asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Atyemate

From 3736 to 3854

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"جب کسی شخص کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں شریک ہو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٦)

كِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3736

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں:اگر اس نے روزہ نہ رکھا ہوا ہو تو کھانا کھا لے اور اگر روزہ رکھا ہوا ہو تو میزبان کے لیے دعا کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٧)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَعْنَاهُ زَادَ «فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3737

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو کوئی دعوت دے تو اس سے(یعنی دوسرے شخص)کو دعوت قبول کر لینی چاہیے خواہ وہ شادی کی دعوت ہو یا اس کی مانند کوئی اور ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3738

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٠؛حدیث نمبر؛٣٧٣٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِ أَيُّوبَ وَمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3739

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"جس شخص کو دعوت دی جائے اسے قبول کرنی چاہیے اگر وہ چاہے تو کھانا کھا لے اگر چاہے نہ کھائے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3740

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص کو دعوت دی جائے اور وہ اس کو قبول نہ کرے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو جو شخص دعوت کے بغیر چلا جائے تو وہ چور کے طور پر داخل ہوا اور لٹیرے کے طور پر باہر نکلا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ مَجْهُولٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3741

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:سب سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے جس میں خوشحال لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ؛دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3742

ثابت کہتے ہی: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اسْتِحْبَابِ الْوَلِيمَةِ عِنْدَ النِّكَاحِ؛نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٣)

بَابٌ فِي اسْتِحْبَابِ الْوَلِيمَةِ عِنْدَ النِّكَاحِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3743

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اسْتِحْبَابِ الْوَلِيمَةِ عِنْدَ النِّكَاحِ؛نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٤)

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِهِ، بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزَّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ، وَتَمْرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3744

عبداللہ بن عثمان ثقفی بنو ثقیف کے ایک کانے شخص سے روایت کرتے ہیں(جسے اس کی بھلائیوں کی وجہ سے معروف کہا جاتا تھا، یعنی خیر کے پیش نظر اس کی تعریف کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا نام تھا) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ پہلے روز حق ہے، دوسرے روز بہتر ہے، اور تیسرے روز شہرت و ریاکاری ہے“۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کو پہلے دن دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کیا اور دوسرے روز بھی دعوت دی گئی تو اسے بھی قبول کیا اور تیسرے روز دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور کہا: (دعوت دینے والے) نام و نمود والے اور ریا کار لوگ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي كَمْ تُسْتَحَبُّ الْوَلِيمَةُ؛دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے؟؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٥)

بَابٌ فِي كَمْ تُسْتَحَبُّ الْوَلِيمَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ - رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ كَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفًا أَيْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا إِنْ لَمْ يَكُنِ اسْمُهُ - زُهَيْرُ بْنُ عُثْمَانَ فَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ، وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ» قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ دُعِيَ أَوَّلَ يَوْمٍ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّانِيَ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ، وَقَالَ: «أَهْلُ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3745

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں"اگر تیسرے دن نہیں بلایا جاتا تھا تو وہ قبول نہیں کرتے تھے اور پیغام لانے والے کو کنکر مارتے تھے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي كَمْ تُسْتَحَبُّ الْوَلِيمَةُ؛دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے؟؛جلد٣،ص٣٤١؛حدیث نمبر؛٣٧٤٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ، وَحَصَبَ الرَّسُولَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3746

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ(راوی کو شک ہے شاید)ایک گائے ذبح کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب الإِطْعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ مِنَ السَّفَرِ؛سفر سے آنے پر کھانا کھلانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٢؛حدیث نمبر؛٣٧٤٧)

بَابُ الْإِطْعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ مِنَ السَّفَرِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، نَحَرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3747

حضرت ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیئے،اہتمام کے ساتھ اس کی دعوت ایک دن اور ایک رات ہے اور عام مہمان نوازی تین دن ہوگی،اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٢؛حدیث نمبر؛٣٧٤٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتُهُ يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ، الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ قَالَ: وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ» قَالَ: يُكْرِمُهُ وَيُتْحِفُهُ، وَيَحْفَظُهُ، يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ضِيَافَةً

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3748

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"میزبانی تین دن ہوتی ہے جو اس کے علاوہ ہو وہ صدقہ ہو گی" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٢؛حدیث نمبر؛٣٧٤٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3749

حضرت ابو کریمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:ایک رات کی مہمان نوازی ہر مسلمان پر لازم ہے جو شخص اس کے صحن میں اترتا ہے،تو یہ مہمان نمازی اس کے ذمے قرض ہوتی ہے،اگر وہ چاہے تو اس کو اصول کر لے چاہے تو ترک کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٢؛حدیث نمبر؛٣٧٥٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْلَةُ الضَّيْفِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ، إِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3750

حضرت مقدام ابو کریمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص کسی کا مہمان ہو پھر وہ مہمان محروم رہے تو اس کی مدد کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے،یہاں تک کہ وہ شخص اس کے کھیت اور مال میں سے ایک رات کی خوراک حاصل کرے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٣؛حدیث نمبر؛٣٧٥١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْجُودِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَضَافَ قَوْمًا، فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا، فَإِنَّ نَصْرَهُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، حَتَّى يَأْخُذَ بِقِرَى لَيْلَةٍ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3751

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں (جہاد یا کسی دوسرے کام کے لیے) بھیجتے ہیں تو (بسا اوقات) ہم کسی قوم میں اترتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم میں جاؤ اور وہ لوگ تمہارے لیے ان چیزوں کا انتظام کر دیں جو مہمان کے لیے مناسب ہوتی ہے تو اسے تم قبول کرو اور اگر وہ نہ کریں تو ان سے مہمانی کا حق جو ان کے حسب حال ہو لے لو"۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے دلیل ہے جس کا حق کسی کے ذمہ ہو تو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ؛ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٣؛حدیث نمبر؛٣٧٥٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَمَا يَقْرُونَنَا، فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَهَذِهِ حُجَّةٌ لِلرَّجُلِ يَأْخُذُ الشَّيْءَ إِذَا كَانَ لَهُ حَقًّا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3752

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ:" اور اپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طور پر نہ کھاؤ البتہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت ہو تو حکم مختلف ہوگا"(سورۃ النساء: ۲۹) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت:" تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے گھروں میں سے کھاتے ہو"( سورۃ النساء: ۶۱) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب نَسْخِ الضَّيْفِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ غَيْرِهِ؛دوسرے کے مال سے مہمان نوازی کی حرمت جو سورۃ نساء میں تھی وہ سورۃ النور کی آیت سے منسوخ ہو گئی؛جلد٣،ص٣٤٣؛حدیث نمبر؛٣٧٥٣)

بَابُ نَسْخِ الضَّيْفِ يَأْكُلُ مَنْ مَالِ غَيْرِهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: 29] " فَكَانَ الرَّجُلُ يَحْرَجُ أَنْ يَأْكُلَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَنَسَخَ ذَلِكَ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ {أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ} [النور: 61] إِلَى قَوْلِهِ {أَشْتَاتًا} [النور: 61] كَانَ الرَّجُلُ الْغَنِيُّ يَدْعُو الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِهِ إِلَى الطَّعَامِ، قَالَ: إِنِّي لَأَجَّنَّحُ أَنْ آكُلَ مِنْهُ، وَالتَّجَنُّحُ: الْحَرَجُ، وَيَقُولُ: الْمِسْكِينُ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي، فَأُحِلَّ فِي ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأُحِلَّ طَعَامُ أَهْلِ الْكِتَابِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3753

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقابلے بازی میں کھانا کھلانے والوں کا کھانا کھانے سے منع کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: جریر سے روایت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کرتے ہیں نیز ہارون نحوی نے بھی اس میں ابن عباس کا ذکر کیا ہے اور حماد بن زید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ؛جو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھانا کھلائیں تو ان کے یہاں کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٤٤؛حدیث نمبر؛٣٧٥٤)

بَابٌ فِي طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «أَكْثَرُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ جَرِيرٍ لَا يَذْكُرُ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ»، وَهَارُونُ النَّحْوِيُّ، ذَكَرَ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَيْضًا وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3754

سفینہ ابوعبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا (اور بھیج دیا) تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چنانچہ انہوں نے آپ کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے چوکھٹ پر رکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے، (یہ دیکھ کر) آپ لوٹ گئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں؟ (علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی نقش و نگار والے گھر میں داخل ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يُدْعَى فَيَرَى مَكْرُوهًا؛غیر شرعی امور کی موجودگی میں دعوت میں شرکت کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٤؛حدیث نمبر؛٣٧٥٥)

بَابُ إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ إِذَا حَضَرَهَا مَكْرُوهٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَجُلًا، أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ: فَاطِمَةُ لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعُوهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لِعَلِيٍّ الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَدَّكَ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3755

حمید بن عبد الرحمن حمیری ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛ باب إِذَا اجْتَمَعَ دَاعِيَانِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ؛جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے؛جلد٣،ص٣٤٤؛حدیث نمبر؛٣٧٥٦)

بَابٌ إِذَا اجْتَمَعَ دَاعِيَانِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا، فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبَهُمَا جِوَارًا، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3756

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو (نماز کے لیے) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ (کھانے سے) فارغ ہو لے“۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا رکھ دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَالْعَشَاءُ؛جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٥٧)

بَابٌ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَالْعَشَاءُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى - قَالَ أَحْمَدُ - حَدَّثَنِي يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ» زَادَ مُسَدَّدٌ: «وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُهُ، أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ، لَمْ يَقُمْ حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ، وَإِنْ سَمِعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3757

امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے والد(امام محمد باقر رحمت اللہ تعالی علیہ)کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "نماز کو کھانے یا کسی اور وجہ سے مؤخر نہ کیا جائے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَالْعَشَاءُ؛جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا تُؤَخَّرُ الصَّلَاةُ لِطَعَامٍ وَلَا لِغَيْرِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3758

عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے کھانا کھالینا چاہیے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: افسوس ہے تم پر، ان کا شام کا کھانا ہی کیا تھا؟ کیا تم اسے اپنے والد کے کھانے کی طرح سمجھتے ہو؟۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَالْعَشَاءُ؛جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٥٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنَّا سَمِعْنَا أَنَّهُ، يُبْدَأُ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «وَيْحَكَ مَا كَانَ عَشَاؤُهُمْ أَتُرَاهُ كَانَ مِثْلَ عَشَاءِ أَبِيكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3759

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے تشریف لائے، آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا،لوگوں نے عرض کی: آپ وضو نہیں کریں گے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے اٹھوں"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي غَسْلِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الطَّعَامِ؛کھانے کے وقت دونوں ہاتھ دھونے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٦٠)

بَابٌ فِي غَسْلِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الخَلَاءِ فَقُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ فَقَالَ: «إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3760

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے توریت میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی“۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي غَسْلِ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٥؛حدیث نمبر؛٣٧٦١)

بَابٌ فِي غَسْلِ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ، وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ»، وَكَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ الْوُضُوءَ قَبْلَ الطَّعَامِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ ضَعِيفٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3761

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی کی طرف سے تشریف لائے،آپ نے قضائے حاجت کی تھی ہمارے سامنے ڈھال پر کھجوریں رکھی ہوئی تھی ہم نے آپ کو دعوت دی تو آپ نے ہمارے ساتھ کھانا کھایا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو چھوا نہیں (یعنی وضو نہیں کیا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَعَامِ الْفُجَاءَةِ؛اچانک کھانا؛جلد٣،ص٣٤٦؛حدیث نمبر؛٣٧٦٢)

بَابٌ فِي طَعَامِ الْفُجَاءَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْنِي سَعَيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: «أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شِعْبٍ مِنَ الْجَبَلِ وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ، وَبَيْنَ أَيْدِينَا تَمْرٌ عَلَى تُرْسٍ أَوْ حَجَفَةٍ، فَدَعَوْنَاهُ، فَأَكَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَاءً»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3762

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا تھا اگر آپ کو کچھ کھانے کی خواہش ہوتی تو کھا لیتے تھے اگر کوئی چیز ناپسند ہوتی تو چھوڑ دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَعَامِ الْفُجَاءَةِ؛اچانک کھانا؛جلد٣،ص٣٤٦؛حدیث نمبر؛٣٧٦٣)

بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ ذَمِّ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3763

حضرت وحشی بن حرب حبشی حمصی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مل کر اور بسم اللہ کر کے (اللہ کا نام لے کر) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہو گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب تم کسی ولیمہ میں ہو اور کھانا رکھ دیا جائے تو گھر کے مالک (میزبان) کی اجازت کے بغیر کھانا نہ کھاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛کھانے کے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي طَعَامِ الْفُجَاءَةِ؛اچانک کھانا؛جلد٣،ص٣٤٦؛حدیث نمبر؛٣٧٦٤)

بَابٌ فِي الِاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «إِذَا كُنْتَ فِي وَلِيمَةٍ فَوُضِعَ الْعَشَاءُ فَلَا تَأْكُلْ حَتَّى يَأْذَنَ لَكَ صَاحِبُ الدَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3764

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٦؛حدیث نمبر؛٣٧٦٥)

بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يُذْكَرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3765

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی (دیہاتی) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اور فرمایا: ”شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہو جاتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اور بلاشبہ اس اعرابی کو شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے میں شریک ہو جائے، اس لیے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اور اس لڑکی کو بھی شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ اپنا کھانا حلال کر لے، اس لیے میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٧؛حدیث نمبر؛٣٧٦٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ يَضَعْ أَحَدُنَا يَدَهُ حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ، فَذَهَبَ لِيَضَعَ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ جَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ، فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا، وَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ الَّذِي لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ يَسْتَحِلُّ بِهِ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَجَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ لَفِي يَدِي مَعَ أَيْدِيهِمَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3766

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں (اللہ کا نام) بسم اللہ بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے ”بسم الله أوله وآخره“ (اس کی ابتداء و انتہاء دونوں اللہ کے نام سے)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٧؛حدیث نمبر؛٣٧٦٧)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ - امْرَأَةٍ، مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا - أُمُّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3767

مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی اپنے چچا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے بسم اللہ نہیں کیا یہاں تک کہ اس کا کھانا صرف ایک لقمہ رہ گیا تھا جب اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو کہا: ”اس کی ابتداء اور انتہاء اللہ کے نام سے“ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”شیطان اس کے ساتھ برابر کھاتا رہا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے قے کر دی"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ؛کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٧؛حدیث نمبر؛٣٧٦٨)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ عَمِّهِ أُمَيَّةَ بْنِ مَخْشِيٍّ - وَكَانَ مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يَأْكُلُ فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ إِلَّا لُقْمَةٌ فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ، فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنِهِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ جَدُّ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3768

حضرت جحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مُتَّكِئًا؛ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٦٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَكْلِ مُتَّكِئًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا آكُلُ مُتَّكِئًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3769

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمیوں کو چلتے دیکھا گیا (بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیچ میں یا سب سے پیچھے چلا کرتے تھے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مُتَّكِئًا؛ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٧٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3770

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا جب میں واپس ایا تو میں نے اپ کو کھجوریں کھاتے ہوئے دیکھا اپ اس وقت ایک اقعاء طور پر بیٹھے ہوئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مُتَّكِئًا؛ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٧١)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ «يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3771

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ؛ الے کے اوپری حصے میں سے کھانا؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٧٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَكْلِ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ، وَلَكِنْ لِيَأْكُلْ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3772

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا برتن جسے غراء کہا جاتا تھا، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ برتن لایا گیا، یعنی اس میں ثرید بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہو گئے، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنے ٹیک لئے ایک اعرابی نے کہا :یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے نرم بندہ بنایا ہے، مجھے متکبر و سرکش نہیں بنایا ہے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ؛ الے کے اوپری حصے میں سے کھانا؛جلد٣،ص٣٤٨؛حدیث نمبر؛٣٧٧٣)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا الْغَرَّاءُ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ - يَعْنِي وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا - فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا، وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا، يُبَارَكْ فِيهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3773

سالم اپنے والد(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما)کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے کھانے سے منع کیا ہے ایک یہ کہ آدمی ایسے دسترخوان پر بیٹھے جہاں شراب پی جاتی ہو اور یہ کہ آدمی پیٹ کے بل اوندھا لیٹ کر کھانا کھائے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت جعفر نے زہری سے نہیں سنی ہے یہ روایت منکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَا يُكْرَهُ؛ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا جس میں کچھ ناپسندیدہ چیزیں ہوں؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَا يُكْرَهُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَطْعَمَيْنِ: عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ جَعْفَرٌ، مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ مُنْكَرٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3774

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ زہری سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَا يُكْرَهُ؛ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا جس میں کچھ ناپسندیدہ چیزیں ہوں؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٥)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3775

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جب کوئی شخص کھائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور پئے تو بائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب الأَكْلِ بِالْيَمِينِ؛دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٦)

بَابُ الْأَكْلِ بِالْيَمِينِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3776

حضرت عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اے میرے بیٹے!میرے قریب ہو جاؤ،اللہ تعالی کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے اگے سے کھاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب الأَكْلِ بِالْيَمِينِ؛دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْنُ بُنَيَّ فَسَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3777

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ؛گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٤٩؛حدیث نمبر؛٣٧٧٨)

بَابٌ فِي أَكْلِ اللَّحْمِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الْأَعَاجِمِ، وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3778

حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور اپنے ہاتھ سے گوشت کو ہڈی سے جدا کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہڈی اپنے منہ کے قریب کرو (اور گوشت دانت سے نوچ کر کھاؤ) کیونکہ یہ زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے صفوان سے نہیں سنا ہے اور یہ مرسل (یعنی: منقطع) ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ؛گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٧٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآخُذُ اللَّحْمَ بِيَدِي مِنَ الْعَظْمِ، فَقَالَ: «أَدْنِ الْعَظْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «عُثْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ وَهُوَ مُرْسَلٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3779

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ہڈی پسند تھی جو بکری کی ہو اور اس پر سے(زیادہ گوشت اتارا جا چکا ہو اور تھوڑاموجود ہو) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ؛گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٨٠)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «كَانَ أَحَبُّ الْعُرَاقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرَاقَ الشَّاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3780

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی پسند تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر بھی دستی کے گوشت میں دیا گیا تھا لوگ یہ بیان کرتے ہیں یہودیوں نے آپ کو زہر دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ؛گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٨١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ» قَالَ: «وَسُمَّ فِي الذِّرَاعِ وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3781

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ؛کدو کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٨٢)

بَابٌ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمَئِذٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3782

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ کھانا روٹی سے بنا ہوا ثرید اور حیس کا ثرید تھا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثَّرِيدِ:ثرید کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٠؛حدیث نمبر؛٣٧٨٣)

بَابٌ فِي أَكْلِ الثَّرِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ، مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدُ مِنَ الْخُبْزِ، وَالثَّرِيدُ مِنَ الحَيْسِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ ضَعِيفٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3783

قبیصہ بن ہلب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی ایسی چیز تمہارے ذہن میں شبہ نہ ڈالے ورنہ اس میں نصرانیت کی آمیزش کی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ التَّقَذُّرِ لِلطَّعَامِ؛کھانے سے گھن کرنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٤)

بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ التَّقَذُّرِ لِلطَّعَامِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ، فَقَالَ: «لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3784

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ، وَأَلْبَانِهَا؛گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٥)

بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3785

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست کھانے والے جانور کا دودھ پینے سے منع کیا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ، وَأَلْبَانِهَا؛گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3786

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست کھانے والے جانور پر سواری کرنے اور نجاست کھانے والی اونٹنی کا دودھ پینے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ، وَأَلْبَانِهَا؛گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَهْمٍ، حَدَّثَنَا عُمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الجَلَّالَةِ فِي الْإِبِلِ: أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا، أَوْ يُشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3787

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ خیبر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا،البتہ اپ نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٨)

بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَذِنَ لَنَا فِي لُحُومِ الْخَيْلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3788

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:غزوہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑے،گدھے اور خچر ذبح کیے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (خچروں اور گدھوں)کا گوشت کھانے سے منع کر دیا البتہ آپ نے ہمیں گھوڑوں(کا گوشت کھانے)سے منع نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٨٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ -جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَالْبِغَالَ، وَالْحَمِيرَ، «فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ البِغَالِ، وَالْحَمِيرِ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3789

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ ایک راوی نے یہ ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥١؛حدیث نمبر؛٣٧٩٠)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَيْوَةُ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ»، زَادَ حَيْوَةُ: «وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «لَا بَأْسَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ، وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " وَهَذَا مَنْسُوخٌ قَدْ أَكَلَ لُحُومَ الْخَيْلِ جَمَاعَةٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ: ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وسُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ، وَعَلْقَمَةُ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْبَحُهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3790

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں ایک کم عمر مضبوط جسم کا لڑکا تھا،میں نے خرگوش کا شکار کیا میں نے اسے بھون لیا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نچلا دھڑ میرے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بھیجا،میں اسے لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کر لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الأَرْنَبِ؛خرگوش کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٢؛حدیث نمبر؛٣٧٩١)

بَابٌ فِي أَكْلِ الْأَرْنَبِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا حَزَوَّرًا فَصِدْتُ أَرْنَبًا فَشَوَيْتُهَا، فَبَعَثَ مَعِي أَبُو طَلْحَةَ بِعَجُزِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَبِلَهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3791

محمد بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خالد بن حویرث کو کہتے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما صفاح میں تھے (محمد (محمد بن خالد) کہتے ہیں: وہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے) ایک شخص ان کے پاس خرگوش شکار کر کے لایا، اور کہنے لگا: عبداللہ بن عمرو! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی اس کے کھانے سے منع فرمایا، راوی نے یہ بات بیان کی:کہ خرگوش(یعنی مادہ خرگوش کو)حیض آتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الأَرْنَبِ؛خرگوش کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٢؛حدیث نمبر؛٣٧٩٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي خَالِدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ، يَقُولُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَانَ بِالصِّفَاحِ قَالَ: مُحَمَّدٌ مَكَانٌ بِمَكَّةَ وَإِنَّ رَجُلًا جَاءَ بِأَرْنَبٍ قَدْ صَادَهَا فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا تَقُولُ: قَالَ: «قَدْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ فَلَمْ يَأْكُلْهَا، وَلَمْ يَنْهَ عَنْ أَكْلِهَا، وَزَعَمَ أَنَّهَا تَحِيضُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3792

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو نہیں کھایا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہیں کھایا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ؛گوہ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٣؛حدیث نمبر؛٣٧٩٣)

بَابٌ فِي أَكْلِ الضَّبِّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ خَالَتَهُ، أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمْنًا، وَأَضُبًّا، وَأَقِطًا، «فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ، وَمِنَ الأَقِطِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ، تَقَذُّرًا» وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3793

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں لیکن یہ میرے علاقے کی خوراک نہیں ہے اس لئے میں اس سے بچتا ہوں“۔ (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ؛گوہ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٣؛حدیث نمبر؛٣٧٩٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ، فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3794

حضرت ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لشکر میں تھے کہ ہم نے کئی گوہ پکڑے، میں نے ان میں سے ایک کو بھونا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے زمین میں چوپایا بنا دیا گیا لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کون سا جانور ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو کھایا اور نہ ہی اس سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ؛گوہ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٣؛حدیث نمبر؛٣٧٩٥)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتٍ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي جَيْشٍ فَأَصَبْنَا ضِبَابًا، قَالَ: فَشَوَيْتُ مِنْهَا ضَبًّا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ عُودًا فَعَدَّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ «إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ» قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3795

حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ؛گوہ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر؛٣٧٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لَحْمِ الضَّبِّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3796

بریہ بن عمر اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا(حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ)کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حبارا(پانی کی چڑیا)کا گوشت کھایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لَحْمِ الْحُبَارَ:حبارا کا گوشت کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر؛٣٧٩٧)

بَابٌ فِي أَكْلِ لَحْمِ الْحُبَارَى حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي بُرَيْهُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3797

ملقام بن تلب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں میں نے حشرات الارض کے حرام ہونے کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ حَشَرَاتِ الأَرْضِ؛زمین پر موجود کیڑوں مکوڑوں کے کھانے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر؛٣٧٩٨)

بَابٌ فِي أَكْلِ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ حَجْرَةَ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَةِ الْأَرْضِ تَحْرِيمًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3798

نمیلہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپ سے سیہی(بڑے چوہے کی مانند ایک جانور جس کے پورے بدن پر کانٹے ہوتے ہیں۔) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی:(ترجمہ)”اے نبی! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا“ ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے“۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ حَشَرَاتِ الأَرْضِ؛زمین پر موجود کیڑوں مکوڑوں کے کھانے کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر؛٣٧٩٩)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ، فَتَلَا {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} الْآيَةَ، قَالَ: قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ» فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا فَهُوَ كَمَا قَالَ مَا لَمْ نَدْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3799

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ”آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا“ اخیر تک پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب مَا لَمْ يُذْكَرْ تَحْرِيمُهُ؛ایسی چیزوں کا بیان جن کی حرمت مذکور نہیں؛جلد٣،ص٣٥٤؛حدیث نمبر:٣٨٠٠)

بَابُ مَا لَمْ يُذْكَرْ تَحْرِيمُهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ الْمَكِّيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا،» فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ " وَتَلَا {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3800

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبع کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا یہ ایک شکار ہے اگر احرام والا شخص اس کا شکار کرتا ہے تو اس میں دنبے کی ادائیگی لازم ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الضَّبُعِ؛لکڑ بگڑکھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠١)

بَابٌ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: «هُوَ صَيْدٌ وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشٌ إِذَا صَادَهُ الْمُحْرِمُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3801

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نو کیلے دانتوں والے درندے(کا گوشت کھانے)سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠٢)

بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3802

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نو کیلے دانتوں والے درندے اور نوکیلے پنجوں والے پرندے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3803

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار!دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا ملنے والا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا لَا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ، وَلَا اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3804

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر نوکیلے دانتوں والے درندے اور نوکیلے پنجوں والے پرندے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٥؛حدیث نمبر:٣٨٠٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3805

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے غزوہ خیبر میں شرکت کی، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے لوگوں نے ان کے مال مویشیوں کو لوٹ لیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٦؛حدیث نمبر:٣٨٠٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَأَتَتِ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى حَظَائِرِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَهْلِيَّةِ، وَخَيْلُهَا، وَبِغَالُهَا، وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3806

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے(منع کیا ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ؛درندوں کا گوشت کھانے کی ممانعت؛جلد٣،ص٣٥٦؛حدیث نمبر:٣٨٠٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرِّ "، قَالَ: ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَكْلِ الْهِرِّ، وَأَكْلِ ثَمَنِهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3807

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر»(سمندر)نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؛پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کا حکم؛جلد٣،ص٣٥٦؛حدیث نمبر:٣٨٠٨)

بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنْ جَابِرِ بَنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ»، " قَالَ عَمْرٌو: فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَاءِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا، وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3808

حضرت غالب بن ابجر کہتے ہیں ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آ پکڑا ہے اور ہمارے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اہل و عیال کو اپنے موٹے گدھے کھلاؤ میں نے انہیں گاؤں گاؤں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے“ یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن سے مراد ابن معقل ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابوالحسن سے، عبید نے عبدالرحمٰن بن معقل سے عبدالرحمٰن بن معقل نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؛پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کا حکم؛جلد٣،ص٣٥٦؛حدیث نمبر:٣٨٠٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، قَالَ: أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي شَيْءٌ أُطْعِمُ أَهْلِي إِلَّا شَيْءٌ مِنْ حُمُرٍ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنَا السَّنَةُ وَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي مَا أُطْعِمُ أَهْلِي إِلَّا سِمَانُ الْحُمُرِ، وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ «أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ حُمُرِكَ، فَإِنَّمَا حَرَّمْتُهَا مِنْ أَجْلِ جَوَّالِ الْقَرْيَةِ» يَعْنِي الْجَلَّالَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " عَبْدُ الرَّحْمَنِ: هَذَا هُوَ ابْنُ مَعْقِلٍ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّ سَيِّدَ مُزَيْنَةَ أَبْجَرَ أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3809

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں راوی کا نام حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؛پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کا حکم؛جلد٣،ص٣٥٧؛حدیث نمبر:٣٨١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا عَنِ الْآخَرِ أَحَدُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ وَالْآخَرُ غَالِبُ بْنُ الْأَبْجَرِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3810

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:غزوہ خیبر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے اور گندگی کھانے والے جانوروں کو گوشت کھانے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرما دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ؛پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کا حکم؛جلد٣،ص٣٥٧؛حدیث نمبر:٣٨١١)

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الجَلَّالَةِ، عَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لَحْمِهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3811

ابویعفور کہتے ہیں میں نے حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الْجَرَادِ؛ٹڈی کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٧؛حدیث نمبر:٣٨١٢)

بَابٌ فِي أَكْلِ الْجَرَادِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ، أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، فَكُنَّا نَأْكُلُهُ مَعَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3812

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے، سلیمان نے ابوعثمان سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے (یعنی مرسلاً روایت کی ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الْجَرَادِ؛ٹڈی کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٧؛حدیث نمبر:٣٨١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: «أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ، لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3813

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جس میں یہ الفاظ ہیں): ”اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے“۔ علی کہتے ہیں: ان کا یعنی ابوالعوام کا نام فائد ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ابوالعوام سے ابوالعوام نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الْجَرَادِ؛ٹڈی کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٨؛حدیث نمبر:٣٨١٤)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فَقَالَ، مِثْلَهُ، فَقَالَ: «أَكْثَرُ جُنْدِ اللَّهِ» قَالَ عَلِيٌّ: اسْمُهُ فَائِدٌ، يَعْنِي أَبَا الْعَوَّامِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3814

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جانور سمندر باہر پھینک دے یا جو جانور پانی کے پیچھے ہٹ جانے کی صورت میں زمین پر رہ جائے اسے تم کھا لو اور جو پانی کے اندر مر جائے اور پھر اوپر آجائے اسے تم نہ کھاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: «عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي أَكْلِ الطَّافِي مِنَ السَّمَكِ؛مر کر پانی کے اوپر آ جانے والی مچھلی کا کھانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٥٨؛حدیث نمبر:٣٨١٥)

بَابٌ فِي أَكْلِ الطَّافِي مَنِ السَّمَكِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلَ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَلْقَى الْبَحْرُ، أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ، وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا، فَلَا تَأْكُلُوهُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَيُّوبُ، وَحَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَوْقَفُوهُ عَلَى جَابِرٍ وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3815

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ حرہ میں قیام کیا، تو ایک شخص نے اس سے کہا: میری ایک اونٹنی کھو گئی ہے اگر تم اسے پانا تو اپنے پاس رکھ لینا، اس نے اسے پا لیا لیکن اس کے مالک کو نہیں پاسکا پھر وہ بیمار ہو گئی، تو اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر ڈالو، لیکن اس نے انکار کیا، پھر اونٹنی مر گئی تو اس کی بیوی نے کہا: اس کی کھال نکال لو تاکہ ہم اس کی چربی اور گوشت سکھا کر کھا سکیں، اس نے کہا: جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہیں لیتا ایسا نہیں کر سکتا چنانچہ وہ آپ کے پاس آیا اور اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی اور چیز ہے جو تجھے (مردار کھانے سے) بے نیاز کرے“ اس شخص نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کھاؤ“۔ راوی کہتے ہیں: اتنے میں اس کا مالک آ گیا، تو اس نے اسے سارا واقعہ بتایا تو اس نے کہا: تو نے اسے کیوں نہیں ذبح کر لیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم محسوس کی (اور بغیر اجازت ایسا کرنا میں نے مناسب نہیں سمجھا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَيْتَةِ؛مردار کھانے پر مجبور ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٨؛حدیث نمبر:٣٨١٦)

بَابٌ فِي الْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَيْتَةِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا، نَزَلَ الْحَرَّةَ وَمَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ نَاقَةً لِي ضَلَّتْ فَإِنْ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا فَوَجَدَهَا، فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبَهَا فَمَرِضَتْ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْحَرْهَا فَأَبَى فَنَفَقَتْ فَقَالَتْ: اسْلُخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ شَحْمَهَا، وَلَحْمَهَا، وَنَأْكُلَهُ، فَقَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ «هَلْ عِنْدَكَ غِنًى يُغْنِيكَ؟»، قَالَ: لَا قَالَ: «فَكُلُوهَا» قَالَ: فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَقَالَ: هَلَّا كُنْتَ نَحَرْتَهَا قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3816

حضرت فجیع عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کھانا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں۔ ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے باپ کی قسم یہ تو سخت بھوک ہے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں مردار کو حلال قرار دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «غبوق» کے معنی دن کے آخری حصہ کے ہیں اور «صبوح» کے معنی دن کے شروع حصہ کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَيْتَةِ؛مردار کھانے پر مجبور ہو تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٨؛حدیث نمبر:٣٨١٧)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟ قَالَ «مَا طَعَامُكُمْ» قُلْنَا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ، - قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ، قَدَحٌ غُدْوَةً، وَقَدَحٌ عَشِيَّةً - قَالَ: «ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ» فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " الْغَبُوقُ: مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، وَالصَّبُوحُ: مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3817

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں سفید گندم کی ایسی روٹی کھاؤں جو گھی اور دودھ میں گوندھی گئی ہو“ تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کس برتن میں تھا؟“ اس نے عرض کی:گوہ(کی کھال سے بنی ہوئی کپی میں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اسے اٹھا لے جاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ مِنَ الطَّعَامِ؛ایک وقت میں دو قسم کے کھانے جمع کرنا؛جلد٣،ص٣٥٩؛حدیث نمبر:٣٨١٨)

بَابٌ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ مِنَ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ، فَجَاءَ بِهِ، فَقَالَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟» قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ، قَالَ: «ارْفَعْهُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَأَيُّوبُ لَيْسَ هُوَ السَّخْتِيَانِيُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3818

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری منگوائی آپ نے اللہ کا نام لیا اور اسے کاٹ لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الْجُبْنِ؛پنیر کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٩؛حدیث نمبر:٣٨١٩)

بَابُ أَكْلِ الْجُبْنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي تَبُوكَ، فَدَعَا بِسِكِّينٍ، فَسَمَّى وَقَطَعَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3819

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"بہترین سالن سرکہ ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْخَلِّ؛سرکہ کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٩؛حدیث نمبر:٣٨٢٠)

بَابٌ فِي الْخَلِّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3820

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "سرکہ بہترین سالن ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْخَلِّ؛سرکہ کا بیان؛جلد٣،ص٣٥٩؛حدیث نمبر:٣٨٢١)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3821

عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے“ یا آپ نے فرمایا: ”ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا: ”کس چیز کی سبزی ہے؟“ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھاؤ کیونکہ میں اس کے ساتھ بات چیت کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے“۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٠؛حدیث نمبر:٣٨٢٢)

بَابٌ فِي أَكْلِ الثُّومِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا، أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ» وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ، مِنَ الْبُقُولِ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: «قَرِّبُوهَا» إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ: «كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي، مَنْ لَا تُنَاجِي» قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: «بِبَدْرٍ فَسَّرَهُ ابْنُ وَهْبٍ طَبَقٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3822

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا اور عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!سب چیزوں سے زیادہ بو لہسن کی ہوتی ہے کیا آپ اسے حرام کرتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھاؤ اور جو شخص اسے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو نہ جاتی رہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٠؛حدیث نمبر:٣٨٢٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الثُّومُ وَالْبَصَلُ، وَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَشَدُّ ذَلِكَ كُلُّهُ الثُّومُ، أَفَتُحَرِّمُهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كُلُوهُ وَمَنْ أَكَلَهُ مِنْكُمْ فَلَا يَقْرَبْ هَذَا الْمَسْجِدَ حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهُ مِنْهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3823

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص قبلہ کی طرف منہ کر کے تھوکے گا جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کا تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا ہوگا اور جو شخص یہ ناپسندیدہ سبزی کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٠؛حدیث نمبر:٣٨٢٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَظُنُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلّى الله عليه- وسلم قَالَ: «مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا» ثَلَاثًا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3824

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جو شخص اس درخت کا پھل کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3825

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں لہسن کھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آیا میری ایک رکعت چھوٹ گئی تھی، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس کی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن) سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے“۔ راوی کو شک ہے آپ نے «ريحها» کہا یا «ريحه» کہا، تو جب میں نے نماز پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئیے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کرتے کے آستین میں داخل کیا اور سینہ تک لے گیا، تو میرا سینے پر پٹی بندھی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ تو معذور ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٦)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أبُو هِلَالٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَكَلْتُ ثُومًا فَأَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَكْعَةٍ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيحَ الثُّومِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا» أَوْ «رِيحُهُ» فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنِّي يَدَكَ، قَالَ: فَأَدْخَلْتُ يَدَهُ فِي كُمِّ قَمِيصِي إِلَى صَدْرِي فَإِذَا أَنَا مَعْصُوبُ الصَّدْرِ، قَالَ: «إِنَّ لَكَ عُذْرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3826

معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو سبزیوں سے منع کیا ہے،آپ نے ارشاد فرمایا ہے:"جو انہیں کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب بالکل نہ آئے"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:اگر تم ان کو کھانا ہی چاہتے ہو تو ان کو پکا کر ان کی بو ختم کر لو راوی کہتے ہیں:یعنی پیاز اور لہسن۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٧)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ يَعْنِي الْعَطَّارَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ، وَقَالَ: «مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا» وَقَالَ: «إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهِمَا فَأَمِيتُوهُمَا طَبْخًا» قَالَ: يَعْنِي الْبَصَلَ وَالثُّومَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3827

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے،البتہ اگر پکایا گیا ہو تو(حکم مختلف ہے) امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:شریک نامی راوی سے مراد شریک بن حنبل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: «نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «شَرِيكُ بْنُ حَنْبَلٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3828

ابو زیاد خیار بن سلمہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پیاز کے بارے میں دریافت کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے آخری مرتبہ جو کھانا تناول فرمایا تھا اس میں پیاز شامل تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي أَكْلِ الثُّومِ؛لہسن کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٢٩)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ح وحَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا- بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ خِيَارِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، عَنِ الْبَصَلِ، فَقَالَتْ: «إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ فِيهِ بَصَلٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3829

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت یوسف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اس پر کھجور رکھی اور آپ نے فرمایا یہ اس کا سالن ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي التَّمْرِ؛کھجور کا بیان؛جلد٣،ص٣٦١؛حدیث نمبر:٣٨٣٠)

بَابٌ فِي التَّمْرِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ الْأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً»، وَقَالَ: «هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3830

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس گھر میں کھجور موجود نہ ہو اس گھر والے بھوکے ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي التَّمْرِ؛کھجور کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٢؛حدیث نمبر:٣٨٣١)

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ، جِيَاعٌ أَهْلُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3831

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پرانی کھجور پیش کی گئی آپ نے اس کا اچھی طرح جائزہ لیا اور اس میں سے خراب حصہ نکال دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي تَفْتِيشِ التَّمْرِ الْمُسَوَّسِ عِنْدَ الأَكْلِ؛کھاتے وقت کھجور سے کیڑے تلاش کرنا اور نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٢؛حدیث نمبر:٣٨٣٢)

بَابٌ فِي تَفْتِيشِ التَّمْرِ الْمُسَوَّسِ عِنْدَ الْأَكْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ «فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ يُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3832

اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور پیش کی گئی جس میں کیڑا لگا ہوا تھا،اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي تَفْتِيشِ التَّمْرِ الْمُسَوَّسِ عِنْدَ الأَكْلِ؛کھاتے وقت کھجور سے کیڑے تلاش کرنا اور نکالنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٢؛حدیث نمبر:٣٨٣٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ فِيهِ دُودٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3833

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے سے منع کیا ہے البتہ اگر تم اپنے ساتھی سے اجازت لے لو(تو حکم مختلف ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب الإِقْرَانِ فِي التَّمْرِ عِنْدَ الأَكْلِ؛دو دو تین تین کھجوریں ایک ساتھ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٢؛حدیث نمبر:٣٨٣٤)

بَابُ الْإِقْرَانِ فِي التَّمْرِ عِنْدَ الْأَكْلِ حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ تَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3834

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ساتھ ککڑی ملا کر کھایا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الأَكْلِ؛دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٥)

بَابٌ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الْأَكْلِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3835

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تربوز کے ساتھ کھجور ملا کر کھایا کرتے تھے آپ یہ فرماتے تھے ہم اس کی گرمی کو اس کی ٹھنڈک کے ذریعے اور اس کی ٹھنڈک کو اس کی گرمی کے ذریعے ختم کر دیتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الأَكْلِ؛دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٦)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ فَيَقُولُ: نَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا، وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3836

سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں بسر سلمی کے دو صاحبزادوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے وہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے مکھن اور کھجور پیش کیا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکھن اور کھجور پسند تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الأَكْلِ؛دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ وَالتَّمْرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3837

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا ہمیں مشرکین کے برتن اور مشکیزے ملے تو ہم نے انہیں استعمال کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے لوگوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب الأَكْلِ فِي آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛ اہل کتاب کے برتن استعمال کرنا؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٨)

بَابُ الْأَكْلِ فِي آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ، وَأَسْقِيَتِهِمْ فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3838

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہا: ہم اہل کتاب کے پڑوس میں رہتے، وہ اپنی ہانڈیوں میں سور کا گوشت پکاتے ہیں اور اپنے برتنوں میں شراب پیتے ہیں( تو ان کی ہانڈیوں اور برتنوں کا کیا حکم ہوگا)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن مل جائیں تو ان میں کھاؤ پیئو، اور اگر ان کے علاوہ برتن نہ ملیں تو انہیں پانی سے دھو ڈالو پھر ان میں کھاؤ اور پیو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب الأَكْلِ فِي آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛ اہل کتاب کے برتن استعمال کرنا؛جلد٣،ص٣٦٣؛حدیث نمبر:٣٨٣٩)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّا نُجَاوِرُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَهُمْ يَطْبُخُونَ فِي قُدُورِهِمُ الْخِنْزِيرَ وَيَشْرَبُونَ فِي آنِيَتِهِمُ الْخَمْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَكُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3839

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک(جنگی مہم)پر روانہ کیا آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا،ہم قریش کے قافلے کی گھات میں تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زاد راہ کے طور پر ہمیں کھجوروں کا ایک تھیلا عطا کر دیا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے، ہم لوگ اسے اس طرح چوستے تھے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر پانی پی لیتے، اس طرح وہ کھجور ہمارے لیے ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہو جاتی، نیز ہم اپنی لاٹھیوں سے درخت کے پتے جھاڑتے پھر اسے پانی میں تر کر کے کھاتے، پھر ہم ساحل سمندر پر چلے بڑے ٹیلہ جیسی ایک چیز ظاہر ہوئی، جب ہم لوگ اس کے قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مچھلی ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے اور ہمارے لیے جائز نہیں۔ پھر وہ کہنے لگے: نہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم مجبور ہو چکے ہو لہٰذا اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم (کھا کھا کر) موٹے تازے ہو گئے، جب ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ“ ہم نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے کھایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب الأَكْلِ فِي آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ؛ اہل کتاب کے برتن استعمال کرنا؛جلد٣،ص٣٦٤؛حدیث نمبر:٣٨٤٠)

بَابٌ فِي دَوَابِّ الْبَحْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ نَجِدْ لَهُ غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً، كُنَّا نَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ، فَنَأْكُلُهُ، وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ وَلَا تَحِلُّ لَنَا، ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ فَكُلُوا، فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، فَلَمَّا قَدِمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا مِنْهُ؟» فَأَرْسَلْنَا مِنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكَلَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3840

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:ایک مرتبہ ایک چوہا گھی میں گر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے آس پاس(کے گھی)کو نکال دو اور باقی کو کھا لو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ؛گھی میں چوہیا گر جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٣٦٤؛حدیث نمبر:٣٨٤١)

بَابٌ فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً، وَقَعَتْ، فِي سَمْنٍ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلْقُوا مَا حَوْلَهَا وَكُلُوا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3841

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب چوہیا گھی میں گر جائے تو اگر گھی جما ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا حصہ پھینک دو (اور باقی کھا لو) اور اگر گھی پتلا ہو تو اس کے قریب مت جاؤ“۔ حسن کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کہا: اس روایت کو بسا اوقات معمر نے: «عن الزهري عن عبيدالله بن عبدالله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » کے طریق سے بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ؛گھی میں چوہیا گر جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٣٦٤؛حدیث نمبر:٣٨٤٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، - وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ - قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا، وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ» قَالَ: الْحَسَنُ، قَالَ: عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرُبَّمَا حَدَّثَ بِهِ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3842

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛ باب فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ؛گھی میں چوہیا گر جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٣٦٥؛حدیث نمبر:٣٨٤٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3843

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، اس کے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الذُّبَابِ يَقَعُ فِي الطَّعَامِ؛کھانے میں مکھی گر جائے تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٣٦٥؛حدیث نمبر:٣٨٤٤)

بَابٌ فِي الذُّبَابِ يَقَعُ فِي الطَّعَامِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلُّهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3844

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو آپ تین انگلیوں کے ذریعے کھاتے تھےاور فرماتے: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیئے کہ لقمہ صاف کر کے کھا لے اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پلیٹ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ؛کھاتے میں نوالہ گر جائے تو کیا کرنا چاہئے؟؛جلد٣،ص٣٦٥؛حدیث نمبر:٣٨٤٥)

بَابٌ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، وَقَالَ: «إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ» وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3845

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں تپش اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْخَادِمِ يَأْكُلُ مَعَ الْمَوْلَى؛مالک کے ساتھ خادم کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٥؛حدیث نمبر:٣٨٤٦)

بَابٌ فِي الْخَادِمِ يَأْكُلُ مَعَ الْمَوْلَى حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامًا ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أَكْلَةً أَوْ أَكْلَتَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3846

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک رومال سے نہ پونچھے جب تک کہ اسے خود چاٹ نہ لے یا چٹوا نہیں لیتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْمِنْدِيلِ؛رومال کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٤٧)

بَابٌ فِي الْمِنْدِيلِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحَنَّ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3847

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور ہاتھ کو اس وقت تک کپڑے وغیرہ سے نہیں پونچھتے تھے،جب تک چاٹ نہیں لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي الْمِنْدِيلِ؛رومال کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٤٨)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ وَلَا يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3848

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دسترخوان جب اٹھا لیا جاتا(یعنی جب آپ کھانا کھاکر فارغ ہوتے)تو یہ دعا پڑھتے تھے: ہر طرح کی حمد،اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے،جو زیادہ ہو، اس میں برکت موجود ہو،اس میں کفایت میں نہ کی گئی ہو،اور اس کو چھوڑا نہ گیا ہو،اور ہمارا پروردگار اس سے بے نیاز نہ ہو۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ؛کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٤٩)

بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بَنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3849

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ؛کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٥٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ غَيْرِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا، وَسَقَانَا، وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3850

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ کھاتے یا پیتے،تو یہ پڑھتے تھے: ہر طرح کی حمد،اللہ کے لیے مخصوص ہے،جس نے کھلایا اور پلایا اور اسے خوشگوار بنایا اور اس کے باہر نکلنے کا نظام بھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ؛کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٥١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ، وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3851

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب فِي غَسْلِ الْيَدِ مِنَ الطَّعَامِ؛کھانا کھا کر ہاتھ دھونے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٦؛حدیث نمبر:٣٨٥٢)

بَابٌ فِي غَسْلِ الْيَدِ مِنَ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3852

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ابوالہیثم بن تیہان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا پھر آپ کو اور صحابہ کرام کو بلایا، جب یہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے بھائی کا بدلہ چکاؤ“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کا کیا بدلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور وہاں اسے کھلایا اور پلایا جائے اور وہ اس کے لیے دعا کرے تو یہی اس کا بدلہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ لِرَبِّ الطَّعَامِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ؛جب کسی کے یہاں کھانا کھایا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٧؛حدیث نمبر:٣٨٥٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ لِرَبِّ الطَّعَامِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَنَعَ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَعَامًا فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ: «أَثِيبُوا أَخَاكُمْ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِثَابَتُهُ؟ قَالَ «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا دُخِلَ بَيْتُهُ فَأُكِلَ طَعَامُهُ، وَشُرِبَ شَرَابُهُ، فَدَعَوْا لَهُ فَذَلِكَ إِثَابَتُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3853

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے تو وہ روٹی اور روغن زیتون لے کر آگئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارے پاس روزہ داروں نے افطاری کی ہے نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعائے رحمت کی ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَطْعِمَةِ؛باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ لِرَبِّ الطَّعَامِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ؛جب کسی کے یہاں کھانا کھایا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٦٧؛حدیث نمبر:٣٨٥٤)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ، فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Atyemate, Hadees No. 3854

Abu Dawood Shareef : Kitabul Atyemate

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْأَطْعِمَةِ

|

•