
کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان سے کہنے لگا: اے ابو الدرداء! میں آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے اس حدیث کے لیے آیا ہوں جس کے متعلق مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں میں آپ کے پاس کسی اور غرض سے نہیں آیا ہوں، اس پر حضرت ابوالدرداء نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص طلب علم کے لیے راستہ طے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے جنت کی راہ چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لیے پھیلا دیتے ہیں اور عالم شخص کے لیے آسمان میں بسنے والے،زمین میں رہنے والے یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں دعائے مغفرت کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کی تمام ستاروں پر، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور نبیوں نے اپنا وارث درہم و دینار کا نہیں بنایا بلکہ علم کا وارث بنایا تو جس نے علم حاصل کیا اس نے ایک وافر حصہ لیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٣٦٤١)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٣٦٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص علم کے حصول کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے جنت کے راستے کو اس کے لیے اسان کر دیتا ہے اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ؛علم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٧؛حدیث نمبر؛٣٦٤٣)
ابن ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے“ یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے (مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اگر سچ ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب رِوَايَةِ حَدِيثِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب سے کوئی بات روایت کرنا؛جلد٣،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٣٦٤٤)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی تو میں نے یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں یہودیوں سے جو لکھواتا ہوں مجھے اس پراعتماد نہیں“ تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب رِوَايَةِ حَدِيثِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب سے کوئی بات روایت کرنا؛جلد٣،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٣٦٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٣٦٤٦)
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ایک شخص کو اس حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا۔ (یہ ممانعت پہلے تھی جب احادیث کے قرآن کے ساتھ خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا، بعد میں کتابت حدیث کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ پہلی روایت سے واضح ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٨؛حدیث نمبر؛٣٦٤٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم تشہد اور قرآن کے علاوہ اور کوئی چیز تحریری طور پر نوٹ نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٣٦٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:جب مکہ فتح ہوا،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے،اس کے بعد راوی نے خطبے کا ذکر کیا ہے،یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ دیا تھا اس کا ذکر کیا ہے،راوی بیان کرتے ہیں پھر اہل یمن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا جس کا نام ابو شاہ تھا اس نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ لکھوا دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو شاہ کو لکھ کر دے دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٣٦٤٩)
ولید کہتے ہیں:میں نے حضرت ابو شاہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا:ان لوگوں نے انہیں کیا لکھواکے دیا تھا؟تو انہوں نے جواب دیا:وہ خطبہ جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛علم کے لکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٣٦٥٠)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کی طرح حدیثیں کیوں نہیں بیان کرتے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں قدر و منزلت حاصل تھی لیکن میں نے آپ کو بیان فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی سخت وعید کا بیان؛جلد٣،ص٣١٩؛حدیث نمبر؛٣٦٥١)
Abu Daud Sharif Kitabul Ilm Hadees No# 3652
ابو سلام ایک شخص کے حوالے سے نقل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کرتے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تین مرتبہ دہراتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب تَكْرِيرِ الْحَدِيثِ؛ایک بات کو باربار دہرانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٠؛حدیث نمبر؛٣٦٥٣)
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعجب نہیں کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک جانب بیٹھے اور مجھے سنانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، میں نفل نماز پڑھ رہی تھی، تو وہ قبل اس کے کہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوتی اٹھے (اور چلے گئے) اور اگر میں انہیں پاتی تو ان سے کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تیزی سے گفتگو نہیں کرتے تھے جس طرح آپ لوگ تیزی سے بات چیت کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي سَرْدِ الْحَدِيثِ؛جلدی جلدی حدیثیں بیان کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٠؛حدیث نمبر؛٣٦٥٥)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط مسئلے بیان کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب التَّوَقِّي فِي الْفُتْيَا؛فتوی دینے میں احتیاط برتنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٣٦٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فتوی دیا“ اور سلیمان بن داود مہری کی روایت میں ہے جس کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا۔ تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا“۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب التَّوَقِّي فِي الْفُتْيَا؛فتوی دینے میں احتیاط برتنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٣٦٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص سے علم سے متعلق کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے چھپا لے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اسے آگ کی لگام ڈالے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛ باب كَرَاهِيَةِ مَنْعِ الْعِلْمِ؛علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٣٦٥٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم(مجھ سے احادیث)سنتے ہو(آگے آنے والے وقت میں) تم سے سنا جائے گا اور پھر ان سے سنا جائے گا جنہوں نے تم سے سنا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ؛علم پھیلانے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢١؛حدیث نمبر؛٣٦٥٩)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بعض اوقات علمی بات سیکھنے والا شخص اس شخص تک بات منتقل کر دیتا ہے جو اس سے بڑا عالم ہوتا ہے اور بعض اوقات علمی بات سیکھنے والا شخص خود عالم نہیں ہوتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ؛علم پھیلانے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٣٦٦٠)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:اللہ کی قسم اللہ تعالی تمہاری رہنمائی کی وجہ سے ایک شخص کو ہدایت عطا کر دے یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ؛علم پھیلانے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٣٦٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"بنی اسرائیل کے حوالے سے بات بیان کر دیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَدِيثِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی بات روایت کرنے کا حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٣٦٦٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بنی اسرائیل کے بارے میں بتا رہے تھے یہاں تک کہ صبح ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف فرض نماز کے لیے اٹھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب الْحَدِيثِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؛بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی بات روایت کرنے کا حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٢؛حدیث نمبر؛٣٦٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی ایسا علم حاصل کرے جسے اللہ کی رضا اور رسول کے لیے حاصل کیا جاتا ہے لیکن وہ شخص اس کے ذریعے صرف کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہو تو ایسا شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى؛غیر اللہ کے لیے علم حاصل کرنے کی برائی کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٣٦٦٤)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ صرف حکمران کرے یا جسے مقرر کیا گیا ہو وہ کرے یا بڑائی کا اظہار کرنے والا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي الْقَصَصِ؛وعظ کہنا؛جلد٣،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٣٦٦٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں غریب مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں کپڑے نہ ہونے کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے درمیان آکر کھڑے ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: ”تم لوگ کیا کر رہے تھے؟“ ہم نے عرض کیا: ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان کے ساتھ رہوں“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما ہوئے یوں کہ اپنے اپ کو ہم میں شامل کر لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہو گیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میرے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں شمار نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فقرائے مہاجرین کی جماعت! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں خوشحال لوگوں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہو گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي الْقَصَصِ؛وعظ کہنا؛جلد٣،ص٣٢٣؛حدیث نمبر؛٣٦٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي الْقَصَصِ؛وعظ کہنا؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٦٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ پر سورۃ نساء پڑھو“ میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں“ پھر میں نے آپ کو «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد» ”اس وقت کیا ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے“ (سورة النساء: ۴۱) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِلْمِ؛علم کے مسائل؛باب فِي الْقَصَصِ؛وعظ کہنا؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٦٨)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Ilm
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْعِلْمِ
|
•