
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمی حکمرانوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا،تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی وہ لوگ صرف اس خط کو پڑھتے ہیں جس پر مہر لگی ہوئی ہو،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی اور اس میں لفظ محمد رسول اللہ نقش کروایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْخَاتَمِ؛انگوٹھی بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٨٨،حدیث ٤٢١٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر یہ انگوٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گر گئی، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْخَاتَمِ؛انگوٹھی بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٨٨،حدیث ٤٢١٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْخَاتَمِ؛انگوٹھی بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٨٨،حدیث ٤٢١٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْخَاتَمِ؛انگوٹھی بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٨٨،حدیث ٤٢١٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: ”اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی (جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْخَاتَمِ؛انگوٹھی بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٨٨،حدیث ٤٢١٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا، اور فرمایا: ”کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے“ پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْخَاتَمِ؛انگوٹھی بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٨٩،حدیث ٤٢١٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے اسے ڈھونڈا لیکن وہ ملی نہیں، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری انگوٹھی بنوائی، اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ راوی کہتے ہیں: وہ اسی سے مہر لگایا کرتے تھے، یا کہا: اسے پہنا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْخَاتَمِ؛انگوٹھی بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٨٩،حدیث ٤٢٢٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے «من ورق» کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الْخَاتَمِ؛انگوٹھی نہ پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٨٩،حدیث ٤٢٢١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس باتوں کو ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بے موقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو،شرعی دعاؤں کے علاوہ دم کرنے کو، (شرکیہ)تعویذ لٹکانے کو، اور مادہ تولید کو ایسی جگہ ڈالنا جو اس کے لیے حلال نہ ہو اور بچے کو خراب کرنے کو البتہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ اس حدیث کی سند میں منفرد ہیں، واللہ اعلم (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا پہننا ناجائز ہے؛جلد٤،ص٨٩،حدیث ٤٢٢٢)
حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر آیا، وہ پیتل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا بات ہے، میں تجھ سے بتوں کی بدبو محسوس کر رہا ہوں؟“ تو اس نے اپنی انگوٹھی پھینک دی، پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے، میں تجھے جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟“ تو اس نے پھر اپنی انگوٹھی پھینک دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی کی بنواؤ اور اسے ایک مثقال سے کم رکھو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا پہننا ناجائز ہے؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الْحَدِيدِ؛لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٨٩،حدیث ٤٢٢٣)
ایاس بن حارث اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ ٍ راوی کہتے ہیں: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے نگران معیقیب تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا پہننا ناجائز ہے؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الْحَدِيدِ؛لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٩٠،حدیث ٤٢٢٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کہو: اے اللہ! مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ، اور درستگی پر قائم رکھ، اور ہدایت سے سیدھی راہ پر چلنے کی نیت رکھو، درستگی سے تیر کی طرح سیدھا رہنے یعنی سیدھی راہ پر جمے رہنے کی نیت کرو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ انگوٹھی اس انگلی یا اس انگلی میں رکھوں انگشت شہادت یعنی کلمہ کی یا درمیانی انگلی میں (عاصم جو حدیث کے راوی ہیں نے شک کیا ہے) اور مجھے «قسیہ» اور «میثرہ» سے منع فرمایا۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «قسیہ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا مصر سے آتے تھے، ان کی دھاریوں میں ترنج (چکوترہ) بنے ہوئے ہوتے تھے اور «میثرہ» وہ بچھونا (بستر) ہے جسے عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بنایا کرتی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا پہننا ناجائز ہے؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الْحَدِيدِ؛لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٩٠،حدیث ٤٢٢٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّخَتُّمِ فِي الْيَمِينِ أَوِ الْيَسَارِ؛انگوٹھی دائیں یا بائیں ہاتھ میں پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩١،حدیث ٤٢٢٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے اور اس کا نگینہ آپ کی ہتھیلی کے نچلے حصہ کی طرف ہوتا تھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اسحاق اور اسامہ نے یعنی ابن زید نے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّخَتُّمِ فِي الْيَمِينِ أَوِ الْيَسَارِ؛انگوٹھی دائیں یا بائیں ہاتھ میں پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩١،حدیث ٤٢٢٧)
نافع بیان کرتے ہیں:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّخَتُّمِ فِي الْيَمِينِ أَوِ الْيَسَارِ؛انگوٹھی دائیں یا بائیں ہاتھ میں پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩١،حدیث ٤٢٢٨)
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کو اپنے داہنے ہاتھ کی چھنگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اسی طرح اپنی انگوٹھی پہنے اور اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی باہر کی طرف کئے دیکھا، اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہی اندازہ ہے کہ انہوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ذکر کی ہوگی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی کو اسی طرح پہنتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي التَّخَتُّمِ فِي الْيَمِينِ أَوِ الْيَسَارِ؛انگوٹھی دائیں یا بائیں ہاتھ میں پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩١،حدیث ٤٢٢٩)
عامر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ان کی ایک کنیز حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی کو ساتھ لے کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں،اس لڑکی کے پاؤں میں پازیبیں تھیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ دیا، پھر انہیں بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"بے شک ہر گھنٹی کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْجَلاَجِلِ؛ گھونگروؤں والی پازے پہننے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص٩١،حدیث ٤٢٣٠)
عبدالرحمٰن بن حسان کی لونڈی بنانہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکی آپ کے پاس آئی، اس کے پاؤں میں گھنگھرو والے پازیب تھے تو آپ نے کہا: اسے میرے پاس نہ آنے دو جب تک تم انہیں کاٹ نہ دو، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی موجود ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْجَلاَجِلِ؛ گھونگروؤں والی پازے پہننے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص٩٢،حدیث ٤٢٣١)
حضرت عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے:جنگ کلاب کے دن ان کی ناک کٹ گئی،انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی،بعد میں وہ بودار ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي رَبْطِ الأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ؛سونے سے دانت بندھوانے کا بیان؛جلد٤،ص٩٢،حدیث ٤٢٣٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:یزید نامی راوی کہتے ہیں:میں نے ابو اشہب سے دریافت کیا کہ کیا عبدالرحمن بن طرفہ نامی راوی نے اپنے دادا حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے انہوں نے جواب دیا:جی ہاں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي رَبْطِ الأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ؛سونے سے دانت بندھوانے کا بیان؛جلد٤،ص٩٢،حدیث ٤٢٣٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا جَاءَ فِي رَبْطِ الأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ؛سونے سے دانت بندھوانے کا بیان؛جلد٤،ص٩٢،حدیث ٤٢٣٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں حبشی نگینہ جڑا ہوا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا: ”بیٹی! اسے تو پہن لے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے سونا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩٢،حدیث ٤٢٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے کسی محبوب شخص کو آگ کا بالا پہنانا چاہے تو وہ اسے سونے کی بالی پہنا دے،اور جو اپنے کسی محبوب شخص کو آگ کا طوق پہنانا چاہے تو اسے سونے کا طوق پہنا دے اور جو اپنے کسی محبوب شخص کو آگ کا کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے، البتہ سونے کے بجائے چاندی تمہارے لیے جائز ہے، لہٰذا تم اسی کو ناک یا کان میں استعمال کرو اور اس سے دل بہلاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے سونا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩٣،حدیث ٤٢٣٦)
ربعی بن حراش اپنی بیوی کے حوالے سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خواتین کے گروہ!کیا چاندی تمہارے زیور بنانے کے لیے کافی نہیں ہے،خبردار تم میں سے جو بھی عورت سونے کا زیور پہنے گی اور اس کی نمائش کرے گی تو اسے اس سونے کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے سونا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩٣،حدیث ٤٢٣٧)
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے سونے کا ہار پہنا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کا ہار پہنایا جائے گا، اور جس عورت نے اپنے کان میں سونے کی بالی پہنی تو قیامت کے دن اس کے کان میں اسی کے ہم مثل آگ کی بالی پہنائی جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے سونا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩٣،حدیث ٤٢٣٨)
حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی کھال پر بیٹھنے اور سونے کو پہننے سے منع کیا ہے،البتہ اگر وہ تھوڑا سا ہو(تو حکم مختلف ہے) امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ابو قلابہ نامی راوی نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْخَاتَمِ؛انگوٹھیوں سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ؛عورتوں کے سونا پہننے کا بیان؛جلد٤،ص٩٣،حدیث ٤٢٣٩)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Khatim
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الخاتم
|
•