asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabut Taharat

From 1 to 4345

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو (لوگوں) سے دور چلے جاتے تھے_ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الطہارت جلد ١ ص ١ حدیث نمبر ١ حکم حدیث حسن صحيح)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 1

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قضائے حاجت کرنا ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اتنی دور) چلے جاتے کہ کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے (ابوداؤد شریف كِتَاب الطَّهَارَةِ؛بَابُ التَّخَلِّي عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ١ حدیث ٢ حکم حدیث صحيح؛

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ، حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 2

ابو تیاح بیان کرتے ہیں:مجھے ایک بزرگ نے یہ بات بتائی :جب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بصری تشریف لائے تو انہیں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے منقول کچھ احادیث بیان کی گئیں؛ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا :حضرت ابو موسیٰ اشعری نے انہیں جواب میں لکھا :ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کا ارادہ فرمایا؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کی جڑ کے پاس موجود نرم مٹی کے پاس آئے اور وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب فرمایا ؛پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جب کسی شخص کو پیشاب کرنا ہو؛ تو اسے پیشاب کرنے کے لئے(مناسب) جگہ تلاش کرنی چاہیے (سنن ابی داؤد شریف کتاب الطہارت باب الرجل یتبوا لبولہ یعنی آدمی کا پیشاب کرنے کے لئے جگہ تیار کرنا حدیث نمبر ٣ حکم حدیث إسناده ضعيف لإبهام شيخ أبي التياح. حماد: هو ابن سلمة، وأبو التياح: هو يزيد بن حميد الضُّبَعي. وأخرجه البيهقي ١/ ٩٣ من طريق أبي داود، بهذا الإسناد. وأخرجه الطيالسي (٥١٩)، وأحمد (١٩٥٣٧) و (١٩٥٣٧) و (١٩٧١٤)، والروياني (٥٥٨)، والحاكم ٣/ ٤٦٥ - ٤٦٦، والبيهقي ١/ ٩٣ - ٩٤ من طريق شعبة، عن أبي التياح، به.=محقق الارنووط)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ، فَكَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، فَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى أَبِي مُوسَى يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى: إِنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ، فَأَتَى دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَالَ، ثُمَّ قَالَ: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ مَوْضِعًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 3

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے حماد کی روایت میں ہے تو کہتے اے اللہ میں تیری پناہ پکڑتا اور عبدالوارث کی روایت میں ہے تو کہتے میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں ناپاکی اور ناپاکوں سے۔کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ (ابوداؤد شریف کتاب الطہارۃ؛ باب ما يقول الرجل إذا دخل الخلاء؛ جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر٤ حکم حدیث انسادہ صحیح"الانرووط)

حدَّثنا مُسدَّدُ بنُ مُسَرهَدٍ، حدَّثنا حماد بن زيدِ وعبدُ الوارث عن عبدِ العزيز بنِ صُهَيب عن أنس بن مالك، قال: كانَ رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- إذا دخلَ الخَلاءَ، قال عن حمَّاد: قال: "اللهمَ إنِّي أعوذُ بكَ" وقال عن عبد الوارث: قال: "أعوذُ بالله مِن الخُبُث والخَبائِثِ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 4

ابن خطاب نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے یہی حدیث روایت کی کہ کہتے ہیں اے اللہ میں تیری پناہ پکڑتا ہوں شعبہ کی روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کہا میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں اور وہیب نے عبدالعزیز سے روایت کی پس اللہ کی پناہ پکڑنی چاہیے۔کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ؛جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر؛٥؛إسناده صحيح"الارنووط؛

حدَّثنا الحسن بن عمرِو - يعني السَّدُوسيِّ -، أخبرنا وكيعٌ، عن شُعبة، عن عبد العزيز - هو ابن صُهَيبِ -عن أنسٍ بهذا الحديث، قال: "اللهُمَّ إني أعُوذُ بِكَ" وقال شُعبةُ مرةً: "أعوذُ بالله

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 5

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شیاطین حاضر ہوتے رہتے ہیں لہذا جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں جائے تو اسے کہنا چاہیے میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں ناپاکی اور ناپاکیوں سے۔کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ؛جلد ١ ص ٦؛حدیث نمبر٦؛إسناده صحيح"الارنووط

حدَّثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شُعبةُ، عن قتادة، عن النَّضر بن أنسٍ عن زيدِ بنِ أرقَمَ، عن رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إنَّ هذه الحُشُوشَ مُحتَضَرَةٌ فإذا أتى أحَدُكُمُ الخلاءَ فليقُل: أعُوذُ باللهِ مِنَ الخُبُثِ والخَبائِثِ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 6

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کے نبی نے ہر چیز آپ لوگوں کو سکھا دی یہاں تک کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی۔فرمایا یہی بات ہے کہ آپ نے منع فرمایا ہے کہ بول و براز کے وقت ہم قبلہ کی طرف منہ رکھے اور یہ کہ ہم دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کریں اور ہم سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے یا گوبر اور ہڈی سے استنجا نہ کرے۔ كتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ٦؛حديث نمبر٧؛إسناده صحيح؛ "الارنووطَ

حدَّثنا مُسدَّد بن مُسَرهَد، حدَّثنا أبو مُعاوية، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد عن سلمان، قال: قيل له: لقد عَلَّمَكم نبيُّكم كلَّ شيءٍ حتَّى الخِراءَةَ؟! قال: أجل، لقد نهانا -صلَّى الله عليه وسلم- أن نَستَقبِلَ القِبلَةَ بغائِطٍ أو بَولٍ، وأن لا نَستَنجِيَ باليمين، وأن لا يَستَنجِيَ أحَدُنا بأقَلَّ من ثلاثةِ أحجارِ، أو نَستَنجِيَ برَجيعٍ أو عَظمٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 7

باب قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی کراہت۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے باپ کی طرح ہوں کیوں کہ تمہیں تعلیم دیتا ہوں جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تو قبلہ کی جانب منہ نہ کرے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور آپ تین ڈھیلوں کا حکم فرماتے نیز گوبر اور ہڈی کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرماتے۔ كتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ"جلد ١ ص ٧؛حديث نمبر٨؛إسناده قوي من أجل محمد بن عجلان، ففيه كلام يحطه عن رتبة الثقة، وباقي رجاله ثقات. ابن المبارك: هو عبد الله، وأبو صالح: هو ذكوان السمان. وأخرجه النسائي في "المجتبى" (٤٠)، وابن ماجه (٣١٢) و (٣١٣) من طريق محمد بن عجلان، بهذا الإسناد. وهو في "مسند أحمد" (٧٣٦٨)، و"صحيح ابن حبان" (١٤٣١) و (١٤٤٠). وأخرجه مسلم (٢٦٥) من طريق سهيل بن أبي صالح، عن القعقاع، به، بلفظ: "إذا جلس أحدكم على حاجته، فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها". الروث: هو رجيع ذوات الحوافر، والرمة: العظم البالي.

حدَّثنا عبدُ الله بنُ محمَّد النُّفَيلي، حدَّثنا ابنُ المُبارك، عن محمَّد بن عَجْلان، عن القَعقاع بن حكيمٍ، عن أبي صالح عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله -صلَّى الله عليه وسلم-: "إنَّما أنا لكم بمنزلةِ الوالدِ أُعلِّمُكُم، فإذا أتى أحدُكُمُ الغائِطَ فلا يَستَقبِلِ القبلَةَ، ولا يَستَدبِرْها، ولا يَستَطِبْ بيمينِهِ" وكان يأمُرُ بثلاثةِ أحجارِ، وينهى عن الرَّوْثِ والرِّمَّة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 8

باب قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی کراہت۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی قضا ے حاجت کے لیے بیٹھے تو قبلہ کی جانب منہ نہ رکھے۔پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت بلکہ مشرق یا مغرب کو منہ رکھےجب ہم شام میں آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے ہیں تو ہم قبلہ کی جانب سے پھر جاتے اور اللہ تعالی سے معافی چاہتے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ٨؛حدیث نمبر٩؛إسناده صحيح"الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدُ بنُ مُسَرهَد، حدَّثنا سُفيان، عن الزهري عن عطاء بن يزيد الليث عن أبي أيُّوب روايةً، قال: "إذا أتيتُمُ الغائِطَ فلا تَستَقبِلُوا القِبلَةَ بغائِطٍ ولا بَولٍ، ولكنْ شَرِّقُوا أو غَرِّبُوا". فقَدِمْنا الشَّامَ فوجدنا مَراحيضَ قد بُنِيَت قِبَلَ القِبلةِ، فكُنَّا نَنحَرِفُ عنها ونَستَغفِرُ الله

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 9

حضرت معقل بن ابو معقل اسدی کا بیان ہے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب یا پاخانے کے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابو زید بنی ثعلبہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ كتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ٩؛حدیث نمبر١٠؛إسناده ضعيف لجهالة أبي زيد مولى بني ثعلبة. وهيب: هو ابن خالد.وأخرجه ابن ماجه (٣١٩) من طريق عمرو بن يحيى المازني، بهذا الإسناد. وهو في مسند أحمد" (١٧٨٣٨).

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا وُهَيب، حدَّثنا عمرو بن يحيى، عن أبي زيدٍ عن مَعقِل بن أبي مَعقِل الأسديِّ، قال: نهى رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- أن نَستَقبِلَ القِبلَتَينِ ببَولٍ أو غائِطٍ"قال أبو داود: وأبو زيد: هو مولى بني ثعلبة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 10

مروان اصغر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے قبلہ کی جانب اپنا اونٹ بٹھایا اور پھر اس کی طرف پیشاب کرنے لگے میں عرض گزار ہوا کہ اے ابوعبدالرحمن کیا ایسا کرنے سے منع نہیں فرمایا گیا ہے؟ فرمایا کیوں نہیں خالی جگہ میں ایسا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے لیکن جب تمہارے اور قبیلے کے درمیان کوئی ایسی چیز ہو جو تمہیں چھپا لے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں نہیں۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ١٠؛حديث نمبر١١٤؛ اسناده ضعيف؛ الارنووط؛

حدَّثنا محمدُ بنُ يحيى بنِ فارسِ، حدَّثنا صفوان بن عيسى، عن الحسن بن ذَكْوان، عن مروانَ الأصفر، قال:رأيتُ ابنَ عمر أناخَ راحِلَتَه مُستَقبِلَ القِبلة، ثمَّ جلسَ يبولُ إليها، فقلتُ: يا أبا عبدِ الرحمن، أليس قد نُهِيَ عن هذا؟ قال: بلى، إنَّما نُهِيَ عن ذلك في الفَضَاء، فإذا كانَ بينَكَ وبينَ القِبلةِ شيءٌ يَستُرُكَ فلا بأس

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 11

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا بیان ہے کہ میں اپنے مکان کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ دو اینٹوں پر بیٹھے بیت المقدس کی جانب منہ کرکے حاجت رفع فرما رہے ہیں۔ ابو داؤد شریف؛ کتاب الطهاره بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛جلد ١ ص ١٠؛ حديث نمبر ١٢؛ إسناده صحيح.

حدَّثنا عبد الله بن مَسلَمة، عن مالكِ، عن يحيى بنِ سعيد، عن محمَّدِ بنِ يحيى بنِ حَبَّان، عن عمه واسع بن حَبَّان عن عبد الله بن عُمر، قال: لقد ارتقَيتُ على ظَهرِ البيتِ فرأيتُ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- على لَبِنَتَينِ مُستَقبِلَ بيتِ المقدِسِ لحاجتِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 12

مجاہد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پیشاب کرتے وقت قبلہ کی جانب منہ کرنے سے منع فرمایا ہے پھر وصال سے ایک سال پہلے میں نے آپ کو ادھر منہ کرتے ہوئے دیکھا۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهاره بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛جلد ١ ص ١٠؛حديث نمبر١٣؛"إسناده حسن" الارنووط)

حدَّثنا محمد بن بشَّار، حدَّثنا وهب بن جرير، حدَّثنا أبي، قال: سمعتُ محمَّدَ بنَ إسحاق يُحدّث عن أبانَ بنِ صالح، عن مُجاهد عن جابر بن عبد الله، قال: نهى نبيُّ الله - صلى الله عليه وسلم - أن نَستَقبِلَ القِبلَةَ ببولٍ، فرأيتُه قبلَ أن يُقبَضَ بعامٍ يَستَقبِلُها"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 13

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قبلہ حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین کے نزدیک نہ ہو جاتے اس وقت تک کپڑا نہ اٹھاتے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالسلام بن حر ب ،اعمش،حضرت انس بن مالک والی سند ضعیف ہے ۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارات،بَابُ كَيْفَ التَّكَشُّفُ عِنْدَ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ١٢؛حديث نمبر ١٤؛حديث حسن"الارنووط؛

حدَّثنا زهير بن حرب، حدَّثنا وكيعٌ، عن الأعمش، عن رجل عن ابن عمر: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كانَ إذا أرادَ حاجَةً لا يرفَعُ ثَوبَهُ حتَّى يَدنُوَ منَ الأرضِ "قال أبو داود: رواه عبدُ السلام بنُ حرب، عن الأعمشِ، عن أنسِ بنِ مالكٍ، وهو ضعيف

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 14

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو دو آدمی قضائے حاجت کیلئے نکلے اور اپنے ستر کھول کر آپس میں گفتگو کرتے رہیں تو اللہ تعالی اس بات سے ناراض ہوتا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے عکرمہ بن عمار ہی نے روایت کیا ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهاره،بَابُ كَرَاهِيَةِ الْكَلَامِ عِنْدَ الْحَاجَةِ؛جلد ١ ص ١٢؛حديث نمبر١٥؛إسناده ضعيف لجهالة هلال بن عياض، ويقال: عياض بن هلال، وهو الراجح في اسمه، فقد تفرد بالرواية عنه يحيى بن أبي كثير. وفي إسناده اضطراب بيَّناه في " المسند" (١١٣١٠). وأخرجه النسائي في "الكبرى" (٣٦) و (٣٧)، وابن ماجه (٣٤٢) من طريق عكرمة بن عمار، بهذا الإسناد."الارنووط-

حدَّثنا عبيد الله بن عمر بن مَيسَرة، حدَّثنا ابنُ مَهدي، حدَّثنا عِكرمةُ ابنُ عمَّار، عن يحيي بن أبي كثير، عن هِلال بن عِياض، قال:حدثني أبو سعيد، قال: سمعتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "لا يَخرُجُ الرجلانِ يَضرِبانِ الغائِطَ كاشِفَينِ عن عَورَتهِما يتحدَّثانِ، فإن الله عزَّ وجل يَمقُتُ على ذلك؛ قال أبو داود: لم يُسنده إلا عِكرمةُ بنُ عمَار

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 15

نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا جب کہ آپ پیشاب کر رہے تھے تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے اسے جواب نہ دیا۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کرکے پھر اس آدمی کو سلام کا جواب دیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ أَيَرُدُّ السَّلَامَ وَهُوَ يَبُولُ؛جلد١ص ١٣؛حديث نمبر١٦؛إسناده صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا عثمان وأبُو بكر ابنا أبي شيبة، قالا: حدَّثنا عمر بن سعد، عن سُفيان، عن الضحاك بن عثمان، عن نافع عن ابن عمر، قال: مرَّ رجلٌ على النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - وهو يبولُ، فسَلَّم عليه، فلم يَرُد عليه" قال أبو داود: ورُوِيَ عن ابنِ عمر وغيرِه: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - تيمَّمَ ثمَّ ردَّ على الرجلِ السَّلام "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 16

حضرت مہاجربن قنفز رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے انہوں نے سلام عرض کیا لیکن آپ نے انہیں جواب مرحمت نہ فرمایایہاں تک وضو فرما لیا پھر ان سے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالی کا ذکر کرنا ناپسند کیا مگر پاکی کی حالت میں یا فرمایا کہ حالت طہارت میں ۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارة،بَابُ أَيَرُدُّ السَّلَامَ وَهُوَ يَبُولُ؛جلد١ص ١٤؛حديث نمبر١٧؛إسناده صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا محمد بن المثنَّى، حدَّثنا عبد الأعلى، حدَّثنا سعيد، عن قتادةَ، عن الحسن، عن حُضَين بن المُنذر أبي ساسان عن المُهاجِر بن قُنفُذ: أنَّه أتى النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - وهو يبولُ، فسلَّمَ عليه، فلم يَرُدَّ عليه حتَّى توضَّأ، ثُمَّ اعتَذَرَ إليه فقال: "إنِّي كَرِهتُ أن أذكُرَ الله عزَّ وجل إلا على طُهرٍ" أو قال: "على طهارةٍ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 17

حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کا ذکر ہر حالت (وضو ہو یا نہ ہو) میں کر لیاکرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارة ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ؛جلد ١ ص ١٤؛حديث نمبر١٨؛إسناده صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بن العلاء، حدَّثنا ابن أبي زائدة، عن أبيه، عن خالد بن سلمة -يعني الفَأفاء-، عن البَهِيِّ، عن عُروة عن عائشة، قالت: كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يذكُرُ اللهُ على كُلِّ أحيانِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 18

زہری سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنی انگشتری مبارک کو اتار دیا کرتے تھے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہیں اور یہ معروف اس سند کے ساتھ ہیں ابن جریج،زیاد بن سعد الزہری ،حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور پھر اسے ڈال دیا۔ مذکورہ روایت میں ہمام کو وہم ہوا اور ہمام کے سوا کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ الْخَاتَمِ يَكُونُ فِيهِ ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى يُدْخَلُ بِهِ الْخَلَاءُ؛جلد ١ ص ١٦؛حديث نمبر١٩؛إسناده ضعيف؛ الارنووط؛

حدَّثنا نصر بن علي، عن أبي علي الحنفي، عن همام، عن ابن جُرَيج، عن الزُّهريِّعن أنس، قال: كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا دخلَ الخَلاءَ وضعَ خاتمَه"قال أبو داود: هذا حديث مُنكَر، وإنَّما يُعرَف عن ابن جُرَيجٍ، عن زيادِ بن سعد، عن الزُهريِّ، عن أنس: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - اتخَذَ خاتماً مِن وَرِقِ ثمَّ ألقاه. والوهم فيه من همام، ولم يَروِهِ إلا همَّام

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 19

طاؤس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ پر عذاب نہیں دیے جا رہے ہے جہاں تک اس کا تعلق ہے تو یہ پیشاب کی چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا۔ اور وہ چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔پھر آپ نے کھجورکی ایک ترٹہنی منگوائی اور چیر کر دو حصے کئے ایک حصہ اس قبر پر اور دوسرا حصہ اس خبر پر گاڑ دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں شاید ان دونوں کے عذاب میں کمی ہوتی رہے۔ ہناد نے فرمایا کہ پاک کرنے کی جگہ کو پاک نہیں کرتا تھا ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ؛جلد١ص ١٧َ؛حديث نمبر٢٠؛إسناده صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا زهير بن حرب وهنَّاد، قالا: حدَّثنا وكيع، حدَّثنا الأعمش، قال: سمعتُ مُجاهداً يُحدِّثُ عن طاووس عن ابن عبَّاس، قال: مَرَّ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - على قَبرَينِ فقال: "إنَّهُما يُعذَّبان، وما يُعذَّبان في كبيرٍ، أمَّا هذا فكانَ لا يَستَنزِهُ من البَولٍ، وأمَّا هذا فكانَ يمشي بالنَّميمة". ثمَّ دعا بعَسيبٍ رَطبٍ فشقَّه باثنين، ثمَّ غَرَسَ على هذا واحداً، وعلى هذا واحداً، وقال: "لعلَّهُ يُخفَّفُ عنهما ما لم يَيْبَسا"قال هنَّادٌ: "يَستَتِرُ"، مكان" يَستَنزِهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 20

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنیٰ روایت کرتے ہوئے فرمایاـ اپنے پیشاب سے چھپتا نہ تھا اور ابو معاویہ نے فرمایا کہ بچتا نہ تھا ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ؛جلد ١ ص ١٨؛حديث نمبر٢١؛إسناده صحيح؛الارنووط ؛

حدَّثنا عثمان بنُ أبي شيبة، حدَّثنا جرير، عن منصور، عن مُجاهد"عن ابن عباسٍ، عن النَّبيّ - صلى الله عليه وسلم - بمعناه، قال: "كان لا يَستَتِرُ مِنَ بَولهِ"وقال أبو معاوية: "يَستَنزِه".

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 21

عبدالرحمن بن حسنہ کا بیان ہے کہ میں اور عمرو بن العاص دونوں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ایک ڈھال لے کر باہر نکلے۔پھر اس کے ساتھ پردہ کرکے آپ نےپیشاب کیا۔ہم نے کہا کہ ان کی طرف دیکھئے جو عورتوں کی طرح چھپ کر پیشاب کرتے ہیں آپ نے یہ بات سن کر فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟جب ان میں سے کسی کو پیشاب لگ جاتا تو اس جگہ کو کاٹ دیتےجہاں پیشاب لگا ہوا ہوتا۔اس نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ منصور،ابو وائل ابوموسی نے اس حدیث میں فرمایا،،آدمی اپنی جلد کو،،عاضم،ابووائل ابوموسیٰ۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا،،آدمی اپنے جسم کے حصے کو،،۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ؛جلد ١ ص ١٨؛حديث نمبر٢٢؛إسناده صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا مُسَدَّد، حدَّثنا عبد الواحد بن زياد، حدَّثنا الأعمش، عن زيد ابن وهب، عن عبد الرحمن بن حَسَنَةَ، قال:انطَلَقتُ أنا وعمرُو بنُ العاص إلى النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -، فخرجَ ومعهُ دَرَقَةٌ، ثُمَّ استَتَر بها، ثُمَّ بال، فقُلنا: انظُرُوا إليه يَبولُ كما تَبولُ المرأةُ، فسمعَ ذلك، فقال: "ألم تَعلَمُوا ما لَقِيَ صاحِبُ بني إسرائيلَ؟ كانوا إذا أصابَهُمُ البَولُ قَطَعُوا ما أصابَهُ البَولُ منهم، فنهاهُم، فعُذِّبَ في قَبرِهِ "قال أبو داود: قال منصور، عن أبي وائل، عن أبي موسى في هذا الحديث، قال: "جِلدَ أحدِهم". وقال عاصم، عن أبي وائل، عن أبي موسى، عن النَّبيِّ - صلى الله عليه وسلم -، قال: "جَسَدَ أحدِهم"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 22

حفص بن عمر اور مسلم بن ابراہیم شعبہ سے مسدد ابوعوانہ حفص، سلیمان، ابو وائل حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کی کوڑی پر تشریف فرما ہوئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی منگوا کر اپنے موزوں پر مسح فرمایا ۔امام ابو داؤد کا بیان ہے کہ مسدد نے یہ بھی فرمایا میں پیچھے ہٹنے لگا تو مجھے بلا لیا یہاں تک کہ میں آپ کے کے پیٹھ پیچھے تھا۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارة،بَابُ الْبَوْلِ قَائِمًا،؛جلد ١ ص ١٩؛حديث نمبر٢٣؛اسناده صحيح؛ الارنووط؛

حدَّثنا حفص بن عمر ومسلم بن إبراهيم، قالا: حدَّثنا شُعبة (ح)وحدثنا مُسَدَّدٌ، حدَّثنا أبو عَوَانة -وهذا لفظ حفص-؛ عن سُليمان، عن أبي وائل عن حُذيفة، قال: أتى رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - سُبَاطَةَ قَومٍ، فبالَ قائماً، ثمَّ دعا بماءٍ، فمسَحَ على خُفَّيه؛قال أبو داود: قال مُسَدَّد: قال: فذَهَبتُ أتباعَدُ، فدَعاني حتَّى كنتُ عندَ عَقِبِه.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 23

امیمہ بنت رقیقہ نے اپنی والدہ ماجدہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک لکڑی کا پیالہ تھا جو آپ کے تخت کے نیچے رکھا جاتا،تا کہ رات کے وقت اس میں پیشاب کر لیں۔ (ابوداؤد شریف كتاب الطهارة،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَبُولُ بِاللَّيْلِ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ يَضَعُهُ عِنْدَهُ؛جلد ١ ص ١٩حديث نمبر٢٤؛إسناده ضعيف،؛ الارنووط؛

حدَّثنا محمد بن عيسى، حدَّثنا حجاج، عن ابن جُرَيج، عن حُكَيمَةَ بنتِ أُمَيمَةَ بنتُ رُقَيقة"عن أُمِّها أنَّها قالت: كان للنبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَدَحٌ من عَيْدانٍ تحتَ سَريرِهِ يبولُ فيه باللَّيل

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 24

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاکہ لعنت کے دو کاموں سے بچتے رہا کرو لوگ عرض گزار ہوئے یا رسول اللّٰہ لعنت کےدو کام کون سے ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے راستوں اور سایہ دار جگہوں میں قضائے حاجت سے فارغ ہونا۔ ابو داؤد شریف؛جلد ١ ص ٢٠؛كتاب الطهارة،بَابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَوْلِ فِيهَا،حديث نمبر٢٥

حدَّثنا قتيبة بن سعيد، حدَّثنا إسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه عن أبي هريرة، أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال:" اتَّقُوا اللاعِنَينِ" قالوا: وما اللاَّعِنانِ يا رسولَ الله؟ قال: "الذي يَتَخَلَّى في طريقِ النَّاسِ أو ظِلِّهم

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 25

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا لعنت کے تین کاموں سے بچو یعنی لوگوں کے اترنے، راستہ چلنے اور سائے کی جگہوں میں قضاۓ حاجت کرنے سے ۔ ( ابو داؤد شریف ،؛ جلد ١ ص ٢١؛كتاب الطهارة،بَابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَوْلِ فِيهَا،حديث نمبر٢١ حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط"

حدَّثنا إسحاق بن سُويدٍ الرَّمليُّ وعمرُ بنُ الخطَّاب أبو حفص -وحديثُه أتمُّ- أنَّ سعيدَ بنَ الحكم حدَّثهم قال: أخبرنا نافع بن يزيد، حدَّثني حَيْوَةُ بنُ شُريح، أنَّ أبا سعيد الحِمَيرِيَّ حدَّثه عن معاذِ بن جبل، قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "اتَّقُوا المَلاعِنَ الثلاثةَ: البَرازَ في المَوَارِدِ، وقارِعَةِ الطَريقِ، والظّلِّ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 26

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی غسل خانے میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اسی میں نہائے گا احمد کی روایت میں ہے کہ پھر اسی میں وضو کرےگا حالانکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ۔ ( ابو داود،شریف؛جلد ١ ص ٢٢؛كتاب الطهارة،بَابٌ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ،حديث نمبر٢٧؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"

حدَّثنا أحمد بن محمد بن حَنبَل والحسن بن علي، قالا: حدَّثنا-عبد الرزَّاق، قال أحمد: حدَّثنا مَعمَر، أخبرني أشعَثُ. وقال الحسن: عن أشعَثَ بنِ عبد الله، عن الحسن-عن عبد الله بن مُغفَّل، قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "لا يبولَنَّ أحدُكم في مُستَحَمِّهِ، ثُمَّ يَغتَسِلُ فيه -قال أحمد: ثُمَّ يتوضَّأُ فيه-، فإن عامَّةَ الوَسوَاسِ منه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 27

حمید حمیری یعنی ابن عبدالرحمن کا بیان ہے کہ ان کی ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایسے صحبت یافتہ سے ہوئی جیسے حضرت ابو ہریرہ کی صحبت حاصل ہوئی تھی اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے روزانہ کنگھی کرنے اور اپنے نہانے کی جگہ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابو داود،شریف ؛جلد ١ ص ٢٣؛كتاب الطهارة،بَابٌ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ،حديث نمبر٢٨؛حکم حدیث صحيح "الارنووط"

حدَّثنا أحمد بن يونس، حدَّثنا زُهير، عن داودَ بنِ عبد الله، عن حُمَيد الحِميَرِيِّ -وهو ابن عبد الرحمن- قال: لقيتُ رجُلاً صَحِبَ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كما صَحِبَهُ أبو هريرة، قال: نهى رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - أن يَمتَشِطَ أحدُنا كُلَّ يومٍ، أو يبولَ في مُغتَسَلِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 28

قتادہ نےحضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ معاذ بن ہشام کا بیان ہے کہ قتادہ سے پوچھا گیا کہ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں مکروہ ہے ؟فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ وہ جنات کے رہنے کی جگہ ہیں۔ (ابو داود شریف؛جلد ١ ص ٢٣؛كتاب الطهارة،بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؛حديث نمبر٢٩؛حکم حدیث رجالہ ثقات؛الارنووط؛

حدَّثنا عُبيد الله بن عمر بن مَيسَرةَ، حدَّثنا معاذ بن هشام، حدَّثني أبي، عن قتادةَ عن عبد الله بنِ سَرْجِس: أن النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - نهى أن يُبالَ في الجُحْرِ. قال: قالوا لقتادة: ما يُكرَهُ من البولِ في الجُحرِ؟ قال: كان يُقال: إنها مساكِنُ الجنِّ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 29

یوسف بن ابوبردہ کے والد ماجد کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے نکلتے تو کہا کرتے تھے بخشش تیری (خدا کی) طرف سے ہے۔ ( ابو داود،شریف ؛جلد ١ ص ٢٤؛كتاب الطهارة،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الخَلَاءِ،حديث نمبر٣٠؛حکم حدیث حسن"الارنووط؛

حدَّثنا عمرو بن محمد الناقِدُ، حدَّثنا هاشِمُ بن القاسم، حدَّثنا إسرائيلُ، عن يوسُف بن أبي بُردة، عن أبيه حدَّثتني عائشةُ: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كان إذا خرجَ مِنَ الغَائِطِ قال: "غُفرانَكَ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 30

یحیی بن عبداللہ بن ابو قتادہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ سے اپنا دایاں ہاتھ نہ لگائے اور جب بیت الخلاء میں جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجا نہ کرے اور جب پانی یا کوئی چیز پیے تو ایک ہی سانس میں نہ پئے۔ ( ابو داود شریف جلد ٢ ص ٢٥،كتاب الطهارة،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الِاسْتِبْرَاءِ، حديث نمبر٣١؛

حدَّثنا مُسلِم بنُ إبراهيم وموسى بن إسماعيل، قالا: حدَّثنا أبانُ، حدَّثنا يحيى، عن عبد الله بن أبي قتادة"عن أبيه، قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "إذا بالَ أحدُكم فلا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بيمينِهِ، وإذا أتى الخَلاءَ فلا يَتَمسَّحْ بيمينهِ، وإذا شَرِبَ فلا يَشرَبْ نَفَساً واحداً"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 31

حارثہ بن وہب خزاعی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھا نے پینے اور کپڑے پہننے کے لئے دایا دست مبارک استعمال کیا کرتے تھے اور ان کے سوا باقی تمام کاموں کے لئے دوسرا دست اقدس استعمال کرتے تھے۔ ( ابو داود شریف جلد ٢ ص ٢٥،كتاب الطهارة،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الِاسْتِبْرَاءِ، حديث نمبر٣٢

حدَّثنا محمد بن آدم بن سليمان المِصِّيصيُّ، حدَّثنا ابنُ أبي زائدة، قال: حدَّثني أبو أيُّوب -يعني الإفريقي-، عن عاصم، عن المُسيّبِ بنِ رافعٍ ومَعبَد، أن حارثةَ بن وهب الخُزاعي قال:حدَثتني حَفصَةُ زوجُ النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كان يَجعَلُ يمينَه لطعامِهِ وشرابِهِ وثيابِهِ، ويَجعَلُ شِمالَهُ لِمَا سِوى ذلك

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 32

اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دایا دست وضو اور کھانے کیلئے تھا اور دوسرا دست مبارک سے آپ استنجا کرنے اور نجاست ہٹانے میں استعمال فرماتے تھے۔ ( ابو داود شریف جلد ٢ ص ٢٦،كتاب الطهارة،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الِاسْتِبْرَاءِ، حديث نمبر٣٣؛حکم حدیث رجالہ ثقات"الارنووط"

حدَّثنا أبو تَوبةَ الرَّبيعُ بن نافع، حدثني عيسى بن يونُس، عن ابن أبي عَروبَةَ، عن أبي مَعشَر، عن إبراهيم عن عائشة، قالت: كانت يَدُ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - اليُمنى لطُهورِهِ وطعامِهِ، وكانت يَدُه اليُسرى لخَلائِهِ وما كانَ من أذى

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 33

محمد بن حاتم بن زبیر ،عبدالوہاب بن عطاء،سعید،ابو معشرابراہیم،اسود،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کے ہم معنیٰ روایت کی ہے۔ (ابو داود شریف جلد ٢ ص ٢٦؛،كتاب الطهارة،بَابُ كَرَاهِيَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ فِي الِاسْتِبْرَاءِ، حديث نمبر٣٤؛حکم حدیث صحيح حدیث "الارنووط"

حدَّثنا محمد بن حاتم بن بَزِيع، حدَّثنا عبد الوهَّاب بن عطاء، عن سعيد، عن أبي مَعشَر، عن إبراهيمَ، عن الأسود، عن عائشة، عن النبيّ - صلى الله عليه وسلم - بمعناه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 34

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سرمہ لگائے تو طاق مرتبہ لگانا چاہیے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔جو استنجا کرے تو طاق ڈھیلے لے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جو کھانا کھائے تو دانتوں میں خلال کرنے سے جو نکلے اسے پھینک دینا چاہئے اور جو زبان سے لگا رہے اسے نگل جانا چاہیے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جو قضائے حاجت کے لیے جائے تو پردہ پوشی کر لینی چاہیے اگر کوئی اوٹ نہ ملے تو ریت کا ڈھیر بنا کر اس کی آڑ لے لینی چاہئے۔ کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے۔ جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور ایسا نہ کیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ابو داود الشريف،جلد ٢ ص ٢٧؛كتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِتَارِ فِي الْخَلَاءِ،حديث نمبر٣٥؛حکم حدیث؛ضعیف حدیث؛ الارنووط؛

حدَّثنا إبراهيم بن موسى الرازيُّ، أخبرنا عيسى بن يونُس، عن ثَورِ، عن الحصين الحُبرانيِّ، عن أبي سعيد"عن أبي هريرة، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: "مَنِ اكتحَلَ فليُوتِرْ، مَن فعلَ فقد أحسَنَ، ومَن لا فلا حَرَجَ، ومن استَجمَرَ فليُوتِرْ، مَن فعلَ فقد أحسنَ، ومَن لا فلا حَرَجَ، ومَن أكلَ فما تخلَّلَ فليَلفِظْ، وما لاكَ بلسانِهِ فليَبتَلِعْ، مَن فعلَ فقد أحسَنَ، ومَن لا فلا حَرَجَ، ومَن أتى الغائِطَ فليَستَتِرْ فإن لم يَجِدْ إلا أن يَجمَعَ كثيباً مِن رَملٍ فليَستَدبِرْهُ، فإنَّ الشَّيطانَ يَلعَبُ بمقاعِدِ بني آدَمَ، مَن فعلَ فقد أحسَنَ، ومَن لا فلا حَرَجٍ"قال أبو داود: رواه أبو عاصم عن ثورٍ، قال: "حصين الحميري". ورواه عبدُ الملك بنُ الصبَّاح عن ثور، فقال: "أبو سعد الخير"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 35

رویفع نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں کوئی دوسرے مسلمان بھائی سے اونٹ اس شرط پہ لے لیا کرتا کہ جو منافع ہو وہ نصف آپ کا اور نصف ہماراہوگا اور ہم میں سے ایک کی طرف سے تیر کا پیکال اوپر ہوتا جبکہ دوسرے کی لکڑی ہوتی ۔پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے رویفع ! شاید تمہاری عمر دراز ہو اور میرے بعد بھی زندہ رہو تو لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے بھی اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا گھوڑے کی گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس سے بیزار ہیں۔ (ابو داوود شريف جلد ١ ص ٢٨؛كتاب الطهارة,بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ, حديث نمبر٣٦؛حکم حدیث"حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شيان القتباني -وهو ابن أمية-, لكنه متابع كما سيأتي بعده. وأخرج المرفوع منه النسائي في "الكبرى" (٩٢٨٤) من طريق حيوة بن شريح، عن عياش القتباني، أن شييم بن بيتان حدثه أنه سمع رويفع بن ثابت ... فذكره. وهو في "مسند أحمد" (١٧٠٠٠). وانظر تمام الكلام عليه فيه. والقصة التي في أوله أخرجها أحمد (١٦٩٩٥). وانظر ما بعده."الارنووط)

حدَّثنا يزيد بنُ خالد بنِ عبد الله بن مَوهَبٍ الهَمداني، حدَّثنا المُفضَّلُ -يعني ابن فَضَالة المصريَّ- عن عيَّاش بن عبَّاس القِتْبانيِّ، أنَّ شِيَيمَ بنَ بَيتانَ أخبره، عن شَيبانَ القِتْبانيِّ انَّ مَسلَمة بن مُخلدٍ استَعمَلَ رُويفِعَ بنَ ثابتٍ على أسفَلِ الأرضِ، قال شَيبانُ: فسِرنا معهُ من كومِ شَريكٍ إلى عَلْقماء أو من عَلْقماءَ إلى كُومِ شَريكٍ -يُريدُ عَلْقامَ-، فقال رُوَيفع: إن كانَ أحدُنا في زَمَنِ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ليأخُذُ نِضوَ أخيه على أنَّ له النِّصفَ مما يَغنَمُ ولنا النِّصفُ، فإن كانَ أحدُنا لَيَطيرُ لهُ النَّضلُ والرِّيشُ وللآخرِ القِدحُ، ثمَّ قال: قال لي رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "يا رُوَيفِعُ، لعلَّ الحياة ستطُولُ بك بعدي، فأخبِرِ النَّاسَ أنَّهُ مَن عَقَدَ لِحيتهُ أو تَقَلَّدَ وَتَراً أو استَنجَى برَجِيعِ دابَّةٍ أو عَظمٍ، فإنَّ مُحمداً منه بريءٌ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 36

ابو سالم جیشانی سے روایت ہے ان کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو اس کا اس وقت ذکر کرتے تھے جب کی قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے (مصر میں) یہ ان کے ساتھ باب الیون پر تھے ۔امام ابوداؤد نے کہا فرمایا کہ الیون والا قلعہ فسطاط (مصر میں) پہاڑ کے اوپر ہے۔ (ابوداؤد شریف جلد ١؛ص ٢٨؛،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ،حدیث نمبر٣٧؛حکم حدیث انسادہ صحیح"الانرووط"

حدَّثنا يزيد بن خالد، حدَّثنا مُفضَّلٌ، عن عيَّاش، أنَّ شِيَيمَ بن بَيتانَ أخبرهُ بهذا الحديث أيضاً عن أبي سالم الجَيشانيِّ، عن عبد الله بن عمروٍ، يذكرُ ذلك وهو معه مُرابِطٌ بحِصنِ بابِ أليُونَ"قال أبو داود: حصنُ أليُونَ بالفُسطاطِ على جبل قال أبو داود: وهو شَيبانُ بن أُميَّة، يُكنى أبا حُذيفة.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 37

ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں گوبر اور مینگنیوں کے ساتھ استنجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٢٩،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ،حدیث نمبر٣٨؛حکم حدیث صحيح"الارنووط؛

حدَّثنا أحمد بن محمَّد بن حنبل، حدَّثنا رَوحُ بن عُبادةَ، حدثنا زكريا ابنُ إسحاق، حدَّثنا أبو الزُّبير أنه سمعَ جابرَ بنَ عبدِ الله يقولُ: نهانا رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - أن نتمَسَّحَ بعَظمٍ أو بَعْرٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 38

عبد اللّٰہ بن دیلمی کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جنات کا ایک وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزارہوا کہ اےمحمد! آپ کی امت ہڈی گوبر اور کوئلے سے استنجا کرتی ہے حالانکہ اللہ عزوجل نے ان چیزوں میں ہماری روزی رکھی ہے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان چیزوں کے ساتھ استنجا کرنے سے منع فرمادیا۔ (ابوداؤد شریف،جلد ١ ص ٣٠؛کتاب الطہارۃ،بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ،حدیث نمبر٣٩؛حکم حدیث اسنادہ ضعیفَ؛الارنووط؛

حدَّثنا حَيوةُ بنُ شُرَيح الحِمصيُّ، حدثنا ابنُ عياشٍ، عن يحيي بن أبي عمرو السَّيبانيِّ، عن عبد الله بن الدَّيلَميِّ عن عبد الله بن مسعود، قال: قَدِمَ وَفدُ الجنِّ على رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - فقالوا: يا محمَّدُ، انْهَ أُمَّتَكَ أن يَستَنجُوا بعَظمٍ أَو رَوْثةٍ أو حُمَمَةٍ، فإنَّ الله تعالى جعلَ لنا فيها رِزقاً. قال فنهى رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - عن ذلك

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 39

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی قضا ئے حاجت کے لیے جائے تو اسے چاہیے کہ پاکی حاصل کرنے کے لیے تین پتھر ساتھ لے جائے کیوں کہ یہ (پاک ہونے کے لیے) اسے کفایت کریں گے۔ (ابو داؤد شريف جلد ١ ص ٣٠،كتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ،حديث نمبر ٤٠؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"

حدَّثنا سعيد بن منصور وقُتيبة بن سعيد، قالا: حدَّثنا يعقوبُ بن عبد الرحمن، عن أبي حازم، عن مُسلِمِ بن قُرْطٍ، عن عُروةعن عائشة: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إذا ذهبَ أحدُكُم إلى الغائِطِ فليَذهَبْ معه بثلاثةِ أحجارٍ يَستَطيبُ بهنَّ، فإنَّها تُجزئُ عنه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 40

عمروبن خزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے استنجا کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ تین ڈھیلوں سے جن میں گوبرنہ ہو۔ (ابو داؤد شريف،جلد ١ ص ٣١؛ كتاب الطهارة،بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ،حديث نمبر ٤١؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"

حدَّثنا عبدُ الله بن محمد النفيلي، حدَّثنا أبو مُعاوية، عن هشام بن عُروة، عن عمرو بن خُزَيمةَ، عن عُمارةَ بن خُزيمة عن خُزيمةَ بن ثابتٍ، قال: سُئِل النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - عن الاستِطابةِ فقال: "بثلاثةِ أحجارٍ ليسَ فيها رَجيعٌ" قال أبو داود: كذا رواهُ أبو أُسامة وابنُ نُمَيرِ، عن هشام.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 41

عبداللہ بن ابی ملیکہ کی والدہ ماجدہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا،رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیشاب کرنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پانی لے کر آپ کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے، فرمایا کہ عمر یہ کیا ہے عرض گزار ہوئے کہ دھونے کے لئے پانی فرمایا کہ مجھے یہ حکم نہیں دیاگیا ہے کہ جب بھی پیشاب کروں تو دھویا کروں اور اگر میں ایسا کرتا تو یہ سنت مؤکدہ ہو جاتی۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٢ ،کتاب الطہارۃ،باب الاستبراء،حدیث نمبر٤٢؛حکم حدیث ضعیف؛الارنووط"

حدَّثنا قُتيبةُ بنُ سعيدٍ وخلفُ بنُ هشامٍ المُقريُّ، قالا: حدَّثنا عبدُ الله ابنُ يحيى التَّوأمُ وحدثنا عمرُو بنُ عونٍ، أخبرنا أبو يعقوب التَّوأمُ، عن عبدِ الله بن أبي مُلَيكة عن أُمِّہ عن عائشة، قالت: بالَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -، فقامَ عمرُ خلفَه بكوزٍ من ماء، فقال: "ما هذا يا عمر؟ " فقال: ماءٌ تَوَضَّأُ به، قال: "ما أُمرتُ" كلَّما بُلت أن أتوضأ، ولو فعلت لكانت سُنَّةً"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 42

عطاءبن میمونہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تشریف لے گئے آپ کے ساتھ لوٹا لیے ہوئے ایک لڑکا تھا، جو ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے پانی ایک بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا جب حضور قضاۓ حاجت سے فارغ ہوکر ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے پانی سے استنجاء کیا۔ (ابوداؤد شریف،جلد ١ ص ٣٢؛کتاب الطہارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ،حدیث نمبر٤٣؛حکم حدیث صحيح "الارنووط؛

حدَّثنا وهبُ بنُ بقِيَّة، عن خالد -يعني الواسطي-, عن خالدٍ -يعني الحذَّاء- عن عطاء بن أبي ميمونة عن أنسِ بنِ مالك: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - دخلَ حائِطاً ومعه غلامٌ معه مِيضَأةٌ، وهو أصغَرُنا، فوضَعَها عند السِّدْرَةِ، فقضى حاجَتَه، فخرجَ علينا وقد استنجى بالماء

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 43

ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آیت اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں) سورۃ التوبہ آیت ١٠٨), فرمایا چونکہ وہ پانی سے استنجاکیا کرتے تھے اس لیے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٣؛ ،کتاب الطہارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ،حدیث نمبر٤٤؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط"

حدَّثنا محمدُ بنُ العلاء، أخبرنا معاويةُ بنُ هشام، عن يونسَ بن الحارث، عن إبراهيمَ بن أبي ميمونة، عن أبي صالح عن أبي هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "نَزَلَت هذه الآيةُ في أهل قُباء {فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: ١٠٨] قال: كانُوا يَستَنجُونَ بالماء، فنزلت فيهم هذه الآية

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 44

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب بیت الخلا میں جاتے تو میں پیالےیا چھاگل میں پانی لے کر حاضر خدمت ہو جاتا۔پس آپ اس طرح کرتے تو پھر اپنے دست مبارک کو زمین پر رگڑ تے، پھر دوسرے برتن کے اندر میں آپ کی خدمت میں پانی پیش کرتا تو اس سے وضو فرماتے۔ (ابو داود شريف,جلد ١ ص ٣٤؛كتاب الطهارة،بَابُ الرَّجُلِ يَدْلُكُ يَدَهُ بِالْأَرْضِ إِذَا اسْتَنْجَى ,حديث نمبر٤٥؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط"

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ خالد، حدَّثنا أسودُ بنُ عامر، حدَّثنا شَريكٌ -وهذا لفظُهُ-وحدَّثنا محمَّدُ بنُ عبدِ الله -يعني المُخرَّميَّ-, حدَّثنا وكيع، عن شَريكٍ، عن إبراهيمَ بن جريرٍ عن أبي زُرعة"عن أبي هريرة، قال: كانَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا أتى الخَلاءَ أتيتُهُ بماءٍ في تَورٍ أو رَكْوَةِ، فاستَنجَى؛قال أبو داود في حديث وكيع: "ثمَّ مسحَ يَدَهُ على الأرضِ ثمَّ أتيتُهُ بإناءِ آخَرَ فتوضَّأ". قال أبو داود: وحديثُ الأسود بن عامر أتمُّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 45

اعراج کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مرفوعاً روایت کی کہ حضور نے فرمایا اگر میں اسے مسلمانوں پر تنگی نہ جانتا تو انہیں نماز عشاء دیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٤؛كتاب الطهارة,بَابُ السِّوَاكِ حديث نمبر٤٥؛حکم حدیث صحیح م؛ الارنووط؛

حدَّثنا قُتيبةُ بنُ سعيد، عن سُفيان، عن أبي الزِّناد، عن الأعرَجِ عن أبي هريرة يَرفَعُه، قال: "لولا أن أشُقَّ على المُؤمِنينَ لأمَرتُهم بتأخيرِ العِشاءِ وبالسِّواك عند كُل صلاةِ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 46

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ابو سلمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت زید کو دیکھا کہ مسجد میں بیٹھے رہتے اور مسواک ان کےکان پر یوں رکھی ہوتی جیسے کاتب اپنے کان پر قلم رکھتا ہے اور جب بھی نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو مسواک کر لیتے۔ ( ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٦؛كتاب الطهارة,بَابُ السِّوَاكِ حدیث نمبر ٤٧؛حکم حدیث صحيح"الارنووط؛

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ مُوسى، أخبرنا عيسى بنُ يونسَ، حدَّثنا محمدُ بنُ إسحاق، عن مُحمَّد بن إبراهيم التَّيمى، عن أبي سلمةَ بن عبدِ الرحمن عن زيد بن خالدٍ الجُهنيِّ، قال: سمعتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "لولا أن أشُقَّ على أُمَّتي لأمَرتُهُم بالسّواكِ عندَ كُلِّ صلاةٍ".قال أبو سلمة: فرأيتُ زيداً يَجلِسُ في المَسجِدِ، وإنَّ السِّواكَ مِن أُذُنِهِ مَوضِعَ القَلَمِ من أُذُنِ الكاتِبِ، فكُلَّما قامَ إلى الصَّلاة استَاكَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 47

محمد بن یحییٰ بن حبان کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا کیا وجہ ہے کہ وضو ہو یا نہ ہو لیکن حضرت ابن عمر ہر نماز کیلئے وضو کرتے ہیں۔ فرمایا مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب اور ان سے حضرت عبداللہ بن حنظلہ بن ابو عمر نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کیلئے وضو کرنے کا حکم فرمایا خواہ وضو ہو یا نہ ہون اس میں آپ نے مشقت محسوس فرمائی توہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم فرمایا۔ حضرت ابن عمر نے دیکھا کہ ان کے اندر ہر اس کام کی قوت ہے تو ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنا ترک نہ فرماتے۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٧؛'كتاب الطهارة,بَابُ السِّوَاكِ؛حديث نمبر٤٨؛حکم حدیث حسن"الارنووط؛

حدَّثنا محمَّدُ بنُ عَوف الطَّائيُّ، حدَّثنا أحمدُ بن خالد، حدَّثنا محمَّدُ ابنُ إسحاق، عن محمد بن يحيى بن حَبَّان، عن عبد الله بن عبدِ الله بن عمر، قال: قلتُ: أرأيتَ تَوَضِّيَ ابن عمرَ لكُلِّ صلاةٍ طاهراً وغيرَ طاهرٍ، عَمَّ ذاكَ؟ فقال: حَدَّثَتنيهِ أسماءُ بنتُ زيدِ بن الخطَّاب، أنَّ عبدَ الله بنَ حَنظلَةَ بنِ أبي عامرٍ حدَّثها: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - أُمِرَ بالوُضوءِ لكُلِّ صلاةٍ طاهِراً وغيرَ طاهِرٍ، فلمَّا شَقَّ ذلك عليه أُمِرَ بالسِّواك لكُلِّ صلاةٍ. فكان ابنُ عُمر يرى أنَّ به قُوَّةً، فكانَ لا يَدَعُ الوُضُوءَ لكُلِّ صلاةٍ"قال أبو داود: إبراهيمُ بنُ سعدٍ رواهُ عن محمدِ بن إسحاق قال: "عُبيدُ الله بنُ عبد الله".

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 48

ابو بردہ نے اپنے والد ماجد حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ ہم سواریاں مانگنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ زبان مبارک پر مسواک پھر رہے تھے سلیمان کی روایت میں ہے کہ فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کو زبان مبارک کے ایک جانب کر کے آہ آہ کہہ رہے تھے جیسے کوئی قے کرتا ہے۔ (ابود عود الشريف؛ جلد ١ ص ٣٨؛كتاب الطهارة, باب كيف:يستاك ،حديث نمبر٤٩؛حکم حدیث صحيح "الارنووط"

حدَّثنا مُسدَّدٌ وسُليمانُ بنُ داودَ العَتكي -المعنى- قالا: حدَّثنا حمَّادُ ابنُ زيد، عن غَيلانَ بن جَريرٍ، عن أبي بُردة عن أبيه، قال مُسدَّد: قال: أتينا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - نَستَحمِلُه، فرأيتُه يستاكُ على لسانِه. قال أبو داود: وقال سُليمان: قال دَخَلتُ على النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - وهو يَستَاكُ، وقد وَضَعَ السِّواكَ على طَرَفِ لسانِهِ وهو يقول: "أهْ أهْ" يعني يَتَهَوَّعُ. قال أبو داود: قال مُسدَّد: فكان"حديثاً طويلاً، اختصرتُهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 49

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور آپ کی خدمت میں دو آدمی موجود تھے جن میں ایک آدمی دوسرے سے بڑا تھا۔ پس آپ پر مسواک کی فضیلت میں وحی فرمائی گئی اور بڑے آدمی کو مسواک عطا فرمانے کا حکم ہوا۔ (ابوداؤد شریف جلد ١ ص ٣٨؛ ،کتاب الطہارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَسْتَاكُ بِسِوَاكِ غَيْرِهِ،حدیث نمبر٥٠؛حکم حدیث صحيح"الارنووط"

حدَّثنا محمَّدُ بنُ عيسى، حدَّثنا عَنبَسَةُ بنُ عبد الواحد، عن هشام بن عُروة، عن أبيه عن عائشة، قالت: كان رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يَستَنُّ وعنده رجلان أحدُهما أكبَرُ مِنَ الآخَرِ، فأوحى الله إليه في فَضلِ السِّواكِ: أنْ كَبِّرْ، أَعطِ السواكَ أكبَرَهما

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 50

مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ کس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروعات کرتے تھے جب آپ گھر میں داخل ہوتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مسواک سے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطہارۃ باب في الرجل يستاك بسواك غيره؛ جلد ١ ص ٣٨؛حدیث نمبر ٥١؛ وإسناده صحيح. مسعر: هو ابن كدام، وشريح: هو ابن هانئ الحارثي.وأخرجه مسلم (٢٥٣)، والنسائي في "الكبرى" (٧)، وابن ماجه (٢٩٠) من طرق عن المقدام بن شريح، بهذا الإسناد.وهو فى "مسند أحمد" (٢٤١٤٤)، و"صحيح ابن حبان" (١٠٧٤) و (٢٥١٤).الارنووط؛

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ موسى الرَّازيُّ، أخبرنا عيسى بنُ يونسَ، عن مِسعَرٍ، عن المِقدامِ بن شُرَيح، عن أبيه، قال: قلتُ لعائشة: بأيِّ شيءٍ كان يَبدَأُ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - إذا دخلَ بيتَه؟قالت: بالسِّواك

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 51

کثیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مسواک کرتے- پھر دھونے کے لئے مجھے عنایت فرما دیتے پس اسے لے کر میں مسواک کرنے لگتی پھر اسے دھو کر آپ کی خدمت اقدس میں پیش کر دیتی۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ غَسْلِ السِّوَاكِ،جلد ١ ص ٣٩؛حدیث نمبر ٥٢؛حکم حدیث ؛إسناده حسن، كثير -وهو ابن عبيد التيمي رضيع عائشة- روى عنه جمع، وذكره ابن حبان فى "الثقات"، ولا يُعلم فيه جرح، فمثلُه يكونُ حسَن الحديث.وأخرجه البيهقي ١/ ٣٩ من طريق أبي داود، بهذا الإسناد؛ الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بن بشَّار، حدَّثنا محمَّد بن عبدِ الله الأنصاري، حدَّثنا عَنبَسَةُ بنُ سعيدٍ الكوفي الحاسبُ، حدَّثني كثيرٌ عن عائشة أنَّها قالت: كان نبيُّ الله - صلى الله عليه وسلم - يَستاكُ فيُعطيني السِّواكَ لأغسِلَه، فأبدأُ به فأستاكُ، ثمَّ أغسِلُه وأدفَعُه إليه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 52

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا دس باتیں پیدائشی سنت ہیں یعنی مونچھیں کتروانا"داڑھی بڑھانا"مسواک کرنا" پانی سے ناک صاف کرنا" ناخن کاٹنا"انگلیوں کےجوڑوں کو دھونا" بغل کے بال اکھاڑنا"زیر ناف منڈانا" اور پانی کے ساتھ استنجاکرنا۔زکریا کا بیان ہے کہ مصعب بن شیبہ نے فرمایا دسویں بات میں بھول گیا ہوں،شاید وہ کلی کرنا ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ السِّوَاكِ مِنَ الْفِطْرَة،جلد ١ ص ٤٠؛حدیث نمبر ٥٣؛حکم حدیث ؛الصحيح وقفه، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن شيبة، وقد انفرد برفعه، وباقي رجاله ثقات.وأخرجه مسلم (٢٦١) في الشواهد، والترمذي (٢٩٦١)، والنسائي في "الكبرى" (٩٢٤١)، وابن ماجه (٢٩٣) من طريقين عن زكريا بن أبي زائدة، بهذا الإسناد.وهو في "مسند أحمد" (٢٥٠٦٠).وأخرجه النسائي في "المجتبى" (٥٠٤١) من طريق سليمان التيمي، و (٥٠٤٢) من طريق جعفر بن إياس أبي بشر، كلاهما عن طلق بن حبيب قولَه. وقال النسائي: حديث سليمان التيمي وجعفر بن إياس أشبه بالصواب من حديث مصعب بن شيبة، ومصعب منكر الحديث. وقال الدارقطني في "العلل" ٥/ الورقة ٢٤: وهما أثبت من مصعب بن شيبة وأصح حديثاً. وقال ابن حجر في "التخليص"، ١/ ٧٧: وهو معلول.؛ الارنووط؛

حدَّثنا يحيي بنُ مَعِينٍ، حدَّثنا وكيعٌ، عن زكريَّا بن أبي زائِدَةَ، عن مُصعَبِ بن شَيبةَ، عن طَلْقِ بنِ حبيبٍ، عن ابن الزُّبيرعن عائشة قالت: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "عَشْرٌ من الفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّاربِ، وإعفاءُ اللِّحيَة، والسِّواكُ، والاستِنشاقُ بالماءِ، وقصُّ" الأظْفَارِ، وغَسلُ البَرَاجم، ونَتْفُ الإبطِ، وحَلقُ العانَةِ، وانتِقاصُ الماءِ" يعني الاستِنجاءَ بالماءِ، قال زكريَّا: قال مُصعَبٌ: ونسيتُ العاشِرَة إلا أن تكونَ المَضمَضَة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 53

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیدائشی سنتوں میں سے کلی کرنا اور ناک صاف کرنا ہے پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا لیکن داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا مگر ختنہ اور ازار پر پانی چھڑکنا زیادہ بیان کیا اور پانی سے استنجا کرنے کا ذکر نہ کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے اور فرمایا کہ وہ پانچ ہیں اور سرسے متعلقہ ہیں اور جن میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا اور داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں فرمایا ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح حدیث روایت کی حماد طلق بن حبیب اور مجاہد بکر بن عبد اللہ بن مزنی ہے،انہی کے لفظوں میں لیکن داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا اور جو حدیث محمد بن عبداللہ بن ابو مریم ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی اس میں داڑھی بڑھانا ہے اور ابراہیم نخعی نے داڑھی بڑھانے اور ختنہ کا ذکر کیا ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ السِّوَاكِ مِنَ الْفِطْرَةِ ؛جلد ١ ص ٤١؛حدیث نمبر٥٤؛حکم حدیث ؛إسناده ضعیف ؛الارنووط؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيلَ وداودُ بنُ شَبيبٍ، قالا: حدَّثنا حمَّادٌ، عن علىّ بن زيدٍ، عن سلمةَ بن محمَدِ بن عمَّار بن ياسر -قال موسى: عن أبيه، وقال داود: عن عمَّار بن ياسر أن رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إنَّ من الفِطْرَة المَضمَضَةَ والاستِنشاقَ" فذكر نحوَه، ولم يَذكُر إعفاءَ اللِّحيَة، وزاد: "الخِتان"، قال: "والانتِضاحَ" ولم يَذكُر انتِقاصَ الماءِ، يعني الاستِنجاء "قال أبو داود: ورُوي نحوُه، عن ابن عبَّاسٍ، وقال: "خمسٌ كلُّها في الرَّأس" وذكرَ فيها الفَرْقَ، ولم يَذكُر إعفاءَ اللِّحيَة قال أبو داود: ورُوِي نحوُ حديثِ حمَّادٍ عن طَلْقِ بن حبيبٍ ومُجاهدٍ وعن بكرِ بن عبد الله المُزَنيِّ قولَهم، ولم يَذكُروا إعفاءَ اللِّحيَةِ.وفي حديث محمَّد بن عبد الله بن أبي مريم ، عن أبي سلمة،عن أبي هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - فيه: "وإعفاء اللِّحية". وعن إبراهيمَ النَّخعى نحوه، وذكرَ إعفاءَ اللِّحية والخِتان.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 54

ابو وائل کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب رات کوقیام کرتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے صاف فرمایا کرتے تھے۔ ( ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ،جلد ١ ص ٤٢؛حدیث نمبر٥٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛ الارنووط؛

حدَّثنا محمد بنُ كثيرٍ، أخبرنا سفيانُ، عن مَنصورٍ وحُصَين، عن أبي وائل عن حُذَيفةَ: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - كانَ إذا قامَ مِنَ اللَّيل يَشُوصُ فاهُ بالسِّواك

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 55

سعد بن ہشام نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی ۔ جب آپ رات میں قیام فرماتے تو استنجا کرنے کے بعد مسواک کرتے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٤٢ ،بَابُ السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ،حدیث نمبر٥٦؛حکم حدیث صحيح"الارنووط

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيلَ، حدَّثنا حماد، أخبرنا بَهزُ بنُ حكيم، عن زُرَارةَ بن أوفى، عن سعدِ بنِ هشامِ عن عائشة: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كانَ يُوضَعُ له وَضوؤُه وسِواكُه، فإذا قامَ من اللَّيل تخلَّى ثمَّ استاك

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 56

ام محمد نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رات یا دن میں خواب سے بیدار نہ ہوتے مگر وضو کرنے سے پہلے مسواک فرما لیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٤٣،بَابُ السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ،حدیث نمبر٥٧؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"

حدَّثنا محمَّدُ بنُ كثير، حدَّثنا همَّام، عن علىِّ بن زيد، عن أم محمَّد عن عائشة: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كانَ لا يَرقُدُ من ليلٍ ولا نهارٍ فيَستَيقِظُ إلا تَسَوَّكَ قبلَ أن يَتَوَضَّأ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 57

علی بن عبداللہ نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس (اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ کے حجرے میں) گزاری جب آپ فارغ ہوئے اور وضو کرنا چاہا تو مسواک کی پھر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں۔ ''بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلنے میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے(١٩٠:٣) یہاں تک کہ آخر کے نزدیک جا پہنچے یاسورت ختم کر دی. پھر وضو کر کے جائے نماز پر آگئے اور دو رکعت نماز پڑھی پھر اپنے بستر کی طرف لوٹے اور سو گئے۔جتنی دیر اللہ نے چاہاپھر بیدار ہوئے اور پہلے کی طرح کیا پھر بستر کی طرف لوٹے اور سو گئے پھر بیدار ہوئے اور پہلے کی طرح کیا ہر دفعہ مسواک کرتے اور دو رکعت نماز پڑھتے پھر وتر پڑھتے امام ابوداؤد نے فرمایا ابن فضیل کا بیان ہے کہ حصین نے فرمایا پھر مسواک کی اور وضو فرمایا اورآپ کہتے ان فی خلق السماوات والارض آخر سورت تک۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٤٣؛،بَابُ السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ،حدیث نمبر٥٨؛حکم حدیث صحيح"الارنووط؛

حدَّثنا محمَّدُ بنُ عيسى، حدَّثنا هُشَيم، أخبرنا حُصَين، عن حبيبِ بنِ أبي ثابتٍ، عن محمَدِ بن علىّ بن عبدِ الله بن عبَّاس، عن أبيه عن جدِّه عبدِ الله بن عبَّاس، قال: بِتُّ ليلةً عند النبىِّ - صلى الله عليه وسلم -، فلمَّا استَيقَظَ مِن مَنامِه أتى طَهُورَهُ فأخذَ سِواكَه فاستَاكَ، ثمَّ تلا هذه الآيات: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: ١٩٠] حتَّى قَارَبَ أن يَختِمَ السُّورةَ أو خَتَمها، ثمَّ تَوَضَّأ، فأتى مُصَلاَّه فصلَّى ركعتَينِ، ثمَّ رجعَ إلى فِراشِهِ فنامَ ما شاء الله، ثمَّ استَيقَظَ ففعلَ مثلَ ذلك ثمَّ رجع إلى فراشه فنام، ثمَّ استيقظ، ففعل مثل ذلك كلُّ ذلك يَستاكُ ويُصلَّي ركعتَين، ثمَّ أوتَرَ "قال أبو داود: رواه ابنُ فُضَيل، عن حُصَين قال: فتَسَوَّك وتوضَّأ وهو يقول: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} حتى خَتَمَ السورة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 58

ابوالملیح نے اپنے والد ماجد حضرت اسامہ بن عمیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ اس صدقہ کو قبول نہیں فرماتا جو چوری کے مال سے ہو اور نہ اس نماز کو جو بغیر طہارت کے ہو۔ (ابوداؤد شریف ،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٤٤؛،بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٥٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا مسلم بن إبراهيم، حدَّثنا شُعبَة، عن قتادة، عن أبي المليح عن أبيه، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: "لا يَقبَلُ الله صدقةً مِن غُلولٍ، ولا صلاةً بغيرِ طُهور"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 59

ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جلا جلالہٗ نماز کو قبول نہیں فرماتا جب تک کوئی بےوضو ہو یہاں تک کہ وضو کر لے (۔ابوداؤد شریف ،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٤٥؛،بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٦٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط ؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ محمد بن حَنبَلٍ، حدَّثنا عبدُ الرَّزَّاق، أخبرنا مَعمَرٌ، عن همَّام بن مُنَبِّه"عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "لا يَقبَلُ اللهُ تعالى ذِكره صلاةَ أحدِكم إذا أحدَثَ حتَّى يتوضَّأ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 60

محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کی کنجی طہارت ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر کہنا اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے (۔ابوداؤدشریف ،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٤٥؛،بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٦١؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط ؛

حدَّثنا عثمان بن أبي شيبةَ، حدَّثنا وكيعٌ، عن سُفيان، عن ابنِ عَقيل، عن محمَّد ابن الحنفيةعن عليٍّ رضي الله عنه قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "مِفتاحُ الصَّلاة الطُّهورُ، وتحريمُها التكبيرُ، وتحليلُها التَّسليم"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 61

غطیف محمد،ابی غطیف الہذلی کا بیان ہے کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے پاس تھا۔جب ظہر کی اذان ہوئی تو انہوں نے وضو کر کے نماز پڑھی جب عصر کی اذان ہوئی تب بھی وضو کر کے نماز پڑھی میں نے یہ بات ان کی خدمت میں عرض کی تو ارشاد ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جو وضوء کی حالت میں وضو کرے اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائے گی۔ ( ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٤٦؛ بَابُ الرَّجُلِ يُجَدِّدُ الْوُضُوءَ مِنْ غَيْرِ حَدَثٍ حدیث نمبر٦٢؛حکم حدیث إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زياد -وهو الإفريقي- وجهالة أبي غطيف -أو غطيف- الهذلي.وأخرجه الترمذي (٦٠)، وابن ماجه (٥١٢) من طريق عبد الرحمن بن زياد الإفريقي، بهذا الإسناد. وضعفه الترمذي.(الارنووط"

حدَّثنا محمّد بنُ يحيي بن فارس، حدَّثنا عبدُ الله بنُ يزيد المُقرئ (ح) وحدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا عيسى بنُ يونُسَ، قالا: حدَّثنا عبدُ الرحمن بن زياد - قال أبو داود: وأنا لحديثِ ابنِ يحيي أتقَنُ-, عن غُطَيفٍ -وقال محمَّد، عن أبي غُطيف الهُذَليِّ- قال:كنتُ عندَ عبدِ الله بنِ عمر، فلمَّا نُودِيَ بالظُّهرِ توضَّأ فصلَّى، فلمَّا نُودِيَ بالعَصرِ توضَّأ، فقلتُ له، فقال: كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "مَن توضَّأَ على طُهرٍ كُتِبَ له عشرُ حسناتٍ"قال أبو داود: وهذا حديثُ مُسدَّد وهو أتمُّ.هذا لفظ ابن العلاء، وقال عثمان والحسن بن عليّ: عن محمَّد ابن عبَّاد بن جعفر. قال أبو داود: وهو الصَّواب.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 62

عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ ان کے والد محترم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ایسے پانی(جوہر) کے متعلق پوچھا گیا جس میں جنگلی جانور اور پرندے آتے جاتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جب پانی دو قلوں کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں عثمان اور حسن بن علی نے اسے محمد بن عباد بن جعفر سے بھی روایت کیا ہےامام ابوداؤد نے فرمایا کہ(محمد بن عباد بن جعفر نہیں بلکہ) صحیح نام محمد بن جعفر ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٤٧؛،بَابُ مَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، حدیث نمبر٦٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح ؛الارنووط ؛

حدَّثنا محمَّدُ بن العلاء وعثمانُ بن أبي شَيبةَ والحسنُ بنُ عليٍّ وغيرُهم، قالوا: حدَّثنا أبو أسامة، عن الوليد بن كثير، عن محمَّدِ بنِ جعفرِ بن الزُّبير، عن عبد الله بن عبدِ الله بن عمر عن أبيه، قال: سُئِلَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -، عن الماءِ وما يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوابِّ والسِّباع، فقال - صلى الله عليه وسلم -: "إذا كانَ الماءُ قُلَّتَينِ لم يَحمِلِ الخَبَثَ" هذا لفظ ابن العلاء، وقال عثمان والحسن بن عليّ: عن محمَّد ابن عبَّاد بن جعفر. قال أبو داود: وهو الصَّواب

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 63

عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عمر عمر سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا جو جنگل میں ہو۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٤٧؛،بَابُ مَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، حدیث نمبر٦٤؛حکم حدیث اسنادہ حسن؛ الارنووط؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا حمَّاد (ح)وحدَّثنا أبو كامل، حدَّثنا يزيد بنُ زُرَيع، عن محمَّد بن إسحاق، عن محمَّدِ بن جعفر -قال أبو كامل: ابن الزُّبير-، عن عُبَيد الله بن عبد الله بن عمرعن أبيه: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - سُئِلَ عن الماء يكونُ في الفلاةِ، فذكرَ معناه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 64

عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ میرے والد محترم نے مجھ سے حدیث روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔جب پانی دو قلوں کے برابر ہوتووہ نجس (ناپاک) نہیں ہوتا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حماد بن یزید نے اس حدیث کو عاصم سے موقوفا روایت کیا ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٤٨؛ ،بَابُ مَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، حدیث نمبر٦٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن ؛الارنووط ؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا حمَّاد، أخبرنا عاصمُ بنُ المُنذِر، عن عُبَيد الله بن عبدِ الله بن عمر، قال:حدَّثني أبي: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إذا كان الماءُ قُلَّتَين، فإنَّه لا يَنجُسُ".قال أبو داود: حمَّاد بن زيد وَقَفَه عن عاصم

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 65

عبیداللہ بن عبداللہ بن رافع نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش پیش کی گئی کہ ہم بیربضاع سے وضو کرتے ہیں حالانکہ اس میں حیض کے کپڑے کتوں کا گوشت اور گندی چیزیں پھینکی جاتی ہیں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے اسے کوئی چیز نجس (ناپاک) نہیں کرتی۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٥٠؛ ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ، حدیث نمبر٦٦؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛

حدَّثنا محمَّدُ بنُ العلاء والحسنُ بنُ عليٍّ ومحمدُ بنُ سليمان الأنباريُّ، قالوا: حدَّثنا أبو أسامة، عن الوليدِ بن كثير، عن محمدِ بن كعبٍ، عن عُبَيد الله بن عبد الله بن رافعِ بنِ خَديج"عن أبي سعيد الخُدريِّ: أنَّه قيلَ لرسولِ الله - صلى الله عليه وسلم -: أنتوضَّأ من بئرِ بُضاعة -وهي بئرٌ يُطرَحُ فيها الحِيَضُ ولحمُ الِكلابِ والنَّتْنُ-؟ فقال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "الماءُ طَهورٌ لا يُنجِّسُهُ شيءٌ" قال أبو داود: وقال بعضهم: عبد الرحمن بن رافع.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 66

عبیداللہ بن عبدالرحمن بن رافع انصاری عدوی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب کہ حضور کی خدمت میں یہ گزارش کی گئی کہ آپ کو بھی بیر بضاع میں سے لا کر پانی پلایا جاتا ہے اور وہ ایسا ہے کہ اس میں کتوں کا گوشت، حیض کے کپڑے اور لوگوں کے فضلات وغیرہ ڈالے جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا پانی پاک ہوتا ہے اسے کوئی چیز نجس (ناپاک) نہیں کرتی ۔امام ابو داؤد کا بیان ہے کہ میں نے قتیبہ بن سعید کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے بیت بضاع کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ اس کا پانی اتنا ہوتا ہے کہ ناف تک آئے ۔میں نے پوچھا کہ جب کم ہوجاتا ہے؟ کہاکہ ستر گھٹنے سے نیچے مجھے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے اندازہ کرنے کی غرض سے بیربضاع کی اپنی چادر کے ساتھ پیمائش کی۔ چنانچہ ناپنے پر چوڑائی چھ ذراع (چھ گز) نکلی پھر میں نے اس شخص سے پوچھا جس نے میرے لیے باغ کا دروازہ کھولا اور مجھے اس تک جانے دیا تھا کہ جس حالت پر یہ پہلے تھا کیا وہ تعمیر بدل گئی ہے؟ کہا نہیں اور میں نے اس کے پانی کا رنگ بدلا ہوا ہی دیکھا ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٥٠؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ، حدیث نمبر٦٧؛حکم حدیث صحيح"الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ أبي شعيب وعبدُ العزيز بنُ يحيى الحرَّانيَّان، قالا: حدَّثنا محمَّدُ بنُ سلمة، عن محمَّد بن إسحاق، عن سَلِيط بن أيوب، عن عُبَيد الله ابن عبد الرحمن بن رافع الأنصاريِّ ثمَّ العَدَويِّ عن أبي سعيد الخُدْريِّ، قال: سمعتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - وهو يقال له: إنَّه يُستَقَى لكَ من بئرِ بُضاعة، وهي بئرٌ يُلقَى فيها لحومُ الكِلابِ والمَحايضُ وعِذَرُ النَّاس، فقال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "إنَّ الماءَ طَهورٌ لا يُنجِّسُهُ شيءٌ"قال أبو داود: سمعتُ قتيبةَ بنَ سعيد قال: سألت قَيِّمَ بئرِ بُضاعةَ عن عُمقها، قال: أكثَرُ ما يكونُ فيها الماءُ إلى العانةِ، قلتُ: فإذا نقصَ؟ قال: دونَ العَورَة. قال أبو داود: وقدَّرتُ أنا بئرَ بُضاعةَ برِدائي مَدَدتُه عليها، ثمَّ ذَرَعتُه، فإذا عَرضُها ستَّة أذرُع، وسألتُ الذي فتحَ لي البستانَ فأدخَلَني إليه: هل غُيِّرَ بناؤُها عمَّا كانت عليه؟ قال: لا، ورأيتُ فيها ماءً مُتغيِّر اللَّون.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 67

عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے لگن سے غسل کیا پس نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس سے وضویا غسل کرنے کے لیے آئے۔وہ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ میں جنابت سے تھی۔رسول اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (بچاہوا) پانی تو جنبی نہ ہوتا۔وہ حضرت ابن عباس کی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا تھیں۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١؛ص ٥١؛ بَابُ الْمَاءِ لَا يُجْنِبُ،حدیث نمبر ٦٨؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط"

حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا أبو الأحوَص، حدَّثنا سِماكٌ، عن عكرمة عن ابن عبَّاس، قال: اغتَسَلَ بعض أزواجِ النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - في جَفْنةٍ، فجاءَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - ليتوضَّأ منها -أو يَغتَسِلَ- فقالت له: يا رسولَ الله، إنِّي كنتُ جُنُباً. فقال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "إنَّ الماءَ لا يُجنِبُ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 68

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اسی پانی سے غسل کرنا پڑے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٥١؛،بَابُ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ،حدیث نمبر٦٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط ؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ يونس، حدَّثنا زائدةُ في حديث هشام، عن محمَّد عن أبي هريرة، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: "لا يبولَنَّ أحدُكم في الماءِ الدَّائم، ثمَّ يَغتَسِلُ منه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 69

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے اور اس پانی کے اندر جا کر غسل جنابت نہ کرے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٥٣؛،بَابُ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ،حدیث نمبر٧٠؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيي، عن محمَّد بن عَجلانَ، قال: سمعت أبي يُحدِّث"عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "لا يبولَنَّ أحدُكم في الماء الدَّائم ولا يَغتَسِلْ فيه مِنَ الجنابةِ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 70

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال کر کتا پی جائے تو اسے سات مرتبہ دھو کر پاک کرے اور پہلی مرتبہ مٹی سے مانجے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،؛جلد ١ ص ٥٣؛بَابُ الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر٧١؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ يونس، حدَّثنا زائدةُ في حديث هشام، عن محمَّد، عن أبي هريرةعن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "طَهورُ إناءِ أحدِكم إذا وَلَغَ فيه الكلبُ أن يُغسَلَ سبعَ مرارٍ أَوَّلُهُنَّ بترابٍ" قال أبو داود: وكذلك قال أيوبُ وحبيبُ بن الشَّهيد عن محمَّد.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 71

حماد بن زید،ایوب محمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی معنی کی روایت کیا لیکن دونوں روایت مرفوع نہیں ہیں اور یہ بھی کہا کہ جب چلی جائے تو ایک مرتبہ دھوئے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٥٤؛ ،بَابُ الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر٧٢؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛

حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا المُعتَمِرُ، يعني ابنَ سُليمان (ح) وحدَّثنا محمَّدُ بن عُبَيد، حدَّثنا حمَّاد بن زيد؛ جميعاً عن أيوب، عن محمَّد عن أبي هريرة بمعناه، ولم يرفعاه، وزاد: وإذا وَلَغَ الهِرُّ غُسِلَ مرَّةً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 72

محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھویا کرو ساتویں دفعہ مٹی سے مانجھ کر دھونا چاہیے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابوصالح اور ابورزین اور اعرج اور ثابت احنف اور ہمام بن منبہ اور ابوسدی عبدالرحمن نے بھی اسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے مٹی کا ذکر نہیں کیا۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،؛جلد ١ ص ٥٥؛بَابُ الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر٧٣؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط ؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا أبان، حدَّثنا قتادةُ، أن محمَّد بن سيرينَ حدَّثه عن أبي هريرة، أنَّ نبيَّ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إذا وَلَغَ الكلبُ في الإناءِ فاغسِلُوهُ سبعَ مِرَارٍ، السَّابعة بالتُّراب"قال أبو داود: وأمَّا أبو صالح وأبو رَزينٍ والأعرجُ وثابتٌ الأحنَفُ وهمَّامُ بنُ مُنَبِّه وأبو السُّدِّيِّ عبد الرحمن، رَوَوهُ عن أبي هريرة ولم يذكروا التُّراب.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 73

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کتوں کو مار دینے کا حکم فرمایا۔ پھر ارشاد ہوا کہ تمہارا وہ کیا بگاڑتے ہیں؟ چنانچہ شکاری کتے اور ریوڑ کی رکھوالی کرنے والے کتے کی اجازت دی اور فرمایا کہ جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھویا کرو اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھ لیا کرو۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٥٥؛بَابُ الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْكَلْبِ،حدیث نمبر٧٤؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بن محمَّد بن حَنبَل، حدَّثنا يحيي بنُ سعيد، عن شُعبة، حدَّثنا أبو التَّيَّاح، عن مُطرَّف عن ابن مُغفَّل: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - أمَرَ بقَتلِ الكِلاب، ثم قال: "ما لهم ولها؟ " فرخَّصَ في كلبِ الصَّيدِ وفي كلبِ الغَنَم، وقال: "إذا وَلَغَ الكلبُ في الإناء فاغسِلُوهُ سبعَ مِرارٍ والثَّامنة عَفِّروهُ بالتُّراب

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 74

کبشہ بنت کعب بن مالک سے روایت ہے جو ابن ابو قتادہ کے نکاح میں تھیں کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ اندر تشریف لائے تو میں نے ان کے حضور وضوکے لیے پانی رکھ دیا پس ایک بلی آئی اور اس میں سے پانی پینے لگی انہوں نے اس کے لیے برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ وہ پانی پی چکی۔ کبشہ کا بیان ہے کہ میں نے یہ منظر دیکھتی رہی۔ فرمایا اے بھتیجی! کیا تم اس بات پر تعجب کرتی ہو؟ میں عرض گزارہوئی کہ ہاں۔ ارشاد ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ ناپاک نہیں ہے یہ تو تمہارے پاس پھر نے پھر اتے والی چیزوں میں سے ہے۔ (ابودادؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٥٦؛ بَابُ سُؤْرِ الْهِرَّةِ،حدیث نمبر٧٥؛حکم حدیث صحيح "الارنووط؛

حدَّثنا عبدُ الله بن مَسلَمة القَعْنَبيُّ، عن مالك، عن إسحاقَ بن عبدِ الله ابن أبي طلحة، عن حُميدة بنتِ عُبَيد بن رفاعة، عن كبشةَ بنتِ كعب بن مالك، وكانت تحتَ ابن أبي قتادة انَّ أبا قتادة دخلَ فسَكَبَت له وَضوءاً، فجاءت هِرَّة فشَرِبَت منه، فأصغى لها الإناءَ حتى شَرِبَت، قالت كَبشَةُ: فرآني أنظُرُ إليه، فقال: أتعجَبينَ يا ابنةَ أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إنَّها ليست بنَجَسٍ، إنَّها مِنَ الطَّوَّافينَ عليكم والطَّوَّافات"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 75

صالح بن دینار التمار کی والدہ ماجدہ نے اپنی آزاد کردہ لونڈی کو ہرہسہ لے کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں بھیجا اس نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ حضرت صدیقہ نے اسے رکھنے کا اشارہ کردیا۔ پس ایک بلی آئی اور اس میں سے کھانے لگیں تب یہ فارغ ہوئی تو اسے جگہ سے کھانے لگی جہاں سے بلی نے کھایا تھا اور ارشاد ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہے کہ یہ تو تمہارے پاس پھر نے پھرانے والی چیزوں میں سے ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بلی کے بچے ہوئے پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ (۔ابودادؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٥٧ ،بَابُ سُؤْرِ الْهِرَّةِ،حدیث نمبر٧٦؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا عبدُ الله بنُ مَسلَمة، حدَّثنا عبدُ العزيز، عن داودَ بن صالح بن دينار التَّمَّار، عن أُمِّ أنَّ مولاتَها أرسَلَتها بهَريسةٍ إلى عائشة رضي الله عنها، فوَجَدَتها تُصلِّي، فأشارت إليَّ أنْ ضَعيها، فجاءت هرَّةٌ فأكَلَت منها، فلمَّا انصَرَفَت أكَلَت من حيثُ أكَلَتِ الهرَّة، فقالت: إنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إنَّها ليست بنَجَسٍ، إنَّما هي مِنِ الطَّوَّافينَ عليكم" وقد رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأ بفَضلِها

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 76

اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک ہی برتن میں پانی لے کر غسل کر لیا کرتے تھے۔ ہم دونوں حالت جنابت میں ہوتے تھے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٥٨؛بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،حدیث نبر٧٧؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيى، عن سُفيان، حدثني منصور، عن إبراهيم، عن الأسود عن عائشة قالت: كنت أغتَسِل أنا ورسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - من إناءٍ واحدٍ، ونحن جُنُبان

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 77

ام صبیہ جہنیہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:کہ ایک ہی برتن میں وضو کرتے ہوئے کبھی میرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپس میں ٹکرا جاتے تھے۔(جب کبھی ایک ہی برتن میں پانی لے کر وضو کرتے)۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٥٩؛بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،حدیث نبر٧٨؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا عبد الله بن محمَّد النفيليُّ, حدَّثنا وكيعٌ، عن أُسامةَ بن زيد، عن ابن خرَّبُوذَ عن أمِّ صُبَيَّة الجُهَنيَّة، قالت: اختَلَفَت يدي ويدُ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - في الوُضوءِ من إناءٍ واحدٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 78

عبداللہ بن مسلمہ،مالک، نافع، مسدد، حماد،ایوب نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں مرد اور عورت وضو کر لیا کرتے تھے مسدد نے کہا کہ سب مل کر ایک ہی برتن سے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،جلد ١ ص ٦٠ بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،حدیث نبر٧٩؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط ؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا حمَّاد، عن أيوبَ، عن نافع (ح)وحدثنا عبد الله بن مَسلَمة، عن مالك، عن نافع عن ابن عمر، قال: كان الرِّجالُ والنِّساءُ يتوضَّؤونَ في زمانِ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - قال مُسدَّدٌ: من الإناءِ الواحد- جميعاً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 79

نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:کہ ہم اور عورتیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں ایک برتن سے وضو کر لیا کرتے تھے ہم سب اسی میں ہاتھ ڈالا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٦٠؛،بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،حدیث نبر٨٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيى، عن عُبَيد الله، حدَّثني نافعٌ عن عبد الله بن عمر، قال: كُنَّا نتوضَّاُ نحنُ والنِّساء على عَهدِ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - من إناءٍ واحدٍ نُدْلي فيه أيديَنا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 80

حمید الحمیری کا بیان ہے کہ مجھے ایک ایسا شخص ملا جسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صحبت کا شرف چار سال حاصل رہا تھا۔ جیسے حضور کی صحبت حضرت ابو ہریرہ نے پائی انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا آدمی عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے مسددنے یہ بھی کہا کہ چلو سے اکھٹے پانی لینا چاہیے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦١؛ ،بَابُ النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ،حدیث نمبر٨١؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بن يونُسَ، حدَّثنا زهيرٌ، عن داودَ بن عبد الله (ح)وحدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا أبو عَوَانة، عن داودَ بن عبد الله، عن حُميدٍ الحِميَريِّ، قال:لقيتُ رجلاً صَحِبَ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - أربَعَ سنينَ كما صَحِبَه أبو هريرة، قال: نهى رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - أن تَغتَسِلَ المرأةُ بفَضلِ الرجلِ، أو يَغتَسِلَ الرجلُ بفَضلِ المرأةِ. زاد مُسدَّدٌ: وليَغتَرِفا جميعاً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 81

ابوحاجب نے حضرت حکم بن عمرو اقرع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اس پانی سے وضو کرے جو عورت کی طہارت سے بچا ہو۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦١،بَابُ النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ،حدیث نمبر٨٢؛حکم حدیث رجالہ ثقات؛الارنووط؛

حدَّثنا ابنُ بشَّار، حدَّثنا أبو داود -يعني الطَّيالسيَّ-، حدَّثنا شُعبَةُ، عن عاصم، عن أبي حاجبٍ عن الحَكَم بن عمرو -وهو الأقرَعُ-: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - نهى أن يتوضَّأ الرجلُ بفَضلِ طَهورِ المرأة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 82

بنی عبدالدار سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہوا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور ہمارے پاس تھوڑا پانی ہوتا ہے جب کہ ہم اس سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں لہذا کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٦٢؛ ،بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ،٨٣؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا عبدُ الله بنُ مَسلَمة، عن مالك، عن صَفوانَ بن سُليم، عن سعيد ابن سلمة من آل ابن الأزرق، أنَّ المغيرةَ بنَ أبي بُردة -وهو من بني عبد الدَّار-أخبره أنَّه سمع أبا هريرة يقول: سأل رجلٌ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: يا رسول الله، إنَّا نَركَبُ البحرَ، ونَحمِلُ معنا القليلَ مِنَ الماء، فإن تَوَضَّأنا به عَطِشنا، أفنتوضَّأُ بماءِ البحر؟ فقال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "هو الطَّهورُ ماؤُهُ، الحلُّ مَيتَتُه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 83

ابوزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے جنات کی حاضری والی رات میں فرمایا کہ تمہاری چھاگل میں کیا ہے؟عرض گزار ہوا کہ نبیذ ہے فرمایا کہ کھجور پاک ہے اور پانی پاک کرنے والا ہے ۔(ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٦٣؛،بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف؛ الارنووط؛

حدَّثنا هنَّاد وسُليمانُ بنُ داود العَتكيُّ، قالا: حدَّثنا شَريك، عن أبي فزَارة، عن أبي زيد"عن عبد الله بن مسعود، أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - قال له ليلةَ الجنِّ: "ما في إداوَتِكَ؟ " قال: نبيذٌ، قال: "تمرةٌ طيِّبةٌ وماءٌ طَهورٌ" قال أبو داود: وقال سليمان بن داود: عن أبي زيد أو زيد، كذا قال شريك. ولم يذكر هنَّاد ليلة الجنِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 84

علقمہ کا بیان ہےکہ میں حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں عرض گزار ہوا کہ آپ حضرات میں سے جنات والی رات رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کون موجود تھا؟فرمایا کہ ہم میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا (۔ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ؛جلد ١ ص ٦٣؛ ،بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا وُهَيبٌ، عن داودَ، عن عامرٍ، عن عَلقمة، قال:قلتُ لعبد الله بن مسعود: مَن كان منكم مَعَ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - ليلةَ الجنِّ؟ فقال: ما كانَ معه منَّا أحدٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 85

ابن جریج نے عطاء سے روایت کی ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور فرمایا کہ تیمم کرنا میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔(ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،؛جلد ١ ص ٦٤؛ بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح ؛الارنووط ؛

حدَّثنا محمَّدُ بنُ بشَّار، حدَّثنا عبدُ الرحمن، حدَّثنا بشرُ بنُ منصور، عن ابن جُرَيج عن عطاء: أنَّه كَرِهَ الوضوءَ باللَّبَنِ والنَّبيذِ، وقال: إنَّ التَيمُّمَ أعجَبُ إليَّ منه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 86

ابوخلدہ نے ابوالعالیہ سے اس آدمی سے متعلق پوچھا جو جنابت کی حالت میں ہے اور اس کے پاس پانی بھی نہ ہو لیکن نبیذہوتو کیا وہ نبیذ سے غسل کرے؟فرمایا کہ نبیذ کے ساتھ غسل نہ کرے۔ ۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ جلد ١ ص ٦٤؛،بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ،حدیث نمبر ٨٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بن بشَّار، حدَّثنا عبد الرحمن، حدَّثنا أبو خَلدةَ قال:سألت أبا العاليةِ عن رجلٍ أصابَتهُ جنابةٌ وليس عنده ماءٌ وعنده نبيذٌ: أيَغتَسِلُ به؟ قال: لا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 87

ہشام بن عروہ نے اپنے والد ماجد اور ابن زبیر سے روایت کی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ حج یا عمرہ کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ کافی آدمی تھے جن کی یہ امامت کراتے تھے ایک روز جب صبح کی نماز ہونے لگی تو انہوں نے فرمایا کیا آپ میں سے کسی ایک کو کھڑا کر لو اور خود قضائے حاجت کے لیے چلے گئے کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو بیت الخلا جانا پڑے اور ادھر نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے بیت الخلاء میں جانا چاہیے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦٥؛،بَابٌ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ؟،حدیث نمبر٨٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ يونس، حدَّثنا زُهيرٌ، حدَّثنا هشامُ بنُ عُروةَ، عن أبيه"عن عبد الله بن الأرقم: أنَّه خرج حاجّاً، أو معتَمِراً، ومعه الناسُ وهو يؤمُّهم، فلمَّا كانَ ذاتَ يومٍ أقامَ الصَّلاةَ صلاةَ الصُّبح، ثم قال: ليَتَقدَّم أحدُكم، وذهبَ الخلاءَ، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "إذا أرادَ أحدُكم أن يذهبَ الخلاءَ وقامَتِ الصلاةُ، فليَبدَأ بالخَلاء" قال أبو داود: روى وُهَيبُ بن خالد وشُعيبُ بنُ إسحاق وأبو ضَمْرَةَ هذا الحديث عن هشام بنِ عُروة، عن أبيه، عن رجل حدَّثه، عن عبدِ الله بن أرقم. والأكثرُ الذين رَوَوهُ عن هشامٍ قالوا كما قال زُهير.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 88

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں موجود تھے۔ کہ ان کا کھانا لایا گیا پھر قاسم بن محمد کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے حضرت صدیقہ کا ارشاد ہوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کھانا پیش ہو جائے تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس وقت پڑھی جائے جب پاخانہ یا پیشاب ۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،جلد ١ ص ٦٦؛ بَابٌ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ؟،حدیث نمبر٨٩؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ محمَّد بن حَنبَل ومُسَدَّدٌ ومحمَّدُ بنُ عيسى، المعنى، قالوا: حدَّثنا يحيي بنُ سعيد، عن أبي حَزْرَةَ، حدَّثنا عبدُ الله بنُ محمَّد، قال ابنُ عيسى في حديثه: ابن أبي بكر، ثمَّ اتَّفقوا- أخو القاسم بن محمَّد، قال:كُنَّا عندَ عائشة فجيءَ بطعامِها، فقامَ القاسِمُ يُصلِّي، فقالت: سمعتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "لا يُصلَّى بحَضْرِةِ الطَّعام ولا وهو يُدافِعُهُ الأخبَثان"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 89

ابو حی مؤذن نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین باتوں کا کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ ایسا شخص لوگوں کی امامت نہ کرے جو لوگوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے ہی دعا کرے اگر اس نے ایسا کیا تو خیانت کی اور اجازت دینے سے پہلے دوسرے کے گھر اندر نہ جھانکے اگر ایسا کیا تو گویا اندر داخل ہوگیا اور پیشاب پاخانے کےوقت نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ بوجھ ہلکا کرے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦٧؛،بَابٌ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ؟،حدیث نمبر ٩٠؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا محمّد بنُ عيسى، حدَّثنا ابنُ عيَّاش، عن حبيبِ بن صالح، عن يزيدَ بن شُرَيح الحَضرَميِّ، عن أبي حَيٍّ المؤذِّن عن ثوبان، قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "ثلاثٌ لا يَحِلُّ لأحدٍ أن يَفعَلَهُنَّ: لا يَؤُمُّ رجلٌ قوماً فيَخُصَّ نفسَه بالدُّعاء دونَهم، فإن فَعَلَ فقد خانَهم، ولا ينظُرُ في قَعْرِ بَيتٍ قبلَ أن يَستَأذِنَ، فإن فَعَلَ فقد" دَخَلَ، ولا يُصلِّي وهو حَقِنٌ حتَّى يَتَخَفَّفَ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 90

ابو حی مؤذن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ پیشاب یا پاخانہ کے حاجت کے وقت نماز پڑھے ۔یہاں تک کہ بوجھ ہلکا کرلے۔پھر اس لفظ پر ایسا ہی اضافہ کرکے فرمایا۔اور جو اللہ اور یوم قیامت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ لوگوں کی امامت کرائے مگر ان کی اجازت سے اور انہیں چھوڑ کر اپنے لیے ہی دعا نہ مانگے ۔اگرایسا کیا تو لوگوں کے ساتھ خیانت کی ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ شام والوں کی حدیث ہے اور اس میں کوئی ایک بھی ان کا شریک نہیں۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٦٧؛بَابٌ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ؟،حدیث نمبر ٩١؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا محمودُ بن خالد السُّلميُّ، حدَّثنا أحمدُ بن عليِّ، حدَّثنا ثَورٌ، عن يزيدَ بن شُرَيح الحَضرَميِّ، عن أبي حَيِّ المؤذِّن عن أبي هريرة، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: "لا يَحِلُّ لرجلٍ يُؤمِنُ بالله واليومِ الآخِرِ أن يُصلِّيَ وهو حَقِنٌ حتَّى يَتَخَفَّفَ" ثمَّ ساقَ نحوَه على هذا اللَّفظ، قال: "ولا يَحِلُّ لرجلِ يُؤمِنُ بالله واليومِ الآخِرِ أن يَؤُمَ قوماً إلا" بإذنهم، ولا يَختَصَّ نفسَه بدَعوةٍ دونهم، فإن فَعَلَ فقد خانَهُم"قال أبو داود: هذا من سنن أهل الشَّام لم يَشرَكهم فيها أحدٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 91

صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ آبان نے قتادہ سے اس کی روایت کی اور فرمایا کہ میں نے اسے صفیہ سے سنا ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٦٨؛بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٩٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بنُ كثير، حدَّثنا همَّام، عن قتادة، عن صفيَّة بنت شَيبةَ عن عائشة: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كانَ يَغتَسِلُ بالصَّاعِ، ويتوضأُ بالمُدِّ قال أبو داود: رواه أبانٌ، عن قتادة قال: سمعتُ صفيَّة.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 92

سالم بن ابی الجعد کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦٨؛،بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٩٣؛حکم حدیث صحيح ؛الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ محمّد بن حَنبَل، حدَّثنا هُشَيم، أخبرنا يزيدُ بنُ أبي زياد، عن سالم بنِ أبي الجَعد عن جابر، قال: كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يَغتَسِلُ بالصَّاعِ ويتوضَّاُ بالمُدَّ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 93

عباد بن تمیم نے اپنی دادی جان حضرت ام عمارہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وضو فرمانا تھا تو آپ کے حضور ایک پانی پیش کیا گیا جو ایک مد کا دو تہائی ہوگا۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٦٩؛ ،بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٩٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح ؛الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بن بشَّار، حدَّثنا محمَّد بن جعفر، حدَّثنا شُعبَة، عن حبيبٍ الأنصاريِّ، قال: سمعت عبَّادَ بن تميم عن جدتي -وهي أمُّ عُمارة- أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - توضَّأ فأُتِيَ بإناءٍ فيه ماءٌ قَدْرَ ثُلُثَي المُدِّ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 94

عبد اللہ بن جبر کا بیان ہے حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسے برتن سے وضو فرما لیتے جس میں دو رطل پانی آتا اور ایک صاع پانی سے غسل فرمالیتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ شعبہ عبد اللّٰہ بن عبدااللہ بن جبربنے فرمایا کہ میں نے حضرت انس سے سنا مگر اس میں فرمایا کہ ایک ملوک پانی سے وضو فرمالیتے اور دو رطل کا ذکر نہ کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یحیی بن آدم نے شریک سے اس کی روایت کرکے فرمایا کہ انہوں نے ابن جبر بن عتیک سے فرمایا کہ سفیان ،عبد اللہ بن عیسیٰ نے جبر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے امام احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا کے صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے امام ابو داود نے فرمایا کہ ابن ابی ذئب والاصاع ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاصاع ہے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ،حدیث نمبر٩٥؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف؛الارنووط؛

حدَّثنا محمّد بنُ الصَّبَّاح البزَّارُ، حدَّثنا شَريكٌ، عن عبدِ الله بنِ عيسى، عن عبد الله بن جَبرٍعن أنس، قال: كانَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يتوضأ بإناءٍ يَسَعُ رَطلَينِ، ويَغتَسِلُ بالصَّاع"قال أبو داود: رواه شُعبَة قال: حدَّثني عبدُ الله بن عبد الله بن جبر قال: سمعتُ أنساً، إلا أنه قال: "يتوضأُ بمكُّوك"، ولم يذكر: "رَطلَين" قال أبو داود: ورواه يحيى بن آدم، عن شَريكٍ، قال: عن ابنِ جَبرِ بن عَتِيكٍ. قال: ورواه سُفيان، عن عبد الله بن عيسى، قال: حدَّثني جَبرُ بنُ عبد الله قال أبو داود: سمعتُ أحمدَ بن حَنبَل يقول: الصَّاعُ خمسةُ أرطالٍ، وهو صاعُ ابنِ أبي ذئبٍ، وهو صاعُ النبيّ - صلى الله عليه وسلم -

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 95

ابو نعامہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ نے سنا کہ ان کا صاحبزادہ اس طرح دعا کر رہا ہے اے اللہ!میں تجھ سے جنت کے دائیں جانب محل کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس میں داخل ہو جاؤ انہوں نے فرمایا کہ بیٹا اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اب اس امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے نکلیں گے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،؛جلد ١ ص ٧١؛بَابُ الْإِسْرَافِ فِي الْمَاءِ،حدیث نمبر ٩٦؛حکم حدیث حسن حدیث؛الارنووط؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا حمَّاد، حدَّثنا سعيدٌ الجُرَيريُّ، عن أبي نَعامة أنَّ عبدَ الله بنَ مُغفَّل سمع ابنَه يقول: اللهم إنِّي أسألُكَ القَصرَ الأبيَضَ عن يمينِ الجنَّة إذا دخلتُها، فقال: أيْ بُنَيَّ، سَلِ اللهَ الجنَّةَ، وتعوَّذ به مِنَ النَّار، فإني سمعتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - ويقول: "إنَّه سيكونُ في هذه الأمَّةِ قومٌ يَعتَدونَ في الطُّهور والدُّعاء"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 96

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ ایڑیاں خشک ہیں۔ فرمایا کہ ایڑیوں کے لیے آگ میں خرابی ہے لہٰذا پورا وضو کیا کرو۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٧٢؛،بَابٌ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر ٩٧؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيي، عن سُفيان، حدثني منصور، عن هِلال ابن يِسافٍ، عن أبي يحيي"عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - رأى قوماً، وأعقابُهم تلوحُ، فقال: "وَيلٌ للأعقابِ مِنَ النَّارِ، أَسبِغُوا الوضوءَ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 97

ہشام بن عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔میں غسل کرتی تو میں اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کانسی کے ایک ہی گھڑے سے غسل کرلیا کرتے تھے (۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ جلد ١ ص ٧٢؛،بَابُ الْوُضُوءِ فِي آنِيَةِ الصُّفْرِ،حدیث نمبر ٩٨؛حکم حدیث صحيح؛الارنووط؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا حماد، أخبرني صاحبٌ لي، عن هشام بن عُروة أنَّ عائشة قالت: كنتُ أغتَسِلُ أنا ورسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - في تَورٍ من شَبَهٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 98

محمد بن علاء اسحاق بن منصور،حماد بن سلمہ ،ایک آدمی ہشام بن عروہ ان کے والد ماجد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،جلد ١ ص ٧٣؛بَابُ الْوُضُوءِ فِي آنِيَةِ الصُّفْرِ،حدیث نمبر ٩٩؛حکم حدیث صحيح"الارنووط"

حدَّثنا محمَّدُ بن العلاء، أن إسحاقَ بن منصور حدَّثهم، عن حمَّاد بن سلمة، عن رجلٍ، عن هِشامٍ عن أبيه عن عائشة عن النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - بنحوه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 99

عمروبن یحییٰ نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن زید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے پس ہم نے آپ کے لیے پتیل کے ایک پیالے میں پانی نکالا تو آپ نے اس سے وضو فرمایا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،جلد ١ ص ٧٤؛بَابُ الْوُضُوءِ فِي آنِيَةِ الصُّفْرِ،حدیث نمبر ١٠٠؛حکم حدیث اسنادہ صحيح؛ الارنووط؛

حدَّثنا الحسنُ بنُ عليّ، حدَّثنا أبو الوليد وسَهلُ بنُ حمَّاد، قالا: حدَّثنا عبدُ العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه"عن عبد الله بن زيد، قال: جاءنا رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - فأخرَجْنا له ماءً في تَورٍ من صُفرٍ فتوضَّأ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 100

حضرت ابوہریرہ رضی للہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی نماز نہ ہوگی جس کا وضو نہیں ہے اور اس کا وضو (کامل) نہیں ہے جو اس پر اللہ کا نام نہ لے۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٧٤؛ ،بَابٌ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٠١؛حکم حدیث ضعیف؛ الارنووط؛

حدَّثنا قتيبةُ بن سعيد، حدَّثنا محمّد بن موسى، عن يعقوبَ بن سلمة، عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "لا صلاةَ لمَن لا وُضوءَ له، ولا وضوءَ لِمَن لم يَذكُرِ اسمَ الله عليه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 101

دراوردی کا بیان ہے کہ ربیعہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ،،اس کا وضو نہیں جو اس پر اللہ کا نام نہ لے،، کی تفسیر میں فرمایا کہ اور جو غسل کرے تو نماز کا وضو اور جنابت کا احساس نہیں ہوگا (دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بات نماز کے وضواور غسل جنابت کے متعلق نہیں ہے) (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ؛جلد ١ ص ٧٥؛،بَابٌ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٠٢؛حکم حدیث اسنادہ قوی؛ الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ عمرِو بن السَّرْح، حدَّثنا ابنُ وَهب، عن الدَّراورديِّ، قال:وذكر ربيعةُ أنَّ تفسيرَ حديث النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: "لا وضوءَ لِمَن لم يَذكُرِ اسمَ الله عليه": أنَّه الذي يتوضَّأ أو يَغتَسِلُ ولا ينوي وضوءاً للصَّلاة ولا غُسلاً للجنابة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 102

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کے وقت سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالیں یہاں تک کہ تین دفعہ دھو لیں کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٧٥؛بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا ،حدیث نمبر١٠٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي رَزين وأبي صالح عن أبي هريرة، قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -:إذا قامَ أحدُكم مِنَ اللَّيلِ، فلا يَغمِسْ يَدَه في الإناء حتَّى يَغسِلَها ثلاثَ مرَّاتِ، فإنَّه لا يدري أين باتَت يَدُه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 103

ابو صالح کا بیان ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ دو مرتبہ دھوئے یا تین دفعہ اور ابورزین کا ذکر نہیں کیا۔ (ا؛بوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٧٦؛بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا ،حدیث نمبر١٠٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ, حدَّثنا عيسي بنُ يونُسَ، عن الأعمش، عن أبي صالح عن أبي هريرة، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -يعني بهذا الحديث- قال: "مرَّتَينِ أو ثلاثاً" ولم يذكر أبا رَزين

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 104

ابو مریم کا بیان ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے یہاں تک کہ اسے تین مرتبہ دھو لے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہا رات گزاری یا اس کا ہاتھ کہاں گھومتا پھرتا رہا۔ (ابوداؤد شریف،کتاب الطہاۃ،؛جلد ١ ص ٧٦؛ بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا ،حدیث نمبر١٠٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ عَمرِو بن السَّرْحِ ومحمَّدُ بنُ سلمة المُراديُّ، قالا: حدَّثنا ابنُ وَهْبٍ، عن مُعاوية بن صالح، عن أبي مريم، قال:سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: "إذا استَيقَظَ أحدُكم من نَومِهِ، فلا يُدخِلْ يَدَه في الإناءِ حتَّى يَغسِلَها ثلاثَ مرَّات، فإنَّ أحدَكم لا يدري أينَ باتَت يَدُه، أو أينَ كانت تَطوفُ يَدُه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 105

حمران بن ابان مولی عثمان بن عفان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا۔پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈال کرانہیں دھو یا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین دفعہ دھو یا پھر اسی طرح بائیں ہاتھ کو پھر سر کا مسح کیا۔پھر اپنے دائیں قدم کو تین مرتبہ دھو یا پھر اسی طرح بائیں قدم پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اپنے اسی وضو کی طرح وضو فرماتے دیکھا۔ پھر فرمایا کہ جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعت پڑھے جن میں اپنے نفس سے بات نہ کرے تو اللہ تعالی اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٧٧؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٠٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا الحسنُ بن عليّ الحُلْوانيُّ، حدَّثنا عبد الرَّزَّاق، أخبرنا مَعمَرٌ، عن الزُّهريِّ، عن عطاءِ بن يزيد اللَّيثيِّ، عن حُمرانَ بن أبان مولى عثمان بن عفان، قال:رأيتُ عثمانَ بنَ عفَّان توضَّأ فأفرَغَ على يَدَيه ثلاثاً فَغَسَلَهما، ثمَّ تَمضمَضَ واستَنثَرَ، و غسلَ وجهَهُ ثلاثاً، وغسلَ يَدَهُ اليُمنى إلى المِرفَقِ ثلاثاً، ثمَّ اليُسرى مثلَ ذلك، ثمَّ مسحَ رأسَه، ثمَّ غسلَ قَدمَه اليمنى ثلاثاً ثم اليسرى مِثل ذلك، ثم قال: رأيت رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - توضَّأ مثلَ وضوئي هذا، ثم قال: "مَن تَوضَّأ مِثلَ وضوئي هذا ثمَّ صلَّى رَكعتَين لا يُحدِّثُ فيهما نفسَه، غفرَ الله ما تَقَدَّمَ من ذَنبِه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 106

حمران کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا لیکن اس میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر نہ کیا اور اس نے کہا کہ تین مرتبہ سر کا مسح کیا پھر تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اسی طرح وضو فرماتے دیکھا ہے اور فرمایا کہ جو اس سے کم بھی وضو کرے تب بھی اسے کفایت کرے گا اور نماز کے بارے میں کوئی ذکر نہ کیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٧٨؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٠٧؛حکم حدیث؛صحیح؛تحقیق البانی؛

حدَّثنا محمَّدُ بن المثنَّى، حدَّثنا الضَّحَّاكُ بن مَخلَد، حدَّثنا عبدُ الرحمن ابن وَرْدان، حدَّثني أبو سلمة بن عبد الرحمن، حدَّثني حُمْرانُ قال: رأيتَ عثمانَ بن عفان توضَّأ، فذكر نحوَه، ولم يذكر المَضمَضَةَ والاستنشاقَ، وقال فيه: ومسحَ رأسَه ثلاثاً، ثمَّ غسلَ رجلَيهِ ثلاثاً، ثم قال:رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - توضَّأ هكذا، وقال: "مَن توضَّأ دون هذا كَفَاه" ولم يذكر أمر الصَّلاة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 107

عثمان بن عبدالرحمن کا بیان ہے کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سے وضو کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے پانی مانگا یا تو لوٹے میں لایا گیا جسے انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر ڈالا اور پھر اسی پانی میں داخل کیا تو تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی لیا اور تین دفعہ منہ دھویا پھر تین مرتبہ دایاں ہاتھ دھویا اور تین مرتبہ بایاں ہاتھ دھویا ۔پھر اپنا ہاتھ داخل کرکے پانی لیا اور اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا اور ان کے اندرونی اور بیرونی حصوں کو ایک مرتبہ دھو یا پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا کہ وضو کے متعلق پوچھنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس سلسلے میں حضرت عثمان سے جو صحیح حدیثیں مروی ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح ایک دفعہ ہے کیونکہ ہر عضو کو تین بار دھونا بتا کر فرمایا کہ سر کا مسح کرے اور دوسرے ارکان کی طرح اس کا عدد بیان نہیں فرمایا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٧٩؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بن داود الإسكندرانيُّ، حدَّثنا زيادُ بنُ يونُسَ، حدَّثني سعيدُ بنُ زياد المُؤذِّن، عن عثمان بن عبد الرحمن التَّيميِّ، قال: سُئِلَ ابنُ أبي مُلَيكة، عن الوضوء، فقال:رأيتُ عثمانَ بن عفَّان سُئِلَ عن الوضوء، فدعا بماءٍ، فأُتِيَ بميضَأَةٍ، فأصغاها على يَدِهِ اليُمنى، ثمَّ أدخَلَها في الماءِ، فتَمَضمَضَ ثلاثاً، واستَنثَرَ ثلاثاً، وغَسَلَ وجهَه ثلاثاً، ثمَّ غَسَلَ يَدَهُ اليُمنى ثلاثاً، وغَسَلَ"يَدَهُ اليُسرى ثلاثاً، ثمَّ أدخَلَ يَدَهُ فأخَذَ ماءً، فمسحَ برأسِهِ وأُذُنَيهِ فغسلَ بُطونَهما وظُهورَهما مرَّةً واحدةً، ثمَّ غسلَ رجلَيهِ، ثمَّ قال: أينَ السائلُونَ عن الوضوء؟ هكذا رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأ قال أبو داود: أحاديثُ عثمان رضي الله عنه الصِّحاحُ كلُّها تدلُّ على مَسحِ الرأسِ أنَّه مرَّة، فإنَّهم ذكروا الوضوءَ ثلاثاً وقالوا فيها: ومَسَحَ رأسَه، ولم يذكروا عدداً كما ذكروا في غيره.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 108

عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابو علقمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا تو پہلے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں کو کو پنجوں تک دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیا تین تین مرتبہ اور ہر ایک کا دھونا تین تین مرتبہ بیان کر کے فرمایا کہ اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے دونوں پیر دھوئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا جیسے وضو کرتے ہوئے تم نے مجھے دیکھا ہے پھر باقی حدیث زہری کی طرح پوری بیان کی۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٧٩؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٠٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ موسى، أخبرنا عيسى، أخبرنا عُبَيد الله -يعني ابن أبي زياد-, عن عبد الله بن عُبَيد بن عُمَير، عن أبي عَلْقمةأنَّ عثمانَ دعا بماءٍ فتوضَّأ، فأفرَغَ بيدَهِ اليُمنى على اليُسرى، ثمَّ غَسلَهما إلى الكُوعَينِ، قال: ثمَّ مَضمَضَ واستَنشَقَ ثلاثاً، وذكر الوضوءَ ثلاثاً، قال: ومسحَ برأسِهِ، ثمَّ غسلَ رجلَيهِ، وقال: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - توضَّأ مِثلَ ما رأيتُموني توضَّأتُ، ثمَّ ساقَ نحو حديثِ الزُّهريِّ وأتمَّ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 109

عامر بن شقیق بن جمرہ کا بیان ہے کہ شقیق بن سلمہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی کلائیاں تین تین مرتبہ دھوئیں اور تین دفعہ سر کا مسح کیا پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ وکیع نے اسرائیل سے بھی اسے روایت کیا ہے اور صرف یہی کہا کہ تین تین مرتبہ اعضاء دھوئے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٠؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٠؛حکم حدیث؛حسن صحيح؛البانی؛

حدَّثنا هارونُ بنُ عبد الله، حدَّثنا يحيى بن آدَمَ، حدَّثنا إسرائيلُ، عن عامر بن شَقيق بن جَمرة، عن شَقيق بن سَلَمة قال:رأيتُ عثمانَ بن عفان غسلَ ذراعيه ثلاثاً ثلاثاً، ومسحَ رأسَه ثلاثاً، ثم قال: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - فَعَلَ هذا.قال أبو داود: رواه وكيعٌ عن إسرائيل قال: توضَّأ ثلاثاً، قَطْ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 110

خالد بن علقمہ نے عبد خیر سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے نماز پڑھ لی تھی۔پس انہوں نے وضوکے لیے پانی منگوایا ہم نے آپس میں کہا کہ یہ وضوکے پانی کا کیا کریں گے جب کہ نماز پڑھ چکے ہیں۔ لہذا ہمیں سکھانا چاہتے ہیں پس ایک برتن میں پانی لاکر اور ایک طشت پیش کر دیا گیا پہلے انہوں نے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئیں پھر تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی لیا۔کلی کرنے اور ناک میں پانی لینے کے لئے اسی ہتھیلی میں پانی لیا۔ پھر تین مرتبہ اپنا منہ دھویا۔ پھر تین مرتبہ دایاں ہاتھ دھویا اور تین مرتبہ بایاں ہاتھ۔ پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر ایک دفعہ اپنے سر کا مسح کیا پھر دایاں پیر تین مرتبہ دھویا اور بایاں پیر بھی تین مرتبہ۔ پھر فرمایا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو معلوم کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے تو وہ ایسا ہی تھا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨١؛ ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١١؛حکم حدیث صحيح حدیث؛الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا أبو عَوَانة، عن خالد بن عَلقمة عن عبدِ خير قال:أتانا عليٌّ رضي الله عنه وقد صلَّى، فدعا بطَهُورٍ، فقلنا: ما يَصنَعُ بالطَّهُورٍ وقد صلَّى؟ ما يُريدُ إلا ليُعَلِّمَنا، فأُتِيَ بإناءٍ فيه ماءٌ وطَسْتٍ فأفرَغ من الإناءِ على يمينهِ فغسلَ يَدَيهِ ثلاثاً، ثمَّ تَمضمَضَ واستَنثَرَ ثلاثاً، فمَضمَضَ ونَثَر مِن الكَفِّ الذي يأخُذُ فيه، ثمَّ غسلَ وجهَه ثلاثاً، وغسلَ يَدَهُ اليُمنى ثلاثاً، وغسلَ يَدَهُ الشمال ثلاثاً، ثمَّ جعلَ يَدَهُ في الإناءِ فمسحَ برأسِهِ مرَّةً واحدةً، ثمَّ غسلَ رِجلَه اليُمنى"ثلاثاً، ورِجلَه الشِّمالَ ثلاثاً، ثم قال: مَن سَرَّه أن يَعلَمَ وضوءَ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - فهو هذا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 111

خالد بن علقمہ ہمدانی کا بیان ہے کہ عبد خیر نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھنے کے بعد رحبہ میں داخل ہوئےاور پانی منگوایا تو ایک لڑکے نے برتن میں پانی لا کر طشت سمیت پیش کیا۔ راوی کا بیان ہےکہ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر تین مرتبہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا یا پھر دایاں ہاتھ داخل کیا اور تین دفعہ کلی کی۔پھر تین دفعہ ناک میں پانی لیا۔ پھر ابو عوانہ والی حدیث کے قریب قریب بیان کیا کہ آگے اور پیچھے سے سر کا ایک مرتبہ مسح پر مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨١؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا الحسنُ بن عليٍّ الحُلوانيُّ، حدَّثنا الحُسينُ بنُ عليّ الجُعفيُّ، عن زائدة، حدَّثنا خالدُ بنُ عَلقمة الهَمدانيُّ، عن عبدِ خيرٍ، قال:صلَّى عليٌّ رضي الله عنه الغَداةَ، ثمَّ دخلَ الرَّحْبةَ، فدعا بماءٍ، فأتاه الغُلامُ بإناءٍ فيه ماءٌ وطَسْتٍ، قال: فأخذَ الإناءَ بيدِهِ اليُمنى، فأفرَغَ على يَدِهِ اليُسرى وغسلَ كفيهِ ثلاثاً، ثم أدخَلَ يَدَه اليُمنى في الإناءِ- فمَضمَضَ ثلاثاً، ثمَّ ساق قريباً من حديث أبي عَوانة، قال: ثمَّ مسحَ رأسَه مُقدَّمَه ومُؤَخَّرَه مرَّةً، ثمَّ ساقَ الحديثَ نحوَه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 112

مالک بن عرفطہ نے عبد خیر سے سنا کہ میں نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ ان کے لیے کرسی لائی گئی تو اس پر جلوہ افروز ہوئے۔ پھر پانی کا ایک کوزہ لایا گیا تو انہوں نے تین دفعہ اپنے ہاتھ دھوئے ۔پھر کلی کی اور اسی ایک چلو سے ناک میں پانی لیا اور پھر باقی حدیث بیان کی۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٢؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا محمَّدُ بنُ المثنَّى، حدّثني محمَّدُ بنُ جعفر، حدّثني شُعبَة، قال: سمعتُ مالكَ بن عُرفُطة، سمعتُ عبدَ خيرٍ: رأيتُ عليّاً عليه السلام أُتِيَ بكُرسيٍّ فقَعَدَ عليه، ثمَّ أُتِيَ بكُوزٍ من ماء، فغَسَلَ يَدَيهِ ثلاثاً، ثمَّ تمضمَضَ معَ الاستِنشاقِ بماءٍ واحدٍ، وذكر هذا الحديث

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 113

زربن حبیش نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سنااور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے متعلق پوچھا گیا تھا تو حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے سر کا مسح کیا اور یہاں تک کہ پانی ٹپکنے کو تھا ۔پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح وضو فرمایا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٢؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا عثمانُ بنُ أبي شيبة، حدَّثنا أبو نُعَيم، حدَّثنا ربيعةُ الكنانيُّ، عن المنهال بنِ عَمرو، عن زرِّ بن حُبَيش:أنَّه سمعَ عليًّا رضي الله عنه وسُئِلَ عن وضوءِ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم -، فذكرَ الحديثَ، وقال: ومسحَ على رأسِهِ حتَّى الماءُ يَقطُرُ، وغسلَ رِجلَيهِ ثلاثاً ثلاثاً، ثم قال: هكذا كانَ وُضوءُ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 114

ابوفروہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلی سے روایت کی کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ انہوں نے اپنے مبارک چہرے کو تین دفعہ دھویا اور اپنی دونوں کلائیاں تین تین دفعہ دھوئیں اور اپنے سر کا ایک دفعہ مسح کیا پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بھی اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٣؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا زيادُ بنُ أيوب الطُوسيُّ، حدَّثنا عُبَيدُ الله بنُ موسى، حدَّثنا فِطْرٌ، عن أبي فَرْوة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال:رأيتُ عليّاً رضي الله عنه توضَّأ فغسلَ وجهَه ثلاثاً، وغسلَ ذراعَيهِ ثلاثاً، ومسحَ برأسِهِ واحدةً، ثم قال: هكذا توضّأ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 115

ابو حیہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو ان کا سارا وضو بیان کیا کہ تین تین مرتبہ تھا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئیں پھر فرمایا میں نے یہ پسند کیا کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنا دکھادوں۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٣؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٦؛حکم حدیث حدیث صحیح؛ الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ وأبو تَوبةَ، قالا: حدَّثنا (ح) وحدثنا عمرُو بنُ عون، أخبرنا أبو الأحوَص، عن أبي إسحاق، عن أبي حيَّة، قال:رأيتُ عليّاً رضي الله عنه توضَّأ، فذكر وُضوءَهُ كلَّه ثلاثاً ثلاثاً، قال ثم مسحَ رأسَه، ثمَّ غسلَ رجلَيهِ إلى الكعبَينِ، ثم قال: إنَّما أحبَبتُ أن أُرِيكم طُهورَ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم -

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 116

عبیداللہ خولانی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور وہ پانی سے استنجا کر چکے تھے پس انہوں نے وضوکے لیے پانی منگوایا تو ہم نے ایک پیالے میں پانی لا کر ان کے سامنے رکھ دیا پس انہوں نے فرمایا اے ابن عباس کیا میں تمہیں نہ دکھاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کیسے وضوفرمایا کرتے تھے ؟ میں عرض گزار ہوا کیوں نہیں۔ پس انہوں نے اپنے ہاتھ پر برتن سے پانی ڈالا اور اسے دھویا پھر اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئے پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کر کے برتن میں ڈالے اور لپ میں پانی بھر کر اپنے منہ پر مارا پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کی گرد پھیرکر دوسری اور تیسری دفعہ ایسا ہی کیا پھر اپنے دائیں چلو میں پانی لے کر پیشانی پر ڈالا اور اسے چہرے پر بہنے دیا۔ پھر اپنی دونوں کلائیاں کہنیوں تک تین مرتبہ دھوئے۔ پھر سر کا مسح کیا اور کانوں کے بیرونی حصے کا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر برتن میں داخل کیا اور لپ پانی لے کر اپنے پیر پر مارا جس میں جوتا پہنا ہوا تھا اور اسے اس کے ساتھ ملا۔پھر دوسرے پیر کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا میں عرض گزار ہوا کہ جوتوں سمیت ؟فرمایا کہ جوتوں سمیت ہی۔ میں دوبارہ عرض گزار ہوا کہ جوتوں سمیت میں؟ فرمایا کہ جوتوں سمیت ہی۔تھی میں سہ بارہ عرض گزار ہوا کہ جوتوں سمیت؟ فرمایا کہ جوتوں سمیت ہی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن جریج کی حدیث اس حدیث علی سے مشابہت رکھتی ہے۔اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ہے کہ اپنے سرکا مسح ایک مرتبہ کیا اور اس میں ابن وہب نے ابن جریج سے روایت کی ہے کہ اپنے سر کا مسح تین دفعہ کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ جلد ١ ص ٨٤؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٧؛حکم حدیث اسنادہ حسن؛الارنووط؛

حدَّثنا عبدُ العزيز بن يحيي الحَرَّانيُّ، حدَّثنا محمَّد -يعني ابن سلمة- عن محمَّد بن إسحاق، عن محمَّد بن طلحة بن يزيد بن رُكانة، عن عُبَيد الله الخَولانيِّ"عن ابن عبَّاس، قال: دخل عليَّ عليُّ بن أبي طالب وقد أهراقَ الماءَ، فدعا بوَضُوءٍ، فأتَيناهُ بتَورٍ فيه ماءٌ حتَّى وَضَعناهُ بينَ يَدَيهِ، فقال: يا ابن عباس، ألا أُريكَ كيفَ كان يتوضَّأ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -؟ قلتُ: بلى، قال: فأصغَى الإناءَ على يَدِهِ فغَسَلَها، ثم أدخَلَ يَدَهُ اليُمنى فأفرَغَ بها على الأخرى، ثمَّ غسلَ كفَّيهِ، ثمَّ تمضمَضَ واستَنثَرَ، ثمَّ أدخَلَ يَدَيهِ في الإناء جميعاً، فأخذَ بها حَفنةً مِن ماءٍ، فضرَبَ بها على وَجهِهِ، ثمَّ ألقَمَ إبهامَيهِ ما أقبَلَ من أُذُنَيهِ، ثمَّ الثَّانية، ثمَّ الثَّالثة مثلَ ذلك، ثم أخذَ بكفِّهِ اليُمنى قبضةً من ماءٍ فصبَّها على ناصِيَته، فتركها تَستَنُّ على وجهِهِ، ثم غسلَ ذِراعَيهِ إلى المِرفَقَينِ ثلاثاً ثلاثاً، ثمَّ مسحَ رأسَهُ وظُهُورَ أُذُنَيهِ، ثمَّ أدخَلَ يَدَيهِ جميعاً فأخذَ حَفْنةَ من ماءٍ فضرَبَ بها على رجلِهِ وفيها النَّعلُ ففَتَلَها بها، ثمَّ الأخرى مثل ذلك، قال: قلتُ: وفي النَّعلَين؟ قال: وفي النَّعلين، قال: قلت: وفي النَّعلين؟ قال: وفي النَّعلين، قال: قلت: وفي النَّعلَين؟ قال: وفي النَّعلين"قال أبو داود: وحديث ابن جُرَيج عن شَيبةَ يُشبِهُ حديثَ عليٍّ، قال فيه حجَّاجُ بن محمّد عن ابن جُرَيج: ومسحَ برأسِهِ مرَّةً واحدةً ، وقال ابنُ وَهْبٍ فيه عن ابن جُرَيج: ومسحَ برأسه ثلاثاً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 117

عمروبن یحییٰ مازنی کے والد ماجد نے حضرت عبد اللّٰہ بن زید رضی اللّٰہ عنہ سے گزارش کی جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے جد امجد تھے کہ کیا آپ ہمیں دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عبداللہ بن زید نے فرمایا ہاں چنانچہ وضو کے لئے پانی منگوا کر پہلے اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دونوں ہاتھ دھوئیں پھر تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی ڈالا پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا کہ انہیں آگے سے لے گئے اور پیچھے سے پیشانی تک لائے پھر انھیں گدّی تک لے گئے اور اسی جگہ تک واپس لے آئے جہاں سے ابتدا کی تھی پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٦؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا عبدُ الله بنُ مَسلَمة، عن مالك، عن عَمرو بن يحيى المازنيِّ، عن أبيه أنَّه قال لعبد الله بن زيد -وهو جدُّ عمرو بن يحيى المازنيِّ-: هل تستطيعُ أن تُرِيَني كيفَ كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأ؟ فقال عبدُ الله ابن زيد: نعم، فدعا بوَضوءٍ، فأفرَغَ على يَدَيهِ فغسلَ يَدَيه، ثمَّ تَمضمَضَ واستَنثَرَ ثلاثاً، ثمَّ غسلَ وجهَهُ ثلاثاً، ثمَّ غسلَ يَدَيهِ مرَّتين مرَّتين إلى المِرفَقَين، ثمَّ مسحَ رأسَه بيَدَيهِ فأقبَلَ بهما وأدبَرَ: بدأ بمُقدَّمِ رأسِهِ ثمَّ ذهبَ بهما إلى قَفَاهُ ثمَّ رَدَّهما حتَّى رجعَ إلى المكانِ الذي بدأ منه ثمَّ غسلَ رِجلَيهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 118

عمروبن یحییٰ مازنی کے والد ماجد نے حضرت عبدااللہ بن زید بن عاصم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مزکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہوئے کہا پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیا ایک ہی چلو پانی سے اور ایسا تین دفعہ کیا۔ پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٦؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١١٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا خالدٌ، عن عمرو بن يحيي المازنيِّ، عن أبيه عن عبد الله بن زيد بن عاصم، بهذا الحديث، قال: فمضمَضَ واستَنشَقَ مِن كَفٍّ واحدةٍ، يَفعَلُ ذلك ثلاثاً، ثمَّ ذكر نحوَه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 119

حبان بن واسع کے والد ماجد نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ تعالی عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا پھر اپنے سر کا مسح کیا نیا پانی لے کر اس پانی سے نہ کیا جو ہاتھوں میں لگا ہوا تھا اور اپنے دونوں پیر دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کر دیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٧؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٠؛اسنادہ صحیح؛الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ عمرو بن السَّرح، حدَّثنا ابنُ وَهب، عن عمرو بن الحارث، أنَّ حَبَّانَ بنَ واسع حدَّثه، أن أباه حدَّثه أنَّه سمع عبدَ الله بن زيد بن عاصم المازنيَّ يذكُرُ أنَّه رأى رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم -، فذكر وُضوءَهُ. وقال: ومسحَ رأسَهُ بماءٍ غيرِ فَضْلِ يَدَيهِ، وغسلَ رِجلَيهِ حتَّى أنقاهما

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 120

عبدالرحمن بن میسرہ حضرمی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت مقدام بن معد یکرب کندی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کے لیے پانی پیش کیا گیا تو آپ وضو کرنے لگے چنانچہ تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو دھویا اور تین مرتبہ اپنا مبارک چہرہ دھویا پھر تین مرتبہ اپنی دونوں کلائیاں دھوئے پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے سر کا مسح فرمایا اور کانوں کا ان کے باہر اور اندر سے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،جلد ١ ص ٨٧؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ محمَّد بن حَنبَل، حدَّثنا أبو المُغيرة، حدَّثنا حَريزٌ، حدّثني عبدُ الرحمن بن مَيسَرَة الحضرَميُّ قال:سمعتُ المقدامَ بنَ مَعْدي كَرِبَ الكِنديَّ قال: أُتِيَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - بوَضوءٍ فتوضَّأ، فغسلَ كَفيهِ ثلاثاً، وغسلَ وجهَه ثلاثاً، ثمَّ غسلَ ذِراعَيهِ ثلاثاً ثلاثاً، ثم تَمضمَضَ واستَنشَقَ ثلاثاً، ثمَّ مسحَ برأسِهِ وأُذُنَيه ظَاهِرِهما وباطِنِهما

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 121

عبدالرحمن بن میسرہ کا بیان ہے کہ حضرت مقدام بن معد یکرب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا جب آپ سر کے مسح تک پہنچے تو اپنی ہتھیلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھ کر انہیں پیچھے لے گئے یہاں تک کہ گدی تک جا پہنچے تو پھر واپس لائے یہاں تک کہ اسی جگہ آ پہنچے جہاں سے ابتدا کی تھی محمود کا بیان ہے کہ یہ مجھے حریز بن عثمان نے بتایا ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،جلد؛١؛ص ٨٨؛بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٢؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا محمودُ بن خالد ويعقوبُ بن كعب الأنطاكي -لفظُه- قالا: حدَّثنا الوليدُ بنُ مُسلم، عن حَريزِ بن عثمان، عن عبد الرحمن بن مَيسَرة عن المِقدامِ بن مَعْدي كَرِبَ قال: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - توضَّأ، فلما بَلَغَ مَسْحَ رأسِهِ وضعَ كفيهِ على مُقَدَمِ رأسِهِ فأمرهما حتَّى بلغَ القَفَا، ثمَّ ردَّهما إلى المكان الذي بدأ منه.قال محمود: قال: أخبرنىِ حَريزٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 122

محمود بن خالد اور ہشام بن خالد نے اسی سند کے ساتھ ولید سے اس معنی کی روایت کرتے ہوئے کہا اور مسح کیا اپنے دونوں کانوں کا ان کے باہر اور اندر کی جانب ۔ہشام نے یہ بھی کہا کہ اپنی انگلیاں کانوں کے سوراخ میں داخل کیں ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٨؛ ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٣؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا محمودُ بنُ خالد وهشامُ بنُ خالد -المعنى- قالا: حدَّثنا الوليدُ، بهذا الإسناد، قال:ومسحَ بأُذُنَيهِ ظاهِرِهما وباطِنِهما، زاد هشامٌ: وأدخَلَ أصابِعَه في صِماخِ أُذُنَيه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 123

یزید بن ابو مالک کا بیان ہے کہ حضرت معاویہ نے لوگوں کے لئے وضو کیا جیسا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا تھا جب وہ سر تک پہنچے تو بائیں ہاتھ سے چلو میں پانی لے کر سر کے درمیان میں ڈالا جو ٹپکنے لگا یا ٹپکنے کے قریب ہوگیا پھر سر کے اگلے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کیا اورپھر پچھلےحصے سے آگلے تک کیا۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٨٩؛،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٤؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا مُؤمَّلُ بنُ الفَضل الحرَّانيُّ، حدَّثنا الوليدُ بنُ مُسلِم، حدَّثنا عبدُ الله بن العلاء، حدَّثنا أبو الأزهر المُغيرةُ بن فَرْوَةَ ويزيدُ بن أبي مالك أنَّ مُعاويةَ تَوضَأ للنَّاسِ كما رأىْ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأُ، فلما بلغَ رأسَه غَرَف غُرفَةً من ماءٍ فتلقاها بشِمالِهِ حتَّى وَضَعَها على وَسَطِ رأسِهِ"حتَّى قَطَرَ الماءُ أو كادَ يَقطُرُ، ثمَّ مسحَ من مُقدمِهِ إلى مُؤخَّرِهِ، ومِن مُؤخَّرِهِ إلى مُقدَّمِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 124

محمود بن خالد نے ولید سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ ۔روایت کرتے ہوئے کہا۔پس انہیں تین تین دفعہ دھویا دونوں پیر دھوئے بغیر کسی گنتی کے ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٨٩؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٥؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا محمودُ بنُ خالد، حدَّثنا الوليدُ في هذا الإسناد، قال:فتوضَّأ ثلاثاً ثلاثاً، وغسلَ رجلَيهِ، بغيرِ عدد

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 125

عبداللہ بن محمد بن عقیل کا بیان ہے کہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لایا کرتے تھے ایک مرتبہ فرمایا کہ میرے وضو کے لئے پانی لاؤ پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاـ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین تین مرتبہ دھوئے اور مبارک چہرہ تین دفعہ دھویا اور ایک دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ (بازو)تین تین مرتبہ دھوئے اور دو دفعہ سر کا مسح کیا سر کے پیچھے سے ابتدا کی اور پھر آگے سے اور پھر اندر سے دونوں کانوں کا مسح کیا اور تین تین مرتبہ دونوں پیر دھوئے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا یہی معنی ہیں حدیث مسدد کے ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ؛جلد ١ ص ٩٠؛ ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٦؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا بشرُ بن المُفَضَل، حدَّثنا عبدُ الله بن محمّد بن عقيل عن الربيع بنت مُعوِّذ ابن عَفْراء، قالت: كان رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يأتينا، فحدَّثَتنا أنَّه قال: "اسكُبي لي وَضوءاً" فذكر وُضوءَ النبي - صلى الله عليه وسلم -، قال فيه: فغسلَ كَفيهِ ثلاثاً، ووضَّأ وجهَه ثلاثاً، ومَضمَضَ واستَنشَقَ"مرَّةَ، ووضَّأ يَدَيهِ ثلاثاً ثلاثاً، ومسحَ برأسِهِ مَرَّتَين: يَبدَاُ بمُؤخَّر رأسِهِ ثمَّ بمُقدَمِه، وبأُذُنَيهِ كِلتَيهما ظهورِهِما وبُطُونهما، ووَضَّأ رِجلَيهِ ثلاثاً ثلاثاً قال أبو داود: وهذا معنى حديث مُسدَّد.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 126

اسحاق بن اسمٰعیل، سفیان نے ابن عقیل سے مذکورہ حدیث کی روایت کی اور بعض باتوں میں اختلاف کرتے ہوئے کہا اور تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی ڈالا ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٩٠؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٧؛حکم حدیث شاذ؛ البانی؛

حدَّثنا إسحاقُ بنُ إسماعيل، حدَّثنا سُفيان، عن ابن عَقِيل، بهذا الحديث، يُغيِّرُ بعضَ معاني بِشرٍ، قال فيه: وتَمضمَضَ واستَنثَرَ ثلاثاً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 127

عبداللہ بن محمد بن عقیل کا بیان ہے کہ حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو فرمایا تو سارے سر کا مسح کیا یہ بالوں کی ابتدا سے ہر جانب بالوں کے جھکاؤ کے لحاظ سے کہ کسی بال کو اس کی ہیئت سے نہ ہلاتے ـ یعنی بالوں کو اسی حالت پر رکھتے ۔ (ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،؛جلد ١ ص ٩١؛ بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٢٨؛حکم حدیث حسن؛البانی؛

حدَّثنا قُتَيبةُ بنُ سعيد ويزيدُ بن خالد الهَمدانيُّ، قالا: حدَّثنا اللَّيث، عن ابن عَجْلان، عن عبد الله بن محمَّد بن عَقِيل عن الرُّبيع بنتِ مُعوِّذ ابن عَفْراء: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - توضَّأ عندها"فمسحَ الرَّأسَ كُلَّه من قَرْنِ الشَّعرِ ,كلَّ ناحية لمُنصَبِّ الشَّعرِ، لا يُحرِّكُ الشَّعرَ عن هَيئتِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 128

عبداللہ بن محمد بن عقیل کا بیان ہے کہ حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالی عنہا نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے سر کا مسح فرمایا اس کے اگلے حصے کا ،پچھلے حصے کا ،دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک ہی مرتبہ ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،ج ١ ص ٩١؛حدیث نمبر ١٣٩؛حکم حدیث حسن؛تحقیق البانی؛

حدَّثنا قُتَيبةُ بنُ سعيد، حدَّثنا بكرٌ -يعني ابنَ مُضَرَ-، عن ابن عَجْلان، عن عبد الله بن محمَّد بن عَقِيلأنَّ رُبيِّعَ بنتَ مُعوِّذ ابن عَفْراء أخبرته قالت: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأ، قالت: فمسحَ رأسَه ومسحَ ما أقبَلَ منه وما أدبَرَ وصُدْغَيهِ وأُذُنَيهِ مرَةً واحدةً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 129

حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اسی پانی سے کیا جو ہاتھوں میں لگا ہوا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،ج ١ ص ٩١؛حدیث نمبر ١٣٠؛حکم حدیث حسن؛البانی؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا عبدُ الله بنُ داود، عن سُفيانَ بنِ سعيد، عن ابن عَقِيل عن الرُّبيِّع: أنَّ النبيّ - صلى الله عليه وسلم - مسحَ برأسِهِ مِن فَضْلِ ماءٍ كانَ في يَدِهِ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 130

عبد اللہ بن محمد بن عقیل نے حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو اپنے کانوں کے دونوں سوراخوں میں انگلیاں داخل فرمائیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٣١؛ج ١ ص ٩٢؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ سعيد، حدَّثنا وكيع، حدَّثنا الحسنُ بنُ صالح، عن عبد الله بن محمَّد بن عَقِيل عن الرُّبيِّع بنت مُعوِّذ: أن النبيّ - صلى الله عليه وسلم - توضَّأ فأدخَلَ إصبَعَيهِ في حُجْرَي أُذُنَيهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 131

طلحہ بن مصرف کے والد ماجد نے اپنے والد محترم سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کا مسح ایک دفعہ کرتے دیکھا ہے یہاں تک کہ گردن کی ابتدا تک پہنچ جاتے اور مسدد نے کہا کہ اپنے سر کا مسح کیا اس کے اگلے حصے سے پچھلے آخری حصّے تک حتیٰ کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا۔مسدد کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث یحییٰ سے بیان کی تو انہوں نے اسے منکر ٹھہرایا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے امام احمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابن عینیہ اسے منکر قرار دیتے اور فرماتے طلحہ عن ابیہ عن جدہ یہ کیا ہے؟ ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٣٢؛ج ١ ص ٩٣؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا محمَّدُ بنُ عيسى ومُسدَّدٌ، قالا: حدَّثنا عبدُ الوارث، عن ليث، عن طلحة بن مُصرِّف، عن أبيه عن جدِّه قال: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يمسَحُ رأسَه مرَّةَ واحدةً، حتَّى بَلَغَ القَذَالَ -وهو أوَّلُ القَفَا-، وقال مُسدَّدٌ: مسحَ رأسَه مِن مُقدَّمِه إلى مُؤخَّرِه حتَّى أخرَجَ يَدَيهِ مِن تحتِ أُذُنَيه قال مُسدَّدٌ: فحدَّثتُ به يحيى فأنكره.قال أبو داود: سمعتُ أحمدَ يقول: ابنُ عُيَينة -زعموا- كان يُنكِرُه ويقول: أَيْشٍ هذا: طلحة، عن أبيه، عن جَده

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 132

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر ساری حدیث میں تین تین کا ذکر کیا اور فرمایا کہ سر اور کانوں کا مسح صرف ایک بار ہی فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٣٣؛ج ١ ص ٩٤؛حکم حدیث صحيح "الارنووط؛

حدَّثنا الحسنُ بن عليٍّ، حدَّثنا يزيدُ بنُ هارون، أخبرنا عَبَّادُ بنُ منصور، عن عِكرِمة بن خالد، عن سعيد بن جُبيرعن ابن عبَّاس رأى رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأ، فذكرَ الحديثَ كُلَّه ثلاثاً ثلاثاً، قال: ومسحَ برأسِهِ وأُذُنَيهِ مَسْحَةً واحدةً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 133

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھ کے دونوں کویوں کو بھی ملتے تھے ان کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا دونوں کان سر کا حصہ ہیں سلیمان بن حرب نے کہا کہ حضرت ابو امامہ ایسا ہی فرمایا کرتے تھے قتیبہ سے حماد نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کانوں کے متعلق یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی یا حضرت ابو امامہ نے۔قتیبہ نے سنان ابی ربیعہ سے کہا ہے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن ابی ربیعہ وہی ہیں جن کی کنیت ابوربیعہ ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ١٣٤؛ج ١ ص ٩٥؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا سُليمانُ بنُ حرب، حدَّثنا حمَّاد (ح)وحدَّثنا مُسدَّد وقُتَيبةُ، عن حمَّاد بن زيد، عن سِنان بن ربيعة، عن شهْرِ بنِ حَوشب عن أبي أُمامة ذكرَ وُضوءَ النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يَمسَحُ المَأْقَين، قال: وقال: الأُذُنانِ مِن الرَّأسِ. قال سُليمانُ بنُ حرب: يقولُها أبو أمامة. قال قُتَيبةُ: قال حمَّاد: لا أدري هو مِن قولِ النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - أو أبي أمامة، يعني قصَّة الأُذُنين قال قُتَيبةُ، عن سنان أبي ربيعة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 134

عمر بن شعیب کے والد ماجد سے ان کے والد محترم نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔یارسول اللّٰہ وضو کا طریقہ کیا ہے؟ پس آپ نے برتن میں پانی منگوایا اور اس سے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے۔پھر تین مرتبہ اپنا مبارک چہرہ دھویا۔ پھر تین تین دفعہ اپنی کلائیاں دھوئیں ۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنی انگلیوں کو کانوں کے سوراخوں میں داخل کیا اور دونوں انگوٹھوں کے ساتھ کانوں کے بیرونی حصے کا اور شہادت کی دونوں انگلیوں سے کانوں کے اندرونی حصے کا مسح کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا کہ وضو کا طریقہ یہ ہے جس نے اس پر کچھ اضافہ کیا یا کچھ کمی کی تو اس نے برا کیا اور ظلم کیایا ظلم کیا اور برا کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا،حدیث نمبر ١٣٥؛ج ١ ص ٩٥؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا أبو عَوَانة، عن موسى بن أبي عائشةَ، عن عمرو ابن شُعيب، عن أبيه عن جدِّه: أن رجلاً أتى النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - فقال: يا رسولَ الله، كيفَ الطُّهورُ؟ فدعا بماءٍ في إناءٍ فغسلَ كفَّيهِ ثلاثاً، ثمَّ غسلَ وجهَه ثلاثاً، ثمَّ غسلَ ذِراعَيهِ ثلاثاً، ثمَّ مسحَ برأسِهِ وأدخَلَ إصبَعَيهِ السَّبَّاحَتَينِ في أُذُنَيهِ ومسحَ بإبهامَيهِ على ظاهِرِ أُذُنَيهِ وبالسَّبَّاحَتَينِ باطِنَ أُذُنَيهِ، ثمَّ غسلَ رِجلَيهِ ثلاثاً ثلاثاً، ثم قال: "هكذا الوضوء، فمَن زادَ على هذا أو نَقَصَ فقد أساءَ وظَلَمَ" أو "ظَلَمَ وأساءَ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 135

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دودفعہ وضو کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ،حدیث نمبر ١٣٦؛ج ١ ص ٩٦؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بنُ العلاء، حدَّثنا زيدٌ -يعني ابنَ الحُبَاب-، حدَّثنا عبدُ الرحمن بن ثَوبان، حدَّثنا عبدُ الله بنُ الفَضْل الهاشميُّ، عن الأعرج عن أبي هريرة: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - توضّأ مرَّتَين مرَّتَين

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 136

عطاء بن یسار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے ہم سے فرمایا۔کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں یہ دکھاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کس طرح وضو فرمایا کرتے تھے پس انہوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دائیں ہاتھ میں ایک چلو پانی لے کر اس سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا پھر دوبارہ پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو اکھٹا کیا اور مبارک چہرے کو دھویا پھر اور پانی لے کر اس سے دایاں ہاتھ دھو یا پھر اور پانی لے کر اس سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر پانی سے ایک چلو لے کر اسے گرا دیا اور اس تری سے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا پھر ایک چلو پانی اور لے کر اپنے دائیں پیر پر چھڑکا اور پاؤں میں جوتا تھا تو اس پر ہاتھوں سے مسح کیا کہ ایک ہاتھ اور پاؤں کے اوپر اور دوسرا جوتے کے نیچے رکھا۔پھر اسی طرح بائیں پیر کا مسح کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ،حدیث نمبر ١٣٧؛ج ١ ص ٩٦؛حکم حدیث صحيح ؛تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا عثمانُ بنُ أبي شيبة، حدَّثنا محمَّد بنُ بِشر، حدَّثنا هشامُ بنُ سعد، حدَّثنا زيدٌ، عن عطاء بن يسار، قال:قال لنا ابن عبَّاس: أتُحبُّونَ أن أُرِيكم كيف كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأ؟ فدعا بإناءِ فيه ماءٌ، فاغتَرَفَ غُرفةً بيدِهِ اليُمنى، فتَمضمَضَ واستَنشَقَ، ثمَّ أخذَ أُخرى فجمعَ بها يَدَيهِ، ثمَّ غسلَ وجهَه، ثمَّ أخذَ أُخرى فغسلَ بها يَدَهُ اليُمنى، ثمَّ أخذَ أُخرى فغسلَ بها يَدَهُ اليُسرى ثمَّ قبضَ قَبضَةً مِنَ الماءِ، ثمَّ نَفضَ يَدَهُ، ثمَّ مَسَحَ بها رأسَه وأُذُنَيه، ثمَّ قبضَ قبضةً أُخرى مِن الماء، فرشَّ على رِجلِهِ اليُمنى وفيها النَّعلُ، ثمَّ مَسَحَها بيَدَيهِ: يدٌ فوقَ القَدَمِ ويدٌ تحتَ النَّعل، ثمَّ صنعَ باليُسرى مثلَ ذلك

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 137

عطاء بن یسار سے روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا وضو نہ دکھاؤ؟ پس انہوں نے ایک ایک دفعہ وضو کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً،حدیث نمبر ١٣٨؛ج ١ ص ٩٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيي، عن سفيان، حدَّثني زيدُ بنُ أسلمَ، عن عطاء بن يسار عن ابن عبَّاس قال: ألا أُخبِرُكم بوضوءِ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فتوضَّأ مرَّةً مرَّةً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 138

طلحہ بن مصرف سے ان کے والد ماجد نے اور ان سے ان کے والد محترم نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ وضو فرما رہے تھے اور پانی آپ کے چہرہ اقدس اور داڑھی مبارک سے سینہ پرنور پر بہہ رہا تھا۔ پس میں نے دیکھا کہ آپ نے کلی کرنے اور ناک میں پانی لینے کے درمیان فرق رکھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْفَرْقِ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ،حدیث نمبر ١٣٩؛ج ١؛ص ٩٧؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا حُمَيدُ بنُ مَسعَدَة، حدَّثنا مُعتَمِرٌ قال: سمعتُ ليثاً يذكر عن طلحة، عن أبيه عن جدِّه، قال: دخلتُ -يعني- على النبي - صلى الله عليه وسلم - وهو يتوضَّأ والماءُ يسيلُ مِن وجهِهِ ولحيتهِ على صَدرِهِ، فرأيتُه يَفصِلُ بينَ المَضمَضَةِ والاستِنشاق

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 139

اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اسے چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی لے اور ناک سنکے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر١٤٠؛ج ١ ص ٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ».

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 140

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ناک کو دویاتین مرتبہ مبالغہ کے ساتھ سنک لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر ١٤١؛ج ١ ص ٩٨؛حکم حدیث اسنادہ قوی تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ موسى، حدَّثنا وكيعْ، حدَّثنا ابنُ أبي ذئب، عن قارظٍ، عن أبي غَطَفان عن ابن عبَّاس، قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "استَنثِروا مرَّتين بالِغَتَينِ أو ثلاثاً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 141

حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں بنی منتفق کا وفد بنا کر یا ان کے وفد میں شامل ہوکر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جانب روانہ ہوا ۔جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو کاشانہ اقدس پر آپ کو نہ پایا اور وہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ کا حکم دیا جو ہمارے لئے بنایا گیا اور تھالی لائی گئی اورقتیبہ نے تھالی اور کھجوروں کا ذکر نہیں کیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا کہ تمہیں کچھ کھلایا یا تمہارے متعلق کسی چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ہم عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللّٰہ ہاں !اسی اثنا میں کہ ہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چرواہا گزرا جو بکریوں کو چاراگاہ کی طرف لے جارہا تھا اور اس کے ساتھ ایک نومولود بچہ تھا جو ممیا رہاتھا فرمایا کہ اے فلاں کیا بچہ دیا ہے عرض گزار ہوا کہ پٹھیا۔ فرمایا کہ اس کے بدلے ہمارے لئے ایک بکری ذبح کر دو پھر فرمایا کہ اپنے لئے نہ سمجھ لینا بلکہ اسے ہمارے لئے ذبح کرنا۔ ریوڑ میں سوبکریاں ہیں اور ہم ان میں اضافہ کرنا نہیں چاہتے۔ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی جگہ ہم بکری ذبح کروا لیتے ہیں۔ میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ میری بیوی بد زبان ہے فرمایا کہ تو اسے طلاق دے دو میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ ہم نے ایک عرصہ اکھٹے گزارا ہے اس سے بچے بھی ہیں۔ فرمایا تو اسے نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہوگی تو سمجھ جائے گی اور اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارنا میں گزار ہوا یا رسول اللہ مجھےوضوکے متعلق بتایئے فرمایا پورا وضو کیا کرواور انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو اور ناک میں مبالغے کے ساتھ پانی لیا کرو ماسوائے اس حالت کے کہ تم روزہ دار ہو ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر١٤٢؛ج ١ ص ١٠٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا قُتَيبةُ بنُ سعيد في آخرين، قالوا: حدَّثنا يحيي بنُ سُلَيم، عن إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَةعن أبيه لَقيطِ بن صَبِرَة، قال: كنتُ وافِدَ بني المنْتَفِقِ، أو في وَفدِ بني المُنتَفِقِ إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: فلمَّا قَدِمنا على رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - فلم نُصادِفْهُ في مَنزِله، وصادَفْنا عائشةَ أمَ المؤمنين، قال: فأمَرَت لنا بخَزِيرةٍ فصُنِعَت لنا، قال: وأُتينا بقِناعٍ -ولم يُقِم قُتَيبةُ القِناع، والقِناعُ: الطَّبَقُ فيه تمرٌ- ثمَّ جاء رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: "هل أصَبتم شيئاً؟ "، أو "أُمِرَ لكم بشيءٍ؟ " قال: قلنا: نعم يا رسول الله، قال: فبينا نحنُ مع رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - جُلوسٌ إذ دفَعَ الرَّاعي غَنَمَه إلى المُرَاحِ، ومَعَه سَخْلةٌ تَيعَرُ، فقال: "ما وَلَّدتَ يا فُلان؟ " قال: بَهْمةً، قال: "فاذبَحْ لنا مكانَها شاةً" ثمَّ قال: "لا تَحسِبَنَّ -ولم يقل: لا تَحسَبَنَّ- أنَّا من أجلِكَ ذَبَحناها، لنا غَنَمٌ مئةٌ لا نُريدُ أن تزيدَ، فإذا وَلَّدَ الرَّاعي بَهْمةً ذَبَحنا مكانَها شاةً".قال: قلت: يا رسولَ الله، إنَّ لي امرأةً، وإنَّ في لسانِها شيئاً -يعني البَذَاءَ- قال: "فطَلِّقها إذاً" قال: قلت: يا رسولَ الله، إنَّ لها صُحبةً ولي منها ولدٌ، قال: "فمُرْها -يقول: عِظْها- فإن يَكُ فيها خيرٌ فستَفعَلُ ولا تَضرِبْ ظَعينَتَكَ كضَربِكَ أُمَيَّتَكَ" فقلتُ: يا رسولَ الله، أخبرني عن الوضوء، قال: "أسبغِ الوضوءَ، وخَلِّلْ بينَ الأصابعِ، وبالِغْ في الاستِنشاقِ إلا أن تكونَ صائماً"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 142

عاصم بن لقیط بن صبرہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ وہ بنی منافق کا وفد لائے تو وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر معنا مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تھوڑی ہی دیر میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لے آئے آگے کو جھکتے ہوئے اور راوی نے خزیرہ کی جگہ عصیدہ کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر١٤٣؛ج ١ ص ١٠٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا عُقبةُ بنُ مُكرَم، حدَّثنا يحيي بنُ سعيد، حدَّثنا ابنُ جُرَيج، حدَّثني إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرة عن أبيه وافِدِ بني المُنتَفِقِ أنَّه أتى عائشة، فذكر معناه، قال: فلم نَنشَبْ أن جاء رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يَتَقَلَّعُ يَتكَفَّأ. وقال: "عَصيدة" مكان "خَزيرة"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 143

محمد بن یحییٰ بن فارس ابوعاصم ،ابن جریج نے یہ حدیث اسی طرح روایت کرتے ہوئے اس میں کہا ۔جب وضو کرو تو کلی کرلیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِاسْتِنْثَارِ،حدیث نمبر١٤٤؛ج ١ ص ١٠١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بنُ يحيي بن فارس، حدَّثنا أبو عاصم، حدَّثنا ابن جُرَيج، بهذا الحديث، قال فيه:إذا توضَّأتَ فمَضْمِض

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 144

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو ایک چلو پانی لے کر تھوڑی کے نیچے لگاتے اور داڑھی مبارک میں اس کے ساتھ خلال کرتے اور فرمایا کہ میرے پروردگار نے مجھے یہی حکم دیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ،حدیث نمبر١٤٥؛ج ١ ص ١٠١؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا أبو تَوبَة -يعني الرَّبيعَ بنَ نافع-، حدَّثنا أبو المَليحِ، عن الوليد بن زَوْران عن أنس بنِ مالك: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - كان إذا توضّأ أخذَ كفّاً من ماءٍ فأدخَلَه تحتَ حَنَكِهِ فخلَّلَ به لِحيتهُ، وقال: "هكذا أمَرَني ربِّي"قال أبو داود: والوليدُ بنُ زَوْران روى عنه حجَّاجُ بن حجَّاح وأبو المَليح الرَّقِّيُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 145

راشد بن سعد کا بیان ہے کہ حضرت ثوبان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تو ان لوگوں کو سردی لگی ۔جب وہ خدمت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں واپس آکر حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں حکم فرمایا کہ پگڑیوں اور موزوں پر مسح کیا کریں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ،حدیث نمبر١٤٦؛ج ١ ص ١٠٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بن محمَّد بن حَنبَل، حدَّثنا يحيى بنُ سعيد، عن ثَورٍ، عن راشد بن سعد عن ثَوبان، قال: بعثَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - سَرِيَّة فأصابَهُم البَردُ، فلمَّا قَدِمُوا على رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - أمَرَهُم أن يَمسَحوا على العَصَائِبِ والتَّساخِين

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 146

ابومعقل سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور آپ کے اوپر قطری کا بنا ہوا عمامہ تھا پس آپ نے اپنا دست مبارک عمامے کے نیچے داخل کر کے سر اقدس کے اگلے حصے کا مسح کیا اور مقدس عمامے کی بندش کو نہ توڑا ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ،حدیث نمبر١٤٧؛ج ١ ص ١٠٤؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ صالح، حدَّثنا ابنُ وَهْب، حدَّثني مُعاويةُ بنُ صالح، عن عبد العزيز بن مُسلِم، عن أبي مَعقِل عن أنس بن مالك، قال: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأ وعليه عِمامةٌ قِطْريَّةٌ، فأدخَلَ يَدَهُ مِن تحتِ العِمامةِ، فمسَحَ مُقَدَّمَ رأسِهِ ولم يَنقُضِ العِمامَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 147

ابوعبدالرحمن حبلی سے روایت ہے کہ حضرت مستورد بن شداد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلی کو اپنی چھنگلی انگشت مبارک سے ملتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ،حدیث نمبر ١٤٨؛ج ١ ص ١٠٤؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا قُتَيبةُ بنُ سعيد، حدَّثنا ابن لَهِيعةَ، عن يزيد بن عمرو، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليِّ عن المُستَورِدِ بن شدَّاد، قال: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - إذا توضَّأ يَدلُكُ أصابعَ رِجلَيهِ بخِنصَرِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 148

عروہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اپنے والد ماجد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ غزوہ تبوک میں نماز فجر سے پہلےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چھوڑ کر لوگوں سے ایک جانب ہو گئے تو میں نے بھی آپ کے ساتھ راستہ چھوڑ دیا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ جب واپس آئے تو میں نے آپ کے دست پر چھا گل سے پانی ڈالاپس آپ نے دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنا پرنور چہرہ دھویا پھر اپنی کلائیوں سے کپڑا ہٹانا چاہا تو جبہ مبارک کی دونوں آستین تنگ تھی پس اپنے ہاتھ داخل کئے اور انہیں جبہ کے نیچے سے نکال لیا اور پھر دونوں کو کہنیوں تک دھو یا اور سر کا مسح فرمایا پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کر کے سوار ہوگئے پس ہم سفر کرتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ جب لوگوں سے ملے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے جنہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو آگے کھڑا کر لیا تھا نماز کا وقت ہو جانے کے باعث لوگوں کو نماز پڑھانے لگے تھے حضرت عبدالرحمن کو ہم سپایاکہ وہ لوگوں کو نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوگئے لہذا حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پیچھے آپ نے دوسری رکعت پڑھی جب حضرت عبدالرحمن نے سلام پھیر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باقی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے جبکہ مسلمان فارغ ہو چکے تھے پس انہوں نے کثرت سے تسبیح کہنا شروع کر دیں کیونکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز پڑھ لی جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سلام پھیراتو ان سے فرمایا۔تم نے درست کیا تم نے اچھا کیا۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ،حدیث نمبر ١٤٩؛ج ١ ص ١٠٥؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بن صالح، حدَّثنا عبدُ الله بنُ وَهب، أخبرني يونُسُ بنُ يزيد، عن ابن شِهاب، حدَّثني عبَّادُ بنُ زياد، أنَّ عُروةَ بنَ المُغيرة بن شُعبَة أخبره أنَّه سمع أباه المُغيرةَ يقول: عَدَلَ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأنا مَعَهُ في غزوةِ تَبوكَ قبلَ الفَجرِ، فعَدلتُ مَعَه، فأناخَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - فتبرَّزَ، ثمَّ جاءَ فسَكَبتُ على يَده مِنَ الإداوة، فغَسَلَ كَفَّيهِ، ثمَّ غسلَ وجهَه، ثمَّ حَسَرَ عن ذِراعَيهِ فضاقَ كُمَّا جُبَّتهِ، فأدخَلَ يَدَيهِ فأخرَجَهما مِن تحتِ الجُبَّةِ فغَسَلَهما إلى المِرفَقِ، ومسحَ برأسِهِ، ثمَّ توضَّأ على خُفَّيه، ثمَّ رَكِبَ، فأقبَلنا نسيرُ حتى نَجِدَ الناسَ في الصَّلاةِ قد قَدَّمُوا عبدَ الرحمن بنَ عوفٍ فصلَّى بهم حينَ كانَ وقتُ الصَّلاة، ووَجَدنا عبدَ الرحمن وقد رَكَعَ لهم ركعةً من صلاةِ الفَجرِ، فقامَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - مع فَصَفَّ مع المسلمين، فصلَّى وراء عبد الرحمن بن عَوفٍ الركعةَ الثَّانيةَ، ثمَّ سلَّم عبدُ الرحمن، فقام النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - في صلاتِهِ ففَزِعَ المُسلمونَ، فأكثروا التَّسبيحَ لأنَّهم سَبَقُوا النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - بالصَّلاة، فلمَّا سلَّم رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - قال لهم: "قد أصَبْتُم" أو "قد أحسَنتم"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 149

حضرت مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اپنی پیشانی مبارک پر مسح کیا اور ذکر کیا کہ عمامہ کے اوپر معتمر ان کے والد ماجد بکربن عبداللّٰہ،حسن،ابن مغیرہ بن شعبہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم موزوں اور اپنی پیشانی مبارک اور اپنے عمامہ مبارک پر مسح فرمایا کرتے تھے۔بکر کا بیان ہے کہ اسے میں نے ابن مغیرہ سے سنا ہے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٠؛ج ١ ص ١٠٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيى -يعني ابنَ سعيد- (ح) وحدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا المُعتَمِرُ، عن التَّيميِّ، حدَّثنا بكرٌ، عن الحسن، عن ابن المُغيرة بن شُعبَةعن المغيرة بن شُعبَة: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - توضَّأ ومسحَ ناصِيَتَهُ، ذكرَ فوقَ العِمامة.قال عن المعتمر: سمعتُ أبي يُحدِّثُ عن بكر بن عبد الله، عن الحسن، عن ابن المُغيرة بن شُعبَة، عن المُغيرة: أنَّ نبيَّ الله - صلى الله عليه وسلم - كانَ يَمسَحُ على الخُفَّينِ، وعلى ناصِيَتِهِ، وعلى عِمامَتِهِ.قال بكر: وقد سَمِعتُه من ابن المُغيرة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 150

عروہ بن شعبہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ ہم چند سوار رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل تھی ۔پس حضور اپنی حاجت کے لیے ایک جانب نکلے جب واپس تشریف لائے تو میں چھاگل لیے ہوئے ملا پس میں نے پانی ڈالا تو آپ نے دونوں ہاتھ دھوئے اور مبارک چہرہ بھی ۔پھر اپنی کلائیاں نکالنے کا ارادہ کیا اور آپ نے رومی جبوں میں سے صوف کا جبہ پہنا ہوا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں پس آپ نے انھیں نیچے کی جانب نکال لیا ۔پھر میں موزے اتار نے کے لیے جھکا تو مجھ سے فرمایا کہ موزوں کو رہنے دو کیوں کہ میں نے انھیں اس وقت پہنا تھا جبکہ میرے دونوں قدم طہارت سے تھے پس آ پ نے ان پر مسح فرمایا۔ یونس کے والد ماجد سے شعبی نے فرمایا کہ عروہ نے اپنے والد ماجد کی شہادت دی اور ان کے والد ماجد نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شہادت دی۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥١؛ج ١ ص ١٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا عيسى بنُ يونُسَ، حدّثني أبي، عن الشَّعبيِّ، قال: سمعتُ عُروةَ بن المُغيرة بن شُعبَة يذكر عن أبيه، قال: كُنَّا مَعَ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - في رَكْبِهِ ومعي إداوةٌ فخرجَ لحاجتِهِ، ثمَّ أقبَلَ فتَلَقَّيتُه بالإداوةِ، فأفرَغتُ عليه، فغسلَ كَفَّيهِ ووجهَهُ، ثمَّ أرادَ أن يُخرِجَ ذِراعَيهِ وعليه جُبَّةٌ مِن صُوفٍ من جِبَابِ الروم ضَيِّقةَ الكُمَّينِ، فضاقت، فادَّرَعَهُما ادراعاً، ثمَّ أهوَيتُ إلى الخُفَّينِ لأنزِعَهُما، فقال لي: "دَعِ الخُفَّين، فإنِّي أدخَلتُ القَدَمَينِ الخُفَّينِ وهما طاهِرَتانِ" فمسحَ عليهما، قال أبي: قال الشَّعبيُّ: شَهِدَ لي عُروةُ على أبيه، وشَهِدَ أبوه على رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 151

زرارہ بن اوفی سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیچھے رہ گئے۔ پھر پورے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا پس نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کی طرف سے جاری رکھنے کا اشارہ فرمایا پس میں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے پیچھے ایک رکعت پڑھی۔ جب انہوں نے سلام پھیر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر وہ رکعت پڑھی جو رہ گئی تھی اور اس پر کوئی اور اضافہ نہیں کیا۔ امام ابوداؤد نے فرمایا آیا کہ حضرت ابو سعید خدری حضرت ابن زبیر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہم فرمایا کرتے تھے کہ جو طاق رکعتیں پائے تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٢؛ج ١ ص ١٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا هُدبةُ بنُ خالد، حدَّثنا همَّامٌ، عن قتادة، عن الحسن وعن زُرارةَ بن أوفى انَّ المُغيرةَ بنَ شُعبَة قال: تَخَلَّفَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -، فذكر هذه القِصَّة، قال: فأتَينا النَّاسَ وعبدُ الرحمن بنُ عَوفٍ يُصلِّي بهم الصُّبحَ، فلمَّا رأى النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - أراد أن يتأخَّر، فأومَأ إليه أن يمضي، قال: فصَلَّيتُ أنا والنبيُّ - صلى الله عليه وسلم - خَلفَهُ ركعةَ، فلمَّا سَلَّمَ قامَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - فصلَّى الرَّكعةَ التي سُبِقَ بها، ولم يَزِدْ عليها شيئاً قال أبو داود: أبو سعيد الخُدْريُّ وابنُ الزُّبير وابنُ عمر يقولون: مَن أدرَكَ الفردَ مِنَ الصَلاةِ عليه سجدتا السَّهو

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 152

ابو عبدالرحمن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی موجود تھے جب کہ وہ حضرت بلال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دریافت کررہے تھے پس حضرت بلال نے فرمایا کہ حضور حاجت کے لئے باہر تشریف لے جاتے چنانچہ آپ کی خدمت میں پانی پیش کیا جاتا تو وضو فرماتے اور مسح کرتے اپنے عمامےاور موزوں پر۔ امام ابوداؤد نے فرمایا یہ وہ ابو عبداللہ راوی ہے جو بنی تمیم بن مرہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٣؛ج ١ ص ١٠٩؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا عُبَيدُ الله بنُ معاذ، حدَّثنا أبي، حدَّثنا شُعبة، عن أبي بكر -يعني ابنَ حَفص بن عمر بن سعد- سمع أبا عبد الله، عن أبي عبد الرحمن انَّه شَهِدَ عبدَ الرحمن بنَ عَوفِ يسألُ بلالاً عن وُضوء رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: كان يخرُجُ يقضي حاجَتَه فآَتيهِ بالماءِ فيتوضأ ويَمسَحُ على عِمامَتِهِ ومُوقّيه قال أبو داود: هو أبو عبد الله مولى بني تيم بن مُرَّة.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 153

ابوزرعہ بن عمروبن جریر سے روایت ہے کہ حضرت جریر بن عبدااللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پیشاب کرکے وضو کیا تو موزوں پر مسح کیا اور فرمایا کہ میرے لیے مسح کرنے میں کیا رکاوٹ ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ایسا سورۃ المائدہ کے نزول سے پہلے ہوتا تھا۔انھوں نے کہا کہ میں نے سورۃ المائدہ کی نازل ہو جانے کے بعد اسلام قبول کیا۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٤؛ج ١ ص ١٠١٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا علي بنُ الحسين الدَّرْهميُّ، حدَّثنا ابنُ داود، عن بُكير بن عامر، عن أبي زُرعة بن عمرو بن جرير أنَّ جريراً بالَ ثمَّ توضأَ فمسحَ على الخُفَّين وقال: ما يَمنَعُني أن أمسَحَ وقد رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يَمسَحُ قالوا: إنَّما كانَ ذلك قبلَ نُزولِ المائدةِ، قال: ما أسلَمتُ إلا بعد نزولِ المائدة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 154

ابوبردہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دوسیاہ اور سادے موزے آپ کے پہننے کے لئے تحفے کے طور پر بھیجے۔ آپ نے انہیں پہنا پھر وضو فرمایا اور ان کے اوپر مسح کیا مسدد نے دلہم بن صالح سے کہا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث کو صرف اہل بصرہ نے ہی روایت کیا ہے۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٥؛ج ١ ص ١٠١١؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ وأحمدُ بنُ أبي شُعيب الحَرَّانيُّ، قالا: حدَّثنا وكيعٌ، حدَّثنا دَلْهمُ بنُ صالح، عن حُجَير بن عبد الله، عن ابن بُرَيدة عن أبيه: أنَّ النَّجاشيَّ أهدى إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - خُفَّين أسوَدَينِ ساذَجَينِ، فلَبِسَهما ثمَّ تَوضَّأ ومسحَ عليهما. قال مُسدَّدٌ: عن دَلْهَم بن صالح قال أبو داود: هذا مما تفرَّدَ به أهلُ البصرة.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 155

عبد الرحمن بن ابونعم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا۔ تو میں عرض گزار ہوا یا رسول اللہ کیا آپ بھول گئے ہیں؟ فرمایا بلکہ تم بھول گئے ہو کیونکہ مجھے میرے رب عزوجل نے یہی حکم فرمایا ہے۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،باب المسح على الخفين،حدیث نمبر ١٥٦؛ج ١ ص ١٠١١؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ يونس، حدَّثنا ابنُ حَيٍّ -هو الحسنُ بنُ صالح-، عن بُكير بن عامر البَجَلي، عن عبد الرحمن بن أبي نُعْم عن المغيرة بن شُعبَة: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - مسحَ على الخُفَّين، فقلتُ: يا رسولَ الله، أنسيتَ؟ قال: "بل أنتَ نسيتَ، بهذا أمرني ربِّي عزَ وجلَّ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 156

ابو عبداللہ جدولی نے حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موزوں پر مسح کی مدت مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک رات دن ہے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ،حدیث نمبر ١٥٧؛ج ١ ص ١٠١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا حفصُ بنُ عمر، حدَّثنا شُعبة، عن الحَكَمِ وحمَاد، عن إبراهيم، عن أبي عبد الله الجَدَليِّ عن خزيمة بن ثابت، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: "المسحُ على الخُفَّينِ للمُسافِرِ ثلاثةُ أيَّامِ، وللمُقيمِ يومٌ وليلةٌ" قال أبو داود: رواه منصورُ بنُ المُعتَمِر عن إبراهيم التَّيمىَّ بإسناده، قال فيه: ولو استَزَدْناه لزادَنا.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 157

ابی بن عمارہ سے حضرت یحییٰ بن ایوب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی جانب نماز پڑھی تھی کہ میں عرض گزارہوا یا رسول اللہ کیا میں موزوں پر مسح کر لیا کرو؟فرمایا ہاں۔ عرض کی کہ ایک دن فرمایا دو دن عرض گزار ہوئے تین دن فرمایا اور جو تم چاہو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن ابی مریم مصری، یحییٰ بن ایوب، عبد الرحمن بن رزین، محمد بن یزید بن ابو زیاد، عبادہ بن نستی نے ابی بن عمارہ سے جو روایت کی ہے اس میں کہا۔ یہاں تک کہ سات تک پہنچے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جو تمہارا دل چاہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس کی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے اور یہ مضبوط نہیں ہے اور اسے یحیی بن اسحاق شیلحینی نے یحیٰی بن ایوب سے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے۔ نوٹ:امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک موزوں پر مسح کی مدت مقیم کے لئے ایک دن ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن تین رات ہے۔ موزوں پر مسح کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہےاس کا انکار وہی کرے گا جو بدعتی یا بدمذہب ہو واللہ تعالی اعلم۔ ابوداؤد شریف مترجم:مولانا عبد الحکیم خاں اختر شاہ جہاں پوری ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ،حدیث نمبر ١٥٨؛ج ١ ص ١١٣؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا يحيى بنُ مَعِين، حدَّثنا عمرُو بنُ الرَّبيع بن طارق، أخبرنا يحيى ابنُ أيوب، عن عبد الرحمن بن رَزين، عن محمّد بن يزيد، عن أيوب بن قَطَن عن أُبىِّ بن عُمارة -قال يحيى بن أيوب: وكانَ قد صلَّى مع رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - القِبلَتَينِ- أنَّه قال: يا رسولَ الله، أمسَحُ على الخُفَّين؟ قال: "نعم " قال: يوماً؟ قال: "يوماً" قال: ويومَينِ؟ قال: "ويومَينِ" قال: وثلاثةً؟ قال: "نعم، وما شِئتَ"قال أبو داود: رواه ابنُ أبي مريم المِصريُّ، عن يحيي بن أيوب، عن عبد الرحمن بن رَزين، عن محمَّد بن يزيد بن أبي زياد، عن عُبادة بن نُسَيٍّ، عن أُبيِّ بن عُمارة، قال فيه: حتَّى بلغَ سبعاً، قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "نعم، مما بَدَا لك" وقد اختُلِفَ في إسناده، وليس بالقويَّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 158

ہزیل بن شرحبیل نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےوضو فرمایا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن مہدی اسے بیان نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت مغیرہ سے مشہور روایت یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور اسی طرح حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں پر مسح کیا یہ روایت متصل نہیں اور یہ مضبوط بھی نہیں۔ حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت براء بن عازب، حضرت انس بن مالک، حضرت ابو امامہ، حضرت سہل بن سعد اور حضرت عمر بن حریث کیا حضرت عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی اس کی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ،حدیث نمبر ١٥٩؛ج ١ ص ١١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا عثمان بنُ أبي شيبة، عن وكيع، عن سُفيان، عن أبي قيس الأوديِّ، عن هُزَيل بن شُرَحبيل عن المُغيرة بن شُعبَة: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - توضّأ ومسحَ على الجَورَبَينِ والنَّعلَين قال أبو داود: كان عبدُ الرحمن بن مَهْديّ لا يُحدِّثُ بهذا الحديث، لأنَّ المعروفَ عن المُغيرة أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - مسحَ على الخُفَّين ورُوي هذا أيضاً عن أبي موسى الأشعريِّ عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - أنَّه مسحَ على الجَورَبَين، وليس بالمُتَّصلِ ولا بالقويِّ قال أبو داود: ومسح علي الجَورَبَين عليُّ بنُ أبي طالب، وأبو مسعود، والبراءُ بنُ عازب، وأنسُ بنُ مالك، وأبو أمامة، وسهلُ بن سعد، وعمرُو بنُ حُرَيث، ورُوِيَ ذلك عن عمر بن الخطَّاب وابن عبَّاس

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 159

عباد کو حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اپنے جوتوں اور پیروں پر مسح کیا۔عباد نے کہا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک قوم کی دو کنؤں کی درمیانی نالی پر تشریف فرما ہوئے۔ مسدد نے دو کنؤں کے درمیانی نالی کا ذکر نہیں کیا۔پھر دونوں اس بات پر متفق ہیں اور مسح کیا اپنےجوتوں اور اپنے دونوں پیروں پر۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ،حدیث نمبر١٦٠؛ج ١ ص ١١٦؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ وعبَّادُ بنُ موسي، قالا: حدَّثنا هُشَيم، عن يعلى بن عطاءٍ، عن أبيه؛ قال عبَّاد: قال:أخبرني أوسُ بنُ أبي أوس الثَّقفيُّ: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - وقال عبَّاد: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - تى كِظامَةَ قَومٍ -يعني المِيضَأَةَ-، ولم يذكر مُسدَّدٌ المِيضَأَةَ والكِظامَةَ، ثمَّ اتَّفقا، فتوضَّأ ومسحَ على نَعلَيهِ وقَدَمَيه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 160

عروہ بن زبیر نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم موزوں پر مسح فرمایا کرتے تھے۔محمد بن صباح کے سوا دوسرے حضرات نے کہا کہ موزوں کی پشت پر مسح فرمایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦١؛ج ١ ص ١١٧؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بنُ الصَّبَّاح البزَّازُ، حدَّثنا عبد الرحمن بن أبي الزَّناد، قال: ذكره أبي، عن عُروة بن الزُّبير عن المُغيرة بن شُعبَة: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - كان يَمسَحُ على الخُفَّين، وقال غيرُ محمَّد: على ظَهرِ الخُفَّين

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 161

عبد خیر کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اگر دین میں رائے کو دخل ہو تو موزوں کے اوپر والے حصے کی نسبت نیچے کی طرف مسح کرنا بہتر ہوتا حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح فرماتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦٢؛ج ١ ص ١١٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا محمَّد بنُ العلاء، حدَّثنا حَفصٌ -يعني ابنَ غِياثٍ-، عن الأعمش، عن أبي إسحاق، عن عبدِ خَيرٍ عن عليٍّ قال: لو كانَ الدينُ بالرَّأي لكانَ أسفَلُ الخُفِّ أولى بالمَسحِ مِن أعلاه، وقد رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يَمسَحُ على ظاهِرِ خُفَّيهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 162

یزید بن عبد العزیز نے اعمش سے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ حدیث کو روایت کرتے ہوئے فرمایا۔میں پیروں کے تلوؤں کو دھونا مقدم شمار کیا کرتا تھا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو موزوں کے ظاہری حصے پر مسح فرماتے ہوئے دیکھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦٣؛ج ١ ص ١١٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حدَّثنا محمَّد بنُ رافع، حدَّثنا يحيى بنُ آدَمَ، حدَّثنا يزيدُ بنُ عبد العزيز، عن الأعمش بهذا الحديث، قال:ما كنت أُرى باطِنَ القَدَمَينِ إلا أحقَّ بالغَسلِ، حتَّى رأيت رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يَمسَحُ على ظَهرِ خُفَّيه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 163

اعمش نے مذکورہ حدیث کو روایت کرتے ہوئے فرمایا اگر دین رائے پر منحصر ہوتا تو پیروں کے تلوے مسح کے ظاہری حصے سے زیادہ حقدار تھے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ظاہری حصے پر مسح فرمایا وکیع نے اعمش سے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہوئے فرمایا میں سمجھتا تھا کہ مسح کرنے میں ظاہری حصے سے تلوے مقدم ہیں یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ان کی ظاہری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔وکیع کا بیان ہے کہ موزوں پر ایسا عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے وکیع کی طرح روایت کی ہے۔ابوالسوداء ابن عبد خیر ، عبدخیر نے فرمایا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے دونوں قدموں کی پشت کو دھویا اور فرمایا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا۔ پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦٤؛ج ١ ص ١١٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا محمَّد بن العلاء، حدَّثنا حفصُ بنُ غِياث، عن الأعمش بهذا الحديث، قال:لو كان الدِّينُ بالرَّأي لكانَ باطِنُ القَدَمَينِ أحقَّ بالمَسحِ من ظاهِرِهما، وقد مَسَحَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - على ظَهرِ خُفَّيهورواه وكيعٌ عن الأعمش بإسناده قال: كنتُ أُرى أنَّ باطِنَ القَدَمينِ أحق بالمَسحِ من ظاهِرِهما، حتَّى رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يَمسَحُ ظاهِرَهما، قال وكيع: يعني الخُفَّين.ورواه عيسى بن يونس عن الأعمش كما رواه وكيع ورواه أبو السَّوداء عن ابن عبدِ خَيرٍ، عن أبيه قال: رأيتُ علياً توضّأ فغسلَ ظاهِرَ قَدَمَيهِ، وقال: لولا أنِّي رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يَفعَلُه، لظَننتُ أنَّ بطونَهما أحقُّ بالمسح.حدَّثناه حامدُ بن يحيى، حدَّثنا سفيانُ، عن أبي السوداء وساق الحديث

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 164

رجاءبن حیاۃ کا بیان ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کاتب سے فرمایا کہ غزوہ تبوک کے دوران نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو موزوں پر اوپر اور نیچے مسح کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہونچی ہے کہ ثوربن یزید نے یہ حدیث رجاء بن حیات سے نہیں سنی(یعنی منقطع ہے)۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ كَيْفَ الْمَسْحُ،حدیث نمبر١٦٥؛ج ١ ص ١٢٠؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا موسى بنُ مروان ومحمودُ بنُ خالد الدمشقي -المعنى- قالا: حدَّثنا الوليدُ؛ قال محمود: أخبرنا ثورُ بنُ يزيد، عن رجاء بنِ حَيوَةَ، عن كاتب المغيرة بن شُعبَة عن المُغيرة بن شُعبَة، قال: وَضَّأتُ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - في غَزوَةِ تَبوكَ، فمسحَ أعلى الخُفَّينِ وأسفَلَه قال أبو داود: بلغني أنَّه لم يسمع ثور هذا الحديثَ من رجاء.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 165

مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت سفیان بن حکم ثقفی یا حضرت حکم بن سفیان ثقفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرلیتے اور میانی پر پانی چھڑک لیتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ایک جماعت نے اس اسناد میں سفیان کی موافقت کی ہے۔بعض حضرات نے الحکم اور بعض نے ابن الحکم کہا ہے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِانْتِضَاحِ،حدیث نمبر١٦٦؛ج ١؛ص ١٢٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی ؛

حدَّثنا محمَّد بنُ كثير، أخبرنا سُفيان، عن منصور، عن مُجاهد عن سُفيان بن الحكم الثَّقفيِّ -أو الحكم بن سفيان الثَّقفيِّ- قال: كان رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - إذا بالَ يتوضأُ ويَنتَضِحُ قال أبو داود: وافَقَ سُفيانَ جماعةٌ على هذا الإسناد، وقال بعضُهم: الحكم أو ابن الحكم.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 166

مجاہد ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ علیہ السلام نے پیشاب کیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا (سنن ابی داؤد شریف کتاب الطہارت ج ١ ص ١٢١؛حدیث نمبر ١٦٧؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛

حدَّثنا إسحاقُ بنُ إسماعيل، حدَّثنا سُفيان، عن ابن أبي نَجيح، عن مُجاهِد، عن رجلٍ من ثَقيف عن أبيه، قال: رأيتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - بالَ ثمَّ نَضَحَ فَرجَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 167

مجاہد نے حکم یا ابن حکم سے اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا۔پھر وضو فرمایا اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الِانْتِضَاحِ،حدیث نمبر١٦٨؛ج ١؛ص ١٢١؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛

حدَّثنا نصرُ بنُ المُهاجِر، حدَّثنا مُعاويةُ بنُ عمرو، حدَّثنا زائدةُ، عن منصور، عن مُجاهد، عن الحكمَ أو ابن الحكم عن أبيه: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - بالَ ثمَّ توضّأ ونَضَحَ فَرَجَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 168

جبیر بن نفیر سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور باری سے اپنے ساتھیوں کی خدمت کرتے اور اونٹ چرایا کرتے تھے۔ایک روز اونٹ چرانے کی باری میری تھی۔میں تیسرے پہر انہیں لیکر آیا تو میں نے پایا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اس وقت میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو ان میں اپنے دل اور اپنی نگاہ کے ساتھ متوجہ رہے مگر اس کے لیے (جنت یا نجات) واجب ہو جاتی ہے۔میں نے کہا واہ واہ! یہ کتنی اچھی بات ہے۔ میرے سامنے کھڑے ہوئے ایک آدمی نے کہا۔اے عقبہ! آپ سے پہلے جو بات ارشاد فرمائی اس سے بھی اچھی تھی میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تھے میں نے کہا اے ابو حفص وہ کیا ہے وہ کہنے لگے کہ آپ کے آنے سے پہلے ابھی ابھی فرمایا ہے کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہیں کہ وضو کرے تو وضو اچھی طرح کرے پھر وضو سے فارغ ہونے پر کہے میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد مصطفی اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَوَضَّأَ،حدیث نمبر١٦٩؛ج ١ ص ١٢٢؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُدَّامَ أَنْفُسِنَا، نَتَنَاوَبُ الرِّعَايَةَ - رِعَايَةَ إِبِلِنَا - فَكَانَتْ عَلَيَّ رِعَايَةُ الْإِبِلِ، فَرَوَّحْتُهَا بِالْعَشِيِّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا قَدْ أَوْجَبَ»، فَقُلْتُ: بَخٍ بَخٍ، مَا أَجْوَدَ هَذِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ الَّتِي قَبْلَهَا: يَا عُقْبَةُ، أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ آنِفًا قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ وُضُوئِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ "، قَالَ مُعَاوِيَةُ: وَحَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 169

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی ہے اور اس میں اونٹ چرانے کا ذکر نہیں کیا۔بتاتے ہوئے فرمایا۔پس اچھی طرح وضو کرے۔پھر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر کہے ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَوَضَّأَ،حدیث نمبر١٧٠؛ج ١ ص ١٢٤؛حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا الحسينُ بنُ عيسى، حدَّثنا عبدُ الله بنُ يزيد المُقرئ، عن حَيْوَةَ بن شُرَيح، عن أبي عَقِيل، عن ابن عمه، عن عُقبةَ بن عامر الجُهَني عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - نحوَه، ولم يذكر أمرَ الرِّعاية، قال عند قوله: "فأحسَنَ الوضوءَ": "ثمَّ رفعَ نظره إلى السَّماء فقال" وساقَ الحديث بمعنى حديث معاوية

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 170

محمد یعنی ابواسد بن عامر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے وضو کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے تازہ وضو فرمایا کرتے تھے اور ہم ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ لیا کرتی تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّ الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر١٧١؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بنُ عيسى، حدَّثنا شَريكٌ، عن عمرو بن عامر البَجَليِّ -قال محمّد: هو أبو أسد بن عمرو- قال:سألتُ أنسَ بنَ مالك عن الوضوء، فقال: كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يتوضَّأُ لكلِّ صلاةٍ، وكنا نُصلِّي الصلَواتِ بوضوءٍ واحدٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 171

سلیمان نے اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پانچوں نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھائیں اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔حضرت عمر عرض گزار ہوئے کہ آج میں نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ پہلے آپ نہیں کرتے تھے۔فرمایاکہ میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّ الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر١٧٢؛ج ١ ص ١٢٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيى، عن سُفيان، حدَّثني عَلْقمةُ بنُ مَرثَد، عن سُليمان بن بُرَيدةعن أبيه، قال: صلَّى رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يومَ الفَتح خمسَ صَلَوات بوضوءٍ ومسحَ على خُفَّيه، فقال له عمرُ: إنِّي رأَيتُكَ صَنَعتَ شيئاً لم تكن تَصنَعُه، قال: "عَمداً صَنَعتُه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 172

قتادہ بن دعامہ نے حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہا ایک آدمی وضو کر کے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس نے ناخن برابر جگہ اپنے پیر میں خشک چھوڑ کر رکھی تھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث جریر بن حازم سے معروف نہیں ہے اور اسے صرف ابن وہب ہی روایت کیا ہے جبکہ معقل بن عبیداللہ جزری،ابوالزبیر،جابر، حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسی کے مانند روایت کی ہے جس میں فرمایا۔واپس جاؤاور اچھی طرح وضو کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٧٣؛ج ١ ص ١٢٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا هارونُ بنُ معروف، حدَّثنا ابنُ وَهب، عن جرير بن حازم، أنه سمعَ قتادةَ بنَ دِعامة حدَّثنا أنسٌ: أنَّ رجلاً جاء إلى رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - وقد تَوَضَّأ وتركَ على قدَمَهِ مثلَ مَوضِعِ الظُّفرِ، فقال له رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "ارْجِعْ فأحسِنْ وُضوءَك"قال أبو داود: وهذا الحديثُ ليس بمعروف، ولم يَروِهِ إلا ابنُ وَهْب وقد رُوِيَ عن مَعقِل بن عُبَيد الله الجَزَريِّ، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن عمر، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - نحوُه، قال: "ارجعْ فأحسِنْ وُضوءَك"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 173

حضرت حسن نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے معنا حدیث قتادہ کی طرح روایت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٧٤؛ج ١ ص ١٢٦؛حکم حدیث رجالہ ثقات؛ تحقيق الارنووط؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا حمادٌ، أخبرنا يونُسُ وحُميدٌ، عن الحسن، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -، بمعنى قتادة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 174

خالد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس کے قدم پر ایک درہم کے برابر ایسی جگہ تھی جسے پانی نہیں پہنچاتھا۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ،حدیث نمبر١٧٥"ج ١ ص ١٢٧؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط ؛

حدَّثنا حَيوة بنُ شُرَيح، حدَّثنا بَقِيَّة، عن بَحير -هو ابنُ سعد-، عن خالد عن بعض أصحابِ النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - رأى رجلاً يُصلي وفي ظَهرِ قَدَمِهِ لُمعَةٌ قَدرُ الدِّرهَمِ لم يُصِبْها الماءُ, فأمَرَهُ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - أن يُعيدَ الوضوءَ والصلاة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 175

سعید بن مسیب اور عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ ان کے چچا حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اگر آدمی کو نماز میں ہوا خارج ہونے کا شک گزرے۔فرمایا کہ نماز نہ توڑے یہاں تک کہ آواز سنے یا بدبو پائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ،حدیث نمبر١٧٦؛ج ١ ص ١٢٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا قُتَيبةُ بنُ سعيد ومحمَّدُ بن أحمد بن أبي خَلَف، قالا: حدَّثنا سُفيان، عن الزُّهريِّ، عن سعيد بن المسيب وعبَّاد بن تميم عن عمِّه: شُكِيَ إلى النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - الرجلُ يَجِدُ الشيءَ في الصَّلاة حتَّى يُخيَّلَ إليه، فقال: "لا يَنفَتِلُ حتَّى يَسمَعَ صَوتاً أو يَجِدَ ريحاً"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 176

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے اندر ہو اور وہ اپنی پیٹھ میں حرکت محسوس کرے اور شک میں مبتلا ہو جائے کہ وضو ٹوٹایانہ ٹوٹا تو نماز نہ توڑے یہاں تک کہ آواز سنے یا بدبومحسوس کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ،حدیث نمبر١٧٧؛ج ١ ص ١٢٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا حمَّادٌ، أخبرنا سُهيلُ بنُ أبي صالح، عن أبيه عن أبي هريرة، أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إذا كانَ أحدُكم في الصَّلاة فوَجَدَ حَرَكةً في دُبُرِهِ أحدَثَ أو لم يُحدِث، فأشكَلَ عليه، فلا يَنصَرِف حتَّى يَسمَعَ صَوتاً أو يَجِدَ ريحاً"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 177

ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں بوسہ دیا اور وضو نہ کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے۔کیونکہ ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ سے کچھ بھی نہیں سنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ،حدیث نمبر١٧٨؛ج ١ ص ١٢٨؛حکم حدیث صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا محمّد بن بشار، حدَّثنا يحيى وعبدُ الرحمن، قالا: حدَّثنا سُفيان، عن أبي رَوْق، عن إبراهيم التَّيْمِيِّ عن عائشة: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَبَّلَها ولم يتوضَّأ قال أبو داود: وهو مُرسَل، إبراهيم التَّيميُّ لم يَسمَع من عائشة.قال أبو داود: كذا رواه الفريابيُّ وغيرهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 178

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات میں سے ایک کو بوسہ دیا پھر نماز کیلئے نکلے اور وضو نہیں فرمایا عروہ کا بیان ہے کہ میں نے اس سے کہا۔ وہ آپ ہی ہو گی بس وہ ہنس پڑی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ،حدیث نمبر١٧٩؛ج ١ ص ١٢٩؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا عثمانُ بن أبي شيبة، حدَّثنا وكيعٌ، حدَّثنا الأعمَشُ، عن حبيب، عن عُروة عن عائشة: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَبَّلَ امرأةَ مِن نسائه، ثمَّ خَرَجَ إلى الصَّلاة ولم يَتَوَضَّأ. قال عُروة: فقلت لها: مَن هي إلا أنتِ؟ فضَحِكَت قال أبو داود: هكذا رواه زائدةُ وعبدُ الحميد الحِمَّانيُّ عن سُليمان الأعمش.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 179

ابراہیم بن مخلد طالقانی،عبدالرحمان بن مغراء،اعمش ان کے چند ساتھی،عروہ مزنی نے اس کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یحیٰی بن سعید القطان نے ایک آدمی سے کہاکہ یہ دونوں حدیثیں مجھ سے نقل کرو یعنی اعمش کی حدیث بواسطہ حبیب اور اسی اسناد کے ساتھ اس کی حدیث کہ مستحاضہ ہرنماز کے لیے وضو کرے ۔ یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے یہ غلط نقل کی گئی ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ سفیان ثوری سے مروی ہے کہ ہم سے حبیب نے نہیں روایت کی مگر عروہ مزنی کے واسطے سے یعنی انہوں نے عروہ بن زبیر سے کوئی حدیث روایت نہیں کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حمزہ الزیات حبیب،عروہ بن زبیر،حضرت عائشہ اس اسناد کے ساتھ یہ حدیث صحیح روایت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ،حدیث نمبر١٨٠؛ج ١ ص ١٣٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ مَخلَد الطَّالْقانيُّ، حدَّثنا عبد الرحمن -يعني ابن مَغْراء- حدَّثنا الأعمَش، حدَّثنا أصحابٌ لنا عن عُروة المُزَنيِّ، عن عائشة بهذا الحديث قال أبو داود: قال يحيى بنُ سعيد القطَّان لرجل: احْكِ عنِّي أنَّ هذينِ -يعني حديثَ الأعمش هذا عن حبيب، وحديثَه بهذا الإسناد في المُستَحاضة أنَّها تتوضَّأُ لكُلِّ صلاةٍ - قال يحيى: احكِ عنِّي أنَّهما شبه لا شيء.قال أبو داود: ورُوِيَ عن الثَّوريِّ قال: ما حدَّثنا حبيبٌ إلا عن عُروة المُزَنيِّ، يعني لم يُحدِّثهم عن عُروة بن الزُّبير بشيء.قال أبو داود: وقد روى حمزةُ الزَّيَّات، عن حبيب، عن عُروة ابن الزُّبير، عن عائشة حديثاً صحيحاً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 180

عبداللہ بن ابوبکر نے عروہ بن زبیر کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں مروان بن الحکم کے پاس گیا تو ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے مروان نے کہا اور شرمگاہ چھونے سے بھی۔عروہ نے کہا مجھے یہ معلوم نہیں۔مروان نے کہا کہ مجھے حضرت بسرہ بنت صفوان نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اپنی شرم گاہ کو چھوئے تو وضو کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ،١٨١؛ج ١ ص ١٣٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا عبد الله بنُ مَسلَمة، عن مالك، عن عبد الله بن أبي بكر، أنَّه سمع عُروة يقول:دخلتُ على مروانَ بن الحكم، فذكرنا ما يكونُ منه الوضوءُ، فقال مَروانُ: ومِن مَسَّ الذكرِ، فقال عُروةُ: ما عَلِمتُ ذلك، فقال مروانُ: أخبَرَتني بُسْرَةُ بنتُ صَفوان، أنَّها سمعت رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - يقولُ: "مَن مَسّ ذَكرَه فليَتَوضأ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 181

قیس بن طلق نے اپنے والد ماجد حضرت طلق بن علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ایک بدوی شخص آکر عرض گزار ہوا یا نبی اللہ اگر کوئی وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگا بیٹھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی جسم کا ایک حصہ ہے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٨٢؛ج ١ ص ١٣١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط؛؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا مُلازِمُ بن عمرو الحنفيُّ، حدَّثنا عبدُ الله بن بدر، عن قيس بن طَلْق عن أبيه، قال: قَدِمنا على نبيِّ الله - صلى الله عليه وسلم -، فجاء رجلٌ كأنَّه بَدَويُّ فقال: يا نبيَّ الله، ما ترى في مَسَّ الرجلِ ذَكَرَهُ بعد ما يَتَوَضَّأ، فقال: "هل هو إلا مُضغَةٌ منه" أو: "بَضعَةٌ منه"قال أبو داود: رواه هشامُ بنُ حسان، وسُفيانُ الثَّوريُّ، وشُعبةُ، وابنُ عُيينة، وجريرٌ الرَّازيُّ، عن محمّد بن جابر، عن قيس بن طَلْق.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 182

مسدد،محمد بن جابر نے حضرت قیس بن طلق سے مذکورہ حدیث کو اسی اسناد کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے اضافہ کیا کہ نماز میں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٨٣؛ج ١ ص ١٣٢؛حکم حدیث حسن؛تحقيق الارنووط ؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا محمَّد بنُ جابر، عن قيس بن طَلْق، بإسناده ومعناه، وقال: "في الصَّلاة"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 183

عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اس کے بعد وضو کیا کرو۔ بکری کے گوشت کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ اس کے بعد وضو نہ کرو۔ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو۔ کیوں کہ ان کا تعلق شیاطین سے ہے اور بکریوں کے ریوڑوں میں نماز پڑھنے کی بابت دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ ان میں نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ وہ برکت کی جگہ ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ،حدیث نمبر١٨٤؛ج ١ ص ١٣٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا عثمانُ بن أبي شيبة، حدَّثنا أبو مُعاوية، حدَّثنا الأعمَشُ، عن عبد الله بن عبد الله الرازي، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن البراء بن عازب، قال: سُئِلَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - عن الوضوءِ من لُحومِ الإبلِ، فقال: "تَوضَّؤوا منها" وسُئِلَ عن لُحوم الغَنَم، فقال: "لا توضَّؤوا منها" وسُئِلَ عن الصلاة في مَبَارِكِ الإبلِ، فقال: "لا تُصَلُّوا في مَبَارِكِ الإبل، فإنَّها مِنَ الشَّياطين" وسُئِلَ عن الصَّلاة في مَرَابِضِ الغَنَم، فقال: "صَلُّوا فيها فإنَّها بَرَكةٌ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 184

ہلال بن میمون جہنی نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی۔ہلال نے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری کے سوا مجھے اس کی کوئی سند معلوم نہیں ۔ایوب اور عمرو نے بھی اسے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک لڑکے کے پاس سے گزرے جو بکری کی کھال اتار رہا تھا پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ایک طرف ہو جاؤ میں اتار کر دکھاتا ہوں پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک کھال اور گوشت کے درمیان اندر داخل کیا حتی کہ وہ بغل تک چلا گیا پھر آپ نے جا کر لوگوں کو نماز پڑھائی اور نیا وضو نہ کیا۔ عمر نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا کہ پانی کو ہاتھ بھی نہ لگایااور اسے حلال بن میمون سے روایت کیا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا کہ اسے عبد الواحد بن زیاد، ابومعاویہ، حلال اور عطا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سے متصل روایت کیا اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ اللَّحْمِ النِّيءِ وَغَسْلِهِ،حدیث نمبر١٨٥؛ج ١ ص ١٣٣؛حکم حدیث اسنادہ قوی تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا محمَّد بن العلاء وأيوبُ بن محمّد الرَّقى وعمرُو بنُ عثمان الحمصي -المعنى- قالوا: حدَّثنا مروانُ بنُ معاوية، أخبرنا هلالُ بن ميمون الجُهَنيُّ، عن عطاء بن يزيد الليثيِّ، قال هلال: لا أعلمه إلا عن أبي سعيد، وقال أيوب وعمرو -أراه-:عن أبي سعيد: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - مَرَّ بغُلامٍ وهو يَسلَخُ شاةً، فقال له رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "تَنَحَّ حتَّى أُرِيَكَ" فأدخَلَ يَدَهُ بين الجلدِ واللَّحمِ، فدَحَسَ بها حتَّى تَوارَت إلى الإبْط، ثمَّ مضى فصَلَّى للناس ولم يَتَوضَّأ قال أبو داود: زاد عمروٌ في حديثه: "يعني لم يَمَسَّ ماءً"، وقال: عن هلال بن ميمون الرَّمليِّ.ورواه عبدُ الواحد بنُ زياد وأبو معاوية، عن هلال، عن عطاء، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - مرسلاً، لم يذكر أبا سعيد.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 185

جعفر کے والد ماجد نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا گزر عالیہ بستیوں میں سے ایک بستی کے بازار میں سے ہواجو دونوں جانب تھا۔ پس آپ کو چھوٹے کانوں والا بکری کا ایک مردہ بچہ ملا آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھا لیا پھر فرمایا کہ تم میں سے کون پسند کرتا ہے کس کا ہو پھر باقی حدیث آخر تک بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الْمَيْتَةِ،حدیث نمبر١٨٦؛ج ١ ص ١٣٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا عبدُ الله بنُ مَسلَمة، حدَّثنا سُليمان -يعني ابن بلال-، عن جعفر، عن أبيه عن جابر: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - مَرَّ بالسُّوقِ داخِلاً مِن بعضِ العالية، والنَّاسُ كَنَفَتَيه، فمَرَّ بجَدْيٍ أَسَكَّ مَيتِ، فتناوَلَه، فأخَذَ بأُذُنِهِ، ثمَّ قال: "أيُّكم يُحِبُّ أنَّ هذا له؟ "وساق الحديث

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 186

عطاء بن یسار نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بکری کی دستی کا گوشت کھا کر نماز پڑھی اور وضو نہ فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٨٧؛ج ١ ص ١٣٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا عبدُ الله بن مَسلَمة، حدَّثنا مالكٌ، عن زيد بن أسلَمَ، عن عطاء بن يسار عن ابن عبَّاس: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - أكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، ثمَّ صلَّى ولم يَتَوضَّأ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 187

مغیرہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ایک ران کا حکم فرمایا جو بھونی گئی۔ آپ چھری لے کر اس میں سے میرے لئے کاٹنے لگے کہ اتنے میں حضرت بلال نماز کے لیے بلانے آگئے۔ پس آپ نے چھری ڈال دی اور فرمایا اس کے ہاتھ خاک آلود ہو اسے ہو کیا گیا ہے اور نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے۔انباری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں جنہیں آپ نے مسواک پر رکھ کر کاٹ دیا یا یہ فرمایا کہ میں تیرے بالوں کو مسواک پر رکھ کر کاٹ دیتا ہوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٨٨؛ج ١ ص ١٣٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا عثمانُ بنُ أبي شيبة ومحمَّدُ بنُ سليمان الأنباريُّ -المعنى- قالا: حدَّثنا وكيعٌ، عن مِسعَر، عن أبي صَخْرة جامع بن شدَّاد، عن المُغيرة بن عبد الله عن المُغيرة بن شُعبَة، قال: ضِفْتُ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - ذاتَ ليلةٍ فأمَرَ بجَنْبٍ فشُوِيَ، وأخذ الشَّفْرَة، فجعَلَ يَحُز لي بها منه، قال: فجاءَ بلالٌ فآذَنَه بالصَّلاة، قال: فألقى الشَّفْرَةَ وقال: "ما له؟ تَرِبَت يَدَاهُ؟ " وقامَ. زاد الأنباريُّ: وكانَ شاربي وَفَى، فقَصَّه لي على سِواكٍ. أو قال: "أقُصُّهُ لَكَ على سِواكٍ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 188

عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا،پھر اپنا دست مبارک اس فرش سے پونچھ لیا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا ،پھر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٨٩؛ج ١ ص ١٣٦؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ بن مُسرهَد، حدَّثنا أبو الأحوص، حدَّثنا سِماك، عن عكرمة عن ابن عبَّاس، قال: أكلَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - كَتِفاً، ثمَّ مَسَحَ يَدَه بمِسْحٍ كان تحتَه، ثمَّ قامَ فصلَّى

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 189

یحییٰ بن یعمر نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بکری کی دستی کا گوشت تناول فرمایا پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٩٠؛ج ١ ص اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا حفصُ بنُ عمر النَّمَريُّ، حدَّثنا همَّامٌ، عن قتادة، عن يحيى ابن يَعمَرَ عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - انتَهَسَ مِن كَتِفٍ، ثمَّ صلَّى ولم يَتَوضَّأ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 190

محمود بن مکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حضور روٹی اور گوشت پیش کیا ۔آپ نے تناول فرمایا۔پھر وضو کے لیے پانی منگوا کر اس سے وضو کیا پھر ظہر کی نماز پڑھ کر اپنا باقی کھانا منگوایا ۔پس کھاکر پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور دوبارہ وضو نہ فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٩١؛ج ١ ص ١٣٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ الحسن الخَثعَميُّ، حدَّثنا حجَّاج، قال ابنُ جُرَيج: أخبرني محمَّدُ بنُ المُنكَدر، قال: سمعتُ جابر بن عبد الله يقول: قَرَّبتُ للنبيِّ - صلى الله عليه وسلم - خُبزاً ولحماً، فأكلَ ثمَّ دعا بوَضوءٍ فتوضَّأ، ثمَّ صلَّى الظُّهرَ، ثمَّ دعا بفَضلِ طعامِهِ فأكلَ، ثمَّ قامَ إلى الصَّلاةِ ولم يتوضَّأ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 191

محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دونوں صورتوں میں سےآخری فعل رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ آگ سے پکی ہوئی چیز کھاکر وضو نہیں فرمایا کرتے تھے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ مذکورہ بالا حدیث کا خلاصہ ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٩٢؛ج ١ ص ١٣٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا موسى بنُ سهل أبو عِمران الرَّمليُّ، حدَّثنا عليّ بنُ عيَّاش، حدَّثنا شُعيب بن أبي حمزة، عن محمَّد بن المُنكَدر عن جابر، قال: كانَ آخِرَ الأمرَين مِن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - تَرْكُ الوضوءِ ممَّا غَيَّرَت النَّارُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 192

عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ مصر میں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن حارث بن جزءرضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے تو میں نے مصر کی مسجد میں انہیں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی کے گھر میں سات یا چھ آدمیوں کو میں نے اپنے ساتھ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیکھا ۔پس حضرت بلال گزرے اور انہوں نے نماز کے لیے آواز دی۔پس ہم باہر نکلے تو تو ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر پک رہی تھی ۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تمہاری ہانڈی پک گئی ہے؟عرض گزار ہوا ہاں آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔آپ نے اس میں سے ایک بوٹی اٹھائی اور اسے چباتے رہے ،یہاں تک کہ نماز کی تکبیر کہی اور ایسا کرتے ہوئے میں نے آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ،حدیث نمبر١٩٣؛ج ١ ص ١٣٨؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حدَّثنا أحمدُ بنُ عَمرو بن السَّرح، حدَّثنا عبدُ الملك بنُ أبي كريمة - قال ابنُ السَّرح: مِن خِيار المسلمين- قال: حدَّثني عُبيدُ بنُ ثُمامة المُراديُّ، قال:قدِمَ علينا مِصرَ عبدُ الله بنُ الحارث بن جَزءٍ من أصحابِ النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -، فسمعتُه يُحدِّث في مَسجدِ مِصرَ، قال: لقد رأيتُني سابعَ سبعةٍ أو سادسَ ستَّة مَعَ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - في دارِ رجلٍ، فمَرَّ بلالٌ، فناداه بالصَّلاة، فخَرَجْنا، فمَرَرنا برجلٍ وبُرْمَتُه على النَّار، فقال له رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "أطابَت بُرمَتُكَ؟ " قال: نعم بأبي أنتَ وأمِّي، فتناوَلَ منها بضعةً فلم يَزَلَ يَعلُكُها حتَّى أحرَمَ بالصَّلاة، وأنا أنظُرُ إليه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 193

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کرنا ہوتا ہے آگ سے پکی ہوئی چیز کھاکر۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٩٤؛ج ١ ص ١٣٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيى، عن شُعبة، حدّثني أبو بكر بنُ حفص، عن الأغَرِّ عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "الوضوءُ ممَّا أنضَجَتِ النَارُ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 194

ابوسلمہ نے ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ سے روایت کی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ام المومنین نے انہیں ایک پیالہ ستوپلائے ۔انہوں نے پانی منگوا کر کلی کی فرمایا اے میرے بھانجے!تم وضو کیوں نہیں کرتے جبکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آگ سے پکائی ہوئی چیز کھاکر وضو کیا کرو یا فرمایا کہ جس کو آگ نے مس کیا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٩٥؛ج ١ ص ١٣٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"تحقیق الارنووط

حدَّثنا مُسلمُ بن إبراهيم، حدَّثنا أبان، عن يحيى -يعني ابن أبي كثير-، عن أبي سلمة، أنَّ أبا سُفيان بنَ سعيد بن المُغيرة حدَّثه انَّه دَخَلَ على أمِّ حبيبةَ فسَقَتهُ قَدَحاً من سَويقٍ، فدعا بماءٍ فَمضمَضَ، قالت: يا ابنَ أُختي، ألا تَوَضَّأ؟ إنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - قال: "توضَّؤوا ممَّا غَيَّرتِ النَّارُ" أو قال: "مَسَّتِ النَّارُ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 195

عبید بن عبداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرماکر پانی منگوایا تو کلی کی ۔پھر فرمایا کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ اللَّبَنِ،حدیث نمبر١٩٦؛ج ١ ص ١٤٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا قُتَيبةُ، حدَّثنا اللَّيثُ، عن عُقَيل، عن الزُّهريِّ، عن عُبَيد الله ابن عبد الله عن ابن عبَّاس أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - شَرِبَ لَبَناً، فدعا بماءٍ فتَمضمَضَ، ثمَّ قال: "إنَّ له دَسَماً"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 196

توبہ عنبری نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرماکر کلی نہیں کی اور نہ وضو کیا اور نماز پڑھ لی۔زید نے فرمایا کہ اس بوڑھے کو یہ شعبہ نے بتایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر١٩٧؛ج ١ ص ١٤٠؛حکم حدیث حسن تحقیق البانی؛

حدَّثنا عثمانُ بن أبي شيبة، عن زيد بن الحُبَاب، عن مُطيع بن راشد، عن توبة العَنبَريِّ أنَّه سمع أنسَ بنَ مالك: إنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - شَرِبَ لَبَناً فلم يُمَضمِضْ ولم يَتَوضَّأ وصَلَّى قال زيد: دَلَّني شُعبَة على هذا الشَّيخ.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 197

عقیل بن جابر کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ۔ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے یعنی غزوہِ ذات الرقاع میں۔پس ایک آدمی نے کسی مشرک کی بیوی کو ماردیا تو اس نے قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کے محمد کے ایک ساتھی کا خون نہ بہادوں۔پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش قدم کو دیکھتا ہوا نکلا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل پر اترے تو فرمایا کہ کون ہمارا پہرہ دیگا؟ ایک مہاجراور ایک انصار نے یہ ذمہ لے لیا۔فرمایا کہ گھاٹی کے دہانے پر چلے جاؤ جب دونوں حضرات گھاٹی کے دہانے پر پہنچ گئے تو مہاجر لیٹ گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ایک شخص آیا اور دیکھ کر اس نے پہچان لیا کہ یہ قوم کے نگران ہیں۔پس اس نے ایک تیر مارا جو انہیں آلگا۔انہوں نے اسے نکال دیا،یہاں تک کہ اس نے تین تیر مارے پھر انہوں نے ر کوع سجدہ کر کے اپنے ساتھی کو بتایا تیر اندازوں نے جب دیکھا کہ وہ خبر دار ہو گئے تو بھاگ گیا۔ جب مہاجرین نے انصار کا خون دیکھا تو تعجب سے کہا کہ آپ نے مجھے پہلے ہی تیر پر کیوں نہیں بتایا؟کہا کہ میں ایک سورت پڑھ رہا تھا جسے توڑنا میں نے پسند نہ کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الدَّمِ،حدیث نمبر١٩٨؛ج ١ ص ١٤١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط ؛

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ - فَأَصَابَ رَجُلٌ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَحَلَفَ أَنْ لَا أَنْتَهِيَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا؟ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: «كُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ»، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ اضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّ، وَأَتَى الرَّجُلُ فَلَمَّا رَأَى شَخْصَهُ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةٌ لِلْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ، حَتَّى رَمَاهُ بِثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْتَبَهَ صَاحِبُهُ، فَلَمَّا عَرَفَ أَنَّهُمْ قَدْ نَذِرُوا بِهِ هَرَبَ، وَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدَّمِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَلَا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَى، قَالَ: كُنْتَ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 198

نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں اتنی دیر کر دی کہ ہم مسجد میں سو گئے ہم دوبارہ بیدار ہو کر سو گئے ہم سہ بارہ بیدار ہوکر سو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا تمہارے سوا کوئی ایک بھی نہیں جو نماز کے انتظار میں ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر١٩٩َ؛ج ١ ص ١٤٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ محمَّد بن حنبل، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابنُ جُريج، أخبرني نافع حدَّثني عبدُ الله بن عمر: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - شُغِلَ عنها ليلةً فأخَّرَها حتَّى رَقَدْنا في المَسجِدِ، ثمَّ استَيقَظنا، ثمَّ رَقَدْنا، ثمَّ استَيقَظنا، ثمَّ رَقَدنا، ثمَّ خَرَجَ علينا فقال: "ليسَ أحدٌ يَنتظِرُ الصَّلاةَ غيرُكم"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 199

قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب اتنی دیر تک نماز عشاء کا انتظار کرتے کہ ان کے سر جھک جاتے پھر نماز پڑھتے اور دوبارہ وضو نہ کرتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ شعبہ نے قتادہ سے جو روایت کی اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہمارے سر جھک جاتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن ابوالعروبہ نے اسے قتادہ سے دوسرے لفظوں میں روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر٢٠٠؛ج ١ ص ١٤٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا شاذُّ بن فيَّاض، حدَّثنا هشامٌ الدَّستوائيُّ، عن قتادة عن أنس قال: كان أصحابُ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - ينتظرونَ العِشاءَ الآخرة حتَّى تَخفِقَ رؤوسُهُم، ثمَّ يُصَلُّون ولا يَتَوضَّؤون قال أبو داود فيه: زاد فيه شُعبة عن قتادة قال: على عَهدِ رسول الله -صلَّى الله عليه وسلم-. ورواه ابن أبي عَروبةَ عن قتادة بلفظ آخر

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 200

ثابت بنانی کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز عشاء کی اقامت کہی گئی تو ایک آدمی کھڑا ہوکر عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہ! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔پس آپ کھڑے ہوکر اس سے سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ لوگ اونگھنے لگے یا بعض حضرات۔پھر آپ نے ان کے ساتھ نماز پڑھی اور راوی نے دوبارہ وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر٢٠١؛ج ١ ص ١٤٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا موسى بن إسماعيل وداودُ بن شَبيب، قالا: حدَّثنا حمَّادٌ، عن ثابت البُنانيِّ انَّ أنس بن مالك قال: أُقيمَت صلاةُ العِشاءِ فقامَ رجلٌ فقال: يا رسولَ الله، إنَّ لي حاجةً، فقامَ يُناجِيهِ حتَّى نَعَسَ القَومُ، أو بعضُ القَومِ، ثمَّ صلَّى بهم، ولم يذكر وضوءاً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 201

ابولعالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سجدہ کرتے سوجاتے اور خراٹے لیتے رہتے ۔پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھ لیتے اور دوبارہ وضو نہ کرتے میں عرض گزار ہوا کہ آپ نے بغیر وضو کیے نماز پڑھ لی حالانکہ آ پہنچی سوگئے تھے۔فرمایا کہ وضو اس پر لازم ہے جو ٹیک لگا کر سوجائے۔عثمان اورہناد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب ٹیک لگائے گا تو تو جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں گے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ کہنا کہ وضو اس پر ہے جو ٹیک لگا کر سویا ہو ۔یہ حدیث منکر ہے کیونکہ یزید دالانی کے سوا اسے قتادہ سے کسی نے روایت نہیں کیا۔حدیث کے پہلے حصے کو حضرت ابن عباس سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے لیکن انہوں اس بات کا ذکر تک نہیں کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔شعبی نے فرمایا کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے چار حدیثیں سنی ہیں۔ 1۔یونس بن متی کے متعلق حدیث۔ 2۔نماز کے متعلق ابن عمر سے حدیث۔ 3۔قضاء ثلاثہ کی حدیث۔ 4۔حضرت ابن عباس کی یہ حدیث کہ مجھ سے کتنے ہی پسندیدہ حضرات نے حدیث بیان کی ہے جن میں سے حضرت عمر بھی ہیں اور حضرت عمر مجھے ان میں سب سے پسندہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر٢٠٢؛ج ١ ص ١٤٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا يحيى بنُ معين وهنَّادُ بن السَّريِّ وعثمانُ بن أبي شيبة, عن عبد السلام بن حرب - وهذا لفظ حديث يحيى -، عن أبي خالد الدَّالانيِّ، عن قتادة، عن أبي العالية عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- كان يَسجُدُ وينامُ ويَنفُخُ ثمَّ يقومُ فيُصلي ولا يَتَوضَّأ، فقلتُ له: صَلَّيتَ ولم تَتوَضَّأ وقد نِمتَ؟! فقال: "إنَّما الوضوءُ على مَن نامَ مُضطَجِعاً" زاد عثمان وهنَّاد: "فإنَّه إذا اضطَجَعَ استَرخَت مفاصِلُه"قال أبو داود: قوله: "الوضوءُ على مَن نامَ مُضطَجِعاً" هو حديثٌ مُنكَر لم يَروِه إلا يزيدُ الدَّالانيُّ عن قتادة، وروى أوَّلَه جماعةٌ عن ابن عبَّاس ولم يذكروا شيئاً من هذا وقال: كان النبيُّ -صلَّى الله عليه وسلم- محفوظاً وقالت عائشةُ: قال النبيُّ -صلَّى الله عليه وسلم-: "تنامُ عَينايَ ولا ينامُ قلبي" وقال شُعبة: إنَّما سمعَ قتادةُ من أبي العالية أربعةَ أحاديث: حديث يونس ابن متَّى، وحديث ابن عمر في الصَّلاة، وحديثَ: "القضاةُ ثلاثةٌ"، وحديثَ ابن عباس: حدَّثني رجالٌ مرضيُّون

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 202

حضرت عبدالرحمن بن عائذ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مقعد کی ڈاٹ آنکھیں ہیں(یعنی بیدار آدمی کے علم میں یہ بات رہتی ہے کہ مقعد سے کچھ نکلا یا نہ نکلا)جو سوجائے اسے وضو کرنا چاہیے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ،حدیث نمبر٢٠٣؛ج ١ ص ١٤٦؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی؛

حدَّثنا حَيْوَةُ بن شُرَيح الحِمصيُّ في آخرين قالوا: حدَّثنا بقيَّة، عن الوَضِين بن عطاء، عن محفوظ بن عَلقمة، عن عبد الرحمن بن عائذ عن عليِّ بن أبي طالب رضي الله عنه، قال: قال رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم-: "وِكاءُ السَّهِ العَينانِ، فمَن نامَ فليَتَوضَّأ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 203

شقیق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم پیدل چلنے کے بعد پیروں کو دھویا نہیں کرتے تھے نیز نماز میں بالوں اور کپڑوں کو سمیٹا نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ الْأَذَى بِرِجْلِهِ،حدیث نمبر٢٠٤؛ج ١ ص ١٤٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا هنادُ بن السَّريِّ وإبراهيمُ بن أبي معاوية، عن أبي معاوية (ح)وحدَّثنا عثمانُ بن أبي شيبة، حدَّثنا شَريك وجرير وابنُ إدريس، عن الأعمش، عن شقيق، قال: قال عبدُ الله: كُنَّا لا نتوضَّأ مِن مَوطِئٍ، ولا نَكُفُّ شَعراً، ولا ثوباً قال إبراهيمُ بن أبي معاوية: عن الأعمش، عن شقيق، عن مسروق - أو: حَدَّثَه عنه - قال: قال عبد الله. وقال هنَّاد: عن شقيق - أو: حَدَّثَه عنه - قال: قال عبدُ الله.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 204

مسلم بن سلام نے حضرت علی بن طلق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے دوران نماز کسی کی ہوا خارج ہوجائے تو اسے چاہیے کہ لوٹ جائے اور وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ يُحْدِثُ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٢٠٥؛ج ١ ص ١٤٨؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا عثمانُ بن أبي شيبة، حدَّثنا جريرُ بن عبد الحميد، عن عاصم الأحول، عن عيسى بن حِطَّان، عن مُسلم بن سلام عن عليِّ بن طَلْق، قال: قال رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم-: "إذا فَسَا أحدُكُم في الصَّلاة، فليَنصَرِف، فليَتَوضَّأ، وليُعِدِ الصلاة"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 205

حصین بن قبیصہ کا بیان ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ میری مذی بہت بہتری تھی مجھے بار بار غسل کرنا پڑتا جو مجھے اپنے اوپر بوجھ نظر آیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا یا آپ سے ذکر کروایا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو ۔جب تم مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھوکر اسی طرح وضو کرلیا کرو جیسے نماز کے لیے کرتے ہیں۔اور جب تم پانی(مذی)بہاؤتو غسل کیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢٠٦؛ج ١ ص ١٤٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا قُتيبةُ بنُ سعيد، حدَّثنا عَبيدةُ بنُ حُميد الحذَّاء، عن الرُّكَين ابن الرَّبيع، عن حُصَين بن قَبِيصة عن عليٍّ رضي الله عنه قال: كنتُ رجلاً مذَّاءً، فجَعَلتُ أغتَسِلُ حتَّى تَشَققَ ظَهري، فذكرتُ ذلكَ للنبيِّ -صلَّى الله عليه وسلم-، أو ذُكِرَ له، فقال رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 206

مقداد بن اسود کا بیان ہے کہ ان سے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق پوچھیے جو اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس کی مذی نکل آئے تو اس پر کیا لازم ہے ؟چونکہ میرے نکاح میں حضور کے صاحزادی ہے اس لیے خود پوچھنے میں مجھے عار محسوس ہوتی ہے۔حضرت مقداد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی یہ چیز دیکھے تو اپنی شرمگاہ کو دھوکر اسی طرح وضو کرے جیسے نماز کے لیے کرتا یے۔۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢٠٧؛ج ١ ص ١٤٩؛؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا عبدُ الله بنُ مَسلَمة، عن مالك، عن أبي النَّضر، عن سُليمان ابن يسار عن المِقداد بن الأسود أن عليّ بنَ أبي طالب رضي الله عنه أمَرَه أن يَسألَ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- عن الرجل إذا دَنَا مِن أهلِهِ، فخرجَ منه المَذيُ، ماذا عليه؟ فإنَّ عندي ابنَتَه وأنا أستَحيي أنْ أسأَلَه، قال المِقدادُ: فسألتُ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- عن ذلك، فقال: "إذا وَجَدَ أحدُكُم ذلكَ فليَنضَحْ فَرجَه، وليَتَوَضَّأ وُضوءَهُ للصَلاةِ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 207

عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مقداد سے کہا۔پھر مذکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مقداد کے دریافت کرنے پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی شرمگاہ اور دونوں خصیوں کو دھولینا چاہیے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ سفیان ثوری اور ایک جماعت نے ہشام،عروہ،حضرت مقداد ،حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢٠٨؛ج ١ ص ١٥١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ يونس، حدَّثنا زُهيرٌ، عن هشام بن عُروة، عن عُروةأنَّ عليَّ بنَ أبي طالب قال للمِقداد، وذكرَ نحوَ هذا، قال: فسألَهُ المِقدادُ، فقال رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم-: "لِيَغسِلْ ذَكَرَه وأُنثَيَيهِ"قال أبو داود: رواه الثَّوريُ وجماعةٌ، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن المِقدادِ، عن عليٍّ، عن النبي -صلَّى الله عليه وسلم-

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 208

ہشام بن عروہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت مقداد رضی اللّٰہ عنہ سے کہا۔پھر معنا مذکورہ حدیث بیان کی ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے مفضل بن فضالہ،ثوری،ابن عیینہ،ہشام،عروہ بن زبیر نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور ابن اسحاق،ہشام بن عروہ،عروہ بن زبیر،حضرت مقداد رضی اللّٰہ عنہ نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اور فوطول کا ذکر نہیں فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢٠٩؛ج ١ ص ١٥١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا القَعنَبيُّ، حدَّثنا أَبي، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن حديث حُدَّثَه أنَّ عليَّ بن أبي طالب قال: قلتُ: للمِقدادِ، فذكرَ معناه قال أبو داود: ورواه المُفضَّلُ بن فَضَالة والثوريُّ وابنُ عُيينة عن هشام، عن أبيه، عن عليٍّ, ورواه ابنُ إسحاق عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن المِقداد، عن النبيِّ -صلَّى الله عليه وسلم- لم يذكر: "أُنثَيَيهِ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 209

سعید بن عبید بن سباق نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میری شدت کے ساتھ مذی نکلا کرتی ہے جس کے باعث کثرت سے غسل کرنا پڑتا ہے۔پس میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو فرمایا کہ اس کے لیے تمہیں وضو کرلینا کافی ہے۔میں عرض گزار ہوا کہ یارسول اللّٰہ!جو میرے کپڑے میں لگ جاتی ہے اس کے لیے کیا کروں؟فرمایا کہ تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ جہاں تم اپنے کپڑے پر لگی ہوئی دیکھو تو اس پر ایک چلو پانی چھڑک لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢١٠؛ج ١ ص ١٥١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا إسماعيلُ - يعني ابنَ إبراهيم -، أخبرنا محمَّد ابن إسحاق، حدَّثني سعيدُ بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبيه عن سَهل بن حُنَيف، قال: كنتُ ألقى مِنَ المَذْيِ شِدَّةَ، وكنتُ أُكثِرُ منه الاغتِسالَ، فسألتُ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- عن ذلك، فقال: "إنَّما يَجزيكَ مِن ذلكَ الوضوءُ" قلتُ: يا رسولَ الله، فكيفَ بما يُصيبُ ثَوبي منه؟ قال: "يكفيكَ بأنْ تأخُذَ كفّاً من ماءِ فتَنضَحَ بها مِن ثَوبِكَ حيثُ تَرَى أنَّه أصابَه"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 210

علاء بن حارث نے حرام بن حکیم سے روایت کی ہے کہ ان کے چچا جان حضرت عبداللہ بن سعد انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوا کہ غسل کن چیزوں سے واجب ہوتا ہے اور غسل کرنے کے بعد پانی نکل آئے؟فرمایا کہ یہ مذی ہوتی ہے اور ہر مرد کی مذی خارج ہوتی ہے اس کے باعث اپنی شرمگاہ اور فوطول کو دھولیا کرواور نماز کے وضو کی طرح وضو کرلیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَذْيِ،حدیث نمبر٢١١؛ج ١ ص ١٥٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا إبراهيمُ بنُ موسى، أخبرنا عبدُ الله بنُ وَهب، حدَّثنا معاوية ابنُ صالح، عن العلاء بن الحارث، عن حَرَام بن حَكيم عن عمِّه عبد الله بن سعد الأنصاريِّ، قال: سألتُ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- عمَّا يُوجِبُ الغسلَ، وعن الماءِ يكون بعدَ الماء، فقال: "ذاكَ المَذْيُ، وكلُّ فَحلِ يَمذي، فتَغسِلُ مِن ذلك فَرجَكَ وأُنثَيَيكَ، وتَوَضَّأ وُضوءك للصَلاة"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 211

علاء بن حارث نے حرام بن حکیم سے روایت کی ہے کہ ان کے چچا جان حضرت سہل بن حنیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے لیے اپنی بیوی سے کیا چیز جائز ہے ۔جب کہ وہ حائضہ ہے؟فرمایا کہ تہبند سے اوپر تمہارے لیے سب کچھ جائز ہے اور حائضہ کے ساتھ کھانے پینے کا بھی ذکر کیا ۔پھر باقی حدیث آخر تک بیان کی ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ في مباشرة الحائض ومواكلتها،حدیث نمبر٢١٢؛ج ١ ص ١٥٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا هارونُ بن محمَّد بن بكَّار، حدَّثنا مروانُ - يعني ابنَ محمَّد -، حَدثنا الهيثمُ بنُ حُميد، حدَّثنا العلاء بن الحارث، عن حَرَام بن حَكيم عن عمِّه: أنه سأل رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم-: ما يَحِلُّ لي مِنَ امرأتي وهي حائِضٌ؟ قال: "لَكَ ما فوقَ الإزارِ" وذكرَ مُؤاكَلَةَ الحائِضِ أيضاً، وساق الحديثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 212

عبدالرحمن بن عائذ ازدی نے ہشام یعنی ابن قرط امیر حمص سے روایت کی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آدمی کے لیے اپنی بیوی سے کیا چیزیں جائز ہیں جب کہ وہ حائضہ ہو؟فرمایا کہ تہبند سے اوپر سب کچھ جائز ہے اور اس سے بچنا افضل ہے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ سند قوی نہیں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ في مباشرة الحائض ومواكلتها،حدیث نمبر٢١٣؛ج ١ ص ١٥٣؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا هشامُ بنُ عبد الملك اليَزَني، حدَّثنا بقيَّةُ عن سعد الأغطَش - وهو ابنُ عبد الله - , عن عبد الرحمن بن عائذ الأزْدي، قال هشامٌ: وهو ابن قُرْط أميرُ حِمص عن معاذ بن جبل، قال: سألتُ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- عما يَحِلُّ للرجلِ مِن امرأتِه وهي حائِضٌ؟ قال: فقال: "ما فوقَ الإزارِ، والتعفُّفُ عن ذلك أفضَلُ"قال أبو داود: وليس بالقوي

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 213

حضرت سہل بن سعد ساعدی نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع اسلام میں کپڑوں کی قلت کے باعث لوگوں کو اس (دخول سے غسل لازم نہ آنے) کی رخصت (معافی) عطا فرمائی تھی پھر غسل کا حکم فرمایا اور غسل درک کرنے سے منع فرما دیا گیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ایسا سمجھنے سے منع فرما دیا کہ پانی نکلنے سے غسل لازم آئے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْإِكْسَالِ،حدیث نمبر ٢١٤؛؛ج ١ ص ١٥٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ صالح، حدَّثنا ابنُ وَهب، أخبرني عمروٌ - يعني ابنَ الحارث -عن ابن شِهاب قال: حدَّثني بعضُ مَن أرضى: أنَّ سهلَ بنَ سَعدٍ السَّاعِدِي أخبره ان أُبيَّ بنَ كعب أخبره: أنَّ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- إنَّما جعلَ ذلك رُخصةً للناسِ في أوَّلِ الإسلامِ لقلَّةِ الثِّيابِ، ثمَّ أمرَ بالغُسلِ ونهى عن ذلك.قال أبو داود: يعني: الماءَ مِنَ الماء

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 214

حضرت سہل بن سعد ساعدی نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ جو فتویٰ دیتے تھے کہ انزال ہونے سے غسل لازم آتا ہے یہ رخصت تھی کہ شروع اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معافی عطا فرمائی تھی ۔پھر اس کے بعد غسل کرنے کا حکم فرمادیا گیا ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابوغسان سے مراد محمد بن مطرف ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْإِكْسَالِ،حدیث نمبر ٢١٥؛ج ١ ص ١٥٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا محمّد بنُ مِهرانَ الرَّازيُّ، حدَّثنا مُبشِّرٌ الحلبيُّ, عن محمَّد أبي غسان ,عن أبى حازم، عن سَهلِ بنِ سعد قال: حدَّثني أُبيُّ بنُ كعب: أن الفُتيا التي كانوا يُفتُونَ: أنَّ الماءَ مِنَ الماء، كانت رخصةً رَخّصَها رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- في بَدءِ الإسلامِ، ثمَّ أمرَ بالاغتِسالِ بعدُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 215

ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد اور عورت کی چاروں شاخوں (دونوں رانوں اور پنڈلیوں) کے درمیان بیٹھ گیا اور ختنہ ختنہ سے جا ملا تو غسل واجب ہو گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْإِكْسَالِ،حدیث نمبر ٢١٦؛ج ١ ص ١٥٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا مُسلِمُ بنُ إبراهيم الفَرَاهيديُّ، حدَّثنا هشامٌ وشعبةُ، عن قتادة، عن الحسن، عن أبي رافع عن أبي هريرة، عن النبيِّ -صلَّى الله عليه وسلم- قال: "إذا قَعَدَ بينَ شُعَبِها الأربَعِ، وألزَقَ الخِتانَ بالخِتانِ، فقد وَجَبَ الغُسلُ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 216

ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی (احتلام کی منی )نظر آنے سے غسل ہے. ابوسلمہ ایسا ہی کیا کرتے تھے (یعنی انزال ہونے پر غسل کیا کرتے تھے)۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْإِكْسَالِ،حدیث نمبر ٢١٧؛ج ١ ص ١٥٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ صالح، حدّثنا ابنُ وَهْب، أخبرني عمرٌو، عن ابن شِهاب، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي سعيد الخُدريِّ، أنَّ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- قال: "الماءُ مِنَ الماءِ". وكانَ أبو سلمة يَفعَلُ ذلك

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 217

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی روز ایک غسل سے اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ہوآتے تھے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح ہشام بن زید نے حضرت انس سے روایت کی ہے اور معمر قتادہ نے حضرت انس سے روایت کی ہے اور صالح بن ابوالاخضر نے زہری سے ،سب نے حضرت انس سے انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَعُودُ،حدیث نمبر٢١٨؛ج ١ ص ١٥٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدّثنا مسدَّدٌ، حدّثنا إسماعيلُ، حدَّثنا حُميد الطويلُ عن أنس: أنَّ رسولَ الله -صلَّى الله عليه وسلم- طافَ على نِسائِهِ في غُسلٍ واحدٍ قال أبو داود: هكذا رواه هشامُ بنُ زيد عن أنس، ومَعمَرٌ عن قتادة، عن أنس، وصالحُ بنُ أبي الأخضر عن الزُّهريِّ، كلُّهم عن أنس، عن النبيِّ -صلَّى الله عليه وسلم-.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 218

حضرت ابورافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے (صحبت کی) ایک سے فارغ ہو کر غسل کر تےپھر دوسرے سے فارغ ہوکر۔ راوی کا بیان ہے میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ آپ ایک ہی بار غسل کیوں نہیں فرمالیتے فرمایا طہارت بہتری اور جسمانی طہارت اس میں زیادہ ہے۔ امام ابوداؤد نےفرمایا کہ حضرت انس کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ،حدیث نمبر٢١٩؛ج ١ ص ١٥٨؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا حمَّادٌ، عن عبد الرحمن بن أبي رافع، عن عمَّتِهِ سَلمى عن أبي رافع: أنَّ النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلم- طافَ ذاتَ يومِ على نِسائِهِ يَغتَسِلُ عندَ هذه وعندَ هذه، قال: فقلتُ: يا رسولَ الله، ألا تَجعَلُه غُسلاً واحداً؟ قال: "هذا أزكى وأطيَبُ وأطهَرُ"قال أبو داود: حديثُ أنس أصحُّ من هذا.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 219

حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس گیا۔پھر دوبارہ جانا چاہے تو دونوں کے درمیان وضو کرلے۔ ۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْوُضُوءِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ،حدیث نمبر٢٢٠؛ج ١ ص ١٥٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُعَاوِدَ، فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 220

حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ رات کے وقت وہ جنابت کی حالت میں ہوتے ہیں۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وضو کرواپنی شرمگاہ کو دھو لو اور سوجایا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَنَامُ،حدیث نمبر٢٢١؛ج ١ ص ١٥٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا عبدُ الله بنُ مَسلَمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار عن عبد الله بن عمر، أنه قال: ذكرَ عمرُ بنُ الخطَّاب لرسولِ الله -صلَّى الله عليه وسلم- أنه تُصيبُه الجنابةُ مِنَ اللَّيلِ، فقالَ رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- "تَوَضَّأ واغسِلْ ذَكَرَكَ، ثمَّ نَمْ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 221

زہری نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز کے وضو کی طرح وضو فرمالیا کرتے تھے۔ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْجُنُبِ يَأْكُلُ،حدیث نمبر٢٢٢؛ج ١ ص ١٥٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ وقُتيبةُ بنُ سعيد، قالا: حدَّثنا سفيان، عن الزُّهريِّ، عن أبي سلمة عن عائشة: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كانَ إذا أرادَ أن ينامَ وهو جُنُب تَوَضَّأَ وضوءَه للصَّلاة

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 222

یونس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حالت جنابت میں جب کھانے کا ارادہ فرماتےتو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو لیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن وہب نے یونس سے روایت کرتے ہوئے جو کھانے کے متعلق کہا کہ حضرت عائشہ کا قول ہے۔ اس کی صالح بن عبدالاخضرنے زہری سے ابن مبارک کے مطابق روایت کی ماسوائے اس کے کہ جب کہ عروہ یا ابو سلمہ سے روایت کی۔ اوزاعی، یونس، زہری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن مبارک کے مطابق روایت کی۔۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْجُنُبِ يَأْكُلُ،حدیث نمبر٢٢٣؛ج ١ ص ١٦٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حدَّثنا محمَّدُ بنُ الصَّبَّاح البزَّار، حدَّثنا ابنُ المُبارَك، عن يونس، عن الزُّهريِّ، بإسناده ومعناه، زاد:وإذا أرادَ أن يأكُلَ وهو جُنُب غَسَلَ يَدَيهِ قال أبو داود: ورواه ابنُ وَهْب، عن يونس، فجعلَ قِصَّةَ الأكلِ قولَ عائشةَ مقصوراً، ورواه صالحُ بنُ أبي الأخضر، عن الزُّهريِّ كما قال ابنُ المُبارَك، إلا أنه قال: عن عُروة أو أبي سلمة. ورواه الأوزاعيُّ، عن يونس عن الزُّهريِّ، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -, كما قال ابنُ المُبارَك

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 223

اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے یاسونے کا ارادہ فرماتے تو وضو کرلیتے حالانکہ آپ جنابت کی حالت میں ہوتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ: يَتَوَضَّأُ الْجُنُبُ،حدیث نمبر٢٢٤؛ج ١ ص ١٦١؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا مُسدَّدٌ، حدَّثنا يحيى، حدَّثنا شُعبةُ، عن الحَكَمِ، عن إبراهيم، عن الأسود عن عائشة: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كانَ إذا أرادَ أن يأكُلَ أو ينامَ توَضَّأَ؛ تعني وهو جُنُبٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 224

یحییٰ بن یعمر نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےجنبی کو رخصت مرحمت فرمائی ہے کہ جب کھائے یا سوئے تو وضو کرلے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث میں یحیی بن یعمر اور حضرت عمار بن یاسر کے(علاوہ)ایک آدمی اور ہے۔حضرت علی، حضرت ابن عمرو بن العاص، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کریں تو وضو کر لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ: يَتَوَضَّأُ الْجُنُبُ،حدیث نمبر٢٢٥ ؛ج ١ ص ١٦١؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا موسى -يعني ابنَ إسماعيل-، حدَّثنا حماد، أخبرنا عطاءٌ الخُراسانيُّ، عن يحيي بن يَعمَرَ عن عمَّار بن ياسر: أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - رَخَّصَ للجُنُب إذا أكَلَ أو شَرِبَ أو نامَ أن يَتَوَضَّأَ قال أبو داود: بين يحيى بن يَعمَرَ وعمَّار بن ياسر في هذا الحديث رجلٌ. وقال عليُّ بنُ أبي طالب وابنُ عمر وعبدُ الله بنُ عَمرٍو: الجُنُبُ إذا أرادَ أن يأكُلَ تَوَضَّأَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 225

عضیف بن حارث کا بیان ہے کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں میں عرض گزار ہوا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصے میں غسل فرماتے ہوئے دیکھا یا پچھلے میں؟ فرمایا کہ کبھی پہلے حصے میں غسل فرماتے اور کبھی پچھلے میں۔ تکبیر کہتے ہوئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا جس نے اس کام میں آسانی فرمائیں میں عرض گزار ہوا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھتے ہوئے دیکھا یا پچھلی میں ؟ فرمایا کہ کبھی رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور کبھی پچھلے میں۔ تکبیر کہتے ہوئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ جس نے اس کام میں آسانی فرمائی۔ میں عرض گزار ہوا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قرآن مجید پڑھتے دیکھا یا آہستہ؟ فرمایا کہ کبھی بلند آواز سے تلاوت کرتے اور کبھی آہستہ۔ تکبیر کہتے ہوئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا جس نے اس کام میں آسانی فرمائی۔ بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ،حدیث نمبر٢٢٦؛ج ١ ص ١٦٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا مسدَّدٌ، حدَّثنا المعتَمرُ (ح)وحدثنا أحمدُ بنُ حَنبَل، حدَّثنا إسماعيلُ بنُ إبراهيم؛ قالا: حدَّثنا بُردُ بنُ سِنان، عن عُبادة بن نُسَيٍّ، عن غُضَيف بن الحارث، قال:قلتُ لعائشةَ: أرأيتِ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - كانَ يَغتَسِلُ مِنَ الجنابةِ في أوَّلِ اللَّيلِ أو في آخِرِه؟ قالت: رُبما اغتَسَلَ في أوَّلِ اللَّيلِ ورُبما اغتَسَلَ في آخِرِه، قلتُ: اللهُ أكبَرُ، الحمدُ لله الذي جَعَلَ في الأمرِ سَعَةً.قلتُ: أرأيتِ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - كانَ يُوتِرُ أوَّلَ اللَّيلِ أم في آخِرِه؟ قالت: رُبما أوتَرَ في أوَّلِ اللَّيلِ، ورُبما أوتَرَ في آخِرِه، قلت: اللهُ أكبَرُ، الحمدُ لله الذي جَعَلَ في الأمرِ سَعَةً.قلتُ: أرأيتِ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - كان يَجهَرُ بالقُرآنِ أم يَخفِتُ به؟ قالت: رُبما جَهَرَ به ورُبما خَفَتَ، قلتُ: الله أكبَرُ، الحمدُ لله الذي جعَلَ في الأمرِ سَعَةً

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 226

عبد اللّٰہ بن نجی کے والد ماجد نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر،کتایا جنبی ہو۔ بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ،حدیث نمبر٢٢٧؛ج ١ ص ١٦٢؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا حفصُ بنُ عمر، حدَّثنا شُعبةُ، عن علي بن مُدرِكٍ، عن أبي زُرعة بن عمرو بن جرير، عن عبد الله بن نُجَيٍّ، عن أبيه عن عليٍّ، عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: "لا تَدخُلُ الملائكةُ بَيتاً فيه صُورةٌ ولا كلبٌ ولا جُنُبٌ"

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 227

ابو اسحاق نے اسود سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجایا کرتے تھے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حسن بن علی نے واسطہ نے یزید بن ہارون کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابواسحاق کی یہ حدیث ایک وہم ہے۔ بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ،حدیث نمبر٢٢٨؛ج ١ ص ١٦٣؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی؛

حدَّثنا محمَّدُ بن كثير، أخبرنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن الأسود عن عائشة قالت: كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - ينامُ وهو جُنُب مِن غيرِ أن يَمَسَّ ماءً قال أبو داود: حدَّثنا الحسنُ بنُ عليٍّ الواسِطيُّ، قال: سمعتُ يزيدَ بنَ هارون يقول: هذا الحديثُ وهمٌ يعني حديثَ أبي إسحاق.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 228

عبداللہ بن سلمہ کا بیان ہے کہ میں دو آدمیوں کے ساتھ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔میرے خیال میں ایک ہمارے قبیلے سے اور ایک بنی اسد سے تھا۔حضرت علی نے دونوں کو اپنے سامنے بلاکر فرمایا کہ ماشاء اللّٰہ تم دونوں طاقتور ہو، جانفشانی سے اپنے دین کی خدمت کرنا۔پھر آپ کھڑے ہوئے اور قضائے حاجت کے لیے چلے گئے (لٹرین)میں۔پھر باہر آئے تو پانی منگوایا تو اس میں سے ایک چلو پانی لیکر منہ پر پھیرا ۔اور قرآن مجید پڑھنے لگے۔لوگوں کویہ بات ناپسند ہوئی تو فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکل کر ہمیں قرآن مجید پڑھاتے اور ہمارے ساتھ گوشت کھاتے اور اس میں کوئی جھجھک محسوس نہ فرماتے یا یہ فرمایا کہ جنابت کے سوا قرآن مجید سے آپ کو کوئی چیز نہیں روکتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ،حدیث نمبر٢٢٩؛ج ١ ص ١٦٤؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط؛

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَا وَرَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسَبُ، فَبَعَثَهُمَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجْهًا، وَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ، فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْمَخْرَجَ ثُمَّ خَرَجَ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَخَذَ مِنْهُ حَفْنَةً فَتَمَسَّحَ بِهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الخَلَاءِ فَيُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ - أَوْ قَالَ: يَحْجِزُهُ - عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 229

ابو وائل نے حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مکے تو ان کی جانب جھکے یہ عرض گزار ہوئے کہ میں جنبی ہوں ۔فرمایا کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَافِحُ،حدیث نمبر٢٣٠؛ج ١ ص ١٦٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فَأَهْوَى إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي جُنُبٌ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 230

ابورافع کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مدینہ منورہ کے ایک راستے میں ملے جب کہ میں حالت جنابت میں تھا۔پس میں ایک جانب ہٹ کر وہاں سے چلاگیا اور غسل کرکے حاضر بارگاہ ہواتو فرمایا اے ابوہریرہ تم کہاں تھے؟ عرض گزار ہوا کہ میں جنبی تھا اور طہارت کے بغیر آپ کی بارگاہ میں بیٹھنا میں نے ناپسند کیا۔فرمایا سبحان اللہ!مسلمان تو کبھی ناپاک نہیں ہوتا ۔فرمایا کہ حدیث بشر تو حمید نے بکر سے روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَافِحُ،حدیث نمبر٢٣١؛ج ١ ص ١٦٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَبِشْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَأَنَا جُنُبٌ، فَاخْتَنَسْتُ فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟» قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ. فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ» وَقَالَ فِي حَدِيثِ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي بَكْرٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 231

جمرہ بنت دجاجہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کے بعض صحابہ کرام نے اپنے گھروں کے دروازے آنے جانے کے لیے مسجد کے اندر نکال لیتے تھے۔فرمایاکہ ان کے دروازے مسجد کی طرف سے بند کرو پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور اس سلسلے میں لوگوں نے کچھ بھی نہ کیا،اس امید پر کہ شاید اجازت نازل ہوجائے ۔کچھ دیر بعد آپ دوبارہ ان کے پاس تشریف لائےتو فرمایا کہ ان کے دروازے مسجد کی طرف سے بند کرو دو کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ،حدیث نمبر٢٣٢؛ج ١ ص ١٦٦؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط ؛

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ». ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ فَقَالَ: «وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هُوَ فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 232

حسن نے ابوبکرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھانے کے لیے مسجد میں داخل ہوئے تو دست مبارک سے اپنی جگہ رہنے کا اشارہ فرمایا۔پھر واپس تشریف لائے توآپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔پس لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَلِّ بِالْقَوْمِ وَهُوَ نَاسٍ،حدیث نمبر٢٣٣؛ج ١ ص ١٦٨؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط ؛

حدَّثنا موسى بنُ إسماعيل، حدَّثنا حمَّاد، عن زياد الأعلم، عن الحسن عن أبي بكرة: أنَّ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - دخلَ في صلاةِ الفَجرِ، فأومَأَ بيدِهِ: أنْ مكانَكُم، ثمَّ جاءَ ورأسُهُ يَقطُرُ فصلَّى بهم

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 233

حماد بن سلمہ نے اپنی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کو معنا روایت کیا اور اس کے شروع میں کہا کہ آپ نے تکبیر کہہ لی اور اس کے آخر میں کہا کہ جب آپ نماز پوری کر چکے تو فرمایا کہ میں بھی ایک بشر ہوں اور میں جنبی تھا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا کہ زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب آپ مصلے پر کھڑے ہوئے اور ہم نے انتظار کیا کہ آپ تکبیر کہیں تو اپ لوٹ چلے۔ پھر فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہنا اسے روایت کرتے ہوئے کہا ایوب اور ابن عوف اور ہشام محمد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تکبیر کہی پھر لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو جا کر غسل فرمایا اسی طرح روایت کی ہے مالک اسماعیل بن ابوحکیم، عطاء بن یسار نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تکبیر کہی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ہم سے حدیث بیان کی اسی طرح مسلم بن ابراہیم،ابان یحییٰ،ربیع ابن محمد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے تکبیر کہی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَلِّ بِالْقَوْمِ وَهُوَ نَاسٍ،حدیث نمبر٢٣٤؛ج ١ ص ١٦٩؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط ؛

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ: فِي أَوَّلِهِ: «فَكَبَّرَ». وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا». قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ، ثُمَّ قَالَ: «كَمَا أَنْتُمْ». قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ عَوْنٍ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَكَبَّرَ ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَوْمِ أَنِ اجْلِسُوا، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ». وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ». قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَاه مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ كَبَّرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 234

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی اقامت کہی گئی اور لوگوں نے صفیں بنالیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے تو لوگوں سے فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہنا پھر کاشانہ اقدس کی جانب لوٹ گئے پھر مکان عرش آستانہ سے نکل کر ہمارے پاس جلوہ افروز ہوئے توسر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا غسل کرنے کے باعث اور ہم صف بستہ تھے۔ یہ روایت ابن حرب کے لفظوں میں ہے۔عیاش بن ارزضق نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ ہم کھڑے ہو کر آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ غسل کرکے ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يُصَلِّ بِالْقَوْمِ وَهُوَ نَاسٍ،حدیث نمبر٢٣٥؛ج ١ ص ١٨٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، ح وحَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْأَزْرَقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ إِمَامُ مَسْجِدِ صَنْعَاءَ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مَقَامِهِ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ: «مَكَانَكُمْ»، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطُفُ رَأْسُهُ، وَقَدِ اغْتَسَلَ وَنَحْنُ صُفُوفٌ وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ حَرْبٍ، وَقَالَ عَيَّاشٌ فِي حَدِيثِهِ «فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 235

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو تری دیکھے اوراسے احتلام یاد نہ ہو ۔فرمایا وہ غسل کرے اور اس شخص کے متعلق جس نے دیکھا کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن تری نہ پائے۔فرمایا کہ اس پر غسل نہیں ہے۔حضرت ام سلیم عرض گزار ہوئیں کہ اگر عورت ایسا دیکھے توکیا اس پر غسل ہے؟فرمایا کہ ہاں اس سلسلے میں عورتیں مردوں کے طرح ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَجِدُ الْبِلَّةَ فِي مَنَامِهِ،حدیث نمبر٢٣٦؛ج ١ ص ١٧١؛حکم حدیث حسن لغيره تحقيق الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا. قَالَ: «يَغْتَسِلُ»، وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَا يَجِدُ الْبَلَلَ. قَالَ: «لَا غُسْلَ عَلَيْهِ» فَقَالَتْ: أُمُّ سُلَيْمٍ الْمَرْأَةُ تَرَى ذَلِكَ أَعَلَيْهَا غُسْلٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ. إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 236

عروہ حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ام سلیم جو حضرت انس بن مالک کی والدہ ماجدہ ہیں عرض گذار ہوئی کہ یا رسول اللہ! بے شک اللہ تعالی حق بات سے نہیں شرماتا کہ جب عورت خواب میں وہی دیکھے (احتلام) جو مرد دیکھتا ہے تو اسے غسل کرنا چاہیے جبکہ پانی (منی) دیکھے؟حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسے غسل کرنا چاہیے جب کہ پانی دیکھے حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ میں ان کے پاس گئی اور ان سے کہا آپ پر افسوس ہے کیا عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جانب متوجہ ہوکر فرمایا اے عائشہ تمہارے دائیں ہاتھ میں مٹی لگے اور(بچے جو ماں کی طرح ہوتے ہیں تو)یہ مشابہت کہاں سے ہوتی ہے۔ اورامام ابوداؤد نے فرمایا اسی طرح روایت کی ہے زبیدی، عقیل اور یونس وغیرہ نے الخ۔۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ،حدیث نمبر٢٣٧؛ج ١ ص ١٧٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حدَّثنا أحمدُ بنُ صالح، حدَّثنا عَنبَسَةُ، حدَّثنا يونُسُ، عن ابن شِهاب، قال: قال عُروة عن عائشة: إنَّ أمَّ سُلَيم الأنصاريَّةَ -وهي أمُّ أنسِ بنِ مالك- قالت: يا رسولَ الله، إنَّ اللهُ لا يَستَحيي من الحقِّ، أرأيتَ المرأةَ إذا رَأَتْ في النَّومِ ما يرى الرجلُ أتغتَسِلُ أم لا؟ قالت عائشةُ: فقال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: "نعم، فلتَغتَسِل اذا وَجَدَتِ الماءَ" قالت عائشةُ: فأقبَلْتُ عليها فقلتُ: أُفٍّ لكِ، وهل ترى ذلك المرأة؟ فأقبَلَ عليَّ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: "تَرِبَت يمينُكِ يا عائشة، ومِن أينَ يكونُ الشَّبَه"قال أبو داود: وكذا رواه عُقيلٌ والزُّبيديُّ ويونسُ وابنُ أخي الزُّهريِّ عن الزُّهريِّ، وابنُ أبي الوزير عن مالك عن الزُّهريِّ، ووافَقَ الزُّهريَّ مُسافِعٌ الحَجَبيُّ، قال: عن عروة عن عائشة. وأمَّا هشامُ بنُ عروة فقال: عن عُروة، عن زينبَ بنتِ أبي سلمة، عن أُمّ سلمة أنَّ أُمِّ سُلَيمٍ جاءت رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 237

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت فرمایاکرتے جو فرق ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایاکہ معمر نے اس حدیث کو زھری سے روایت کیا ہے جس میں حضرت صدیقہ نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے اس میں ایک فرق پانی ہوتا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن عینیہ نے بھی حدیث مالک کی مانند روایت کی ہے۔ امام ابو داؤد کا بیان ہے کہ میں نے امام احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک فرق رطل کا ہوتا ہے۔ جس نے آٹھ رطل کہا اس کی بات درست نہیں ہے۔ امام ابو داؤد کا بیان ہے کہ میں نے امام احمد کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے صدقہ فطر میں ہمارے رطل سے پانچ اور ایک تہائی دیے تو اس نے پورا صدقہ فطر دیا۔ ان سے کہا گیا کہ صیحافی کھجور بھاری ہوتی ہے۔ فرمایا کہ صحافی عمدہ ہے اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ الَّذِي يُجْزِئُ فِي الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٣٨؛ج ١ ص ١٧٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط؛

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ - هُوَ الْفَرَقُ - مِنَ الجَنَابَةِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالكٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ: مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ: «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِيهِ قَدْرُ الْفَرَقِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: الْفَرَقُ: سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: صَاعُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ. قَالَ: فَمَنْ قَالَ: ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ؟ قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ قَالَ: وسَمِعْت أَحْمَد يَقُولُ: مَنْ أَعْطَى فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ بِرِطْلِنَا هَذَا خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا فَقَدْ أَوْفَى قِيلَ الصَّيْحَانِيُّ ثَقِيلٌ. قَالَ: الصَّيْحَانِيُّ أَطْيَبُ قَالَ: لَا أَدْرِي

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 238

سلیمان بن صرد نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور غسل جنابت کا ذکر کیا۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اپنے سر پر تین لپ ڈالتاہوں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا (کہ اس طرح پانی ڈالتا ہوں) ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٣٩؛ج ١ ص ١٧٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُسْلَ مِنَ الجَنَابَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا». وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 239

قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو تو برتن میں پانی منگواتے جو دودھ دوہنے والے برتن جتنا ہوتا ۔پھر چلو میں پانی لیکر پہلے سر کے دائیں جانب ڈالتے ،پھر بائیں جانب پھر دونوں ہتھیلیوں میں لے کر سرکے اوپر۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٠؛ج ١ ص ١٧٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَيْءٍ مِنْ نَحْوِ الْحِلَابِ، فَأَخَذَ بِكَفَّيْهِ فَبَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 240

بنی تمیم اللّٰہ بن ثعلبہ کے ایک فرد جمیع بن عمیر کا بیان ہے کہ میں اپنی والدہ ماجدہ اور خالہ جان کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ان میں سے ایک نے پوچھا کہ آپ غسل کے وقت کیا کرتے ہیں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو فرماتے ،پھر اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے اور ہم چوٹیوں کے باعث اپنے سر پر پانچ مرتبہ پانی ڈالا کرتی ہیں ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤١؛ج ١ ص ١٧٥؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ صَدَقَةَ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضُّفُرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 241

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے سلیمان راوی نے کہا کہ ابتداء کرتے تو دائیں ہاتھ سے۔مسدد راوی نے کہا کہ دونوں ہاتھ دھوتے برتن سے دائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر۔پھر دونوں حضرات متفق ہوگئے۔کہ اپنی شرمگاہ کو دھوتے ۔مسددنے کہا کہ بائیں ہاتھ پر ڈالتے اور کبھی بطور کنایہ شرمگاہ کہا۔پھر وضو کرتے نماز وضو کی طرح۔پھر برتن میں دونوں ہاتھ داخل کرکے بالوں میں خلال کرتے،یہاں تک کہ جب دیکھتے کہ پانی جلد تک پہنچ گیا یا جلد صاف ہوگئی تو تین دفعہ سرپر پانی ڈالتے پھر جتنا پانی بچ جاتا اسے اپنے اوپر ڈال لیتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٢؛ج ١ ص ١٧٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حدَّثنا سليمانُ بنُ حربٍ الواشِحي ومُسدَّد، قالا: حدَّثنا حمَّادٌ، عن هشام بن عروة، عن أبيه عن عائشة، قالت: كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - إذا اغتَسَلَ مِنَ الجَنابةِ، قال سُليمان: يَبدَأُ فيُفرغُ بيمينِهِ، وقال مُسدَّد: غَسَلَ يَدَيهِ يَصُبُّ الإناءَ على يَدِهِ اليُمنى، ثمَّ اتفقا: فيَغسِلُ فَرجَه، قال مُسدَّد: يُفرغُ على شِمالِهِ، وربما كَنَتْ عن الفَرجِ، ثمَّ يَتَوضَّأُ وُضوءَهُ للصلاة، ثمَّ يُدخِلُ يَدَيهِ في الإناء فيُخَلِّلُ شَعرَهُ، حتَّى إذا رأى أنه قد أصابَ البَشَرةَ أو أنقَى البَشَرةَ، أفرَغَ على رأسِهِ ثلاثاً، فإذا فَضَلَ فَضلةٌ صَبَّها عليه

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 242

اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو اپنی ہتھیلیوں سے شروع فرماتے کہ انھیں دھوکر پھر جوڑوں کو دھوتے اور ان پر پانی ڈالتے تاکہ وہ صاف ہو جائیں اور آنکھیں دیوار سے رگڑتے ۔پھر وضو فرماتے اور اپنے سر مبارک پر پانی ڈالتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٣؛ج ١ ص ١٧٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حدَّثنا عمرُو بنُ عليِّ الباهليُّ، حدَّثنا محمَّدُ بنُ أبي عَدِيّ، حدَّثنا سعيد، عن أبي مَعشَر، عن النَّخَعيِّ، عن الأسود عن عائشة، قالت: كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -إذا أرادَ أن يَغتَسِلَ مِنَ الجَنابةِ بَدَأَ بكَفيهِ فغَسَلَهما، ثمَّ غَسَلَ مَرافِغَهُ، وأفاضَ عليه الماءَ، فإذا أنقاهما أهوَى بهما إلى حائطٍ، ثمَّ يَستَقبِلُ الوضوءَ، ويُفِيضُ الماءَ على رأسِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 243

شعبی کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس دیوار پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نشان دکھادوں جہاں آپ غسل جنابت فرماتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٤؛ج ١ ص ١٧٧؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حدَّثنا الحسنُ بنُ شَوكَرٍ، حدَّثنا هُشيمٌ، عن عروة الهَمْدانيِّ، حدَّثنا الشَعبيُّ، قال:قالت عائشةُ: لئن شِئتُم لأُرِيَنَّكم أثَرَ يَدِ رسولِ الله - صلى الله عليه وسلم - في الحائِطِ حيثُ كانَ يَغتَسِلُ مِنَ الجَنابةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 244

حضرت ابن عباس سے ان کی خالہ جان حضرت میمونہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا تاکہ اس کے ساتھ غسل جنابت فرمائیں تو آپ نے برتن سے دائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اسے دویاتین دفعہ دھویا ۔پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک کر اسے دوسرے دست مبارک سے دھویا۔پھر اپنا دست مبارک زمین پر مارکر اسے دھویا ۔پھر کلی،ناک میں پانی ڈالا،پرنور چہرہ دھویااور دونوں ہاتھ بھی۔اپنے سر اقدس اور جسم اطہر پر پانی بہایا۔پھر اس مقام سے ہٹ کر اپنے دونوں پیر دھوئے تو میں نے رومال پیش کیا جو نہ لیا اور آپ کے جسم اطہر سے پانی ٹپکتا رہا۔اعمش کا بیان ہے کہ میں نے ابراہیم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا کہ صحابہ کرام رومال میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔لیکن عادت بنالینا انہیں ناپسند تھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مسدد نے عبداللہ بن داؤد سے کہا۔صحابہ کرام عادت کو ناپسند فرماتے تھے؟فرمایا کہ بات یہی ہے لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایاہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٥؛ج ١ ص ١٧٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «وَضَعْتُ للنبى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، فَغَسَلَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ صَبَّ عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى نَاحِيَةً فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ الْمِنْدِيلَ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ عَنْ جَسَدِهِ» فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: «كَانُوا لَا يَرَوْنَ بِالْمِنْدِيلِ بَأْسًا، وَلَكِنْ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْعَادَةَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ مُسَدَّدٌ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ: كَانُوا يَكْرَهُونَهُ لِلْعَادَةِ؟ فَقَالَ: هَكَذَا هُوَ، وَلَكِنْ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي هَكَذَا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 245

ابن ابی ذئب کا بیان ہے کہ شعبہ نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جب غسل جنابت فرماتے تو دائیں ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر سات مرتبہ پانی ڈالتے،پھر اپنی شرمگاہ کو دھوتے۔ایک مرتبہ وہ پانی ڈالنے کی تعداد بھول گئے تو مجھ سے پوچھا کہ میں نے کتنی دفعہ پانی ڈالا ہے؟میں عرض گزار ہوا کہ مجھے تو معلوم نہیں۔فرمایا کہ تمہاری ماں نہ رہے ،تمہیں معلوم کرنے سے کس نے روکا؟پہ ہر نماز کے وضو کی طرح وضو فرماتے۔پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔پہر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس طرح طہارت فرماتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٦؛ج ١ ص ١٧٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط؛

حدَّثنا حُسينُ بنُ عيسى الخُراساني، حدَّثنا ابنُ أبي فُدَيك، عن ابنِ أبي ذئبٍ، عن شُعبة، قال:انَّ ابنَ عبَّاسِ كانَ إذا اغتَسَلَ مِنَ الجَنابةِ يُفرغُ بيَدِهِ اليُمنى على يَدِه اليُسرى سبعَ مِرارٍ، ثمَّ يَغسِلُ فَرجَه، فنَسِيَ مرَّةَ، فسَأَلَني: كم أفرَغتُ؟ فقلتُ: لا أدري، فقال: لا أُمَّ لك، وما يَمنَعُكَ أنْ تدري؟ ثمَّ يَتوضأُ وُضوءَهُ للصَّلاةِ، ثمَّ يُفيضُ على جلدِه الماءَ، ثمَّ يقولُ: هكذا كانَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - يَتَطَهَّرُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 246

عبداللہ بن عصم کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نمازیں پچاس تھیں نیز غسل جنابت سات دفعہ کیا جاتا اور پیشاب لگنے سے کپڑے کو سات دفعہ دھویا جاتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر سوال کرتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ مقرر فرما دیں گئیں۔ نیز جنابت سے ایک دفعہ غسل کیا جاتا اور پیشاب لگنے سے کپڑے کو ایک دفعہ دھویا جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٧؛ج ١ ص ١٨٠؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ، وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ سَبْعَ مِرَارٍ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ حَتَّى جُعِلَتِ الصَّلَاةُ خَمْسًا، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً، وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ مَرَّةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 247

محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک ہر بال کے نیچے جنابت ہے لہذا ہر بال کو دھو لیا کرو اور جسم کو صاف کر لیا کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حارث بن دحیہ کی حدیث منکر ہے کیوں کہ وہ ضعیف ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٨؛ج ١ ص ١٨٠؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 248

زادان نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے اپنے غسل جنابت میں ایک بال کی جگہ بھی چھوڑدی جسے نہ دھویا اسے آگ کا اس طرح عذاب دیا جائے گا۔حضرت علی نے فرمایا کہ اسی لیے میں اپنے سر کا دشمن ہوں،اسی لیے میں اپنے سر کا دشمن ہوں،اسی لیے میں اپنے سر کا دشمن ہوں اور اپنے بالوں کو بنوایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ،حدیث نمبر٢٤٩؛ج ١ ص ١٨١؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ» قَال عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ثَلَاثًا، وَكَانَ يَجُزُّ شَعْرَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 249

اسود نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غسل کرکے دورکعتیں نماز پڑھتے تھے اور نماز فجر ادا کرتے تھے اور میرا نہیں خیال کہ آپ غسل فرمالینے کے بعد کبھی تازہ وضو کرتے تھے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٠؛ج ١ ص ١٨١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ، وَلَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 250

عبداللہ بن رافع مولی ام سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے ایک عورت نے زہیر سے کہا کہ وہ عرض گزار ہوئی یا رسول اللّٰہ!میں اپنی چوٹی سختی سے باندھتی ہوں ۔کیا غسل جنابت کے لیے اسے کھولا کروں؟فرمایا کہ تمہارے لیے سر پر تین لپ پانی ڈال لینا کافی ہے۔زہیر کا بیان ہے کہ تین لپ پانی سر پر ڈال کر اسے سارے جسم پر بہاؤ تو اس وقت تم پاک ہو جاؤگی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر ٢٥١؛ج ١ ص ١٨٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ السَّرْحِ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ - وَقَالَ زُهَيْرٌ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ - أَشُدُّ ضُفُرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِلْجَنَابَةِ؟ قَالَ: «إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْفِنِي عَلَيْهِ ثَلَاثًا» - وَقَالَ زُهَيْرٌ: «تُحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَات مِنْ مَاءٍ» ثُمَّ تُفِيضِي عَلَى سَائِرِ جَسَدِكِ، فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 251

مقبرہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ ایک عورت حضرت ام سلمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ۔مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی خاطر میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔معنا بیان کرتے ہوئے اس میں کہا ہر مرتبہ لپ ڈالنے کے ساتھ اپنی لٹوں کو نچوڑ لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٢؛ج ١ ص ١٨٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ: فَسَأَلْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ: «وَاغْمِزِي قُرُونَكِ عِنْدَ كُلِّ حَفْنَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 252

صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم سے جب کسی کو غسل جنابت کی حاجت ہوتی تو تین لپ پانی لیتے اور دونوں ہاتھوں کو اکھٹا کرکے بتایا کہ ایسے۔پس اپنے سر پر پانی ڈالتے نیز ایک چلو پانی لے کر ایک جانب ڈالتے اور دوسرا چلو لے کر دوسری جانب ڈالا جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٣؛ج ١ ص ١٨٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَتْهَا جَنَابَةٌ أَخَذَتْ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ - هَكَذَا تَعْنِي بِكَفَّيْهَا جَمِيعًا - فَتَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، وَأَخَذَتْ بِيَدٍ وَاحِدَةٍ فَصَبَّتْهَا عَلَى هَذَا الشِّقِّ، وَالْأُخْرَى عَلَى الشِّقِّ الْآخَرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 253

عائشہ بنت طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم غسل کرتے حالانکہ ہم نے سر پر لیپ کیا ہوا ہوتا۔اور ہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتیں احرام سے باہر اور حالت احرام میں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٤؛ج ١ ص ١٨٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كُنَّا نَغْتَسِلُ وَعَلَيْنَا الضِّمَادُ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلَّاتٌ وَمُحْرِمَاتٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 254

ضمضم بن زرعہ نے شریح بن عبید سے روایت کی ہے کہ جبیر بن نفیر نے غسل جنابت کے متعلق مجھے فتویٰ دیاکہ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو حضور نے فرمایا مرد اپنا سر کھول کردھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے اور عورت کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپ پانی اپنے سر پر نہ ڈالے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ هَلْ تَنْقُضُ شَعْرَهَا عِنْدَ الْغُسْلِ،حدیث نمبر٢٥٥؛ج ١ ص ١٨٤؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ: ابْنُ عَوْفٍ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أَفْتَانِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَة، أَنَّ ثَوْبَانَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمُ اسْتَفْتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: «أَمَّا الرَّجُلُ فَلْيَنْشُرْ رَأْسَهُ فَلْيَغْسِلْهُ حَتَّى يَبْلُغَ أُصُولَ الشَّعْرِ، وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَلَا عَلَيْهَا أَنْ لَا تَنْقُضَهُ لِتَغْرِفْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِكَفَّيْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 255

بنی سواءۃ کے ایک آدمی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم غسل جنابت کرتے ہوئے اپنے سر مبارک کو خطمی سے دھوتے تو اسی کو کافی سمجھتے اور پھر سر پر پانی نہ بہاتے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْجُنُبِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِخِطْمِيٍّ أَيُجْزِئُهُ ذَلِكَ،حدیث نمبر٢٥٦؛ج ١ ص ١٨٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ، وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 256

بنی سواءۃ بن عامر کے ایک شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے اس پانی کے متعلق روایت کی ہے جو مردوعورت کے درمیان ہے۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لےکر اسے پانی (منی)پر ڈالتے اور دوسرا چلو پانی لےکر اسے اپنے جسم اطہر پر ڈالتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ،حدیث نمبر٢٥٧؛ج ١ ص ١٨٥؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِر، عَنْ عَائِشَةَ فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ يَصُبُّ عَلَيَّ الْمَاءَ، ثُمَّ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ يَصُبُّهُ عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 257

ثابت البنانی سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ یہود کی جب کسی عورت کو حیض آتا تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ اسے گھر میں اپنے ساتھ رکھتے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو اللہ تعالی نے اس کے متعلق یہ نازل فرمایا اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم، تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے۔تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں میں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں گھروں میں اپنے پاس رکھو اور جماع کے سوا ان کے ساتھ سب کچھ کرو بس یہود نے کہا کہ یہ شخص ہمارے معاملات میں سے کوئی ایسی چیز چھوڑنا نہیں چاہتاجس میں ہماری مخالفت نہ کرے۔چنانچہ حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشیر دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے۔ یا رسول اللہ! یہودی ایسا کہتے ہیں تو کیوں نہ ہم حیض میں جماع کر لیا کریں؟اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرنور چہرے کارنگ بدل گیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ان دونوں حضرات پر غصہ آیا ہے پس وہ دونوں نکل گئے اسی اثنا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا پس آپ نے ان دونوں حضرات کو بلا کر انہیں دودھ پلایا تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ ناراضگی ان پر نہیں تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَمُجَامَعَتِهَا،حدیث نمبر٢٥٨؛ج ١ ص ١٨٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ الْمَرْأَةُ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ، وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ} [البقرة: ٢٢٢] قُلْ: هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَاصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ». فَقَالَتِ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْر، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْر إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 258

مقداد بن شریح نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حالت حیض کے اندر میں ہڈی چوس رہی تھی تو میں نے وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دےدی تو آپ نے اپنا منہ اسی جگہ پر رکھا جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہواتھا۔اور میں پانی پی کر آپ کو دیتی تو آپ اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں منہ رکھ کر میں پی رہی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَمُجَامَعَتِهَا،حدیث نمبر٢٥٩؛ج ١ ص ١٨٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَأُعْطِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي فِيهِ وَضَعْتُهُ، وَأَشْرَبُ الشَّرَابَ فَأُنَاوِلُهُ فَيَضَعُ فَمَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي كُنْتُ أَشْرَبُ مِنْهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 259

منصور بن عبدالرحمن نے سفیہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میری گود میں اپنا سرمبارک رکھ کر تلاوت فرماتے اور میں حائضہ ہوتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَمُجَامَعَتِهَا،حدیث نمبر٢٦٠؛ج ١ ص ١٨٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي فَيَقْرَأُ وَأَنَا حَائِضٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 260

قاسم بن محمد بن ابوبکر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے مجھے نماز پڑھنے کا بوریہ لادو میں عرض گزار ہوئی کہ حائضہ ہوں ۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تونہیں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْحَائِضِ تُنَاوِلُ مِنَ الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٢٦١؛ج ١ ص ١٨٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ». فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 261

ابوقلابہ نےمعاذہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا حائضہ نماز کی قضا پڑھے؟فرمایاکہ کیا تم حروریہ(خارجہ)ہو؟ہمیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا اور ہم قضا نہ پڑھتے اور نہ ہمیں قضا پڑھنے کا حکم فرمایا گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْحَائِضِ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٦٢؛ج ١ ص ١٨٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ لَقَدْ «كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي، وَلَا نُؤْمَرُ بِالْقَضَاءِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 262

معاذہ عدویہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مذکورہ حدیث کو روایت کیا ہے۔اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ہمیں روزے کی قضا رکھنے کا حکم دیا لیکن نماز کی قضا پڑھنے کا حکم نہیں فرمایا گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْحَائِضِ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٦٣؛ج ١ ص ١٨٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَزَادَ فِيهِ: «فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 263

مقسم نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کربیٹھے تو وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس طرح یہ روایت صحیح ہے کہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے اور کبھی کبھار شعبہ اسے مرفوعاً روایت نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ،حدیث نمبر٢٦٤؛ج ١ ص ١٨٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی؛

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: «يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَكَذَا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ قَالَ: «دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ». وَرُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 264

مقسم سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اگر حیض کے شروع میں جماع کیا تو ایک دینار اور اور حیض ختم ہونے کے قریب کیا ہوتو نصف دینار صدقہ دے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح روایت کی ہے ابن جریج،عبدالکریم نے مقسم سے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ،حدیث نمبر٢٦٥؛ج ١ ص ١٩٠؛حکم حدیث اسنادہ موقوف تحقیق البانی؛

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِذَا أَصَابَهَا فِي أَوَّلِ الدَّمِ فَدِينَارٌ، وَإِذَا أَصَابَهَا فِي انْقِطَاعِ الدَّمِ فَنِصْفُ دِينَارٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مِقْسَمٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 265

مقسم نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدمی حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اسے چاہیے کہ نصف دینار صدقہ دے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح روایت کی ہے علی بن بذیمہ،مقسم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔اوزاعی،یزیدبن ابومالک،عبد الحمید بن عبد الرحمن نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ دینار کا٥/٢حصہ صدقہ دے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ،حدیث نمبر٢٦٦؛ج ١ ص ١٩٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح موقوف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَلْيَتَصَدَّقْ بِنِصْفِ دِينَارٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ بُذَيْمَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَرَوَى الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «آمُرُهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِخُمْسَيْ دِينَارٍ»، وَهَذَا مُعْضَلٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 266

ندبہ مولاۃ میمونہ سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے مباشرت فرماتے حالانکہ وہ حالت حیض میں ہوتیں جب کہ انہوں نے ازار سے نصف رانوں تک یا گھٹنوں تک پردہ کیا ہوا ہوتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٦٧؛ج ١ ص ١٩١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ نُدْبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ إِلَى أَنْصَافِ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ تَحْتَجِزُ بِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 267

اسود سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ازارباندھنے کا حکم فرما تے، پھر اس کے پاس لیٹ جاتے ایک دفعہ فرمایا کہ مباشرت بھی کرتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٦٨؛ج ١ ص ١٩٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ، ثُمَّ يُضَاجِعُهَا زَوْجُهَا» وَقَالَ مَرَّةً: «يُبَاشِرُهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 268

خلاس ہجری نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رضائی میں رات گزار لیتے اور میں حائضہ ہوتی۔ اگر میرا خون آپ کے جسم اطہر کو لگ جاتا تو آپ صرف اتنی ہی جگہ کو دھو کر نماز پڑھ لیا کرتے اور اگر میرا خون آپ کے کپڑے کو لگ جاتا تو صرف اتنے ہیں کپڑے کو دھو کر اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٦٩؛ج ١ ص ١٩٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: " كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ، وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، وَإِنْ أَصَابَ - تَعْنِي: ثَوْبَهُ - مِنْهُ شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 269

عمارہ بن غراب کوان کی پھوپھی جان نے بتایا کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض گزار ہوئی کہ ہم میں سےکسی عورت کو جب حیض آئے جبکہ اس جوڑے (میاں اور بیوی) کے پاس صرف ایک بستر ہو؟ فرمایا میں تمہیں بتاتی ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ایک رات آپ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں حائضہ تھی تو پہلے اپنی مسجد میں چلے گئے جو گھر میں تھی۔ آپ واپس نہ لوٹے یہاں تک کہ میں اونگھنے لگی آپ کو سردی محسوس ہوئی تو مجھ سے فرمایا کہ میرے قریب ہو جاؤ عرض گزار ہوئی کہ میں حائضہ ہوں۔ فرمایا کہ اپنی رانیں کھول دو پس میں نے اپنی رانیں کھول دیں تو آپ نے اپنا رخسار مبارک اور سینہ فیض گنجینہ میری رانوں پر رکھ دیا اور میں خود بھی آپ پر جھک گئی یہاں تک کہ خود آپ کی سردی دور ہوگئی اور سو گئے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٧٠؛ج ١ ص ١٩٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ قَالَ: إِنَّ عَمَّةً لَهُ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ؟ قَالَتْ: أُخْبِرُكِ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فَمَضَى إِلَى مَسْجِدِه - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: تَعْنِي مَسْجِدَ بَيْتِهِ - فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ فَقَالَ: «ادْنِي مِنِّي». فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ. فَقَالَ: «وَإِنْ، اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ». فَكَشَفْتُ فَخِذَيَّ فَوَضَعَ خَدَّهُ وَصَدْرَهُ عَلَى فَخِذِي، وَحَنَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى دَفِئَ وَنَامَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 270

ام ذرہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب مجھے حیض شروع ہوجاتا تو میں بستر سے بورئیے پر آجاتی،اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس وقت تک قریب نہیں جایا کرتی تھی جب تک کہ حیض سے پاک نہ ہوجاتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٧١؛ج ١ ص ١٩٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كُنْتُ إِذَا حِضْتُ نَزَلْتُ عَنِ المِثَالِ عَلَى الْحَصِيرِ، فَلَمْ نَقْرُبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ نَدْنُ مِنْهُ حَتَّى نَطْهُرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 271

عکرمہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی زوجہ مطہرہ سے مباشرت وغیرہ کا ارادہ کرتے اور وہ حائضہ ہوتیں تو ان کی شرمگاہ پر کپڑا ڈال دیا کرتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٧٢؛ج ١ ص ١٩٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ مِنَ الْحَائِضِ شَيْئًا أَلْقَى عَلَى فَرْجِهَا ثَوْبًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 272

عبد الرحمٰن بن اسود کے والد ماجد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیض کی شدت کے دوران ہمیں ازار باندھنے کا حکم فرماتے اور پھر ہم سے مباشرت کرتےاور تم میں سے اپنی شہوت پر اتنا اختیار کس کو ہیں جتنا اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ،حدیث نمبر٢٧٣؛ج ١ ص ١٩٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا فِي فَوْحِ حَيْضَتِنَا أَنْ نَتَّزِرَ، ثُمَّ يُبَاشِرُنَا. وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ؟

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 273

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کا خون جاری ہوگیا تو حضرت ام سلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے جتنے دن حیض آتا تھا ان دنوں کا خیال رکھیں جبکہ اسے یہ تکلیف نہیں ہوئی تھی لہذا اتنے دنوں کی نماز چھوڑ دیا کریں اور جب وہ دن نکل جائے تو غسل کرکے ایک لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٤؛ج ١ ص ١٩٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّ فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 274

سلیمان بن یسار نے ایک آدمی سے اور اس نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت کا خون جاری ہوگیا اس کا معنا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ دن گزر جائے اور نماز کا وقت ہوجائے تو غسل کرے معنامذکورہ حدیث کی طرح۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٥؛ج ١ ص ١٩٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. قَالَ: «فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْتَغْتَسِلْ». بِمَعْنَاهُ،

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 275

سلیمان بن یسار نے ایک انصاری سے روایت کی ہے کہ ایک عورت جس کا خون جاری رہتا (یعنی استحاضہ کی بیماری ہوگئی تھی) پھر حدیث لیث کی طرح معنا بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب ایام حیض گزر جائے اور نماز کا وقت ہو تو غسل کرے اور آگے مذکورہ حدیث کی طرح معنا کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٦؛ج ١ ص ١٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَار، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ قَالَ: «فَإِذَا خَلَّفَتْهُنَّ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْتَغْتَسِلْ»، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 276

صخر بن جویریہ نے نافع سے لیث کی اسناد کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے دنوں کی نماز چھوڑ دے۔پھر جب نماز کا وقت ہو تو غسل کرنا چاہیے اور ایک لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٧؛ج ١ ص ١٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَبِمَعْنَاهُ قَالَ: «فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْتَغْتَسِلْ، وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 277

سلیمان بن یاسر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی واقعہ روایت کرتے ہوئے کہا کہ اتنی دنوں کی نماز چھوڑ دے اور باقی دنوں میں غسل کرے اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھا کرے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس عورت کا نام جس کو استحاضہ کی بیماری تھی اس حدیث میں حماد بن زید نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے فاطمہ بنت ابو حبیش بتا یا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٨؛ج ١ ص ١٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فِيهِ: «تَدَعُ الصَّلَاةَ وَتَغْتَسِلُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَتَسْتَثْفِرُ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّي» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " سَمَّى الْمَرْأَةَ الَّتِي كَانَتِ اسْتُحِيضَتْ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَن أَيُّوبَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 278

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نےفرمایا کہ حضرت ام حبیبہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق پوچھا اور میں نے ان کے ایک برتن کو خون سے بھرا ہوا دیکھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جتنے دن تم حیض کے باعث نماز نہیں پڑھتی تھیں اتنے دن نہ پڑھا کرو پھر غسل کر لیا کرو۔ ابوداؤد نے فرمایا کہ جعفر بن ربیعہ کی حدیث کو قتیبہ نے درمیان اور آخر سے روایت کیا ہے اور اسے روایت کیا علی بن عیاش اور یونس بن محمد نے لیث سے۔ دونوں نے کہا جعفربن ربیعہ سے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٧٩؛ج ١ ص ١٩٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَرَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ قُتَيْبَةُ بَيْنَ أَضْعَافِ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَة فِي آخِرِهَا، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، فَقَالَا: جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 279

عبداللہ بن منذر بن مغیرہ سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کی شکایت کرتے ہوئے حکم پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ ایک رگ (کا خون) ہے تم اپنے ایام حیض کا خیال رکھا کرو جب وہ دن آئے تو نماز نہ پڑھاکرو۔ جب تمہارے حیض کے دن گزر جائیں تو پاک ہو کر نماز پڑھتی رہو ایک حیض سے دوسرے حیض تک۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٨٠؛ج ١ ص ٢٠٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَانْظُرِي إِذَا أَتَى قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ قَرْؤُكِ فَتَطَهَّرِي، ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 280

عروہ بن زبیر نے حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء کو حکم دیا یا حضرت اسماء نے مجھ سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ پوچھنے کا حضرت بنت ابوحبیش نے حکم دیا۔فرمایا کہ جتنے دن تم بیٹھتی تھی اتنے دن بیٹھی رہا کرو ۔پھرغسل کر لیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے روایت کیا ہے قتادہ،عروہ بن زبیر نے زینب بنت ام سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ایام حیض کی نماز چھوڑ دیا کرو۔ پھر غسل کرلو اور نماز پڑھا کرو ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ زیادہ بیان ابن عینیہ نے حدیث زہری میں ،عمرہ کے واسطے حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت ام حبیبہ کو استحاضہ ہو گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔آپ نے انہیں حکم فرمایا کہ اپنے حیض کے دنوں کی نماز چھوڑ دیا کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ ابن عینیہ کا وہم ہے،زہری سے یہ بات دوسرے حفاظ حدیث کی روایتوں میں نہیں ہے مسواء سہیل ابن ابوصالح کے اور حمیدی نے اس حدیث کو ابن عیینہ سے روایت کیا اور اور اس میں حیض کے دنوں کی نماز چھوڑ نے کا ذکر نہیں کیا۔قمیر نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں کی نماز چھوڑے، پھر غسل کرے،عبدالرحمن بن قاسم نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے حیض کے دنوں کے مطابق نماز چھوڑ دیا کرو۔روایت کیا اس کو ابوبشر جعفر بن ابووحشیہ ،عکرمہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی ۔پہر اسی طرح بیان کیا روایت کی شریک ،ابویقضان ،عدی بن ثابت،ان کے والد محترم،ان کے جد امجد،نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مستحاضہ اپنے ایام حیض کی نمازیں چھوڑ دے۔پھر غسل کرے اور نماز پڑھے،روایت کیا اسے علا بن مسیب،حکم،ابوجعفر،حضرت سودہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو استحاضہ ہو گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب تمہارے ایام حیض گزر جائیں تو غسل کرکے نماز پڑھا کرو ۔روایت کی اس کی سعید بن جبیر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے کہ مستحاضہ اپنی ایام حیض میں بیٹھی رہے۔اسی طرح روایت کی عمار مولی بنی ہاشم اور طلق بن حبیب نے حضرت ابن عباس سے ۔اسی طرح روایت کی معقل خشعمی نے حضرت علی سے اسی طرح روایت کیا اسے شعبی ،قمیر زوجہ مسروق نے حضرت عائشہ سے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حسن بصری،سعد بن مسیب،عطاء،مکحول،ابراہیم ،سالم اور قاسم کا یہی قول ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ قتادہ نے عروہ سے کچھ بھی نہیں سنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ، وَمَنْ قَالَ: تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي عِدَّةِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ،حدیث نمبر٢٨١؛ج ١ ص ٢٠٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط

٢٨١ - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا أَمَرَتْ أَسْمَاءَ أَوْ أَسْمَاءُ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا أَمَرَتْهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنْ تَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْعُدَ الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَتْ تَقْعُدُ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ، " فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ لَيْسَ هَذَا فِي حَدِيثِ الْحِفَاظِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، إِلَّا مَا ذَكَر سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ وَقَدْ رَوَى الْحُمَيْدِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: «تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا» وَرَوَتْ قَمِيرُ بِنْتُ عَمْرٍو زَوْجُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ «الْمُسْتَحَاضَةُ تَتْرُكُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ» وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا» وَرَوَى أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ. وَرَوَى شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي» وَرَوَى الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ سَوْدَةَ اسْتُحِيضَتْ، «فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَتْ أَيَّامُهَا اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ» وَرَوَى سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ «الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ قُرْئِهَا» وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَطَلْقُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْقِلٌ الْخَثْعَمِيُّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَذَلِكَ رَوَى الشَّعْبِيُّ، عَنْ قَمِيرَ امْرَأَة مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ قَوْل الْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءٍ، وَمَكْحُولٍ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَسَالِمٍ، وَالْقَاسِمِ، «أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «لَمْ يَسْمَع قَتَادَة مِن عُرْوَة شَيْئًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 281

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ بنت ابوحبیش رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں کہ میں مستحاضہ عورت ہوں،کبھی پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟فرمایا کہ یہ حیض نہیں ہے بلکہ ایک رگ کا خون ہے۔جب حیض کا دن آیا کریں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب وہ گزر جائیں تو اپنے جسم سے خون دھوکر نماز پڑھ لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ: الْحَيْضَةَ إِذَا أَدْبَرَتْ لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٢؛ج ١ ص ؤ٠٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، ثُمَّ صَلِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 282

ہشام نے زہیرکی سند کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے کہ جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرواور جب اتنے دن گزر جائیں تو اپنے جسم سے خون دھو کر نماز پڑھ لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ: الْحَيْضَةَ إِذَا أَدْبَرَتْ لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ؛حدیث نمبر٢٨٣؛ج ١ ص ٢٠٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ، وَمَعْنَاهُ وَقَالَ: «فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ، فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا، فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 283

بہیہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا کہ ایک عورت حضرت عائشہ سے اس عورت کے متعلق پوچھ رہی تھی جس کا حیض بگڑ جائے اور خون جاری ہو جائے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ا نہیں حکم دو کہ ان دنوں کا انتظار کرے جن میں کہ اسے تندرستی کی حالت کے اندر حیض آتا تھا۔ کہ انہیں شمار کرکے اتنے دن نماز چھوڑ دیا کرے پھر غسل کرلے اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٤؛ج ١ ص ٢٠٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ بُهَيَّةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ عَنِ امْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضُهَا وَأُهْرِيقَتْ دَمًا، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا «فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ، فَلْتَعْتَدَّ بِقَدْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ، ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ أَوْ بِقَدْرِهِنَّ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 284

عروہ بن زبیر اور عمرہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سالی حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال خون استحاضہ آتا رہا جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ کا خون ہے لہذا نماز پڑھ لیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایاکہ اوزاعی نے اس حدیث میں کچھ زائد کہا کہ زہری،عروہ اور عمرہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ جب ایام حیض آئے تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب وہ نکل جائیں تو غسل کرکے نماز پڑھا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس بات کا ظہری کے اصحاب میں سے اوزاعی کے سوا کسی نے ذکر نہیں کیا اور زہری سے عمر بن حارث اور لیس اور یونس اور ابن ابی ذئب اور محمد اور ابراہیم بن سعد اور سلیمان بن کثیر اور ابن اسحاق اور سفیان بن عیینہ نے اس کو روایت کیا لیکن اس بات کا انہوں نے ذکر نہیں کیا امام ابو داؤد نے فرمایا کہ یہ لفظ صرف ہشام بن عروہ عروہ بن زبیر حضرت عائشہ صدیقہ والی روایت میں ہیں۔ امام ابوداؤد نے فرمایا وہ اوزعی والی حدیث کے اضافے سے نزدیک ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٥؛ج ١ ص ٢٠٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: زَادَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، " فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَاب الزُّهْرِيِّ غَيْرُ الْأَوْزَاعِي وَرَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، وَيُونُسُ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَمَعْمَرٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ «وَلَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلَامَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَإِنَّمَا هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِيهِ أَيْضًا «أَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا» وَهُوَ وَهْمٌ مِن ابْنِ عُيَيْنَة، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيهِ شَيْءٌ يَقْرُبُ مِنَ الَّذِي زَادَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 285

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ وہ مستحاضہ تھیں تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب حیض کا خون آئے جو سیاہ رنگ کا ہوتا ہے تو ان دنوں میں نماز نہ پڑھنا اور جب دوسرے رنگ کا آئے تو وضو کرکے نماز پڑھتی رہا کرو کیوں کہ وہ ایک رگ ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن مثنی،ابن ابی عدی،محمد بن عمرو،زہری،عروہ ،حضرت عائشہ نے فرمایا کہ فاطمہ بنت ابوحبیش مستحاضہ تھیں۔ پھر معنامذکورہ حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کی ہے انس بن سیرین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا کہ جب سیاہ کالا خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب باقی دیکھے خواہ ایک ہی ساتھ رہے تو غسل کر کے نماز پڑھے ۔مکحول نے فرمایا کہ حیض کا معاملہ عورتوں سے چھپا ہوا نہیں ہوتا، اس کا خون سیاہ اور غلیظ ہوتا ہے یہ رنگت چلی جائے اور خون زرد اور پیلا ہو جائے تو یہ استحاضہ ہے چاہیے کہ غسل کر کے نماز پڑھے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے حماد بن زید یحییٰ بن سعید ،قعقاع بن حکیم نے سعید بن مسیب سے مستحاضہ کے بارے میں کہ جب حیض کے دن آجائے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلے جائیں تو غسل کرکے نماز پڑھے سمی وغیرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ وہ اپنے ایام حیض میں بیٹھی رہے اور اسی طرح حماد بن سلمہ ، یحییٰ بن سعید بن مسیب سے اس کی روایت کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ حائضہ کا خون جب زیادہ دنوں تک جاری رہے تو حیض کے بعد ایک دو دن نماز سے رکی رہے کیونکہ وہ مستحاضہ ہے۔ تیمی نے قتادہ سے کہا کہ جب حیض کے دنوں سے پانچ دن اوپر چلےجائیں تو نماز پڑھنی چاہیے۔تیمی نے فرمایا کہ میں اس مدت میں کمی کرتے کرتے دودنوں تک آگیا اور کہا کہ مزید دودنوں تک حیض ہی کے ایام ہیں۔ابن سیرین سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عورتیں ہی اس معاملے کو بہتر جانتی ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٦؛ج ١ ص ٢٠٧؛حکم حدیث صحيح من حديث عائشة، وهذا إسناد رجاله ثقات،تحقيق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضَةِ فَإِنَّهُ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ مِنْ كِتَابِهِ هَكَذَا، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ بَعْدُ حِفْظًا قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَدْ رَوَى أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ قَالَ: «إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ فَلَا تُصَلِّي، وَإِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً فَلْتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي» وَقَالَ مَكْحُولٌ: «إِنَّ النِّسَاءَ لَا تَخْفَى عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ إِنَّ دَمَهَا أَسْوَدُ غَلِيظٌ، فَإِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ وَصَارَتْ صُفْرَةً رَقِيقَةً، فَإِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ» قَالَ [ص: ٧٦] أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: «إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَرَكَتِ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتِ اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ» وَرَوَى سُمَيٌّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ «تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا» وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَن سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّب قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ «الْحَائِضُ إِذَا مَدَّ بِهَا الدَّمُ تُمْسِكُ بَعْدَ حَيْضَتِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ» وَقَالَ التَّيْمِيُّ: عَنْ قَتَادَةَ «إِذَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا خَمْسَةُ أَيَّامٍ فَلْتُصَلِّ» وقَال التَّيْمِيُّ: فَجَعَلْتُ أَنْقُصُ حَتَّى بَلَغَتْ يَوْمَيْنِ. فَقَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمَيْنِ فَهُوَ مِنْ حَيْضِهَا، وسُئِلَ ابْنُ سِيرِينَ عَنْهُ فَقَالَ: النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 286

عمران بن طلحہ نے اپنی والدہ ماجدہ حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ مجھے استحاضہ کی شکایت تھی اور شدت سے بہنے والا خون حیض کا خون بہتا تھا پس میں مسئلہ پوچھنے کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور صورتحال آپ کو بتایا میں نے آپ کو اپنی بہن حضرت زینب بنت جحش کے مکان میں پایا۔ میں عرض گذار ہوئی کہ یا رسول اللہ میں مستحاضہ عورت ہوں، جس کا خون شدت سے جاری رہتا ہے آپ کا اس کے متعلق کیا ارشاد ہے۔ جس نے مجھے نماز اور روزے سے بھی روک دیا ہے فرمایا کہ میں تمہیں روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں کیونکہ وہ خون کو جذب کر لیتی ہے وہ عرض گذار ہوئیں کہ خون اس سے زیادہ ہے فرمایا تو لنگوٹ باندھ لو عرض کی کہ اس سے بھی زیادہ ہے فرمایا کہ کپڑا رکھ لیا کرو عرض گزار ہوئیں کہ وہ اس سے بھی زیادہ ہے وہ بے تحاشا بہتا رہتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ان میں سے جس ایک پر تم عمل کر لو گی وہی تمہارے لیے کافی ہوگا اور اگر دونوں پر عمل کر سکو تو تم جانو فرمایا کہ یہ شیطان کی لاتوں میں سے ایک لات ہیں اللہ تعالی بہتر جانے کہ تمہیں چھ روز حیض آتا تھا کہ سات روز اتنے دن خود کو حائضہ سمجھو یہاں تک کہ جب تم اپنے آپ کو حیض سے پاک سمجھو تو 23 یا 24 روز نمازیں پڑھو اور روزے رکھوں تمہارے لئے یہی کافی ہے اور ہر مہینے اسی طرح کیا کروں جیسے حیض والی عورتیں کرتی ہیں اور جیسے ان کا حیض اور باقی کے دنوں میں معمول ہوتا ہے دوسری صورت یہ ہے کہ اگر تم کر سکو تونماز ظہر کو مئوخرکر لینا اور نماز عصر کو جلدی پڑھنا اور ایک غسل کے ساتھ ان دونوں نمازوں کو جمع کر لینا اور ایک دفعہ غسل نماز فجر کے لئے کرنا اگر تم ایسا کر سکو تو روزے رکھ لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں میں سے یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے امام ابوداؤد نے فرمایا روایت کی اس کی عمرو بن ثابت نے عقیل سے کہ دونوں میں سے یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ یہ حضرت حمنہ کا قول ہے۔ انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں بلکہ حضرت حمنہ کا قول قرار دیا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے امام احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابن ثابت نے جو ابن عقیل سے روایت کی ہے اس پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔امام ابوداؤد ث فرمایا کہ عمروبن ثابت رافضی تھا اور اس بات کا ذکر یحییٰ بن معین نے کیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٢٨٧؛ج ١ ص ٢١٠؛حکم حدیث حسن لم يجعله من قول النبي صلى الله عليه وسلم جعله كلام حمنة؛ تحقيق البانی؛

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَغَيْرُهُ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَرَى فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ. فَقَالَ: «أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ». قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «فَاتَّخِذِي ثَوْبًا». فَقَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ». قَالَ لَهَا: «إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ، وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي، فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِيكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ، وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي، وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ فَافْعَلِي، وَصُومِي إِنْ قَدِرْتِ عَلَى ذَلِكَ». قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ قَالَ: فَقَالَتْ: حَمْنَةُ فَقُلْتُ: «هَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ» لَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَهُ كَلَامَ حَمْنَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ رَافِضِيٌّ رَجُلُ سُوءٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ صَدُوقًا فِي الْحَدِيثِ وَثَابِتُ بْنُ الْمِقْدَامِ رَجُلٌ ثِقَةٌ وَذَكَرَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ: حَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 287

عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سالی ام حبیبہ بنت جحش جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں،انہیں سات سال استحاضہ کی شکایت رہی۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حیض نہیں ہے بلکہ رگ کا خون ہوتا ہے پس غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ وہ اپنی بہن حضرت زینب بنت جحش کے حجرے میں ایک بڑے لگن کے اندر غسل کیا کرتیں،یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آجاتی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٨٨؛ج ١ ص ٢١١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي». قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 288

احمد بن صالح،عنبسہ،یونس،ابن شہاب،عمرہ بنت عبدالرحمن نے حضرت ام حبیبہ سے اسے روایت کیا۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٨٩؛ج ١ ص ٢١١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ».

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 289

عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا اس نے کہا کہ اسے ہر نماز کے لیے غسل کرنا چاہیے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ قاسم بن مبرور،یونس، ابن شہاب، عمرہ، حضرت عائشہ نے حضرت ام حبیبہ بنت جحش سے روایت کی ہے۔ اس طرح روایت کی معمر، زہری، عمرہ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے۔کبھی معمر نے عمرہ عن ام حبیبہ کہتے ہوئے اسے معنا روایت کیا۔اسی طرح روایت کیا ابراہیم بن سعد اور ابن عیینہ نے زہری،عمرہ،حضرت عائشہ صدیقہ سے ابن عیینہ نے اپنی حدیث میں یہی کہا لیکن یہ نہیں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٩٠؛ج ١ ص ١١٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَاب، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمر، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَن عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ وَرُبَّمَا قَال مَعْمَرٌ: عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِمَعْنَاهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَال ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِ، وَلَمْ يَقُلْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ أَيْضًا قَالَ فِيهِ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 290

عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ کی شکایت رہی تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا تھا۔پس وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔امام اوزاعی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٩١؛ج ١ ص ٢١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ «فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ» فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 291

عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیےغسل کرنے کا حکم فرمایا اور پھر باقی حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابوالولید طیالسی نے اسے روایت کیا ہے۔جبکہ میں نے ان سے سنا نہیں۔انہوں نے سلیمان بن کثیر،زہری،عروہ،حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت زینب بنت جحش سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نماز کے لیے غسل کرلیا کرو۔اور باقی حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے کہ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ عبدالصمد کا وہم ہے جس میں کلام ہے اور صحیح ابوالولید کا قول ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الطہارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،حدیث نمبر٢٩٢؛ج ١ ص ٢١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ»، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ»، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: «تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ». قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُ: أَبِي الْوَلِيدِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 292

ابوسلمہ نے زینب بنت ابوسلمہ سے روایت کی کہ ایک عورت کا خون جاری رہتا تھااور وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ہر نماز سے پہلے غسل کرکے نماز پڑھا کریں۔ابوسلمہ نے فرمایا کہ مجھے خبر دی ام بکر اور انہیں خبردیتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا جو حیض سے پاک ہونے کے بعد بھی کچھ دیکھے کہ وہ رگ ہے یا فرمایا کہ وہ رگیں ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن عقیل کی حدیث میں دونوں باتیں جمع ہیں۔فرمایا کہ اگر تم میں طاقت ہو تو ہر نماز کے لیے وضو کرلیا کرو ورنہ نمازیں جمع کرلیا کرو۔جیسا کہ قاسم بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا ہے۔اور اس قول کو روایت کیا ہے سعید بن جبیر نے حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ حدیث نمبر٢٩٣؛ج ١ ص ٢١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ، وَكَانَتْ تَحْت عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي» وأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ «إِنَّمَا هِيَ عِرْقٌ» أَوْ قَالَ: «عُرُوقٌ». قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ الْأَمْرَانِ جَمِيعًا وَقَالَ: «إِنْ قَوِيتِ فَاغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَإِلَّا فَاجْمَعِي» كَمَا قَالَ الْقَاسِمُ فِي حَدِيثِهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 293

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت ہوگئی تو اسے حکم دیا گیا کہ عصرکو جلدی اور ظہر کو مؤخرکرکے دونوں کے لیے ایک ہی غسل کرلیا کرو۔نیز مغرب کو مؤخر اور عشاءمیں جلدی کرکے ان دونوں کے لیے ایک ہی غسل کر لیا کرو اور صبح کی نماز کے لئے بھی غسل کرنا بس میں (شعبہ)نے عبدالرحمن بن قاسم سے کہا کہ کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہے فرمایا کہ میں تم سے کوئی حدیث بیان نہیں کرتا مگر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا،حدیث نمبر٢٩٤؛ج ١ ص ١١٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَتْ أَنْ تُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَأَنْ تُؤُخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا». فَقُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 294

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ حضرت سہلہ بنت سہیل کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئیں تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ہر نماز کے لئے غسل کیا کریں جب اس کا نبھانا مشکل ہوا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو ایک غسل کے ساتھ جمع کر لیا کرو اور مغرب وعشاء کو دوسری میں اور نماز فجر کے لیے تیسرا غسل کیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے روایت کیا ہے ابن عیینہ، عبد الرحمن بن قاسم،قاسم بن محمد نے بیان فرمایا کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت ہوگئی تو اس نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا پس آپ نے اسے حکم فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا،حدیث نمبر٢٩٥؛ج ١ ص ٢١٧؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ «اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ» فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ «أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا بِمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 295

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں عرض گزار ہوئی یا رسول اللہ فاطمہ بنت ابو حبیش کو استحاضہ کی اتنے عرصے سے شکایت ہے جس کے باعث انہوں نے نماز چھوڑ رکھی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے فرمایا کہ یہ تو شیطان کی شرارت ہوتی ہے انہیں لگن میں بیٹھنا چاہیے جب پانی پر زور دیں دیکھیں تو ظہر اور عصر کے لئے غسل کریں مغرب و عشاء کے لئے دوسرا غسل کریں اور نماز فجر کے لیے تیسرا اور اس کےدرمیان میں وضو کرتی رہی رہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے کہ جب ہر نماز کے لیے غسل کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تو انہیں حکم دیا کہ دو نمازیں جمع کر لیا کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے ابراہیم نے حضرت ابن عباس سے اور یہی قول ہے ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شدادکا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا،حدیث نمبر٢٩٦؛ج ١ ص ٢١٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ - مُنْذُ كَذَا وَكَذَا - فَلَمْ تُصَلِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ، فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 296

عدوی بن ثابت نے اپنے والد ماجد سے ،انہوں نے اپنے والد محترم سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کے متعلق فرمایا کہ کہ وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے پھر غسل کرکے نماز پڑھے اور ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ روزہ اور نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ،حدیث نمبر٢٩٧؛ج ١ ص ١١٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي «الْمُسْتَحَاضَةِ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَالْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «زَاد عُثْمَانُ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 297

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت فاطمہ بنت ابو جیش حاضر ہوئیں۔اور اپنا حال عرض کیا۔فرمایا کہ پھر غسل کرلینا۔پھر ہرنماز کے لیے تازہ وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ،حدیث نمبر٢٩٨؛ج ١ ص ٢١٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ خَبَرَهَا وَقَالَ «ثُمَّ اغْتَسِلِي، ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَصَلِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 298

ام کلثوم سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک دفعہ غسل کرلے۔پھر اپنے ایام حیض تک وضو کرتی رہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ،حدیث نمبر٢٩٩؛ج ١ ص ٢١٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ «فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَغْتَسِلُ تَعْنِي مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ تَوَضَّأُ إِلَى أَيَّامِ أَقْرَائِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 299

مسروق کی بیوی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عدی بن ثابت کی حدیث اوراعمش کی حبیب اور ایوب ابی العلاء سے یہ سب ضعیف ہیں،صحیح نہیں ہے اور اعمش سے جو حبیب سے روایت کی اس ضعف پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے۔حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کی ہے۔ حفص بن غیاث نے حدیث حبیب کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے اور اسباط نے اعمش سے حضرت عائشہ پر موقوفاً روایت کی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے ابن داؤد نے اعمش سے موقوفاً اور وہ اس کا پہلا حصہ ہے اور اس میں ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی بات کا انکار کیا ہے۔اور حدیث حبیب کے ضعف پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ روایت ہے زہری عروہ،حضرت عائشہ صدیقہ نے مستحاضہ کی حدیث میں فرمایا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔روایت کی ابوالیقضان،عدی بن ثابت،ان کے والد ماجد،حضرت علی اور حضرت عمار مولی بنی ہاشم نے حضرت ابن عباس سے روایت کی عبد المالک ابن میسرہ سے اور بیان اور مغیرہ اور فراس اور مجاہد نے شعبی سے بروایت قمیر،حضرت عائشہ نے فرمایا کہ روزانہ ایک مرتبہ غسل کرے روایت کی ہشام بن عروہ نے اپنے والد ماجد سے کہ مستحاضہ ہرنماز کے لیے وضو کرے۔ یہ تمام حدیثیں ضعیف ہیں سوائے حدیث قمیر اور حدیث عمار مولی بنی ہاشم اور حدیث ہشام بن عروہ کے جو انہوں نے اپنے والد ماجد سے روایت کی اور حضرت ابن عباس کا مشہور قول غسل کے متعلق ہے۔(یعنی مستحاضہ غسل کرے۔) ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ،حدیث نمبر٣٠٠؛ج ١ ص ٢٢٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَحَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَالْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، وَأَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ لَا تَصِحُّ» وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ هَذَا الْحَدِيثُ أَوْقَفَهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَنْكَر حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا، وَأَوْقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفٌ عَنْ عَائِشَةَ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ، وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ» فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ وَرَوَى أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَبَيَانٌ، وَالْمُغِيرَةُ، وَفِرَاسٌ، وَمُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حَدِيثِ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ «تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ» وَرِوَايَةَ دَاوُدَ، وَعَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ «تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً» وَرَوَى هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ «الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ» وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ إِلَّا حَدِيثَ قَمِيرَ، وَحَدِيثَ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَحَدِيثَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَالْمَعْرُوفُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ الْغُسْلُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 300

سمی مولی ابوبکر قعقاع اور زید بن اسلم نے سعید بن مسیب کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ مستحاضہ کس طرح غسل کرے فرمایا کہ وہ ایک نمازظہر کے بعد دوسری نماز ظہر کے لئے غسل کرے اور ہر نماز کیلئے وضو کرے۔ اگر خون کا غلبہ ہو تو ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کی ہے حضرت ابن عمر اور حضرت انس بن مالک سے ایک ظہر سے دوسری ظہر تک اسی طرح روایت کی ہے ابو داؤد اور عاصم نے شعبی، ایک عورت قمیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے،مگر داؤد نے روزانہ کہا حدیث عاصم میں ہے کہ ظہر کے نزدیک یہی قول ہے سالم بن عبداللہ اور حسن اور عطاءکا، مالک نے فرمایا آپ نے ابن مسیب کی حدیث میں جو ظہر سے ظہر تک ہے تو میرے خیال میں یہ طہر سے طہرتک ہوگا اور اس میں وہم داخل ہو گیا ہے۔روایت کیا اسے مسور بن بن عبد الملک بن سعید بن عبد الرحمن بن یربوع نے اور اس میں طہر سے طہر تک کہا جسے بدل کر لوگوں نے ظہر تک بنا دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ،حدیث نمبر٣٠١؛ج ١ ص ٢٢٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ الْقَعْقَاعَ، وَزَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ أَرْسَلَاهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ يَسْأَلُهُ كَيْفَ تَغْتَسِلُ الْمُسْتَحَاضَةُ فَقَالَ: «تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَثْفَرَتْ بِثَوْبٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ» وَكَذَلِكَ رَوَى دَاوُدُ، وَعَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ، " إِلَّا أَنَّ دَاوُدَ قَالَ: «كُلَّ يَوْمٍ»، وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ «عِنْدَ الظُّهْرِ»، وَهُوَ قَوْلُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " قَالَ مَالِكٌ: إِنِّي لَأَظُنُّ حَدِيثَ ابْنِ الْمُسَيَّب «مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ»، إِنَّمَا هُوَ «مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ»، وَلَكِنَّ الْوَهْمَ دَخَلَ فِيهِ فَقَلَبَهَا النَّاسُ فَقَالُوا: مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ " وَرَوَاهُ مِسْوَرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، قَالَ فِيهِ: «مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ» فَقَلَبَهَا النَّاسُ: مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 301

احمد بن حنبل،عبد اللہ بن نمیر،محمد ابواسماعیل،معقل خثعمی سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مستحاضہ کا جب حیض بند ہو جائے تو وہ روزانہ غسل کیا کرے اور گھی یا روغن زیتون لگاکر کپڑا استعمال کیا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً وَلَمْ يَقُلْ عِنْدَ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٣٠٢؛ج ١ ص ٢٢٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَعْقِلٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا انْقَضَى حَيْضُهَا اغْتَسَلَتْ كُلَّ يَوْمٍ، وَاتَّخَذَتْ صُوفَةً فِيهَا سَمْنٌ أَوْ زَيْتٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 302

محمد بن عثمان نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ وہ اپنے حیض کے دنوں کی نماز چھوڑ دے۔پھر غسل کرکے نماز پڑھے پھر ایام میں غسل کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ بَيْنَ الْأَيَّامِ،حدیث نمبر٣٠٣؛ج ١ ص ٢٢٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ فَقَالَ: «تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ فَتُصَلِّي، ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي الْأَيَّامِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 303

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ابو حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ تھیں تو ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حیض کا خون آئے تووہ خون دیکھنے میں سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جب ایسا ہو تو ہر نماز سے رکی رہو جب یہ ختم ہو جائے تو وضو کرکے نماز پڑھ لیاکرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایاکہ ابن المثنی اور ابن ابو عدی نے جب ہم سے زبانی یہ حدیث بیان کی تو کہا عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کی علاء مسیب اور شعبہ نے حکم کے واسطے کے ساتھ ابوجعفر سے علاء نے اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا اور شعبہ نے موقوفاً کہا کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ قَالَ تَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍحدیث نمبر٣٠٤؛ج ١ ص ٢٢٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ، فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَحَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حِفْظًا، فَقَالَ: عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرُوِيَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَشُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: الْعَلَاءُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْقَفَهُ شُعْبَةُ عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ «تَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 304

عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو استحاضہ کی شکایت ہوگئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے حیض کے دنوں کا انتظار کریں۔پھر غسل کرکے نماز پڑھیں اگر پھر کوئی چیز دیکھیں تو وضو کریں اور نماز پڑھ لیا کریں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الْوُضُوءَ إِلَّا عِنْدَ الْحَدَثِ حدیث نمبر٣٠٥؛ج ١ ص ٢٢٦؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةِ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ «فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْتَظِرَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، فَإِنْ رَأَتْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 305

لیث نے ربیعہ سے روایت کی ہے کہ وہ مستحاضہ پر ہر نماز کے لیے وضو کو ضروری شمار نہیں کرتے تھے سوائے اس کے کہ اسے خون کے سوا کوئی دوسرا حدث ہوجائے تو وضو کرے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا یہی قول ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الْوُضُوءَ إِلَّا عِنْدَ الْحَدَثِ حدیث نمبر٣٠٦؛ج ١ ص ٢٢٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى عَلَى الْمُسْتَحَاضَةِ وُضُوءًا عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ إِلَّا أَنْ يُصِيبَهَا حَدَثٌ غَيْرُ الدَّمِ، فَتَوَضَّأُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا قَوْلُ مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 306

ام ہزیل نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔انہوں نے فرمایا کہ طہر کے بعد ہم گندگی اور زردی کو کوئی اہمیت نہیں دیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ حدیث نمبر٣٠٧؛ج ١ ص ٢٢٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ - وَكَانَتْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ، وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ شَيْئًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 307

محمد بن سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ام ہزیل وہی حفصہ بنت سیرین ہیں۔ ان کے صابزادے کا نام ہزیل اور خاوند کا اسم گرامی عبدالرحمن تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ حدیث نمبر٣٠٨؛ج ١ ص ٢٢٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا، أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أُمُّ الْهُذَيْلِ هِيَ حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ كَانَ ابْنُهَا اسْمُهُ هُذَيْلٌ، وَاسْمُ زَوْجِهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 308

شیبانی سے روایت ہے کہ عکرمہ نے فرمایا کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا مستحاضہ تھیں۔لیکن ان کا خاوند ان سے صحبت کرتا تھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یحیٰی بن معین نے معلی کو ثقہ کہا ہے اور امام احمد بن حنبل اس سے روایت نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ عقلیات کی جانب مائل تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ يَغْشَاهَا زَوْجُهَاحدیث نمبر٣٠٩؛ج ١ ص ٢٢٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: «كَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تُسْتَحَاضُ فَكَانَ زَوْجُهَا يَغْشَاهَا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: مُعَلَّى ثِقَةٌ، وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لَا يَرْوِي عَنْهُ لِأَنَّهُ كَانَ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 309

احمد بن ابوسریح رازی،عبد اللہ بن جہم،عمرو بن ابوقیس عاصم،عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا مستحاضہ تھیں اور ان کا خاوند ان سے جماع کیا کرتا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ يَغْشَاهَا زَوْجُهَاحدیث نمبر٣١٠؛ج ١ ص ٢٢٨؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، «أَنَّهَا كَانَتْ مُسْتَحَاضَةً وَكَانَ زَوْجُهَا يُجَامِعُهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 310

مسہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں نفاس والی عورتیں اپنے نفاس کے بعد چالیس رات دن بیٹھا کرتی تھیں اور ہم خشکی کا اثر دور کرنے کے لیے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِ النُّفَسَاءُ حدیث نمبر٣١١؛ج ١ ص ٢٢٩؛حکم حدیث اسنادہ حسن لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُسَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا - أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً - وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ - تَعْنِي - مِنَ الكَلَفِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 311

مسہ کا بیان ہے کہ میں نے حج کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض گذار ہوئی کہ اے ام المومنین! سمرہ بن جندب عورتوں کو حیض کے دنوں کی نمازوں کے قضا پڑھنے کا حکم دیتے ہیں۔فرمایا کہ ان پر قضا نہیں خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے نفاس کے باعث چالیس دن رات بیٹھی رہتیں اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہیں نفاس کی نمازیں قضا پڑھنے کا حکم نہ فرماتے۔محمد بن حاتم نے کہا کہ اس کا نام مسہ اور کنیت ام بستہ ہے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ کثیر بن زیاد کی کنیت ابو سہل ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِ النُّفَسَاءِحدیث نمبر٣١٢؛ج ١ ص ٢٣٠؛حکم حدیث اسنادہ حسن لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ يَعْنِي حُبِّي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي الْأَزْدِيَّةُ يَعْنِي مُسَّةَ قَالَتْ: حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْمَحِيضِ فَقَالَتْ: «لَا يَقْضِينَ كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لَا يَأْمُرُهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ» قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ حَاتِم: وَاسْمُهَا مُسَّةُ تُكْنَى أُمَّ بُسَّةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ كُنْيَتُهُ أَبُو سَهْلٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 312

سلیمان بن سحیم نے امیہ بنت ابوصلت سے روایت کی کہ بنی غفار کی ایک عورت نے فرمایا جس نے مجھے اپنا نام بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر حقیبےمیں بٹھایا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم صبح کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور اپنا اونٹ بٹھایا تو میں آپ کے حقیبے سے اٹھ گئی۔دیکھا تو وہاں میرا خون لگا ہوا تھا۔اور میرا پہلا حیض تھا۔میں اونٹنی سے لگ گئی اور حیا محسوس کرنے لگی۔جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے اور خون کو دیکھا تو فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا؟شاید تمہیں حیض آگیا؟میں عرض گزار ہوئی کہ ہاں۔فرمایا کہ اپنے آپ کو درست کرلو۔پھر ایک برتن میں پانی لیکر نمک ڈال لو۔پھر اس کے ساتھ حقیبے میں جو خون لگا ہوا ہے اسے دھو ڈالو۔پھر دوبارہ اپنی جگہ پر سوار ہو جاؤ۔ان کا بیان ہے کہ جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو آپ نے فئ کے مال سے ہمیں بھی مرحمت فرمایا اور وہ اپنے حیض سے کبھی پاک نہ ہوتیں مگر غسل کے پانی میں نمک ڈالتیں اور بوقت وفات اپنے غسل کے پانی میں اسے ڈالنے کی وصیت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حدیث نمبر٣١٣؛ج ١ ص ٢٣١؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَدْ سَمَّاهَا لِي قَالَتْ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَقِيبَةِ رَحْلِهِ قَالَتْ: فَوَاللَّهِ، لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ، فَأَنَاخَ وَنَزَلْتُ عَنْ حَقِيبَةِ رَحْلِهِ، فَإِذَا بِهَا دَمٌ مِنِّي فَكَانَتْ أَوَّلُ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا قَالَتْ: فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ وَاسْتَحْيَيْتُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِي وَرَأَى الدَّمَ قَالَ: «مَا لَكِ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ، ثُمَّ خُذِي إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا، ثُمَّ اغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ مِنَ الدَّمِ، ثُمَّ عُودِي لِمَرْكَبِكِ». قَالَتْ: فَلَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ رَضَخَ لَنَا مِنَ الفَيْءِ قَالَتْ: وَكَانَتْ لَا تَطَّهَّرُ مِنْ حَيْضَةٍ إِلَّا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ بِهِ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 313

صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت اسماء بنت شکل انصاریہ حاضر ہوکر عرض گزار ہوئیں کہ یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہوکر کس طرح غسل کرے؟فرمایا کہ بیری کے پتوں والا پانی لیکر وضو کرے۔پھر اپنا سر دھوئے اور ملے۔یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہونچ جائے۔پھر پانی اپنے جسم پر ڈالے۔پھر تھوڑی سی روئ ،اون یا کپڑا لیکر اس کے ساتھ صفائی کرنا ۔عرض گزار ہوئیں کہ یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم!اس کے ساتھ کیسے صفائی کروں؟حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں اس کنایہ کو سمجھ گئی تھی تو میں نے ان سے کہا کہ مراد خون کے نشانات کو صاف کرنا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حدیث نمبر٣١٤؛ج ١ ص ٢٣٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ؟ قَالَ: «تَأْخُذُ سِدْرَهَا وَمَاءَهَا فَتَوَضَّأُ، ثُمَّ تَغْسِلُ رَأْسَهَا، وَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءُ أُصُولَ شَعْرِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَى جَسَدِهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَتَهَا فَتَطَّهَّرُ بِهَا» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا. قَالَتْ: عَائِشَةُ فَعَرَفْتُ الَّذِي يَكْنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهَا: تَتَبَّعِينَ بِهَا آثَارَ الدَّمِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 314

صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تعریف کی اور فرمایا ان کا احسان ہے کہ ان میں سے ایک عورت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی۔پھر معنا باقی حدیث بیان کی مگر اس میں فرمایا کہ کپڑا وغیرہ مشک لگاہوا۔ مسدد کا قول ہے کہ ابوعوانہ اسے فرصہ کہتے اور ابوالاحوص قرصہ یعنی چھوٹا ٹکڑا کہتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حدیث نمبر٣١٥؛ج ١ ص ٢٣٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ، فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ وَقَالَتْ لَهُنَّ: مَعْرُوفًا، وَقَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ «فِرْصَةً مُمَسَّكَةً». قَالَ مُسَدَّدٌ: كَانَ أَبُو عَوَانَةَ يَقُولُ: «فِرْصَةً»، وَكَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ يَقُولُ: «قَرْصَةً».

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 315

صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضرت اسماء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔پھر پہلی حدیث کی طرح معنا بیان کرتے ہوئے کہ مشک لگایا ہوا پایا۔عرض گزار ہوئیں کہ میں اس کے ساتھ کیسے صفائی کروں؟فرمایا سبحان اللّٰہ اسی کے ساتھ صفائی کیا کرواور اپنا رخ انور کپڑے سے چھپا لیا۔اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے آپ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا۔فرمایا کہ پانی لےکر خوب اچھی طرح خود کو پاک کرو اور مبالغہ کرو۔پھر اپنے سر پر پانی ڈال کر ملو،یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے۔پھر اپنے سارے جسم پر پانی ڈالو ۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ انصار کی عورتیں بہت بہترین ہیں کہ دینی مسائل پوچھنے اور انہیں سمجھنے کے راستے میں حیا انہیں روکتی نہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حدیث نمبر٣١٦؛ج ١ ص ٢٣٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ: «فِرْصَةً مُمَسَّكَةً». قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتِرِي بِثَوْبٍ»، وَزَادَ وَسَأَلَتْهُ عَنْ الْغُسْلِ مِنَ الجَنَابَةِ فَقَالَ: «تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَّهَّرِينَ أَحْسَنَ الطُّهُورِ وَأَبْلَغَهُ، ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَى رَأْسِكِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَدْلُكِينَهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِكِ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ» قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَسْأَلْنَ عَنِ الدِّينِ، وَأَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 316

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسید بن حضیر اور ان کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کو ہار کی تلاش میں روانہ فرمایا جو حضرت عائشہ نے گم کر دیا تھا۔ نماز کا وقت ہو گیا تو لوگوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس بات کا ذکر کیا۔پس تیمم کی آیت نازل ہوگئی ابن نفیل کی روایت میں یہ بھی ہے حضرت اسید نے حضرت عائشہ سے کہا کہ اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے جب بھی آپ پر کوئی آفت پڑی تو اس کے ذریعے اللہ تعالی نے مسلمانوں اور آپ کے لیے آسانی پیدافرمادی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣١٧؛ج ١ ص ٢٣٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَأُنَاسًا مَعَهُ فِي طَلَبِ قِلَادَةٍ أَضَلَّتْهَا عَائِشَةُ، «فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ» زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ: فَقَالَ لَهَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْر: يَرْحَمُكِ اللَّهُ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَلَكِ فِيهِ فَرَجًا

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 317

عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نماز فجر کے لیے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معیت میں مٹی سے تیمم کیا انہوں نے اپنی ہتھیلیاں مٹی پر مار کر اپنے چہروں پر ایک مرتبہ پھیریں اور دوسری مرتبہ مٹی پر ہتھیلیاں مار کر اپنے پورے ہاتھوں پر پھیریں کندھوں تک اور بازوؤں کے نیچے بھی بغلوں تک ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣١٨؛ج ١ ص ٢٣٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ «تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّعِيدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ، ثُمَّ مَسَحُوا وُجُوهَهُمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ مِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 318

سلیمان بن ن داؤد میری اور عبد الملک بن شعیب نے ابن وہب سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے کہا۔مسلمان تیمم کرنے لگے تو انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا اور مٹی سے کچھ نہ لیا اور کندھوں اور بغلوں تک کا ذکر نہ کیا۔ابن لیث نے کہا کہ کہنیوں سے اوپر تک۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣١٩؛ج ١ ص ٢٣٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: «قَامَ الْمُسْلِمُونَ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ التُّرَابَ، وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا»، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَنَاكِبَ وَالْآبَاطَ قَالَ: ابْنُ اللَّيْثِ: «إِلَى مَا فَوْقَ الْمِرْفَقَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 319

عبید اللہ بن عبد اللہ بن عباس نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولات الجیش میں اترے اور آپ کے ساتھ حضرت عائشہ تھیں ،جن کا عقیق ظفار کا ہار ٹوٹ کر گم ہو گیا تھا تو لوگوں کو ان کا ہار تلاش کرنے کے باعث رکنا پڑا یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی نہ تھا۔حضرت ابوبکر ان پر ناراض ہوئے اور کہا کہ تم نے لوگوں کو روک دیا ہے جب کہ ان کے پاس پانی نہیں ہے۔پس اللہ نے اپنے رسول پر وحی نازل کرتے ہوئے پاک مٹی سے طہارت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔پس مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیمم کرنے لگے تو انہوں نے اپنا ہاتھ زمین پر مار کر اٹھا لیے اور مٹی ذرا بھی نہ لی اور انہیں اپنے چہروں پر پھیرا اور اپنے ہاتھوں پر کندھوں تک اور ہاتھوں کے اندرونی جانب بغلوں تک۔ابن یحیی نے اپنی روایت میں کہا کہ ابن شہاب نے اپنی حدیث میں کہا کہ لوگوں کے اس عمل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن اسحاق نے اسی طرح اس کی روایت کی ہے اور اس میں کہا کہ ابن عباس نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے جیسا کہ یونس نے ذکر کیا ہے۔روایت کی ہیں معمر نے زہری سے دوضربیں۔مالک،زہری،عبید اللہ بن عبداللہ ان کے والد ماجد نے حضرت عمار بن یاسر سے روایت کی۔اسی طرح ابواویس نے زہری سے روایت کی اور ابن عیینہ کو شک واقع ہوا کہ ایک دفعہ کہا۔عبید اللہ اپنے والد ماجد سے یا عبد اللہ نے حضرت ابن عباس سے،اس میں اضطراب ہے اور زہری سے اس کے سماع میں شک ہے اور کسی نے بھی دوضربوں کا ذکر نہیں کیا مگر جن کے میں نے نام لیے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٠؛ج ١ ص ٢٣٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِأَوَّلَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ، وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بِطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ " زَادَ ابْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فِي حَدِيثِهِ: «وَلَا يَعْتَبِرُ بِهَذَا النَّاسُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ قَالَ فِيهِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «وَذَكَرَ ضَرْبَتَيْنِ». كَمَا ذَكَرَ يُونُسُ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ «ضَرْبَتَيْنِ»، وَقَالَ مَالِكٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَشَكَّ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: مَرَّةً عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَرَّةً قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَمَرّةً قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اضْطَرَبَ ابْنُ عُيَيْنَة فِيهِ، وَفِي سَمَاعِهِ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ «الضَّرْبَتَيْنِ» إِلَّا مَنْ سَمَّيْتُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 320

شقیق کا بیان ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ اشعری کے درمیان بیٹھا تھا تو حضرت ابوموسی اشعری نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن!کہ اگر ایک جنبی آدمی ایک مہینے تک پانی نہ پائے تو آپ کے خیال میں کیا وہ تیمم کرسکتا ہے؟فرمایا نہیں کرسکتا ہے اگر چہ ایک مہینہ تک پانی نہ ملے۔حضرت ابوموسی نے کہا کہ پھر سورۂ المائدہ کی اس آیت کا کیا کروگے۔٫٫اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا ارادہ کرو،، حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو قریب ہے کہ جب انہیں پانی ٹھنڈا لگے گا تو مٹی سے تیمم کرنے لگے چنانچہ حضرت ابو موسی نے ان سے کہا کہ اسی وجہ سے آپ جنبی کے لئے تیمم کرناناپسند کرتے ہیں کہاں ہاں پس حضرت ابو موسی نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے نہیں سنا جو حضرت عمار نے حضرت عمر سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا تو میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا تو میں مٹی پر لوٹ پوٹ ہوتا رہا جیسے جانور کرتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ سے یہ واقعہ عرض کیا ۔آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہی کافی تھا کہ ایسے کرلیتے اور آپ نے زمین پر اپنا ہاتھ مار کر اس پر پھونک ماری۔پھر دوسرے ہاتھ سے دائیں دست مبارک پر اور تائید ہاتھ سے دوسرے دست مبارک اور پنجوں پر مارا پھر آپ نے رخ انور پر مسافر مایا حضرت عبداللہ نے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ حضرت عمر نے حضرت عمارکے قول پر قناعت نہیں کی۔ ابوداؤد شریف الطہارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ٣٢١؛ج ١ ص ٢٣٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ: لَا، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا. فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: ٤٣] فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا. قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَر بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدَ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَتَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ فَنَفَضَهَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى الْكَفَّيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ» فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 321

ابومالک سے روایت ہے کہ عبد الله بن ابزی نے فرمایا کہ میں حضرت عمر کے پاس تھا تو ایک آدمی نے آکر کہا کہ ہم ایسی جگہ پر ایک دوماہ رہتے ہیں۔حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تو اس وقت تک نماز نہیں پڑھ سکتا جب تک پانی نہ ملے۔حضرت عمار نے کہا کہ اے امیر المومنین!کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ اونٹوں میں تھے۔ پس ہم جنبی ہوگئے تو میں مٹی لیتا۔جب ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ میں نے آپ سے اس بات کا ذکر کیا۔ فرمایا کہ تمہارے لیے ایسا کرلینا کافی تھا اور اپنے دونوں دست مبارک زمین پر مارے۔ پھر ان پر پھونک ماری اور ان سےاہنے پرنور چہرے پر مسح فرمایا اور نصف کلائیوں تک حضرت عمر نے کہا اے عمار!خدا سے ڈرو انہوں نے کہا اے امیرالمومنین! اگر آپ چاہے تو میں اس کا کبھی ذکر نہ کروں۔حضرت عمر نے فرمایا کہ خدا کی قسم ایسا نہیں ہے بلکہ آپ کو پورا پورا اختیار حاصل ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٢؛ج ١ ص ٢٣٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَكَانِ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ أُصَلِّي حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ. قَالَ: فَقَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ، فَأَصَابَتْنَا جَنَابَةٌ، فَأَمَّا أَنَا، فَتَمَعَّكْتُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى نِصْفِ الذِّرَاعِ» فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَمَّارُ اتَّقِ اللَّهَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْكُرْهُ أَبَدًا، فَقَالَ عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَنُوَلِّيَنَّكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 322

ابن ابزی نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا۔فرمایا کہ اے عمار تمہارے لیے یہی کافی تھااور اپنے دونوں دست مبارک زمین پر مارے۔پھر ایک کو دوسرے پر مار کر اپنے پرنور چہرہ پر مسح فرمایا اور کلائیوں پر نصف حد تک اور پہلی ضرب میں کہنیوں تک نہ پہنچے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے وکیع،اعمش،سلمہ بن کہیل نے عبد الرحمن بن ابزی سے ۔روایت کیا اسے جریر،اعمش،سلمہ،سعید بن عبد الرحمن بن ابزی نے اپنے والد ماجد عبدالرحمن بن ابزی سے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٣؛ج ١ ص ٢٤٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط ؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: «يَا عَمَّارُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ ضَرَبَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى نِصْفِ السَّاعِدَيْنِ، وَلَمْ يَبْلُغِ الْمِرْفَقَيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يَعْنِي، عَنْ أَبِيهِ،

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 323

عبدالرحمن بن ابزی نے حضرت عمار رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس واقعہ کو روایت کی ہے۔فرمایا کہ تمہارے لیے یہ کافی تھا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دست مبارک زمین پر مارے۔پھر ان پر پھونک مار کر انہیں اپنے پرنور چہرے اور ہتھیلیوں پر پھیرا ۔سلمہ نے اس میں شک کرتے ہوئےکہا کہ معلوم نہیں کہنیوں تک فرمایا یا ہتھیلیوں تک۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٤؛ج ١ ص ٢٤٠؛حکم حدیث اسنادہ صحيح دون قوله؛ تحقيق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا، وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ» شَكَّ سَلَمَةُ وَقَالَ: «لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 324

شعبہ نے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کو روایت کیا ہے۔کہا کہ پھر ان پر پھونک ماری اور ان کے ساتھ اپنے پرنور چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح فرمایا،پنجوں تک یا کلائیوں تک۔شعبہ نے کہا کہ سلمہ کہا کرتے دونوں،ہتھیلیوں،چہرۂ انور اور دونوں کلائیوں پر۔پس منصور نے ایک روز ان سے کہا غور کیجیے کہ آپ کیا کہ رہے ہیں کیونکہ کلائیوں کا ذکر آپ کے سوا کوئی نہیں کرتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٥؛ج ١ ص ٢٤١؛حکم حدیث صحيح دون قوله تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي الْأَعْوَرَ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: «ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ» - أَوْ إِلَى الذِّرَاعَيْنِ - قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَلَمَةُ يَقُولُ: الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ ذَاتَ يَوْمٍ: انْظُرْ مَا تَقُولَ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 325

عبدالرحمن بن ابزی نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کی روایت کی ہےکہ ان کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مار کر ان کے ساتھ اپنا چہرہ اور اپنی ہتھیلیوں پر مسح کرلیا کرو اور پھر باقی حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے شعبہ،حصین،ابومالک نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمار کو اسی طرح خطبہ دیتے ہوئے سنا مگر یہ بھی فرمایا کہ پھونک نہ مارو۔حسین بن محمد،شعبہ،حکم سے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔پس اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور پھونک ماری۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٦؛ج ١ ص ١٤١؛حکم حدیث إسناده صحيح؛تحقيق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ إِلَى الْأَرْضِ، فَتَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ»، وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «لَمْ يَنْفُخْ». وَذَكَرَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: «ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ وَنَفَخَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 326

سعید بن عبدالرحمن بن ابزی نے اپنے والد ماجد عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کی کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تیمم کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے مجھے ایک ضرب کا حکم فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٧؛ج ١ ص ١٤٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ «فَأَمَرَنِي ضَرْبَةً وَاحِدَةً لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 327

ابان سے روایت ہے کہ قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق پوچھا گیا۔انہوں نے فرمایا کہ محدث،شعبہ،عبدالرحمن بن ابزی،حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہنیوں تک۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ،حدیث نمبر٣٢٨؛ج ١ ص ٢٤٤؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ، عَنِ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 328

حضرت عبدالرحمن بن ہرمز نے عمیر مولی ابن عباس کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اور عبداللّٰہ بن یسار گئے جو مولی تھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ حضرت میمونہ کے،یہاں تک کہ ہم حضرت ابوجہیم بن حارث بن صمۃ انصاری کے پاس پہونچے حضرت ابوجہیم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بئرجمل کی جانب سے تشریف لارہے تھے کہ آپ کو ایک آدمی ملا جس نے آ پہنچی کو سلام کیا۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ ایک دیوار آئی تو آپ نے اپنے پرنور چہرے اور دونوں مبارک ہاتھوں پر مسح فرمایا۔پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر٣٢٩؛ج ١ ص ٢٤٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: «أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى أَتَى عَلَى جِدَارٍ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 329

محمد بن ثابت عبدی نے نافع سے روایت کی ہے کہ میں ایک ضرورت کے تحت حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت ابن عمر نےاپنی حاجت پوری کرلی۔دوران گفتگو اس روز حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ کسی گلی میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا اور آپ قضائے حاجت یا پیشاب سے فارغ ہوکر نکلے تھے۔پس اس نے آ پ کو سلام کیا۔لیکن آ پ نے جواب نہ دیا۔یہاں تک کہ وہ آدمی دوسری گلی میں جانے لگا تو آ پ نے ایک دیوار پر اپنے دونوں ہاتھ مارے اور انہیں اپنے چہرہ انور پر پھیرا پھر دوسری ضرب ماری اور اپنی دونوں کلائیوں پر مسح کیا۔پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے سلام کا جواب اس لیے نہیں دیا تھاکہ میں طہارت سے نہ تھا امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے احمد بن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تیمم کے متعلق محمد بن ثابت نے یہ حدیث منکر روایت کی ہے۔ابن داسہ نے کہا کہ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دوضرب کے واقعے کو محمد بن ثابت کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا ہے،بلکہ انہوں نے حضرت ابن عمر کے فعل کو روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر٣٣٠؛ج ١ ص ٢٤٥؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّة «ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ» وَقَالَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْكَرًا فِي التَّيَمُّمِ " قَالَ ابْنُ دَاسَةَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَلَى «ضَرْبَتَيْنِ» عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَوْهُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 330

نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لارہے تھے کہ بئرجمل کے پاس آپ کو ایک آدمی ملا اور اس نے سلام کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہ دیا،یہاں تک کہ ایک دیوار کی طرف بڑھے تو دیوار پر اپنا دست مبارک رکھا،پھر اسے اپنے پرنور چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ملا،پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ،حدیث نمبر٣٣١؛ج ١ ص ٢٤٦؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 331

حضرت ابوذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس کافی بکریاں اکٹھی ہوگئیں تو فرمایا کہ اے ابوذر! انہیں چراؤ۔پس میں انہیں ربزہ کی جانب لے گیا مجھے جنابت لاحق ہو گئی جب کہ میں وہاں پانچ چھ روز رہا۔جب میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر!میں خاموش رہا ابوذر کی ماں اسے روئے ،تمہاری ماں کی خرابی ہو۔پس آپ نے ایک سیاہ فام لونڈی کو بلایا جو ایک بالٹی لیکر آئی جس میں پانی تھا پس میں نے ایک کپڑے سے ستر چھپا لیا اور سواری کی آڑ میں غسل کرلیا،تو گویا میرے اوپر سے پہاڑ اتر گیا۔فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کاوضو ہے خواہ دس سال گزر جائیں۔جب تمہیں پانی ملے تو اپنے جسم پر بہالو کیونکہ یہ بہتر ہے۔مسدد نے کہا کہ بکریاں صدقہ کی تھیں اور مکمل حدیث عمرو ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْجُنُبِ يَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٢؛ج ١ ص ٢٤٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِيهَا». فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أبُو ذَرٍّ». فَسَكَتُّ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ». فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ، وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا فَقَالَ «الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ» وَقَالَ: مُسَدَّدٌ: «غُنَيْمَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَحَدِيثُ عَمْرٍو أَتَمُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 332

بنی عامر کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں نے اسلام قبول کیا تو مجھے اپنے دین کو سیکھنے کا شوق دامن گیر ہوا۔پس میں حضرت ابوذر کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضرت ابوذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے لیے چند اونٹوں اور بکریوں کا حکم فرمایا اور مجھ سے فرمایا کہ ان کا دودھ پیتے رہنا حماد کو پیشاب کے متعلق فرمانے کا شک ہے۔حضرت ابوذر نے فرمایا کہ میں پانی سے پرہیز کرتا رہا اور گھر والے میرے ساتھ تھے ۔مجھے جنابت لاحق ہو گئی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھتا رہا۔جب دوپہر کے وقت میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آ پ مسجد کے سائے میں شمع رسالت کے چند پروانوں کے درمیان جلوہ افروز تھے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔ابوذر! میں عرض گزار ہوا۔ہاں یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!میں تو ہلاک ہو گیا۔فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے ہلاک کیا؟عرض گزار ہوا کہ میں پانی سے بچتا تھا اور میری بیوی میرے ساتھ تھی تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی اور میں طہارت کے بغیر نماز پڑھتا رہا پس رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم فرمایا تو ایک کالی لونڈی نے بالٹی میں ہلتا ہوا پانی لے کر آئی یعنی وہ بھری ہوئی نہ تھی۔پس میں اونٹ کی آڑ میں غسل کیا اور پھر حاضر بارگاہ ہواتو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر!بیشک پاک مٹی پاک کرنے والی ہے اگر چہ تمہیں دس سال تک پانی نہ ملے جب پانی ملے تو اپنے جسم پر بہالو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے حماد بن زید نے ایوب سے اور پیشاب کا ذکر نہ کیا اور یہ بات صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف حدیث انس میں ہے جسے صرف اہل بصرہ نے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْجُنُبِ يَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٣؛ج ١ ص ٢٤٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَأَهَمَّنِي دِينِي، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ فَقَالَ لِي: «اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا» - قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا، هَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ - فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ، وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ، وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ. هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَمَا أَهْلَكَكَ؟» قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ، وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُهُورٍ، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم بِمَاءٍ، فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ، فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي، فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ: إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ، فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ لَمْ يَذْكُرْ أَبْوَالَهَا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِهَا إِلَّا حَدِيثُ أَنَسٍ تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 333

عبدالرحمن بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمروبن العاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ غزوہ ذات السلاسل کے دوران ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا ۔پس مجھے ڈر محسوس ہو کہ غسل کرنے سے ہلاک ہو جاؤں گا۔پس میں نے تیمم کرکے اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور رسول صلی اللہ للہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ اے عمرو تم اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھائی؟میں نے غسل نہ کرنے کی وجہ بیان کی اور عرض گزار ہوا کہ میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی جانوں کو قتل نہ کرو،بیشک اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور مزید آپ نے کچھ نہیں فرمایا امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن جبیر مصری یہ خارجہ بن حزاقہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ابن جبیر بن نفیر نہیں ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ إِذَا خَافَ الْجُنُبُ الْبَرْدَ أَيَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٤؛ج ١ ص ٢٤٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟» فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ وَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ يَقُولُ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: ٢٩] فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ مِصْرِيٌّ مَوْلَى خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 334

عبدالرحمن بن جبیر نے ابوقیس مولی عمرو بن العاص سے روایت کی کہ حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالی عنہ ایک سریہ میں تھے۔پھر مذکورہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی سرین دھوئے اور نماز کے لیے وضو کیا ۔پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور تیمم کا ذکر نہیں کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا گیا ہے اس واقعے کو اوزاعی کے واسطے کے ساتھ حسان بن عطیہ سے اس روایت میں کہا کہ انہوں نے تیمم کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ إِذَا خَافَ الْجُنُبُ الْبَرْدَ أَيَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٥؛ج ١ ص ٢٥١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاص، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ. قَالَ: «فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ»، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّيَمُّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ فِيهِ: «فَتَيَمَّمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 335

عطاء سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں نکلے تو ہم میں سے ایک آدمی کے سر میں پتھر آکر لگا تو اس کا سر پھٹ گیا۔پھر اسے احتلام ہو گیا ۔اس نے ساتھیوں سے کہاں کہ کیا آپ کو میرے لیے تیمم کی اجازت نظر آتی ہے ؟تو انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک آپ کو تیمم کی اجازت نہیں ہے کیونکہ آپ پانی پر قادر ہیں پس اس نے غسل کیا اور وفات پائی۔جب ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو فرمایا اللہ تمہیں مارے تم نے اسے قتل کردیا جب تمہیں معلوم نہ تھا تو مسئلہ کیوں نہ پوچھا کیونکہ بےخبری کا علاج پوچھنا ہے اس کے لیے تیمم کرلینا کافی ہے۔ اور پٹی باندھ لے لینا اس میں نوسی کو شک ہے زخم پر کپڑا باندھ کر مسح کرلیا جاتا اور باقی سارے جسم کو دھولیتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٦؛ج ١ ص ٢٥٢؛حکم حدیث اسنادہ حسن دون قوله إنما كان يكفيه تحقيق البانی

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ فَقَالُوا: مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ: «قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ - أَوْ» يَعْصِبَ «شَكَّ مُوسَى - َعلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 336

عطاءبن ابی رباح سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم پہونچا۔ پھر اسے احتلام ہو گیا تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔اس نے غسل کیا تو فوت ہوگیا جب یہ بات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ تک پہونچی تو آپ نے فرمایا اس سے قتل کردیا گیا۔اللہ انہیں مارے کیا معلوم کرلینا بے خبر کا علاج نہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ،حدیث نمبر٣٣٧؛ج ١ ص ٢٥٣؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصَابَ رَجُلًا جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ احْتَلَمَ فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 337

عطاءبن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا دو آدمی سفر میں نکلے اور نماز کا وقت ہو گیا لیکن ان کے پاس پانی نہ تھا۔ پس انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھ لی ۔پھر وقت کے اندر انہیں پانی مل گیا۔پس ایک آدمی نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھ لی اور دوسرے نے اعادہ نہ کیا ۔پھر وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اس بات کا ذکر کیا۔آپ نے اس بات کا ذکر کیا آپ نے اس شخص سے فرمایا جس نے اعادہ کیا تھاکہ تم نے سنت کو پالیا ہے اور تمہاری پہلی نماز کافی ہے۔اور اس شخص سے فرمایا جس نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھ لی تھی کہ تمہارے لیے دوگنا اجر ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ نافع کے علاوہ دوسرے حضرات نے اسے روایت کیا لیث،عمیربن ابوناجیہ،بکر بن سوادہ،عطاء بن یسار نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث میں حضرت ابوسعید کا ذکر محفوظ نہیں ۔لہذا یہ مرسل ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمُتَيَمِّمِ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ مَا يُصَلِّ فِي الْوَقْتِ،حدیث نمبر٣٣٨؛ج ١ ص ٢٥٤؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَسَيَّبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ، فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ، فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: «أَصَبْتَ السُّنَّةَ، وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ». وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: «لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَغَيْرُ ابْنِ نَافِعٍ، يَرْوِيهِ عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَذِكْرُ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 338

ابوعبد اللہ مولی اسماعیل بن عبید سے روایت ہے کہ عطاءبن یسار نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے دو حضرات۔آگے مذکورہ حدیث کو معنا روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْمُتَيَمِّمِ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ مَا يُصَلِّ فِي الْوَقْتِ،حدیث نمبر٣٣٩؛ج ١ ص ٢٥٥؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 339

ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ جمعہ کے روز جب حضرت عمر خطبہ دے رہے تھے تو ایک آدمی آیا ۔حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا آپ نماز سے روک لیے جاتے ہیں؟اس شخص نے جواب دیا کہ ہوا یہی ہے کہ میں نے اذان کی آواز سنی اور وضو کیا ۔حضرت عمر نے کہا صرف وضو؟کیا آ پ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جب تم میں سے کوئی نماز جمعہ کے لیے آئے تو اسے غسل کرلینا چاہیے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٠؛ج ١ ص ٢٥٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ: أَتَحْتَبِسُونَ عَنِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ. فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءُ أَيْضًا، أَوَ لَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 340

عطاءبن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ مسلمان پر واجب ہے ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤١؛ج ١ ص ٢٥٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 341

ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بالغ مسلمان کے لیے جمعہ کو جانا ضروری ہے اور جو جانا چاہے اس پر غسل کرنا ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ جب آدمی نے طلوع فجر کے بعد غسل کرلیا تو وہ غسل جمعہ کی طرف سے کافی ہوگا خواہ جنبی کیوں نہ ہوا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٢؛ج ١ ص ٢٥٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحٌ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْغُسْلُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «إِذَا اغتسل الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَجْزَأَهُ مِنْ غُسْلِ الْجُمُعَةِ، وَإِنْ أَجْنَبَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 342

حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے لیے غسل کیا اور اپنے اچھے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی جب کہ اس کے پاس ہو۔پھر نماز جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں اوپر سے نہ پھلانگے۔ پھر نماز پڑھے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض فرمائی ہے۔پھر خاموش رہے جبکہ امام نکل آئے ۔یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہوجائے تویہ اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ فرمایا کرتے تھے کہ مزید تین دن کے گناہ ۔اور فرماتے تھے نیکی کا اجر دس گنا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ محمد بن مسلمہ کی حدیث زیادہ مکمل ہے اور حماد نے کلام ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٣؛ج ١ ص ٢٥٨؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ، ح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَة، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ يَزِيدُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ فِي حَدِيثِهِمَا - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا» - قَالَ: وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةِ: «وَزِيَادَةٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ» - وَيَقُولُ: «إِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ كَلَامَ أَبِي هُرَيْرَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 343

حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے روز کا غسل ہر بالغ پر ہے اور مسواک کرنا اور خوشبو لگانا جو قسمت میں ہو ۔مگر بکیر نے عبدالرحمن کا ذکر نہیں کیا ۔اور خوشبو کے متعلق کہا کہ خواہ عورت کی خوشبو ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٤؛ج ١ ص ٢٥٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، وَبُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَالسِّوَاكُ وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قُدِّرَ لَهُ» إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَقَالَ فِي الطِّيبِ: «وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 344

ابوالاشعث صنعانی سے روایت ہے کہ حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور غسل کروایا ۔پھر جلدی گیا اور جلدی کہے گیا اور سواری کے بغیر جائے اور امام کے قریب ہو کر غور سے سنے اور لغو بات نہ کرے تو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے رکھنے اور شب بیداری کا ثواب ملے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٥؛ج ١ ص ٣٥٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ حُبِّي، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ، وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 345

عبادہ بن نسی نے حضرت اوس ثقفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے روز اپنا سر دھویا اور غسل کیا۔پھر باقی مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٦؛ج ١ ص ٢٦٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ» ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 346

حضرت عمرو بن شعیب کے والد ماجد نے حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور اپنی بیوی کی خوشبو میں سے لگائی جب کہ اس کے پاس ہو اور اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے۔پھر لوگوں کی گردنوں کے اوپر سے نہ پھلانگے اور وعظ کے دوران لغویات نہ کرے تو وہ اس کے لیے دوجمعوں کے درمیانی صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوگا اور اگر لغو بات کی اور لوگوں کی گردنوں کی اوپر سے پھلانگتا رہا تو یہ نماز ظہر کی طرح ہوگا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٧؛ج ١ ص ٢٦١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا، وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 347

حضرت عبداللہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے۔(1)جنابت سے(2)جمعہ کے روز(3)پچھنے لگوانے کے بعد اور(4)میت کو غسل دینے کے بعد۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٨؛ج ١ ص ٢٦١؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمِنَ الحِجَامَةِ، وَمِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 348

محمود بن خالد دمشقی،مروان،علی بن حوشب نے مکحول سے غسل کرنے اور کروانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ اس سے مراد اپنے سر اور جسم کو دھونا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٤٩؛ج ١ ص ٢٦٢؛حکم حدیث رجالہ ثقات؛تحقيق الارنووط

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: سَأَلْتُ مَكْحُولًا عَنْ هَذَا الْقَوْلِ «غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ» فَقَالَ: «غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 349

محمد بن ولید دمشقی،ابومسہر نے سعید بن عبدالعزیز سے غسل کرنے اور کروانے کے متعلق دریافت کیا تو سعید نے فرمایا کہ اس کا مطلب اپنے سر اور جسم کو دھونا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥٠؛ج ١ ص ٢٦٢؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي «غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ». قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: «غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 350

ابوصالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے جمعہ کے روز غسل جنابت کیا،پھر (نماز کی ادائیگی کے لیے جائے) تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی دی۔ جو دوسری ساعت میں آیا تو گویا اس نے گائے کی قربانی دی۔جو تیسری ساعت میں آیاتو گویا اس نے مینڈھے کی قربانی دی۔جو چوتھی ساعت میں آیا تو گویا اس نے مرغ کا ثواب پایا۔اور جوپانچویں ساعت میں آیا تو گویا اس نے انڈے کا ثواب حاصل کیا اور جب امام خطبے کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥١؛ج ١ ص ٢٦٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 351

عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ لوگ محنت مزدوری کرکے اس حالت میں نماز جمعہ کے لیے جاتے کہ ان سے کہا جاتا،کاش آپ غسل کرلیتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥٢؛ج ١ ص ٢٦٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ مُهَّانَ أَنْفُسِهِمْ، فَيَرُوحُونَ إِلَى الْجُمُعَةِ بِهَيْئَتِهِمْ، فَقِيلَ لَهُمْ: «لَوِ اغْتَسَلْتُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 352

عمروبن ابوعمرو نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ عراق کے رہنے والے کچھ لوگوں نے آکر کہا۔اے ابن عباس!کیا آپ کے نزدیک جمعہ کے روز غسل کرنا واجب ہے؟فرمایا کہ نہیں لیکن جو غسل کرلے تو اس میں پاکی اور بہتری ہے اور جو غسل نہ کرے تو اس پر واجب نہیں ہے۔میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل کیسے شروع ہوا۔لوگ مفلس تھے اور اونی کپڑے پہنتے تھے اور اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھاتے تھے اور ان کی مسجد تنگ تھی،اس کی چھت نیچی تھی کہ گویا ایک چھپر ہے۔تو ایک گرمی کے روز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطبہ دینے نکلے اور لوگوں نے موٹے اونی کپڑے پہنے ہوئے تھےتو ان کی بوسے ایک دوسرے کو تکلیف ہورہی تھی۔جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وہ بو محسوس ہوئی تو آ پ نے فرمایا کہ اے لوگو!جب یہ دن آئے تو غسل کرلیا کرو اور جو تمہیں اچھا سا تیل یا خوشبو ملے تو لگالیا کرو۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت درست فرمادی تو موٹے اونی کپڑوں کے سوا دوسرے کپڑے پہننےلگے۔محنت تقسیم ہوگئی،مسجد وسیع ہوگئی اور پسینے کی وہ بدبو جاتی رہی جس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوا کرتی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥٣؛ج ١ ص ٢٦٤؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَاءُوا فَقَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ أَطْهَرُ، وَخَيْرٌ لِمَنِ اغْتَسَلَ، وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ، وَسَأُخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدْءُ الْغُسْلِ كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ - إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ - فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَرِقَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الصُّوفِ حَتَّى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ آذَى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَلَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الرِّيحَ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمَ فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ» قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ جَاءَ اللَّهُ بِالْخَيْرِ وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ، وَكُفُوا الْعَمَلَ وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمْ، وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 353

ابوالولید،ہمام،قتادہ،حسن,حضرت سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے وضو کیا تو اچھا کیا اور خوب کیا اور جس نے غسل کیا تو اس میں فضیلت ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،حدیث نمبر٣٥٤؛ج ١ ص ٢٦٥؛حکم حدیث حسن لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 354

حضرت قیس بن عاصم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں اسلام قبول کرنے کے ارادے سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ بیری کے پتے ڈالے ہوئے پانی سے غسل کروں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُؤْمَرُ بِالْغُسْلِ،حدیث نمبر٣٥٥؛ج ١ ص ٢٦٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَغَرُّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 355

عثیم بن کلیب نے اپنے والد ماجد سے انہوں نے اپنے والد محترم سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور مسلمان ہوگیا۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے زمانہ کفر کے بال منڈوادو اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے ساتھ جانے والے شخص سے فرمایا تم بھی اپنے زمانہ کفر کے بال منڈوادو اور ختنہ کروالو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ فَيُؤْمَرُ بِالْغُسْلِ،حدیث نمبر٣٥٦؛ج ١ ص ٢٦٧؛حکم حدیث حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمْتُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ» يَقُولُ: احْلِقْ قَالَ: وأَخْبَرَنِي آخَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِآخَرَ مَعَهُ: «أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 356

ابوبکر عدوی کی دادی جان ام الحسن سے روایت ہے کہ معاذہ نے فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے اس حائضہ کے متعلق پوچھا گیا جس کے حیض کا خون اس کے کپڑے سے لگ جائے۔فرمایا کہ اسے دھوڈالے اور اگر نشانات نہ جائیں تو اس کپڑے پر کوئی زرد رنگ چڑھا لے۔فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا۔متواتر تین تین حیض اور میں اپنے لیے کپڑا نہیں دھوتی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٥٧؛ج ١ ص ٢٦٨؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ يَعْنِي جَدَّةَ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ قَالَتْ: «تَغْسِلُهُ فَإِنْ لَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ». قَالَتْ: «وَلَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 357

حسن بن مسلم نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم (ازواج مطہرات)میں سے کسی کے پاس ایک سے زیادہ کپڑا نہیں ہوتا تھا،اسی میں حیض آتا۔جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوکتے اور تھوک سے چھڑا دیتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٥٨؛ج ١ ص ٢٦٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ يَذْكُرُ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ بَلَّتْهُ بِرِيقِهَا، ثُمَّ قَصَعَتْهُ بِرِيقِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 358

بکار بن یحییٰ کی دادی جان نے فرمایا کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان سے قریش کی ایک عورت حیض والے کپڑے سے نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ہمیں حیض آتا تو وہ حیض کے دنوں میں ٹھہری رہتی۔پھر پاک ہوکر وہ اس کپڑے کو دیکھتی جس کے ساتھ وہ ایام حیض گزارے اگر خون لگا ہوتا تو وہ اسے دھودیتے اور اس میں نماز پڑھتے۔اور اس میں کوئی چیز رکاوٹ نہ تھی ۔جب ہم میں سے کسی کی چوٹی بندھی ہوئی تھی تو اسی طرح رکھی جاتی اور غسل کرتے وقت اسے کھولا نہ جاتا بلکہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لیا جاتا اور جب یہ دیکھا جاتا کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ گیا ہے تو سر کو ملا جاتا اور پھر سارے جسم پر سارے جسم پر پانی بہا لیا جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٥٩؛ج ١ ص ٢٦٩؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: «قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا الْحَيْضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلْبَثُ إِحْدَانَا أَيَّامَ حَيْضِهَا ثُمَّ تَطَّهَّرُ، فَتَنْظُرُ الثَّوْبَ الَّذِي كَانَتْ تَقْلِبُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ دَمٌ غَسَلْنَاهُ وَصَلَّيْنَا فِيهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَرَكْنَاهُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا ذَلِكَ مِنْ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِ، وَأَمَّا الْمُمْتَشِطَةُ فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَكُونُ مُمْتَشِطَةً فَإِذَا اغْتَسَلَتْ لَمْ تَنْقُضْ ذَلِكَ، وَلَكِنَّهَا تَحْفِنُ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، فَإِذَا رَأَتِ الْبَلَلَ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ دَلَكَتْهُ، ثُمَّ أَفَاضَتْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 359

فاطمہ بنت منذر روایت کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ ایک عورت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھ رہی تھی کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو حیض سے پاک دیکھے تو اپنے کپڑوں کا کیا کرے۔تاکہ ان میں نماز پڑھ سکے۔فرمایا دیکھو اگر اس میں خون نظر آئے تو تھوڑا سا پانی ڈال کر اسے کھرچ دواور اگر کچھ بھی نظر نہ آئے تو اس میں نماز پڑھ لو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦٠؛ج ١ ص ٢٧٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَصْنَعُ إِحْدَانَا بِثَوْبِهَا إِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ أَتُصَلِّي فِيهِ؟ قَالَ: «تَنْظُرُ فَإِنْ رَأَتْ فِيهِ دَمًا فَلْتَقْرُصْهُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، وَلْتَنْضَحْ مَا لَمْ تَرَ وَلْتُصَلِّ فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 360

فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ایک عورت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے عرض گزار ہوئی۔یارسول اللہ جب ہم میں سے کوئی اپنے کپڑے میں حیض کا خون لگا ہوا دیکھے تو کیا کرے؟تو فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو حیض کا خون لگ جائے تو اسے کھرچ دے۔پھر اسے پانی سے دھودے اور پھر نماز پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦١؛ج ١ ص ٢٧٠؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: «إِذَا أَصَابَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضِ فَلْتَقْرُصْهُ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ لِتُصَلِّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 361

حماد بن سلمہ نے ہشام سے معنا روایت کرتے ہوئے دونوں نے کہا کہ اسے کھرچ دو۔پھر اس پر پانی ڈالو،پھر اسے دھولو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦٢؛ج ١ ص ٢٧١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّد، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْمَعْنَى قَالَ: «حُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ انْضَحِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 362

عدی بن دینار نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے؟ فرمایا کہ اسے لکڑی سے خرچ دو اور بیری کے پتوں والے پانی سے دھوڈالو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦٣؛ج ١ ص ٢٧١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ تَقُولُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ قَالَ: «حُكِّيهِ بِضِلْعٍ، وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 363

عطاء سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک ہی کرتا ہوتا جو دوران حیض اور حالت جنابت میں بھی پہنا جاتا۔جب اس پر خون کا قطرہ لگا ہوا دیکھا جاتا تو اپنے تھوک سے اسے مل دیا جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا،حدیث نمبر٣٦٤؛ج ١ ص ٢٧٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَدْ كَانَ يَكُونَ لِإِحْدَانَا الدِّرْعُ فِيهِ تَحِيضُ قَدْ تُصِيبُهَا الْجَنَابَةُ، ثُمَّ تَرَى فِيهِ قَطْرَةً مِنْ دَمٍ فَتَقْصَعُهُ بَرِيقِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 364

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ خولہ بنت یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صرف ایک ہی لباس ہے اس میں مجھے خون آجاتا ہے تو پھر میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم پاک ہو جاؤ تو اسے دھو کراس میں نماز ادا کرو۔اس نے عرض کی؛اگر خون نہ نکلے(یعنی خون کا نشان ختم نہ ہو)تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے خون کو دھونا ہی کافی ہے اس کا نشان تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (ابو داود شریف کتاب الطھارۃ بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا؛ج ١ ص ٢٧٢؛حدیث نمبر ٣٦٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: «إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِيهِ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ». فَقَالَتْ: فَإِنْ لَمْ يَخْرُجِ الدَّمُ؟ قَالَ: «يَكْفِيكِ غَسْلُ الدَّمِ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُه»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 365

معاویہ بن سفیان نے اپنی بہن حضرت ام حبیبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں،کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جن کپڑوں کو پہن کر جماع کرتے کیا ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا،ہاں جب کہ ان میں کوئی نجاست لگی ہوئی نہ ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ فِيهِ،حدیث نمبر٣٦٦؛ج ١ ص ٢٧٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُهَا فِيهِ؟ فَقَالَتْ: «نَعَمْ إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 366

عبد اللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے بچھانے کے کپڑے اور ہمارے لحاف میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔عبداللہ کا قول ہے کہ میرے والد ماجد کو شک ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ فِيهِ،حدیث نمبر٣٦٧؛ج ١ ص ٢٧٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّ فِي شُعُرِنَا، أَوْ فِي لُحُفِنَا» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: شَكَّ أَبِي

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 367

ابن سیرین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہماری اوڑھنے کی چادروں میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔حماد،سعید بن ابوصدقہ کا بیان ہے کہ میں نے محمد بن سیرین سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھ سے بیان نہیں کی اور کہا کہ مدت گزر گئی جب کہ میں نے یہ سنی تھی۔اور مجھے نہیں معلوم کہ کس سے سنی تھی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ جس سے سنی وہ ثقہ تھا یا نہیں ،لہذا اس کی تحقیق کرلو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ فِيهِ،حدیث نمبر٣٦٨؛ج ١ ص ٢٧٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي فِي مَلَاحِفِنَا» قَالَ حَمَّادٌ: وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي صَدَقَةَ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْهُ فَلَمْ يُحَدِّثْنِي، وَقَالَ: سَمِعْتُهُ مُنْذُ زَمَانٍ، وَلَا أَدْرِي مِمَّنْ سَمِعْتُهُ، وَلَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ ثَبْتٍ أَوْ لَا فَسَلُوا عَنْهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 368

عبد اللہ بن شداد نے حضرت میمونہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ کے اوپر ایک چادر تھی ،جس کا کچھ حصہ آپ کی ایک زوجہ مطہرہ کے اوپر تھا جو حائضہ تھیں اور نماز پڑھتے ہوئے بھی وہ حصہ آپ کے اوپر تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٣٦٩؛ج ١ ص ٢٧٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ مَيْمُونَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ وَعَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ مِنْهُ وَهِيَ حَائِضٌ، وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 369

عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھ رہے تھے اور میں آ پ کی پہلو میں تھی ۔میں حائضہ تھی اور میرے اوپر جو چادر تھی اس کا ایک حصہ آپ کے اوپر تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٣٧٠؛ج ١ ص ٢٧٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةِ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ، وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ مِرْطٌ لِي وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 370

ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھے کہ انہیں احتلام ہو گیا تو انہیں حضرت عائشہ کی لونڈی نے کپڑے سے جنابت کا نشان یا کپڑا دھوتے ہوئے دیکھ لیا ۔اس نے حضرت عائشہ کو بتا دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کسی کپڑے میں اسے دیکھتی تو مل دیا کرتی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧١؛ج ١ ص ٢٧٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَاحْتَلَمَ، فَأَبْصَرَتْهُ جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ وَهُوَ يَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ مِنْ ثَوْبِهِ، أَوْ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ، فَ أَخْبَرَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الْأَعْمَشُ كَمَا رَوَاهُ الْحَكَمُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 371

ابراہیم نے اسود سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیا کرتی تھی اور آپ اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس کی موافقت کی ہے مغیرہ اور ابومعشر واصل نے اور اعمش نے اسے حکم کی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٢؛ج ١ ص ٢٧٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي فِيهِ». قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَافَقَهُ مُغِيرَةُ، وَأَبُو مَعْشَرٍ وَوَاصِلٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 372

سلیمان بن یسار نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ منی کو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھو دیا کرتیں اور پھر انہیں ایک یا کئی نشانات نظر آتے رہتے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٣؛ج ١ ص ٢٧٧؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ أَخْضَرَ الْمَعْنَى، وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: «إِنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَتْ: «ثُمَّ أَرَى فِيهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 373

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضرت ام قیس محصن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا اپنے چھوٹے صاحبزادے کو لیکر ،جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا ،رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں،پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا تو اس نے آ پ کے کپڑے پر پیشاب کردیا ۔پس آ پ نے پانی منگا کر اس پر چھڑک دیا اور اسے نہ دھویا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٤؛ج ١ ص ٢٧٨؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا، «أَتَتْ بَابُنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 374

قابوس نے حضرت لبابہ بنت حارث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی گود میں حسین بن علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما تھے تو انہوں نے آپ پر پیشاب کردیا۔میں عرض گزار ہوئیں کہ آپ دوسرے کپڑے پہن لیں اور ازار مجھے دے دیجیے تاکہ میں دھودوں۔فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔اور لڑکے کے پیشاب میں پانی چھڑکا جاتا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٥؛ج ١ ص ٢٧٩؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: الْبَسْ ثَوْبًا وَأَعْطِنِي إِزَارَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ. قَالَ: «إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 375

محل بن خلیفہ نے حضرت ابوالسمع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو مجھ سے فرماتے ۔میری جانب پیٹھ پھیر لو۔پس میں آپ کی جانب پیٹھ کرکے آڑ بنا رہتا۔چنانچہ امام حسن یا امام حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما آئے اور آپ کے سینے پر پیشاب کردیا اور میں دھونے کے لیے حاضر ہوا تو فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔عباس نے یحییٰ بن ولید سے روایت کی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ان کی کنیت ابو الزہراء ہے اور ہارون بن تمیم نے حسن بصری سے روایت کی کہ پیشاب سب برابر ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٦؛ج ١ ص ٢٨٠؛حکم حدیث اسنادہ جید تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ: «وَلِّنِي قَفَاكَ». فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ، فَأُتِيَ بِحَسَنٍ، أَوْ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ فَجِئْتُ أَغْسِلُهُ فَقَالَ: «يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ» قَالَ عَبَّاسٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ أَبُو الزَّعْرَاء قَالَ هَارُونُ بْنُ تَمِيمٍ: عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «الْأَبْوَالُ كُلُّهَا سَوَاءٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 376

ابوحرب بن الاسود نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو دھوئے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکے جو کھانا نہ کھاتا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٧؛ج ١ ص ٢٨٠؛حکم حدیث صحيح موقوف تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 377

ابوحرب بن الاسود کے والد ماجد نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھر معنا مذکورہ حدیث بیان کی اور کھانا نہ کھانے کا ذکر نہ کیا۔قتادہ نے یہ بھی کہا کہ جب کہ دونوں کھانا نہ کھاتے ہوں۔ جب کھانا کھاتے ہوں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٨؛ج ١ ص ٢٨١؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ «مَا لَمْ يَطْعَمْ زَادَ». قَالَ قَتَادَةُ: «هَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 378

یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ ان کی والدہ ماجدہ نے فرمایا۔میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا کہ لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا کرتیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا۔جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھویا کرتیں اور وہ لڑکی کے پیشاب کو دھوتی تھیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ بَوْلِ الصَّبِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٩؛ج ١ ص ٢٨١؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَةَ «تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ، فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْهُ، وَكَانَتْ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِيَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 379

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں جلوہ افروز تھے۔پس اس نے نماز پڑھی۔ابن عبدہ نے کہا کہ دورکعتیں۔پھر کہا۔اے اللہ مجھ پر رحم فرما اور محمد مصطفیٰ پر اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ کر۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے وسیع چیز کو تنگ کردیا۔تھوڑی دیر بعد وہ مسجد کے ایک کونہ میں پیشاب کرنے لگا۔تو لوگ اس کی جانب لپکے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع کیا اور فرمایا کہ تمہیں آسانی کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے،تم تنگی کرنے کے لیے مبعوث نہیں کیے گئے ،اس پر ایک سجل یا ذنوب (ڈول)پانی بہادو۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْأَرْضِ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ،حدیث نمبر٣٨٠؛ج ١ ص ٢٨٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَابْنُ عَبْدَةَ فِي آخَرِينَ - وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ عَبْدَة - أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى قَالَ ابْنُ عَبْدَة: رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا». ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ، صُبُّوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ» أَوْ قَالَ: «ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ».

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 380

عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے کہ عبداللّٰہ بن معقل بن مقرن نے فرمایا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔پھر مذکورہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس مٹی پر پیشاب کیا ہے اسے لے کر باہر پھینک دو اور اس جگہ پر پانی بہادو۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے کیوں کہ ابن مقفل نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں پایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْأَرْضِ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ،حدیث نمبر٣٨١؛ج ١ ص ٢٨٣؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: صَلَّى أَعْرَابِيٌّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فِيهِ: وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا مَا بَالَ عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ فَأَلْقُوهُ، وَأَهْرِيقُوا عَلَى مَكَانِهِ مَاءً» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ مُرْسَلٌ ابْنُ مَعْقِلٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 381

حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کے اندر میں مسجد میں رات گزارتا اور میں غیر شادی شدہ نوجوان تھا۔چنانچہ کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرجاتے تو کوئی ان کے پیشاب پر پانی نہیں بہاتا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي طُهُورِ الْأَرْضِ إِذَا يَبِسَتْ،حدیث نمبر٣٨٢؛ج ١ ص ٢٨٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا، وَكَانَتِ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 382

ابراہیم بن عبدالرحمن عوف کی ام ولد نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کی کہ میں ایسی عورت ہوں کہ میرا دامن لٹک جاتا ہے جو گندی جگہ بھی گھسٹتا ہے۔حضرت ام سلمہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے دوسری جگہ پاک کردیتی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ الذَّيْلَ،حدیث نمبر٣٨٣؛ج ١ ص ٢٨٥؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي، وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ فَقَالَتْ: أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 383

موسی بن عبداللّٰہ بن یزید نے بنی اشہل کی ایک عورت سے روایت کی۔اس نے کہا کہ میں عرض گزار ہوئی ۔یارسول اللہ ہمارا مسجد والا راستہ گندا ہے تو بارش کے وقت ہم کیا کریں؟فرمایا کیا اس کے بعد پاک راستہ نہیں ہے؟میں عرض گزار ہوئی کہ کیوں نہیں۔فرمایا تو اس کی ناپاکی کو یہ دور کردے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ الذَّيْلَ،حدیث نمبر٣٨٤؛ج ١ ص ٢٨٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِد مُنْتِنَةً فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: «أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟» قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: «فَهَذِهِ بِهَذِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 384

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کسی کے جوتے پر گندگی لگ جائے تو مٹی انہیں پاک کرنے والی ہے۔(یعنی مٹی پر رگڑنے سے وہ پاک ہو جائے گی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ النَّعْلَ،حدیث نمبر٣٨٥؛ج ١ ص ٢٨٦؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي ح، وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ الْمَعْنَى قَالَ: أُنْبِئْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى، فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 385

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔پھر معنا روایت کی۔فرمایا جب موزوں کو گندگی لگ جائے تو مٹی انہیں پاک کرنے والی ہے۔(یعنی موزوں کو پاک مٹی پر رگڑ لیا جائے تو حکما وہ پاک شمار ہوں گے۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ النَّعْلَ،حدیث نمبر٣٨٦؛ج ١ ص ٢٨٧؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ: «إِذَا وَطِئَ الْأَذَى بِخُفَّيْهِ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 386

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھر مذکورہ حدیث کو معنا روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابٌ فِي الْأَذَى يُصِيبُ النَّعْلَ،حدیث نمبر٣٨٧؛ج ١ ص ٢٨٧؛حکم حدیث اسنادہ قوی تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَائِذٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَيْضًا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 387

ام یونس بنت شداد نے اپنی نند ام جحدر عامریہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا جب کہ حیض کا خون کپڑے کو لگ جائے۔انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور بچھانے کا کپڑا ہمارے اوپر تھااور ہم نے اس کے اوپر کمبل ڈال رکھا تھا۔صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کمبل لے کر اوڑھ لیا۔پھر آپ باہر نکلے اور نماز فجر پڑھ کر بیٹھ گئے۔ایک آدمی عرض گزار ہوا یارسول الله یہ تو خون کا نشان ہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ارد گرد سے پکڑ کر ایک غلام کو ہاتھوں میری طرف بھیجتے ہوئے فرمایا کہ اسے دھودو اور جب خشک ہو جائے تو میرے پاس بھیج دینا۔پس میں نے اپنا کونڈا منگا کر اسے دھویا اور خشک ہونے پر اسے آپ کی خدمت میں بھیجا دیا گیا۔چنانچہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت تشریف لائے اور وہ کمبل آپ کے اوپر تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْإِعَادَةِ مِنَ النَّجَاسَةِ تَكُونُ فِي الثَّوْبِ،حدیث نمبر٣٨٨؛ج ١ ص ٢٨٨؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ يُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي حَمَاتِي أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِيَّةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا شِعَارُنَا، وَقَدْ أَلْقَيْنَا فَوْقَهُ كِسَاءً، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْكِسَاءَ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لُمْعَةٌ مِنْ دَمٍ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا يَلِيهَا، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ مَصْرُورَةً فِي يَدِ الْغُلَامِ فَقَالَ: «اغْسِلِي هَذِهِ وَأَجِفِّيهَا ثُمَّ أَرْسِلِي بِهَا إِلَيَّ». فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِي فَغَسَلْتُهَا، ثُمَّ أَجْفَفْتُهَ فَأَحَرْتُهَا إِلَيْهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهِيَ عَلَيْهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 388

ثابت بنانی سے روایت ہے کہ حضرت ابونضرہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور دوسرے حصوں سے اسے مل دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْبُصَاقِ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٧٩؛ج ١ ص ٢٨٩؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: «بَزَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِهِ، وَحَكَّ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 389

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مذکورہ حدیث کی طرح۔ ابوداؤد شریف کتاب الطھارۃ،بَابُ الْبُصَاقِ يُصِيبُ الثَّوْبَ،حدیث نمبر٣٩٠؛ج ١ ص ٢٨٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 390

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں"اسے ذلت کا لباس پہنائے گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ؛قباء کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٣٠) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ ان کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ؛قباء کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٣١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: ثَوْبَ مَذَلَّةٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 4030/4031

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ ان کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ؛قباء کا بیان؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٣١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 4031

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے سیاہ رنگ کی اونی چادر پہنی ہوئی تھی۔ ایک راوی نے اس کے سند کچھ مختلف نقل کی ہے۔ حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے کے لیے کچھ مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کتان کے دو کپڑے عطا کیے(بعد میں)میں نے خود کو دیکھا کہ میرا لباس اپنے تمام ساتھیوں سے بہتر تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب اللِّبَاسِ؛لباس سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعْرِ؛اونی اور بال سے بنا ہوا لباس پہننا؛جلد٤،ص٤٣؛حدیث نمبر:٤٠٣٢)

بَابٌ فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعَرِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ»، وقَالَ حُسَيْنٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: «اسْتَكْسَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَسَانِي خَيْشَتَيْنِ» فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا أَكْسَى أَصْحَابِي "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 4032

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مومن کو قتل کرے اور اس کے قتل کو درست سمجھے تو اللہ تعالی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔. (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ؛فتنوں اور جنگوں کا بیان؛باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ؛مومن کا قتل بڑا گناہ ہے؛جلد٤،ص١٠٣،حدیث ٤٢٧٠)

فَقَالَ هَانِئُ بْنُ كُلْثُومٍ: سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ -- عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ، لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 4270

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 4344

عرس بن عمیر کندی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب زمین میں کوئی غلطی کی جائے تو جو شخص وہاں موجود ہو وہ اسے ناپسند کرے(ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں)وہ اس کا انکار کرے تو یہ اس طرح ہوگا کہ جس طرح وہ وہاں موجود نہیں تھا اب جو شخص وہاں موجود نہیں تھا وہ اب اس غلطی سے راضی ہے تو یہ اس طرح ہوگا جیسے وہ بھی وہاں موجود تھا.... (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٤،حدیث ٤٣٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمُوصِلِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْعُرْسِ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ، كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا - وَقَالَ مَرَّةً: «أَنْكَرَهَا» - كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا، وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا، كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabut Taharat, Hadees No. 4345

Abu Dawood Shareef : Kitabut Taharat

|

Abu Dawood Shareef : کتاب الطہارۃ

|

•