asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Ashreba

From 3669 to 3780

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت شراب پانچ چیزوں: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے بنتی تھی، اور شراب وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے، اور تین باتیں ایسی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ انہیں ہم سے اچھی طرح بیان نہ کر دیں: ایک دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا معاملہ اور تیسرے سود کے کچھ مسائل۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٦٩)

كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَابٌ فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: " نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ يَوْمَ نَزَلَ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ: مِنَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ، مَا خَامَرَ الْعَقْلَ "، وَثَلَاثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ: «الْجَدُّ، وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3669

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم بیان کردے جو شفاء ہو تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری: «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» ”یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں“ (سورة البقرہ: ۲۱۹)۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں ایسا واضح حکم بیان کردے جو شفاء ہو، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ”یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ“ (سورة النساء: ۴۳) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ایسا واضح حکم بیان کردے جو شفاء ہو، تو یہ آیت نازل ہوئی: «فهل أنتم منتهون» ”یعنی کیا تم باز آنے والے ہو“ (سورة المائدہ: ۹۱) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آ گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٣٦٧٠)

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَ عُمَرُ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ} [البقرة: 219] الْآيَةَ، قَالَ: فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} [النساء: 43] فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ يُنَادِي: «أَلَا لَا يَقْرَبَنَّ الصَّلَاةَ سَكْرَانُ»، فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءً، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} [المائدة: 91] قَالَ عُمَرُ: انْتَهَيْنَا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3670

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس کی تلاوت میں ان سے غلطی ہوئی۔تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ”نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ جب تک کہ تمہیں پتہ نہیں چلتا کہ تم کیا پڑھ رہے ہو“ نازل ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٧١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَام: " أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الْأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ فَقَرَأَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَخَلَطَ فِيهَا، فَنَزَلَتْ {لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} [النساء: 43] "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3671

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» (سورة النساء: ۴۳) اور «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس»(سورة البقرہ: ۲۱۹) ان دونوں آیتوں کو سورۃ المائدہ کی آیت «إنما الخمر والميسر والأنصاب» (سورة المائدة: ۹۰) نے منسوخ کر دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٧٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيِّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: قَالَ: " {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} [النساء: 43] وَ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ} [البقرة: 219] نَسَخَتْهُمَا الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ} [المائدة: 90] الْآيَةَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3672

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس وقت شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا میں اس وقت حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛شراب کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٤؛حدیث نمبر؛٣٦٧٣)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ حَيْثُ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ، وَمَا شَرَابُنَا يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْفَضِيخُ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ، فَقَالَ: " إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، وَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: هَذَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3673

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:اللہ تعالی نے شراب پر، اسے پینے والے پر،اسے پلانے والے پر،اسے فروخت کرنے والے پر،اس کو خریدنے والے پر،اس کو نچوڑنے والے پر، اس کو نچوڑوانے والے پر،اسے اٹھا کر لے جانے پر،اور جس کی طرف اسے اٹھانے کے لیے جایا جا رہا ہو ان سب پر لعنت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الْعِنَبِ يُعْصَرُ لِلْخَمْرِ؛آدمی شراب بنانے کے لیے انگور نچوڑے اس پر وارد وعید کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٣٦٧٤)

بَابُ الْعِنَبِ يُعْصَرُ لِلْخَمْرِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، مَوْلَاهُمْ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَشَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3674

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم بچوں کے بارے میں دریافت کیا جنہیں وراثت میں شراب ملتی ہے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے بہا دو حضرت ابو طلحہ نے عرض کی کہ کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ تُخَلَّلُ؛شراب کا سرکہ بنانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٢٥؛حدیث نمبر؛٣٦٧٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ تُخَلَّلُ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا، قَالَ: «أَهْرِقْهَا» قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا؟ قَالَ: «لَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3675

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:بے شک انگور سے شراب بنتی ہے،کھجور سے شراب بنتی ہے،شہد سے شراب بنتی ہے،گندم سے شراب بنتی ہے اور جو سے شراب بنتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ؛شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟؛جلد٣،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٣٦٧٦)

بَابُ الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ البُرِّ خَمْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3676

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا:"خمر" انگور،کشمش،کھجور،گندم،جو، اور مکئی سے بنائی جاتی ہے اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ؛شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟؛جلد٣،ص٣٢٦؛حدیث نمبر؛٣٦٧٧)

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالذُّرَةِ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3677

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"خمر"ان دو درختوں سے بنتی ہے کھجور اور انگور۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ابو کثیر غبری کا نام یزید بن عبدالرحمن بن غفیلہ ہے جبکہ بعض حضرات نے ازینہ نقل کیا ہے جبکہ درست لفظ غفیلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ؛شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟؛جلد٣،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٣٦٧٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " اسْمُ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُفَيْلَةَ السَّحْمِيِّ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أُذَيْنَةُ وَالصَّوَابُ غُفَيْلَةُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3678

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا)“۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کر دینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٣٦٧٩)

بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُسْكِرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3679

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا(تین مرتبہ کی صورت میں ہوگا)اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے“ عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی بچے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٣٦٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي شَيْبَةَ، يَقُولُ: عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ»، قِيلَ: وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لَا يَعْرِفُ حَلَالَهُ مِنْ حَرَامِهِ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3780

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جس شے کی زیادہ مقدار نشہ کرے،اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٧؛حدیث نمبر؛٣٦٨١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3681

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بتع(مخصوص قسم کی) شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: «لا إله إلا الله» جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٣٦٨٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ البِتْعِ فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَرَأْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، زَادَ: وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ، كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا كَانَ أَثْبَتَهُ مَا كَانَ فِيهِمْ مِثْلُهُ يَعْنِي فِي أَهْلِ حِمْصٍ يَعْنِي الْجُرْجُسِيَّ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3682

حضرت دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”ہاں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اس سے بچو“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٣٦٨٣)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِىِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ: «هَلْ يُسْكِرُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ، قَالَ: «فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَقَاتِلُوهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3683

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد سے بنی ہوئی شراب کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے فرمایا یہ بتع ہے میں نے عرض کی:جو یا مکئی سے جو نبیذ تیار کی جاتی ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا تم اپنی قوم کو بتا دو ہر نشہ اور چیز حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٣٦٨٤)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ مِنَ الْعَسَلِ، فَقَالَ: «ذَاكَ الْبِتْعُ» قُلْتُ: وَيُنْتَبَذُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ، فَقَالَ: «ذَلِكَ الْمِزْرُ» ثُمَّ قَالَ: «أَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3684

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ (سارنگی) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٨؛حدیث نمبر؛٣٦٨٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ، وَقَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " قَالَ ابْنُ سَلَامٍ أَبُو عُبَيْدٍ: الْغُبَيْرَاءُ: السُّكْرُكَةُ تُعْمَلُ مِنَ الذُّرَةِ، شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3685

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور اور سست کر دینے والی چیز سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٨٦)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفَتِّرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3686

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کا بڑا پیالہ نشہ کرتا ہو اس کا ایک چلو بھی حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ؛نشے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٨٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ: مُوسَى وَهُوَ عَمْرُو بْنُ سَلْمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3687

مالک بن ابو مریم بیان کرتے ہیں: عبدالرحمن بن غنم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے طلاء کے(یعنی مخصوص قسم کی شراب)کے بارے میں بات چیت کی تو انہوں نے بتایا حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ ضرور شراب پییں گے وہ اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الدَّاذِيِّ؛داذی(مخصوص قسم کی)شراب؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٨٨)

بَابٌ فِي الدَّاذِيِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3688

سفیان ثوری سے داذی کے بارے میں دریافت کیا گیا،تو انہوں نے بتایا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "میری امت کے کچھ لوگ ضرور شراب پییں گے اور وہ اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:سفیان ثوری فرماتے ہیں داذی فاسق لوگوں کا مشروب ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الدَّاذِيِّ؛داذی(مخصوص قسم کی)شراب؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٨٩)

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَا شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ وَاسِطٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَسُئِلَ، عَنِ الدَّاذِيِّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ الدَّاذِيُّ: شَرَابُ الْفَاسِقِينَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3689

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ آپ نے دبا،حنتم،مزفت اور نقیر سے منع کیا ہے۔ (حدیث میں وارد الفاظ: دباء، حنتم، مزفت اور نقیر مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا، بعد میں یہ ممانعت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت «كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء» سے منسوخ ہو گئی۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٢٩؛حدیث نمبر؛٣٦٩٠)

بَابٌ فِي الْأَوْعِيَةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3690

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» (مٹی کا گھڑا) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا: «جر» کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ برتن ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٠؛حدیث نمبر؛٣٦٩١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ» فَخَرَجْتُ فَزِعًا مِنْ قَوْلِهِ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، قَالَ: صَدَقَ، «حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ» قُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ؟ قَالَ: «كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3691

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں“۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی  ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٠؛حدیث نمبر؛٣٦٩٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - وَهَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ - قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَيْسَ نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ «وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَاحِدَةً، وَقَالَ مُسَدَّدٌ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ» شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْمُقَيَّرِ " وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: النَّقِيرُ مَكَانَ الْمُقَيَّرِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: وَالنَّقِيرُ وَالْمُقَيَّرُ، لَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " أَبُو جَمْرَةَ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3692

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس قبیلے کے وفد سے فرمایا میں تمہیں نقیر،مقیر،حنتم،دبا اور ایسے بڑے مشکیزے سے جو اوپر سے کاٹا گیا ہو پیندے کی طرف سے سوراخ نہ ہو اس سے منع کرتا ہوں،البتہ تم اپنے عام مشکیزوں میں پی لیا کرو اور اسے باندھ دیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٣)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ: «أَنْهَاكُمْ عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ وَلَكِنِ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3693

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے عبدالقیس قبیلے کا واقعہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:انہوں نے عرض کی:یا اللہ کے نبی!ہم کن چیزوں میں پیا کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چمڑے کے مشکیزے استعمال کیا کرو جن کے منہ پر رسی لپیٹ دی جاتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٤)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالُوا: فِيمَ نَشْرَبُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3694

ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا (عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں شدت آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی شدت توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی شدت نہ جائے تو اسے بہا دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٥)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ زَيدِ بْنِ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي - رَجُلٌ، كَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يَحْسَبُ عَوْفٌ أَنَّ اسْمَهُ - قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ، فَقَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ، وَلَا مُزَفَّتٍ، وَلَا دُبَّاءٍ، وَلَا حَنْتَمٍ وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَى عَلَيْهِ فَإِنِ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3695

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں پانی ڈال دیا کرو“ وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”اسے بہا دو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے“ یا یوں کہا: ”شراب، جوا، اور کوبہ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ نَشْرَبُ؟ قَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ، وَلَا فِي النَّقِيرِ، وَانْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ؟ قَالَ: «فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ «أَهْرِيقُوهُ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ، أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ، وَالْمَيْسِرُ، وَالْكُوبَةُ» قَالَ: «وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنِ الكُوبَةِ، قَالَ: «الطَّبْلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3696

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دبا، حنتم، نقیر اور جو کی شراب سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣١؛حدیث نمبر؛٣٦٩٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا- مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْجِعَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3697

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی (جب تک چاہو) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ“۔ (ابتدائے اسلام میں لوگ بت پرستی چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خوف سے قبر کی زیارت سے منع فرما دیا کہ کہیں دوبارہ یہ شرک میں گرفتار نہ ہو جائیں لیکن جب عقیدہ توحید لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گیا اور شرک اور توحید کا فرق واضح طور پر دل و دماغ میں رچ بس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ انہیں زیارت قبور کی اجازت دی بلکہ اس کا فائدہ بھی بیان کر دیا کہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٦٩٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعْرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3698

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مخصوص برتنوں سے منع فرمایا تو انصار نے کہا ہمارا ان کے بغیر گزارا نہیں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٦٩٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ، قَالَ: قَالَتْ: الْأَنْصَارُ: إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا قَالَ: «فَلَا إِذَنْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3699

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ برتنوں کا ذکر کیا یعنی دبا حنتم اور نقیر تو ایک دیہاتی نے عرض کی:ہمارے پاس تو ان کے علاوہ کوئی برتن ہی نہیں ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم اس کو پیو جو حلال ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٧٠٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَوْعِيَةَ الدُّبَّاءَ، وَالْحَنْتَمَ، وَالْمُزَفَّتَ، وَالنَّقِيرَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: إِنَّهُ لَا ظُرُوفَ لَنَا فَقَالَ: «اشْرَبُوا مَا حَلَّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3700

یہی روایت ایک اور سند سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں تم اس چیز سے اجتناب کرو جو نشہ کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٧٠١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ: «اجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3701

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جب مشکیزہ نہیں ملتا تھا تو پتھر کے پیالے میں تیار کی جاتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الأَوْعِيَةِ؛شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٢؛حدیث نمبر؛٣٧٠٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ، فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3702

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے، آپ نے تازہ اور کچی کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٣)

بَابٌ فِي الْخَلِيطَيْنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الزَّبِيبُ، وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3703

حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ”ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ“۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّهُ نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ، وَالرُّطَبِ، وَقَالَ، انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ عَلَى حِدَةٍ» قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3704

ابن ابو لیلیٰ ایک صحابی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو ملا کر یا کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٥)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3705

کبشہ بنت ابو مریم بیان کرتی ہے میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز سے منع کرتے تھے،انہوں نے جواب دیا آپ ہمیں اس بات سے منع کرتے تھے کہ ہم کھجور کو اتنا پکائیں کہ اس کی گٹھلی ہی ختم ہو جائے یا ہم کشمش اور جو کو ملا کر نبیذ تیار کریں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ؟ قَالَتْ: «كَانَ يَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا، أَوْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3706

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تھی پھر اس میں کھجور ڈال دی جاتی تھی یا پھر کھجور کی نبیذ تیار کی جاتی تھی اور اس میں کشمش ڈال دی جاتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوَدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقَى فِيهِ تَمْرٌ، وَتَمْرٌ فَيُلْقَى فِيهِ الزَّبِيبُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3707

حضرت صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر (نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں) پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَلِيطَيْنِ؛دوچیزوں کو ملا کر(نبیذ تیار کرنا)؛جلد٣،ص٣٣٣؛حدیث نمبر؛٣٧٠٨)

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، فَقَالَتْ: «كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ، وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ، فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ، فَأَمْرُسُهُ، ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3708

جابر بن زید اور عکرمہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں صرف کچی کھجور کی نبیذ کو مکروہ جانتے تھے، اور انہوں نے یہ رائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حاصل کی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ڈرتا ہوں کہیں یہ «مزاء» نہ ہو جس سے عبدالقیس کو منع کیا گیا تھا ہشام کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے کہا: «مزاء» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حنتم اور مزفت میں تیار کی گئی نبیذ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي نَبِيذِ الْبُسْرِ؛کچی کھجور سے نبیذ بنانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٣٧٠٩)

بَابٌ فِي نَبِيذِ الْبُسْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعِكْرِمَةَ، أَنَّهُمَا كَانَا يَكْرَهَانِ الْبُسْرَ وَحْدَهُ، وَيَأْخُذَانِ ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَخْشَى أَنْ يَكُونَ الْمُزَّاءُ الَّذِي نُهِيَتْ عَنْهُ عَبْدُ القَيْسِ، فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَا الْمُزَّاءُ؟ قَالَ: «النَّبِيذُ فِي الْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3709

حضرت عبداللہ بن دیلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں،ہم کس کے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے پاس“ پھر ہم نے عرض کیا: اے رسول اللہ! ہمارے یہاں انگور ہوتا ہے ہم اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خشک لو“ ہم نے عرض کیا: اس زبیب (سوکھے ہوئے انگور) کو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کو اسے بھگو دو، اور شام کو پی لو، اور جو شام کو بھگوؤ اسے صبح کو پی لو اور چمڑوں کے برتنوں میں اسے بھگویا کرو، مٹکوں اور گھڑوں میں نہیں کیونکہ اگر نچوڑنے میں دیر ہو گی تو وہ سرکہ ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ؛نبیذ کی صفت کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٣٧١٠)

بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيذِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ضَمُرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ فَإِلَى مَنْ نَحْنُ؟ قَالَ: «إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: «زَبِّبُوهَا» قُلْنَا: مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ؟ قَالَ: «انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائِكُمْ، وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ، وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلًّا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3710

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی جس کے اوپری حصے پر ڈوری باندھ دی جاتی تھی اور اس کے نیچے کی طرف بھی سوراخ تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کے وقت نبیذ تیار کی جاتی تھی تو اپ شام کے وقت پی لیتے تھے یا اگر شام کے وقت نبیذ تیار کی جاتی تھی تو آپ صبح پی لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ؛نبیذ کی صفت کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٤؛حدیث نمبر؛٣٧١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ يُنْبَذُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَيُنْبَذُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3711

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح کو نبیذ بھگوتی تھیں تو جب شام کا وقت ہوتا تو آپ شام کا کھانا کھانے کے بعد اسے پیتے، اور اگر کچھ بچ جاتی تو میں اسے پھینک دیتی یا اسے خالی کر دیتی، پھر آپ کے لیے رات میں نبیذ بھگوتی اور صبح ہوتی تو آپ اسے دن کا کھانا تناول فرما کر پیتے۔ وہ کہتی ہیں: مشک کو صبح و شام دھویا جاتا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں: میرے والد (حیان) نے ان سے کہا: ایک دن میں دو بار؟ وہ بولیں: ہاں دو بار۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ؛نبیذ کی صفت کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٥؛حدیث نمبر؛٣٧١٢)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي عَمْرَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا كَانَتْ «تَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً، فَإِذَا كَانَ مِنَ العَشِيِّ فَتَعَشَّى شَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ، وَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ، أَوْ فَرَّغْتُهُ، ثُمَّ تَنْبِذُ لَهُ بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ»، قَالَتْ: يُغْسَلُ السِّقَاءُ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، فَقَالَ لَهَا أَبِي: مَرَّتَيْنِ فِي يَوْمٍ قَالَتْ: نَعَمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3712

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اس دن پیتے، دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے پھر حکم فرماتے تو جو بچا ہوتا اسے خدمت گزاروں کو پلا دیا جاتا یا بہا دیا جاتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خادموں کو پلانے کا مطلب یہ ہے کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے انہیں پلا دیا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ؛نبیذ کی صفت کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٥؛حدیث نمبر؛٣٧١٣)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عُمَرَ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ يُنْبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَى الْخَدَمُ، أَوْ يُهَرَاقُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «مَعْنَى يُسْقَى الْخَدَمُ يُبَادَرُ بِه الْفَسَادَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " أَبُو عُمَرَ: يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3713

عبید بن عمیر کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ خبر دے رہی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے تو ایک روز میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس نے آپ سے ویسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا“ تو قرآن کریم کی آیت: «لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي»(التحریم ١)سے لے کر «إن تتوبا إلى الله»(التحريم ٤)تک حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے متعلق نازل ہوئی۔ «إن تتوبا» میں خطاب حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو ہے اور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا»(التحريم ٣)میں «حديثا» سے مراد آپ کا: «بل شربت عسلا» (بلکہ میں نے شہد پیا ہے) کہنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي شَرَابِ الْعَسَلِ؛شہد کا شربت پینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٥؛حدیث نمبر؛٣٧١٤)

بَابٌ فِي شَرَابِ الْعَسَلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ» فَنَزَلَتْ: {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي} [التحريم: 1] إِلَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ} [التحريم: 4] لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: 3] لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3714

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیزیں اور شہد پسند کرتے تھے، اور پھر انہوں نے اسی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بہت ناگوار لگتا کہ آپ سے کسی قسم کی بو محسوس کی جائے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ سودہ نے کہا: بلکہ آپ نے مغافیر کھائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں نے شہد پیا ہے، جسے حفصہ نے مجھے پلایا ہے“ تو میں نے کہا: شاید اس کی مکھی نے عرفط چاٹا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مغافیر: مقلہ ہے اور وہ گوند ہے، اور جرست: کے معنی چاٹنے کے ہیں، اور عرفط شہد کی مکھی کے پودوں میں سے ایک پودا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي شَرَابِ الْعَسَلِ؛شہد کا شربت پینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٥؛حدیث نمبر؛٣٧١٥)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ»، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْخَبَرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ تُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ: سَوْدَةُ: بَلْ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، قَالَ: «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا سَقَتْنِي حَفْصَةُ» فَقُلْتُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ-. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " الْمَغَافِيرُ: مُقْلَةٌ، وَهِيَ صَمْغَةٌ، وَجَرَسَتْ: رَعَتْ، وَالْعُرْفُطُ: نَبْتٌ مِنْ نَبْتِ النَّحْلِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3715

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے یہ پتہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھا کرتے تھے،ایک مرتبہ میں آپ کے افطاری کے لیے نبیذ لے کر آیا جسے میں نے دبا میں تیار کیا تھا میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس میں کچھ جھاگ بنا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اس دیوار پر دے مارو کیونکہ یہ اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي النَّبِيذِ إِذَا غَلِيَ؛جب نبیذ میں تیزی پیدا ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧١٦)

بَابٌ فِي النَّبِيذِ إِذَا غَلَى حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: «اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطِ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3716

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ادمی کھڑا ہو کر کچھ پیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشُّرْبِ قَائِمًا؛کھڑے ہو کر کچھ پینا؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧١٧)

بَابٌ فِي الشُّرْبِ قَائِمًا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3717

حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اسے کھڑے ہو کر پیا اور کہا: بعض لوگ ایسا کرنے کو مکروہ اور ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے کرتے دیکھا ہے۔ (پچھلی حدیث میں جو فرمان ہے وہ عام اوقات کے لئے ہے اور اس حدیث میں صرف جواز کی بات ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشُّرْبِ قَائِمًا؛کھڑے ہو کر کچھ پینا؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧١٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبُرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، «دَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ» ثُمَّ، قَالَ: إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْعَلَ هَذَا، وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي أَفْعَلُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3718

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے،منہ لگا کر پینے سے اور گندگی کھانے والے جانور پر سوار ہونے سے،اور جانور کو باندھ کر نشانہ بازی کرنے سے منع کیا ہے۔ امام داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:"جلالۃ"وہ جانور ہے جو گندگی کھاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب الشَّرَابِ مِنْ فِي السِّقَاءِ؛مشک کے منہ سے پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧١٩)

بَابُ الشَّرَابِ مِنْ فِي السِّقَاءِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَعَنْ رُكُوبِ الْجَلَّالَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " الْجَلَّالَةُ: الَّتِي تَأْكُلُ الْعَذْرَةَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3719

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کا منہ الٹ کر پینے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ؛مشکیزے کا منہ الٹ کر اس سے پینا؛جلد٣،ص٣٣٦؛حدیث نمبر؛٣٧٢٠)

بَابٌ فِي اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3720

عیسی بن عبداللہ جو ایک انصاری شخص ہیں وہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: غزوہ احد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ منگوایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے منہ کو الٹا دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پی لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ؛مشکیزے کا منہ الٹ کر اس سے پینا؛جلد٣،ص٣٣٧؛حدیث نمبر؛٣٧٢١)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعَا بِإِدَاوَةٍ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: «اخْنِثْ فَمَ الْإِدَاوَةِ ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3721

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے اور مشروب میں پھونکنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ؛پیالہ میں ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٧؛حدیث نمبر؛٣٧٢٢)

بَابٌ فِي الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3722

ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت  حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک دہقان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور دیباج پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: ”یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ؛سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٧؛حدیث نمبر؛٣٧٢٣)

بَابٌ فِي الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ بِهِ إِلَّا أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: «هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3723

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس آئے وہ اپنے باغ کو پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی ہو تو بہتر ہے، ورنہ ہم(بہتے ہوئے پانی میں سے) پی لیتے ہیں“ اس نے عرض کی:جی ہاں!میرے پاس مشکیزہ میں رات کا باسی پانی موجود ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْكَرْعِ؛(چشمے یا نہر وغیرہ میں سے)پانی پینا؛جلد٣،ص٣٣٧؛حدیث نمبر؛٣٧٢٤)

بَابٌ فِي الْكَرْعِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ، وَإِلَّا كَرَعْنَا» قَالَ: بَلْ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3724

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں خود پیے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ؛پلانے والا خود کب پئے گا؟؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٥)

بَابٌ فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3725

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسے پی لیا پھر دیہاتی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا دائیں طرف والے کا حق پہلے ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ؛پلانے والا خود کب پئے گا؟؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ: «الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3726

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ پیتے تھے تو درمیان میں تین دفعہ سانس لیتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے،اس طرح پیاس بجھتی ہے،ہضم ہوتا ہے اور تندرستی کا باعث ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ؛پلانے والا خود کب پئے گا؟؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٧)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: هُوَ أَهْنَأُ، وَأَمْرَأُ، وَأَبْرَأُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3727

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ برتن میں سانس لیا جائے،یا اس میں پھونک ماری جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ؛پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٨)

بَابٌ فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ، أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3728

حضرت عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس(ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔)کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» ”اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ؛پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٢٩)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ، وَأَكَلَ تَمْرًا فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَى، فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3729

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوک پھینکا، تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے اس سے آپ کو کراہت ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئیے «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» ”اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» ”اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے“ کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ؛پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٣٨؛حدیث نمبر؛٣٧٣٠)

بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا شَرِبَ اللَّبَنَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَجَاءُوا بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ عَلَى ثُمَامَتَيْنِ، فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خَالِدٌ: إِخَالُكَ تَقْذُرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ «أَجَلْ» ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَزِدْنَا مِنْهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3730

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ اس پر کوئی لکڑی رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٩؛حدیث نمبر؛٣٧٣١)

بَابٌ فِي إِيكَاءِ الْآنِيَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَطْفِ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3731

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہیں تاہم یہ مکمل نہیں اس میں یہ الفاظ ہیں:کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا، بند منہ والا مشکیزہ نہیں کھولتا اور برتن پر رکھی ہوئی چیز نہیں ہٹاتا اور چوہا بعض اوقات لوگوں کے گھر کو جلا دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٩؛حدیث نمبر؛٣٧٣٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ، قَالَ: «فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا غَلَقًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ» أَوْ «بُيُوتَهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3732

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے) "عشاء کے وقت(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)شام کے وقت اپنے بچوں کو گھروں میں بند رکھو کیونکہ اس وقت میں جنات پھیل جاتے ہیں اور اچک لیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٣٩؛حدیث نمبر؛٣٧٣٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَهُ قَالَ: " وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ - وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عِنْدَ الْمَسَاءِ - فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3733

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (کوئی مضائقہ نہیں)“ تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3734

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میٹھا پانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیہ کے گھروں سے لایا جاتا تھا۔ قتیبہ کہتے ہیں:یہ ایک چشمے کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے دو دن کی مسافت پر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛مشروبات سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ؛برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٥)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا»، قَالَ قُتَيْبَةُ: «هِيَ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Ashreba, Hadees No. 3735

Abu Dawood Shareef : Kitabul Ashreba

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْأَشْرِبَةِ

|

•