١٩٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح موقوف تحقیق الارنووط
ندبہ مولاۃ میمونہ سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے مباشرت فرماتے حالانکہ وہ حالت حیض میں ہوتیں جب کہ انہوں نے ازار سے نصف رانوں تک یا گھٹنوں تک پردہ کیا ہوا ہوتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٦٧؛ج ١ ص ١٩١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
اسود سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ازارباندھنے کا حکم فرما تے، پھر اس کے پاس لیٹ جاتے ایک دفعہ فرمایا کہ مباشرت بھی کرتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٦٨؛ج ١ ص ١٩٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
خلاس ہجری نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رضائی میں رات گزار لیتے اور میں حائضہ ہوتی۔ اگر میرا خون آپ کے جسم اطہر کو لگ جاتا تو آپ صرف اتنی ہی جگہ کو دھو کر نماز پڑھ لیا کرتے اور اگر میرا خون آپ کے کپڑے کو لگ جاتا تو صرف اتنے ہیں کپڑے کو دھو کر اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٦٩؛ج ١ ص ١٩٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عمارہ بن غراب کوان کی پھوپھی جان نے بتایا کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض گزار ہوئی کہ ہم میں سےکسی عورت کو جب حیض آئے جبکہ اس جوڑے (میاں اور بیوی) کے پاس صرف ایک بستر ہو؟ فرمایا میں تمہیں بتاتی ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ایک رات آپ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں حائضہ تھی تو پہلے اپنی مسجد میں چلے گئے جو گھر میں تھی۔ آپ واپس نہ لوٹے یہاں تک کہ میں اونگھنے لگی آپ کو سردی محسوس ہوئی تو مجھ سے فرمایا کہ میرے قریب ہو جاؤ عرض گزار ہوئی کہ میں حائضہ ہوں۔ فرمایا کہ اپنی رانیں کھول دو پس میں نے اپنی رانیں کھول دیں تو آپ نے اپنا رخسار مبارک اور سینہ فیض گنجینہ میری رانوں پر رکھ دیا اور میں خود بھی آپ پر جھک گئی یہاں تک کہ خود آپ کی سردی دور ہوگئی اور سو گئے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٧٠؛ج ١ ص ١٩٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
ام ذرہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب مجھے حیض شروع ہوجاتا تو میں بستر سے بورئیے پر آجاتی،اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس وقت تک قریب نہیں جایا کرتی تھی جب تک کہ حیض سے پاک نہ ہوجاتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٧١؛ج ١ ص ١٩٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
عکرمہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی زوجہ مطہرہ سے مباشرت وغیرہ کا ارادہ کرتے اور وہ حائضہ ہوتیں تو ان کی شرمگاہ پر کپڑا ڈال دیا کرتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٧٢؛ج ١ ص ١٩٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبد الرحمٰن بن اسود کے والد ماجد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیض کی شدت کے دوران ہمیں ازار باندھنے کا حکم فرماتے اور پھر ہم سے مباشرت کرتےاور تم میں سے اپنی شہوت پر اتنا اختیار کس کو ہیں جتنا اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٧٣؛ج ١ ص ١٩٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کا خون جاری ہوگیا تو حضرت ام سلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے جتنے دن حیض آتا تھا ان دنوں کا خیال رکھیں جبکہ اسے یہ تکلیف نہیں ہوئی تھی لہذا اتنے دنوں کی نماز چھوڑ دیا کریں اور جب وہ دن نکل جائے تو غسل کرکے ایک لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٤؛ج ١ ص ١٩٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ تحقیق الارنووط
سلیمان بن یسار نے ایک آدمی سے اور اس نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت کا خون جاری ہوگیا اس کا معنا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ دن گزر جائے اور نماز کا وقت ہوجائے تو غسل کرے معنامذکورہ حدیث کی طرح۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٥؛ج ١ ص ١٩٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط
سلیمان بن یسار نے ایک انصاری سے روایت کی ہے کہ ایک عورت جس کا خون جاری رہتا (یعنی استحاضہ کی بیماری ہوگئی تھی) پھر حدیث لیث کی طرح معنا بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب ایام حیض گزر جائے اور نماز کا وقت ہو تو غسل کرے اور آگے مذکورہ حدیث کی طرح معنا کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٦؛ج ١ ص ١٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط
صخر بن جویریہ نے نافع سے لیث کی اسناد کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے دنوں کی نماز چھوڑ دے۔پھر جب نماز کا وقت ہو تو غسل کرنا چاہیے اور ایک لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٧؛ج ١ ص ١٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط
سلیمان بن یاسر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی واقعہ روایت کرتے ہوئے کہا کہ اتنی دنوں کی نماز چھوڑ دے اور باقی دنوں میں غسل کرے اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھا کرے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس عورت کا نام جس کو استحاضہ کی بیماری تھی اس حدیث میں حماد بن زید نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے فاطمہ بنت ابو حبیش بتا یا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٨؛ج ١ ص ١٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نےفرمایا کہ حضرت ام حبیبہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق پوچھا اور میں نے ان کے ایک برتن کو خون سے بھرا ہوا دیکھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جتنے دن تم حیض کے باعث نماز نہیں پڑھتی تھیں اتنے دن نہ پڑھا کرو پھر غسل کر لیا کرو۔ ابوداؤد نے فرمایا کہ جعفر بن ربیعہ کی حدیث کو قتیبہ نے درمیان اور آخر سے روایت کیا ہے اور اسے روایت کیا علی بن عیاش اور یونس بن محمد نے لیث سے۔ دونوں نے کہا جعفربن ربیعہ سے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٩؛ج ١ ص ١٩٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبداللہ بن منذر بن مغیرہ سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کی شکایت کرتے ہوئے حکم پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے تم اپنے ایام حیض کا خیال رکھا کرو جب وہ دن آئے تو نماز نہ پڑھاکرو۔ جب تمہارے حیض کے دن گزر جائیں تو پاک ہو کر نماز پڑھتی رہو ایک حیض سے دوسرے حیض تک۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٨٠؛ج ١ ص ٢٠٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط
عروہ بن زبیر نے حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء کو حکم دیا یا حضرت اسماء نے مجھ سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ پوچھنے کا حضرت بنت ابوحبیش نے حکم دیا۔فرمایا کہ جتنے دن تم بیٹھتی تھی اتنے دن بیٹھی رہا کرو ۔پھرغسل کر لیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے روایت کیا ہے قتادہ،عروہ بن زبیر نے زینب بنت ام سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ایام حیض کی نماز چھوڑ دیا کرو۔ پھر غسل کرلو اور نماز پڑھا کرو ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ زیادہ بیان ابن عینیہ نے حدیث زہری میں ،عمرہ کے واسطے حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت ام حبیبہ کو استحاضہ ہو گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔آپ نے انہیں حکم فرمایا کہ اپنے حیض کے دنوں کی نماز چھوڑ دیا کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ ابن عینیہ کا وہم ہے،زہری سے یہ بات دوسرے حفاظ حدیث کی روایتوں میں نہیں ہے مسواء سہیل ابن ابوصالح کے اور حمیدی نے اس حدیث کو ابن عیینہ سے روایت کیا اور اور اس میں حیض کے دنوں کی نماز چھوڑ نے کا ذکر نہیں کیا۔قمیر نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں کی نماز چھوڑے، پھر غسل کرے،عبدالرحمن بن قاسم نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے حیض کے دنوں کے مطابق نماز چھوڑ دیا کرو۔روایت کیا اس کو ابوبشر جعفر بن ابووحشیہ ،عکرمہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی ۔پہر اسی طرح بیان کیا روایت کی شریک ،ابویقضان ،عدی بن ثابت،ان کے والد محترم،ان کے جد امجد،نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مستحاضہ اپنے ایام حیض کی نمازیں چھوڑ دے۔پھر غسل کرے اور نماز پڑھے،روایت کیا اسے علا بن مسیب،حکم،ابوجعفر،حضرت سودہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو استحاضہ ہو گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب تمہارے ایام حیض گزر جائیں تو غسل کرکے نماز پڑھا کرو ۔روایت کی اس کی سعید بن جبیر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے کہ مستحاضہ اپنی ایام حیض میں بیٹھی رہے۔اسی طرح روایت کی عمار مولی بنی ہاشم اور طلق بن حبیب نے حضرت ابن عباس سے ۔اسی طرح روایت کی معقل خشعمی نے حضرت علی سے اسی طرح روایت کیا اسے شعبی ،قمیر زوجہ مسروق نے حضرت عائشہ سے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حسن بصری،سعد بن مسیب،عطاء،مکحول،ابراہیم ،سالم اور قاسم کا یہی قول ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ قتادہ نے عروہ سے کچھ بھی نہیں سنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٨١؛ج ١ ص ٢٠٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ بنت ابوحبیش رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں کہ میں مستحاضہ عورت ہوں،کبھی پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟فرمایا کہ یہ حیض نہیں ہے بلکہ ایک رگ کا خون ہے۔جب حیض کا دن آیا کریں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب وہ گزر جائیں تو اپنے جسم سے خون دھوکر نماز پڑھ لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ: الْحَيْضَةَ إِذَا أَدْبَرَتْ لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٢؛ج ١ ص ؤ٠٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ہشام نے زہیرکی سند کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے کہ جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرواور جب اتنے دن گزر جائیں تو اپنے جسم سے خون دھو کر نماز پڑھ لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ: الْحَيْضَةَ إِذَا أَدْبَرَتْ لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ؛حدیث نمبر٢٨٣؛ج ١ ص ٢٠٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
بہیہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا کہ ایک عورت حضرت عائشہ سے اس عورت کے متعلق پوچھ رہی تھی جس کا حیض بگڑ جائے اور خون جاری ہو جائے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ا نہیں حکم دو کہ ان دنوں کا انتظار کرے جن میں کہ اسے تندرستی کی حالت کے اندر حیض آتا تھا۔ کہ انہیں شمار کرکے اتنے دن نماز چھوڑ دیا کرے پھر غسل کرلے اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٤؛ج ١ ص ٢٠٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر اور عمرہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سالی حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال خون استحاضہ آتا رہا جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ کا خون ہے لہذا نماز پڑھ لیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایاکہ اوزاعی نے اس حدیث میں کچھ زائد کہا کہ زہری،عروہ اور عمرہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ جب ایام حیض آئے تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب وہ نکل جائیں تو غسل کرکے نماز پڑھا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس بات کا ظہری کے اصحاب میں سے اوزاعی کے سوا کسی نے ذکر نہیں کیا اور زہری سے عمر بن حارث اور لیس اور یونس اور ابن ابی ذئب اور محمد اور ابراہیم بن سعد اور سلیمان بن کثیر اور ابن اسحاق اور سفیان بن عیینہ نے اس کو روایت کیا لیکن اس بات کا انہوں نے ذکر نہیں کیا امام ابو داؤد نے فرمایا کہ یہ لفظ صرف ہشام بن عروہ عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ والی روایت میں ہیں۔ امام ابوداؤد نے فرمایا وہ اوزعی والی حدیث کے اضافے سے نزدیک ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٥؛ج ١ ص ٢٠٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ وہ مستحاضہ تھیں تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب حیض کا خون آئے جو سیاہ رنگ کا ہوتا ہے تو ان دنوں میں نماز نہ پڑھنا اور جب دوسرے رنگ کا آئے تو وضو کرکے نماز پڑھتی رہا کرو کیوں کہ وہ ایک رگ ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن مثنی،ابن ابی عدی،محمد بن عمرو،زہری،عروہ ،حضرت عائشہ نے فرمایا کہ فاطمہ بنت ابوحبیش مستحاضہ تھیں۔ پھر معنامذکورہ حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کی ہے انس بن سیرین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا کہ جب سیاہ کالا خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب باقی دیکھے خواہ ایک ہی ساتھ رہے تو غسل کر کے نماز پڑھے ۔مکحول نے فرمایا کہ حیض کا معاملہ عورتوں سے چھپا ہوا نہیں ہوتا، اس کا خون سیاہ اور غلیظ ہوتا ہے یہ رنگت چلی جائے اور خون زرد اور پیلا ہو جائے تو یہ استحاضہ ہے چاہیے کہ غسل کر کے نماز پڑھے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے حماد بن زید یحییٰ بن سعید ،قعقاع بن حکیم نے سعید بن مسیب سے مستحاضہ کے بارے میں کہ جب حیض کے دن آجائے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلے جائیں تو غسل کرکے نماز پڑھے سمی وغیرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ وہ اپنے ایام حیض میں بیٹھی رہے اور اسی طرح حماد بن سلمہ ، یحییٰ بن سعید بن مسیب سے اس کی روایت کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ حائضہ کا خون جب زیادہ دنوں تک جاری رہے تو حیض کے بعد ایک دو دن نماز سے رکی رہے کیونکہ وہ مستحاضہ ہے۔ تیمی نے قتادہ سے کہا کہ جب حیض کے دنوں سے پانچ دن اوپر چلےجائیں تو نماز پڑھنی چاہیے۔تیمی نے فرمایا کہ میں اس مدت میں کمی کرتے کرتے دودنوں تک آگیا اور کہا کہ مزید دودنوں تک حیض ہی کے ایام ہیں۔ابن سیرین سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عورتیں ہی اس معاملے کو بہتر جانتی ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٦؛ج ١ ص ٢٠٧؛حکم حدیث صحيح من حديث عائشة، وهذا إسناد رجاله ثقات،تحقيق الارنووط
عمران بن طلحہ نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ مجھے استحاضہ کی شکایت تھی اور شدت سے بہنے والا خون حیض کا خون بہتا تھا پس میں مسئلہ پوچھنے کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور صورتحال آپ کو بتایا میں نے آپ کو اپنی بہن حضرت زینب بنت جحش کے مکان میں پایا۔ میں عرض گذار ہوئی کہ یا رسول اللہ میں مستحاضہ عورت ہوں، جس کا خون شدت سے جاری رہتا ہے آپ کا اس کے متعلق کیا ارشاد ہے۔ جس نے مجھے نماز اور روزے سے بھی روک دیا ہے فرمایا کہ میں تمہیں روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں کیونکہ وہ خون کو جذب کر لیتی ہے وہ عرض گذار ہوئیں کہ خون اس سے زیادہ ہے فرمایا تو لنگوٹ باندھ لو عرض کی کہ اس سے بھی زیادہ ہے فرمایا کہ کپڑا رکھ لیا کرو عرض گزار ہوئیں کہ وہ اس سے بھی زیادہ ہے وہ بے تحاشا بہتا رہتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ان میں سے جس ایک پر تم عمل کر لو گی وہی تمہارے لیے کافی ہوگا اور اگر دونوں پر عمل کر سکو تو تم جانو فرمایا کہ یہ شیطان کی لاتوں میں سے ایک لات ہیں اللہ تعالی بہتر جانے کہ تمہیں چھ روز حیض آتا تھا کہ سات روز اتنے دن خود کو حائضہ سمجھو یہاں تک کہ جب تم اپنے آپ کو حیض سے پاک سمجھو تو 23 یا 24 روز نمازیں پڑھو اور روزے رکھوں تمہارے لئے یہی کافی ہے اور ہر مہینے اسی طرح کیا کروں جیسے حیض والی عورتیں کرتی ہیں اور جیسے ان کا حیض اور باقی کے دنوں میں معمول ہوتا ہے دوسری صورت یہ ہے کہ اگر تم کر سکو تونماز ظہر کو مئوخرکر لینا اور نماز عصر کو جلدی پڑھنا اور ایک غسل کے ساتھ ان دونوں نمازوں کو جمع کر لینا اور ایک دفعہ غسل نماز فجر کے لئے کرنا اگر تم ایسا کر سکو تو روزے رکھ لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں میں سے یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے امام ابوداؤد نے فرمایا روایت کی اس کی عمرو بن ثابت نے عقیل سے کہ دونوں میں سے یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ یہ حضرت حمنہ کا قول ہے۔ انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں بلکہ حضرت حمنہ کا قول قرار دیا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے امام احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابن ثابت نے جو ابن عقیل سے روایت کی ہے اس پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔امام ابوداؤد ث فرمایا کہ عمروبن ثابت رافضی تھا اور اس بات کا ذکر یحییٰ بن معین نے کیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٧؛ج ١ ص ٢١٠؛حکم حدیث حسن لم يجعله من قول النبي صلى الله عليه وسلم جعله كلام حمنة؛ تحقيق البانی؛
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سالی ام حبیبہ بنت جحش جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں،انہیں سات سال استحاضہ کی شکایت رہی۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حیض نہیں ہے بلکہ رگ کا خون ہوتا ہے پس غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ وہ اپنی بہن حضرت زینب بنت جحش کے حجرے میں ایک بڑے لگن کے اندر غسل کیا کرتیں،یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آجاتی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٨٨؛ج ١ ص ٢١١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
احمد بن صالح،عنبسہ،یونس،ابن شہاب،عمرہ بنت عبدالرحمن نے حضرت ام حبیبہ سے اسے روایت کیا۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٨٩؛ج ١ ص ٢١١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا اس نے کہا کہ اسے ہر نماز کے لیے غسل کرنا چاہیے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ قاسم بن مبرور،یونس، ابن شہاب، عمرہ، حضرت عائشہ نے حضرت ام حبیبہ بنت جحش سے روایت کی ہے۔ اس طرح روایت کی معمر، زہری، عمرہ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے۔کبھی معمر نے عمرہ عن ام حبیبہ کہتے ہوئے اسے معنا روایت کیا۔اسی طرح روایت کیا ابراہیم بن سعد اور ابن عیینہ نے زہری،عمرہ،حضرت عائشہ صدیقہ سے ابن عیینہ نے اپنی حدیث میں یہی کہا لیکن یہ نہیں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٩٠؛ج ١ ص ١١٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ کی شکایت رہی تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا تھا۔پس وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔امام اوزاعی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٩١؛ج ١ ص ٢١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیےغسل کرنے کا حکم فرمایا اور پھر باقی حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابوالولید طیالسی نے اسے روایت کیا ہے۔جبکہ میں نے ان سے سنا نہیں۔انہوں نے سلیمان بن کثیر،زہری،عروہ،حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت زینب بنت جحش سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نماز کے لیے غسل کرلیا کرو۔اور باقی حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے کہ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ عبدالصمد کا وہم ہے جس میں کلام ہے اور صحیح ابوالولید کا قول ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٩٢؛ج ١ ص ٢١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
ابوسلمہ نے زینب بنت ابوسلمہ سے روایت کی کہ ایک عورت کا خون جاری رہتا تھااور وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ہر نماز سے پہلے غسل کرکے نماز پڑھا کریں۔ابوسلمہ نے فرمایا کہ مجھے خبر دی ام بکر اور انہیں خبردیتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا جو حیض سے پاک ہونے کے بعد بھی کچھ دیکھے کہ وہ رگ ہے یا فرمایا کہ وہ رگیں ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن عقیل کی حدیث میں دونوں باتیں جمع ہیں۔فرمایا کہ اگر تم میں طاقت ہو تو ہر نماز کے لیے وضو کرلیا کرو ورنہ نمازیں جمع کرلیا کرو۔جیسا کہ قاسم بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا ہے۔اور اس قول کو روایت کیا ہے سعید بن جبیر نے حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ حدیث نمبر٢٩٣؛ج ١ ص ٢١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت ہوگئی تو اسے حکم دیا گیا کہ عصرکو جلدی اور ظہر کو مؤخرکرکے دونوں کے لیے ایک ہی غسل کرلیا کرو۔نیز مغرب کو مؤخر اور عشاءمیں جلدی کرکے ان دونوں کے لیے ایک ہی غسل کر لیا کرو اور صبح کی نماز کے لئے بھی غسل کرنا بس میں (شعبہ)نے عبدالرحمن بن قاسم سے کہا کہ کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہے فرمایا کہ میں تم سے کوئی حدیث بیان نہیں کرتا مگر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا،حدیث نمبر٢٩٤؛ج ١ ص ١١٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ حضرت سہلہ بنت سہیل کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئیں تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ہر نماز کے لئے غسل کیا کریں جب اس کا نبھانا مشکل ہوا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو ایک غسل کے ساتھ جمع کر لیا کرو اور مغرب وعشاء کو دوسری میں اور نماز فجر کے لیے تیسرا غسل کیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے روایت کیا ہے ابن عیینہ، عبد الرحمن بن قاسم،قاسم بن محمد نے بیان فرمایا کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت ہوگئی تو اس نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا پس آپ نے اسے حکم فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا،حدیث نمبر٢٩٥؛ج ١ ص ٢١٧؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں عرض گزار ہوئی یا رسول اللہ فاطمہ بنت ابو حبیش کو استحاضہ کی اتنے عرصے سے شکایت ہے جس کے باعث انہوں نے نماز چھوڑ رکھی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے فرمایا کہ یہ تو شیطان کی شرارت ہوتی ہے انہیں لگن میں بیٹھنا چاہیے جب پانی پر زور دیں دیکھیں تو ظہر اور عصر کے لئے غسل کریں مغرب و عشاء کے لئے دوسرا غسل کریں اور نماز فجر کے لیے تیسرا اور اس کےدرمیان میں وضو کرتی رہی رہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے کہ جب ہر نماز کے لیے غسل کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تو انہیں حکم دیا کہ دو نمازیں جمع کر لیا کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے ابراہیم نے حضرت ابن عباس سے اور یہی قول ہے ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شدادکا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا،حدیث نمبر٢٩٦؛ج ١ ص ٢١٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
عدوی بن ثابت نے اپنے والد ماجد سے ،انہوں نے اپنے والد محترم سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کے متعلق فرمایا کہ کہ وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے پھر غسل کرکے نماز پڑھے اور ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ روزہ اور نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ،حدیث نمبر٢٩٧؛ج ١ ص ١١٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت فاطمہ بنت ابو جیش حاضر ہوئیں۔اور اپنا حال عرض کیا۔فرمایا کہ پھر غسل کرلینا۔پھر ہرنماز کے لیے تازہ وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ،حدیث نمبر٢٩٨؛ج ١ ص ٢١٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ام کلثوم سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک دفعہ غسل کرلے۔پھر اپنے ایام حیض تک وضو کرتی رہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ،حدیث نمبر٢٩٩؛ج ١ ص ٢١٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
مسروق کی بیوی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عدی بن ثابت کی حدیث اوراعمش کی حبیب اور ایوب ابی العلاء سے یہ سب ضعیف ہیں،صحیح نہیں ہے اور اعمش سے جو حبیب سے روایت کی اس ضعف پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے۔حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کی ہے۔ حفص بن غیاث نے حدیث حبیب کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے اور اسباط نے اعمش سے حضرت عائشہ پر موقوفاً روایت کی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے ابن داؤد نے اعمش سے موقوفاً اور وہ اس کا پہلا حصہ ہے اور اس میں ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی بات کا انکار کیا ہے۔اور حدیث حبیب کے ضعف پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ روایت ہے زہری عروہ،حضرت عائشہ صدیقہ نے مستحاضہ کی حدیث میں فرمایا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔روایت کی ابوالیقضان،عدی بن ثابت،ان کے والد ماجد،حضرت علی اور حضرت عمار مولی بنی ہاشم نے حضرت ابن عباس سے روایت کی عبد المالک ابن میسرہ سے اور بیان اور مغیرہ اور فراس اور مجاہد نے شعبی سے بروایت قمیر،حضرت عائشہ نے فرمایا کہ روزانہ ایک مرتبہ غسل کرے روایت کی ہشام بن عروہ نے اپنے والد ماجد سے کہ مستحاضہ ہرنماز کے لیے وضو کرے۔ یہ تمام حدیثیں ضعیف ہیں سوائے حدیث قمیر اور حدیث عمار مولی بنی ہاشم اور حدیث ہشام بن عروہ کے جو انہوں نے اپنے والد ماجد سے روایت کی اور حضرت ابن عباس کا مشہور قول غسل کے متعلق ہے۔(یعنی مستحاضہ غسل کرے۔) ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ،حدیث نمبر٣٠٠؛ج ١ ص ٢٢٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
سمی مولی ابوبکر قعقاع اور زید بن اسلم نے سعید بن مسیب کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ مستحاضہ کس طرح غسل کرے فرمایا کہ وہ ایک نمازظہر کے بعد دوسری نماز ظہر کے لئے غسل کرے اور ہر نماز کیلئے وضو کرے۔ اگر خون کا غلبہ ہو تو ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کی ہے حضرت ابن عمر اور حضرت انس بن مالک سے ایک ظہر سے دوسری ظہر تک اسی طرح روایت کی ہے ابو داؤد اور عاصم نے شعبی، ایک عورت قمیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے،مگر داؤد نے روزانہ کہا حدیث عاصم میں ہے کہ ظہر کے نزدیک یہی قول ہے سالم بن عبداللہ اور حسن اور عطاءکا، مالک نے فرمایا آپ نے ابن مسیب کی حدیث میں جو ظہر سے ظہر تک ہے تو میرے خیال میں یہ طہر سے طہرتک ہوگا اور اس میں وہم داخل ہو گیا ہے۔روایت کیا اسے مسور بن بن عبد الملک بن سعید بن عبد الرحمن بن یربوع نے اور اس میں طہر سے طہر تک کہا جسے بدل کر لوگوں نے ظہر تک بنا دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ،حدیث نمبر٣٠١؛ج ١ ص ٢٢٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
احمد بن حنبل،عبد اللہ بن نمیر،محمد ابواسماعیل،معقل خثعمی سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مستحاضہ کا جب حیض بند ہو جائے تو وہ روزانہ غسل کیا کرے اور گھی یا روغن زیتون لگاکر کپڑا استعمال کیا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً وَلَمْ يَقُلْ عِنْدَ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٣٠٢؛ج ١ ص ٢٢٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
محمد بن عثمان نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ وہ اپنے حیض کے دنوں کی نماز چھوڑ دے۔پھر غسل کرکے نماز پڑھے پھر ایام میں غسل کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ بَيْنَ الْأَيَّامِ،حدیث نمبر٣٠٣؛ج ١ ص ٢٢٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ابو حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ تھیں تو ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حیض کا خون آئے تووہ خون دیکھنے میں سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جب ایسا ہو تو ہر نماز سے رکی رہو جب یہ ختم ہو جائے تو وضو کرکے نماز پڑھ لیاکرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایاکہ ابن المثنی اور ابن ابو عدی نے جب ہم سے زبانی یہ حدیث بیان کی تو کہا عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کی علاء مسیب اور شعبہ نے حکم کے واسطے کے ساتھ ابوجعفر سے علاء نے اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا اور شعبہ نے موقوفاً کہا کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍحدیث نمبر٣٠٤؛ج ١ ص ٢٢٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی
عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو استحاضہ کی شکایت ہوگئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں کا انتظار کریں۔پھر غسل کرکے نماز پڑھیں اگر پھر کوئی چیز دیکھیں تو وضو کریں اور نماز پڑھ لیا کریں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الْوُضُوءَ إِلَّا عِنْدَ الْحَدَثِ حدیث نمبر٣٠٥؛ج ١ ص ٢٢٦؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
لیث نے ربیعہ سے روایت کی ہے کہ وہ مستحاضہ پر ہر نماز کے لیے وضو کو ضروری شمار نہیں کرتے تھے سوائے اس کے کہ اسے خون کے سوا کوئی دوسرا حدث ہوجائے تو وضو کرے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا یہی قول ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الْوُضُوءَ إِلَّا عِنْدَ الْحَدَثِ حدیث نمبر٣٠٦؛ج ١ ص ٢٢٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
ام ہزیل نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔انہوں نے فرمایا کہ طہر کے بعد ہم گندگی اور زردی کو کوئی اہمیت نہیں دیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ حدیث نمبر٣٠٧؛ج ١ ص ٢٢٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
محمد بن سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ام ہزیل وہی حفصہ بنت سیرین ہیں۔ ان کے صابزادے کا نام ہزیل اور خاوند کا اسم گرامی عبدالرحمن تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ حدیث نمبر٣٠٨؛ج ١ ص ٢٢٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
شیبانی سے روایت ہے کہ عکرمہ نے فرمایا کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا مستحاضہ تھیں۔لیکن ان کا خاوند ان سے صحبت کرتا تھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یحیٰی بن معین نے معلی کو ثقہ کہا ہے اور امام احمد بن حنبل اس سے روایت نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ عقلیات کی جانب مائل تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ يَغْشَاهَا زَوْجُهَاحدیث نمبر٣٠٩؛ج ١ ص ٢٢٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
احمد بن ابوسریح رازی،عبد اللہ بن جہم،عمرو بن ابوقیس عاصم،عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا مستحاضہ تھیں اور ان کا خاوند ان سے جماع کیا کرتا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ يَغْشَاهَا زَوْجُهَاحدیث نمبر٣١٠؛ج ١ ص ٢٢٨؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی
مسہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں نفاس والی عورتیں اپنے نفاس کے بعد چالیس رات دن بیٹھا کرتی تھیں اور ہم خشکی کا اثر دور کرنے کے لیے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِ النُّفَسَاءُ حدیث نمبر٣١١؛ج ١ ص ٢٢٩؛حکم حدیث اسنادہ حسن لغیرہ"الارنووط
مسہ کا بیان ہے کہ میں نے حج کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض گذار ہوئی کہ اے ام المومنین! سمرہ بن جندب عورتوں کو حیض کے دنوں کی نمازوں کے قضا پڑھنے کا حکم دیتے ہیں۔فرمایا کہ ان پر قضا نہیں خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے نفاس کے باعث چالیس دن رات بیٹھی رہتیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہیں نفاس کی نمازیں قضا پڑھنے کا حکم نہ فرماتے۔محمد بن حاتم نے کہا کہ اس کا نام مسہ اور کنیت ام بستہ ہے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ کثیر بن زیاد کی کنیت ابو سہل ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِ النُّفَسَاءِحدیث نمبر٣١٢؛ج ١ ص ٢٣٠؛حکم حدیث اسنادہ حسن لغیرہ"الارنووط
سلیمان بن سحیم نے امیہ بنت ابوصلت سے روایت کی کہ بنی غفار کی ایک عورت نے فرمایا جس نے مجھے اپنا نام بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر حقیبےمیں بٹھایا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم صبح کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور اپنا اونٹ بٹھایا تو میں آپ کے حقیبے سے اٹھ گئی۔دیکھا تو وہاں میرا خون لگا ہوا تھا۔اور میرا پہلا حیض تھا۔میں اونٹنی سے لگ گئی اور حیا محسوس کرنے لگی۔جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے اور خون کو دیکھا تو فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا؟شاید تمہیں حیض آگیا؟میں عرض گزار ہوئی کہ ہاں۔فرمایا کہ اپنے آپ کو درست کرلو۔پھر ایک برتن میں پانی لیکر نمک ڈال لو۔پھر اس کے ساتھ حقیبے میں جو خون لگا ہوا ہے اسے دھو ڈالو۔پھر دوبارہ اپنی جگہ پر سوار ہو جاؤ۔ان کا بیان ہے کہ جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو آپ نے فئ کے مال سے ہمیں بھی مرحمت فرمایا اور وہ اپنے حیض سے کبھی پاک نہ ہوتیں مگر غسل کے پانی میں نمک ڈالتیں اور بوقت وفات اپنے غسل کے پانی میں اسے ڈالنے کی وصیت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حدیث نمبر٣١٣؛ج ١ ص ٢٣١؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت اسماء بنت شکل انصاریہ حاضر ہوکر عرض گزار ہوئیں کہ یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہوکر کس طرح غسل کرے؟فرمایا کہ بیری کے پتوں والا پانی لیکر وضو کرے۔پھر اپنا سر دھوئے اور ملے۔یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہونچ جائے۔پھر پانی اپنے جسم پر ڈالے۔پھر تھوڑی سی روئ ،اون یا کپڑا لیکر اس کے ساتھ صفائی کرنا ۔عرض گزار ہوئیں کہ یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم!اس کے ساتھ کیسے صفائی کروں؟حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں اس کنایہ کو سمجھ گئی تھی تو میں نے ان سے کہا کہ مراد خون کے نشانات کو صاف کرنا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حدیث نمبر٣١٤؛ج ١ ص ٢٣٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تعریف کی اور فرمایا ان کا احسان ہے کہ ان میں سے ایک عورت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی۔پھر معنا باقی حدیث بیان کی مگر اس میں فرمایا کہ کپڑا وغیرہ مشک لگاہوا۔ مسدد کا قول ہے کہ ابوعوانہ اسے فرصہ کہتے اور ابوالاحوص قرصہ یعنی چھوٹا ٹکڑا کہتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حدیث نمبر٣١٥؛ج ١ ص ٢٣٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضرت اسماء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔پھر پہلی حدیث کی طرح معنا بیان کرتے ہوئے کہ مشک لگایا ہوا پایا۔عرض گزار ہوئیں کہ میں اس کے ساتھ کیسے صفائی کروں؟فرمایا سبحان اللّٰہ اسی کے ساتھ صفائی کیا کرواور اپنا رخ انور کپڑے سے چھپا لیا۔اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے آپ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا۔فرمایا کہ پانی لےکر خوب اچھی طرح خود کو پاک کرو اور مبالغہ کرو۔پھر اپنے سر پر پانی ڈال کر ملو،یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے۔پھر اپنے سارے جسم پر پانی ڈالو ۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ انصار کی عورتیں بہت بہترین ہیں کہ دینی مسائل پوچھنے اور انہیں سمجھنے کے راستے میں حیا انہیں روکتی نہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حدیث نمبر٣١٦؛ج ١ ص ٢٣٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسید بن حضیر اور ان کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کو ہار کی تلاش میں روانہ فرمایا جو حضرت عائشہ نے گم کر دیا تھا۔ نماز کا وقت ہو گیا تو لوگوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس بات کا ذکر کیا۔پس تیمم کی آیت نازل ہوگئی ابن نفیل کی روایت میں یہ بھی ہے حضرت اسید نے حضرت عائشہ سے کہا کہ اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے جب بھی آپ پر کوئی آفت پڑی تو اس کے ذریعے اللہ تعالی نے مسلمانوں اور آپ کے لیے آسانی پیدافرمادی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣١٧؛ج ١ ص ٢٣٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نماز فجر کے لیے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معیت میں مٹی سے تیمم کیا انہوں نے اپنی ہتھیلیاں مٹی پر مار کر اپنے چہروں پر ایک مرتبہ پھیریں اور دوسری مرتبہ مٹی پر ہتھیلیاں مار کر اپنے پورے ہاتھوں پر پھیریں کندھوں تک اور بازوؤں کے نیچے بھی بغلوں تک ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣١٨؛ج ١ ص ٢٣٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
سلیمان بن ن داؤد میری اور عبد الملک بن شعیب نے ابن وہب سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے کہا۔مسلمان تیمم کرنے لگے تو انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا اور مٹی سے کچھ نہ لیا اور کندھوں اور بغلوں تک کا ذکر نہ کیا۔ابن لیث نے کہا کہ کہنیوں سے اوپر تک۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣١٩؛ج ١ ص ٢٣٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عباس نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولات الجیش میں اترے اور آپ کے ساتھ حضرت عائشہ تھیں ،جن کا عقیق ظفار کا ہار ٹوٹ کر گم ہو گیا تھا تو لوگوں کو ان کا ہار تلاش کرنے کے باعث رکنا پڑا یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی نہ تھا۔حضرت ابوبکر ان پر ناراض ہوئے اور کہا کہ تم نے لوگوں کو روک دیا ہے جب کہ ان کے پاس پانی نہیں ہے۔پس اللہ نے اپنے رسول پر وحی نازل کرتے ہوئے پاک مٹی سے طہارت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔پس مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیمم کرنے لگے تو انہوں نے اپنا ہاتھ زمین پر مار کر اٹھا لیے اور مٹی ذرا بھی نہ لی اور انہیں اپنے چہروں پر پھیرا اور اپنے ہاتھوں پر کندھوں تک اور ہاتھوں کے اندرونی جانب بغلوں تک۔ابن یحیی نے اپنی روایت میں کہا کہ ابن شہاب نے اپنی حدیث میں کہا کہ لوگوں کے اس عمل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن اسحاق نے اسی طرح اس کی روایت کی ہے اور اس میں کہا کہ ابن عباس نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے جیسا کہ یونس نے ذکر کیا ہے۔روایت کی ہیں معمر نے زہری سے دوضربیں۔مالک،زہری،عبید اللہ بن عبداللہ ان کے والد ماجد نے حضرت عمار بن یاسر سے روایت کی۔اسی طرح ابواویس نے زہری سے روایت کی اور ابن عیینہ کو شک واقع ہوا کہ ایک دفعہ کہا۔عبید اللہ اپنے والد ماجد سے یا عبد اللہ نے حضرت ابن عباس سے،اس میں اضطراب ہے اور زہری سے اس کے سماع میں شک ہے اور کسی نے بھی دوضربوں کا ذکر نہیں کیا مگر جن کے میں نے نام لیے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٠؛ج ١ ص ٢٣٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
شقیق کا بیان ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ اشعری کے درمیان بیٹھا تھا تو حضرت ابوموسی اشعری نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن!کہ اگر ایک جنبی آدمی ایک مہینے تک پانی نہ پائے تو آپ کے خیال میں کیا وہ تیمم کرسکتا ہے؟فرمایا نہیں کرسکتا ہے اگر چہ ایک مہینہ تک پانی نہ ملے۔حضرت ابوموسی نے کہا کہ پھر سورۂ المائدہ کی اس آیت کا کیا کروگے۔٫٫اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا ارادہ کرو،، حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو قریب ہے کہ جب انہیں پانی ٹھنڈا لگے گا تو مٹی سے تیمم کرنے لگے چنانچہ حضرت ابو موسی نے ان سے کہا کہ اسی وجہ سے آپ جنبی کے لئے تیمم کرناناپسند کرتے ہیں کہاں ہاں پس حضرت ابو موسی نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے نہیں سنا جو حضرت عمار نے حضرت عمر سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا تو میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا تو میں مٹی پر لوٹ پوٹ ہوتا رہا جیسے جانور کرتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ سے یہ واقعہ عرض کیا ۔آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہی کافی تھا کہ ایسے کرلیتے اور آپ نے زمین پر اپنا ہاتھ مار کر اس پر پھونک ماری۔پھر دوسرے ہاتھ سے دائیں دست مبارک پر اور تائید ہاتھ سے دوسرے دست مبارک اور پنجوں پر مارا پھر آپ نے رخ انور پر مسافر مایا حضرت عبداللہ نے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ حضرت عمر نے حضرت عمارکے قول پر قناعت نہیں کی۔ ابوداؤد شریف الطہارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ٣٢١؛ج ١ ص ٢٣٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق
ابومالک سے روایت ہے کہ عبد الله بن ابزی نے فرمایا کہ میں حضرت عمر کے پاس تھا تو ایک آدمی نے آکر کہا کہ ہم ایسی جگہ پر ایک دوماہ رہتے ہیں۔حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تو اس وقت تک نماز نہیں پڑھ سکتا جب تک پانی نہ ملے۔حضرت عمار نے کہا کہ اے امیر المومنین!کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ اونٹوں میں تھے۔ پس ہم جنبی ہوگئے تو میں مٹی لیتا۔جب ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ میں نے آپ سے اس بات کا ذکر کیا۔ فرمایا کہ تمہارے لیے ایسا کرلینا کافی تھا اور اپنے دونوں دست مبارک زمین پر مارے۔ پھر ان پر پھونک ماری اور ان سےاہنے پرنور چہرے پر مسح فرمایا اور نصف کلائیوں تک حضرت عمر نے کہا اے عمار!خدا سے ڈرو انہوں نے کہا اے امیرالمومنین! اگر آپ چاہے تو میں اس کا کبھی ذکر نہ کروں۔حضرت عمر نے فرمایا کہ خدا کی قسم ایسا نہیں ہے بلکہ آپ کو پورا پورا اختیار حاصل ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٢؛ج ١ ص ٢٣٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابن ابزی نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا۔فرمایا کہ اے عمار تمہارے لیے یہی کافی تھااور اپنے دونوں دست مبارک زمین پر مارے۔پھر ایک کو دوسرے پر مار کر اپنے پرنور چہرہ پر مسح فرمایا اور کلائیوں پر نصف حد تک اور پہلی ضرب میں کہنیوں تک نہ پہنچے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے وکیع،اعمش،سلمہ بن کہیل نے عبد الرحمن بن ابزی سے ۔روایت کیا اسے جریر،اعمش،سلمہ،سعید بن عبد الرحمن بن ابزی نے اپنے والد ماجد عبدالرحمن بن ابزی سے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٣؛ج ١ ص ٢٤٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛
عبدالرحمن بن ابزی نے حضرت عمار رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس واقعہ کو روایت کی ہے۔فرمایا کہ تمہارے لیے یہ کافی تھا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دست مبارک زمین پر مارے۔پھر ان پر پھونک مار کر انہیں اپنے پرنور چہرے اور ہتھیلیوں پر پھیرا ۔سلمہ نے اس میں شک کرتے ہوئےکہا کہ معلوم نہیں کہنیوں تک فرمایا یا ہتھیلیوں تک۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٤؛ج ١ ص ٢٤٠؛حکم حدیث اسنادہ صحيح دون قوله؛ تحقيق الارنووط
شعبہ نے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کو روایت کیا ہے۔کہا کہ پھر ان پر پھونک ماری اور ان کے ساتھ اپنے پرنور چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح فرمایا،پنجوں تک یا کلائیوں تک۔شعبہ نے کہا کہ سلمہ کہا کرتے دونوں،ہتھیلیوں،چہرۂ انور اور دونوں کلائیوں پر۔پس منصور نے ایک روز ان سے کہا غور کیجیے کہ آپ کیا کہ رہے ہیں کیونکہ کلائیوں کا ذکر آپ کے سوا کوئی نہیں کرتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٥؛ج ١ ص ٢٤١؛حکم حدیث صحيح دون قوله تحقیق الارنووط
عبدالرحمن بن ابزی نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کی روایت کی ہےکہ ان کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مار کر ان کے ساتھ اپنا چہرہ اور اپنی ہتھیلیوں پر مسح کرلیا کرو اور پھر باقی حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے شعبہ،حصین،ابومالک نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمار کو اسی طرح خطبہ دیتے ہوئے سنا مگر یہ بھی فرمایا کہ پھونک نہ مارو۔حسین بن محمد،شعبہ،حکم سے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔پس اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور پھونک ماری۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٦؛ج ١ ص ١٤١؛حکم حدیث إسناده صحيح؛تحقيق الارنووط
سعید بن عبدالرحمن بن ابزی نے اپنے والد ماجد عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کی کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تیمم کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے مجھے ایک ضرب کا حکم فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٧؛ج ١ ص ١٤٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابان سے روایت ہے کہ قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا۔انہوں نے فرمایا کہ محدث،شعبہ،عبدالرحمن بن ابزی،حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہنیوں تک۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٨؛ج ١ ص ٢٤٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
حضرت عبدالرحمن بن ہرمز نے عمیر مولی ابن عباس کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اور عبداللّٰہ بن یسار گئے جو مولی تھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ حضرت میمونہ کے،یہاں تک کہ ہم حضرت ابوجہیم بن حارث بن صمۃ انصاری کے پاس پہونچے حضرت ابوجہیم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بئرجمل کی جانب سے تشریف لارہے تھے کہ آپ کو ایک آدمی ملا جس نے آ پہنچی کو سلام کیا۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ ایک دیوار آئی تو آپ نے اپنے پرنور چہرے اور دونوں مبارک ہاتھوں پر مسح فرمایا۔پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر٣٢٩؛ج ١ ص ٢٤٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
محمد بن ثابت عبدی نے نافع سے روایت کی ہے کہ میں ایک ضرورت کے تحت حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت ابن عمر نےاپنی حاجت پوری کرلی۔دوران گفتگو اس روز حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ کسی گلی میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا اور آپ قضائے حاجت یا پیشاب سے فارغ ہوکر نکلے تھے۔پس اس نے آ پ کو سلام کیا۔لیکن آ پ نے جواب نہ دیا۔یہاں تک کہ وہ آدمی دوسری گلی میں جانے لگا تو آ پ نے ایک دیوار پر اپنے دونوں ہاتھ مارے اور انہیں اپنے چہرہ انور پر پھیرا پھر دوسری ضرب ماری اور اپنی دونوں کلائیوں پر مسح کیا۔پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے سلام کا جواب اس لیے نہیں دیا تھاکہ میں طہارت سے نہ تھا امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تیمم کے متعلق محمد بن ثابت نے یہ حدیث منکر روایت کی ہے۔ابن داسہ نے کہا کہ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دوضرب کے واقعے کو محمد بن ثابت کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا ہے،بلکہ انہوں نے حضرت ابن عمر کے فعل کو روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر٣٣٠؛ج ١ ص ٢٤٥؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لارہے تھے کہ بئرجمل کے پاس آپ کو ایک آدمی ملا اور اس نے سلام کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہ دیا،یہاں تک کہ ایک دیوار کی طرف بڑھے تو دیوار پر اپنا دست مبارک رکھا،پھر اسے اپنے پرنور چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ملا،پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر٣٣١؛ج ١ ص ٢٤٦؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
حضرت ابوذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس کافی بکریاں اکٹھی ہوگئیں تو فرمایا کہ اے ابوذر! انہیں چراؤ۔پس میں انہیں ربزہ کی جانب لے گیا مجھے جنابت لاحق ہو گئی جب کہ میں وہاں پانچ چھ روز رہا۔جب میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر!میں خاموش رہا ابوذر کی ماں اسے روئے ،تمہاری ماں کی خرابی ہو۔پس آپ نے ایک سیاہ فام لونڈی کو بلایا جو ایک بالٹی لیکر آئی جس میں پانی تھا پس میں نے ایک کپڑے سے ستر چھپا لیا اور سواری کی آڑ میں غسل کرلیا،تو گویا میرے اوپر سے پہاڑ اتر گیا۔فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کاوضو ہے خواہ دس سال گزر جائیں۔جب تمہیں پانی ملے تو اپنے جسم پر بہالو کیونکہ یہ بہتر ہے۔مسدد نے کہا کہ بکریاں صدقہ کی تھیں اور مکمل حدیث عمرو ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْجُنُبِ يَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٢؛ج ١ ص ٢٤٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط
بنی عامر کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں نے اسلام قبول کیا تو مجھے اپنے دین کو سیکھنے کا شوق دامن گیر ہوا۔پس میں حضرت ابوذر کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضرت ابوذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے لیے چند اونٹوں اور بکریوں کا حکم فرمایا اور مجھ سے فرمایا کہ ان کا دودھ پیتے رہنا حماد کو پیشاب کے متعلق فرمانے کا شک ہے۔حضرت ابوذر نے فرمایا کہ میں پانی سے پرہیز کرتا رہا اور گھر والے میرے ساتھ تھے ۔مجھے جنابت لاحق ہو گئی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھتا رہا۔جب دوپہر کے وقت میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آ پ مسجد کے سائے میں شمع رسالت کے چند پروانوں کے درمیان جلوہ افروز تھے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔ابوذر! میں عرض گزار ہوا۔ہاں یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!میں تو ہلاک ہو گیا۔فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے ہلاک کیا؟عرض گزار ہوا کہ میں پانی سے بچتا تھا اور میری بیوی میرے ساتھ تھی تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی اور میں طہارت کے بغیر نماز پڑھتا رہا پس رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم فرمایا تو ایک کالی لونڈی نے بالٹی میں ہلتا ہوا پانی لے کر آئی یعنی وہ بھری ہوئی نہ تھی۔پس میں اونٹ کی آڑ میں غسل کیا اور پھر حاضر بارگاہ ہواتو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر!بیشک پاک مٹی پاک کرنے والی ہے اگر چہ تمہیں دس سال تک پانی نہ ملے جب پانی ملے تو اپنے جسم پر بہالو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے حماد بن زید نے ایوب سے اور پیشاب کا ذکر نہ کیا اور یہ بات صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف حدیث انس میں ہے جسے صرف اہل بصرہ نے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْجُنُبِ يَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٣؛ج ١ ص ٢٤٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط
عبدالرحمن بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمروبن العاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ غزوہ ذات السلاسل کے دوران ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا ۔پس مجھے ڈر محسوس ہو کہ غسل کرنے سے ہلاک ہو جاؤں گا۔پس میں نے تیمم کرکے اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور رسول صلی اللہ للہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ اے عمرو تم اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھائی؟میں نے غسل نہ کرنے کی وجہ بیان کی اور عرض گزار ہوا کہ میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی جانوں کو قتل نہ کرو،بیشک اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور مزید آپ نے کچھ نہیں فرمایا امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن جبیر مصری یہ خارجہ بن حزاقہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ابن جبیر بن نفیر نہیں ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ إِذَا خَافَ الْجُنُبُ الْبَرْدَ أَيَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٤؛ج ١ ص ٢٤٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبدالرحمن بن جبیر نے ابوقیس مولی عمرو بن العاص سے روایت کی کہ حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالی عنہ ایک سریہ میں تھے۔پھر مذکورہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی سرین دھوئے اور نماز کے لیے وضو کیا ۔پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور تیمم کا ذکر نہیں کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا گیا ہے اس واقعے کو اوزاعی کے واسطے کے ساتھ حسان بن عطیہ سے اس روایت میں کہا کہ انہوں نے تیمم کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ إِذَا خَافَ الْجُنُبُ الْبَرْدَ أَيَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٥؛ج ١ ص ٢٥١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عطاء سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں نکلے تو ہم میں سے ایک آدمی کے سر میں پتھر آکر لگا تو اس کا سر پھٹ گیا۔پھر اسے احتلام ہو گیا ۔اس نے ساتھیوں سے کہاں کہ کیا آپ کو میرے لیے تیمم کی اجازت نظر آتی ہے ؟تو انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک آپ کو تیمم کی اجازت نہیں ہے کیونکہ آپ پانی پر قادر ہیں پس اس نے غسل کیا اور وفات پائی۔جب ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو فرمایا اللہ تمہیں مارے تم نے اسے قتل کردیا جب تمہیں معلوم نہ تھا تو مسئلہ کیوں نہ پوچھا کیونکہ بےخبری کا علاج پوچھنا ہے اس کے لیے تیمم کرلینا کافی ہے۔ اور پٹی باندھ لے لینا اس میں نوسی کو شک ہے زخم پر کپڑا باندھ کر مسح کرلیا جاتا اور باقی سارے جسم کو دھولیتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٦؛ج ١ ص ٢٥٢؛حکم حدیث اسنادہ حسن دون قوله إنما كان يكفيه تحقيق البانی
عطاءبن ابی رباح سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم پہونچا۔ پھر اسے احتلام ہو گیا تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔اس نے غسل کیا تو فوت ہوگیا جب یہ بات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ تک پہونچی تو آپ نے فرمایا اس سے قتل کردیا گیا۔اللہ انہیں مارے کیا معلوم کرلینا بے خبر کا علاج نہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٧؛ج ١ ص ٢٥٣؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی
عطاءبن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا دو آدمی سفر میں نکلے اور نماز کا وقت ہو گیا لیکن ان کے پاس پانی نہ تھا۔ پس انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھ لی ۔پھر وقت کے اندر انہیں پانی مل گیا۔پس ایک آدمی نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھ لی اور دوسرے نے اعادہ نہ کیا ۔پھر وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اس بات کا ذکر کیا۔آپ نے اس بات کا ذکر کیا آپ نے اس شخص سے فرمایا جس نے اعادہ کیا تھاکہ تم نے سنت کو پالیا ہے اور تمہاری پہلی نماز کافی ہے۔اور اس شخص سے فرمایا جس نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھ لی تھی کہ تمہارے لیے دوگنا اجر ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ نافع کے علاوہ دوسرے حضرات نے اسے روایت کیا لیث،عمیربن ابوناجیہ،بکر بن سوادہ،عطاء بن یسار نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث میں حضرت ابوسعید کا ذکر محفوظ نہیں ۔لہذا یہ مرسل ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمُتَيَمِّمِ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ مَا يُصَلِّ فِي الْوَقْتِ،حدیث نمبر٣٣٨؛ج ١ ص ٢٥٤؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
ابوعبد اللہ مولی اسماعیل بن عبید سے روایت ہے کہ عطاءبن یسار نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے دو حضرات۔آگے مذکورہ حدیث کو معنا روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمُتَيَمِّمِ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ مَا يُصَلِّ فِي الْوَقْتِ،حدیث نمبر٣٣٩؛ج ١ ص ٢٥٥؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ جمعہ کے روز جب حضرت عمر خطبہ دے رہے تھے تو ایک آدمی آیا ۔حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا آپ نماز سے روک لیے جاتے ہیں؟اس شخص نے جواب دیا کہ ہوا یہی ہے کہ میں نے اذان کی آواز سنی اور وضو کیا ۔حضرت عمر نے کہا صرف وضو؟کیا آ پ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جب تم میں سے کوئی نماز جمعہ کے لیے آئے تو اسے غسل کرلینا چاہیے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٠؛ج ١ ص ٢٥٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عطاءبن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ مسلمان پر واجب ہے ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤١؛ج ١ ص ٢٥٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ مسلمان کے لیے جمعہ کو جانا ضروری ہے اور جو جانا چاہے اس پر غسل کرنا ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ جب آدمی نے طلوع فجر کے بعد غسل کرلیا تو وہ غسل جمعہ کی طرف سے کافی ہوگا خواہ جنبی کیوں نہ ہوا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٢؛ج ١ ص ٢٥٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے لیے غسل کیا اور اپنے اچھے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی جب کہ اس کے پاس ہو۔پھر نماز جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں اوپر سے نہ پھلانگے۔ پھر نماز پڑھے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض فرمائی ہے۔پھر خاموش رہے جبکہ امام نکل آئے ۔یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہوجائے تویہ اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ فرمایا کرتے تھے کہ مزید تین دن کے گناہ ۔اور فرماتے تھے نیکی کا اجر دس گنا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ محمد بن مسلمہ کی حدیث زیادہ مکمل ہے اور حماد نے کلام ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٣؛ج ١ ص ٢٥٨؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے روز کا غسل ہر بالغ پر ہے اور مسواک کرنا اور خوشبو لگانا جو قسمت میں ہو ۔مگر بکیر نے عبدالرحمن کا ذکر نہیں کیا ۔اور خوشبو کے متعلق کہا کہ خواہ عورت کی خوشبو ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٤؛ج ١ ص ٢٥٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابوالاشعث صنعانی سے روایت ہے کہ حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور غسل کروایا ۔پھر جلدی گیا اور جلدی کہے گیا اور سواری کے بغیر جائے اور امام کے قریب ہو کر غور سے سنے اور لغو بات نہ کرے تو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے رکھنے اور شب بیداری کا ثواب ملے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٥؛ج ١ ص ٣٥٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبادہ بن نسی نے حضرت اوس ثقفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے روز اپنا سر دھویا اور غسل کیا۔پھر باقی مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٦؛ج ١ ص ٢٦٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت عمرو بن شعیب کے والد ماجد نے حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور اپنی بیوی کی خوشبو میں سے لگائی جب کہ اس کے پاس ہو اور اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے۔پھر لوگوں کی گردنوں کے اوپر سے نہ پھلانگے اور وعظ کے دوران لغویات نہ کرے تو وہ اس کے لیے دوجمعوں کے درمیانی صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوگا اور اگر لغو بات کی اور لوگوں کی گردنوں کی اوپر سے پھلانگتا رہا تو یہ نماز ظہر کی طرح ہوگا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٧؛ج ١ ص ٢٦١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی
حضرت عبداللہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے۔(1)جنابت سے(2)جمعہ کے روز(3)پچھنے لگوانے کے بعد اور(4)میت کو غسل دینے کے بعد۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٨؛ج ١ ص ٢٦١؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
محمود بن خالد دمشقی،مروان،علی بن حوشب نے مکحول سے غسل کرنے اور کروانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ اس سے مراد اپنے سر اور جسم کو دھونا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٩؛ج ١ ص ٢٦٢؛حکم حدیث رجالہ ثقات؛تحقيق الارنووط
محمد بن ولید دمشقی،ابومسہر نے سعید بن عبدالعزیز سے غسل کرنے اور کروانے کے متعلق دریافت کیا تو سعید نے فرمایا کہ اس کا مطلب اپنے سر اور جسم کو دھونا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥٠؛ج ١ ص ٢٦٢؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
ابوصالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے جمعہ کے روز غسل جنابت کیا،پھر (نماز کی ادائیگی کے لیے جائے) تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی دی۔ جو دوسری ساعت میں آیا تو گویا اس نے گائے کی قربانی دی۔جو تیسری ساعت میں آیاتو گویا اس نے مینڈھے کی قربانی دی۔جو چوتھی ساعت میں آیا تو گویا اس نے مرغ کا ثواب پایا۔اور جوپانچویں ساعت میں آیا تو گویا اس نے انڈے کا ثواب حاصل کیا اور جب امام خطبے کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥١؛ج ١ ص ٢٦٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ لوگ محنت مزدوری کرکے اس حالت میں نماز جمعہ کے لیے جاتے کہ ان سے کہا جاتا،کاش آپ غسل کرلیتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥٢؛ج ١ ص ٢٦٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عمروبن ابوعمرو نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ عراق کے رہنے والے کچھ لوگوں نے آکر کہا۔اے ابن عباس!کیا آپ کے نزدیک جمعہ کے روز غسل کرنا واجب ہے؟فرمایا کہ نہیں لیکن جو غسل کرلے تو اس میں پاکی اور بہتری ہے اور جو غسل نہ کرے تو اس پر واجب نہیں ہے۔میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل کیسے شروع ہوا۔لوگ مفلس تھے اور اونی کپڑے پہنتے تھے اور اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھاتے تھے اور ان کی مسجد تنگ تھی،اس کی چھت نیچی تھی کہ گویا ایک چھپر ہے۔تو ایک گرمی کے روز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطبہ دینے نکلے اور لوگوں نے موٹے اونی کپڑے پہنے ہوئے تھےتو ان کی بوسے ایک دوسرے کو تکلیف ہورہی تھی۔جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وہ بو محسوس ہوئی تو آ پ نے فرمایا کہ اے لوگو!جب یہ دن آئے تو غسل کرلیا کرو اور جو تمہیں اچھا سا تیل یا خوشبو ملے تو لگالیا کرو۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت درست فرمادی تو موٹے اونی کپڑوں کے سوا دوسرے کپڑے پہننےلگے۔محنت تقسیم ہوگئی،مسجد وسیع ہوگئی اور پسینے کی وہ بدبو جاتی رہی جس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوا کرتی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥٣؛ج ١ ص ٢٦٤؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
ابوالولید،ہمام،قتادہ،حسن,حضرت سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے وضو کیا تو اچھا کیا اور خوب کیا اور جس نے غسل کیا تو اس میں فضیلت ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥٤؛ج ١ ص ٢٦٥؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط
حضرت قیس بن عاصم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں اسلام قبول کرنے کے ارادے سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ بیری کے پتے ڈالے ہوئے پانی سے غسل کروں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُؤْمَرُ بِالْغُسْلِ،حدیث نمبر٣٥٥؛ج ١ ص ٢٦٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عثیم بن کلیب نے اپنے والد ماجد سے انہوں نے اپنے والد محترم سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور مسلمان ہوگیا۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے زمانہ کفر کے بال منڈوادو اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے ساتھ جانے والے شخص سے فرمایا تم بھی اپنے زمانہ کفر کے بال منڈوادو اور ختنہ کروالو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُؤْمَرُ بِالْغُسْلِ،حدیث نمبر٣٥٦؛ج ١ ص ٢٦٧؛حکم حدیث حسن تحقیق البانی
ابوبکر عدوی کی دادی جان ام الحسن سے روایت ہے کہ معاذہ نے فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے اس حائضہ کے متعلق پوچھا گیا جس کے حیض کا خون اس کے کپڑے سے لگ جائے۔فرمایا کہ اسے دھوڈالے اور اگر نشانات نہ جائیں تو اس کپڑے پر کوئی زرد رنگ چڑھا لے۔فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا۔متواتر تین تین حیض اور میں اپنے لیے کپڑا نہیں دھوتی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٥٧؛ج ١ ص ٢٦٨؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حسن بن مسلم نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم (ازواج مطہرات)میں سے کسی کے پاس ایک سے زیادہ کپڑا نہیں ہوتا تھا،اسی میں حیض آتا۔جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوکتے اور تھوک سے چھڑا دیتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٥٨؛ج ١ ص ٢٦٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
بکار بن یحییٰ کی دادی جان نے فرمایا کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان سے قریش کی ایک عورت حیض والے کپڑے سے نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ہمیں حیض آتا تو وہ حیض کے دنوں میں ٹھہری رہتی۔پھر پاک ہوکر وہ اس کپڑے کو دیکھتی جس کے ساتھ وہ ایام حیض گزارے اگر خون لگا ہوتا تو وہ اسے دھودیتے اور اس میں نماز پڑھتے۔اور اس میں کوئی چیز رکاوٹ نہ تھی ۔جب ہم میں سے کسی کی چوٹی بندھی ہوئی تھی تو اسی طرح رکھی جاتی اور غسل کرتے وقت اسے کھولا نہ جاتا بلکہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لیا جاتا اور جب یہ دیکھا جاتا کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ گیا ہے تو سر کو ملا جاتا اور پھر سارے جسم پر سارے جسم پر پانی بہا لیا جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٥٩؛ج ١ ص ٢٦٩؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
فاطمہ بنت منذر روایت کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ ایک عورت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھ رہی تھی کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو حیض سے پاک دیکھے تو اپنے کپڑوں کا کیا کرے۔تاکہ ان میں نماز پڑھ سکے۔فرمایا دیکھو اگر اس میں خون نظر آئے تو تھوڑا سا پانی ڈال کر اسے کھرچ دواور اگر کچھ بھی نظر نہ آئے تو اس میں نماز پڑھ لو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦٠؛ج ١ ص ٢٧٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ایک عورت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے عرض گزار ہوئی۔یارسول اللہ جب ہم میں سے کوئی اپنے کپڑے میں حیض کا خون لگا ہوا دیکھے تو کیا کرے؟تو فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو حیض کا خون لگ جائے تو اسے کھرچ دے۔پھر اسے پانی سے دھودے اور پھر نماز پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦١؛ج ١ ص ٢٧٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
حماد بن سلمہ نے ہشام سے معنا روایت کرتے ہوئے دونوں نے کہا کہ اسے کھرچ دو۔پھر اس پر پانی ڈالو،پھر اسے دھولو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦٢؛ج ١ ص ٢٧١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عدی بن دینار نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے؟ فرمایا کہ اسے لکڑی سے خرچ دو اور بیری کے پتوں والے پانی سے دھوڈالو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦٣؛ج ١ ص ٢٧١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عطاء سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ہی کرتا ہوتا جو دوران حیض اور حالت جنابت میں بھی پہنا جاتا۔جب اس پر خون کا قطرہ لگا ہوا دیکھا جاتا تو اپنے تھوک سے اسے مل دیا جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦٤؛ج ١ ص ٢٧٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ خولہ بنت یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صرف ایک ہی لباس ہے اس میں مجھے خون آجاتا ہے تو پھر میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم پاک ہو جاؤ تو اسے دھو کراس میں نماز ادا کرو۔اس نے عرض کی؛اگر خون نہ نکلے(یعنی خون کا نشان ختم نہ ہو)تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے خون کو دھونا ہی کافی ہے اس کا نشان تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (ابو داود شریف کتاب الطھارۃ بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا؛ج ١ ص ٢٧٢؛حدیث نمبر ٣٦٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
معاویہ بن سفیان نے اپنی بہن حضرت ام حبیبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں،کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جن کپڑوں کو پہن کر جماع کرتے کیا ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا،ہاں جب کہ ان میں کوئی نجاست لگی ہوئی نہ ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ فِيهِ،حدیث نمبر٣٦٦؛ج ١ ص ٢٧٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبد اللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے بچھانے کے کپڑے اور ہمارے لحاف میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔عبداللہ کا قول ہے کہ میرے والد ماجد کو شک ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ فِيهِ،حدیث نمبر٣٦٧؛ج ١ ص ٢٧٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابن سیرین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہماری اوڑھنے کی چادروں میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔حماد،سعید بن ابوصدقہ کا بیان ہے کہ میں نے محمد بن سیرین سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھ سے بیان نہیں کی اور کہا کہ مدت گزر گئی جب کہ میں نے یہ سنی تھی۔اور مجھے نہیں معلوم کہ کس سے سنی تھی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ جس سے سنی وہ ثقہ تھا یا نہیں ،لہذا اس کی تحقیق کرلو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ فِيهِ،حدیث نمبر٣٦٨؛ج ١ ص ٢٧٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبد اللہ بن شداد نے حضرت میمونہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ کے اوپر ایک چادر تھی ،جس کا کچھ حصہ آپ کی ایک زوجہ مطہرہ کے اوپر تھا جو حائضہ تھیں اور نماز پڑھتے ہوئے بھی وہ حصہ آپ کے اوپر تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٣٦٩؛ج ١ ص ٢٧٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھ رہے تھے اور میں آ پ کی پہلو میں تھی ۔میں حائضہ تھی اور میرے اوپر جو چادر تھی اس کا ایک حصہ آپ کے اوپر تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٣٧٠؛ج ١ ص ٢٧٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھے کہ انہیں احتلام ہو گیا تو انہیں حضرت عائشہ کی لونڈی نے کپڑے سے جنابت کا نشان یا کپڑا دھوتے ہوئے دیکھ لیا ۔اس نے حضرت عائشہ کو بتا دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کسی کپڑے میں اسے دیکھتی تو مل دیا کرتی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧١؛ج ١ ص ٢٧٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابراہیم نے اسود سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیا کرتی تھی اور آپ اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس کی موافقت کی ہے مغیرہ اور ابومعشر واصل نے اور اعمش نے اسے حکم کی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٢؛ج ١ ص ٢٧٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
سلیمان بن یسار نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ منی کو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھو دیا کرتیں اور پھر انہیں ایک یا کئی نشانات نظر آتے رہتے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٣؛ج ١ ص ٢٧٧؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضرت ام قیس محصن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا اپنے چھوٹے صاحبزادے کو لیکر ،جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا ،رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں،پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا تو اس نے آ پ کے کپڑے پر پیشاب کردیا ۔پس آ پ نے پانی منگا کر اس پر چھڑک دیا اور اسے نہ دھویا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٤؛ج ١ ص ٢٧٨؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
قابوس نے حضرت لبابہ بنت حارث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی گود میں حسین بن علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما تھے تو انہوں نے آپ پر پیشاب کردیا۔میں عرض گزار ہوئیں کہ آپ دوسرے کپڑے پہن لیں اور ازار مجھے دے دیجیے تاکہ میں دھودوں۔فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔اور لڑکے کے پیشاب میں پانی چھڑکا جاتا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٥؛ج ١ ص ٢٧٩؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
محل بن خلیفہ نے حضرت ابوالسمع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو مجھ سے فرماتے ۔میری جانب پیٹھ پھیر لو۔پس میں آپ کی جانب پیٹھ کرکے آڑ بنا رہتا۔چنانچہ امام حسن یا امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما آئے اور آپ کے سینے پر پیشاب کردیا اور میں دھونے کے لیے حاضر ہوا تو فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔عباس نے یحییٰ بن ولید سے روایت کی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ان کی کنیت ابو الزہراء ہے اور ہارون بن تمیم نے حسن بصری سے روایت کی کہ پیشاب سب برابر ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٦؛ج ١ ص ٢٨٠؛حکم حدیث اسنادہ جید تحقیق الارنووط
ابوحرب بن الاسود نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو دھوئے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکے جو کھانا نہ کھاتا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٧؛ج ١ ص ٢٨٠؛حکم حدیث صحيح موقوف تحقیق البانی
ابوحرب بن الاسود کے والد ماجد نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھر معنا مذکورہ حدیث بیان کی اور کھانا نہ کھانے کا ذکر نہ کیا۔قتادہ نے یہ بھی کہا کہ جب کہ دونوں کھانا نہ کھاتے ہوں۔ جب کھانا کھاتے ہوں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٨؛ج ١ ص ٢٨١؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ ان کی والدہ ماجدہ نے فرمایا۔میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا کہ لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا کرتیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا۔جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھویا کرتیں اور وہ لڑکی کے پیشاب کو دھوتی تھیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٩؛ج ١ ص ٢٨١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں جلوہ افروز تھے۔پس اس نے نماز پڑھی۔ابن عبدہ نے کہا کہ دورکعتیں۔پھر کہا۔اے اللہ مجھ پر رحم فرما اور محمد مصطفیٰ پر اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ کر۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے وسیع چیز کو تنگ کردیا۔تھوڑی دیر بعد وہ مسجد کے ایک کونہ میں پیشاب کرنے لگا۔تو لوگ اس کی جانب لپکے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع کیا اور فرمایا کہ تمہیں آسانی کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے،تم تنگی کرنے کے لیے مبعوث نہیں کیے گئے ،اس پر ایک سجل یا ذنوب (ڈول)پانی بہادو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْأَرْضِ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ،حدیث نمبر٣٨٠؛ج ١ ص ٢٨٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے کہ عبداللّٰہ بن معقل بن مقرن نے فرمایا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔پھر مذکورہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس مٹی پر پیشاب کیا ہے اسے لے کر باہر پھینک دو اور اس جگہ پر پانی بہادو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے کیوں کہ ابن مقفل نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں پایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْأَرْضِ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ،حدیث نمبر٣٨١؛ج ١ ص ٢٨٣؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کے اندر میں مسجد میں رات گزارتا اور میں غیر شادی شدہ نوجوان تھا۔چنانچہ کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرجاتے تو کوئی ان کے پیشاب پر پانی نہیں بہاتا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي طُهُورِ الْأَرْضِ إِذَا يَبِسَتْ،حدیث نمبر٣٨٢؛ج ١ ص ٢٨٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابراہیم بن عبدالرحمن عوف کی ام ولد نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کی کہ میں ایسی عورت ہوں کہ میرا دامن لٹک جاتا ہے جو گندی جگہ بھی گھسٹتا ہے۔حضرت ام سلمہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے دوسری جگہ پاک کردیتی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ الذَّيْلَ،حدیث نمبر٣٨٣؛ج ١ ص ٢٨٥؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
موسی بن عبداللّٰہ بن یزید نے بنی اشہل کی ایک عورت سے روایت کی۔اس نے کہا کہ میں عرض گزار ہوئی ۔یارسول اللہ ہمارا مسجد والا راستہ گندا ہے تو بارش کے وقت ہم کیا کریں؟فرمایا کیا اس کے بعد پاک راستہ نہیں ہے؟میں عرض گزار ہوئی کہ کیوں نہیں۔فرمایا تو اس کی ناپاکی کو یہ دور کردے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ الذَّيْلَ،حدیث نمبر٣٨٤؛ج ١ ص ٢٨٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کسی کے جوتے پر گندگی لگ جائے تو مٹی انہیں پاک کرنے والی ہے۔(یعنی مٹی پر رگڑنے سے وہ پاک ہو جائے گی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ النَّعْلَ،حدیث نمبر٣٨٥؛ج ١ ص ٢٨٦؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔پھر معنا روایت کی۔فرمایا جب موزوں کو گندگی لگ جائے تو مٹی انہیں پاک کرنے والی ہے۔(یعنی موزوں کو پاک مٹی پر رگڑ لیا جائے تو حکما وہ پاک شمار ہوں گے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ النَّعْلَ،حدیث نمبر٣٨٦؛ج ١ ص ٢٨٧؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھر مذکورہ حدیث کو معنا روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ النَّعْلَ،حدیث نمبر٣٨٧؛ج ١ ص ٢٨٧؛حکم حدیث اسنادہ قوی تحقیق الارنووط
ام یونس بنت شداد نے اپنی نند ام جحدر عامریہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا جب کہ حیض کا خون کپڑے کو لگ جائے۔انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور بچھانے کا کپڑا ہمارے اوپر تھااور ہم نے اس کے اوپر کمبل ڈال رکھا تھا۔صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کمبل لے کر اوڑھ لیا۔پھر آپ باہر نکلے اور نماز فجر پڑھ کر بیٹھ گئے۔ایک آدمی عرض گزار ہوا یارسول الله یہ تو خون کا نشان ہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ارد گرد سے پکڑ کر ایک غلام کو ہاتھوں میری طرف بھیجتے ہوئے فرمایا کہ اسے دھودو اور جب خشک ہو جائے تو میرے پاس بھیج دینا۔پس میں نے اپنا کونڈا منگا کر اسے دھویا اور خشک ہونے پر اسے آپ کی خدمت میں بھیجا دیا گیا۔چنانچہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت تشریف لائے اور وہ کمبل آپ کے اوپر تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْإِعَادَةِ مِنَ النَّجَاسَةِ تَكُونُ فِي الثَّوْبِ،حدیث نمبر٣٨٨؛ج ١ ص ٢٨٨؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ حضرت ابونضرہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور دوسرے حصوں سے اسے مل دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْبُصَاقِ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٩؛ج ١ ص ٢٨٩؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مذکورہ حدیث کی طرح۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْبُصَاقِ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٩٠؛ج ١ ص ٢٨٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں"اسے ذلت کا لباس پہنائے گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ؛قباء کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٣٠) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ ان کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ؛قباء کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٣١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ ان کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ؛قباء کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٣١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے سیاہ رنگ کی اونی چادر پہنی ہوئی تھی۔ ایک راوی نے اس کے سند کچھ مختلف نقل کی ہے۔ حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے کے لیے کچھ مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کتان کے دو کپڑے عطا کیے(بعد میں)میں نے خود کو دیکھا کہ میرا لباس اپنے تمام ساتھیوں سے بہتر تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعْرِ؛اونی اور بال سے بنا ہوا لباس پہننا؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٣٢)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مومن کو قتل کرے اور اس کے قتل کو درست سمجھے تو اللہ تعالی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔. (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٣،حدیث ٤٢٧٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)
عرس بن عمیر کندی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب زمین میں کوئی غلطی کی جائے تو جو شخص وہاں موجود ہو وہ اسے ناپسند کرے(ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں)وہ اس کا انکار کرے تو یہ اس طرح ہوگا کہ جس طرح وہ وہاں موجود نہیں تھا اب جو شخص وہاں موجود نہیں تھا وہ اب اس غلطی سے راضی ہے تو یہ اس طرح ہوگا جیسے وہ بھی وہاں موجود تھا.... (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٤،حدیث ٤٣٤٥)
Abu Dawood Shareef : Kitabut Taharat
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الطہارۃ
|
•