asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Ilm

From 3641 to 3668

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان سے کہنے لگا: اے ابو الدرداء! میں آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے اس حدیث کے لیے آیا ہوں جس کے متعلق مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں میں آپ کے پاس کسی اور غرض سے نہیں آیا ہوں، اس پر حضرت ابوالدرداء نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص طلب علم کے لیے راستہ طے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے جنت کی راہ چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لیے پھیلا دیتے ہیں اور عالم شخص کے لیے آسمان میں بسنے والے،زمین میں رہنے والے یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں دعائے مغفرت کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کی تمام ستاروں پر، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور نبیوں نے اپنا وارث درہم و دینار کا نہیں بنایا بلکہ علم کا وارث بنایا تو جس نے علم حاصل کیا اس نے ایک وافر حصہ لیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٣٦٤١)

كِتَاب الْعِلْمِ بَابُ الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ: إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي، أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ، قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ، كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3641

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٣٦٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: لَقِيتُ شَبِيبَ بْنَ شَيْبَةَ، فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، يَعْنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3642

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص علم کے حصول کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے جنت کے راستے کو اس کے لیے اسان کر دیتا ہے اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٣٦٤٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا، إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقَ الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3643

ابن ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے“ یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے (مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اگر سچ ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب رِوَايَةِ حَدِيثِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب سے کوئی بات روایت کرنا؛جلد٣،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٣٦٤٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ، مِنَ الْيَهُودِ مُرَّ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ»، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: «إِنَّهَا تَتَكَلَّمُ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ، وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُ، وَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3644

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی تو میں نے یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں یہودیوں سے جو لکھواتا ہوں مجھے اس پراعتماد نہیں“ تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب رِوَايَةِ حَدِيثِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب سے کوئی بات روایت کرنا؛جلد٣،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٣٦٤٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ، وَقَالَ: «إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي» فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ، فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ وَأَقْرَأُ لَهُ، إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3645

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٣٦٤٦)

بَابٌ فِي كِتَابِ الْعِلْمِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا: أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ، وَالرِّضَا، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ، فَقَالَ: «اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3646

مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ایک شخص کو اس حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا۔ (یہ ممانعت پہلے تھی جب احادیث کے قرآن کے ساتھ خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا، بعد میں کتابت حدیث کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ پہلی روایت سے واضح ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٣٦٤٧)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ حَدِيثٍ فَأَمَرَ إِنْسَانًا يَكْتُبُهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ لَا نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ» فَمَحَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3647

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم تشہد اور قرآن کے علاوہ اور کوئی چیز تحریری طور پر نوٹ نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٣٦٤٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: «مَا كُنَّا نَكْتُبُ غَيْرَ التَّشَهُّدِ، وَالْقُرْآنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3648

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:جب مکہ فتح ہوا،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے،اس کے بعد راوی نے خطبے کا ذکر کیا ہے،یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ دیا تھا اس کا ذکر کیا ہے،راوی بیان کرتے ہیں پھر اہل یمن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا جس کا نام ابو شاہ تھا اس نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ لکھوا دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو شاہ کو لکھ کر دے دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٣٦٤٩)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْخُطْبَةَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شَاهَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبُوا لِي، فَقَالَ: «اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3649

ولید کہتے ہیں:میں نے حضرت ابو شاہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا:ان لوگوں نے انہیں کیا لکھواکے دیا تھا؟تو انہوں نے جواب دیا:وہ خطبہ جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٣٦٥٠)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَمْرٍو مَا يَكْتُبُوهُ، قَالَ: «الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا يَوْمَئِذٍ مِنْهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3650

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کی طرح حدیثیں کیوں نہیں بیان کرتے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں قدر و منزلت حاصل تھی لیکن میں نے آپ کو بیان فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی سخت وعید کا بیان؛جلد٣،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٣٦٥١)

بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْمَعْنَى، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، قَالَ: مُسَدَّدٌ أَبُو بِشْرٍ: عَنْ وَبَرَةُ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُحَدِّثُ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُ وَجْهٌ وَمَنْزِلَةٌ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3651

Abu Daud Sharif Kitabul Ilm Hadees No# 3652

بَابُ الْكَلَامِ فِي كِتَابِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُقْرِئُ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ مِهْرَانَ، أَخِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ، فَقَدْ أَخْطَأَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3652

ابو سلام ایک شخص کے حوالے سے نقل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کرتے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تین مرتبہ دہراتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب تَكْرِيرِ الْحَدِيثِ؛ایک بات کو باربار دہرانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٠؛حدیث نمبر؛٣٦٥٣)

بَابُ تَكْرِيرِ الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ هَاشِمِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ رَجُلٍ، خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا، أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3653

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعجب نہیں کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک جانب بیٹھے اور مجھے سنانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، میں نفل نماز پڑھ رہی تھی، تو وہ قبل اس کے کہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوتی اٹھے (اور چلے گئے) اور اگر میں انہیں پاتی تو ان سے کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تیزی سے گفتگو نہیں کرتے تھے جس طرح آپ لوگ تیزی سے بات چیت کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي سَرْدِ الْحَدِيثِ؛جلدی جلدی حدیثیں بیان کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٠؛حدیث نمبر؛٣٦٥٥)

بَابٌ فِي سَرْدِ الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ، إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي، فَجَعَلَ يَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ، مَرَّتَيْنِ فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، قَالَتْ: أَلَا تَعْجَبُ إِلَى هَذَا، وَحَدِيثِهِ إِنْ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُحَدِّثُ الْحَدِيثَ لَوْ شَاءَ الْعَادُّ أَنْ يُحْصِيَهُ أَحْصَاهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3654

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط مسئلے بیان کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب التَّوَقِّي فِي الْفُتْيَا؛فتوی دینے میں احتیاط برتنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٣٦٥٦)

بَابُ التَّوَقِّي فِي الْفُتْيَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الغُلُوطَاتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3656

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فتوی دیا“ اور سلیمان بن داود مہری کی روایت میں ہے جس کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا۔ تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا“۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب التَّوَقِّي فِي الْفُتْيَا؛فتوی دینے میں احتیاط برتنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٣٦٥٧)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَفْتَى» ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الطُّنْبُذِيِّ، رَضِيعِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ» زَادَ سُلَيْمَانُ الْمَهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ، «وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ» وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3657

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص سے علم سے متعلق کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے چھپا لے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اسے آگ کی لگام ڈالے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛ باب كَرَاهِيَةِ مَنْعِ الْعِلْمِ؛علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٣٦٥٨)

بَابُ كَرَاهِيَةِ مَنْعِ الْعِلْمِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3658

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم(مجھ سے احادیث)سنتے ہو(آگے آنے والے وقت میں) تم سے سنا جائے گا اور پھر ان سے سنا جائے گا جنہوں نے تم سے سنا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ؛علم پھیلانے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٣٦٥٩)

بَابُ فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ وَيُسْمَعُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3659

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بعض اوقات علمی بات سیکھنے والا شخص اس شخص تک بات منتقل کر دیتا ہے جو اس سے بڑا عالم ہوتا ہے اور بعض اوقات علمی بات سیکھنے والا شخص خود عالم نہیں ہوتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ؛علم پھیلانے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٣٦٦٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا، فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3660

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:اللہ کی قسم اللہ تعالی تمہاری رہنمائی کی وجہ سے ایک شخص کو ہدایت عطا کر دے یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ؛علم پھیلانے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٣٦٦١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِهُدَاكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3661

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"بنی اسرائیل کے حوالے سے بات بیان کر دیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَدِيثِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی بات روایت کرنے کا حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٣٦٦٢)

بَابُ الْحَدِيثِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3662

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بنی اسرائیل کے بارے میں بتا رہے تھے یہاں تک کہ صبح ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف فرض نماز کے لیے اٹھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَدِيثِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی بات روایت کرنے کا حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٣٦٦٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ مَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3663

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی ایسا علم حاصل کرے جسے اللہ کی رضا اور رسول کے لیے حاصل کیا جاتا ہے لیکن وہ شخص اس کے ذریعے صرف کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہو تو ایسا شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى؛غیر اللہ کے لیے علم حاصل کرنے کی برائی کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٣٦٦٤)

بَابٌ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» يَعْنِي رِيحَهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3664

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ صرف حکمران کرے یا جسے مقرر کیا گیا ہو وہ کرے یا بڑائی کا اظہار کرنے والا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي الْقَصَصِ؛وعظ کہنا؛جلد٣،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٣٦٦٥)

بَابٌ فِي الْقَصَصِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَوَّاصُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:: «لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ، أَوْ مَأْمُورٌ، أَوْ مُخْتَالٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3665

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں غریب مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں کپڑے نہ ہونے کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آکر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: ”تم لوگ کیا کر رہے تھے؟“ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان کے ساتھ رہوں“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما ہوئے یوں کہ اپنے اپ کو ہم میں شامل کر لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میرے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں شمار نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں خوشحال لوگوں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہو گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي الْقَصَصِ؛وعظ کہنا؛جلد٣،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٣٦٦٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ العُرْيِ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا، فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ» قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا، ثُمَّ قَالَ: بِيَدِهِ هَكَذَا، فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ، لَهُ قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3666

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي الْقَصَصِ؛وعظ کہنا؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٦٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ مُطَهَّرٍ أَبُو ظَفَرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّىُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ، مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى، أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3667

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ پر سورۃ نساء پڑھو“ میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں“ پھر میں نے آپ کو «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد» ”اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے“ (سورة النساء: ۴۱) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي الْقَصَصِ؛وعظ کہنا؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٦٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةَ النِّسَاءِ» قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي»، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْلِهِ {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ} [النساء: 41] الْآيَةَ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا عَيْنَاهُ تَهْمِلَانِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ilm, Hadees No. 3668

Abu Dawood Shareef : Kitabul Ilm

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْعِلْمِ

|

•