
سہیل بن عبد المالک کے والد ماجد نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک نجدی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا،جس کے بال بکھرے ہوئے تھے،گنگناہٹ سنائی دیتی تھی۔لیکن یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کہتا کیا ہے۔یاں تک کہ نزدیک ہوکر اس نے اسلام کے متعلق دریافت کیا۔فرمایا کہ دن اور رات میں روزانہ پانچ نمازیں ہیں۔عرض گزار ہوا کہ کیا اس کے سوا بھی مجھ پر کچھ اور ہے ؟فرمایا کہ۔نہیں مگر جوتم اپنی خوشی سے رکھو,فرمایا،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے روزہ کا ذکر فرمایا عرض کی کہ کیا ان کے سوا بھی مجھ پر روزے ہیں؟فرمایا کہ نہیں مگر جوتم اپنی خوشی سے رکھو ۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے زکاۃ ذکر فرمایا عرض گزار ہوا کہ کیا اس کے سوا بھی مجھ پر کچھ اور ہے؟فرمایا کہ نہیں مگر جو تم اپنی خوشی سے دو ۔جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو کہتا تھا کہ خدا کی قسم نہ میں ان میں کچھ اضافہ کروں گا اور نہ کمی۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے سچ کہا ہے تو نجات پاگیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ فَرْضِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٣٩١؛ج ١ ص ٢٩١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابو سہیل نافع بن مالک بن ابو عامر نے اپنی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا۔نجات پاگیا۔اور اسی میں ہے کہ اگر سچ کہا تو جنت میں داخل ہو گیا میرے والد ماجد کی قسم اگر سچ کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ فَرْضِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٣٩٢؛ج ١ ص ٢٩٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دومرتبہ میری امامت کی۔پس میرے ساتھ نماز ظہر پڑھی جبکہ سورج ڈھل گیا اور سایہ تسمہ کے برابر ہوگیا اور میرے ساتھ نماز عصر پڑھی جب کہ چیزوں کا سایہ ان کے برابر ہوگیا اور ساتھ نماز مغرب پڑھی جب کہ روزہ افطار کیا جاتا ہے اور میرے ساتھ نماز عشاء پڑھی جب کہ شفق غائب ہو جاتی ہے اور میرے ساتھ نماز فجر پڑھی جب کہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔جب اگلا روز ہوا تو میرے ساتھ نماز ظہر پڑھی جب کہ سایہ ایک مثل ہو گیا اور میرے ساتھ نماز عصر پڑھی جب کہ سایہ دو مثل ہو گیا اور میرے ساتھ نماز مغرب پڑھی جب کہ روزہ دار افطارکرتا ہے اور نماز عشاء میرے ساتھ پڑھی تہائی رات گزرنے پر اور میرے ساتھ نماز فجر پڑھی جب کہ خوب اجالا ہوگیا۔ پھر میری جانب متوجہ ہوکر کہا کہ اے محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم!یہ آپ سے پہلے انبیاء کرام کے اوقات نماز ہیں اور ہر نماز کا وقت ان دونوں حدوں کے درمیان ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاقِيتِ،حدیث نمبر٣٩٣؛ج ١ ص ٢٩٣؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
اسامہ بن زید لیثی کو ابن شہاب نے بتایا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے نماز عصر میں تاخیر کردی تو حضرت عروہ بن زبیر نے ان سے کہا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات بتادیے تھے حضرت عمر نے ان سے کہا کہ غور تو کیجیے آپ کہہ کیا رہے ہیں؟ عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابو مسعود کو فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے حضرت ابو مسعود انصاری کو فرماتے ہوئے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت جبرائیل نازل ہوئے تو انہوں نے مجھے نماز کے اوقات بتائے پس میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شامل کیں۔پس میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آ پ نے نماز ظہر زوال آفتاب کے بعد پڑھی اور کبھی اتنی مؤخر کی کہ گرمی میں شدت آگئی اور میں نے آپ کو نماز عصر پڑھتے ہوئے دیکھا جب کہ سورج خوب بلند اور سفید تھا۔اس میں زردی آنے سے پہلے آدمی نماز سے فارغ ہوکر ذوالحلیفہ پہنچ جاتا اس سے پہلے کہ سورج غروب ہو اور سورج غائب ہوتے ہی نماز مغرب پڑھی اور نماز عشاء اس وقت پڑھی جب کہ افق میں سیاہی آگئی اور کبھی اس میں اتنی تاخیر فرمالیتے کہ لوگ جمع ہوجاتے اور نماز فجر ایک دفعہ اندھیری میں پڑھی اور دوسری دفعہ اجالا ہونے پر پڑھی ۔پھر آپ کی نماز اس کے بعد اندھیرے میں رہی یعنی وصال دوبارہ اجالا میں نہیں پڑھی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث کو زہری،معمر،مالک،ابن عیینہ،شعیب بن ابوحمزہ ،لیث بن سعد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ کن اوقات میں نماز پڑھی اور نہ تفصیل بتائی اور اسی طرح روایت کیا ہے اسے ہشام بن عروہ اور حبیب بن مرزوق نے عروہ سے معمر اور ان کے ساتھیوں نے اسی طرح روایت کی ہے مگر حبیب نے بشیر کا ذکر نہیں کیا۔ روایت کیا وہب بن کیسان حضرت جابر نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے نماز مغرب کا وقت فرمایا پھر حضرت جبرائیل مغرب کے وقت آئے جب کہ سورج غروب ہو گیا یعنی اگلے روز بھی اسی وقت ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی فرمایا کہ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاقِيتِ،حدیث نمبر٣٩٤؛ج ١ ص ٢٩٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
ابو بکر بن ابو موسی نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا لیکن آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ حضرت بلال کو نماز فجر کی اقامت کا حکم فرمایا کیا جبکہ فجر طلوع ہوا تھا اور ایسے وقت نماز پڑھی کہ آدمی اپنے ساتھ کا منہ پہچانتا نہ تھایا آدمی اسے نہ پہچان سکا جو اس کے پہلو میں ہوں پھر حضرت بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے نماز ظہر کے لئے اقامت کہی جب کہ سورج ڈھلا تھا اور پوچھنے والا پوچھتا کہ کیا دوپہر ہو گئی ہے پھر آپ نے حضرت بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے نماز عصر کے لئے اقامت کہی جب کہ آفتاب سفید اور بلند تھا آپ نے حضرت بلال کو فرمایا تو انہوں نے نماز مغرب کی اقامت کہی جب کہ سورج غروب ہوگیا تھا اور شفق غائب ہونے پر نماز عشاء کی اقامت کہی گئی اگلے روز آپ نماز فجر کر لوٹے تو ہم نے کہا کہ کیا سورج طلوع ہو گیا ہے پھر ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جس وقت پچھلے روز عصر کی پڑھی تھی اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج میں زردی آگئی یا یہ فرمایا کہ شام ہونے لگا اور شفق کے غائب ہونے سے پہلے مغرب پڑھی اور تہائی رات گزرنے پر نماز عشاء پڑھی پھر فرمایا کہ نماز کی اوقات پوچھنے والا سائل کہاں ہے؟ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا سلیمان بن موسیٰ،عطاءاور حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق فرمایا پھر نماز عشاء پڑھی بعض حضرات نے کہا کہ تہائی رات گزرنے پر اور بعض نے کہا وقت نصف اسی طرح روایت کیا ابن بریدہ کے والد ماجد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاقِيتِ،حدیث نمبر٣٩٥؛ج ١ ص ٢٩٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ظہر کا وقت ہے جب تک عصر نہ آئےاور مغرب کا وقت ہے جب تک شفق کا اجالا ساقط نہ ہو اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاقِيتِ،حدیث نمبر٣٩٦؛ج ١ ص ٢٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
محمد بن عمرو بن الحسن سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں کے اوقات پوچھے تو فرمایا حضور ظہر کی نماز دن ڈھلنے پر پڑھتے اور عصر اس وقت جب کہ سورج میں جان ہوتی ہے اور مغرب سورج غروب ہونے پر اور عشاء کے وقت جب کافی حضرات آجاتے تو جلدی پڑھتے اور تھوڑے ہوتے تو دیر کرتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّيهَا،حدیث نمبر٣٩٧؛ج ١ ص ٢٩٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابوالمنہال سے روایت ہے کہ حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا اور عصر پڑھتے کہ اگر کوئی ہم میں مدینہ منورہ کے آخری کنارے تک جاکر لوٹ آتا تو سورج میں ابھی جان ہوتی اور مغرب کے متعلق میں بھول گیا اور آ پ عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھتے پھر فرمایا کہ آدھی رات تک فرمایا اور آپ اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے اور صبح کی نماز پڑھتے کہ ہم اپنے جانے پہچانے ساتھی کو پہچان نہیں سکتے تھے اور اس میں آپ ساٹھ سے سوآیتوں تک پڑھتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّيهَا،حدیث نمبر٣٩٨؛ج ١ ص ٣٠٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
سعید بن حارث انصاری سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں نماز ظہر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتا تو ایک میٹھی کنکریاں لیتا کہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈی ہو جائیں تاکہ گرمی کی شدت کے باعث ان پر اپنی پیشانی رکھ کر سجدہ کر سکوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٣٩٩؛ج ١ ص ٣٠٠؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
اسود سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز ظہر کا گرمیوں میں اندازہ تین سے پانچ قدم تک اور سردیوں میں پانچ سے سات قدم تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٤٠٠؛ج ١ ص ٣٠١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
زید بن وہب حضرت ابوذر غفاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ مؤذن نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو۔پھر اذان کہنے کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ ٹھنڈک ہونے دو۔یاتین مرتبہ ایسا فرمایا۔ یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا۔پھر فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے جب سخت گرمی ہوتو نماز ٹھنڈی کرکے پڑھو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٤٠١؛ج ١ ص ٣٠٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب گرمی کی شدت ہو تو وقت ٹھنڈا کرکے نماز(ظہر)پڑھا کرو۔ابن موہب نے کہا کہ نماز کے ساتھ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٤٠٢؛ج ١ ص ٣٠٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ظہر کی اذان اس وقت کہا کرتے جب سورج ڈھل جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٤٠٣؛ج ١ ص ٣٠٣؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز عصر ایسے وقت پڑھتے کہ سورج سفید،بلند اور جاندار ہوتا۔اگر کوئی جانے والا عوالی تک جاتا تو سورج اس وقت بھی بلند رہتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٤؛ج ١ ص ٣٠٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حسن بن علی،عبدالرزاق،معمر،زہری نے فرمایا کہ عوالی دویاتین میل پر ہیں۔معمر نے کہا کہ میرے خیال میں فرمایا تھا یا چار میل۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٥؛ج ١ ص ٣٠٤؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
یوسف بن موسیٰ،جریر،منصور،خیثمہ نے کہا کہ سورج کی زندگی یہ ہے کہ اس میں حرارت پائی جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٦؛ج ١ ص ٣٠٥؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کرتے کہ دھوپ دیواروں پر چڑھنے سے پہلے ان کے حجرے میں ہوا کرتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٧؛ج ١ ص ٣٠٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت علی بن شیبانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم مدینہ منورہ کے اندر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نماز عصر میں اتنی تاخیر کردیتے کہ سورج میں سفیدی اور صفائی ہوتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٨؛ج ١ ص ٣٠٦؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط
حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خندق کے روز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں(کافروں)نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر سے روکا ،اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب فی صلوٰۃ الوسطی،حدیث نمبر٤٠٩؛ج ١ ص ٣٠٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابویونس مولی عائشہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ان کے لیے قرآن مجید لکھ دوں اور انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ جب آیت''حفاظت کرو نماز کی اور خاص طور پر درمیانی نماز کی''۔تو مجھے بتادینا تو جب میں وہاں پہونچا تو انہیں بتادیا۔تو انہوں نے مجھے لکھوایا۔حفاظت کرو نماز کی اور خاص طور پر درمیانی نماز اور نماز عصر کی اور اللہ کے لیے ادب سے کھڑا ہوا کرو،،۔پھر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب فی صلوٰۃ الوسطی،حدیث نمبر٤١٠؛ج ١ ص ٣٠٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر نے حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھا کرتے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب پر اس سے سخت کوئی نماز نہ ہوتی۔اسی متعلق یہ حکم نازل ہوا۔،حفاظت کرونمازوں کی اور درمیانی نماز کی۔اور فرمایا کہ دونمازیں اس سے پہلے اور دو نمازیں اس کے بعدہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب فی صلوٰۃ الوسطی،حدیث نمبر٤١١؛ج ١ ص ٣٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز عصر کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پالی اس نے نماز عصر پالی اور جو نماز فجر کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی تو اس نے نماز فجر پالی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب من ادرک رکعۃ من الصلاۃ فقد ادرکھا،حدیث نمبر٤١٢؛ج ١ ص ٣٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
علاء بن عبدالرحمن نے فرمایا کہ ہم نماز ظہر کے بعد حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ نماز عصر کے لیے کھڑے ہو گئے۔جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو ہم جلدی نماز پڑھنے کا ذکر کیا یا اس بات کا ذکر کیافرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ منافقوں کی نماز ہے کہ تم میں سے کوئی بیٹھا رہے،یہاں تک کہ سورج زرد ہو جائے کیوں کہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے یا دونوں سینگوں پر ہوتا ہے اس وقت کھڑا ہوکر چارٹکڑے مارے اور نہیں وہ خدا کو یاد کرتا مگر تھوڑا بہت۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب التشديد في تأخير العصر الي الاصفرار،حدیث نمبر٤١٣؛ج ١ ص ٣٠٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی تو گویا اس کے اہل وعیال اور مال سب کچھ لٹ گیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اسی طرح فرمایا ہے اور اس میں ایوب پر اختلاف کیا گیا۔اور زہری ،سالم ان کے والد ماجد نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے وتر روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب التشديد في الذي تفوته صلوة العصر الاصفرار،حدیث نمبر٤١٤؛ج ١ ص ٣١٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
محمود بن خالد،ولید،ابوعمرواوزاعی نے فرمایا کہ نماز عصر کی تاخیر سے یہ مراد ہے کہ دھوپ زمین پر زرد نظر آنے لگے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب التشديد في الذي تفوته صلوة العصر الاصفرار،حدیث نمبر٤١٥؛ج ١ ص ٣١١؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھا کرتے ،پھر ہم تیر چلاتے تو ہمیں اس کے گرنے کی جگہ نظر آتی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٤١٦؛ج ١ ص ٣١١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
یزید بن ابو عبید سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز مغرب اسی وقت پڑھ لیتے جب سورج کا اوپر والا کنارہ غائب (غروب)ہوجاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٤١٧؛ج ١ ص ٣١١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
یزید بن ابوحبیب سے روایت ہے کہ مرثد بن عبداللہ نے فرمایا کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جہاد کے ارادے سے ہمارے پاس تشریف لائے اور ان دنوں حضرت عقبہ بن عامر حاکم مصر تھے تو انہوں نے نماز مغرب میں تاخیر کردی پس حضرت ابو ایوب ان کے پاس گئے اور کہا۔اے عقبہ!یہ کیسی نماز ہے کہا ہم مشغول تھے ۔کہا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہےگی یا فرمایا کہ فطرت پر رہے گی جب تک نماز مغرب میں اتنی دیر نہیں کرےگی کہ تارے چمکنے لگیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٤١٨؛ج ١ ص ٣١٢؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس آخری نماز یعنی نماز عشاء کا سب سے زیادہ علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسے اس وقت پڑھتے تھے جب تیسری تاریخ کا چاند ڈوب جاتا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر٤١٩؛ج ١ ص ٣١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے پس آپ ہمارےپاس اس وقت تشریف لائے جب کہ تہائی رات گزر گئی تھی یا اس کے بعد بھی ۔یہ ہمیں معلوم نہیں آپ کسی کام میں مشغول رہے یا کوئی اور بات تھی ۔جب آپ تشریف لائے تو آ پ نے فرمایا کہ کیا تم اس کا انتظار کررہے ہو ؟اگر مجھے امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو تمہیں اسی وقت نماز پڑھایا کرتا۔پھر آپ نے مؤذن کو حکم فرمایا تو نماز کی اقامت ہوئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر٤٢٠؛ج ١ ص ٣١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عاصم بن حمید سلونی نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے انتظار میں تھے تو آپ نے کافی دیر کردی یہاں تک کہ گمان ہوا ہوگا کہ آپ تشریف ہی نہیں لائیں گے اور بعض ہم میں سے کہہ رہے تھے کہ آپ پڑھ چکے ہوں گے۔ہم یہی قیاس آرائیاں کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو لوگ جو کچھ کہہ رہے تھے وہ عرض کردیا گیا۔فرمایا کہ تم اس نماز کو دیر کرکے پڑھا کرو کیوں کہ تمام امتوں پر تمہیں اس نماز کے ذریعے فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی نے یہ نماز نہیں پڑھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر٤٢١؛ج ١ ص ٣١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابونضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھنا چاہتے تھے لیکن آپ تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ آدھی رات کے قریب گزر گئی۔ فرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو توہم بیٹھے رہے ۔فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر اپنے بستروں میں ہیں اور تم نماز میں اس وقت تک ہو جب تک نماز کا انتظار کروگے اگرکمزوروں کی کمزوری اور بیماروں کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کردیتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر٤٢٢؛ج ١ ص ٣١٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ صبح کی نماز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسے وقت پڑھتے کہ عورتیں جب اپنی چادریں لپیٹ کر واپس جاتیں تو اندھیرے کی باعث پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٣؛ج ١ ص ٣١٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
محمود بن لبید سے روایت ہے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔صبح کو خوب روشن کیا کرو۔کیوں کہ اس میں تمہارے لیے ثواب زیادہ ہے یا اس کا ثواب زیادہ ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٤؛ج ١ ص ٣١٦؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے روایت کی ہے حضرت عبداللہ صنابحی نے کہا کہ حضرت ابو محمد وتر کو واجب کہتے ہیں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ غلط کہتے ہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ پانچ نمازوں کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔جو ان کے لیے اچھی طرح وضو کرے،انہیں وقت پر پڑھے اور ان کے اندر رکوع وخشوع اچھی طرح کرے تو اللہ تعالی کا اس سے وعدہ ہے کہ اس کی مغفرت فرمائے گا اور جو ایسا نہ کرے تو اللہ تعالی کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے لہذا چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے عذاب دے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٥؛ج ١ ص ٣١٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
قاسم بن غنام کی والدہ ماجدہ نے حضرت نے حضرت ام فروہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ افضل عمل کونسا ہے فرمایا کہ نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھنا ،خزاعی نے اپنی حدیث میں اپنی پھوپھی صاحبہ سے روایت کی ہے جن کو حضرت ام فروع کیاجاتا ہے اور جنہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٦؛ج ١ ص ٣١٨؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
ابوبکر بن عمارہ بن روبیہ سے روایت ہے کہ بصرہ کے ایک باشندے نے ان کے والد ماجد حضرت عمارہ روبیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے التجا کی مجھے وہ بات بتائے جو آ پ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا ہو؟جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ آدمی کبھی جہنم میں نہیں جائے گا جو سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز پڑھ لے اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔کہا کیا آپ نے حضور سے تین مرتبہ سنا ہے ؟فرمایا ہاں ۔ہردفعہ میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے بھی یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٢٧،ج ١ ص ٣١٩،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
ابوالاسود سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن فضالہ کے والد ماجد نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے جن باتوں کی تعلیم دی ان میں یہ بھی سکھایا کہ پانچوں نمازوں کی محافظت کرنا ۔میں عرض گزار ہوا کہ ان اوقات مجھے مشغولیت بہت ہوتی ہے لہذا مجھے ایسا جامع فارمولہ بتائے کہ اس پر عمل کروں تو کفائت کرے۔فرمایا کہ نچوڑ کی دونوں نماز کی محافظت کرنا۔چونکہ عصرین کا لفظ ہماری بول چال میں نہ تھا اس لیے عرض گزار ہوا کہ دوعصرین کیا ہیں؟فرمایا کہ صبح کی نماز جو سورج طلوع ہونے سے پہلے ہے اور وہ نماز جو سورج غروب ہونے سے پہلے ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٨؛ج ١ ص ٣١٩؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:پانچ چیزیں ہیں جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں ادا کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔جو شخص پانچ نمازیں ان کے وضوء، رکوع،سجود،اوقات کے ہمراہ ادا کرے، وہ رمضان کے روزے رکھے، وہ بیت اللہ کا حج کرے اگر وہ وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہے، اور وہ اپنی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرے اور وہ امانت ادا کرے،لوگوں نے دریافت کیا اے ابو درداء! امانت کی ادائیگی سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا غسل جنابت کرنا۔ (ابو داود شریف کتاب الصلٰوۃ،بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ،حدیث نمبر ٤٢٩،ج ١ ص ٣٢١،حکم حدیث حسن تحقیق البانی،
حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض قرار دی ہیں، اور میں نے اپنی بارگاہ میں یہ عہد کیا ہے کہ،جو شخص ان نمازوں کو انکے مخصوص وقت میں باقاعدگی سے ادا کرے گا اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو شخص اسے باقاعدگی سے ادا نہیں کرے گا تو اس کے لیے میری بارگاہ میں کوئی عہد نہیں۔ (ابوداؤد شریف کتاب الصلٰوۃ،بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ،ج ١ ص ٣٢١؛حدیث نمبر ٤٣٠؛حکم حدیث حسن تحقیق البانی
عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا۔اے ابوذر!اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تمہارے حاکم ایسے ہوں گے کہ نمازی کو مارڈالیں گے یا فرمایا کہ نماز میں تاخیر کیا کریں گے اس کے وقت سے میں عرض گزار ہوا کہ یارسول!آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟فرمایا کہ نماز کو اس کے اصل وقت پر پڑھنا۔اگر ان کے ساتھ نماز ملے تو پڑھ لینا کیوں کہ یہ تمہاری نفل ہو جائے گی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٣١،ج ١ ص ٣٢٢،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ یمن میں ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ۔راوی کا بیان ہے کہ میں نے نماز فجر میں ان کی تکبیر سنی کہ بھاری آواز والے تھے۔ مجھے ان سے محبت ہوگئی اور کبھی ان سے جدا نہ ہوا یہاں تک کہ شام میں ان کی میت کو میں نے دفن کیا ۔پھر میں نے دیکھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقہ ان کے بعد کون جانتا ہے۔پس میں حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگیا اور یہ حاضری اپنے اوپر لازم کرلی یہاں تک کہ انہوں نے وفات پائی۔راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس وقت تمہارا حال کیا ہوگا جب کہ تمہارے حکام بے وقت نماز پڑھا کریں گے؟میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں جب کہ میں ایسا پاؤں؟ فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھتے رہنا اور نفلی طور پر ان کے ساتھ پڑھ لینا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٣٢،ج ١ ص ٣٢٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرے بعد تم پر ایسے حاکم مقرر ہوں گے کہ ان کی مشغولیت انہیں وقت پر نماز پڑھنے سے روکے گی۔یہاں تک کہ وہ ایک وقت کی نماز اس وقت پڑھیں گے جب اس کا وقت جا چکا ہوگا ۔ایک شخص عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ!کیا ہم ان کے ساتھ نماز پڑھیں؟فرمایا کہ ہاں اگر تم چاہو۔سفیان نے کہا کہ اگر میں انہیں پاؤں تو کیا ان کے ساتھ نماز پڑھوں؟فرمایا کہ ہاں اگر تم چاہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٣٣،ج ١ ص ٣٢٤،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
حضرت قبیصہ بن وقاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم میں ایسے حاکم بنیں گے جو نمازوں میں تاخیر کریں گے تو تمہارے لیے تمہارا کیا ہوا اور ان کے لیے ان کا کیا ہوا لیکن ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرنا جب تک قبلے کی جانب منہ کرتے رہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٣٤،ج ١ ص ٣٢٤،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات کو سفر کر رہے تھے کہ پچھلی رات نیند نے تنگ کیا لہذا اتر پڑے اور حضرت بلال سے فرمایا کہ رات کا خیال رکھنا حضرت بلال کی آنکھوں پر بھی نیند کا غلبہ کیا کیوں کہ انہوں نے سواری کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے اور نہ حضرت بلال اور نہ آپ کا ایک بھی صحابی یہاں تک کہ ان پر دھوپ آگئی۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے گھبرا کر فرمایا اے بلال! حضرت بلال عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ!جس نے آ پ کو پکڑا اسی نے مجھے پکڑ ے رکھا۔آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر تھوڑی دور سواریوں کو لے کر چلے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور حضرت بلال کو حکم دیا تو نماز کی اقامت کہی گئی اور انہیں صبح کی نماز پڑھائی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ جو اپنی نماز بھول جائے تو یاد آنے پر پڑھ لے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز قائم کرو میری یاد کے لیے یونس نے کہا کہ ابن شہاب اسے اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔احمد،عنبسہ،یونس سے اس حدیث میں لذکری روایت کی ہے۔امام احمد نے فرمایا کہ الکری نیند کو کہتے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٣٥،ج ١ ص ٣٢٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ میں تم پر غفلت طاری ہوئی اسے چھوڑ دو۔پھر آپ نے حضرت بلال کواذان واقامت کا حکم فرمایا اور نماز پڑھی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مالک اور سفیان بن عینیہ اور اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے اسے روایت کیا لیکن ان میں سے کسی نے بھی اذان کا ذکر نہیں کیا سوائے اس روایت کے جو اوزاعی اور آبان عطار نے معمر سے کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٣٦،ج ١ ص ٣٢٧،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم(قافلہ سے)ایک طرف ہٹ گئے،آپ علیہ السلام کے ساتھ میں بھی ہٹ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس بات کا جائزہ لو میں نے کہا یہ ایک سوار ہے یہ دو سوار ہیں اور یہ تین ہو گئے یہاں تک کہ ہم سات لوگ ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم لوگ ہماری نماز کا خیال رکھنا۔(راوی کہتے ہیں)یعنی فجر کی نماز کا خیال رکھنا، پھر ان کے کان بند ہو گئے۔(یعنی وہ لوگ بھی سو گئے)دھوپ کی تپش نے ان لوگوں کو اٹھایا وہ لوگ اٹھے اور تھوڑا آگے گئے۔پھر انہوں نے پڑاؤ کیا اور وضوء کیا۔پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔اور ان لوگوں نے فجر کی دو رکعت ادا کیں پھر انہوں نے فجر کی نماز ادا کی۔اور سوار ہو گئے،ان میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا۔ہم نے اپنی نماز کے بارے میں کوتاہی کی ہے ۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:نیند میں کوتاہی نہیں ہوتی۔کوتاہی بیداری کے عالم میں ہوتی ہے۔جب کوئی شخص نماز بھول جائے ۔تو وہ اسے اس وقت ادا کر لے۔جب وہ اسے یاد آئے۔یا پھر اگلے دن اسی وقت میں اسے ادا کرے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،ج ١ ص ٣٢٨،حدیث نمبر ٤٣٧،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
خالد بن سمیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن رباح انصاری ہمارے پاس مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور انصار انہیں فقیہ شمار کرتے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سوار تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےایک لشکر روانہ فرمایا پھر مذکورہ واقعہ کو روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں بیدار نہیں کیا۔مگرسورج نے طلوع ہوکر ۔پس ہم گھبرا کر نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ ،یہاں تک کہ سورج کچھ بلند ہوجائے۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تم میں سے فجر کی دو سنتیں پڑھاکرتا تھا،اسے چاہیے کہ پڑھ لے پس جو پڑھا کرتا تھا اور جو نہیں پڑھا کرتا تھا ،سب نے دو رکعتیں پڑھیں،پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اذان کہنے کا حکم فرمایا تو اذان کہی گئی۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمارے ساتھ آپ نے نماز پڑھی۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ خدا کا شکر ہے،کسی دنیاوی کام نے ہمیں نماز سےنہیں روکا بلکہ ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں تھیں۔جب انہیں چاہا واپس بھیجا۔جو تم میں سے کل کی نماز صحیح وقت پر پائے تو اس کے ساتھ اسی جیسی نماز اور پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٣٨،ج ١ ص ٣٢٩،حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
حصین نے حضرت ابو قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو قبض فرمالیا جب چاہا اور واپس کیا جب چاہا۔پس نماز کے لیے اذان کہو سب اٹھ کھڑے ہوئے اور طہارت کی یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٣٩،ج ١ ص ٣٣٠،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے معنا روایت کیا۔اس میں فرمایا کہ سورج بلند ہونے پر آپ نے وضو کیا اور لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٠،ج ١ ص ٣٣٠،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
عبداللہ بن رباح نے حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سوئےرہنے کی صورت میں کوتاہی نہیں ہے،کوتاہی تو بیداری کی حالت میں ہے کہ ایک نماز کو اتنا مؤخر کردیا جائے کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤١،ج ١ ص ٣٣١،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو کسی نماز کو پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر اسے پڑھ لے۔اس کے سوا اس کا کوئی اور کفارہ نہیں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٢،ج ١ ص ٣٣١،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حسن نے حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے سفر میں تھے تو نماز فجر کے وقت سورہے اور سورج کی گرمی نے آپ کو بیدار کیا۔آ پ تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا پھر آ پ نے مؤذن کو حکم فرمایا تو اس نے اذان کہی ۔پس نماز فجر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں ۔پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور فجر کی نمازپڑھی۔ (یعنی پڑھائی) ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٣،ج ١ ص ٣٣٢،حکم حدیث صحیح تحقیق الارنووط
کلیب بن صبح نے زبرقان سے روایت کی ہے کہ ان کے چچا جان حضرت عمروبن امیہ ضمری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کسی سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم نماز فجر کے وقت سوئےرہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے اور فرمایا کہ اس جگہ کو چھوڑ دو۔پھر آ پ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم فرمایا اور وضو کرکے فجر کی دورکعتیں (سنتیں)پڑھیں۔پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کی اقامت کا حکم فرمایا اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٤،ج ١ ص ٣٣٢،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت ذی مخبر حبشی رضی اللّٰہ عنہ نے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے اس وقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اتنے پانی سے وضو فرمایا کہ زمین بھی نہ بھیگی ۔پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنےکا حکم فرمایا پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور جلدی کیے بغیر دورکعتیں پڑھیں۔حجاج نے یزید بن صلیح سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ۔حبشہ کا رہنے والے ذومخبر اور عبید نے یزید بن صبح کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٥،ج ١ ص ٣٣٤،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
یزید بن صلیح سے روایت ہے کہ حضرت نجاشی کے بھتیجے حضرت ذی مخبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعہ روایت کرتے ہوئے فرمایا۔جلدی کیے بغیر اذان کہی گئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٦،ج ١ ص ٣٣٤،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
عبدالرحمن بن ابو علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللّٰہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں کون جگائے گا؟حضرت بلال عرض گزار ہوئے کہ میں،سب سوتے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔چانچہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا اسی طرح نماز پڑھو جیسے پڑھا کرتے تھے۔راوی کا بیان ہے کہ ہم نے اسی طرح کیا۔فرمایا کہ جو سوجائے یا بھول جائے تو اسی طرح پڑھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٧،ج ١ ص ٣٣٥،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے مسجدوں کو بلند کرنے کا حکم نہیں فرمایا گیا۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ضرورتم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کروگے جیسے یہودو نصاری نے کی تھیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٤٨،ج ١ ص ٣٣٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی۔یہاں تک کہ لوگ فخر کریں گے مسجدوں کی ظاہری شان وشوکت کے باعث۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٤٩،ج ١ ص ٣٣٦،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے طائف میں انہیں اس جگہ مسجد بنانے کا حکم فرمایا کہ جہاں ان لوگوں کے بت ہوا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر ٤٥٠،ج ١ ص ٣٣٧،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں مسجد نبوی کچی اینٹوں کی بنی ہوئی تھی اور اس کی چھت لکڑیوں کی تھی اور ستون بھی۔مجاہد نے کہا کہ اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔حضرت ابوبکر نے اس میں کوئی اضافہ نہ کیا اور حضرت عمر نے اس میں اضافہ کیا اور اسے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کی بنیادوں پر تعمیر کیا یعنی کچی اینٹوں اور لکڑیوں سے اور اس کے ستون دوبارہ لگائے۔مجاہد نے کہا کہ اس کے ستون لکڑی کے تھے۔ حضرت عثمان نے اس میں تبدیلی کی اور کافی اضافہ کیا اور اس کی دیواریں تراشے ہوئے پتھروں اور چونے سے بنائیں اور اس کے ستون تراشے ہوئے پتھروں کے بنائے اور ساگوان کی لکڑی سے اس کی چھت تیار کی ۔مجاہد نے کہا کہ اس کی چھت ساگوان کی تھی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ القصة چونے کو کہتے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٥١،ج ١ ص ٣٣٨،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عطیہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسجد کے ستون رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کھجور کی لکڑیوں کے تھے۔اوپر والے حصے پر سائے کے لیے کھجور کی ٹہنیاں تھیں۔پھر وہ حضرت ابوبکر کے دورخلافت میں گل گئی تو دوبارہ کھجور کی لکڑیوں اور شاخوں سے بنائی گئی۔پھر حضرت عثمان کے دور خلافت میں گل گئیں تو اسے پکی اینٹوں سے بنایا گیا جو آج تک اسی حالت میں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٥٢،ج ١ ص ٣٤٠،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو مدینہ کے اوپر والے قبیلے میں اترے جس کو بنی عمروبن عوف کہا جاتا تھا۔ان میں آپ چودہ روز ٹھہرے پھر آپ نے بنی نجار کے پاس پیغام بھیجا۔وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے۔حضرت انس نے فرمایا گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہیں۔اور حضرت ابوبکر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور بنی نجار کے لوگوں نے آپ کو جھرمٹ میں لیا ہوا ہے یہاں تک کہ آپ حضرت ابو ایوب انصاری کے صحن میں پہنچ گئے۔اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی جگہ نماز پڑھ لیتے جہاں وقت ہوجاتا اور آپ بکریوں کے ریوڑ میں بھی نماز پڑھ لیتے اور آپ نے مسجد بنانے کا حکم فرمایا تو بنی نجار کے لیے پیغام بھیجا اور فرمایا کہ اے بنی نجار!تم اپنی اس قطعہ زمین کی قیمت لے لو وہ عرض گزار ہوئے کہ خدا کی قسم ہم اس کی قیمت نہیں لینگے مگر اللہ تعالیٰ سے۔حضرت انس نے فرمایا کہ اس کے اندر مشرکین کی قبریں تھیں اور اس میں کچھ کھنڈرات تھے اور کھجور کے چند درخت تھے ۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تو مشرکوں کی قبریں کھودی گئی،کھنڈرات کو برابر کیا گیا اور کھجور کے درخت کاٹ دیے گئے اور ان کی لکڑیاں مسجد کے قبلہ جانب رکھ دی گئیں،دروازے کی چوکھٹ پتھروں سے بنائی گئی،صحابہ کرام پتھروں کو اٹھا کر لاتے اور اشعار پڑھتے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ یوں گویا ہوتے۔اے اللّٰہ! حقیقی بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے لہذا تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٥٣،ج ١ ص ٣٤٠،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابوالتیاح سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔مسجد نبوی کی جگہ بنی نجار کا ایک باغ تھا جس میں کاشتکاری ہوتی،کھجوروں کے درخت تھے اور مشرکین کی قبریں۔تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی قیمت لے لو ۔وہ عرض گزار ہوئے کہ ہم ایسا نہیں چاہتے۔چناں چہ درخت کاٹ دیے گئے،کھیتی باغ برابر کردی اور مشرکوں کی قبریں کھود دی گئیں۔باقی مذکورہ حدیث کی طرح ہے لیکن فانصر کی جگہ فاغفر کہا ہے ۔موسی بن اسماعیل نے کہا کہ عبدلوارث نے اسے روایت کی ہے اور عبدلوارث خرب کہتے اور عبدالوارث نے کہا کہ انھوں نے یہ حدیث حماد سے سیکھی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٥٤،ج ١ ص ٣٤١۔حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے گھروں میں مسجد بنانے کا حکم فرمایا اور یہ کہ انہیں پاک صاف اور معطر رکھا جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٥٥٥،ج ١ ص ٣٤٢،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے صاحبزادوں کے لیے خط لکھا۔اما بعد بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھروں میں مسجد بنانے کا حکم فرمایا کرتے تھے اور انہیں اچھی طرح بنانے اور پاک صاف رکھنے کے لیے فرمایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٥٥٦،ج ١ ص ٣٤٣،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
،زیاد بن ابوسودہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مولاۃ حضرت میمونہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا عرض گزار ہوئیں کہ یارسول!ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتائے ۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو اور ان دنوں اس علاقے میں لڑائی جھگڑا تھا۔اگر وہاں جاکر اس میں نماز نہ پڑھے سکو تو اس کے لیے بھیج دیا کرو جو اس کی قندیلوں میں جلائے جائیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٥٥٧،ج ١ ص ٣٤٣،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
ابوالولید نے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مسجد کی کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ ایک رات بارش ہوئی تو زمین گیلی ہوگئی۔پس لوگ کنکریاں لائے اپنے اپنے کپڑوں میں اور انہیں نیچے اپنے نیچے بچھا لیا ۔جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ یہ کیا ہی خوب ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٥٥٨،ج ١ ص ٣٤٤،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
ابوصالح نے فرمایا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ جب کوئی مسجد سے کنکریوں کو نکالتا تو کنکریاں اسے قسم دیا کرتی تھیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٤٥٩،ج ١ ص ٣٤٤،حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
ابوصالح سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ابوبدر کے خیال میں انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔فرمایا کہ کنکریاں اس شخص کو قسم دیتی ہیں جو انہیں کسی بھی مسجد سے نکالتا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٤٦٠،ج ١ ص ٣٤٥،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھ پر میری امت کے کارثواب پیش کیے گئے یہاں تک کہ وہ کوڑا کرکٹ جسے آدمی مسجد سے نکالتا ہے اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہ پایا کہ کسی کو قرآن کریم کی کوئی سورت یا آیت دی گئی مگر اس آدمی نے اسے بھلا دیا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَنْسِ الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٦١،ج ١ ص ٣٤٦،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کاش ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں نافع نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر آخری دم تک اس دروازے سے داخل نہیں ہوئے۔عبدالوارث کے سوا دوسرے حضرات سے روایت ہے۔حضرت عمر نے فرمایا کہ یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي اعْتِزَالِ النِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ عَنِ الرِّجَالِ،حدیث نمبر٤٦٢،ج ١ ص ٣٤٧،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔پھر مذکورہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي اعْتِزَالِ النِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ عَنِ الرِّجَالِ،حدیث نمبر٤٦٣،ج ١ ص ٣٤٨،حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ منع فرمایا کرتے تھے کہ کوئی عورتوں والے دروازے سے داخل ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي اعْتِزَالِ النِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ عَنِ الرِّجَالِ،حدیث نمبر٤٦٤،ج ١ ص ٣٤٨،حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط
سعید بن ابوسوید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوحمید یا حضرت ابواسید انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر سلام عرض کرنا چاہیے۔پھر کہے اے اللہ!میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔جب نکلے تو کہے ۔اے اللّٰہ!میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَا يَقُولُهُ الرَّجُلُ عِنْدَ دُخُولِهِ الْمَسْجِدَ،حدیث نمبر٤٦٥،ج ١ ص ٣٤٩، حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط و البانی
حیاۃ بن شریح کا بیان ہے کہ میں عقبہ بن مسلم سے ملا تو میں نے ان سے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ وہ جب مسجد میں داخل ہوتے تو کہتے۔میں عظمت والے رب کی پناہ پکڑتا ہوں اور ساتھ اس کے وجہ الکریم کے اور اس کی ہمیشگی والی بادشاہی کے شیطانی مردود سے۔فرمایا بس یہی۔میں نے کہا ہاں۔فرمایا کہ اس کے بعد شیطان کہتا ہے کہ تو پورے دن کے لیے مجھ سے محفوظ ہوگیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَا يَقُولُهُ الرَّجُلُ عِنْدَ دُخُولِهِ الْمَسْجِدَ،حدیث نمبر٤٦٦،ج ١ ص ٣٤٩،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اسے چاہیے کہ بیٹھنے سے پہلے دورکعت نماز پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٦٧،ج ١ ص ٣٥٠،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہوئے کہا کہ پھر چاہے تو بیٹھ جائے اور چاہے اپنی کسی حاجت کے لیے چلا جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٦٨،ج ١ ص ٣٥١،حکم حدیث صحیح تحقیق البانی
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔فرشتے تمہارے اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں نماز پڑھی ہے۔اور اسےحدث نہ ہواور وہاں سے نہ اٹھے کہ اے الله!اسے بخشدے ۔اے اللّٰہ!اس ہر رحم فرما۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ ،حدیث نمبر٤٦٩،ج ١ ص ٣٥١،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بندہ اس وقت تک نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھے ہوئے اسے اپنے گھر والوں میں جانے سے نہ روکتی ہومگر نماز۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ ،حدیث نمبر٤٧٠،ج ١ ص ٣٥٢،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بندہ اس وقت تک نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک اپنے مصلے پر نماز کے انتظار میں رہے ۔فرشتے کہتے ہیں :اے اللہ!اسے بخشدے اے اللہ!اس پر رحم فرما۔یہاں تک کہ لوٹ جائے ۔یا حدث ہو جائے، کہا گیا کہ حدث ہوجاتا کیا ہے؟فرمایا کہ آہستہ یا آواز سے ہوا کا خارج ہونا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ ،حدیث نمبر٤٧١،ج ١ ص ٣٥٢،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو مسجد میں جس کام کے لیے آیا اسی کے مطابق اجر ملےگا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ ،حدیث نمبر٤٧٢،ج ١ ص ٣٥٣،حکم حدیث حسن تحقیق البانی
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی آدمی سے سنے کہ اپنی گمشدہ چیز مسجد میں تلاش کررہاہے تو کہا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری چیز نہ لوٹائے کیونکہ مسجدیں اس لیے نہیں بنائی گئیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ,حدیث نمبر ٤٧٣،ج ١ ص ٣٥٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مسجد میں تھوکنا غلطی ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے چھپادے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٤،ج ١ ص ٣٥٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٥،ج ١ ص ٣٥٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مسجد میں بلغم ڈالنا۔پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٦،ج ١ ص ٣٥٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبدالرحمن بن ابوحدراسلمی نےحضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم ڈالے تو چاہیے کہ مٹی کرید کر اسے دفن کردے ۔اگر ایسا نہ کرے تو اپنے کپڑے میں تھوکے،پھر باہر ساتھ لے جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٧،ج ١ ص ٣٥٥،حکم حدیث حسن تحقیق الارنووط
حضرت طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے۔ہاں اگر گنجائش ہو تو اپنے بائیں جانب تھوک لے ورنہ اپنے بائیں قدم پر تھوکےپھر اسے مل دینا چاہیے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٨،ج ١ ص ٣٥٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے مسجد کے قبلے کی جانب بلغم دیکھا تو لوگوں پر ناراضگی اظہار فرمایا پھر اسے خرچ دیا۔راوی کا بیان ہے کہ میرے خیال میں آپ نے زعفران منگاکر اس پر مل دیا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے ۔پس وہ اپنے سامنے نہ تھوکا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٩،ج ١ ص ٣٥٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عیاض بن عبداللہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھجور کی شاخوں کو پسند فرماتے تھے اسی لیے وہ ہمیشہ آپ کے دست مبارک میں ہوتی ایک دفعہ آپ مسجد میں داخل ہوئے تو مسجد کے جانب قبلہ آپ نے بلغم دیکھا تو اسے خرچ دیا ۔پھر ناراضگی کی حالت میں لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات پر خوش ہوگا کہ اپنے منہ پر تھوکے ؟تم میں سے جب کوئی قبلہ کی جانب منہ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب عزوجل کی جانب منہ کرتا ہے اور فرشتے دائیں جانب ہوتے ہیں ۔لہذا دائیں جانب نہ تھوکنا اور نہ اپنے سامنے بلکہ چاہیے کی اپنے بائیں جانب تھوکے یا اپنے زیر قدم اور اگر جلدی ہو تو یوں کرے،اور اس کی شرح کرتے ہوئے ہمیں ابن عجلان نے بتایا کہ اپنے کپڑے میں تھوکے اور پھر اسے الٹ پلٹ کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٠،ج ١ ص ٣٥٧،حکم اسنادہ قوی تحقیق الارنووط
حضرت ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں:ایک شخص جو لوگوں کی امامت کرتا تھا، اس نے قبلہ کی سمت میں تھوک دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے تھے، جب وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،یہ شخص تم لوگوں کو نماز نہ پڑھائے، اس کے بعد اس شخص نے لوگوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کیا، تو لوگوں نے اسے روک دیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں اسے بتایا، اس نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں(میں نے اس بات کا حکم دیا ہے،)راوی کہتے ہیں:میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:(کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا)تم نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچائی ہے (ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،ج ١ ص ٣٥٨،حدیث نمبر ٤٨١،حسن لغیرہ"الارنووط
مطرف نے آپ نے اپنے والد ماجد (عبداللہ بن شخیر) سے روایت کی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ آپ نے اپنے بائیں قدم مبارک کے نیچے تھوکا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٢،ج ١ ص ٣٥٩،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
ابوالعلاء نے اپنے والد ماجد سے معناروایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا پھر اسے اپنے نعل مبارک سے رگڑ دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٣،ج ١ ص ٣٥٩،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ میں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ کو دمشق کی مسجد میں دیکھا کہ انہوں نے بوریئے پر تھوکا پھر اسے اپنے پاؤں سے مل دیا ان سے کہا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٤،ج ١ ص ٣٥٩،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ وہ اپنی مسجد میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے اور آپ کے دستِ مبارک میں ابن طاب کی شاخ تھی جب آپ نے غور سے دیکھا تو مسجد کے جانب قبلہ بلغم نظر آیا آپ اس کی جانب بڑھے اور اس سے چھڑی سے چھڑا دیا۔پھر فرمایا کہ تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالی اس کی جانب سے اعراض فرمالے؟ پھر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے پس کوئی اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ دائیں جانب اور اپنے بائیں جانب تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے اگر کسی کو بہت ہی جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں یوں تھوکے چنانچہ اسے اپنے دہن مبارک پر رکھا پھر مل دیا۔ پھر فرمایا کہ عبیر تو لاؤ۔ قبیلے کا ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے گھر کی جانب دوڑا وہ اپنی مٹھی میں خوشبو لے کر آیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کے سرے پر لگایا اور پھر اسے بلغم کی جگہ پر مل دیا۔ حضرت جابر نے فرمایا اسی لیے تم اپنی مسجدوں میں خوشبو کا اہتمام کرتے ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٥،ج ١ ص ٣٦٠،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبداللہ بن ابو نمرنے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا مسجد میں اونٹ لا بٹھایا اور پھر اسے باندھ دیا پھر کہا تم میں محمد کون ہیں ؟جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے لوگوں کے درمیان جلوہ افروز تھے۔ ہم نے کہا کہ سفید رنگ والے جوٹیک لگائے ہوئے ہیں اس آدمی نے آپ سے کہا ۔اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تمہیں جواب دینے کے لئے متوجہ ہوں اس آدمی نے کہا اے محمد میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ،حدیث نمبر ٤٨٦،ج ١ ص ٣٦١،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
کریب سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ بنی سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا مسجد کے دروازے کے پاس اپنے اونٹ کو بٹھا کر باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوا پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہوئے کہا۔ آپ حضرات میں ابن عبدالمطلب کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن عبدالمطلب میں ہوں۔ وہ عرض گزار ہوا کہ اےابن عبدالمطلب! اور پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ, حدیث نمبر ٤٨٧،ج ١ ص ٣٦٢،حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جبکہ مسجد کے اندر شمع رسالت کے پروانوں کے درمیان جلوہ افروز تھے۔انہوں نے کہا اے ابوالقاسم مسئلہ درپیش تھا ایک مرد اور ایک عورت کا جنہوں نے ان میں سے زنا کیا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ, حدیث نمبر ٤٨٨،ج ١ ص ٣٦٢،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لیے ساری زمین کو پاک کرنے والی اور مسجد بنا دیا گیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ،حدیث نمبر٤٨٩،ج ١ ص ٣٦٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابو صالح غفاری سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بابل شہر کی کے پاس سے گزرے جب کہ وہ سفر میں تھے چنانچہ مؤذن آیا کہ نماز عصر کے لیے اذان کہے جب آپ اس کی حد سے باہر نکل گئے تو موذن کو حکم فرمایا چنانچہ اس نے نماز کے لئے اقامت کہی جب فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ میرے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے مقبرے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بابل کی سرزمین میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے کیوں کہ وہ ملعونہ ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ،حدیث نمبر٤٩٠،ج ١ ص ٣٦٣،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
ابوصالح غفاری نے حضرت علی سے اسے معنا روایت کیا ہے۔سلیمان بن داؤد نے فرمایا کہ فلما برز کی جگہ فلما خرج ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ،حدیث نمبر٤٩١،ج ١ ص ٣٦٤،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا موسی بن اسماعیل کی حدیث عمروبن یحییٰ کے مطابق ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ساری زمین مسجد ہے سوائے حمام اور مقبرے کی زمین کے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ،حدیث نمبر٤٩٢،ج ١ ص ٣٦٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبد الرحمن بن ابو لیلی سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اونٹوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اونٹوں کی بیٹھنے کی جگہ نماز نہ پڑھا کرو کیونکہ وہ شیطانوں کی جگہ ہے اور آپ سے بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا کہ ان میں پڑھ لیا کرو کیونکہ وہ باعث برکت ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ،حدیث نمبر ٤٩٣،ج ١ ص ٣٦٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت سبرہ بن معبد جہنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لڑکے کے جب سات سال ہو جائیں تو انہیں نماز کا حکم دو اور جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز کے متعلق اسے مارو پیٹو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ, حدیث نمبر ٤٩٤،ج ١ ص ٣٦٦،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
حضرت عمرو بن شعیب ان کے والد ماجد ان کے جد امجد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب کہ وہ سات سال کے ہو جائیں اور اس پر انہیں مارو جب کہ وہ دس سال کے ہو جائیں اور انہیں الگ الگ سلایا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ, حدیث نمبر ٤٩٥،ج ١ ص ٣٦٧،حکم حدیث حسن صحیح تحقیق البانی
داؤد بن سوار مزنی نے اپنی سند کے ساتھ اسے معنا روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم،غلام یا نوکر کا نکاح کردے تو اسے ناف سے نیچے اور گھٹنے سے اوپر نہ دیکھے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ وکیع کو ان کے نام میں وہم واقع ہوا اور روایت کی ہے ان سے ابوداؤد طیالسی نے یہ حدیث تو کہا ابوحمزہ سوارالصیر فی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ, حدیث نمبر ٤٩٦،ج ١ ص ٣٦٧،حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
ہشام بن سعد سے روایت ہے کہ ہم معاذ بن عبداللّٰہ بن خبیب جہنی کے پاس گئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ بچہ کب سے نماز پڑھے؟ اس نے کہا کہ ہم میں سے ایک آدمی ذکر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب وہ دائیں اور بائیں میں تمیز کرنے لگے تو اسے نماز کا حکم دو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ ،حدیث نمبر٤٩٧،ج ١ ص ٣٦٧،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
ابو عمیر بن انس نے اپنے چچا سے روایت کی جو انصار سے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہتمام کیا کہ نماز کے لئے لوگوں کو کس طرح جمع کیا جائے آپ سے کہا گیا کہ نماز کا وقت ہونے پر ایک جھنڈا بلند کر دیا جائے جب لوگ اسے دیکھیں تو ایک دوسرے کو بتا دیں۔ یہ بات آپ کو پسند نہ آئی۔ تو پھر آپ نے نر سنگے کا ذکر کیا گیا زیاد کی روایت میں ہے کہ یہود کا نرسنگایہ بھی یہودیوں کا فعل ہونے کی وجہ سے پسند نہ آیا۔راوی کا بیان ہے کہ پھر ناکوس کا ذکر ہوا تو نصاریٰ کا فعل ہونے کے باعث پسند نہ آئے۔ پس حضرت عبداللہ بن زید لوٹ آئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جستجو کا بڑا احساس تھا تو انہیں خواب میں اذان دکھائی گئی۔ اگلے روز جب وہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو بتاتے ہوئے عرض گزار ہوئے یے یا رسول اللہ اللہ میں سونے اور جاگنے کے درمیان تھا، پھر کسی آنے والے نے مجھے اذان دکھائی۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ان سے بھی بیس روز پہلے دیکھ چکے تھے۔ لیکن چھپائے رکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے ان سے فرمایاکہ تمہیں بتانے سے کس چیز نے روکا؟ عرض گزار ہوئے کہ عبد اللہ بن زید سبقت لے گئے تو مجھےحیا محسوس ہونے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اےبلال!کھڑے ہو جاؤ اور جس طرح تمہیں عبداللہ بن زید بتاتےجائیں وہ کہتے جاؤ۔ بس حضرت بلال نے اذان کہی۔ ابوبشر نے ابو عمیر سے روایت کی ہے کہ انصار کا یہ خیال ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید اگر روز بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انہیں مؤذن مقرر فرماتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ،حدیث نمبر٤٩٨،ج ١ ص ٣٧٠،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت عبداللہ بن زید نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس کا حکم فرمایا تاکہ اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے تو میرے پاس سے ایک آدمی گزرا جب کہ میں سویا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھایا ہوا تھا۔ میں نے کہا اے اللہ کے بندے کیا آپ یہ خود بیچتے ہیں اس نے کہا آپ اس کا کیا کریں گے؟ میں نے کہا ہم اس کے ذریعے نماز کیلئے بلائیں گے۔ کہاں کیا میں وہ چیز نہ بتا دوں جو اس سے بہتر ہے میں نے اس سے کہا کیوں نہیں۔ کہا کہ یوں کہا کرو۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤنماز کی طرف آؤ نماز کی طرف۔آو نجات کی طرف۔آؤنجات کی طرف اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ پھر وہ مجھ سے ذرا پیچھے ہٹ گیا اور کہا کہ جب نماز کھڑی ہونےلگے تو یو کہا کرو۔اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آؤ نماز کی طرف۔آؤ نجات کی طرف۔بیشک نماز کھڑی ہو گئی ۔اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔صبح کے وقت میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپ کو یہ چیز بتائی جو میں نے دیکھی تھی۔فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو یہ خواب حق ہے۔پس بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ انہیں بتاتے جانا جو تم نے دیکھا تاکہ وہ آواز سے کہیں کیونکہ ان کی آواز تمہاری نسبت بلند ہے۔پس میں حضرت بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا انہیں بتاتا رہا اور وہ اذان کہتے رہے۔حضرت عمر نے اپنے گھر میں جب سے اسے سنا تو اپنی چادر گھسیٹتے ہو ئے آئے اور عرض گزار ہوئے۔یارسول اللّٰہ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا،میں نے بھی ایسا ہی دیکھا تھا،چناچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ زہری۔سعید بن مسیب نے حضرت عبداللہ بن زید سے اسی طرح روایت کی اور اس میں ابن اسحاق نے زہری سے چار مرتبہ تکبیر روایت کی جبکہ معمر یونس نے زہری سے دو مرتبہ تکبیر روایت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٤٩٩،ج ١ ص ٣٧٢،حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
ابومحزورہ کے والد ماجد سے ان کے والد محترم نے فرمایا کہ میں عرض گزار ہوا۔یارسول اللہ مجھے اذان کا طریقہ سکھائیے۔فرمایا کہ آپ نے میری پیشانی پر دست مبارک پھیرا اور فرمایا کہ یوں کہا کرو اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔یہ بلند آواز سے کہنا پھر کہنا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔یہ کہتے وقت آواز پست رکھنا ،پھر بلند آواز سے شہادت دینا میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آؤنماز کی طرف آؤ نماز کی طرف۔آو نجات کی طرف آؤ نجات کی طرف۔اگر وہ صبح کی نماز ہو تو کہے۔نماز نیند سے بہتر ہے،اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٠،ج ١ ص ٣٧٣،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مذکورہ طریقہ بتایا اس روایت میں ہے کہ نماز نیند سے بہتر ہے۔ نماز نیند سے بہتر ہے۔ یہ فجر کی پہلی اذان میں ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مسدد کی حدیث زیادہ واضح ہے اس میں فرمایا کہ مجھے اقامت دو مرتبہ سکھائی۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالرزاق نے کہا جب تم نماز کی اقامت کہو تو دو مرتبہ کہا کرو۔ یقینا نماز کھڑی ہو گئی۔ یقینا نماز کھڑی ہو گئی۔ کیا تم نے سنا؟ نیز فرمایا کہ حضرت ابو محذورہ نہ کبھی اپنی پیشانی کے بال کتراتے اور نہ منڈاتے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠١،ج ١ ص ٣٧٤،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمے سکھائے اذان یہ ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ اقامت یہ ہے اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گوا ہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ یقینا نماز کھڑی ہو گئی۔ یقیناً نماز کھڑی ہوگئی۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٢،ج ١ ص ٣٧٦،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اذان کی مجھے بنفس نفیس تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ کہا کرو۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر دوبارہ بلند آواز سے کہا کرو ۔گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٣،ج ١ ص ٣٧٦،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےمجھے اذان کی حرف بحرف یوں تلقین فرمائی۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ ان کا بیان ہے کہ فجر کے وقت یوں کہا کرتے ۔نماز نیند سے بہتر ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٤،ج ١ ص ٣٧٧،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اذان کی تعلیم فرمائی کہ یوں کہا کرو۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ پھر اذان کے متعلق اسی طرح ذکر کیا جو ابن جریج نے عبد الملک بن عبد العزیز سے روایت کی ہے اور جو معنا مالک بن دینار کی حدیث میں ہے۔ان کا بیان ہے کہ میں ابن ابو محذورہ سے پوچھتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے اپنے والد محترم کی اذان بتائیے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سیکھی تو کہا۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔صرف دومرتبہ اسی طرح جعفر بن سلیمان کی حدیث میں ہے جو انہوں نے ابن ابی محذورہ سے انہوں نے اپنے چچا جان سے،انہوں نے ان کے جد امجد سے روایت کی ہے۔مگر اس میں فرمایا کہ پھر ترجیح کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا کرو۔اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ بہت بڑا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٥،ج ١ ص ٣٧٨،حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط
عمروبن مرہ نے ابن ابی لیلہ سے روایت کی کہ نماز کی تین حالتیں بدلیں۔ہمارے ساتھیوں نے ہم سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ بات پسند ہے کہ مسلمانوں یا ایمان والوں کی نماز ایک ہونی چاہیے لہذا میں نے ارادہ کیا کہ کچھ آدمیوں کو بھیجا کرو کہ لوگوں کو گھروں سے نماز کے لیے بلا کر لایا کریں یہاں تک کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ کچھ لوگوں کو حکم دو کہ وہ اونچی جگہوں پر چڑھ کر مسلمانوں کو نماز کے وقت بلایا کریں مجھے یہاں تک کہ وہ ناقوس بجانے لگے یا ناقوس بجانے والے تھےکہ انصار سے ایک شخص آکر عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ جب میں واپس لوٹا تو میں نے آپ کے اہتمام کو دیکھا اور ایک آدمی کو جس کے اوپر دو سبز کپڑے ہیں۔ مسجد میں کھڑا ہو کر اذان کہہ رہا تھا پھر وہ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد کھڑا ہو گیا اور اسی طرح کہا۔ اس کے سوا کہ وہ کہہ رہا تھا۔ یقینا نماز کھڑی ہو گئی لہذا اگر لوگوں کے باتیں بنانے کا خیال نہ ہوتا۔ ابن مثنیٰ نے کہا کئی لوگ باتیں سنائیں گے ورنہ میں کہتا کہ میں جاگ رہا تھا سویا ہوا نہ تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن مثنی نے کہا کہ اللہ تعالی نے تمہیں بھلائی دکھائی ہے اور حضرت عمر نے ذکر نہ کیا پس بلال سےکہو کہ اذان کہے۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر عرض گزار ہوئے کہ میں نے بھی اسی طرح دیکھا لیکن جب یہ مجھ پر سبقت لے گئے تو مجھے حیا محسوس ہوئی۔ راوی کا بیان ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے بتایا کہ آدمی آ کر پوچھتا تو اسے بتایا جاتا کہ کتنی نماز ہو چکی ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوتے قیام، رکوع اور قعدہ کرنے والے نمازیوں میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ ابن مثنیٰ ،عمرو، حصین نے ابن ابی لیلی سے روایت کی کہ حضرت معاذ آگئے۔ شعبہ نے کہا کہ میں نے حصین سے سنا کہ انہوں نے فرمایا میں تو اسی حالت میں شامل ہوں گا اس حد تک کہ اسی طرح کرو پھر میں عمر بن مرزوق کی حدیث کی طرف لوٹا تو کہا کہ حضرت معاذ آگئے تو لوگوں نے ان کی طرف اشارہ کیا صحابہ نے کہا کہ یہ میں نے حصین سے سنا ہے ان کا بیان ہے کہ حضرت معاذ نے فرمایا میں تو ایسی حالت میں شامل ہوگا جس کے اندر حضور ہونگے۔راوی کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا بے بیشک معاذ نے تمہارے لیے طریقہ نکال دیا ہے لہذا اسی طرح کیا کرو۔ راوی کا بیان ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے بیان کیا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو لوگوں کو تین روزے رکھنے کا حکم فرمائیے کہ رمضان کے متعلق حکم نازل ہو گیا اور لوگ روزوں کے عادی نہ تھے لہذا روزہ ان کے لیے سخت تھے چنانچہ یہ آیات نازل ہوئیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے وہ ضرور اس کے روزے رکھے(2:185)پس رخصت بیمار اور مسافر کے لیے ہے اور سب کو روزے کا حکم دیا گیا۔راوی کا بیان ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے کہا ہے کہ آدمی روزہ کھول کر جب کھانا کھانے سے پہلے سوجاتا تو صبح تک نہ کھاتا۔راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر آئے اور اپنی بیوی کا ارادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں سو گئی تھی۔حضرت عمر نے سمجھا کہ بہانہ کرتی ہے ۔لہذا ان سے جماع کیا۔اسی طرح ایک انصاری نے کھانے کا ارادہ کیا۔لوگوں نے کہا ٹھہریئے یہاں تک کہ کچھ گرم کرلیں۔پس وہ سوگیا صبح کے وقت یہ آیت نازل ہوئی"روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لیے حلال ہوا"۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٦،ج ١ ص ٣٨٠،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
ابن ابی لیلہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نماز کی تین حالت رہیں اور اسی طرح روزے کی تین اور نصر نے باقی حدیث کو طوالت سے بیان کی۔ ابن مثنیٰ نے بیت المقدس کی طرف پڑھنے کا قصہ بیان کیا۔ فرمایا تیسرا حال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مدینہ منورہ میں جلوہ افروز ہوئے تو بیت المقدس کی طرف تیرہ مہینےنماز پڑھی۔ اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائے" ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے "ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو تو آپ کو اللہ نے کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ پوری ہوئی یہ حدیث نصر سے خواب دیکھنے والے کا نام لیتے ہوئے کہا کہ حضرت عبداللہ بن زید آئے جو انصار سے ایک آدمی تھے اور اس نے کہا کہ اس نے کعبہ کی طرف منہ کرکے کہا اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ دو دفعہ آؤ نجات کی طرف۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ بڑا نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر کھڑا ہوا اور اسی طرح مگر اس دفع حی علی الفلاح کے بعد یہ بھی کہا۔یقینا نماز کھڑی ہوگئی ۔روای کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بلال کو سکھادو ۔پس حضرت بلال نے ان کلمات کے ساتھ اذان کہی روزے کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین روزے اور عاشورے کا روزہ رکھا کرتے تو اللہ تعالی نے یہ حکم نازل فرمایا۔تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے کہ تم سے اگلے لوگوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے گنتی کے دن ہیں تو تم میں سے جو کوئی بیمار یا سفر میں ہوتواتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں۔ ایک مسکین کا کھانا۔پس جو روزہ رکھنا چاہتا رکھ لیتا اور جو چھوڑنا چاہتا وہ اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا۔ ایک سال یہ حالت رہی تو اللہ تعالی نے حکم نازل فرمایا۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں۔ تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ پس رمضان کے روزے ہر اس شخص پرلازم ہوگئے جو یہ مہینہ پائے اور مسافر پر قضا لازم ہوئی اور زیادہ بوڑھی بڑھیا جو روزانہ کی مشقت کے بدلے دیں۔ پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٧،ج ١ ص ٣٨٣،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کو جفت اور اقامت کو طاق کہا کریں ۔ہمام نے اپنی حدیث میں کہا کہ سوائے اقامت کے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ في الاقامة ،حدیث نمبر ٥٠٨،ج ١ ص ٣٨٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مذکورہ حدیث وہب کی طرح روایت کی۔اسماعیل نے کہا کہ میں نے یہ حدیث ایوب سے بیان کی تو کہا کہ اقامت کے سوا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ في الاقامة ،حدیث نمبر ٥٠٩،ج ١ ص ٣٨٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
مسلم ابوالمثنی سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اذان دو دو دفعہ اور اقامت ایک ایک دفعہ ہوتی تھی۔سوائے اس کے کہ کہتے کہ ۔یقینا نماز کھڑی ہوگئی ۔جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرکے نماز کے لیے نکل آتے ۔شعبہ نے کہا کہ میں نے ابوجعفر سے اس حدیث کے سوا اور کچھ نہیں سنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ في الاقامة ،حدیث نمبر ٥١٠،ج ١ ص ٣٨٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبدالملک بن عمرو نے شعبہ سے روایت کی ہے کہ مسجد عربان کے مؤذن ابوجعفر اور مسجد اکبر کے مؤذن ابوالمثنی کہا کرتے کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے سنا ہے اور مذکورہ حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ في الاقامة ،حدیث نمبر ٥١١،ج ١ ص ٣٨٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا جان حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اذان کی جگہ کئی کاموں کے کرنے کا ارادہ فرمایا لیکن ان میں سے ایک بھی نہیں کیا۔ان کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید کو خواب میں اذان دکھائی گئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کردی۔فرمایا کہ بلال کو سکھادو ۔پس انہیں سکھادی گئی تو حضرت بلال نے اذان کہی ۔حضرت عبداللّٰہ بن زید کا بیان ہے کہ میں نے دیکھی لہذا میں اذان کہنا چاہتا تھا لیکن حضور نے فرمایا کہ تم اقامت کہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ ،حدیث نمبر ٥١٢،ج ١ ص ٣٨٥،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی
محمد بن عمرو نے عبداللّٰہ بن محمد سے سنا کہ میرے جد امجد حضرت عبداللہ بن زید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یہ واقعہ بیان فرماتے ان کا بیان ہے کہ میرے جد امجد نے اقامت کہی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ،حدیث نمبر ٥١٣،ج ١ ص ٣٨٦،حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط و البانی
زیاد بن نعیم حضرمی سے روایت ہے کہ حضرت زیاد بن حارث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب پہلی صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تو میں نے اذان کہی پس میں کہتا رہا کہ یارسول اللہ!اقامت کہوں؟لیکن آپ اجالا ہونے تک برابر مشرق کی جانب دیکھتے رہے اور انکار فرماتے رہے ۔فجر طلوع ہونے پر آپ نے نزول اجلال فرمایا پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور آپ کے اصحاب آگئے تھے تو آ پ نے وضو فرمایا حضرت بلال نے اذان کہی تھی اور جو اذان کہے وہی اقامت کہتا ہے ان کا بیان ہے کہ میں بیٹھ گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب من اذن فھویقیم ،حدیث نمبر ٥١٤،ج ١ ص ٥٨٧،حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط و البانی
ابو یحییٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلند آواز سے اذان کہنے والی کی مغفرت فرما دی جاتی ہے اور جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے ہرتر اور خشک چیز اس کی گواہی دیتی ہے اور جماعت میں حاضر ہونے والے کا پچیس گنا ثواب لکھا جاتا ہے اور اس کے دو نمازوں کے درمیانی گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْأَذَانِ ،حدیث نمبر ٥١٥،ج ١ ص ٣٨٧،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لیے اذان کہی جائے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اس کی ہوا خارج ہوتی ہے یہاں تک کہ اسے اذان کی آواز نہیں آتی جب اذان ختم ہوتی ہے تو پھر آجاتا ہے جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو پھردوڑتا ہے،یہاں تک کہ جب تکبیر ختم ہوجائے توواپس آ پہنچتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں خیالات پیدا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات کو یاد کر جو اسے یاد کرنا نہیں ہوتی یہاں تک کہ آدمی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْأَذَانِ ،حدیث نمبر ٥١٦،ج ١ ص ٣٨٨،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن اور مؤذن امانت دار ہوتے ہیں ۔اے اللہ!اماموں کو ہدایت دے اور مؤذنوں کی مغفرت فرما۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَجِبُ عَلَى الْمُؤَذِّنِ مِنْ تَعَاهُدِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥١٧،ج ١ ص ٣٨٩،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھر مذکورہ حدیث کے مطابق روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَجِبُ عَلَى الْمُؤَذِّنِ مِنْ تَعَاهُدِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥١٨،ج ١ ص ٣٩٠،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط
محمد بن جعفر بن زبیر نے عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے کہ بنی نجار کی ایک صحابیہ نے فرمایا کہ مسجد نبوی کے گرد جتنے گھر تھے میرا گھر ان میں سب سے بلند تھا۔حضرت بلال فجر کی اذان اسی پر کہتے تھے وہ پچھلی رات آکر مکان کی چھت پر بیٹھ جاتے اور فجر طلوع ہونے کا انتظار کرتے رہتے جب اسے دیکھتے تو انگڑائی لیتے اور کہتے۔ اے اللہ میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں اور قریش کے مقابلے میں تیری مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کرے وہ فرماتی ہیں کہ پھر اذان کہتے ان کا بیان ہے کہ خدا کی قسم میرے علم میں ایسی ایک رات بھی نہیں جب کہ انہوں نے یہ الفاظ نہ کہے ہوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الْأَذَانِ فَوْقَ الْمَنَارَةِ،حدیث نمبر٥١٩،ج ١ ص ٣٩١،حکم حدیث حسن تحقیق الارنووط
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ مکہ مکرمہ کے اندر ایک چمڑے کے خیمے میں جلوہ افروز تھے پس حضرت بلال نکلےاور اذان کہی میں دیکھ رہا تھا کہ انہوں نے اپنا منہ ادھر ادھر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے اوپر سرخ حلہ تھا کہ یمنی چادر کا گویا قطر کی بنی ہوئی ہے موسیٰ کا بیان ہے کہ راوی نے کہا میں نے حضرت بلال کو دیکھا کہ ابطح کی جانب نکل گئے پس اذان کہی اور جب حي على الصلاه حي على الفلاح پر پہنچے تو اپنی گردن کو دائیں بائیں جانب پھرایا اور خود نہیں گھومے پھر اندر داخل ہوئے اور نیزہ لے کر آئے پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمُؤَذِّنِ يَسْتَدِيرُ فِي أَذَانِهِ،حدیث نمبر٥٢٠،ج ١ ص ٣٩١،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دعا رد نہیں ہوتی جواذان واقامت کے درمیان کی جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ،حدیث نمبر٥٢١،ج ١ ص ٣٩٢،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اذان کی آواز سنو تو وہی کہتے جاؤجو مؤذن کہہ رہا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٢،ج ١ ص ٣٩٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
عبد الرحمن بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو۔ کیونکہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر اللہ تعالی سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک اعلی مقام ہے جو اللہ کے بندوں سے ایک ہی بندے کے لائق ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں۔ پس جو میرے لیے وسیلہ مانگے گا اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوگئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٣،ج ١ ص ٣٩٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
ابوعبدالرحمن حبلی نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہیں کہ ایک آدمی عرض گزار ہوا یا رسول اللہ! مؤذن ہم پر فضیلت لے گئے ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تم وہی کہو جو وہ کہتے ہیں جب اذان ختم ہوجائے تو مانگو تمہیں عطا فرمایا جائے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٤،ج ١ ص ٣٩٤،حکم حدیث حسن صحیح تحقیق البانی
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اذان سنتے وقت کہا۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور محمد مصطفی اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے، محمد مصطفی کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٥،ج ١ ص ٣٩٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب مؤذن سے شہادتیں سنتے تو فرماتے۔میں بھی گواہ ہوں ،میں بھی گواہ ہوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٦،ج ١ ص ٣٩٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
حفص بن عاصم بن عمر کے والد ماجد نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہو جب وہ اشھد ان لا الہ الا اللہ کہے تو تم بھی اشھد ان لا الہٰ اللہ کہو جب وہ اشہد ان محمد الرسول اللہ کہے تو تم بھی اشھد ان محمد الرسول اللہ کہو پھر وہ حي على الصلاه کہے تو تم لاحول ولا قوة الا بالله کہو پھر وہ حي على الفلاح کہے تو تم ولا حول ولا قوۃ الا باللہ کہو پھر وہ اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر اللہ اکبر کہو پھر وہ لا الہ الا اللہ کہے تو تم بھی دل میں لا الہ الا اللہ کہو تو جنت میں داخل ہوگئے۔(جو زبان و دل سے یہ کلمات کہتا ہے اسے جنتی شمار فرما لیا جاتا ہے)۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٧،ج ١ ص ٣٩٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
شہر بن حوشب نے حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کسی اور صحابی سے روایت کی ہے کہ حضرت بلال اقامت کہنے لگے۔جب انہوں نے یہ کہا قد قامت الصلواة تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں کہا ۔اقامھا اللّٰہ وادامھا اور باقی ساری اقامت کے جواب میں اسی طرح کہا جیسا کہ اذان کے متعلق حدیث عمر میں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْإِقَامَةَ،حدیث نمبر٢٢٨, ج ١ ص ٣٩٦،حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط و البانی
محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اذان سن کر کہا اے اللہ اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب محمد مصطفی کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر جلوہ افروز فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے قیامت کے روز وہ میری شفاعت کا مستحق ہو گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الْأَذَانِ،حدیث نمبر٥٢٩،ج ١ ص ٣٩٧،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی
ابو کثیر مولی ام سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایاکہ مغرب کی اذان کے وقت کہا کرو اے اللہ یہ تیری رات کا آنا۔ تیرے دن کا جانا اور تیرے پکارنے والوں کی آوازیں ہیں۔ پس میری مغفرت فرما۔ (دعاؤں کی اس لئے تعلیم دی گئی کہ بندوں کی توجہ ہر موڑپراپنے خالق و مالک کی طرف مبذول رہے.) ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٥٣٠،ج ١ ص ٣٩٨،حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط و البانی
مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص نے فرمایا کہ میں عرض گزار ہوا۔موسی بن اسماعیل نے دوسرے مقام پر کہا کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ،عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ مجھے قوم کا امام بنا دیجیے ۔فرمایا کہ تم قوم کی امامت کرو اور سب سے ضعیف کی رعایت کرنا نیز مؤذن اسے مقرر کرنا جو اجرت نہ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ أَخْذِ الْأَجْرِ عَلَى التَّأْذِينِ،حدیث نمبر٥٣١, ج ١ ص ٣٩٩،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضرت بلال نے طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی تو نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ کہنے کا حکم فرمایا انہوں نے دوبارہ کہی کیوں کہ بندہ سو گیا تھا۔ موسی بن اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ پس واپس لوٹے اور دوبارہ اذان کہی کیوں کہ بندہ سو گیا تھا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا کہ نہیں روایت کیا اس حدیث کو ایوب سے مگر حماد بن سلمہ نے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥٣٢،ج ١ ص ٤٠٠،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
نافع نے حضرت عمر کے مؤذن سے روایت کی ہے کہ جس کو مسروح کہا جاتا تھا۔کہ اس نے صبح صادق سے پہلے اذان کہہ دی تو حضرت عمر نے اسے حکم فرمایا۔پھر پہلی حدیث کی طرح۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے حماد بن زید،عبید اللّٰہ بن عمر نے نافع یا کسی دوسرے سے کہ حضرت عمر کا مؤذن جسے مسروح کہا جاتا تھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے دراوردی،عبید اللّٰہ،نافع،حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ حضرت عمر کا ایک مؤذن تھا جس کو مسعود کہا جاتا تھا کہ پھر اسی طرح بیان کی اور یہ سب سے صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥٣٣،ج ١ ص ٤٠٠،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی
حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس وقت تک اذان نہ کہا کرو جب تک فجر تم پر اس طرح واضح نہ ہو جائے اور عرضا اپنے دست مبارک پھیلا دیے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ شداد نے حضرت بلال کو نہیں پایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥٣٤،ج ١ ص ٤٠١،حکم حدیث حسن تحقیق البانی
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابن ام مکتوم مؤذن تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اور وہ نابینا تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥٣٥،ج ١ ص ٤٠٢،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط و البانی
ابراہیم بن مہاجر سے روایت ہے کہ ابوشعثا نے فرمایا کہ میں مسجد کے اندر حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا تو ایک آدمی باہر نکلا جب کہ مؤذن نے عصر کی اذان کہہ دی تھی۔حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ جس نے ایسا کیا اس نے ابوالقاسم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الْخُرُوجِ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَالْأَذَانِ،حدیث نمبر٥٣٦
سماک سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت بلال اذان کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہر جاتے۔جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لے آتے تو نماز کی اقامت کہی جاتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمُؤَذِّنِ يَنْتَظِرُ الْإِمَامَ،حدیث نمبر٥٣٧
مجاہد کا بیان کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ تھا کہ کسی آدمی نے ظہر یا عصر کے وقت تثویب کہی ۔فرمایا کہ ہمارے ساتھ نکل چلو کیونکہ یہ تو بدعت ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّثْوِيبِ،حدیث نمبر٥٣٨
عبداللہ بن ابو قتادہ نے اپنے والد ماجد حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہوا کرو جب تک کہ نہ دیکھ لو امام کو۔ ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح روایت کیا ہے اسے ایوب، حجاج صواف،یحی اور ہشام دستوائی نے کہا میں نے یحییٰ کے لیے لکھا اور روایت کیا اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے یحیی سے اور اس میں کہا۔یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو اور سکون سے رہنا ضروری ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٣٩
معمر نے یحیٰی سے اپنی سند کے ساتھ اسے روایت کرتے ہوئے کہا۔جب تک مجھے دیکھ نہ لو کہ باہر نکل آیا ہوں ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نکل آیا ہوں والی بات کا معمر کے سوا کسی نے ذکر نہیں کیا اور ابن عیینہ نے اسے معمر سے روایت کرتے ہوئے قدخرجت نہیں کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٠
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے نماز کی اقامت کہی جاتی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مصلے پر آنے سے پہلے لوگ اپنی اپنی جگہ سنبھال لیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤١
حمید کا بیان ہے کہ میں نے ثابت بنانی سے نماز کی اقامت ہو جانے کے بعد باتیں کرنے کے متعلق پوچھا تو مجھ سے حدیث بیان کرتے ہوئے حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی اقامت ہو چکی تھی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر آپ کو بوٹوں کے ذریعے روکا تھا ۔تکبیر ہوجانے کے بعد ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٢
عون بن کہمس سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد کہمس نے فرمایا کہ ہم منیٰ میں نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور امام آرہا تھا تو ہم میں سے بعض حضرات بیٹھ گئے۔ مجھ سے ایک بزرگ نے فرمایا کیا آپ کو کس نے بٹھایا میں نے کہا ابن بریدہ نے کہا یہ تو سمود ہے۔پھر اس بزرگ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ سے حدیث بیان کی عبدالرحمن بن عوسجہ نےان سے حضرت حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں تکبیر سے پہلے کافی دیر صفوں میں بیٹھے رہتے ان کا بیان ہے کہ اللہ تعالی کے فرشتے رحمت نازل کرتے ہیں ان لوگوں پر جو پہلی صفوں میں ملتے ہیں اور کوئی قدم اللہ تعالی کو اس قدم سے پیارا نہیں جو صف میں ملنے کے لیے چلے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٣
عبد العزیز بن صہیب سے روایت ہے۔کہ حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی اقامت ہو گئی تھی اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجد کی ایک جانب سرگوشی فرما تے رہے۔آپ نماز کے لیے تشریف نہ لا ئے یہاں تک کہ لوگ سو گئے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٤
موسی بن عقبہ سے روایت ہے کہ حضرت سالم ابوالنضر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز قائم کرنے کے متعلق عادت مبارکہ تھی کہ جب دیکھتے تھوڑے آدمی ہیں تو بیٹھ جاتے اور جب پوری جماعت نظر آتی تو نماز پڑھاتے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٥
عبداللہ بن اسحاق ،ابوعاصم،ابن جریج،موسی بن عقبہ،نافر بن جبیر ابومسعود زرقی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٦
معدان بن ابو طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔جو کسی گاؤں یا بستی میں تین آدمی ہوتے ہوئے جماعت قائم نہ کریں تو شیطان ان پر مسلط ہو جاتا ہے لہذا جماعت کو ضروری سمجھو کیونکہ بھیڑیا بچھڑی ہوئی بکری کو کھاتا ہے۔زائد نے سائب سے روایت کی ہے کہ جماعت سے بجماعت نماز مراد ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٤٧
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بیشک میں نے ارادہ کیا کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ایسے آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور ان لوگوں کے پاس جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے تو ان کے گھر بار کو آگ لگادوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٤٨
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گھٹے جمع کرنے کا حکم دوں۔پھر ایسے لوگوں کے پاس جاؤں جو بغیر شرعی عذرکے اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں۔پس انہیں آگ لگا دوں ۔میں نے یزید بن اصم سے پوچھا،اے ابوعوف !اس سے جمعہ مراد ہے یا دوسری نمازیں ؟فرمایا کہ میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے حضرت ابوہریرہ سے یہی نہ سنا ہو جو وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے اور جمعہ یا دوسری نمازوں کا ذکر نہیں فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٤٩
ابوالاحوص سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ۔ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرو جن کے لیے اذان کہی جاتی ہے کیونکہ یہ ہدایت کے راستے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے راستے واضح فرمادیے تھے ۔ہم نے دیکھا کہ نماز سے وہی منافق پیچھے رہتا ہے جس کا نفاق واضح تھا ۔ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی دوآدمیوں کا سہارا لے کر صف میں آکر کھڑا ہوتا ہے۔تم میں سے ایسا کوئی نہیں جس کے گھر میں مسجد نہ ہو۔اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑوگے تو تم نے اپنے نبی کا طریقہ چھوڑا اور اپنے نبی کے طریقے کو چھوڑوگے تو تم نے کفرکیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٠
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اذان کی آواز سنے اور اس کی تعمیل کرنے سے کوئی عذر مانع نہ ہو ۔عرض کی گئی کہ عذر کیا ہے؟فرمایاکہ خوف یا مرض ۔تو اس کی پڑھی ہوئی نماز قبول نہیں ہوگی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥١
ابورزین نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ سوال کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوئے۔یارسول اللہ میں نابینا ہوں گھر دور ہے اور جو مجھے لے کر آتا ہے میرا اس پر کوئی زور بھی نہیں، پس کیا آپ مجھے اجازت مرحمت فرماتے ہیں کہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ فرمایا کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟عرض گزار ہوئے، ہاں۔ فرمایا تمہیں اجازت نہیں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٢
عبدالرحمن ابولیلی سے روایت ہے کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ مدینہ منورہ میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم حى على الصلاه اور حی علی الفلاح کی آواز سنتے ہو تو ضرور آیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے قاسم جرمی نے بھی سفیان سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٣
عبداللہ بن ابو بصیر سے روایت ہے کہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے فرمایا۔کیا فلاں حاضر ہے؟لوگ عرض گزار ہوئے کہ نہیں۔ فرمایا کیا فلاں حاضر ہے؟ لوگ عرض گزار ہوئے کہ نہیں۔فرمایا یہ دونوں نماز منافقوں پر بہت بھاری ہے اگر تم جانتے کہ ان میں کیا ہے تو گھٹنوں کے بل گھسٹتےہوئے بھی حاضر ہوجاتے اور پہلی صف فرشتوں کی صف کے مانند ہیں۔ اور اگر تم جانتے کہ اس میں کیا فضیلت ہے تو ضرور جلدی کرتے۔آدمی کا ایک اور آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے پڑھنے سے بہتر ہیں اور جتنے زیادہ ہوں گے اللہ عزوجل کو اتنے ہی زیادہ پسند ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٤
عبدالرحمن بن ابو عمرہ نے حضرت عثمان ذی النورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے عشا کی نماز جماعت سے پڑھی تو ایسا ہے گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جس نے عشاء اور فجر کی نمازیں جماعت سے پڑھیں تو ایسا ہے گویا اس نے ساری رات قیام کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٥
عبد الرحمن بن سعد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسجد سے جتنا زیادہ دور ہے اسے (جماعت میں شامل ہونے کے باعث)اتناہی زیادہ ثواب ملتا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٥٦
ابو عثمان سے روایت ہےحضرت ابی بن کعب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص تھا کہ مدینہ منورہ کے اندر قبلہ رونماز پڑھنے والے لوگوں میں سے میرے علم میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کا گھر مسجد نبوی سے اس کی نسبت دور ہو اور وہ مسجد میں ایک بھی نماز پڑھنے سے پیچھے نہ رہا میں نے اس سے کہا۔آ پ ایک گدھا خرید لیں تاکہ گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہوکر آجایا کریں۔فرمایا مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ہو۔یہ بات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہونچی تو آ پ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرا مسجد کے طرف آنا لکھا جاتا ہے اور واپس لوٹنا جب کہ گھر والوں کی طرف واپس لوٹتا ہوں ۔ارشاد ہوا کہ اللہ تعالی نے تمھیں یہ سب کچھ عطا فرمایا جو بھی تم نے اس کے لیے کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٥٧
ابوعبدالرحمن نے حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے گھر سے طہارت کرکے فرض نماز کے لیے نکلا تو اسے حج کے لیے احرام باندھ کر نکلنے والے کی طرح اجر ملے گا اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور صرف اسی کے لیے تکلیف اٹھا رہا ہو تو اسے عمرہ کرنے والے کی طرح ثواب ملے گا اور جن دونمازوں کے درمیان کوئی لغوبات نہ کی ہو تو وہ علیین میں لکھی جاتی ہیں ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٥٨
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آدمی کا جماعت سے نماز پڑھنا اس کے گھر یا بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ درجہ رکھتا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کو آئے جب کہ اس کا مقصد صرف نماز ہو اور اسے نہ لائے مگر نماز تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔اور اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے جب مسجد میں داخل ہو گیا تو وہ نماز میں جب تک نماز اسے روکے رکھے گی اور فرشتے تمہارے اس آدمی کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں جو اپنی اسی جگہ پر بیٹھا رہے جہاں نماز پڑھی جاتی تھی اور کہتے ہیں اے اللہ!اس کی توبہ قبول فرما جب تک کہ ایذا نہ پہنچائے یا وضو نہ ٹوٹے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٥٩
عطاء بن یزید نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جماعت سے نماز پڑھنا پچیس نمازوں کے برابر ہے جب جنگل میں نماز پڑھی اور رکوع سجدے پوری طرح کیے تو وہ پچاس نمازوں تک پہنچتی ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالواحد بن زیاد نے اس روایت میں کہا کہ آدمی کی جنگل میں پڑھی ہوئی نماز کا ثواب جماعت کی نماز سے کئی گنا ہے اور پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٦٠
حضرت بریدہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔خوشخبری سنادوکہ اندھیرے میں مسجدوں کو جانے والوں کے لیے مکمل روشنی ہوگی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ فِي الظَّلَامِ،حدیث نمبر٥٦١
ابوثمامہ حناط کا بیان ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے انہیں پایا جبکہ وہ مسجد کے ارادے سے آئے تو آپس میں ملاقات ہوئی۔راوی کا بیان کہ انہوں نے مجھے ایسی حالت میں پایا کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پیوست کی ہوئی تھیں۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔جب تم میں سے کوئی وضو کرے تواچھی طرح وضو کرنا چاہیے۔پھر مسجد کے ارادے سے نکلا تو انگلیاں آپس میں پیوست نہ کرے کیونکہ وہ نماز میں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهَدْيِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٦٢
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک انصاری کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے لوگوں سے کہا کہ میں آپ حضرات سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور بیان کرنے سے میرا مقصد محض رضائے الہٰی ہے میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لیے نکلے تو وہ دایاں قدم نہیں اٹھاتا مگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور کوئی بایاں قدم نہیں اٹھاتا مگر اللہ عزوجل اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے پس جو چاہے مسجد سے نزدیک ر ہے یا دور رہے جب مسجد میں آ کر جماعت سے نماز پڑھ لیتا ہے تو اس کی مغفرت فرما دی جاتی ہے۔ اگر وہ مسجد میں ایسے وقت آئے گا کہ کچھ نماز ہو چکی اور کچھ باقی ہیں تو جو ملے اسے پڑھ لے اور جو رہ گئی اسے پوری کرے تو اس کے لیے بھی وہی اجر ہے اگر مسجد میں ایسے وقت آیا کہ لوگ نماز پڑھ چکے تو خود پوری نماز پڑھے اس کے لئے بھی وہی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهَدْيِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٦٣
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر مسجد کی جانب روانہ ہوا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے۔ اللہ عزوجل اسے ان لوگوں کے برابر ثواب عطا فرمائے گا جنہوں نے حاضر ہو کر جماعت سے نماز پڑھی اور اس کے باعث اس کے اجر میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ خَرَجَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَسُبِقَ بِهَا،حدیث نمبر٥٦٤
ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کی لونڈیوں (بندیوں)کو مسجد میں آنے سے نہ روکا کرو اور انہیں چاہیے کہ خوشبو لگا کر نہ نکلا کریں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٥٦٥
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی لونڈیوں (بندیوں)کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٥٦٦
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکا کرو اور ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٥٦٧
مجاہد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے وقت عورتوں کو مسجدوں کی اجازت دے دیا کرو۔ اس پر ان کے ایک فرزند نے کہا خدا کی قسم ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے اس کے ذریعے وہ دھوکا دے گی ۔خدا کی قسم ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔ راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے برا بھلا کہا اور ناراض ہوئے فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دیا کرو اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٥٦٨
عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو اب عورتوں نے حال بنایا ہے تو آپ ضرور انہیں مسجدوں سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا یحییٰ کا بیان ہے کہ میں نے عمرہ سے کہا کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا؟فرمایا۔ ہاں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٥٦٩
ابو الاحوص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا عورت کی گھر میں پڑھی ہوئی نماز افضل ہے اس نماز سے جو اس نے اپنے صحن میں پڑھی اور اس کی کوٹھری میں پڑھی ہوئی نماز افضل ہے اس نماز سے جو اس نے اپنے گھر میں پڑھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٥٧٠
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہ ہم اس دروازے کو عورتوں کے لئے چھوڑ دیں۔ نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر آخری دم تک اس دروازے سے کبھی داخل نہیں ہوئے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، نافع نے روایت کی حضرت عمر سے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٥٧١
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کے لئے لیے دوڑتے ہوئے نہ آیا کروبلکہ معمول کے مطابق چلتے ہوئے آؤ کیونکہ آرام سے چلنا ضروری ہے لہٰذا جتنی نماز مل جائے پڑھ لو اور جتنی رہ جائے اسے پوری کر لو ۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح کہا زبیدی اور ابن ابی ذئب اور ابراہیم بن سعد اور معمر اور شعیب بن ابو حمزہ نے زہری سے کہ جتنی نماز رہ جائے اسے پوری کر لو اکیلے ابن عیینہ نے زہری سے روایت کی کہ اسے پوری کر لو محمد بن عمرو، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے۔ جعفر بن ربیعہ اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کہ پوری کرلو۔ حضرت ابن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی حضرت ابو قتادہ حضرت انس نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی کہ پوری کر لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ السَّعْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٧٢
ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لیے سکون و اطمینان سے آیا کرو جتنی نماز ملے وہ پڑھ لیا کرو اور جو نکل گئی وہ پوری کر لیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ پوری کر لیا کرو۔ اسی طرح ابو رافع نے حضرت ابوذر سے روایت کی ہے کہ اسے پوری کر لو اور پڑھ لیا کرو اور اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ السَّعْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٧٣
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا۔ کہ کیا اس پر کوئی صدقہ نہیں کر سکتا کہ یہ اس کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْجَمْعِ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّتَيْنِ،حدیث نمبر٥٧٤
جابربن یزید بن اسود نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب کہ وہ نوجوان لڑکے تھے جب آپ نماز پڑھ رہے تھے تو دو آدمیوں نے نہ پڑھیں اور مسجد کے ایک کونے میں بیٹھے رہے آپ نے ان دونوں کو بلایا اور وہ حاضر ہوئے تو ان کی پسلیوں کا گوشت بھی پھڑک رہا تھا فرمایا کہ تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا دونوں عرض گزار ہوئے کہ ہم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر دیکھیں کہ امام نے نماز نہ پڑھی تو اس کے ساتھ نماز پڑھ لے کیونکہ وہ نفل ہو جائے گی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ،حدیث نمبر٥٧٥
جابر بن یزید کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ پھر پہلی حدیث کی طرح بیان کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ،حدیث نمبر٥٧٦
نوح بن صعصعہ سے روایت ہے کہ حضرت یزید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نماز میں تھے پس میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل نہ ہوا جب فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو حضرت یزید کو بیٹھے ہوئے دیکھ کرفرمایا زید کیا تم مسلمان نہیں ہو؟عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ کیوں نہیں میں تو حلقہ بگوش اسلام ہوں فرمایا تو پھر تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکاعرض گزار ہوئے کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا کیونکہ میں سمجھا تھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔فرمایا کہ جب نماز کے لیے آؤ اور لوگوں کو نماز میں دیکھو تو ان کے ساتھ پڑھ لیا کرواگرچہ تم وہ نماز پڑھ چکے ہو کیوں کہ یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی اور وہ فرض رہے گی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ،حدیث نمبر٥٧٧
بنی اسد بن خزیمہ کے ایک آدمی نے حدیث بیان کی کہ اس نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا،پھر مسجد میں آتا اور نماز کھڑی ہوتی تو وہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیتا۔ میرے دل میں اس کے متعلق شک گزرتا تھا حضرت ابو ایوب نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا بھی اسے ثواب ملے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ،حدیث نمبر٥٧٨
عمروبن شعیب سے روایت ہے کہ سلیمان مولیٰ میمونہ نے فرمایا کہ میں بلاط میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو لوگ نماز پڑھ رہے تھے میں نے ان(حضرت ابن عمر)سے کہا کہ آپ کیوں ان کے ساتھ نماز پڑھتے؟فرمایا کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک نماز کو ایک دن میں دودفعہ نہ پڑھا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ إِذَا صَلَّى فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً أَيُعِيدُ،حدیث نمبر٥٧٩
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو لوگوں کو وقت پر نماز پڑھائے تو اسے اور لوگوں کو ثواب ملے گا اور جو اس میں کوتاہی کرےگا اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں ہوگا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي جُمَّاعِ الْإِمَامَةِ وَفَضْلِهَا،حدیث نمبر٥٨٠
سلامہ بنت حر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ مسجد میں ایک دوسرے سے کہیں گے لیکن انہیں نماز پڑھانے کے لیے امام نہیں ملے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَافُعِ عَلَى الْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨١
حضرت ابو مسعود البدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ پڑھنے والا اور پرانا قاری ہو۔ اگر دو آدمی جماعت میں برابر ہوں تو امامت وہ کرے جس نے پہلے ہجرت کی اگر ہجرت میں بھی برابر ہو تو وہ امامت کرے جس کی عمر زیادہ ہو۔ نہ امامت کرے آدمی دوسرے کے گھر میں اور نہ اس کی بادشاہی میں اور نہ بیٹھے اس کی مسند خاص پر مگر اس کی اجازت سے۔ شعبہ نے اسماعیل سے کہا کہ خاص مسند کیا ہے؟ فرمایا کہ اس کے بیٹھنے کی جگہ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٢
ابن معاذ،ابی شعبہ سے روایت کی اس میں فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کی جگہ امامت نہ کرے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یحیٰی قطان نے شعبہ سے روایت کی کہ پرانا قاری۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٣
اوس بن ضمعج حضرمی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئےسنا: فرمایا کہ اگر قراءت میں برابر ہوں تو جو سنت رسول کا زیادہ جاننے والا ہوں اگر سنت رسول میں برابر ہوں تو جس نے ہجرت پہلے کی ہو اس روایت میں پرانا قاری نہیں فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٤
حضرت عمر بن سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم ایسی جگہ پر آباد تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے والے ہمارے پاس سے گزرا کرتے ۔جب وہ واپس لوٹتے ہوئے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں یہ آیتیں بتائی ہیں۔ میں ذہین لڑکا تھا اس لئے میں نے کافی قرآن مجید زبانی یاد کرلیا تھا۔ میرے والد ماجد اپنی قوم کا ایک وفد لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے نماز سکھائی اور فرمایا کہ تمہاری امامت وہ کرے جو زیادہ قاری ہوں۔پس حفظ کرنے کے باعث میں قرآن کریم زیادہ جانتا تھا۔ لہذا مجھے آگے کیا تو میں امامت کراتا تھا۔ میرے اوپر ایک چھوٹی سی زرد چادر ہوتی چنانچہ جب میں سجدہ کرتا تو میرا ستر کھل جاتا۔ قبیلے کی عورتوں میں سے ایک نے کہا۔اپنے قاری کا سترتو ہم سے چھپا لیجئے پس لوگوں نے میرے لئے عمانی قمیض خریدی۔ اسلام لانے کے بعد اتنا میں کسی اور بات پر خوش نہیں ہوا تھا میں امامت کراتا اور میری عمر سات یا آٹھ سال تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٥
حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جوڑلگی ہوئی پھٹی سی چادر سے امامت کرتا تھا اور جب میں سجدہ کرتا تو میری پیٹھ ننگی ہو جاتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٦
حضرت عمر بن سلمہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ وہ وفد لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ!ہماری امامت کون کرے؟ فرمایا کہ جس نے قرآن مجید زیادہ یاد کیا ہو یا قرآن مجید زیادہ حاصل کر لیا ہو۔تو قوم میں سے میرے برابر کسی نے بھی یاد نہیں کیا تھا پس مجھے آگے کردیا حالاں کہ میں لڑکا تھا اور میرے جسم پر تہبند ہوتا لوگوں کے جسم مجمع کے اندر میں ہوتا تو میں ان کا امام ہوتا اور میں نے ہی آج تک ان کے جنازوں کی نماز پڑھائی ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا روایت کیااسے یزید بن ہارون بن مسعر بن حبیب سے حضرت عمرو بن سلمہ نے فرمایا کہ جب میری قوم کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے روایت کرنے کے متعلق نہیں فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٧
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب سب سے پہلے ہجرت کرنے والے مہاجرین آئے تو عصبہ میں ٹھہرے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ان کی امامت حضرت سالم مولیٰ حذیفہ کرتے تھے اور انہیں سب سے زیادہ قرآن کریم یادتھا ۔ہیثم نے یہ بھی فرمایا کہ ان میں حضرت عمر اور حضرت ابوسلمہ ابن عبد الاسد بھی تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٨
حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے یا ان کے ساتھی سے کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان کہا کرو ،پھر اقامت کہو پھر جو عمر میں بڑاہو وہ امامت کرے مسلمہ کی حدیث میں ہے کہ ان دوعلموں میں ہم دونوں برابر تھے۔اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ خالد نے فرمایا کہ میں نے ابوقلابہ سے گزارش کی کہ قرآن کریم کا کو زیادہ آتاتھا؟فرمایا کہ وہ دونوں برابر تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٩
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم میں سے بہتر لوگ اذان کہیں اور تمہاری امامت وہ کرے جو تم میں قرآن مجید زیادہ جانتا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٩٠
ولید بن عبد اللہ بن جمیع کی دادی کی دادی جان اور عبدالرحمن بن خلاد انصاری سے روایت ہے کہ حضرت ام عرقہ بنت نوفل رضی اللہ تعالی عنہا عرض گزار ہوئیں جب کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم غزوہ بدر فرمانے لگے تھےکہ یا رسول اللہ! مجھے بھی اپنے ساتھ جہاد کی اجازت دیجئے کہ بیماروں کی تیمارداری کروں شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت کا درجہ عطا فرما دے۔فرمایا کہ تم اپنے گھر میں رہواللہ عزوجل تمہیں بھی شہادت مرحمت فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام شہیدہ پڑ گیا وہ اپنے گھر میں قرآن کریم پڑھا کرتی تھی لہذا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن رکھنے کی اجازت طلب کی گئی تو انہیں اجازت مل گئی اور انہوں نے ایک غلام اور ایک لونڈی کو مدبر کیا ہوا تھاایک رات ان دونوں نے چادر سے گلا گھونٹ کرکے انہیں مار دیا اور دونوں بھاگ گئے صبح ہوئی تو حضرت عمر نے لوگوں میں میں اعلان فرمایا کہ جس کو ان دونوں کا علم ہو یا جس نے انہوں نے دیکھا ہو تو انہیں پیش کرے ان کے متعلق حکم فرمایا گیا تو انہیں سولی دی گئی اور مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی انہیں دی گئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر٥٩١
حضرت ام ورقہ بچ نے عبد اللہ بن حارث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور پہلی حدیث زیادہ مکمل ہے۔فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے اور ان کے لیے مؤذن مقرر کیا جواذان کہا کرتا اور حضرت ام ورقہ کو حکم فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کرو ۔عبدالرحمن کا بیان ہے کہ میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا ہے وہ بالکل بوڑھے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر٥٩٢
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمایا کرتے۔تین آدمیوں کی اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا ایک جو ایسے لوگوں کا امام بن بیٹھے کہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں دوسرا وہ شخص جو نماز کا وقت گزرنے کے بعد نماز پڑھنے آئے تیسرا وہ جو کسی آزاد مرد یا عورت کو غلام بنالے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ،حدیث نمبر٥٩٣
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو ۔ (ابو داؤد شریف،کتاب الصلاۃ، بَابٌ : إِمَامَةُ الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ،حدیث نمبر ٥٩٤)
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر حضرت ابن ام مکتوم کو امامت پر مقرر فرمایا حالانکہ وہ نابینا تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ الْأَعْمَى،حدیث نمبر٥٩٥
ابوعطیہ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہماری اس نماز پڑھنے کی جگہ میں تشریف لائے اور نماز کھڑی ہونے لگی تو ہم نے ان سے کہا کہ آگے کھڑے ہوکر نماز پڑھائیے۔انہوں نے ہم سے فرمایا کہ نماز پڑھانے کے لیے اپنے میں سے کسی آدمی کو آگے کرو اور میں تم سے ابھی تک ایک حدیث بیان کروں گا کہ میں کیوں تمہیں نماز نہیں پڑھاتا۔میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی قوم سے ملنے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ الزَّائِرِ،حدیث نمبر٥٩٦
ابراہیم نے ہمام سے روایت کی ہے کہ حضرت حذیفہ نے مدائن میں ایک دکان میں کھڑے ہو کر امامت کرنے لگے تو حضرت ابومسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے انہیں قمیص سے پکڑ کر کھینچا۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ لوگ اس بات سے منع کیے جاتے تھے؟کہا کیوں نہیں جب آپ نے کھینچا تو مجھے یہ بات یاد آئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَقُومُ مَكَانًا أَرْفَعَ مِنْ مَكَانِ الْقَوْمِ،حدیث نمبر٥٩٧
عدی بن ثابت انصاری سے ایک آدمی نے بیان کیا جو مدائن میں حضرت عمار بن یاسر کے ساتھ تھا تو نماز کھڑی ہونے لگی پس حضرت عمار آگے آگئے اور ایک دکان پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے ۔حضرت حذیفہ آگے بڑھے اور ان کے ہاتھ پکڑ کر حضرت عمار کو نیچے اتار لیا ۔جب حضرت عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت حذیفہ نے ان سے کہا ۔کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی لوگوں کی امامت کرے تو لوگوں سے اونچی جگہ پر نہ کھڑا ہو یا ایسے ہی الفاظ فرمائے ۔حضرت عمار نے کہا کہ جب آ پ نے میرے ہاتھ پکڑے تو اسی لیے میں نے آ پ کی بات مان لی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَقُومُ مَكَانًا أَرْفَعَ مِنْ مَكَانِ الْقَوْمِ،حدیث نمبر٥٩٨
عبید اللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضرت معاذ بن جبل عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے اور اپنی قوم کے پاس جاکر پھر وہی نماز انہیں پڑھایا کرتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ مَنْ يُصَلِّي بِقَوْمٍ وَقَدْ صَلَّى تِلْكَ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٥٩٩
عمروبن دینار نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت معاذ بن جبل پہلے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ لیتے واپس جاکر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ مَنْ يُصَلِّي بِقَوْمٍ وَقَدْ صَلَّى تِلْكَ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٦٠٠
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو گر پڑے اور آپ کی داہنی کروٹ زخمی ہو گئی پس آپ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر پڑھی جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکھو کرو۔ جب وہ اٹھے تو تم بھی اٹھو۔جب وہ سمیع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربناولک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠١
اعمش سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ایک کھجور کی جڑ پر گرا دیا جس سے آپ کے پیر مبارک میں چوٹ لگ گئی۔ ہم آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ کو حضرت عائشہ کے حجرے میں بیٹھے ہوئے تسبیح پڑھتے پایا۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے رہے اور آپ نے ہم سے کلام نہ فرمایا ہم دوبارہ عیادت کے لیے حاضر ہوئے تو آپ بیٹھے ہوئے فرض نماز ادا فرما رہے تھے ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو آپ نے بیٹھنے کا اشارہ فرمایا جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو اور جب امام کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور ایسے نہ کرو جو ایرانی سرداروں کے لئے کرتے ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٢
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور اس سے پہلے تکبیر نہ کہا کرو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور اس سے پہلے رکوع نہ کیا کرو اور جب وہ سمیع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہا کرو۔ مسلم نے کہا ولک الحمد اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اس سے پہلے سجدہ نہ کیا کرو اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھاکرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اللھم ربنا لک الحمد میرے بعض ساتھیوں نے مجھے سلیمان سے روایت کرتے ہوئے سمجھایا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٣
صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔اس جز کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ اضافہ ہے اور جب وہ قرآن مجید پڑھے تو تم خاموش رہو یہ محفوظ نہیں ہے اور ہمارے نزدیک یہ ابو خالد کا وہم ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٤
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے میرے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی تو لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کیا کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھا لیا کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٥
ابو زبیر سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے، پس ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ تکبیر کہتے تاکہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دی جائےپھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٦
محمد بن صالح نے حضرت سعد بن معاذ کے صاحبزادے حصین سے روایت کی ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ امامت کیا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قیادت کے لیے تشریف لائے تو لوگ عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہ !ہمارے امام صاحب بیمار ہیں فرمایا کہ جب وہ بیٹھ کر پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر پڑھا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایاکہ یہ حدیث متصل نہیں ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٧
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے گھی اور کھجوریں پیش کی فرمایا کہ اسے اس کے برتن میں ڈال دو اور اسے اس کے مشکیزے میں کیوں کہ میں روزہ دار ہوں۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور ہمارے ساتھ نفل نماز دو رکعت پڑھیں تو حضرت ام سلیم اور حضرت ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں ثابت نے کہا کہ میرے علم کے مطابق حضرت انس نے فرمایا کہ مجھے آپ نے اپنے دائیں جانب پر کھڑا کیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ،حدیث نمبر٦٠٨
موسی بن انس سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے امامت کی تو ایک عورت کو ان کے دائیں جانب اور ایک کو ان کے پیچھے کھڑا کر لیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ،حدیث نمبر٦٠٩
عطا سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر میں رات گزاری تو رات میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مشکیزے کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس کا منہ بند کر دیا پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے چنانچہ میں بھی کھڑا ہوا آپ کی طرح وضو کیا پھر آکر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا آپ نے مجھے بائیں جانب سے پکڑا اور اپنے پیچھے سے نکال کر اپنی دائیں طرف کھڑا کر لیا پس میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ،حدیث نمبر٦١٠
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے اس واقعے کو روایت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے میرے سر یا میری زلفوں سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کھڑاکرلیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ،حدیث نمبر٦١١
عبداللہ بن ابو طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ان کی دادی جان حضرت مُلیکہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا جو انہوں نے تیار کیا تھا پس آپ نے اس میں سے کھایا پھر نماز پڑھی اور فرمایا کہ کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ میں اپنے ایک بوریے کی طرف اٹھا جو کثرت استعمال سے سیاہ ہو گیا تھا میں نے اسے پانی سے دھو دیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس پر کھڑے ہو گئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف بنا لیں اور بوڑھی اماں ہمارے پیچھے تھی آپ ہمیں دو رکعتیں پڑھ کر فارغ ہوگئے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً كَيْفَ يَقُومُونَ،حدیث نمبر٦١٢
عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ علقمہ اور اسود نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ہم ان کے دروازے پر کافی دیر بیٹھے رہے تو ایک لونڈی نکلی اس نے دونوں کے لیے اجازت طلب کی تو انہیں اجازت مل گئی پھر وہ کھڑے ہوئے اور میرے اور ان کے درمیان نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً كَيْفَ يَقُومُونَ،حدیث نمبر٦١٣
جابربن یزید بن اسود سے حضرت یزید بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی جب آپ فارغ ہوئے تو قبلہ کی جانب سے پھر گئے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَنْحَرِفُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ،حدیث نمبر٦١٤
عبید بن براء سے حضرات براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم آپ کے دائیں جانب ہونا پسند کرتے تا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پرنور چہرہ ہماری جانب ہوں۔( قربان جاؤں صحابہ کرام کے اس جزبہ پرکہ حبیب پروردگار کے شربت دیدار کی کے ہمہ وقت شائق رہتے تھے۔) ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَنْحَرِفُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ،حدیث نمبر٦١٥
عطاء خراسانی نےحضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا امام نے جس جگہ نماز پڑھائی ہے وہاں اور نماز نہ پڑھے بلکہ ہٹ جائے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عطاء خراسانی سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو نہیں پایا۔ (یعنی ان سے ملاقات ثابت نہیں) ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَتَطَوَّعُ فِي مَكَانِهِ،حدیث نمبر٦١٦
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جب امام نماز پوری کر کے قعدہ میں بیٹھا ہو اور کلام کرنے سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی نماز پوری ہوگئی اور جن مقتدیوں نے اس کی پیچھے ساری نماز پڑھی ہے ان کی نماز بھی پوری ہوگئی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُحْدِثُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ،حدیث نمبر٦١٧
محمد بن حنفیہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی کنجی طہارت ہے تکبیر (ابتدائی تکبیر)اس کی تحریم اور سلام کرنا (آخر میں دونوں جانب) اس کی تحلیل ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُحْدِثُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ،حدیث نمبر٦١٨
حضرت معاویہ بن ابوسفیان تعالی عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رکوع اور سجدہ کرنے میں مجھ سے آگے نہ نکل جایا کرو کیوں کہ اگر میں رکوع میں پہلے چلا جاؤں تو تم مجھے پالوگے اور اسی طرح جب سر اٹھاؤں کیوں کہ میرا جسم اب بھاری ہو گیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦١٩
عبداللہ بن یزید حطمی نے خطبہ دیتے ہوئے حضرت براءرضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی جو جھوٹے نہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ لوگ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے رہتے جب دیکھتے کہ حضور سجدے میں چلے گئے ہیں تب سجدے میں جاتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦٢٠
عبد الرحمن بن ابو لیلی سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم میں سے اس وقت تک کوئی اپنی پیٹھ کو نہ جھکا تا جب تک نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو رکوع میں نہ دیکھ لیا کرتا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦٢١
محارب بن دثار سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن یزید کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث بیان کی کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو حضور رکوع میں چلے جاتے تو وہ جاتے اور جب سمیع اللہ لمن حمدہ کہہ لیا جاتا تو برابر کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کی مبارک پیشانی کو زمین پر دیکھ لیتے پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیروی میں سجدہ کرتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦٢٢
محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس بات سے نہیں ڈرتا جب کہ وہ سجدےسےاپنا سر اٹھا لیتا ہے حالانکہ امام سجدے میں ہوتا ہے کہ اس کا سر گدھے جیسا ہو جائے یا وہ گدھے کی صورت میں تبدیل ہو جائے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِيمَنْ يَرْفَعُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَوْ يَضَعُ قَبْلَهُ،حدیث نمبر٦٢٣
مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی ترغیب دی اور لوگوں کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے واپس لوٹنے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ يَنْصَرِفُ قَبْلَ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦٢٤
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ایک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٥
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک کپڑے کے ساتھ اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس میں سے اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٦
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کے دونوں کنارے ان کی مخالفت کندھوں پر ڈال لیا کرے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٧
ابو امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ اس کے دونوں کنارے ان کے مخالف کندھوں پر ڈالے۔ (یعنی کپڑا لپیٹ کر جسم چھپا لینا چاہیے) ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٨
قیس بن طلق سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت طلق بن علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ایک آدمی آکر عرض گزار ہوا کہ یا نبی اللہ! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق کیا ارشاد ہے?پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے تہبند اور چادر کو ایک دوسرے پر منطبق کر کے دونوں کو اپنے اوپر لپیٹ لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاکہ کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٩
ابو حازم سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے کتنے ہی آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے تنگی کے باعث اپنی ازاریں گردنوں کے پیچھے باندھی ہوئی تھیں نماز میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے لڑکوں کی طرح ایک کہنے والے نے کہا اے عورتوں کے گروہ! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرو جب تک مرد نہ اٹھا لیا کریں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَعْقِدُ الثَّوْبَ فِي قَفَاهُ ثُمَّ يُصَلِّي،حدیث نمبر٦٣٠
ابو صالح نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کپڑے سے نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَى غَيْرِهِ،حدیث نمبر٦٣١
موسی بن ابراہیم سے روایت ہے ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ! میں شکاری آدمی ہوں لہذا ایک کپڑے میں نماز پڑھ لیا کروں؟فرمایا ہاں لیکن اسے باندھ لیا کرو خواہ کانٹے کے ساتھ ہی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر٦٣٢
امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح کہا ابو حرص،محمد بن عبدالرحمن بن ابوبکر سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر نے فرمایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہماری امامت کی اور قمیص کے علاوہ ان کے اوپر چادر بھی نہ تھی جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایک قمیص میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر٦٣٣
عباد بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلا تو نماز پڑھنے کھڑا ہوا اور میرے اوپر ایک چادر تھی میں اس کے دونوں کناروں کو الٹنے لگا لیکن ان میں اتنی گنجائش نہ تھی لیکن اس میں کنارے لگے ہوئے تھے میں نے لپیٹ کر اس کے دونوں کناروں کو باندھ دیا اور جھک گیا کہ مبادا گرجائے پھر میں آکر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گھماتے ہوئے آپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا ۔پھر ابن سخر آکر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گئے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھے کن انکھیوں سے دیکھتے رہے جسے میں سمجھ نہ سکا،پھر سمجھا تو آپ نے مجھے ازار باندھنے کا اشارہ فرمایا۔جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایااے جابر!میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں حاضر ہوں۔فرمایا کہ جب کپڑے میں وسعت ہوتو دونوں کنارے مخالف کندھوں پر ڈال لیا کرو اور جب تنگ ہوتو اسے کمرے سے باندھا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا يَتَّزِرُ بِهِ،حدیث نمبر٦٣٤
نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا یا یہ کہا کہ حضرت عمر نے فرمایا۔ جب تمہارے پاس دو کپڑے ہوں تو ان کے ساتھ نماز پڑھا کرو اور جب ایک ہی کپڑا ہو تو اسے تہبندکی طرح باندھ لو اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکایا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ من قال يَتَّزِرُ بِهِ إِذَا كَانَ ضَيِّقًا ،حدیث نمبر٦٣٥
عبد اللہ بن بریدہ کے والد ماجد نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چادر کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا جب کہ اسے لپیٹا نہ جائے اور شلوار کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرما یا جب کہ آدمی کے اوپر چادر نہ ہو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ من قال يَتَّزِرُ بِهِ إِذَا كَانَ ضَيِّقًا ،حدیث نمبر٦٣٦
ابوعثمان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو نماز میں ازراہِ تکبر اپنی ازار کو لٹکائے گا تو اللہ تعالی کو اس کی حلال و حرام کی کوئی پرواہ نہیں۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس کو روایت کیا ایک جماعت نے عاصم سے حضرت ابن مسعود پر موقوف کرتے ہوئے ان میں سے حماد بن یزید ،ابو الاحوص اور ابو معاویہ بھی ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَاب الاسبال في الصلوة،حدیث نمبر٦٣٧
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ایک آدمی ازار لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اسے فرمایا جاؤ وضو کرو۔ وہ وضو کر کے آیا تو فرمایا۔جاؤ وضو کرو۔وہ گیا اور پھر وضو کرکے آیا تو فرمایا۔جاؤوضو کرو۔ایک شخص عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!آپ نے اسے کس وجہ سے وضو کرنے کا حکم فرمایا ہے؟فرمایا کہ یہ تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالی اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو تہبند لٹکائے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَاب الاسبال في الصلوة،حدیث نمبر٦٣٨
محمد بن زید بن قنفذ نے اپنی والدہ ماجدہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم دوپٹے اور لمبے کرتے کے ساتھ نماز پڑھتی ہیں جو پیروں کے اوپر والے حصوں کو چھپا لیتا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَمْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ،حدیث نمبر٦٣٩
حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا عورت کرتے اور دوپٹے سے نماز پڑھ سکتی ہے جب کہ اس کے جسم پر تہبند نہ ہو؟فرمایا کہ جب کرتا اتنا لمبا ہو کہ پیروں کے ظاہری حصے کو چھپالے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث کو مالک بن انس ،عکرمہ بن مضر ،حفغ بن غیاث،اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب،ابن اسحاق نے محمد بن زید ان کی والدہ ماجدہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا اور کسی ایک نے بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا نام نہیں لیا بلکہ اسے حضرت ام سلمہ پر موقوف کیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَمْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ،حدیث نمبر٦٤٠
صفیہ بنت حارث نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ جوان عورت کی نماز قبول نہیں فرماتا مگر دوپٹے کے ساتھ ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے سعید یعنی ابن ابوعروجہ،قتادہ،حسن نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرسلا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْمَرْأَةِ تُصَلِّي بِغَيْرِ خِمَارٍ،حدیث نمبر٦٤١
ایوب نے محمد سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا حضرت صفیہ ام طلحہ کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھ کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تشریف فرما ہوئے اور وہاں ایک لڑکی تھی تو آپ نے اپنی لنگی میری جانب پھینکتے ہوئے مجھ سے فرمایا کہ اس کے دوبرابر حصے کرکے ایک اس لڑکی کو دےدو اور دوسرا حصہ اس لڑکی کو جو ام سلمہ کے پاس ہے کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں جوان ہوچکی ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے ہشام نے بھی محمد بن سیرین سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْمَرْأَةِ تُصَلِّي بِغَيْرِ خِمَارٍ،حدیث نمبر٦٤٢
ابراہیم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل (کپڑا لٹکانے)اور منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٦٤٣
ابن جریج کا بیان ہے کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے نہیں دیکھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ: عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٦٤٤
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحاف میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد (معاذ) کو شک ہوا ہے (کہ حضرت عائشہ نے لفظ: شعرنا کہا، یا: لحفنا ) ۔ (سنن ابو داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : الصَّلَاةُ فِي شُعُرِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر ٦٤٥)
حضرت ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے،اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو حضرت ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ غصہ سے حضرت بورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : الرَّجُلُ يُصَلِّي عَاقِصًا شَعْرَهُ،حدیث نمبر ٦٤٦)
کریب مولیٰ ابن عباس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے اپنے سر کے پیچھے بالوں کا گچھا باندھا ہوا تھا یہ ان کے پیچھے کھڑے ہوکر اسے کھولنے لگے اور وہ خاموش رہے جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت ابن عباس اس کی جانب متوجہ ہو کر کہا کہ آپ نے میرے سر کو ہاتھ کیوں لگایا؟کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے نماز میں کسی کے ہاتھ پیچھے باندھ ہوئے ہوں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي عَاقِصًا شَعْرَهُ،حدیث نمبر٦٤٧
ابن سفیان سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے فتح مکہ کے روز نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے نعلین مبارک اتارے بائیں جانب سے ۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٤٨
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ نے سورہ المومنون کی تلاوت شروع کر دی یہاں تک کہ جب حضرت موسی اور حضرت ہارون یا حضرت موسی و حضرت عیسی کے ذکر پر پہنچے۔ابن عباد کو اس میں شک ہے یا شیوخ نے اختلاف کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو کھانسی آئی تو قراءت کو چھوڑ کر رکوع کیا اور حضرت عبداللہ بن سائب اس وقت وہاں موجود تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٤٩
ابونضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے اپنے نعلین مبارک اتار دیے اور انہیں بائیں جانب رکھ دیا جب لوگوں نے یہ بات دیکھی تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نماز مکمل کرلیں تو فرمایا کہ تم نے کس وجہ سے اپنے جوتے اتارے؟عرض گزار ہوئے کہ ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنے نعلین مبارک اتار دیے لہذا ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں نجاست لگی ہوئی ہے۔ فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے اور اپنے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی دیکھے تو اسے رگڑ دے اور ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٥٠
حضرت بکر بن عبداللہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسے روایت کرتے ہوئے کہا۔دونوں میں نجاست تھی فرمایا کہ دونوں جگہ لفظ نجاست ہے ۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٥١
حضرت شداد بن اوس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کی مخالفت کرو کیوں کہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٥٢
عمروبن شعیب ان کے والد ماجد ان کے جد امجد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ننگے پیر اور نعلین مبارک پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٥٣
یوسف بن ماہک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے دائیں جانب نہ رکھے اور نہ بائیں جانب کیونکہ وہ دوسرے آدمی کی دائیں جانب ہے مگر یہ کہ اس کے بائیں جانب کوئی آدمی نہ ہو اور چاہیے کہ انہیں اپنے دونوں پیروں کے درمیان میں رکھ لے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْمُصَلِّي إِذَا خَلَعَ نَعْلَيْهِ أَيْنَ يَضَعُهُمَا،حدیث نمبر٦٥٤
سعید بن ابو سعید کے والد ماجد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو جوتے اتار کر ان کے ذریعے دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے لہذا انہیں اپنے دونوں پیروں کے درمیان میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْمُصَلِّي إِذَا خَلَعَ نَعْلَيْهِ أَيْنَ يَضَعُهُمَا،حدیث نمبر٦٥٥
عبداللہ بن شداد سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے اور میں حالت حیض کے اندر آپ کے برابر ہوتی جب آپ سجدے میں جاتے تو کبھی آپ کا کپڑا مجھ سے لگ بھی جاتا اور آپ بورئیے پر نماز پڑھا کرتے ۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْخُمْرَةِ،حدیث نمبر٦٥٦
انس بن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک انصاری عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ!میں موٹا آدمی ہوں اور موٹاپے کے باعث آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا،اس نے آپ کے لیے کھانا تیار کروایا اور اپنے گھر آپ کی دعوت کی۔تاکہ آپ نماز پڑھیں اور میں آپ کا نماز پڑھنا دیکھ کر پیروی کروں۔پس انہوں نے آپ کے لیے بوریئے کا ایک کنارا دھویا۔آپ کھڑے ہو گئےاور دورکعتیں پڑھیں۔فلاں بن جارود نے حضرت انس بن مالک سے دریافت کیا کہ کیا حضور چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟فرمایا کہ میں نے تو کبھی اسے پرھتے نہیں دیکھا سوائے اس دن کے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ،حدیث نمبر٦٥٧
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب ام سلیم سے ملنے جاتے اور نماز کا وقت ہو جاتا تو ہمارے فرش پر نماز پڑھ لیتے جو بوریئے کا تھا اور اسے پانی سے دھو دیا جاتا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ،حدیث نمبر٦٥٨
ابوعون اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بوریئے اور دباغت کیے ہوئے چمڑے پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ،حدیث نمبر٦٥٩
بکر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ شدت کی گرمی میں نماز پڑھا کرتے جب ہمارے لیے زمین پر اپنی پیشانی رکھنا مشکل ہو جاتا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیا کرتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَسْجُدُ عَلَى ثَوْبِهِ،حدیث نمبر٦٦٠
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦١)
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو۔ یہ (جملہ آپ نے تاکید کے طور پر) تین بار کہا۔ اللہ کی قسم تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں پھوٹ ڈال دے گا ،راوی کہتے ہیں: تو میں نے آدمی کو اپنے ساتھی کے مونڈھے سے مونڈھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتے دیکھا۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٢)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے،جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں(اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا)یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہوگیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٣)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے(یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے)اور فرماتے تھے:(صفوں سے)آگے پیچھے مت ہونا،ورنہ تمہارے دل مختلف ہوجائیں گے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٤)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست فرماتے،پھر جب ہم لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ الله أكبر کہتے۔ (سنن ابی داؤد شریف، کتاب الصلاۃ،بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ (قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ (کثیر بن مرہ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے)کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو،اور (صفوں کے اندر کا) شگاف بند کرو،اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لينوا بأيدي إخوانکم کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد شریف، کتاب الصلاۃ ،بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوف،حدیث نمبر ٦٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو،اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو،اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابُ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٧)
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست رکھو کیوں کہ صف کی درستگی تکمیل نماز میں سے ہے(یعنی اس کے بغیر نماز ناقص رہتی ہے) (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٨)
صاحب مقصورہ(محمد بن مسلم بن سائب)کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بغل میں نماز پڑھی،تو انہوں نے کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا علم نہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے: برابر ہوجاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٩)
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے،پھر (نمازیوں کی طرف) متوجہ ہوتے،اور فرماتے: سیدھے ہوجاؤ، اپنی صفیں درست کرلو ،پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں درست کرلو ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٧٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے ۔ ( سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٧١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٧٢)
عبد الحمید بن محمود سے روایت ہے کہ میں نے جمعہ کی نماز حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ پڑھی ۔پس ہمیں(ہجوم)نے ستون کی جانب دھکیل دیا تو ہم ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہو گئے۔حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں ہم اس بات سے بچا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصُّفُوفِ بَيْنَ السَّوَارِي،حدیث نمبر٦٧٣
ابومعمر نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سن رسیدہ لوگ میرے نزدیک رہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں،پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الْإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ،حدیث نمبر٦٧٤
علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھرمزکورہ حدیث کی طرح روایت کی۔یہ زیادہ ہے آگے پیچھے نہ رہا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دیاجائے گا اور بازاروں کی طرح شور مچانے سے بچا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الْإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ،حدیث نمبر٦٧٥
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی دائیں جانب کھڑے ہونے پر اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں کی طرف سے رحمت نازل ہوتی ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الْإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ،حدیث نمبر٦٧٦
عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے کہ حضرت ابومالک اشعری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں ؟فرمایا کہ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلے مردوں نے صفیں بنائیں اور ان کے پیچھے لڑکوں نے صف پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی،پھر آپ کی نماز کا ذکر کیا پھر فرمایا کہ نماز یہ ہوتی ہے۔عبدالاعلی نے کہا کہ میرے خیال میں فرمایا کہ میری امت کی نماز یہ ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَقَامِ الصِّبْيَانِ مِنَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٧٧
سہیل بن ابوصالح کے والد ماجد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی ہے اور سب سے بری پچھلی ہے اور عورتوں کی بہتر صف پچھلی اور بری سب سے اگلی ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ صَفِّ النِّسَاءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ،حدیث نمبر٦٧٨
ابوسلمہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ پہلی صف سے ہمیشہ تاخیر کرتے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں جہنم میں پیچھے کردے گا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ صَفِّ النِّسَاءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ،حدیث نمبر٦٧٩
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو ان سے فرمایا کہ آگے آجاؤ اور میری پیروی کرو تاکہ بعد والی تمہاری پیروی کریں اور لوگ ہمیشہ پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں جہنم میں ڈال دےگا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ صَفِّ النِّسَاءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ،حدیث نمبر٦٨٠
یحییٰ بن بشیر بن خلاد کی والدہ ماجدہ محمد بن کعب قرظی کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام کو درمیان میں کھڑاکرو اور خالی جگہوں کو پر کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَقَامِ الْإِمَامِ مِنَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٨١
عمروبن راشد نے حضرت وابصہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف سے پیچھے اکیلا نماز پڑھتے دیکھا تو اسے دہرانے کا حکم فرمایا۔سلیمان بن حرب کا بیان ہے کہ نماز۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي وَحْدَهُ خَلْفَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٨٢
حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رکوع میں تھے ان کا بیان ہے کہ میں نے صف سے پیچھے ہی رکوع کرلیا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی تمہاری حرص کو بڑھائے لیکن آئندہ ایسا نہ کرنا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَرْكَعُ دُونَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٨٣
زیاد اعلم نےحسن سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ آئے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رکوع میں تھے انہوں نے صف سے پیچھے ہی رکوع کرلیا اور پھر چل کر صف میں شامل ہو گئے۔جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کرلی تو فرمایا۔تم میں سے صف سے پرے کس نے رکوع کیا اور پھر چل کر صف میں ملا؟حضرت ابوبکرہ عرض گزار ہوئے کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہاری حرص کو زیادہ کرے لیکن آئندہ نہ کرنا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَرْكَعُ دُونَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٨٤
موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد ماجد حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر بھی کوئی چیز رکھ لوگے تو کوبھی تمہارے سامنے سے گزرے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ،حدیث نمبر٦٨٥
حسن بن علی،عبدالرزاق،ابن جریج سے عطا نے فرمایا کہ پچھلی لکڑی ایک ہاتھ یا اس سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ،حدیث نمبر٦٨٦
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب عید کے روز نکلے تو آپ نے نیزے حکم فرمایا جو آپ کے سامنے کھڑا کیا گیا آپ نے اس کی جانب نماز پڑھی ۔اور لوگ آ کے پیچھے تھے اور سفر میں بھی آپ ایسا ہی کیا کرتے پھر حکام نے اسے اپنا لیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ،حدیث نمبر٦٨٧
عون بن ابو حجیفہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بطحاء میں نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے نیزہ تھا۔ظہر کی دورکعتیں اور عصر کی دورکعتیں نیزے کے پرے سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ،حدیث نمبر٦٨٨
ابوعمرو بن محمد بن حریص نے اپنے دادا جان سے سنا جو حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے۔اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی کھڑی کرے اگر لاٹھی نہ ملے تو اپنے سامنے خط کھینچ لے۔پھر اسے سامنے سے گزرنے والا کوئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا،حدیث نمبر٦٨٩
بنی عزرہ کے ایک شخص ابومحمد بن عمروبن حریث کے جد امجد حریث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ابو القاسم محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا پھر خط والی حدیث ذکر کی کی۔سفیان نے کہا کہ ہم ایسی کوئی چیز نہیں پاتے جس سے اس حدیث کو مضبوط کریں۔ صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔ ابن مدینی نے سفیان سے کہا کہ لوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں تو انہوں نے تھوڑی دیر سوچ کر فرمایا کہ مجھے تو ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے سفیان نے کہا کہ اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے اس بزرگ ابومحمد کو تلاش کیا تو پا لیا تو اس سے بات غلط ملط ہوگئی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے خط کی کیفیت کے بارے میں کئی دفعہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے مسدد کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابن داؤد نے خط کو طول میں بتایا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا،حدیث نمبر٦٩٠
سفیان بن عیینہ نے فرمایا کہ میں نے شریک کو دیکھا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ جنازے کی نماز پڑھی پھر جب عصر کی فرض نماز پڑھی تو اپنی ٹوپی کو اپنے سامنے رکھ لیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا،حدیث نمبر٦٩١
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اونٹ کی طرف نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ إِلَى الرَّاحِلَةِ،حدیث نمبر٦٩٢
ضباعہ بنت مقداد بن اسود سے روایت ہے ان کے والد ماجد حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کسی لکڑی، ستون یا درخت کی جانب نماز پڑھی ہو مگر اسے اپنے دائیں یا دوسرے ابر کے بالمقابل رکھا اور اسے آپ نے بالکل سامنے نہیں رکھا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِذَا صَلَّى إِلَى سَارِيَةٍ أَوْ نَحْوِهَا أَيْنَ يَجْعَلُهَا مِنْهُ،حدیث نمبر٦٩٣
محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سوئےہوئے اور باتیں کرنے والے کی جانب نماز نہ پڑھا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ إِلَى الْمُتَحَدِّثِينَ وَالنِّيَامِ،حدیث نمبر٦٩٤
،نافع بن جبیر نے حضرت سہل بن ابوحثمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی سترے کی جانب نماز پڑھے تو اس کے نزدیک رہے تاکہ شیطان اس کی نماز کو نہ توڑ سکے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے واقد بن محمد،صفوان،محمد بن سہل نے اپنے والد ماجد سے یا محمد بن سہل نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے۔بعض حضرات نے کہا کہ نافع بن جبیر نے حضرت سہل بن سعد سے اور اس کی اسناد میں اختلاف ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الدُّنُوِّ مِنَ السُّتْرَةِ،حدیث نمبر٦٩٥
عبدالعزیز بن ابوحازم کے والد ماجد نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ کے درمیان بکری کی گزرگاہ کے برابر فاصلہ ہوتا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ خبر نفیلی کی ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الدُّنُوِّ مِنَ السُّتْرَةِ،حدیث نمبر٦٩٦
عبدالرحمن بن ابوسعید خدری نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے جہاں تک ہوسکے اسے روکے اور اگر باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٦٩٧
عبدالرحمن بن ابوسعید خدری نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے سترہ کی جانب نماز پڑھنی چاہیے اور اس سے نزدیک رہے۔پھر باقی حدیث معنا بیان کی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٦٩٨
سلیمان بن دربان ابوعبیدہ کا بیان ہے کہ میں نے عطاء بن یزید لیثی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔میں ان کے سامنے گزرنے لگا تو انہوں نے مجھے رکنے کہہ دیا۔پھر فرمایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تم میں سے کسی کو اپنے اور قبلہ کے درمیان گزرنے سے روک سکتا ہے تو وہ ایسا کرے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٦٩٩
ابوصالح کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا اور ان سے سنا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ مروان کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم سے کوئی سترہ کی جانب نماز پڑھے پھر کوئی سامنے سے گزرنا چاہے تو اسے اس کے سینے میں مارے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٧٠٠
بسر بن سعید کو زید بن خالد جہنی نے حضرت ابوجہیم کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق کیا فرمایا ہے۔حضرت ابوجہیم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانے کہ اس پر کتنا گناہ لازم آیا تو وہ چالیس سال تک کھڑے رہنے کو نمازی کے سامنے سے گزرجانے کی نسبت بہتر شمار کرے۔ابونضر نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ حضور نے چالیس دن فرمائے یا مہینے یا سال۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ مِنَ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي،حدیث نمبر٧٠١
عبداللّٰہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔حضرت حفص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو توڑ دیتی ہے۔دونوں نے سلیمان سے روایت کی کہ حضرت ابوذر نے فرمایا کچھ چیزیں آدمی کی نماز کو توڑ دیتی ہیں جہاں اس کی پالان کی پچھلی لکڑی جتنی چیز نہ ہو وہ گدھا،سیاہ کتا،اور عورت ہیں۔میں عرض گزار ہوا کہ کالے،زرداور سفید کتے میں کیا فرق ہے؟فرمایا کہ بھتیجے!جیسے تم نے پوچھا میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا کہ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٢
جابر بن یزید نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی۔شعبہ مرفوعاً روایت کی کہ حضور نے فرمایا حائضہ عورت اور کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ سعید اور ہشام اور ہمام نے قتادہ،جابر بن یزید،حضرت ابن عباس سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٣
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:کہ جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہوجاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہوجائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا (سوائے معاذ کے) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ (یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے ۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٤
حضرت یزید بن نمران سے روایت ہے کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا تو اس نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر گزرا جبکہ آ پ نماز پڑھ رہے تھے۔آپ نے کہا کہ اے الله!اس کی چال کاٹ دے اس کے بعد میں گدھے پر سوار ہو کر نہ چل سکا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٥
حیاۃ نے سعید سے اپنی سند کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا اس نے ہماری نماز کو توڑا اللہ تعالی نے اس کے پیر توڑے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مسہر نے سعید سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ہماری نماز کو توڑا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٦
سعید بن غزوان نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ وہ حج کے ارادے سے تبوک میں اترے ہوئے تھے تو انہوں نے ایک اپاہج کو دیکھ کر اس سے اس بارے میں پوچھا اس نے کہا کہ میں آپ کو اس کا ماجرا بتا دیتا ہوں لیکن آپ جو مجھ سے سنیں وہ میریں زندگی میں کسی کو نہ بتائیں۔بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تبوک میں ایک کھجور کے پاس اترے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارا قبلہ ہے پھر آپ نے اس کی جانب نماز پڑھی۔میں لڑکا تھا اور دوڑتا ہوا حضور کے اور کھجور کے درمیان سے گزر گیا۔آپ نے فرمایا کہ اس نے ہماری نماز کو توڑا تو اللہ تعالی نے اس کے پیروں کو توڑا لہٰذا میں آج تک ان پر کھڑا نہیں ہوسکا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٧
عمر بن شعیب سے ان کے والد محترم نے اور ان سے ان کے والد ماجد نے فرمایا کہ ہم اذاخر کی گھاٹی سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ گزرے تو نماز کا وقت ہوگیا تو آپ نے ایک دیوار کو قبلے کی جانب رکھتے ہوئے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے۔ ایک مویشی آیا اور آپ کے سامنے سے گزرنے لگا آپ اسے روکے رہے یہاں تک کہ اپنا شکم مبارک دیوار سے لگادیا یا۔پس وہ آپ کے پیچھے سے گزر گیایا جیسے مسدد نے کہا۔ ابوداؤد كتاب الصلاة،بَابٌ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ،حدیث نمبر٧٠٨
سلیمان بن حرب اور حفص بن عمر،شعبہ،عمروبن مرہ،یحی بن جزار،حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ۔پس ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اسے روکا۔ ابوداؤد كتاب الصلاة،بَابٌ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ،حدیث نمبر٧٠٩
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان ہوتی۔ شعبہ نے کہا کہ میرے خیال میں انہوں نے فرمایا کہ میں حائضہ تھی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا اسے روایت کیا ہے زہری اور عطااور ابو بکر بن حفص اورہشام بن عروہ اور عراک بن مالک اور ابو الاسود اور تمیم بن سلمہ نے عروہ بن زبیر کے واسطے سے حضرت عائشہ صدیقہ سے۔ ابراھیم نے اسود کی واسطے سے حضرت عائشہ صدیقہ سے ابوالضحی نے مسروق کے واسطے سے حضرت عائشہ صدیقہ سے قاسم بن محمد اور ابو سلمہ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ میں حائضہ تھی۔ ابوداؤد كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٠
ہشام بن عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھا کرتے تو میں آ پ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی جس پر آ پ آرام فرمایا کرتے تھے۔یہاں تک کہ جب آپ وتر پڑھتے تو مجھے وتر پڑھنے کے لیے جگادیا کرتے۔ ابوداؤد كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١١
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ تم نے برا کیا جو ہمیں گدھے اور کتےکے ساتھ رکھا حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آ پ نماز پڑھتے اور میں آپ کے سامنے لیٹی رہتی جب آ پ سجدے کا ارادہ فرماتے تو میرے پیر کو دبا دیتے ۔پس میں اسے سمیٹ لیتی،پھر آپ سجدہ کرلیتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٢
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں سوئی ہوئی ہوتی اور میرے دونوں پیر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتے جب کہ آپ رات کو نماز پڑھتے۔جب آپ سجدہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو میرے پاؤں پر ضرب لگاتے تو میں اسے سمیٹ لیتی اور آپ سجدہ کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٣
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے قبلے کی جانب سوجاتی۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں آ پ کے سامنے ہوتی ۔جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے۔عثمان نے یہ بھی کہا کہ مجھے دبادیتے تو میں سرک جاتی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٤
عبید اللہ بن عبد اللہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ میں ایک گدھے پر آیا۔قعنبی مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ایک گدھی کے اوپر سوار ہو کر آیا اور ان دنوں میں قریب البلوغ تھااور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے پس میں کچھ صف کے سامنے سے گزرا، گدھے سے اترا اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور صف میں شامل ہو گیا اس بات کا کسی نے بھی برا نہیں منایا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ الفاظ قعنبی کے ہیں اور یہ سب سے مکمل ہیں۔ امام مالک نے فرمایا کہ جب نماز کھڑی ہو جائے تو میرے نزدیک اس میں وسعت ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: الْحِمَارُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٥
ابوصہباء سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے پاس ہم گفتگو کررہے تھے کہ کیا چیز نماز کو توڑتی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا گدھاپر سوار ہوکر آئے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔پس وہ اترا اور میں بھی اتر پڑا اور گدھے کو ہم نے صف کے آگے چھوڑ دیا اور کوئی مضائقہ نہ سمجھا ۔نیز بنی عبدالمطلب کی دولڑکیاں آئیں اور صف کے درمیان میں داخل ہوگئیں اور کوئی قباحت محسوس نہ کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: الْحِمَارُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٦
جریر نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ منصور سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ بنی عبدالمطلب کی دولڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں تو انہیں پکڑلیا گیا۔عثمان نے کہا کہ انہیں جدا کردیا گیا۔داؤد نے کہا کہ ایک دوسری سے اتر گئی اور کوئی مضائقہ نہ سمجھا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: الْحِمَارُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٧
عباس بن عبید اللہ بن عباس نے فضل بن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے جنگل میں تھے۔آپ کے ساتھ حضرت عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔پس آپ نے کھلے جنگل میں نماز پڑھی جبکہ آپ کے سامنے سترہ بھی نہیں تھا اور ہماری گدھی اور کتیا آپ کے سامنے پھر رہی تھیں۔آ پ نے اس میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: الْكَلْبُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٨
ابووداک نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی اور گزرنے والوں کو حتی الامکان روکوکہ وہ شیطان ہے ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ،حدیث نمبر٧١٩
ابووداک سے روایت ہے کہ قریش کا ایک نوجوان حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سامنے سے گزرا جب کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے اسے ہٹا دیا۔وہ پھر آیا،یہاں تک کہ انہوں نے تین دفعہ ہٹایا۔جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حتیٰ الامکان اسے روکو کیوں کہ وہ شیطان ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث دونوں جانب ہیں تو دیکھا جائے گا کہ آپ کے بعد صحابہ کرام کا عمل کس بات پر رہا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ،حدیث نمبر٧٢٠
سالم کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ کندھوں کے برابر ہو جاتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے اور دونوں سجدوں کے درمیان نہ اٹھاتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢١
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے پھر تکبیر کہتے اور وہ اسی طرح ہوتے ۔پس رکوع کرتے۔پھر جب سیدھے کھڑے ہونے کے ارادہ کرتے تو انہیں کندھوں تک اٹھاتے پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور سجدوں میں ہاتھ نہ اٹھاتے اور رکوع سے پہلے آپ جو تکبیر کہتے اس میں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہوجاتی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٢
وائل بن علقمہ سے روایت ہےکہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ تکبیر تحریمہ کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے پھر چھپا لیے پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑا اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا۔ راوی کا بیان ہے کہ جب آپ رکوع کا ارادہ فرماتے تو دونوں ہاتھوں کو نکال کر اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھانے کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے پھر سجدہ کرتے اور اپنے مبارک چہرے کو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان رکھتےاور جب سجدوں سے سر مبارک اٹھاتے تو اس وقت بھی رفع یدین کرتے یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہو جاتے۔ محمد بن حجادہ کا بیان ہے کہ میں نے اس کا محمد بن ابوالحسن سے ذکر کیا تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نماز یہی ہے ۔کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ہمام نے ابن حجادہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے تو وہ سجدوں کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٣
عبد الجبار بن وائل کا بیان ہے کہ میرے گھر والوں نے میرے والد محترم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تکبیر کے وقت ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٤
عبد الجبار بن وائل نے اپنے والد محترم حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کندھوں کے برابر ہوتے اور انگوٹھے کانوں سے لگ جاتے تو تکبیر کہا کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٥
حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دل میں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ان کا بیان ہے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو قبلے کی جانب منہ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ وہ کانوں تک پہنچ گئے پھر بائیں دست مبارک کو دائیں دست اقدس سے پکڑا جب رکوع کا ارادہ فرمایا تو حسب سابق ہاتھ اٹھائے پھر اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے جب رکوع سے سر اٹھایا تو مثل سابق ہاتھ اٹھائے جب سجدے میں گئے تو سر مبارک کو دونوں ہاتھوں کے درمیان میں رکھا۔پھر بیٹھے تو بائیں پیر کو بچھا لیا اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور دائیں کہنی کو دائیں ران سے جدا رکھا اور چھوٹی دو انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنا لیا اور میں نے انہیں یہی فرماتے ہوئے دیکھا اور بشر بن مفضل نے انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٦
زائد نے عاصم بن کلیب سے اپنی سند کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے کہا۔پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا اور پہنچا اور کلائی بھی۔اسی روایت میں کہا کہ پھر ایک مدت کے بعد میں سخت سردی کے دنوں میں حاضر ہوا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے اوپر کپڑے ہوتے اور کپڑوں کے اندر اپنے ہاتھوں کو حرکت دیا کرتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٧
حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب نمآز شروع کرتے تو کانوں کی لو تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ان کا بیان ہے کہ پھر میں حاضر خدمت ہوا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ سینوں تک اٹھاتے اور ان کے اوپر جبے اور کمبل وغیرہ ہوتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٨
علقمہ بن وائل سے روایت ہے کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔میں موسم سرما کے اندر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے اصحاب کو دیکھا کہ نماز میں کپڑوں کے اندر رفع یدین کیا کرتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٩
محمد بن عمروبن عطاء کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں حضرت ابو سعید ساعدی سے سنا جن میں حضرت ابوقتادہ بھی تھے حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نماز کو میں آپ حضرات کی نسبت زیادہ جانتا ہوں۔ انہوں نے کہا خدا کی قسم یہ کس طرح؟جب کہ نہ آپ کو پیروی کرتے ہم سے زیادہ عرصہ گذرا اور نہ آپ نے صحبت کا شرف ہم سے زیادہ پایا۔ انہوں نے کہا کہ بات ہے یہی سب نے کہا کہ بیان تو کیجئے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے پھر تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ قرار پکڑ جاتی۔پھر قرآت پڑھتے پھر تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہاتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور برابر رکھتے کہ سر کو نہ اونچا رکھتے اور نہ نیچے جھکاتے پھر سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے پھر سیدھے ہوکر اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے اور اپنے بازؤں کو کروٹوں سے جدا رکھتے پھرسر اٹھاتے اور بائیں پیر کو بچھاکر اس پر بیٹھ جاتےاور سجدے کے وقت پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر دوسرا سجدہ کرتے پھر اللہ اکبر کہتے تھے اور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر لوٹ جاتی۔پھردوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔پھر جب دورکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے جیسے نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی تھی۔پھر اپنی باقی نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ سجدہ کرلیتے جس کے بعد سلام پھیرنا ہے تو بائیں پیر کو باہر نکال لیتے اور بائیں پہلو پر جم کر بیٹھتے۔سب نے کہا۔آپ نے سچ فرمایا کیوں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٠
محمد بن عمرو بن طلحہ کا بیان ہے کہ عمرو عامری نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اصحاب کی مجلس میں تھا تو انہوں نے حضور کی نماز کا ذکر کیا۔حضرت ابوحمیدہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔پھر اس حدیث کے بعض حصے ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔جب رکوع کرتے تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر جما لیتے اور انگلیوں کے درمیان فاصلہ رکھتے کمر کو سیدھا کیا سر کو اوہ اٹھائے یا ادھر ادھر جھکائے بغیر اور فرمایا کہ جب دورکعت پر قعدہ کیا تو بائیں پیر کے تلوے پر بیٹھے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھا اور جب چوتھی پر بیٹھے تو اپنا بایاں پہلو زمین پر رکھا اور دونوں قدم مبارک ایک جانب نکال لیے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣١
محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے کہا جب سجدہ کیا تو اپنے بازو زمین پر نہ بچھائے اور نہ انہیں اکٹھا کیا اور اپنی انگلیوں کے سرے قبلے کی جانب رکھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٢
محمد بن عمرو بن عطاء نے جو بنی مالک کے ایک فرد تھے عباس یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت کی ہے کہ وہ اسی مجلس میں تھے جس میں ان کے والد ماجد تھے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور جس میں حضرت ابوہریرہ،حضرت ابوحمید ساعدی اور حضرت ابواسید بھی تھے تو کم وبیش یہی حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں یہ بھی فرمایا۔پھر رکوع سے سر اٹھایا توسمع الله لمن حمده الهم ربنا لك الحمدکہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے،پھر کہا اللہ اکبر ،پس اپنی دونوں ہتھیلیوں،دونوں گھٹنوں اور دونوں پیروں کی انگلیوں کو زمین پر جمایا جبکہ آپ نے سجدہ کیا۔پھر تکبیر کہی اور پہلو پر بیٹھ گئے اور دوسرے پیر کو کھڑا رکھا۔پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا پھر تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور پہلو پر نہ بیٹھے۔پھر باقی حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا۔پھر دورکعتوں کے بعد بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے پھر آخری دورکعتیں بھی پڑھ لیں اور تشہد میں تورک (پہلو پر بیٹھنے)کا ذکر نہ فرمایا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٣
عباس بن سہل سے روایت ہے کہ حضرت ابوحمید،حضرت ابواسید،حضرت سہل بن سعد اور حضرت محمد بن مسلمہ اکٹھے ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا۔حضرت ابوحمیدہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کا آپ سے زیادہ علم ہے پس انہوں نے اس حدیث کی بعض باتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا پھر رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا انہیں پکڑلیا ہے اور دونوں کو وتر بناتے ہوئے کروٹوں سے جدا رکھا۔ فرمایا کہ پھر سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی ٹکائی اور اپنے بازو کو کروٹوں سے علیحدہ رکھے اور اپنی ہتھیلیاں کندھوں کے برابر رکھیں پھر سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر آ گئی یہاں تک کہ فارغ ہوگئے پھر بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور بائیں پیر کی انگلیاں قبلہ رو رکھتے ہوئے کھڑا کر لیا اور دائیں ہتھیلی دائیں گھٹنے پر اوربائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر رکھ لی اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔ امام ابوداؤد نے فرمایاکہ روایت کیا ہے اس حدیث کو کو عتبہ بن ابو حکیم، عبداللہ بن عیسیٰ، عباس بن سہل نے اور تورک کا ذکر نہیں کیا۔فلیج نے بھی اس طرح ذکر کیا ہے حسن بن حجر نے بیٹھنے کا ذکر فلیج اور عتبہ کی طرح کیا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٤
عباس بن سہل سے ساعدی نے حضرت ابوحمید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا کہ جب سجدہ کیا تو اپنی رانوں کے درمیان فاصلہ رکھا اور شکم مبارک کا ذرا بھی حصہ رانوں پر نہ رکھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے ابن مبارک،فلیج،عباس بن سہل نے کہ ابن مبارک کو اچھی طرح یاد نہیں رہا۔غالبا ان سے عیسیٰ بن عبداللہ نے ذکر کیا اور انہوں نے عباس بن سہل سے سنا کہ میں حضرت ابو حمید ساعدی کی خدمت میں حاضر تھا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٥
عبدالجبار بن وائل کے والد ماجد نے اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرمایاکہ جب سجدہ کیا تو زمین پر اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب سجدہ کیا تو اپنی پیشانی ہتھیلیوں کے درمیان رکھی اور بغلیں کھلی رکھیں۔حجاج اور ہمام، شقیق، عاصم بن کلیب کے والد ماجد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی ہے ان میں سے ایک کی حدیث میں ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یہ ہے کہ جب آپ اٹھتے تو اپنے گھٹنوں کے بل اٹھتےاور اپنی رانوں پر بوجھ ڈالتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٦
۔عبدالجبار بن وائل کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز میں اپنے دونوں انگوٹھے کانوں کی لو تک اٹھایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٧
ابوہریرہ نے میمون مکی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا اور ان کے ساتھ نماز پڑھی تو وہ اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے جب کھڑے ہوتے جب رکوع کرتے جب سجدہ کرتے اور جب کھڑے ہونے لگتے جب وہ کھڑے ہوجاتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے پس میں حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا کہ کسی دوسرے کو اس طرح پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور انہیں ان اشاروں کے متعلق بتایا۔انہوں نے فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو عبد اللہ بن زبیر جیسی نماز پڑھو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٩
نضر بن کثیر بن سعدی سے روایت ہے کہ مسجد خیف کے اندر عبداللّٰہ بن طاؤس نے میرے پہلو میں نماز پڑھی جب انہوں نے پہلا سجدہ کرکے اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھ چہرے تک بلند کیے میں نے اس بات کا انکار کیا ۔اور وہیب بن خالد سے کہا۔وہیب بن خالد نے ان سے کہا کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں جو میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ؟اںن طاؤس نے کہا کہ میں نے اپنے والد ماجد کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا۔میرے والد محترم نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور میرے خیال میں انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٤٠
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب رکوع کرلیتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور جب دو رکعت سے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ تک مرفوع کرتے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر کا قول مرفوع نہیں ہے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ باقی حضرات نے اس کے پہلے حصے کو عبید اللہ سے روایت کرتے ہوئے مستند کیا۔اور ثقفی نے عبیداللہ سے سے روایت کرتے ہوے حضرت ابن عمر پر موقوف کیا اور اس میں کہا۔جب دورکعتوں سے کھڑے ہوتے تو انہیں چھاتیوں تک اٹھاتے اور صحیح یہی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے لیث بن سعد اور مالک اور ایوب اور ابن جریج نے مرفوعاً اور صرف حماد بن سلمہ نے اسے ایوب سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ایوب اور مالک نے اس کا مرفوعاً روایت کیا کہ جب سجدوں سے کھڑے ہوتے جب کہ لیث نے اپنی حدیث میں ذکر کیا ہے۔ابن جریج نے اس میں کہا کہ میں نافع سے عرض گزار ہوا کہ کیا حضرت ابن عمر پہلی تکبیر میں زیادہ اونچے ہاتھ اٹھاتے تھے؟فرمایا کہ نہیں بلکہ برابر۔میں عرض گزار ہوا کہ بتائیے تو انہوں نے چھاتیوں تک اشارہ کیا اور یا اس سے بھی نیچے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٤١
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے رفعهما دون ذلك (انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے)کا ذکر نہیں کیا ہے, ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٤٢
محارث بن دثار نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دورکعتوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٣
عبیداللہ بن ابو رافع نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب فرض نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب قرآت سے فارغ ہوتے تو اسی طرح کرتے جبکہ رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے اٹھتے اور نماز میں کسی اور جگہ پر نہ اٹھاتے جبکہ بیٹھے ہوئے ہوتے اور جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو اسی طرح دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور تکبیر کہتے۔امام ابوداؤد نے فرمایاکہ ابوحمید ساعدی کی حدیث میں ہے جب کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کا حال بیان کیا کہ جب دورکعتوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی تھی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٤
نصر بن عاصم سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ اٹھاتے دیکھا جبکہ تکبیر تحریمہ کہتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کانوں کی لو تک پہنچ جاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٥
بشیر بن نہیک سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ابن معاذ نے یہ بھی کہا کہ لاحق کہا کرتے۔بھلا وہ نماز میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کس طرح آگے ہوسکتے تھے؟موسی نے یہ بھی کہا کہ جب تکبیر کہتے تو ہاتھوں کو اٹھاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٦
علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی۔پس تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے۔ جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھوں کو ملا کر گھٹنوں کے درمیان میں رکھے جب حضرت سعد بن ابی وقاص کو یہ بات پہونچی تو فرمایا۔میرے بھائی نے سچ کہا ہے،ہم ایسا ہی کیا کرتے تھے پھر،ہمیں حکم فرمایا گیا کہ گھٹنوں پر رکھا کریں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٧
علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والی نماز نہ پڑھاؤں ؟راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے نماز پڑھائی اور ایک دفعہ کے سوا اپنے ہاتھ نہ اٹھائے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٤٨
حسن بن علی،معاویہ اور خالد بن عمرو اور ابوحذیفہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہوئے کہا۔پہلی دفعہ ہی ہاتھ اٹھائے اور بعض نے کہا کہ ایک ہی مرتبہ اٹھائے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٤٩
عبدالرحمن بن ابولیلی نے حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے اور پھر ایسا نہ کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٥٠
عبداللہ بن محمد زہری،سفیان نے یزید سے حدیث شریک کے مطابق روایت کی لیکن یہ نہیں کہا کہ پھر ایسا نہ کرتے سفیان نے کہا ہم سے کوفے میں کہا گیا کہ پھر ایسا نہ کرتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اس حدیث کو ہشیم اور خالد اور ابن ادریس نے یزید سے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ پھر ایسا نہ کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٥١
عبدالرحمن بن ابولیلی سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے اور فارغ ہونے تک پھر نہیں اٹھائے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے یعنی درجہ صحت پر فائز نہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٥٢
سعید بن سمعان سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اونچا اٹھاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٥٣
زرعہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قدموں کو برابر رکھنا اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھنا سنت ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٥٤
ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھ رہے تھے بائیں ہاتھ کو داہنے پر رکھے ہوئے۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٥٥
ابوجحیفہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔نماز میں ایک ہتھیلی کا دوسری پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔(اس حدیث کو حدیث رسول کے بدخواہوں نے اپنے مطبوعہ نسخوں سے خارج کیا ہوا ہے۔) ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٥٦
جریر ضبیی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا(گٹا) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے فوق السرة (ناف کے اوپر) مروی ہے اور ابومجلز نے تحت السرة (ناف کے نیچے) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٧٥٧،
ابو وائل کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا (سنت ہے) ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٧٥٨،)
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٧٥٩)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملک لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدک ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بک وإليك تبارکت وتعاليت أستغفرک وأتوب إليك میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر پر ظلم کیا، مجھے اپنے ذنب کا اعتراف ہے، تو میرے ذنوب کی مغفرت فرما، تیرے سوا ذنوب کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان برے اخلاق کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیری قدرت میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ، اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: اللهم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت خشع لک سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے)، اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کرلیا) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر ۔ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره و تبارک الله أحسن الخالقين اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے ۔ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے تمام وہ کام جو میں نے کئے، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر ٧٦٠)
عبیداللہ بن ابو رافع نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور اسی طرح کرتے جب قرآت ختم کرکے رکوع کا ارادہ فرماتے اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ایسا ہی کرتے اور بیٹھے ہوئے کسی موقع پر رفع یدین نہ کرتے اور جب دورکعتیں پڑھ لینے کے بعد کھڑے ہوتے تو اسی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے تکبیر کہتے اور دعا کرتے۔دعاکے متعلق کم وبیش حدیث عبدالعزیز کے مطابق لین ولخیرکلہ فی دیک والشرلیس الیک،،کا ذکر نہیں کرتے بلکہ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ نماز سے فارغ ہونے پر کہتے۔اے اللہ بخش دے جو میں نے پہلے کیا اور جو بعد میں کروں اور جو کچھ کر چھپ کر کیا اور جو علانیہ کیا۔تومیرا معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر تو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦١
عمرو بن عثمان،شریح بن یزید،شعیب بن ابوحمزہ نے کہا کہ مجھ سے ابن منکدر اور ابن ابی فروہ وغیرہ مدینہ منورہ کے فقہاء نے فرمایا کہ جب تم اس دعا کو پڑھو تو انا اول المسلمین کی جگہ انا من المسلمین کہا کرو یعنی میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٢
حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نماز کے لیے آیا اور اس کا سانس پھولا ہوا تھا اس نے کہا٫٫اللہ اکبر الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ،،جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے ہیں اور اس نے کوئی بری بات نہیں کہی اس آدمی نے کہا یا رسول اللّٰہ!میں نے میں حاضر ہوا تو میرا سانس پھولا ہوا تھا پس میں نے وہ کہے ۔فرمایا کہ میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ انہیں اٹھانے کے لیے دوڑ رہے تھے۔حمید نے اس میں یہ بھی کہا ۔جب تم میں سے کوئی آئے تو حسب معمول چلے پس جتنی نماز مل جائے پڑھ کے اور جتنی رہ جائے تو پوری کرلے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٣
ابن جبیر بن مطعم نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ایک نماز پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا۔عمرو نے کہا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ کونسی نماز تھی پس کہا٫٫اللہ اکبر الحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃواصیلا ،،تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم من نضخہ ونفثہ وہمزہ،، فرمایا کہ نفث اس کی لغویات نفخ ہے اس کا تکبر اور ہمزہ اس کے وسوسے ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٤
نافع بن جبیر کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نفلی نماز کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٥
عاصم بن حمید سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز کس چیز کے ساتھ شروع فرمایا کرتے تھے انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھے سے ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے بھی نہیں پوچھی ہے۔جب حضور کھڑے ہوتے تو دس دفعہ اللہ اکبر،دس دفعہ استغفر اللہ کہا کرتے اور کہتے اے الله!مجھے بخش دے اور مجھے ہدایت پر رکھ اور مجھے روزی دے اور مجھے عافیت سے رکھ اور قیامت کے روز کھڑے ہونے کی تنگی سے پناہ مانگتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے خالد بن معدان،ربیعہ جرشی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے اسی طرح۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٦
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کس چیز کے ساتھ نماز شروع کرتے جب کہ رات کو قیام فرمایا کرتے تھے؟فرمایا کہ حضور جب رات کو کھڑے ہوتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کرتے۔اے اللہ ! جبرئیل میکائیل اور اسرافیل کے رب ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے چھپی اور ظاہری چیزوں کے جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرماتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔اختلافی باتوں میں مجھے اپنے حکم سے حق کی ہدایت فرما۔تو جسے چاہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٧
محمد بن رافع،نوح،قرار،عکرمہ نے اپنی سند کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے کہا جب آپ کھڑے ہوتے تو تکبیر کے بعد کہتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٨
قعنبی نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ نماز کے شروع ،درمیان یا آخر میں دعا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں خواہ نماز فرض ہو یا دوسری۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٩
یحییٰ زرقی سے ان کے والد ماجد حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم ایک روز رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو کہا سمع اللہ لمن حمدہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والوں میں سے ایک آدمی نے کہا اللھم ربناولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا ابھی ابھی یہ کلمات کس نے کہے ؟اس آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیس سے اوپر فرشتوں کو لپکتے دیکھا کہ کون انہیں سب سے پہلے لکھتا ہے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧٠
طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رات میں نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے ۔اے اللہ!سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو آسمانوں اور زمین کا قائم رکھنے والا ہے اور تعریف تیری ہے تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان میں ہے تو سچا ہے تیری بات سچی ہے تیرا وعدہ سچا ہے اور تیری ملاقات سچی ہے اور جنت ودوزخ اور قیامت حقیقت ہیں۔اے اللہ!میں تیرا تابع فرمان ہوا تیرے ہی لیے جگھڑے کیے ،تیری طرف سے حکم کیا پس بخش دے جو میں نے تقدیم و تاخیر کی اور خفیہ یا علانیہ کیا تو میرا معبود ہے،نہیں ہے کوئی معبود مگر تو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧١
قیس بن سعد طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تہجد میں تکبیر یعنی اللہ اکبر کے بعد کہتے ۔پھر پہلی حدیث کی طرح معنا روایت کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧٢
معاذ بن رفاعہ بن رافع سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی پس حضرت رفاعہ کو چھینک آئی ۔قتیبہ نے حضرت رفاعہ نہیں کہا پس میں نے کہا٫٫الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى،،.جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو نماز میں بولنے والے سے فرمایا۔پھر حدیث مالک کی طرح بیان کیا بلکہ اس سے مکمل۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧٣
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے انصار کے ایک نوجوان کو چھینک آئی تو اس نے کہا٫٫الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتی يرضى ربنا وبعد مایرضی من امر الدنیا والآخرۃ،،.جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ان لفظوں کا کہنے والا کون ہے ؟راوی کا بیان ہے کہ نوجوان خاموش رہا پھر فرمایا کہ یہ کلمات کس نے کہے ؟اس نے بری بات نہیں کہی وہ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ!وہ میں نے کہے اور ان کے ساتھ میرا ارادہ نہیں تھا مگر بھلائی کا ۔فرمایا کہ وہ کلمات اللہ تعالی کے عرش سے نیچے کہیں نہ ٹھہرے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧٤
ابومتوکل ناجی سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رات کو قیام کرتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد کہتے٫٫سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك والإله غيرك،،پھر تین مرتبہ کہتے٫٫لاالہ الا اللہ،،پھر تین مرتبہ کہتے اللہ اکبر کبیرا اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفسہ پھر قرآت پڑھتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ علی بن علی نے حسن سے مرسلا روایت کی ہے اس میں جعفر کو وہم ہوا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى الِاسْتِفْتَاحَ بِسُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ،حدیث نمبر٧٧٥
ابوالجواز سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے٫٫سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا الہ غيرك،،.امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالسلام سے یہ حدیث مشہور نہیں ہے اسی لیے طلق بن غنام کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور نماز کے واقعے کو بدیل سے کافی لوگوں نے روایت کیا ہے لیکن اس بات کا ذکر کسی نے نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى الِاسْتِفْتَاحَ بِسُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ،حدیث نمبر٧٧٦
حسن نے حضرت سمرہ سے روایت کی ہے کہ نماز میں مجھے دو سکتے یاد رہے ہیں۔ایک جب امام تکبیر تحریمہ کہہ لے تو قرآت شروع کرنے سے پہلے اور دوسرے جب فاتحہ اور سورت پڑھ لے یعنی رکوع میں جاتے وقت۔راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمران بن حصین نے اس بات کا انکار کیا تو انہوں نے مدینہ منورہ کو ایک خط حضرت ابی بن کعب کے لیے لکھا۔حضرت ابی نے حضرت سمرہ کی تصدیق فرمائی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس کے بارے میں ایسا ہی حمید نے کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت ہے جب قرآت سے فارغ ہو جائے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٧٧
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم دومقامات پر کھڑے ہوتے ایک جب نماز شروع کرتے اور دوسرے جب قرآت سے بالکل فارغ ہوجاتے ۔یونس نے معنا اس کا ذکر کیاہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٧٨
حسن سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین نے مذاکرہ کیا۔پس حضرت سمرہ بن جندب نے کہا کہ انہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دوسکتے یاد ہیں ایک تکبیر تحریمہ کے بعد اور دوسرا جب غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین کہہ کر فارغ ہو جائے حضرت سمرہ کو یہی یاد تھا اور حضرت عمران نے انکار کیا پس دونوں نے اس بارے میں حضرت ابی بن کعب کے لیے لکھا انہوں نے دونوں کو جواب دیتے ہوئے بتایا کہ سمرہ کو صحیح یاد یے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٧٩
قتادہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ حضرت سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے میں نے دوسکتے یاد رکھے ہیں۔اس سلسلے میں سعید نے کہا ہم قتادہ کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ وہ سکتے کونسے ہیں؟فرمایا کہ ایک نماز شروع کرتے وقت اور دوسرا قرآت سے فارغ ہونے کے بعد ۔پھر فرمایا کہ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہنے کے بعد۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٨٠
ابو زرعہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہہ لیتے تو تکبیر اور قرآت کے درمیان خاموش رہتے میں عرض گزار ہوا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان،میں آپ کو تکبیر اور قرآت کے درمیان خاموش دیکھا کرتا ہوں،مجھے بتائے کہ آپ کیا کہتے ہیں؟فرمایا کہ یہ کہتا ہوں٫٫اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ،،۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٨١
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان الحمد للّہ رب العالمین سے قرآت شروع فرمایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»،حدیث نمبر٧٨٢
ابوالجواز سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ سے نماز شروع کرتے اور قرآت الحمدللہ رب العالمین سے اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے اور نہ نیچے جھکاتے بلکہ اس کے درمیان رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ کھڑے نہ ہو جاتے اور جب ایک سجدے سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے اور ہر دورکعت کے بعد التحیات پڑھتے اور جب بیٹھتے تو بائیں پیر کو بچھا لیتے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے نیز جانوروں کی طرح بازوں کو بچھانے سے منع فرماتے اور نماز کو سلام کے بعد ختم کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»،حدیث نمبر٧٨٣
مختار بن فلفل نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی۔ پس آپ نے پڑھا٫٫بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انا اعطیناک الکوثر۔آخر تک فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے۔لوگ عرض گزار ہوئے کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا وہ جنت میں میں ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»،حدیث نمبر٧٨٤
عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے بہتان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے،مبارک چہرے سے کپڑا ہٹا کر پڑھا۔اعوذ بالله من الشيطان الرجيم إن الذين جاؤوا بالافك عصبه منكم(24:11)امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے۔اس حدیث کو زہری سے کتنے ہی حضرات نے روایت کیا ہے لیکن اس کلام کو وشرح کا ذکر نہیں کیا۔مجھے ڈرہے کہ تعوا کی بات حمید کا کلام ہے یعنی آیت سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم روایت کرنا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»،حدیث نمبر٧٨٥
حضرت ابن عباس سے روایت ہےکہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ آپ کو اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا کہ سورہ برآت جومئین(ایسی سورت جس ایک سو زائد آیات ہو)سے ہے آپ نے اسے سورہ انفال سے پیچھے کر دیا۔جو مثانی میں سے ہے اور اسے سات لمبی سورتوں میں شامل کردیا اور ان دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر نہیں لکھی۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیتیں نازل ہوئیں تو اپنے کسی کاتب کو بلاکر اس سے فرماتے کہ اسے فلاں سورت کی فلاں جگہ لکھ دو اور آپ پر ایک یا دو آیتیں نازل ہوتیں تو اسی طرح فرماتے سورۂ انفال پہلے نازل ہوئی مدینہ منورہ میں اور سورہ برآت آخر میں نازل ہونے والے قرآن کریم سے ہے اور دونوں کے مضامین میں مشابہت ہے۔پس میں نے گمان کیا کہ یہ اسی سے ہے۔بایں وجہ میں نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا اور ان کے درمیان بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کی سطر نہ لکھی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ جَهْربھا،حدیث نمبر٧٨٦
یزید فارسی نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے مذکورہ حدیث کو معنا روایت کیا ہے اس میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو لیکن ہم سے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ سورہ برآت سورہ انفال کا حصہ ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ شعبی،ابومالک،قتادہ اور ثابت بن عمارہ کا ارشاد ہے کہ سورہ نمل کے نازل ہونے تک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھا کرتے تھے یہ اس ارشاد کا مفہوم ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ جَهْربھا،حدیث نمبر٧٨٧
قتیبہ کے لفظوں میں سعد بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سورتوں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نازل ہو گئی۔یہ ابن سرح کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ جَهْربھا،حدیث نمبر٧٨٨
حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ اسے خوب لمبی پڑھوں گا۔پس میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو مختصر کردیتا ہوں کیوں کہ اس کی ماں کی تنگی مجھے ناپسند ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ لِلْأَمْرِ يَحْدُثُ،حدیث نمبر٧٨٩
حضرت جابر رضی اللہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چناچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں)معاذ نے آکر ہماری امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورة پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) : تم سبح اسم ربک الأعلى ، والليل إذا يغشى پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ : فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٧٩٠) حدیث ٢ کا ترجمہ:عبدالرحمن بن جابر نے حضرت حزم بن کعب سے روایت کی ہے کہ میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا جب کہ وہ لوگوں کو نماز مغرب پڑھا رہے تھے۔اسی خبر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے معاذ فتنے میں ڈالنے والے نہ بنو کیوں کہ تمہارے پیچھے بوڑھے،کمزور،ضرورت مند اور مسافر بھی نماز پڑھتے ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩١
ابوصالح نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا۔تم نماز میں کیا کہتے ہو؟وہ عرض گزار ہوا کہ میں نماز میں کہتا ہوں کہ اے اللہ!میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ کی اور حضرت معاذ کی دعا کا پتہ نہیں لگتا ۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم بھی اسی کے ارد گرد دعا مانگتے ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩٢
عبداللہ بن مقسم نے حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حضرت معاذ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نوجوان سے فرمایا۔اے بھتیجے تم نماز میں کیسے کرتے ہو ؟عرض گزار ہوئے کہ میں سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں اور اللہ تعالی سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ چاہتا ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ آپ اور حضرت معاذ کیا دعا مانگتے ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور معاذ بھی ان دونوں باتوں کے گرد رہتے ہیں یا ایسا ہی کچھ فرمایا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩٣
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیوں کہ جماعت میں کمزور،بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی پڑھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩٤
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی رکھے کیوں کی ان میں بیمار زیادہ بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩٥
حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی نماز سے فارغ ہوکر لوٹتا ہے تو نہیں لکھا جاتا اس کے لیے مگر دسواں،نواں،آٹھواں،ساتواں،چھٹا،پانچواں،چوتھا،تیسرا اور نصف حصہ ثواب کا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،باب ماجا في نقصان الصلاة،حدیث نمبر٧٩٦
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوہریرہ. رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں (جہراً )سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ : مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر ٧٩٧)
حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھاتے تو پہلی دورکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دوسورتیں پڑھتے اور ایک آدھ آیت ہمیں بھی سنادیتے اور ظہر کی پہلی رکعت کو لمبی کردیتے اور دوسری کو مختصر رکھتے اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مسدد نے سورہ فاتحہ اور دوسری سورت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٧٩٨
عبداللہ بن ابوقتادہ نے اپنے والد ماجد حضرت ابو قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بعض حصے روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا۔آخری دورکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے۔ہمام سے روایت کرتے ہوئے کہا۔آپ پہلی رکعت کو لمبی کرتے اور دوسری رکعت کو اتنی لمبی نہ رکھتے اور اسی طرح نماز عصر میں کرتے اور ایسا ہی صبح کی نماز میں کیا جاتا ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٧٩٩
عبداللہ بن ابو قتادہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت ابو قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔پس ہم نے گمان کیا کہ اس سے آپ کا یہ ارادہ ہوتا کہ لوگ پہلی رکعت میں شامل ہو جائیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٨٠٠
ابومعمر سے روایت ہے کہ ہم حضرت خباب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ کیا ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قرآن مجید پڑھا کرتے تھے؟فرمایا کہ ہاں ہم عرض گزار ہوئے کہ آ پ حضرات کو اس کا کیسے پتہ لگتا تھا؟فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ریش مبارک ہلنے سے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٨٠١
محمد بن حجادہ سے ایک آدمی نے اور اس نے حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر کھڑے رہتے کہ پھر کسی کے قدموں کی آواز سنائی نہ دیتی ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٨٠٢
جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے کہا کہ لوگ ہر بات میں آپ کی شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی انہوں نے کہا کہ میں پہلی دورکعتوں کو لمبی رکھتا ہوں اور پچھلی دورکعتوں کو مختصر اور میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز جیسی پڑھنے میں حتی الامکان کوتاہی نہیں کرتا حضرت عمر نے کہا کہ آپ کے ساتھ مجھے بھی یہی حسن ظن ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَخْفِيفِ الْأُخْرَيَيْنِ،حدیث نمبر٨٠٣
ابوصدیق ناجی سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا۔پس ہمیں اندازہ ہوا کہ ظہر کی پہلی دورکعتوں میں آپ کا قیام تیس آیتوں یعنی سورہ الم سجدہ کے برابر تھا اور آخری دورکعتوں میں اس سے نصف اور ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ کی عصر کی پہلی دورکعتوں کا قیام ظہر کی پچھلی دورکعتوں کے برابر ہوتا اور عصر کی آخری دورکعتوں کا قیام اس سے نصف ہوتا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَخْفِيفِ الْأُخْرَيَيْنِ،حدیث نمبر٨٠٤
سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں سورہ الطارق،سورہ البروج اور ان جیسی کوئی سورت پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٥
سماک نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ جب سورج ڈھل جاتا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز ظہر ادا کرتے اور سورہ واللیل کے برابر کوئی سورت پڑھتے اسی طرح عصر اور دوسری نمازوں میں ماسوائے صبح کے کی اس میں لمبی قرآت پڑھاکرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٦
ابومجلز نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز ظہر میں (بوقت قیام)سجدہ کیا،پہر کھڑے ہو گئے۔پس رکوع کیا تو ہم نے جان لیا کہ آپ نے سورہ تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ابن عیسی کا قول ہے کہ معتمر کے سوا امیہ کا کسی نے بھی ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٧
عبداللہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوانوں کے ساتھ حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ہم میں سے ایک نوجوان نے کہا کہ حضرت حضرت ابن عباس سے پوچھیے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا کہ نہیں ان سے کہا گیا کہ شاید دل میں پڑھتے ہوں ۔فرمایا ہست تمہاری ،یہ تو پہلی بات سے بھی بری ہے۔حضور بندے تھے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پہچانے پر مامور تھے اور آپ نے ہمیں دوسرے لوگوں سے خاص نہیں کیا مگر تین باتوں میں یعنی پورا وضو کرنے،صدقہ نہ کھانے اور گدھے کو گھوڑی پر نہ چھڑانے کا حکم فرمایا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٨
عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے یا نہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٩
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث نے انہیں سورہ والمرسلات پڑھتے ہوئےسن کر فرمایا۔اے بیٹے!تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یادکروادی یہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنی۔آپ اسے مغرب میں پڑھاکرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٨١٠
محمد بن جبیر بن مطعم سے ان کے والد ماجد حضرت جبیر بن مطعم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مغرب کو سورۂ الطور پڑھتے ہوئے سنا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٨١١
عروہ بن زبیر نے مروان بن حکم سے روایت کی ہے کہ مجھ سے حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے جو مغرب میں بہت چھوٹی سورت پڑھتے ہو؟حالاں کی میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مغرب میں دو لمبی سورتیں پڑھاکرتے۔راوی کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ وہ دونوں لمبی سورتیں کونسی ہیں۔فرمایا کہ سورہ اعراف اور سورہ انعام اور ابن جریج نےابن ابی ملیکہ سے پوچھا تو اپنی طرف سے کہا کہ سورہ المائدہ اور سورہ الاعراف۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٨١٢
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد عروہ بن زبیر مغرب میں آپ کی طرح ہی پڑھا کرتے سورہ العادیات یا اس جیسی کوئی سورت۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلی بات منسوخ ہے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى التَّخْفِيفَ فِيهَا،حدیث نمبر٨١٣
عمروبن شعیب کے والد محترم سے ان کے والد ماجد نے فرمایا کہ کوئی مفصل سورت چھوٹی یا بڑی نہیں مگر میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں کی امامت کرتے ہوئے فرض نماز نماز میں اسے پڑھاکرتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى التَّخْفِيفَ فِيهَا،حدیث نمبر٨١٤
نزال بن عمار نے ابوعثمان نہدی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز مغرب پڑھی تو انہوں نے سوہ اخلاص کی تلاوت کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى التَّخْفِيفَ فِيهَا،حدیث نمبر٨١٥
معاذ بن عبداللہ جہنی کو جہنیہ کے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی ہر رکعت میں سورہ اذازلزلت الارض پڑھتے ہوئے سنا ۔پس یہ مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھول گئے تھے یا آپ نے دانستہ اس طرح پڑھا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الرَّجُلِ يُعِيدُ سُورَةً وَاحِدَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ،حدیث نمبر٨١٦
حضرت عمرو بن حریث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔گویا میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کی آواز سن رہا ہوں کہ آپ صبح کی نماز پڑھ رہے ہیں فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِي الْكُنَّسِ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْفَجْرِ(یعنی سورہ والشمس کی یہ آیت)،حدیث نمبر٨١٧
ابونضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ سورہ فاتحہ کے ساتھ جو قرآن کریم سے میسر آئے پڑھا کریں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨١٨
ابوعثمان نہدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ مجھ سے فرمایا۔جاکر مدینہ منورہ میں منادی کردو کہ قرآن مجید کے بغیر نماز نہیں ہوتی خواہ وہ سورہ فاتحہ اور اس سے کچھ زیادہ ہو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨١٩
ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرمایا مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منادی کرنے کا حکم فرمایا کہ نماز نہیں مگر سورہ فاتحہ اور کچھ زیادہ پڑھنے کے ساتھ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٠
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ ناقص ہے وہ ناقص ہے مکمل نہیں ہے میں(ابو سائب) عرض گزار ہوا کہ اے حضرت ابو ہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے بھی ہوتا ہوں۔ انہوں نے میری کلائی دباتے ہوئے فرمایا کہ اے فارسی! اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ نماز کو میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر لیا ہے آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے۔ اور میرے بندے کے لئے ہے جو اس نے مانگا پڑھو بندہ کہتا ہے الحمدللہ رب العالمین تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعریف کی۔ بندہ کہتا ہےالرحمن الرحیم تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ بندہ کہتا ہےمالک یوم الدین تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔بندہ کہتا ہے ایاك نعبد واياك نستعين تو اللہ تعالی فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ۔اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے مانگا۔بندہ کہتا ہےاهدناالصراط المستقیم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين تو یہ سب میرے بندے کے لیے ہے اور میرے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢١
محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا کہ اس کی نماز نہیں ہوتی۔جو سورۂ فاتحہ اور کچھ زیادہ نہ پڑھے۔سفیان کا قول ہے کہ یہ اس شخص کے لیے ہے جو تنہا نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٢
محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز فجر پڑھ رہے تھے۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قرآت پڑھی تو قرآت پڑھنے میں آپ کو دقت پیش آئی ۔جب فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا۔شاید تم امام کے پیچھے قرآت پڑھتے ہو؟ہم عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ!ہاں فرمایاکہ ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۂ فاتحہ کے کیوں کی جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٣
حضرت نافع بن محمود بن ربیع انصاری سے روایت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت صبح کی نماز کے لیے دیر سے پہنچے تو ابونعیم مؤذن نے اقامت کہی اور ابونعیم مؤذن لوگوں کو نماز پڑھانے لگے تو حضرت عبادہ آگے بڑھے اور میں ان کے ساتھ تھا،یہاں تک کہ ہم نے حضرت ابونعیم کے پیچھے صف بنالی۔ابونعیم آواز سے قرآت پڑھنے لگے تو حضرت عبادہ سورہ فاتحہ پڑھنے لگے جب فارغ ہوئے تو میں نے حضرت عبادہ سے کہا کہ میں نے آپ کو سورۂ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے اور ابونعیم آواز سے قرآت پڑھ رہے تھے کہا یہی بات ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ کوئی نماز پڑھی جس میں آواز سے قرآت پڑھی جاتی ہے تو قرآت میں آ پ کو رکاوٹ پیش آئی۔جب فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا جب میں آواز سے قرآت پڑھتا ہوں کیا تم بھی اس وقت پڑھتے ہم میں سے کوئی عرض گزار ہوا کہ ہم اسی طرح کرتے ہیں۔فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو میں کہہ رہا تھا کہ مجھے کیا ہوگیا کہ مجھ سے قرآن مجید چھینا جارہا ہے پس آواز سے قرآت کے وقت قرآن کریم سے کچھ بھی نہ پڑھا کرو مگر سورۂ فاتحہ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٤
مکحول نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ربیع بن سلیمان کی حدیث کے مانند روایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مکحول مغرب عشاء اور فجر کی ہر رکعت میں آہستہ سورۂ فاتحہ پڑھتے مکحول نے فرمایا کہ جب امام زور سے سورہ فاتحہ پڑھے تو سکتے کے وقت آہستہ پڑھ لیا کرو اگر سکتہ نہ کرے تو اس سے پہلے اس کے ساتھ یااس کے بعد پڑھ لولیکن کسی حالت میں ترک نہ کیا کرو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٥
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے جس میں قرآت پڑھی جاتی ہے تو فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ابھی میرے ساتھ قرآت کر رہا تھا؟ایک شخص عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہاں۔فرمایا میں کہتا تھا کہ مجھے کیا ہوا جو مجھ سے قرآن مجید چھینا جارہاہے۔راوی کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآت سے رک گئے جس نماز میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جہر سے قرآت پڑھتے جبکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ بات سن لی۔امام ابوداؤد نے فرمایاکہ ابن اکیمہ کی یہ حدیث کو معمر اور یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے معنا امام مالک کی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقِرَاءَةَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ،حدیث نمبر٨٢٦
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ میرے خیال میں وہ صبح کی نماز تھی۔پھر یہاں تک معنا روایت کی کہ مجھے کیا ہوگیا کہ مجھ سے قرآن مجید چھینا جا رہا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا۔مسدد کی حدیث میں ہے کہ معمر نے زہری سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا پس لوگ رک گئے اور عبداللہ بن محمد زہری نے عن بینھم کہا سفیان کا بیان ہے کہ زہری نے ایک لفظ کہا جو میں سن نہ سکا۔معمر نے کہا کہ انہوں نے فرمایا۔پس لوگ رک گئے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے روایت کیا عبدالرحمن بن اسحاق نے زہری سے اور اسے ان لفظوں پر ختم کیا مجھے کیا ہوگیا کہ مجھ سے قرآن مجید چھینا جا رہا ہے اور اوزاعی نے زہری سے روایت کرتے ہوئے اس میں کہا کہ زہری نے فرمایا کہ مسلمانوں کو اس سے نصیحت ہوگئی لہذا وہ آپ کے ساتھ قرآت نہ کرتے جس نماز میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہر سے پڑھتے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ محمد نے سنا محمد بن یحییٰ بن فارس سے کہ پس لوگ رک گئے یہ زہری کا کلام ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقِرَاءَةَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ،حدیث نمبر٨٢٧
حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی ایک آدمی نے آکر سورۂ سبح اسم الاعلیٰ پڑھی۔جب آ پ فارغ ہوئے تو فرمایا تم میں سے قرآت کس نے کی؟عرض گزار ہوئے کہ ایک آدمی نے فرمایا میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابوولید نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ شعبہ نے قتادہ سے کہا کہ٫٫قرآن مجید کے لیے خاموش رہا کرو،،کیا یہ سعید کا قول نہیں ہے؟فرمایا کہ یہ اس وقت ہے جب جہر سے پڑھا جائے۔ابن کثیر نے اپنی حدیث میں کہا کہ میں نے قتادہ سے کہا۔گویا حضور نے اسے ناپسند فرمایا۔فرمایا اگر یہ بات ناپسند ہوتی تو منع فرما دیتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ إِذَا لَمْ يَجْهَرِ الْإِمَامُ بِقِرَاءَتِهِ،حدیث نمبر٨٢٨
زرارہ نے حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی جب فارغ ہوئے تو فرمایا تم میں سے سبح اسم ربک الاعلیٰ کس نے پڑھا؟ایک آدمی عرض گزار ہوا کہ میں نے فرمایا میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑرہا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ إِذَا لَمْ يَجْهَرِ الْإِمَامُ بِقِرَاءَتِهِ،حدیث نمبر٨٢٩
محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے ہم میں اعرابی اور غیر اعرابی بھی تھے فرمایا کہ پڑھو سب اچھے ہو،عنقریب کچھ قومیں آئیں گی جو اسے اس طرح سیدھا کھڑا کریں گے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے پڑھنے میں جلدی کریں گے اور ذرانہیں ٹھہریں گے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣٠
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے فرمایاالحمد للہ کہ اللہ کی کتاب تو ایک ہے لیکن تم میں سرخ،سفید،اور سیاہ ہر قسم کے لوگ ہو اسے پڑھ لو اس سے پہلے کہ ایسی قومیں آئیں جو اسے سیدھا کریں جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے اس کا بدلہ دنیا میں کیں گے اور آخرت پر نہیں چھوڑیں گے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣١
ابراہیم سکسکی سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللّٰہ بن ابی اوفی نے فرمایا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔مجھے قرآن سے کچھ بھی یاد نہیں ہوتا لہذا ایسی چیز سکھا دیجیے جو اس کی جگہ کفایت کرے۔فرمایا کہ یوں کہا کرو۔ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!یہ تو اللہ تعالی کے لیے ہے پس میرےلیے کیا ہے؟فرمایا کہ یوں کہا کرو الھم ارحمنی وارزقنی وعافینی واھدنی جب وہ کھڑا ہوا تو ہاتھ کے اشارے سے اس نے کچھ کہا۔پس رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے اپنے ہاتھ کو بھلائی سے بھر لیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣٢
حسن سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ہم نفلی نمازوں کے اندر قیام وقعود میں دعا کرلیا کرتے اور رکوع اور سجود میں تسبیح پڑھا کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣٣
حماد کے حمید سے اس طرح روایت کی لیکن نفلی نمازوں کا ذکر نہیں کیا کہا کہ حسن ظہر اور عصر کی امامت کرتے ہوئے یا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ،تسبیح،تکبیر اور تہلیل کیا کرتے سورۂ ق یا سورہ الذاریات کی مقدار۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣٤
مطرف سے روایت ہے کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔جب انہوں نے سجدہ کیا تو تکبیر کہی جب رکوع کیا تو تکبیر کہی اور جب دورکعتوں سے اٹھےتب بھی تکبیر کہی۔جب ہم فارغ ہو گئے تو حضرت عمران نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا۔ایسی پہلے پڑھی جاتی تھی یا فرمایا کیا محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز اس سے پہلے ہمیں کسی نے ایسے پڑھالی۔ ابوداؤد شریف، كتاب پالصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ تَمَامِ التَّكْبِيرِ،حدیث نمبر٨٣٥
ابوبکر بن عبدالرحمن اور ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہر فرض اور دوسری نماز میں تکبیر کہا کرتے۔وہ تکبیر کہتے جب کھڑے ہوتے،پھر تکبیر کہتے،جب رکوع کرتے تو پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے پھر سجدہ کرنے سے ربنا و لک الحمد کہتے،پھر تکبیر کہتے جب سجدے کے لیے جھکتے،پھر تکبیر کہتے جب سر اٹھاتے پھر تکبیر کہتے جب دوبارہ سجدہ کرتے پھر تکبیر کہتے جب دوبارہ سر اٹھاتے،پھر جب دورکعتوں کے بعد اٹھتےتو تکبیر کہتے۔پس ہررکعت میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوکر فرماتے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری حرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ میری نماز آپ سب حضرات کی نماز سے مشابہت رکھتی ہے۔حضور کی نماز دنیا کو خیرآباد کہنے تک یہی تھی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی میں جو آخری کلام قرار دیا ہے مالک اور زبیدی وغیرہ نے زہری سے اور انہوں نے علی بن حسین سے موافقت کی ہے۔اس کی عبدالاعلی ،معمر، شعیب بن ابوحمزہ نہ زہری سے روایت کرتے ہوئے ابوداؤد شریف، كتاب پالصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ تَمَامِ التَّكْبِيرِ،حدیث نمبر٨٣٦
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ تکبیر پوری نہ کرتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا اس سے یہ مراد ہے کہ جب رکوع سے سر اٹھاتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو تکبیر نہ کہتے اور جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہ کہتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب پالصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ تَمَامِ التَّكْبِيرِ،حدیث نمبر٨٣٧
عاصم بن کلیب کے والد ماجد سے روایت ہے کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنوں کو ہاتھوں سے پہلے رکھتے اور جب اٹھتے تو ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب پالصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٨٣٨
حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پھر نماز کی حدیث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنوں کو زمین پر ہتھیلیوں سے پہلے رکھتے ہمام شقیق،عاصم بن کلیب کے والد ماجد نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کی حدیث میں غالباً محمد بن حجادہ کی حدیث میں ہے کہ جب آپ کھڑے ہوتے تو گھٹنوں کے بل رانوں کے سہارے اٹھتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٨٣٩
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے اور اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٨٤٠
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم میں سے کوئی اپنی نماز میں ایسے بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھا کرتا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٨٤١
ایوب سے روایت ہے کہ حضرت ابوقلابہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو سلیمان مالک بن حویرث ہماری مسجد میں آئے تو فرمایا کہ خدا کی قسم میں نماز پڑھاؤں گا اور نماز پڑھانے سے میرا ارادہ یہ ہے کہ میں آپ کو یہ دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے میں (ایوب)نے حضرت ابوقلابہ سے عرض کی کہ انہوں نے کیسے نماز پڑھائی ؟فرمایا کہ ہمارے بزرگ حضرت عمروبن سلمہ کی طرح جوان کے امام تھے اور ذکر کیا کہ جب وہ پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ النُّهُوضِ فِي الْفَرْدِ،حدیث نمبر٨٤٢
ایوب سے روایت ہے کہ حضرت ابوقلابہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو سلیمان مالک بن حویرث ہماری مسجد میں آئے تو فرمایا کہ خدا کی قسم نماز میں پڑھاؤں گا اور نماز پڑھانے سے میرا یہ ارادہ ہے کہ میں آپ کو یہ دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔راوی کا بیان ہے کہ وہ پہلی رکعت کے بعد بیٹھے جبکہ انہوں نے دوسرے سجدے سے سر اٹھایا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ النُّهُوضِ فِي الْفَرْدِ،حدیث نمبر٨٤٣
ابوقلابہ نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی وتر رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ النُّهُوضِ فِي الْفَرْدِ،حدیث نمبر٨٤٤
ابو زبیر نے طاؤس کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ سجود میں قدموں پر اقعاء(سیرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجوں کو کھڑا کرکے بیٹھنا)کا کیا حکم ہے؟فرمایا یہ سنت ہے ہم عرض گزار ہوئے کہ ہمیں تو یہ پیروں پر ظلم نظر آتا تھا۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ تمہارے نبی کی سنت ہے۔(صلی اللّٰہ علیہ وسلم) ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الْإِقْعَاءِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٤٥
عبید بن حسن سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتےسَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ سفیان ثوری اور شعبی بن حجاج نے عبید بن حسن سے اس حدیث کو روایت کیا ہے لیکن اس میں بعد رکوع نہیں ہے۔سفیان نے کہا کہ ہم ایک بزرگ سے ملے جو ابوالحسن کے غلام تھے تو انہوں نے اس میں رکوع کے بعد نہیں کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے شعبہ ،ابوعصمہ،اعمش نے عبید سے اور بعد الرکوع کہا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٨٤٦
حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو یہ بھی کہا کرتے اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ - قَالَ مُؤَمَّلٌ: مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ -، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْت محمود نے یہ بھی کہا ولا معطی لما منعت پھر سارے اس پر متفق ہو گئے ولا ینفع ذاالجد منک الجد۔ بشر نے کہا ربنالک الحمد اور محمود نے لفظ الھم نہیں کہا بلکہ کہا ربنا لک الحمد۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٨٤٧
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا و لک الحمد کہا کرو کیوں کہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے سے موافقت کر گیا اس کے سابقہ گناہوں کی مغفرت فرما دی جاتی ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٨٤٨
مطرف سے روایت ہے کہ عامر نے فرمایا لوگ امام کے پیچھے سمع اللہ لمن حمدہ نہ کہیں بلکہ وہ کہیں ربنا لک الحمد۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٨٤٩
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان کہا کرتے۔اےاللہ!مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما۔مجھے عافیت دے،مجھے ہدایت پر قائم رکھ اور مجھے روزی عطا فرما۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الدُّعَاءِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٥٠
مولیٰ اسماء بنت ابوبکر سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو تم میں سے اللہ اور آخری (قیامت)پر ایمان رکھتے ہو وہ اس وقت تک سر نہ اٹھائے جب تک مرد سر نہ اٹھالیں یہ ناپسند فرماتے ہوئے کہ عورتیں مردوں کا ستر دیکھیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ رَفْعِ النِّسَاءِ إِذَا كُنَّ مَعَ الرِّجَالِ رُءُوسَهُنَّ مِنَ السَّجْدَةِ،حدیث نمبر٨٥١
ابن ابی لیلی نے حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سجدے رکوع،قعدے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا (تہجد میں) تقریباً برابر ہوا کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ طُولِ الْقِيَامِ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٥٢
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے کسی آدمی کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مختصر اور مکمل ہو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر کھڑے ہوتے تو ہم کہتے کہ شاید آپ بھول گئے۔پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنا بیٹھتے کہ ہم کہتے کہ شاید آپ بھول گئے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ طُولِ الْقِيَامِ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٥٣
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔میں نے محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قصداً دیکھا ۔ابوکامل نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز میں تھے تو میں نے آپ کے قیام کو رکوع اور سجود کی طرح پایا اور رکوع میں ٹھہرنے کو سجدے کی طرح اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس سجدے کو جو سلام سے پہلے ختم کرتے وقت کیا جاتا ہے تقریباً برابر پایا۔امام ابوداؤد نے فرمایا اور مسدد کا قول ہے کہ آپ کا رکوع دورکعتوں کے درمیان اعتدال،سجدہ سجدہ دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا دوسرا سجدہ نیز سلام اور لوگوں کی جانب پھرنے کا جلسہ تقریبآ سب برابر ہوتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ طُولِ الْقِيَامِ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٥٤
حضرت ابومسعود بدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آدمی کی نماز مکمل نہیں ہوتی جب تک رکوع اور سجدوں میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٥
سعید بن ابوسعید کے والد ماجد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک آدمی بھی داخل ہوا جس نے نماز پڑھی پھر حاضر خدمت ہوکر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا اور فرمایا کہ نماز پڑھو کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔پس وہ آدمی واپس لوٹا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی۔پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ واپس جاکر نماز پڑھو کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ تین دفعہ ایسا ہی کیا گیا تو وہ شخص عرض گزار ہوا۔قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا مجھے اس سے بہتر نہیں آتی لہذا مجھے سکھادیجیے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہواکرو تو تکبیر تحریمہ کہو پھر اس کے ساتھ جو قرآن مجید سے میسر آئے پڑھو،پھر رکوع کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ،پھر اپنی ساری نماز میں ایسا ہی کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا۔قعنبی ،سعید بن ابوسعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہوئے اس کے آخر میں کہا۔جب تم ایسا کروگے تو تم نے اپنی نماز مکمل کرلی اور ان میں سے جس چیز کی کمی کروگے تو اپنی نماز میں اتنی کمی کرلی اور اسی کے اندر فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو پوری طرح وضو کیا کرو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٦
علی بن یحییٰ بن خلاد نے اپنے چچا جان سے روایت کی کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا۔پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہوئے اس میں کہا۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی آدمی کی نماز مکمل نہیں ہوتی جب تک وضو نہ کرے یعنی جب تک تمام اعضا کو اچھی طرح نہ دھوئے پھر تکبیر کہے اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن مجید سے جتنا چاہے پڑھے۔پھر اللہ اکبر کہے پھر رکوع کرے یہاں تک کہ جوڑ قرار پکڑ جائیں پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھا کھڑا ہو جائے پھر اللہ اکبر کہے پھر سجدہ کرے یہاں تک کہ جوڑ قرار پکڑ جائیں۔پھر اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھائے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جائے پھر اللہ اکبر کہہ کر دوبارہ سجدہ کرے یہاں تک کہ جوڑ قرار پکڑ جائیں پھر سراٹھائے تکبیر کہتے ہوئے جب اس نے ایسا کیا تو اپنی نماز کو مکمل کرلیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٧
یحییٰ بن خلاد نے اپنے چچا جان حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہا پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کی نماز مکمل نہیں ہوتی یہاں تک کہ پورا وضوکرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ اپنا منہ دھوئے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے۔پھر اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرے اور اس کی تعریف کرے پھر قرآن مجید سے جو اسے حکم دیا گیا ہے اور جو میسر آئے پڑھے پھر حدیث حماد کی طرح ذکر کرتے ہوئے کہا پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے اور اپنی پیشانی کو ٹکائے۔ہمام نے کہا کہ کبھی یہ کہتے کہ اپنی زمین پہ پیشانی کو زمین میں یہاں تک کہ جوڑوں کو اطمینان آجائے اور وہ ڈھیلے ہوجائیں پھر تکبیر کہہ کر بیٹھنے کی طرح سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو سیدھی کرلے اسی طرح نماز کی چار رکعتوں کو بیان کیا فارغ ہونے تک اور نہیں مکمل ہوتی تم میں سے کسی کی نماز جب تک ایسا نہ کرے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٨
یحییٰ بن خلاد نے حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ واقعہ روایت کرتے ہوئے کہا۔جب تم کھڑے ہوتے قبلہ کی طرف منہ کر لو۔پھر تکبیر کہو پھر سورہ فاتحہ پڑھو اور اس کے ساتھ جو اللہ تعالی چاہے پڑھو اور جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا کرو اور اپنی کمر کو پھیلادو اور فرمایا کہ جب تم سجدہ کرو تو سجدے میں ٹھہرا کرو اور جب تم اٹھو تو اپنی بائیں ران پر بیٹھا کرو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٩
یحیی بن خلاد بن رافع نے اپنے چچا جان حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہی واقعہ روایت کرتے ہوئے کہا۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو پھر جو قرآن مجید سے تمہیں میسر آئے پڑھو اور اس میں کہا کہ جب تم نماز کے درمیان میں بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھالو، پھر تشہد پڑھو پھر جب تم کھڑے ہو تو اسی طرح کرو،یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاؤ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٦٠
یحیی بن خلاد بن رافع زرقی نے اپنے چچا جان حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پھر مذکورہ حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں کہا کہ پس وضو کرے جیسا کہ اللہ تعالی نے حکم فرمایا ہے پھر تشہد کے بعد کھڑا ہو جائے اور تکبیر کہے اور جو تمہیں قرآن مجید سے آتا ہو پڑھو ورنہ الحمد للّہ اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کہو ۔اسی میں کہا کہ اگر ان میں سے کسی چیز کی کمی کروگے تو اپنی نماز میں کمی کروگے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٦١
تمیم بن محمود سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کوے کی طرح ٹھونگے مارنے،جانور کی طرح بازو بچھانے اور آدمی کو مسجد میں اپنی جگہ مقرر کر لینے سے منع فرمایا ہے کہ جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کر لیتا ہے یہ لفظ قتیبہ کے ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٦٢
عطاء بن سائب سے روایت ہے کہ سالم برادر نے فرمایا ہم حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز بتائیے ۔پس وہ مسجد میں ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے چنانچہ انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیوں کو نیچے کی جانب رکھا اور اپنی کہنیوں کو علاحدہ رکھا یہاں تک کہ ہر چیز اپنی جگہ قرار پکڑ گئی۔پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا پھر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ ہر چیز اپنی جگہ قرار پکڑ گئی پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنی ہتھیلیاں زمین پر رکھیں اور اپنی کہنیوں کو علاحدہ رکھا یہاں تک کہ ہر چیز اپنی جگہ پر قرار پکڑ گئی پھر اپنا سر اٹھایا اور بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر چیز اپنی جگہ قرار پکڑ گئی پھر اسی طرح کیا پھر اس رکعت کی چاروں رکعتیں پڑھیں اور نماز ختم کرکے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٦٣
حسن سے روایت ہے کہ انس بن حکیم ضبی نے فرمایا کہ میں زیاد یا ابن زیاد کی خوف سے مدینہ منورہ میں پہنچا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کا بیان ہے کہ میں نے نسب ملایا تو میرا نسب ان سے مل گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اےجوان! میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں میں عرض گزار ہوا کہ اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائیں ضرور بیان کیجیے یونس راوی کا بیان ہے کہ میرے خیال میں انہوں نے مرفوعا روایت کی فرمایا قیامت کے روز لوگوں کے اعمال سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے نماز ہے۔ ہمارا رب عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ بہتر جانتا ہے کہ میرے بندے کی فرض نماز کو دیکھو کہ وہ مکمل ہے یا کم ہے اگر پوری ہے تو پوری لکھ دی جائے اور اگر کچھ کم ہے تو دیکھو کہ میرے بندے کی نفلی نماز ہے اگر اس کی نفلی نماز ہے تو میرے بندے کے نوافل سے اس کے فرائض پوری کر دو پھر تمام اعمال کا اسی طرح حساب لیا جائے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُتِمُّهَا صَاحِبُهَا تُتَمُّ مِنْ تَطَوُّعِهِ»،حدیث نمبر٨٦٤
موسی بن اسماعیل،حماد ،حمید،حسن،بنی سلیط کا ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سےاسی کے مانند روایت کی ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُتِمُّهَا صَاحِبُهَا تُتَمُّ مِنْ تَطَوُّعِهِ»،حدیث نمبر٨٦٥
موسی بن اسماعیل،حماد ،داؤد بن ابوہند ،زرارہ بن اوفی ،حضرت تمیم بن دارمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے معنا اسی طرح روایت کی ۔فرمایا کہ پھر زکاۃ اور پھر باقی اعمال کا اسی طرح حساب کیا جائے گا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُتِمُّهَا صَاحِبُهَا تُتَمُّ مِنْ تَطَوُّعِهِ»،حدیث نمبر٨٦٦
مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد ماجد کے پہلو میں نماز پڑھی تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھے۔والد محترم نے مجھے اس سے منع کیا۔میں نے پھر ایسا کیا تو فرمایا کہ ایسا نہ کا کرو ۔کیوں کہ ہم بھی ایسا کیا کرتے تھے لیکن ہمیں اس سے منع فرما دیا گیا اور حکم فرمایا کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کریں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ،وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٦٧
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللّٰہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب تم میں کوئی رکوع کرے تو اپنی کلائیاں اپنی رانوں سے ملالے اور دونوں ہتھیلیوں کو جوڑے گویا میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی انگشت ہائے مبارک کا اختلاف دیکھ رہا ہوں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ،وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٦٨
موسیٰ بن ایوب ان کے چچا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب آیت فسبح باسم ربک العظیم نازک ہوئی تو فرمایا کہ اسے اپنے رکوع میں کہا کرو اور جب سبح اسم ربک الاعلیٰ نازل ہوئی تو فرمایا،اسے اپنے سجدوں میں رکھو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٦٩
ایوب بن موسیٰ یا موسی بن ایوب کی قوم کے ایک آدمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اسے معنا روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو تین مرتبہ کہتے سبحان ربی العظیم وبحمدہ اور جب سجدہ کرتے تو تین دفعہ کہتے سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ اضافہ ہے ہمیں خدشہ ہے کہ بات اچھی طرح محفوظ نہ رہی ہو۔۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧٠
شعبہ کا بیان ہے کہ میں نے سلیمان سے کہا کہ جب میں نماز کے اندر خوف والی آیت پر گرا ہوں تو دعا مانگتا ہوں پس انہوں نے مجھ سے حدیث بیان کی کہ سعد بن عبیدہ،مستورد صلہ بن زفر،حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ حضور رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدوں میں سبحان ربی الاعلیٰ کہتے اور رحمت کی آیت پڑھتے تو ٹھہر کر اس کا سوال کرتے اور عذاب کی آیت پر ٹھہر کر پناہ مانگتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧١
مطرف نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سجدوں اور رکوع میں کہا کرتے سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧٢
عاصم بن حمید سے روایت ہے کہ حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا پس آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی جب آیت رحمت کو پڑھتے تو ٹھہر کر سوال کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔راوی کا بیان ہے کہ پھر آپ نے قیام کے برابر رکوع کیا اور رکوع میں کہتے ۔سبحان ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمۃ پھر قیام کے برابر سجدہ اور سجدے میں اسی طرح کہا پھر کھڑے ہوئے اور سورہ آل عمران پڑھی پھر ایک ایک سورت پڑھی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧٣
ابوحمزہ مولی انصار نے بنی عباس کے ایک آدمی سے روایت کی ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ کہتے اللہ اکبر تین بار ذوالملک والجبروت والکبریاء والعظمۃ۔پھر سورہ فاتحہ پڑھ کر سورۂ البقرہ پڑھی پھر رکوع کیا تو رکوع میں بھی قیام کے برابر تھا اور رکوع میں کہتے سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قومہ کے برابر اور رکوع میں کہتے سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قومہ بھی آپ کا رکوع کے برابر تھا اور لربی الحمد کہتے رہے پھر سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ بھی قیام کے برابر تھا آپ سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ کہتے پھر سجدے سے سر اٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھے جتنی دیر میں سجدہ کیا تھا اور جلسہ میں رب اغفر لی کہا کرتے ۔پس آپ نے چار رکعتیں پڑھیں اور ان میں البقرہ ،آل عمران، النساء اور المائدہ پڑھی یا الانعام کی تلاوت کی اس میں شعبہ کو شک ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧٤
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے پس (سجدے میں)کثرت سے دعا کیا کرو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٥
عبداللہ بن معبد کے والد ماجد نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور لوگ حضرت ابوبکر کے پیچھے صف بستہ تھے پس فرمایا۔اے لوگوں!نبوت کی خوش خبریوں سے کچھ باقی نہیں رہا مگر اچھا خواب جو کوئی مسلمان دیکھے یا کوئی اس کے لیے دیکھے اور مجھے منع فرمایا گیا ہے کہ رکوع وسجود میں قرآن مجید پڑھوں۔رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کو اور سجدے میں زیادہ دعا کرو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٦
مسروق سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجود میں اکثر یوں کہا کرتے۔سبحانک الھم وبحمدک الھم اغفرلی اور قرآن کریم کی ایک آیت سے یہی مراد لیا کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٧
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سجدے میں کہا کرتے اللَّهُمَّ اغفرلی ذنبی کلہ دقہ وجلہ واولہ وآخرہ۔ابن سرح نے یہ بھی کہا علانیتہ وسرہ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٨
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس سے گم تھے تو میں نے آپ کو مسجد میں ٹٹول لیا جب کہ آپ سجدے میں تھے اور دونوں قدم مبارک کھڑے تھے۔آپ کہہ رہے تھے۔پناہ لیتا ہوں تجھ سے تیری۔تیری تعریفیں شمار سے باہر ہیں تو اپنی ثنا کے مطابق ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٩
عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز میں دعا مانگا کرتے تھے۔اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کی آزمائش سے۔اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے ۔ایک شخص عرض گزار ہوا کہ آپ قرض سے کیوں اکثر پناہ مانگتے ہیں فرمایا کہ جب آدمی مقروض پاجائے تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا اور وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٨٨٠
عبدالرحمن بن ابولیلی سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے نفلی نماز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پہلو میں پڑھی۔پس میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔پناہ چاہتاہوں میں اللہ کی جہنم سے خرابی ہے جہنم والوں کے لیے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٨٨١
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرمایا ایک نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے تو نماز میں ایک اعرابی نے کہا "جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اعرابی سے کہا"تم نے وسیع چیز کو تنگ کردیا"اس سے آپ کی مراد اللہ تعالی کی رحمت تھی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٨٨٢
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو«سبحان ربي الأعلى»کہتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث نمبر(٨٨٣)اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳٣؛حدیث نمبر؛٨٨٣)
موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں ایک صاحب اپنی چھت پر نماز پڑھا کرتے تھے، جب وہ آیت کریمہ"أليس ذلک بقادر على أن يحيي الموتى"(سورة القيامة:٤٠)پر پہنچتے تو"سبحانک"کہتے پھر روتے، لوگوں نے اس سے ان کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہامیں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں احمد نے کہا مجھے بھلا لگتا ہے کہ آدمی فرض نماز میں وہ دعا کرے جو قرآن میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳٣؛حدیث نمبر؛٨٨٤)
سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا،آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار سبحان الله وبحمده کہہ سکیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛ترجمہ؛رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار؛جلد۱ص۲۳٤؛حدیث نمبر؛٨٨۵)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اسے چاہیئے کہ تین بار سبحان ربي العظيم کہے،اور یہ کم سے کم مقدار ہے،اور جب سجدہ کرے تو کم سے کم تین بار سبحان ربي الأعلى کہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ مرسل ہے،عون نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٤؛حدیث نمبر؛٨٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جو شخص سورة والتين والزيتون پڑھے اسے چاہیئے کہ جب اس کی آخری آیت"الیس اللہ باحکمل الحاکمین"پر پہنچے تو بلى وأنا على ذلک من الشاهدين کہے،اور جو سورة لا أقسم بيوم القيامةپڑھے اور أليس ذلک بقادر على أن يحيي الموتی پر پہنچے تو بلى کہے،اور جو سورة والمرسلات پڑھے اور آیت فبأى حديث بعده يؤمنون پر پہنچے تو آمنا بالله کہے۔اسماعیل کہتے ہیں (میں نے یہ حدیث ایک اعرابی سے سنی)، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث پھر سے سنوں اور دیکھوں شاید؟ (وہ نہ سنا سکے)تو اس اعرابی نے کہا میرے بھتیجے!تم سمجھتے ہو کہ مجھے یہ یاد نہیں؟میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور ہر حج میں جس اونٹ پر میں چڑھا تھا اسے پہچانتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٤؛حدیث نمبر؛٨٨۷)
حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھےایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں احمد بن صالح کا بیان ہے میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا(وہب کے والد کا نام) مانوس ہے یا مابوس؟تو انہوں نے کہا عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھےمانوس یاد ہے،یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے(اسے سمعت کے بجائے عن سے یعنی عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالک روایت کی ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٤؛حدیث نمبر؛٨٨۸)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔حماد بن زید کی روایت میں ہے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا۔ (نماز میں بالوں کو پگڑی وغیرہ میں سمیٹنا یا جوڑا باندھنا مکروہ ہے اسی طرح مٹی وغیرہ سے بچانے کے لئے کپڑوں کا سمیٹنا بھی درست نہیں)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ؛ترجمہ؛سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے؛جلد۱ص۲۳۵؛حدیث نمبر؛٨٨۹)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،اور کبھی راوی نےکہاتمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۵؛حدیث نمبر؛٨۹۰)
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناجب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء چہرہ،دونوں ہاتھ،دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں۔ (چہرہ میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں سجدے میں پیشانی کا زمین پر لگنا ضروری ہے اس کے بغیر سجدے کا مفہوم پورے طور سے ادا نہیں ہوتا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۵؛حدیث نمبر؛٨۹۱)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابیشک دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے،تو جب تم میں سے کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو چاہیئے کہ دونوں ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو چاہیئے کہ انہیں بھی اٹھائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۵؛حدیث نمبر؛٨۹۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم نماز میں آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تو تم بھی سجدہ میں چلے جاؤ اور تم اسے کچھ شمار نہ کرو،اور جس نے رکعت پالی تو اس نے نماز پالی ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْرِكُ الْإِمَامَ سَاجِدًا كَيْفَ يَصْنَعُ؟؛ترجمہ؛جب امام کو سجدے کی حالت میں پائے تو کیا کرے؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پراس نماز کی وجہ سے جو آپ نے لوگوں کو پڑھائی، مٹی کا اثر دیکھا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ السُّجُودِ عَلَى الْأَنْفِ وَالْجَبْهَةِ؛ترجمہ؛ناک اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹٤)
Abu Daud Sharif Kitabus Salat Hadees No# 895
ابواسحاق کہتے ہیں کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں سجدہ کرنے کا طریقہ بتایاتو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک لگائی اور اپنی سرین کو بلند کیا اور کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛ترجمہ؛سجدہ کا طریقہ؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدے میں اعتدال کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔ ( یعنی اپنی ہیئت درمیانی رکھو اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلووں سے جدا ہوں اور پیٹ ران سے جدا ہو)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹۷)
حضرت ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ(بغل سے) جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے دونوں ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹۸)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے پیچھے سے آیا(اور آپ سجدے میں تھے)تو میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح سجدہ کئے ہوئے تھے کہ اپنے دونوں بازو پسلیوں سےجدا کئے ہوئے تھے اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے ہوئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛٨۹۹)
احمر بن جزء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کا خیال ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛۹۰۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛۹۰۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایازانو(گھٹنے)سے مدد لے لیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ لِلضَّرُورَةِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛۹۰۲)
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بغل میں نماز پڑھی،اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے،جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی)کی شکل ہے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے۔( کیونکہ جسے سولی دی جاتی ہے اس کے ہاتھ سولی دیتے وقت اسی طرح رکھے جاتے ہیں)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي التَّخَصُّرِ وَالْإِقْعَاءِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛۹۰٣)
حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،آپ کے سینے مبارک سے رونے کی آواز اس طرح نکل رہی تھی جس طرح چکی کی آواز۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْبُكَاءِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳۸؛حدیث نمبر؛۹۰٤)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ان میں وہ بھولے نہیں تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (یعنی حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے دنیاوی خیالات اور نماز سے غیر متعلق امور ذہن میں نہیں لاتا۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْوَسْوَسَةِ وَحَدِيثِ النَّفْسِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں وسوسوں اور خیالات آنے کی کراہت؛جلد۱ص۲۳۸؛حدیث نمبر؛۹۰۵)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْوَسْوَسَةِ وَحَدِيثِ النَّفْسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳۸؛حدیث نمبر؛۹۰٦)
حضرت مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآت کر رہے تھے،(یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ آیتیں بھول گئے جن کو نہیں پڑھا(نماز کے بعد)ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہوگئی ہیں۔سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا،وہ کہتے ہیں ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی،اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہوگیا،جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھاکیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ابی نے کہا ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہیں(لقمہ دینے سے)کس چیز نے روک دیا؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ایک نماز پڑھی۔آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس میں قرأت کی تو آپ کو(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پڑھتے پڑھتے سہو ہوگیاجب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی تھی؟انہوں نے کہا ہاں!اس پر آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا تب پھر تم نے بتایا کیوں نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْفَتْحِ عَلَى الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳۸؛حدیث نمبر؛۹۰۷)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اےعلی!تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّلْقِينِ؛جلد۱ص۲۳۹؛حدیث نمبر؛۹۰٨)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہےاللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّلْقِينِ؛نماز میں ادھر ادھر دیکھنا؛جلد۱ص۲۳۹؛حدیث نمبر٩٠٩)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے(یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّلْقِينِ؛جلد۱ص۲۳۹؛حدیث نمبر؛۹۱٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی،جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ السُّجُودِ عَلَى الْأَنْفِ؛ترجمہ؛ناک پر سجدہ کرنا؛جلد۱ص۲۳۹؛حدیث نمبر؛۹۱١)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آجائیں ورنہ(ہو سکتا ہے کہ)ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّظَرِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں کسی چیز کو دیکھنا؛جلد۱ص۲٤٠؛حدیث نمبر؛۹۱٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی،اور فرمایا لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّظَرِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٠؛حدیث نمبر؛۹۱۳)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کردیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ(ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی) اور ان سے میرے لیے کمبل لے آؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّظَرِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٠؛حدیث نمبر؛۹۱٤)
ایک اور سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم کی کردی چادر لے لی،تو آپ سے کہا گیا اےاللہ کے رسول!وہ (باریک نقش و نگار والی)چادر اس(کردی چادر)سے اچھی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّظَرِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۱؛حدیث نمبر؛۹۱۵)
حضرت سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نماز فجر کی اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛جلد۱ص۲٤۱؛حدیث نمبر؛۹۱٦)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی حضرت امامہ بنت زینب(بنت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛نماز میں عمل؛جلد۱ص۲٤۱؛حدیث نمبر؛۹۱۷)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ حضرت امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع (رضی اللہ عنہ)کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے،حضرت امامہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا تھیں،حضرت امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں،وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھیں،جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے،اسی طرح کرتے ہوئے آپ علیہ السلام نے اپنی پوری نماز ادا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۱؛حدیث نمبر؛۹۱۸)
حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی حضرت امامہ بنت ابوالعاص آپ علیہ السلام کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۲؛حدیث نمبر؛۹۱۹)
صحابی رسول حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کو نماز کے لیے بلایا تو آپ علیہ السلام ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ (آپ علیہ السلام کی نواسی حضرت )امامہ بنت ابوالعاص جو آپ علیہ السلام کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں آپ علیہ السلام کی گردن پر سوار تھیں تو آپ علیہ السلام اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں،ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےالله أكبرکہا تو ہم لوگوں نے بھی الله أكبرکہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا،پھر رکوع اور سجدہ کیا،یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر (دوسری رکعت کے لیے)کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر(اپنی گردن پر)اسی جگہ بٹھا لیا،جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۲؛حدیث نمبر؛۹۲۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایانماز میں دونوں کالوں (یعنی)سانپ اور بچھو کو(اگر دیکھو تو) قتل کر ڈالو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۲؛حدیث نمبر؛۹۲١)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے،دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے (حالت نماز میں) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلیٰ(نماز کی جگہ)پر واپس لوٹ گئے اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۲؛حدیث نمبر؛۹۲٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے،لیکن جب ہم نجاشی (بادشاہ حبشہ)کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا نماز(خود)ایک شغل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں سلام کا جواب دینا؛جلد۱ص۲٤۳؛حدیث نمبر؛۹۲٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(پہلے)ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کرلیتے تھے،تو(ایک بار)میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے،میں نے آپ کو سلام کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہوگئی جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے،نیا حکم نازل کرتا ہے،اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو،پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۳؛حدیث نمبر؛۹۲٤)
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے،میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ راوی کا بیان ہے کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے إشارة بأصبعه کا لفظ کہا ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا،یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۳؛حدیث نمبر؛۹۲٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھے بنی مصطلق کے پاس بھیجا،میں(وہاں سے)لوٹ کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے،میں نے آپ سے بات کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح سے اشارہ کیا،میں نے پھر آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی خاموش رہنے کا حکم دیا،میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآت کرتے سن رہا تھا اور آپ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے،پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھامیں نے تم کو جس کام کے لیے بھیجا تھا اس سلسلے میں تم نے کیا کیا؟(پھر فرمایا) میں نے تم سے بات اس لیے نہیں کی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۳؛حدیث نمبر؛۹۲٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے قباء گئے،تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت نماز میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھاجب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا؟بلال رضی اللہ عنہ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کر رہے تھے،اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے،جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٤؛حدیث نمبر؛۹۲٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانماز میں نہ دھوکہ ہے اور نہ سلام کرنا۔نقصان اور کمی نہیں ہے اور نہ سلام میں ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا نہ تم کسی کو سلام کرو اور نہ تمہیں کوئی سلام کرے اور دھوکہ یہ کہ آدمی اپنی نماز سے اس حالت میں لوٹے کہ وہ اس میں شک کرتا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٤؛حدیث نمبر؛۹۲٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ سلام میں نقص ہے اور نہ نماز میں۔ معاویہ بن ہشام کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ سفیان نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ابن فضیل نے ابن مہدی کی طرح لا غرار في تسليم ولا صلاة کے لفظ کے ساتھ روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کہا ہے(بلکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٤؛حدیث نمبر؛۹٢٩)
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے(حالت نماز میں) يرحمک الله کہا،اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے،میں نے(اپنے دل میں)کہا میری ماں مجھے روے،تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کردیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا،میرے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں،جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا،نہ ڈانٹا،نہ برا بھلا کہا،صرف اتنا فرمایا نماز میں اس طرح بات چیت درست نہیں،یہ تو بس تسبیح،تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے،یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول!(ابھی)نیا نیا مسلمان ہوا ہوں،اللہ تعالیٰ نے ہم کو(جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر)دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم ان کے پاس مت جاؤ ۔میں نے کہا ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان کے دلوں کا وہم ہے،یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے ۔پھر میں نے کہا ہم میں سے کچھ لوگ لکیر(خط)کھینچتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نبیوں میں سے ایک نبی خط(لکیریں) کھینچا کرتے تھے،اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہواوہ صحیح ہے۔ میں نے کہامیرے پاس ایک لونڈی ہے،جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی،ایک بار میں(اچانک)پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں،مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کردیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری،میں نے عرض کیاکیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے میرے پاس لے کر آؤ،میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس لونڈی سے)پوچھااللہ کہاں ہے؟اس نے کہاآسمان کے اوپر ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھامیں کون ہوں؟اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٤؛حدیث نمبر؛۹۳٠)
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے اسلام کی کچھ باتیں معلوم ہوئیں چناں چہ جو باتیں مجھے معلوم ہوئیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب تمہیں چھینک آئے تو الحمد الله کہو اور کوئی دوسرا چھینکے اور الحمد الله کہے تو تم يرحمک الله کہو۔معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک نماز میں کھڑا تھا کہ اسی دوران ایک شخص کو چھینک آئی اس نےالحمد الله کہا تو میں نے يرحمک الله بلند آواز سے کہا تو لوگوں نے مجھے ترچھی نظروں سے دیکھنا شروع کیا تو میں اس پر غصہ میں آگیا،میں نے کہا تم لوگ میری طرف کنکھیوں سے کیوں دیکھتے ہو؟تو ان لوگوں نے سبحان الله کہا،پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا(دوران نماز)کس نے بات کی تھی؟لوگوں نے کہااس اعرابی نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بلایا اور مجھ سے فرمایا نماز تو بس قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے لیے ہے،تو جب تم نماز میں رہو تو تمہارا یہی کام ہونا چاہیئے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر شفیق اور مہربان کبھی کسی معلم کو نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۵؛حدیث نمبر؛۹۳۱)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب"ولا الضالين"پڑھتے تو آمین کہتے،اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛ترجمہ؛امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳۲)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےانہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے زور سے آمین کہی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گال کی سفیدی دیکھ لی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب"غير المغضوب عليهم ولا الضالين"کی تلاوت فرماتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ پہلی صف میں سے جو لوگ آپ سے نزدیک ہوتے اسے سن لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب امام "غير المغضوب عليهم ولا الضالين"کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہوجائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو،کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگی اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ابن شہاب زہری کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳٦)
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے۔ (یعنی اتنی مہلت دیا کیجئے کہ میں سورة فاتحہ سے فارغ ہوجاؤں تاکہ آپ کی اور میری آمین ساتھ ہوا کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بات مروان سے کہا کرتے تھے۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳۷)
ابومصبح مقرائی کہتے ہیں کہ ہم ابوزہیر نمیری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے،وہ صحابی رسول تھے، وہ(ہم سے) اچھی اچھی حدیثیں بیان کرتے تھے،جب ہم میں سے کوئی دعا کرتا تو وہ کہتے اسے آمین پر ختم کرو،کیونکہ آمین کتاب پر لگی ہوئی مہر کی طرح ہے۔ابوزہیر نے کہا میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں؟ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے،ہم لوگ ایک شخص کے پاس پہنچےجو نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر سننے لگے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے (اپنی دعا پر) مہر لگا لی تو اس کی دعا قبول ہوگئی،اس پر ایک شخص نے پوچھا کس چیز سے وہ مہر لگائے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآمین سے،اگر اس نے آمین سے ختم کیا تو اس کی دعا قبول ہوگئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر وہ شخص اس آدمی کے پاس آیا جو دعا کر رہا تھا اور اس سے کہا اے فلاں!تم اپنی دعا پر آمین کی مہر لگا لو اور خوش ہوجاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانماز میں مردوں کو سبحان الله کہنا چاہیئے اور عورتوں کو تالی بجانی چاہیئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں تالی بجانا؛جلد۱ص۲٤۷؛حدیث نمبر؛۹۳٩)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے،اور نماز کا وقت ہوگیا،مؤذن نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کیا آپ نماز پڑھائیں گے،میں تکبیر کہوں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہاہاں!(تکبیر کہو میں نماز پڑھاتا ہوں)تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے،اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور لوگ نماز میں تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے(پہلی)صف میں آ کر کھڑے ہوگئے تو لوگ تالی بجانے لگےاور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے،لوگوں نے جب زیادہ تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نگاہ پڑی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اشارہ سے فرمایاتم اپنی جگہ پر کھڑے رہو ،توابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا،اللہ کا شکر ادا کیا،پھر پیچھے آ کر صف میں کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے،پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاجب میں نے تمہیں حکم دے دیا تھا تو اپنی جگہ پر قائم رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ابو قحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھائے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےلوگوں سے فرمایاکیا بات تھی؟تم اتنی زیادہ کیوں تالیاں بجا رہے تھے؟جب کسی کو نماز میں کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے،کیونکہ جب وہ سبحان الله کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور تالی بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ فرض نماز کا واقعہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۷؛حدیث نمبر؛۹٤٠)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی آپس میں لڑائی ہوئی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی،تو آپ ظہر کے بعد مصالحت کرانے کی غرض سے ان کے پاس آئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے کہہ آئے کہ اگر عصر کا وقت آجائے اور میں واپس نہ آسکوں تو تم ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں،چناں چہ جب عصر کا وقت ہوا تو بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا تو آپ آگے بڑھ گئے،اس کے اخیر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آجائے تو مرد سبحان الله کہیں اور عورتیں دستک دیں۔(یعنی:-داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مارے۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۷؛حدیث نمبر؛۹٤١)
عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد"التصفيح للنساء"سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٨؛حدیث نمبر؛۹٤٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب الاشارۃ فی الصلاۃ؛ترجمہ؛نماز میں اشارہ کرنے کا بیان؛جلد۱ص۲٤٨؛حدیث نمبر؛۹٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"سبحان الله"کہنا مردوں کے لیے ہے یعنی نماز میں اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہیں،جس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جاسکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی نماز کو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث وہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب الاشارۃ فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٤٨؛حدیث نمبر؛۹٤٤)
حضرت ابو الاحوص سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کا سامنا کرتی ہے، لہٰذا وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب فی مسح الحصی فی الصلاۃ؛ ترجمہ؛نماز میں کنکریاں ہٹانا؛جلد۱ص۲٤٩؛حدیث نمبر؛۹٤٥)
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نماز پڑھنے کی حالت میں(کنکریوں پر)ہاتھ نہ پھیرو، یعنی انہیں برابر نہ کرو،اگر کرنا ضروری ہو تو ایک دفعہ برابر کرلو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب فی مسح الحصی فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٤٩؛حدیث نمبر؛۹٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےنمازمیں"الاختصار"سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں"الاختصار"کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب الرجل یصلی مختصراً؛ترجمہ؛کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا؛جلد۱ص۲٤٩؛حدیث نمبر؛۹٤٧)
حضرت ہلال بن یساف سے مروی ہے فرماتے ہیں میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھاکیا تمہیں کسی صحابی سے ملنے کی خواہش ہے؟میں نے کہا کیوں نہیں؟(ملاقات ہوجائے تو)غنیمت ہے،تو ہم وابصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے،میں نے اپنے ساتھی سے کہاپہلے ہم ان کی وضع دیکھیں،میں نے دیکھا کہ وہ ایک ٹوپی سر سے چپکی ہوئی دو کانوں والی پہنے ہوئے تھے اور خز ریشم کا خاکی رنگ کا برنس اوڑھے ہوئے تھے،اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نماز میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے،پھر ہم نے سلام کرنے کے بعد ان سے(نماز میں لکڑی پر ٹیک لگانے کی وجہ)پوچھی تو انہوں نے کہامجھ سے ام قیس بنت محصن نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب زیادہ ہوگئی اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں ایک ستون بنا لیا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب الرجل یعتمد فی الصلاۃ علی عصا؛ترجمہ؛لکڑی سے ٹیک لگا کر نماز پڑھنے کا بیان؛جلد۱ص۲٤٩؛حدیث نمبر؛۹٤٨)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی "وقوموا لله قانتين" (ترجمہ)"اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو"(سورۃ البقرہ؛٢٣٨) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب النھی عن الکلام فی الصلاۃ؛نماز میں گفتگو کی ممانعت؛جلد۱ص۲٥٠؛حدیث نمبر؛۹٤٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ نے فرمایا ہےبیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہےمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے(تعجب سے)اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاعبداللہ بن عمرو!کیا بات ہے؟،میں نے کہایا رسول اللہ!مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سچ ہے،لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب فی صلاۃ القاعد؛ترجمہ؛بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان؛جلد۱ص۲٥٠؛حدیث نمبر؛۹٥٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے ۔ (اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے آدھا ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۰؛حدیث نمبر؛۹۵۱)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے ناسور تھامیں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایاتم کھڑے ہو کر نماز پڑھو،اگر کھڑےہوکرپڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو(لیٹ کر) پہلو کے بل پڑھو۔ (باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۰؛حدیث نمبر؛۹۵۲)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہوگئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۰؛حدیث نمبر؛۹۵۳)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھ کر قرآت کرتے تھے،پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرآت رہ جاتی تو کھڑے ہوجاتے،پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے،پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے،پھر دوسری رکعت میں(بھی)اسی طرح کرتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے،انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵٤)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر،جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵۵)
حضرت عبداللہ بن شقیق کہتےہیں کہ میں نےام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟انہوں نے کہا(ہاں)مفصل کی،پھر میں نے پوچھاکیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟انہوں نے کہاجس وقت لوگوں(کے کثرت معاملات)نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ(یعنی بوڑھا)کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵٦)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم(نماز کے لیے)کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر(تکبیر تحریمہ)کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا،پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا،(رفع یدین کیا)وہ کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں(یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی)بند کرلی اور(بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے)حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر(راوی)نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵۷)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ کیف الجلوس فی التشہد؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵۸)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹۵۹)
ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٩٥٩ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹٦٠)
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نے(اپنے ساتھیوں کو)تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت دکھائی پھر حدیث نمبر ٩٥٩ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹٦١)
حضرت ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں(تشہد کے لیے)بیٹھتےتو اپنا بایاں پیر بچھاتے یہاں تک کہ آپ کے قدم کی پشت سیاہ ہوگئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹٦٢)
محمد بن عمرو سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں سنا،اور احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں،جن میں ابوقتادہ بھی تھے،ابوحمید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو جانتا ہوں،لوگوں نے کہا تو آپ پیش کیجئے،پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہےجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر الله أكبر کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھتے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے،پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس(آخری)سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام پھیرنا رہتا ہے تو بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔ احمد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے پھر لوگوں نے ان سے کہا آپ نے سچ کہا،آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے،لیکن ان دونوں نے یہ نہیں ذکر کیا کہ دو رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح بیٹھے تھے؟ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَةِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹٦۳)
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ(ایک مجلس میں)بیٹھے ہوئے تھے،پھر انہوں نے یہی مذکورہ حدیث بیان کی،اور ابوقتادہ کا ذکر نہیں کیا کہاجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت کے بعد(تشہد کے لیے)بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھتے اور جب اخیر رکعت کے بعد بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر(دائیں جانب)آگے نکال لیتے اور اپنے سرین پر بیٹھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَة؛جلد۱ص۲۵۳؛حدیث نمبر؛۹٦٤)
محمد بن عمرو عامری سے مروی ہے انہوں نے کہا میں ایک مجلس میں تھا،پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَة؛جلد۱ص۲۵۳؛حدیث نمبر؛۹٦۵)
حضرت عباس بن سہل یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے،جس میں ان کے والد سہل ساعدی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے تو اس مجلس میں انہوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اور اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے سروں پر سہارا کیا،اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سجدے سے سر اٹھا کر)بیٹھے تو تورک کیا یعنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا پھر الله أكبر کہا اور سجدہ کیا،پھر الله أكبر کہہ کر کھڑے ہوئے اور تورک نہیں کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور دوسری رکعت پڑھی تو اسی طرح الله أكبر کہا، پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے یہاں تک کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگے توالله أكبر کہہ کر اٹھے،پھر آخری دونوں رکعتیں پڑھیں،پھر جب سلام پھیرا تو اپنی دائیں جانب اور بائیں جانب پھیرا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنی روایت میں تورک اور دو رکعت پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے،جس کا ذکر عبدالحمید نے کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَة؛جلد۱ص۲۵۳؛حدیث نمبر؛۹٦٦)
حضرت فلیح کہتے ہیں حضرت عباس بن سہل نے مجھے خبر دی ہے کہ ابوحمید،ابواسید،سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھا ہوئے،پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی اور دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بیٹھنے کا،وہ کہتے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوگئے پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنے داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی جانب کیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَة؛جلد۱ص۲۵۳؛حدیث نمبر؛۹٦۷)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو یہ کہتے تھے"السلام على الله قبل عباده السلام على فلان وفلان "یعنی اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں پر سلام سے پہلے یا اس کے بندوں کی طرف سے اور فلاں فلاں شخص پر سلام ہو"تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم ایسا مت کہا کرو کہ اللہ پر سلام ہو،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود سلام ہے،بلکہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہے "التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" ’’تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیںﷲ ہی کے لیے ہیں،اے نبی!آپ پر سلام ہو اور ﷲ کی رحمت اور برکتیں ہوں،ہم پر اور ﷲ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو"۔ کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو ہر نیک بندے کو خواہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو یا دونوں کے بیچ میں ہو اس(دعا کے پڑھنے) کا ثواب پہنچے گا(پھر یہ کہو) "أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله" میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں" پھر تم میں سے جس کو جو دعا زیادہ پسند ہو،وہ اس کے ذریعہ دعا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التَّشَهُّدِ؛ترجمہ؛تشہد کا بیان؛جلد۱ص۲۵٤؛حدیث نمبر؛۹٦۸)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا،پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔شریک کہتے ہیں ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں(اتنا اضافہ)ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں "اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن و بارک لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاکرين لنعمتک مثنين بها قابليها وأتمها علينا " "اے اللہ!تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے،اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں،دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے،اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے،اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزارو ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے،اور اے اللہ!ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التَّشَهُّد؛جلد۱ص۲۵٤؛حدیث نمبر؛۹٦۹)
حضرت قاسم بن مخیمرہ مروی ہےعلقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا(اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے،پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا،اس میں(اتنا اضافہ)ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کرلی تو تمہاری نماز پوری ہوگئی،اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہوجاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشہد؛جلد۱ص۲۵٤؛حدیث نمبر؛۹۷۰)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے" التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته" "تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں،اے نبی!آپ پر سلام ہو،اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں،اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں"۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس تشہد میں وبرکاته اور وحده لا شريك له کا اضافہ میں نے کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵۵؛حدیث نمبر؛۹۷۱)
حضرت حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہےفرماتے ہیں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا(ابھی)تم میں سے کس نےاس طرح کی بات کی ہے؟راوی کہتے ہیں تو لوگ خاموش رہے،پھر انہوں نے پوچھا تم میں سے کس نے اس طرح کی بات کی ہے؟راوی کہتے ہیں لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا حطان!شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟انہوں نے کہامیں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں راوی کہتے ہیں پھر ایک دوسرے شخص نے کہامیں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی،اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہاکیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایاجب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو،تو اپنی صفوں کو درست کرو،پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ "غير المغضوب عليهم ولا الضالين"کہے تو تم آمین کہو،اللہ تم سے محبت فرمائے گااور جب وہ الله أكبر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی الله أكبر کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو یہ اس کے برابر ہوگیا اور جب وہ"سمع الله لمن حمده"کہے تو تم "اللهم ربنا لک الحمد"کہو اللہ تمہاری سنے گا،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے"سمع الله لمن حمده"یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی،اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو یہ اس کے برابر ہوجائے گا،پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے توسب سے پہلی بات یہ کہے "التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداعبده ورسوله" تمام قولی،فعلی،مالی عبادتیں اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں،اے نبی!آپ پر سلام،اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں،اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ احمد نے اپنی روایت میں وبرکاته کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی أشهد کہا بلکہ وأن محمدا کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵۵؛حدیث نمبر؛۹۷۲)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے،اس میں(سلیمان تیمی)نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو،اور انہوں نے تشہد میں "أشهد أن لا إله إلا الله"کے بعد"وحده لا شريك له"کا اضافہ کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں آپ کا قول "فأنصتوا"محفوظ نہیں ہے،اس حدیث کے اندر یہ لفظ صرف سلیمان تیمی نے نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵٦؛حدیث نمبر؛۹۷۳)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے،آپ کہا کرتے تھے" التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله" تمام قولی،فعلی،مالی عبادتیں اورپاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں،اے نبی!آپ پر سلام،اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں،اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵٦؛حدیث نمبر؛۹۷٤)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے اما بعد!کے بعد کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم نماز کے بیچ میں یا اخیر میں بیٹھو تو سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا پڑھو"التحيات الطيبات والصلوات والملک لله"پھر دائیں جانب سلام پھیرو،پھر اپنے قاری پر اور خود اپنے اوپر سلام کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ صحیفہ(جسے سمرہ نے اپنے بیٹے کے پاس لکھ کر بھیجا تھا)یہ بتارہا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵٦؛حدیث نمبر؛۹۷۵)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے یا لوگوں نے عرض کیایا رسول اللہ!آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود وسلام بھیجا کریں،آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہو "اللهم صل على محمد وآل محمد کما صليت على إبراهيم و بارک على محمد وآل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد" "یعنی اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد پر درود بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہےاور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے،بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا بیان؛جلد۱ص۲۵۷؛حدیث نمبر؛۹۷٦)
ایک اور سند کے ساتھ شعبہ نے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے "صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم" اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم(علیہ السلام)پر اپنی رحمت نازل فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۷؛حدیث نمبر؛۹۷۷)
ایک اور سند کے ساتھ حکم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے۔ "اللهم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد" اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرماجیسا کہ تو نے ابراہیم(علیہ السلام)پر اپنی رحمت نازل فرمائی،بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے،اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرماجیسا کہ تو نے ابراہیم(علیہ السلام)پر اپنی برکت نازل فرمائی،بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے زبیر بن عدی نے ابن ابی لیلیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مسعر نے کیا ہے،مگر اس میں یہ ہے"كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد و بارک على محمد"اور آگے انہوں نے اسی کے مثل بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۷؛حدیث نمبر؛۹۷۸)
حضرت عمرو بن سلیم زرقی انصاری روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں مجھے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ!ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ کہو "اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على آل إبراهيم و بارک على محمد وأزواجه وذريته كما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد" "اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرماجیسا کہ تو نے اپنی رحمت آل ابراہیم پر نازل فرمائی،اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی،بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۷؛حدیث نمبر؛۹۷۹)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تشریف لائے تو بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیایا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش انہوں نے نہ پوچھا ہوتا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ کہو۔ پھر راوی نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور اس کے اخیر میں"في العالمين إنک حميد مجيد"کا اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸۰)
ایک اور سند کے ساتھ عقبہ بن عمرو (ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ)سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایوں کہو"اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد" اے اللہ!نبی امی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آپ کی آل پر اپنی رحمت نازل فرما۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ اسے پورا پیمانہ بھر کردیا جائے تو وہ ہم اہل بیت پر جب درود بھیجے تو کہے "اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته وأهل بيته كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے جہنم کے عذاب سے،قبر کے عذاب سے،زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ ما یقول بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد یہ کہتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات" "یعنی اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے،تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے،تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ ما یقول بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸٤)
حضرت محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کرلی،اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے"اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم" اے تنہاو اکیلا،باپ بیٹا سے بےنیاز اور بےمقابل اللہ!میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے،بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا اسے بخش دیا گیا،اسے بخش دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ ما یقول بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سنت یہ ہے کہ تشہد آہستہ پڑھی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ اخفاءالتَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٦)
حضرت علی بن عبدالرحمٰن معاوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عبداللہ بن عمرنے مجھےنمازمیں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا،جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھےاس سے منع کیا اور کہاتم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے،میں نے عرض کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟انہوں نے کہاجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتےتو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے،اشارہ کرتےاپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٧)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے،عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٨)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہےآپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور حجاج کی حدیث (یعنی پچھلی حدیث)زیادہ مکمل ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲٦٠؛حدیث نمبر؛۹٩٠)
حضرت مالک بن نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہوئے دیکھا، آپ نے اسے تھوڑا سا جھکا رکھا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲٦٠؛حدیث نمبر؛۹٩١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہےآدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھنے سے،اور ابن شبویہ کی روایت میں ہے کہ آدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے،اور ابن رافع کی روایت میں ہے آدمی کو اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے،اور انہوں نے اسے"باب الرفع من السجود"میں ذکر کیا ہے،اور ابن عبدالملک کی روایت میں ہے کہ آدمی کو نماز میں اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ کراھیۃالاعتمادعلی الید فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٦٠؛حدیث نمبر؛۹٩٢)
حضرت اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں پوچھاجو نماز پڑھ رہا ہواور وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کئے ہوئے ہو،تو انہوں نے کہا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ یہ غضب کی شکار مغضوب عليهم کی نماز ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ کراھیۃالاعتمادعلی الید فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا(ہارون بن زید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ بائیں پہلو پر پڑا ہوا دیکھا پھر(آگے)دونوں(الفاظ میں)متفق ہیں تو انہوں نے اس سے کہا اس طرح نہ بیٹھو کیونکہ اس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جو عذاب دیئے جائیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ کراھیۃالاعتمادعلی الید فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر(بیٹھے)ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا کھڑے ہونے تک؟تو سعد بن ابراہیم نے کہا کھڑے ہونے تک۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی تخفیف القعود؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں"السلام عليكم ورحمة الله"،السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کی گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ سفیان کی روایت کے الفاظ ہیں اور اسرائیل کی حدیث سفیان کی حدیث کی مفسر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسے زہیر نے ابواسحاق سے اور یحییٰ بن آدم نے اسرائیل سے،اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن اسود سے، انہوں نے اپنے والد اسود اور علقمہ سے روایت کیا ہے،اور ان دونوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں شعبہ ابواسحاق کی اس حدیث کے مرفوع ہونے کے منکر تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٦)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنے دائیں جانب"السلام عليكم ورحمة الله وبركاته"اور اپنے بائیں جانب"السلام عليكم ورحمة الله وبرکاته"کہتے ہوئے سلام پھیر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٧)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی سلام پھیرتا تو اپنے ہاتھ سے اپنے دائیں اور بائیں اشارے کرتا،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاتم لوگوں کا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی (نماز میں)اپنے ہاتھ سے اشارے کرتا ہے،گویا اس کا ہاتھ شریر گھوڑے کی دم ہے،تم میں سے ہر ایک کو بس اتنا کافی ہےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ دائیں اور بائیں طرف کے اپنے بھائی کو سلام کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہےاس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦٢؛حدیث نمبر؛۹٩٩)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایامجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں،گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں؟نماز میں سکون سے رہا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦٢؛حدیث نمبر؛١٠٠٠)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں امام کے سلام کا جواب دینے اور آپس میں دوستی رکھنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب الرد علی الامام؛جلد۱ص۲٦٢؛حدیث نمبر؛١٠٠١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر سے جانا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب التکبیر بعد الصلوٰۃ؛جلد۱ص۲٦٣؛حدیث نمبر؛١٠٠٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ذکر کے لیے آواز اس وقت بلند کی جاتی تھی جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہی دستور تھا،ابن عباس کہتے ہیں جب لوگ نماز سے پلٹتے تو مجھے اسی سے اس کا علم ہوتا اور میں اسے سنتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب التکبیر بعد الصلوٰۃ؛جلد۱ص۲٦٣؛حدیث نمبر؛١٠٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسلام کو مختصر رکھنا سنت ہے۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے مجھے اس حدیث کو مرفوع کرنے سے منع کیا ہے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے ابوعمیر عیسیٰ بن یونس فاخری رملی سے سنا ہے انہوں نے کہا ہے کہ جب فریابی مکہ مکرمہ سے واپس آئے تو انہوں نے اس حدیث کو مرفوع کہنا ترک کردیا اور کہا احمد بن حنبل نے انہیں اس حدیث کو مرفوع روایت کرنے سے منع کردیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب حذف التسليم؛جلد۱ص۲٦٣؛حدیث نمبر؛١٠٠٤)
حضرت علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دوران نماز بغیر آواز کے ہوا خارج ہو تو وہ(نماز)چھوڑ کر چلا جائے اور وضو کرے اور نماز دہرائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا احدث فی صلاتہ یستقبل؛جلد۱ص۲٦٣؛حدیث نمبر؛١٠٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیاتم میں سے کوئی شخص عاجز ہے۔عبدالوارث کی روایت میں ہےآگے بڑھ جانے سے یا پیچھے ہٹ جانے سے یا دائیں یا بائیں چلے جانے سے۔حماد کی روایت میں في الصلاة کا اضافہ ہے یعنی نفل نماز پڑھنے کے لیے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الذی صلی فیہ المکتوبۃ؛جلد۱ص۲٦٤؛حدیث نمبر؛١٠٠٦)
حضرت ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ایک امام نے جن کی کنیت ابورمثہ ہے نماز پڑھائی،نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہایہی نماز یا ایسی ہی نماز میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہے،وہ کہتے ہیں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اگلی صف میں آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے،اور ایک اور شخص بھی تھاجو تکبیر اولیٰ میں موجود تھا،اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نماز پڑھا چکے تو آپ نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا،یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گالوں کی سفیدی دیکھی،پھر آپ پلٹے ایسے ہی جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود پلٹے،پھر وہ شخص جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر اولیٰ پائی تھی اٹھ کر دو رکعت پڑھنے لگا تو اٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور اس کا کندھا پکڑ کر زور سے جھنجوڑ کر کہا بیٹھ جاؤ،کیونکہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کو صرف اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا،اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھائی(اور یہ صورت حال دیکھی)تو فرمایاخطاب کے بیٹے!اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک اور درست بات کہنے کی توفیق دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الذی صلی فیہ المکتوبۃ؛جلد۱ص۲٦٤؛حدیث نمبر؛١٠٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا،پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا،پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کردی گئی ہے،نماز کم کردی گئی ہے،لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے(اس سلسلہ میں)بات کرنے سے ڈرے،پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے،اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہ میں بھولا ہوں،نہ ہی نماز کم کی گئی ہے،اس شخص نے عرض کیایا رسول اللہ!آپ بھول گئے ہیں،پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھاکیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟لوگوں نے اشارہ سے کہا ہاں ایسا ہی ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں،پھر سلام پھیرا،اس کے بعدالله أكبرکہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا،پھر الله أكبرکہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر الله أكبرکہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر الله أكبرکہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟انہوں نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں،لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا ہے آپ نے پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٤؛حدیث نمبر؛١٠٠٨)
ایک اور سند کے ساتھ محمد بن سیرین سےیہی حدیث مروی ہےاور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے کہا"صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا ہے ""صلی بنا" رسول الله نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے "فأومئوا"کہا ہے(جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ)انہوں نے"فقال الناس نعم"کہا ہے،اور مالک نے"ثم رفع"کہا ہے،"وكبر"نہیں کہا ہےجیسا کہ حماد نے کہا ہے،یعنی مالک نے"رفع وکبر"کہنے کے بجائے صرف"رفع"پر اکتفا کیا ہےاور مالک نے"ثم کبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع"کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہوگئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ"فكبر"نہیں کہا ہے اور نہ ہی "رجع"کا ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٥؛حدیث نمبر؛١٠٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی،پھر راوی نے پورے طور سے حماد کی روایت کے ہم معنی روایت ان کے قول"نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم تک ذکر کی"۔ سلمہ بن علقمہ کہتے ہیں میں نے ان سے (یعنی محمد بن سیرین سے)پوچھا کہ آپ نے تشہد پڑھا یا نہیں؟تو انہوں نے کہا میں نے تشہد کے سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے لیکن میرے نزدیک تشہد پڑھنا بہتر ہے،لیکن اس روایت میں آپ انہیں ذوالیدین کہتے تھے کا ذکر نہیں ہے اور نہ لوگوں کے اشارہ کرنے کا اور نہ ہی ناراضگی کا ذکر ہے،حماد کی حدیث جو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٥؛حدیث نمبر؛١٠١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصہ کے بارے میں روایت کی ہے کہ آپ نے"الله أكبر"کہا اور سجدہ کیا،ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے "الله أكبر"کہا پھر"الله أكبر"کہااور سجدہ کیا۔امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو حبیب بن شہید،حمید،یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے"الله أكبر"کہا،پھر الله أكبرکہا اور سجدہ کیا،حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے الله أكبر کہا پھر الله أكبرکہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٥؛حدیث نمبر؛١٠١١)
ایک اور سندسے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اس کا یقین دلا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٦؛حدیث نمبر؛١٠١٢)
ابن شہاب سے مروی ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی۔ ابن شہاب کہتے ہیں اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے،نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن،ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے۔ إمام ابوداؤد کہتے ہیں اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے زبیدی نے زہری سے،زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٦؛حدیث نمبر؛١٠١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو دو ہی رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے نماز کم کردی ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر(سہو کے)دو سجدے کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٦؛حدیث نمبر؛١٠١٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیایا رسول اللہ!کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ سے سہو ہوگیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے،تو لوگوں نے کہا اللہ کے رسول!آپ نے ایسا کیا ہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں،پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے،ابوسفیان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے،اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٧؛حدیث نمبر؛١٠١٥)
ضمضم بن جوس ہفانی کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٧؛حدیث نمبر؛١٠١٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو ہی رکعت میں آپ نے سلام پھیر دیا،پھر انہوں نے محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ذکر کیا،اس میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٧؛حدیث نمبر؛١٠١٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا،پھر اندر چلے گئے۔مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا نماز کم کردی گئی ہے؟(یہ سن کر)آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھاکیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟لوگوں نے کہاہاں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رکعت پڑھی،پھر سلام پھیرا،پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٧؛حدیث نمبر؛١٠١٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں تو آپ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ کیا ہے؟تو لوگوں نے عرض کیاآپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں،(یہ سن کر)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے اس کے بعد کہ آپ سلام پھیر چکے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٨؛حدیث نمبر؛١٠١٩)
حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی (ابراہیم کی روایت میں ہےتو میں نہیں جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادتی کی یا کمی)،پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ کیا؟لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں،چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے،پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا،جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایااگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا،لیکن انسان ہی تو ہوں،میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو،لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو ،اور فرمایا:جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہوجائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے،پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے،اس کے بعد سلام پھیرے پھر(سہو کے)دو سجدے کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٨؛حدیث نمبر؛١٠٢٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص(نماز میں)بھول جائے تو دو سجدے کرے ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور سہو کے دو سجدے کئے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے حصین نے اعمش کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٨؛حدیث نمبر؛١٠٢١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں،پھر جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کردیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا بات ہے؟،لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز زیادہ ہوگئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہیں،لوگوں نے کہا آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایامیں انسان ہی تو ہوں،جیسے تم لوگ بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٨؛حدیث نمبر؛١٠٢٢)
حضرت معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی،ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیاآپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے،مسجد کے اندر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی،میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھاکیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟میں نے کہا نہیں،البتہ اگر میں دیکھوں(تو پہچان لوں گا)پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہایہی وہ شخص تھا،لوگوں نے کہا یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٩؛حدیث نمبر؛١٠٢٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے(کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں)تو شک دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے،پھر جب اسے نماز پوری ہوجانے کا یقین ہوجائے تو دو سجدے کرے،اگر اس کی نماز(درحقیقت)پوری ہوچکی تھی تو یہ رکعت اور دونوں سجدے نفل ہوجائیں گے،اور اگر پوری نہیں ہوئی تھی تو اس رکعت سے پوری ہوجائے گی اور یہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے ہوں گے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے،زید نے عطاء بن یسار سے،عطاء نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے،اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،اور ابوخالد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا شک فی الثنتین والثلاث من قال یلقی الشک؛جلد۱ص۲٦٩؛حدیث نمبر؛١٠٢٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کا نام"مرغمتين"(شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والی دو چیزیں)رکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا شک فی الثنتین والثلاث من قال یلقی الشک؛جلد۱ص۲٦٩؛حدیث نمبر؛١٠٢٥)
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے،پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے،اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں(سجدوں)کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہوجائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا شک فی الثنتین والثلاث من قال یلقی الشک؛جلد۱ص۲٦٩؛حدیث نمبر؛١٠٢٦)
اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے،زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے،پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہوجائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک،حفص بن میسرہ،داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا شک فی الثنتین والثلاث من قال یلقی الشک؛جلد۱ص۲٧٠؛حدیث نمبر؛١٠٢٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایاجب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہوجائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو،پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔نیز سفیان،شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧٠؛حدیث نمبر؛١٠٢٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کرلےپھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے(یعنی دل میں وسوسہ ڈالے)کہ تو نے حدث کرلیا ہے تو اس سے کہےتو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧٠؛حدیث نمبر؛١٠٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے،یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے ابن عیینہ،معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہےاس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے(دو سجدے کرے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہےاس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٢)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال بعد التسليم؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٣)
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو دورکعت پڑھائی،پھر کھڑے ہوگئے اور قعدہ تشہد نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے،پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کرلی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله أكبر کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قام من ثنتين ولم یتشھد؛ترجمہ؛دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھے بغیر اٹھ جانا؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٤)
امام زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے تھے،سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قام من ثنتين ولم یتشھد؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہوجائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے،اگر سیدھا کھڑا ہوجائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔ إمام ابوداؤد کہتے ہیں میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من نسی ان یتشھد وھو جالس؛جلد۱ص۲٧٢؛حدیث نمبر؛١٠٣٦)
حضرت زیاد بن علاقہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی،وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے،ہم نے"سبحان الله"کہا،انہوں نے بھی"سبحان الله"کہا اور (واپس نہیں ہوئے)نماز پڑھتے رہے،پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کرلی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے،پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہامیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے،جیسے میں نے کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے،شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے،نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے،اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نے ہمیں نماز پڑھائی،پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ،عمران بن حصین،ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے کیا،اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں،انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من نسی ان یتشھد وھو جالس؛جلد۱ص۲٧٢؛حدیث نمبر؛١٠٣٧)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایاہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں،عمرو کے سوا کسی نے بھی(اس سند میں)عن أبيه کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من نسی ان یتشھد وھو جالس؛جلد۱ص۲٧٢؛حدیث نمبر؛١٠٣٨)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ سے سہو ہوا تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب سجدتی السھو فیھما تشھد وتسلیم؛ترجمہ؛سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے پھر سلام پڑھے؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٣٩)
حضرت ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب(نماز سے)سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے،لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛انصراف النساء قبل الرجال من الصلاۃ؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٤٠)
حضرت ہلب طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم(نماز سے فارغ ہو کر)اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے (کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب کیف الانصراف من الصلاۃ؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٤١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے،حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے،عمارہ کہتے ہیں اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو(بحالت نماز)آپ کے بائیں جانب دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب کیف الانصراف من الصلاۃ؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنی بعض نمازیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الرجل التطوع فی بیتہ؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٤٣)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الرجل التطوع فی بیتہ؛جلد۱ص۲٧٤؛حدیث نمبر؛١٠٤٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے،جب آیت کریمہ "فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما کنتم فولوا وجوهكم شطره" (ترجمہ)"اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں"(سورۃ البقرہ ١٥٠) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی لوگو!آگاہ ہوجاؤ،قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے(یہ حکم سنتے ہی)لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھرگئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من صلی لغیر القبلۃ ثم علم؛جلد۱ص۲٧٤؛حدیث نمبر؛١٠٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے،اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوے،اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے،اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی،اسی دن ان کا انتقال ہوا،اور اسی دن قیامت برپا ہوگی،انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں،اس میں ایک ساعت (گھڑی)ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پالے،پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو(ضرور)دے گا۔ کعب الاحبار نے کہا یہ ساعت(گھڑی)ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہانہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا،اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا وہ کون سی ساعت ہے؟مجھے معلوم ہے،میں نے ان سے کہا اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت(گھڑی)ہے،میں نے عرض کیا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت(گھڑی) کیسے ہوسکتی ہے؟جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو،اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام نے کہاکیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایاجو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے،وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے،ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا کیوں نہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے،انہوں نے کہاتو اس سے مراد یہی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع ابواب الجمعہ؛باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعہ؛جلد۱ص۲٧٤؛حدیث نمبر؛١٠٤٦)
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے،اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے،اسی دن ان کی روح قبض کی گئی،اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن سب بیہوش ہوں گے۔اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو،کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔اوس بن اوس کہتے ہیں لوگوں نے کہا یا رسول اللہ!ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو( کھانا) حرام کردیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعہ؛جلد۱ص۲٧٥؛حدیث نمبر؛١٠٤٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجمعہ کا دن بارہ ساعت(گھڑی)کا ہے،اس میں ایک ساعت (گھڑی)ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے،لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت(گھڑی)میں تلاش کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاجابۃ آیۃ ساعۃ ھی فی یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٥؛حدیث نمبر؛١٠٤٨)
حضرت ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟میں نے کہا ہاں،میں نے سنا ہے،وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ(ساعت)امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یعنی منبر پر(بیٹھنے سے لے کر) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاجابۃ آیۃ ساعۃ ھی فی یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٦؛حدیث نمبر؛١٠٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فضل الجمعہ؛جلد۱ص۲٧٦؛حدیث نمبر؛١٠٥٠)
عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہامیں نے کوفہ کے منبر پر علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتا ہے اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کر ان کو جمعہ میں آنے سے روکتا ہے اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آکر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت(گھڑی)میں آیا،اور کون دوسری ساعت(گھڑی)میں آیا،یہاں تک کہ امام(خطبہ جمعہ کے لیے)نکلتا ہے،پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے،جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور(دوران خطبہ)چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا،لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا،جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن(دوران خطبہ)بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے(بغل کے)ساتھی سے کہا چپ رہو،تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا،پھر وہ اس روایت کے اخیر میں کہتے ہیں میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔اس میں بغیر شک کے ربائث ہے،نیز اس میں مولى امرأته أم عثمان بن عطاء ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فضل الجمعہ؛جلد۱ص۲٧٦؛حدیث نمبر؛١٠٥١)
حضرت ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(انہیں شرف صحبت حاصل تھا) فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التشدید فی ترک الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٧؛حدیث نمبر؛١٠٥٢)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایاجو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے،اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے،اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب کفارۃ من ترکھا؛جلد۱ص۲٧٧؛حدیث نمبر؛١٠٥٣)
حضرت قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائےتو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز عن سمرة کہا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب کفارۃ من ترکھا؛جلد۱ص۲٧٧؛حدیث نمبر؛١٠٥٤)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں لوگ جمعہ کے لیے اپنے اپنے گھروں سے اور عوالی سے باربار آتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من تجب علیہ الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند(یعنی مرفوع روایت)کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من تجب علیہ الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٦)
حضرت ابوملیح کے والد اسامہ بن عمیر ھزلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے روز بارش ہو رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ(وہ اعلان کر دے کہ)لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی الیوم المطیر؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٧)
حضرت ابوملیح سے روایت ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی الیوم المطیر؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٨)
حضرت ابوملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ہزلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ک وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صلح حدیبیہ کے موقع پر جمعہ کے روز حاضر ہوئے وہاں ایسی بارش ہوئی تھی کہ ان کے جوتوں کے تلے بھی نہیں بھیگے تھے تو آپ نے انہیں اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لینے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی الیوم المطیر؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٩)
حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ وادی ضجنان میں ایک سرد رات میں اترے اور منادی کو حکم دیا اور اس نے آواز لگائی لوگو!اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو،ایوب کہتے ہیں اور ہم سے نافع نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی یا بارش کی رات ہوتی تو منادی کو حکم دیتے تو وہ"الصلاة في الرحال"لوگو!اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کا اعلان کرتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٦٠)
حضرت نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وادی ضجنان میں نماز کے لیے اذان دی،پھر اعلان کیا کہ اے لوگو!تم لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو،اس میں ہے کہ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی کہ آپ سفر میں سردی یا بارش کی رات میں منادی کو حکم فرماتے تو وہ نماز کے لیے اذان دیتا پھر وہ اعلان کرتا کہ لوگو!اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے حماد بن سلمہ نے ایوب اور عبیداللہ سے روایت کیا ہے اس میں"في الليلة الباردة وفي الليلة المطيرة في السفر"کے بجائے"في السفر في الليلة القرة أو المطرة"کے الفاظ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مقام ضجنان میں سرد اور آندھی والی ایک رات میں اذان دی تو اپنی اذان کے آخر میں کہا لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو،لوگو!اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو،پھر انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے اندر سردی یا بارش کی رات میں مؤذن کو حکم فرماتے تھے کہ اعلان کر دو اے لوگو!اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦٢)
حضرت نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سرد اور آندھی والی ایک رات میں نماز کے لیے اذان دی تو کہا اےلوگو!ڈیروں میں نماز پڑھ لو،پھر انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردی یا بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیتے اے لوگو!ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے مدینہ کے اندر بارش کی رات یا سردی کی صبح میں ایسی ہی ندا کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم سے،قاسم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے،ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں"في السفر"کے الفاظ بھی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦٥)
حضرت محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہاجب تم"أشهد أن محمدا رسول الله"کہنا تو اس کے بعد"حي على الصلاة"نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ"صلوا في بيوتكم"اےلوگو!اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لوکہنا،لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہاایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی(یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے)بیشک جمعہ واجب ہے،لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں(جمعہ کے لیے)آنے کی زحمت دوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٨٠؛حدیث نمبر؛١٠٦٦)
حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں غلام،عورت،نابالغ بچہ،اور بیمار کے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں طارق بن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ؛جلد۱ص۲٨٠؛حدیث نمبر؛١٠٦٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اسلام میں مسجد نبوی میں جمعہ قائم کئے جانے کے بعد پہلا جمعہ قریہ جو اثاء میں قائم کیا گیا،جو علاقہ بحرین کا ایک گاؤں ہے،عثمان کہتے ہیں وہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک گاؤں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی القری؛جلد۱ص۲٨٠؛حدیث نمبر؛١٠٦٨)
حضرت عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے،وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے،عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟انہوں نے جواب دیامیں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع(بستی،گاؤں)ھزم النبیت میں جمعہ کی نماز پڑھائی،میں نے پوچھا اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟کہا ہم چالیس تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی القری؛جلد۱ص۲٨٠؛حدیث نمبر؛١٠٦٩)
حضرت ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں؟تو انہوں نے کہا ہاں،معاویہ نے پوچھاپھر آپ نے کس طرح کیا؟انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی،پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید؛جلد۱ص۲٨١؛حدیث نمبر؛١٠٧٠)
حضرت عطاء بن ابورباح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی،پھرجب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں،بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت طائف میں تھے،جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا انہوں(ابن زبیر رضی اللہ عنہ)نے سنت پر عمل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید؛جلد۱ص۲٨١؛حدیث نمبر؛١٠٧١)
حضرت عطاء کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہوگئے تو آپ نے کہا ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں،پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی،اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید؛جلد۱ص۲٨١؛حدیث نمبر؛١٠٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں،لہٰذا رخصت ہے،جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہوگی اور ہم نماز جمعہ پڑھیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید؛جلد۱ص۲٨١؛حدیث نمبر؛١٠٧٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں سورة السجدة اور"هل أتى على الإنسان حين من الدهر"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ فی صلاۃ الصبح یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٤)
اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہےاس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورة الجمعہ اور"إذا جاءک المنافقون"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ فی صلاۃ الصبح یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !کاش آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں،اسے پہنا کریں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو ،چناں چہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اللبس للجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اللبس للجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٧)
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھےحضرت عمرو کہتے ہیں مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے،انہوں نے موسیٰ بن سعد سے،موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے،ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے،انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے،یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے،انہوں نے موسیٰ بن سعد سے،موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اللبس للجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خریدو فروخت کرنے،کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے،شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التحلق یوم الجمعۃ قبل الصلاۃ؛جلد۱ص۲٨٣؛حدیث نمبر؛١٠٧٩)
ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے،وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا قسم اللہ کی!میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس جس کا سہل نے نام لیا۔یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں،تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا،اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے(ایک جگہ)رکھنے کا حکم دیا،چناں چہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا،پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا،پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا،پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا اے لوگو!میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التحلق یوم الجمعۃ قبل الصلاۃ؛جلد۱ص۲٨٣؛حدیث نمبر؛١٠٨٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم جب بھاری ہوگیا تو تمیم داری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں،کیوں نہیں چناں چہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنادیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی اتخاذ المنبر؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨١)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور(قبلہ والی)دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب موضع المنبر؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨٢)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایاجہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث مرسل (منقطع)ہے،مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ یوم الجمعۃ قبل الزوال؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی وقت الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨٤)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی وقت الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨٥)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی وقت الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٨٦)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا،پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ہوئی،اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا،چناں چہ زوراءپر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النداء یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٨٧)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النداء یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٨٨)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النداء یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٨٩)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النداء یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٩٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایابیٹھ جاؤ،تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ(جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے)اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے،تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایاعبداللہ بن مسعود!تم آجاؤ۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے،عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،اور مخلد شیخ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الامام یکلم الرجل فی خطبتہ؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(جمعہ کے دن)دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہوجاتا،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے،پھر(تھوڑی دیر)خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجلوس إذا صعد المنبر؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩٢)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(جمعہ کے دن)کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے،پھر(تھوڑی دیر)بیٹھ جاتے،پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے،لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے،پھر انہوں نے کہا اللہ کی قسم!میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ قائما؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩٣)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(جمعہ کے دن)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے،ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ(تھوڑی دیر)بیٹھتے تھے،(خطبہ میں)آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ قائما؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے،اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ قائما؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩٥)
حضرت شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس(جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا،اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا)بیٹھے تو وہ ہم سے بیان کرنے لگے کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا،ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیایا رسول اللہ!ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی،پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے،ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے،آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے،پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا اے لوگو!تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لاسکتے،لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہوجاؤ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے امام ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٧؛حدیث نمبر؛١٠٩٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کہتے: "الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا،من يهده الله فلا مضل له،ومن يضلل فلا هادي له،وأشهد أن لا إله إلا الله،وأشهد أن محمدا عبده ورسوله،أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة،من يطع الله ورسوله فقد رشد،ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا" "ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے،ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں،ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں،اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا،اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا،میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں،اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے،اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٧؛حدیث نمبر؛١٠٩٧)
حضرت یونس سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا"ومن يعصهما فقد غوى ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله" "جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوگیا،ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٧؛حدیث نمبر؛١٠٩٨)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: "من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١٠٩٩)
( ام ہشام)بنت حارث(حارثہ بن نعمان)بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے سورة"ق" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان(مبارک)سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے،آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے،وہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١١٠٠)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١١٠١)
عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے سورة"ق"کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب،اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے،یحییٰ نے عمرہ سے،عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١١٠٢)
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن اپنی بہن ام ہشام رضی اللہ عنہا سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں،حدیث نمبر ١١٠٢کے مثل روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١١٠٣)
حضرت حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن(منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے(یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے(جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین علی المنبر؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٤)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے منبر پر دعا مانگتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ غیر منبر پر،بلکہ میں نے آپ کو اس طرح کرتے دیکھا اور انہوں نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین علی المنبر؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٥)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبوں میں اختصار کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اقصار الخطب؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٦)
حضرت جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبے کو طول نہیں دیتے تھے،وہ بس چند ہی کلمات ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اقصار الخطب؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٧)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کردیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدنو من الإمام عند الموعظۃ؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٨)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے،اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا اللہ نے سچ فرمایا ہے"إنما أموالکم وأولادکم فتنة"(التغابن١٥) "تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں" میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا،پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الإمام یقطع الخطبۃ للأمر یحدث؛جلد۱ص۲٩٠؛حدیث نمبر؛١١٠٩)
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ(گوٹ مار کر بیٹھنے سے)منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاحتباء والایمان یخطب؛جلد۱ص۲٩٠؛حدیث نمبر؛١١١٠)
یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ،شریح،صعصہ بن صوحان،سعید بن مسیب،ابراہیم نخعی،مکحول،اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاحتباء والایمان یخطب؛جلد۱ص۲٩٠؛حدیث نمبر؛١١١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں(کسی سے)کہا چپ رہو،تو تم نے لغو کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الکلام والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩٠؛حدیث نمبر؛١١١٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے،اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے،دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے،تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے،نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے،نہ کسی کو تکلیف دے،تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہوگا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: "جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الکلام والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٣)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہوجائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، مان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب استئذان المحدث الإمام؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں)آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے،تو آپ نے فرمایااے فلاں!کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟اس نے کہانہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو اٹھ کر نماز پڑھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا دخل الرجل والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ(مسجد میں)آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے،تو آپ نے ان سے فرمایاکیا تم نے کچھ پڑھا؟، انہوں نے کہا نہیں،آپ نے فرمایاہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا دخل الرجل والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سلیک رضی اللہ عنہ آئے،پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا دخل الرجل والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٧)
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں)تھے،اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا ایک شخص(اسی طرح)جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایابیٹھ جاؤ،تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٢؛حدیث نمبر؛١١١٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناجب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل ینعس والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩٢؛حدیث نمبر؛١١١٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ(خطبہ دے کر)منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کرلیتا،یعنی اپنی گفتگو مکمل کرلیتا،پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے،یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الإمام یتکلم بعد ما ینزل من المنبر؛جلد۱ص۲٩٢؛حدیث نمبر؛١١٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من ادرک من الجمعۃ رکعۃ؛جلد۱ص۲٩٢؛حدیث نمبر؛١١٢١)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے روز "سبح اسم ربک الأعلى"اور"هل أتاک حديث الغاشية"پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑجاتا تو(بھی)انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ بہ فی الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٢)
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورة الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟تو انہوں نے کہا"هل أتاک حديث الغاشية"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ بہ فی الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٣)
ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز جمعہ پڑھائی تو(پہلی رکعت میں)سورة الجمعہ اور دوسری میں"إذا جاءک المنافقون" پڑھی،ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے(نماز جمعہ میں) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔اس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ بہ فی الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٤)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں"سبح اسم ربک الأعلى"اور"هل أتاک حديث الغاشية"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ بہ فی الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٥)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے اندر نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ کی اقتداء کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یاتم بالأمام وبینہما جدار؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٦)
حضرت نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا،(جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی)تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٢٧)
حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٢٨)
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عطاء بن ابی الخوار نے خبر دی ہے کہ حضرت نافع بن جبیر نے انہیں ایک چیز کے متعلق،جسے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے نماز میں انہیں کرتے ہوئے دیکھا تھا،سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا،تو انہوں نے بتایا کہ میں نے معاویہ کے ساتھ مسجد کے کمرہ میں نماز جمعہ ادا کی،جب میں نے سلام پھیرا تو اپنی اسی جگہ پر اٹھ کر پھر نماز پڑھی تو جب وہ گھر تشریف لائے تو مجھے بلوایا اور کہا جو تم نے کیا ہے،اسے پھر دوبارہ نہ کرنا،جب تم جمعہ پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز نہ ملاؤ،جب تک کہ بات نہ کرلو یا نکل نہ جاؤ،کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز کسی نماز سے ملائی نہ جائے جب تک کہ بات نہ کرلی جائے یا باہر نکل نہ لیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٢٩)
حضرت عطاء سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے اور چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینے میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر واپس آتے اور(گھر میں)دو رکعتیں ادا کرتے،مسجد میں نہ پڑھتے،ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(محمد بن صباح کی روایت میں ہے)جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے،اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔سہیل کہتے ہیں میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا اے میرے بیٹے!اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو(گھر پر)دو رکعت اور پڑھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٣١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٥؛حدیث نمبر؛١١٣٢)
حضرت ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا،تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں،پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟تو انہوں نے کہا بارہا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٥؛حدیث نمبر؛١١٣٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے(تو دیکھا کہ)ان کے لیے(سال میں)دو دن ہیں جن میں وہ کھیلتے کودتے ہیں تو آپ نے پوچھایہ دو دن کیسے ہیں؟تو ان لوگوں نے کہا جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیلتے کودتے تھے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ العیدین؛جلد۱ص۲٩٥؛حدیث نمبر؛١١٣٤)
حضرت یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے،تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب وقت الخروج الی العید؛جلد۱ص۲٩٥؛حدیث نمبر؛١١٣٥)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن(عید گاہ)لے جائیں، آپ سے پوچھا گیاحائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں،ایک خاتون نے عرض کیا یا رسول اللہ!اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟آپ نے فرمایا اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب خروج النساء فی العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہےحائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں،محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے،وہ کہتے ہیں حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے،حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ!پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب خروج النساء فی العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٣٧)
اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہے کہ انہوں نے کہاہمیں حکم دیاجاتا تھا،پھر یہی حدیث بیان کی،پھر آگے اس میں ہے کہ انہوں نے بتایاحائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب خروج النساء فی العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٣٨)
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ(آکر)دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا،ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا،پھر انہوں نے کہامیں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے،نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب خروج النساء فی العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٣٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہامروان!آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے،ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا،دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا،تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟لوگوں نے کہا فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا اس شخص نے اپنا حق ادا کردیا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٤٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی،پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے،جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں،کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کھچ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٧؛حدیث نمبر؛١١٤١)
حضرت عطاء فرماتےہیں میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے،پھر نماز پڑھائی،پھر خطبہ دیا،پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ابن کثیر کہتے ہیں شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ(اس میں یہ بھی ہے کہ)آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ(اپنے زیورات وغیرہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں)ڈالنے لگیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٧؛حدیث نمبر؛١١٤٢)
اسی سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے،آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا،تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٧؛حدیث نمبر؛١١٤٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے عورتیں بالی اور انگوٹھی(صدقہ میں)دینے لگیں اور بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنی چادر میں رکھتے جاتے تھے وہ کہتے ہیں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمان فقراء کے درمیان تقسیم کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٤)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے دن ایک کمان دی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر(ٹیک لگا کر)خطبہ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٥)
حضرت عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھاکیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں؟آپ نے کہاہاں اگر مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کرم نہ ہوتی تو میں کمسنی کے باعث آپ تک نہیں پہنچ سکتارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی،پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقے کا حکم دیا،تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں(یعنی بالیوں اور ہاروں)کی طرف اشارے کرنے لگیں،وہ کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا چناں چہ وہ ان کے پاس آئے پھر(صدقہ لے کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹ آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ترک الآذان فی العید؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور حضرت ابوبکر اور عمر یا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ترک الآذان فی العید؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٧)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں(بارہا)عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ترک الآذان فی العید؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٨)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٤٩)
اس طریق سے بھی ابن شہاب سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ،اس میں ہے(یہ تکبیریں)رکوع کی دونوں تکبیروں کے علاوہ ہوتیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٥٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر(زوائد)کے بعد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٥١)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے پھر قرأت کرتے پھر"الله أكبر"کہتے پھر (دوسری رکعت کے لیے)کھڑے ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے وکیع اور ابن مبارک نے بھی روایت کیا ہے،ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں نقل کی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٥٢)
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے؟تو ابوموسیٰ نے کہا چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح،یہ سن کر حذیفہ نے کہاانہوں نے سچ کہا،اس پر ابوموسیٰ نے کہا میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا،جہاں پر میں حاکم تھا،ابوعائشہ کہتے ہیں اس(گفتگو کے وقت)میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٥٣)
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد الیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟آپ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں"ق والقرآن المجيد"اور"اقتربت الساعة وانشق القمر"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ فی الاضحی والفطر؛جلد۱ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛١١٥٤)
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایاہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ مرسل ہے،عطا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجلوس للخطبۃ؛جلد۱ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛١١٥٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخروج الی العید فی طریق ویرجع فی طریق؛جلد۱ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛١١٥٦)
حضرت ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں،روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے،تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا لم یخرج الإمام للعید من یومہ یخرج من الغد؛جلد۱ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛١١٥٧)
حضرت بکر بن مبشر انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ عید گاہ جاتا تھا تو ہم وادی بطحان سے ہو کر جاتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان سے ہی اپنے گھر واپس آتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا لم یخرج الإمام للعید من یومہ یخرج من الغد؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٥٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد،پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے،آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار(بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں نکال نکال کر)ڈالنے لگیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد صلاۃ العید؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ(ایک بار)عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب یصلی بالناس العید فی المسجد اذا کان یوم مطر؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٦٠)
حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ نماز استسقا کے لیے نکلے،تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی،جن میں بلند آواز سے قرأت کی اور اپنی چادر پلٹی اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٦١)
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا(عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ)سے(جو صحابی رسول تھے)سنا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقاء کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہےسلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں۔اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی۔ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٦٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی محمد بن مسلم(ابن شہاب زہری)سے یہ حدیث مروی ہےاس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کرلیا،پھر اللہ عزوجل سے دعا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛١١٦٣)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقا پڑھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایک سیاہ چادر تھی تو آپ نے اس کے نچلے کنارے کو پکڑنے اور پلٹ کر اسے اوپر کرنے کا ارادہ کیا جب وہ بھاری لگی تو اسے اپنے کندھے ہی پر پلٹ لیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛١١٦٤)
حضرت ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے ولید بن عتبہ نے(عثمان کی روایت میں ولید بن عقبہ ہے،جو مدینہ کے حاکم تھے)ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں جا کر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقا کے بارے میں پوچھوں تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کے ساتھ گریہ وزاری کرتے ہوئے عید گاہ تک تشریف لائے،عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ منبر پر چڑھے،آگے دونوں راوی روایت میں متفق ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ان خطبوں کی طرح خطبہ نہیں دیا،بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برابر دعا،گریہ وزاری اور تکبیر میں لگے رہے،پھر دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔امام ابوداؤد کہتے ہیں روایت نفیلی کی ہے اور صحیح ولید بن عقبہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛١١٦٥)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف بارش طلب کرنے کی غرض سے نکلے،جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوئے پھر اپنی چادر پلٹی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی ای وقت یحول رداءہ اذا استسقی؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٦٦)
حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے،اور(اللہ تعالیٰ سے)بارش طلب کی،اور جس وقت قبلہ رخ ہوئے،اپنی چادر پلٹی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی ای وقت یحول رداءہ اذا استسقی؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٦٧)
حضرت عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر(اللہ تعالیٰ سے)بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا،نب صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٦٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہتے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس(بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر)روتے ہوئے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی"اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل" (یعنی)اے اللہ"ہمیں سیراب فرما،ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو،اچھے انجام والی ہو،سبزہ اگانے والی ہو،نفع بخش ہو،مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو،تاخیر سے نہ آنے والی ہو" حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٦٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا کے علاوہ کسی دعا میں(اتنا)ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے(اس موقعہ پر)آپ اپنے دونوں ہاتھ اتنا اٹھاے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٧٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا میں اس طرح دعا کرتے تھے، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور ان کی پشت اوپر رکھتے اور ہتھیلی زمین کی طرف یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٧١)
حضرت محمد بن ابراہیم(تیمی)کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ احجار زیت کے پاس اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائے دعا فرما رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛١١٧٢)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر(رکھنے)کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(حجرہ سے)اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہوگیا،نب صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے،اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایاتم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے،اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ(اگر تم اسے پکارو گے)تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا،اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی"الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين،لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين" (یعنی)تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے،اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ جو چاہتا ہے،کرتا ہے،یا اللہ!تو ہی معبود حقیقی ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں،تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لیے قوت(رزق)بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی،پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا،آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے،پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی،اسی وقت(اللہ کے حکم سے)آسمان سے بادل اٹھے،جن میں گرج اور چمک تھی،پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد نہیں آسکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور فرمایامیں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید(عمدہ)ہے،اہل مدینہ ملك يوم الدين پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛١١٧٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوئے،اسی دوران کہ آپ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!گھوڑے مرگئے،بکریاں ہلاک ہوگئیں،آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں سیراب کرے،چناں چہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلایا اور دعا کی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس وقت آسمان آئینہ کی طرح صاف تھا،اتنے میں ہوا چلنے لگی پھر بدلی اٹھی اور گھنی ہوگئی پھر آسمان نے اپنا دہانہ کھول دیا،پھر جب ہم(نماز پڑھ کر)واپس ہونے لگے تو پانی میں ہو کر اپنے گھروں کو گئے اور آنے والے دوسرے جمعہ تک برابر بارش کا سلسلہ جاری رہا،پھر وہی شخص یا دوسرا کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!گھر گرگئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش بند کر دے،(یہ سن کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر فرمایا اے اللہ!تو ہمارے اردگرد بارش نازل فرما اور ہم پر نہ نازل فرما۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو میں نے بادل کو دیکھا وہ مدینہ کے اردگرد سے چھٹ رہا تھا گویا وہ تاج ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛١١٧٤)
حضرت شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا،پھر راوی نے عبدالعزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی"اللهم اسقنا"اے اللہ!ہمیں سیراب فرمااور آگے انہوں نے حدیث نمبر ١١٧٤ کے مثل حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛١١٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کے لیے دعا مانگتے تو فرماتے"اللهم اسق عبادک وبهائمك،وانشر رحمتک،وأحي بلدک الميت" اے اللہ!تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر،اور اپنی رحمت عام کر دے، اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما(یہ مالک کی روایت کے الفاظ ہیں) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛١١٧٦)
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مجھےاس شخص نے خبر دی ہے جس کو میں سچا جانتا ہوں(عطا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں)کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا،آپ لوگوں کے ساتھ قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے،پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہر رکعت میں آپ نے تین تین رکوع کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیسرا رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے یہاں تک کہ آپ کے لمبے قیام کے باعث اس دن کچھ لوگوں کو(کھڑے کھڑے)غشی طاری ہوگئی اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے،جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو"الله أكبر"کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے سورج یا چاند میں گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں،ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا جب ان دونوں میں گرہن لگے تو تم نماز کی طرف دوڑو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الکسوف؛جلد۱ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛١١٧٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا،یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی،لوگ کہنے لگے کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز(کسوف)پڑھائی، چار سجدوں میں چھ رکوع کیا"اللہ اکبر" کہا،پھر قرآت کی اور دیر تک قرآت کرتے رہے،پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا،پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پہلی قرآت کی بہ نسبت مختصر قرآت کی پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا،پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر تیسری قرآت کی جو دوسری قرآت کے بہ نسبت مختصر تھی اور اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا،پھر رکوع سے سر اٹھایا، اس کے بعد سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے کئے،پھر کھڑے ہوئے اور سجدے سے پہلے تین رکوع کیے،ہر رکوع اپنے بعد والے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا،البتہ رکوع قیام کے برابر ہوتا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ آگے بڑھے اور اپنی جگہ چلے گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج(صاف ہو کر)نکل چکا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو!سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو نماز میں مشغول ہوجاؤ، یہاں تک کہ وہ صاف ہو کر روشن ہوجائے ،اور راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛١١٧٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سخت گرمی کے دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی،(اس میں)آپ نے لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا(رکوع)کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا (قیام)کیا، پھر دو سجدے کئے پھر (دوسری رکعت کے لیے)کھڑے ہوئے تو ویسے ہی کیا، اس طرح(دو رکعت میں)چار رکوع اور چار سجدے ہوئے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛١١٧٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے "الله أكبر"کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر الله أكبر کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا،پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے الله أكبر کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، (پھر رکوع سے سر اٹھایا) اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس طرح (دو رکعت میں)آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛١١٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی، جیسے عروہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے دو رکعت پڑھی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛١١٨١)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (دو رکعت)پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورة کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛١١٨٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری(رکعت)بھی اسی طرح پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛١١٨٣)
حضرت اسود بن قیس کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن عباد عبدی(جو اہل بصرہ میں سے ہیں)نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر رہے،حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے (خطبہ میں)کہامیں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے اپنا اپنا نشانہ لگا رہے تھے یہاں تک کہ جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو نیزہ یا تین نیزہ کے برابر رہ گیا تو اسی دوران وہ دفعۃً سیاہ ہوگیا پھر گویا وہ تنومہ ہوگیا، تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا تم ہمارے ساتھ مسجد چلو کیونکہ اللہ کی قسم سورج کا یہ حال ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، تو ہم چلے تو دیکھتے ہیں کہ مسجد بھری ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، اور ہمارے ساتھ اتنا لمبا قیام کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی نماز میں اتنا لمبا قیام نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اتنا لمبا رکوع کیا کہ اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی بھی کسی نماز میں ہمارے ساتھ نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں دوسری رکعت پڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہوگیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر احمد بن یونس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا خطبہ بیان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛١١٨٤)
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے نکلے اس دن میں آپ کے ساتھ مدینہ ہی میں تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں لمبا قیام فرمایا، پھر نماز سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہوگیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک یہ نشانیاں ہیں، جن کے ذریعہ اللہ(بندوں کو) ڈراتا ہے لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو جیسے تم نے قریب کی فرض نماز پڑھی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛١١٨٥)
حضرت ہلال بن عامر سے روایت ہے کہ قبیصہ ہلالی نے ان سے بیان کیا ہے کہ سورج میں گرہن لگا،پھر انہوں نے موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی، اس میں ہے یہاں تک کہ ستارے دکھائی دینے لگے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛١١٨٦)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورة البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورة آل عمران کی قرآت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب القراۃ فی صلاۃ الکسوف؛جلد۱ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛١١٨٧)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی اور اس میں جہر کیا یعنی نماز کسوف میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب القراۃ فی صلاۃ الکسوف؛جلد۱ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛١١٨٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا،پھر رکوع کیا،پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب القراۃ فی صلاۃ الکسوف؛جلد۱ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛١١٨٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز(کسوف)جماعت سے ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ینادی فیھا بالصلاۃ؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے،جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصدقۃ فیھا؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩١)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب العنق فیھا؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩٢)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یرکع رکعتین ؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا،تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع ہی نہیں کریں گے، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے،پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے،پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے،پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھایا،پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا،پھر اخیر سجدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھونک ماری اور "اف اف"کہا پھر فرمایااے میرے رب!کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا؟کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہوگیا تھا،پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یرکع رکعتین ؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩٤)
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا،تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح،تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا،اس وقت آپ نے(نماز کسوف کی دونوں رکعتوں)میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یرکع رکعتین ؛جلد۱ص٣١١؛حدیث نمبر؛١١٩٥)
نضر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی،تو میں آپ کے پاس آیا اور کہاابوحمزہ!کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی؟انہوں نے کہا اللہ کی پناہ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آجاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ عند الظلمۃ ونحوھا؛جلد۱ص٣١١؛حدیث نمبر؛١١٩٦)
حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی کا انتقال ہوگیا ہے،تو وہ یہ سن کر سجدے میں گرپڑے،ان سے کہا گیا کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی(یعنی بڑا حادثہ)دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہوسکتی ہے؟۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السجود عند الآیات؛جلد۱ص٣١١؛حدیث نمبر؛١١٩٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی،پھر سفر کی نماز (حسب معمول)برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب صلاۃ المسافر؛ترجمہ؛مسافر کی نماز کا بیان؛جلد٢؛ص؛٣؛حدیث نمبر؛١١٩٨)
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہامجھے بتائیے کہ(سفر میں)لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے "اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کردیں گے"(النساء:١٠١)تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہاجس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب صلاۃ المسافر؛جلد٢؛ص؛٣؛حدیث نمبر؛١١٩٩)
حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا،پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب صلاۃ المسافر؛جلد٢؛ص؛٣؛حدیث نمبر؛١٢٠٠)
یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ(یہ شک شعبہ کو ہوا ہے)کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یقصرالمسافر؛جلد٢؛ص؛٣؛حدیث نمبر؛١٢٠١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یقصرالمسافر؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتااور نماز ادا کرتا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہےدیکھو میرے اس بندے کو،یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے،مجھ سے ڈرتا ہے،میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الاذان فی السفر؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٣)
مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو،انہوں نے کہاجب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے سورج ڈھل گیا یا نہیں تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب المسافر یصلی وھو یشک فی الوقت؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے،تو ایک شخص نے ان سے کہا اگرچہ نصف النہار ہوتا؟انہوں نے کہا اگرچہ نصف النہار ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب المسافر یصلی وھو یشک فی الوقت؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٥)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے،ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مؤخر کی پھر نکلے اور ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھی پھر اندر(قیام گاہ میں)چلے گئے،پھر نکلے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٦)
حضرت نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صفیہ کی موت کی خبر دی گئی اس وقت مکہ میں تھے تو آپ چلے(اور چلتے رہے)یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور ستارے نظر آنے لگے،تو عرض کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جب کسی کام کی عجلت ہوتی تو آپ یہ دونوں(مغرب اور عشاء)ایک ساتھ ادا کرتے،پھر وہ شفق غائب ہونے تک چلتے رہے ٹھہر کر دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٥؛حدیث نمبر؛١٢٠٧)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے،اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لیے قیام کرتے،اسی طرح آپ مغرب میں کرتے،اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ عشاء کے لیے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبداللہ سے حصین نے کریب سے،کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے،ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٥؛حدیث نمبر؛١٢٠٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ایوب عن نافع عن ابن عمر سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا،یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٥؛حدیث نمبر؛١٢٠٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا۔ مالک کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہوگا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابوالزبیر سے روایت کیا ہے،نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا،ابن عباس سے پوچھا گیااس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١١)
حضرت نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن نے کہا نماز(پڑھ لی جائے)(تو)ابن عمر نے کہاچلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی تو عشاء پڑھی،پھر کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے،چناں چہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن جابر رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور عبداللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے اس میں ہے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہونے کا وقت ہوا تو وہ اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ہمارے ساتھ ظہر و عصر ملا کر آٹھ رکعتیں اور مغرب و عشاء ملا کر سات رکعتیں پڑھیں۔ سلیمان اور مسدد کی روایت میں بنا یعنی ہمارے ساتھ کا لفظ نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے صالح مولیٰ توامہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے،اس میں بغيرمطربغیر بارش کے الفاظ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے کہ سورج ڈوب گیا تو آپ نے مقام سرف میں دونوں(مغرب اور عشاء)ایک ساتھ ادا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٥)
ہشام بن سعد کہتے ہیں کہ دونوں یعنی مکہ اور سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٦)
حضرت عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا،اس وقت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا،پھر ہم چلے،جب دیکھا کہ رات آگئی ہے تو ہم نے کہا نماز(ادا کرلیں)لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے،پھرآپ اترے، اور دونوں نمازیں(مغرب اور عشاء)ایک ساتھ ادا کیں،پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہوجانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے،اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کردیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے،اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب الدعوات تھے،وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٨)
ایک اور سند کے ساتھ عقیل سے یہی روایت منقول ہےالبتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہوجاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٩)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے،اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کرتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے،اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے،اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢٢٠)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی اور دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں "والتين والزيتون"پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب قصر قراءَۃالصلاۃ فی السفر؛جلد٢؛ص٨؛حدیث نمبر؛١٢٢١)
حضرت براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا،لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع فی السفر؛جلد٢؛ص٨؛حدیث نمبر؛١٢٢٢)
حضرت حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ(نماز کی حالت میں)کھڑے ہیں،پوچھایہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟میں نے کہا یہ نفل پڑھ رہے ہیں،تو آپ نے کہا بھتیجے!اگر مجھے نفل پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا،میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی،پھر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی،اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی،مجھے(سفر میں)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی،اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے"لقد کان لکم في رسول الله أسوة حسنة"(الاحزاب:٢١) (ترجمہ)"تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع فی السفر؛جلد٢؛ص٨؛حدیث نمبر؛١٢٢٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے،خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے،البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع علی الراحلۃ والوتر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی قبلہ رخ کرلیتے اور تکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے خواہ آپ کی سواری کا رخ کسی بھی طرف ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع علی الراحلۃ والوتر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ کا رخ خیبر کی جانب تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع علی الراحلۃ والوتر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں(واپس)آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں(آپ کا)سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع علی الراحلۃ والوتر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٧)
حضرت عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھاکیا عورتوں کو چوپایوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟آپ نے کہا مشکل میں ہوں یا سہولت میں،انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں یہ بات فرض نماز کے سلسلے میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الفریضۃ علی الراحلۃ من عذر ؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٨)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا،آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے اے مکہ والو!تم چار پڑھو،کیونکہ ہم تو مسافر ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سترہ دن مکہ میں مقیم رہے،اور نماز قصر کرتے رہے،تو جو شخص سترہ دن قیام کرے وہ قصر کرے،اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ اتمام کرے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عباد بن منصور نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے،اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انیس دن تک مقیم رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز قصر کرتے رہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث عبدہ بن سلیمان،احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نےابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں سترہ دن تک مقیم رہے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے،آپ(اس سفر میں)دو رکعتیں پڑھتے رہے،یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم لوگوں نے پوچھاکیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے؟انہوں نے جواب دیا مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣٣)
حضرت عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہوجاتا،پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے۔پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے۔پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عثمان کی روایت میں"أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي"کے بجائے"عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي"ہے۔ (ابوعلی لولؤی کہتے ہیں)میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ(بن انس بن مالک)سے روایت کی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہوجاتی تو دونوں(مغرب اور عشاء)کو جمع کرتے اور کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ زہری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کےمثل روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور نماز قصر کرتے رہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں معمر کے علاوہ سبھی اسے مرسل روایت کرتے ہیں،کوئی اسے مسند روایت نہیں کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب اذا أقام بأرض العدو یقصر؛جلد٢؛ص١١؛حدیث نمبر؛١٢٣٥)
حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے،اس وقت مشرکوں کے سردار خالد بن ولید تھے،ہم نے ظہر پڑھی تو مشرکین کہنے لگے ہم سے چوک ہوگئی، ہم غفلت کا شکار ہوگئے،کاش!ہم نے دوران نماز ان پر حملہ کردیا ہوتا،چناں چہ ظہر اور عصر کے درمیان قصر کی آیت نازل ہوئی پھر جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے،مشرکین آپ کے سامنے تھے،لوگوں نے آپ کے پیچھے ایک صف بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک دوسری صف بنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ بیک وقت رکوع کیا،لیکن سجدہ آپ نے اور صرف اس صف کے لوگوں نے کیا جو آپ سے قریب تر تھے اور باقی(پچھلی صف کے)لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے،پھر جب یہ لوگ سجدہ کر کے کھڑے ہوگئے تو باقی دوسرے لوگوں نے جو ان کے پیچھے تھے،سجدے کئے،پھر قریب والی صف پیچھے ہٹ کر دوسری صف کی جگہ پر چلی گئی،اور دوسری صف آگے بڑھ کر پہلی صف کی جگہ پر آگئی،پھر سب نے مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ صرف آپ اور آپ سے قریب والی صف نے کیا اور بقیہ لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریب والی صف کے لوگ بیٹھ گئے تو بقیہ دوسروں نے سجدہ کیا،پھر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک ساتھ سلام پھیرا،آپ نے عسفان میں اسی طرح نماز پڑھی اور بنی سلیم سے جنگ کے روز بھی اسی طرح نماز پڑھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ایوب اور ہشام نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے اسی مفہوم کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث داود بن حصین نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سے روایت کی ہے۔اسی طرح یہ حدیث عبدالملک نے عطا سے،عطاء نے جابر سے روایت کی ہے۔اسی طرح قتادہ نے حسن سے،حسن نے حطان سے،حطان نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی عمل نقل کیا ہے۔ اسی طرح عکرمہ بن خالد نے مجاہد سے مجاہد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اسی طرح ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہی ثوری کا قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛جلد٢؛ص١١؛حدیث نمبر؛١٢٣٦)
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ حالت خوف میں نماز ادا کی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں پھر جو آپ سے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی،پھر کھڑے ہوگئے اور برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے جو پہلی صف کے پیچھے تھے،ایک رکعت ادا کی،پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے،آپ کے پیچھے آگئے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے ایک رکعت اور پڑھی پھر آپ نے سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يَقُومُ صَفٌّ مَعَ الْإِمَامِ وَصَفٌّ وِجَاهَ الْعَدُوِّ «فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَقُومُ قَائِمًا، حَتَّى يُصَلِّيَ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ فَيَصُفُّونَ، وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَتَجِيءُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، وَيَثْبُتُ جَالِسًا، فَيُتِمُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ جَمِيعًا»؛باب:دوسری صورت یہ ہے کہ ایک صف امام کے ساتھ قائم ہو اور دوسری صف دشمن کے مقابلہ میں ہو پس امام اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائے اور امام کھڑا رہے یہاں تک کہ یہ سب لوگ دوسری رکعت پڑھ لیں پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسری جماعت آکر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور امام بیٹھا رہے یہاں تک کہ جماعت ثانیہ پہلی رکعت پوری کرے اس کے بعد امام سب کے ساتھ سلام پھیرے؛جلد٢؛ص١٢؛حدیث نمبر؛١٢٣٧)
صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع کے غزوہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی وہ کہتے ہیں ایک جماعت آپ کے ساتھ صف میں کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والی جماعت کے ساتھ ایک رکعت ادا کی پھر کھڑے رہے اور ان لوگوں نے(اس دوران میں)اپنی نماز پوری کرلی(یعنی دوسری رکعت بھی پڑھ لی)پھر وہ واپس دشمن کے سامنے صف بستہ ہوگئے اور دوسری جماعت آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ اپنی رکعت ادا کی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت پوری کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ مالک کہتے ہیں یزید بن رومان کی حدیث میری مسموعات میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: إِذَا صَلَّى رَكْعَةً «وَثَبَتَ قَائِمًا أَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَاخْتَلَفَ فِي السَّلَامِ»؛جلد٢؛ص١٣؛حدیث نمبر؛١٢٣٨)
صالح بن خوات انصاری کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ نماز خوف اس طرح ہوگی کہ امام(نماز کے لیے)کھڑا ہوگا اور اس کے ساتھیوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہوگی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہوگی،امام اور جو اس کے ساتھ ہوں گے رکوع اور سجدہ کریں گے پھر امام کھڑا ہوگا،جب پورے طور سے سیدھا کھڑا ہوجائے گا تو یونہی کھڑا رہے گا یہاں تک کہ لوگ اپنی باقی (دوسری)رکعت بھی ادا کرلیں گے،پھر وہ لوگ سلام پھیر کر واپس چلے جائیں گے اور امام کھڑا رہے گا،اب یہ دشمن کے سامنے ہوں گے اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی ہے،وہ آئیں گے اور امام کے پیچھے تکبیر(تکبیر تحریمہ)کہیں گے پھر وہ ان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر کے اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا پھر سلام پھیر دے گا،اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کریں گے پھر سلام پھیریں گے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں رہی قاسم سے مروی یحییٰ بن سعید کی روایت تو وہ یزید بن رومان کی روایت ہی کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے سلام میں اختلاف کیا ہے اور عبیداللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح ہے اس میں ہے کہ(امام)کھڑا رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: إِذَا صَلَّى رَكْعَةً «وَثَبَتَ قَائِمًا أَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَاخْتَلَفَ فِي السَّلَامِ»؛جلد٢؛ص١٣؛حدیث نمبر؛١٢٣٩)
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟حضرت ابوہریرہ نے جواب دیا ہاں،مروان نے پوچھاکب؟ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جس سال غزوہ نجد پیش آیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھی اور ان کی پیٹھیں قبلہ کی طرف تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی تو آپ کے ساتھ والے لوگوں نے اور ان لوگوں نے بھی جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے (سبھوں نے)تکبیر تحریمہ کہی،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور آپ کے ساتھ کھڑی جماعت نے بھی رکوع کیا،پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے قریب والی جماعت نے بھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وہ جماعت بھی اٹھی جو آپ کے ساتھ تھی اور جا کر دشمن کے سامنے کھڑی ہوگئی،پھر وہ جماعت،جو دشمن کے سامنے کھڑی تھی(امام کے پیچھے) آگئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کھڑے رہے جیسے تھے،پھر جب وہ جماعت(سجدہ سے)اٹھ کھڑی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی،اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا پھر جو جماعت دشمن کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی آگئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو پہلے سے آپ کے ساتھ موجود تھے بیٹھے رہے،پھر سلام پھیرا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سبھی لوگوں نے مل کر سلام پھیرا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کی ایک ایک رکعت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُكَبِّرُونَ جَمِيعًا «وَإِنْ كَانُوا مُسْتَدْبِرِي الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَأْتُونَ مَصَافَّ أَصْحَابِهِمْ، وَيَجِيءُ الْآخَرُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تُقْبِلُ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَالْإِمَامُ قَاعِدٌ، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ كُلِّهِمْ جَمِيعًا»؛ترجمہ؛باب؛چو تھی صورت بعضوں نے کہا کہ سب لوگ ایک ساتھ تکبیر تحر یمہ کہہ لیں اگرچہ پشت قبلہ کی طرف ہو پھیر ایک گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور وہ دشمن کے سامنے چلا جائے پس دوسرا گروہ آکر پہلے تنہا ایک رکعت پڑھے اور امام کے ساتھ شریک ہوجائے پھیر امام ان کے ساتھ ایک رکعت ادا کرے اور اس کے بعد وہ باہر آئے جو پہلے ایک رکعت پڑھ چکا تھا اور باقی ماندہ ایک رکعت ادا کرے امام بیٹھا رہے پھر سب کے ساتھ اکٹھا سلام پھیرے؛جلد٢؛ص١٤؛حدیث نمبر؛١٢٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع میں تھے تو غطفان کے کچھ لوگ ملے،پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی لیکن اس کے الفاظ حیوۃ کے الفاظ سے مختلف ہیں اس میں"حين رکع بمن معه وسجد"کے الفاظ ہیں،نیز اس میں ہے "فلما قاموا مشوا القهقرى إلى مصاف أصحابهم"یعنی جب وہ اٹھے تو الٹے پاؤں پھرے اور اپنے ساتھیوں کی صف میں آکھڑے ہوئے ،اس میں انہوں نے استدبار قبلہ(قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے)کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُكَبِّرُونَ جَمِيعًا «وَإِنْ كَانُوا مُسْتَدْبِرِي الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَأْتُونَ مَصَافَّ أَصْحَابِهِمْ، وَيَجِيءُ الْآخَرُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تُقْبِلُ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَالْإِمَامُ قَاعِدٌ، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ كُلِّهِمْ جَمِيعًا»؛جلد٢؛ص١٤؛حدیث نمبر؛١٢٤١)
حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی،پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا،پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا،پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا،اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایڑیوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے،یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے،اور دوسری جماعت آکر کھڑی ہوئی،اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا،پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا(ان سب نے بھی رکوع کیا)،پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا،پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا،اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری نماز میں آپ کے ساتھ شرکت کر لی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُكَبِّرُونَ جَمِيعًا «وَإِنْ كَانُوا مُسْتَدْبِرِي الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَأْتُونَ مَصَافَّ أَصْحَابِهِمْ، وَيَجِيءُ الْآخَرُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تُقْبِلُ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَالْإِمَامُ قَاعِدٌ، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ كُلِّهِمْ جَمِيعًا»؛جلد٢؛ص١٥؛حدیث نمبر؛١٢٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہوگئی اور وہ جماعت(نبی اکرم ﷺ کے پیچھے)آگئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا،پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی(جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے)کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب من قال:یصلی بکل طائفۃ رکعۃ،ثم یسلم فیقوم کل صف فیصلون لانفسہم رکعۃ؛جلد٢؛ص١٥؛حدیث نمبر؛١٢٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہوگئی اور وہ جماعت(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے)آگئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی(جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے)کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران کا ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُ الَّذِينَ خَلْفَهُ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً، ثُمَّ يَجِيءُ الْآخَرُونَ إِلَى مَقَامِ هَؤُلَاءِ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً؛جلد٢؛ص١٦؛حدیث نمبر؛١٢٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر(تکبیر تحریمہ)کہی اور دونوں صف کے سارے لوگوں نے بھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ثوری نے بھی خصیف سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے اسی طرح یہ نماز ادا کی،البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ وہ گروہ جس کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا،اپنے ساتھیوں کی جگہ واپس چلا گیا اور ان لوگوں نے آ کر خود سے ایک رکعت پوری کی۔پھر وہ ان کی جگہ واپس چلے گئے اور اس گروہ نے آ کر اپنی باقی ماندہ رکعت خود سے ادا کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہم سے یہ حدیث مسلم بن ابراہیم نے بیان کی،مسلم کہتے ہیں ہم سے عبدالصمد بن حبیب نے بیان کی، عبدالصمد کہتے ہیں میرے والد نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے عبدالرحمٰن بن سمرہ کے ساتھ کابل کا جہاد کیا تو انہوں نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُ الَّذِينَ خَلْفَهُ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً، ثُمَّ يَجِيءُ الْآخَرُونَ إِلَى مَقَامِ هَؤُلَاءِ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً؛جلد٢؛ص١٦؛حدیث نمبر؛١٢٤٥)
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم لوگ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھے،وہ کھڑے ہوئے اور پوچھا تم میں کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی ہے؟تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہامیں نے(پھر حذیفہ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرے کو ایک رکعت)اور ان لوگوں نے(دوسری رکعت کی)قضاء نہیں کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عبداللہ اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور عبداللہ بن شفیق نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے،اور یزید فقیر اور ابوموسیٰ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوموسیٰ تابعی ہیں،ابوموسیٰ اشعری نہیں ہیں۔ یزید الفقیر کی روایت میں بعض راویوں نے شعبہ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے دوسری رکعت قضاء کی تھی۔اسی طرح اسے سماک حنفی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ نیز اسی طرح اسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،اس میں ہے لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب من قال؛یصلی بکل طایفۃ رکعۃ ولا یقضون؛جلد٢؛ص١٦؛حدیث نمبر؛١٢٤٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تم پر حضر میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں،اور خوف میں ایک رکعت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب من قال؛یصلی بکل طایفۃ رکعۃ ولا یقضون؛جلد٢؛ص١٧؛حدیث نمبر؛١٢٤٧)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں ظہر ادا کی تو بعض لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور بعض دشمن کے سامنے رہے،آپ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا،تو جو لوگ آپ کے ساتھ نماز میں تھے،وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کر کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ یہاں آگئے پھر آپ کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا،اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں اور صحابہ کرام کی دو دو رکعتیں ہوئیں،اور حسن بصری اسی کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسی طرح مغرب میں امام کی چھ،اور دیگر لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح سلیمان یشکری نے عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب من قال؛یصلی بکل طایفۃ رکعتین؛جلد٢؛ص١٧؛حدیث نمبر؛١٢٤٨)
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا جاؤ اور اسے قتل کر دو ،عبداللہ کہتے ہیں میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہوگیا تھا تو میں نے(اپنے جی میں)کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہوجائے گا،چناچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا،جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو؟میں نے کہا عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص(یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے)کے لیے تم(لوگوں کو)جمع کر رہے ہوتو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا ہاں میں اسی کوشش میں ہوں،چناچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا،جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کردیا اور وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب صلاۃ الطالب؛جلد٢؛ص١٧؛حدیث نمبر؛١٢٤٩)
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب التطوع ورکعات السنۃ؛سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات؛جلد٢؛ص١٨؛حدیث نمبر؛١٢٥٠)
حضرت عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے،پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے،پھر واپس آکر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے،اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آکر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے،پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے،ان میں وتر بھی ہوتی،اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوجاتی تو دو رکعتیں پڑھتے،پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب التطوع ورکعات السنۃ؛سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات؛جلد٢؛ص١٨؛حدیث نمبر؛١٢٥١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے،اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے،اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آجاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب التطوع ورکعات السنۃ؛سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر(کی فرض نماز)سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی(فرض نماز)سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب التطوع ورکعات السنۃ؛سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں رکعتوں کا رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رکعتی الفجر؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے،یہاں تک کہ میں کہتی کیا آپ نے ان میں سورة فاتحہ پڑھی ہے؟ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں"قل يا أيها الکافرون"اور"قل هو الله أحد" پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٦)
حضرت عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں،تو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کرلیا،وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں،یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہوگئی،پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے،پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہوگئی،اور آپ نے نکلنے میں دیر کی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا،بلال نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!آپ نے تو کافی صبح کردی،اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی دیر میں نے کی،اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہوجاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص٢٠؛حدیث نمبر؛١٢٥٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ"آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: ١٣٦]"والی آیت ہوتی،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں{آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٥٢] "پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص٢٠؛حدیث نمبر؛١٢٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ{قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا} [آل عمران: ٨٤]،اور دوسری رکعت میں{رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ} [آل عمران: ٥٣] یا {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ} [البقرة: ١١٩] پڑھ رہے تھے اس میں داروردی کو شک ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص٢٠؛حدیث نمبر؛١٢٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے،اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے؟عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نہیں،تو پھر یہ خبر ابن عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا ابوہریرہ نے(کثرت سے روایت کر کے) خود پر زیادتی کی ہے(اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہوگا)، وہ کہتے ہیں ابن عمر سے پوچھا گیا جو ابوہریرہ کہتے ہیں،اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے؟تو ابن عمر نے جواب دیا نہیں،البتہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ(روایت کثرت سے بیان کرنے میں) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں،جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاضطجاع بعدھا؛جلد٢؛ص٢١؛حدیث نمبر؛١٢٦١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے،اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے،یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے،پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاضطجاع بعدھا؛جلد٢؛ص٢١؛حدیث نمبر؛١٢٦٢)
حضرت ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاضطجاع بعدھا؛جلد٢؛ص٢١؛حدیث نمبر؛١٢٦٣)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کے لیے نکلا،تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔زیاد کی روایت میں حدثنا أبو الفضل کے بجائے حدثنا أبو الفضيل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاضطجاع بعدھا؛جلد٢؛ص٢١؛حدیث نمبر؛١٢٦٤)
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا،جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایااے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا ادرک الامام،ولم یصلی رکعتین الفجر؛جلد٢؛ص٢٢؛حدیث نمبر؛١٢٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب نماز کھڑی ہوجائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا ادرک الامام،ولم یصلی رکعتین الفجر؛جلد٢؛ص٢٢؛حدیث نمبر؛١٢٦٦)
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہوجانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایافجر دو ہی رکعت ہے،اس شخص نے جواب دیا میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں،وہ اب پڑھی ہیں،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من فاتتہ متی یقضیھا؛جلد٢؛ص٢٢؛حدیث نمبر؛١٢٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث سعد بن سعید سےمروی ہے امام ابوداؤد کہتے ہیں سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من فاتتہ متی یقضیھا؛جلد٢؛ص٢٢؛حدیث نمبر؛١٢٦٨)
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور بعد کی چار رکعتوں کی پابندی کرے گا،اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجائے گی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے علاء بن حارث اور سلیمان بن موسیٰ نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاربع قبل الظہر وبعدھا؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٦٩)
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاظہر کے پہلے کی چار رکعتیں،جن کے درمیان سلام نہیں ہے،ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہااگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں لیکن عبیدہ ضعیف ہیں،اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاربع قبل الظہر وبعدھا؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٧٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل العصر؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٧١)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل العصر؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٧٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس،عبدالرحمٰن بن ازہر،اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں،حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے،چناں چہ میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو!میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتادی،تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا،تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا،پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں،ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے،اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں،آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہوجا اور آپ سے کہہ اللہ کے رسول!ام سلمہ کہہ رہی ہیں میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں،اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا،اس لڑکی نے ایسا ہی کیا،آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا،تو وہ پیچھے ہٹ گئی،جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایااے ابوامیہ کی بیٹی!تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے،دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کرلیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا،یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد العصر؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٧٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا،سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٤؛حدیث نمبر؛١٢٧٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٤؛حدیث نمبر؛١٢٧٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے،جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ ان سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایافجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں،اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٤؛حدیث نمبر؛١٢٧٦)
حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایارات کے آخری حصے میں،اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو،اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک(ثواب)لکھے جاتے ہیں،اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے،اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر(سورج کے پجاری)اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو،اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور(ثواب)لکھے جاتے ہیں،یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہوجائے تو ٹھہر جاؤ،اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں،پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں،یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ،اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں ،انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔عباس کہتے ہیں ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے،البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہوگئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٥؛حدیث نمبر؛١٢٧٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا اے یسار!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے،اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے،اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتادیں کہ فجر(طلوع)ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٥؛حدیث نمبر؛١٢٧٨)
حضرت اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٥؛حدیث نمبر؛١٢٧٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور(دوسروں کو)اس سے منع فرماتے،اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور(دوسروں کو)مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٥؛حدیث نمبر؛١٢٨٠)
حضرت عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو،پھر فرمایامغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے،یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو سنت نہ بنا لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل المغرب؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟انہوں نے کہاہاں،آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل المغرب؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨٢)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے،ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے،اس شخص کے لیے جو چاہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل المغرب؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨٣)
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا،تو آپ نے کہامیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا،البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ(ابوشعیب کے بجائے)وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہوگیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل المغرب؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨٤)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی(بطور شکرانے کے)ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے،کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے،برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے،راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے،اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے،ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول!ہم میں سے ایک شخص اپنی(بیوی سے)شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟آپ نے فرمایا(کیوں نہیں)اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨٥)
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے،تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ(کا ثواب)ہے،ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ(کا ثواب)ہے،ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے،ہر تکبیر ایک صدقہ ہے،اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٧؛حدیث نمبر؛١٢٨٦)
حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہےجہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کردی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٧؛حدیث نمبر؛١٢٨٧)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٧؛حدیث نمبر؛١٢٨٨)
حضرت نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم!اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا (یعنی تیرا محافظ رہوں گا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٧؛حدیث نمبر؛١٢٨٩)
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی،آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی،پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے،اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩٠)
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے،انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩١)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھاکیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں،سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔میں نے عرض کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟آپ نے کہا مفصل کی سورتیں(ملا کر پڑھتے تھے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی،لیکن میں اسے پڑھتی ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩٣)
حضرت سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست(ہم نشینی)کرتے تھے؟آپ نے کہا ہاں اکثر(آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے،وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا،جب سورج نکل آتا تو آپ(نماز اشراق کے لیے)کھڑے ہوتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایارات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی صلاۃ النهار؛جلد٢؛ص٢٩؛حدیث نمبر؛١٢٩٥)
حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانماز دو دو رکعت ہے،اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو اے اللہ!اے اللہ!جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا،اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔ امام ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی صلاۃ النهار؛جلد٢؛ص٢٩؛حدیث نمبر؛١٢٩٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایااے عباس!اے میرے چچا!کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟کیا میں آپ کو نہ دوں؟کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے،نئے پرانے،جانے انجانے،چھوٹے بڑے،چھپے اور کھلے،سارے گناہ معاف کر دے گا،وہ دس باتیں یہ ہیں آپ چار رکعت نماز پڑھیں،ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی ایک سورة پڑھیں،جب پہلی رکعت کی قرآت کرلیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ"سبحان الله،والحمد لله،ولا إله إلا الله،والله أكبر کہیں،پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں،پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں،پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں،پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں،پھر(دوسرا)سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب(دوسرے)سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں،تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا،یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں،اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں،اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں،ایسا بھی نہ کرسکیں تو ہر مہینے میں ایک بار،یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ التسبیح؛جلد٢؛ص٢٩؛حدیث نمبر؛١٢٩٧)
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے،انہوں نے کہانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکل تم میرے پاس آنا،میں تمہیں دوں گا،عنایت کروں گا اور نوازوں گا،میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے(جب میں کل پہنچا تو)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہوجاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو،پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے،البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کرلو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہوجائے گی،میں نے عرض کیااگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کرسکوں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو رات یا دن میں کسی وقت ادا کرلو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں حبان بن ہلال ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے،عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہا سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے،البتہ راوی نے روح کی روایت میں فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم(تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ التسبیح؛جلد٢؛ص٣٠؛حدیث نمبر؛١٢٩٨)
حضرت عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی،پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا،البتہ اس میں ہے پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ التسبیح؛جلد٢؛ص٣٠؛حدیث نمبر؛١٢٩٩)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی،جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو گھروں کی نماز ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رکعتی المغرب این تصلیان؛جلد٢؛ص٣١؛حدیث نمبر؛١٣٠٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہوجاتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہم سے اسے محمد بن عیسیٰ بن طباع نے بیان کیا ہے،وہ کہتے ہیں ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رکعتی المغرب این تصلیان؛جلد٢؛ص٣١؛حدیث نمبر؛١٣٠١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا،وہ کہہ رہے تھے میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق سے بیان کیا ہے،وہ مسند ہیں،سعید نے یہ روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے،اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رکعتی المغرب این تصلیان؛جلد٢؛ص٣١؛حدیث نمبر؛١٣٠٢)
حضرت شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا،گویا میں اس میں(اب بھی)وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد العشاء؛جلد٢؛ص٣١؛حدیث نمبر؛١٣٠٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں سورة مزمل کی آیت"قم الليل إلا قليلا نصفه"(رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات)یعنی آدھی رات کو دوسری آیت{عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} نے منسوخ کردیا ہے،ناشئة الليل کے معنی شروع رات کے ہیں،چناچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی،اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور"أقوم قيلا" سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول"إن لک في النهار سبحا طويلا"کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب نسخ قیام اللیل والتیسیر فیہ؛جلد٢؛ص٣٢؛حدیث نمبر؛١٣٠٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب سورة مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو(نماز میں)کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں،یہاں تک کہ سورة کا آخری حصہ نازل ہوا،ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب نسخ قیام اللیل والتیسیر فیہ؛جلد٢؛ص٣٢؛حدیث نمبر؛١٣٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاشیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہےابھی لمبی رات پڑی ہے،سو جاؤ،اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرلے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے،اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے،اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بددلی کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب قیام اللیل؛جلد٢؛ص٣٢؛حدیث نمبر؛١٣٠٦)
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں تہجد (قیام اللیل)نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے،جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب قیام اللیل؛جلد٢؛ص٣٢؛حدیث نمبر؛١٣٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے،اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب قیام اللیل؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣٠٨)
حضرت ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کہا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب قیام اللیل؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣٠٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب النعاس فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجب تم میں سے کوئی رات میں(نماز پڑھنے کے لیے)کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب النعاس فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣١١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں داخل ہوتے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے،پوچھایہ رسی کیسی بندھی ہے؟ عرض کیا گیا یہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی ہے،وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں،اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں۔زیاد کی روایت میں یوں ہےآپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا زینب رضی اللہ عنہا کی ہے،وہ نماز پڑھا کرتی ہیں،جب سست ہوجاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں،آپ نے فرمایااسے کھول دو،تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک نشاط رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب النعاس فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣١٢)
حضرت عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا،وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب من نام عن حزبہ؛جلد٢؛ص٣٤؛حدیث نمبر؛١٣١٣)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص سے جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آجائے(اور وہ نہ اٹھ سکے)تو اس کے لیے نماز کا ثواب لکھا جائے گا،اس کی نیند اس پر صدقہ ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب من نوی القیام فنام؛جلد٢؛ص٣٤؛حدیث نمبر؛١٣١٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے،پھر فرماتا ہےکون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب ای اللیل افضل؛جلد٢؛ص٣٤؛حدیث نمبر؛١٣١٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول سے فارغ ہوجاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣١٦)
حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز(تہجد)کے بارے میں پوچھامیں نے ان سے کہا آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟انہوں نے فرمایا جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہوجاتے اور نماز شروع کردیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣١٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣١٨)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣١٩)
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا،آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کردیتا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایامانگو مجھ سے،میں نے عرض کیامیں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کے علاوہ اور کچھ؟میں نے کہابس یہی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے(یعنی نماز پڑھ کر)میری مدد کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣٢٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے"تتجافى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون"(ترجمہ)"ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں،اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں،اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں"(سورۃ السجدۃ ١٦)اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ حسن کہتے ہیں اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣٢١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول"کانوا قليلا من الليل ما يهجعون"وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے(سورۃ الذاریات ١٧)کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔ یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ "تتجافى جنوبهم"سے بھی یہی مراد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب افتتاح صلاۃ اللیل برکعتین؛جلد٢؛ص٣٦؛حدیث نمبر؛١٣٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہےاس میں اتنا اضافہ ہے پھر اس کے بعد جتنا چاہے طویل کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو حماد بن سلمہ،زہیر بن معاویہ اور ایک جماعت نے ہشام سے انہوں نے محمد سے روایت کیا ہے اور اسے لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے،اور اسی طرح اسے ایوب اور ابن عون نے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے،نیز اسے ابن عون نے محمد سے روایت کیا ہے اس میں ہے ان دونوں رکعتوں میں تخفیف کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب افتتاح صلاۃ اللیل برکعتین؛جلد٢؛ص٣٦؛حدیث نمبر؛١٣٢٤)
حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(نماز میں)دیر تک کھڑے رہنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب افتتاح صلاۃ اللیل برکعتین؛جلد٢؛ص٣٦؛حدیث نمبر؛١٣٢٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز(تہجد)کے بارے میں پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت ہے،جب تم میں سے کسی کو یہ ڈر ہو کہ صبح ہوجائے گی تو ایک رکعت اور پڑھ لے،یہ اس کی ساری رکعتوں کو جو اس نے پڑھی ہیں طاق(وتر)کر دے گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب صلاۃ اللیل مثنی مثنی؛جلد٢؛ص٣٦؛حدیث نمبر؛١٣٢٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں(نماز پڑھ رہے)ہوتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٧؛حدیث نمبر؛١٣٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٧؛حدیث نمبر؛١٣٢٨)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے،جب دونوں(حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے ابوبکر!میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو،آپ نے جواب دیا یا رسول اللہ!میں نے اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو)سنا دیا ہے،جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہامیں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے،تو انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ!میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر!تم اپنی آواز تھوڑی بلند کرلو،اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہاتم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٧؛حدیث نمبر؛١٣٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہےاس میں "فقال لأبي بكر ارفع من صوتک شيئًا ولعمر اخفض شيئًا"کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے اے بلال!میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورة سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورة سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا ایک پاکیزہ کلام ہے،اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے،اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم سب نے ٹھیک کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٧؛حدیث نمبر؛١٣٣٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رات کی نماز(تہجد)کے لیے اٹھا، اس نے قرآت کی،قرآت میں اپنی آواز بلند کی تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ فلاں شخص پر رحم فرمائے،کتنی ایسی آیتیں تھیں جو مجھے یاد نہیں تھی،اس نے انہیں آج رات مجھے یاد دلا دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے سورة آل عمران کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ اللہ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے مجھے اس سورة کے بعض ایسے الفاظ یاد دلا دیے جو مجھے یاد نہیں تھا اور وہ"وكأين من نبي"(آل عمران١٤٦)والی آیت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣١)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا،آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا اے لوگو!سنو،تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے،تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں(یا کہا نماز)میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣٢)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دس رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعت فجر کی سنت پڑھتے،اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوتیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی،جب آپ اس سے فارغ ہوجاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے،ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے،اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے،جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے،پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن(بلانے کے لے)آتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی ابن شہاب زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے،اس میں ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں(رکوع سے)سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے،پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہوجاتی،آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی البتہ بعض کی روایتوں میں بعض پر کچھ اضافہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٣٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے،ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٣٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٣٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے(پہلے)آٹھ رکعتیں پڑھتے(پھر)ایک رکعت سے وتر کرتے،مسلم بن ابراہیم کی روایت میں بعد الوتر"وتر کے بعد"کے الفاظ بھی ہیں(پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ)دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے،جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٤٠)
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھارمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکیسے ہوتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھےآپ چار رکعتیں پڑھتے،ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کو نہ پوچھو،پھر چار رکعتیں پڑھتے،ان کے بھی حسن اور لمبائی کو نہ پوچھو،پھر تین رکعتیں پڑھتے،ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٠؛حدیث نمبر؛١٣٤١)
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی،پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں،تو میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ سے ہوئی،ان لوگوں نے کہا ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے،تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا،آپ نے کہامیں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے،تم ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ۔چناچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا،انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی،چناچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے(پھر ہم دونوں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے)،ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی،انہوں نے پوچھا کون ہو؟کہا حکیم بن افلح،انہوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟کہا سعد بن ہشام،پوچھا عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟میں نے عرض کیاہاں،وہ کہنے لگیں عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے،میں نے عرض کیا ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئے،انہوں نے کہا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا،میں نے عرض کیا آپ کی رات کی نماز(تہجد)کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے،انہوں نے کہا کیا تم سورة"يا أيها المزمل"نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟انہوں نے کہا جب اس سورة کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آگیا اور سورة کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہوگئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی،وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے،انہوں نے کہا آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے،اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے،اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں،میرے بیٹے!پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ ہوگئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے،اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے،اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں،اے میرے بیٹے!اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی رات کو(لگاتار)صبح تک قیام نہیں کیا،اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے،اور جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے،اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آجاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا قسم اللہ کی!حدیث یہی ہے،اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا،میں نے ان سے کہااگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٠؛حدیث نمبر؛١٣٤٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی قتادہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے،سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے،پھر ایک رکعت پڑھتے،اے میرے بیٹے!اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں،پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہوگئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے،پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ مشافهة تک ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤١؛حدیث نمبر؛١٣٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہےآپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیساکہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤١؛حدیث نمبر؛١٣٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی سعید نے یہی حدیث روایت کی ہے ابن بشار نے یحییٰ بن سعید کی طرح حدیث نقل کی مگر اس میں"ويسلم تسليمة يسمعنا"کے الفاظ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤١؛حدیث نمبر؛١٣٤٥)
زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز(تہجد)کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر جاتے اور سو جاتے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آپ کے وضو کا پانی ڈھکا رکھا ہوتا اور مسواک رکھی ہوتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا تو آپ(اٹھ کر)مسواک کرتے اور پوری طرح سے وضو کرتے،پھر اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے،ان میں سے ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن کی کوئی سورة اور جو اللہ کو منظور ہوتا پڑھتے اور کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے یہاں تک کہ جب آٹھویں رکعت ہوجاتی تو قعدہ کرتے اور سلام نہیں پھیرتے بلکہ نویں رکعت پڑھتے پھر قعدہ کرتے،اور اللہ جو دعا آپ سے کروانا چاہتا، کرتے اور اس سے سوال کرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک سلام پھیرتے اس قدر بلند آواز سے کہ قریب ہوتا کہ گھر کے لوگ جاگ جائیں،پھر بیٹھ کر سورة فاتحہ کی قرآت کرتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے،پھر دوسری رکعت پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کرتے،پھر اللہ جتنی دعا آپ سے کروانا چاہتا کرتے پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہوجاتے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا معمول یہی رہا، یہاں تک کہ آپ زیادہ عمر کے ہوگئے تو آپ نے نو میں سے دو رکعتیں کم کردیں اور اسے چھ اور سات رکعتیں کرلیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے،وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٢؛حدیث نمبر؛١٣٤٦)
یزید بن ہارون کہتے ہیں ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہےپھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی،اس میں ہے آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے،انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا،آگے پوری حدیث بیان کی،اس میں ہے پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں قرآت،رکوع اور سجدہ میں برابری کرتے اور ان میں سے کسی میں نہیں بیٹھتے سوائے آٹھویں کے،اس میں بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہوجاتے اور ان میں سلام نہیں پھیرتے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق کردیتے پھر سلام پھیرتے اس میں اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک کہ ہمیں بیدار کردیتے،پھر راوی نے اسی مفہوم کو بیان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٢؛حدیث نمبر؛١٣٤٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد)کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا آپ علیہ السلام لوگوں کو عشاء پڑھاتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس آ کر چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے،پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی،اس میں انہوں نے قرآت اور رکوع و سجدہ میں برابری کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ آپ اتنی بلند آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم بیدار ہوجاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٢؛حدیث نمبر؛١٣٤٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ ان کی جید احادیث میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٤٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے،نو رکعتیں وتر کی ہوتیں،یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتیں وتر کی پڑھتے،پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے،اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ان میں قرآت کرتے،جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہوجاتے،پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے کہ علقمہ بن وقاص نے کہا اماں جان!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥١)
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز(تہجد)کے بارے میں بتائیے،وہ بولیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء پڑھاتے،پھر بستر پر آ کر سو جاتے، جب آدھی رات ہوجاتی تو قضائے حاجت اور وضو کے لیے اٹھتے اور وضو کر کے مصلیٰ پر تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے،میرے خیال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں قرآت،رکوع اور سجدہ برابر برابر کرتے،پھر ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا دیتے،پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر اپنا پہلو(زمین پر) رکھتے،کبھی ایسا ہوتا کہ بلال رضی اللہ عنہ آکر نماز کی خبر دیتے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نیند سوتے،بسا اوقات میں شبہ میں پڑجاتی کہ آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے،یہی آپ کی نماز (تہجد)ہے یہاں تک کہ آپ بوڑھے اور موٹے ہوگئے،پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوشت بڑھ جانے کا حال جو اللہ نے چاہا ذکر کیا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے تو دیکھا کہ آپ بیدار ہوئے،تو مسواک اور وضو کیا اور آیت کریمہ"إن في خلق السموات والأرض"اخیر سورة تک پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں،ان میں قیام،رکوع اور سجدہ لمبا کیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتوں میں تین بار ایسا ہی کیا،ہر بار مسواک کرتے اور وضو کرتے اور انہیں آیتوں کو پڑھتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ عثمان کی روایت میں ہے کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔پھر مؤذن آیا تو آپ نماز کے لیے نکلے۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے پھر آپ نے وتر پڑھی،پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور جس وقت فجر طلوع ہوئی آپ کو نماز کی خبر دی تو آپ نے فجر کی دو رکعتیں(سنتیں)پڑھیں۔اس کے بعد نماز کے لیے نکلے۔آگے دونوں کی روایتیں ایک جیسی ہیں۔آپ(اس وقت)فرما رہے تھے "اللهم اجعل في قلبي نورا،واجعل في لساني نورا،واجعل في سمعي نورا،واجعل في بصري نورا،واجعل خلفي نورا،وأمامي نورا،واجعل من فوقي نورا،ومن تحتي نورا،اللهم وأعظم لي نورا" اے اللہ!تو نور پیدا فرما میرے دل میں، میری زبان میں،میرے کان میں،میری نگاہ میں،میرے پیچھے، میرے آگے،میرے اوپر اور میرے نیچے۔اور اے اللہ!میرے لیے نور کو بڑا بنا دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٤؛حدیث نمبر؛١٣٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں "وأعظم لي نورا"کا جملہ ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں عن حبيبٍ کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے عن أبي رشدين عن ابن عباس کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥٤)
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں،تو آپ اٹھے اور وضو کیا،پھر دو رکعتیں پڑھیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے،پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا،پھر سورة آل عمران کی یہ پانچ آیتیں"إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار"(آل عمران ١٩٠)اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس رکعتیں ادا کیں،پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر(طاق)کرلیا، اس وقت مؤذن نے اذان دی،مؤذن خاموش ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہاکے پاس رہا،شام ہوجانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھاکیا بچے نے نماز پڑھ لی؟ لوگوں نے کہاہاں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٥؛حدیث نمبر؛١٣٥٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر(گھر)تشریف لائے تو چار رکعتیں پڑھیں،پھر سو گئے پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا آپ نے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا،پھر پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے یہاں تک کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور جا کر فجر پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٥؛حدیث نمبر؛١٣٥٧)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے،اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں،پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٥؛حدیث نمبر؛١٣٥٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں کو لے کر تیرہ رکعتیں پڑھتے تھےدو دو کرکے چھ رکعتیں پڑھتے اور وتر کی پانچ رکعتیں پڑھتے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٥؛حدیث نمبر؛١٣٥٩)
حضرت عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں،انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔انہوں نے جالسا(بیٹھ کر)کا اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦١)
حضرت عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟انہوں نے جواب دیاکبھی چار اور تین،کبھی چھ اور تین کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین،کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے،میں نے پوچھاانہیں وتر کرنے کا کیا مطلب؟تو وہ بولیں انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦٢)
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد)کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہارات کو آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔پھر گیارہ رکعتیں پڑھنے لگے اور دو رکعتیں چھوڑ دیں،پھر وفات کے وقت آپ نو رکعتیں پڑھنے لگے تھے اور آپ کی رات کی آخری نماز وتر ہوتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز(تہجد)کیسے ہوتی تھی؟تو انہوں نے کہا ایک رات میں آپ کے پاس رہا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے،آپ سو گئے،جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے،جس میں پانی رکھا تھا،وضو فرمایا،میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا،پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کرلیا،پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورة فاتحہ پڑھی،پھر سلام پھیر دیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں،پھر سو گئے،اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے اللہ کے رسول!نماز،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے،آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں،ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں،میرا اندازہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ہر رکعت میں سورة مزمل کے بقدر ہوتا تھا،نوح کی روایت میں یہ نہیں ہےاس میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٧؛حدیث نمبر؛١٣٦٥)
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ آج رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز(تہجد)ضرور دیکھ کر رہوں گا، چناچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں،پھر دو رکعتیں لمبی،بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں،پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی،پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی،پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی،پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں،پھر وتر پڑھی،اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٧؛حدیث نمبر؛١٣٦٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری،وہ آپ کی خالہ تھیں،وہ کہتے ہیں میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی زوجہ مطہرہ اس کے طول میں لیٹیں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے،جب آدھی رات یا کچھ کم و بیش گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے منہ پر ہاتھ مل کر نیند دور کی،پھر سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں،اس کے بعد اٹھے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور وضو کیا اور اچھی طرح سے کیا،پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح سارا کام کیا،پھر آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں،پھر دو رکعتیں،پھر دو رکعتیں،پھر دو رکعتیں،پھر دو رکعتیں اور پھر دو رکعتیں،قعنبی کی روایت میں یوں ہےدو دو رکعتیں چھ مرتبہ پڑھیں،پھر وتر پڑھی،پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور فجر پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٧؛حدیث نمبر؛١٣٦٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعمل کرتے رہو جتنا تم سے ہو سکے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ(ثواب دینے سے)نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم(عمل کرنے سے)تھک جاؤ،اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ وہ کم ہو،چناچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر جمے رہتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب ما یومر بہ من القصد فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٤٨؛حدیث نمبر؛١٣٦٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا،تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان!کیا تم نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی ہے؟انہوں نے جواب دیا نہیں اے اللہ کے رسول!اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں،میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں،روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا،اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں،عثمان!تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے،تمہاری جان کا حق ہے،لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو،اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب ما یومر بہ من القصد فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٤٨؛حدیث نمبر؛١٣٦٩)
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حال کیسا تھا؟کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کرلیتے تھے؟انہوں نے کہا نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب ما یومر بہ من القصد فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٤٨؛حدیث نمبر؛١٣٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے،پھر فرماتے جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا،پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسی طرح عقیل،یونس اور ابواویس نے"من قام رمضان"کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں"من صام رمضان وقامه"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٤٩؛حدیث نمبر؛١٣٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے روزے رمضان کے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے،اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٤٩؛حدیث نمبر؛١٣٧٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہی نہیں،جب صبح ہوئی تو فرمایامیں نے تمہارے عمل کو دیکھا،لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کردی جائےاور یہ بات رمضان کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٤٩؛حدیث نمبر؛١٣٧٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ رمضان میں مسجد کے اندر الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا،میں نے آپ کے لیے چٹائی بچھائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی،پھر آگے انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا،اس میں ہےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے لوگوں! اللہ کی قسم!میں نے بحمد اللہ یہ رات غفلت میں نہیں گذاری اور نہ ہی مجھ پر تمہارا یہاں ہونا مخفی رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٤)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے،آپ نے مہینے کی کسی رات میں بھی ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ(مہینے کی)سات راتیں رہ گئیں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام کیا یعنی تیئیسویں(٢٣)یا چوبیسویں(٢٤)رات کو یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی اور جب چھ راتیں رہ گئیں یعنی(٢٤)ویں یا(٢٥)ویں رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا،اس کے بعد (٢٥)ویں یا(٢٦) ویں رات کو جب کہ پانچ راتیں باقی رہ گئیں آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے کہا یا رسول اللہ!اس رات کاش آپ اور زیادہ قیام فرماتے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کو ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے،پھر چھبیسویں(٢٦)یا ستائیسویں(٢٧)رات کو جب کہ چار راتیں باقی رہ گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قیام نہیں کیا،پھر ستائیسویں(٢٧)یا اٹھائیسویں(٢٨)رات کو جب کہ تین راتیں باقی رہ گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں، اپنی عورتوں اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا،یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے،میں نے پوچھا فلاح کیا ہے؟ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا سحر کا کھانا،پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے اور(عبادت کے لیے) کمربستہ ہوجاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(ایک بار)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں،آپ نے پوچھایہ کون لوگ ہیں؟لوگوں نے عرض کیا یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے،لہٰذا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٧)
زر کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہاابومنذر!مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا جو پورے سال قیام کرے اسے پالے گا،ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے،اللہ کی قسم!انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے(مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کرلیں(آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے)اللہ کی قسم!یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے،اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھااے ابومنذر!آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟انہوں نے جواب دیااس علامت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائی تھی۔ (عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا وہ علامت کیا تھی؟جواب دیااس رات (کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے،جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے،اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی لیلتہ قدر؛جلد٢؛ص٥١؛حدیث نمبر؛١٣٧٨)
حضرت عبداللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا،اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے،تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی،پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوگیا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایااندر آجاؤ،میں اندر داخل ہوگیا،آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں،جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایامجھے میرا جوتا دو،پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟میں نے کہاجی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے،وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاآج کون سی رات ہے؟میں نے کہا بائیسویں رات،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی شب قدر ہے،پھر لوٹے اور فرمایایا کل کی رات ہوگی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی لیلتہ القدر؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٩)
حضرت عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں،آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتیئسویں شب کو آیا کرو۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہاجب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے،پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آجاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی فی لیلتہ القدر؛جلد٢؛ص٥٢؛حدیث نمبر؛١٣٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اسے(یعنی شب قدر کو)رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو جب نو راتیں باقی رہ جائیں(یعنی اکیسویں شب کو)اور جب سات راتیں باقی رہ جائیں(یعنی تئیسویں شب کو)اور جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں(یعنی پچیسویں شب کو) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی فی لیلتہ القدر؛جلد٢؛ص٥٢؛حدیث نمبر؛١٣٨١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے،ایک سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں،میں نے یہ(قدر کی)رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں،لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی،اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فیمن قال:لیلۃ احدی وعشرین؛جلد٢؛ص٥٢؛حدیث نمبر؛١٣٨٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاشب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں،ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو۔ ابونضرہ کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوسعید!آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں،انہوں نے کہا ہاں،میں نے کہانویں،ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟فرمایاجب(٢١)دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے،اور جب(٢٣)دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے،اور جب(٢٥)دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فیمن قال:لیلتہ احدی و عشرین؛جلد٢؛ص٥٢؛حدیث نمبر؛١٣٨٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایاشب قدر کو رمضان کی سترہویں،اکیسویں اور تئیسویں رات میں تلاش کرو،پھر چپ ہوگئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب من روی:انھا لیلتہ سبع عشرۃ؛جلد٢؛ص٥٣؛حدیث نمبر؛١٣٨٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاشب قدر کو اخیر کی سات راتوں میں تلاش کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب من روی؛فی السبع الأواخر؛جلد٢؛ص٥٣؛حدیث نمبر؛١٣٨٥)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب من قال:سبع و عشرون؛جلد٢؛ص٥٣؛حدیث نمبر؛١٣٨٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں(اس گفتگو کو)سن رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہوسکتی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابواسحاق کے واسطے سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب من قال؛ھی فی کل رمضان؛جلد٢؛ص٥٣؛حدیث نمبر؛١٣٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایاقرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو،انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو بیس دن میں پڑھا کرو،عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو پندرہ دن میں پڑھا کرو،عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو دس دن میں پڑھا کرو،عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات دن میں پڑھا کرو،اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں"مسلم"(بن ابراہیم)کی روایت زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی کم یقرأ القرآن؛جلد٢؛ص٥٤؛حدیث نمبر؛١٣٨٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایاہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو،پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی آخر کار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو۔ عطا کہتے ہیں ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے،ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی کم یقرأ القرآن؛جلد٢؛ص٥٤؛حدیث نمبر؛١٣٨٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟فرمایا ایک ماہ میں،کہامیں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں(ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے)آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے سات دن میں ختم کیا کرو،کہامیں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں،فرمایاوہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی کم یقرأ القرآن؛جلد٢؛ص٥٤؛حدیث نمبر؛١٣٩٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایاقرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو،انہوں نے کہامجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو تین دن میں پڑھا کرو۔ ابوعلی کہتے ہیں میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی کم یقرأ القرآن؛جلد٢؛ص٥٥؛حدیث نمبر؛١٣٩١)
ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟تو میں نے کہا میں اس کے حصے نہیں کرتا،یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا۔ ابن الہاد کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٥؛حدیث نمبر؛١٣٩٢)
حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے،وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا،حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں کرایا،(مسدد کہتے ہیں اوس بھی اس وفد میں شامل تھے،جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا)اوس کہتے ہیں تو ہر رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ(آپ گفتگو)کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے،پھر فرماتے ہم اور وہ برابر نہ تھے،ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے،پھر جب ہم نکل کر مدینہ آگئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر۔ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہوگئی تو ہم نے آپ سے پوچھا آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کردی؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا،مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا۔اوس کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟تو انہوں نے کہا پہلا حزب(حصہ)تین سورتوں کا،دوسرا حزب(حصہ)پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا،چوتھا نو سورتوں کا،پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوسعید (عبداللہ بن سعید الاشیخ)کی روایت کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٥؛حدیث نمبر؛١٣٩٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٦؛حدیث نمبر؛١٣٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاقرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس دن میں،پھر فرمایاایک ماہ میں،پھر فرمایابیس دن میں، پھر فرمایاپندرہ دن میں،پھر فرمایادس دن میں،پھر فرمایا سات دن میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٦؛حدیث نمبر؛١٣٩٥)
حضرت علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہ پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگامیں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں،انہوں نے کہا کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ہم مثل سورتوں کو جیسے سورہ نجم اور سورہ رحمن ایک رکعت میں، "اقتربت"اور"الحاقة"ایک رکعت میں،"والطور اور الذاريات"ایک رکعت میں،"إذا وقعت اور نون" ایک رکعت میں،"سأل سائل اور النازعات"ایک رکعت میں،"ويل للمطففين"اور"عبس"ایک رکعت میں،"المدثر اور المزمل"ایک رکعت میں،"هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة"ایک رکعت میں، "عم يتسائلون اور المرسلات" ایک رکعت میں،اور اسی طرح "الدخان اور إذا الشمس کورت" ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے،اللہ ان پر رحم کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٦؛حدیث نمبر؛١٣٩٦)
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے کسی رات میں سورة البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٦؛حدیث نمبر؛١٣٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دس آیتوں(کی تلاوت)کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا،جو سو آیتوں(کی تلاوت)کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا،اور جو ایک ہزار آیتوں(کی تلاوت)کے ساتھ قیام کرے گا وہ بےانتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابن حجیرہ الاصغر سے مراد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حجیرہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٧؛حدیث نمبر؛١٣٩٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے قرآن مجید پڑھائیے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں الر ہے،اس نے کہا میں عمر رسیدہ ہوچکا ہوں،میرا دل سخت اور زبان موٹی ہوگئی ہے(اس لیے اس قدر نہیں پڑھ سکتا)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپھر"حم"والی تینوں سورتیں پڑھا کرو،اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو مسبحات میں سے تین سورتیں پڑھا کرو،اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے ایک جامع سورة سکھا دیجئیے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو "إذا زلزلت الأرض"سکھائی،جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا،میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا،جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا"أفلح الرويجل"(بوڑھا کامیاب ہوگیا) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٧؛حدیث نمبر؛١٣٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقرآن کی ایک سورة جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہوجائے اور وہ"تبارک الذي بيده الملک"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی عدد الآیِ؛جلد٢؛ص٥٧؛حدیث نمبر؛١٤٠٠)
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (١٥)سجدے پڑھائے ان میں سے تین مفصل میں اور دو سورة الحج میں امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں،لیکن اس کی سند کمزور ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،وکم سجدۃ فی القرآن؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠١)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ!کیا سورة الحج میں دو سجدے ہیں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،وکم سجدۃ فی القرآن؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مکہ سے مدینہ آجانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل(سورتوں)میں سے کسی سورة میں سجدہ نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب من لم یر السجود فی المفصل؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠٣)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورة النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب من لم یر السجود فی المفصل؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ إمام ابوداؤد کہتے ہیں زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب من لم یر السجود فی المفصل؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو،البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ(یعنی پیشانی)تک اٹھایا اور کہنے لگا میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب من لم یر السجود فی المفصل؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورة"إذا السماء انشقت"اور "اقرأ باسم ربک الذي خلق" میں سجدہ کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب السجود فی إذا السماء انشقت،وأقر؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤٠٧)
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی،آپ نے"إذا السماء انشقت"کی تلاوت کی اور سجدہ کیا،میں نے کہا یہ سجدہ کیسا ہے؟انہوں نے جواب دیا میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے(نماز پڑھتے ہوئے)کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب السجود فی إذا السماء انشقت،وأقر؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤٠٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سورة ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب السجود فی"ص"؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤٠٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة"ص"پڑھی،آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے،سجدہ کیا،لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا،پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورة کی تلاوت کی،جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہوگئے،اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سجدہ دراصل ایک نبی کی توبہ تھی،لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو،چناچہ آپ اترے،سجدہ کیا،لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب السجود فی"ص"؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤١٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا،کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتیٰ کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود؛باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب،وفی غیر الصلاۃ؛جلد٢؛ص٦٠؛حدیث نمبر؛١٤١١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورة پڑھ کر سناتے(ابن نمیر کی روایت میں ہے)نماز کے علاوہ میں(آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں)پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم(سجدہ کی آیت آنے پر)سجدہ کرتے،ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود؛باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب،وفی غیر الصلاۃ؛جلد٢؛ص٦٠؛حدیث نمبر؛١٤١٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن سناتے،جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو"الله أكبر" کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔عبدالرزاق کہتے ہیں یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں"الله أكبر"کا ذکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود؛باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب،وفی غیر الصلاۃ؛جلد٢؛ص٦٠؛حدیث نمبر؛١٤١٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار"سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته"یعنی:میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے گیے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود؛باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب،وفی غیر الصلاۃ؛جلد٢؛ص٦٠؛حدیث نمبر؛١٤١٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے قرآن والو!وتر پڑھا کرو اس لیے کہ اللہ وتر(طاق)ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الوتر؛جلد٢؛ص٦١؛حدیث نمبر؛١٤١٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١٤١٦کے مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے ایک اعرابی نے کہا آپ کیا کہہ رہے ہیں؟تو عبداللہ بن مسعود نے کہا یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الوتر؛جلد٢؛ص٦١؛حدیث نمبر؛١٤١٧)
خارجہ بن حذافہ عدوی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ابو الولید عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے،اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الوتر؛جلد٢؛ص٦١؛حدیث نمبر؛١٤١٨)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا وتر حق ہے جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں،وتر حق ہے،جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں،وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فیمن لم یوتر؛جلد٢؛ص٦٢؛حدیث نمبر؛١٤١٩)
ابن مُحیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا،شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا وتر واجب ہے،مخدجی نے کہا میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابو محمد نے غلط کہا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہےپانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں،پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہوگا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہوگی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہوگا،اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں،اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فیمن لم یوتر؛جلد٢؛ص٦٢؛حدیث نمبر؛١٤٢٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایااس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب کم الوتر؛جلد٢؛ص٦٢؛حدیث نمبر؛١٤٢١)
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب کم الوتر؛جلد٢؛ص٦٢؛حدیث نمبر؛١٤٢٢)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں"سبح اسم ربک الأعلى"اور"قل للذين کفروا"(یعنی قل ياأيها الکافرون ) اور"الله الواحد الصمد"(یعنی"قل هو الله أحد")پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب ما یقرأ فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٣؛حدیث نمبر؛١٤٢٣)
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی،اور کہا تیسری رکعت میں آپ"قل هو الله أحد"اورمعوذتین(یعنی"قل اعوذ برب الفلق"اور"قل اعوذ برب الناس") پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب ما یقرأ فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٣؛حدیث نمبر؛١٤٢٤)
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں وہ کلمات یہ ہیں"اللهم اهدني فيمن هديت،وعافني فيمن عافيت،وتولني فيمن توليت،و بارک لي فيما أعطيت،وقني شر ما قضيت إنک تقضي ولا يقضى عليك،وإنه لا يذل من واليت،ولا يعز من عاديت،تبارکت ربنا وتعاليت"(ترجمہ)یا اللہ!مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے)جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے)جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں(داخل کر کے)جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے،تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا،اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٣؛حدیث نمبر؛١٤٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی ابواسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس کے آخر میں ہے کہ اسے وہ وتر کی قنوت میں کہتے تھے اور"أقولهن في الوتر"کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٣؛حدیث نمبر؛١٤٢٦)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے"اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک،وبمعافاتک من عقوبتک،وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک"(ترجمہ)یا اللہ!میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی،تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں،میں تیری تعریف شمار نہیں کرسکتا،تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے،سعید نے قتادہ سے،قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے،سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے،زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے،سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے،ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور ابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے،انہوں نے مسعر سے،مسعر نے زبید سے،زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے،سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی۔ إمام ابوداؤد کہتے ہیں سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے،اسے یزید بن زریع نے سعید سے،سعید نے قتادہ سے،قتادہ نے عزرہ سے،عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے،سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے،اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا۔اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے،اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے،انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے،لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔زبید کی روایت کو سلیمان اعمش،شعبہ،عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے،ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے،سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٤؛حدیث نمبر؛١٤٢٧)
محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٢٨)
حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کردیا،وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز(تراویح)پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیر ہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھا کرتے،لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٢٩)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر میں سلام پھیرتے تو "سبحان الملک القدوس"کہتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الدعاء بعد الوتر؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٣٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے اسے پڑھ لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الدعاء بعد الوتر؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے،جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الوتر قبل النوم؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٣٢)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل(محمد)صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے،میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا،ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر،چاشت کی نماز پڑھنے کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الوتر قبل النوم؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٣)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھاتم وتر کب پڑھتے ہو؟، انہوں نے عرض کیا میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھاتم کب پڑھتے ہو؟انہوں نے عرض کیاآخر شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا،اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الوتر قبل النوم؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٤)
حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کب پڑھتے تھے؟انہوں نے کہا سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے،شروع رات میں بھی پڑھا ہے،درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی وقت الوتر؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاصبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی وقت الوتر؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٦)
حضرت عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں،میں نے پوچھا آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی؟کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری؟انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مراد غسل جنابت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی وقت الوتر؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی وقت الوتر؛جلد٢؛ص٦٧؛حدیث نمبر؛١٤٣٨)
حضرت قیس بن طلق کہتے ہیں کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے،شام تک رہے روزہ افطار کیا،پھر اس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا،ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ،اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ ایک رات میں دو وتر نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی نقض الوتر؛جلد٢؛ص٦٧؛حدیث نمبر؛١٤٣٩)
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہوئے کہا اللہ کی قسم!میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے قریب ترین نماز پڑھوں گا،چناچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٧؛حدیث نمبر؛١٤٤٠)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں قنوت پڑھتے تھے۔ ابن معاذ نے صلاة المغرب(نماز مغرب میں بھی)کا بھی اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٧؛حدیث نمبر؛١٤٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی،آپ اس میں دعا فرماتے"اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتک على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف" یا اللہ ولید بن ولید کو نجات دے،یا اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے،یا اللہ!کمزور مومنوں کو نجات دے،یا اللہ!مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف(علیہ السلام)کے زمانے میں پڑا تھا) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی،تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ(اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ)آچکے ہیں؟ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر،عصر،مغرب،عشاء اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی،جب آخری رکعت میں"سمع الله لمن حمده" کہتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی سلیم کے قبائل رعل،ذکوان اور عصیہ کے حق میں بد دعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے؟تو انہوں نے کہا ہاں،پھر ان سے پوچھا گیا رکوع سے پہلے یا بعد میں؟تو انہوں نے کہا رکوع کے بعد میں مسدد کی روایت میں ہے کہ تھوڑی مدت تک۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٥)
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر پڑھی کہ جب آپ دوسری رکعت سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٦)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا،آپ رات کو نکلتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے،کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کردی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نہیں نکلے،لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے،اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ان کی طرف نکلے اور اے لوگو!تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کردی جائے،لہٰذا اب تم کو چاہیئے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو اس لیے کہ آدمی کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے سوائے فرض نماز کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی فضل التطوع فی البیت؛جلد٢؛ص٦٩؛حدیث نمبر؛١٤٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نماز میں سے کچھ گھروں میں پڑھا کرو،اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی فضل التطوع فی البیت؛جلد٢؛ص٦٩؛حدیث نمبر؛١٤٤٨)
حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانماز میں دیر تک کھڑے رہنا،پھر پوچھا گیا کون سا صدقہ افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے،پھر پوچھا گیا کون سی ہجرت افضل ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے،پھر پوچھا گیا کون سا جہاد افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو،پھر پوچھا گیا کون سا قتل افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب طول القیام؛جلد٢؛ص٦٩؛حدیث نمبر؛١٤٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے،پھر نماز پڑھے اپنی بیوی کو بھی جگائے تو وہ بھی نماز پڑھے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے،اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے،اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الحث علی قیام الیل؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الحث علی قیام الیل؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥١)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥٢)
حضرت معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہوگی جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا،(پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے)تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا،کیا درجہ ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور اس میں ماہر ہو تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص اٹک اٹک کر پریشانی کے ساتھ پڑھے تو اسے دہرا ثواب ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو بھی قوم(جماعت) اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتی اور باہم اسے پڑھتی پڑھاتی ہے اس پر سکینت نازل ہوتی ہے،اسے اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے،فرشتے اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے،جو اس کے پاس رہتے ہیں یعنی مقربین ملائکہ میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧١؛حدیث نمبر؛١٤٥٥)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ(چبوترے)پر تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے،پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟صحابہ نے کہا یا رسول اللہ!ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧١؛حدیث نمبر؛١٤٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"الحمد لله رب العالمين"(سورہ فاتحہ)ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فاتحۃ الکتاب؛جلد٢؛ص٧١؛حدیث نمبر؛١٤٥٧)
حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے،تو آپ نے انہیں بلایا، میں(نماز پڑھ کر)آپ کے پاس آیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاتم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟عرض کیا میں نماز پڑھ رہا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایااے مومنو!"جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو،جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں،جس میں تمہاری زندگی ہےمیں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورة سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں،(جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے)تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ سورة"الحمد لله رب العالمين"ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فاتحۃ الکتاب؛جلد٢؛ص٧١؛حدیث نمبر؛١٤٥٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں اور موسیٰ(علیہ السلام)کو چھ دی گئی تھیں،جب انہوں نے تختیاں(جن پر تورات لکھی ہوئی تھی)زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب من قال ھی من الطول؛جلد٢؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٥٩)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے ابومنذر!کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت؟میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟میں نے عرض کیا "الله لا إله إلا هو الحي القيوم"تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایااے ابومنذر!تمہیں علم مبارک ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب من ما جاء فی آیۃ الکرسی؛جلد٢؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٦٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے دوسرے شخص کو"قل هو الله أحد"باربار پڑھتے سنا،جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا،گویا وہ سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ(سورۃ)ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی سورۃ الصمد؛جلد٢؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٦١)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا،آپ نے فرمایااے عقبہ!کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے "قل أعوذ برب الفلق"اور"قل أعوذ برب الناس"سکھائیں،لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں(کے سیکھنے)سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا،چناں چہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے(سواری سے)اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں،پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایاعقبہ!تم نے انہیں کیا سمجھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی المعوذتین؛جلد 2؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٦٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جحفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"قل أعوذ برب الفلق"اور"قل أعوذ برب الناس"پڑھنے لگے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھےاے عقبہ!تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو،اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی۔عقبہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی المعوذتین؛جلد 2؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٦٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاصاحب قرآن(حافظ قرآن یا ناظرہ خواں)سے کہا جائے گا پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے،تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٣؛حدیث نمبر؛١٤٦٤)
حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٣؛حدیث نمبر؛١٤٦٥)
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا تم کہاں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کہاں؟آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے،پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے،پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی،پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٣؛حدیث نمبر؛١٤٦٦)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا،آپ سورة الفتح پڑھ رہے تھے اور(ایک ایک آیت)کئی بار دہرا رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٦٧)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقرآن کو اپنی آواز سے زینت دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٦٨)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے،وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٦٩)
اسی سند کے ساتھ بھی بھی سعد رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٤٦٩ کے مثل حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد٣؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٧٠)
حضرت عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہوگئے تو ہم بھی داخل ہوگئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔بوسیدہ ساگھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے،میں نے سنا وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہےجو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ عبدالجبار کہتے ہیں میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہااے ابو محمد!اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟انہوں نے جواب دیاجہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد٣؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٧١)
محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ بےنیاز ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٣)
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ہو کر ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التشدید فیمن حفظ القرآن ثم نسیہ؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٤)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورة الفرقان پڑھتے سنا،وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوگئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورة الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہشام سے فرمایاتم پڑھو، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ اسی طرح نازل ہوئی ہے،پھر مجھ سے فرمایاتم پڑھو،میں نے بھی پڑھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسی طرح نازل ہوئی ہے،پھر فرمایا قرآن مجید سات حرفوں پر نازل ہوا ہے،لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٥)
زہری کہتے ہیں کہ یہ حروف(اگرچہ بظاہر مختلف ہوں)ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں،ان میں حلال و حرام میں اختلاف نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٦)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااُبَّْی!مجھے قرآن پڑھایا گیا،پھر مجھ سے پوچھا گیا ایک حرف پر یا دو حرف پر؟میرے ساتھ جو فرشتہ تھا،اس نے کہا کہو دو حرف پر، میں نے کہادو حرف پر،پھر مجھ سے پوچھا گیا دو حرف پر یا تین حرف پر؟اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا،کہا کہو تین حرف پر،چناں چہ میں نے کہا تین حرف پر،اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے،چا ہے تم"سميعا عليما"کہو یا"عزيزا حكيما"جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف؛جلد٣؛ص٧٦؛حدیث نمبر؛١٤٧٧)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل(علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں،میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے،پھر دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا،تو انہوں نے کہا اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں،لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف؛جلد٣؛ص٧٦؛حدیث نمبر؛١٤٧٨)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دعا عبادت ہے تمہارا رب فرماتا ہے(ترجمہ)"مجھ سے دعا کرو،میں تمہاری دعا قبول کروں گا"(سورۃ غافر٦٠) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٣؛ص٧٦؛حدیث نمبر؛١٤٧٩)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میرے والد نے مجھے کہتے سنا اے اللہ!میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے،اس کی زنجیروں سے،اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے،تو انہوں نے مجھ سے کہا اے میرے بیٹے!میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہےعنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے،لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہوجاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٧؛حدیث نمبر؛١٤٨٠)
صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا،اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس شخص نے جلد بازی سے کام لیا،پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے،اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٧؛حدیث نمبر؛١٤٨١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع دعائیں پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٧؛حدیث نمبر؛١٤٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگےاے اللہ!اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے،اے اللہ!اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر،بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٧؛حدیث نمبر؛١٤٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیواروں پر پردہ نہ ڈالو،جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے،اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق(سند)سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٥)
حضرت مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سلیمان بن عبدالحمید نے کہا ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کرکے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٧)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارا رب بہت باحیاء اور کریم(کرم والا)ہے،جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے حیا آتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ،اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال(عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا)یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہےابتہال اس طرح ہےاور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کردی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا،پھر راوی نے حدیث نمبر ١٤٩٠ کے مثل حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩١)
حضرت یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا"اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت،الأحد،الصمد،الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد"(ترجمہ)یا اللہ!میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے،تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں،تو تنہا اور ایسا بےنیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے"یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩٣)
ایک اور سندسے بھی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے"لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم"تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم(عظیم نام)کا حوالہ دے کر سوال کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا،(نماز سے فارغ ہو کر)اس نے دعا مانگی"اللهم إني أسألک بأن لک الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإکرام يا حى يا قيوم"(ترجمہ)یا اللہ!میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ ساری حمد تیرے لیے ہے،تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں،تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے،اے جلال اور عطاء و بخشش والے،اے زندہ جاوید،اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے!یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم(عظیم نام)کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٥)
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا اسم اعظم(عظیم نام)ان دونوں آیتوں"وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم"(البقرہ:١٦٣)اور سورة آل عمران کی ابتدائی آیت"الله لا إله إلا هو الحي القيوم"میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں"لا تسبخي" کا مطلب ہے"لا تخففي عنه"یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٧)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی،جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایامیرے بھائی!مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا،آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔(راوی حدیث)شعبہ کہتے ہیں پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقتلا تنسنا يا أخى من دعائك"کے بجائے"أشرکنا يا أخى في دعائك"کے الفاظ کہے اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٨)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے،میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایک انگلی سے کرو،ایک انگلی سے کرواور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٩)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے،اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں،جن سے وہ تسبیح گنتی تھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہا کرو"سبحان الله عدد ما خلق في السماء و سبحان الله عدد ما خلق في الأرض و سبحان الله عدد ما خلق بين ذلک و سبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلک والحمد لله مثل ذلک. ولا إله إلا الله مثل ذلک.ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٥٠٠)
حضرت یُسیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر،تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے(قیامت کے روز)سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨١؛حدیث نمبر؛١٥٠١)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا(ابن قدامہ کی روایت میں ہے)اپنے دائیں ہاتھ پر۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨١؛حدیث نمبر؛١٥٠٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے(پہلے ان کا نام برہ تھاآپ نے اسے بدل دیا)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟انہوں نے کہا ہاں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے(اتنی دیر میں)کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے"سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد کلماته"(ترجمہ)میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر،اس کی مرضی کے مطابق،اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨١؛حدیث نمبر؛١٥٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ!مال والے تو ثواب لے گئے،وہ نماز پڑھتے ہیں،جس طرح ہم پڑھتے ہیں،روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں،البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے،جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے ابوذر!کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو،جو تم پر (ثواب میں)بازی لے گئے ہیں،اور جو(ثواب میں)تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہوسکتے،سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے،انہوں نے کہا ضرور،یا رسول اللہ!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہر نماز کے بعد(٣٣)بار الله اکبر(٣٣)بار الحمد الله(٣٣)بار سبحان الله کہا کرو،اور آخر میں"لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير" پڑھا کرو(جو ایسا کرے گا)اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨١؛حدیث نمبر؛١٥٠٤)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا،اس میں تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير،اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منک الجد"(ترجمہ)کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کے لیے بادشاہت ہے،اسی کے لیے حمد ہے،وہ ہر چیز پر قادر ہے۔یا اللہ!جو تو دے،اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے،اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٢؛حدیث نمبر؛١٥٠٥)
ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر کہتے سنا نبی اکرم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے"لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير،لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو کره الکافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن،لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو کره الکافرون" (ترجمہ)اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کے لیے بادشاہت ہے،اسی کے لیے حمد ہے،وہ ہر چیز پر قادر ہے،کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے،ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں،وہ احسان،فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے،ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں،اگرچہ کافر برا سمجھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٢؛حدیث نمبر؛١٥٠٦)
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد"لا إله إلا الله" کہا کرتے تھے پھر انہوں نے حدیث نمبر ١٥٠٦ جیسی دعا کا ذکر کیا،البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا"ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة"اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٣؛حدیث نمبر؛١٥٠٧)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا(سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے)"اللهم ربنا ورب کل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدک لا شريك لك،اللهم ربنا ورب کل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدک ورسولک،اللهم ربنا ورب کل شىء،أن العباد کلهم إخوة،اللهم ربنا ورب کل شىء،اجعلني مخلصا لک وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإکرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر،حسبي الله ونعم الوکيل الله أكبر الأكبر" (ترجمہ)یا اللہ!ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے،تیرا کوئی شریک نہیں،یا اللہ!ہمارے رب!اور اے ہر چیز کے رب!میں گواہ ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں،یا اللہ!ہمارے رب!اور ہر چیز کے رب!میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں،یا اللہ ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب!مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں،اے جلال،بزرگی اور عزت والے!سن لے اور قبول فرما لے،اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے،یا اللہ!تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے(سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے،اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے،اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٣؛حدیث نمبر؛١٥٠٨)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے"اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت،وما أسررت وما أعلنت،وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني،أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت" (ترجمہ)یا اللہ!میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو،اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے،بخش دے۔تو جسے چاہے آگے کرے،جسے چاہے پیچھے کرے،تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٣؛حدیث نمبر؛١٥٠٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے"رب أعني ولا تعن علي،وانصرني ولا تنصر علي،وامکر لي ولا تمکر علي،واهدني ويسر هداي إلي،وانصرني على من بغى علي،اللهم اجعلني لک شاکرا لك،ذاکرا لك،راهبا لك،مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي،واغسل حوبتي،وأجب دعوتي،وثبت حجتي،واهد قلبي،وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي " (ترجمہ)اے میرے رب!میری مدد کر،میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر،میری تائید کر،میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر،ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو،مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے،اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے،اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر،جو مجھ پر زیادتی کرے،یا اللہ!مجھے تو اپنا شکر گزار،اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا،اپنا اطاعت گزار،اپنی طرف گڑگڑانے والا،یا دل لگانے والا بنا،اے میرے پروردگار!میری توبہ قبول کر،میرے گناہ دھو دے،میری دعا قبول فرما،میری دلیل مضبوط کر،میرے دل کو سیدھی راہ دکھا،میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٣؛حدیث نمبر؛١٥١٠)
حضرت سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے حدیث نمبر ١٥١٠ کے مفہوم کی روایت سنی ہے،اس میں"يسر هداي إلى"کے بجائے"يسر الهدى إلى"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے"اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت يا ذا الجلال والإكرام" (ترجمہ)اے اللہ!تو ہی سلام ہے،تیری ہی طرف سے سلام ہے،تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے،لوگوں نے کہا ہے انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١٢)
حضرت ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے،اس کے بعد"اللهم" کہتے،پھر راوی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١٣)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١٤)
اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے دل پر غفلت کا پردہ آجاتا ہے،حالانکہ میں اپنے پروردگار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار "رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم" اے میرے رب!مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر،تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے"کہنے کو شمار کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥١٦)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناجس نے"أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه"کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥١٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو کوئی استغفار کا التزام کرلےتو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا،جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥١٨)
حضرت عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے؟انہوں نے جواب دیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے"اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار" اے ہمارے رب!ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے(البقرہ ٢٠١)زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کرلیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥١٩)
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا،اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا،اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥٢٠)
حضرت اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لیے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا،جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی بات مان لیتا،مجھ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ کہا،انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے،پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے،پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی"والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا الله"{آل عمران؛١٣٥}(إلى آخر الآية)"جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔۔۔ آیت کے اخیر تک۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٦؛حدیث نمبر؛١٥٢١)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے معاذ!قسم اللہ کی،میں تم سے محبت کرتا ہوں،قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں،پھر فرمایااے معاذ!میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا"اللهم أعني على ذکرک وشکرک وحسن عبادتك"یا اللہ!اپنے ذکر،شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے صُنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٦؛حدیث نمبر؛١٥٢٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٦؛حدیث نمبر؛١٥٢٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٦؛حدیث نمبر؛١٥٢٤)
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو"الله الله ربي لا أشرک به شيئًا"(ترجمہ)"اللہ ہی میرا رب ہے،میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہلال،عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں،اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٥)
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا،جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے لوگو!تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو،بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوموسیٰ!کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟میں نے عرض کیا وہ کیا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"وہ لا حول ولا قوة إلا بالله"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٦)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے،ایک شخص تھا،وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو "لا إله إلا الله والله أكبر"پکارتا،اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔پھر فرمایااے عبداللہ بن قیس!پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٧)
ایک اورسند سے بھی حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو!اپنے اوپر آسانی کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص کہے "رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا"میں اللہ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہواتو جنت اس کے لیے واجب گئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمت نازل کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٨؛حدیث نمبر؛١٥٣٠)
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے،لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجا کرو،اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں،لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ قبر میں بوسیدہ ہوچکے ہوں گے تو ہمارے درود آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم کو کھانا حرام کر دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٨؛حدیث نمبر؛١٥٣١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے،نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کرلے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النھی عن ان یدعو الإنسان علی اھلہ ومالہ؛جلد٢؛ص٨٨؛حدیث نمبر؛١٥٣٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"صلى الله عليك وعلى زوجک"اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ علی غیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد٢؛ص٨٨؛حدیث نمبر؛١٥٣٣)
حضرت ام الدرادء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناجب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے(غائبانہ)میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدعاء بظہر الغیب؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدعاء بظہر الغیب؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں،ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں باپ کی دعا،مسافر کی دعا،مظلوم کی دعا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدعاء بظہر الغیب؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٦)
حضرت ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے"اللهم إنا نجعلک في نحورهم ونعوذ بک من شرورهم"یا اللہ!ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدعاء بظہر الغیب؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورة سکھاتے تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے فرماتے جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور یہ دعا پڑھے"اللهم إني أستخيرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظيم فإنک تقدر ولاأقدر و تعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي و بارک لي فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث کان ثم رضني به" (ترجمہ)یا اللہ!میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے خیر طلب کرتا ہوں،تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے قوت طلب کرتا ہوں،تجھ سے تیرے بڑے فضل میں سے کچھ کا سوال کرتا ہوں،تو قدرت رکھتا ہے مجھ کو قدرت نہیں۔تو جانتا ہے،میں نہیں جانتا،تو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے،یا اللہ!اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ یا یہ کام میرے واسطے دین و دنیا،آخرت اور انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان بنا دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا کر،یا اللہ!اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین،دنیا،آخرت اور انجام میں برا ہے تو مجھ کو اس سے پھیر دے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور جہاں کہیں بھلائی ہو،اسے میرے لیے مقدر کر دے،پھر مجھے اس پر راضی فرما۔ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں عن محمد بن المنکدر عن جابر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستخارۃ؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٨)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں بزدلی،بخل،بری عمر،سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٠؛حدیث نمبر؛١٥٣٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من العجز،والکسل،والجبن،والبخل،والهرم، وأعوذ بک من عذاب القبر،وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات" (ترجمہ)یا اللہ!میں تیری پناہ مانگتاہوں عاجزی سے،سستی سے،بزدلی سے،بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٠؛حدیث نمبر؛١٥٤٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا "اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال"یا اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے،قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سےاور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی نے ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٠؛حدیث نمبر؛١٥٤١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورة سکھاتے تھے،فرماتے"اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات" (ترجمہ)یا اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے،تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے،تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٠؛حدیث نمبر؛١٥٤٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے"اللهم إني أعوذ بک من فتنة النار، و عذاب النار،ومن شر الغنى،والفقر" یا اللہ!میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من الفقر،والقلة،والذلة،وأعوذ بک من أن أظلم أو أظلم"یا اللہ!میں فقر،قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی"اللهم إني أعوذ بک من زوال نعمتک،وتحويل عافيتك،وفجاءة نقمتک،وجميع سخطک" یا اللہ!میں تیری نعمت کے زوال سے،تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے،تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تو فرماتے"اللهم إني أعوذ بک من الشقاق،والنفاق،وسوء الأخلاق"یا اللہ!میں پھوٹ،نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من الجوع فإنه بئس الضجيع،وأعوذ بک من الخيانة فإنها بئست البطانة" یا اللہ!میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے،میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٧،و حدیث نمبر ١٥٤٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من صلاة لا تنفع"یا اللہ!میں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے تیری پناہ چاہتا ہوں اور پھر راوی نے دوسری دعا کا ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٢؛حدیث نمبر؛١٥٤٩)
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا،انہوں نے کہاآپ کہتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من شرما عملت،ومن شر ما لم أعمل"یا اللہ!میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٢؛حدیث نمبر؛١٥٥٠)
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہو "اللهم إني أعوذ بک من شر سمعي،ومن شر بصري،ومن شر لساني،ومن شر قلبي، ومن شر منيي" یا اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی،نظر کی برائی زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٢؛حدیث نمبر؛١٥٥١)
حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من الهدم،وأعوذ بک من التردي،وأعوذ بک من الغرق،والحرق والهرم،وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت،وأعوذ بك أن أموت في سبيلک مدبرا،وأعوذ بك أن أموت لديغا" یا اللہ!کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔میں ڈوبنے،جل جانے اور بہت بوڑھا ہوجانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٢؛حدیث نمبر؛١٥٥٢)
اسی سند سے حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہےاس میں والغم کا اضافہ ہے یعنی"تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٣؛حدیث نمبر؛١٥٥٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من البرص، والجنون،والجذام،ومن سيئ الأسقام"یا اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی،کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٣؛حدیث نمبر؛١٥٥٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری پر پڑی جنہیں ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہاابوامامہ!کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز کے وقت کے علاوہ بھی مسجد میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں کہو تو اللہ تم سے تمہارے غم دور اور قرض ادا کر دے،میں نے کہا ضرور،یا رسول اللہ!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاصبح و شام یہ کہا کرو"اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن،وأعوذ بک من العجز والکسل،وأعوذ بک من الجبن والبخل،وأعوذ بک من غلبة الدين وقهر الرجال"یا اللہ!میں غم اور حزن سے تیری پناہ مانگتا ہوں،عاجزی و سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں،بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے غلبہ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ پڑھنا شروع کیا تو اللہ نے میرا غم دور کردیا اور میرا قرض ادا کروا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٣؛حدیث نمبر؛١٥٥٥)
Abu Dawood Shareef : Kitabus Salat
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الصَّلَاةِ
|
•