asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabul Itke

From 3926 to 3968

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکاتب(مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے کسی مخصوص رقم کی ادائیگی کے بدلے اپنی آزادی کا معاہدہ کر لے) اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت (آزادی کی قیمت) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ؛ جب کوئی مکاتب غلام اپنی کتابت کی کچھ رقم ادا کرنے کے بعد باقی ادائیگی سے عاجز آجائے یا مر جائے؛جلد٤،ص٢٠؛حدیث نمبر:٣٩٢٦)

كِتَاب الْعِتْقِ بَابٌ فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3926

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے)“ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:راوی عباس جریری نہیں ہے لوگ یہ کہتے ہیں یہ وہم ہے بلکہ یہ کوئی اور بزرگ ہے (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ؛ جب کوئی مکاتب غلام اپنی کتابت کی کچھ رقم ادا کرنے کے بعد باقی ادائیگی سے عاجز آجائے یا مر جائے؛جلد٤،ص٢٠؛حدیث نمبر:٣٩٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ - وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ قَالُوا هُوَ وَهْمٌ وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3927

زہری سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے مکاتب غلام نبہان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: "جب تم خواتین میں سے کسی ایک کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جس کے ذریعے وہ(کتابت کی رقم کی)ادائیگی کر سکتا ہو،تو اس عورت کو اس سے پردہ کرنا چاہیے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بَعْضَ كِتَابَتِهِ فَيَعْجِزُ أَوْ يَمُوتُ؛ جب کوئی مکاتب غلام اپنی کتابت کی کچھ رقم ادا کرنے کے بعد باقی ادائیگی سے عاجز آجائے یا مر جائے؛جلد٤،ص٢١؛حدیث نمبر:٣٩٢٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ، فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3928

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء(ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے۔)میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہو گی، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہو گی جو آزاد کرے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو جو شخص کوئی ایسی شرط عائد کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس شخص کو اس کا حق حاصل نہیں ہوگا خواہ اس نے سو شرطیں عائد کی ہو اللہ تعالی کی جائز کردہ شرط زیادہ حقدار اور زیادہ مضبوط ہوتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ؛عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢١؛حدیث نمبر:٣٩٢٩)

بَابٌ فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونُ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3929

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا حالانکہ ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ؛عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢١؛حدیث نمبر:٣٩٣٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأَعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ، زَادَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صلّى الله -عليه وسلم فِي آخِرِهِ " مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3930

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جو نظروں کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے کتابت کے سلسلے میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا،مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ اسی طرح اچھی لگے گیں جس طرح مجھے اچھی لگی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اور آپ کے پاس اپنے کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟“ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دیتا ہوں اور تم سے شادی کر لیتا ہوں“ وہ بولیں: میں تیار ہوں۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کر دیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کر سکتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُكَاتَبِ إِذَا فُسِخَتِ الْكِتَابَةُ؛عقد کتابت فسخ ہو جانے پر مکاتب غلام کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٢؛حدیث نمبر:٣٩٣١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَوِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلَّاحَةً تَأْخُذُهَا الْعَيْنُ، قَالَتْ: عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَجَاءَتْ تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابَتِهَا فَلَمَّا قَامَتْ عَلَى الْبَابِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُ مَكَانَهَا وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي رَأَيْتُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ وَإِنِّي وَقَعْتُ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَإِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْأَلُكَ فِي كِتَابَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلْ لَكِ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ؟» قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ» قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَتْ: فَتَسَامَعَ - تَعْنِي النَّاسَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ السَّبْيِ، فَأَعْتَقُوهُمْ، وَقَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا، أُعْتِقَ فِي سَبَبِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا حُجَّةٌ فِي أَنَّ الْوَلِيَّ هُوَ يُزَوِّجُ نَفْسَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3931

حضرت سفینہ بیان کرتی ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِي الْعِتْقِ عَلَى الشَّرْطِ:شرط لگا کر غلام آزاد کرنے کا بیان۔؛جلد٤،ص٢٢؛حدیث نمبر:٣٩٣٢)

بَابٌ فِي الْعِتْقِ عَلَى الشَّرْطِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ - عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ فَقُلْتُ: «وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي، وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3932

ابو ملیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے“۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آزاد ہونے کو درست قرار دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ:جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٣؛حدیث نمبر:٣٩٣٣)

بَابٌ فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ» زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ «فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3933

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو برقرار رکھا اور اس کی قیمت کے بقیہ حصے کا تاوان اس شخص پر عائد کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ:جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٣؛حدیث نمبر:٣٩٣٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا، أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ «فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3934

قتادہ اپنی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کسی غلام کو آزاد کر دے جو اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہو تو اس غلام کو مکمل ازاد کرنا اس شخص پر لازم ہوگا" روایت کے یہ الفاظ ابن سوید کے نقل کردہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ:جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٣؛حدیث نمبر:٣٩٣٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ» وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3935

قتادہ اپنی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص کسی غلام میں اپنے حصے کے آزاد کر دے تو وہ غلام اس شخص کے مال میں سے آزاد شمار ہوگا،اگر اس شخص کے پاس مال موجود ہو" ابن مثنی نے نضر بن انس کا تذکرہ نہیں کیا روایت کے یہ الفاظ ابن سوید کے نقل کردہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ:جو شخص غلام کا کچھ حصہ آزاد کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٣؛حدیث نمبر:٣٩٣٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ» وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ الْمُثَنَّى، النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3936

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی(آزادی)دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ؛ جس نے اس روایت میں مشقت کرانے کا ذکر کیا ہے؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٣٧)

بَابُ مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلّى - الله عليه وسلم: «مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَإِلَّا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3937

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی“ پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ان دونوں روایتوں میں یہ الفاظ منقول ہیں:"اس سے مزدوری کروائی جائے گی لیکن اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا" روایت کے یہ الفاظ علی بن عبداللہ کے نقل کردہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ؛ جس نے اس روایت میں مشقت کرانے کا ذکر کیا ہے؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٣٨)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ، أَوْ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَخَلَاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا «فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ» وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3938

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:روح بن عبادہ نے یہ روایت سعید بن ابو عروبہ کے حوالے سے نقل کی ہے،انہوں نے مزدوری کروانے کا ذکر نہیں کیا۔ جبکہ دیگر راویوں نے یہ روایت اپنی سند کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے مزدوری کروانے کا ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل:باب مَنْ ذَكَرَ السِّعَايَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ؛ جس نے اس روایت میں مشقت کرانے کا ذکر کیا ہے؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3939

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٤٠)

بَابٌ فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ لَا يُسْتَسْعَى حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3940

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ نافع بعض اوقات یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: "تو اس کا وہ حصہ آزاد ہوگا جو ازاد ہوا" بعض اوقات وہ ان الفاظ کو ذکر نہیں کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٤١)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا قَالَ: «فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ» وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3941

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ ایوب کہتے ہیں:مجھے نہیں معلوم کہ روایت کے یہ الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے یا یہ بات نافع نے کہی ہے: "ورنہ اس کا وہ حصہ آزاد ہوگا جو آزاد ہوا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٤؛حدیث نمبر:٣٩٤٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ -ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ نَافِعٌ «وَإِلَّا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3942

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پورے غلام کو آزاد کرنا اس پر لازم ہوگا، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا“ (اور باقی شرکاء کو اختیار ہو گا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3943

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٤)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3944

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے،جس طرح امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے نقل کی ہے،تاہم اس میں یہ مذکور نہیں ہے۔ "ورنہ اس کا وہ حصہ آزاد ہوگا،جو آزاد ہوا ہے" یہ روایت یہاں تک مکمل ہوتی ہے"اور اس کی طرف سے غلام آزاد ہو جائے گا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ «وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ» انْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى «وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ» عَلَى مَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3945

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دے،تو اس کے باقی مال میں سے وہ غلام اس شخص کی طرف سے آزاد ہوگا اگر اس کے پاس اتنا مال موجود ہو جو اس غلام کی قیمت تک پہنچتا ہو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3946

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب کوئی غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے کو آزاد کر دے تو اگر وہ شخص خوشحال ہو تو اس غلام کی ایسی قیمت لگائی جائے گی جس میں کوئی کمی یا بیشی نہ ہو اور پھر اس غلام کو آزاد کر دیا جائے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3947

ابن تلب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ توتلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ رَوَى أَنَّهُ، لاَ يَسْتَسْعِي؛جس نے یہ روایت کیا ہے ایسے شخص سے مشقت نہیں کروائی جائے گی؛جلد٤،ص٢٥؛حدیث نمبر:٣٩٤٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ «فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ أَحْمَدُ: «إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ يَعْنِي التَّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3948

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (ملکیت میں آتے ہی) آزاد ہو جائے گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ؛جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٤٩)

بَابٌ فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مُوسَى: فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَلَمْ يُحَدِّثْ ذَلِكَ الْحَدِيثَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَقَدْ شَكَّ فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3949

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک بن جائے تو(رشتہ دار)آزاد ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ؛جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٥٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3950

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں"جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک بن جائے تو وہ(رشتہ دار)آزاد شمار ہوگا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ؛جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٥١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3951

یہی روایت قتادہ نے جابر بن زید اور حسن بصری کے حوالے سے اس کی مانند نقل کی ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:سعید،حماد سے بڑے حافظ الحدیث ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ؛جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے؟؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالْحَسَنِ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3952

سیدہ سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:زمانہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مر گئے تو ان کی بیوی کہنے لگی: قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”حباب کا وارث کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے (سلامہ کو) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ؛ام ولد کو آزاد کرنا؛جلد٤،ص٢٦؛حدیث نمبر:٣٩٥٣)

بَابٌ فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، مَوْلَى الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ، - امْرَأَةٍ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلَانَ - قَالَتْ: قَدِمَ بِي عَمِّي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو، فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ، ثُمَّ هَلَكَ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الْآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلَانَ، قَدِمَ بِي عَمِّي -الْمَدِينَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو، فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الْآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَلِيُّ الْحُبَابِ؟» قِيلَ: أَخُوهُ أَبُو الْيُسْرِ بْنُ عَمْرٍو، فَبَعَثَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَعْتِقُوهَا، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدِمَ عَلَيَّ فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا» قَالَتْ: فَأَعْتَقُونِي، وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيقٌ فَعَوَّضَهُمْ مِنِّي غُلَامًا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3953

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہم ام ولد کنیزوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا تو ہم اس سے باز آگئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ؛جلد٤،ص٢٧؛حدیث نمبر:٣٩٥٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3954

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا اس شخص کا اس غلام کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس غلام کو 700 یا شاید 92 میں فروخت کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ:مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧؛حدیث نمبر:٣٩٥٥)

بَابٌ فِي بَيْعِ الْمُدْبِرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، «فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِيعَ بِسَبْعِ مِائَةِ أَوْ بِتِسْعِ مِائَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3955

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم اس کی قیمت کے زیادہ حقدار ہو اور اللہ تعالی اس سے تم سے زیادہ بے نیاز ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ:مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧؛حدیث نمبر:٣٩٥٦)

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا زَادَ وَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ، وَاللَّهُ أَغْنَى عَنْهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3956

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”اسے کون خریدتا ہے؟“ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو وہ اپنی ذات پر پہلے خرچ کرے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے“ یا فرمایا: ”اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں(یعنی دوسرے لوگوں پر)خرچ کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ:مدبر (یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو) کو بیچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧؛حدیث نمبر:٣٩٥٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ: لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ» فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ -فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ» أَوْ قَالَ: «عَلَى ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3957

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے مرنے کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلوا کر ان کے تین حصے کیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ؛جو شخص اپنے ایسے غلاموں کو ازاد کر دے جو اس کی وراثت کے ایک تہائی مال تک نہ پہنچتے ہو؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٥٨)

بَابٌ فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا، أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا»، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ: فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3958

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت بات ارشاد فرمائی۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ؛جو شخص اپنے ایسے غلاموں کو ازاد کر دے جو اس کی وراثت کے ایک تہائی مال تک نہ پہنچتے ہو؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٥٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ: فَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3959

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں اس کے دفن کے وقت موجود ہوتا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ؛جو شخص اپنے ایسے غلاموں کو ازاد کر دے جو اس کی وراثت کے ایک تہائی مال تک نہ پہنچتے ہو؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٦٠)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الطَّحَّانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3960

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے مرنے کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور ان میں سے دو کو ازاد کر دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ؛جو شخص اپنے ایسے غلاموں کو ازاد کر دے جو اس کی وراثت کے ایک تہائی مال تک نہ پہنچتے ہو؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٦١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا، أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ: فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً "

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3961

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے البتہ اگر آقا نے اس کی شرط عائد کی ہو،تو حکم مختلف ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَال؛جو شخص اپنے مالدار غلام کو آزاد کرے تو مال مالک کا ہو گا؛جلد٤،ص٢٨؛حدیث نمبر:٣٩٦٢)

بَابٌ فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ السَّيِّدُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3962

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اللہ کی راہ میں ایک کوڑا کسی کو دے دوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو آزاد کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي عِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا؛زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو آزاد کرنا؛جلد٤،ص٢٩؛حدیث نمبر:٣٩٦٣)

بَابٌ فِي عِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3963

غریف بن دیلمی بیان کرتے ہیں ہم حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو، تو وہ ناراض ہو گئے اور بولے: ایک شخص تلاوت کرتا ہے حالانکہ اس کا قرآن اس کے گھر میں موجود ہوتا ہے تو کیا وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے (براہ راست) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیا تھا، آپ نے فرمایا: ”اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہرہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي ثَوَابِ الْعِتْقِ؛غلام آزاد کرنے کا ثواب؛جلد٤،ص٢٩؛حدیث نمبر:٣٩٦٤)

بَابٌ فِي ثَوَابِ الْعِتْقِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا، لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ، وَلَا نُقْصَانٌ، فَغَضِبَ وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ، وَيَنْقُصُ، قُلْنَا: إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ - يَعْنِي النَّارَ - بِالْقَتْلِ، فَقَالَ: «أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3964

حضرت ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے“ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ”جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب أَىِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؛کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟؛جلد٤،ص٢٩؛حدیث نمبر:٣٩٦٥)

بَابُ أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْرِ الطَّائِفِ - قَالَ مُعَاذٌ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ بِقَصْرِ الطَّائِفِ بِحِصْنِ الطَّائِفِ كُلَّ ذَلِكَ - فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ» وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ -جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3965

سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں شرحبیل بن سمط نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:جو کسی مومن کو ازاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا فدیہ ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب أَىِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؛کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟؛جلد٤،ص٣٠؛حدیث نمبر:٣٩٦٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ: لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3966

شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، پھر راوی نے معاذ کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے جو ان الفاظ تک ہے"جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا اور جو عورت کسی مسلمان عورت کو ازاد کرے گی"۔ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: جو مرد،دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے گا تو وہ دونوں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گی ان دونوں کی ہر ہڈی اس شخص کی ہر ہڈی کی جگہ(جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی۔)“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سالم نے شرحبیل سے نہیں سنا ہے (اس لیے یہ حدیث منقطع ہے) شرحبیل کی وفات صفین میں ہوئی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب أَىِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؛کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟؛جلد٤،ص٣٠؛حدیث نمبر:٣٩٦٧)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ: لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ، أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَى مُعَاذٍ إِلَى قَوْلِهِ «وَأَيُّمَا امْرِئٍ أَعْتَقَ مُسْلِمًا، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً» زَادَ «وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، إِلَّا كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِئُ مَكَانَ كُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْ عِظَامِهِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «سَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ شُرَحْبِيلَ مَاتَ شُرَحْبِيلُ بِصِفِّينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3967

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جو شخص مرنے کے وقت غلام آزاد کرتا ہے،اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے،کہ جو خود سیر ہو جائے تو پھر(بچ جانے والی چیز)تحفے کے طور پر دیتا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْعِتْق:غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ الْعِتْقِ فِي الصِّحَّةِ؛صحت و تندرستی کی حالت میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت؛جلد٤،ص٣٠؛حدیث نمبر:٣٩٦٨)

بَابٌ فِي فَضْلِ الْعِتْقِ فِي الصِّحَّةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الَّذِي يَعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ، كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabul Itke, Hadees No. 3968

Abu Dawood Shareef : Kitabul Itke

|

Abu Dawood Shareef : کتاب العتق

|

•