asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabus Salat

From 391 to 4151

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

سہیل بن عبد المالک کے والد ماجد نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک نجدی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا،جس کے بال بکھرے ہوئے تھے،گنگناہٹ سنائی دیتی تھی۔لیکن یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کہتا کیا ہے۔یاں تک کہ نزدیک ہوکر اس نے اسلام کے متعلق دریافت کیا۔فرمایا کہ دن اور رات میں روزانہ پانچ نمازیں ہیں۔عرض گزار ہوا کہ کیا اس کے سوا بھی مجھ پر کچھ اور ہے ؟فرمایا کہ۔نہیں مگر جوتم اپنی خوشی سے رکھو,فرمایا،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے روزہ کا ذکر فرمایا عرض کی کہ کیا ان کے سوا بھی مجھ پر روزے ہیں؟فرمایا کہ نہیں مگر جوتم اپنی خوشی سے رکھو ۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے زکاۃ ذکر فرمایا عرض گزار ہوا کہ کیا اس کے سوا بھی مجھ پر کچھ اور ہے؟فرمایا کہ نہیں مگر جو تم اپنی خوشی سے دو ۔جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو کہتا تھا کہ خدا کی قسم نہ میں ان میں کچھ اضافہ کروں گا اور نہ کمی۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے سچ کہا ہے تو نجات پاگیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ فَرْضِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٣٩١؛ج ١ ص ٢٩١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ: حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ». قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ». قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ». قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ». قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَةَ. قَالَ: فَهَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ». فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 391

ابو سہیل نافع بن مالک بن ابو عامر نے اپنی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا۔نجات پاگیا۔اور اسی میں ہے کہ اگر سچ کہا تو جنت میں داخل ہو گیا میرے والد ماجد کی قسم اگر سچ کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ فَرْضِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٣٩٢؛ج ١ ص ٢٩٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: «أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 392

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دومرتبہ میری امامت کی۔پس میرے ساتھ نماز ظہر پڑھی جبکہ سورج ڈھل گیا اور سایہ تسمہ کے برابر ہوگیا اور میرے ساتھ نماز عصر پڑھی جب کہ چیزوں کا سایہ ان کے برابر ہوگیا اور ساتھ نماز مغرب پڑھی جب کہ روزہ افطار کیا جاتا ہے اور میرے ساتھ نماز عشاء پڑھی جب کہ شفق غائب ہو جاتی ہے اور میرے ساتھ نماز فجر پڑھی جب کہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔جب اگلا روز ہوا تو میرے ساتھ نماز ظہر پڑھی جب کہ سایہ ایک مثل ہو گیا اور میرے ساتھ نماز عصر پڑھی جب کہ سایہ دو مثل ہو گیا اور میرے ساتھ نماز مغرب پڑھی جب کہ روزہ دار افطارکرتا ہے اور نماز عشاء میرے ساتھ پڑھی تہائی رات گزرنے پر اور میرے ساتھ نماز فجر پڑھی جب کہ خوب اجالا ہوگیا۔ پھر میری جانب متوجہ ہوکر کہا کہ اے محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم!یہ آپ سے پہلے انبیاء کرام کے اوقات نماز ہیں اور ہر نماز کا وقت ان دونوں حدوں کے درمیان ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاقِيتِ،حدیث نمبر٣٩٣؛ج ١ ص ٢٩٣؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ فُلَانِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاكِ، وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ، وَصَلَّى بِيَ يَعْنِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ صَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ، وَصَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَيْهِ، وَصَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ» ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 393

اسامہ بن زید لیثی کو ابن شہاب نے بتایا کہ حضرت عمر بن عبد العزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے نماز عصر میں تاخیر کردی تو حضرت عروہ بن زبیر نے ان سے کہا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات بتادیے تھے حضرت عمر نے ان سے کہا کہ غور تو کیجیے آپ کہہ کیا رہے ہیں؟ عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابو مسعود کو فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے حضرت ابو مسعود انصاری کو فرماتے ہوئے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت جبرائیل نازل ہوئے تو انہوں نے مجھے نماز کے اوقات بتائے پس میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی ،پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شامل کیں۔پس میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آ پ نے نماز ظہر زوال آفتاب کے بعد پڑھی اور کبھی اتنی مؤخر کی کہ گرمی میں شدت آگئی اور میں نے آپ کو نماز عصر پڑھتے ہوئے دیکھا جب کہ سورج خوب بلند اور سفید تھا۔اس میں زردی آنے سے پہلے آدمی نماز سے فارغ ہوکر ذوالحلیفہ پہنچ جاتا اس سے پہلے کہ سورج غروب ہو اور سورج غائب ہوتے ہی نماز مغرب پڑھی اور نماز عشاء اس وقت پڑھی جب کہ افق میں سیاہی آگئی اور کبھی اس میں اتنی تاخیر فرمالیتے کہ لوگ جمع ہوجاتے اور نماز فجر ایک دفعہ اندھیری میں پڑھی اور دوسری دفعہ اجالا ہونے پر پڑھی ۔پھر آپ کی نماز اس کے بعد اندھیرے میں رہی یعنی وصال دوبارہ اجالا میں نہیں پڑھی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث کو زہری،معمر،مالک،ابن عیینہ،شعیب بن ابوحمزہ ،لیث بن سعد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔لیکن انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ کن اوقات میں نماز پڑھی اور نہ تفصیل بتائی اور اسی طرح روایت کیا ہے اسے ہشام بن عروہ اور حبیب بن مرزوق نے عروہ سے معمر اور ان کے ساتھیوں نے اسی طرح روایت کی ہے مگر حبیب نے بشیر کا ذکر نہیں کیا۔ روایت کیا وہب بن کیسان حضرت جابر نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے نماز مغرب کا وقت فرمایا پھر حضرت جبرائیل مغرب کے وقت آئے جب کہ سورج غروب ہو گیا یعنی اگلے روز بھی اسی وقت ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی فرمایا کہ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاقِيتِ،حدیث نمبر٣٩٤؛ج ١ ص ٢٩٥؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، أَنّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ: عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْر أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَر: اعْلَمْ مَا تَقُولُ: فَقَالَ: عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ» يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ. «فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلَاةِ، فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ، وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ كَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ التَّغْلِيسَ حَتَّى مَاتَ، وَلَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، مَعْمَرٌ وَمَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُمْ لَمْ يَذْكُرُوا الْوَقْتَ الَّذِي صَلَّى فِيهِ وَلَمْ يُفَسِّرُوهُ، وَكَذَلِكَ أَيْضًا رَوَى هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ عُرْوَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْمَرٍ وَأَصْحَابِهِ إِلَّا أَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَذْكُرْ بَشِيرًا، وَرَوَى وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الْمَغْرِبِ قَالَ: «ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ يَعْنِي مِنَ الْغَدِ وَقْتًا وَاحِدًا». وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ». يَعْنِي مِنَ الْغَدِ وَقْتًا وَاحِدًا، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاص مِنْ حَدِيثِ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 394

ابو بکر بن ابو موسی نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا لیکن آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ حضرت بلال کو نماز فجر کی اقامت کا حکم فرمایا کیا جبکہ فجر طلوع ہوا تھا اور ایسے وقت نماز پڑھی کہ آدمی اپنے ساتھ کا منہ پہچانتا نہ تھایا آدمی اسے نہ پہچان سکا جو اس کے پہلو میں ہوں پھر حضرت بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے نماز ظہر کے لئے اقامت کہی جب کہ سورج ڈھلا تھا اور پوچھنے والا پوچھتا کہ کیا دوپہر ہو گئی ہے پھر آپ نے حضرت بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے نماز عصر کے لئے اقامت کہی جب کہ آفتاب سفید اور بلند تھا آپ نے حضرت بلال کو فرمایا تو انہوں نے نماز مغرب کی اقامت کہی جب کہ سورج غروب ہوگیا تھا اور شفق غائب ہونے پر نماز عشاء کی اقامت کہی گئی اگلے روز آپ نماز فجر کر لوٹے تو ہم نے کہا کہ کیا سورج طلوع ہو گیا ہے پھر ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جس وقت پچھلے روز عصر کی پڑھی تھی اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج میں زردی آگئی یا یہ فرمایا کہ شام ہونے لگا اور شفق کے غائب ہونے سے پہلے مغرب پڑھی اور تہائی رات گزرنے پر نماز عشاء پڑھی پھر فرمایا کہ نماز کی اوقات پوچھنے والا سائل کہاں ہے؟ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا سلیمان بن موسیٰ،عطاءاور حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق فرمایا پھر نماز عشاء پڑھی بعض حضرات نے کہا کہ تہائی رات گزرنے پر اور بعض نے کہا وقت نصف اسی طرح روایت کیا ابن بریدہ کے والد ماجد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاقِيتِ،حدیث نمبر٣٩٥؛ج ١ ص ٢٩٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، " أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، فَصَلَّى حِينَ كَانَ الرَّجُلُ لَا يَعْرِفُ وَجْهَ صَاحِبِهِ - أَوْ أَنَّ الرَّجُلَ لَا يَعْرِفُ مَنْ إِلَى جَنْبِهِ - ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ حَتَّى قَالَ: الْقَائِلُ انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ أَعْلَمُ، ثُمَّ أَمَر بِلَالًا فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ، وَأَمَر بِلَالًا فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَر بِلَالًا فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ صَلَّى الْفَجْرَ وَانْصَرَفَ، فَقُلْنَا أَطَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَأَقَامَ الظُّهْرَ فِي وَقْتِ الْعَصْرِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ وَصَلَّى الْعَصْرَ، وَقَدِ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ - أَوْ قَالَ: أَمْسَى - وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ "، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ هَذَا قَالَ: «ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ». قَالَ بَعْضُهُمْ: «إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ». وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «إِلَى شَطْرِهِ». وَكَذَلِكَ رَوَى ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 395

حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ظہر کا وقت ہے جب تک عصر نہ آئےاور مغرب کا وقت ہے جب تک شفق کا اجالا ساقط نہ ہو اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاقِيتِ،حدیث نمبر٣٩٦؛ج ١ ص ٢٩٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ فَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 396

محمد بن عمرو بن الحسن سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں کے اوقات پوچھے تو فرمایا حضور ظہر کی نماز دن ڈھلنے پر پڑھتے اور عصر اس وقت جب کہ سورج میں جان ہوتی ہے اور مغرب سورج غروب ہونے پر اور عشاء کے وقت جب کافی حضرات آجاتے تو جلدی پڑھتے اور تھوڑے ہوتے تو دیر کرتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّيهَا،حدیث نمبر٣٩٧؛ج ١ ص ٢٩٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرًا عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ، وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 397

ابوالمنہال سے روایت ہے کہ حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا اور عصر پڑھتے کہ اگر کوئی ہم میں مدینہ منورہ کے آخری کنارے تک جاکر لوٹ آتا تو سورج میں ابھی جان ہوتی اور مغرب کے متعلق میں بھول گیا اور آ پ عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھتے پھر فرمایا کہ آدھی رات تک فرمایا اور آپ اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے اور صبح کی نماز پڑھتے کہ ہم اپنے جانے پہچانے ساتھی کو پہچان نہیں سکتے تھے اور اس میں آپ ساٹھ سے سوآیتوں تک پڑھتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّيهَا،حدیث نمبر٣٩٨؛ج ١ ص ٣٠٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ، وَيَرْجِعُ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ الْمَغْرِبَ، وَكَانَ لَا يُبَالِي تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ» - قَالَ: ثُمَّ قَالَ: إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ - قَالَ: «وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، وَمَا يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 398

سعید بن حارث انصاری سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں نماز ظہر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتا تو ایک میٹھی کنکریاں لیتا کہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈی ہو جائیں تاکہ گرمی کی شدت کے باعث ان پر اپنی پیشانی رکھ کر سجدہ کر سکوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٣٩٩؛ج ١ ص ٣٠٠؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآخُذُ قَبْضَةً مِنَ الْحَصَى لِتَبْرُدَ فِي كَفِّي أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 399

اسود سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز ظہر کا گرمیوں میں اندازہ تین سے پانچ قدم تک اور سردیوں میں پانچ سے سات قدم تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٤٠٠؛ج ١ ص ٣٠١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارق، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَتْ قَدْرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّيْفِ ثَلَاثَةَ أَقْدَامٍ إِلَى خَمْسَةِ أَقْدَامٍ، وَفِي الشِّتَاءِ خَمْسَةَ أَقْدَامٍ إِلَى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 400

زید بن وہب حضرت ابوذر غفاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ مؤذن نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو۔پھر اذان کہنے کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ ٹھنڈک ہونے دو۔یاتین مرتبہ ایسا فرمایا۔ یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا۔پھر فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے جب سخت گرمی ہوتو نماز ٹھنڈی کرکے پڑھو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٤٠١؛ج ١ ص ٣٠٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ قَالَ: أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْحَسَنِ هُوَ مُهَاجِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ الظُّهْرَ فَقَالَ: «أَبْرِدْ». ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ: «أَبْرِدْ» - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 401

سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب گرمی کی شدت ہو تو وقت ٹھنڈا کرکے نماز(ظہر)پڑھا کرو۔ابن موہب نے کہا کہ نماز کے ساتھ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٤٠٢؛ج ١ ص ٣٠٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ» قَالَ: ابْنُ مَوْهَبٍ: «بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 402

جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ظہر کی اذان اس وقت کہا کرتے جب سورج ڈھل جاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ،حدیث نمبر٤٠٣؛ج ١ ص ٣٠٣؛حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، «أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 403

ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز عصر ایسے وقت پڑھتے کہ سورج سفید،بلند اور جاندار ہوتا۔اگر کوئی جانے والا عوالی تک جاتا تو سورج اس وقت بھی بلند رہتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٤؛ج ١ ص ٣٠٢؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ» وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 404

حسن بن علی،عبدالرزاق،معمر،زہری نے فرمایا کہ عوالی دویاتین میل پر ہیں۔معمر نے کہا کہ میرے خیال میں فرمایا تھا یا چار میل۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٥؛ج ١ ص ٣٠٤؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: أَوْ أَرْبَعَةٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 405

یوسف بن موسیٰ،جریر،منصور،خیثمہ نے کہا کہ سورج کی زندگی یہ ہے کہ اس میں حرارت پائی جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٦؛ج ١ ص ٣٠٥؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ: «حَيَاتُهَا أَنْ تَجِدَ حَرَّهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 406

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کرتے کہ دھوپ دیواروں پر چڑھنے سے پہلے ان کے حجرے میں ہوا کرتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٧؛ج ١ ص ٣٠٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: عُرْوَة، وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 407

حضرت علی بن شیبانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم مدینہ منورہ کے اندر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نماز عصر میں اتنی تاخیر کردیتے کہ سورج میں سفیدی اور صفائی ہوتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ،حدیث نمبر٤٠٨؛ج ١ ص ٣٠٦؛حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ: «قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 408

حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خندق کے روز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں(کافروں)نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر سے روکا ،اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب فی صلوٰۃ الوسطی،حدیث نمبر٤٠٩؛ج ١ ص ٣٠٦؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: «حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 409

ابویونس مولی عائشہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ان کے لیے قرآن مجید لکھ دوں اور انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ جب آیت''حفاظت کرو نماز کی اور خاص طور پر درمیانی نماز کی''۔تو مجھے بتادینا تو جب میں وہاں پہونچا تو انہیں بتادیا۔تو انہوں نے مجھے لکھوایا۔حفاظت کرو نماز کی اور خاص طور پر درمیانی نماز اور نماز عصر کی اور اللہ کے لیے ادب سے کھڑا ہوا کرو،،۔پھر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب فی صلوٰۃ الوسطی،حدیث نمبر٤١٠؛ج ١ ص ٣٠٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا وَقَالَتْ: " إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] «، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ» حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ "، ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ: «سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 410

عروہ بن زبیر نے حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھا کرتے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب پر اس سے سخت کوئی نماز نہ ہوتی۔اسی متعلق یہ حکم نازل ہوا۔،حفاظت کرونمازوں کی اور درمیانی نماز کی۔اور فرمایا کہ دونمازیں اس سے پہلے اور دو نمازیں اس کے بعدہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب فی صلوٰۃ الوسطی،حدیث نمبر٤١١؛ج ١ ص ٣٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الزِّبْرِقَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، فَنَزَلَتْ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] وَقَالَ: «إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ، وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 411

حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز عصر کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پالی اس نے نماز عصر پالی اور جو نماز فجر کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی تو اس نے نماز فجر پالی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب من ادرک رکعۃ من الصلاۃ فقد ادرکھا،حدیث نمبر٤١٢؛ج ١ ص ٣٠٨؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 412

علاء بن عبدالرحمن نے فرمایا کہ ہم نماز ظہر کے بعد حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ نماز عصر کے لیے کھڑے ہو گئے۔جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو ہم جلدی نماز پڑھنے کا ذکر کیا یا اس بات کا ذکر کیافرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ منافقوں کی نماز ہے کہ تم میں سے کوئی بیٹھا رہے،یہاں تک کہ سورج زرد ہو جائے کیوں کہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے یا دونوں سینگوں پر ہوتا ہے اس وقت کھڑا ہوکر چارٹکڑے مارے اور نہیں وہ خدا کو یاد کرتا مگر تھوڑا بہت۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب التشديد في تأخير العصر الي الاصفرار،حدیث نمبر٤١٣؛ج ١ ص ٣٠٩؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 413

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی تو گویا اس کے اہل وعیال اور مال سب کچھ لٹ گیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اسی طرح فرمایا ہے اور اس میں ایوب پر اختلاف کیا گیا۔اور زہری ،سالم ان کے والد ماجد نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے وتر روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب التشديد في الذي تفوته صلوة العصر الاصفرار،حدیث نمبر٤١٤؛ج ١ ص ٣١٠؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «أُوتِرَ» وَاخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ فِيهِ، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وُتِرَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 414

محمود بن خالد،ولید،ابوعمرواوزاعی نے فرمایا کہ نماز عصر کی تاخیر سے یہ مراد ہے کہ دھوپ زمین پر زرد نظر آنے لگے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب التشديد في الذي تفوته صلوة العصر الاصفرار،حدیث نمبر٤١٥؛ج ١ ص ٣١١؛حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ: وَذَلِكَ أَنْ تَرَى مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الشَّمْسِ صَفْرَاءَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 415

ثابت بنانی سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھا کرتے ،پھر ہم تیر چلاتے تو ہمیں اس کے گرنے کی جگہ نظر آتی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٤١٦؛ج ١ ص ٣١١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْمِي فَيَرَى أَحَدُنَا مَوْضِعَ نَبْلِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 416

یزید بن ابو عبید سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز مغرب اسی وقت پڑھ لیتے جب سورج کا اوپر والا کنارہ غائب (غروب)ہوجاتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٤١٧؛ج ١ ص ٣١١؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حدَّثنا عمرو بن علي، عن صفوان بن عيسى، عن يزيد بن أبي عُبيد عن سَلَمة بن الأكوع قال: كانَ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلي المَغرِبَ ساعةَ تَغرُبُ الشَّمسُ إذا غابَ حاجِبُها

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 417

یزید بن ابوحبیب سے روایت ہے کہ مرثد بن عبداللہ نے فرمایا کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جہاد کے ارادے سے ہمارے پاس تشریف لائے اور ان دنوں حضرت عقبہ بن عامر حاکم مصر تھے تو انہوں نے نماز مغرب میں تاخیر کردی پس حضرت ابو ایوب ان کے پاس گئے اور کہا۔اے عقبہ!یہ کیسی نماز ہے کہا ہم مشغول تھے ۔کہا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہےگی یا فرمایا کہ فطرت پر رہے گی جب تک نماز مغرب میں اتنی دیر نہیں کرےگی کہ تارے چمکنے لگیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٤١٨؛ج ١ ص ٣١٢؛حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِر يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوب، فَقَالَ: لَهُ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ، فَقَالَ: شُغِلْنَا، قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ» - أَوْ قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ - مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 418

حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس آخری نماز یعنی نماز عشاء کا سب سے زیادہ علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسے اس وقت پڑھتے تھے جب تیسری تاریخ کا چاند ڈوب جاتا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر٤١٩؛ج ١ ص ٣١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ «صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 419

نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے پس آپ ہمارےپاس اس وقت تشریف لائے جب کہ تہائی رات گزر گئی تھی یا اس کے بعد بھی ۔یہ ہمیں معلوم نہیں آپ کسی کام میں مشغول رہے یا کوئی اور بات تھی ۔جب آپ تشریف لائے تو آ پ نے فرمایا کہ کیا تم اس کا انتظار کررہے ہو ؟اگر مجھے امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو تمہیں اسی وقت نماز پڑھایا کرتا۔پھر آپ نے مؤذن کو حکم فرمایا تو نماز کی اقامت ہوئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر٤٢٠؛ج ١ ص ٣١٣؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ أَمْ غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ: حِينَ خَرَجَ «أَتَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَوْلَا أَنْ تَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ»، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 420

عاصم بن حمید سلونی نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے انتظار میں تھے تو آپ نے کافی دیر کردی یہاں تک کہ گمان ہوا ہوگا کہ آپ تشریف ہی نہیں لائیں گے اور بعض ہم میں سے کہہ رہے تھے کہ آپ پڑھ چکے ہوں گے۔ہم یہی قیاس آرائیاں کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو لوگ جو کچھ کہہ رہے تھے وہ عرض کردیا گیا۔فرمایا کہ تم اس نماز کو دیر کرکے پڑھا کرو کیوں کہ تمام امتوں پر تمہیں اس نماز کے ذریعے فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی نے یہ نماز نہیں پڑھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر٤٢١؛ج ١ ص ٣١٤؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، يَقُولُ: أَبْقَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ فَأَخَّرَ حَتَّى ظَنَّ الظَّانُّ أَنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: صَلَّى، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ حَتَّى خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا، فَقَالَ لَهُمْ: «أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ، وَلَمْ تُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 421

ابونضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھنا چاہتے تھے لیکن آپ تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ آدھی رات کے قریب گزر گئی۔ فرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو توہم بیٹھے رہے ۔فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر اپنے بستروں میں ہیں اور تم نماز میں اس وقت تک ہو جب تک نماز کا انتظار کروگے اگرکمزوروں کی کمزوری اور بیماروں کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کردیتا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،حدیث نمبر٤٢٢؛ج ١ ص ٣١٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَقَالَ: «خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ» فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَأَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 422

عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ صبح کی نماز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسے وقت پڑھتے کہ عورتیں جب اپنی چادریں لپیٹ کر واپس جاتیں تو اندھیرے کی باعث پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٣؛ج ١ ص ٣١٥؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الغَلَسِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 423

محمود بن لبید سے روایت ہے کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔صبح کو خوب روشن کیا کرو۔کیوں کہ اس میں تمہارے لیے ثواب زیادہ ہے یا اس کا ثواب زیادہ ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٤؛ج ١ ص ٣١٦؛حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 424

زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے روایت کی ہے حضرت عبداللہ صنابحی نے کہا کہ حضرت ابو محمد وتر کو واجب کہتے ہیں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ غلط کہتے ہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ پانچ نمازوں کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔جو ان کے لیے اچھی طرح وضو کرے،انہیں وقت پر پڑھے اور ان کے اندر رکوع وخشوع اچھی طرح کرے تو اللہ تعالی کا اس سے وعدہ ہے کہ اس کی مغفرت فرمائے گا اور جو ایسا نہ کرے تو اللہ تعالی کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے لہذا چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے عذاب دے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٥؛ج ١ ص ٣١٧؛حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصُّنَابِحِيّ، قَالَ: زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَقَالَ: عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 425

قاسم بن غنام کی والدہ ماجدہ نے حضرت نے حضرت ام فروہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ افضل عمل کونسا ہے فرمایا کہ نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھنا ،خزاعی نے اپنی حدیث میں اپنی پھوپھی صاحبہ سے روایت کی ہے جن کو حضرت ام فروع کیاجاتا ہے اور جنہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٦؛ج ١ ص ٣١٨؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ، عَنْ بَعْضِ أُمَّهَاتِهِ، عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا»، قَالَ: الْخُزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ عَمَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا أُمُّ فَرْوَةَ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 426

ابوبکر بن عمارہ بن روبیہ سے روایت ہے کہ بصرہ کے ایک باشندے نے ان کے والد ماجد حضرت عمارہ روبیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے التجا کی مجھے وہ بات بتائے جو آ پ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا ہو؟جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ آدمی کبھی جہنم میں نہیں جائے گا جو سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز پڑھ لے اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔کہا کیا آپ نے حضور سے تین مرتبہ سنا ہے ؟فرمایا ہاں ۔ہردفعہ میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے بھی یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٢٧،ج ١ ص ٣١٩،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ»، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: نَعَمْ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 427

ابوالاسود سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن فضالہ کے والد ماجد نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے جن باتوں کی تعلیم دی ان میں یہ بھی سکھایا کہ پانچوں نمازوں کی محافظت کرنا ۔میں عرض گزار ہوا کہ ان اوقات مجھے مشغولیت بہت ہوتی ہے لہذا مجھے ایسا جامع فارمولہ بتائے کہ اس پر عمل کروں تو کفائت کرے۔فرمایا کہ نچوڑ کی دونوں نماز کی محافظت کرنا۔چونکہ عصرین کا لفظ ہماری بول چال میں نہ تھا اس لیے عرض گزار ہوا کہ دوعصرین کیا ہیں؟فرمایا کہ صبح کی نماز جو سورج طلوع ہونے سے پہلے ہے اور وہ نماز جو سورج غروب ہونے سے پہلے ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمبر٤٢٨؛ج ١ ص ٣١٩؛حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي «وَحَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ»، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي، فَقَالَ: «حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ» وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا، فَقُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟، فَقَالَ: «صَلَاةُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلَاةُ قَبْلَ غُرُوبِهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 428

حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:پانچ چیزیں ہیں جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں ادا کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔جو شخص پانچ نمازیں ان کے وضوء، رکوع،سجود،اوقات کے ہمراہ ادا کرے، وہ رمضان کے روزے رکھے، وہ بیت اللہ کا حج کرے اگر وہ وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہے، اور وہ اپنی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرے اور وہ امانت ادا کرے،لوگوں نے دریافت کیا اے ابو درداء! امانت کی ادائیگی سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا غسل جنابت کرنا۔ (ابو داود شریف کتاب الصلٰوۃ،بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ،حدیث نمبر ٤٢٩،ج ١ ص ٣٢١،حکم حدیث حسن تحقیق البانی،

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، وَأَبَانُ، كِلَاهُمَا، عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، وَأَعْطَى الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ " قَالُوا: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ قَالَ: «الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 429

حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض قرار دی ہیں، اور میں نے اپنی بارگاہ میں یہ عہد کیا ہے کہ،جو شخص ان نمازوں کو انکے مخصوص وقت میں باقاعدگی سے ادا کرے گا اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو شخص اسے باقاعدگی سے ادا نہیں کرے گا تو اس کے لیے میری بارگاہ میں کوئی عہد نہیں۔ (ابوداؤد شریف کتاب الصلٰوۃ،بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ،ج ١ ص ٣٢١؛حدیث نمبر ٤٣٠؛حکم حدیث حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْكٍ الْأَلْهَانِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: «إِنِّي فَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا أَنَّهُ مَنْ جَاءَ يُحَافِظُ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلَا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 430

عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا۔اے ابوذر!اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تمہارے حاکم ایسے ہوں گے کہ نمازی کو مارڈالیں گے یا فرمایا کہ نماز میں تاخیر کیا کریں گے اس کے وقت سے میں عرض گزار ہوا کہ یارسول!آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟فرمایا کہ نماز کو اس کے اصل وقت پر پڑھنا۔اگر ان کے ساتھ نماز ملے تو پڑھ لینا کیوں کہ یہ تمہاری نفل ہو جائے گی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٣١،ج ١ ص ٣٢٢،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ؟ - أَوْ قَالَ: يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ؟ - "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنِي، قَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّهَا فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 431

عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ یمن میں ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ۔راوی کا بیان ہے کہ میں نے نماز فجر میں ان کی تکبیر سنی کہ بھاری آواز والے تھے۔ مجھے ان سے محبت ہوگئی اور کبھی ان سے جدا نہ ہوا یہاں تک کہ شام میں ان کی میت کو میں نے دفن کیا ۔پھر میں نے دیکھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقہ ان کے بعد کون جانتا ہے۔پس میں حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگیا اور یہ حاضری اپنے اوپر لازم کرلی یہاں تک کہ انہوں نے وفات پائی۔راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس وقت تمہارا حال کیا ہوگا جب کہ تمہارے حکام بے وقت نماز پڑھا کریں گے؟میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں جب کہ میں ایسا پاؤں؟ فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھتے رہنا اور نفلی طور پر ان کے ساتھ پڑھ لینا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٣٢،ج ١ ص ٣٢٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، قَالَ: فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ رَجُلٌ أَجَشُّ الصَّوْتِ، قَالَ: فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ مَيِّتًا، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ بِكُمْ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا»، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 432

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرے بعد تم پر ایسے حاکم مقرر ہوں گے کہ ان کی مشغولیت انہیں وقت پر نماز پڑھنے سے روکے گی۔یہاں تک کہ وہ ایک وقت کی نماز اس وقت پڑھیں گے جب اس کا وقت جا چکا ہوگا ۔ایک شخص عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ!کیا ہم ان کے ساتھ نماز پڑھیں؟فرمایا کہ ہاں اگر تم چاہو۔سفیان نے کہا کہ اگر میں انہیں پاؤں تو کیا ان کے ساتھ نماز پڑھوں؟فرمایا کہ ہاں اگر تم چاہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٣٣،ج ١ ص ٣٢٤،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ أُخْتِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الْمَعْنَى، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْحِمْصِيِّ، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا»، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُصَلِّي مَعَهُمْ؟، قَالَ: «نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ» - وَقَالَ سُفْيَانُ: إِنْ أَدْرَكْتُهَا مَعَهُمْ أُصَلِّي مَعَهُمْ؟ - قَالَ: «نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 433

حضرت قبیصہ بن وقاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم میں ایسے حاکم بنیں گے جو نمازوں میں تاخیر کریں گے تو تمہارے لیے تمہارا کیا ہوا اور ان کے لیے ان کا کیا ہوا لیکن ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرنا جب تک قبلے کی جانب منہ کرتے رہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي وَقْتِ الصُّبْحِ،حدیث نمر٤٣٤،ج ١ ص ٣٢٤،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ يَعْنِي الزَّعْفَرَانِيَّ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ فَهِيَ لَكُمْ وَهِيَ عَلَيْهِمْ، فَصَلُّوا مَعَهُمْ مَا صَلَّوُا الْقِبْلَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 434

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات کو سفر کر رہے تھے کہ پچھلی رات نیند نے تنگ کیا لہذا اتر پڑے اور حضرت بلال سے فرمایا کہ رات کا خیال رکھنا حضرت بلال کی آنکھوں پر بھی نیند کا غلبہ کیا کیوں کہ انہوں نے سواری کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار نہ ہوئے اور نہ حضرت بلال اور نہ آپ کا ایک بھی صحابی یہاں تک کہ ان پر دھوپ آگئی۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے گھبرا کر فرمایا اے بلال! حضرت بلال عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ!جس نے آ پ کو پکڑا اسی نے مجھے پکڑ ے رکھا۔آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر تھوڑی دور سواریوں کو لے کر چلے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور حضرت بلال کو حکم دیا تو نماز کی اقامت کہی گئی اور انہیں صبح کی نماز پڑھائی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ جو اپنی نماز بھول جائے تو یاد آنے پر پڑھ لے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز قائم کرو میری یاد کے لیے یونس نے کہا کہ ابن شہاب اسے اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔احمد،عنبسہ،یونس سے اس حدیث میں لذکری روایت کی ہے۔امام احمد نے فرمایا کہ الکری نیند کو کہتے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٣٥،ج ١ ص ٣٢٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَنَا الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَال لِبِلَالٍ: «اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ» قَالَ: فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا بِلَالُ»، فَقَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ لَهُمُ الصَّلَاةَ وَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: «أَقِمِ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى»، قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ، قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ عَنْبَسَةُ: يَعْنِي عَنْ يُونُسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ «لِذِكْرِي»، قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَى النُّعَاسُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 435

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ میں تم پر غفلت طاری ہوئی اسے چھوڑ دو۔پھر آپ نے حضرت بلال کواذان واقامت کا حکم فرمایا اور نماز پڑھی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مالک اور سفیان بن عینیہ اور اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے اسے روایت کیا لیکن ان میں سے کسی نے بھی اذان کا ذکر نہیں کیا سوائے اس روایت کے جو اوزاعی اور آبان عطار نے معمر سے کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٣٦،ج ١ ص ٣٢٧،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ»، قَالَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ مَالِكٌ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَر، ٍ وَابْنِ إِسْحَاقَ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْأَذَانَ فِي، حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ هَذَا، وَلَمْ يُسْنِدْهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الْأَوْزَاعِيُّ، وَأَبَانُ الْعَطَّارُ، عَنْ مَعْمَرٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 436

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم(قافلہ سے)ایک طرف ہٹ گئے،آپ علیہ السلام کے ساتھ میں بھی ہٹ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس بات کا جائزہ لو میں نے کہا یہ ایک سوار ہے یہ دو سوار ہیں اور یہ تین ہو گئے یہاں تک کہ ہم سات لوگ ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم لوگ ہماری نماز کا خیال رکھنا۔(راوی کہتے ہیں)یعنی فجر کی نماز کا خیال رکھنا، پھر ان کے کان بند ہو گئے۔(یعنی وہ لوگ بھی سو گئے)دھوپ کی تپش نے ان لوگوں کو اٹھایا وہ لوگ اٹھے اور تھوڑا آگے گئے۔پھر انہوں نے پڑاؤ کیا اور وضوء کیا۔پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔اور ان لوگوں نے فجر کی دو رکعت ادا کیں پھر انہوں نے فجر کی نماز ادا کی۔اور سوار ہو گئے،ان میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا۔ہم نے اپنی نماز کے بارے میں کوتاہی کی ہے ۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:نیند میں کوتاہی نہیں ہوتی۔کوتاہی بیداری کے عالم میں ہوتی ہے۔جب کوئی شخص نماز بھول جائے ۔تو وہ اسے اس وقت ادا کر لے۔جب وہ اسے یاد آئے۔یا پھر اگلے دن اسی وقت میں اسے ادا کرے۔ (ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،ج ١ ص ٣٢٨،حدیث نمبر ٤٣٧،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِلْتُ مَعَهُ، قَالَ: «انْظُرْ»، فَقُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ رَاكِبَانِ، هَؤُلَاءِ ثَلَاثَةٌ، حَتَّى صِرْنَا سَبْعَةً، فَقَالَ: «احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا» - يَعْنِي صَلَاةَ الْفَجْرِ - فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوا فَسَارُوا هُنَيَّةً ثُمَّ نَزَلُوا فَتَوَضَّئُوا وَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّوُا الْفَجْرَ وَرَكِبُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ عَنْ صَلَاةٍ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 437

خالد بن سمیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن رباح انصاری ہمارے پاس مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور انصار انہیں فقیہ شمار کرتے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سوار تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےایک لشکر روانہ فرمایا پھر مذکورہ واقعہ کو روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں بیدار نہیں کیا۔مگرسورج نے طلوع ہوکر ۔پس ہم گھبرا کر نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ ،یہاں تک کہ سورج کچھ بلند ہوجائے۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تم میں سے فجر کی دو سنتیں پڑھاکرتا تھا،اسے چاہیے کہ پڑھ لے پس جو پڑھا کرتا تھا اور جو نہیں پڑھا کرتا تھا ،سب نے دو رکعتیں پڑھیں،پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اذان کہنے کا حکم فرمایا تو اذان کہی گئی۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمارے ساتھ آپ نے نماز پڑھی۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ خدا کا شکر ہے،کسی دنیاوی کام نے ہمیں نماز سےنہیں روکا بلکہ ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں تھیں۔جب انہیں چاہا واپس بھیجا۔جو تم میں سے کل کی نماز صحیح وقت پر پائے تو اس کے ساتھ اسی جیسی نماز اور پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٣٨،ج ١ ص ٣٢٩،حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ، مِنَ الْمَدِينَةِ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ، فَحَدَّثَنَا قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ - بِهَذِهِ الْقِصَّةِ - قَالَ: فَلَمْ تُوقِظْنَا إِلَّا الشَّمْسُ طَالِعَةً فَقُمْنَا وَهِلِينَ لِصَلَاتِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُوَيْدًا رُوَيْدًا»، حَتَّى إِذَا تَعَالَتِ الشَّمْسُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَرْكَعْهُمَا»، فَقَامَ مَنْ كَانَ يَرْكَعُهُمَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَرْكَعُهُمَا فَرَكَعَهُمَا ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادَى بِالصَّلَاةِ فَنُودِيَ بِهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «أَلَا إِنَّا نَحْمَدُ اللَّهَ أَنَّا لَمْ نَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا يَشْغَلُنَا عَنْ صَلَاتِنَا وَلَكِنَّ أَرْوَاحَنَا كَانَتْ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَرْسَلَهَا أَنَّى شَاءَ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْغَدَاةِ مِنْ غَدٍ صَالِحًا فَلْيَقْضِ مَعَهَا مِثْلَهَا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 438

حصین نے حضرت ابو قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو قبض فرمالیا جب چاہا اور واپس کیا جب چاہا۔پس نماز کے لیے اذان کہو سب اٹھ کھڑے ہوئے اور طہارت کی یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٣٩،ج ١ ص ٣٣٠،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حَيْثُ شَاءَ وَرَدَّهَا حَيْثُ شَاءَ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ» فَقَامُوا فَتَطَهَّرُوا، حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 439

حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے معنا روایت کیا۔اس میں فرمایا کہ سورج بلند ہونے پر آپ نے وضو کیا اور لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٠،ج ١ ص ٣٣٠،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 440

عبداللہ بن رباح نے حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سوئےرہنے کی صورت میں کوتاہی نہیں ہے،کوتاہی تو بیداری کی حالت میں ہے کہ ایک نماز کو اتنا مؤخر کردیا جائے کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤١،ج ١ ص ٣٣١،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ أَنْ تُؤَخِّرَ صَلَاةً حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ أُخْرَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 441

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو کسی نماز کو پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر اسے پڑھ لے۔اس کے سوا اس کا کوئی اور کفارہ نہیں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٢،ج ١ ص ٣٣١،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 442

حسن نے حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے سفر میں تھے تو نماز فجر کے وقت سورہے اور سورج کی گرمی نے آپ کو بیدار کیا۔آ پ تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا پھر آ پ نے مؤذن کو حکم فرمایا تو اس نے اذان کہی ۔پس نماز فجر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں ۔پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور فجر کی نمازپڑھی۔ (یعنی پڑھائی) ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٣،ج ١ ص ٣٣٢،حکم حدیث صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَامُوا عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَاسْتَيْقَظُوا بِحَرِّ الشَّمْسِ فَارْتَفَعُوا قَلِيلًا حَتَّى اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 443

کلیب بن صبح نے زبرقان سے روایت کی ہے کہ ان کے چچا جان حضرت عمروبن امیہ ضمری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کسی سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم نماز فجر کے وقت سوئےرہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے اور فرمایا کہ اس جگہ کو چھوڑ دو۔پھر آ پ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم فرمایا اور وضو کرکے فجر کی دورکعتیں (سنتیں)پڑھیں۔پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کی اقامت کا حکم فرمایا اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٤،ج ١ ص ٣٣٢،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَهَذَا لَفْظُ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْقِتْبَانِيَّ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبْحٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ، عَنِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تَنَحَّوْا عَنْ هَذَا الْمَكَانِ»، قَالَ: «ثُمَّ أَمَر بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ تَوَضَّئُوا وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 444

حضرت ذی مخبر حبشی رضی اللّٰہ عنہ نے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے اس وقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اتنے پانی سے وضو فرمایا کہ زمین بھی نہ بھیگی ۔پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنےکا حکم فرمایا پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور جلدی کیے بغیر دورکعتیں پڑھیں۔حجاج نے یزید بن صلیح سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ۔حبشہ کا رہنے والے ذومخبر اور عبید نے یزید بن صبح کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٥،ج ١ ص ٣٣٤،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ، وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وُضُوءًا لَمْ يَلْثَ مِنْهُ التُّرَابُ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ عَجِلٍ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: «أَقِمِ الصَّلَاةَ»، ثُمَّ صَلَّى الْفَرْضَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ. قَالَ عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ، حَدَّثَنِي ذُو مِخْبَرٍ رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَةِ وقَالَ عُبَيْدٌ: يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 445

یزید بن صلیح سے روایت ہے کہ حضرت نجاشی کے بھتیجے حضرت ذی مخبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعہ روایت کرتے ہوئے فرمایا۔جلدی کیے بغیر اذان کہی گئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٦،ج ١ ص ٣٣٤،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَرِيزٍ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ ابْنِ أَخِي النَّجَاشِيِّ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَذَّنَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 446

عبدالرحمن بن ابو علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللّٰہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں کون جگائے گا؟حضرت بلال عرض گزار ہوئے کہ میں،سب سوتے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔چانچہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا اسی طرح نماز پڑھو جیسے پڑھا کرتے تھے۔راوی کا بیان ہے کہ ہم نے اسی طرح کیا۔فرمایا کہ جو سوجائے یا بھول جائے تو اسی طرح پڑھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا،حدیث نمبر٤٤٧،ج ١ ص ٣٣٥،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَكْلَؤُنَا» فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ»، قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ: «فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 447

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے مسجدوں کو بلند کرنے کا حکم نہیں فرمایا گیا۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ضرورتم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کروگے جیسے یہودو نصاری نے کی تھیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٤٨،ج ١ ص ٣٣٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ»، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 448

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی۔یہاں تک کہ لوگ فخر کریں گے مسجدوں کی ظاہری شان وشوکت کے باعث۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٤٩،ج ١ ص ٣٣٦،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 449

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے طائف میں انہیں اس جگہ مسجد بنانے کا حکم فرمایا کہ جہاں ان لوگوں کے بت ہوا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر ٤٥٠،ج ١ ص ٣٣٧،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَسْجِدَ الطَّائِفِ حَيْثُ كَانَ طَوَاغِيتُهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 450

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں مسجد نبوی کچی اینٹوں کی بنی ہوئی تھی اور اس کی چھت لکڑیوں کی تھی اور ستون بھی۔مجاہد نے کہا کہ اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔حضرت ابوبکر نے اس میں کوئی اضافہ نہ کیا اور حضرت عمر نے اس میں اضافہ کیا اور اسے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کی بنیادوں پر تعمیر کیا یعنی کچی اینٹوں اور لکڑیوں سے اور اس کے ستون دوبارہ لگائے۔مجاہد نے کہا کہ اس کے ستون لکڑی کے تھے۔ حضرت عثمان نے اس میں تبدیلی کی اور کافی اضافہ کیا اور اس کی دیواریں تراشے ہوئے پتھروں اور چونے سے بنائیں اور اس کے ستون تراشے ہوئے پتھروں کے بنائے اور ساگوان کی لکڑی سے اس کی چھت تیار کی ۔مجاہد نے کہا کہ اس کی چھت ساگوان کی تھی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ القصة چونے کو کہتے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٥١،ج ١ ص ٣٣٨،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ، " أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ - قَالَ مُجَاهِدٌ: وَعُمُدُهُ مِنْ خَشَبِ النَّخْلِ - فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ وَأَعَادَ عُمُدَهُ - قَالَ مُجَاهِدٌ: عُمُدَهُ خَشَبًا - وَغَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ، وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِ - قَالَ مُجَاهِدٌ: وَسَقَّفَهُ السَّاجَ - "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْقَصَّةُ: الْجِصُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 451

عطیہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسجد کے ستون رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کھجور کی لکڑیوں کے تھے۔اوپر والے حصے پر سائے کے لیے کھجور کی ٹہنیاں تھیں۔پھر وہ حضرت ابوبکر کے دورخلافت میں گل گئی تو دوبارہ کھجور کی لکڑیوں اور شاخوں سے بنائی گئی۔پھر حضرت عثمان کے دور خلافت میں گل گئیں تو اسے پکی اینٹوں سے بنایا گیا جو آج تک اسی حالت میں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٥٢،ج ١ ص ٣٤٠،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوَارِيهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جُذُوعِ النَّخْلِ أَعْلَاهُ مُظَلَّلٌ بِجَرِيدِ النَّخْلِ، ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ فَبَنَاهَا بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَبِجَرِيدِ النَّخْلِ، ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ فَبَنَاهَا بِالْآجُرِّ فَلَمْ تَزَلْ ثَابِتَةً حَتَّى الْآنَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 452

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو مدینہ کے اوپر والے قبیلے میں اترے جس کو بنی عمروبن عوف کہا جاتا تھا۔ان میں آپ چودہ روز ٹھہرے پھر آپ نے بنی نجار کے پاس پیغام بھیجا۔وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے۔حضرت انس نے فرمایا گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہیں۔اور حضرت ابوبکر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور بنی نجار کے لوگوں نے آپ کو جھرمٹ میں لیا ہوا ہے یہاں تک کہ آپ حضرت ابو ایوب انصاری کے صحن میں پہنچ گئے۔اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی جگہ نماز پڑھ لیتے جہاں وقت ہوجاتا اور آپ بکریوں کے ریوڑ میں بھی نماز پڑھ لیتے اور آپ نے مسجد بنانے کا حکم فرمایا تو بنی نجار کے لیے پیغام بھیجا اور فرمایا کہ اے بنی نجار!تم اپنی اس قطعہ زمین کی قیمت لے لو وہ عرض گزار ہوئے کہ خدا کی قسم ہم اس کی قیمت نہیں لینگے مگر اللہ تعالیٰ سے۔حضرت انس نے فرمایا کہ اس کے اندر مشرکین کی قبریں تھیں اور اس میں کچھ کھنڈرات تھے اور کھجور کے چند درخت تھے ۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تو مشرکوں کی قبریں کھودی گئی،کھنڈرات کو برابر کیا گیا اور کھجور کے درخت کاٹ دیے گئے اور ان کی لکڑیاں مسجد کے قبلہ جانب رکھ دی گئیں،دروازے کی چوکھٹ پتھروں سے بنائی گئی،صحابہ کرام پتھروں کو اٹھا کر لاتے اور اشعار پڑھتے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ یوں گویا ہوتے۔اے اللّٰہ! حقیقی بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے لہذا تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٥٣،ج ١ ص ٣٤٠،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ: لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ، وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَإِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَقَالَ: «يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا» فَقَالُوا: وَاللَّهِ، لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ، كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ، وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً، وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ، وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 453

ابوالتیاح سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔مسجد نبوی کی جگہ بنی نجار کا ایک باغ تھا جس میں کاشتکاری ہوتی،کھجوروں کے درخت تھے اور مشرکین کی قبریں۔تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی قیمت لے لو ۔وہ عرض گزار ہوئے کہ ہم ایسا نہیں چاہتے۔چناں چہ درخت کاٹ دیے گئے،کھیتی باغ برابر کردی اور مشرکوں کی قبریں کھود دی گئیں۔باقی مذکورہ حدیث کی طرح ہے لیکن فانصر کی جگہ فاغفر کہا ہے ۔موسی بن اسماعیل نے کہا کہ عبدلوارث نے اسے روایت کی ہے اور عبدلوارث خرب کہتے اور عبدالوارث نے کہا کہ انھوں نے یہ حدیث حماد سے سیکھی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،حدیث نمبر٤٥٤،ج ١ ص ٣٤١۔حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ الْمَسْجِدِ حَائِطًا لِبَنِي النَّجَّارِ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ، وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ثَامِنُونِي بِهِ» فَقَالُوا: لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا، فَقَطَعَ النَّخْلَ وَسَوَّى الْحَرْثَ وَنَبَشَ قُبُورَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: «فَاغْفِرْ» مَكَانَ «فَانْصُرْ»، قَالَ مُوسَى: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، بِنَحْوِهِ، وَكَانَ عَبْدُ الْوَارِثِ، يَقُولُ: خِرَبٌ، وَزَعَمَ عَبْدُ الْوَارِثِ، أَنَّهُ أَفَادَ حَمَّادًا هَذَا الْحَدِيثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 454

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے گھروں میں مسجد بنانے کا حکم فرمایا اور یہ کہ انہیں پاک صاف اور معطر رکھا جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٥٥٥،ج ١ ص ٣٤٢،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 455

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے صاحبزادوں کے لیے خط لکھا۔اما بعد بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھروں میں مسجد بنانے کا حکم فرمایا کرتے تھے اور انہیں اچھی طرح بنانے اور پاک صاف رکھنے کے لیے فرمایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٥٥٦،ج ١ ص ٣٤٣،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَمُرَةَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْمَسَاجِدِ أَنْ نَصْنَعَهَا فِي دِيَارِنَا، وَنُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 456

،زیاد بن ابوسودہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مولاۃ حضرت میمونہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا عرض گزار ہوئیں کہ یارسول!ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتائے ۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو اور ان دنوں اس علاقے میں لڑائی جھگڑا تھا۔اگر وہاں جاکر اس میں نماز نہ پڑھے سکو تو اس کے لیے بھیج دیا کرو جو اس کی قندیلوں میں جلائے جائیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٥٥٧،ج ١ ص ٣٤٣،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ: «ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ» وَكَانَتِ الْبِلَادُ إِذْ ذَاكَ حَرْبًا، «فَإِنْ لَمْ تَأْتُوهُ وَتُصَلُّوا فِيهِ، فَابْعَثُوا بِزَيْتٍ يُسْرَجُ فِي قَنَادِيلِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 457

ابوالولید نے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مسجد کی کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ ایک رات بارش ہوئی تو زمین گیلی ہوگئی۔پس لوگ کنکریاں لائے اپنے اپنے کپڑوں میں اور انہیں نیچے اپنے نیچے بچھا لیا ۔جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ یہ کیا ہی خوب ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٥٥٨،ج ١ ص ٣٤٤،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ الْحَصَى الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ؟ فَقَالَ: مُطِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ مُبْتَلَّةً، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِالْحَصَى فِي ثَوْبِهِ، فَيَبْسُطُهُ تَحْتَهُ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ: «مَا أَحْسَنَ هَذَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 458

ابوصالح نے فرمایا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ جب کوئی مسجد سے کنکریوں کو نکالتا تو کنکریاں اسے قسم دیا کرتی تھیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٤٥٩،ج ١ ص ٣٤٤،حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: " كَانَ يُقَالُ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَخْرَجَ الْحَصَى مِنَ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 459

ابوصالح سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ابوبدر کے خیال میں انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔فرمایا کہ کنکریاں اس شخص کو قسم دیتی ہیں جو انہیں کسی بھی مسجد سے نکالتا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ،حدیث نمبر٤٦٠،ج ١ ص ٣٤٥،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الصَّاغَانِيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو بَدْرٍ: أُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَصَاةَ لَتُنَاشِدُ الَّذِي يُخْرِجُهَا مِنَ الْمَسْجِدِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 460

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھ پر میری امت کے کارثواب پیش کیے گئے یہاں تک کہ وہ کوڑا کرکٹ جسے آدمی مسجد سے نکالتا ہے اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہ پایا کہ کسی کو قرآن کریم کی کوئی سورت یا آیت دی گئی مگر اس آدمی نے اسے بھلا دیا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَنْسِ الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٦١،ج ١ ص ٣٤٦،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْخَزَّازُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي، فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيَهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 461

حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کاش ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں نافع نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر آخری دم تک اس دروازے سے داخل نہیں ہوئے۔عبدالوارث کے سوا دوسرے حضرات سے روایت ہے۔حضرت عمر نے فرمایا کہ یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي اعْتِزَالِ النِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ عَنِ الرِّجَالِ،حدیث نمبر٤٦٢،ج ١ ص ٣٤٧،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ»، قَالَ نَافِعٌ: فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ، حَتَّى مَاتَ، وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْوَارِثِ: قَالَ عُمَرُ: وَهُوَ أَصَحُّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 462

نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔پھر مذکورہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي اعْتِزَالِ النِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ عَنِ الرِّجَالِ،حدیث نمبر٤٦٣،ج ١ ص ٣٤٨،حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ، وَهُوَ أَصَحُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 463

نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ منع فرمایا کرتے تھے کہ کوئی عورتوں والے دروازے سے داخل ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي اعْتِزَالِ النِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ عَنِ الرِّجَالِ،حدیث نمبر٤٦٤،ج ١ ص ٣٤٨،حکم حدیث رجالہ ثقات تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، «كَانَ يَنْهَى أَنْ يُدْخَلَ مِنْ بَابِ النِّسَاءِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 464

سعید بن ابوسوید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوحمید یا حضرت ابواسید انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر سلام عرض کرنا چاہیے۔پھر کہے اے اللہ!میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔جب نکلے تو کہے ۔اے اللّٰہ!میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَا يَقُولُهُ الرَّجُلُ عِنْدَ دُخُولِهِ الْمَسْجِدَ،حدیث نمبر٤٦٥،ج ١ ص ٣٤٩، حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ، أَوْ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، فَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 465

حیاۃ بن شریح کا بیان ہے کہ میں عقبہ بن مسلم سے ملا تو میں نے ان سے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ وہ جب مسجد میں داخل ہوتے تو کہتے۔میں عظمت والے رب کی پناہ پکڑتا ہوں اور ساتھ اس کے وجہ الکریم کے اور اس کی ہمیشگی والی بادشاہی کے شیطانی مردود سے۔فرمایا بس یہی۔میں نے کہا ہاں۔فرمایا کہ اس کے بعد شیطان کہتا ہے کہ تو پورے دن کے لیے مجھ سے محفوظ ہوگیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَا يَقُولُهُ الرَّجُلُ عِنْدَ دُخُولِهِ الْمَسْجِدَ،حدیث نمبر٤٦٦،ج ١ ص ٣٤٩،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: لَقِيتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ حَدَّثْتَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ»، قَالَ: أَقَطْ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا قَالَ: ذَلِكَ قَالَ الشَّيْطَانُ: حُفِظَ مِنِّي سَائِرَ الْيَوْمِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 466

حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اسے چاہیے کہ بیٹھنے سے پہلے دورکعت نماز پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٦٧،ج ١ ص ٣٥٠،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْلِسَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 467

حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہوئے کہا کہ پھر چاہے تو بیٹھ جائے اور چاہے اپنی کسی حاجت کے لیے چلا جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٦٨،ج ١ ص ٣٥١،حکم حدیث صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ زَادَ: «ثُمَّ لِيَقْعُدْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ أَوْ لِيَذْهَبْ لِحَاجَتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 468

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔فرشتے تمہارے اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں نماز پڑھی ہے۔اور اسےحدث نہ ہواور وہاں سے نہ اٹھے کہ اے الله!اسے بخشدے ۔اے اللّٰہ!اس ہر رحم فرما۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ ،حدیث نمبر٤٦٩،ج ١ ص ٣٥١،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ، أَوْ يَقُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 469

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بندہ اس وقت تک نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھے ہوئے اسے اپنے گھر والوں میں جانے سے نہ روکتی ہومگر نماز۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ ،حدیث نمبر٤٧٠،ج ١ ص ٣٥٢،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 470

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بندہ اس وقت تک نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک اپنے مصلے پر نماز کے انتظار میں رہے ۔فرشتے کہتے ہیں :اے اللہ!اسے بخشدے اے اللہ!اس پر رحم فرما۔یہاں تک کہ لوٹ جائے ۔یا حدث ہو جائے، کہا گیا کہ حدث ہوجاتا کیا ہے؟فرمایا کہ آہستہ یا آواز سے ہوا کا خارج ہونا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ ،حدیث نمبر٤٧١،ج ١ ص ٣٥٢،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، حَتَّى يَنْصَرِفَ، أَوْ يُحْدِثَ "، فَقِيلَ مَا يُحْدِثُ؟ قَالَ: يَفْسُو، أَوْ يَضْرِطُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 471

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو مسجد میں جس کام کے لیے آیا اسی کے مطابق اجر ملےگا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ ،حدیث نمبر٤٧٢،ج ١ ص ٣٥٣،حکم حدیث حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 472

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی آدمی سے سنے کہ اپنی گمشدہ چیز مسجد میں تلاش کررہاہے تو کہا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری چیز نہ لوٹائے کیونکہ مسجدیں اس لیے نہیں بنائی گئیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ,حدیث نمبر ٤٧٣،ج ١ ص ٣٥٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ يَعْنِي ابْنَ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى شَدَّادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَقُلْ: لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 473

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مسجد میں تھوکنا غلطی ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے چھپادے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٤،ج ١ ص ٣٥٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 474

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٥،ج ١ ص ٣٥٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 475

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مسجد میں بلغم ڈالنا۔پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٦،ج ١ ص ٣٥٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ» فَذَكَرَ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 476

عبدالرحمن بن ابوحدراسلمی نےحضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم ڈالے تو چاہیے کہ مٹی کرید کر اسے دفن کردے ۔اگر ایسا نہ کرے تو اپنے کپڑے میں تھوکے،پھر باہر ساتھ لے جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٧،ج ١ ص ٣٥٥،حکم حدیث حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ فِيهِ، أَوْ تَنَخَّمَ فَلْيَحْفِرْ فَلْيَدْفِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 477

حضرت طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے۔ہاں اگر گنجائش ہو تو اپنے بائیں جانب تھوک لے ورنہ اپنے بائیں قدم پر تھوکےپھر اسے مل دینا چاہیے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٨،ج ١ ص ٣٥٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلَاةِ، أَوْ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْزُقْ أَمَامَهُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ تِلْقَاءِ يَسَارِهِ، إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ لِيَقُلْ بِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 478

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے مسجد کے قبلے کی جانب بلغم دیکھا تو لوگوں پر ناراضگی اظہار فرمایا پھر اسے خرچ دیا۔راوی کا بیان ہے کہ میرے خیال میں آپ نے زعفران منگاکر اس پر مل دیا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے ۔پس وہ اپنے سامنے نہ تھوکا کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٧٩،ج ١ ص ٣٥٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَكَّهَا، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ، وَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَمَالِكٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 479

عیاض بن عبداللہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھجور کی شاخوں کو پسند فرماتے تھے اسی لیے وہ ہمیشہ آپ کے دست مبارک میں ہوتی ایک دفعہ آپ مسجد میں داخل ہوئے تو مسجد کے جانب قبلہ آپ نے بلغم دیکھا تو اسے خرچ دیا ۔پھر ناراضگی کی حالت میں لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات پر خوش ہوگا کہ اپنے منہ پر تھوکے ؟تم میں سے جب کوئی قبلہ کی جانب منہ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب عزوجل کی جانب منہ کرتا ہے اور فرشتے دائیں جانب ہوتے ہیں ۔لہذا دائیں جانب نہ تھوکنا اور نہ اپنے سامنے بلکہ چاہیے کی اپنے بائیں جانب تھوکے یا اپنے زیر قدم اور اگر جلدی ہو تو یوں کرے،اور اس کی شرح کرتے ہوئے ہمیں ابن عجلان نے بتایا کہ اپنے کپڑے میں تھوکے اور پھر اسے الٹ پلٹ کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٠،ج ١ ص ٣٥٧،حکم اسنادہ قوی تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ وَلَا يَزَالُ فِي يَدِهِ مِنْهَا، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ: «أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ؟ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَا فِي قِبْلَتِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، فَإِنْ عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا» وَوَصَفَ لَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ذَلِكَ أَنْ يَتْفُلَ فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ يَرُدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 480

حضرت ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں:ایک شخص جو لوگوں کی امامت کرتا تھا، اس نے قبلہ کی سمت میں تھوک دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے تھے، جب وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،یہ شخص تم لوگوں کو نماز نہ پڑھائے، اس کے بعد اس شخص نے لوگوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کیا، تو لوگوں نے اسے روک دیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں اسے بتایا، اس نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں(میں نے اس بات کا حکم دیا ہے،)راوی کہتے ہیں:میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:(کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا)تم نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچائی ہے (ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،ج ١ ص ٣٥٨،حدیث نمبر ٤٨١،حسن لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ - قَالَ أَحْمَدُ: مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا، فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: «لَا يُصَلِّي لَكُمْ»، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «نَعَمْ»، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 481

مطرف نے آپ نے اپنے والد ماجد (عبداللہ بن شخیر) سے روایت کی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ آپ نے اپنے بائیں قدم مبارک کے نیچے تھوکا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٢،ج ١ ص ٣٥٩،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 482

ابوالعلاء نے اپنے والد ماجد سے معناروایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا پھر اسے اپنے نعل مبارک سے رگڑ دیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٣،ج ١ ص ٣٥٩،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، بِمَعْنَاهُ زَادَ ثُمَّ دَلَكَهُ بِنَعْلِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 483

حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ میں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ کو دمشق کی مسجد میں دیکھا کہ انہوں نے بوریئے پر تھوکا پھر اسے اپنے پاؤں سے مل دیا ان سے کہا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٤،ج ١ ص ٣٥٩،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، " فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ بَصَقَ عَلَى الْبُورِيِّ، ثُمَّ مَسَحَهُ بِرِجْلِهِ ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: لِأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 484

عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ وہ اپنی مسجد میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے اور آپ کے دستِ مبارک میں ابن طاب کی شاخ تھی جب آپ نے غور سے دیکھا تو مسجد کے جانب قبلہ بلغم نظر آیا آپ اس کی جانب بڑھے اور اس سے چھڑی سے چھڑا دیا۔پھر فرمایا کہ تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالی اس کی جانب سے اعراض فرمالے؟ پھر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے پس کوئی اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ دائیں جانب اور اپنے بائیں جانب تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے اگر کسی کو بہت ہی جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں یوں تھوکے چنانچہ اسے اپنے دہن مبارک پر رکھا پھر مل دیا۔ پھر فرمایا کہ عبیر تو لاؤ۔ قبیلے کا ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے گھر کی جانب دوڑا وہ اپنی مٹھی میں خوشبو لے کر آیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کے سرے پر لگایا اور پھر اسے بلغم کی جگہ پر مل دیا۔ حضرت جابر نے فرمایا اسی لیے تم اپنی مسجدوں میں خوشبو کا اہتمام کرتے ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٤٨٥،ج ١ ص ٣٦٠،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ - وَهَذَا لَفْظُ يَحْيَى بْنِ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيِّ -، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا» وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ ثُمَّ دَلَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَرُونِي عَبِيرًا» فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 485

عبداللہ بن ابو نمرنے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا مسجد میں اونٹ لا بٹھایا اور پھر اسے باندھ دیا پھر کہا تم میں محمد کون ہیں ؟جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے لوگوں کے درمیان جلوہ افروز تھے۔ ہم نے کہا کہ سفید رنگ والے جوٹیک لگائے ہوئے ہیں اس آدمی نے آپ سے کہا ۔اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تمہیں جواب دینے کے لئے متوجہ ہوں اس آدمی نے کہا اے محمد میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ،حدیث نمبر ٤٨٦،ج ١ ص ٣٦١،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَبْتُكَ» فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 486

کریب سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ بنی سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا مسجد کے دروازے کے پاس اپنے اونٹ کو بٹھا کر باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوا پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہوئے کہا۔ آپ حضرات میں ابن عبدالمطلب کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن عبدالمطلب میں ہوں۔ وہ عرض گزار ہوا کہ اےابن عبدالمطلب! اور پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ, حدیث نمبر ٤٨٧،ج ١ ص ٣٦٢،حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَقَالَ: أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ»، قَالَ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 487

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جبکہ مسجد کے اندر شمع رسالت کے پروانوں کے درمیان جلوہ افروز تھے۔انہوں نے کہا اے ابوالقاسم مسئلہ درپیش تھا ایک مرد اور ایک عورت کا جنہوں نے ان میں سے زنا کیا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ, حدیث نمبر ٤٨٨،ج ١ ص ٣٦٢،حکم حدیث صحيح لغیرہ"الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ، مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " الْيَهُودُ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا مِنْهُمْ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 488

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لیے ساری زمین کو پاک کرنے والی اور مسجد بنا دیا گیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ،حدیث نمبر٤٨٩،ج ١ ص ٣٦٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 489

ابو صالح غفاری سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بابل شہر کی کے پاس سے گزرے جب کہ وہ سفر میں تھے چنانچہ مؤذن آیا کہ نماز عصر کے لیے اذان کہے جب آپ اس کی حد سے باہر نکل گئے تو موذن کو حکم فرمایا چنانچہ اس نے نماز کے لئے اقامت کہی جب فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ میرے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے مقبرے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بابل کی سرزمین میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے کیوں کہ وہ ملعونہ ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ،حدیث نمبر٤٩٠،ج ١ ص ٣٦٣،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مَرَّ بِبَابِلَ وَهُوَ يَسِيرُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَلَمَّا بَرَزَ مِنْهَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَقْبَرَةِ، وَنَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي أَرْضِ بَابِلَ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 490

ابوصالح غفاری نے حضرت علی سے اسے معنا روایت کیا ہے۔سلیمان بن داؤد نے فرمایا کہ فلما برز کی جگہ فلما خرج ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ،حدیث نمبر٤٩١،ج ١ ص ٣٦٤،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ مَكَانَ فَلَمَّا بَرَزَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 491

حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا موسی بن اسماعیل کی حدیث عمروبن یحییٰ کے مطابق ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ساری زمین مسجد ہے سوائے حمام اور مقبرے کی زمین کے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ،حدیث نمبر٤٩٢،ج ١ ص ٣٦٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: - وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ فِيمَا يَحْسَبُ عَمْرٌو - إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبَرَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 492

عبد الرحمن بن ابو لیلی سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اونٹوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اونٹوں کی بیٹھنے کی جگہ نماز نہ پڑھا کرو کیونکہ وہ شیطانوں کی جگہ ہے اور آپ سے بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا کہ ان میں پڑھ لیا کرو کیونکہ وہ باعث برکت ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ،حدیث نمبر ٤٩٣،ج ١ ص ٣٦٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ فَقَالَ: «لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ» وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: «صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 493

حضرت سبرہ بن معبد جہنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لڑکے کے جب سات سال ہو جائیں تو انہیں نماز کا حکم دو اور جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز کے متعلق اسے مارو پیٹو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ, حدیث نمبر ٤٩٤،ج ١ ص ٣٦٦،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا الصَّبِيَّ بِالصَّلَاةِ إِذَا بَلَغَ سَبْعَ سِنِينَ، وَإِذَا بَلَغَ عَشْرَ سِنِينَ فَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 494

حضرت عمرو بن شعیب ان کے والد ماجد ان کے جد امجد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب کہ وہ سات سال کے ہو جائیں اور اس پر انہیں مارو جب کہ وہ دس سال کے ہو جائیں اور انہیں الگ الگ سلایا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ, حدیث نمبر ٤٩٥،ج ١ ص ٣٦٧،حکم حدیث حسن صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ يَعْنِي الْيَشْكُرِيَّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَوَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو حَمْزَةَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ - عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 495

داؤد بن سوار مزنی نے اپنی سند کے ساتھ اسے معنا روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم،غلام یا نوکر کا نکاح کردے تو اسے ناف سے نیچے اور گھٹنے سے اوپر نہ دیکھے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ وکیع کو ان کے نام میں وہم واقع ہوا اور روایت کی ہے ان سے ابوداؤد طیالسی نے یہ حدیث تو کہا ابوحمزہ سوارالصیر فی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ, حدیث نمبر ٤٩٦،ج ١ ص ٣٦٧،حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَزَادَ: «وَإِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهِمَ وَكِيعٌ فِي اسْمِهِ، وَرَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَوَّارٌ الصَّيْرَفِيُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 496

ہشام بن سعد سے روایت ہے کہ ہم معاذ بن عبداللّٰہ بن خبیب جہنی کے پاس گئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ بچہ کب سے نماز پڑھے؟ اس نے کہا کہ ہم میں سے ایک آدمی ذکر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب وہ دائیں اور بائیں میں تمیز کرنے لگے تو اسے نماز کا حکم دو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ ،حدیث نمبر٤٩٧،ج ١ ص ٣٦٧،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: مَتَى يُصَلِّي الصَّبِيُّ، فَقَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِذَا عَرَفَ يَمِينَهُ مِنْ شِمَالِهِ، فَمُرُوهُ بِالصَّلَاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 497

ابو عمیر بن انس نے اپنے چچا سے روایت کی جو انصار سے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہتمام کیا کہ نماز کے لئے لوگوں کو کس طرح جمع کیا جائے آپ سے کہا گیا کہ نماز کا وقت ہونے پر ایک جھنڈا بلند کر دیا جائے جب لوگ اسے دیکھیں تو ایک دوسرے کو بتا دیں۔ یہ بات آپ کو پسند نہ آئی۔ تو پھر آپ نے نر سنگے کا ذکر کیا گیا زیاد کی روایت میں ہے کہ یہود کا نرسنگایہ بھی یہودیوں کا فعل ہونے کی وجہ سے پسند نہ آیا۔راوی کا بیان ہے کہ پھر ناکوس کا ذکر ہوا تو نصاریٰ کا فعل ہونے کے باعث پسند نہ آئے۔ پس حضرت عبداللہ بن زید لوٹ آئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جستجو کا بڑا احساس تھا تو انہیں خواب میں اذان دکھائی گئی۔ اگلے روز جب وہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو بتاتے ہوئے عرض گزار ہوئے یے یا رسول اللہ اللہ میں سونے اور جاگنے کے درمیان تھا، پھر کسی آنے والے نے مجھے اذان دکھائی۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ان سے بھی بیس روز پہلے دیکھ چکے تھے۔ لیکن چھپائے رکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے ان سے فرمایاکہ تمہیں بتانے سے کس چیز نے روکا؟ عرض گزار ہوئے کہ عبد اللہ بن زید سبقت لے گئے تو مجھےحیا محسوس ہونے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اےبلال!کھڑے ہو جاؤ اور جس طرح تمہیں عبداللہ بن زید بتاتےجائیں وہ کہتے جاؤ۔ بس حضرت بلال نے اذان کہی۔ ابوبشر نے ابو عمیر سے روایت کی ہے کہ انصار کا یہ خیال ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید اگر روز بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انہیں مؤذن مقرر فرماتے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ،حدیث نمبر٤٩٨،ج ١ ص ٣٧٠،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ زِيَادٌ: أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: اهْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا، فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ - يَعْنِي الشَّبُّورَ وَقَالَ زِيَادٌ: شَبُّورُ الْيَهُودِ - فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: «هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ» قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ، فَقَالَ: «هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى» فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ وَهُوَ مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُرِيَ الْأَذَانَ فِي مَنَامِهِ، قَالَ: فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ، إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَدْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا، قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنِي؟»، فَقَالَ: سَبَقَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ، قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، فَافْعَلْهُ» قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ، أَنَّ الْأَنْصَارَ تَزْعُمُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنًا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 498

محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت عبداللہ بن زید نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس کا حکم فرمایا تاکہ اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے تو میرے پاس سے ایک آدمی گزرا جب کہ میں سویا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھایا ہوا تھا۔ میں نے کہا اے اللہ کے بندے کیا آپ یہ خود بیچتے ہیں اس نے کہا آپ اس کا کیا کریں گے؟ میں نے کہا ہم اس کے ذریعے نماز کیلئے بلائیں گے۔ کہاں کیا میں وہ چیز نہ بتا دوں جو اس سے بہتر ہے میں نے اس سے کہا کیوں نہیں۔ کہا کہ یوں کہا کرو۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤنماز کی طرف آؤ نماز کی طرف۔آو نجات کی طرف۔آؤنجات کی طرف اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ پھر وہ مجھ سے ذرا پیچھے ہٹ گیا اور کہا کہ جب نماز کھڑی ہونےلگے تو یو کہا کرو۔اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آؤ نماز کی طرف۔آؤ نجات کی طرف۔بیشک نماز کھڑی ہو گئی ۔اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔صبح کے وقت میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپ کو یہ چیز بتائی جو میں نے دیکھی تھی۔فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو یہ خواب حق ہے۔پس بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ انہیں بتاتے جانا جو تم نے دیکھا تاکہ وہ آواز سے کہیں کیونکہ ان کی آواز تمہاری نسبت بلند ہے۔پس میں حضرت بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا انہیں بتاتا رہا اور وہ اذان کہتے رہے۔حضرت عمر نے اپنے گھر میں جب سے اسے سنا تو اپنی چادر گھسیٹتے ہو ئے آئے اور عرض گزار ہوئے۔یارسول اللّٰہ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا،میں نے بھی ایسا ہی دیکھا تھا،چناچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ زہری۔سعید بن مسیب نے حضرت عبداللہ بن زید سے اسی طرح روایت کی اور اس میں ابن اسحاق نے زہری سے چار مرتبہ تکبیر روایت کی جبکہ معمر یونس نے زہری سے دو مرتبہ تکبیر روایت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٤٩٩،ج ١ ص ٣٧٢،حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ، قَالَ: وَتَقُولُ: إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، بِمَا رَأَيْتُ فَقَالَ: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ» فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ، فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ، وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَكَذَا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَقَالَ: فِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَقَالَ مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيهِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَمْ يُثَنِّيَا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 499

ابومحزورہ کے والد ماجد سے ان کے والد محترم نے فرمایا کہ میں عرض گزار ہوا۔یارسول اللہ مجھے اذان کا طریقہ سکھائیے۔فرمایا کہ آپ نے میری پیشانی پر دست مبارک پھیرا اور فرمایا کہ یوں کہا کرو اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔یہ بلند آواز سے کہنا پھر کہنا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔یہ کہتے وقت آواز پست رکھنا ،پھر بلند آواز سے شہادت دینا میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آؤنماز کی طرف آؤ نماز کی طرف۔آو نجات کی طرف آؤ نجات کی طرف۔اگر وہ صبح کی نماز ہو تو کہے۔نماز نیند سے بہتر ہے،اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٠،ج ١ ص ٣٧٣،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ؟، قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِي، وَقَالَ: " تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 500

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مذکورہ طریقہ بتایا اس روایت میں ہے کہ نماز نیند سے بہتر ہے۔ نماز نیند سے بہتر ہے۔ یہ فجر کی پہلی اذان میں ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مسدد کی حدیث زیادہ واضح ہے اس میں فرمایا کہ مجھے اقامت دو مرتبہ سکھائی۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالرزاق نے کہا جب تم نماز کی اقامت کہو تو دو مرتبہ کہا کرو۔ یقینا نماز کھڑی ہو گئی۔ یقینا نماز کھڑی ہو گئی۔ کیا تم نے سنا؟ نیز فرمایا کہ حضرت ابو محذورہ نہ کبھی اپنی پیشانی کے بال کتراتے اور نہ منڈاتے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠١،ج ١ ص ٣٧٤،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ وَفِيهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَبْيَنُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ: وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، أَسَمِعْتَ؟ قَالَ: فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ، لَا يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرُقُهَا لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 501

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمے سکھائے اذان یہ ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ اقامت یہ ہے اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گوا ہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ یقینا نماز کھڑی ہو گئی۔ یقیناً نماز کھڑی ہوگئی۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٢،ج ١ ص ٣٧٦،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَحَجَّاجٌ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً: الْأَذَانُ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْإِقَامَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "، كَذَا فِي كِتَابِهِ فِي حَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 502

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اذان کی مجھے بنفس نفیس تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ کہا کرو۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر دوبارہ بلند آواز سے کہا کرو ۔گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٣،ج ١ ص ٣٧٦،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ يَعْنِي عَبْدَ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: " قُل: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ - قَالَ: ثُمَّ ارْجِعْ، فَمُدَّ مِنْ صَوْتِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 503

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےمجھے اذان کی حرف بحرف یوں تلقین فرمائی۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ آؤ نجات کی طرف۔ ان کا بیان ہے کہ فجر کے وقت یوں کہا کرتے ۔نماز نیند سے بہتر ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٤،ج ١ ص ٣٧٧،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَحْذُورَةَ، يَقُولُ: " أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ، حَرْفًا حَرْفًا: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ "، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ فِي الْفَجْرِ: «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 504

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اذان کی تعلیم فرمائی کہ یوں کہا کرو۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ پھر اذان کے متعلق اسی طرح ذکر کیا جو ابن جریج نے عبد الملک بن عبد العزیز سے روایت کی ہے اور جو معنا مالک بن دینار کی حدیث میں ہے۔ان کا بیان ہے کہ میں ابن ابو محذورہ سے پوچھتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے اپنے والد محترم کی اذان بتائیے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سیکھی تو کہا۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔صرف دومرتبہ اسی طرح جعفر بن سلیمان کی حدیث میں ہے جو انہوں نے ابن ابی محذورہ سے انہوں نے اپنے چچا جان سے،انہوں نے ان کے جد امجد سے روایت کی ہے۔مگر اس میں فرمایا کہ پھر ترجیح کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا کرو۔اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ بہت بڑا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٥،ج ١ ص ٣٧٨،حکم حدیث اسنادہ حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي الْجُمَحِيَّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيِّ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ أَذَانِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنْ أَذَانِ أَبِيكَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ، فَقَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ»، قَطْ، وَكَذَلِكَ حَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ جَدِّهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " ثُمَّ تَرْجِعُ فَتَرْفَعُ صَوْتَكَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 505

عمروبن مرہ نے ابن ابی لیلہ سے روایت کی کہ نماز کی تین حالتیں بدلیں۔ہمارے ساتھیوں نے ہم سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ بات پسند ہے کہ مسلمانوں یا ایمان والوں کی نماز ایک ہونی چاہیے لہذا میں نے ارادہ کیا کہ کچھ آدمیوں کو بھیجا کرو کہ لوگوں کو گھروں سے نماز کے لیے بلا کر لایا کریں یہاں تک کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ کچھ لوگوں کو حکم دو کہ وہ اونچی جگہوں پر چڑھ کر مسلمانوں کو نماز کے وقت بلایا کریں مجھے یہاں تک کہ وہ ناقوس بجانے لگے یا ناقوس بجانے والے تھےکہ انصار سے ایک شخص آکر عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ جب میں واپس لوٹا تو میں نے آپ کے اہتمام کو دیکھا اور ایک آدمی کو جس کے اوپر دو سبز کپڑے ہیں۔ مسجد میں کھڑا ہو کر اذان کہہ رہا تھا پھر وہ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد کھڑا ہو گیا اور اسی طرح کہا۔ اس کے سوا کہ وہ کہہ رہا تھا۔ یقینا نماز کھڑی ہو گئی لہذا اگر لوگوں کے باتیں بنانے کا خیال نہ ہوتا۔ ابن مثنیٰ نے کہا کئی لوگ باتیں سنائیں گے ورنہ میں کہتا کہ میں جاگ رہا تھا سویا ہوا نہ تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن مثنی نے کہا کہ اللہ تعالی نے تمہیں بھلائی دکھائی ہے اور حضرت عمر نے ذکر نہ کیا پس بلال سےکہو کہ اذان کہے۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر عرض گزار ہوئے کہ میں نے بھی اسی طرح دیکھا لیکن جب یہ مجھ پر سبقت لے گئے تو مجھے حیا محسوس ہوئی۔ راوی کا بیان ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے بتایا کہ آدمی آ کر پوچھتا تو اسے بتایا جاتا کہ کتنی نماز ہو چکی ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوتے قیام، رکوع اور قعدہ کرنے والے نمازیوں میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ ابن مثنیٰ ،عمرو، حصین نے ابن ابی لیلی سے روایت کی کہ حضرت معاذ آگئے۔ شعبہ نے کہا کہ میں نے حصین سے سنا کہ انہوں نے فرمایا میں تو اسی حالت میں شامل ہوں گا اس حد تک کہ اسی طرح کرو پھر میں عمر بن مرزوق کی حدیث کی طرف لوٹا تو کہا کہ حضرت معاذ آگئے تو لوگوں نے ان کی طرف اشارہ کیا صحابہ نے کہا کہ یہ میں نے حصین سے سنا ہے ان کا بیان ہے کہ حضرت معاذ نے فرمایا میں تو ایسی حالت میں شامل ہوگا جس کے اندر حضور ہونگے۔راوی کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا بے بیشک معاذ نے تمہارے لیے طریقہ نکال دیا ہے لہذا اسی طرح کیا کرو۔ راوی کا بیان ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے بیان کیا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو لوگوں کو تین روزے رکھنے کا حکم فرمائیے کہ رمضان کے متعلق حکم نازل ہو گیا اور لوگ روزوں کے عادی نہ تھے لہذا روزہ ان کے لیے سخت تھے چنانچہ یہ آیات نازل ہوئیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے وہ ضرور اس کے روزے رکھے(2:185)پس رخصت بیمار اور مسافر کے لیے ہے اور سب کو روزے کا حکم دیا گیا۔راوی کا بیان ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے کہا ہے کہ آدمی روزہ کھول کر جب کھانا کھانے سے پہلے سوجاتا تو صبح تک نہ کھاتا۔راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر آئے اور اپنی بیوی کا ارادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں سو گئی تھی۔حضرت عمر نے سمجھا کہ بہانہ کرتی ہے ۔لہذا ان سے جماع کیا۔اسی طرح ایک انصاری نے کھانے کا ارادہ کیا۔لوگوں نے کہا ٹھہریئے یہاں تک کہ کچھ گرم کرلیں۔پس وہ سوگیا صبح کے وقت یہ آیت نازل ہوئی"روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لیے حلال ہوا"۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٦،ج ١ ص ٣٨٠،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَقَدْ أَعْجَبَنِي أَنْ تَكُونَ صَلَاةُ الْمُسْلِمِينَ - أَوْ قَالَ - الْمُؤْمِنِينَ، وَاحِدَةً، حَتَّى لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبُثَّ رِجَالًا فِي الدُّورِ يُنَادُونَ النَّاسَ بِحِينِ الصَّلَاةِ، وَحَتَّى هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رِجَالًا يَقُومُونَ عَلَى الْآطَامِ يُنَادُونَ الْمُسْلِمِينَ بِحِينِ الصَّلَاةِ حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا أَنْ يَنْقُسُوا»، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمَّا رَجَعْتُ لِمَا رَأَيْتُ مِنَ اهْتِمَامِكَ رَأَيْتُ رَجُلًا كَأَنَّ عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ أَخْضَرَيْنِ، فَقَامَ عَلَى الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَهَا، إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: أَنْ تَقُولُوا - لَقُلْتُ إِنِّي كُنْتُ يَقْظَانَ غَيْرَ نَائِمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: - وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى - «لَقَدْ أَرَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا»، - وَلَمْ يَقُلْ عَمْرٌو: «لَقَدْ أَرَاكَ اللَّهُ خَيْرًا» - فَمُر بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى، وَلَكِنِّي لَمَّا سُبِقْتُ اسْتَحْيَيْتُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ يَسْأَلُ فَيُخْبَرُ بِمَا سُبِقَ مِنْ صَلَاتِهِ وَإِنَّهُمْ قَامُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ قَائِمٍ وَرَاكِعٍ وَقَاعِدٍ وَمُصَلٍّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي بِهَا حُصَيْنٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَتَّى جَاءَ مُعَاذٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: لَا أَرَاهُ عَلَى حَالٍ إِلَى قَوْلِهِ كَذَلِكَ فَافْعَلُوا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: فَجَاءَ مُعَاذٌ، فَأَشَارُوا إِلَيْهِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَهَذِهِ سَمِعْتُهَا مِن حُصَيْنٍ، قَالَ: فَقَالَ مُعَاذٌ: لَا أَرَاهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا، قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً، كَذَلِكَ فَافْعَلُوا " قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ " أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ أُنْزِلَ رَمَضَانُ، وَكَانُوا قَوْمًا لَمْ يَتَعَوَّدُوا الصِّيَامَ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَلَيْهِمْ شَدِيدًا فَكَانَ مَنْ لَمْ يَصُمْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥] فَكَانَتِ الرُّخْصَةُ لِلْمَرِيضِ، وَالْمُسَافِرِ فَأُمِرُوا بِالصِّيَامِ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَفْطَرَ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ لَمْ يَأْكُلْ حَتَّى يُصْبِحَ، قَالَ: " فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَرَادَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ نِمْتُ فَظَنَّ أَنَّهَا تَعْتَلُّ فَأَتَاهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَرَادَ الطَّعَامَ فَقَالُوا: حَتَّى نُسَخِّنَ لَكَ شَيْئًا، فَنَامَ " فَلَمَّا أَصْبَحُوا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ} [البقرة: ١٨٧]

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 506

ابن ابی لیلہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نماز کی تین حالت رہیں اور اسی طرح روزے کی تین اور نصر نے باقی حدیث کو طوالت سے بیان کی۔ ابن مثنیٰ نے بیت المقدس کی طرف پڑھنے کا قصہ بیان کیا۔ فرمایا تیسرا حال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مدینہ منورہ میں جلوہ افروز ہوئے تو بیت المقدس کی طرف تیرہ مہینےنماز پڑھی۔ اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائے" ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے "ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو تو آپ کو اللہ نے کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ پوری ہوئی یہ حدیث نصر سے خواب دیکھنے والے کا نام لیتے ہوئے کہا کہ حضرت عبداللہ بن زید آئے جو انصار سے ایک آدمی تھے اور اس نے کہا کہ اس نے کعبہ کی طرف منہ کرکے کہا اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہے۔ گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ دو دفعہ آؤ نجات کی طرف۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔ بڑا نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر کھڑا ہوا اور اسی طرح مگر اس دفع حی علی الفلاح کے بعد یہ بھی کہا۔یقینا نماز کھڑی ہوگئی ۔روای کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بلال کو سکھادو ۔پس حضرت بلال نے ان کلمات کے ساتھ اذان کہی روزے کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین روزے اور عاشورے کا روزہ رکھا کرتے تو اللہ تعالی نے یہ حکم نازل فرمایا۔تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے کہ تم سے اگلے لوگوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے گنتی کے دن ہیں تو تم میں سے جو کوئی بیمار یا سفر میں ہوتواتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں۔ ایک مسکین کا کھانا۔پس جو روزہ رکھنا چاہتا رکھ لیتا اور جو چھوڑنا چاہتا وہ اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا۔ ایک سال یہ حالت رہی تو اللہ تعالی نے حکم نازل فرمایا۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں۔ تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ پس رمضان کے روزے ہر اس شخص پرلازم ہوگئے جو یہ مہینہ پائے اور مسافر پر قضا لازم ہوئی اور زیادہ بوڑھی بڑھیا جو روزانہ کی مشقت کے بدلے دیں۔ پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر ٥٠٧،ج ١ ص ٣٨٣،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ - وَسَاقَ نَصْرٌ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَاقْتَصَّ ابْنُ الْمُثَنَّى مِنْهُ قِصَّةَ صَلَاتِهِمْ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَطْ - قَالَ: الْحَالُ الثَّالِثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى - يَعْنِي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ - ثَلَاثَةَ عَشَرَ شَهْرًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} [البقرة: ١٤٤] فَوَجَّهَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْكَعْبَةِ - وَتَمَّ حَدِيثُهُ - وَسَمَّى نَصْرٌ صَاحِبَ الرُّؤْيَا، قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَقَالَ فِيهِ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ أَمْهَلَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ مِثْلَهَا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: زَادَ بَعْدَ مَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقِّنْهَا بِلَالًا» فَأَذَّنَ بِهَا بِلَالٌ. وَقَالَ فِي الصَّوْمِ: قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَيَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [البقرة: ١٨٣] إِلَى قَوْلِهِ {طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: ١٨٤] فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُطْعِمَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، أَجْزَأَهُ ذَلِكَ، وَهَذَا حَوْلٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ} [البقرة: ١٨٥] إِلَى {أَيَّامٍ أُخَرَ} [البقرة: ١٨٤] فَثَبَتَ الصِّيَامُ عَلَى مَنْ شَهِدَ الشَّهْرَ وَعَلَى الْمُسَافِرِ أَنْ يَقْضِيَ، وَثَبَتَ الطَّعَامُ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ اللَّذَيْنِ لَا يَسْتَطِيعَانِ الصَّوْمَ "، وَجَاءَ صِرْمَةُ وَقَدْ عَمِلَ يَوْمَهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 507

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کو جفت اور اقامت کو طاق کہا کریں ۔ہمام نے اپنی حدیث میں کہا کہ سوائے اقامت کے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ في الاقامة ،حدیث نمبر ٥٠٨،ج ١ ص ٣٨٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ»، زَادَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ: إِلَّا الْإِقَامَةَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 508

ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مذکورہ حدیث وہب کی طرح روایت کی۔اسماعیل نے کہا کہ میں نے یہ حدیث ایوب سے بیان کی تو کہا کہ اقامت کے سوا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ في الاقامة ،حدیث نمبر ٥٠٩،ج ١ ص ٣٨٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، مِثْلَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ قَالَ: إِسْمَاعِيلُ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 509

مسلم ابوالمثنی سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اذان دو دو دفعہ اور اقامت ایک ایک دفعہ ہوتی تھی۔سوائے اس کے کہ کہتے کہ ۔یقینا نماز کھڑی ہوگئی ۔جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرکے نماز کے لیے نکل آتے ۔شعبہ نے کہا کہ میں نے ابوجعفر سے اس حدیث کے سوا اور کچھ نہیں سنا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ في الاقامة ،حدیث نمبر ٥١٠،ج ١ ص ٣٨٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ، مَرَّتَيْنِ وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً، مَرَّةً غَيْرَ أَنَّهُ، يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ "، قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 510

عبدالملک بن عمرو نے شعبہ سے روایت کی ہے کہ مسجد عربان کے مؤذن ابوجعفر اور مسجد اکبر کے مؤذن ابوالمثنی کہا کرتے کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے سنا ہے اور مذکورہ حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ في الاقامة ،حدیث نمبر ٥١١،ج ١ ص ٣٨٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ٍيَعْنِى الْعَقَدِيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْأَكْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 511

عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا جان حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اذان کی جگہ کئی کاموں کے کرنے کا ارادہ فرمایا لیکن ان میں سے ایک بھی نہیں کیا۔ان کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید کو خواب میں اذان دکھائی گئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کردی۔فرمایا کہ بلال کو سکھادو ۔پس انہیں سکھادی گئی تو حضرت بلال نے اذان کہی ۔حضرت عبداللّٰہ بن زید کا بیان ہے کہ میں نے دیکھی لہذا میں اذان کہنا چاہتا تھا لیکن حضور نے فرمایا کہ تم اقامت کہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ ،حدیث نمبر ٥١٢،ج ١ ص ٣٨٥،حکم حدیث ضعیف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَذَانِ أَشْيَاءَ، لَمْ يَصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: «أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ»، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ فَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ، قَالَ: «فَأَقِمْ أَنْتَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 512

محمد بن عمرو نے عبداللّٰہ بن محمد سے سنا کہ میرے جد امجد حضرت عبداللہ بن زید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یہ واقعہ بیان فرماتے ان کا بیان ہے کہ میرے جد امجد نے اقامت کہی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ،حدیث نمبر ٥١٣،ج ١ ص ٣٨٦،حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍ، وشَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْد، ٍيُحَدِّثُ بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَأَقَامَ جَدِّي

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 513

زیاد بن نعیم حضرمی سے روایت ہے کہ حضرت زیاد بن حارث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب پہلی صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تو میں نے اذان کہی پس میں کہتا رہا کہ یارسول اللہ!اقامت کہوں؟لیکن آپ اجالا ہونے تک برابر مشرق کی جانب دیکھتے رہے اور انکار فرماتے رہے ۔فجر طلوع ہونے پر آپ نے نزول اجلال فرمایا پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور آپ کے اصحاب آگئے تھے تو آ پ نے وضو فرمایا حضرت بلال نے اذان کہی تھی اور جو اذان کہے وہی اقامت کہتا ہے ان کا بیان ہے کہ میں بیٹھ گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب من اذن فھویقیم ،حدیث نمبر ٥١٤،ج ١ ص ٥٨٧،حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ يَعْنِي الْأَفْرِيقِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنْتُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ: «لَا» حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَزَلَ فَبَرَزَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ - يَعْنِي فَتَوَضَّأَ - فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ»، قَالَ: فَأَقَمْتُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 514

ابو یحییٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلند آواز سے اذان کہنے والی کی مغفرت فرما دی جاتی ہے اور جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے ہرتر اور خشک چیز اس کی گواہی دیتی ہے اور جماعت میں حاضر ہونے والے کا پچیس گنا ثواب لکھا جاتا ہے اور اس کے دو نمازوں کے درمیانی گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْأَذَانِ ،حدیث نمبر ٥١٥،ج ١ ص ٣٨٧،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ صَلَاةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 515

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لیے اذان کہی جائے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اس کی ہوا خارج ہوتی ہے یہاں تک کہ اسے اذان کی آواز نہیں آتی جب اذان ختم ہوتی ہے تو پھر آجاتا ہے جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو پھردوڑتا ہے،یہاں تک کہ جب تکبیر ختم ہوجائے توواپس آ پہنچتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں خیالات پیدا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات کو یاد کر جو اسے یاد کرنا نہیں ہوتی یہاں تک کہ آدمی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْأَذَانِ ،حدیث نمبر ٥١٦،ج ١ ص ٣٨٨،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، وَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَضِلَّ الرَّجُلُ أَنْ يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 516

ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن اور مؤذن امانت دار ہوتے ہیں ۔اے اللہ!اماموں کو ہدایت دے اور مؤذنوں کی مغفرت فرما۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَجِبُ عَلَى الْمُؤَذِّنِ مِنْ تَعَاهُدِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥١٧،ج ١ ص ٣٨٩،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 517

ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھر مذکورہ حدیث کے مطابق روایت کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَجِبُ عَلَى الْمُؤَذِّنِ مِنْ تَعَاهُدِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥١٨،ج ١ ص ٣٩٠،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 518

محمد بن جعفر بن زبیر نے عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے کہ بنی نجار کی ایک صحابیہ نے فرمایا کہ مسجد نبوی کے گرد جتنے گھر تھے میرا گھر ان میں سب سے بلند تھا۔حضرت بلال فجر کی اذان اسی پر کہتے تھے وہ پچھلی رات آکر مکان کی چھت پر بیٹھ جاتے اور فجر طلوع ہونے کا انتظار کرتے رہتے جب اسے دیکھتے تو انگڑائی لیتے اور کہتے۔ اے اللہ میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں اور قریش کے مقابلے میں تیری مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کرے وہ فرماتی ہیں کہ پھر اذان کہتے ان کا بیان ہے کہ خدا کی قسم میرے علم میں ایسی ایک رات بھی نہیں جب کہ انہوں نے یہ الفاظ نہ کہے ہوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الْأَذَانِ فَوْقَ الْمَنَارَةِ،حدیث نمبر٥١٩،ج ١ ص ٣٩١،حکم حدیث حسن تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَتْ: كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ» قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 519

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ مکہ مکرمہ کے اندر ایک چمڑے کے خیمے میں جلوہ افروز تھے پس حضرت بلال نکلےاور اذان کہی میں دیکھ رہا تھا کہ انہوں نے اپنا منہ ادھر ادھر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے اوپر سرخ حلہ تھا کہ یمنی چادر کا گویا قطر کی بنی ہوئی ہے موسیٰ کا بیان ہے کہ راوی نے کہا میں نے حضرت بلال کو دیکھا کہ ابطح کی جانب نکل گئے پس اذان کہی اور جب حي على الصلاه حي على الفلاح پر پہنچے تو اپنی گردن کو دائیں بائیں جانب پھرایا اور خود نہیں گھومے پھر اندر داخل ہوئے اور نیزہ لے کر آئے پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمُؤَذِّنِ يَسْتَدِيرُ فِي أَذَانِهِ،حدیث نمبر٥٢٠،ج ١ ص ٣٩١،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، جَمِيعًا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ فَخَرَج بِلَالٌ فَأَذَّنَ فَكُنْتُ أَتَتَبَّعُ فَمَهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، قَالَ: «ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ بُرُودٌ يَمَانِيَةٌ قِطْرِيٌّ» - وَقَالَ مُوسَى - قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ إِلَى الْأَبْطَحِ فَأَذَّنَ فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، لَوَى عُنُقَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَمْ يَسْتَدِرْ ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ وَسَاقَ حَدِيثَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 520

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دعا رد نہیں ہوتی جواذان واقامت کے درمیان کی جائے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ،حدیث نمبر٥٢١،ج ١ ص ٣٩٢،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 521

حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اذان کی آواز سنو تو وہی کہتے جاؤجو مؤذن کہہ رہا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٢،ج ١ ص ٣٩٣،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 522

عبد الرحمن بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو۔ کیونکہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر اللہ تعالی سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک اعلی مقام ہے جو اللہ کے بندوں سے ایک ہی بندے کے لائق ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں۔ پس جو میرے لیے وسیلہ مانگے گا اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوگئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٣،ج ١ ص ٣٩٤،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَحَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّواعَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 523

ابوعبدالرحمن حبلی نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہیں کہ ایک آدمی عرض گزار ہوا یا رسول اللہ! مؤذن ہم پر فضیلت لے گئے ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تم وہی کہو جو وہ کہتے ہیں جب اذان ختم ہوجائے تو مانگو تمہیں عطا فرمایا جائے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٤،ج ١ ص ٣٩٤،حکم حدیث حسن صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْحُبُلِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ كَمَا يَقُولُونَ فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَهْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 524

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اذان سنتے وقت کہا۔ گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور محمد مصطفی اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے، محمد مصطفی کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٥،ج ١ ص ٣٩٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ: حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا غُفِرَ لَهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 525

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب مؤذن سے شہادتیں سنتے تو فرماتے۔میں بھی گواہ ہوں ،میں بھی گواہ ہوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٦،ج ١ ص ٣٩٥،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ، قَالَ: «وَأَنَا، وَأَنَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 526

حفص بن عاصم بن عمر کے والد ماجد نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہو جب وہ اشھد ان لا الہ الا اللہ کہے تو تم بھی اشھد ان لا الہٰ اللہ کہو جب وہ اشہد ان محمد الرسول اللہ کہے تو تم بھی اشھد ان محمد الرسول اللہ کہو پھر وہ حي على الصلاه کہے تو تم لاحول ولا قوة الا بالله کہو پھر وہ حي على الفلاح کہے تو تم ولا حول ولا قوۃ الا باللہ کہو پھر وہ اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر اللہ اکبر کہو پھر وہ لا الہ الا اللہ کہے تو تم بھی دل میں لا الہ الا اللہ کہو تو جنت میں داخل ہوگئے۔(جو زبان و دل سے یہ کلمات کہتا ہے اسے جنتی شمار فرما لیا جاتا ہے)۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ،حدیث نمبر٥٢٧،ج ١ ص ٣٩٦،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: أَحَدُكُمْ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 527

شہر بن حوشب نے حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کسی اور صحابی سے روایت کی ہے کہ حضرت بلال اقامت کہنے لگے۔جب انہوں نے یہ کہا قد قامت الصلواة تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں کہا ۔اقامھا اللّٰہ وادامھا اور باقی ساری اقامت کے جواب میں اسی طرح کہا جیسا کہ اذان کے متعلق حدیث عمر میں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْإِقَامَةَ،حدیث نمبر٢٢٨, ج ١ ص ٣٩٦،حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَوْ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، فَلَمَّا أَنْ قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا» وَقَالَ: فِي سَائِرِ الْإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْأَذَانِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 528

محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اذان سن کر کہا اے اللہ اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب محمد مصطفی کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر جلوہ افروز فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے قیامت کے روز وہ میری شفاعت کا مستحق ہو گیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الْأَذَانِ،حدیث نمبر٥٢٩،ج ١ ص ٣٩٧،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 529

ابو کثیر مولی ام سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایاکہ مغرب کی اذان کے وقت کہا کرو اے اللہ یہ تیری رات کا آنا۔ تیرے دن کا جانا اور تیرے پکارنے والوں کی آوازیں ہیں۔ پس میری مغفرت فرما۔ (دعاؤں کی اس لئے تعلیم دی گئی کہ بندوں کی توجہ ہر موڑپراپنے خالق و مالک کی طرف مبذول رہے.) ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٥٣٠،ج ١ ص ٣٩٨،حکم حدیث اسنادہ ضعيف تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ: «اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ، وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ، وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ، فَاغْفِرْ لِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 530

مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص نے فرمایا کہ میں عرض گزار ہوا۔موسی بن اسماعیل نے دوسرے مقام پر کہا کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ،عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ مجھے قوم کا امام بنا دیجیے ۔فرمایا کہ تم قوم کی امامت کرو اور سب سے ضعیف کی رعایت کرنا نیز مؤذن اسے مقرر کرنا جو اجرت نہ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ أَخْذِ الْأَجْرِ عَلَى التَّأْذِينِ،حدیث نمبر٥٣١, ج ١ ص ٣٩٩،حکم حدیث اسنادہ صحیح تحقیق الارنووط

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: - وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ قَالَ - يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ: «أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 531

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضرت بلال نے طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی تو نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ کہنے کا حکم فرمایا انہوں نے دوبارہ کہی کیوں کہ بندہ سو گیا تھا۔ موسی بن اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ پس واپس لوٹے اور دوبارہ اذان کہی کیوں کہ بندہ سو گیا تھا۔ امام ابو داؤد نے فرمایا کہ نہیں روایت کیا اس حدیث کو ایوب سے مگر حماد بن سلمہ نے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥٣٢،ج ١ ص ٤٠٠،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ: «أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ، قَدْ نَامَ أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ»، زَادَ مُوسَى: فَرَجَعَ فَنَادَى: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ، إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 532

نافع نے حضرت عمر کے مؤذن سے روایت کی ہے کہ جس کو مسروح کہا جاتا تھا۔کہ اس نے صبح صادق سے پہلے اذان کہہ دی تو حضرت عمر نے اسے حکم فرمایا۔پھر پہلی حدیث کی طرح۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے حماد بن زید،عبید اللّٰہ بن عمر نے نافع یا کسی دوسرے سے کہ حضرت عمر کا مؤذن جسے مسروح کہا جاتا تھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے دراوردی،عبید اللّٰہ،نافع،حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ حضرت عمر کا ایک مؤذن تھا جس کو مسعود کہا جاتا تھا کہ پھر اسی طرح بیان کی اور یہ سب سے صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥٣٣،ج ١ ص ٤٠٠،حکم حدیث صحيح تحقیق البانی

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ، يُقَالُ لَهُ: مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ، يُقَالُ: لَهُ مَسْعُودٌ وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاكَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 533

حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس وقت تک اذان نہ کہا کرو جب تک فجر تم پر اس طرح واضح نہ ہو جائے اور عرضا اپنے دست مبارک پھیلا دیے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ شداد نے حضرت بلال کو نہیں پایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥٣٤،ج ١ ص ٤٠١،حکم حدیث حسن تحقیق البانی

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «لَا تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا» وَمَدَّ يَدَيْهِ عَرْضًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يُدْرِكْ بِلَالًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 534

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابن ام مکتوم مؤذن تھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اور وہ نابینا تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ،حدیث نمبر٥٣٥،ج ١ ص ٤٠٢،حکم حدیث صحيح تحقیق الارنووط و البانی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ، كَانَ مُؤَذِّنًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْمَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 535

ابراہیم بن مہاجر سے روایت ہے کہ ابوشعثا نے فرمایا کہ میں مسجد کے اندر حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا تو ایک آدمی باہر نکلا جب کہ مؤذن نے عصر کی اذان کہہ دی تھی۔حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ جس نے ایسا کیا اس نے ابوالقاسم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الْخُرُوجِ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَالْأَذَانِ،حدیث نمبر٥٣٦

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِى الشَّعْثَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ أَبِى هُرَيْرَةَ فِى الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ رَجُلٌ حِينَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِلْعَصْرِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 536

سماک سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت بلال اذان کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہر جاتے۔جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لے آتے تو نماز کی اقامت کہی جاتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْمُؤَذِّنِ يَنْتَظِرُ الْإِمَامَ،حدیث نمبر٥٣٧

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ، فَإِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 537

مجاہد کا بیان کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ تھا کہ کسی آدمی نے ظہر یا عصر کے وقت تثویب کہی ۔فرمایا کہ ہمارے ساتھ نکل چلو کیونکہ یہ تو بدعت ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّثْوِيبِ،حدیث نمبر٥٣٨

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، قَالَ : اخْرُجْ بِنَا ؛ فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 538

عبداللہ بن ابو قتادہ نے اپنے والد ماجد حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہوا کرو جب تک کہ نہ دیکھ لو امام کو۔ ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح روایت کیا ہے اسے ایوب، حجاج صواف،یحی اور ہشام دستوائی نے کہا میں نے یحییٰ کے لیے لکھا اور روایت کیا اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے یحیی سے اور اس میں کہا۔یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو اور سکون سے رہنا ضروری ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٣٩

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَكَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى. وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى. وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى، وَقَالَا فِيهِ : " حَتَّى تَرَوْنِي، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 539

معمر نے یحیٰی سے اپنی سند کے ساتھ اسے روایت کرتے ہوئے کہا۔جب تک مجھے دیکھ نہ لو کہ باہر نکل آیا ہوں ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نکل آیا ہوں والی بات کا معمر کے سوا کسی نے ذکر نہیں کیا اور ابن عیینہ نے اسے معمر سے روایت کرتے ہوئے قدخرجت نہیں کہا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٠

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، قَالَ : " حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَمْ يَذْكُرْ : " قَدْ خَرَجْتُ ". إِلَّا مَعْمَرٌ. وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْمَرٍ لَمْ يَقُلْ فِيهِ : " قَدْ خَرَجْتُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 540

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے نماز کی اقامت کہی جاتی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مصلے پر آنے سے پہلے لوگ اپنی اپنی جگہ سنبھال لیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤١

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عَمْرٍو ح وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 541

حمید کا بیان ہے کہ میں نے ثابت بنانی سے نماز کی اقامت ہو جانے کے بعد باتیں کرنے کے متعلق پوچھا تو مجھ سے حدیث بیان کرتے ہوئے حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی اقامت ہو چکی تھی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر آپ کو بوٹوں کے ذریعے روکا تھا ۔تکبیر ہوجانے کے بعد ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٢

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ : سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَحَبَسَهُ بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 542

عون بن کہمس سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد کہمس نے فرمایا کہ ہم منیٰ میں نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور امام آرہا تھا تو ہم میں سے بعض حضرات بیٹھ گئے۔ مجھ سے ایک بزرگ نے فرمایا کیا آپ کو کس نے بٹھایا میں نے کہا ابن بریدہ نے کہا یہ تو سمود ہے۔پھر اس بزرگ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ سے حدیث بیان کی عبدالرحمن بن عوسجہ نےان سے حضرت حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں تکبیر سے پہلے کافی دیر صفوں میں بیٹھے رہتے ان کا بیان ہے کہ اللہ تعالی کے فرشتے رحمت نازل کرتے ہیں ان لوگوں پر جو پہلی صفوں میں ملتے ہیں اور کوئی قدم اللہ تعالی کو اس قدم سے پیارا نہیں جو صف میں ملنے کے لیے چلے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٣

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ كَهْمَسٍ قَالَ : قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ بِمِنًى وَالْإِمَامُ لَمْ يَخْرُجْ، فَقَعَدَ بَعْضُنَا، فَقَالَ لِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ : مَا يُقْعِدُكَ ؟ قُلْتُ : ابْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ : هَذَا السُّمُودُ . فَقَالَ لِي الشَّيْخُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنَّا نَقُومُ فِي الصُّفُوفِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ. قَالَ : وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا يَصِلُ بِهَا صَفًّا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 543

عبد العزیز بن صہیب سے روایت ہے۔کہ حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی اقامت ہو گئی تھی اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجد کی ایک جانب سرگوشی فرما تے رہے۔آپ نماز کے لیے تشریف نہ لا ئے یہاں تک کہ لوگ سو گئے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٤

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 544

موسی بن عقبہ سے روایت ہے کہ حضرت سالم ابوالنضر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز قائم کرنے کے متعلق عادت مبارکہ تھی کہ جب دیکھتے تھوڑے آدمی ہیں تو بیٹھ جاتے اور جب پوری جماعت نظر آتی تو نماز پڑھاتے ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٥

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا رَآهُمْ قَلِيلًا جَلَسَ لَمْ يُصَلِّ، وَإِذَا رَآهُمْ جَمَاعَةً صَلَّى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 545

عبداللہ بن اسحاق ،ابوعاصم،ابن جریج،موسی بن عقبہ،نافر بن جبیر ابومسعود زرقی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا،حدیث نمبر٥٤٦

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مِثْلَ ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 546

معدان بن ابو طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔جو کسی گاؤں یا بستی میں تین آدمی ہوتے ہوئے جماعت قائم نہ کریں تو شیطان ان پر مسلط ہو جاتا ہے لہذا جماعت کو ضروری سمجھو کیونکہ بھیڑیا بچھڑی ہوئی بکری کو کھاتا ہے۔زائد نے سائب سے روایت کی ہے کہ جماعت سے بجماعت نماز مراد ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٤٧

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ ؛ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ ". قَالَ زَائِدَةُ : قَالَ السَّائِبُ : يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الصَّلَاةَ فِي الْجَمَاعَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 547

ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بیشک میں نے ارادہ کیا کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ایسے آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور ان لوگوں کے پاس جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے تو ان کے گھر بار کو آگ لگادوں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٤٨

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 548

یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گھٹے جمع کرنے کا حکم دوں۔پھر ایسے لوگوں کے پاس جاؤں جو بغیر شرعی عذرکے اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں۔پس انہیں آگ لگا دوں ۔میں نے یزید بن اصم سے پوچھا،اے ابوعوف !اس سے جمعہ مراد ہے یا دوسری نمازیں ؟فرمایا کہ میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے حضرت ابوہریرہ سے یہی نہ سنا ہو جو وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے اور جمعہ یا دوسری نمازوں کا ذکر نہیں فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٤٩

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آتِيَ قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي بُيُوتِهِمْ لَيْسَتْ بِهِمْ عِلَّةٌ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ ". قُلْتُ لِيزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ : يَا أَبَا عَوْفٍ، الْجُمُعَةَ عَنَى أَوْ غَيْرَهَا ؟ قَالَ : صُمَّتَا أُذُنَايَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ مَا ذَكَرَ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 549

ابوالاحوص سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ۔ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرو جن کے لیے اذان کہی جاتی ہے کیونکہ یہ ہدایت کے راستے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے راستے واضح فرمادیے تھے ۔ہم نے دیکھا کہ نماز سے وہی منافق پیچھے رہتا ہے جس کا نفاق واضح تھا ۔ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی دوآدمیوں کا سہارا لے کر صف میں آکر کھڑا ہوتا ہے۔تم میں سے ایسا کوئی نہیں جس کے گھر میں مسجد نہ ہو۔اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑوگے تو تم نے اپنے نبی کا طریقہ چھوڑا اور اپنے نبی کے طریقے کو چھوڑوگے تو تم نے کفرکیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٠

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : حَافِظُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ ؛ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ، وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَفَرْتُمْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 550

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اذان کی آواز سنے اور اس کی تعمیل کرنے سے کوئی عذر مانع نہ ہو ۔عرض کی گئی کہ عذر کیا ہے؟فرمایاکہ خوف یا مرض ۔تو اس کی پڑھی ہوئی نماز قبول نہیں ہوگی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥١

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ ". قَالُوا : وَمَا الْعُذْرُ ؟ قَالَ : " خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ ؛ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى عَنْ مَغْرَاءَ أَبُو إِسْحَاقَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 551

ابورزین نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ سوال کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض گزار ہوئے۔یارسول اللہ میں نابینا ہوں گھر دور ہے اور جو مجھے لے کر آتا ہے میرا اس پر کوئی زور بھی نہیں، پس کیا آپ مجھے اجازت مرحمت فرماتے ہیں کہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ فرمایا کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟عرض گزار ہوئے، ہاں۔ فرمایا تمہیں اجازت نہیں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٢

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، شَاسِعُ الدَّارِ، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي، فَهَلْ لِي رُخْصَةٌ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي ؟ قَالَ : " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ ؟ ". قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : " لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 552

عبدالرحمن ابولیلی سے روایت ہے کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ مدینہ منورہ میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم حى على الصلاه اور حی علی الفلاح کی آواز سنتے ہو تو ضرور آیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے قاسم جرمی نے بھی سفیان سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٣

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَسْمَعُ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ؟ فَحَيَّ هَلًا ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَا رَوَاهُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ : " حَيَّ هَلًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 553

عبداللہ بن ابو بصیر سے روایت ہے کہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے فرمایا۔کیا فلاں حاضر ہے؟لوگ عرض گزار ہوئے کہ نہیں۔ فرمایا کیا فلاں حاضر ہے؟ لوگ عرض گزار ہوئے کہ نہیں۔فرمایا یہ دونوں نماز منافقوں پر بہت بھاری ہے اگر تم جانتے کہ ان میں کیا ہے تو گھٹنوں کے بل گھسٹتےہوئے بھی حاضر ہوجاتے اور پہلی صف فرشتوں کی صف کے مانند ہیں۔ اور اگر تم جانتے کہ اس میں کیا فضیلت ہے تو ضرور جلدی کرتے۔آدمی کا ایک اور آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے پڑھنے سے بہتر ہیں اور جتنے زیادہ ہوں گے اللہ عزوجل کو اتنے ہی زیادہ پسند ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٤

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصُّبْحَ، فَقَالَ : " أَشَاهِدٌ فُلَانٌ ؟ ". قَالُوا : لَا. قَالَ : " أَشَاهِدٌ فُلَانٌ ؟ ". قَالُوا : لَا. قَالَ : " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَيْتُمُوهُمَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ، وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، وَصَلَاتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 554

عبدالرحمن بن ابو عمرہ نے حضرت عثمان ذی النورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے عشا کی نماز جماعت سے پڑھی تو ایسا ہے گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جس نے عشاء اور فجر کی نمازیں جماعت سے پڑھیں تو ایسا ہے گویا اس نے ساری رات قیام کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،حدیث نمبر٥٥٥

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ - يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ، وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 555

عبد الرحمن بن سعد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسجد سے جتنا زیادہ دور ہے اسے (جماعت میں شامل ہونے کے باعث)اتناہی زیادہ ثواب ملتا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٥٦

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 556

ابو عثمان سے روایت ہےحضرت ابی بن کعب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص تھا کہ مدینہ منورہ کے اندر قبلہ رونماز پڑھنے والے لوگوں میں سے میرے علم میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کا گھر مسجد نبوی سے اس کی نسبت دور ہو اور وہ مسجد میں ایک بھی نماز پڑھنے سے پیچھے نہ رہا میں نے اس سے کہا۔آ پ ایک گدھا خرید لیں تاکہ گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہوکر آجایا کریں۔فرمایا مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ہو۔یہ بات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہونچی تو آ پ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرا مسجد کے طرف آنا لکھا جاتا ہے اور واپس لوٹنا جب کہ گھر والوں کی طرف واپس لوٹتا ہوں ۔ارشاد ہوا کہ اللہ تعالی نے تمھیں یہ سب کچھ عطا فرمایا جو بھی تم نے اس کے لیے کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٥٧

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ حَدَّثَهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ : لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ. فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ. فَقَالَ : أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ. فَقَالَ : " أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، أَنْطَاكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 557

ابوعبدالرحمن نے حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے گھر سے طہارت کرکے فرض نماز کے لیے نکلا تو اسے حج کے لیے احرام باندھ کر نکلنے والے کی طرح اجر ملے گا اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور صرف اسی کے لیے تکلیف اٹھا رہا ہو تو اسے عمرہ کرنے والے کی طرح ثواب ملے گا اور جن دونمازوں کے درمیان کوئی لغوبات نہ کی ہو تو وہ علیین میں لکھی جاتی ہیں ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٥٨

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى، لَا يُنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ، فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 558

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آدمی کا جماعت سے نماز پڑھنا اس کے گھر یا بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ درجہ رکھتا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کو آئے جب کہ اس کا مقصد صرف نماز ہو اور اسے نہ لائے مگر نماز تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔اور اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے جب مسجد میں داخل ہو گیا تو وہ نماز میں جب تک نماز اسے روکے رکھے گی اور فرشتے تمہارے اس آدمی کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں جو اپنی اسی جگہ پر بیٹھا رہے جہاں نماز پڑھی جاتی تھی اور کہتے ہیں اے اللہ!اس کی توبہ قبول فرما جب تک کہ ایذا نہ پہنچائے یا وضو نہ ٹوٹے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٥٩

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ؛ وَذَلِكَ بِأَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، وَأَتَى الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، وَلَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، وَيَقُولُونَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ أَوْ يُحْدِثْ فِيهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 559

عطاء بن یزید نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جماعت سے نماز پڑھنا پچیس نمازوں کے برابر ہے جب جنگل میں نماز پڑھی اور رکوع سجدے پوری طرح کیے تو وہ پچاس نمازوں تک پہنچتی ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالواحد بن زیاد نے اس روایت میں کہا کہ آدمی کی جنگل میں پڑھی ہوئی نماز کا ثواب جماعت کی نماز سے کئی گنا ہے اور پھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٦٠

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةُ فِي جَمَاعَةٍ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ صَلَاةً، فَإِذَا صَلَّاهَا فِي فَلَاةٍ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ خَمْسِينَ صَلَاةً ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْفَلَاةِ تُضَاعَفُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي الْجَمَاعَةِ ". وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 560

حضرت بریدہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔خوشخبری سنادوکہ اندھیرے میں مسجدوں کو جانے والوں کے لیے مکمل روشنی ہوگی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلواۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ فِي الظَّلَامِ،حدیث نمبر٥٦١

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْكَحَّالُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 561

ابوثمامہ حناط کا بیان ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے انہیں پایا جبکہ وہ مسجد کے ارادے سے آئے تو آپس میں ملاقات ہوئی۔راوی کا بیان کہ انہوں نے مجھے ایسی حالت میں پایا کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پیوست کی ہوئی تھیں۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔جب تم میں سے کوئی وضو کرے تواچھی طرح وضو کرنا چاہیے۔پھر مسجد کے ارادے سے نکلا تو انگلیاں آپس میں پیوست نہ کرے کیونکہ وہ نماز میں ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهَدْيِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٦٢

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُمْ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو ثُمَامَةَ الْحَنَّاطُ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ أَدْرَكَهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَسْجِدَ، أَدْرَكَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ. قَالَ : فَوَجَدَنِي وَأَنَا مُشَبِّكٌ بِيَدَيَّ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ ؛ فَلَا يُشَبِّكَنَّ يَدَيْهِ ؛ فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 562

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک انصاری کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے لوگوں سے کہا کہ میں آپ حضرات سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور بیان کرنے سے میرا مقصد محض رضائے الہٰی ہے میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لیے نکلے تو وہ دایاں قدم نہیں اٹھاتا مگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور کوئی بایاں قدم نہیں اٹھاتا مگر اللہ عزوجل اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے پس جو چاہے مسجد سے نزدیک ر ہے یا دور رہے جب مسجد میں آ کر جماعت سے نماز پڑھ لیتا ہے تو اس کی مغفرت فرما دی جاتی ہے۔ اگر وہ مسجد میں ایسے وقت آئے گا کہ کچھ نماز ہو چکی اور کچھ باقی ہیں تو جو ملے اسے پڑھ لے اور جو رہ گئی اسے پوری کرے تو اس کے لیے بھی وہی اجر ہے اگر مسجد میں ایسے وقت آیا کہ لوگ نماز پڑھ چکے تو خود پوری نماز پڑھے اس کے لئے بھی وہی ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهَدْيِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٦٣

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : حَضَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ الْمَوْتُ، فَقَالَ : إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا احْتِسَابًا ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ؛ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَهُ الْيُمْنَى إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَسَنَةً، وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَهُ الْيُسْرَى إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ سَيِّئَةً، فَلْيُقَرِّبْ أَحَدُكُمْ أَوْ لِيُبَعِّدْ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَهُ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ، صَلَّى مَا أَدْرَكَ وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ كَانَ كَذَلِكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 563

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر مسجد کی جانب روانہ ہوا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے۔ اللہ عزوجل اسے ان لوگوں کے برابر ثواب عطا فرمائے گا جنہوں نے حاضر ہو کر جماعت سے نماز پڑھی اور اس کے باعث اس کے اجر میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ خَرَجَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَسُبِقَ بِهَا،حدیث نمبر٥٦٤

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ طَحْلَاءَ - عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِمْ شَيْئًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 564

ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کی لونڈیوں (بندیوں)کو مسجد میں آنے سے نہ روکا کرو اور انہیں چاہیے کہ خوشبو لگا کر نہ نکلا کریں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٥٦٥

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 565

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی لونڈیوں (بندیوں)کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٥٦٦

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 566

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکا کرو اور ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٥٦٧

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 567

مجاہد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے وقت عورتوں کو مسجدوں کی اجازت دے دیا کرو۔ اس پر ان کے ایک فرزند نے کہا خدا کی قسم ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے اس کے ذریعے وہ دھوکا دے گی ۔خدا کی قسم ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔ راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے برا بھلا کہا اور ناراض ہوئے فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دیا کرو اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ،حدیث نمبر٥٦٨

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ ". فَقَالَ ابْنٌ لَهُ : وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا ، وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ. قَالَ : فَسَبَّهُ وَغَضِبَ، وَقَالَ : أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنُوا لَهُنَّ ". وَتَقُولُ : لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ ؟

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 568

عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو اب عورتوں نے حال بنایا ہے تو آپ ضرور انہیں مسجدوں سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا یحییٰ کا بیان ہے کہ میں نے عمرہ سے کہا کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا؟فرمایا۔ ہاں۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٥٦٩

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. قَالَ يَحْيَى : فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ : أَمُنِعَهُ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 569

ابو الاحوص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا عورت کی گھر میں پڑھی ہوئی نماز افضل ہے اس نماز سے جو اس نے اپنے صحن میں پڑھی اور اس کی کوٹھری میں پڑھی ہوئی نماز افضل ہے اس نماز سے جو اس نے اپنے گھر میں پڑھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٥٧٠

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 570

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہ ہم اس دروازے کو عورتوں کے لئے چھوڑ دیں۔ نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر آخری دم تک اس دروازے سے کبھی داخل نہیں ہوئے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، نافع نے روایت کی حضرت عمر سے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر٥٧١

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ ". قَالَ نَافِعٌ : فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : قَالَ عُمَرُ. وَهَذَا أَصَحُّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 571

سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کے لئے لیے دوڑتے ہوئے نہ آیا کروبلکہ معمول کے مطابق چلتے ہوئے آؤ کیونکہ آرام سے چلنا ضروری ہے لہٰذا جتنی نماز مل جائے پڑھ لو اور جتنی رہ جائے اسے پوری کر لو ۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح کہا زبیدی اور ابن ابی ذئب اور ابراہیم بن سعد اور معمر اور شعیب بن ابو حمزہ نے زہری سے کہ جتنی نماز رہ جائے اسے پوری کر لو اکیلے ابن عیینہ نے زہری سے روایت کی کہ اسے پوری کر لو محمد بن عمرو، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے۔ جعفر بن ربیعہ اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کہ پوری کرلو۔ حضرت ابن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی حضرت ابو قتادہ حضرت انس نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی کہ پوری کر لیا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ السَّعْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٧٢

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَائْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : كَذَا قَالَ الزُّبَيْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَمَعْمَرٌ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ : " وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ". وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَحْدَهُ : " فَاقْضُوا ". وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " فَأَتِمُّوا ". وَابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ قَالُوا : " فَأَتِمُّوا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 572

ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لیے سکون و اطمینان سے آیا کرو جتنی نماز ملے وہ پڑھ لیا کرو اور جو نکل گئی وہ پوری کر لیا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ پوری کر لیا کرو۔ اسی طرح ابو رافع نے حضرت ابوذر سے روایت کی ہے کہ اسے پوری کر لو اور پڑھ لیا کرو اور اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ السَّعْيِ إِلَى الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٥٧٣

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ائْتُوا الصَّلَاةَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَا قَالَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " وَلْيَقْضِ ". وَكَذَا قَالَ أَبُو رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو ذَرٍّ رَوَى عَنْهُ : " فَأَتِمُّوا وَاقْضُوا ". وَاخْتُلِفَ فِيهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 573

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا۔ کہ کیا اس پر کوئی صدقہ نہیں کر سکتا کہ یہ اس کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الْجَمْعِ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّتَيْنِ،حدیث نمبر٥٧٤

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ فَقَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 574

جابربن یزید بن اسود نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب کہ وہ نوجوان لڑکے تھے جب آپ نماز پڑھ رہے تھے تو دو آدمیوں نے نہ پڑھیں اور مسجد کے ایک کونے میں بیٹھے رہے آپ نے ان دونوں کو بلایا اور وہ حاضر ہوئے تو ان کی پسلیوں کا گوشت بھی پھڑک رہا تھا فرمایا کہ تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا دونوں عرض گزار ہوئے کہ ہم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر دیکھیں کہ امام نے نماز نہ پڑھی تو اس کے ساتھ نماز پڑھ لے کیونکہ وہ نفل ہو جائے گی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ،حدیث نمبر٥٧٥

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، فَلَمَّا صَلَّى إِذَا رَجُلَانِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ ". قَالَا : قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. فَقَالَ : " لَا تَفْعَلُوا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ ؛ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ ؛ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 575

جابر بن یزید کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ پھر پہلی حدیث کی طرح بیان کیا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ،حدیث نمبر٥٧٦

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمِنًى بِمَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 576

نوح بن صعصعہ سے روایت ہے کہ حضرت یزید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نماز میں تھے پس میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل نہ ہوا جب فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو حضرت یزید کو بیٹھے ہوئے دیکھ کرفرمایا زید کیا تم مسلمان نہیں ہو؟عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ کیوں نہیں میں تو حلقہ بگوش اسلام ہوں فرمایا تو پھر تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکاعرض گزار ہوئے کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا کیونکہ میں سمجھا تھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔فرمایا کہ جب نماز کے لیے آؤ اور لوگوں کو نماز میں دیکھو تو ان کے ساتھ پڑھ لیا کرواگرچہ تم وہ نماز پڑھ چکے ہو کیوں کہ یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی اور وہ فرض رہے گی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ،حدیث نمبر٥٧٧

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ : فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا. فَقَالَ : " أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ ؟ ". قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَسْلَمْتُ. قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ ". قَالَ : إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي، وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ. فَقَالَ : " إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً، وَهَذِهِ مَكْتُوبَةً ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 577

بنی اسد بن خزیمہ کے ایک آدمی نے حدیث بیان کی کہ اس نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا،پھر مسجد میں آتا اور نماز کھڑی ہوتی تو وہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیتا۔ میرے دل میں اس کے متعلق شک گزرتا تھا حضرت ابو ایوب نے فرمایا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا بھی اسے ثواب ملے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ يُصَلِّي مَعَهُمْ،حدیث نمبر٥٧٨

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ فَقَالَ : يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ، فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا. فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 578

عمروبن شعیب سے روایت ہے کہ سلیمان مولیٰ میمونہ نے فرمایا کہ میں بلاط میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو لوگ نماز پڑھ رہے تھے میں نے ان(حضرت ابن عمر)سے کہا کہ آپ کیوں ان کے ساتھ نماز پڑھتے؟فرمایا کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک نماز کو ایک دن میں دودفعہ نہ پڑھا کرو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ إِذَا صَلَّى فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً أَيُعِيدُ،حدیث نمبر٥٧٩

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ - يَعْنِي مَوْلَى مَيْمُونَةَ - قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلَاطِ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقُلْتُ : أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ ؟ قَالَ : قَدْ صَلَّيْتُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 579

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو لوگوں کو وقت پر نماز پڑھائے تو اسے اور لوگوں کو ثواب ملے گا اور جو اس میں کوتاہی کرےگا اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں ہوگا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي جُمَّاعِ الْإِمَامَةِ وَفَضْلِهَا،حدیث نمبر٥٨٠

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 580

سلامہ بنت حر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ مسجد میں ایک دوسرے سے کہیں گے لیکن انہیں نماز پڑھانے کے لیے امام نہیں ملے گا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَافُعِ عَلَى الْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨١

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ ، عَنْ عَقِيلَةَ - امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلَاةٍ لَهُمْ - عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ - أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 581

حضرت ابو مسعود البدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ پڑھنے والا اور پرانا قاری ہو۔ اگر دو آدمی جماعت میں برابر ہوں تو امامت وہ کرے جس نے پہلے ہجرت کی اگر ہجرت میں بھی برابر ہو تو وہ امامت کرے جس کی عمر زیادہ ہو۔ نہ امامت کرے آدمی دوسرے کے گھر میں اور نہ اس کی بادشاہی میں اور نہ بیٹھے اس کی مسند خاص پر مگر اس کی اجازت سے۔ شعبہ نے اسماعیل سے کہا کہ خاص مسند کیا ہے؟ فرمایا کہ اس کے بیٹھنے کی جگہ۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٢

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ ، سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ". قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ : مَا تَكْرِمَتُهُ ؟ قَالَ : فِرَاشُهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 582

ابن معاذ،ابی شعبہ سے روایت کی اس میں فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کی جگہ امامت نہ کرے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یحیٰی قطان نے شعبہ سے روایت کی کہ پرانا قاری۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٣

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ : " وَلَا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَا قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ شُعْبَةَ : " أَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 583

اوس بن ضمعج حضرمی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئےسنا: فرمایا کہ اگر قراءت میں برابر ہوں تو جو سنت رسول کا زیادہ جاننے والا ہوں اگر سنت رسول میں برابر ہوں تو جس نے ہجرت پہلے کی ہو اس روایت میں پرانا قاری نہیں فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٤

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ : " فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ". وَلَمْ يَقُلْ : " فَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ : " وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَةِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 584

حضرت عمر بن سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم ایسی جگہ پر آباد تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے والے ہمارے پاس سے گزرا کرتے ۔جب وہ واپس لوٹتے ہوئے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں یہ آیتیں بتائی ہیں۔ میں ذہین لڑکا تھا اس لئے میں نے کافی قرآن مجید زبانی یاد کرلیا تھا۔ میرے والد ماجد اپنی قوم کا ایک وفد لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے نماز سکھائی اور فرمایا کہ تمہاری امامت وہ کرے جو زیادہ قاری ہوں۔پس حفظ کرنے کے باعث میں قرآن کریم زیادہ جانتا تھا۔ لہذا مجھے آگے کیا تو میں امامت کراتا تھا۔ میرے اوپر ایک چھوٹی سی زرد چادر ہوتی چنانچہ جب میں سجدہ کرتا تو میرا ستر کھل جاتا۔ قبیلے کی عورتوں میں سے ایک نے کہا۔اپنے قاری کا سترتو ہم سے چھپا لیجئے پس لوگوں نے میرے لئے عمانی قمیض خریدی۔ اسلام لانے کے بعد اتنا میں کسی اور بات پر خوش نہیں ہوا تھا میں امامت کراتا اور میری عمر سات یا آٹھ سال تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٥

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ قَالَ : كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا النَّاسُ إِذَا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوا إِذَا رَجَعُوا مَرُّوا بِنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَذَا وَكَذَا، وَكُنْتُ غُلَامًا حَافِظًا، فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا، فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ : " يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ ". وَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ، فَقَدَّمُونِي، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي صَغِيرَةٌ صَفْرَاءُ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ : وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ. فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحِي بِهِ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 585

حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جوڑلگی ہوئی پھٹی سی چادر سے امامت کرتا تھا اور جب میں سجدہ کرتا تو میری پیٹھ ننگی ہو جاتی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٦

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مُوَصَّلَةٍ فِيهَا فَتْقٌ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتِ اسْتِي.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 586

حضرت عمر بن سلمہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ وہ وفد لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ!ہماری امامت کون کرے؟ فرمایا کہ جس نے قرآن مجید زیادہ یاد کیا ہو یا قرآن مجید زیادہ حاصل کر لیا ہو۔تو قوم میں سے میرے برابر کسی نے بھی یاد نہیں کیا تھا پس مجھے آگے کردیا حالاں کہ میں لڑکا تھا اور میرے جسم پر تہبند ہوتا لوگوں کے جسم مجمع کے اندر میں ہوتا تو میں ان کا امام ہوتا اور میں نے ہی آج تک ان کے جنازوں کی نماز پڑھائی ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا روایت کیااسے یزید بن ہارون بن مسعر بن حبیب سے حضرت عمرو بن سلمہ نے فرمایا کہ جب میری قوم کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے روایت کرنے کے متعلق نہیں فرمایا۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٧

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلِمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ يَؤُمُّنَا ؟ قَالَ : " أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ ". أَوْ " أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ". قَالَ : فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مَا جَمَعْتُهُ. قَالَ : فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي، فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ، وَكُنْتُ أُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ قَالَ : لَمَّا وَفَدَ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. لَمْ يَقُلْ : عَنْ أَبِيهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 587

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب سب سے پہلے ہجرت کرنے والے مہاجرین آئے تو عصبہ میں ٹھہرے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ان کی امامت حضرت سالم مولیٰ حذیفہ کرتے تھے اور انہیں سب سے زیادہ قرآن کریم یادتھا ۔ہیثم نے یہ بھی فرمایا کہ ان میں حضرت عمر اور حضرت ابوسلمہ ابن عبد الاسد بھی تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٨

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ح وَحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ الْمَعْنَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا. زَادَ الْهَيْثَمُ : وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 588

حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے یا ان کے ساتھی سے کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان کہا کرو ،پھر اقامت کہو پھر جو عمر میں بڑاہو وہ امامت کرے مسلمہ کی حدیث میں ہے کہ ان دوعلموں میں ہم دونوں برابر تھے۔اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ خالد نے فرمایا کہ میں نے ابوقلابہ سے گزارش کی کہ قرآن کریم کا کو زیادہ آتاتھا؟فرمایا کہ وہ دونوں برابر تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٨٩

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ - أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ - : " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا سِنًّا ". وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ قَالَ : وَكُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ. وَقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ : قَالَ خَالِدٌ : قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ : فَأَيْنَ الْقُرْآنُ ؟ قَالَ : إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 589

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم میں سے بہتر لوگ اذان کہیں اور تمہاری امامت وہ کرے جو تم میں قرآن مجید زیادہ جانتا ہو۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ،حدیث نمبر٥٩٠

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 590

ولید بن عبد اللہ بن جمیع کی دادی کی دادی جان اور عبدالرحمن بن خلاد انصاری سے روایت ہے کہ حضرت ام عرقہ بنت نوفل رضی اللہ تعالی عنہا عرض گزار ہوئیں جب کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم غزوہ بدر فرمانے لگے تھےکہ یا رسول اللہ! مجھے بھی اپنے ساتھ جہاد کی اجازت دیجئے کہ بیماروں کی تیمارداری کروں شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت کا درجہ عطا فرما دے۔فرمایا کہ تم اپنے گھر میں رہواللہ عزوجل تمہیں بھی شہادت مرحمت فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام شہیدہ پڑ گیا وہ اپنے گھر میں قرآن کریم پڑھا کرتی تھی لہذا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن رکھنے کی اجازت طلب کی گئی تو انہیں اجازت مل گئی اور انہوں نے ایک غلام اور ایک لونڈی کو مدبر کیا ہوا تھاایک رات ان دونوں نے چادر سے گلا گھونٹ کرکے انہیں مار دیا اور دونوں بھاگ گئے صبح ہوئی تو حضرت عمر نے لوگوں میں میں اعلان فرمایا کہ جس کو ان دونوں کا علم ہو یا جس نے انہوں نے دیکھا ہو تو انہیں پیش کرے ان کے متعلق حکم فرمایا گیا تو انہیں سولی دی گئی اور مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی انہیں دی گئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر٥٩١

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا، قَالَتْ : قُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ ؛ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً. قَالَ : " قَرِّي فِي بَيْتِكِ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ ". قَالَ : فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةَ. قَالَ : وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا، فَأَذِنَ لَهَا. قَالَ : وَكَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلَامًا لَهَا وَجَارِيَةً، فَقَامَا إِلَيْهَا بِاللَّيْلِ، فَغَمَّاهَا بِقَطِيفَةٍ لَهَا حَتَّى مَاتَتْ، وَذَهَبَا، فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ : مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَيْنِ عِلْمٌ أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْيَجِئْ بِهِمَا. فَأَمَرَ بِهِمَا فَصُلِبَا، فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 591

حضرت ام ورقہ بچ نے عبد اللہ بن حارث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور پہلی حدیث زیادہ مکمل ہے۔فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے اور ان کے لیے مؤذن مقرر کیا جواذان کہا کرتا اور حضرت ام ورقہ کو حکم فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کرو ۔عبدالرحمن کا بیان ہے کہ میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا ہے وہ بالکل بوڑھے تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر٥٩٢

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا، وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا، وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 592

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمایا کرتے۔تین آدمیوں کی اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا ایک جو ایسے لوگوں کا امام بن بیٹھے کہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں دوسرا وہ شخص جو نماز کا وقت گزرنے کے بعد نماز پڑھنے آئے تیسرا وہ جو کسی آزاد مرد یا عورت کو غلام بنالے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ،حدیث نمبر٥٩٣

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَلَاةً : مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا - وَالدِّبَارُ : أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ - وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 593

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو ۔ (ابو داؤد شریف،کتاب الصلاۃ، بَابٌ : إِمَامَةُ الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ،حدیث نمبر ٥٩٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ ؛ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 594

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر حضرت ابن ام مکتوم کو امامت پر مقرر فرمایا حالانکہ وہ نابینا تھے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ الْأَعْمَى،حدیث نمبر٥٩٥

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمَى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 595

ابوعطیہ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہماری اس نماز پڑھنے کی جگہ میں تشریف لائے اور نماز کھڑی ہونے لگی تو ہم نے ان سے کہا کہ آگے کھڑے ہوکر نماز پڑھائیے۔انہوں نے ہم سے فرمایا کہ نماز پڑھانے کے لیے اپنے میں سے کسی آدمی کو آگے کرو اور میں تم سے ابھی تک ایک حدیث بیان کروں گا کہ میں کیوں تمہیں نماز نہیں پڑھاتا۔میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو کسی قوم سے ملنے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ الزَّائِرِ،حدیث نمبر٥٩٦

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ - مَوْلًى مِنَّا - قَالَ : كَانَ مَالِكُ بْنُ حُوَيْرِثٍ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا هَذَا، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُلْنَا لَهُ : تَقَدَّمْ فَصَلِّهْ. فَقَالَ لَنَا : قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 596

ابراہیم نے ہمام سے روایت کی ہے کہ حضرت حذیفہ نے مدائن میں ایک دکان میں کھڑے ہو کر امامت کرنے لگے تو حضرت ابومسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے انہیں قمیص سے پکڑ کر کھینچا۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ لوگ اس بات سے منع کیے جاتے تھے؟کہا کیوں نہیں جب آپ نے کھینچا تو مجھے یہ بات یاد آئی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَقُومُ مَكَانًا أَرْفَعَ مِنْ مَكَانِ الْقَوْمِ،حدیث نمبر٥٩٧

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ وَأَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ ، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ : أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ. قَالَ : بَلَى، قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 597

عدی بن ثابت انصاری سے ایک آدمی نے بیان کیا جو مدائن میں حضرت عمار بن یاسر کے ساتھ تھا تو نماز کھڑی ہونے لگی پس حضرت عمار آگے آگئے اور ایک دکان پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے ۔حضرت حذیفہ آگے بڑھے اور ان کے ہاتھ پکڑ کر حضرت عمار کو نیچے اتار لیا ۔جب حضرت عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت حذیفہ نے ان سے کہا ۔کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی لوگوں کی امامت کرے تو لوگوں سے اونچی جگہ پر نہ کھڑا ہو یا ایسے ہی الفاظ فرمائے ۔حضرت عمار نے کہا کہ جب آ پ نے میرے ہاتھ پکڑے تو اسی لیے میں نے آ پ کی بات مان لی تھی۔ ابوداؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَقُومُ مَكَانًا أَرْفَعَ مِنْ مَكَانِ الْقَوْمِ،حدیث نمبر٥٩٨

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِالْمَدَائِنِ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ عَمَّارٌ، وَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ يُصَلِّي وَالنَّاسُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَتَقَدَّمَ حُذَيْفَةُ، فَأَخَذَ عَلَى يَدَيْهِ، فَاتَّبَعَهُ عَمَّارٌ حَتَّى أَنْزَلَهُ حُذَيْفَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا يَقُمْ فِي مَكَانٍ أَرْفَعَ مِنْ مَقَامِهِمْ ". أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ. قَالَ عَمَّارٌ : لِذَلِكَ اتَّبَعْتُكَ حِينَ أَخَذْتَ عَلَى يَدَيَّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 598

عبید اللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضرت معاذ بن جبل عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے اور اپنی قوم کے پاس جاکر پھر وہی نماز انہیں پڑھایا کرتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ مَنْ يُصَلِّي بِقَوْمٍ وَقَدْ صَلَّى تِلْكَ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٥٩٩

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 599

عمروبن دینار نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت معاذ بن جبل پہلے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ لیتے واپس جاکر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِمَامَةِ مَنْ يُصَلِّي بِقَوْمٍ وَقَدْ صَلَّى تِلْكَ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٦٠٠

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : إِنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 600

ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو گر پڑے اور آپ کی داہنی کروٹ زخمی ہو گئی پس آپ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر پڑھی جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکھو کرو۔ جب وہ اٹھے تو تم بھی اٹھو۔جب وہ سمیع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربناولک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠١

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 601

اعمش سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ایک کھجور کی جڑ پر گرا دیا جس سے آپ کے پیر مبارک میں چوٹ لگ گئی۔ ہم آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ کو حضرت عائشہ کے حجرے میں بیٹھے ہوئے تسبیح پڑھتے پایا۔ ہم آپ کے پیچھے کھڑے رہے اور آپ نے ہم سے کلام نہ فرمایا ہم دوبارہ عیادت کے لیے حاضر ہوئے تو آپ بیٹھے ہوئے فرض نماز ادا فرما رہے تھے ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو آپ نے بیٹھنے کا اشارہ فرمایا جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو اور جب امام کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور ایسے نہ کرو جو ایرانی سرداروں کے لئے کرتے ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٢

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ، فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْمِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ، فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرُبَةٍ لِعَائِشَةَ يُسَبِّحُ جَالِسًا. قَالَ : فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَسَكَتَ عَنَّا، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نَعُودُهُ، فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ جَالِسًا، فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا. قَالَ : فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَإِذَا صَلَّى الْإِمَامُ قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلَا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 602

ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور اس سے پہلے تکبیر نہ کہا کرو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور اس سے پہلے رکوع نہ کیا کرو اور جب وہ سمیع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہا کرو۔ مسلم نے کہا ولک الحمد اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اس سے پہلے سجدہ نہ کیا کرو اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھاکرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اللھم ربنا لک الحمد میرے بعض ساتھیوں نے مجھے سلیمان سے روایت کرتے ہوئے سمجھایا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٣

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ - قَالَ مُسْلِمٌ : وَلَكَ الْحَمْدُ - وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " : أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ سُلَيْمَانَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 603

صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔اس جز کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ اضافہ ہے اور جب وہ قرآن مجید پڑھے تو تم خاموش رہو یہ محفوظ نہیں ہے اور ہمارے نزدیک یہ ابو خالد کا وہم ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٤

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ". بِهَذَا الْخَبَرِ. زَادَ : " وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذِهِ الزِّيادَةُ : " وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ". لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ، الْوَهْمُ عِنْدَنَا مِنْ أَبِي خَالِدٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 604

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے میرے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی تو لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کیا کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھا لیا کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٥

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 605

ابو زبیر سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے، پس ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ تکبیر کہتے تاکہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دی جائےپھر باقی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٦

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ لِيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ. ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 606

محمد بن صالح نے حضرت سعد بن معاذ کے صاحبزادے حصین سے روایت کی ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ امامت کیا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قیادت کے لیے تشریف لائے تو لوگ عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہ !ہمارے امام صاحب بیمار ہیں فرمایا کہ جب وہ بیٹھ کر پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر پڑھا کرو۔ امام ابوداؤد نے فرمایاکہ یہ حدیث متصل نہیں ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ،حدیث نمبر٦٠٧

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا زَيْدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ - مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ. قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ إِمَامَنَا مَرِيضٌ. فَقَالَ : " إِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 607

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے گھی اور کھجوریں پیش کی فرمایا کہ اسے اس کے برتن میں ڈال دو اور اسے اس کے مشکیزے میں کیوں کہ میں روزہ دار ہوں۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور ہمارے ساتھ نفل نماز دو رکعت پڑھیں تو حضرت ام سلیم اور حضرت ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں ثابت نے کہا کہ میرے علم کے مطابق حضرت انس نے فرمایا کہ مجھے آپ نے اپنے دائیں جانب پر کھڑا کیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ،حدیث نمبر٦٠٨

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ، فَأَتَوْهُ بِسَمْنٍ وَتَمْرٍ، فَقَالَ : " رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ، وَهَذَا فِي سِقَائِهِ ؛ فَإِنِّي صَائِمٌ ". ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا. قَالَ ثَابِتٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ عَلَى بِسَاطٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 608

موسی بن انس سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے امامت کی تو ایک عورت کو ان کے دائیں جانب اور ایک کو ان کے پیچھے کھڑا کر لیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ،حدیث نمبر٦٠٩

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّهُ وَامْرَأَةً مِنْهُمْ، فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةَ خَلْفَ ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 609

عطا سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے گھر میں رات گزاری تو رات میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مشکیزے کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس کا منہ بند کر دیا پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے چنانچہ میں بھی کھڑا ہوا آپ کی طرح وضو کیا پھر آکر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا آپ نے مجھے بائیں جانب سے پکڑا اور اپنے پیچھے سے نکال کر اپنی دائیں طرف کھڑا کر لیا پس میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ،حدیث نمبر٦١٠

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَوْكَأَ الْقِرْبَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ كَمَا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 610

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے اس واقعے کو روایت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے میرے سر یا میری زلفوں سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کھڑاکرلیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ،حدیث نمبر٦١١

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ : فَأَخَذَ بِرَأْسِي - أَوْ بِذُؤَابَتِي - فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 611

عبداللہ بن ابو طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ان کی دادی جان حضرت مُلیکہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا جو انہوں نے تیار کیا تھا پس آپ نے اس میں سے کھایا پھر نماز پڑھی اور فرمایا کہ کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ میں اپنے ایک بوریے کی طرف اٹھا جو کثرت استعمال سے سیاہ ہو گیا تھا میں نے اسے پانی سے دھو دیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس پر کھڑے ہو گئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف بنا لیں اور بوڑھی اماں ہمارے پیچھے تھی آپ ہمیں دو رکعتیں پڑھ کر فارغ ہوگئے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً كَيْفَ يَقُومُونَ،حدیث نمبر٦١٢

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ : " قُومُوا فَلْأُصَلِّ لَكُمْ ". قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 612

عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ علقمہ اور اسود نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ہم ان کے دروازے پر کافی دیر بیٹھے رہے تو ایک لونڈی نکلی اس نے دونوں کے لیے اجازت طلب کی تو انہیں اجازت مل گئی پھر وہ کھڑے ہوئے اور میرے اور ان کے درمیان نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً كَيْفَ يَقُومُونَ،حدیث نمبر٦١٣

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ كُنَّا أَطَلْنَا الْقُعُودَ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ، فَاسْتَأْذَنَتْ لَهُمَا، فَأَذِنَ لَهُمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 613

جابربن یزید بن اسود سے حضرت یزید بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی جب آپ فارغ ہوئے تو قبلہ کی جانب سے پھر گئے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَنْحَرِفُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ،حدیث نمبر٦١٤

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ انْحَرَفَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 614

عبید بن براء سے حضرات براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم آپ کے دائیں جانب ہونا پسند کرتے تا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پرنور چہرہ ہماری جانب ہوں۔( قربان جاؤں صحابہ کرام کے اس جزبہ پرکہ حبیب پروردگار کے شربت دیدار کی کے ہمہ وقت شائق رہتے تھے۔) ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَنْحَرِفُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ،حدیث نمبر٦١٥

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 615

عطاء خراسانی نےحضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا امام نے جس جگہ نماز پڑھائی ہے وہاں اور نماز نہ پڑھے بلکہ ہٹ جائے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عطاء خراسانی سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو نہیں پایا۔ (یعنی ان سے ملاقات ثابت نہیں) ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يَتَطَوَّعُ فِي مَكَانِهِ،حدیث نمبر٦١٦

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصَلِّ الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ حَتَّى يَتَحَوَّلَ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَمْ يُدْرِكِ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 616

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جب امام نماز پوری کر کے قعدہ میں بیٹھا ہو اور کلام کرنے سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی نماز پوری ہوگئی اور جن مقتدیوں نے اس کی پیچھے ساری نماز پڑھی ہے ان کی نماز بھی پوری ہوگئی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُحْدِثُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ،حدیث نمبر٦١٧

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ وَقَعَدَ فَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ، وَمَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 617

محمد بن حنفیہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی کنجی طہارت ہے تکبیر (ابتدائی تکبیر)اس کی تحریم اور سلام کرنا (آخر میں دونوں جانب) اس کی تحلیل ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْإِمَامِ يُحْدِثُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ،حدیث نمبر٦١٨

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 618

حضرت معاویہ بن ابوسفیان تعالی عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رکوع اور سجدہ کرنے میں مجھ سے آگے نہ نکل جایا کرو کیوں کہ اگر میں رکوع میں پہلے چلا جاؤں تو تم مجھے پالوگے اور اسی طرح جب سر اٹھاؤں کیوں کہ میرا جسم اب بھاری ہو گیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦١٩

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ ؛ فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ ؛ إِنِّي قَدْ بَدُنْتُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 619

عبداللہ بن یزید حطمی نے خطبہ دیتے ہوئے حضرت براءرضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی جو جھوٹے نہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ لوگ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے رہتے جب دیکھتے کہ حضور سجدے میں چلے گئے ہیں تب سجدے میں جاتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦٢٠

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ يَخْطُبُ النَّاسَ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ - وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ - أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامُوا قِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدْ سَجَدَ سَجَدُوا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 620

عبد الرحمن بن ابو لیلی سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم میں سے اس وقت تک کوئی اپنی پیٹھ کو نہ جھکا تا جب تک نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو رکوع میں نہ دیکھ لیا کرتا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦٢١

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ . قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ ؛ أَبَانٌ وَغَيْرُهُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 621

محارب بن دثار سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن یزید کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث بیان کی کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو حضور رکوع میں چلے جاتے تو وہ جاتے اور جب سمیع اللہ لمن حمدہ کہہ لیا جاتا تو برابر کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کی مبارک پیشانی کو زمین پر دیکھ لیتے پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیروی میں سجدہ کرتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦٢٢

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". لَمْ نَزَلْ قِيامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 622

محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس بات سے نہیں ڈرتا جب کہ وہ سجدےسےاپنا سر اٹھا لیتا ہے حالانکہ امام سجدے میں ہوتا ہے کہ اس کا سر گدھے جیسا ہو جائے یا وہ گدھے کی صورت میں تبدیل ہو جائے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ التَّشْدِيدِ فِيمَنْ يَرْفَعُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَوْ يَضَعُ قَبْلَهُ،حدیث نمبر٦٢٣

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا يَخْشَى - أَوْ أَلَا يَخْشَى - أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ ؟ ". أَوْ : " صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ ؟ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 623

مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی ترغیب دی اور لوگوں کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے واپس لوٹنے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِيمَنْ يَنْصَرِفُ قَبْلَ الْإِمَامِ،حدیث نمبر٦٢٤

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ بُغَيْلٍ الْمُرْهِبِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 624

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ایک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٥

الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ؟ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 625

اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک کپڑے کے ساتھ اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس میں سے اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٦

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 626

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کے دونوں کنارے ان کی مخالفت کندھوں پر ڈال لیا کرے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٧

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَعْنَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيُخَالِفْ بِطَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 627

ابو امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ اس کے دونوں کنارے ان کے مخالف کندھوں پر ڈالے۔ (یعنی کپڑا لپیٹ کر جسم چھپا لینا چاہیے) ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٨

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 628

قیس بن طلق سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت طلق بن علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ایک آدمی آکر عرض گزار ہوا کہ یا نبی اللہ! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق کیا ارشاد ہے?پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے تہبند اور چادر کو ایک دوسرے پر منطبق کر کے دونوں کو اپنے اوپر لپیٹ لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاکہ کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ،حدیث نمبر٦٢٩

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزَارَهُ، طَارَقَ بِهِ رِدَاءَهُ ، فَاشْتَمَلَ بِهِمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَنْ قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 629

ابو حازم سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے کتنے ہی آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے تنگی کے باعث اپنی ازاریں گردنوں کے پیچھے باندھی ہوئی تھیں نماز میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے لڑکوں کی طرح ایک کہنے والے نے کہا اے عورتوں کے گروہ! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرو جب تک مرد نہ اٹھا لیا کریں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَعْقِدُ الثَّوْبَ فِي قَفَاهُ ثُمَّ يُصَلِّي،حدیث نمبر٦٣٠

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزْرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ كَأَمْثَالِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ قَائِلٌ : يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 630

ابو صالح نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کپڑے سے نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَى غَيْرِهِ،حدیث نمبر٦٣١

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 631

موسی بن ابراہیم سے روایت ہے ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ! میں شکاری آدمی ہوں لہذا ایک کپڑے میں نماز پڑھ لیا کروں؟فرمایا ہاں لیکن اسے باندھ لیا کرو خواہ کانٹے کے ساتھ ہی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر٦٣٢

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ، أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ، وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 632

امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی طرح کہا ابو حرص،محمد بن عبدالرحمن بن ابوبکر سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر نے فرمایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہماری امامت کی اور قمیص کے علاوہ ان کے اوپر چادر بھی نہ تھی جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایک قمیص میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ،حدیث نمبر٦٣٣

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي حَوْمَلٍ الْعَامِرِيِّ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ : كَذَا قَالَ، وَالصَّوَابُ : أَبُو حَرْمَلٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَمَّنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 633

عباد بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلا تو نماز پڑھنے کھڑا ہوا اور میرے اوپر ایک چادر تھی میں اس کے دونوں کناروں کو الٹنے لگا لیکن ان میں اتنی گنجائش نہ تھی لیکن اس میں کنارے لگے ہوئے تھے میں نے لپیٹ کر اس کے دونوں کناروں کو باندھ دیا اور جھک گیا کہ مبادا گرجائے پھر میں آکر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گھماتے ہوئے آپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا ۔پھر ابن سخر آکر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گئے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجھے کن انکھیوں سے دیکھتے رہے جسے میں سمجھ نہ سکا،پھر سمجھا تو آپ نے مجھے ازار باندھنے کا اشارہ فرمایا۔جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایااے جابر!میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں حاضر ہوں۔فرمایا کہ جب کپڑے میں وسعت ہوتو دونوں کنارے مخالف کندھوں پر ڈال لیا کرو اور جب تنگ ہوتو اسے کمرے سے باندھا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا يَتَّزِرُ بِهِ،حدیث نمبر٦٣٤

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : أَتَيْنَا جَابِرًا - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ : سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا، فَلَمْ تَبْلُغْ لِي، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا، ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا، ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا لَا تَسْقُطُ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ. قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا جَابِرُ ". قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حِقْوِكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 634

نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا یا یہ کہا کہ حضرت عمر نے فرمایا۔ جب تمہارے پاس دو کپڑے ہوں تو ان کے ساتھ نماز پڑھا کرو اور جب ایک ہی کپڑا ہو تو اسے تہبندکی طرح باندھ لو اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکایا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ من قال يَتَّزِرُ بِهِ إِذَا كَانَ ضَيِّقًا ،حدیث نمبر٦٣٥

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَوْ قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ، وَلَا يَشْتَمِلِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 635

عبد اللہ بن بریدہ کے والد ماجد نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چادر کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا جب کہ اسے لپیٹا نہ جائے اور شلوار کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرما یا جب کہ آدمی کے اوپر چادر نہ ہو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ من قال يَتَّزِرُ بِهِ إِذَا كَانَ ضَيِّقًا ،حدیث نمبر٦٣٦

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى فِي لِحَافٍ لَا يُتَوَشَّحُ بِهِ، وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 636

ابوعثمان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو نماز میں ازراہِ تکبر اپنی ازار کو لٹکائے گا تو اللہ تعالی کو اس کی حلال و حرام کی کوئی پرواہ نہیں۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس کو روایت کیا ایک جماعت نے عاصم سے حضرت ابن مسعود پر موقوف کرتے ہوئے ان میں سے حماد بن یزید ،ابو الاحوص اور ابو معاویہ بھی ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَاب الاسبال في الصلوة،حدیث نمبر٦٣٧

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ فِي صَلَاتِهِ خُيَلَاءَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَامٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى هَذَا جَمَاعَةٌ عَنْ عَاصِمٍ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 637

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ایک آدمی ازار لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اسے فرمایا جاؤ وضو کرو۔ وہ وضو کر کے آیا تو فرمایا۔جاؤ وضو کرو۔وہ گیا اور پھر وضو کرکے آیا تو فرمایا۔جاؤوضو کرو۔ایک شخص عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!آپ نے اسے کس وجہ سے وضو کرنے کا حکم فرمایا ہے؟فرمایا کہ یہ تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالی اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو تہبند لٹکائے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَاب الاسبال في الصلوة،حدیث نمبر٦٣٨

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ ". فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ ". فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 638

محمد بن زید بن قنفذ نے اپنی والدہ ماجدہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم دوپٹے اور لمبے کرتے کے ساتھ نماز پڑھتی ہیں جو پیروں کے اوپر والے حصوں کو چھپا لیتا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَمْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ،حدیث نمبر٦٣٩

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ : مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَتْ : تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 639

حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا عورت کرتے اور دوپٹے سے نماز پڑھ سکتی ہے جب کہ اس کے جسم پر تہبند نہ ہو؟فرمایا کہ جب کرتا اتنا لمبا ہو کہ پیروں کے ظاہری حصے کو چھپالے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث کو مالک بن انس ،عکرمہ بن مضر ،حفغ بن غیاث،اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب،ابن اسحاق نے محمد بن زید ان کی والدہ ماجدہ حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا اور کسی ایک نے بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا نام نہیں لیا بلکہ اسے حضرت ام سلمہ پر موقوف کیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابٌ فِي كَمْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ،حدیث نمبر٦٤٠

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ : عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ ؟ قَالَ : " إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ قَصَرُوا بِهِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 640

صفیہ بنت حارث نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ جوان عورت کی نماز قبول نہیں فرماتا مگر دوپٹے کے ساتھ ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے سعید یعنی ابن ابوعروجہ،قتادہ،حسن نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرسلا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْمَرْأَةِ تُصَلِّي بِغَيْرِ خِمَارٍ،حدیث نمبر٦٤١

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ سَعِيدٌ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ - عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 641

ایوب نے محمد سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا حضرت صفیہ ام طلحہ کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھ کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تشریف فرما ہوئے اور وہاں ایک لڑکی تھی تو آپ نے اپنی لنگی میری جانب پھینکتے ہوئے مجھ سے فرمایا کہ اس کے دوبرابر حصے کرکے ایک اس لڑکی کو دےدو اور دوسرا حصہ اس لڑکی کو جو ام سلمہ کے پاس ہے کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں جوان ہوچکی ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے ہشام نے بھی محمد بن سیرین سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْمَرْأَةِ تُصَلِّي بِغَيْرِ خِمَارٍ،حدیث نمبر٦٤٢

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةِ الطَّلَحَاتِ، فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا، فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ، فَأَلْقَى لِي حَقْوَهُ ، وَقَالَ لِي : " شُقِّيهِ بِشُقَّتَيْنِ، فَأَعْطِي هَذِهِ نِصْفًا وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا ؛ فَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ ". أَوْ : " لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 642

ابراہیم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل (کپڑا لٹکانے)اور منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٦٤٣

عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ عِسْلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 643

ابن جریج کا بیان ہے کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے نہیں دیکھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ: عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٦٤٤

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ابْنُ الطَّبَّاعِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ عَطَاءً يُصَلِّي سَادِلًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا يُضَعِّفُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 644

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحاف میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد (معاذ) کو شک ہوا ہے (کہ حضرت عائشہ نے لفظ: شعرنا کہا، یا: لحفنا ) ۔ (سنن ابو داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : الصَّلَاةُ فِي شُعُرِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر ٦٤٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا. أَوْ : لُحُفِنَا. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : شَكَّ أَبِي.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 645

حضرت ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے،اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو حضرت ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ غصہ سے حضرت بورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : الرَّجُلُ يُصَلِّي عَاقِصًا شَعْرَهُ،حدیث نمبر ٦٤٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ وَهُوَ يُصَلِّي قَائِمًا، وَقَدْ غَرَزَ ضَفْرَهُ فِي قَفَاهُ، فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ، فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ ". يَعْنِي مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ ؛ يَعْنِي مَغْرِزَ ضَفْرِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 646

کریب مولیٰ ابن عباس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے اپنے سر کے پیچھے بالوں کا گچھا باندھا ہوا تھا یہ ان کے پیچھے کھڑے ہوکر اسے کھولنے لگے اور وہ خاموش رہے جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت ابن عباس اس کی جانب متوجہ ہو کر کہا کہ آپ نے میرے سر کو ہاتھ کیوں لگایا؟کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے نماز میں کسی کے ہاتھ پیچھے باندھ ہوئے ہوں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي عَاقِصًا شَعْرَهُ،حدیث نمبر٦٤٧

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ، وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : مَا لَكَ وَرَأْسِي ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 647

ابن سفیان سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے فتح مکہ کے روز نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے نعلین مبارک اتارے بائیں جانب سے ۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٤٨

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ ابْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفَتْحِ وَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 648

حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ نے سورہ المومنون کی تلاوت شروع کر دی یہاں تک کہ جب حضرت موسی اور حضرت ہارون یا حضرت موسی و حضرت عیسی کے ذکر پر پہنچے۔ابن عباد کو اس میں شک ہے یا شیوخ نے اختلاف کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو کھانسی آئی تو قراءت کو چھوڑ کر رکوع کیا اور حضرت عبداللہ بن سائب اس وقت وہاں موجود تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٤٩

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو عَاصِمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ - أَوْ ذِكْرُ مُوسَى وَعِيسَى. ابْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ، أَوِ اخْتَلَفُوا - أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ، فَحَذَفَ، فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ لِذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 649

ابونضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے اپنے نعلین مبارک اتار دیے اور انہیں بائیں جانب رکھ دیا جب لوگوں نے یہ بات دیکھی تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نماز مکمل کرلیں تو فرمایا کہ تم نے کس وجہ سے اپنے جوتے اتارے؟عرض گزار ہوئے کہ ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنے نعلین مبارک اتار دیے لہذا ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں نجاست لگی ہوئی ہے۔ فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے اور اپنے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی دیکھے تو اسے رگڑ دے اور ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٥٠

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ : " مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ ؟ ". قَالُوا : رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا ". أَوْ قَالَ : " أَذًى ". وَقَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا - أَوْ أَذًى - فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 650

حضرت بکر بن عبداللہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسے روایت کرتے ہوئے کہا۔دونوں میں نجاست تھی فرمایا کہ دونوں جگہ لفظ نجاست ہے ۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٥١

حَدَّثَنَا مُوسَى - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ : " فِيهِمَا خَبَثٌ ". قَالَ فِي الْمَوْضِعَيْنِ : " خَبَثٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 651

حضرت شداد بن اوس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کی مخالفت کرو کیوں کہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٥٢

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَالِفُوا الْيَهُودَ ؛ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 652

عمروبن شعیب ان کے والد ماجد ان کے جد امجد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ننگے پیر اور نعلین مبارک پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ،حدیث نمبر٦٥٣

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 653

یوسف بن ماہک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے دائیں جانب نہ رکھے اور نہ بائیں جانب کیونکہ وہ دوسرے آدمی کی دائیں جانب ہے مگر یہ کہ اس کے بائیں جانب کوئی آدمی نہ ہو اور چاہیے کہ انہیں اپنے دونوں پیروں کے درمیان میں رکھ لے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْمُصَلِّي إِذَا خَلَعَ نَعْلَيْهِ أَيْنَ يَضَعُهُمَا،حدیث نمبر٦٥٤

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَا عَنْ يَسَارِهِ ؛ فَتَكُونَ عَنْ يَمِينِ غَيْرِهِ، إِلَّا أَلَّا يَكُونَ عَنْ يَسَارِهِ أَحَدٌ، وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 654

سعید بن ابو سعید کے والد ماجد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو جوتے اتار کر ان کے ذریعے دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے لہذا انہیں اپنے دونوں پیروں کے درمیان میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْمُصَلِّي إِذَا خَلَعَ نَعْلَيْهِ أَيْنَ يَضَعُهُمَا،حدیث نمبر٦٥٥

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا، لِيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 655

عبداللہ بن شداد سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے اور میں حالت حیض کے اندر آپ کے برابر ہوتی جب آپ سجدے میں جاتے تو کبھی آپ کا کپڑا مجھ سے لگ بھی جاتا اور آپ بورئیے پر نماز پڑھا کرتے ۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْخُمْرَةِ،حدیث نمبر٦٥٦

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ، وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ .

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 656

انس بن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک انصاری عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ!میں موٹا آدمی ہوں اور موٹاپے کے باعث آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا،اس نے آپ کے لیے کھانا تیار کروایا اور اپنے گھر آپ کی دعوت کی۔تاکہ آپ نماز پڑھیں اور میں آپ کا نماز پڑھنا دیکھ کر پیروی کروں۔پس انہوں نے آپ کے لیے بوریئے کا ایک کنارا دھویا۔آپ کھڑے ہو گئےاور دورکعتیں پڑھیں۔فلاں بن جارود نے حضرت انس بن مالک سے دریافت کیا کہ کیا حضور چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟فرمایا کہ میں نے تو کبھی اسے پرھتے نہیں دیکھا سوائے اس دن کے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ،حدیث نمبر٦٥٧

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ ضَخْمٌ - وَكَانَ ضَخْمًا - لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ، وَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، وَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ، فَصَلِّ حَتَّى أَرَاكَ كَيْفَ تُصَلِّي فَأَقْتَدِيَ بِكَ. فَنَضَحُوا لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ كَانَ لَهُمْ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ فُلَانُ بْنُ الْجَارُودِ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَكَانَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : لَمْ أَرَهُ صَلَّى إِلَّا يَوْمَئِذٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 657

قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب ام سلیم سے ملنے جاتے اور نماز کا وقت ہو جاتا تو ہمارے فرش پر نماز پڑھ لیتے جو بوریئے کا تھا اور اسے پانی سے دھو دیا جاتا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ،حدیث نمبر٦٥٨

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الذَّرَّاعُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ فَتُدْرِكُهُ الصَّلَاةُ أَحْيَانًا، فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ لَنَا، وَهُوَ حَصِيرٌ نَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 658

ابوعون اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بوریئے اور دباغت کیے ہوئے چمڑے پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ،حدیث نمبر٦٥٩

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، بِمَعْنَى الْإِسْنَادِ وَالْحَدِيثِ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ وَالْفَرْوَةِ الْمَدْبُوغَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 659

بکر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ شدت کی گرمی میں نماز پڑھا کرتے جب ہمارے لیے زمین پر اپنی پیشانی رکھنا مشکل ہو جاتا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیا کرتے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَسْجُدُ عَلَى ثَوْبِهِ،حدیث نمبر٦٦٠

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا غَالِبٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 660

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِىُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فِى الصُّفُوفِ الْمُقَدَّمَةِ فَحَدَّثَنَا عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرْفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَلَّ وَعَزَّ ». قُلْنَا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ « يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُقَدَّمَةَ وَيَتَرَاصُّونَ فِى الصَّفِّ ».

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 661

ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو۔ یہ (جملہ آپ نے تاکید کے طور پر) تین بار کہا۔ اللہ کی قسم تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں پھوٹ ڈال دے گا ،راوی کہتے ہیں: تو میں نے آدمی کو اپنے ساتھی کے مونڈھے سے مونڈھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتے دیکھا۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ،باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٢)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ أَبِى الْقَاسِمِ الْجَدَلِىِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ « أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ». ثَلاَثًا « وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ». قَالَ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ وَكَعْبَهُ بِكَعْبِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 662

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے،جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں(اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا)یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہوگیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُسَوِّينَا فِى الصُّفُوفِ كَمَا يُقَوَّمُ الْقِدْحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ أَخَذْنَا ذَلِكَ عَنْهُ وَفَقِهْنَا أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ بِوَجْهِهِ إِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِهِ فَقَالَ « لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ ».

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 663

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے(یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے)اور فرماتے تھے:(صفوں سے)آگے پیچھے مت ہونا،ورنہ تمہارے دل مختلف ہوجائیں گے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَأَبُو عَاصِمِ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ، يَمْسَحُ صُدُورَنَا وَمَنَاكِبَنَا وَيَقُولُ : " لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ". وَكَانَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 664

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں درست فرماتے،پھر جب ہم لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ الله أكبر کہتے۔ (سنن ابی داؤد شریف، کتاب الصلاۃ،بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَغِيرَةَ - عَنْ سِمَاكٍ قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا اسْتَوَيْنَا كَبَّرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 665

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ (قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ (کثیر بن مرہ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے)کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو،اور (صفوں کے اندر کا) شگاف بند کرو،اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لينوا بأيدي إخوانکم کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد شریف، کتاب الصلاۃ ،بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوف،حدیث نمبر ٦٦٦)

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ - وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ أَتَمُّ - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - قَالَ قُتَيْبَةُ : عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ . لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عُمَرَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَقِيمُوا الصُّفُوفَ، وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ، وَسُدُّوا الْخَلَلَ، وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ - لَمْ يَقُلْ عِيسَى : بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ - وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَبُو شَجَرَةَ : كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَمَعْنَى : " وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ " : إِذَا جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الصَّفِّ فَذَهَبَ يَدْخُلُ فِيهِ، فَيَنْبَغِي أَنْ يُلِينَ لَهُ كُلُّ رَجُلٍ مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 666

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو،اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو،اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابُ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٧)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُصُّوا صُفُوفَكُمْ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا، وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 667

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست رکھو کیوں کہ صف کی درستگی تکمیل نماز میں سے ہے(یعنی اس کے بغیر نماز ناقص رہتی ہے) (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ؛ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 668

صاحب مقصورہ(محمد بن مسلم بن سائب)کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بغل میں نماز پڑھی،تو انہوں نے کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا علم نہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے: برابر ہوجاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٦٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ - صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ - قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا الْعُودُ ؟ فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ. قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهِ فَيَقُولُ : " اسْتَوُوا وَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 669

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے،پھر (نمازیوں کی طرف) متوجہ ہوتے،اور فرماتے: سیدھے ہوجاؤ، اپنی صفیں درست کرلو ،پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں درست کرلو ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٧٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ أَخَذَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ : " اعْتَدِلُوا، سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ". ثُمَّ أَخَذَهُ بِيَسَارِهِ فَقَالَ : " اعْتَدِلُوا، سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 670

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے ۔ ( سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٧١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 671

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ،حدیث نمبر ٦٧٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 672

عبد الحمید بن محمود سے روایت ہے کہ میں نے جمعہ کی نماز حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ پڑھی ۔پس ہمیں(ہجوم)نے ستون کی جانب دھکیل دیا تو ہم ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہو گئے۔حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں ہم اس بات سے بچا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصُّفُوفِ بَيْنَ السَّوَارِي،حدیث نمبر٦٧٣

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَدَفَعْنَا إِلَى السَّوَارِي ، فَتَقَدَّمْنَا وَتَأَخَّرْنَا، فَقَالَ أَنَسٌ : كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 673

ابومعمر نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سن رسیدہ لوگ میرے نزدیک رہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں،پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الْإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ،حدیث نمبر٦٧٤

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 674

علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھرمزکورہ حدیث کی طرح روایت کی۔یہ زیادہ ہے آگے پیچھے نہ رہا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دیاجائے گا اور بازاروں کی طرح شور مچانے سے بچا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الْإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ،حدیث نمبر٦٧٥

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. وَزَادَ : " وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 675

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی دائیں جانب کھڑے ہونے پر اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں کی طرف سے رحمت نازل ہوتی ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الْإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ،حدیث نمبر٦٧٦

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 676

عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے کہ حضرت ابومالک اشعری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں ؟فرمایا کہ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلے مردوں نے صفیں بنائیں اور ان کے پیچھے لڑکوں نے صف پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی،پھر آپ کی نماز کا ذکر کیا پھر فرمایا کہ نماز یہ ہوتی ہے۔عبدالاعلی نے کہا کہ میرے خیال میں فرمایا کہ میری امت کی نماز یہ ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَقَامِ الصِّبْيَانِ مِنَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٧٧

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ الرَّقَّامُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ ، حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَفَّ الرِّجَالَ، وَصَفَّ خَلْفَهُمُ الْغِلْمَانَ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ. فَذَكَرَ صَلَاتَهُ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا صَلَاةُ. قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ : " صَلَاةُ أُمَّتِي ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 677

سہیل بن ابوصالح کے والد ماجد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی ہے اور سب سے بری پچھلی ہے اور عورتوں کی بہتر صف پچھلی اور بری سب سے اگلی ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ صَفِّ النِّسَاءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ،حدیث نمبر٦٧٨

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَاءَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 678

ابوسلمہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ پہلی صف سے ہمیشہ تاخیر کرتے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں جہنم میں پیچھے کردے گا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ صَفِّ النِّسَاءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ،حدیث نمبر٦٧٩

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 679

ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو ان سے فرمایا کہ آگے آجاؤ اور میری پیروی کرو تاکہ بعد والی تمہاری پیروی کریں اور لوگ ہمیشہ پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں جہنم میں ڈال دےگا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ صَفِّ النِّسَاءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ،حدیث نمبر٦٨٠

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ لَهُمْ : " تَقَدَّمُوا فَأْتِمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 680

یحییٰ بن بشیر بن خلاد کی والدہ ماجدہ محمد بن کعب قرظی کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام کو درمیان میں کھڑاکرو اور خالی جگہوں کو پر کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَقَامِ الْإِمَامِ مِنَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٨١

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بَشِيرِ بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَسِّطُوا الْإِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 681

عمروبن راشد نے حضرت وابصہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف سے پیچھے اکیلا نماز پڑھتے دیکھا تو اسے دہرانے کا حکم فرمایا۔سلیمان بن حرب کا بیان ہے کہ نماز۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي وَحْدَهُ خَلْفَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٨٢

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ وَابِصَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ. قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ : الصَّلَاةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 682

حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رکوع میں تھے ان کا بیان ہے کہ میں نے صف سے پیچھے ہی رکوع کرلیا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی تمہاری حرص کو بڑھائے لیکن آئندہ ایسا نہ کرنا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَرْكَعُ دُونَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٨٣

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ. قَالَ : فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 683

زیاد اعلم نےحسن سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ آئے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رکوع میں تھے انہوں نے صف سے پیچھے ہی رکوع کرلیا اور پھر چل کر صف میں شامل ہو گئے۔جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کرلی تو فرمایا۔تم میں سے صف سے پرے کس نے رکوع کیا اور پھر چل کر صف میں ملا؟حضرت ابوبکرہ عرض گزار ہوئے کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہاری حرص کو زیادہ کرے لیکن آئندہ نہ کرنا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الرَّجُلِ يَرْكَعُ دُونَ الصَّفِّ،حدیث نمبر٦٨٤

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ رَاكِعٌ، فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ : " أَيُّكُمُ الَّذِي رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : زِيَادٌ الْأَعْلَمُ : زِيَادُ بْنُ فُلَانِ بْنِ قُرَّةَ، وَهُوَ ابْنُ خَالَةِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 684

موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد ماجد حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر بھی کوئی چیز رکھ لوگے تو کوبھی تمہارے سامنے سے گزرے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ،حدیث نمبر٦٨٥

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَعَلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ مِثْلَ مُؤخِرَةِ الرَّحْلِ فَلَا يَضُرُّكَ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 685

حسن بن علی،عبدالرزاق،ابن جریج سے عطا نے فرمایا کہ پچھلی لکڑی ایک ہاتھ یا اس سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ،حدیث نمبر٦٨٦

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ : آخِرَةُ الرَّحْلِ : ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 686

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب عید کے روز نکلے تو آپ نے نیزے حکم فرمایا جو آپ کے سامنے کھڑا کیا گیا آپ نے اس کی جانب نماز پڑھی ۔اور لوگ آ کے پیچھے تھے اور سفر میں بھی آپ ایسا ہی کیا کرتے پھر حکام نے اسے اپنا لیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ،حدیث نمبر٦٨٧

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 687

عون بن ابو حجیفہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بطحاء میں نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے نیزہ تھا۔ظہر کی دورکعتیں اور عصر کی دورکعتیں نیزے کے پرے سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ،حدیث نمبر٦٨٨

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ بِالْبَطْحَاءِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ خَلْفَ الْعَنَزَةِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 688

ابوعمرو بن محمد بن حریص نے اپنے دادا جان سے سنا جو حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے۔اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی کھڑی کرے اگر لاٹھی نہ ملے تو اپنے سامنے خط کھینچ لے۔پھر اسے سامنے سے گزرنے والا کوئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا،حدیث نمبر٦٨٩

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ حُرَيْثًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 689

بنی عزرہ کے ایک شخص ابومحمد بن عمروبن حریث کے جد امجد حریث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ابو القاسم محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا پھر خط والی حدیث ذکر کی کی۔سفیان نے کہا کہ ہم ایسی کوئی چیز نہیں پاتے جس سے اس حدیث کو مضبوط کریں۔ صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔ ابن مدینی نے سفیان سے کہا کہ لوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں تو انہوں نے تھوڑی دیر سوچ کر فرمایا کہ مجھے تو ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے سفیان نے کہا کہ اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے اس بزرگ ابومحمد کو تلاش کیا تو پا لیا تو اس سے بات غلط ملط ہوگئی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے خط کی کیفیت کے بارے میں کئی دفعہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے مسدد کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابن داؤد نے خط کو طول میں بتایا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا،حدیث نمبر٦٩٠

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ - يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ - عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ. فَذَكَرَ حَدِيثَ الْخَطِّ. قَالَ سُفْيَانُ : لَمْ نَجِدْ شَيْئًا نَشُدُّ بِهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَجِئْ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. قَالَ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ : إِنَّهُمْ يَخْتَلِفُونَ فِيهِ. فَتَفَكَّرَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : مَا أَحْفَظُ إِلَّا أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ عَمْرٍو. قَالَ سُفْيَانُ : قَدِمَ هَاهُنَا رَجُلٌ بَعْدَمَا مَاتَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، فَطَلَبَ هَذَا الشَّيْخُ أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّى وَجَدَهُ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَخُلِطَ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ وَصْفِ الْخَطِّ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَقَالَ : هَكَذَا عَرْضًا مِثْلَ الْهِلَالِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَسَمِعْتُ مُسَدَّدًا قَالَ : قَالَ ابْنُ دَاوُدَ : الْخَطُّ بِالطُّولِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ هَكَذَا ؛ يَعْنِي بِالْعَرْضِ حَوْرًا دَوْرًا مِثْلَ الْهِلَالِ ؛ يَعْنِي مُنْعَطِفًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 690

سفیان بن عیینہ نے فرمایا کہ میں نے شریک کو دیکھا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ جنازے کی نماز پڑھی پھر جب عصر کی فرض نماز پڑھی تو اپنی ٹوپی کو اپنے سامنے رکھ لیا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا،حدیث نمبر٦٩١

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ شَرِيكًا صَلَّى بِنَا فِي جِنَازَةٍ الْعَصْرَ، فَوَضَعَ قَلَنْسُوَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ. يَعْنِي فِي فَرِيضَةٍ حَضَرَتْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 691

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اونٹ کی طرف نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ إِلَى الرَّاحِلَةِ،حدیث نمبر٦٩٢

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَوَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَى بَعِيرِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 692

ضباعہ بنت مقداد بن اسود سے روایت ہے ان کے والد ماجد حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کسی لکڑی، ستون یا درخت کی جانب نماز پڑھی ہو مگر اسے اپنے دائیں یا دوسرے ابر کے بالمقابل رکھا اور اسے آپ نے بالکل سامنے نہیں رکھا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ إِذَا صَلَّى إِلَى سَارِيَةٍ أَوْ نَحْوِهَا أَيْنَ يَجْعَلُهَا مِنْهُ،حدیث نمبر٦٩٣

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ ، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيِّ ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ، وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 693

محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سوئےہوئے اور باتیں کرنے والے کی جانب نماز نہ پڑھا کرو۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الصَّلَاةِ إِلَى الْمُتَحَدِّثِينَ وَالنِّيَامِ،حدیث نمبر٦٩٤

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ - يَعْنِي لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ - : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُصَلُّوا خَلْفَ النَّائِمِ وَلَا الْمُتَحَدِّثِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 694

،نافع بن جبیر نے حضرت سہل بن ابوحثمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی سترے کی جانب نماز پڑھے تو اس کے نزدیک رہے تاکہ شیطان اس کی نماز کو نہ توڑ سکے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے واقد بن محمد،صفوان،محمد بن سہل نے اپنے والد ماجد سے یا محمد بن سہل نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے۔بعض حضرات نے کہا کہ نافع بن جبیر نے حضرت سہل بن سعد سے اور اس کی اسناد میں اختلاف ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الدُّنُوِّ مِنَ السُّتْرَةِ،حدیث نمبر٦٩٥

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، وَابْنُ السَّرْحِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا، لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ - أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ بَعْضُهُمْ : عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ. وَاخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 695

عبدالعزیز بن ابوحازم کے والد ماجد نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ کے درمیان بکری کی گزرگاہ کے برابر فاصلہ ہوتا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ خبر نفیلی کی ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ الدُّنُوِّ مِنَ السُّتْرَةِ،حدیث نمبر٦٩٦

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ وَالنُّفَيْلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلٍ قَالَ : وَكَانَ بَيْنَ مَقَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مَمَرُّ عَنْزٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الْخَبَرُ لِلنُّفَيْلِيِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 696

عبدالرحمن بن ابوسعید خدری نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے جہاں تک ہوسکے اسے روکے اور اگر باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٦٩٧

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ؛ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 697

عبدالرحمن بن ابوسعید خدری نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے سترہ کی جانب نماز پڑھنی چاہیے اور اس سے نزدیک رہے۔پھر باقی حدیث معنا بیان کی۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٦٩٨

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا ". ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 698

سلیمان بن دربان ابوعبیدہ کا بیان ہے کہ میں نے عطاء بن یزید لیثی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔میں ان کے سامنے گزرنے لگا تو انہوں نے مجھے رکنے کہہ دیا۔پھر فرمایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تم میں سے کسی کو اپنے اور قبلہ کے درمیان گزرنے سے روک سکتا ہے تو وہ ایسا کرے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٦٩٩

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ اللَّخْمِيُّ ، لَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ حَاجِبُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَرَدَّنِي، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَلَّا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قِبْلَتِهِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 699

ابوصالح کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا اور ان سے سنا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ مروان کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم سے کوئی سترہ کی جانب نماز پڑھے پھر کوئی سامنے سے گزرنا چاہے تو اسے اس کے سینے میں مارے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٧٠٠

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - عَنْ حُمَيْدٍ - يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ - قَالَ : قَالَ أَبُو صَالِحٍ : أُحَدِّثُكَ عَمَّا رَأَيْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ : دَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ ؛ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ؛ فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ : يَمُرُّ الرَّجُلُ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ يَدَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي فَأَمْنَعُهُ، وَيَمُرُّ الضَّعِيفُ فَلَا أَمْنَعُهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 700

بسر بن سعید کو زید بن خالد جہنی نے حضرت ابوجہیم کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق کیا فرمایا ہے۔حضرت ابوجہیم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانے کہ اس پر کتنا گناہ لازم آیا تو وہ چالیس سال تک کھڑے رہنے کو نمازی کے سامنے سے گزرجانے کی نسبت بہتر شمار کرے۔ابونضر نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ حضور نے چالیس دن فرمائے یا مہینے یا سال۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ مِنَ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي،حدیث نمبر٧٠١

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ : مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ؟ فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ". قَالَ أَبُو النَّضْرِ : لَا أَدْرِي قَالَ : أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 701

عبداللّٰہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔حضرت حفص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو توڑ دیتی ہے۔دونوں نے سلیمان سے روایت کی کہ حضرت ابوذر نے فرمایا کچھ چیزیں آدمی کی نماز کو توڑ دیتی ہیں جہاں اس کی پالان کی پچھلی لکڑی جتنی چیز نہ ہو وہ گدھا،سیاہ کتا،اور عورت ہیں۔میں عرض گزار ہوا کہ کالے،زرداور سفید کتے میں کیا فرق ہے؟فرمایا کہ بھتیجے!جیسے تم نے پوچھا میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا کہ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٢

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، وَابْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَهُمْ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ حَفْصٌ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ ". وَقَالَا عَنْ سُلَيْمَانَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : " يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ قِيدُ آخِرَةِ الرَّحْلِ : الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ ". فَقُلْتُ : مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 702

جابر بن یزید نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی۔شعبہ مرفوعاً روایت کی کہ حضور نے فرمایا حائضہ عورت اور کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ سعید اور ہشام اور ہمام نے قتادہ،جابر بن یزید،حضرت ابن عباس سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٣

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ شُعْبَةُ، قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَقَفَهُ سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 703

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:کہ جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہوجاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہوجائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا (سوائے معاذ کے) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ (یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے ۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٤

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ، وَيُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : فِي نَفْسِي مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ شَيْءٌ، كُنْتُ أُذَاكِرُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرَهُ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا جَاءَ بِهِ عَنْ هِشَامٍ وَلَا يَعْرِفُهُ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ هِشَامٍ، وَأَحْسَبُ الْوَهْمَ مِنِ ابْنِ أَبِي سَمِينَةَ - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيَّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ - وَالْمُنْكَرُ فِيهِ ذِكْرُ الْمَجُوسِيِّ، وَفِيهِ : عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ، وَذِكْرُ الْخِنْزِيرِ، وَفِيهِ نَكَارَةٌ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَلَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، وَأَحْسَبُهُ وَهِمَ ؛ لِأَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنَا مِنْ حِفْظِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 704

حضرت یزید بن نمران سے روایت ہے کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا تو اس نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر گزرا جبکہ آ پ نماز پڑھ رہے تھے۔آپ نے کہا کہ اے الله!اس کی چال کاٹ دے اس کے بعد میں گدھے پر سوار ہو کر نہ چل سکا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٥

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَوْلَى يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا، فَقَالَ : مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ ". فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 705

حیاۃ نے سعید سے اپنی سند کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا اس نے ہماری نماز کو توڑا اللہ تعالی نے اس کے پیر توڑے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مسہر نے سعید سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ہماری نماز کو توڑا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٦

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ - يَعْنِي الْمَذْحِجِيَّ - حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. زَادَ : قَالَ : " قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ فِيهِ : " قَطَعَ صَلَاتَنَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 706

سعید بن غزوان نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ وہ حج کے ارادے سے تبوک میں اترے ہوئے تھے تو انہوں نے ایک اپاہج کو دیکھ کر اس سے اس بارے میں پوچھا اس نے کہا کہ میں آپ کو اس کا ماجرا بتا دیتا ہوں لیکن آپ جو مجھ سے سنیں وہ میریں زندگی میں کسی کو نہ بتائیں۔بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تبوک میں ایک کھجور کے پاس اترے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارا قبلہ ہے پھر آپ نے اس کی جانب نماز پڑھی۔میں لڑکا تھا اور دوڑتا ہوا حضور کے اور کھجور کے درمیان سے گزر گیا۔آپ نے فرمایا کہ اس نے ہماری نماز کو توڑا تو اللہ تعالی نے اس کے پیروں کو توڑا لہٰذا میں آج تک ان پر کھڑا نہیں ہوسکا۔ ابوداؤد شریف،کتاب الصلاۃ،بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧٠٧

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُقْعَدٍ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ لَهُ : سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا، فَلَا تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَيٌّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ : " هَذِهِ قِبْلَتُنَا ". ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا، فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَقَالَ : " قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ ". فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 707

عمر بن شعیب سے ان کے والد محترم نے اور ان سے ان کے والد ماجد نے فرمایا کہ ہم اذاخر کی گھاٹی سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ گزرے تو نماز کا وقت ہوگیا تو آپ نے ایک دیوار کو قبلے کی جانب رکھتے ہوئے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے۔ ایک مویشی آیا اور آپ کے سامنے سے گزرنے لگا آپ اسے روکے رہے یہاں تک کہ اپنا شکم مبارک دیوار سے لگادیا یا۔پس وہ آپ کے پیچھے سے گزر گیایا جیسے مسدد نے کہا۔ ابوداؤد كتاب الصلاة،بَابٌ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ،حدیث نمبر٧٠٨

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ - يَعْنِي - فَصَلَّى إِلَى جَدْرٍ، فَاتَّخَذَهُ قِبْلَةً، وَنَحْنُ خَلْفَهُ، فَجَاءَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا حَتَّى لَصِقَ بَطْنُهُ بِالْجَدْرِ، وَمَرَّتْ مِنْ وَرَائِهِ. أَوْ كَمَا قَالَ مُسَدَّدٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 708

سلیمان بن حرب اور حفص بن عمر،شعبہ،عمروبن مرہ،یحی بن جزار،حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ۔پس ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اسے روکا۔ ابوداؤد كتاب الصلاة،بَابٌ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ،حدیث نمبر٧٠٩

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي، فَذَهَبَ جَدْيٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 709

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان ہوتی۔ شعبہ نے کہا کہ میرے خیال میں انہوں نے فرمایا کہ میں حائضہ تھی۔ امام ابوداؤد نے فرمایا اسے روایت کیا ہے زہری اور عطااور ابو بکر بن حفص اورہشام بن عروہ اور عراک بن مالک اور ابو الاسود اور تمیم بن سلمہ نے عروہ بن زبیر کے واسطے سے حضرت عائشہ صدیقہ سے۔ ابراھیم نے اسود کی واسطے سے حضرت عائشہ صدیقہ سے ابوالضحی نے مسروق کے واسطے سے حضرت عائشہ صدیقہ سے قاسم بن محمد اور ابو سلمہ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ میں حائضہ تھی۔ ابوداؤد كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٠

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ. قَالَ شُعْبَةُ : أَحْسَبُهَا قَالَتْ : وَأَنَا حَائِضٌ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَعَطَاءٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ، وَتَمِيمُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. وَإِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ. وَأَبُو الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ. وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. لَمْ يَذْكُرُوا : وَأَنَا حَائِضٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 710

ہشام بن عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رات کو نماز پڑھا کرتے تو میں آ پ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی جس پر آ پ آرام فرمایا کرتے تھے۔یہاں تک کہ جب آپ وتر پڑھتے تو مجھے وتر پڑھنے کے لیے جگادیا کرتے۔ ابوداؤد كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١١

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ رَاقِدَةٌ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 711

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ تم نے برا کیا جو ہمیں گدھے اور کتےکے ساتھ رکھا حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آ پ نماز پڑھتے اور میں آپ کے سامنے لیٹی رہتی جب آ پ سجدے کا ارادہ فرماتے تو میرے پیر کو دبا دیتے ۔پس میں اسے سمیٹ لیتی،پھر آپ سجدہ کرلیتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٢

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْحِمَارِ وَالْكَلْبِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ، ثُمَّ يَسْجُدُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 712

ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں سوئی ہوئی ہوتی اور میرے دونوں پیر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتے جب کہ آپ رات کو نماز پڑھتے۔جب آپ سجدہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو میرے پاؤں پر ضرب لگاتے تو میں اسے سمیٹ لیتی اور آپ سجدہ کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٣

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كُنْتُ أَكُونُ نَائِمَةً وَرِجْلَايَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ضَرَبَ رِجْلَيَّ فَقَبَضْتُهُمَا فَسَجَدَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 713

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے قبلے کی جانب سوجاتی۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں آ پ کے سامنے ہوتی ۔جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے۔عثمان نے یہ بھی کہا کہ مجھے دبادیتے تو میں سرک جاتی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ الْمَرْأَةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٤

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : كُنْتُ أَنَامُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ ؛ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ. زَادَ عُثْمَانُ : غَمَزَنِي. ثُمَّ اتَّفَقَا : فَقَالَ : " تَنَحَّيْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 714

عبید اللہ بن عبد اللہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ میں ایک گدھے پر آیا۔قعنبی مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ایک گدھی کے اوپر سوار ہو کر آیا اور ان دنوں میں قریب البلوغ تھااور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے پس میں کچھ صف کے سامنے سے گزرا، گدھے سے اترا اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور صف میں شامل ہو گیا اس بات کا کسی نے بھی برا نہیں منایا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ الفاظ قعنبی کے ہیں اور یہ سب سے مکمل ہیں۔ امام مالک نے فرمایا کہ جب نماز کھڑی ہو جائے تو میرے نزدیک اس میں وسعت ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: الْحِمَارُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٥

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جِئْتُ عَلَى حِمَارٍ ح وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَحَدٌ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ، وَهُوَ أَتَمُّ. قَالَ مَالِكٌ : وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 715

ابوصہباء سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے پاس ہم گفتگو کررہے تھے کہ کیا چیز نماز کو توڑتی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا گدھاپر سوار ہوکر آئے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔پس وہ اترا اور میں بھی اتر پڑا اور گدھے کو ہم نے صف کے آگے چھوڑ دیا اور کوئی مضائقہ نہ سمجھا ۔نیز بنی عبدالمطلب کی دولڑکیاں آئیں اور صف کے درمیان میں داخل ہوگئیں اور کوئی قباحت محسوس نہ کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: الْحِمَارُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٦

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ قَالَ : تَذَاكَرْنَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَنَزَلَ وَنَزَلْتُ، وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ أَمَامَ الصَّفِّ، فَمَا بَالَاهُ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَخَلَتَا بَيْنَ الصَّفِّ، فَمَا بَالَى ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 716

جریر نے اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ منصور سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ بنی عبدالمطلب کی دولڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں تو انہیں پکڑلیا گیا۔عثمان نے کہا کہ انہیں جدا کردیا گیا۔داؤد نے کہا کہ ایک دوسری سے اتر گئی اور کوئی مضائقہ نہ سمجھا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: الْحِمَارُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٧

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفِرْيَابِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ : فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اقْتَتَلَتَا، فَأَخَذَهُمَا. قَالَ عُثْمَانُ : فَفَرَعَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ دَاوُدُ : فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا عَنِ الْأُخْرَى، فَمَا بَالَى ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 717

عباس بن عبید اللہ بن عباس نے فضل بن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے جنگل میں تھے۔آپ کے ساتھ حضرت عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔پس آپ نے کھلے جنگل میں نماز پڑھی جبکہ آپ کے سامنے سترہ بھی نہیں تھا اور ہماری گدھی اور کتیا آپ کے سامنے پھر رہی تھیں۔آ پ نے اس میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: الْكَلْبُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ،حدیث نمبر٧١٨

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا، وَمَعَهُ عَبَّاسٌ، فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ، وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَمَا بَالَى ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 718

ابووداک نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی اور گزرنے والوں کو حتی الامکان روکوکہ وہ شیطان ہے ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ،حدیث نمبر٧١٩

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ، وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ ؛ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 719

ابووداک سے روایت ہے کہ قریش کا ایک نوجوان حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سامنے سے گزرا جب کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے اسے ہٹا دیا۔وہ پھر آیا،یہاں تک کہ انہوں نے تین دفعہ ہٹایا۔جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی لیکن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حتیٰ الامکان اسے روکو کیوں کہ وہ شیطان ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث دونوں جانب ہیں تو دیکھا جائے گا کہ آپ کے بعد صحابہ کرام کا عمل کس بات پر رہا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ قَالَ: لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ،حدیث نمبر٧٢٠

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ ، قَالَ : مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي، فَدَفَعَهُ، ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ، وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ ؛ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 720

سالم کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ کندھوں کے برابر ہو جاتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے اور دونوں سجدوں کے درمیان نہ اٹھاتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢١

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ - وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ. وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يَقُولُ : وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ - وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 721

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے پھر تکبیر کہتے اور وہ اسی طرح ہوتے ۔پس رکوع کرتے۔پھر جب سیدھے کھڑے ہونے کے ارادہ کرتے تو انہیں کندھوں تک اٹھاتے پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور سجدوں میں ہاتھ نہ اٹھاتے اور رکوع سے پہلے آپ جو تکبیر کہتے اس میں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہوجاتی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٢

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ، وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 722

وائل بن علقمہ سے روایت ہےکہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ تکبیر تحریمہ کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے پھر چھپا لیے پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑا اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا۔ راوی کا بیان ہے کہ جب آپ رکوع کا ارادہ فرماتے تو دونوں ہاتھوں کو نکال کر اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھانے کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے پھر سجدہ کرتے اور اپنے مبارک چہرے کو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان رکھتےاور جب سجدوں سے سر مبارک اٹھاتے تو اس وقت بھی رفع یدین کرتے یہاں تک کہ اپنی نماز سے فارغ ہو جاتے۔ محمد بن حجادہ کا بیان ہے کہ میں نے اس کا محمد بن ابوالحسن سے ذکر کیا تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نماز یہی ہے ۔کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ہمام نے ابن حجادہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے تو وہ سجدوں کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٣

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا لَا أَعْقِلُ صَلَاةَ أَبِي. قَالَ : فَحَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ. قَالَ : ثُمَّ الْتَحَفَ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، وَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ. قَالَ : فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ سَجَدَ وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ أَيْضًا رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ. قَالَ مُحَمَّدٌ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، فَقَالَ : هِيَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ، وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامٌ عَنِ ابْنِ جُحَادَةَ، لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 723

عبد الجبار بن وائل کا بیان ہے کہ میرے گھر والوں نے میرے والد محترم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تکبیر کے وقت ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٤

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ، وَحَاذَى بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 724

عبد الجبار بن وائل نے اپنے والد محترم حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کندھوں کے برابر ہوتے اور انگوٹھے کانوں سے لگ جاتے تو تکبیر کہا کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٥

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ ، حَدَّثَنِي أَهْلُ بَيْتِي ، عَنْ أَبِي ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 725

حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دل میں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ان کا بیان ہے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو قبلے کی جانب منہ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ وہ کانوں تک پہنچ گئے پھر بائیں دست مبارک کو دائیں دست اقدس سے پکڑا جب رکوع کا ارادہ فرمایا تو حسب سابق ہاتھ اٹھائے پھر اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے جب رکوع سے سر اٹھایا تو مثل سابق ہاتھ اٹھائے جب سجدے میں گئے تو سر مبارک کو دونوں ہاتھوں کے درمیان میں رکھا۔پھر بیٹھے تو بائیں پیر کو بچھا لیا اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور دائیں کہنی کو دائیں ران سے جدا رکھا اور چھوٹی دو انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنا لیا اور میں نے انہیں یہی فرماتے ہوئے دیکھا اور بشر بن مفضل نے انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٦

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : قُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي. قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا. وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 726

زائد نے عاصم بن کلیب سے اپنی سند کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے کہا۔پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا اور پہنچا اور کلائی بھی۔اسی روایت میں کہا کہ پھر ایک مدت کے بعد میں سخت سردی کے دنوں میں حاضر ہوا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے اوپر کپڑے ہوتے اور کپڑوں کے اندر اپنے ہاتھوں کو حرکت دیا کرتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٧

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ : ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ. وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ شَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ، تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 727

حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب نمآز شروع کرتے تو کانوں کی لو تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ان کا بیان ہے کہ پھر میں حاضر خدمت ہوا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ سینوں تک اٹھاتے اور ان کے اوپر جبے اور کمبل وغیرہ ہوتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ،بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٨

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ. قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَى صُدُورِهِمْ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِمْ بَرَانِسُ وَأَكْسِيَةٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 728

علقمہ بن وائل سے روایت ہے کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔میں موسم سرما کے اندر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے اصحاب کو دیکھا کہ نماز میں کپڑوں کے اندر رفع یدین کیا کرتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٢٩

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّتَاءِ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابَهُ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ فِي الصَّلَاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 729

محمد بن عمروبن عطاء کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں حضرت ابو سعید ساعدی سے سنا جن میں حضرت ابوقتادہ بھی تھے حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نماز کو میں آپ حضرات کی نسبت زیادہ جانتا ہوں۔ انہوں نے کہا خدا کی قسم یہ کس طرح؟جب کہ نہ آپ کو پیروی کرتے ہم سے زیادہ عرصہ گذرا اور نہ آپ نے صحبت کا شرف ہم سے زیادہ پایا۔ انہوں نے کہا کہ بات ہے یہی سب نے کہا کہ بیان تو کیجئے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے پھر تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ قرار پکڑ جاتی۔پھر قرآت پڑھتے پھر تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہاتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور برابر رکھتے کہ سر کو نہ اونچا رکھتے اور نہ نیچے جھکاتے پھر سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے پھر سیدھے ہوکر اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے اور اپنے بازؤں کو کروٹوں سے جدا رکھتے پھرسر اٹھاتے اور بائیں پیر کو بچھاکر اس پر بیٹھ جاتےاور سجدے کے وقت پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر دوسرا سجدہ کرتے پھر اللہ اکبر کہتے تھے اور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر لوٹ جاتی۔پھردوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔پھر جب دورکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے جیسے نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی تھی۔پھر اپنی باقی نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ سجدہ کرلیتے جس کے بعد سلام پھیرنا ہے تو بائیں پیر کو باہر نکال لیتے اور بائیں پہلو پر جم کر بیٹھتے۔سب نے کہا۔آپ نے سچ فرمایا کیوں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٠

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ : قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا : فَلِمَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا، وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً. قَالَ : بَلَى. قَالُوا : فَاعْرِضْ. قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ". ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ وَيَسْجُدُ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ". وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ. قَالُوا : صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 730

محمد بن عمرو بن طلحہ کا بیان ہے کہ عمرو عامری نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اصحاب کی مجلس میں تھا تو انہوں نے حضور کی نماز کا ذکر کیا۔حضرت ابوحمیدہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔پھر اس حدیث کے بعض حصے ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔جب رکوع کرتے تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر جما لیتے اور انگلیوں کے درمیان فاصلہ رکھتے کمر کو سیدھا کیا سر کو اوہ اٹھائے یا ادھر ادھر جھکائے بغیر اور فرمایا کہ جب دورکعت پر قعدہ کیا تو بائیں پیر کے تلوے پر بیٹھے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھا اور جب چوتھی پر بیٹھے تو اپنا بایاں پہلو زمین پر رکھا اور دونوں قدم مبارک ایک جانب نکال لیے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣١

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَذَاكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ . فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ : فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ، وَلَا صَافِحٍ بِخَدِّهِ . وَقَالَ : فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ، وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 731

محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے کہا جب سجدہ کیا تو اپنے بازو زمین پر نہ بچھائے اور نہ انہیں اکٹھا کیا اور اپنی انگلیوں کے سرے قبلے کی جانب رکھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٢

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، نَحْوَ هَذَا، قَالَ : فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 732

محمد بن عمرو بن عطاء نے جو بنی مالک کے ایک فرد تھے عباس یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت کی ہے کہ وہ اسی مجلس میں تھے جس میں ان کے والد ماجد تھے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور جس میں حضرت ابوہریرہ،حضرت ابوحمید ساعدی اور حضرت ابواسید بھی تھے تو کم وبیش یہی حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں یہ بھی فرمایا۔پھر رکوع سے سر اٹھایا توسمع الله لمن حمده الهم ربنا لك الحمدکہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے،پھر کہا اللہ اکبر ،پس اپنی دونوں ہتھیلیوں،دونوں گھٹنوں اور دونوں پیروں کی انگلیوں کو زمین پر جمایا جبکہ آپ نے سجدہ کیا۔پھر تکبیر کہی اور پہلو پر بیٹھ گئے اور دوسرے پیر کو کھڑا رکھا۔پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا پھر تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور پہلو پر نہ بیٹھے۔پھر باقی حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا۔پھر دورکعتوں کے بعد بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے پھر آخری دورکعتیں بھی پڑھ لیں اور تشہد میں تورک (پہلو پر بیٹھنے)کا ذکر نہ فرمایا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٣

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ - أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ - عَنْ عَبَّاسٍ أَوْ عَيَّاشِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ ، بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ أَوْ يَنْقُصُ، قَالَ فِيهِ : ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ - يَعْنِي مِنَ الرُّكُوعِ - فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ". وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ". فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ. ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرَةٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ. وَلَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ فِي التَّشَهُّدِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 733

عباس بن سہل سے روایت ہے کہ حضرت ابوحمید،حضرت ابواسید،حضرت سہل بن سعد اور حضرت محمد بن مسلمہ اکٹھے ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا۔حضرت ابوحمیدہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کا آپ سے زیادہ علم ہے پس انہوں نے اس حدیث کی بعض باتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا پھر رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا انہیں پکڑلیا ہے اور دونوں کو وتر بناتے ہوئے کروٹوں سے جدا رکھا۔ فرمایا کہ پھر سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی ٹکائی اور اپنے بازو کو کروٹوں سے علیحدہ رکھے اور اپنی ہتھیلیاں کندھوں کے برابر رکھیں پھر سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر آ گئی یہاں تک کہ فارغ ہوگئے پھر بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور بائیں پیر کی انگلیاں قبلہ رو رکھتے ہوئے کھڑا کر لیا اور دائیں ہتھیلی دائیں گھٹنے پر اوربائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر رکھ لی اور اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔ امام ابوداؤد نے فرمایاکہ روایت کیا ہے اس حدیث کو کو عتبہ بن ابو حکیم، عبداللہ بن عیسیٰ، عباس بن سہل نے اور تورک کا ذکر نہیں کیا۔فلیج نے بھی اس طرح ذکر کیا ہے حسن بن حجر نے بیٹھنے کا ذکر فلیج اور عتبہ کی طرح کیا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٤

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا، وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَتَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ. قَالَ : ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ، وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، لَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ، وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ فُلَيْحٍ، وَذَكَرَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ نَحْوَ جِلْسَةِ حَدِيثِ فُلَيْحٍ وَعُتْبَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 734

عباس بن سہل سے ساعدی نے حضرت ابوحمید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہوئے کہا کہ جب سجدہ کیا تو اپنی رانوں کے درمیان فاصلہ رکھا اور شکم مبارک کا ذرا بھی حصہ رانوں پر نہ رکھا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے ابن مبارک،فلیج،عباس بن سہل نے کہ ابن مبارک کو اچھی طرح یاد نہیں رہا۔غالبا ان سے عیسیٰ بن عبداللہ نے ذکر کیا اور انہوں نے عباس بن سہل سے سنا کہ میں حضرت ابو حمید ساعدی کی خدمت میں حاضر تھا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٥

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ : وَإِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، سَمِعْتُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ، فَحَدَّثَنِيهِ - أُرَاهُ ذَكَرَ - عِيسَى بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ : حَضَرْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 735

عبدالجبار بن وائل کے والد ماجد نے اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرمایاکہ جب سجدہ کیا تو زمین پر اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب سجدہ کیا تو اپنی پیشانی ہتھیلیوں کے درمیان رکھی اور بغلیں کھلی رکھیں۔حجاج اور ہمام، شقیق، عاصم بن کلیب کے والد ماجد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کی ہے ان میں سے ایک کی حدیث میں ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یہ ہے کہ جب آپ اٹھتے تو اپنے گھٹنوں کے بل اٹھتےاور اپنی رانوں پر بوجھ ڈالتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٦

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ : فَلَمَّا سَجَدَ وَقَعَتَا رُكْبَتَاهُ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ. قَالَ : فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ، وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ. قَالَ حَجَّاجٌ : وَقَالَ هَمَّامٌ : وَحَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ هَذَا. وَفِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا، وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ : وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 736

۔عبدالجبار بن وائل کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز میں اپنے دونوں انگوٹھے کانوں کی لو تک اٹھایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٧

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 737

ابوہریرہ نے میمون مکی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا اور ان کے ساتھ نماز پڑھی تو وہ اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے جب کھڑے ہوتے جب رکوع کرتے جب سجدہ کرتے اور جب کھڑے ہونے لگتے جب وہ کھڑے ہوجاتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے پس میں حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا کہ کسی دوسرے کو اس طرح پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور انہیں ان اشاروں کے متعلق بتایا۔انہوں نے فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو عبد اللہ بن زبیر جیسی نماز پڑھو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٣٩

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَصَلَّى بِهِمْ يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ، فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ : إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا، فَوَصَفْتُ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ، فَقَالَ : إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 739

نضر بن کثیر بن سعدی سے روایت ہے کہ مسجد خیف کے اندر عبداللّٰہ بن طاؤس نے میرے پہلو میں نماز پڑھی جب انہوں نے پہلا سجدہ کرکے اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھ چہرے تک بلند کیے میں نے اس بات کا انکار کیا ۔اور وہیب بن خالد سے کہا۔وہیب بن خالد نے ان سے کہا کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں جو میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ؟اںن طاؤس نے کہا کہ میں نے اپنے والد ماجد کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا۔میرے والد محترم نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور میرے خیال میں انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٤٠

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ - يَعْنِي السَّعْدِيَّ – قَالَ : صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، فَقَالَ لَهُ وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ : تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ. فَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ، وَقَالَ أَبِي : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ. وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 740

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب رکوع کرلیتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور جب دو رکعت سے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ تک مرفوع کرتے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر کا قول مرفوع نہیں ہے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ باقی حضرات نے اس کے پہلے حصے کو عبید اللہ سے روایت کرتے ہوئے مستند کیا۔اور ثقفی نے عبیداللہ سے سے روایت کرتے ہوے حضرت ابن عمر پر موقوف کیا اور اس میں کہا۔جب دورکعتوں سے کھڑے ہوتے تو انہیں چھاتیوں تک اٹھاتے اور صحیح یہی ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے لیث بن سعد اور مالک اور ایوب اور ابن جریج نے مرفوعاً اور صرف حماد بن سلمہ نے اسے ایوب سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ایوب اور مالک نے اس کا مرفوعاً روایت کیا کہ جب سجدوں سے کھڑے ہوتے جب کہ لیث نے اپنی حدیث میں ذکر کیا ہے۔ابن جریج نے اس میں کہا کہ میں نافع سے عرض گزار ہوا کہ کیا حضرت ابن عمر پہلی تکبیر میں زیادہ اونچے ہاتھ اٹھاتے تھے؟فرمایا کہ نہیں بلکہ برابر۔میں عرض گزار ہوا کہ بتائیے تو انہوں نے چھاتیوں تک اشارہ کیا اور یا اس سے بھی نیچے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٤١

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَيَرْفَعُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الصَّحِيحُ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَى بَقِيَّةُ أَوَّلَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَسْنَدَهُ، وَرَوَاهُ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فِيهِ : وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُهُمَا إِلَى ثَدْيَيْهِ. وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَمَالِكٌ، وَأَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، مَوْقُوفًا، وَأَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحْدَهُ عَنْ أَيُّوبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ وَمَالِكٌ الرَّفْعَ إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَذَكَرَهُ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فِيهِ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجْعَلُ الْأُولَى أَرْفَعَهُنَّ ؟ قَالَ : لَا، سَوَاءً. قُلْتُ : أَشِرْ لِي. فَأَشَارَ إِلَى الثَّدْيَيْنِ أَوْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 741

نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے رفعهما دون ذلك (انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے)کا ذکر نہیں کیا ہے, ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٤٢

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَمْ يَذْكُرْ : رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ. أَحَدٌ غَيْرُ مَالِكٍ فِيمَا أَعْلَمُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 742

محارث بن دثار نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دورکعتوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٣

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 743

عبیداللہ بن ابو رافع نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب فرض نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب قرآت سے فارغ ہوتے تو اسی طرح کرتے جبکہ رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے اٹھتے اور نماز میں کسی اور جگہ پر نہ اٹھاتے جبکہ بیٹھے ہوئے ہوتے اور جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو اسی طرح دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور تکبیر کہتے۔امام ابوداؤد نے فرمایاکہ ابوحمید ساعدی کی حدیث میں ہے جب کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کا حال بیان کیا کہ جب دورکعتوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی تھی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٤

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ حِينَ وَصَفَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 744

نصر بن عاصم سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ اٹھاتے دیکھا جبکہ تکبیر تحریمہ کہتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے یہاں تک کہ وہ کانوں کی لو تک پہنچ جاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٥

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يَبْلُغَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 745

بشیر بن نہیک سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ابن معاذ نے یہ بھی کہا کہ لاحق کہا کرتے۔بھلا وہ نماز میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کس طرح آگے ہوسکتے تھے؟موسی نے یہ بھی کہا کہ جب تکبیر کہتے تو ہاتھوں کو اٹھاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٦

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - الْمَعْنَى، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ لَاحِقٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَأَيْتُ إِبْطَيْهِ. زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ : قَالَ : يَقُولُ لَاحِقٌ : أَلَا تَرَى أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَزَادَ مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ : يَعْنِي إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 746

علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی۔پس تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے۔ جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھوں کو ملا کر گھٹنوں کے درمیان میں رکھے جب حضرت سعد بن ابی وقاص کو یہ بات پہونچی تو فرمایا۔میرے بھائی نے سچ کہا ہے،ہم ایسا ہی کیا کرتے تھے پھر،ہمیں حکم فرمایا گیا کہ گھٹنوں پر رکھا کریں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ،حدیث نمبر٧٤٧

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ. قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ : صَدَقَ أَخِي ؛ قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أَمَرَنَا بِهَذَا ؛ يَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 747

علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والی نماز نہ پڑھاؤں ؟راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے نماز پڑھائی اور ایک دفعہ کے سوا اپنے ہاتھ نہ اٹھائے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٤٨

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ - يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 748

حسن بن علی،معاویہ اور خالد بن عمرو اور ابوحذیفہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہوئے کہا۔پہلی دفعہ ہی ہاتھ اٹھائے اور بعض نے کہا کہ ایک ہی مرتبہ اٹھائے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٤٩

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ - يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَرَّةً وَاحِدَةً

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 749

عبدالرحمن بن ابولیلی نے حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے اور پھر ایسا نہ کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٥٠

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 750

عبداللہ بن محمد زہری،سفیان نے یزید سے حدیث شریک کے مطابق روایت کی لیکن یہ نہیں کہا کہ پھر ایسا نہ کرتے سفیان نے کہا ہم سے کوفے میں کہا گیا کہ پھر ایسا نہ کرتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اس حدیث کو ہشیم اور خالد اور ابن ادریس نے یزید سے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ پھر ایسا نہ کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٥١

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ ، نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لَمْ يَقُلْ : ثُمَّ لَا يَعُودُ. قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ لَنَا بِالْكُوفَةِ بَعْدُ : ثُمَّ لَا يَعُودُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ، لَمْ يَذْكُرُوا : ثُمَّ لَا يَعُودُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 751

عبدالرحمن بن ابولیلی سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھائے اور فارغ ہونے تک پھر نہیں اٹھائے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے یعنی درجہ صحت پر فائز نہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٥٢

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 752

سعید بن سمعان سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اونچا اٹھاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٧٥٣

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 753

زرعہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قدموں کو برابر رکھنا اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھنا سنت ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٥٤

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ : صَفُّ الْقَدَمَيْنِ وَوَضْعُ الْيَدِ عَلَى الْيَدِ مِنَ السُّنَّةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 754

ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھ رہے تھے بائیں ہاتھ کو داہنے پر رکھے ہوئے۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٥٥

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 755

ابوجحیفہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔نماز میں ایک ہتھیلی کا دوسری پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔(اس حدیث کو حدیث رسول کے بدخواہوں نے اپنے مطبوعہ نسخوں سے خارج کیا ہوا ہے۔) ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٥٦

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 756

جریر ضبیی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا(گٹا) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے فوق السرة (ناف کے اوپر) مروی ہے اور ابومجلز نے تحت السرة (ناف کے نیچے) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٧٥٧،

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ - يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ - عَنْ أَبِي بَدْرٍ ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنِ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : فَوْقَ السُّرَّةِ. وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : تَحْتَ السُّرَّةِ. وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 757

ابو وائل کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا (سنت ہے) ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٧٥٨،)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَخْذُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ الْكُوفِيَّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 758

طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٧٥٩)

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ - يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ - عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 759

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو الله اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے: وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشرکين إن صلاتي ونسکي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلک أمرت وأنا أول المسلمين اللهم أنت الملک لا إله لي إلا أنت أنت ربي وأنا عبدک ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بک وإليك تبارکت وتعاليت أستغفرک وأتوب إليك‏ میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تابعدار ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر پر ظلم کیا، مجھے اپنے ذنب کا اعتراف ہے، تو میرے ذنوب کی مغفرت فرما، تیرے سوا ذنوب کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلاق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان برے اخلاق کو دور کرنے والا ہے، میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیری قدرت میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیرا ہوں، اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ، اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: اللهم لک رکعت وبک آمنت ولک أسلمت خشع لک سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابعدار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے)، اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد ملء السموات والأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شىء بعد اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کرلیا) جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر، اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس کے برابر ۔ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره و تبارک الله أحسن الخالقين اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بردار و تابعدار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی، اس کے کان اور آنکھ پھاڑے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے وہ بہترین تخلیق فرمانے والا ہے ۔ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو کہتے: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم والمؤخر لا إله إلا أنت اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے تمام وہ کام جو میں نے کئے، اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ، بَابٌ : مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر ٧٦٠)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ". وَإِذَا رَكَعَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي ". وَإِذَا رَفَعَ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ". وَإِذَا سَجَدَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ". وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 760

عبیداللہ بن ابو رافع نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور اسی طرح کرتے جب قرآت ختم کرکے رکوع کا ارادہ فرماتے اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ایسا ہی کرتے اور بیٹھے ہوئے کسی موقع پر رفع یدین نہ کرتے اور جب دورکعتیں پڑھ لینے کے بعد کھڑے ہوتے تو اسی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے تکبیر کہتے اور دعا کرتے۔دعاکے متعلق کم وبیش حدیث عبدالعزیز کے مطابق لین ولخیرکلہ فی دیک والشرلیس الیک،،کا ذکر نہیں کرتے بلکہ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ نماز سے فارغ ہونے پر کہتے۔اے اللہ بخش دے جو میں نے پہلے کیا اور جو بعد میں کروں اور جو کچھ کر چھپ کر کیا اور جو علانیہ کیا۔تومیرا معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر تو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦١

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ وَدَعَا نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الدُّعَاءِ ؛ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشَّيْءَ، وَلَمْ يَذْكُرْ : " وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ". وَزَادَ فِيهِ : وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 761

عمرو بن عثمان،شریح بن یزید،شعیب بن ابوحمزہ نے کہا کہ مجھ سے ابن منکدر اور ابن ابی فروہ وغیرہ مدینہ منورہ کے فقہاء نے فرمایا کہ جب تم اس دعا کو پڑھو تو انا اول المسلمین کی جگہ انا من المسلمین کہا کرو یعنی میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٢

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، وَابْنُ أَبِي فَرْوَةَ ، وَغَيْرُهُمَا مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ : فَإِذَا قُلْتَ أَنْتَ ذَاكَ فَقُلْ : وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؛ يَعْنِي قَوْلَهُ : " وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 762

حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نماز کے لیے آیا اور اس کا سانس پھولا ہوا تھا اس نے کہا٫٫اللہ اکبر الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ،،جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے ہیں اور اس نے کوئی بری بات نہیں کہی اس آدمی نے کہا یا رسول اللّٰہ!میں نے میں حاضر ہوا تو میرا سانس پھولا ہوا تھا پس میں نے وہ کہے ۔فرمایا کہ میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ انہیں اٹھانے کے لیے دوڑ رہے تھے۔حمید نے اس میں یہ بھی کہا ۔جب تم میں سے کوئی آئے تو حسب معمول چلے پس جتنی نماز مل جائے پڑھ کے اور جتنی رہ جائے تو پوری کرلے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٣

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ. فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ : " أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا ". فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا. فَقَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ". وَزَادَ حُمَيْدٌ فِيهِ : " وَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْشِ نَحْوَ مَا كَانَ يَمْشِي فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَهُ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 763

ابن جبیر بن مطعم نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ایک نماز پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا۔عمرو نے کہا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ کونسی نماز تھی پس کہا٫٫اللہ اکبر الحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃواصیلا ،،تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم من نضخہ ونفثہ وہمزہ،، فرمایا کہ نفث اس کی لغویات نفخ ہے اس کا تکبر اور ہمزہ اس کے وسوسے ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٤

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً - قَالَ عَمْرٌو : لَا أَدْرِي أَيُّ صَلَاةٍ هِيَ - فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا - ثَلَاثًا - أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ؛ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ ". قَالَ : نَفْثُهُ : الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ : الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ : الْمُوتَةُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 764

نافع بن جبیر کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نفلی نماز کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٥

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ. ذَكَرَ نَحْوَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 765

عاصم بن حمید سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز کس چیز کے ساتھ شروع فرمایا کرتے تھے انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھے سے ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے بھی نہیں پوچھی ہے۔جب حضور کھڑے ہوتے تو دس دفعہ اللہ اکبر،دس دفعہ استغفر اللہ کہا کرتے اور کہتے اے الله!مجھے بخش دے اور مجھے ہدایت پر رکھ اور مجھے روزی دے اور مجھے عافیت سے رکھ اور قیامت کے روز کھڑے ہونے کی تنگی سے پناہ مانگتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا ہے اسے خالد بن معدان،ربیعہ جرشی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے اسی طرح۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٦

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَخْبَرَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَازِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَفْتَتِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامَ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَتْ : لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ عَشْرًا، وَحَمِدَ اللَّهَ عَشْرًا، وَسَبَّحَ عَشْرًا، وَهَلَّلَ عَشْرًا، وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي ". وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، نَحْوَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 766

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کس چیز کے ساتھ نماز شروع کرتے جب کہ رات کو قیام فرمایا کرتے تھے؟فرمایا کہ حضور جب رات کو کھڑے ہوتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کرتے۔اے اللہ ! جبرئیل میکائیل اور اسرافیل کے رب ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے چھپی اور ظاہری چیزوں کے جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرماتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔اختلافی باتوں میں مجھے اپنے حکم سے حق کی ہدایت فرما۔تو جسے چاہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٧

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ : " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ ؛ إِنَّكَ أَنْتَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 767

محمد بن رافع،نوح،قرار،عکرمہ نے اپنی سند کے ساتھ معنا روایت کرتے ہوئے کہا جب آپ کھڑے ہوتے تو تکبیر کے بعد کہتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٨

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بِإِسْنَادِهِ بِلَا إِخْبَارٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ : كَانَ إِذَا قَامَ بِاللَّيْلِ كَبَّرَ وَيَقُولُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 768

قعنبی نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ نماز کے شروع ،درمیان یا آخر میں دعا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں خواہ نماز فرض ہو یا دوسری۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٦٩

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ قَالَ : لَا بَأْسَ بِالدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ ؛ فِي أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَفِي آخِرِهِ ؛ فِي الْفَرِيضَةِ وَغَيْرِهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 769

یحییٰ زرقی سے ان کے والد ماجد حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم ایک روز رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو کہا سمع اللہ لمن حمدہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والوں میں سے ایک آدمی نے کہا اللھم ربناولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا ابھی ابھی یہ کلمات کس نے کہے ؟اس آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تیس سے اوپر فرشتوں کو لپکتے دیکھا کہ کون انہیں سب سے پہلے لکھتا ہے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧٠

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ : كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا آنِفًا ؟ ". فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 770

طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رات میں نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے ۔اے اللہ!سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو آسمانوں اور زمین کا قائم رکھنے والا ہے اور تعریف تیری ہے تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان میں ہے تو سچا ہے تیری بات سچی ہے تیرا وعدہ سچا ہے اور تیری ملاقات سچی ہے اور جنت ودوزخ اور قیامت حقیقت ہیں۔اے اللہ!میں تیرا تابع فرمان ہوا تیرے ہی لیے جگھڑے کیے ،تیری طرف سے حکم کیا پس بخش دے جو میں نے تقدیم و تاخیر کی اور خفیہ یا علانیہ کیا تو میرا معبود ہے،نہیں ہے کوئی معبود مگر تو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧١

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 771

قیس بن سعد طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تہجد میں تکبیر یعنی اللہ اکبر کے بعد کہتے ۔پھر پہلی حدیث کی طرح معنا روایت کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧٢

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي التَّهَجُّدِ يَقُولُ بَعْدَمَا يَقُولُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ". ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 772

معاذ بن رفاعہ بن رافع سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی پس حضرت رفاعہ کو چھینک آئی ۔قتیبہ نے حضرت رفاعہ نہیں کہا پس میں نے کہا٫٫الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى،،.جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو نماز میں بولنے والے سے فرمایا۔پھر حدیث مالک کی طرح بیان کیا بلکہ اس سے مکمل۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧٣

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ نَحْوَهُ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رِفَاعَةُ - لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ : رِفَاعَةُ - فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ ؟ ". ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَتَمَّ مِنْهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 773

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نماز میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے انصار کے ایک نوجوان کو چھینک آئی تو اس نے کہا٫٫الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتی يرضى ربنا وبعد مایرضی من امر الدنیا والآخرۃ،،.جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ان لفظوں کا کہنے والا کون ہے ؟راوی کا بیان ہے کہ نوجوان خاموش رہا پھر فرمایا کہ یہ کلمات کس نے کہے ؟اس نے بری بات نہیں کہی وہ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ!وہ میں نے کہے اور ان کے ساتھ میرا ارادہ نہیں تھا مگر بھلائی کا ۔فرمایا کہ وہ کلمات اللہ تعالی کے عرش سے نیچے کہیں نہ ٹھہرے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ،حدیث نمبر٧٧٤

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : عَطَسَ شَابٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَمَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ ؟ ". قَالَ : فَسَكَتَ الشَّابُّ، ثُمَّ قَالَ : " مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا ". فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا قُلْتُهَا، لَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا خَيْرًا. قَالَ : " مَا تَنَاهَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 774

ابومتوکل ناجی سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رات کو قیام کرتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد کہتے٫٫سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك والإله غيرك،،پھر تین مرتبہ کہتے٫٫لاالہ الا اللہ،،پھر تین مرتبہ کہتے اللہ اکبر کبیرا اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفسہ پھر قرآت پڑھتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ علی بن علی نے حسن سے مرسلا روایت کی ہے اس میں جعفر کو وہم ہوا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى الِاسْتِفْتَاحَ بِسُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ،حدیث نمبر٧٧٥

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ، ثُمَّ يَقُولُ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ". ثُمَّ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ". ثَلَاثًا. ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا - ثَلَاثًا - أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ؛ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ ". ثُمَّ يَقْرَأُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا الْحَدِيثُ يَقُولُونَ : هُوَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ، مُرْسَلًا، الْوَهْمُ مِنْ جَعْفَرٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 775

ابوالجواز سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے٫٫سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا الہ غيرك،،.امام ابوداؤد نے فرمایا کہ عبدالسلام سے یہ حدیث مشہور نہیں ہے اسی لیے طلق بن غنام کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور نماز کے واقعے کو بدیل سے کافی لوگوں نے روایت کیا ہے لیکن اس بات کا ذکر کسی نے نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى الِاسْتِفْتَاحَ بِسُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ،حدیث نمبر٧٧٦

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الصَّلَاةِ عَنْ بُدَيْلٍ جَمَاعَةٌ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 776

حسن نے حضرت سمرہ سے روایت کی ہے کہ نماز میں مجھے دو سکتے یاد رہے ہیں۔ایک جب امام تکبیر تحریمہ کہہ لے تو قرآت شروع کرنے سے پہلے اور دوسرے جب فاتحہ اور سورت پڑھ لے یعنی رکوع میں جاتے وقت۔راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمران بن حصین نے اس بات کا انکار کیا تو انہوں نے مدینہ منورہ کو ایک خط حضرت ابی بن کعب کے لیے لکھا۔حضرت ابی نے حضرت سمرہ کی تصدیق فرمائی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اس کے بارے میں ایسا ہی حمید نے کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت ہے جب قرآت سے فارغ ہو جائے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٧٧

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ سَمُرَةُ : حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ ؛ سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ. قَالَ : فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ. قَالَ : فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيٍّ ، فَصَدَّقَ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : كَذَا قَالَ حُمَيْدٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 777

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم دومقامات پر کھڑے ہوتے ایک جب نماز شروع کرتے اور دوسرے جب قرآت سے بالکل فارغ ہوجاتے ۔یونس نے معنا اس کا ذکر کیاہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٧٨

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ إِذَا اسْتَفْتَحَ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ كُلِّهَا . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 778

حسن سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین نے مذاکرہ کیا۔پس حضرت سمرہ بن جندب نے کہا کہ انہیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دوسکتے یاد ہیں ایک تکبیر تحریمہ کے بعد اور دوسرا جب غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین کہہ کر فارغ ہو جائے حضرت سمرہ کو یہی یاد تھا اور حضرت عمران نے انکار کیا پس دونوں نے اس بارے میں حضرت ابی بن کعب کے لیے لکھا انہوں نے دونوں کو جواب دیتے ہوئے بتایا کہ سمرہ کو صحیح یاد یے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٧٩

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاكَرَا، فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ ؛ سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ }، فَحَفِظَ ذَلِكَ سَمُرَةُ، وَأَنْكَرَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَتَبَا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِمَا - أَوْ فِي رَدِّهِ عَلَيْهِمَا - أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 779

قتادہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ حضرت سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے میں نے دوسکتے یاد رکھے ہیں۔اس سلسلے میں سعید نے کہا ہم قتادہ کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ وہ سکتے کونسے ہیں؟فرمایا کہ ایک نماز شروع کرتے وقت اور دوسرا قرآت سے فارغ ہونے کے بعد ۔پھر فرمایا کہ غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہنے کے بعد۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٨٠

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا، قَالَ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ : سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ فِيهِ : قَالَ سَعِيدٌ : قُلْنَا لِقَتَادَةَ : مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ ؟ قَالَ : إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ. ثُمَّ قَالَ بَعْدُ : وَإِذَا قَالَ : { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ }.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 780

ابو زرعہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہہ لیتے تو تکبیر اور قرآت کے درمیان خاموش رہتے میں عرض گزار ہوا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان،میں آپ کو تکبیر اور قرآت کے درمیان خاموش دیکھا کرتا ہوں،مجھے بتائے کہ آپ کیا کہتے ہیں؟فرمایا کہ یہ کہتا ہوں٫٫اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ،،۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ السَّكْتَةِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ،حدیث نمبر٧٨١

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ لَهُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، أَخْبِرْنِي مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 781

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان الحمد للّہ رب العالمین سے قرآت شروع فرمایا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»،حدیث نمبر٧٨٢

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ }.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 782

ابوالجواز سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ سے نماز شروع کرتے اور قرآت الحمدللہ رب العالمین سے اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے اور نہ نیچے جھکاتے بلکہ اس کے درمیان رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ کھڑے نہ ہو جاتے اور جب ایک سجدے سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے اور ہر دورکعت کے بعد التحیات پڑھتے اور جب بیٹھتے تو بائیں پیر کو بچھا لیتے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے نیز جانوروں کی طرح بازوں کو بچھانے سے منع فرماتے اور نماز کو سلام کے بعد ختم کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»،حدیث نمبر٧٨٣

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةَ بِـ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ }. وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ : التَّحِيَّاتُ. وَكَانَ إِذَا جَلَسَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ ، وَعَنْ فَرْشَةِ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 783

مختار بن فلفل نے حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی۔ پس آپ نے پڑھا٫٫بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انا اعطیناک الکوثر۔آخر تک فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے۔لوگ عرض گزار ہوئے کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا وہ جنت میں میں ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»،حدیث نمبر٧٨٤

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ ". فَقَرَأَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ { إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ } حَتَّى خَتَمَهَا. قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ؟ "، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : " فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 784

عروہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے بہتان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے،مبارک چہرے سے کپڑا ہٹا کر پڑھا۔اعوذ بالله من الشيطان الرجيم إن الذين جاؤوا بالافك عصبه منكم(24:11)امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے۔اس حدیث کو زہری سے کتنے ہی حضرات نے روایت کیا ہے لیکن اس کلام کو وشرح کا ذکر نہیں کیا۔مجھے ڈرہے کہ تعوا کی بات حمید کا کلام ہے یعنی آیت سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم روایت کرنا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْجَهْرَ بِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»،حدیث نمبر٧٨٥

حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَذَكَرَ الْإِفْكَ، قَالَتْ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ : " أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ { إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ } ". الْآيَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، لَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلَامَ عَلَى هَذَا الشَّرْحِ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلَامِ حُمَيْدٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 785

حضرت ابن عباس سے روایت ہےکہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ آپ کو اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا کہ سورہ برآت جومئین(ایسی سورت جس ایک سو زائد آیات ہو)سے ہے آپ نے اسے سورہ انفال سے پیچھے کر دیا۔جو مثانی میں سے ہے اور اسے سات لمبی سورتوں میں شامل کردیا اور ان دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر نہیں لکھی۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیتیں نازل ہوئیں تو اپنے کسی کاتب کو بلاکر اس سے فرماتے کہ اسے فلاں سورت کی فلاں جگہ لکھ دو اور آپ پر ایک یا دو آیتیں نازل ہوتیں تو اسی طرح فرماتے سورۂ انفال پہلے نازل ہوئی مدینہ منورہ میں اور سورہ برآت آخر میں نازل ہونے والے قرآن کریم سے ہے اور دونوں کے مضامین میں مشابہت ہے۔پس میں نے گمان کیا کہ یہ اسی سے ہے۔بایں وجہ میں نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا اور ان کے درمیان بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کی سطر نہ لکھی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ جَهْربھا،حدیث نمبر٧٨٦

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى بَرَاءَةَ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ، وَإِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي ؛ فَجَعَلْتُمُوهُمَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ؟ قَالَ عُثْمَانُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا تَنَزَّلُ عَلَيْهِ الْآيَاتُ، فَيَدْعُو بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُ لَهُ وَيَقُولُ لَهُ : ضَعْ هَذِهِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا، وَتَنْزِلُ عَلَيْهِ الْآيَةُ وَالْآيَتَانِ فَيَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَكَانَتِ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَّلِ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا ؛ فَمِنْ هُنَاكَ وَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ، وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 786

یزید فارسی نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے مذکورہ حدیث کو معنا روایت کیا ہے اس میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو لیکن ہم سے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ سورہ برآت سورہ انفال کا حصہ ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ شعبی،ابومالک،قتادہ اور ثابت بن عمارہ کا ارشاد ہے کہ سورہ نمل کے نازل ہونے تک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھا کرتے تھے یہ اس ارشاد کا مفہوم ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ جَهْربھا،حدیث نمبر٧٨٧

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ - أَخْبَرَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ : فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ الشَّعْبِيُّ، وَأَبُو مَالِكٍ، وَقَتَادَةُ، وَثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْتُبْ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ النَّمْلِ. هَذَا مَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 787

قتیبہ کے لفظوں میں سعد بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سورتوں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نازل ہو گئی۔یہ ابن سرح کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ جَهْربھا،حدیث نمبر٧٨٨

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، وَابْنُ السَّرْحِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ فِيهِ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ عَلَيْهِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 788

حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ اسے خوب لمبی پڑھوں گا۔پس میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو مختصر کردیتا ہوں کیوں کہ اس کی ماں کی تنگی مجھے ناپسند ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ لِلْأَمْرِ يَحْدُثُ،حدیث نمبر٧٨٩

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ ؛ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 789

حضرت جابر رضی اللہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چناچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں)معاذ نے آکر ہماری امامت کی اور سورة البقرہ کی قرآت شروع کردی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورة پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) : تم سبح اسم ربک الأعلى ، والليل إذا يغشى پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ : فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر ٧٩٠) حدیث ٢ کا ترجمہ:عبدالرحمن بن جابر نے حضرت حزم بن کعب سے روایت کی ہے کہ میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا جب کہ وہ لوگوں کو نماز مغرب پڑھا رہے تھے۔اسی خبر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے معاذ فتنے میں ڈالنے والے نہ بنو کیوں کہ تمہارے پیچھے بوڑھے،کمزور،ضرورت مند اور مسافر بھی نماز پڑھتے ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩١

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَسَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا - قَالَ مَرَّةً : ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ - فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ - وَقَالَ مَرَّةً : الْعِشَاءَ - فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى، فَقِيلَ : نَافَقْتَ يَا فُلَانُ. فَقَالَ : مَا نَافَقْتُ. فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ. فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ ؟ اقْرَأْ بِكَذَا، اقْرَأْ بِكَذَا ". قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) وَ ( اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ). فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو، فَقَالَ : أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ حدیث٢: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ حَزْمِ بْنِ أَبِي كَعْبٍ ، أَنَّهُ أَتَى مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمٍ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ، لَا تَكُنْ فَتَّانًا ؛ فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمُسَافِرُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 790/791

ابوصالح نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا۔تم نماز میں کیا کہتے ہو؟وہ عرض گزار ہوا کہ میں نماز میں کہتا ہوں کہ اے اللہ!میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ کی اور حضرت معاذ کی دعا کا پتہ نہیں لگتا ۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم بھی اسی کے ارد گرد دعا مانگتے ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩٢

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : " كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ؟ ". قَالَ : أَتَشَهَّدُ وَأَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 792

عبداللہ بن مقسم نے حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حضرت معاذ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نوجوان سے فرمایا۔اے بھتیجے تم نماز میں کیسے کرتے ہو ؟عرض گزار ہوئے کہ میں سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں اور اللہ تعالی سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ چاہتا ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ آپ اور حضرت معاذ کیا دعا مانگتے ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور معاذ بھی ان دونوں باتوں کے گرد رہتے ہیں یا ایسا ہی کچھ فرمایا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩٣

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ، قَالَ : وَقَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْفَتَى : " كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ ؟ ". قَالَ : أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَلَا دَنْدَنَةُ مُعَاذٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي وَمُعَاذًا حَوْلَ هَاتَيْنِ ". أَوْ نَحْوَ هَذَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 793

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیوں کہ جماعت میں کمزور،بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی پڑھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩٤

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ؛ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 794

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی رکھے کیوں کی ان میں بیمار زیادہ بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٧٩٥

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ؛ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 795

حضرت عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی نماز سے فارغ ہوکر لوٹتا ہے تو نہیں لکھا جاتا اس کے لیے مگر دسواں،نواں،آٹھواں،ساتواں،چھٹا،پانچواں،چوتھا،تیسرا اور نصف حصہ ثواب کا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،باب ماجا في نقصان الصلاة،حدیث نمبر٧٩٦

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَكْرٍ - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْصَرِفُ وَمَا كُتِبَ لَهُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِهِ، تُسْعُهَا، ثُمْنُهَا، سُبْعُهَا، سُدْسُهَا، خُمْسُهَا، رُبْعُهَا، ثُلْثُهَا، نِصْفُهَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 796

عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوہریرہ. رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جیسے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں بالجہر سنایا ہم نے بھی تمہیں (جہراً )سنا دیا اور جسے آپ نے چھپایا ہم نے بھی اسے تم سے چھپایا (سنن ابی داؤد شریف کتاب الصلاۃ،بَابٌ : مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر ٧٩٧)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 797

حضرت ابوقتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھاتے تو پہلی دورکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دوسورتیں پڑھتے اور ایک آدھ آیت ہمیں بھی سنادیتے اور ظہر کی پہلی رکعت کو لمبی کردیتے اور دوسری کو مختصر رکھتے اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ مسدد نے سورہ فاتحہ اور دوسری سورت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٧٩٨

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : وَأَبِي سَلَمَةَ . ثُمَّ اتَّفَقَا : عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 798

عبداللہ بن ابوقتادہ نے اپنے والد ماجد حضرت ابو قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بعض حصے روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا۔آخری دورکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے۔ہمام سے روایت کرتے ہوئے کہا۔آپ پہلی رکعت کو لمبی کرتے اور دوسری رکعت کو اتنی لمبی نہ رکھتے اور اسی طرح نماز عصر میں کرتے اور ایسا ہی صبح کی نماز میں کیا جاتا ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٧٩٩

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ بِبَعْضِ هَذَا، وَزَادَ : فِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ. وَزَادَ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ : وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 799

عبداللہ بن ابو قتادہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت ابو قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔پس ہم نے گمان کیا کہ اس سے آپ کا یہ ارادہ ہوتا کہ لوگ پہلی رکعت میں شامل ہو جائیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٨٠٠

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ النَّاسُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 800

ابومعمر سے روایت ہے کہ ہم حضرت خباب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ کیا ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قرآن مجید پڑھا کرتے تھے؟فرمایا کہ ہاں ہم عرض گزار ہوئے کہ آ پ حضرات کو اس کا کیسے پتہ لگتا تھا؟فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ریش مبارک ہلنے سے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٨٠١

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ : قُلْنَا لِخَبَّابٍ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ. قُلْنَا : بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ ؟ قَالَ : بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 801

محمد بن حجادہ سے ایک آدمی نے اور اس نے حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی رکعت میں اتنی دیر کھڑے رہتے کہ پھر کسی کے قدموں کی آواز سنائی نہ دیتی ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ،حدیث نمبر٨٠٢

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ .

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 802

جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے کہا کہ لوگ ہر بات میں آپ کی شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی انہوں نے کہا کہ میں پہلی دورکعتوں کو لمبی رکھتا ہوں اور پچھلی دورکعتوں کو مختصر اور میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز جیسی پڑھنے میں حتی الامکان کوتاہی نہیں کرتا حضرت عمر نے کہا کہ آپ کے ساتھ مجھے بھی یہی حسن ظن ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَخْفِيفِ الْأُخْرَيَيْنِ،حدیث نمبر٨٠٣

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ : قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ. قَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 803

ابوصدیق ناجی سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا۔پس ہمیں اندازہ ہوا کہ ظہر کی پہلی دورکعتوں میں آپ کا قیام تیس آیتوں یعنی سورہ الم سجدہ کے برابر تھا اور آخری دورکعتوں میں اس سے نصف اور ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ کی عصر کی پہلی دورکعتوں کا قیام ظہر کی پچھلی دورکعتوں کے برابر ہوتا اور عصر کی آخری دورکعتوں کا قیام اس سے نصف ہوتا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَخْفِيفِ الْأُخْرَيَيْنِ،حدیث نمبر٨٠٤

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ – يَعْنِي النُّفَيْلِيَّ - حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : حَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 804

سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں سورہ الطارق،سورہ البروج اور ان جیسی کوئی سورت پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٥

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِـ ( السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ ) وَ ( السَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ ) وَنَحْوِهِمَا مِنَ السُّوَرِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 805

سماک نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ جب سورج ڈھل جاتا تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز ظہر ادا کرتے اور سورہ واللیل کے برابر کوئی سورت پڑھتے اسی طرح عصر اور دوسری نمازوں میں ماسوائے صبح کے کی اس میں لمبی قرآت پڑھاکرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٦

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ وَقَرَأَ بِنَحْوٍ مِنْ ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى )، وَالْعَصْرُ كَذَلِكَ وَالصَّلَوَاتُ كَذَلِكَ، إِلَّا الصُّبْحَ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ يُطِيلُهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 806

ابومجلز نے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز ظہر میں (بوقت قیام)سجدہ کیا،پہر کھڑے ہو گئے۔پس رکوع کیا تو ہم نے جان لیا کہ آپ نے سورہ تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ابن عیسی کا قول ہے کہ معتمر کے سوا امیہ کا کسی نے بھی ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٧

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَهُشَيْمٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ : تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ. قَالَ ابْنُ عِيسَى : لَمْ يَذْكُرْ أُمَيَّةَ أَحَدٌ إِلَّا مُعْتَمِرٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 807

عبداللہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوانوں کے ساتھ حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ہم میں سے ایک نوجوان نے کہا کہ حضرت حضرت ابن عباس سے پوچھیے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا کہ نہیں ان سے کہا گیا کہ شاید دل میں پڑھتے ہوں ۔فرمایا ہست تمہاری ،یہ تو پہلی بات سے بھی بری ہے۔حضور بندے تھے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پہچانے پر مامور تھے اور آپ نے ہمیں دوسرے لوگوں سے خاص نہیں کیا مگر تین باتوں میں یعنی پورا وضو کرنے،صدقہ نہ کھانے اور گدھے کو گھوڑی پر نہ چھڑانے کا حکم فرمایا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٨

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَقُلْنَا لِشَابٍّ مِنَّا : سَلِ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ فَقَالَ : لَا لَا. فَقِيلَ لَهُ : فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ. فَقَالَ : خَمْشًا ، هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى، كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ ؛ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَلَّا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَلَّا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 808

عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے یا نہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،حدیث نمبر٨٠٩

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا ؟

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 809

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حضرت عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث نے انہیں سورہ والمرسلات پڑھتے ہوئےسن کر فرمایا۔اے بیٹے!تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یادکروادی یہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنی۔آپ اسے مغرب میں پڑھاکرتے تھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٨١٠

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ ( وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ) فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ ؛ إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 810

محمد بن جبیر بن مطعم سے ان کے والد ماجد حضرت جبیر بن مطعم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مغرب کو سورۂ الطور پڑھتے ہوئے سنا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٨١١

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 811

عروہ بن زبیر نے مروان بن حکم سے روایت کی ہے کہ مجھ سے حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے جو مغرب میں بہت چھوٹی سورت پڑھتے ہو؟حالاں کی میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مغرب میں دو لمبی سورتیں پڑھاکرتے۔راوی کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ وہ دونوں لمبی سورتیں کونسی ہیں۔فرمایا کہ سورہ اعراف اور سورہ انعام اور ابن جریج نےابن ابی ملیکہ سے پوچھا تو اپنی طرف سے کہا کہ سورہ المائدہ اور سورہ الاعراف۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ،حدیث نمبر٨١٢

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ : الْأَعْرَافُ وَالْأُخْرَى الْأَنْعَامُ. قَالَ : وَسَأَلْتُ أَنَا ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَقَالَ لِي مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ : الْمَائِدَةُ وَالْأَعْرَافُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 812

ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد عروہ بن زبیر مغرب میں آپ کی طرح ہی پڑھا کرتے سورہ العادیات یا اس جیسی کوئی سورت۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلی بات منسوخ ہے امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہی زیادہ صحیح ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى التَّخْفِيفَ فِيهَا،حدیث نمبر٨١٣

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ مَا تَقْرَءُونَ ( وَالْعَادِيَاتِ ) وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَاكَ مَنْسُوخٌ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا أَصَحُّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 813

عمروبن شعیب کے والد محترم سے ان کے والد ماجد نے فرمایا کہ کوئی مفصل سورت چھوٹی یا بڑی نہیں مگر میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں کی امامت کرتے ہوئے فرض نماز نماز میں اسے پڑھاکرتے ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى التَّخْفِيفَ فِيهَا،حدیث نمبر٨١٤

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرَخْسِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ : مَا مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَةٌ صَغِيرَةٌ وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِهَا فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 814

نزال بن عمار نے ابوعثمان نہدی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز مغرب پڑھی تو انہوں نے سوہ اخلاص کی تلاوت کی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ رَأَى التَّخْفِيفَ فِيهَا،حدیث نمبر٨١٥

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ ابْنِ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ، فَقَرَأَ بِـ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ).

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 815

معاذ بن عبداللہ جہنی کو جہنیہ کے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی ہر رکعت میں سورہ اذازلزلت الارض پڑھتے ہوئے سنا ۔پس یہ مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھول گئے تھے یا آپ نے دانستہ اس طرح پڑھا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الرَّجُلِ يُعِيدُ سُورَةً وَاحِدَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ،حدیث نمبر٨١٦

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ : ( إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ ) فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ عَمْدًا ؟

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 816

حضرت عمرو بن حریث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔گویا میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کی آواز سن رہا ہوں کہ آپ صبح کی نماز پڑھ رہے ہیں فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِي الْكُنَّسِ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْفَجْرِ(یعنی سورہ والشمس کی یہ آیت)،حدیث نمبر٨١٧

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَصْبَغَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ : كَأَنِّي أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ : { فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ } { الْجَوَارِ الْكُنَّسِ }.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 817

ابونضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ سورہ فاتحہ کے ساتھ جو قرآن کریم سے میسر آئے پڑھا کریں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨١٨

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : أُمِرْنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 818

ابوعثمان نہدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ مجھ سے فرمایا۔جاکر مدینہ منورہ میں منادی کردو کہ قرآن مجید کے بغیر نماز نہیں ہوتی خواہ وہ سورہ فاتحہ اور اس سے کچھ زیادہ ہو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨١٩

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَصْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْرُجْ فَنَادِ فِي الْمَدِينَةِ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ، وَلَوْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 819

ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرمایا مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منادی کرنے کا حکم فرمایا کہ نماز نہیں مگر سورہ فاتحہ اور کچھ زیادہ پڑھنے کے ساتھ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٠

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 820

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ ناقص ہے وہ ناقص ہے مکمل نہیں ہے میں(ابو سائب) عرض گزار ہوا کہ اے حضرت ابو ہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے بھی ہوتا ہوں۔ انہوں نے میری کلائی دباتے ہوئے فرمایا کہ اے فارسی! اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ نماز کو میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر لیا ہے آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے۔ اور میرے بندے کے لئے ہے جو اس نے مانگا پڑھو بندہ کہتا ہے الحمدللہ رب العالمین تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعریف کی۔ بندہ کہتا ہےالرحمن الرحیم تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ بندہ کہتا ہےمالک یوم الدین تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔بندہ کہتا ہے ایاك نعبد واياك نستعين تو اللہ تعالی فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ۔اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے مانگا۔بندہ کہتا ہےاهدناالصراط المستقیم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين تو یہ سب میرے بندے کے لیے ہے اور میرے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢١

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ؛ فَهِيَ خِدَاجٌ ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ ". قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ. قَالَ : فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ : اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ؛ فَنِصْفُهَا لِي، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا، يَقُولُ الْعَبْدُ : { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ }، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : حَمِدَنِي عَبْدِي. يَقُولُ : { الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ }، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي. يَقُولُ الْعَبْدُ : { مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ }، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَجَّدَنِي عَبْدِي. يَقُولُ الْعَبْدُ : { إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ }، يَقُولُ اللَّهُ : هَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. يَقُولُ الْعَبْدُ : { اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ } { صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ }، يَقُولُ اللَّهُ : فَهَؤُلَاءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 821

محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا کہ اس کی نماز نہیں ہوتی۔جو سورۂ فاتحہ اور کچھ زیادہ نہ پڑھے۔سفیان کا قول ہے کہ یہ اس شخص کے لیے ہے جو تنہا نماز پڑھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٢

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ السَّرْحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا ". قَالَ سُفْيَانُ : لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 822

محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ہم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز فجر پڑھ رہے تھے۔پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قرآت پڑھی تو قرآت پڑھنے میں آپ کو دقت پیش آئی ۔جب فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا۔شاید تم امام کے پیچھے قرآت پڑھتے ہو؟ہم عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللّٰہ!ہاں فرمایاکہ ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۂ فاتحہ کے کیوں کی جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٣

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : كُنَّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ ؟ ". قُلْنَا : نَعَمْ، هَذًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ؛ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 823

حضرت نافع بن محمود بن ربیع انصاری سے روایت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت صبح کی نماز کے لیے دیر سے پہنچے تو ابونعیم مؤذن نے اقامت کہی اور ابونعیم مؤذن لوگوں کو نماز پڑھانے لگے تو حضرت عبادہ آگے بڑھے اور میں ان کے ساتھ تھا،یہاں تک کہ ہم نے حضرت ابونعیم کے پیچھے صف بنالی۔ابونعیم آواز سے قرآت پڑھنے لگے تو حضرت عبادہ سورہ فاتحہ پڑھنے لگے جب فارغ ہوئے تو میں نے حضرت عبادہ سے کہا کہ میں نے آپ کو سورۂ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے اور ابونعیم آواز سے قرآت پڑھ رہے تھے کہا یہی بات ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ کوئی نماز پڑھی جس میں آواز سے قرآت پڑھی جاتی ہے تو قرآت میں آ پ کو رکاوٹ پیش آئی۔جب فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا جب میں آواز سے قرآت پڑھتا ہوں کیا تم بھی اس وقت پڑھتے ہم میں سے کوئی عرض گزار ہوا کہ ہم اسی طرح کرتے ہیں۔فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو میں کہہ رہا تھا کہ مجھے کیا ہوگیا کہ مجھ سے قرآن مجید چھینا جارہا ہے پس آواز سے قرآت کے وقت قرآن کریم سے کچھ بھی نہ پڑھا کرو مگر سورۂ فاتحہ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٤

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ نَافِعٌ : أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ : سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ. قَالَ : أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ. قَالَ : فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ : " هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ ". فَقَالَ بَعْضُنَا : إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ. قَالَ : " فَلَا، وَأَنَا أَقُولُ : مَا لِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ ؟ فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 824

مکحول نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ربیع بن سلیمان کی حدیث کے مانند روایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مکحول مغرب عشاء اور فجر کی ہر رکعت میں آہستہ سورۂ فاتحہ پڑھتے مکحول نے فرمایا کہ جب امام زور سے سورہ فاتحہ پڑھے تو سکتے کے وقت آہستہ پڑھ لیا کرو اگر سکتہ نہ کرے تو اس سے پہلے اس کے ساتھ یااس کے بعد پڑھ لولیکن کسی حالت میں ترک نہ کیا کرو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر٨٢٥

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُبَادَةَ ، نَحْوَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالُوا : فَكَانَ مَكْحُولٌ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا. قَالَ مَكْحُولٌ : اقْرَأْ بِهَا فِيمَا جَهَرَ بِهِ الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَكَتَ سِرًّا، فَإِنْ لَمْ يَسْكُتِ اقْرَأْ بِهَا قَبْلَهُ وَمَعَهُ وَبَعْدَهُ، لَا تَتْرُكْهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 825

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے جس میں قرآت پڑھی جاتی ہے تو فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ابھی میرے ساتھ قرآت کر رہا تھا؟ایک شخص عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہاں۔فرمایا میں کہتا تھا کہ مجھے کیا ہوا جو مجھ سے قرآن مجید چھینا جارہاہے۔راوی کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآت سے رک گئے جس نماز میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جہر سے قرآت پڑھتے جبکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ بات سن لی۔امام ابوداؤد نے فرمایاکہ ابن اکیمہ کی یہ حدیث کو معمر اور یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے معنا امام مالک کی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقِرَاءَةَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ،حدیث نمبر٨٢٦

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ ". فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " إِنِّي أَقُولُ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ". قَالَ : فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى حَدِيثَ ابْنِ أُكَيْمَةَ هَذَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَلَى مَعْنَى مَالِكٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 826

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ میرے خیال میں وہ صبح کی نماز تھی۔پھر یہاں تک معنا روایت کی کہ مجھے کیا ہوگیا کہ مجھ سے قرآن مجید چھینا جا رہا ہے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا۔مسدد کی حدیث میں ہے کہ معمر نے زہری سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا پس لوگ رک گئے اور عبداللہ بن محمد زہری نے عن بینھم کہا سفیان کا بیان ہے کہ زہری نے ایک لفظ کہا جو میں سن نہ سکا۔معمر نے کہا کہ انہوں نے فرمایا۔پس لوگ رک گئے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے روایت کیا عبدالرحمن بن اسحاق نے زہری سے اور اسے ان لفظوں پر ختم کیا مجھے کیا ہوگیا کہ مجھ سے قرآن مجید چھینا جا رہا ہے اور اوزاعی نے زہری سے روایت کرتے ہوئے اس میں کہا کہ زہری نے فرمایا کہ مسلمانوں کو اس سے نصیحت ہوگئی لہذا وہ آپ کے ساتھ قرآت نہ کرتے جس نماز میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہر سے پڑھتے۔ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ محمد نے سنا محمد بن یحییٰ بن فارس سے کہ پس لوگ رک گئے یہ زہری کا کلام ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقِرَاءَةَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ،حدیث نمبر٨٢٧

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَابْنُ السَّرْحِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ. بِمَعْنَاهُ إِلَى قَوْلِهِ : " مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ". قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ مَعْمَرٌ : فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ مَعْمَرٌ : عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَانْتَهَى النَّاسُ. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ مِنْ بَيْنِهِمْ : قَالَ سُفْيَانُ : وَتَكَلَّمَ الزُّهْرِيُّ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَسْمَعْهَا. فَقَالَ مَعْمَرٌ : إِنَّهُ قَالَ : فَانْتَهَى النَّاسُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَانْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى قَوْلِهِ : " مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ". وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ فِيهِ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ، فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ فِيمَا جَهَرَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ قَالَ : قَوْلُهُ : فَانْتَهَى النَّاسُ. مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 827

حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی ایک آدمی نے آکر سورۂ سبح اسم الاعلیٰ پڑھی۔جب آ پ فارغ ہوئے تو فرمایا تم میں سے قرآت کس نے کی؟عرض گزار ہوئے کہ ایک آدمی نے فرمایا میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابوولید نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ شعبہ نے قتادہ سے کہا کہ٫٫قرآن مجید کے لیے خاموش رہا کرو،،کیا یہ سعید کا قول نہیں ہے؟فرمایا کہ یہ اس وقت ہے جب جہر سے پڑھا جائے۔ابن کثیر نے اپنی حدیث میں کہا کہ میں نے قتادہ سے کہا۔گویا حضور نے اسے ناپسند فرمایا۔فرمایا اگر یہ بات ناپسند ہوتی تو منع فرما دیتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ إِذَا لَمْ يَجْهَرِ الْإِمَامُ بِقِرَاءَتِهِ،حدیث نمبر٨٢٨

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى )، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ ؟ ". قَالُوا : رَجُلٌ. قَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ : أَلَيْسَ قَوْلُ سَعِيدٍ : أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ. قَالَ : ذَاكَ إِذَا جَهَرَ بِهِ. وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : قُلْتُ لِقَتَادَةَ : كَأَنَّهُ كَرِهَهُ. قَالَ : لَوْ كَرِهَهُ نَهَى عَنْهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 828

زرارہ نے حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی جب فارغ ہوئے تو فرمایا تم میں سے سبح اسم ربک الاعلیٰ کس نے پڑھا؟ایک آدمی عرض گزار ہوا کہ میں نے فرمایا میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑرہا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ إِذَا لَمْ يَجْهَرِ الْإِمَامُ بِقِرَاءَتِهِ،حدیث نمبر٨٢٩

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ، فَلَمَّا انْفَتَلَ قَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ بِـ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) ؟ ". فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا. فَقَالَ : " عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 829

محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے ہم میں اعرابی اور غیر اعرابی بھی تھے فرمایا کہ پڑھو سب اچھے ہو،عنقریب کچھ قومیں آئیں گی جو اسے اس طرح سیدھا کھڑا کریں گے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے پڑھنے میں جلدی کریں گے اور ذرانہیں ٹھہریں گے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣٠

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْأَعْجَمِيُّ، فَقَالَ : " اقْرَءُوا ؛ فَكُلٌّ حَسَنٌ، وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ ، يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 830

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے فرمایاالحمد للہ کہ اللہ کی کتاب تو ایک ہے لیکن تم میں سرخ،سفید،اور سیاہ ہر قسم کے لوگ ہو اسے پڑھ لو اس سے پہلے کہ ایسی قومیں آئیں جو اسے سیدھا کریں جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے اس کا بدلہ دنیا میں کیں گے اور آخرت پر نہیں چھوڑیں گے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣١

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ، كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ، وَفِيكُمُ الْأَحْمَرُ، وَفِيكُمُ الْأَبْيَضُ، وَفِيكُمُ الْأَسْوَدُ، اقْرَءُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ ؛ يُتَعَجَّلُ أَجْرُهُ وَلَا يُتَأَجَّلُهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 831

ابراہیم سکسکی سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللّٰہ بن ابی اوفی نے فرمایا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔مجھے قرآن سے کچھ بھی یاد نہیں ہوتا لہذا ایسی چیز سکھا دیجیے جو اس کی جگہ کفایت کرے۔فرمایا کہ یوں کہا کرو۔ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!یہ تو اللہ تعالی کے لیے ہے پس میرےلیے کیا ہے؟فرمایا کہ یوں کہا کرو الھم ارحمنی وارزقنی وعافینی واھدنی جب وہ کھڑا ہوا تو ہاتھ کے اشارے سے اس نے کچھ کہا۔پس رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے اپنے ہاتھ کو بھلائی سے بھر لیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣٢

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي مِنْهُ. قَالَ : " قُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ". قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا لِي ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي ". فَلَمَّا قَامَ قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلَأَ يَدَهُ مِنَ الْخَيْرِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 832

حسن سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ہم نفلی نمازوں کے اندر قیام وقعود میں دعا کرلیا کرتے اور رکوع اور سجود میں تسبیح پڑھا کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣٣

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي التَّطَوُّعَ نَدْعُو قِيَامًا وَقُعُودًا، وَنُسَبِّحُ رُكُوعًا وَسُجُودًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 833

حماد کے حمید سے اس طرح روایت کی لیکن نفلی نمازوں کا ذکر نہیں کیا کہا کہ حسن ظہر اور عصر کی امامت کرتے ہوئے یا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ،تسبیح،تکبیر اور تہلیل کیا کرتے سورۂ ق یا سورہ الذاریات کی مقدار۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ مَا يُجْزِئُ الْأُمِّيَّ وَالْأَعْجَمِيَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ،حدیث نمبر٨٣٤

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، مِثْلَهُ، لَمْ يَذْكُرِ التَّطَوُّعَ، قَالَ : كَانَ الْحَسَنُ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِمَامًا أَوْ خَلْفَ إِمَامٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَيُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ قَدْرَ ق وَالذَّارِياتِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 834

مطرف سے روایت ہے کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔جب انہوں نے سجدہ کیا تو تکبیر کہی جب رکوع کیا تو تکبیر کہی اور جب دورکعتوں سے اٹھےتب بھی تکبیر کہی۔جب ہم فارغ ہو گئے تو حضرت عمران نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا۔ایسی پہلے پڑھی جاتی تھی یا فرمایا کیا محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز اس سے پہلے ہمیں کسی نے ایسے پڑھالی۔ ابوداؤد شریف، كتاب پالصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ تَمَامِ التَّكْبِيرِ،حدیث نمبر٨٣٥

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي وَقَالَ : لَقَدْ صَلَّى هَذَا قَبْلُ - أَوْ قَالَ : لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا قَبْلُ - صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 835

ابوبکر بن عبدالرحمن اور ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہر فرض اور دوسری نماز میں تکبیر کہا کرتے۔وہ تکبیر کہتے جب کھڑے ہوتے،پھر تکبیر کہتے،جب رکوع کرتے تو پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے پھر سجدہ کرنے سے ربنا و لک الحمد کہتے،پھر تکبیر کہتے جب سجدے کے لیے جھکتے،پھر تکبیر کہتے جب سر اٹھاتے پھر تکبیر کہتے جب دوبارہ سجدہ کرتے پھر تکبیر کہتے جب دوبارہ سر اٹھاتے،پھر جب دورکعتوں کے بعد اٹھتےتو تکبیر کہتے۔پس ہررکعت میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوکر فرماتے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری حرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ میری نماز آپ سب حضرات کی نماز سے مشابہت رکھتی ہے۔حضور کی نماز دنیا کو خیرآباد کہنے تک یہی تھی۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ اسی میں جو آخری کلام قرار دیا ہے مالک اور زبیدی وغیرہ نے زہری سے اور انہوں نے علی بن حسین سے موافقت کی ہے۔اس کی عبدالاعلی ،معمر، شعیب بن ابوحمزہ نہ زہری سے روایت کرتے ہوئے ابوداؤد شریف، كتاب پالصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ تَمَامِ التَّكْبِيرِ،حدیث نمبر٨٣٦

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أُبَيٌّ وَبَقِيَّةُ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا ؛ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. ثُمَّ يَقُولُ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي اثْنَتَيْنِ، فَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلَاتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ يَجْعَلُهُ مَالِكٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَغَيْرُهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ. وَوَافَقَ عَبْدَ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 836

حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ تکبیر پوری نہ کرتے۔امام ابوداؤد نے فرمایا اس سے یہ مراد ہے کہ جب رکوع سے سر اٹھاتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ فرماتے تو تکبیر نہ کہتے اور جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہ کہتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب پالصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ تَمَامِ التَّكْبِيرِ،حدیث نمبر٨٣٧

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ - قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : الشَّامِيُّ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْقَلَانِيُّ - عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : مَعْنَاهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَأَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ لَمْ يُكَبِّرْ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يُكَبِّرْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 837

عاصم بن کلیب کے والد ماجد سے روایت ہے کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنوں کو ہاتھوں سے پہلے رکھتے اور جب اٹھتے تو ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب پالصلاة،بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،بَابُ كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٨٣٨

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 838

حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پھر نماز کی حدیث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنوں کو زمین پر ہتھیلیوں سے پہلے رکھتے ہمام شقیق،عاصم بن کلیب کے والد ماجد نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کی حدیث میں غالباً محمد بن حجادہ کی حدیث میں ہے کہ جب آپ کھڑے ہوتے تو گھٹنوں کے بل رانوں کے سہارے اٹھتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٨٣٩

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ حَدِيثَ الصَّلَاةِ، قَالَ : فَلَمَّا سَجَدَ وَقَعَتَا رُكْبَتَاهُ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ. قَالَ هَمَّامٌ : وَحَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا، وَفِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا، وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ : وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 839

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے اور اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٨٤٠

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 840

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم میں سے کوئی اپنی نماز میں ایسے بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھا کرتا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ،حدیث نمبر٨٤١

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَبْرُكُ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 841

ایوب سے روایت ہے کہ حضرت ابوقلابہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو سلیمان مالک بن حویرث ہماری مسجد میں آئے تو فرمایا کہ خدا کی قسم میں نماز پڑھاؤں گا اور نماز پڑھانے سے میرا ارادہ یہ ہے کہ میں آپ کو یہ دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے میں (ایوب)نے حضرت ابوقلابہ سے عرض کی کہ انہوں نے کیسے نماز پڑھائی ؟فرمایا کہ ہمارے بزرگ حضرت عمروبن سلمہ کی طرح جوان کے امام تھے اور ذکر کیا کہ جب وہ پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ النُّهُوضِ فِي الْفَرْدِ،حدیث نمبر٨٤٢

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ : جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ : كَيْفَ صَلَّى ؟ قَالَ : مِثْلَ صَلَاةِ شَيْخِنَا هَذَا - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ إِمَامَهُمْ - وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى قَعَدَ ثُمَّ قَامَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 842

ایوب سے روایت ہے کہ حضرت ابوقلابہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو سلیمان مالک بن حویرث ہماری مسجد میں آئے تو فرمایا کہ خدا کی قسم نماز میں پڑھاؤں گا اور نماز پڑھانے سے میرا یہ ارادہ ہے کہ میں آپ کو یہ دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔راوی کا بیان ہے کہ وہ پہلی رکعت کے بعد بیٹھے جبکہ انہوں نے دوسرے سجدے سے سر اٹھایا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ النُّهُوضِ فِي الْفَرْدِ،حدیث نمبر٨٤٣

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ : جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. قَالَ : فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 843

ابوقلابہ نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی وتر رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ النُّهُوضِ فِي الْفَرْدِ،حدیث نمبر٨٤٤

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 844

ابو زبیر نے طاؤس کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ سجود میں قدموں پر اقعاء(سیرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجوں کو کھڑا کرکے بیٹھنا)کا کیا حکم ہے؟فرمایا یہ سنت ہے ہم عرض گزار ہوئے کہ ہمیں تو یہ پیروں پر ظلم نظر آتا تھا۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ تمہارے نبی کی سنت ہے۔(صلی اللّٰہ علیہ وسلم) ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الْإِقْعَاءِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٤٥

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ : قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ فِي السُّجُودِ، فَقَالَ : هِيَ السُّنَّةُ. قَالَ : قُلْنَا : إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 845

عبید بن حسن سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتےسَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ امام ابوداؤد نے فرمایا کہ سفیان ثوری اور شعبی بن حجاج نے عبید بن حسن سے اس حدیث کو روایت کیا ہے لیکن اس میں بعد رکوع نہیں ہے۔سفیان نے کہا کہ ہم ایک بزرگ سے ملے جو ابوالحسن کے غلام تھے تو انہوں نے اس میں رکوع کے بعد نہیں کیا۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ روایت کیا اسے شعبہ ،ابوعصمہ،اعمش نے عبید سے اور بعد الرکوع کہا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٨٤٦

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ يَقُولُ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ : هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ فِيهِ : بَعْدَ الرُّكُوعِ. قَالَ سُفْيَانُ : لَقِينَا الشَّيْخَ عُبَيْدًا أَبَا الْحَسَنِ بَعْدُ، فَلَمْ يَقُلْ فِيهِ : بَعْدَ الرُّكُوعِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِصْمَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ : بَعْدَ الرُّكُوعِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 846

حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو یہ بھی کہا کرتے اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ - قَالَ مُؤَمَّلٌ: مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ -، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْت محمود نے یہ بھی کہا ولا معطی لما منعت پھر سارے اس پر متفق ہو گئے ولا ینفع ذاالجد منک الجد۔ بشر نے کہا ربنالک الحمد اور محمود نے لفظ الھم نہیں کہا بلکہ کہا ربنا لک الحمد۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٨٤٧

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ - قَالَ مُؤَمَّلٌ : مِلْءَ السَّمَاوَاتِ - وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ. أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ - وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ - لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ". زَادَ مَحْمُودٌ : " وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ". ثُمَّ اتَّفَقُوا : " وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ". وَقَالَ بِشْرٌ : " رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ". لَمْ يَقُلِ : " اللَّهُمَّ ". لَمْ يَقُلْ مَحْمُودٌ : " اللَّهُمَّ ". قَالَ : " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 847

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا و لک الحمد کہا کرو کیوں کہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے سے موافقت کر گیا اس کے سابقہ گناہوں کی مغفرت فرما دی جاتی ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٨٤٨

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 848

مطرف سے روایت ہے کہ عامر نے فرمایا لوگ امام کے پیچھے سمع اللہ لمن حمدہ نہ کہیں بلکہ وہ کہیں ربنا لک الحمد۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ،حدیث نمبر٨٤٩

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : لَا يَقُولُ الْقَوْمُ خَلْفَ الْإِمَامِ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلَكِنْ يَقُولُونَ : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 849

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان کہا کرتے۔اےاللہ!مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما۔مجھے عافیت دے،مجھے ہدایت پر قائم رکھ اور مجھے روزی عطا فرما۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الدُّعَاءِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٥٠

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 850

مولیٰ اسماء بنت ابوبکر سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو تم میں سے اللہ اور آخری (قیامت)پر ایمان رکھتے ہو وہ اس وقت تک سر نہ اٹھائے جب تک مرد سر نہ اٹھالیں یہ ناپسند فرماتے ہوئے کہ عورتیں مردوں کا ستر دیکھیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ رَفْعِ النِّسَاءِ إِذَا كُنَّ مَعَ الرِّجَالِ رُءُوسَهُنَّ مِنَ السَّجْدَةِ،حدیث نمبر٨٥١

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ - أَخِي الزُّهْرِيِّ - عَنْ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بْنَةِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ مِنْكُنَّ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ رُءُوسَهُمْ ". كَرَاهَةَ أَنْ يَرَيْنَ مِنْ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 851

ابن ابی لیلی نے حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سجدے رکوع،قعدے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا (تہجد میں) تقریباً برابر ہوا کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ طُولِ الْقِيَامِ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٥٢

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ سُجُودُهُ وَرُكُوعُهُ وَقُعُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 852

حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے کسی آدمی کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مختصر اور مکمل ہو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر کھڑے ہوتے تو ہم کہتے کہ شاید آپ بھول گئے۔پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنا بیٹھتے کہ ہم کہتے کہ شاید آپ بھول گئے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ طُولِ الْقِيَامِ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٥٣

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " قَامَ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ أَوْهَمَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَسْجُدُ، وَكَانَ يَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ أَوْهَمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 853

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔میں نے محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قصداً دیکھا ۔ابوکامل نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز میں تھے تو میں نے آپ کے قیام کو رکوع اور سجود کی طرح پایا اور رکوع میں ٹھہرنے کو سجدے کی طرح اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس سجدے کو جو سلام سے پہلے ختم کرتے وقت کیا جاتا ہے تقریباً برابر پایا۔امام ابوداؤد نے فرمایا اور مسدد کا قول ہے کہ آپ کا رکوع دورکعتوں کے درمیان اعتدال،سجدہ سجدہ دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا دوسرا سجدہ نیز سلام اور لوگوں کی جانب پھرنے کا جلسہ تقریبآ سب برابر ہوتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ طُولِ الْقِيَامِ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٥٤

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو كَامِلٍ ، دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي الْآخَرِ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : رَمَقْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ : رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصَّلَاةِ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ كَرَكْعَتِهِ وَسَجْدَتِهِ، وَاعْتِدَالَهُ فِي الرَّكْعَةِ كَسَجْدَتِهِ، وَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَسَجْدَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ مُسَدَّدٌ : فَرَكْعَتُهُ، وَاعْتِدَالُهُ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَجْدَتُهُ، فَجَلْسَتُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتُهُ، فَجَلْسَتُهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ ؛ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 854

حضرت ابومسعود بدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آدمی کی نماز مکمل نہیں ہوتی جب تک رکوع اور سجدوں میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٥

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 855

سعید بن ابوسعید کے والد ماجد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک آدمی بھی داخل ہوا جس نے نماز پڑھی پھر حاضر خدمت ہوکر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا اور فرمایا کہ نماز پڑھو کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔پس وہ آدمی واپس لوٹا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی۔پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ واپس جاکر نماز پڑھو کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ تین دفعہ ایسا ہی کیا گیا تو وہ شخص عرض گزار ہوا۔قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا مجھے اس سے بہتر نہیں آتی لہذا مجھے سکھادیجیے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہواکرو تو تکبیر تحریمہ کہو پھر اس کے ساتھ جو قرآن مجید سے میسر آئے پڑھو،پھر رکوع کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ،پھر اپنی ساری نماز میں ایسا ہی کرو۔امام ابوداؤد نے فرمایا۔قعنبی ،سعید بن ابوسعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہوئے اس کے آخر میں کہا۔جب تم ایسا کروگے تو تم نے اپنی نماز مکمل کرلی اور ان میں سے جس چیز کی کمی کروگے تو اپنی نماز میں اتنی کمی کرلی اور اسی کے اندر فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو پوری طرح وضو کیا کرو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٦

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ . يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ، وَقَالَ : " ارْجِعْ فَصَلِّ ؛ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ". فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ". ثُمَّ قَالَ : " ارْجِعْ فَصَلِّ ؛ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ". حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا، فَعَلِّمْنِي. قَالَ : " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اجْلِسْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا ". قَالَ الْقَعْنَبِيُّ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ، وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا شَيْئًا فَإِنَّمَا انْتَقَصْتَهُ مِنْ صَلَاتِكَ ". وَقَالَ فِيهِ : " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 856

علی بن یحییٰ بن خلاد نے اپنے چچا جان سے روایت کی کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا۔پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہوئے اس میں کہا۔پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی آدمی کی نماز مکمل نہیں ہوتی جب تک وضو نہ کرے یعنی جب تک تمام اعضا کو اچھی طرح نہ دھوئے پھر تکبیر کہے اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن مجید سے جتنا چاہے پڑھے۔پھر اللہ اکبر کہے پھر رکوع کرے یہاں تک کہ جوڑ قرار پکڑ جائیں پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھا کھڑا ہو جائے پھر اللہ اکبر کہے پھر سجدہ کرے یہاں تک کہ جوڑ قرار پکڑ جائیں۔پھر اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھائے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جائے پھر اللہ اکبر کہہ کر دوبارہ سجدہ کرے یہاں تک کہ جوڑ قرار پکڑ جائیں پھر سراٹھائے تکبیر کہتے ہوئے جب اس نے ایسا کیا تو اپنی نماز کو مکمل کرلیا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٧

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ فِيهِ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ فَيَضَعَ الْوُضُوءَ - يَعْنِي مَوَاضِعَهُ - ثُمَّ يُكَبِّرَ، وَيَحْمَدَ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ، وَيُثْنِيَ عَلَيْهِ، وَيَقْرَأَ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ يَقُولَ : اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَرْكَعَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ، ثُمَّ يَقُولَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ يَقُولَ : اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ يَسْجُدَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ، ثُمَّ يَقُولَ : اللَّهُ أَكْبَرُ. وَيَرْفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُولَ : اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ يَسْجُدَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ، ثُمَّ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَيُكَبِّرَ ؛ فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 857

یحییٰ بن خلاد نے اپنے چچا جان حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہا پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کی نماز مکمل نہیں ہوتی یہاں تک کہ پورا وضوکرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ اپنا منہ دھوئے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے۔پھر اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرے اور اس کی تعریف کرے پھر قرآن مجید سے جو اسے حکم دیا گیا ہے اور جو میسر آئے پڑھے پھر حدیث حماد کی طرح ذکر کرتے ہوئے کہا پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے اور اپنی پیشانی کو ٹکائے۔ہمام نے کہا کہ کبھی یہ کہتے کہ اپنی زمین پہ پیشانی کو زمین میں یہاں تک کہ جوڑوں کو اطمینان آجائے اور وہ ڈھیلے ہوجائیں پھر تکبیر کہہ کر بیٹھنے کی طرح سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو سیدھی کرلے اسی طرح نماز کی چار رکعتوں کو بیان کیا فارغ ہونے تک اور نہیں مکمل ہوتی تم میں سے کسی کی نماز جب تک ایسا نہ کرے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٨

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ بِمَعْنَاهُ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ، ثُمَّ يَقْرَأَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ ". فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ، قَالَ : " ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ فَيُمَكِّنَ وَجْهَهُ - قَالَ هَمَّامٌ : وَرُبَّمَا قَالَ : جَبْهَتَهُ - مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدِهِ، وَيُقِيمَ صُلْبَهُ - فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى تَفْرُغَ - لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 858

یحییٰ بن خلاد نے حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ واقعہ روایت کرتے ہوئے کہا۔جب تم کھڑے ہوتے قبلہ کی طرف منہ کر لو۔پھر تکبیر کہو پھر سورہ فاتحہ پڑھو اور اس کے ساتھ جو اللہ تعالی چاہے پڑھو اور جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا کرو اور اپنی کمر کو پھیلادو اور فرمایا کہ جب تم سجدہ کرو تو سجدے میں ٹھہرا کرو اور جب تم اٹھو تو اپنی بائیں ران پر بیٹھا کرو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٥٩

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ : " إِذَا قُمْتَ فَتَوَجَّهْتَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ، وَإِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَامْدُدْ ظَهْرَكَ "، وَقَالَ : " إِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ فَاقْعُدْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 859

یحیی بن خلاد بن رافع نے اپنے چچا جان حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہی واقعہ روایت کرتے ہوئے کہا۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو پھر جو قرآن مجید سے تمہیں میسر آئے پڑھو اور اس میں کہا کہ جب تم نماز کے درمیان میں بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھالو، پھر تشہد پڑھو پھر جب تم کھڑے ہو تو اسی طرح کرو،یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاؤ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٦٠

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ : " إِذَا أَنْتَ قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَكَبِّرِ اللَّهَ تَعَالَى، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ عَلَيْكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". وَقَالَ فِيهِ : " فَإِذَا جَلَسْتَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ فَاطْمَئِنَّ، وَافْتَرِشْ فَخِذَكَ الْيُسْرَى، ثُمَّ تَشَهَّدْ، ثُمَّ إِذَا قُمْتَ فَمِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 860

یحیی بن خلاد بن رافع زرقی نے اپنے چچا جان حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پھر مذکورہ حدیث بیان کرتے ہوئے اس میں کہا کہ پس وضو کرے جیسا کہ اللہ تعالی نے حکم فرمایا ہے پھر تشہد کے بعد کھڑا ہو جائے اور تکبیر کہے اور جو تمہیں قرآن مجید سے آتا ہو پڑھو ورنہ الحمد للّہ اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کہو ۔اسی میں کہا کہ اگر ان میں سے کسی چیز کی کمی کروگے تو اپنی نماز میں کمی کروگے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٦١

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَصَّ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ : " فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ، ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ، ثُمَّ كَبِّرْ، فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ بِهِ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ ". وَقَالَ فِيهِ : " وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْهُ شَيْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلَاتِكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 861

تمیم بن محمود سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کوے کی طرح ٹھونگے مارنے،جانور کی طرح بازو بچھانے اور آدمی کو مسجد میں اپنی جگہ مقرر کر لینے سے منع فرمایا ہے کہ جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کر لیتا ہے یہ لفظ قتیبہ کے ہیں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٦٢

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ ، وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ. هَذَا لَفْظُ قُتَيْبَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 862

عطاء بن سائب سے روایت ہے کہ سالم برادر نے فرمایا ہم حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز بتائیے ۔پس وہ مسجد میں ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے چنانچہ انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیوں کو نیچے کی جانب رکھا اور اپنی کہنیوں کو علاحدہ رکھا یہاں تک کہ ہر چیز اپنی جگہ قرار پکڑ گئی۔پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا پھر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ ہر چیز اپنی جگہ قرار پکڑ گئی پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنی ہتھیلیاں زمین پر رکھیں اور اپنی کہنیوں کو علاحدہ رکھا یہاں تک کہ ہر چیز اپنی جگہ پر قرار پکڑ گئی پھر اپنا سر اٹھایا اور بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہر چیز اپنی جگہ قرار پکڑ گئی پھر اسی طرح کیا پھر اس رکعت کی چاروں رکعتیں پڑھیں اور نماز ختم کرکے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ صَلَاةِ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٦٣

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ قَالَ : أَتَيْنَا عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ : حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا فِي الْمَسْجِدِ فَكَبَّرَ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، وَجَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ. ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ جَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَجَلَسَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِثْلَ هَذِهِ الرَّكْعَةِ، فَصَلَّى صَلَاتَهُ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 863

حسن سے روایت ہے کہ انس بن حکیم ضبی نے فرمایا کہ میں زیاد یا ابن زیاد کی خوف سے مدینہ منورہ میں پہنچا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کا بیان ہے کہ میں نے نسب ملایا تو میرا نسب ان سے مل گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اےجوان! میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں میں عرض گزار ہوا کہ اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائیں ضرور بیان کیجیے یونس راوی کا بیان ہے کہ میرے خیال میں انہوں نے مرفوعا روایت کی فرمایا قیامت کے روز لوگوں کے اعمال سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے نماز ہے۔ ہمارا رب عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ بہتر جانتا ہے کہ میرے بندے کی فرض نماز کو دیکھو کہ وہ مکمل ہے یا کم ہے اگر پوری ہے تو پوری لکھ دی جائے اور اگر کچھ کم ہے تو دیکھو کہ میرے بندے کی نفلی نماز ہے اگر اس کی نفلی نماز ہے تو میرے بندے کے نوافل سے اس کے فرائض پوری کر دو پھر تمام اعمال کا اسی طرح حساب لیا جائے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُتِمُّهَا صَاحِبُهَا تُتَمُّ مِنْ تَطَوُّعِهِ»،حدیث نمبر٨٦٤

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ قَالَ : خَافَ مِنْ زِيَادٍ - أَوِ ابْنِ زِيَادٍ - فَأَتَى الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَنَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ : يَا فَتَى، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ. قَالَ يُونُسُ : وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ ". قَالَ : " يَقُولُ رَبُّنَا جَلَّ وَعَزَّ لِمَلَائِكَتِهِ، وَهُوَ أَعْلَمُ : انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا ؟ فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ : انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ ؟ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ : أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ. ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَاكُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 864

موسی بن اسماعیل،حماد ،حمید،حسن،بنی سلیط کا ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سےاسی کے مانند روایت کی ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُتِمُّهَا صَاحِبُهَا تُتَمُّ مِنْ تَطَوُّعِهِ»،حدیث نمبر٨٦٥

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 865

موسی بن اسماعیل،حماد ،داؤد بن ابوہند ،زرارہ بن اوفی ،حضرت تمیم بن دارمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے معنا اسی طرح روایت کی ۔فرمایا کہ پھر زکاۃ اور پھر باقی اعمال کا اسی طرح حساب کیا جائے گا۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُتِمُّهَا صَاحِبُهَا تُتَمُّ مِنْ تَطَوُّعِهِ»،حدیث نمبر٨٦٦

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى، قَالَ : " ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 866

مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد ماجد کے پہلو میں نماز پڑھی تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھے۔والد محترم نے مجھے اس سے منع کیا۔میں نے پھر ایسا کیا تو فرمایا کہ ایسا نہ کا کرو ۔کیوں کہ ہم بھی ایسا کیا کرتے تھے لیکن ہمیں اس سے منع فرما دیا گیا اور حکم فرمایا کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کریں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ،وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٦٧

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَاسْمُهُ وَقْدَانُ - عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، فَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ، فَعُدْتُ، فَقَالَ : لَا تَصْنَعْ هَذَا ؛ فَإِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 867

علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللّٰہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب تم میں کوئی رکوع کرے تو اپنی کلائیاں اپنی رانوں سے ملالے اور دونوں ہتھیلیوں کو جوڑے گویا میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی انگشت ہائے مبارک کا اختلاف دیکھ رہا ہوں۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ،وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ،حدیث نمبر٨٦٨

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 868

موسیٰ بن ایوب ان کے چچا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب آیت فسبح باسم ربک العظیم نازک ہوئی تو فرمایا کہ اسے اپنے رکوع میں کہا کرو اور جب سبح اسم ربک الاعلیٰ نازل ہوئی تو فرمایا،اسے اپنے سجدوں میں رکھو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٦٩

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى - قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ -عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ { فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ }، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ ". فَلَمَّا نَزَلَتْ : { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى }، قَالَ : " اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 869

ایوب بن موسیٰ یا موسی بن ایوب کی قوم کے ایک آدمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے اسے معنا روایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو تین مرتبہ کہتے سبحان ربی العظیم وبحمدہ اور جب سجدہ کرتے تو تین دفعہ کہتے سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ۔امام ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ اضافہ ہے ہمیں خدشہ ہے کہ بات اچھی طرح محفوظ نہ رہی ہو۔۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧٠

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى أَوْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، بِمَعْنَاهُ. زَادَ : قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ قَالَ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ". ثَلَاثًا. وَإِذَا سَجَدَ قَالَ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ ". ثَلَاثًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ نَخَافُ أَلَّا تَكُونَ مَحْفُوظَةً. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : انْفَرَدَ أَهْلُ مِصْرَ بِإِسْنَادِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ : حَدِيثِ الرَّبِيعِ، وَحَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 870

شعبہ کا بیان ہے کہ میں نے سلیمان سے کہا کہ جب میں نماز کے اندر خوف والی آیت پر گرا ہوں تو دعا مانگتا ہوں پس انہوں نے مجھ سے حدیث بیان کی کہ سعد بن عبیدہ،مستورد صلہ بن زفر،حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ حضور رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدوں میں سبحان ربی الاعلیٰ کہتے اور رحمت کی آیت پڑھتے تو ٹھہر کر اس کا سوال کرتے اور عذاب کی آیت پر ٹھہر کر پناہ مانگتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧١

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قُلْتُ لِسُلَيْمَانَ : أَدْعُو فِي الصَّلَاةِ إِذَا مَرَرْتُ بِآيَةِ تَخَوُّفٍ ؟ فَحَدَّثَنِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ مُسْتَوْرِدٍ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ". وَفِي سُجُودِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ". وَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ، وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَتَعَوَّذَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 871

مطرف نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سجدوں اور رکوع میں کہا کرتے سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧٢

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 872

عاصم بن حمید سے روایت ہے کہ حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا پس آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی جب آیت رحمت کو پڑھتے تو ٹھہر کر سوال کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔راوی کا بیان ہے کہ پھر آپ نے قیام کے برابر رکوع کیا اور رکوع میں کہتے ۔سبحان ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمۃ پھر قیام کے برابر سجدہ اور سجدے میں اسی طرح کہا پھر کھڑے ہوئے اور سورہ آل عمران پڑھی پھر ایک ایک سورت پڑھی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧٣

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ. قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ، يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ". ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 873

ابوحمزہ مولی انصار نے بنی عباس کے ایک آدمی سے روایت کی ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ کہتے اللہ اکبر تین بار ذوالملک والجبروت والکبریاء والعظمۃ۔پھر سورہ فاتحہ پڑھ کر سورۂ البقرہ پڑھی پھر رکوع کیا تو رکوع میں بھی قیام کے برابر تھا اور رکوع میں کہتے سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قومہ کے برابر اور رکوع میں کہتے سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قومہ بھی آپ کا رکوع کے برابر تھا اور لربی الحمد کہتے رہے پھر سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ بھی قیام کے برابر تھا آپ سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ کہتے پھر سجدے سے سر اٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھے جتنی دیر میں سجدہ کیا تھا اور جلسہ میں رب اغفر لی کہا کرتے ۔پس آپ نے چار رکعتیں پڑھیں اور ان میں البقرہ ،آل عمران، النساء اور المائدہ پڑھی یا الانعام کی تلاوت کی اس میں شعبہ کو شک ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ،حدیث نمبر٨٧٤

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَكَانَ يَقُولُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ - ثَلَاثًا - ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ". ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ". ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ يَقُولُ : " لِرَبِّيَ الْحَمْدُ ". ثُمَّ سَجَدَ، فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ". ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، وَكَانَ يَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي ". فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقَرَأَ فِيهِنَّ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ وَالْمَائِدَةَ، أَوِ الْأَنْعَامَ. شَكَّ شُعْبَةُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 874

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے پس (سجدے میں)کثرت سے دعا کیا کرو۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٥

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 875

عبداللہ بن معبد کے والد ماجد نے حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور لوگ حضرت ابوبکر کے پیچھے صف بستہ تھے پس فرمایا۔اے لوگوں!نبوت کی خوش خبریوں سے کچھ باقی نہیں رہا مگر اچھا خواب جو کوئی مسلمان دیکھے یا کوئی اس کے لیے دیکھے اور مجھے منع فرمایا گیا ہے کہ رکوع وسجود میں قرآن مجید پڑھوں۔رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کو اور سجدے میں زیادہ دعا کرو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٦

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ؛ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 876

مسروق سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجود میں اکثر یوں کہا کرتے۔سبحانک الھم وبحمدک الھم اغفرلی اور قرآن کریم کی ایک آیت سے یہی مراد لیا کرتے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٧

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " ؛ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ .

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 877

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سجدے میں کہا کرتے اللَّهُمَّ اغفرلی ذنبی کلہ دقہ وجلہ واولہ وآخرہ۔ابن سرح نے یہ بھی کہا علانیتہ وسرہ۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٨

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ؛ دِقَّهُ وَجِلَّهُ ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ". زَادَ ابْنُ السَّرْحِ : " عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 878

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس سے گم تھے تو میں نے آپ کو مسجد میں ٹٹول لیا جب کہ آپ سجدے میں تھے اور دونوں قدم مبارک کھڑے تھے۔آپ کہہ رہے تھے۔پناہ لیتا ہوں تجھ سے تیری۔تیری تعریفیں شمار سے باہر ہیں تو اپنی ثنا کے مطابق ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابٌ فِي الدُّعَاءِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ،حدیث نمبر٨٧٩

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 879

عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز میں دعا مانگا کرتے تھے۔اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کی آزمائش سے۔اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے ۔ایک شخص عرض گزار ہوا کہ آپ قرض سے کیوں اکثر پناہ مانگتے ہیں فرمایا کہ جب آدمی مقروض پاجائے تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا اور وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٨٨٠

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ". فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 880

عبدالرحمن بن ابولیلی سے روایت ہے کہ ان کے والد ماجد نے فرمایا کہ میں نے نفلی نماز رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پہلو میں پڑھی۔پس میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔پناہ چاہتاہوں میں اللہ کی جہنم سے خرابی ہے جہنم والوں کے لیے۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٨٨١

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ تَطَوُّعٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 881

ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرمایا ایک نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے تو نماز میں ایک اعرابی نے کہا "جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اعرابی سے کہا"تم نے وسیع چیز کو تنگ کردیا"اس سے آپ کی مراد اللہ تعالی کی رحمت تھی۔ ابوداؤد شریف، كتاب الصلاة،بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر٨٨٢

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلَاةِ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا ". فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ : " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ". يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 882

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو«سبحان ربي الأعلى»کہتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث نمبر(٨٨٣)اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳٣؛حدیث نمبر؛٨٨٣)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى }، قَالَ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : خُولِفَ وَكِيعٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ أَبُو وَكِيعٍ وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَوْقُوفًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 883

موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں ایک صاحب اپنی چھت پر نماز پڑھا کرتے تھے، جب وہ آیت کریمہ"أليس ذلک بقادر على أن يحيي الموتى"(سورة القيامة:٤٠)پر پہنچتے تو"سبحانک"کہتے پھر روتے، لوگوں نے اس سے ان کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہامیں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں احمد نے کہا مجھے بھلا لگتا ہے کہ آدمی فرض نماز میں وہ دعا کرے جو قرآن میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳٣؛حدیث نمبر؛٨٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَوْقَ بَيْتِهِ، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ : { أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى } قَالَ : سُبْحَانَكَ فَبَلَى. فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ أَحْمَدُ : يُعْجِبُنِي فِي الْفَرِيضَةِ أَنْ يَدْعُوَ بِمَا فِي الْقُرْآنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 884

سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا،آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار سبحان الله وبحمده کہہ سکیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛ترجمہ؛رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار؛جلد۱ص۲۳٤؛حدیث نمبر؛٨٨۵)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنِ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ، فَكَانَ يَتَمَكَّنُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ". ثَلَاثًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 885

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اسے چاہیئے کہ تین بار سبحان ربي العظيم کہے،اور یہ کم سے کم مقدار ہے،اور جب سجدہ کرے تو کم سے کم تین بار سبحان ربي الأعلى کہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ مرسل ہے،عون نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٤؛حدیث نمبر؛٨٨٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الْأَهْوَازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَأَبُو دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ". وَذَلِكَ أَدْنَاهُ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْيَقُلْ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ". ثَلَاثًا، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا مُرْسَلٌ ؛ عَوْنٌ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 886

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جو شخص سورة والتين والزيتون پڑھے اسے چاہیئے کہ جب اس کی آخری آیت"الیس اللہ باحکمل الحاکمین"پر پہنچے تو بلى وأنا على ذلک من الشاهدين کہے،اور جو سورة لا أقسم بيوم القيامةپڑھے اور أليس ذلک بقادر على أن يحيي الموتی پر پہنچے تو بلى کہے،اور جو سورة والمرسلات پڑھے اور آیت فبأى حديث بعده يؤمنون پر پہنچے تو آمنا بالله کہے۔اسماعیل کہتے ہیں (میں نے یہ حدیث ایک اعرابی سے سنی)، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث پھر سے سنوں اور دیکھوں شاید؟ (وہ نہ سنا سکے)تو اس اعرابی نے کہا میرے بھتیجے!تم سمجھتے ہو کہ مجھے یہ یاد نہیں؟میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور ہر حج میں جس اونٹ پر میں چڑھا تھا اسے پہچانتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٤؛حدیث نمبر؛٨٨۷)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ : ( وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ )، فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا : { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } فَلْيَقُلْ : بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ : ( لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ )، فَانْتَهَى إِلَى : { أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى } فَلْيَقُلْ : بَلَى، وَمَنْ قَرَأَ : ( وَالْمُرْسَلَاتِ )، فَبَلَغَ : { فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ } فَلْيَقُلْ : آمَنَّا بِاللَّهِ ". قَالَ إِسْمَاعِيلُ : ذَهَبْتُ أُعِيدُ عَلَى الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّهُ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي، أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ ؟ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً، مَا مِنْهَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 887

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھےایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں احمد بن صالح کا بیان ہے میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا(وہب کے والد کا نام) مانوس ہے یا مابوس؟تو انہوں نے کہا عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھےمانوس یاد ہے،یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے(اسے سمعت کے بجائے عن سے یعنی عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالک روایت کی ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٤؛حدیث نمبر؛٨٨۸)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى. يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ. قَالَ : فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ، وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ : قُلْتُ لَهُ : مَانُوسُ أَوْ مَابُوسُ ؟ قَالَ : أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَيَقُولُ : مَابُوسُ. وَأَمَّا حِفْظِي فَمَانُوسُ. وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ، قَالَ أَحْمَدُ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 888

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔حماد بن زید کی روایت میں ہے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا۔ (نماز میں بالوں کو پگڑی وغیرہ میں سمیٹنا یا جوڑا باندھنا مکروہ ہے اسی طرح مٹی وغیرہ سے بچانے کے لئے کپڑوں کا سمیٹنا بھی درست نہیں)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ؛ترجمہ؛سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے؛جلد۱ص۲۳۵؛حدیث نمبر؛٨٨۹)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُمِرْتُ ". قَالَ حَمَّادٌ : أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 889

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،اور کبھی راوی نےکہاتمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۵؛حدیث نمبر؛٨۹۰)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُمِرْتُ ". وَرُبَّمَا قَالَ : أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ آرَابٍ .

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 890

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناجب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء چہرہ،دونوں ہاتھ،دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں۔ (چہرہ میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں سجدے میں پیشانی کا زمین پر لگنا ضروری ہے اس کے بغیر سجدے کا مفہوم پورے طور سے ادا نہیں ہوتا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۵؛حدیث نمبر؛٨۹۱)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ : وَجْهُهُ، وَكَفَّاهُ، وَرُكْبَتَاهُ، وَقَدَمَاهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 891

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابیشک دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے،تو جب تم میں سے کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو چاہیئے کہ دونوں ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو چاہیئے کہ انہیں بھی اٹھائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۵؛حدیث نمبر؛٨۹۲)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، رَفَعَهُ، قَالَ : " إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ، فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَهُ فَلْيَرْفَعْهُمَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 892

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم نماز میں آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تو تم بھی سجدہ میں چلے جاؤ اور تم اسے کچھ شمار نہ کرو،اور جس نے رکعت پالی تو اس نے نماز پالی ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْرِكُ الْإِمَامَ سَاجِدًا كَيْفَ يَصْنَعُ؟؛ترجمہ؛جب امام کو سجدے کی حالت میں پائے تو کیا کرے؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعَتَّابِ ، وَابْنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 893

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پراس نماز کی وجہ سے جو آپ نے لوگوں کو پڑھائی، مٹی کا اثر دیکھا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ السُّجُودِ عَلَى الْأَنْفِ وَالْجَبْهَةِ؛ترجمہ؛ناک اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلَاةٍ صَلَّاهَا بِالنَّاسِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 894

Abu Daud Sharif Kitabus Salat Hadees No# 895

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، نَحْوَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 895

ابواسحاق کہتے ہیں کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں سجدہ کرنے کا طریقہ بتایاتو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک لگائی اور اپنی سرین کو بلند کیا اور کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛ترجمہ؛سجدہ کا طریقہ؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹٦)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَصَفَ لَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ، وَاعْتَمَدَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ ، وَقَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 896

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدے میں اعتدال کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔ ( یعنی اپنی ہیئت درمیانی رکھو اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلووں سے جدا ہوں اور پیٹ ران سے جدا ہو)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹۷)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 897

حضرت ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ(بغل سے) جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے دونوں ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳٦؛حدیث نمبر؛٨۹۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 898

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے پیچھے سے آیا(اور آپ سجدے میں تھے)تو میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح سجدہ کئے ہوئے تھے کہ اپنے دونوں بازو پسلیوں سےجدا کئے ہوئے تھے اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے ہوئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛٨۹۹)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ الَّذِي يُحَدِّثُ بِالتَّفْسِيرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَهُوَ مُجَخٍّ قَدْ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 899

احمر بن جزء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کا خیال ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛۹۰۰)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ بْنُ جَزْءٍ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ حَتَّى نَأْوِيَ لَهُ .

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 900

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ صِفَةِ السُّجُودِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛۹۰۱)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَفْتَرِشْ يَدَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ ، وَلْيَضُمَّ فَخِذَيْهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 901

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایازانو(گھٹنے)سے مدد لے لیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ لِلضَّرُورَةِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛۹۰۲)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : اشْتَكَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا انْفَرَجُوا، فَقَالَ : " اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 902

زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بغل میں نماز پڑھی،اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے،جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی)کی شکل ہے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے۔( کیونکہ جسے سولی دی جاتی ہے اس کے ہاتھ سولی دیتے وقت اسی طرح رکھے جاتے ہیں)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي التَّخَصُّرِ وَالْإِقْعَاءِ؛جلد۱ص۲۳۷؛حدیث نمبر؛۹۰٣)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَاصِرَتَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 903

حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،آپ کے سینے مبارک سے رونے کی آواز اس طرح نکل رہی تھی جس طرح چکی کی آواز۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْبُكَاءِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳۸؛حدیث نمبر؛۹۰٤)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ - أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَى مِنَ الْبُكَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 904

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ان میں وہ بھولے نہیں تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (یعنی حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے دنیاوی خیالات اور نماز سے غیر متعلق امور ذہن میں نہیں لاتا۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْوَسْوَسَةِ وَحَدِيثِ النَّفْسِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں وسوسوں اور خیالات آنے کی کراہت؛جلد۱ص۲۳۸؛حدیث نمبر؛۹۰۵)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا ؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 905

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْوَسْوَسَةِ وَحَدِيثِ النَّفْسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳۸؛حدیث نمبر؛۹۰٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، يُقْبِلُ بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا ؛ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 906

حضرت مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآت کر رہے تھے،(یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ آیتیں بھول گئے جن کو نہیں پڑھا(نماز کے بعد)ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہوگئی ہیں۔سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا،وہ کہتے ہیں ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی،اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہوگیا،جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھاکیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ابی نے کہا ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہیں(لقمہ دینے سے)کس چیز نے روک دیا؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ایک نماز پڑھی۔آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس میں قرأت کی تو آپ کو(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پڑھتے پڑھتے سہو ہوگیاجب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی تھی؟انہوں نے کہا ہاں!اس پر آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا تب پھر تم نے بتایا کیوں نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْفَتْحِ عَلَى الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲۳۸؛حدیث نمبر؛۹۰۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى الْكَاهِلِيِّ ، عَنِ الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ يَحْيَى : وَرُبَّمَا قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَّا أَذْكَرْتَنِيهَا ؟ ". قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : كُنْتُ أُرَاهَا نُسِخَتْ. وَقَالَ سُلَيْمَانُ : قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُسَوَّرُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسَدِيُّ الْمَالِكِيُّ . حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً فَقَرَأَ فِيهَا، فَلَبَسَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأُبَيٍّ : " أَصَلَّيْتَ مَعَنَا ؟ ". قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ ؟ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 907

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اےعلی!تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّلْقِينِ؛جلد۱ص۲۳۹؛حدیث نمبر؛۹۰٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ، لَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَارِثِ إِلَّا أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ، لَيْسَ هَذَا مِنْهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 908

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہےاللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّلْقِينِ؛نماز میں ادھر ادھر دیکھنا؛جلد۱ص۲۳۹؛حدیث نمبر٩٠٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 909

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے(یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّلْقِينِ؛جلد۱ص۲۳۹؛حدیث نمبر؛۹۱٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنِ الْأَشْعَثِ - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 910

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی،جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ السُّجُودِ عَلَى الْأَنْفِ؛ترجمہ؛ناک پر سجدہ کرنا؛جلد۱ص۲۳۹؛حدیث نمبر؛۹۱١)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلَاةٍ صَلَّاهَا بِالنَّاسِ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ : هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَقْرَأْهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْعَرْضَةِ الرَّابِعَةِ. }

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 911

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آجائیں ورنہ(ہو سکتا ہے کہ)ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّظَرِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں کسی چیز کو دیکھنا؛جلد۱ص۲٤٠؛حدیث نمبر؛۹۱٢)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - وَهَذَا حَدِيثُهُ، وَهُوَ أَتَمُّ - عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . قَالَ عُثْمَانُ : قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَرَأَى فِيهِ نَاسًا يُصَلُّونَ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ إِلَى السَّمَاءِ. ثُمَّ اتَّفَقَا : فَقَالَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ يَشْخَصُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ - قَالَ مُسَدَّدٌ : فِي الصَّلَاةِ - أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبْصَارُهُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 912

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی،اور فرمایا لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّظَرِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٠؛حدیث نمبر؛۹۱۳)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ ". فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ : " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 913

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کردیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ(ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی) اور ان سے میرے لیے کمبل لے آؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّظَرِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٠؛حدیث نمبر؛۹۱٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ : " شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ، وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 914

ایک اور سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم کی کردی چادر لے لی،تو آپ سے کہا گیا اےاللہ کے رسول!وہ (باریک نقش و نگار والی)چادر اس(کردی چادر)سے اچھی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ النَّظَرِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۱؛حدیث نمبر؛۹۱۵)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ - قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : وَأَخَذَ كُرْدِيًّا كَانَ لِأَبِي جَهْمٍ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْخَمِيصَةُ كَانَتْ خَيْرًا مِنَ الْكُرْدِيِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 915

حضرت سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نماز فجر کی اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ؛جلد۱ص۲٤۱؛حدیث نمبر؛۹۱٦)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ - عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ : حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ - هُوَ أَبُو كَبْشَةَ - عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ : ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ - يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ - فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 916

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی حضرت امامہ بنت زینب(بنت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛نماز میں عمل؛جلد۱ص۲٤۱؛حدیث نمبر؛۹۱۷)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 917

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ حضرت امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع (رضی اللہ عنہ)کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے،حضرت امامہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا تھیں،حضرت امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں،وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھیں،جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے،اسی طرح کرتے ہوئے آپ علیہ السلام نے اپنی پوری نماز ادا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۱؛حدیث نمبر؛۹۱۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ : بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ صَبِيَّةٌ يَحْمِلُهَا عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ وَيُعِيدُهَا إِذَا قَامَ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 918

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی حضرت امامہ بنت ابوالعاص آپ علیہ السلام کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۲؛حدیث نمبر؛۹۱۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عُنُقِهِ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَلَمْ يَسْمَعْ مَخْرَمَةُ مِنْ أَبِيهِ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 919

صحابی رسول حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کو نماز کے لیے بلایا تو آپ علیہ السلام ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ (آپ علیہ السلام کی نواسی حضرت )امامہ بنت ابوالعاص جو آپ علیہ السلام کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں آپ علیہ السلام کی گردن پر سوار تھیں تو آپ علیہ السلام اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں،ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےالله أكبرکہا تو ہم لوگوں نے بھی الله أكبرکہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا،پھر رکوع اور سجدہ کیا،یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر (دوسری رکعت کے لیے)کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر(اپنی گردن پر)اسی جگہ بٹھا لیا،جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۲؛حدیث نمبر؛۹۲۰)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ - صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ فِي الظُّهْرِ - أَوِ الْعَصْرِ - وَقَدْ دَعَاهُ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بِنْتُ ابْنَتِهِ عَلَى عُنُقِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُصَلَّاهُ، وَقُمْنَا خَلْفَهُ وَهِيَ فِي مَكَانِهَا الَّذِي هِيَ فِيهِ. قَالَ : فَكَبَّرَ فَكَبَّرْنَا. قَالَ : حَتَّى إِذَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْكَعَ أَخَذَهَا فَوَضَعَهَا ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ ثُمَّ قَامَ أَخَذَهَا فَرَدَّهَا فِي مَكَانِهَا، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 920

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایانماز میں دونوں کالوں (یعنی)سانپ اور بچھو کو(اگر دیکھو تو) قتل کر ڈالو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۲؛حدیث نمبر؛۹۲١)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ : الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 921

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے،دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے (حالت نماز میں) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلیٰ(نماز کی جگہ)پر واپس لوٹ گئے اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۲؛حدیث نمبر؛۹۲٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا بُرْدٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَحْمَدُ : يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ، فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ. قَالَ أَحْمَدُ : فَمَشَى فَفَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ. وَذَكَرَ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 922

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے،لیکن جب ہم نجاشی (بادشاہ حبشہ)کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا نماز(خود)ایک شغل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں سلام کا جواب دینا؛جلد۱ص۲٤۳؛حدیث نمبر؛۹۲٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا وَقَالَ : " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 923

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(پہلے)ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کرلیتے تھے،تو(ایک بار)میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے،میں نے آپ کو سلام کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہوگئی جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے،نیا حکم نازل کرتا ہے،اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو،پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۳؛حدیث نمبر؛۹۲٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَلَّا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ ". فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 924

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے،میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے سلام کا جواب دیا۔ راوی کا بیان ہے کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے إشارة بأصبعه کا لفظ کہا ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارہ سے سلام کا جواب دیا،یہ قتیبہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۳؛حدیث نمبر؛۹۲٥)

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ نَابِلٍ - صَاحِبِ الْعَبَاءِ - عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّهُ قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ إِشَارَةً. قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : إِشَارَةً بِأُصْبُعِهِ. وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 925

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھے بنی مصطلق کے پاس بھیجا،میں(وہاں سے)لوٹ کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے،میں نے آپ سے بات کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح سے اشارہ کیا،میں نے پھر آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی خاموش رہنے کا حکم دیا،میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآت کرتے سن رہا تھا اور آپ اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے،پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھامیں نے تم کو جس کام کے لیے بھیجا تھا اس سلسلے میں تم نے کیا کیا؟(پھر فرمایا) میں نے تم سے بات اس لیے نہیں کی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۳؛حدیث نمبر؛۹۲٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : أَرْسَلَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 926

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے قباء گئے،تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت نماز میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھاجب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا؟بلال رضی اللہ عنہ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کر رہے تھے،اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے،جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٤؛حدیث نمبر؛۹۲٧)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ الدَّامَغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ. قَالَ : فَجَاءَتْهُ الْأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي. قَالَ : فَقُلْتُ لِبِلَالٍ : كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ؟ قَالَ : يَقُولُ هَكَذَا. وَبَسَطَ كَفَّهُ، وَبَسَطَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كَفَّهُ وَجَعَلَ بَطْنَهُ أَسْفَلَ، وَجَعَلَ ظَهْرَهُ إِلَى فَوْقُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 927

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانماز میں نہ دھوکہ ہے اور نہ سلام کرنا۔نقصان اور کمی نہیں ہے اور نہ سلام میں ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا نہ تم کسی کو سلام کرو اور نہ تمہیں کوئی سلام کرے اور دھوکہ یہ کہ آدمی اپنی نماز سے اس حالت میں لوٹے کہ وہ اس میں شک کرتا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٤؛حدیث نمبر؛۹۲٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ ". قَالَ أَحْمَدُ : يَعْنِي - فِيمَا أَرَى - أَلَّا تُسَلِّمَ وَلَا يُسَلَّمَ عَلَيْكَ، وَيُغَرِّرُ الرَّجُلُ بِصَلَاتِهِ فَيَنْصَرِفُ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 928

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ سلام میں نقص ہے اور نہ نماز میں۔ معاویہ بن ہشام کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ سفیان نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ابن فضیل نے ابن مہدی کی طرح لا غرار في تسليم ولا صلاة‌‏ کے لفظ کے ساتھ روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کہا ہے(بلکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٤؛حدیث نمبر؛۹٢٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ : " لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ عَلَى لَفْظِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 929

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے(حالت نماز میں) يرحمک الله کہا،اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے،میں نے(اپنے دل میں)کہا میری ماں مجھے روے،تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کردیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا،میرے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں،جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا،نہ ڈانٹا،نہ برا بھلا کہا،صرف اتنا فرمایا نماز میں اس طرح بات چیت درست نہیں،یہ تو بس تسبیح،تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے،یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول!(ابھی)نیا نیا مسلمان ہوا ہوں،اللہ تعالیٰ نے ہم کو(جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر)دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم ان کے پاس مت جاؤ ۔میں نے کہا ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان کے دلوں کا وہم ہے،یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے ۔پھر میں نے کہا ہم میں سے کچھ لوگ لکیر(خط)کھینچتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نبیوں میں سے ایک نبی خط(لکیریں) کھینچا کرتے تھے،اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہواوہ صحیح ہے۔ میں نے کہامیرے پاس ایک لونڈی ہے،جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی،ایک بار میں(اچانک)پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں،مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کردیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری،میں نے عرض کیاکیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے میرے پاس لے کر آؤ،میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس لونڈی سے)پوچھااللہ کہاں ہے؟اس نے کہاآسمان کے اوپر ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھامیں کون ہوں؟اس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٤؛حدیث نمبر؛۹۳٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ : وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصَمِّتُونِي، فَقَالَ عُثْمَانُ : فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ. قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي مَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَحِلُّ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ ". أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ. قَالَ : " فَلَا تَأْتِهِمْ ". قَالَ : قُلْتُ : وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ : " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدُّهُمْ ". قُلْتُ : وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ. قَالَ : " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ ". قَالَ : قُلْتُ : جَارِيَةٌ لِي كَانَتْ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ إِذِ اطَّلَعْتُ عَلَيْهَا اطِّلَاعَةً، فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْهَا، وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظَّمَ ذَاكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ : أَفَلَا أُعْتِقُهَا ؟ قَالَ : " ائْتِنِي بِهَا ". قَالَ : فَجِئْتُهُ بِهَا، فَقَالَ : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ ". قَالَتْ : فِي السَّمَاءِ. قَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ ". قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ : " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 930

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے اسلام کی کچھ باتیں معلوم ہوئیں چناں چہ جو باتیں مجھے معلوم ہوئیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب تمہیں چھینک آئے تو الحمد الله کہو اور کوئی دوسرا چھینکے اور الحمد الله کہے تو تم يرحمک الله کہو۔معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک نماز میں کھڑا تھا کہ اسی دوران ایک شخص کو چھینک آئی اس نےالحمد الله کہا تو میں نے يرحمک الله بلند آواز سے کہا تو لوگوں نے مجھے ترچھی نظروں سے دیکھنا شروع کیا تو میں اس پر غصہ میں آگیا،میں نے کہا تم لوگ میری طرف کنکھیوں سے کیوں دیکھتے ہو؟تو ان لوگوں نے سبحان الله کہا،پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا(دوران نماز)کس نے بات کی تھی؟لوگوں نے کہااس اعرابی نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بلایا اور مجھ سے فرمایا نماز تو بس قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے لیے ہے،تو جب تم نماز میں رہو تو تمہارا یہی کام ہونا چاہیئے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر شفیق اور مہربان کبھی کسی معلم کو نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۵؛حدیث نمبر؛۹۳۱)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ : لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الْإِسْلَامِ، فَكَانَ فِيمَا عَلِمْتُ أَنْ قَالَ لِي : " إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ، وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللَّهَ فَقُلْ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ". قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ، فَقُلْتُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ رَافِعًا بِهَا صَوْتِي، فَرَمَانِي النَّاسُ بِأَبْصَارِهِمْ حَتَّى احْتَمَلَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ : مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ بِأَعْيُنٍ شُزْرٍ ؟ قَالَ : فَسَبَّحُوا، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ ؟ ". قِيلَ : هَذَا الْأَعْرَابِيُّ. فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي : " إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنَكَ ". فَمَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 931

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب"ولا الضالين"پڑھتے تو آمین کہتے،اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛ترجمہ؛امام کے پیچھے مقتدیوں کا آمین کہنا؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ : { وَلَا الضَّالِّينَ } قَالَ : " آمِينَ ". وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 932

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےانہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے زور سے آمین کہی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گال کی سفیدی دیکھ لی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳۳)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَهَرَ بِـ " آمِينَ "، وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ خَدِّهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 933

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب"غير المغضوب عليهم ولا الضالين"کی تلاوت فرماتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ پہلی صف میں سے جو لوگ آپ سے نزدیک ہوتے اسے سن لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳٤)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ - ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَلَا : { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ } قَالَ : " آمِينَ ". حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الصَّفِّ الْأَوَّلِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 934

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب امام "غير المغضوب عليهم ولا الضالين"کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہوجائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳۵)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ : { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ } فَقُولُوا : آمِينَ ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 935

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو،کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگی اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ابن شہاب زہری کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " آمِينَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 936

حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے۔ (یعنی اتنی مہلت دیا کیجئے کہ میں سورة فاتحہ سے فارغ ہوجاؤں تاکہ آپ کی اور میری آمین ساتھ ہوا کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بات مروان سے کہا کرتے تھے۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳۷)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ رَاهَوَيْهِ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 937

ابومصبح مقرائی کہتے ہیں کہ ہم ابوزہیر نمیری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے،وہ صحابی رسول تھے، وہ(ہم سے) اچھی اچھی حدیثیں بیان کرتے تھے،جب ہم میں سے کوئی دعا کرتا تو وہ کہتے اسے آمین پر ختم کرو،کیونکہ آمین کتاب پر لگی ہوئی مہر کی طرح ہے۔ابوزہیر نے کہا میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں؟ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے،ہم لوگ ایک شخص کے پاس پہنچےجو نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر سننے لگے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے (اپنی دعا پر) مہر لگا لی تو اس کی دعا قبول ہوگئی،اس پر ایک شخص نے پوچھا کس چیز سے وہ مہر لگائے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآمین سے،اگر اس نے آمین سے ختم کیا تو اس کی دعا قبول ہوگئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر وہ شخص اس آدمی کے پاس آیا جو دعا کر رہا تھا اور اس سے کہا اے فلاں!تم اپنی دعا پر آمین کی مہر لگا لو اور خوش ہوجاؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ؛جلد۱ص۲٤٦؛حدیث نمبر؛۹۳٨)

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ صُبَيْحِ بْنِ مُحْرِزٍ الْحِمْصِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُصَبِّحٍ الْمُقْرَائِيُّ ، قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَبِي زُهَيْرٍ النُّمَيْرِيِّ ، وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَيَتَحَدَّثُ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ، فَإِذَا دَعَا الرَّجُلُ مِنَّا بِدُعَاءٍ قَالَ : اخْتِمْهُ بِآمِينَ ؛ فَإِنَّ آمِينَ مِثْلُ الطَّابَعِ عَلَى الصَّحِيفَةِ. قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ : أُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَلَحَّ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْجَبَ إِنْ خَتَمَ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بِأَيِّ شَيْءٍ يَخْتِمُ ؟ قَالَ : " بِآمِينَ ؛ فَإِنَّهُ إِنْ خَتَمَ بِآمِينَ فَقَدْ أَوْجَبَ ". فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الرَّجُلَ فَقَالَ : اخْتِمْ يَا فُلَانُ بِآمِينَ وَأَبْشِرْ. وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ.قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الْمُقْرَائِيُّ قَبِيلَةٌ مِنْ حِمْيَرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 938

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانماز میں مردوں کو سبحان الله کہنا چاہیئے اور عورتوں کو تالی بجانی چاہیئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں تالی بجانا؛جلد۱ص۲٤۷؛حدیث نمبر؛۹۳٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 939

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے،اور نماز کا وقت ہوگیا،مؤذن نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کیا آپ نماز پڑھائیں گے،میں تکبیر کہوں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہاہاں!(تکبیر کہو میں نماز پڑھاتا ہوں)تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے،اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور لوگ نماز میں تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے(پہلی)صف میں آ کر کھڑے ہوگئے تو لوگ تالی بجانے لگےاور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے،لوگوں نے جب زیادہ تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نگاہ پڑی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اشارہ سے فرمایاتم اپنی جگہ پر کھڑے رہو ،توابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا،اللہ کا شکر ادا کیا،پھر پیچھے آ کر صف میں کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے،پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاجب میں نے تمہیں حکم دے دیا تھا تو اپنی جگہ پر قائم رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ابو قحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھائے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےلوگوں سے فرمایاکیا بات تھی؟تم اتنی زیادہ کیوں تالیاں بجا رہے تھے؟جب کسی کو نماز میں کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے،کیونکہ جب وہ سبحان الله کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور تالی بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ فرض نماز کا واقعہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۷؛حدیث نمبر؛۹٤٠)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ : أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ؟ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيحِ ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ ؛ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا فِي الْفَرِيضَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 940

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی آپس میں لڑائی ہوئی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی،تو آپ ظہر کے بعد مصالحت کرانے کی غرض سے ان کے پاس آئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے کہہ آئے کہ اگر عصر کا وقت آجائے اور میں واپس نہ آسکوں تو تم ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں،چناں چہ جب عصر کا وقت ہوا تو بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا تو آپ آگے بڑھ گئے،اس کے اخیر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آجائے تو مرد سبحان الله کہیں اور عورتیں دستک دیں۔(یعنی:-داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مارے۔) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤۷؛حدیث نمبر؛۹٤١)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ لِبِلَالٍ : " إِنْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِكَ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ، ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ. قَالَ فِي آخِرِهِ : " إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 941

عیسیٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد"التصفيح للنساء"سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی دونوں انگلیاں اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ماریں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد۱ص۲٤٨؛حدیث نمبر؛۹٤٢)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَيُّوبَ قَالَ : قَوْلُهُ : " التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ ". تَضْرِبُ بِأُصْبُعَيْنِ مِنْ يَمِينِهَا عَلَى كَفِّهَا الْيُسْرَى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 942

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب الاشارۃ فی الصلاۃ؛ترجمہ؛نماز میں اشارہ کرنے کا بیان؛جلد۱ص۲٤٨؛حدیث نمبر؛۹٤٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ شَبُّويَهِ الْمَرْوَزِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 943

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"سبحان الله"کہنا مردوں کے لیے ہے یعنی نماز میں اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہیں،جس نے اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کیا کہ جسے سمجھا جاسکے تو وہ اس کی وجہ سے اسے لوٹائے یعنی اپنی نماز کو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث وہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب الاشارۃ فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٤٨؛حدیث نمبر؛۹٤٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ - وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، مَنْ أَشَارَ فِي صَلَاتِهِ إِشَارَةً تُفْهَمُ عَنْهُ فَلْيَعُدْ لَهَا ". يَعْنِي الصَّلَاةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا الْحَدِيثُ وَهْمٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 944

حضرت ابو الاحوص سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کا سامنا کرتی ہے، لہٰذا وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب فی مسح الحصی فی الصلاۃ؛ ترجمہ؛نماز میں کنکریاں ہٹانا؛جلد۱ص۲٤٩؛حدیث نمبر؛۹٤٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ - شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 945

حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نماز پڑھنے کی حالت میں(کنکریوں پر)ہاتھ نہ پھیرو، یعنی انہیں برابر نہ کرو،اگر کرنا ضروری ہو تو ایک دفعہ برابر کرلو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب فی مسح الحصی فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٤٩؛حدیث نمبر؛۹٤٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمْسَحْ وَأَنْتَ تُصَلِّي، فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً، تَسْوِيَةَ الْحَصَى ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 946

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےنمازمیں"الاختصار"سے منع فرمایا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں"الاختصار"کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب الرجل یصلی مختصراً؛ترجمہ؛کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا؛جلد۱ص۲٤٩؛حدیث نمبر؛۹٤٧)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : يَعْنِي : يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَاصِرَتِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 947

حضرت ہلال بن یساف سے مروی ہے فرماتے ہیں میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھاکیا تمہیں کسی صحابی سے ملنے کی خواہش ہے؟میں نے کہا کیوں نہیں؟(ملاقات ہوجائے تو)غنیمت ہے،تو ہم وابصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے،میں نے اپنے ساتھی سے کہاپہلے ہم ان کی وضع دیکھیں،میں نے دیکھا کہ وہ ایک ٹوپی سر سے چپکی ہوئی دو کانوں والی پہنے ہوئے تھے اور خز ریشم کا خاکی رنگ کا برنس اوڑھے ہوئے تھے،اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نماز میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے،پھر ہم نے سلام کرنے کے بعد ان سے(نماز میں لکڑی پر ٹیک لگانے کی وجہ)پوچھی تو انہوں نے کہامجھ سے ام قیس بنت محصن نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب زیادہ ہوگئی اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں ایک ستون بنا لیا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب الرجل یعتمد فی الصلاۃ علی عصا؛ترجمہ؛لکڑی سے ٹیک لگا کر نماز پڑھنے کا بیان؛جلد۱ص۲٤٩؛حدیث نمبر؛۹٤٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَابِصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ قَالَ : قَدِمْتُ الرَّقَّةَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي : هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : غَنِيمَةٌ، فَدَفَعْنَا إِلَى وَابِصَةَ ، قُلْتُ لِصَاحِبِي : نَبْدَأُ فَنَنْظُرُ إِلَى دَلِّهِ، فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ لَاطِئَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ، وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ، وَإِذَا هُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى عَصًا فِي صَلَاتِهِ، فَقُلْنَا بَعْدَ أَنْ سَلَّمْنَا، فَقَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَنَّ وَحَمَلَ اللَّحْمَ ؛ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلَّاهُ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 948

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی "وقوموا لله قانتين" (ترجمہ)"اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو"(سورۃ البقرہ؛٢٣٨) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب النھی عن الکلام فی الصلاۃ؛نماز میں گفتگو کی ممانعت؛جلد۱ص۲٥٠؛حدیث نمبر؛۹٤٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كَانَ أَحَدُنَا يُكَلِّمُ الرَّجُلَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ : { وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ }، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 949

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ نے فرمایا ہےبیٹھ کر پڑھنے والے شخص کی نماز آدھی نماز ہےمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے(تعجب سے)اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاعبداللہ بن عمرو!کیا بات ہے؟،میں نے کہایا رسول اللہ!مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو نصف ثواب ملتا ہے اور آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سچ ہے،لیکن میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛باب فی صلاۃ القاعد؛ترجمہ؛بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان؛جلد۱ص۲٥٠؛حدیث نمبر؛۹٥٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ - يَعْنِي ابْنَ يِسَافٍ - عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ ". فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ؟ ". قُلْتُ : حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ قُلْتَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ ". وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا ؟ قَالَ : " أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 950

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا آدمی کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ہے اور لیٹ کر پڑھنے میں بیٹھ کر پڑھنے کے مقابلہ میں نصف ثواب ملتا ہے ۔ (اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے آدھا ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۰؛حدیث نمبر؛۹۵۱)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا، فَقَالَ : " صَلَاتُهُ قَائِمًا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، وَصَلَاتُهُ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا، وَصَلَاتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 951

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے ناسور تھامیں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایاتم کھڑے ہو کر نماز پڑھو،اگر کھڑےہوکرپڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو(لیٹ کر) پہلو کے بل پڑھو۔ (باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۰؛حدیث نمبر؛۹۵۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : كَانَ بِي النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 952

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ عمر رسیدہ ہوگئے تو اس میں بیٹھ کر قرآت کرتے تھے پھر جب تیس یا چالیس آیتیں رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر سجدہ کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۰؛حدیث نمبر؛۹۵۳)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا قَطُّ حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَكَانَ يَجْلِسُ فِيهَا فَيَقْرَأُ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ أَرْبَعُونَ أَوْ ثَلَاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ سَجَدَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 953

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھ کر قرآت کرتے تھے،پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرآت رہ جاتی تو کھڑے ہوجاتے،پھر انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے،پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے،پھر دوسری رکعت میں(بھی)اسی طرح کرتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث علقمہ بن وقاص نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے،انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 954

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر،جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵۵)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ بُدَيْلَ بْنَ مَيْسَرَةَ وَأَيُّوبَ يُحَدِّثَانِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 955

حضرت عبداللہ بن شقیق کہتےہیں کہ میں نےام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھتے تھے؟انہوں نے کہا(ہاں)مفصل کی،پھر میں نے پوچھاکیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟انہوں نے کہاجس وقت لوگوں(کے کثرت معاملات)نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکستہ(یعنی بوڑھا)کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابٌ فِي صَلَاةِ الْقَاعِدِ؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فِي رَكْعَةٍ ؟ قَالَتِ : الْمُفَصَّلُ. قَالَ : قُلْتُ : فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا ؟ قَالَتْ : حِينَ حَطَمَهُ النَّاسُ .

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 956

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم(نماز کے لیے)کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر(تکبیر تحریمہ)کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا،پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا،(رفع یدین کیا)وہ کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں(یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی)بند کرلی اور(بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے)حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر(راوی)نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵۷)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : قُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ؟ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا. وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 957

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نماز کی سنت یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پیر کھڑا رکھو اور بایاں پیر موڑ کر رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ کیف الجلوس فی التشہد؛جلد۱ص۲۵۱؛حدیث نمبر؛۹۵۸)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى، وَتَثْنِيَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 958

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تم اپنا بایاں پیر بچھائے رکھو اور داہنا پیر کھڑا رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹۵۹)

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى وَتَنْصِبَ الْيُمْنَى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 959

ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٩٥٩ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹٦٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى أَيْضًا : مِنَ السُّنَّةِ. كَمَا قَالَ جَرِيرٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 960

حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نے(اپنے ساتھیوں کو)تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت دکھائی پھر حدیث نمبر ٩٥٩ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹٦١)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَرَاهُمُ الْجُلُوسَ فِي التَّشَهُّدِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 961

حضرت ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں(تشہد کے لیے)بیٹھتےتو اپنا بایاں پیر بچھاتے یہاں تک کہ آپ کے قدم کی پشت سیاہ ہوگئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ فِي التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹٦٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى حَتَّى اسْوَدَّ ظَهْرُ قَدَمِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 962

محمد بن عمرو سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں سنا،اور احمد بن حنبل کی روایت میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کی موجودگی میں،جن میں ابوقتادہ بھی تھے،ابوحمید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں تم لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو جانتا ہوں،لوگوں نے کہا تو آپ پیش کیجئے،پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہےجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کی انگلیاں کھلی رکھتے پھر الله أكبر کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھتے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے،پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں ہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس(آخری)سجدے سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام پھیرنا رہتا ہے تو بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔ احمد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے پھر لوگوں نے ان سے کہا آپ نے سچ کہا،آپ اسی طرح نماز پڑھتے تھے،لیکن ان دونوں نے یہ نہیں ذکر کیا کہ دو رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح بیٹھے تھے؟ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَةِ؛جلد۱ص۲۵۲؛حدیث نمبر؛۹٦۳)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ . يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ أَحْمَدُ : قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا : فَاعْرِضْ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ : وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ". وَيَرْفَعُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ : حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ. زَادَ أَحْمَدُ : قَالُوا : صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي. وَلَمْ يَذْكُرَا فِي حَدِيثِهِمَا الْجُلُوسَ فِي الثِّنْتَيْنِ كَيْفَ جَلَسَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 963

محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ(ایک مجلس میں)بیٹھے ہوئے تھے،پھر انہوں نے یہی مذکورہ حدیث بیان کی،اور ابوقتادہ کا ذکر نہیں کیا کہاجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت کے بعد(تشہد کے لیے)بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھتے اور جب اخیر رکعت کے بعد بیٹھتے تو اپنا بایاں پیر(دائیں جانب)آگے نکال لیتے اور اپنے سرین پر بیٹھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَة؛جلد۱ص۲۵۳؛حدیث نمبر؛۹٦٤)

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ : فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 964

محمد بن عمرو عامری سے مروی ہے انہوں نے کہا میں ایک مجلس میں تھا،پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی جس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں قدم کے تلوے پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پیر کھڑا رکھتے پھر جب چوتھی رکعت ہوتی تو اپنی بائیں سرین کو زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کو ایک طرف نکال لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَة؛جلد۱ص۲۵۳؛حدیث نمبر؛۹٦۵)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ. بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ : فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ، وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 965

حضرت عباس بن سہل یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے،جس میں ان کے والد سہل ساعدی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے تو اس مجلس میں انہوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اور اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے سروں پر سہارا کیا،اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سجدے سے سر اٹھا کر)بیٹھے تو تورک کیا یعنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا پھر الله أكبر کہا اور سجدہ کیا،پھر الله أكبر کہہ کر کھڑے ہوئے اور تورک نہیں کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور دوسری رکعت پڑھی تو اسی طرح الله أكبر کہا، پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے یہاں تک کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگے توالله أكبر کہہ کر اٹھے،پھر آخری دونوں رکعتیں پڑھیں،پھر جب سلام پھیرا تو اپنی دائیں جانب اور بائیں جانب پھیرا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنی روایت میں تورک اور دو رکعت پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے،جس کا ذکر عبدالحمید نے کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَة؛جلد۱ص۲۵۳؛حدیث نمبر؛۹٦٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبَّاسٍ أَوْ عَيَّاشِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، فَذَكَرَ فِيهِ قَالَ : فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتَوَرَّكَ، وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى فَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ مَا ذَكَرَ عَبْدُ الْحَمِيدِ فِي التَّوَرُّكِ وَالرَّفْعِ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 966

حضرت فلیح کہتے ہیں حضرت عباس بن سہل نے مجھے خبر دی ہے کہ ابوحمید،ابواسید،سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھا ہوئے،پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی اور دو رکعت پڑھ کر کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی بیٹھنے کا،وہ کہتے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوگئے پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنے داہنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی جانب کیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ مَنْ ذَكَرَ التَّوَرُّكَ فِي الرَّابِعَة؛جلد۱ص۲۵۳؛حدیث نمبر؛۹٦۷)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ ، أَخْبَرَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ . فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ وَلَا الْجُلُوسَ. قَالَ : حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 967

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو یہ کہتے تھے"السلام على الله قبل عباده السلام على فلان وفلان "یعنی اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں پر سلام سے پہلے یا اس کے بندوں کی طرف سے اور فلاں فلاں شخص پر سلام ہو"تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم ایسا مت کہا کرو کہ اللہ پر سلام ہو،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود سلام ہے،بلکہ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہے "التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" ’’تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیںﷲ ہی کے لیے ہیں،اے نبی!آپ پر سلام ہو اور ﷲ کی رحمت اور برکتیں ہوں،ہم پر اور ﷲ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو"۔ کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو ہر نیک بندے کو خواہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو یا دونوں کے بیچ میں ہو اس(دعا کے پڑھنے) کا ثواب پہنچے گا(پھر یہ کہو) "أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله" میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں" پھر تم میں سے جس کو جو دعا زیادہ پسند ہو،وہ اس کے ذریعہ دعا کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التَّشَهُّدِ؛ترجمہ؛تشہد کا بیان؛جلد۱ص۲۵٤؛حدیث نمبر؛۹٦۸)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ - فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. أَوْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لْيتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُوَ بِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 968

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ جب ہم نماز میں بیٹھیں تو کیا کہیں،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا،پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔شریک کہتے ہیں ہم سے جامع یعنی ابن شداد نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے اس میں(اتنا اضافہ)ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چند کلمات سکھاتے تھے اور انہیں اس طرح نہیں سکھاتے تھے جیسے تشہد سکھاتے تھے اور وہ یہ ہیں "اللهم ألف بين قلوبنا وأصلح ذات بيننا واهدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات إلى النور وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن و بارک لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم واجعلنا شاکرين لنعمتک مثنين بها قابليها وأتمها علينا " "اے اللہ!تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے،اور ہماری حالتوں کو درست فرما دے، اور راہ سلامتی کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے، آنکھوں،دلوں اور ہماری بیوی بچوں میں برکت عطا کر دے،اور ہماری توبہ قبول فرما لے تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے،اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزارو ثنا خواں اور اسے قبول کرنے والا بنا دے،اور اے اللہ!ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التَّشَهُّد؛جلد۱ص۲۵٤؛حدیث نمبر؛۹٦۹)

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ - يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ - عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عُلِّمَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ شَرِيكٌ ، وَحَدَّثَنَا جَامِعٌ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي رَاشِدٍ - عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ. قَالَ : وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاهُنَّ كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ : " اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا ؛ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا، وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 969

حضرت قاسم بن مخیمرہ مروی ہےعلقمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا(اور انہیں نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو نماز میں تشہد کے کلمات سکھائے،پھر راوی نے اعمش کی حدیث کی دعا کے مثل ذکر کیا،اس میں(اتنا اضافہ)ہے کہ جب تم نے یہ دعا پڑھ لی یا پوری کرلی تو تمہاری نماز پوری ہوگئی،اگر کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہوجاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشہد؛جلد۱ص۲۵٤؛حدیث نمبر؛۹۷۰)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي، فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ. فَذَكَرَ مِثْلَ دُعَاءِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ : إِذَا قُلْتَ هَذَا - أَوْ قَضَيْتَ هَذَا - فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 970

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے" التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته" "تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں،اے نبی!آپ پر سلام ہو،اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں،اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں"۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس تشہد میں وبرکاته اور وحده لا شريك له کا اضافہ میں نے کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵۵؛حدیث نمبر؛۹۷۱)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ - قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : زِدْتُ فِيهَا : وَبَرَكَاتُهُ - السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - قَالَ ابْنُ عُمَرَ : زِدْتُ فِيهَا : وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 971

حضرت حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہےفرماتے ہیں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا(ابھی)تم میں سے کس نےاس طرح کی بات کی ہے؟راوی کہتے ہیں تو لوگ خاموش رہے،پھر انہوں نے پوچھا تم میں سے کس نے اس طرح کی بات کی ہے؟راوی کہتے ہیں لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا حطان!شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟انہوں نے کہامیں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں راوی کہتے ہیں پھر ایک دوسرے شخص نے کہامیں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی،اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہاکیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایاجب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو،تو اپنی صفوں کو درست کرو،پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ "غير المغضوب عليهم ولا الضالين"کہے تو تم آمین کہو،اللہ تم سے محبت فرمائے گااور جب وہ الله أكبر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی الله أكبر کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو یہ اس کے برابر ہوگیا اور جب وہ"سمع الله لمن حمده"کہے تو تم "اللهم ربنا لک الحمد"کہو اللہ تمہاری سنے گا،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے"سمع الله لمن حمده"یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی،اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو یہ اس کے برابر ہوجائے گا،پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے توسب سے پہلی بات یہ کہے "التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداعبده ورسوله" تمام قولی،فعلی،مالی عبادتیں اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں،اے نبی!آپ پر سلام،اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں،اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ احمد نے اپنی روایت میں وبرکاته کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی أشهد کہا بلکہ وأن محمدا کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵۵؛حدیث نمبر؛۹۷۲)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ : صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ. فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ : أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ : أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. قَالَ : فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ أَنْتَ قُلْتَهَا. قَالَ : مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا. قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا قُلْتُهَا، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ } فَقُولُوا : آمِينَ يُحِبَّكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا ؛ فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتِلْكَ بِتِلْكَ - وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا ؛ فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتِلْكَ بِتِلْكَ - فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ : التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ، الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ". لَمْ يَقُلْ : أَحْمَدُ : " وَبَرَكَاتُهُ ". وَلَا قَالَ : " وَأَشْهَدُ ". قَالَ : " وَأَنَّ مُحَمَّدًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 972

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے،اس میں(سلیمان تیمی)نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو،اور انہوں نے تشہد میں "أشهد أن لا إله إلا الله"کے بعد"وحده لا شريك له"کا اضافہ کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں آپ کا قول "فأنصتوا"محفوظ نہیں ہے،اس حدیث کے اندر یہ لفظ صرف سلیمان تیمی نے نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵٦؛حدیث نمبر؛۹۷۳)

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ ، يُحَدِّثُهُ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. زَادَ : " فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ". وَقَالَ فِي التَّشَهُّدِ بَعْدَ " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " زَادَ : " وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَقَوْلُهُ : " فَأَنْصِتُوا ". لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلَّا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 973

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے،آپ کہا کرتے تھے" التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله" تمام قولی،فعلی،مالی عبادتیں اورپاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں،اے نبی!آپ پر سلام،اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں،اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵٦؛حدیث نمبر؛۹۷٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، وَكَانَ يَقُولُ : " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 974

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے اما بعد!کے بعد کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم نماز کے بیچ میں یا اخیر میں بیٹھو تو سلام پھیرنے سے قبل یہ دعا پڑھو"التحيات الطيبات والصلوات والملک لله"پھر دائیں جانب سلام پھیرو،پھر اپنے قاری پر اور خود اپنے اوپر سلام کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ صحیفہ(جسے سمرہ نے اپنے بیٹے کے پاس لکھ کر بھیجا تھا)یہ بتارہا ہے کہ حسن بصری نے سمرہ سے سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ التشھد؛جلد۱ص۲۵٦؛حدیث نمبر؛۹۷۵)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَمَّا بَعْدُ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ، أَوْ حِينَ انْقِضَائِهَا : " فَابْدَءُوا قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَقُولُوا : التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ وَالصَّلَوَاتُ وَالْمُلْكُ لِلَّهِ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى الْيَمِينِ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى قَارِئِكُمْ وَعَلَى أَنْفُسِكُمْ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى كُوفِيُّ الْأَصْلِ، كَانَ بِدِمَشْقَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : دَلَّتْ هَذِهِ الصَّحِيفَةُ عَلَى أَنَّ الْحَسَنَ سَمِعَ مِنْ سَمُرَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 975

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے یا لوگوں نے عرض کیایا رسول اللہ!آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود وسلام بھیجا کریں،آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہو "اللهم صل على محمد وآل محمد کما صليت على إبراهيم و بارک على محمد وآل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد" "یعنی اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد پر درود بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہےاور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہے،بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا بیان؛جلد۱ص۲۵۷؛حدیث نمبر؛۹۷٦)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قُلْنَا - أَوْ قَالُوا - : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرْتَنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ وَأَنْ نُسَلِّمَ عَلَيْكَ ؛ فَأَمَّا السَّلَامُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 976

ایک اور سند کے ساتھ شعبہ نے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے "صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم" اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم(علیہ السلام)پر اپنی رحمت نازل فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۷؛حدیث نمبر؛۹۷۷)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ : " صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 977

ایک اور سند کے ساتھ حکم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے۔ "اللهم صل على محمد وعلى آل محمد کما صليت على إبراهيم إنک حميد مجيد اللهم بارک على محمد وعلى آل محمد کما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد" اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرماجیسا کہ تو نے ابراہیم(علیہ السلام)پر اپنی رحمت نازل فرمائی،بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے،اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آل محمد پر اپنی برکت نازل فرماجیسا کہ تو نے ابراہیم(علیہ السلام)پر اپنی برکت نازل فرمائی،بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے زبیر بن عدی نے ابن ابی لیلیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مسعر نے کیا ہے،مگر اس میں یہ ہے"كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد و بارک على محمد"اور آگے انہوں نے اسی کے مثل بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۷؛حدیث نمبر؛۹۷۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، كَمَا رَوَاهُ مِسْعَرٌ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ". وَسَاقَ مِثْلَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 978

حضرت عمرو بن سلیم زرقی انصاری روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں مجھے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ!ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ کہو "اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على آل إبراهيم و بارک على محمد وأزواجه وذريته كما بارکت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد" "اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرماجیسا کہ تو نے اپنی رحمت آل ابراہیم پر نازل فرمائی،اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر اپنی برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی،بیشک تو بڑی خوبیوں والا بزرگی والا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۷؛حدیث نمبر؛۹۷۹)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 979

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تشریف لائے تو بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیایا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہم کو آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش انہوں نے نہ پوچھا ہوتا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ کہو۔ پھر راوی نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور اس کے اخیر میں"في العالمين إنک حميد مجيد"کا اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸۰)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ - وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ - أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ : أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا ". فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ. زَادَ فِي آخِرِهِ : " فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 980

ایک اور سند کے ساتھ عقبہ بن عمرو (ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ)سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایوں کہو"اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد" اے اللہ!نبی امی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آپ کی آل پر اپنی رحمت نازل فرما۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 981

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ اسے پورا پیمانہ بھر کردیا جائے تو وہ ہم اہل بیت پر جب درود بھیجے تو کہے "اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته وأهل بيته كما صليت على آل إبراهيم إنک حميد مجيد"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸٢)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ، عَنِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 982

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے جہنم کے عذاب سے،قبر کے عذاب سے،زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ ما یقول بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ ؛ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 983

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد یہ کہتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات" "یعنی اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے،تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے،تیری پناہ چاہتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ ما یقول بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵۸؛حدیث نمبر؛۹۸٤)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 984

حضرت محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص نے اپنی نماز پوری کرلی،اور تشہد میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے"اللهم إني أسألك يا الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم" اے تنہاو اکیلا،باپ بیٹا سے بےنیاز اور بےمقابل اللہ!میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری گناہوں کو بخش دے،بیشک تو بہت بخشش کرنے والا مہربان ہے یہ سن کر آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا اسے بخش دیا گیا،اسے بخش دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ ما یقول بَعْدَ التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ؛ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي ؛ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ. قَالَ : فَقَالَ : " قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ ". ثَلَاثًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 985

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سنت یہ ہے کہ تشہد آہستہ پڑھی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ اخفاءالتَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ - يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُخْفَى التَّشَهُّدُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 986

حضرت علی بن عبدالرحمٰن معاوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عبداللہ بن عمرنے مجھےنمازمیں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا،جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھےاس سے منع کیا اور کہاتم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے،میں نے عرض کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟انہوں نے کہاجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتےتو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے،اشارہ کرتےاپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٧)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ قَالَ : رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي، وَقَالَ : اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ. فَقُلْتُ : وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ. قَالَ : كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 987

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے،عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى تَحْتَ فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَسَاقِهِ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ، وَأَرَانَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 988

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲۵٩؛حدیث نمبر؛۹۸٩)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا، وَلَا يُحَرِّكُهَا. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 989

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہےآپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور حجاج کی حدیث (یعنی پچھلی حدیث)زیادہ مکمل ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲٦٠؛حدیث نمبر؛۹٩٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ : لَا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ. وَحَدِيثُ حَجَّاجٍ أَتَمُّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 990

حضرت مالک بن نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہوئے دیکھا، آپ نے اسے تھوڑا سا جھکا رکھا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ الاشارۃ فی التَّشَهُّدِ؛جلد۱ص۲٦٠؛حدیث نمبر؛۹٩١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ - مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ - عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى رَافِعًا إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ، قَدْ حَنَاهَا شَيْئًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 991

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہےآدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھنے سے،اور ابن شبویہ کی روایت میں ہے کہ آدمی کو نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے،اور ابن رافع کی روایت میں ہے آدمی کو اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے،اور انہوں نے اسے"باب الرفع من السجود"میں ذکر کیا ہے،اور ابن عبدالملک کی روایت میں ہے کہ آدمی کو نماز میں اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ کراھیۃالاعتمادعلی الید فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٦٠؛حدیث نمبر؛۹٩٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ شَبُّويَهْ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ. وَقَالَ ابْنُ شَبُّويَهْ : نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدِهِ فِي الصَّلَاةِ. وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ. وَذَكَرَهُ فِي بَابِ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ. وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ : نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا نَهَضَ فِي الصَّلَاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 992

حضرت اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں پوچھاجو نماز پڑھ رہا ہواور وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کئے ہوئے ہو،تو انہوں نے کہا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ یہ غضب کی شکار مغضوب عليهم کی نماز ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ کراھیۃالاعتمادعلی الید فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٣)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ : سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي وَهُوَ مُشَبِّكٌ يَدَيْهِ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : تِلْكَ صَلَاةُ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 993

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا(ہارون بن زید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ بائیں پہلو پر پڑا ہوا دیکھا پھر(آگے)دونوں(الفاظ میں)متفق ہیں تو انہوں نے اس سے کہا اس طرح نہ بیٹھو کیونکہ اس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جو عذاب دیئے جائیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَابُ کراھیۃالاعتمادعلی الید فی الصلاۃ؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٤)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وَهَذَا لَفْظُهُ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَتَّكِئُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ : سَاقِطًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ. ثُمَّ اتَّفَقَا : فَقَالَ لَهُ : لَا تَجْلِسْ هَكَذَا ؛ فَإِنَّ هَكَذَا يَجْلِسُ الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 994

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں میں یعنی پہلے تشہد میں اس طرح ہوتے تھے گویا کہ گرم پتھر پر(بیٹھے)ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا کھڑے ہونے تک؟تو سعد بن ابراہیم نے کہا کھڑے ہونے تک۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی تخفیف القعود؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٥)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ . قَالَ : قُلْنَا : حَتَّى يَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّى يَقُومَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 995

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں"السلام عليكم ورحمة الله"،السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کی گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ سفیان کی روایت کے الفاظ ہیں اور اسرائیل کی حدیث سفیان کی حدیث کی مفسر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسے زہیر نے ابواسحاق سے اور یحییٰ بن آدم نے اسرائیل سے،اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن اسود سے، انہوں نے اپنے والد اسود اور علقمہ سے روایت کیا ہے،اور ان دونوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں شعبہ ابواسحاق کی اس حدیث کے مرفوع ہونے کے منکر تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ح وَحَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ - يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ - عَنْ شَرِيكٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَقَالَ إِسْرَائِيلُ : عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَحَدِيثُ إِسْرَائِيلَ لَمْ يُفَسِّرْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ. وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : شُعْبَةُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ - حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ - أَنْ يَكُونَ مَرْفُوعًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 996

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنے دائیں جانب"السلام عليكم ورحمة الله وبركاته"اور اپنے بائیں جانب"السلام عليكم ورحمة الله وبرکاته"کہتے ہوئے سلام پھیر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٧)

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قَيْسٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ "، وَعَنْ شِمَالِهِ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 997

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی سلام پھیرتا تو اپنے ہاتھ سے اپنے دائیں اور بائیں اشارے کرتا،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاتم لوگوں کا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی (نماز میں)اپنے ہاتھ سے اشارے کرتا ہے،گویا اس کا ہاتھ شریر گھوڑے کی دم ہے،تم میں سے ہر ایک کو بس اتنا کافی ہےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا کہ دائیں اور بائیں طرف کے اپنے بھائی کو سلام کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦١؛حدیث نمبر؛۹٩٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِيَدِهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : " مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَرْمِي بِيَدِهِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ - أَوْ : أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ - أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ". وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 998

ایک اور سند کے ساتھ بھی مسعر سے اس مفہوم کی حدیث مروی ہےاس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦٢؛حدیث نمبر؛۹٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ : " أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ - أَوْ أَحَدَهُمْ - أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ ؟ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 999

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایامجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھ رہا ہوں،گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں؟نماز میں سکون سے رہا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب فی السلام؛جلد۱ص۲٦٢؛حدیث نمبر؛١٠٠٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُو أَيْدِيهِمْ - قَالَ زُهَيْرٌ : أُرَاهُ قَالَ : فِي الصَّلَاةِ - فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1000

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں امام کے سلام کا جواب دینے اور آپس میں دوستی رکھنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب الرد علی الامام؛جلد۱ص۲٦٢؛حدیث نمبر؛١٠٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجُمَاهِرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ : أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ وَأَنْ نَتَحَابَّ، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1001

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر سے جانا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب التکبیر بعد الصلوٰۃ؛جلد۱ص۲٦٣؛حدیث نمبر؛١٠٠٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ يُعْلَمُ انْقِضَاءُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1002

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ذکر کے لیے آواز اس وقت بلند کی جاتی تھی جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہی دستور تھا،ابن عباس کہتے ہیں جب لوگ نماز سے پلٹتے تو مجھے اسی سے اس کا علم ہوتا اور میں اسے سنتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛بَاب التکبیر بعد الصلوٰۃ؛جلد۱ص۲٦٣؛حدیث نمبر؛١٠٠٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ لِلذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ وَأَسْمَعُهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1003

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسلام کو مختصر رکھنا سنت ہے۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے مجھے اس حدیث کو مرفوع کرنے سے منع کیا ہے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے ابوعمیر عیسیٰ بن یونس فاخری رملی سے سنا ہے انہوں نے کہا ہے کہ جب فریابی مکہ مکرمہ سے واپس آئے تو انہوں نے اس حدیث کو مرفوع کہنا ترک کردیا اور کہا احمد بن حنبل نے انہیں اس حدیث کو مرفوع روایت کرنے سے منع کردیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب حذف التسليم؛جلد۱ص۲٦٣؛حدیث نمبر؛١٠٠٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ ". قَالَ عِيسَى : نَهَانِي ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : سَمِعْتُ أَبَا عُمَيْرٍ عِيسَى بْنَ يُونُسَ الْفَاخُورِيَّ الرَّمْلِيَّ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ الْفِرْيَابِيُّ مِنْ مَكَّةَ تَرَكَ رَفْعَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ : نَهَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ رَفْعِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1004

حضرت علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دوران نماز بغیر آواز کے ہوا خارج ہو تو وہ(نماز)چھوڑ کر چلا جائے اور وضو کرے اور نماز دہرائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا احدث فی صلاتہ یستقبل؛جلد۱ص۲٦٣؛حدیث نمبر؛١٠٠٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1005

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیاتم میں سے کوئی شخص عاجز ہے۔عبدالوارث کی روایت میں ہےآگے بڑھ جانے سے یا پیچھے ہٹ جانے سے یا دائیں یا بائیں چلے جانے سے۔حماد کی روایت میں في الصلاة کا اضافہ ہے یعنی نفل نماز پڑھنے کے لیے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الذی صلی فیہ المکتوبۃ؛جلد۱ص۲٦٤؛حدیث نمبر؛١٠٠٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَعَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ ؟ ". قَالَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ : " أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ؟ ". زَادَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ : " فِي الصَّلَاةِ ". يَعْنِي : فِي السُّبْحَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1006

حضرت ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ایک امام نے جن کی کنیت ابورمثہ ہے نماز پڑھائی،نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہایہی نماز یا ایسی ہی نماز میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہے،وہ کہتے ہیں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اگلی صف میں آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے،اور ایک اور شخص بھی تھاجو تکبیر اولیٰ میں موجود تھا،اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نماز پڑھا چکے تو آپ نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا،یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گالوں کی سفیدی دیکھی،پھر آپ پلٹے ایسے ہی جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود پلٹے،پھر وہ شخص جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر اولیٰ پائی تھی اٹھ کر دو رکعت پڑھنے لگا تو اٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور اس کا کندھا پکڑ کر زور سے جھنجوڑ کر کہا بیٹھ جاؤ،کیونکہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کو صرف اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا،اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھائی(اور یہ صورت حال دیکھی)تو فرمایاخطاب کے بیٹے!اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک اور درست بات کہنے کی توفیق دی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الذی صلی فیہ المکتوبۃ؛جلد۱ص۲٦٤؛حدیث نمبر؛١٠٠٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَى أَبَا رِمْثَةَ فَقَالَ : صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ - أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ - مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ، فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ : اجْلِسْ ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يُهْلِكْ أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ. فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ فَقَالَ : " أَصَابَ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَقَدْ قِيلَ : أَبُو أُمَيَّةَ مَكَانَ أَبِي رِمْثَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1007

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی دونوں یعنی ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی مگر صرف دو رکعتیں پڑھا کر آپ نے سلام پھیر دیا،پھر مسجد کے اگلے حصہ میں لگی ہوئی ایک لکڑی کے پاس اٹھ کر گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر لکڑی پر رکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کا اثر ظاہر ہو رہا تھا،پھر جلد باز لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کردی گئی ہے،نماز کم کردی گئی ہے،لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن وہ دونوں آپ سے(اس سلسلہ میں)بات کرنے سے ڈرے،پھر ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے،اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہ میں بھولا ہوں،نہ ہی نماز کم کی گئی ہے،اس شخص نے عرض کیایا رسول اللہ!آپ بھول گئے ہیں،پھر آپ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھاکیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟لوگوں نے اشارہ سے کہا ہاں ایسا ہی ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر واپس آئے اور باقی دونوں رکعتیں پڑھائیں،پھر سلام پھیرا،اس کے بعدالله أكبرکہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا،پھر الله أكبرکہہ کر سجدے سے سر اٹھایا پھر الله أكبرکہہ کر اپنے اور سجدوں کی طرح یا ان سے کچھ لمبا دوسرا سجدہ کیا پھر الله أكبرکہہ کر اٹھے۔ راوی کہتے ہیں تو محمد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے بعد پھر سلام پھیرا؟انہوں نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ یاد نہیں،لیکن مجھے خبر ملی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا ہے آپ نے پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٤؛حدیث نمبر؛١٠٠٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ ؛ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ. قَالَ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، قُصِرَتِ الصَّلَاةُ. وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ ". قَالَ : بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ ". فَأَوْمَئُوا أَيْ نَعَمْ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ. قَالَ : فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ : سَلَّمَ فِي السَّهْوِ ؟ فَقَالَ : لَمْ أَحْفَظْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1008

ایک اور سند کے ساتھ محمد بن سیرین سےیہی حدیث مروی ہےاور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے کہا"صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا ہے ""صلی بنا" رسول الله نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے "فأومئوا"کہا ہے(جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ)انہوں نے"فقال الناس نعم"کہا ہے،اور مالک نے"ثم رفع"کہا ہے،"وكبر"نہیں کہا ہےجیسا کہ حماد نے کہا ہے،یعنی مالک نے"رفع وکبر"کہنے کے بجائے صرف"رفع"پر اکتفا کیا ہےاور مالک نے"ثم کبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع"کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہوگئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ"فكبر‏"نہیں کہا ہے اور نہ ہی "رجع"کا ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٥؛حدیث نمبر؛١٠٠٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بِإِسْنَادِهِ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَتَمُّ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. لَمْ يَقُلْ : بِنَا. وَلَمْ يَقُلْ : فَأَوْمَئُوا. قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : نَعَمْ. قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ. وَلَمْ يَقُلْ : وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ. وَتَمَّ حَدِيثُهُ، لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ : فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَقُلْ : فَكَبَّرَ. وَلَا ذَكَرَ : رَجَعَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1009

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی،پھر راوی نے پورے طور سے حماد کی روایت کے ہم معنی روایت ان کے قول"نبئت أن عمران بن حصين قال ثم سلم تک ذکر کی"۔ سلمہ بن علقمہ کہتے ہیں میں نے ان سے (یعنی محمد بن سیرین سے)پوچھا کہ آپ نے تشہد پڑھا یا نہیں؟تو انہوں نے کہا میں نے تشہد کے سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے لیکن میرے نزدیک تشہد پڑھنا بہتر ہے،لیکن اس روایت میں آپ انہیں ذوالیدین کہتے تھے کا ذکر نہیں ہے اور نہ لوگوں کے اشارہ کرنے کا اور نہ ہی ناراضگی کا ذکر ہے،حماد کی حدیث جو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٥؛حدیث نمبر؛١٠١٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا سَلَمَةُ - يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَمَّادٍ كُلِّهِ إِلَى آخِرِ قَوْلِهِ : نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ. قَالَ : قُلْتُ : فَالتَّشَهُّدُ. قَالَ : لَمْ أَسْمَعْ فِي التَّشَهُّدِ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ، وَلَمْ يَذْكُرْ : كَانَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ. وَلَا ذَكَرَ : فَأَوْمَئُوا. وَلَا ذَكَرَ الْغَضَبَ. وَحَدِيثُ حَمَّادٍ عَنْ أَيُّوبَ أَتَمُّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1010

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصہ کے بارے میں روایت کی ہے کہ آپ نے"الله أكبر"کہا اور سجدہ کیا،ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے "الله أكبر"کہا پھر"الله أكبر"کہااور سجدہ کیا۔امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو حبیب بن شہید،حمید،یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے"الله أكبر"کہا،پھر الله أكبرکہا اور سجدہ کیا،حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے الله أكبر کہا پھر الله أكبرکہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٥؛حدیث نمبر؛١٠١١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، وَابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ أَنَّهُ كَبَّرَ وَسَجَدَ. وَقَالَ هِشَامٌ - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - : كَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، وَحُمَيْدٌ، وَيُونُسُ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامٍ أَنَّهُ كَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ. وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامٍ لَمْ يَذْكُرَا عَنْهُ هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ : أَنَّهُ كَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1011

ایک اور سندسے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اس کا یقین دلا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٦؛حدیث نمبر؛١٠١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ : وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حَتَّى يَقَّنَهُ اللَّهُ ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1012

ابن شہاب سے مروی ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی۔ ابن شہاب کہتے ہیں اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے،نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن،ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے۔ إمام ابوداؤد کہتے ہیں اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے زبیدی نے زہری سے،زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٦؛حدیث نمبر؛١٠١٣)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : وَلَمْ يَسْجُدِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تُسْجَدَانِ إِذَا شَكَّ حَتَّى لَقَّاهُ النَّاسُ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْخَبَرِ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. وَالْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ ؛ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ : وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1013

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو دو ہی رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے نماز کم کردی ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر(سہو کے)دو سجدے کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٦؛حدیث نمبر؛١٠١٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقِيلَ لَهُ : نَقَصْتَ الصَّلَاةَ. فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1014

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیایا رسول اللہ!کیا نماز کم کردی گئی ہے یا آپ سے سہو ہوگیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے،تو لوگوں نے کہا اللہ کے رسول!آپ نے ایسا کیا ہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں،پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے،ابوسفیان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے،اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٧؛حدیث نمبر؛١٠١٥)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : " كُلَّ ذَلِكَ لَمْ أَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ، وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ : ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1015

ضمضم بن جوس ہفانی کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٧؛حدیث نمبر؛١٠١٦)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْهِفَّانِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَمَا سَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1016

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو ہی رکعت میں آپ نے سلام پھیر دیا،پھر انہوں نے محمد بن سیرین کی حدیث کی طرح جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ذکر کیا،اس میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٧؛حدیث نمبر؛١٠١٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1017

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا،پھر اندر چلے گئے۔مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا نماز کم کردی گئی ہے؟(یہ سن کر)آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھاکیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟لوگوں نے کہاہاں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رکعت پڑھی،پھر سلام پھیرا،پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السہو فی السجدتین؛جلد۱ص۲٦٧؛حدیث نمبر؛١٠١٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ - قَالَ عَنْ مَسْلَمَةَ : الْحُجَرَ - فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : الْخِرْبَاقُ، كَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ لَهُ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ؟ ". قَالُوا : نَعَمْ. فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا، ثُمَّ سَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1018

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں تو آپ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ کیا ہے؟تو لوگوں نے عرض کیاآپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں،(یہ سن کر)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے اس کے بعد کہ آپ سلام پھیر چکے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٨؛حدیث نمبر؛١٠١٩)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَ حَفْصٌ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ ". قَالَ : صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1019

حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی (ابراہیم کی روایت میں ہےتو میں نہیں جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادتی کی یا کمی)،پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ کیا؟لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں،چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے،پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا،جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایااگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا،لیکن انسان ہی تو ہوں،میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو،لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو ،اور فرمایا:جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہوجائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے،پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے،اس کے بعد سلام پھیرے پھر(سہو کے)دو سجدے کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٨؛حدیث نمبر؛١٠٢٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ : فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ - فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا. فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَقَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1020

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص(نماز میں)بھول جائے تو دو سجدے کرے ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور سہو کے دو سجدے کئے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے حصین نے اعمش کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٨؛حدیث نمبر؛١٠٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا، قَالَ : " فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ". ثُمَّ تَحَوَّلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ حُصَيْنٌ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1021

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں،پھر جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کردیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا بات ہے؟،لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز زیادہ ہوگئی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانہیں،لوگوں نے کہا آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایامیں انسان ہی تو ہوں،جیسے تم لوگ بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٨؛حدیث نمبر؛١٠٢٢)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَهَذَا حَدِيثُ يُوسُفَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " لَا ". قَالُوا : فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1022

حضرت معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی،ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیاآپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے،مسجد کے اندر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی،میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھاکیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟میں نے کہا نہیں،البتہ اگر میں دیکھوں(تو پہچان لوں گا)پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہایہی وہ شخص تھا،لوگوں نے کہا یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا صلی خمسا؛جلد۱ص۲٦٩؛حدیث نمبر؛١٠٢٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ، فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً. فَرَجَعَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي : أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ ؟ قُلْتُ : لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ. فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ : هَذَا هُوَ، فَقَالُوا : هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1023

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے(کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں)تو شک دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے،پھر جب اسے نماز پوری ہوجانے کا یقین ہوجائے تو دو سجدے کرے،اگر اس کی نماز(درحقیقت)پوری ہوچکی تھی تو یہ رکعت اور دونوں سجدے نفل ہوجائیں گے،اور اگر پوری نہیں ہوئی تھی تو اس رکعت سے پوری ہوجائے گی اور یہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے ہوں گے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے،زید نے عطاء بن یسار سے،عطاء نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے،اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،اور ابوخالد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا شک فی الثنتین والثلاث من قال یلقی الشک؛جلد۱ص۲٦٩؛حدیث نمبر؛١٠٢٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلَاتِهِ، وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ مُرْغِمَتَيِ الشَّيْطَانِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ أَبِي خَالِدٍ أَشْبَعُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1024

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کا نام"مرغمتين"(شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والی دو چیزیں)رکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا شک فی الثنتین والثلاث من قال یلقی الشک؛جلد۱ص۲٦٩؛حدیث نمبر؛١٠٢٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّى سَجْدَتَيِ السَّهْوِ الْمُرْغِمَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1025

حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے،پھر اسے یاد نہ رہے کہ میں نے تین پڑھی ہے یا چار تو ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے،اب اگر جو رکعت اس نے پڑھی ہے وہ پانچویں تھی تو ان دونوں(سجدوں)کے ذریعہ اسے جفت کرے گا یعنی وہ چھ رکعتیں ہوجائیں گی اور اگر چوتھی تھی تو یہ دونوں سجدے شیطان کے لیے ذلت و خواری کا ذریعہ ہوں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا شک فی الثنتین والثلاث من قال یلقی الشک؛جلد۱ص۲٦٩؛حدیث نمبر؛١٠٢٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا ؛ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1026

اس طریق سے بھی زید بن اسلم سے مالک ہی کی سند سے مروی ہے،زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو اگر اسے یقین ہو کہ میں نے تین ہی رکعت پڑھی ہے تو کھڑا ہو اور ایک رکعت اس کے سجدوں کے ساتھ پڑھ کر اسے پوری کرے پھر بیٹھے اور تشہد پڑھے،پھر جب ان سب کاموں سے فارغ ہوجائے اور صرف سلام پھیرنا باقی رہے تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے ابن وہب نے مالک،حفص بن میسرہ،داود بن قیس اور ہشام بن سعد سے روایت کیا ہے، مگر ہشام نے اسے ابو سعید خدری تک پہنچایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا شک فی الثنتین والثلاث من قال یلقی الشک؛جلد۱ص۲٧٠؛حدیث نمبر؛١٠٢٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ صَلَّى ثَلَاثًا فَلْيَقُمْ فَلْيُتِمَّ رَكْعَةً بِسُجُودِهَا، ثُمَّ يَجْلِسْ فَيَتَشَهَّدْ، فَإِذَا فَرَغَ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ ". ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى مَالِكٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَحَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَدَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، وَهِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، إِلَّا أَنَّ هِشَامًا بَلَغَ بِهِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1027

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایاجب تم نماز میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہوجائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو،پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔نیز سفیان،شریک اور اسرائیل نے عبدالواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧٠؛حدیث نمبر؛١٠٢٨)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ، فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ، وَأَكْبَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ ؛ تَشَهَّدْتَ ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا، ثُمَّ تُسَلِّمُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ خُصَيْفٍ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَوَافَقَ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَيْضًا سُفْيَانُ، وَشَرِيكٌ، وَإِسْرَائِيلُ، وَاخْتَلَفُوا فِي الْكَلَامِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يُسْنِدُوهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1028

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کرلےپھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے(یعنی دل میں وسوسہ ڈالے)کہ تو نے حدث کرلیا ہے تو اس سے کہےتو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧٠؛حدیث نمبر؛١٠٢٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عِيَاضٌ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَتَاهُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ. فَلْيَقُلْ : كَذَبْتَ. إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ ". وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبَانٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَقَالَ مَعْمَرٌ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ : عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ. وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ : عِيَاضُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1029

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے،یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے ابن عیینہ،معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٠)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمَعْمَرٌ، وَاللَّيْثُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1030

ایک اور سند کے ساتھ بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہےاس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے(دو سجدے کرے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣١)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ. زَادَ : " وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1031

ایک اور سند کے ساتھ بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہےاس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یتم علی اکبر ظنہ؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٢)

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ : " فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1032

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال بعد التسليم؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1033

حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو دورکعت پڑھائی،پھر کھڑے ہوگئے اور قعدہ تشہد نہیں کیا تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے،پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کرلی اور ہم سلام پھیرنے کے انتظار میں رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله أكبر کہہ کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قام من ثنتين ولم یتشھد؛ترجمہ؛دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھے بغیر اٹھ جانا؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْتَظَرْنَا التَّسْلِيمَ كَبَّرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1034

امام زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے تھے،سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قام من ثنتين ولم یتشھد؛جلد۱ص۲٧١؛حدیث نمبر؛١٠٣٥)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَبَقِيَّةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ وَحَدِيثِهِ، زَادَ : وَكَانَ مِنَّا الْمُتَشَهِّدُ فِي قِيَامِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَلِكَ سَجَدَهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، وَهُوَ قَوْلُ الزُّهْرِيِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1035

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب امام دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہوجائے پھر اگر اس کو سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے،اگر سیدھا کھڑا ہوجائے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔ إمام ابوداؤد کہتے ہیں میری کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من نسی ان یتشھد وھو جالس؛جلد۱ص۲٧٢؛حدیث نمبر؛١٠٣٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي الْجُعْفِيَّ - قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الْأَحْمَسِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَلَيْسَ فِي كِتَابِي عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1036

حضرت زیاد بن علاقہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی،وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے،ہم نے"سبحان الله"کہا،انہوں نے بھی"سبحان الله"کہا اور (واپس نہیں ہوئے)نماز پڑھتے رہے،پھر جب انہوں نے اپنی نماز پوری کرلی اور سلام پھیر دیا تو سہو کے دو سجدے کئے،پھر جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو کہامیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے،جیسے میں نے کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے ابن ابی لیلیٰ نے شعبی سے،شعبی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع قرار دیا ہے،نیز اسے ابو عمیس نے ثابت بن عبید سے روایت کیا ہے،اس میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نے ہمیں نماز پڑھائی،پھر راوی نے زیاد بن علاقہ کی حدیث کے مثل روایت ذکر کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابو عمیس مسعودی کے بھائی ہیں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ویسے ہی کیا جیسے مغیرہ،عمران بن حصین،ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے کیا،اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور عمر بن عبدالعزیز نے اسی کا فتوی دیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو دو رکعتیں پڑھ کر بغیر قعدہ اور تشہد کے اٹھ کھڑے ہوں،انہیں چاہیئے کہ سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کریں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من نسی ان یتشھد وھو جالس؛جلد۱ص۲٧٢؛حدیث نمبر؛١٠٣٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ : صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، قُلْنَا : سُبْحَانَ اللَّهِ. قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ. وَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَرَفَعَهُ. وَرَوَاهُ أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ : صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ. مِثْلَ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَبُو عُمَيْسٍ أَخُو الْمَسْعُودِيِّ، وَفَعَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِثْلَمَا فَعَلَ الْمُغِيرَةُ وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَالضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ أَفْتَى بِذَلِكَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا فِيمَنْ قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدُوا بَعْدَمَا سَلَّمُوا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1037

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایاہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں،عمرو کے سوا کسی نے بھی(اس سند میں)عن أبيه کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من نسی ان یتشھد وھو جالس؛جلد۱ص۲٧٢؛حدیث نمبر؛١٠٣٨)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ بِمَعْنَى الْإِسْنَادِ، أَنَّ ابْنَ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ زُهَيْرٍ - يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْعَنْسِيَّ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ - قَالَ عَمْرٌو وَحْدَهُ : عَنْ أَبِيهِ - عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ ". وَلَمْ يَذْكُرْ : عَنْ أَبِيهِ غَيْرُ عَمْرٍو.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1038

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ سے سہو ہوا تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب سجدتی السھو فیھما تشھد وتسلیم؛ترجمہ؛سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے پھر سلام پڑھے؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ خَالِدٍ - يَعْنِي الْحَذَّاءَ - عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، ثُمَّ سَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1039

حضرت ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب(نماز سے)سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے،لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛انصراف النساء قبل الرجال من الصلاۃ؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلًا، وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1040

حضرت ہلب طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم(نماز سے فارغ ہو کر)اپنے دونوں جانب سے پلٹتے تھے (کبھی دائیں طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب کیف الانصراف من الصلاۃ؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ - رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ - عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِقَّيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1041

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کا کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ بنائے کہ وہ صرف دائیں طرف ہی سے پلٹے،حال یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اکثر بائیں طرف سے پلٹتے تھے،عمارہ کہتے ہیں اس کے بعد میں مدینہ آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کو(بحالت نماز)آپ کے بائیں جانب دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب کیف الانصراف من الصلاۃ؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٤٢)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ أَلَّا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ. قَالَ عُمَارَةُ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1042

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنی بعض نمازیں اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الرجل التطوع فی بیتہ؛جلد۱ص۲٧٣؛حدیث نمبر؛١٠٤٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1043

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الرجل التطوع فی بیتہ؛جلد۱ص۲٧٤؛حدیث نمبر؛١٠٤٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي مَسْجِدِي هَذَا، إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1044

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے،جب آیت کریمہ "فول وجهك شطر المسجدالحرام وحيث ما کنتم فولوا وجوهكم شطره" (ترجمہ)"اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں"(سورۃ البقرہ ١٥٠) نازل ہوئی تو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص لوگوں کے پاس سے ہو کر گزرا اس حال میں کہ وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے تو اس نے انہیں دو بار آواز دی لوگو!آگاہ ہوجاؤ،قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ہے(یہ حکم سنتے ہی)لوگ حالت رکوع ہی میں کعبہ کی طرف پھرگئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من صلی لغیر القبلۃ ثم علم؛جلد۱ص۲٧٤؛حدیث نمبر؛١٠٤٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ }، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ : أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ. مَرَّتَيْنِ، فَمَالُوا كَمَا هُمْ رُكُوعٌ إِلَى الْكَعْبَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1045

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے،اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوے،اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے،اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی،اسی دن ان کا انتقال ہوا،اور اسی دن قیامت برپا ہوگی،انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں،اس میں ایک ساعت (گھڑی)ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پالے،پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو(ضرور)دے گا۔ کعب الاحبار نے کہا یہ ساعت(گھڑی)ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہانہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا،اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا وہ کون سی ساعت ہے؟مجھے معلوم ہے،میں نے ان سے کہا اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت(گھڑی)ہے،میں نے عرض کیا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت(گھڑی) کیسے ہوسکتی ہے؟جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو،اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام نے کہاکیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایاجو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے،وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے،ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا کیوں نہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے،انہوں نے کہاتو اس سے مراد یہی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع ابواب الجمعہ؛باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعہ؛جلد۱ص۲٧٤؛حدیث نمبر؛١٠٤٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؛ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ، إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا ". قَالَ كَعْبٌ : ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ. فَقُلْتُ : بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. قَالَ : فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ : صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ لَهُ : فَأَخْبِرْنِي بِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ. فَقُلْتُ : كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي ". وَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلَّى فِيهَا ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ " ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : بَلَى. قَالَ : هُوَ ذَاكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1046

حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے،اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے،اسی دن ان کی روح قبض کی گئی،اسی دن صور پھونکا جائے گا اسی دن سب بیہوش ہوں گے۔اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو،کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔اوس بن اوس کہتے ہیں لوگوں نے کہا یا رسول اللہ!ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو( کھانا) حرام کردیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعہ؛جلد۱ص۲٧٥؛حدیث نمبر؛١٠٤٧)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ ؛ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ ؛ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ ". قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ - يَقُولُونَ : بَلِيتَ - ؟ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1047

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجمعہ کا دن بارہ ساعت(گھڑی)کا ہے،اس میں ایک ساعت (گھڑی)ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے،لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت(گھڑی)میں تلاش کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاجابۃ آیۃ ساعۃ ھی فی یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٥؛حدیث نمبر؛١٠٤٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - أَنَّ الْجُلَاحَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثِنْتَا عَشْرَةَ - يُرِيدُ : سَاعَةً - لَا يُوجَدُ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ؛ فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1048

حضرت ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟میں نے کہا ہاں،میں نے سنا ہے،وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ(ساعت)امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یعنی منبر پر(بیٹھنے سے لے کر) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاجابۃ آیۃ ساعۃ ھی فی یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٦؛حدیث نمبر؛١٠٤٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ - يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ الْجُمُعَةِ ؟ - يَعْنِي السَّاعَةَ - قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : يَعْنِي : عَلَى الْمِنْبَرِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1049

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فضل الجمعہ؛جلد۱ص۲٧٦؛حدیث نمبر؛١٠٥٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ ؛ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1050

عطاء خراسانی اپنی بیوی ام عثمان کے غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہامیں نے کوفہ کے منبر پر علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے جھنڈے لے کر بازاروں میں جاتا ہے اور لوگوں کو ضرورتوں و حاجتوں کی یاد دلا کر ان کو جمعہ میں آنے سے روکتا ہے اور فرشتے صبح سویرے مسجد کے دروازے پر آکر بیٹھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کون پہلی ساعت(گھڑی)میں آیا،اور کون دوسری ساعت(گھڑی)میں آیا،یہاں تک کہ امام(خطبہ جمعہ کے لیے)نکلتا ہے،پھر جب آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے،جہاں سے وہ خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے اور(دوران خطبہ)چپ رہتا ہے، کوئی لغو حرکت نہیں کرتا تو اس کو دوہرا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی شخص دور بیٹھتا ہے جہاں سے خطبہ سنائی نہیں دیتا،لیکن خاموش رہتا ہے اور کوئی بیہودہ بات نہیں کرتا تو ایسے شخص کو ثواب کا ایک حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھا،جہاں سے خطبہ سن سکتا ہے اور امام کو دیکھ سکتا ہے لیکن(دوران خطبہ)بیہودہ باتیں کرتا رہا اور خاموش نہ رہا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ لاد دیا جاتا ہے اور جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے(بغل کے)ساتھی سے کہا چپ رہو،تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی تو اسے اس جمعہ کا ثواب کچھ نہ ملے گا،پھر وہ اس روایت کے اخیر میں کہتے ہیں میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے روایت کیا ہے۔اس میں بغیر شک کے ربائث ہے،نیز اس میں مولى امرأته أم عثمان بن عطاء ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فضل الجمعہ؛جلد۱ص۲٧٦؛حدیث نمبر؛١٠٥١)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ يَقُولُ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ غَدَتِ الشَّيَاطِينُ بِرَايَاتِهَا إِلَى الْأَسْوَاقِ، فَيَرْمُونَ النَّاسَ بِالتَّرَابِيثِ - أَوِ الرَّبَائِثِ - وَيُثَبِّطُونَهُمْ عَنِ الْجُمُعَةِ، وَتَغْدُو الْمَلَائِكَةُ فَيَجْلِسُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَيَكْتُبُونَ الرَّجُلَ مِنْ سَاعَةٍ وَالرَّجُلَ مِنْ سَاعَتَيْنِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنْ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنْ أَجْرٍ، فَإِنْ نَأَى وَجَلَسَ حَيْثُ لَا يَسْمَعُ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ أَجْرٍ، وَإِنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَسْتَمْكِنُ فِيهِ مِنْ الِاسْتِمَاعِ وَالنَّظَرِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ وِزْرٍ. وَمَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِصَاحِبِهِ : صَهٍ ، فَقَدْ لَغَا، وَمَنْ لَغَا فَلَيْسَ لَهُ فِي جُمُعَتِهِ تِلْكَ شَيْءٌ ". ثُمَّ يَقُولُ فِي آخِرِ ذَلِكَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، قَالَ : " بِالرَّبَائِثِ ". وَقَالَ : مَوْلَى امْرَأَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1051

حضرت ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(انہیں شرف صحبت حاصل تھا) فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التشدید فی ترک الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٧؛حدیث نمبر؛١٠٥٢)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبِيدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1052

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایاجو شخص بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے،اگر اسے ایک دینار میسر نہ ہو تو نصف دینار کرے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے خالد بن قیس نے اسی طرح روایت کیا ہے،اور سند میں ان کی مخالفت کی ہے اور متن میں موافقت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب کفارۃ من ترکھا؛جلد۱ص۲٧٧؛حدیث نمبر؛١٠٥٣)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْعُجَيْفِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَكَذَا رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ، وَخَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ، وَوَافَقَهُ فِي الْمَتْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1053

حضرت قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائےتو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے۔امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز عن سمرة کہا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب کفارۃ من ترکھا؛جلد۱ص۲٧٧؛حدیث نمبر؛١٠٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَاتَهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ أَوْ نِصْفِ صَاعٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مُدًّا أَوْ نِصْفَ مُدٍّ. وَقَالَ : عَنْ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اخْتِلَافِ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ : هَمَّامٌ عِنْدِي أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ. يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1054

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں لوگ جمعہ کے لیے اپنے اپنے گھروں سے اور عوالی سے باربار آتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من تجب علیہ الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَمِنَ الْعَوَالِي.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1055

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجمعہ ہر اس شخص پر ہے جس نے جمعہ کی اذان سنی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے اور صرف قبیصہ نے اسے مسند(یعنی مرفوع روایت)کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من تجب علیہ الجمعۃ؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ - يَعْنِي الطَّائِفِيَّ - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْهٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْجُمُعَةُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ مَقْصُورًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَرْفَعُوهُ، وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ قَبِيصَةُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1056

حضرت ابوملیح کے والد اسامہ بن عمیر ھزلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے روز بارش ہو رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ(وہ اعلان کر دے کہ)لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی الیوم المطیر؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَانَ يَوْمَ مَطَرٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيَهُ أَنِ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ .

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1057

حضرت ابوملیح سے روایت ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی الیوم المطیر؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ أَبِي مَلِيحٍ ، أَنَّ ذَلِكَ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1058

حضرت ابوملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ہزلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ک وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صلح حدیبیہ کے موقع پر جمعہ کے روز حاضر ہوئے وہاں ایسی بارش ہوئی تھی کہ ان کے جوتوں کے تلے بھی نہیں بھیگے تھے تو آپ نے انہیں اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لینے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی الیوم المطیر؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٥٩)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ : خُبِّرْنَا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، وَأَصَابَهُمْ مَطَرٌ لَمْ تَبْتَلَّ أَسْفَلُ نِعَالِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا فِي رِحَالِهِمْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1059

حضرت نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ وادی ضجنان میں ایک سرد رات میں اترے اور منادی کو حکم دیا اور اس نے آواز لگائی لوگو!اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو،ایوب کہتے ہیں اور ہم سے نافع نے عبداللہ بن عمر کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سردی یا بارش کی رات ہوتی تو منادی کو حکم دیتے تو وہ"الصلاة في الرحال"لوگو!اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کا اعلان کرتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٨؛حدیث نمبر؛١٠٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ نَزَلَ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ، فَأَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى أَنِ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ . قَالَ أَيُّوبُ : وَحَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ - أَوْ مَطِيرَةٌ - أَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى : الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1060

حضرت نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وادی ضجنان میں نماز کے لیے اذان دی،پھر اعلان کیا کہ اے لوگو!تم لوگ اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو،اس میں ہے کہ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی کہ آپ سفر میں سردی یا بارش کی رات میں منادی کو حکم فرماتے تو وہ نماز کے لیے اذان دیتا پھر وہ اعلان کرتا کہ لوگو!اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے حماد بن سلمہ نے ایوب اور عبیداللہ سے روایت کیا ہے اس میں"في الليلة الباردة وفي الليلة المطيرة في السفر"کے بجائے"في السفر في الليلة القرة أو المطرة"کے الفاظ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦١)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : نَادَى ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ نَادَى أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ. قَالَ فِيهِ : ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُنَادِي أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ وَفِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ فِيهِ : فِي السَّفَرِ، فِي اللَّيْلَةِ الْقَرَّةِ أَوِ الْمَطِيرَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1061

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مقام ضجنان میں سرد اور آندھی والی ایک رات میں اذان دی تو اپنی اذان کے آخر میں کہا لوگو! اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو،لوگو!اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو،پھر انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے اندر سردی یا بارش کی رات میں مؤذن کو حکم فرماتے تھے کہ اعلان کر دو اے لوگو!اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦٢)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، فَقَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ : أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ . ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ - أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ - فِي سَفَرٍ يَقُولُ : " أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1062

حضرت نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سرد اور آندھی والی ایک رات میں نماز کے لیے اذان دی تو کہا اےلوگو!ڈیروں میں نماز پڑھ لو،پھر انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردی یا بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیتے اے لوگو!ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦٣)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ - يَعْنِي أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ - فَقَالَ : أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ . ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ مَطَرٍ يَقُولُ : " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1063

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے مدینہ کے اندر بارش کی رات یا سردی کی صبح میں ایسی ہی ندا کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم سے،قاسم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے،ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں"في السفر"کے الفاظ بھی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فِي الْمَدِينَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ وَالْغَدَاةِ الْقَرَّةِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَى هَذَا الْخَبَرَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ : فِي السَّفَرِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1064

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جو چاہے وہ اپنے ڈیرے میں نماز پڑھ لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٧٩؛حدیث نمبر؛١٠٦٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمُطِرْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1065

حضرت محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہاجب تم"أشهد أن محمدا رسول الله"کہنا تو اس کے بعد"حي على الصلاة"نہ کہنا بلکہ اس کی جگہ"صلوا في بيوتكم"اےلوگو!اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لوکہنا،لوگوں نے اسے برا جانا تو انہوں نے کہاایسا اس ذات نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھی(یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے)بیشک جمعہ واجب ہے،لیکن مجھے یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ میں تم کو کیچڑ اور پانی میں(جمعہ کے لیے)آنے کی زحمت دوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التخلف عن الجماعۃ فی اللیلۃ الباردۃ او اللیلۃ المطیرۃ؛جلد۱ص۲٨٠؛حدیث نمبر؛١٠٦٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ - صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ - ابْنُ عَمِّ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ - أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ : إِذَا قُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَلَا تَقُلْ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ : صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ. فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ؛ إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالْمَطَرِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1066

حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے چار لوگوں غلام،عورت،نابالغ بچہ،اور بیمار کے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں طارق بن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر انہوں نے آپ سے کچھ سنا نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ؛جلد۱ص۲٨٠؛حدیث نمبر؛١٠٦٧)

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً : عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1067

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اسلام میں مسجد نبوی میں جمعہ قائم کئے جانے کے بعد پہلا جمعہ قریہ جو اثاء میں قائم کیا گیا،جو علاقہ بحرین کا ایک گاؤں ہے،عثمان کہتے ہیں وہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک گاؤں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی القری؛جلد۱ص۲٨٠؛حدیث نمبر؛١٠٦٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، لَفْظُهُ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي الْإِسْلَامِ بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ لَجُمُعَةٌ جُمِّعَتْ بِجُوَاثَاءَ ؛ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْبَحْرَيْنِ. قَالَ عُثْمَانُ : قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى عَبْدِ الْقَيْسِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1068

حضرت عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی بصارت چلی جانے کے بعد وہ ان کے راہبر تھے،وہ کہتے ہیں کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے،عبدالرحمٰن بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب آپ اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں؟انہوں نے جواب دیامیں ان کے لیے رحمت کی دعا اس لیے کرتا ہوں کہ یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں قبیلہ بنو بیاضہ کے حرہ نقیع الخضمات میں واقع(بستی،گاؤں)ھزم النبیت میں جمعہ کی نماز پڑھائی،میں نے پوچھا اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟کہا ہم چالیس تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجمعۃ فی القری؛جلد۱ص۲٨٠؛حدیث نمبر؛١٠٦٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ - عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَحَّمَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ تَرَحَّمْتَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ. قَالَ : لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ يُقَالُ لَهُ : نَقِيعُ الْخَضِمَاتِ. قُلْتُ : كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1069

حضرت ایاس بن ابی رملۃ شامی کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اور وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو عیدوں میں جو ایک ہی دن آ پڑی ہوں حاضر رہے ہیں؟تو انہوں نے کہا ہاں،معاویہ نے پوچھاپھر آپ نے کس طرح کیا؟انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی،پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا جو جمعہ کی نماز پڑھنی چاہے پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید؛جلد۱ص۲٨١؛حدیث نمبر؛١٠٧٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ : أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَكَيْفَ صَنَعَ ؟ قَالَ : صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ : " مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1070

حضرت عطاء بن ابورباح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن صبح سویرے عید کی نماز پڑھائی،پھرجب ہم نماز جمعہ کے لیے چلے تو وہ ہماری طرف نکلے ہی نہیں،بالآخر ہم نے تنہا تنہا نماز پڑھی ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت طائف میں تھے،جب وہ آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے کہا انہوں(ابن زبیر رضی اللہ عنہ)نے سنت پر عمل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید؛جلد۱ص۲٨١؛حدیث نمبر؛١٠٧١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ أَوَّلَ النَّهَارِ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا، فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًا. وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ : أَصَابَ السُّنَّةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1071

حضرت عطاء کہتے ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمعہ اور عید دونوں ایک ہی دن اکٹھا ہوگئے تو آپ نے کہا ایک ہی دن میں دونوں عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں،پھر آپ نے دونوں کو ملا کر صبح کے وقت صرف دو رکعت پڑھ لی،اس سے زیادہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ عصر پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید؛جلد۱ص۲٨١؛حدیث نمبر؛١٠٧٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ : اجْتَمَعَ يَوْمُ جُمُعَةٍ وَيَوْمُ فِطْرٍ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ. فَجَمَعَهُمَا جَمِيعًا فَصَلَّاهُمَا رَكْعَتَيْنِ بُكْرَةً، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1072

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارے آج کے اس دن میں دو عیدیں اکٹھا ہوگئی ہیں،لہٰذا رخصت ہے،جو چاہے عید اسے جمعہ سے کافی ہوگی اور ہم نماز جمعہ پڑھیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا وافق یوم الجمعۃ یوم عید؛جلد۱ص۲٨١؛حدیث نمبر؛١٠٧٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الضَّبِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ ؛ فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ ". قَالَ عُمَرُ : عَنْ شُعْبَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1073

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں سورة السجدة اور"هل أتى على الإنسان حين من الدهر"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ فی صلاۃ الصبح یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَ ( هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ ).

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1074

اس طریق سے بھی مخول سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہےاس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورة الجمعہ اور"إذا جاءک المنافقون"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ فی صلاۃ الصبح یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُخَوَّلٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. وَزَادَ : فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ، وَ ( إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ ).

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1075

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !کاش آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں،اسے پہنا کریں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو ،چناں چہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اللبس للجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ - يَعْنِي تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ". ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ : كَسَوْتَنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ". فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1076

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اللبس للجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ. ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1077

محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھےحضرت عمرو کہتے ہیں مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے،انہوں نے موسیٰ بن سعد سے،موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے،ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے،انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے،یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے،انہوں نے موسیٰ بن سعد سے،موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اللبس للجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٢؛حدیث نمبر؛١٠٧٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ - أَوْ : مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ - أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ ". قَالَ عَمْرٌو : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ سَلَامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1078

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خریدو فروخت کرنے،کوئی گمشدہ چیز تلاش کرنے،شعر پڑھنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التحلق یوم الجمعۃ قبل الصلاۃ؛جلد۱ص۲٨٣؛حدیث نمبر؛١٠٧٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ ضَالَّةٌ ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ شِعْرٌ، وَنَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1079

ابوحازم بن دینار بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے،وہ لوگ منبر کے سلسلے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا تھا؟تو انہوں نے سہل بن سعد سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا قسم اللہ کی!میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا تھا اور میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا جب وہ رکھا گیا اور جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس جس کا سہل نے نام لیا۔یہ پیغام بھیجا کہ تم اپنے نوجوان بڑھئی کو حکم دو کہ وہ میرے لیے چند لکڑیاں ایسی بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دیا کروں،تو اس عورت نے اسے منبر کے بنانے کا حکم دیا،اس بڑھئی نے غابہ کے جھاؤ سے منبر بنایا پھر اسے لے کر وہ عورت کے پاس آیا تو اس عورت نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے(ایک جگہ)رکھنے کا حکم دیا،چناں چہ وہ منبر اسی جگہ رکھا گیا،پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور تکبیر کہی پھر اسی پر رکوع بھی کیا،پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم الٹے پاؤں اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا،پھر منبر پر واپس چلے گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا اے لوگو!میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری پیروی کرو اور میری نماز کو جان سکو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التحلق یوم الجمعۃ قبل الصلاۃ؛جلد۱ص۲٨٣؛حدیث نمبر؛١٠٨٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ ؟ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ - امْرَأَةٌ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ - أَنْ : " مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ ". فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَاهُنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1080

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم جب بھاری ہوگیا تو تمیم داری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہاں،کیوں نہیں چناں چہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنادیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی اتخاذ المنبر؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ قَالَ لَهُ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ : أَلَا أَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَجْمَعُ - أَوْ يَحْمِلُ - عِظَامَكَ ؟ قَالَ : " بَلَى ". فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا مَرْقَاتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1081

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور(قبلہ والی)دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب موضع المنبر؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨٢)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كَانَ بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْحَائِطِ كَقَدْرِ مَمَرِّ الشَّاةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1082

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کو ناپسند کیا ہے سوائے جمعہ کے دن کے اور آپ نے فرمایاجہنم سوائے جمعہ کے دن کے ہر روز بھڑکائی جاتی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث مرسل (منقطع)ہے،مجاہد عمر میں ابوالخلیل سے بڑے ہیں اور ابوالخلیل کا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ یوم الجمعۃ قبل الزوال؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَرِهَ الصَّلَاةَ نِصْفَ النَّهَارِ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ : " إِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هُوَ مُرْسَلٌ ؛ مُجَاهِدٌ أَكْبَرُ مِنْ أَبِي الْخَلِيلِ، وَأَبُو الْخَلِيلِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي قَتَادَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1083

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی وقت الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨٤)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1084

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے پھر نماز سے فارغ ہو کر واپس آتے تھے اور دیواروں کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی وقت الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٤؛حدیث نمبر؛١٠٨٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1085

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی وقت الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1086

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا،پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ہوئی،اور لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو جمعہ کے دن انہوں نے تیسری اذان کا حکم دیا،چناں چہ زوراءپر اذان دی گئی پھر معاملہ اسی پر قائم رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النداء یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٨٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ الْأَذَانَ كَانَ أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَ خِلَافَةُ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1087

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ جاتے تو آپ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی تھی اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسجد کے دروازے پر اذان دی جاتی۔ پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النداء یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٨٨)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانَ يُؤَذَّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ . ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1088

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوائے ایک مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی اور مؤذن نہیں تھا۔ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النداء یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٨٩)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ قَالَ : لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ ؛ بِلَالٌ. ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1089

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النداء یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٨٥؛حدیث نمبر؛١٠٩٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ - ابْنَ أُخْتِ نَمِرٍ - أَخْبَرَهُ، قَالَ : وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ. وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1090

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایابیٹھ جاؤ،تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ(جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے)اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے،تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایاعبداللہ بن مسعود!تم آجاؤ۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے،عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،اور مخلد شیخ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الامام یکلم الرجل فی خطبتہ؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩١)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ : " اجْلِسُوا "، فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا، إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَخْلَدٌ هُوَ شَيْخٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1091

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(جمعہ کے دن)دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہوجاتا،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے،پھر(تھوڑی دیر)خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجلوس إذا صعد المنبر؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ ؛ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرُغَ - أُرَاهُ قَالَ : الْمُؤَذِّنُ - ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1092

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(جمعہ کے دن)کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے،پھر(تھوڑی دیر)بیٹھ جاتے،پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے،لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے،پھر انہوں نے کہا اللہ کی قسم!میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ قائما؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩٣)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ. فَقَالَ : فَقَدْ - وَاللَّهِ - صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1093

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(جمعہ کے دن)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے،ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ(تھوڑی دیر)بیٹھتے تھے،(خطبہ میں)آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ قائما؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩٤)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ، كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1094

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے،اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ قائما؛جلد۱ص۲٨٦؛حدیث نمبر؛١٠٩٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1095

حضرت شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس(جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا،اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا)بیٹھے تو وہ ہم سے بیان کرنے لگے کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا،ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیایا رسول اللہ!ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی،پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے،ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے،آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے،پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا اے لوگو!تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لاسکتے،لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہوجاؤ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے امام ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٧؛حدیث نمبر؛١٠٩٦)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ : وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، زُرْنَاكَ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ. فَأَمَرَ بِنَا - أَوْ أَمَرَ لَنَا - بِشَيْءٍ مِنَ التَّمْرِ، وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ، فَأَقَمْنَا بِهَا أَيَّامًا، شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا أَوْ قَوْسٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا - أَوْ لَنْ تَفْعَلُوا - كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا ". قَالَ أَبُو عَلِيٍّ : سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ قَالَ : ثَبَّتَنِي فِي شَيْءٍ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، وَقَدْ كَانَ انْقَطَعَ مِنَ الْقِرْطَاسِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1096

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کہتے: "الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا،من يهده الله فلا مضل له،ومن يضلل فلا هادي له،وأشهد أن لا إله إلا الله،وأشهد أن محمدا عبده ورسوله،أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة،من يطع الله ورسوله فقد رشد،ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا" "ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے،ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں،ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں،اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا،اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا،میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں،اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے،اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٧؛حدیث نمبر؛١٠٩٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مِنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ، وَلَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1097

حضرت یونس سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا"ومن يعصهما فقد غوى ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله" "جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوگیا،ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٧؛حدیث نمبر؛١٠٩٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ : " وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، وَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ، وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ، وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1098

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: "من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١٠٩٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا. فَقَالَ : " قُمْ - أَوِ اذْهَبْ - بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1099

( ام ہشام)بنت حارث(حارثہ بن نعمان)بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے سورة"ق" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان(مبارک)سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے،آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے،وہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١١٠٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ : مَا حَفِظْتُ قَافْ إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ كَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ. قَالَتْ : وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ : بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1100

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١١٠١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ : حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا، يَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1101

عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے سورة"ق"کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب،اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے،یحییٰ نے عمرہ سے،عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١١٠٢)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُخْتِهَا قَالَتْ : مَا أَخَذْتُ قَافْ إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : كَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1102

حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن اپنی بہن ام ہشام رضی اللہ عنہا سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں،حدیث نمبر ١١٠٢کے مثل روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٨٨؛حدیث نمبر؛١١٠٣)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا، بِمَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1103

حضرت حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن(منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے(یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے(جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین علی المنبر؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : رَأَى عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ وَهُوَ يَدْعُو فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَقَالَ عُمَارَةُ : قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ. قَالَ زَائِدَةُ : قَالَ حُصَيْنٌ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا يَزِيدُ عَلَى هَذِهِ. يَعْنِي السَّبَّابَةَ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1104

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے منبر پر دعا مانگتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ غیر منبر پر،بلکہ میں نے آپ کو اس طرح کرتے دیکھا اور انہوں نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین علی المنبر؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرِهِ وَلَا عَلَى غَيْرِهِ، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا. وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَعَقَدَ الْوُسْطَى بِالْإِبْهَامِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1105

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبوں میں اختصار کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اقصار الخطب؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِقْصَارِ الْخُطَبِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1106

حضرت جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبے کو طول نہیں دیتے تھے،وہ بس چند ہی کلمات ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اقصار الخطب؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُطِيلُ الْمَوْعِظَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ؛ إِنَّمَا هُنَّ كَلِمَاتٌ يَسِيرَاتٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1107

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کردیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدنو من الإمام عند الموعظۃ؛جلد۱ص۲٨٩؛حدیث نمبر؛١١٠٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ قَتَادَةُ : عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " احْضُرُوا الذِّكْرَ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ ؛ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1108

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے،اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا اللہ نے سچ فرمایا ہے"إنما أموالکم وأولادکم فتنة"(التغابن١٥) "تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں" میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا،پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الإمام یقطع الخطبۃ للأمر یحدث؛جلد۱ص۲٩٠؛حدیث نمبر؛١١٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ فَأَخَذَهُمَا فَصَعِدَ بِهِمَا الْمِنْبَرَ، ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ اللَّهُ : { إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ } رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ ". ثُمَّ أَخَذَ فِي الْخُطْبَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1109

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ(گوٹ مار کر بیٹھنے سے)منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاحتباء والایمان یخطب؛جلد۱ص۲٩٠؛حدیث نمبر؛١١١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1110

یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ،شریح،صعصہ بن صوحان،سعید بن مسیب،ابراہیم نخعی،مکحول،اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاحتباء والایمان یخطب؛جلد۱ص۲٩٠؛حدیث نمبر؛١١١١)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَجَمَّعَ بِنَا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِينَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَبِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَشُرَيْحٌ، وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمَكْحُولٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ قَالَ : لَا بَأْسَ بِهَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا كَرِهَهَا إِلَّا عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1111

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں(کسی سے)کہا چپ رہو،تو تم نے لغو کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الکلام والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩٠؛حدیث نمبر؛١١١٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قُلْتَ : أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1112

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے،اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے،دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے،تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے،نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے،نہ کسی کو تکلیف دے،تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہوگا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: "جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الکلام والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ : رَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو، وَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا. وَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَدْعُو، فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ؛ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ. وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا، فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ؛ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : { مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا } ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1113

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہوجائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، مان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب استئذان المحدث الإمام؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٤)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ ثُمَّ لْينْصَرِفْ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1114

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں)آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے،تو آپ نے فرمایااے فلاں!کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟اس نے کہانہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو اٹھ کر نماز پڑھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا دخل الرجل والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٥)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو - وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ - عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ : " أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ ؟ ". قَالَ : لَا. قَالَ : " قُمْ فَارْكَعْ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1115

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ(مسجد میں)آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے،تو آپ نے ان سے فرمایاکیا تم نے کچھ پڑھا؟، انہوں نے کہا نہیں،آپ نے فرمایاہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا دخل الرجل والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ : " أَصَلَّيْتَ شَيْئًا ؟ ". قَالَ : لَا. قَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، تَجَوَّزْ فِيهِمَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1116

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سلیک رضی اللہ عنہ آئے،پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایاجب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا دخل الرجل والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩١؛حدیث نمبر؛١١١٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ. زَادَ : ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ. قَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1117

ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں)تھے،اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا ایک شخص(اسی طرح)جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایابیٹھ جاؤ،تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٢؛حدیث نمبر؛١١١٨)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ قَالَ : كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ : جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1118

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناجب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل ینعس والإمام یخطب؛جلد۱ص۲٩٢؛حدیث نمبر؛١١١٩)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1119

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ(خطبہ دے کر)منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کرلیتا،یعنی اپنی گفتگو مکمل کرلیتا،پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے،یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الإمام یتکلم بعد ما ینزل من المنبر؛جلد۱ص۲٩٢؛حدیث نمبر؛١١٢٠)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ - هُوَ ابْنُ حَازِمٍ، لَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَهُ مُسْلِمٌ، أَوْ لَا - عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ، فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ، فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ ثَابِتٍ، هُوَ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1120

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من ادرک من الجمعۃ رکعۃ؛جلد۱ص۲٩٢؛حدیث نمبر؛١١٢١)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1121

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے روز "سبح اسم ربک الأعلى"اور"هل أتاک حديث الغاشية"پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑجاتا تو(بھی)انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ بہ فی الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ بِـ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) وَ ( هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ). قَالَ : وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَقَرَأَ بِهِمَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1122

حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورة الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟تو انہوں نے کہا"هل أتاک حديث الغاشية"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ بہ فی الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٣)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ : مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ ؟ فَقَالَ : كَانَ يَقْرَأُ بِـ ( هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ).

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1123

ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز جمعہ پڑھائی تو(پہلی رکعت میں)سورة الجمعہ اور دوسری میں"إذا جاءک المنافقون" پڑھی،ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے(نماز جمعہ میں) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔اس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ بہ فی الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ : ( إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ ). قَالَ : فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1124

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں"سبح اسم ربک الأعلى"اور"هل أتاک حديث الغاشية"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ بہ فی الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِـ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) وَ ( هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ).

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1125

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے اندر نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ کی اقتداء کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الرجل یاتم بالأمام وبینہما جدار؛جلد۱ص۲٩٣؛حدیث نمبر؛١١٢٦)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهِ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1126

حضرت نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا،(جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی)تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَقَامِهِ، فَدَفَعَهُ وَقَالَ : أَتُصَلِّي الْجُمُعَةَ أَرْبَعًا ؟ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَيَقُولُ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1127

حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٢٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُطِيلُ الصَّلَاةَ قَبْلَ الْجُمُعَةِ، وَيُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1128

حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عطاء بن ابی الخوار نے خبر دی ہے کہ حضرت نافع بن جبیر نے انہیں ایک چیز کے متعلق،جسے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے نماز میں انہیں کرتے ہوئے دیکھا تھا،سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا،تو انہوں نے بتایا کہ میں نے معاویہ کے ساتھ مسجد کے کمرہ میں نماز جمعہ ادا کی،جب میں نے سلام پھیرا تو اپنی اسی جگہ پر اٹھ کر پھر نماز پڑھی تو جب وہ گھر تشریف لائے تو مجھے بلوایا اور کہا جو تم نے کیا ہے،اسے پھر دوبارہ نہ کرنا،جب تم جمعہ پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز نہ ملاؤ،جب تک کہ بات نہ کرلو یا نکل نہ جاؤ،کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز کسی نماز سے ملائی نہ جائے جب تک کہ بات نہ کرلی جائے یا باہر نکل نہ لیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٢٩)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ - ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ - يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَأَى مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ : صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ : لَا تَعُدْ لِمَا صَنَعْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ ؛ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ أَلَّا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1129

حضرت عطاء سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے اور چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینے میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر واپس آتے اور(گھر میں)دو رکعتیں ادا کرتے،مسجد میں نہ پڑھتے،ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ الْمَرْوَزِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ إِذَا كَانَ بِمَكَّةَ فَصَلَّى الْجُمُعَةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّى الْجُمُعَةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1130

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(محمد بن صباح کی روایت میں ہے)جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے،اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔سہیل کہتے ہیں میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا اے میرے بیٹے!اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو(گھر پر)دو رکعت اور پڑھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٤؛حدیث نمبر؛١١٣١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ : قَالَ : " مَنْ كَانَ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا ". وَتَمَّ حَدِيثُهُ، وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ : " إِذَا صَلَّيْتُمُ الْجُمُعَةَ فَصَلُّوا بَعْدَهَا أَرْبَعًا ". قَالَ : فَقَالَ لِي أَبِي : يَا بُنَيَّ، فَإِنْ صَلَّيْتَ فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَيْتَ الْمَنْزِلَ - أَوِ الْبَيْتَ - فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1131

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٥؛حدیث نمبر؛١١٣٢)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1132

حضرت ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا،تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں،پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟تو انہوں نے کہا بارہا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد الجمعۃ؛جلد۱ص۲٩٥؛حدیث نمبر؛١١٣٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ. قَالَ : فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ : ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ. قُلْتُ لِعَطَاءٍ : كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مِرَارًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1133

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے(تو دیکھا کہ)ان کے لیے(سال میں)دو دن ہیں جن میں وہ کھیلتے کودتے ہیں تو آپ نے پوچھایہ دو دن کیسے ہیں؟تو ان لوگوں نے کہا جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیلتے کودتے تھے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ العیدین؛جلد۱ص۲٩٥؛حدیث نمبر؛١١٣٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَقَالَ : " مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ ؟ ". قَالُوا : كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا : يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1134

حضرت یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے،تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہوجاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب وقت الخروج الی العید؛جلد۱ص۲٩٥؛حدیث نمبر؛١١٣٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ ، قَالَ : خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ - صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ - أَوْ أَضْحًى - فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، فَقَالَ : إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ. وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1135

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن(عید گاہ)لے جائیں، آپ سے پوچھا گیاحائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں،ایک خاتون نے عرض کیا یا رسول اللہ!اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟آپ نے فرمایا اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب خروج النساء فی العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٣٦)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، وَحَبِيبٍ ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ. قِيلَ : فَالْحُيَّضُ ؟ قَالَ : " لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ ". قَالَ : فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1136

ایک اور سند کے ساتھ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہےحائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں،محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے،وہ کہتے ہیں حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے،حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ!پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب خروج النساء فی العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : " وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ ". وَلَمْ يَذْكُرِ الثَّوْبَ. قَالَ : وَحَدَّثَ عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ امْرَأَةٍ تُحَدِّثُهُ عَنِ امْرَأَةٍ أُخْرَى ، قَالَتْ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى فِي الثَّوْبِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1137

اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہےاس میں ہے کہ انہوں نے کہاہمیں حکم دیاجاتا تھا،پھر یہی حدیث بیان کی،پھر آگے اس میں ہے کہ انہوں نے بتایاحائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب خروج النساء فی العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٣٨)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ. قَالَتْ : وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1138

ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ(آکر)دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا،ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا،پھر انہوں نے کہامیں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے،نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب خروج النساء فی العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ - يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ - وَمُسْلِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ. وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ، وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1139

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہامروان!آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے،ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا،دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا،تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟لوگوں نے کہا فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا اس شخص نے اپنا حق ادا کردیا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٦؛حدیث نمبر؛١١٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ فِيهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. فَقَالَ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1140

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی،پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے،جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں،کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کھچ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٧؛حدیث نمبر؛١١٤١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ تُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ. قَالَ : تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا، وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ. وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : فَتَخَتَهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1141

حضرت عطاء فرماتےہیں میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے،پھر نماز پڑھائی،پھر خطبہ دیا،پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ابن کثیر کہتے ہیں شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ(اس میں یہ بھی ہے کہ)آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ(اپنے زیورات وغیرہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں)ڈالنے لگیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٧؛حدیث نمبر؛١١٤٢)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَشَهِدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ. قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ : أَكْبَرُ عِلْمِ شُعْبَةَ : فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1142

اسی سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے،آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا،تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٧؛حدیث نمبر؛١١٤٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ، قَالَ : فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَمَشَى إِلَيْهِنَّ وَبِلَالٌ مَعَهُ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1143

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے عورتیں بالی اور انگوٹھی(صدقہ میں)دینے لگیں اور بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنی چادر میں رکھتے جاتے تھے وہ کہتے ہیں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمان فقراء کے درمیان تقسیم کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخطبۃ یوم العید؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ : فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُعْطِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ، وَجَعَلَ بِلَالٌ يَجْعَلُهُ فِي كِسَائِهِ. قَالَ : فَقَسَمَهُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1144

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے دن ایک کمان دی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر(ٹیک لگا کر)خطبہ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب یخطب علی قوس؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٥)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُووِلَ يَوْمَ الْعِيدِ قَوْسًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1145

حضرت عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھاکیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں؟آپ نے کہاہاں اگر مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کرم نہ ہوتی تو میں کمسنی کے باعث آپ تک نہیں پہنچ سکتارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی،پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقے کا حکم دیا،تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں(یعنی بالیوں اور ہاروں)کی طرف اشارے کرنے لگیں،وہ کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا چناں چہ وہ ان کے پاس آئے پھر(صدقہ لے کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹ آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ترک الآذان فی العید؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً. قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ. قَالَ : فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ. قَالَ : فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَتَاهُنَّ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1146

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور حضرت ابوبکر اور عمر یا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ترک الآذان فی العید؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِيدَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ أَوْ عُثْمَانَ، شَكَّ يَحْيَى.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1147

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں(بارہا)عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ترک الآذان فی العید؛جلد۱ص۲٩٨؛حدیث نمبر؛١١٤٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادٌ ، لَفْظُهُ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ - يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ - عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1148

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٤٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1149

اس طریق سے بھی ابن شہاب سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ،اس میں ہے(یہ تکبیریں)رکوع کی دونوں تکبیروں کے علاوہ ہوتیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٥٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. قَالَ : سِوَى تَكْبِيرَتَيِ الرُّكُوعِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1150

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر(زوائد)کے بعد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٥١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّكْبِيرُ فِي الْفِطْرِ سَبْعٌ فِي الْأُولَى وَخَمْسٌ فِي الْآخِرَةِ، وَالْقِرَاءَةُ بَعْدَهُمَا كِلْتَيْهِمَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1151

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے پھر قرأت کرتے پھر"الله أكبر"کہتے پھر (دوسری رکعت کے لیے)کھڑے ہوتے تو چار تکبیریں کہتے پھر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے وکیع اور ابن مبارک نے بھی روایت کیا ہے،ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں نقل کی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ - عَنْ أَبِي يَعْلَى الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ الْأُولَى سَبْعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يَرْكَعُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ وَكِيعٌ وَابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَا : سَبْعًا وَخَمْسًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1152

حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں ابوعائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ سعید بن العاص نے ابوموسیٰ اشعری اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیسے تکبیریں کہتے تھے؟تو ابوموسیٰ نے کہا چار تکبیریں کہتے تھے جنازہ کی چاروں تکبیروں کی طرح،یہ سن کر حذیفہ نے کہاانہوں نے سچ کہا،اس پر ابوموسیٰ نے کہا میں اتنی ہی تکبیریں بصرہ میں کہا کرتا تھا،جہاں پر میں حاکم تھا،ابوعائشہ کہتے ہیں اس(گفتگو کے وقت)میں سعید بن العاص کے پاس موجود تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب التکبیر فی العیدین؛جلد۱ص۲٩٩؛حدیث نمبر؛١١٥٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَابْنُ أَبِي زِيَادٍ ، الْمَعْنَى قَرِيبٌ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَيْدٌ - يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عَائِشَةَ - جَلِيسٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ - أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : صَدَقَ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى : كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ فِي الْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ. وَقَالَ أَبُو عَائِشَةَ : وَأَنَا حَاضِرٌ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1153

حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد الیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورت پڑھتے تھے؟آپ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں"ق والقرآن المجيد"اور"اقتربت الساعة وانشق القمر"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقرأ فی الاضحی والفطر؛جلد۱ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛١١٥٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ : مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ؟ قَالَ : كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا ( ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ) وَ ( اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ).

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1154

حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایاہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ مرسل ہے،عطا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الجلوس للخطبۃ؛جلد۱ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛١١٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : " إِنَّا نَخْطُبُ ؛ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : هَذَا مُرْسَلٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1155

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے گئے پھر دوسرے راستے سے واپس آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الخروج الی العید فی طریق ویرجع فی طریق؛جلد۱ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛١١٥٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ، ثُمَّ رَجَعَ فِي طَرِيقٍ آخَرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1156

حضرت ابو عمیر بن انس کے ایک چچا سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں،روایت ہے کہ کچھ سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ گواہی دے رہے تھے کہ کل انہوں نے چاند دیکھا ہے،تو آپ نے انہیں افطار کرنے اور دوسرے دن صبح ہوتے ہی اپنی عید گاہ جانے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا لم یخرج الإمام للعید من یومہ یخرج من الغد؛جلد۱ص٣٠٠؛حدیث نمبر؛١١٥٧)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا، وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1157

حضرت بکر بن مبشر انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ عید گاہ جاتا تھا تو ہم وادی بطحان سے ہو کر جاتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اسی وادی بطحان سے ہی اپنے گھر واپس آتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب إذا لم یخرج الإمام للعید من یومہ یخرج من الغد؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٥٨)

حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ نُصَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : كُنْتُ أَغْدُو مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى، فَنَسْلُكُ بَطْنَ بَطْحَانَ حَتَّى نَأْتِيَ الْمُصَلَّى، فَنُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعُ مِنْ بَطْنِ بَطْحَانَ إِلَى بُيُوتِنَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1158

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد،پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے،آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار(بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں نکال نکال کر)ڈالنے لگیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد صلاۃ العید؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٥٩)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1159

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ(ایک بار)عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب یصلی بالناس العید فی المسجد اذا کان یوم مطر؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٦٠)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ح وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الْفَرْوِيِّينَ، وَسَمَّاهُ الرَّبِيعُ فِي حَدِيثِهِ عِيسَى بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، سَمِعَ أَبَا يَحْيَى عُبَيْدَ اللَّهِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1160

حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ نماز استسقا کے لیے نکلے،تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی،جن میں بلند آواز سے قرأت کی اور اپنی چادر پلٹی اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٦١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِالنَّاسِ لِيَسْتَسْقِيَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا وَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1161

ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا(عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ)سے(جو صحابی رسول تھے)سنا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقاء کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہےسلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں۔اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی۔ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠١؛حدیث نمبر؛١١٦٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي ، فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ : وَقَرَأَ فِيهِمَا. زَادَ ابْنُ السَّرْحِ : يُرِيدُ الْجَهْرَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1162

ایک اور سند کے ساتھ بھی محمد بن مسلم(ابن شہاب زہری)سے یہ حدیث مروی ہےاس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کرلیا،پھر اللہ عزوجل سے دعا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛١١٦٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ فِي كِتَابِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ - يَعْنِي الْحِمْصِيَّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، لَمْ يَذْكُرِ الصَّلَاةَ. قَالَ : وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1163

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقا پڑھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایک سیاہ چادر تھی تو آپ نے اس کے نچلے کنارے کو پکڑنے اور پلٹ کر اسے اوپر کرنے کا ارادہ کیا جب وہ بھاری لگی تو اسے اپنے کندھے ہی پر پلٹ لیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛١١٦٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ قَالَ : اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلَهُ أَعْلَاهَا، فَلَمَّا ثَقُلَتْ قَلَبَهَا عَلَى عَاتِقِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1164

حضرت ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے ولید بن عتبہ نے(عثمان کی روایت میں ولید بن عقبہ ہے،جو مدینہ کے حاکم تھے)ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں جا کر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقا کے بارے میں پوچھوں تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کے ساتھ گریہ وزاری کرتے ہوئے عید گاہ تک تشریف لائے،عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ منبر پر چڑھے،آگے دونوں راوی روایت میں متفق ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے ان خطبوں کی طرح خطبہ نہیں دیا،بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برابر دعا،گریہ وزاری اور تکبیر میں لگے رہے،پھر دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔امام ابوداؤد کہتے ہیں روایت نفیلی کی ہے اور صحیح ولید بن عقبہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛جُمَّاعُ ابواب صلاۃ الاستسقاء وتفریعھا؛جلد۱ص٣٠٢؛حدیث نمبر؛١١٦٥)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَحْوَهُ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ - قَالَ عُثْمَانُ : ابْنُ عُقْبَةَ، وَكَانَ أَمِيرَ الْمَدِينَةِ - إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا حَتَّى أَتَى الْمُصَلَّى. زَادَ عُثْمَانُ : فَرَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ. ثُمَّ اتَّفَقَا : وَلَمْ يَخْطُبْ خُطَبَكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَالْإِخْبَارُ لِلنُّفَيْلِيِّ، وَالصَّوَابُ : ابْنُ عُقْبَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1165

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف بارش طلب کرنے کی غرض سے نکلے،جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوئے پھر اپنی چادر پلٹی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی ای وقت یحول رداءہ اذا استسقی؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٦٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي ، وَأَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1166

حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے،اور(اللہ تعالیٰ سے)بارش طلب کی،اور جس وقت قبلہ رخ ہوئے،اپنی چادر پلٹی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی ای وقت یحول رداءہ اذا استسقی؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٦٧)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1167

حضرت عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر(اللہ تعالیٰ سے)بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا،نب صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٦٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ وَعُمَرَ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى بَنِي آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ، لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1168

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہتے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس(بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر)روتے ہوئے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی"اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل" (یعنی)اے اللہ"ہمیں سیراب فرما،ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو،اچھے انجام والی ہو،سبزہ اگانے والی ہو،نفع بخش ہو،مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو،تاخیر سے نہ آنے والی ہو" حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٦٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَوَاكِي ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ ". قَالَ : فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1169

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا کے علاوہ کسی دعا میں(اتنا)ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے(اس موقعہ پر)آپ اپنے دونوں ہاتھ اتنا اٹھاے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٧٠)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1170

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا میں اس طرح دعا کرتے تھے، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور ان کی پشت اوپر رکھتے اور ہتھیلی زمین کی طرف یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٣؛حدیث نمبر؛١١٧١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَسْقِي هَكَذَا ؛ يَعْنِي وَمَدَّ يَدَيْهِ، وَجَعَلَ بُطُونَهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1171

حضرت محمد بن ابراہیم(تیمی)کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ احجار زیت کے پاس اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائے دعا فرما رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛١١٧٢)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ بَاسِطًا كَفَّيْهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1172

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر(رکھنے)کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(حجرہ سے)اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہوگیا،نب صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے،اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایاتم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے،اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ(اگر تم اسے پکارو گے)تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا،اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی"الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين،لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين" (یعنی)تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے،اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ جو چاہتا ہے،کرتا ہے،یا اللہ!تو ہی معبود حقیقی ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں،تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لیے قوت(رزق)بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی،پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا،آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے،پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی،اسی وقت(اللہ کے حکم سے)آسمان سے بادل اٹھے،جن میں گرج اور چمک تھی،پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد نہیں آسکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور فرمایامیں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید(عمدہ)ہے،اہل مدینہ ملك يوم الدين پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛١١٧٣)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَدْعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ ". ثُمَّ قَالَ : " { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } { الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ } مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ - أَوْ : حَوَّلَ - رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً، فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، فَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقْرَءُونَ : مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ، وَإِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ حُجَّةٌ لَهُمْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1173

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوئے،اسی دوران کہ آپ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!گھوڑے مرگئے،بکریاں ہلاک ہوگئیں،آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں سیراب کرے،چناں چہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلایا اور دعا کی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس وقت آسمان آئینہ کی طرح صاف تھا،اتنے میں ہوا چلنے لگی پھر بدلی اٹھی اور گھنی ہوگئی پھر آسمان نے اپنا دہانہ کھول دیا،پھر جب ہم(نماز پڑھ کر)واپس ہونے لگے تو پانی میں ہو کر اپنے گھروں کو گئے اور آنے والے دوسرے جمعہ تک برابر بارش کا سلسلہ جاری رہا،پھر وہی شخص یا دوسرا کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!گھر گرگئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش بند کر دے،(یہ سن کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر فرمایا اے اللہ!تو ہمارے اردگرد بارش نازل فرما اور ہم پر نہ نازل فرما۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو میں نے بادل کو دیکھا وہ مدینہ کے اردگرد سے چھٹ رہا تھا گویا وہ تاج ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٤؛حدیث نمبر؛١١٧٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَصَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ قَحْطٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُنَا يَوْمَ جُمُعَةٍ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْكُرَاعُ ، هَلَكَ الشَّاءُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا. فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا. قَالَ أَنَسٌ : وَإِنَّ السَّمَاءَ لَمِثْلُ الزُّجَاجَةِ، فَهَاجَتْ رِيحٌ، ثُمَّ أَنْشَأَتْ سَحَابَةً، ثُمَّ اجْتَمَعَتْ، ثُمَّ أَرْسَلَتِ السَّمَاءُ عَزَالِيَهَا ، فَخَرَجْنَا نَخُوضُ الْمَاءَ حَتَّى أَتَيْنَا مَنَازِلَنَا، فَلَمْ يَزَلِ الْمَطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ - أَوْ غَيْرُهُ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ ؛ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهُ. فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : " حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا ". فَنَظَرْتُ إِلَى السَّحَابِ يَتَصَدَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ كَأَنَّهُ إِكْلِيلٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1174

حضرت شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا،پھر راوی نے عبدالعزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی"اللهم اسقنا"اے اللہ!ہمیں سیراب فرمااور آگے انہوں نے حدیث نمبر ١١٧٤ کے مثل حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛١١٧٥)

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ بِحِذَاءِ وَجْهِهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا ". وَسَاقَ نَحْوَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1175

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کے لیے دعا مانگتے تو فرماتے"اللهم اسق عبادک وبهائمك،وانشر رحمتک،وأحي بلدک الميت" اے اللہ!تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر،اور اپنی رحمت عام کر دے، اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما(یہ مالک کی روایت کے الفاظ ہیں) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رفع الیدین فی الاستسقاء؛جلد۱ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛١١٧٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مَالِكٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1176

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مجھےاس شخص نے خبر دی ہے جس کو میں سچا جانتا ہوں(عطا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں)کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا،آپ لوگوں کے ساتھ قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے،پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہر رکعت میں آپ نے تین تین رکوع کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیسرا رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے یہاں تک کہ آپ کے لمبے قیام کے باعث اس دن کچھ لوگوں کو(کھڑے کھڑے)غشی طاری ہوگئی اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے،جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو"الله أكبر"کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے سورج یا چاند میں گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں،ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا جب ان دونوں میں گرہن لگے تو تم نماز کی طرف دوڑو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الکسوف؛جلد۱ص٣٠٥؛حدیث نمبر؛١١٧٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنِي مَنْ أُصَدِّقُ - وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ - قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ، يَرْكَعُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ يَسْجُدُ، حَتَّى إِنَّ رِجَالًا يَوْمَئِذٍ لَيُغْشَى عَلَيْهِمْ مِمَّا قَامَ بِهِمْ، حَتَّى إِنَّ سِجَالَ الْمَاءِ لَتُصَبُّ عَلَيْهِمْ. يَقُولُ إِذَا رَكَعَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ". وَإِذَا رَفَعَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا كَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1177

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا،یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی،لوگ کہنے لگے کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز(کسوف)پڑھائی، چار سجدوں میں چھ رکوع کیا"اللہ اکبر" کہا،پھر قرآت کی اور دیر تک قرآت کرتے رہے،پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا،پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پہلی قرآت کی بہ نسبت مختصر قرآت کی پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا،پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر تیسری قرآت کی جو دوسری قرآت کے بہ نسبت مختصر تھی اور اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا،پھر رکوع سے سر اٹھایا، اس کے بعد سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے کئے،پھر کھڑے ہوئے اور سجدے سے پہلے تین رکوع کیے،ہر رکوع اپنے بعد والے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا،البتہ رکوع قیام کے برابر ہوتا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ آگے بڑھے اور اپنی جگہ چلے گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج(صاف ہو کر)نکل چکا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو!سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو نماز میں مشغول ہوجاؤ، یہاں تک کہ وہ صاف ہو کر روشن ہوجائے ،اور راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛١١٧٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا كَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الثَّالِثَةَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوٌ مِنْ قِيَامِهِ. قَالَ : ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ، فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ، وَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوفُ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ ". وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1178

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سخت گرمی کے دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی،(اس میں)آپ نے لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا(رکوع)کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا (قیام)کیا، پھر دو سجدے کئے پھر (دوسری رکعت کے لیے)کھڑے ہوئے تو ویسے ہی کیا، اس طرح(دو رکعت میں)چار رکوع اور چار سجدے ہوئے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٦؛حدیث نمبر؛١١٧٩)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ، فَكَانَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعُ سَجَدَاتٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1179

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے "الله أكبر"کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر الله أكبر کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا،پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے الله أكبر کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، (پھر رکوع سے سر اٹھایا) اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس طرح (دو رکعت میں)آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛١١٨٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ، وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ". ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ. ثُمَّ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ". ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1180

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی، جیسے عروہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے دو رکعت پڑھی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛١١٨١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : كَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. مِثْلَ حَدِيثِ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1181

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (دو رکعت)پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورة کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٧؛حدیث نمبر؛١١٨٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَحُدِّثْتُ عَنْ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، وَهَذَا لَفْظُهُ، وَهُوَ أَتَمُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنَ الطُّوَلِ ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطُّوَلِ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كُسُوفُهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1182

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری(رکعت)بھی اسی طرح پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛١١٨٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1183

حضرت اسود بن قیس کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن عباد عبدی(جو اہل بصرہ میں سے ہیں)نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر رہے،حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے (خطبہ میں)کہامیں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے اپنا اپنا نشانہ لگا رہے تھے یہاں تک کہ جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو نیزہ یا تین نیزہ کے برابر رہ گیا تو اسی دوران وہ دفعۃً سیاہ ہوگیا پھر گویا وہ تنومہ ہوگیا، تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا تم ہمارے ساتھ مسجد چلو کیونکہ اللہ کی قسم سورج کا یہ حال ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، تو ہم چلے تو دیکھتے ہیں کہ مسجد بھری ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، اور ہمارے ساتھ اتنا لمبا قیام کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی نماز میں اتنا لمبا قیام نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اتنا لمبا رکوع کیا کہ اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی بھی کسی نماز میں ہمارے ساتھ نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں دوسری رکعت پڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہوگیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر احمد بن یونس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا خطبہ بیان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛١١٨٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِيُّ - مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ - أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ : قَالَ سَمُرَةُ : بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضَيْنِ لَنَا، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الْأُفُقِ ؛ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا. قَالَ : فَدَفَعْنَا فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ، فَاسْتَقْدَمَ فَصَلَّى، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا. قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ : فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ. قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ثُمَّ سَاقَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1184

حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے نکلے اس دن میں آپ کے ساتھ مدینہ ہی میں تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں لمبا قیام فرمایا، پھر نماز سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہوگیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک یہ نشانیاں ہیں، جن کے ذریعہ اللہ(بندوں کو) ڈراتا ہے لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو جیسے تم نے قریب کی فرض نماز پڑھی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٨؛حدیث نمبر؛١١٨٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَانْجَلَتْ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَذِهِ الْآيَاتُ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهَا، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1185

حضرت ہلال بن عامر سے روایت ہے کہ قبیصہ ہلالی نے ان سے بیان کیا ہے کہ سورج میں گرہن لگا،پھر انہوں نے موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی، اس میں ہے یہاں تک کہ ستارے دکھائی دینے لگے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال اربع رکعات؛جلد۱ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛١١٨٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَيْحَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ. بِمَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى، قَالَ : حَتَّى بَدَتِ النُّجُومُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1186

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورة البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورة آل عمران کی قرآت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب القراۃ فی صلاۃ الکسوف؛جلد۱ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛١١٨٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، كُلُّهُمْ قَدْ حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَقَامَ، فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ - وَسَاقَ الْحَدِيثَ - ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ آلِ عِمْرَانَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1187

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی اور اس میں جہر کیا یعنی نماز کسوف میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب القراۃ فی صلاۃ الکسوف؛جلد۱ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛١١٨٨)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً فَجَهَرَ بِهَا. يَعْنِي فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1188

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا،پھر رکوع کیا،پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب القراۃ فی صلاۃ الکسوف؛جلد۱ص٣٠٩؛حدیث نمبر؛١١٨٩)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا بِنَحْوٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1189

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز(کسوف)جماعت سے ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ینادی فیھا بالصلاۃ؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩٠)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى أَنِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1190

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے،جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصدقۃ فیھا؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩١)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1191

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب العنق فیھا؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩٢)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1192

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یرکع رکعتین ؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1193

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا،تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع ہی نہیں کریں گے، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے،پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے،پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے،پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھایا،پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا،پھر اخیر سجدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھونک ماری اور "اف اف"کہا پھر فرمایااے میرے رب!کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا؟کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہوگیا تھا،پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یرکع رکعتین ؛جلد۱ص٣١٠؛حدیث نمبر؛١١٩٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ ثُمَّ رَكَعَ، فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ ثُمَّ رَفَعَ، فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ ثُمَّ رَفَعَ، فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ ثُمَّ رَفَعَ، وَفَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ فَقَالَ : " أُفْ أُفْ ". ثُمَّ قَالَ : " رَبِّ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَلَّا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ ؟ أَلَمْ تَعِدْنِي أَلَّا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ؟ ". فَفَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1194

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا،تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح،تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا،اس وقت آپ نے(نماز کسوف کی دونوں رکعتوں)میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من قال:یرکع رکعتین ؛جلد۱ص٣١١؛حدیث نمبر؛١١٩٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : بَيْنَمَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَنَبَذْتُهُنَّ وَقُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ مَا أَحْدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسُوفُ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ وَيُحَمِّدُ وَيُهَلِّلُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1195

نضر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی،تو میں آپ کے پاس آیا اور کہاابوحمزہ!کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی؟انہوں نے کہا اللہ کی پناہ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آجاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ عند الظلمۃ ونحوھا؛جلد۱ص٣١١؛حدیث نمبر؛١١٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : كَانَتْ ظُلْمَةٌ عَلَى عَهْدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ : فَأَتَيْتُ أَنَسًا فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَلْ كَانَ يُصِيبُكُمْ مِثْلُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ، إِنْ كَانَتِ الرِّيحُ لَتَشْتَدُّ فَنُبَادِرُ الْمَسْجِدَ ؛ مَخَافَةَ الْقِيَامَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1196

حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی کا انتقال ہوگیا ہے،تو وہ یہ سن کر سجدے میں گرپڑے،ان سے کہا گیا کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی(یعنی بڑا حادثہ)دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہوسکتی ہے؟۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب السجود عند الآیات؛جلد۱ص٣١١؛حدیث نمبر؛١١٩٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَاتَتْ فُلَانَةُ - بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَّ سَاجِدًا، فَقِيلَ لَهُ : أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا ". وَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1197

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی،پھر سفر کی نماز (حسب معمول)برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب صلاۃ المسافر؛ترجمہ؛مسافر کی نماز کا بیان؛جلد٢؛ص؛٣؛حدیث نمبر؛١١٩٨)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1198

حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہامجھے بتائیے کہ(سفر میں)لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے "اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کردیں گے"(النساء:١٠١)تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہاجس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب صلاۃ المسافر؛جلد٢؛ص؛٣؛حدیث نمبر؛١١٩٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا خُشَيْشٌ - يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى : { إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا }، فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمُ. فَقَالَ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1199

حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا،پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب صلاۃ المسافر؛جلد٢؛ص؛٣؛حدیث نمبر؛١٢٠٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ. فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ بَكْرٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1200

یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ(یہ شک شعبہ کو ہوا ہے)کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یقصرالمسافر؛جلد٢؛ص؛٣؛حدیث نمبر؛١٢٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ أَنَسٌ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ - أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ . شَكَّ شُعْبَةُ - يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1201

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یقصرالمسافر؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٢)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1202

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناتمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتااور نماز ادا کرتا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہےدیکھو میرے اس بندے کو،یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے،مجھ سے ڈرتا ہے،میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الاذان فی السفر؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٣)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا ؛ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، يَخَافُ مِنِّي، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1203

مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو،انہوں نے کہاجب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے سورج ڈھل گیا یا نہیں تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب المسافر یصلی وھو یشک فی الوقت؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْمِسْحَاجِ بْنِ مُوسَى قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقُلْنَا : زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ، صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1204

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے،تو ایک شخص نے ان سے کہا اگرچہ نصف النہار ہوتا؟انہوں نے کہا اگرچہ نصف النہار ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب المسافر یصلی وھو یشک فی الوقت؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبَّةَ - قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ : وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1205

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے،ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مؤخر کی پھر نکلے اور ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھی پھر اندر(قیام گاہ میں)چلے گئے،پھر نکلے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٤؛حدیث نمبر؛١٢٠٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1206

حضرت نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صفیہ کی موت کی خبر دی گئی اس وقت مکہ میں تھے تو آپ چلے(اور چلتے رہے)یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور ستارے نظر آنے لگے،تو عرض کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جب کسی کام کی عجلت ہوتی تو آپ یہ دونوں(مغرب اور عشاء)ایک ساتھ ادا کرتے،پھر وہ شفق غائب ہونے تک چلتے رہے ٹھہر کر دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٥؛حدیث نمبر؛١٢٠٧)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ - فَسَارَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فِي سَفَرٍ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ. فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ فَنَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1207

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے،اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لیے قیام کرتے،اسی طرح آپ مغرب میں کرتے،اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ عشاء کے لیے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبداللہ سے حصین نے کریب سے،کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے،ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٥؛حدیث نمبر؛١٢٠٨)

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ، وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلُ ذَلِكَ ؛ إِنْ غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ الْمُفَضَّلِ وَاللَّيْثِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1208

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ایوب عن نافع عن ابن عمر سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا،یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٥؛حدیث نمبر؛١٢٠٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَطُّ فِي السَّفَرِ إِلَّا مَرَّةً. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا يُرْوَى عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ لَمْ يَرَ ابْنَ عُمَرَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا قَطُّ إِلَّا تِلْكَ اللَّيْلَةَ. يَعْنِي لَيْلَةَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ. وَرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1209

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا۔ مالک کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہوگا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابوالزبیر سے روایت کیا ہے،نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١٠)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ، قَالَ مَالِكٌ : أُرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ : فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا إِلَى تَبُوكَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1210

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا،ابن عباس سے پوچھا گیااس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَلَّا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1211

حضرت نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن نے کہا نماز(پڑھ لی جائے)(تو)ابن عمر نے کہاچلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی تو عشاء پڑھی،پھر کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے،چناں چہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، أَنَّ مُؤَذِّنَ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : الصَّلَاةَ. قَالَ : سِرْ سِرْ. حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ غُيُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتُ. فَسَارَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ ابْنُ جَابِرٍ عَنْ نَافِعٍ نَحْوَ هَذَا بِإِسْنَادِهِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1212

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن جابر رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور عبداللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے اس میں ہے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہونے کا وقت ہوا تو وہ اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الْمَعْنَى. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1213

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ہمارے ساتھ ظہر و عصر ملا کر آٹھ رکعتیں اور مغرب و عشاء ملا کر سات رکعتیں پڑھیں۔ سلیمان اور مسدد کی روایت میں بنا یعنی ہمارے ساتھ کا لفظ نہیں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے صالح مولیٰ توامہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے،اس میں بغيرمطربغیر بارش کے الفاظ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٦؛حدیث نمبر؛١٢١٤)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا وَسَبْعًا ؛ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ. وَلَمْ يَقُلْ سُلَيْمَانُ وَمُسَدَّدٌ : بِنَا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاهُ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : فِي غَيْرِ مَطَرٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1214

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے کہ سورج ڈوب گیا تو آپ نے مقام سرف میں دونوں(مغرب اور عشاء)ایک ساتھ ادا کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَابَتْ لَهُ الشَّمْسُ بِمَكَّةَ، فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا بِسَرِفَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1215

ہشام بن سعد کہتے ہیں کہ دونوں یعنی مکہ اور سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ - جَارُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : بَيْنَهُمَا عَشَرَةُ أَمْيَالٍ. يَعْنِي بَيْنَ مَكَّةَ وَسَرِفَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1216

حضرت عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا،اس وقت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا،پھر ہم چلے،جب دیکھا کہ رات آگئی ہے تو ہم نے کہا نماز(ادا کرلیں)لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے،پھرآپ اترے، اور دونوں نمازیں(مغرب اور عشاء)ایک ساتھ ادا کیں،پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہوجانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے،اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ قَالَ : قَالَ رَبِيعَةُ - يَعْنِي كَتَبَ إِلَيْهِ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : غَابَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَسِرْنَا، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قَدْ أَمْسَى قُلْنَا : الصَّلَاةَ. فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ وَتَصَوَّبَتِ النُّجُومُ، ثُمَّ إِنَّهُ نَزَلَ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ صَلَّى صَلَاتِي هَذِهِ، يَقُولُ : يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا بَعْدَ لَيْلٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سَالِمٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ كَانَ بَعْدَ غُيُوبِ الشَّفَقِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1217

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کردیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے،اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب الدعوات تھے،وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ مَوْهَبٍ ، الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : كَانَ مُفَضَّلٌ قَاضِيَ مِصْرَ، وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1218

ایک اور سند کے ساتھ عقیل سے یہی روایت منقول ہےالبتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہوجاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢١٩)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عُقَيْلٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ : وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ .

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1219

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے،اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کرتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے،اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے،اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الجمع بین الصلوٰتین؛جلد٢؛ص٧؛حدیث نمبر؛١٢٢٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا قُتَيْبَةُ وَحْدَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1220

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی اور دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں "والتين والزيتون"پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب قصر قراءَۃالصلاۃ فی السفر؛جلد٢؛ص٨؛حدیث نمبر؛١٢٢١)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِـ ( التِّينِ وَالزَّيْتُونِ ).

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1221

حضرت براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا،لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع فی السفر؛جلد٢؛ص٨؛حدیث نمبر؛١٢٢٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا، فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1222

حضرت حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ(نماز کی حالت میں)کھڑے ہیں،پوچھایہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟میں نے کہا یہ نفل پڑھ رہے ہیں،تو آپ نے کہا بھتیجے!اگر مجھے نفل پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا،میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی،پھر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی،اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی،مجھے(سفر میں)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی،اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے"لقد کان لکم في رسول الله أسوة حسنة‏"(الاحزاب:٢١) (ترجمہ)"تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع فی السفر؛جلد٢؛ص٨؛حدیث نمبر؛١٢٢٣)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ. قَالَ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ : مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ قُلْتُ : يُسَبِّحُونَ. قَالَ : لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي. يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَصَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ }.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1223

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے،خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے،البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع علی الراحلۃ والوتر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَيَّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ عَلَيْهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1224

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی قبلہ رخ کرلیتے اور تکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے خواہ آپ کی سواری کا رخ کسی بھی طرف ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع علی الراحلۃ والوتر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَارُودِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنِي الْجَارُودُ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ، اسْتَقْبَلَ بِنَاقَتِهِ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ وَجَّهَهُ رِكَابُهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1225

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ کا رخ خیبر کی جانب تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع علی الراحلۃ والوتر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1226

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں(واپس)آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں(آپ کا)سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب التطوع علی الراحلۃ والوتر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، قَالَ : فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1227

حضرت عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھاکیا عورتوں کو چوپایوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟آپ نے کہا مشکل میں ہوں یا سہولت میں،انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں یہ بات فرض نماز کے سلسلے میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب الفریضۃ علی الراحلۃ من عذر ؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٨)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : هَلْ رُخِّصَ لِلنِّسَاءِ أَنْ يُصَلِّينَ عَلَى الدَّوَابِّ ؟ قَالَتْ : لَمْ يُرَخَّصْ لَهُنَّ فِي ذَلِكَ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ : هَذَا فِي الْمَكْتُوبَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1228

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا،آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے اے مکہ والو!تم چار پڑھو،کیونکہ ہم تو مسافر ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص٩؛حدیث نمبر؛١٢٢٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَهَذَا لَفْظُهُ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَيَقُولُ : " يَا أَهْلَ الْبَلَدِ، صَلُّوا أَرْبَعًا ؛ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1229

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سترہ دن مکہ میں مقیم رہے،اور نماز قصر کرتے رہے،تو جو شخص سترہ دن قیام کرے وہ قصر کرے،اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ اتمام کرے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عباد بن منصور نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے،اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انیس دن تک مقیم رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَمَنْ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَصَرَ، وَمَنْ أَقَامَ أَكْثَرَ أَتَمَّ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : أَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1230

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز قصر کرتے رہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث عبدہ بن سلیمان،احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نےابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣١)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1231

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں سترہ دن تک مقیم رہے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣٢)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1232

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے،آپ(اس سفر میں)دو رکعتیں پڑھتے رہے،یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم لوگوں نے پوچھاکیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے؟انہوں نے جواب دیا مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقُلْنَا : هَلْ أَقَمْتُمْ بِهَا شَيْئًا ؟ قَالَ : أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1233

حضرت عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہوجاتا،پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے۔پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے۔پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عثمان کی روایت میں"أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي"کے بجائے"عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي"ہے۔ (ابوعلی لولؤی کہتے ہیں)میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ(بن انس بن مالک)سے روایت کی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہوجاتی تو دونوں(مغرب اور عشاء)کو جمع کرتے اور کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ زہری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کےمثل روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب متی یتم المسافر؛جلد٢؛ص١٠؛حدیث نمبر؛١٢٣٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ الْمُثَنَّى ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا سَافَرَ سَارَ بَعْدَمَا تَغْرُبُ الشَّمْسُ حَتَّى تَكَادَ أَنْ تُظْلِمَ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْعُو بِعَشَائِهِ فَيَتَعَشَّى، ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْتَحِلُ وَيَقُولُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ. قَالَ عُثْمَانُ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ : وَرَوَى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - أَنَّ أَنَسًا كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ، وَيَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ. وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ مِثْلُهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1234

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور نماز قصر کرتے رہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں معمر کے علاوہ سبھی اسے مرسل روایت کرتے ہیں،کوئی اسے مسند روایت نہیں کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛تفریع صلاۃ السفر؛باب اذا أقام بأرض العدو یقصر؛جلد٢؛ص١١؛حدیث نمبر؛١٢٣٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : غَيْرُ مَعْمَرٍ يُرْسِلُهُ لَا يُسْنِدُهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1235

حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے،اس وقت مشرکوں کے سردار خالد بن ولید تھے،ہم نے ظہر پڑھی تو مشرکین کہنے لگے ہم سے چوک ہوگئی، ہم غفلت کا شکار ہوگئے،کاش!ہم نے دوران نماز ان پر حملہ کردیا ہوتا،چناں چہ ظہر اور عصر کے درمیان قصر کی آیت نازل ہوئی پھر جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے،مشرکین آپ کے سامنے تھے،لوگوں نے آپ کے پیچھے ایک صف بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک دوسری صف بنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ بیک وقت رکوع کیا،لیکن سجدہ آپ نے اور صرف اس صف کے لوگوں نے کیا جو آپ سے قریب تر تھے اور باقی(پچھلی صف کے)لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے،پھر جب یہ لوگ سجدہ کر کے کھڑے ہوگئے تو باقی دوسرے لوگوں نے جو ان کے پیچھے تھے،سجدے کئے،پھر قریب والی صف پیچھے ہٹ کر دوسری صف کی جگہ پر چلی گئی،اور دوسری صف آگے بڑھ کر پہلی صف کی جگہ پر آگئی،پھر سب نے مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ صرف آپ اور آپ سے قریب والی صف نے کیا اور بقیہ لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریب والی صف کے لوگ بیٹھ گئے تو بقیہ دوسروں نے سجدہ کیا،پھر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک ساتھ سلام پھیرا،آپ نے عسفان میں اسی طرح نماز پڑھی اور بنی سلیم سے جنگ کے روز بھی اسی طرح نماز پڑھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ایوب اور ہشام نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے اسی مفہوم کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث داود بن حصین نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سے روایت کی ہے۔اسی طرح یہ حدیث عبدالملک نے عطا سے،عطاء نے جابر سے روایت کی ہے۔اسی طرح قتادہ نے حسن سے،حسن نے حطان سے،حطان نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی عمل نقل کیا ہے۔ اسی طرح عکرمہ بن خالد نے مجاہد سے مجاہد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اسی طرح ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہی ثوری کا قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛جلد٢؛ص١١؛حدیث نمبر؛١٢٣٦)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفْلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ. فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ، فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا ؛ سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ، وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَى أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ هَذَا الْمَعْنَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَكَذَلِكَ قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى فِعْلَهُ، وَكَذَلِكَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1236

حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ حالت خوف میں نماز ادا کی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں پھر جو آپ سے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی،پھر کھڑے ہوگئے اور برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے جو پہلی صف کے پیچھے تھے،ایک رکعت ادا کی،پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے،آپ کے پیچھے آگئے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے ایک رکعت اور پڑھی پھر آپ نے سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يَقُومُ صَفٌّ مَعَ الْإِمَامِ وَصَفٌّ وِجَاهَ الْعَدُوِّ «فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَقُومُ قَائِمًا، حَتَّى يُصَلِّيَ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ فَيَصُفُّونَ، وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَتَجِيءُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، وَيَثْبُتُ جَالِسًا، فَيُتِمُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ جَمِيعًا»؛باب:دوسری صورت یہ ہے کہ ایک صف امام کے ساتھ قائم ہو اور دوسری صف دشمن کے مقابلہ میں ہو پس امام اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائے اور امام کھڑا رہے یہاں تک کہ یہ سب لوگ دوسری رکعت پڑھ لیں پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسری جماعت آکر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور امام بیٹھا رہے یہاں تک کہ جماعت ثانیہ پہلی رکعت پوری کرے اس کے بعد امام سب کے ساتھ سلام پھیرے؛جلد٢؛ص١٢؛حدیث نمبر؛١٢٣٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي خَوْفٍ، فَجَعَلَهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ثُمَّ قَامَ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا، حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1237

صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع کے غزوہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی وہ کہتے ہیں ایک جماعت آپ کے ساتھ صف میں کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والی جماعت کے ساتھ ایک رکعت ادا کی پھر کھڑے رہے اور ان لوگوں نے(اس دوران میں)اپنی نماز پوری کرلی(یعنی دوسری رکعت بھی پڑھ لی)پھر وہ واپس دشمن کے سامنے صف بستہ ہوگئے اور دوسری جماعت آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ اپنی رکعت ادا کی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت پوری کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ مالک کہتے ہیں یزید بن رومان کی حدیث میری مسموعات میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: إِذَا صَلَّى رَكْعَةً «وَثَبَتَ قَائِمًا أَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَاخْتَلَفَ فِي السَّلَامِ»؛جلد٢؛ص١٣؛حدیث نمبر؛١٢٣٨)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ. قَالَ مَالِكٌ : وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1238

صالح بن خوات انصاری کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ نماز خوف اس طرح ہوگی کہ امام(نماز کے لیے)کھڑا ہوگا اور اس کے ساتھیوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہوگی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہوگی،امام اور جو اس کے ساتھ ہوں گے رکوع اور سجدہ کریں گے پھر امام کھڑا ہوگا،جب پورے طور سے سیدھا کھڑا ہوجائے گا تو یونہی کھڑا رہے گا یہاں تک کہ لوگ اپنی باقی (دوسری)رکعت بھی ادا کرلیں گے،پھر وہ لوگ سلام پھیر کر واپس چلے جائیں گے اور امام کھڑا رہے گا،اب یہ دشمن کے سامنے ہوں گے اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی ہے،وہ آئیں گے اور امام کے پیچھے تکبیر(تکبیر تحریمہ)کہیں گے پھر وہ ان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر کے اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا پھر سلام پھیر دے گا،اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کریں گے پھر سلام پھیریں گے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں رہی قاسم سے مروی یحییٰ بن سعید کی روایت تو وہ یزید بن رومان کی روایت ہی کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے سلام میں اختلاف کیا ہے اور عبیداللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح ہے اس میں ہے کہ(امام)کھڑا رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: إِذَا صَلَّى رَكْعَةً «وَثَبَتَ قَائِمًا أَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَاخْتَلَفَ فِي السَّلَامِ»؛جلد٢؛ص١٣؛حدیث نمبر؛١٢٣٩)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ : أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، فَيَرْكَعُ الْإِمَامُ رَكْعَةً، وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالْإِمَامُ قَائِمٌ، فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ يُسَلِّمُونَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَأَمَّا رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ نَحْوُ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي السَّلَامِ، وَرِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ نَحْوُ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ : وَيَثْبُتُ قَائِمًا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1239

مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟حضرت ابوہریرہ نے جواب دیا ہاں،مروان نے پوچھاکب؟ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جس سال غزوہ نجد پیش آیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھی اور ان کی پیٹھیں قبلہ کی طرف تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی تو آپ کے ساتھ والے لوگوں نے اور ان لوگوں نے بھی جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے (سبھوں نے)تکبیر تحریمہ کہی،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور آپ کے ساتھ کھڑی جماعت نے بھی رکوع کیا،پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے قریب والی جماعت نے بھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وہ جماعت بھی اٹھی جو آپ کے ساتھ تھی اور جا کر دشمن کے سامنے کھڑی ہوگئی،پھر وہ جماعت،جو دشمن کے سامنے کھڑی تھی(امام کے پیچھے) آگئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کھڑے رہے جیسے تھے،پھر جب وہ جماعت(سجدہ سے)اٹھ کھڑی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی،اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا پھر جو جماعت دشمن کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی آگئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو پہلے سے آپ کے ساتھ موجود تھے بیٹھے رہے،پھر سلام پھیرا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سبھی لوگوں نے مل کر سلام پھیرا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کی ایک ایک رکعت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُكَبِّرُونَ جَمِيعًا «وَإِنْ كَانُوا مُسْتَدْبِرِي الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَأْتُونَ مَصَافَّ أَصْحَابِهِمْ، وَيَجِيءُ الْآخَرُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تُقْبِلُ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَالْإِمَامُ قَاعِدٌ، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ كُلِّهِمْ جَمِيعًا»؛ترجمہ؛باب؛چو تھی صورت بعضوں نے کہا کہ سب لوگ ایک ساتھ تکبیر تحر یمہ کہہ لیں اگرچہ پشت قبلہ کی طرف ہو پھیر ایک گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور وہ دشمن کے سامنے چلا جائے پس دوسرا گروہ آکر پہلے تنہا ایک رکعت پڑھے اور امام کے ساتھ شریک ہوجائے پھیر امام ان کے ساتھ ایک رکعت ادا کرے اور اس کے بعد وہ باہر آئے جو پہلے ایک رکعت پڑھ چکا تھا اور باقی ماندہ ایک رکعت ادا کرے امام بیٹھا رہے پھر سب کے ساتھ اکٹھا سلام پھیرے؛جلد٢؛ص١٤؛حدیث نمبر؛١٢٤٠)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ : هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : نَعَمْ. قَالَ مَرْوَانُ : مَتَى ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، فَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى، وَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1240

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع میں تھے تو غطفان کے کچھ لوگ ملے،پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی لیکن اس کے الفاظ حیوۃ کے الفاظ سے مختلف ہیں اس میں"حين رکع بمن معه وسجد"کے الفاظ ہیں،نیز اس میں ہے "فلما قاموا مشوا القهقرى إلى مصاف أصحابهم"یعنی جب وہ اٹھے تو الٹے پاؤں پھرے اور اپنے ساتھیوں کی صف میں آکھڑے ہوئے ،اس میں انہوں نے استدبار قبلہ(قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے)کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُكَبِّرُونَ جَمِيعًا «وَإِنْ كَانُوا مُسْتَدْبِرِي الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَأْتُونَ مَصَافَّ أَصْحَابِهِمْ، وَيَجِيءُ الْآخَرُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تُقْبِلُ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَالْإِمَامُ قَاعِدٌ، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ كُلِّهِمْ جَمِيعًا»؛جلد٢؛ص١٤؛حدیث نمبر؛١٢٤١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَمُحَمَّدٍ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْدٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ لَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَلَفْظُهُ عَلَى غَيْرِ لَفْظِ حَيْوَةَ، وَقَالَ فِيهِ حِينَ رَكَعَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ، قَالَ : فَلَمَّا قَامُوا مَشَوُا الْقَهْقَرَى إِلَى مَصَافِّ أَصْحَابِهِمْ. وَلَمْ يَذْكُرِ اسْتِدْبَارَ الْقِبْلَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1241

حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی،پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا،پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا،پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا،اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایڑیوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے،یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے،اور دوسری جماعت آکر کھڑی ہوئی،اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا،پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا(ان سب نے بھی رکوع کیا)،پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا،پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا،اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری نماز میں آپ کے ساتھ شرکت کر لی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُكَبِّرُونَ جَمِيعًا «وَإِنْ كَانُوا مُسْتَدْبِرِي الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَأْتُونَ مَصَافَّ أَصْحَابِهِمْ، وَيَجِيءُ الْآخَرُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تُقْبِلُ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَالْإِمَامُ قَاعِدٌ، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ كُلِّهِمْ جَمِيعًا»؛جلد٢؛ص١٥؛حدیث نمبر؛١٢٤٢)

قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ فَحَدَّثَنَا، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ : كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا مَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، ثُمَّ سَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى ، حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَقَامُوا فَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ الثَّانِيَةَ، وَسَجَدُوا مَعَهُ سَرِيعًا كَأَسْرَعِ الْإِسْرَاعِ جَاهِدًا، لَا يَأْلُونَ سِرَاعًا، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَارَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1242

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہوگئی اور وہ جماعت(نبی اکرم ﷺ کے پیچھے)آگئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا،پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی(جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے)کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب من قال:یصلی بکل طائفۃ رکعۃ،ثم یسلم فیقوم کل صف فیصلون لانفسہم رکعۃ؛جلد٢؛ص١٥؛حدیث نمبر؛١٢٤٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ نَافِعٌ وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ قَوْلُ مَسْرُوقٍ وَيُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَى يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ فَعَلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1243

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہوگئی اور وہ جماعت(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے)آگئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی(جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے)کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران کا ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُ الَّذِينَ خَلْفَهُ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً، ثُمَّ يَجِيءُ الْآخَرُونَ إِلَى مَقَامِ هَؤُلَاءِ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً؛جلد٢؛ص١٦؛حدیث نمبر؛١٢٤٤)

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَامُوا صَفًّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ، وَاسْتَقْبَلَ هَؤُلَاءِ الْعَدُوَّ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ، وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ، فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1244

ایک اور سند کے ساتھ بھی اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر(تکبیر تحریمہ)کہی اور دونوں صف کے سارے لوگوں نے بھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ثوری نے بھی خصیف سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے اسی طرح یہ نماز ادا کی،البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ وہ گروہ جس کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا،اپنے ساتھیوں کی جگہ واپس چلا گیا اور ان لوگوں نے آ کر خود سے ایک رکعت پوری کی۔پھر وہ ان کی جگہ واپس چلے گئے اور اس گروہ نے آ کر اپنی باقی ماندہ رکعت خود سے ادا کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہم سے یہ حدیث مسلم بن ابراہیم نے بیان کی،مسلم کہتے ہیں ہم سے عبدالصمد بن حبیب نے بیان کی، عبدالصمد کہتے ہیں میرے والد نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے عبدالرحمٰن بن سمرہ کے ساتھ کابل کا جہاد کیا تو انہوں نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛بَابُ مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُ الَّذِينَ خَلْفَهُ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً، ثُمَّ يَجِيءُ الْآخَرُونَ إِلَى مَقَامِ هَؤُلَاءِ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً؛جلد٢؛ص١٦؛حدیث نمبر؛١٢٤٥)

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ - يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ - عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ : فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ بِهَذَا الْمَعْنَى عَنْ خُصَيْفٍ، وَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ، فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ، فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1245

ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم لوگ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھے،وہ کھڑے ہوئے اور پوچھا تم میں کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی ہے؟تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہامیں نے(پھر حذیفہ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرے کو ایک رکعت)اور ان لوگوں نے(دوسری رکعت کی)قضاء نہیں کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عبداللہ اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور عبداللہ بن شفیق نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے،اور یزید فقیر اور ابوموسیٰ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوموسیٰ تابعی ہیں،ابوموسیٰ اشعری نہیں ہیں۔ یزید الفقیر کی روایت میں بعض راویوں نے شعبہ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے دوسری رکعت قضاء کی تھی۔اسی طرح اسے سماک حنفی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ نیز اسی طرح اسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے،اس میں ہے لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب من قال؛یصلی بکل طایفۃ رکعۃ ولا یقضون؛جلد٢؛ص١٦؛حدیث نمبر؛١٢٤٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَامَ فَقَالَ : أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا. فَصَلَّى بِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَبِهَؤُلَاءِ رَكْعَةً، وَلَمْ يَقْضُوا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَيَزِيدُ الْفَقِيرُ وَأَبُو مُوسَى - قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَجُلٌ مِنَ التَّابِعِينَ لَيْسَ بِالْأَشْعَرِيِّ - جَمِيعًا عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ شُعْبَةَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ الْفَقِيرِ : إِنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَةً أُخْرَى. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَكَانَتْ لِلْقَوْمِ رَكْعَةً رَكْعَةً، وَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1246

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تم پر حضر میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں،اور خوف میں ایک رکعت۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب من قال؛یصلی بکل طایفۃ رکعۃ ولا یقضون؛جلد٢؛ص١٧؛حدیث نمبر؛١٢٤٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : فَرَضَ اللَّهُ تَعَالَى الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1247

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں ظہر ادا کی تو بعض لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور بعض دشمن کے سامنے رہے،آپ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا،تو جو لوگ آپ کے ساتھ نماز میں تھے،وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کر کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ یہاں آگئے پھر آپ کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا،اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں اور صحابہ کرام کی دو دو رکعتیں ہوئیں،اور حسن بصری اسی کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسی طرح مغرب میں امام کی چھ،اور دیگر لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح سلیمان یشکری نے عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب من قال؛یصلی بکل طایفۃ رکعتین؛جلد٢؛ص١٧؛حدیث نمبر؛١٢٤٨)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَوْفٍ الظُّهْرَ، فَصَفَّ بَعْضُهُمْ خَلْفَهُ وَبَعْضُهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَهُ فَوَقَفُوا مَوْقِفَ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ جَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا، وَلِأَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَبِذَلِكَ كَانَ يُفْتِي الْحَسَنُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ : يَكُونُ لِلْإِمَامِ سِتُّ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ ثَلَاثٌ ثَلَاثٌ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ قَالَ سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1248

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا جاؤ اور اسے قتل کر دو ،عبداللہ کہتے ہیں میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہوگیا تھا تو میں نے(اپنے جی میں)کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہوجائے گا،چناچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا،جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو؟میں نے کہا عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص(یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے)کے لیے تم(لوگوں کو)جمع کر رہے ہوتو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا ہاں میں اسی کوشش میں ہوں،چناچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا،جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کردیا اور وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الخوف؛باب صلاۃ الطالب؛جلد٢؛ص١٧؛حدیث نمبر؛١٢٤٩)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ، وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ وَعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ»، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا إِنْ أُؤَخِّرِ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِئُ إِيمَاءً، نَحْوَهُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ، قَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ، فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ، قَالَ: إِنِّي لَفِي ذَاكَ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَدَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1249

ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب التطوع ورکعات السنۃ؛سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات؛جلد٢؛ص١٨؛حدیث نمبر؛١٢٥٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا، بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1250

حضرت عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے،پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے،پھر واپس آکر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے،اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آکر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے،پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے،ان میں وتر بھی ہوتی،اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوجاتی تو دو رکعتیں پڑھتے،پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب التطوع ورکعات السنۃ؛سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات؛جلد٢؛ص١٨؛حدیث نمبر؛١٢٥١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، الْمَعْنَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ، سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ -، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1251

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے،اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے،اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آجاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب التطوع ورکعات السنۃ؛سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1252

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر(کی فرض نماز)سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی(فرض نماز)سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب التطوع ورکعات السنۃ؛سنت و نفل نمازوں کے احکام اور ان کی رکعات؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرَ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1253

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں رکعتوں کا رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رکعتی الفجر؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1254

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے،یہاں تک کہ میں کہتی کیا آپ نے ان میں سورة فاتحہ پڑھی ہے؟ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1255

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں"قل يا أيها الکافرون"اور"قل هو الله أحد" پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1256

حضرت عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں،تو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کرلیا،وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں،یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہوگئی،پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے،پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہوگئی،اور آپ نے نکلنے میں دیر کی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا،بلال نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!آپ نے تو کافی صبح کردی،اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی دیر میں نے کی،اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہوجاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص١٩؛حدیث نمبر؛١٢٥٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ -[20]-، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ، فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ، حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: «لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا، وَأَحْسَنْتُهُمَا، وَأَجْمَلْتُهُمَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1257

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص٢٠؛حدیث نمبر؛١٢٥٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، عَنِ ابْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سَيْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدَعُوهُمَا، وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1258

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ"آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: ١٣٦]"والی آیت ہوتی،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں{آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٥٢] "پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص٢٠؛حدیث نمبر؛١٢٥٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا كَانَ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: بِ {آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: 136] هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: هَذِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِ {آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 52]

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1259

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ{قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا} [آل عمران: ٨٤]،اور دوسری رکعت میں{رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ} [آل عمران: ٥٣] یا {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ} [البقرة: ١١٩] پڑھ رہے تھے اس میں داروردی کو شک ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی تخفیفھما؛جلد٢؛ص٢٠؛حدیث نمبر؛١٢٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: {قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا} [آل عمران: 84] فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى بِهَذِهِ الْآيَةِ: {رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ} [آل عمران: 53] أَوْ {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ} [البقرة: 119] "، شَكَّ الدَّارَوَرْدِيّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1260

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے،اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے؟عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نہیں،تو پھر یہ خبر ابن عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا ابوہریرہ نے(کثرت سے روایت کر کے) خود پر زیادتی کی ہے(اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہوگا)، وہ کہتے ہیں ابن عمر سے پوچھا گیا جو ابوہریرہ کہتے ہیں،اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے؟تو ابن عمر نے جواب دیا نہیں،البتہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ(روایت کثرت سے بیان کرنے میں) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں،جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاضطجاع بعدھا؛جلد٢؛ص٢١؛حدیث نمبر؛١٢٦١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ، فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ»، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يُجْزِئُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: لَا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا»، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: «فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1261

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے،اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے،یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے،پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاضطجاع بعدھا؛جلد٢؛ص٢١؛حدیث نمبر؛١٢٦٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1262

حضرت ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاضطجاع بعدھا؛جلد٢؛ص٢١؛حدیث نمبر؛١٢٦٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ، أَوْ غَيْرُهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ، وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1263

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کے لیے نکلا،تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔زیاد کی روایت میں حدثنا أبو الفضل کے بجائے حدثنا أبو الفضيل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاضطجاع بعدھا؛جلد٢؛ص٢١؛حدیث نمبر؛١٢٦٤)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى قَالَا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ»، قَالَ زِيَادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1264

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا،جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایااے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا ادرک الامام،ولم یصلی رکعتین الفجر؛جلد٢؛ص٢٢؛حدیث نمبر؛١٢٦٥)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «يَا فُلَانُ، أَيَّتُهُمَا صَلَاتُكَ؟ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ، أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا؟»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1265

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب نماز کھڑی ہوجائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب اذا ادرک الامام،ولم یصلی رکعتین الفجر؛جلد٢؛ص٢٢؛حدیث نمبر؛١٢٦٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1266

حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہوجانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایافجر دو ہی رکعت ہے،اس شخص نے جواب دیا میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں،وہ اب پڑھی ہیں،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من فاتتہ متی یقضیھا؛جلد٢؛ص٢٢؛حدیث نمبر؛١٢٦٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ»، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1267

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث سعد بن سعید سےمروی ہے امام ابوداؤد کہتے ہیں سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من فاتتہ متی یقضیھا؛جلد٢؛ص٢٢؛حدیث نمبر؛١٢٦٨)

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، أَنَّ جَدَّهُمْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1268

ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور بعد کی چار رکعتوں کی پابندی کرے گا،اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجائے گی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے علاء بن حارث اور سلیمان بن موسیٰ نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاربع قبل الظہر وبعدھا؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٦٩)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا، حَرُمَ عَلَى النَّارِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1269

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاظہر کے پہلے کی چار رکعتیں،جن کے درمیان سلام نہیں ہے،ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہااگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں لیکن عبیدہ ضعیف ہیں،اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الاربع قبل الظہر وبعدھا؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٧٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مِنْجَابَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ، تُفْتَحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، قَالَ: «لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْءٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «ابْنُ مِنْجَابٍ هُوَ سَهْمٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1270

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل العصر؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٧١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1271

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل العصر؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٧٢)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1272

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس،عبدالرحمٰن بن ازہر،اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں،حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے،چناں چہ میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو!میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتادی،تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا،تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا،پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں،ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے،اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں،آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہوجا اور آپ سے کہہ اللہ کے رسول!ام سلمہ کہہ رہی ہیں میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں،اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا،اس لڑکی نے ایسا ہی کیا،آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا،تو وہ پیچھے ہٹ گئی،جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایااے ابوامیہ کی بیٹی!تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے،دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کرلیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا،یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد العصر؛جلد٢؛ص٢٣؛حدیث نمبر؛١٢٧٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ -[24]- عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ، فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا، فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ، وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1273

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا،سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٤؛حدیث نمبر؛١٢٧٤)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِلَّا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1274

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٤؛حدیث نمبر؛١٢٧٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي إِثْرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ، إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1275

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے،جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ ان سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایافجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں،اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٤؛حدیث نمبر؛١٢٧٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ - أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1276

حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایارات کے آخری حصے میں،اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو،اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک(ثواب)لکھے جاتے ہیں،اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے،اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر(سورج کے پجاری)اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو،اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور(ثواب)لکھے جاتے ہیں،یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہوجائے تو ٹھہر جاؤ،اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں،پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں،یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ،اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں ،انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔عباس کہتے ہیں ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے،البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہوگئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٥؛حدیث نمبر؛١٢٧٧)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: «جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَصَلِّ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَتَرْتَفِعَ قِيسَ رُمْحٍ، أَوْ رُمْحَيْنِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ، حَتَّى يَعْدِلَ الرُّمْحُ ظِلَّهُ، ثُمَّ أَقْصِرْ، فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ، وَتُفْتَحُ أَبْوَابُهَا، فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلِّ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ، حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ»، وَقَصَّ حَدِيثًا طَوِيلًا، قَالَ الْعَبَّاسُ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، إِلَّا أَنْ أُخْطِئَ شَيْئًا لَا أُرِيدُهُ، فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1277

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا اے یسار!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے،اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے،اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتادیں کہ فجر(طلوع)ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٥؛حدیث نمبر؛١٢٧٨)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ يَسَارٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي، بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: يَا يَسَارُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: «لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ، لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1278

حضرت اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٥؛حدیث نمبر؛١٢٧٩)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ، قَالَا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا مِنْ يَوْمٍ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1279

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور(دوسروں کو)اس سے منع فرماتے،اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور(دوسروں کو)مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ؛جلد٢؛ص٢٥؛حدیث نمبر؛١٢٨٠)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ، وَيَنْهَى عَنْهَا، وَيُوَاصِلُ، وَيَنْهَى عَنِ الوِصَالِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1280

حضرت عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو،پھر فرمایامغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے،یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو سنت نہ بنا لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل المغرب؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨١)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ»، ثُمَّ قَالَ: «صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ لِمَنْ شَاءَ»، خَشْيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1281

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟انہوں نے کہاہاں،آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل المغرب؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَرَآكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، رَآنَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1282

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے،ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے،اس شخص کے لیے جو چاہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل المغرب؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1283

طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا،تو آپ نے کہامیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا،البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ(ابوشعیب کے بجائے)وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہوگیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ قبل المغرب؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: «هُوَ شُعَيْبٌ - يَعْنِي - وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1284

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی(بطور شکرانے کے)ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے،کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے،برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے،راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے،اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے،ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول!ہم میں سے ایک شخص اپنی(بیوی سے)شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟آپ نے فرمایا(کیوں نہیں)اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٦؛حدیث نمبر؛١٢٨٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، الْمَعْنَى، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ -- صَدَقَةٌ، تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُهُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَبُضْعَةُ أَهْلِهِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْأَمْرَ، وَالنَّهْيَ، زَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَقَالَ كَذَا وَكَذَا، وَزَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يَقْضِي شَهْوَتَهُ، وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ، قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حِلِّهَا أَلَمْ يَكُنْ يَأْثَمُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1285

ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے،تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ(کا ثواب)ہے،ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ(کا ثواب)ہے،ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے،ہر تکبیر ایک صدقہ ہے،اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٧؛حدیث نمبر؛١٢٨٦)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: «يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، فَلَهُ بِكُلِّ صَلَاةٍ صَدَقَةٌ، وَصِيَامٍ صَدَقَةٌ، وَحَجٍّ صَدَقَةٌ، وَتَسْبِيحٍ صَدَقَةٌ، وَتَكْبِيرٍ صَدَقَةٌ، وَتَحْمِيدٍ صَدَقَةٌ»، فَعَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ، ثُمَّ قَالَ: «يُجْزِئُ أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَا الضُّحَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1286

حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہےجہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کردی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٧؛حدیث نمبر؛١٢٨٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ «مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى، لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1287

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٧؛حدیث نمبر؛١٢٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةٌ فِي إِثْرِ صَلَاةٍ، لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا، كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1288

حضرت نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم!اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا (یعنی تیرا محافظ رہوں گا)۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٧؛حدیث نمبر؛١٢٨٩)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ أَبِي شَجَرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَا تُعْجِزْنِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ نَهَارِكَ، أَكْفِكَ آخِرَهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1289

ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی،آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی،پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے،اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَيَّاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ»، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ سُبْحَةَ الضُّحَى "، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى، بِمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1290

ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے،انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩١)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلَّاهُنَّ بَعْدُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1291

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھاکیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں،سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔میں نے عرض کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟آپ نے کہا مفصل کی سورتیں(ملا کر پڑھتے تھے) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩٢)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى، فَقَالَتْ: «لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ»، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ، قَالَتْ: «مِنْ الْمُفَصَّلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1292

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی،لیکن میں اسے پڑھتی ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩٣)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1293

حضرت سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست(ہم نشینی)کرتے تھے؟آپ نے کہا ہاں اکثر(آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے،وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا،جب سورج نکل آتا تو آپ(نماز اشراق کے لیے)کھڑے ہوتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ الضحٰی؛جلد٢؛ص٢٨؛حدیث نمبر؛١٢٩٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا، «فَكَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1294

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایارات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی صلاۃ النهار؛جلد٢؛ص٢٩؛حدیث نمبر؛١٢٩٥)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1295

حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانماز دو دو رکعت ہے،اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو اے اللہ!اے اللہ!جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا،اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔ امام ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی صلاۃ النهار؛جلد٢؛ص٢٩؛حدیث نمبر؛١٢٩٦)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى، أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ تَبَاءَسَ، وَتَمَسْكَنَ، وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ، وَتَقُولَ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ، فَهِيَ خِدَاجٌ "، سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى، قَالَ: «إِنْ شِئْتَ مَثْنَى، وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1296

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایااے عباس!اے میرے چچا!کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟کیا میں آپ کو نہ دوں؟کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے،نئے پرانے،جانے انجانے،چھوٹے بڑے،چھپے اور کھلے،سارے گناہ معاف کر دے گا،وہ دس باتیں یہ ہیں آپ چار رکعت نماز پڑھیں،ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی ایک سورة پڑھیں،جب پہلی رکعت کی قرآت کرلیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ"سبحان الله،والحمد لله،ولا إله إلا الله،والله أكبر کہیں،پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں،پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں،پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں،پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں،پھر(دوسرا)سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب(دوسرے)سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں،تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا،یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں،اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں،اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں،ایسا بھی نہ کرسکیں تو ہر مہینے میں ایک بار،یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ التسبیح؛جلد٢؛ص٢٩؛حدیث نمبر؛١٢٩٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: " يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ، قُلْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ -- رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ، فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً "،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1297

ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے،انہوں نے کہانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکل تم میرے پاس آنا،میں تمہیں دوں گا،عنایت کروں گا اور نوازوں گا،میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے(جب میں کل پہنچا تو)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہوجاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو،پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے،البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کرلو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہوجائے گی،میں نے عرض کیااگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کرسکوں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو رات یا دن میں کسی وقت ادا کرلو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں حبان بن ہلال ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے،عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہا سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے،البتہ راوی نے روح کی روایت میں فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم(تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ التسبیح؛جلد٢؛ص٣٠؛حدیث نمبر؛١٢٩٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ، وَأُثِيبُكَ، وَأُعْطِيكَ» حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً، قَالَ: «إِذَا زَالَ النَّهَارُ، فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ»، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: «ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَوِ جَالِسًا، وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا، وَتَحْمَدَ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ الرَّكَعَاتِ»، قَالَ: «فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ»، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ؟ قَالَ «صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ، فَقَالَ حَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1298

حضرت عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی،پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا،البتہ اس میں ہے پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب صلاۃ التسبیح؛جلد٢؛ص٣٠؛حدیث نمبر؛١٢٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ، قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى، كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1299

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی،جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو گھروں کی نماز ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رکعتی المغرب این تصلیان؛جلد٢؛ص٣١؛حدیث نمبر؛١٣٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: «هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوت»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1300

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہوجاتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہم سے اسے محمد بن عیسیٰ بن طباع نے بیان کیا ہے،وہ کہتے ہیں ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رکعتی المغرب این تصلیان؛جلد٢؛ص٣١؛حدیث نمبر؛١٣٠١)

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ، وَأَسْنَدَهُ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ مِثْلَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1301

ایک اور سند کے ساتھ بھی سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا،وہ کہہ رہے تھے میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق سے بیان کیا ہے،وہ مسند ہیں،سعید نے یہ روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے،اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب رکعتی المغرب این تصلیان؛جلد٢؛ص٣١؛حدیث نمبر؛١٣٠٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ يَقُولُ كُلُّ شَيْءٍ حَدَّثْتُكُمْ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ مُسْنَدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1302

حضرت شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا،گویا میں اس میں(اب بھی)وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ بعد العشاء؛جلد٢؛ص٣١؛حدیث نمبر؛١٣٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ، فَطَرَحْنَا لَهُ نِطَعًا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثُقْبٍ فِيهِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْهُ، وَمَا رَأَيْتُهُ مُتَّقِيًا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ مِنْ ثِيَابِهِ قَطُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1303

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں سورة مزمل کی آیت"قم الليل إلا قليلا نصفه"(رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات)یعنی آدھی رات کو دوسری آیت{عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} نے منسوخ کردیا ہے،ناشئة الليل کے معنی شروع رات کے ہیں،چناچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی،اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور"أقوم قيلا" سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول"إن لک في النهار سبحا طويلا"کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب نسخ قیام اللیل والتیسیر فیہ؛جلد٢؛ص٣٢؛حدیث نمبر؛١٣٠٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ابْنِ شَبُّوَيْهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " فِي الْمُزَّمِّلِ {قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَهُ} [المزمل: 3]، نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا: {عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} - وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ أَوَّلُهُ - وَكَانَتْ صَلَاتُهُمْ لِأَوَّلِ اللَّيْلِ "، يَقُولُ: " هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: أَقْوَمُ قِيلًا هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يَفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ: {إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا} [المزمل: 7] "، يَقُولُ: «فَرَاغًا طَوِيلًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1304

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب سورة مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو(نماز میں)کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں،یہاں تک کہ سورة کا آخری حصہ نازل ہوا،ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب نسخ قیام اللیل والتیسیر فیہ؛جلد٢؛ص٣٢؛حدیث نمبر؛١٣٠٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ، كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1305

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاشیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہےابھی لمبی رات پڑی ہے،سو جاؤ،اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرلے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے،اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے،اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بددلی کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب قیام اللیل؛جلد٢؛ص٣٢؛حدیث نمبر؛١٣٠٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ، إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ، يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا، طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1306

حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں تہجد (قیام اللیل)نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے،جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب قیام اللیل؛جلد٢؛ص٣٢؛حدیث نمبر؛١٣٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ ‍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ، أَوْ كَسِلَ، صَلَّى قَاعِدًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1307

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے،اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب قیام اللیل؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣٠٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ، نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى، نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1308

حضرت ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کہا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سفیان کی حدیث موقوف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب قیام اللیل؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣٠٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، الْمَعْنَى، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا، أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا، كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ»، «وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ كَثِيرٍ، وَلَا ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، جَعَلَهُ كَلَامَ أَبِي سَعِيدٍ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأُرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَحَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1309

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب النعاس فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣١٠)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ، لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ، فَيَسُبَّ نَفْسَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1310

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجب تم میں سے کوئی رات میں(نماز پڑھنے کے لیے)کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب النعاس فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣١١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَلْيَضْطَجِعْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1311

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں داخل ہوتے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے،پوچھایہ رسی کیسی بندھی ہے؟ عرض کیا گیا یہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی ہے،وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں،اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں۔زیاد کی روایت میں یوں ہےآپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا زینب رضی اللہ عنہا کی ہے،وہ نماز پڑھا کرتی ہیں،جب سست ہوجاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں،آپ نے فرمایااسے کھول دو،تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک نشاط رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب النعاس فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٣٣؛حدیث نمبر؛١٣١٢)

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم الْمَسْجِدَ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الْحَبْلُ؟» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي، فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ، فَإِذَا أَعْيَتْ، فَلْتَجْلِسْ»، قَالَ زِيَادٌ: فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا كَسِلَتْ، أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ: «حُلُّوهُ»، فَقَالَ: «لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ، فَلْيَقْعُدْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1312

حضرت عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا،وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب من نام عن حزبہ؛جلد٢؛ص٣٤؛حدیث نمبر؛١٣١٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ الْمَعْنَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ - قَالَ: عَنِ ابْنِ وَهْبِ: ابْنُ عَبْدٍ الْقَارِيُّ - قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ - أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ - فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1313

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص سے جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آجائے(اور وہ نہ اٹھ سکے)تو اس کے لیے نماز کا ثواب لکھا جائے گا،اس کی نیند اس پر صدقہ ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب من نوی القیام فنام؛جلد٢؛ص٣٤؛حدیث نمبر؛١٣١٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عِنْدَهُ رَضِيٍّ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنَ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِلَيْلٍ، يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ، وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1314

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے،پھر فرماتا ہےکون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب ای اللیل افضل؛جلد٢؛ص٣٤؛حدیث نمبر؛١٣١٥)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1415

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول سے فارغ ہوجاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣١٦)

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُوقِظُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِاللَّيْلِ، فَمَا يَجِيءُ السَّحَرُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حِزْبِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1316

حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز(تہجد)کے بارے میں پوچھامیں نے ان سے کہا آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟انہوں نے فرمایا جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہوجاتے اور نماز شروع کردیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣١٧)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ح وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَهَذَا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَيَّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَتْ: «كَانَ إِذَا سَمِعَ الصُّرَاخَ، قَامَ فَصَلَّى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1317

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا أَلْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا»، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1318

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣١٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ابْنِ أَخِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ، صَلَّى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1319

حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا،آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کردیتا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایامانگو مجھ سے،میں نے عرض کیامیں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کے علاوہ اور کچھ؟میں نے کہابس یہی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے(یعنی نماز پڑھ کر)میری مدد کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣٢٠)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ السَّكْسَكِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِيهِ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ، فَقَالَ: «سَلْنِي»، فَقُلْتُ: مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: «أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ؟» قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: «فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1320

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے"تتجافى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون"(ترجمہ)"ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں،اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں،اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں"(سورۃ السجدۃ ١٦)اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ حسن کہتے ہیں اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣٢١)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ المَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} [السجدة: 16]، قَالَ: «كَانُوا يَتَيَقَّظُونَ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يُصَلُّونَ»، وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: قِيَامُ اللَّيْلِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1321

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول"کانوا قليلا من الليل ما يهجعون"وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے(سورۃ الذاریات ١٧)کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔ یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ "تتجافى جنوبهم‏"سے بھی یہی مراد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اللیل؛جلد٢؛ص٣٥؛حدیث نمبر؛١٣٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ -[36]- سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ} [الذاريات: 17]، قَالَ: «كَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»، زَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى: وَكَذَلِكَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1322

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب افتتاح صلاۃ اللیل برکعتین؛جلد٢؛ص٣٦؛حدیث نمبر؛١٣٢٣)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1323

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہےاس میں اتنا اضافہ ہے پھر اس کے بعد جتنا چاہے طویل کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں اس حدیث کو حماد بن سلمہ،زہیر بن معاویہ اور ایک جماعت نے ہشام سے انہوں نے محمد سے روایت کیا ہے اور اسے لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے،اور اسی طرح اسے ایوب اور ابن عون نے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے،نیز اسے ابن عون نے محمد سے روایت کیا ہے اس میں ہے ان دونوں رکعتوں میں تخفیف کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب افتتاح صلاۃ اللیل برکعتین؛جلد٢؛ص٣٦؛حدیث نمبر؛١٣٢٤)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِذَا بِمَعْنَاهُ زَادَ، ثُمَّ لِيُطَوِّلْ بَعْدُ مَا شَاءَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَجَمَاعَة، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَوْقَفُوهُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ عَوْنٍ، أَوْقَفُوهُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فِيهِمَا تَجَوُّزٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1324

حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(نماز میں)دیر تک کھڑے رہنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب افتتاح صلاۃ اللیل برکعتین؛جلد٢؛ص٣٦؛حدیث نمبر؛١٣٢٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ يَعْنِي أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «طُولُ الْقِيَامِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1325

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز(تہجد)کے بارے میں پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت ہے،جب تم میں سے کسی کو یہ ڈر ہو کہ صبح ہوجائے گی تو ایک رکعت اور پڑھ لے،یہ اس کی ساری رکعتوں کو جو اس نے پڑھی ہیں طاق(وتر)کر دے گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب صلاۃ اللیل مثنی مثنی؛جلد٢؛ص٣٦؛حدیث نمبر؛١٣٢٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةُ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ، صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً، تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1326

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں(نماز پڑھ رہے)ہوتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٧؛حدیث نمبر؛١٣٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ، وَهُوَ فِي الْبَيْتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1327

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٧؛حدیث نمبر؛١٣٢٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: «كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا، وَيَخْفِضُ طَوْرًا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «أَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ اسْمُهُ هُرْمُزُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1328

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے،جب دونوں(حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے ابوبکر!میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو،آپ نے جواب دیا یا رسول اللہ!میں نے اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو)سنا دیا ہے،جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہامیں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے،تو انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ!میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر!تم اپنی آواز تھوڑی بلند کرلو،اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہاتم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٧؛حدیث نمبر؛١٣٢٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، قَالَ: وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ»، قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقَالَ لِعُمَرَ: «مَرَرْتُ بِكَ، وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ»، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ - زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا»، وَقَالَ لِعُمَرَ: «اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا».

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1329

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہےاس میں "فقال لأبي بكر ارفع من صوتک شيئًا ولعمر اخفض شيئًا"کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے اے بلال!میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورة سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورة سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا ایک پاکیزہ کلام ہے،اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے،اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم سب نے ٹھیک کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٧؛حدیث نمبر؛١٣٣٠)

حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ لَمْ يَذْكُرْ:، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا»، وَلِعُمَرَ: «اخْفِضْ شَيْئًا»، زَادَ: وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ -[38]-، قَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1330

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رات کی نماز(تہجد)کے لیے اٹھا، اس نے قرآت کی،قرآت میں اپنی آواز بلند کی تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ فلاں شخص پر رحم فرمائے،کتنی ایسی آیتیں تھیں جو مجھے یاد نہیں تھی،اس نے انہیں آج رات مجھے یاد دلا دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے سورة آل عمران کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ اللہ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے مجھے اس سورة کے بعض ایسے الفاظ یاد دلا دیے جو مجھے یاد نہیں تھا اور وہ"وكأين من نبي"(آل عمران١٤٦)والی آیت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ، فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا كَأَيٍّ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ، كُنْتُ قَدْ أَسْقَطْتُهَا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، فِي سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ فِي الْحُرُوفِ، وَكَأَيٍّ مِنْ نَبِيٍّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1331

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا،آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا اے لوگو!سنو،تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے،تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں(یا کہا نماز)میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣٢)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ، فَكَشَفَ السِّتْرَ، وَقَالَ: «أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ»، أَوْ قَالَ: «فِي الصَّلَاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1332

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣٣)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ، كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ، كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1333

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دس رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعت فجر کی سنت پڑھتے،اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوتیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ عَشْرَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ الْفَجْرِ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1334

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی،جب آپ اس سے فارغ ہوجاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٨؛حدیث نمبر؛١٣٣٥)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا، اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1335

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے،ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے،اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے،جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے،پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن(بلانے کے لے)آتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٣٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَنَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، وَقَالَ نَصْرٌ: عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ، إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ ثِنْتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، قَامَ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1336

ایک اور سند کے ساتھ بھی ابن شہاب زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے،اس میں ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں(رکوع سے)سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے،پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہوجاتی،آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی البتہ بعض کی روایتوں میں بعض پر کچھ اضافہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٣٧)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: «وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ» وَسَاقَ مَعْنَاهُ، قَالَ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1337

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے،ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٣٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَمْسِ، حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ، فَيُسَلِّمُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1338

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٣٩)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1339

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے(پہلے)آٹھ رکعتیں پڑھتے(پھر)ایک رکعت سے وتر کرتے،مسلم بن ابراہیم کی روایت میں بعد الوتر"وتر کے بعد"کے الفاظ بھی ہیں(پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ)دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے،جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٣٩؛حدیث نمبر؛١٣٤٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، كَانَ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي - قَالَ مُسْلِمٌ -: بَعْدَ الْوِتْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا - رَكْعَتَيْنِ، وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَالْإِقَامَةِ رَكْعَتَيْنِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1340

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھارمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکیسے ہوتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھےآپ چار رکعتیں پڑھتے،ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کو نہ پوچھو،پھر چار رکعتیں پڑھتے،ان کے بھی حسن اور لمبائی کو نہ پوچھو،پھر تین رکعتیں پڑھتے،ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٠؛حدیث نمبر؛١٣٤١)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلَا فِي غَيْرِهِ، عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1341

سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی،پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں،تو میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ سے ہوئی،ان لوگوں نے کہا ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے،تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا،آپ نے کہامیں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے،تم ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ۔چناچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا،انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی،چناچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے(پھر ہم دونوں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے)،ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی،انہوں نے پوچھا کون ہو؟کہا حکیم بن افلح،انہوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟کہا سعد بن ہشام،پوچھا عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟میں نے عرض کیاہاں،وہ کہنے لگیں عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے،میں نے عرض کیا ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئے،انہوں نے کہا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا،میں نے عرض کیا آپ کی رات کی نماز(تہجد)کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے،انہوں نے کہا کیا تم سورة"يا أيها المزمل"نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟انہوں نے کہا جب اس سورة کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آگیا اور سورة کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہوگئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی،وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے،انہوں نے کہا آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے،اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے،اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں،میرے بیٹے!پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ ہوگئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے،اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے،اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں،اے میرے بیٹے!اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی رات کو(لگاتار)صبح تک قیام نہیں کیا،اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے،اور جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے،اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آجاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا قسم اللہ کی!حدیث یہی ہے،اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا،میں نے ان سے کہااگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٠؛حدیث نمبر؛١٣٤٢)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِأَبِيعَ عَقَارًا كَانَ لِي بِهَا، فَأَشْتَرِيَ بِهِ السِّلَاحَ وَأَغْزُو، فَلَقِيتُ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: قَدْ أَرَادَ نَفَرٌ مِنَّا سِتَّةٌ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَتَيْتُهَا، فَاسْتَتْبَعْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ، فَأَبَى، فَنَاشَدْتُهُ فَانْطَلَقَ مَعِي، فَاسْتَأْذَنَّا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ، قَالَتْ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الَّذِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ» قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثِينِي عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، قَالَتْ: " أَلَسْتَ تَقْرَأُ: يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ -[41]- أَوَّلَ هَذِهِ السُّورَةِ نَزَلَتْ، فَقَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَحُبِسَ خَاتِمَتُهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ نَزَلَ آخِرُهَا، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ» قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثِينِي عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ يُوتِرُ بِثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، ثُمَّ يَقُومُ، فَيُصَلِّي رَكْعَةً أُخْرَى، لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَالتَّاسِعَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ، وَأَخَذَ اللَّحْمَ، أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ، لَمْ يَجْلِسْ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ وَالسَّابِعَةِ، وَلَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي السَّابِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ هِيَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَيَّ، وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا إِلَى الصَّبَاحِ، وَلَمْ يَقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ قَطُّ، وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ مِنَ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: «هَذَا وَاللَّهِ هُوَ الْحَدِيثُ، وَلَوْ كُنْتُ أُكَلِّمُهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى أُشَافِهَهَا بِهِ مُشَافَهَةً» قَالَ: قُلْتُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تُكَلِّمُهَا مَا حَدَّثْتُكَ ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1342

ایک اور سند کے ساتھ بھی قتادہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے،سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے،پھر ایک رکعت پڑھتے،اے میرے بیٹے!اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں،پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہوگئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے،پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ مشافهة تک ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤١؛حدیث نمبر؛١٣٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَجْلِسُ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ اللَّحْمَ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ بِمَعْنَاهُ إِلَى مُشَافَهَةً.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1343

ایک اور سند کے ساتھ بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہےآپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیساکہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤١؛حدیث نمبر؛١٣٤٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1344

ایک اور سند کے ساتھ بھی سعید نے یہی حدیث روایت کی ہے ابن بشار نے یحییٰ بن سعید کی طرح حدیث نقل کی مگر اس میں"ويسلم تسليمة يسمعنا"کے الفاظ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤١؛حدیث نمبر؛١٣٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1345

زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز(تہجد)کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر جاتے اور سو جاتے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آپ کے وضو کا پانی ڈھکا رکھا ہوتا اور مسواک رکھی ہوتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا تو آپ(اٹھ کر)مسواک کرتے اور پوری طرح سے وضو کرتے،پھر اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے،ان میں سے ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن کی کوئی سورة اور جو اللہ کو منظور ہوتا پڑھتے اور کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے یہاں تک کہ جب آٹھویں رکعت ہوجاتی تو قعدہ کرتے اور سلام نہیں پھیرتے بلکہ نویں رکعت پڑھتے پھر قعدہ کرتے،اور اللہ جو دعا آپ سے کروانا چاہتا، کرتے اور اس سے سوال کرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک سلام پھیرتے اس قدر بلند آواز سے کہ قریب ہوتا کہ گھر کے لوگ جاگ جائیں،پھر بیٹھ کر سورة فاتحہ کی قرآت کرتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے،پھر دوسری رکعت پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کرتے،پھر اللہ جتنی دعا آپ سے کروانا چاہتا کرتے پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہوجاتے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا معمول یہی رہا، یہاں تک کہ آپ زیادہ عمر کے ہوگئے تو آپ نے نو میں سے دو رکعتیں کم کردیں اور اسے چھ اور سات رکعتیں کرلیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے،وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٢؛حدیث نمبر؛١٣٤٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، وَيَنَامُ وَطَهُورُهُ مُغَطًّى عِنْدَ رَأْسِهِ، وَسِوَاكُهُ مَوْضُوعٌ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ سَاعَتَهُ الَّتِي يَبْعَثُهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى مُصَلَّاهُ، فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يَقْرَأُ فِيهِنَّ: بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَمَا شَاءَ اللَّهُ، وَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى يَقْعُدَ فِي الثَّامِنَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ، وَيَقْرَأُ فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يَقْعُدُ، فَيَدْعُو بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ، وَيَسْأَلَهُ، وَيَرْغَبَ إِلَيْهِ، وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً شَدِيدَةً يَكَادُ يُوقِظُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْ شِدَّةِ تَسْلِيمِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَيَرْكَعُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الثَّانِيَةَ، فَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ، فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَّنَ، فَنَقَّصَ مِنَ التِّسْعِ ثِنْتَيْنِ، فَجَعَلَهَا إِلَى السِّتِّ وَالسَّبْعِ، وَرَكْعَتَيْهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، حَتَّى قُبِضَ عَلَى ذَلِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1346

یزید بن ہارون کہتے ہیں ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہےپھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی،اس میں ہے آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے،انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا،آگے پوری حدیث بیان کی،اس میں ہے پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں قرآت،رکوع اور سجدہ میں برابری کرتے اور ان میں سے کسی میں نہیں بیٹھتے سوائے آٹھویں کے،اس میں بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہوجاتے اور ان میں سلام نہیں پھیرتے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق کردیتے پھر سلام پھیرتے اس میں اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک کہ ہمیں بیدار کردیتے،پھر راوی نے اسی مفہوم کو بیان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٢؛حدیث نمبر؛١٣٤٧)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: يُصَلِّي الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، لَمْ يَذْكُرِ الْأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ، إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ، وَلَا يُسَلِّمُ فِيهِ، فَيُصَلِّي رَكْعَةً يُوتِرُ بِهَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1347

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد)کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا آپ علیہ السلام لوگوں کو عشاء پڑھاتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس آ کر چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے،پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی،اس میں انہوں نے قرآت اور رکوع و سجدہ میں برابری کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ آپ اتنی بلند آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم بیدار ہوجاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٢؛حدیث نمبر؛١٣٤٨)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، عَنْ بَهْزٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَيُصَلِّي -[43]- أَرْبَعًا، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي التَّسْلِيمِ حَتَّى يُوقِظَنَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1348

ایک اور سند کے ساتھ بھی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ ان کی جید احادیث میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٤٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمْ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1349

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے،نو رکعتیں وتر کی ہوتیں،یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ بِتِسْعٍ - أَوْ كَمَا قَالَتْ: - وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1350

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتیں وتر کی پڑھتے،پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے،اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ان میں قرآت کرتے،جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہوجاتے،پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے کہ علقمہ بن وقاص نے کہا اماں جان!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ، فَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى الْحَدِيثَيْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، مِثْلَهُ قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ: يَا أُمَّتَاهُ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1351

سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز(تہجد)کے بارے میں بتائیے،وہ بولیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء پڑھاتے،پھر بستر پر آ کر سو جاتے، جب آدھی رات ہوجاتی تو قضائے حاجت اور وضو کے لیے اٹھتے اور وضو کر کے مصلیٰ پر تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے،میرے خیال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں قرآت،رکوع اور سجدہ برابر برابر کرتے،پھر ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا دیتے،پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر اپنا پہلو(زمین پر) رکھتے،کبھی ایسا ہوتا کہ بلال رضی اللہ عنہ آکر نماز کی خبر دیتے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نیند سوتے،بسا اوقات میں شبہ میں پڑجاتی کہ آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے،یہی آپ کی نماز (تہجد)ہے یہاں تک کہ آپ بوڑھے اور موٹے ہوگئے،پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوشت بڑھ جانے کا حال جو اللہ نے چاہا ذکر کیا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥٢)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ، فَرُبَّمَا- جَاءَ بِلَالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُغْفِي، وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى، أَوْ لَا، حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ حَتَّى أَسَنَّ لَحُمَ، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ " وَسَاقَ الْحَدِيثَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1352

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے تو دیکھا کہ آپ بیدار ہوئے،تو مسواک اور وضو کیا اور آیت کریمہ"إن في خلق السموات والأرض"اخیر سورة تک پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں،ان میں قیام،رکوع اور سجدہ لمبا کیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتوں میں تین بار ایسا ہی کیا،ہر بار مسواک کرتے اور وضو کرتے اور انہیں آیتوں کو پڑھتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ عثمان کی روایت میں ہے کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔پھر مؤذن آیا تو آپ نماز کے لیے نکلے۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے پھر آپ نے وتر پڑھی،پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور جس وقت فجر طلوع ہوئی آپ کو نماز کی خبر دی تو آپ نے فجر کی دو رکعتیں(سنتیں)پڑھیں۔اس کے بعد نماز کے لیے نکلے۔آگے دونوں کی روایتیں ایک جیسی ہیں۔آپ(اس وقت)فرما رہے تھے "اللهم اجعل في قلبي نورا،واجعل في لساني نورا،واجعل في سمعي نورا،واجعل في بصري نورا،واجعل خلفي نورا،وأمامي نورا،واجعل من فوقي نورا،ومن تحتي نورا،اللهم وأعظم لي نورا" اے اللہ!تو نور پیدا فرما میرے دل میں، میری زبان میں،میرے کان میں،میری نگاہ میں،میرے پیچھے، میرے آگے،میرے اوپر اور میرے نیچے۔اور اے اللہ!میرے لیے نور کو بڑا بنا دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٤؛حدیث نمبر؛١٣٥٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآهُ اسْتَيْقَظَ، فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِسِتِّ رَكَعَاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ - قَالَ عُثْمَانُ: بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: ثُمَّ أَوْتَرَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا - وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا اللَّهُمَّ، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1353

ایک اور سند کے ساتھ بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں "وأعظم لي نورا"کا جملہ ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں عن حبيبٍ کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے عن أبي رشدين عن ابن عباس کہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥٤)

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، نَحْوَهُ قَالَ: وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، عَنْ حَبِيبٍ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1354

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں،تو آپ اٹھے اور وضو کیا،پھر دو رکعتیں پڑھیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے،پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا،پھر سورة آل عمران کی یہ پانچ آیتیں"إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار"(آل عمران ١٩٠)اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس رکعتیں ادا کیں،پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر(طاق)کرلیا، اس وقت مؤذن نے اذان دی،مؤذن خاموش ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٣؛حدیث نمبر؛١٣٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنْظُرَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ-، قِيَامُهُ مِثْلُ رُكُوعِهِ، وَرُكُوعُهُ مِثْلُ سُجُودِهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ قَرَأَ بِخَمْسِ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ، {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ}، فَلَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ هَذَا حَتَّى صَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَامَ، فَصَلَّى سَجْدَةً وَاحِدَةً، فَأَوْتَرَ بِهَا، وَنَادَى الْمُنَادِي عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «خَفِيَ عَلَيَّ مِنَ ابْنِ بَشَّارٍ بَعْضُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1355

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہاکے پاس رہا،شام ہوجانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھاکیا بچے نے نماز پڑھ لی؟ لوگوں نے کہاہاں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٥؛حدیث نمبر؛١٣٥٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا أَمْسَى، فَقَالَ: «أَصَلَّى الْغُلَامُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَاضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، «قَامَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَبْعًا - أَوْ خَمْسًا - أَوْتَرَ بِهِنَّ، لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1356

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر(گھر)تشریف لائے تو چار رکعتیں پڑھیں،پھر سو گئے پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا آپ نے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا،پھر پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے یہاں تک کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور جا کر فجر پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٥؛حدیث نمبر؛١٣٥٧)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَدَارَنِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ - أَوْ خَطِيطَهُ -، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1357

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے،اس میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں،پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٥؛حدیث نمبر؛١٣٥٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَلَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1358

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں کو لے کر تیرہ رکعتیں پڑھتے تھےدو دو کرکے چھ رکعتیں پڑھتے اور وتر کی پانچ رکعتیں پڑھتے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٥؛حدیث نمبر؛١٣٥٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ قَبْلَ الصُّبْحِ، يُصَلِّي سِتًّا مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ، لَا يَقْعُدُ بَيْنَهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1359

حضرت عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1360

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں،انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔انہوں نے جالسا(بیٹھ کر)کا اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦١)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ أَخْبَرَهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا، وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا»، قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، زَادَ جَالِسًا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1361

حضرت عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟انہوں نے جواب دیاکبھی چار اور تین،کبھی چھ اور تین کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین،کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے،میں نے پوچھاانہیں وتر کرنے کا کیا مطلب؟تو وہ بولیں انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: «كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ، وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ، وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: زَادَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يَدَعُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ: وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1362

اسود بن یزید سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد)کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہارات کو آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔پھر گیارہ رکعتیں پڑھنے لگے اور دو رکعتیں چھوڑ دیں،پھر وفات کے وقت آپ نو رکعتیں پڑھنے لگے تھے اور آپ کی رات کی آخری نماز وتر ہوتی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦٣)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَتَرَكَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُبِضَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ، وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، وَكَانَ آخِرُ صَلَاتِهِ مِنَ اللَّيْلِ الْوِتْرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1363

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز(تہجد)کیسے ہوتی تھی؟تو انہوں نے کہا ایک رات میں آپ کے پاس رہا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے،آپ سو گئے،جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے،جس میں پانی رکھا تھا،وضو فرمایا،میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا،پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کرلیا،پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورة فاتحہ پڑھی،پھر سلام پھیر دیا،پھر نبی اکرم صلی اللہ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں،پھر سو گئے،اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے اللہ کے رسول!نماز،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٦؛حدیث نمبر؛١٣٦٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَ: " بِتُّ عِنْدَهُ لَيْلَةً وَهُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، فَنَامَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ - أَوْ نِصْفُهُ - اسْتَيْقَظَ، فَقَامَ إِلَى شَنٍّ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي كَأَنَّهُ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَدْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى لِلنَّاس

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1364

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے،آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں،ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں،میرا اندازہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ہر رکعت میں سورة مزمل کے بقدر ہوتا تھا،نوح کی روایت میں یہ نہیں ہےاس میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٧؛حدیث نمبر؛١٣٦٥)

حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ، حَزَرْتُ قِيَامَهُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِقَدْرِ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ»، لَمْ يَقُلْ نُوحٌ: مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1365

زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ آج رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز(تہجد)ضرور دیکھ کر رہوں گا، چناچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں،پھر دو رکعتیں لمبی،بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں،پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی،پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی،پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی،پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں،پھر وتر پڑھی،اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٧؛حدیث نمبر؛١٣٦٦)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: «فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ - أَوْ فُسْطَاطَهُ - فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1366

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری،وہ آپ کی خالہ تھیں،وہ کہتے ہیں میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی زوجہ مطہرہ اس کے طول میں لیٹیں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے،جب آدھی رات یا کچھ کم و بیش گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے منہ پر ہاتھ مل کر نیند دور کی،پھر سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں،اس کے بعد اٹھے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور وضو کیا اور اچھی طرح سے کیا،پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح سارا کام کیا،پھر آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں،پھر دو رکعتیں،پھر دو رکعتیں،پھر دو رکعتیں،پھر دو رکعتیں اور پھر دو رکعتیں،قعنبی کی روایت میں یوں ہےدو دو رکعتیں چھ مرتبہ پڑھیں،پھر وتر پڑھی،پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور فجر پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب فی صلاۃ اللیل؛جلد٢؛ص٤٧؛حدیث نمبر؛١٣٦٧)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: «فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه - وسلم حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمِ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي»، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، فَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، - قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: سِتَّ مَرَّاتٍ - ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الصُّبْحَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1367

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعمل کرتے رہو جتنا تم سے ہو سکے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ(ثواب دینے سے)نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم(عمل کرنے سے)تھک جاؤ،اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ وہ کم ہو،چناچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر جمے رہتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب ما یومر بہ من القصد فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٤٨؛حدیث نمبر؛١٣٦٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ، حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ، وَإِنْ قَلَّ»، وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1368

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا،تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عثمان!کیا تم نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی ہے؟انہوں نے جواب دیا نہیں اے اللہ کے رسول!اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں،میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں،روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا،اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں،عثمان!تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے،تمہاری جان کا حق ہے،لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو،اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب ما یومر بہ من القصد فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٤٨؛حدیث نمبر؛١٣٦٩)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَجَاءَهُ، فَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ، أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي»، قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ، قَالَ: «فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ، فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1369

علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حال کیسا تھا؟کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کرلیتے تھے؟انہوں نے کہا نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قیام اللیل؛باب ما یومر بہ من القصد فی الصلاۃ؛جلد٢؛ص٤٨؛حدیث نمبر؛١٣٧٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: «لَا، كَانَ كُلُّ عَمَلِهِ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1370

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے،پھر فرماتے جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا،پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اور اسی طرح عقیل،یونس اور ابواویس نے"من قام رمضان"کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں"من صام رمضان وقامه"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٤٩؛حدیث نمبر؛١٣٧١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَا رَوَاهُ عُقَيْلٌ، وَيُونُسُ، وَأَبُو أُوَيْسٍ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ»، وَرَوَى عُقَيْلٌ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1371

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے روزے رمضان کے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے،اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٤٩؛حدیث نمبر؛١٣٧٢)

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1372

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہی نہیں،جب صبح ہوئی تو فرمایامیں نے تمہارے عمل کو دیکھا،لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کردی جائےاور یہ بات رمضان کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٤٩؛حدیث نمبر؛١٣٧٣)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ، فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: «قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ، إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ» وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1373

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ رمضان میں مسجد کے اندر الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا،میں نے آپ کے لیے چٹائی بچھائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی،پھر آگے انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا،اس میں ہےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے لوگوں! اللہ کی قسم!میں نے بحمد اللہ یہ رات غفلت میں نہیں گذاری اور نہ ہی مجھ پر تمہارا یہاں ہونا مخفی رہا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ أَوْزَاعًا، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبْتُ لَهُ حَصِيرًا، فَصَلَّى عَلَيْهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ فِيهِ: قَالَ: تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ لَيْلَتِي هَذِهِ بِحَمْدِ اللَّهِ غَافِلًا، وَلَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1374

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے،آپ نے مہینے کی کسی رات میں بھی ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ(مہینے کی)سات راتیں رہ گئیں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام کیا یعنی تیئیسویں(٢٣)یا چوبیسویں(٢٤)رات کو یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی اور جب چھ راتیں رہ گئیں یعنی(٢٤)ویں یا(٢٥)ویں رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا،اس کے بعد (٢٥)ویں یا(٢٦) ویں رات کو جب کہ پانچ راتیں باقی رہ گئیں آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے کہا یا رسول اللہ!اس رات کاش آپ اور زیادہ قیام فرماتے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کو ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے،پھر چھبیسویں(٢٦)یا ستائیسویں(٢٧)رات کو جب کہ چار راتیں باقی رہ گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قیام نہیں کیا،پھر ستائیسویں(٢٧)یا اٹھائیسویں(٢٨)رات کو جب کہ تین راتیں باقی رہ گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں، اپنی عورتوں اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا،یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے،میں نے پوچھا فلاح کیا ہے؟ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا سحر کا کھانا،پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، قَالَ: فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ»، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِقِيَّةَ الشَّهْرِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1375

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے اور(عبادت کے لیے) کمربستہ ہوجاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٦)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَدَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، وَقَالَ دَاوُدُ: عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَأَبُو يَعْفُورٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1376

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں(ایک بار)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں،آپ نے پوچھایہ کون لوگ ہیں؟لوگوں نے عرض کیا یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے،لہٰذا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی قیام شہر رمضان؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «مَا هَؤُلَاءِ؟»، فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي، وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْقَوِيِّ»، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1377

زر کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہاابومنذر!مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا جو پورے سال قیام کرے اسے پالے گا،ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے،اللہ کی قسم!انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے(مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کرلیں(آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے)اللہ کی قسم!یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے،اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھااے ابومنذر!آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟انہوں نے جواب دیااس علامت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائی تھی۔ (عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا وہ علامت کیا تھی؟جواب دیااس رات (کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے،جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے،اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی لیلتہ قدر؛جلد٢؛ص٥١؛حدیث نمبر؛١٣٧٨)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، فَإِنَّ صَاحِبَنَا سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ - زَادَ مُسَدَّدٌ، وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا أَوْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا، ثُمَّ اتَّفَقَا - وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لَا يَسْتَثْنِي، قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الْآيَةُ؟ قَالَ: «تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِثْلَ الطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ، حَتَّى تَرْتَفِعَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1378

حضرت عبداللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا،اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے،تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی،پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوگیا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایااندر آجاؤ،میں اندر داخل ہوگیا،آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں،جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایامجھے میرا جوتا دو،پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟میں نے کہاجی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے،وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاآج کون سی رات ہے؟میں نے کہا بائیسویں رات،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی شب قدر ہے،پھر لوٹے اور فرمایایا کل کی رات ہوگی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی لیلتہ القدر؛جلد٢؛ص٥٠؛حدیث نمبر؛١٣٧٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلَمَةَ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، فَقَالُوا:: مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ؟ فَخَرَجْتُ فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ، فَمَرَّ بِي فَقَالَ: «ادْخُلْ»، فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ، فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: «نَاوِلْنِي نَعْلِي» فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: «كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً»، قُلْتُ: أَجَلْ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: «كَمِ اللَّيْلَةُ؟» فَقُلْتُ: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ، قَالَ: «هِيَ اللَّيْلَةُ»، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: «أَوِ الْقَابِلَةُ»، يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1379

حضرت عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں،آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتیئسویں شب کو آیا کرو۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہاجب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے،پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آجاتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی فی لیلتہ القدر؛جلد٢؛ص٥٢؛حدیث نمبر؛١٣٨٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا، وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْدِ اللَّهِ، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ»، فَقُلْتُ لِابْنِهِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: «كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا فَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1380

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم اسے(یعنی شب قدر کو)رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو جب نو راتیں باقی رہ جائیں(یعنی اکیسویں شب کو)اور جب سات راتیں باقی رہ جائیں(یعنی تئیسویں شب کو)اور جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں(یعنی پچیسویں شب کو) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فی فی لیلتہ القدر؛جلد٢؛ص٥٢؛حدیث نمبر؛١٣٨١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي سَابِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي خَامِسَةٍ تَبْقَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1381

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے،ایک سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں،میں نے یہ(قدر کی)رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں،لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی،اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فیمن قال:لیلۃ احدی وعشرین؛جلد٢؛ص٥٢؛حدیث نمبر؛١٣٨٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا، حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنْ اعْتِكَافِهِ، قَالَ: «مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي، فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَقْدَ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ، وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1382

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاشب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں،ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو۔ ابونضرہ کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوسعید!آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں،انہوں نے کہا ہاں،میں نے کہانویں،ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟فرمایاجب(٢١)دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے،اور جب(٢٣)دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے،اور جب(٢٥)دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب فیمن قال:لیلتہ احدی و عشرین؛جلد٢؛ص٥٢؛حدیث نمبر؛١٣٨٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، وَالسَّابِعَةِ، وَالْخَامِسَةِ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ: إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ؟ قَالَ: «إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ، وَإِذَا مَضَى ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ، فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، وَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «لَا أَدْرِي أَخَفِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1383

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایاشب قدر کو رمضان کی سترہویں،اکیسویں اور تئیسویں رات میں تلاش کرو،پھر چپ ہوگئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب من روی:انھا لیلتہ سبع عشرۃ؛جلد٢؛ص٥٣؛حدیث نمبر؛١٣٨٤)

حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطْلُبُوهَا لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَلَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ»، ثُمَّ سَكَتَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1384

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاشب قدر کو اخیر کی سات راتوں میں تلاش کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب من روی؛فی السبع الأواخر؛جلد٢؛ص٥٣؛حدیث نمبر؛١٣٨٥)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1385

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب من قال:سبع و عشرون؛جلد٢؛ص٥٣؛حدیث نمبر؛١٣٨٦)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُطَرِّفًا، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ: «لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1386

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں(اس گفتگو کو)سن رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہوسکتی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابواسحاق کے واسطے سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب شہر رمضان؛باب من قال؛ھی فی کل رمضان؛جلد٢؛ص٥٣؛حدیث نمبر؛١٣٨٧)

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ النَّسَائِيُّ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: «هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، لَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1387

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایاقرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو،انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو بیس دن میں پڑھا کرو،عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو پندرہ دن میں پڑھا کرو،عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو دس دن میں پڑھا کرو،عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات دن میں پڑھا کرو،اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں"مسلم"(بن ابراہیم)کی روایت زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی کم یقرأ القرآن؛جلد٢؛ص٥٤؛حدیث نمبر؛١٣٨٨)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ»، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: «اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ»، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: «اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ»، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: «اقْرَأْ فِي عَشْرٍ»، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: «اقْرَأْ فِي سَبْعٍ، وَلَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1388

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایاہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو،پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی آخر کار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو۔ عطا کہتے ہیں ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے،ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی کم یقرأ القرآن؛جلد٢؛ص٥٤؛حدیث نمبر؛١٣٨٩)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ»، فَنَاقَصَنِي وَنَاقَصْتُهُ، فَقَالَ «صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا»، قَالَ عَطَاءٌ: وَاخْتَلَفْنَا عَنْ أَبِي، فَقَالَ بَعْضُنَا: سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ بَعْضُنَا: خَمْسًا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1389

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟فرمایا ایک ماہ میں،کہامیں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں(ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے)آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسے سات دن میں ختم کیا کرو،کہامیں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں،فرمایاوہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی کم یقرأ القرآن؛جلد٢؛ص٥٤؛حدیث نمبر؛١٣٩٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: «فِي شَهْرٍ»، قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، يُرَدِّدُ الْكَلَامَ أَبُو مُوسَى، وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ: «اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ»، قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1390

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایاقرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو،انہوں نے کہامجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو تین دن میں پڑھا کرو۔ ابوعلی کہتے ہیں میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی کم یقرأ القرآن؛جلد٢؛ص٥٥؛حدیث نمبر؛١٣٩١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ، خَالُ عِيسَى بْنِ شَاذَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا الْحَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ»، قَالَ: إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: «اقْرَأْهُ فِي ثَلَاثٍ»، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: عِيسَى بْنُ شَاذَانَ كَيِّسٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1391

ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟تو میں نے کہا میں اس کے حصے نہیں کرتا،یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا۔ ابن الہاد کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٥؛حدیث نمبر؛١٣٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، قَالَ: سَأَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، فَقَالَ لِي: فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَقُلْتُ: مَا أُحَزِّبُهُ، فَقَالَ لِي نَافِعٌ: لَا تَقُلْ: مَا أُحَزِّبُهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَرَأْتُ جُزْءًا مِنَ الْقُرْآنِ»، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ ذَكَرَهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1392

حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے،وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا،حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں کرایا،(مسدد کہتے ہیں اوس بھی اس وفد میں شامل تھے،جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا)اوس کہتے ہیں تو ہر رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ(آپ گفتگو)کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے،پھر فرماتے ہم اور وہ برابر نہ تھے،ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے،پھر جب ہم نکل کر مدینہ آگئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر۔ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہوگئی تو ہم نے آپ سے پوچھا آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کردی؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا،مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا۔اوس کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟تو انہوں نے کہا پہلا حزب(حصہ)تین سورتوں کا،دوسرا حزب(حصہ)پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا،چوتھا نو سورتوں کا،پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوسعید (عبداللہ بن سعید الاشیخ)کی روایت کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٥؛حدیث نمبر؛١٣٩٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: أَوْسُ بْنُ حُذَيْفَةَ - قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، قَالَ: فَنَزَلَتِ الْأَحْلَافُ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ - قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَقِيفٍ - قَالَ: كَانَ كُلَّ لَيْلَةٍ يَأْتِينَا بَعْدَ الْعِشَاءِ يُحَدِّثُنَا، - وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ - وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ يَقُولُ: «لَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ»، - قَالَ مُسَدَّدٌ بِمَكَّةَ -، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، نُدَالُ عَلَيْهِمْ وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةً أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْنَا - لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَنَّا اللَّيْلَةَ، قَالَ: «إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ جُزْئِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيءَ حَتَّى أُتِمَّهُ»، قَالَ أَوْسٌ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ، قَالُوا: ثَلَاثٌ، وَخَمْسٌ، وَسَبْعٌ، وَتِسْعٌ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ وَحْدَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَتَمُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1393

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٦؛حدیث نمبر؛١٣٩٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1394

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاقرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس دن میں،پھر فرمایاایک ماہ میں،پھر فرمایابیس دن میں، پھر فرمایاپندرہ دن میں،پھر فرمایادس دن میں،پھر فرمایا سات دن میں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٦؛حدیث نمبر؛١٣٩٥)

حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؟ قَالَ: «فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا»، ثُمَّ قَالَ: «فِي شَهْرٍ»، ثُمَّ قَالَ: «فِي عِشْرِينَ»، ثُمَّ قَالَ: «فِي خَمْسَ عَشْرَةَ»، ثُمَّ قَالَ: «فِي عَشْرٍ»، ثُمَّ قَالَ: «فِي سَبْعٍ»، لَمْ يَنْزِلْ مِنْ سَبْعٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1395

حضرت علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہ پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگامیں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں،انہوں نے کہا کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ہم مثل سورتوں کو جیسے سورہ نجم اور سورہ رحمن ایک رکعت میں، "اقتربت"اور"الحاقة"ایک رکعت میں،"والطور اور الذاريات"ایک رکعت میں،"إذا وقعت اور نون" ایک رکعت میں،"سأل سائل اور النازعات"ایک رکعت میں،"ويل للمطففين"اور"عبس"ایک رکعت میں،"المدثر اور المزمل"ایک رکعت میں،"هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة"ایک رکعت میں، "عم يتسائلون اور المرسلات" ایک رکعت میں،اور اسی طرح "الدخان اور إذا الشمس کورت" ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے،اللہ ان پر رحم کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٦؛حدیث نمبر؛١٣٩٦)

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: أَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، وَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ، «لَكِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ السُّورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، الرَّحْمَنَ وَالنَّجْمَ فِي رَكْعَةٍ، وَاقْتَرَبَتْ وَالْحَاقَّةَ فِي رَكْعَةٍ، وَالطُّورَ وَالذَّارِيَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَإِذَا وَقَعَتْ، وَنُونَ فِي رَكْعَةٍ، وَسَأَلَ سَائِلٌ وَالنَّازِعَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَوَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ وَعَبَسَ فِي رَكْعَةٍ، وَالْمُدَّثِّرَ وَالْمُزَّمِّلَ فِي رَكْعَةٍ، وَهَلْ أَتَى وَلَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي رَكْعَةٍ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَالْمُرْسَلَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَالدُّخَانَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ فِي رَكْعَةٍ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا تَأْلِيفُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1396

حضرت عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے کسی رات میں سورة البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٦؛حدیث نمبر؛١٣٩٧)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ -، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1397

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دس آیتوں(کی تلاوت)کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا،جو سو آیتوں(کی تلاوت)کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا،اور جو ایک ہزار آیتوں(کی تلاوت)کے ساتھ قیام کرے گا وہ بےانتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابن حجیرہ الاصغر سے مراد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حجیرہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٧؛حدیث نمبر؛١٣٩٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا سَوِيَّةَ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ القَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ المُقَنْطِرِينَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «ابْنُ حُجَيْرَةَ الْأَصْغَرُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1398

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے قرآن مجید پڑھائیے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں الر ہے،اس نے کہا میں عمر رسیدہ ہوچکا ہوں،میرا دل سخت اور زبان موٹی ہوگئی ہے(اس لیے اس قدر نہیں پڑھ سکتا)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپھر"حم"والی تینوں سورتیں پڑھا کرو،اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو مسبحات میں سے تین سورتیں پڑھا کرو،اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے ایک جامع سورة سکھا دیجئیے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو "إذا زلزلت الأرض"سکھائی،جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا،میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا،جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا"أفلح الرويجل"(بوڑھا کامیاب ہوگیا) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب تخریب القرآن؛جلد٢؛ص٥٧؛حدیث نمبر؛١٣٩٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الر»، فَقَالَ: كَبُرَتْ سِنِّي، وَاشْتَدَّ قَلْبِي، وَغَلُظَ لِسَانِي، قَالَ: «فَاقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ حاميم»، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنَ المُسَبِّحَاتِ»، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً، فَأَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ» مَرَّتَيْنِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1399

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقرآن کی ایک سورة جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہوجائے اور وہ"تبارک الذي بيده الملک"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛ابواب قراءَۃالقران وتحزیبہ وترتیلہ؛باب فی عدد الآیِ؛جلد٢؛ص٥٧؛حدیث نمبر؛١٤٠٠)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً، تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1400

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (١٥)سجدے پڑھائے ان میں سے تین مفصل میں اور دو سورة الحج میں امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں،لیکن اس کی سند کمزور ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،وکم سجدۃ فی القرآن؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ابْنُ الْبَرْقِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ : مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً، وَإِسْنَادُهُ وَاهٍ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1401

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ!کیا سورة الحج میں دو سجدے ہیں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،وکم سجدۃ فی القرآن؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَبَا الْمُصْعَبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا ".

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1402

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مکہ سے مدینہ آجانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل(سورتوں)میں سے کسی سورة میں سجدہ نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب من لم یر السجود فی المفصل؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1403

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورة النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب من لم یر السجود فی المفصل؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ، فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1404

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ إمام ابوداؤد کہتے ہیں زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب من لم یر السجود فی المفصل؛جلد٢؛ص٥٨؛حدیث نمبر؛١٤٠٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «كَانَ زَيْدٌ الْإِمَامَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1405

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو،البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ(یعنی پیشانی)تک اٹھایا اور کہنے لگا میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب من لم یر السجود فی المفصل؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤٠٦)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى - أَوْ تُرَابٍ -، فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1406

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورة"إذا السماء انشقت"اور ‏"اقرأ باسم ربک الذي خلق" میں سجدہ کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب السجود فی إذا السماء انشقت،وأقر؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤٠٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «أَسْلَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَنَةَ سِتٍّ عَامَ خَيْبَرَ، وَهَذَا السُّجُودُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ فِعْلِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1407

ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی،آپ نے"إذا السماء انشقت"کی تلاوت کی اور سجدہ کیا،میں نے کہا یہ سجدہ کیسا ہے؟انہوں نے جواب دیا میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے(نماز پڑھتے ہوئے)کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب السجود فی إذا السماء انشقت،وأقر؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤٠٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ: فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ قَالَ: «سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1408

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سورة ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب السجود فی"ص"؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤٠٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1409

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة"ص"پڑھی،آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے،سجدہ کیا،لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا،پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورة کی تلاوت کی،جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہوگئے،اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سجدہ دراصل ایک نبی کی توبہ تھی،لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو،چناچہ آپ اترے،سجدہ کیا،لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود،باب السجود فی"ص"؛جلد٢؛ص٥٩؛حدیث نمبر؛١٤١٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ»، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1410

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا،کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتیٰ کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود؛باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب،وفی غیر الصلاۃ؛جلد٢؛ص٦٠؛حدیث نمبر؛١٤١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً، فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَدِه»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1411

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورة پڑھ کر سناتے(ابن نمیر کی روایت میں ہے)نماز کے علاوہ میں(آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں)پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم(سجدہ کی آیت آنے پر)سجدہ کرتے،ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود؛باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب،وفی غیر الصلاۃ؛جلد٢؛ص٦٠؛حدیث نمبر؛١٤١٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ -، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا: - فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى لَا يَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1412

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو قرآن سناتے،جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو"الله أكبر" کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔عبدالرزاق کہتے ہیں یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں"الله أكبر"کا ذکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود؛باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب،وفی غیر الصلاۃ؛جلد٢؛ص٦٠؛حدیث نمبر؛١٤١٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ، وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ»، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1413

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار"سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته"یعنی:میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے گیے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب السجود؛باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب،وفی غیر الصلاۃ؛جلد٢؛ص٦٠؛حدیث نمبر؛١٤١٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا: «سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1414

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے قرآن والو!وتر پڑھا کرو اس لیے کہ اللہ وتر(طاق)ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الوتر؛جلد٢؛ص٦١؛حدیث نمبر؛١٤١٦)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ، يُحِبُّ الْوِتْرَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1416

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ١٤١٦کے مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے ایک اعرابی نے کہا آپ کیا کہہ رہے ہیں؟تو عبداللہ بن مسعود نے کہا یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الوتر؛جلد٢؛ص٦١؛حدیث نمبر؛١٤١٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1417

خارجہ بن حذافہ عدوی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ابو الولید عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے،اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الوتر؛جلد٢؛ص٦١؛حدیث نمبر؛١٤١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ - قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْعَدَوِيُّ - خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ، وَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، وَهِيَ الْوِتْرُ، فَجَعَلَهَا لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1418

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا وتر حق ہے جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں،وتر حق ہے،جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں،وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فیمن لم یوتر؛جلد٢؛ص٦٢؛حدیث نمبر؛١٤١٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1419

ابن مُحیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا،شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا وتر واجب ہے،مخدجی نے کہا میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابو محمد نے غلط کہا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہےپانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں،پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہوگا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہوگی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہوگا،اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں،اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فیمن لم یوتر؛جلد٢؛ص٦٢؛حدیث نمبر؛١٤٢٠)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيَّ، سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1420

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایااس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب کم الوتر؛جلد٢؛ص٦٢؛حدیث نمبر؛١٤٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ هَكَذَا: «مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1421

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب کم الوتر؛جلد٢؛ص٦٢؛حدیث نمبر؛١٤٢٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1422

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں"سبح اسم ربک الأعلى"اور"قل للذين کفروا"(یعنی قل ياأيها الکافرون ) اور"الله الواحد الصمد"(یعنی"قل هو الله أحد")پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب ما یقرأ فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٣؛حدیث نمبر؛١٤٢٣)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَ {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا} [آل عمران: 12]، وَاللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ "،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1423

عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی،اور کہا تیسری رکعت میں آپ"قل هو الله أحد"اورمعوذتین(یعنی"قل اعوذ برب الفلق"اور"قل اعوذ برب الناس") پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب ما یقرأ فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٣؛حدیث نمبر؛١٤٢٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: وَفِي الثَّالِثَةِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1424

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں وہ کلمات یہ ہیں"اللهم اهدني فيمن هديت،وعافني فيمن عافيت،وتولني فيمن توليت،و بارک لي فيما أعطيت،وقني شر ما قضيت إنک تقضي ولا يقضى عليك،وإنه لا يذل من واليت،ولا يعز من عاديت،تبارکت ربنا وتعاليت"(ترجمہ)یا اللہ!مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے)جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے)جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں(داخل کر کے)جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے،تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا،اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٣؛حدیث نمبر؛١٤٢٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ عَنْهُمَا: عَلَّمَنِي رَسُولُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ، - قَالَ ابْنُ جَوَّاسٍ: فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: - «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1425

ایک اور سند کے ساتھ بھی ابواسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس کے آخر میں ہے کہ اسے وہ وتر کی قنوت میں کہتے تھے اور"أقولهن في الوتر"کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٣؛حدیث نمبر؛١٤٢٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ: فِي آخِرِهِ قَالَ: هَذَا يَقُولُ: فِي الْوِتْرِ فِي الْقُنُوتِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ، أَبُو الْحَوْرَاءِ: رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1426

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے"اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک،وبمعافاتک من عقوبتک،وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک"(ترجمہ)یا اللہ!میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی،تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں،میں تیری تعریف شمار نہیں کرسکتا،تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے،سعید نے قتادہ سے،قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے،سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے،زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے،سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے،ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور ابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے،انہوں نے مسعر سے،مسعر نے زبید سے،زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے،سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی۔ إمام ابوداؤد کہتے ہیں سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے،اسے یزید بن زریع نے سعید سے،سعید نے قتادہ سے،قتادہ نے عزرہ سے،عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے،سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے،اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا۔اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے،اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے،انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے،لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔زبید کی روایت کو سلیمان اعمش،شعبہ،عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے،ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے،سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٤؛حدیث نمبر؛١٤٢٧)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هِشَامٌ أَقْدَمُ شَيْخٍ لِحَمَّادٍ»، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ - يَعْنِي - فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ، وَحَدِيثُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرِ الْقُنُوتَ، وَلَا ذَكَرَ أُبَيًّا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ وَسَمَاعُهُ بِالْكُوفَةِ مَعَ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْقُنُوتَ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرَا الْقُنُوتَ، وَحَدِيثُ زُبَيْدٍ، رَوَاهُ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، وَشُعْبَةُ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، كُلُّهُمْ عَنْ زُبَيْدٍ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقُنُوتَ إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، فَإِنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَلَيْسَ هُوَ بِالْمَشْهُورِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصٍ نَخَافُ أَنْ يَكُونَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ غَيْرِ مِسْعَرٍ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَيُرْوَى أَنَّ أُبَيًّا، كَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1427

محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٢٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، «أَمَّهُمْ - يَعْنِي - فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ الْآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1428

حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کردیا،وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز(تراویح)پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیر ہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھا کرتے،لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الوتر؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٢٩)

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، «فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي، فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ أَبَقَ أُبَيٌّ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي ذُكِرَ فِي الْقُنُوتِ لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَهَذَانِ الْحَدِيثَانِ يَدُلَّانِ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ أُبَيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي الْوِتْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1429

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر میں سلام پھیرتے تو "سبحان الملک القدوس"کہتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الدعاء بعد الوتر؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٣٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ الْأَيَامِيِّ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوِتْرِ، قَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1430

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے اسے پڑھ لے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الدعاء بعد الوتر؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ، أَوْ نَسِيَهُ، فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1431

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے،جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الوتر قبل النوم؛جلد٢؛ص٦٥؛حدیث نمبر؛١٤٣٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي صلّى الله عليه وسلم بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ، وَلَا حَضَرٍ: رَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1432

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل(محمد)صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے،میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا،ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر،چاشت کی نماز پڑھنے کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الوتر قبل النوم؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ: أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1433

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھاتم وتر کب پڑھتے ہو؟، انہوں نے عرض کیا میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھاتم کب پڑھتے ہو؟انہوں نے عرض کیاآخر شب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا،اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی الوتر قبل النوم؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «مَتَى تُوتِرُ؟»، قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ: «مَتَى تُوتِرُ؟»، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ»، وَقَالَ لِعُمَرَ: «أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1434

حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کب پڑھتے تھے؟انہوں نے کہا سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے،شروع رات میں بھی پڑھا ہے،درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی وقت الوتر؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَتَى كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كُلَّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ، أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَوَسَطَهُ، وَآخِرَهُ، وَلَكِنِ انْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1435

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاصبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی وقت الوتر؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٦)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1436

حضرت عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں،میں نے پوچھا آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی؟کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری؟انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مراد غسل جنابت ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی وقت الوتر؛جلد٢؛ص٦٦؛حدیث نمبر؛١٤٣٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ»، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ؟ أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ، أَمْ يَجْهَرُ؟ قَالَتْ: «كُلَّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا أَسَرَّ، وَرُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ، فَنَامَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ: «تَعْنِي فِي الْجَنَابَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1437

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی وقت الوتر؛جلد٢؛ص٦٧؛حدیث نمبر؛١٤٣٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1438

حضرت قیس بن طلق کہتے ہیں کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے،شام تک رہے روزہ افطار کیا،پھر اس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا،ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ،اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ ایک رات میں دو وتر نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی نقض الوتر؛جلد٢؛ص٦٧؛حدیث نمبر؛١٤٣٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأَمْسَى عِنْدَنَا، وَأَفْطَرَ، ثُمَّ قَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ، وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ، فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1439

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہوئے کہا اللہ کی قسم!میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے قریب ترین نماز پڑھوں گا،چناچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٧؛حدیث نمبر؛١٤٤٠)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ «يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ، وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1440

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں قنوت پڑھتے تھے۔ ابن معاذ نے صلاة المغرب(نماز مغرب میں بھی)کا بھی اضافہ کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٧؛حدیث نمبر؛١٤٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالُوا: كُلُّهُمْ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ»، زَادَ ابْنُ مُعَاذٍ: وَصَلَاةِ الْمَغْرِبِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1441

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی،آپ اس میں دعا فرماتے"اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتک على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف" یا اللہ ولید بن ولید کو نجات دے،یا اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے،یا اللہ!کمزور مومنوں کو نجات دے،یا اللہ!مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف(علیہ السلام)کے زمانے میں پڑا تھا) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی،تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ(اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ)آچکے ہیں؟ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: اللَّهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1442

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر،عصر،مغرب،عشاء اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی،جب آخری رکعت میں"سمع الله لمن حمده" کہتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی سلیم کے قبائل رعل،ذکوان اور عصیہ کے حق میں بد دعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1443

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے؟تو انہوں نے کہا ہاں،پھر ان سے پوچھا گیا رکوع سے پہلے یا بعد میں؟تو انہوں نے کہا رکوع کے بعد میں مسدد کی روایت میں ہے کہ تھوڑی مدت تک۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٤)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ قَالَ: «بَعْدَ الرُّكُوعِ»، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِيَسِيرٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1444

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کردیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٥)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا، ثُمَّ تَرَكَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1445

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر پڑھی کہ جب آپ دوسری رکعت سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب القنوت فی الصلوۃ؛جلد٢؛ص٦٨؛حدیث نمبر؛١٤٤٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ «صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، قَامَ هُنَيَّةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1446

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا،آپ رات کو نکلتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے،کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کردی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نہیں نکلے،لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے،اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ان کی طرف نکلے اور اے لوگو!تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کردی جائے،لہٰذا اب تم کو چاہیئے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو اس لیے کہ آدمی کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے سوائے فرض نماز کے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی فضل التطوع فی البیت؛جلد٢؛ص٦٩؛حدیث نمبر؛١٤٤٧)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حُجْرَةً، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيُصَلِّي فِيهَا، قَالَ: فَصَلَّوْا مَعَهُ لِصَلَاتِهِ - يَعْنِي - رِجَالًا، وَكَانُوا يَأْتُونَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةٌ مِنَ اللَّيَالِي لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحْنَحُوا، وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، وَحَصَبُوا بَابَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1447

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نماز میں سے کچھ گھروں میں پڑھا کرو،اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی فضل التطوع فی البیت؛جلد٢؛ص٦٩؛حدیث نمبر؛١٤٤٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1448

حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایانماز میں دیر تک کھڑے رہنا،پھر پوچھا گیا کون سا صدقہ افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے،پھر پوچھا گیا کون سی ہجرت افضل ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے،پھر پوچھا گیا کون سا جہاد افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو،پھر پوچھا گیا کون سا قتل افضل ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب طول القیام؛جلد٢؛ص٦٩؛حدیث نمبر؛١٤٤٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «طُولُ الْقِيَامِ»، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جَهْدُ الْمُقِلِّ»، قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ»، قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ»، قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ: «مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1449

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے،پھر نماز پڑھے اپنی بیوی کو بھی جگائے تو وہ بھی نماز پڑھے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے،اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے،اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الحث علی قیام الیل؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنَا الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1450

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الحث علی قیام الیل؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا، كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا، وَالذَّاكِرَاتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 4151

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥٢)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1452

حضرت معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہوگی جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا،(پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے)تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا،کیا درجہ ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانِ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ، أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا؟»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1453

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور اس میں ماہر ہو تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص اٹک اٹک کر پریشانی کے ساتھ پڑھے تو اسے دہرا ثواب ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧٠؛حدیث نمبر؛١٤٥٤)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ، مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ، فَلَهُ أَجْرَانِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1454

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو بھی قوم(جماعت) اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتی اور باہم اسے پڑھتی پڑھاتی ہے اس پر سکینت نازل ہوتی ہے،اسے اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے،فرشتے اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے،جو اس کے پاس رہتے ہیں یعنی مقربین ملائکہ میں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧١؛حدیث نمبر؛١٤٥٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ تَعَالَى، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1455

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ(چبوترے)پر تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے،پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟صحابہ نے کہا یا رسول اللہ!ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی ثواب قراءۃ القرآن؛جلد٢؛ص٧١؛حدیث نمبر؛١٤٥٦)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ - أَوِ الْعَقِيقِ - فَيَأْخُذَ نَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ بِغَيْرِ إِثْمٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟» قَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَإِنْ ثَلَاثٌ فَثَلَاثٌ مِثْلُ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1456

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"الحمد لله رب العالمين"(سورہ فاتحہ)ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فاتحۃ الکتاب؛جلد٢؛ص٧١؛حدیث نمبر؛١٤٥٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أُمُّ الْقُرْآنِ، وَأُمُّ الْكِتَابِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1457

حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے،تو آپ نے انہیں بلایا، میں(نماز پڑھ کر)آپ کے پاس آیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاتم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟عرض کیا میں نماز پڑھ رہا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایااے مومنو!"جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو،جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں،جس میں تمہاری زندگی ہےمیں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورة سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں،(جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے)تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ سورة"الحمد لله رب العالمين"ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فاتحۃ الکتاب؛جلد٢؛ص٧١؛حدیث نمبر؛١٤٥٨)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَدَعَاهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي؟»، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، قَالَ: " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} [الأنفال: 24]، لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ - أَوْ فِي الْقُرْآنِ، شَكَّ خَالِدٌ - قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْلُكَ: قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي أُوتِيتُ، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1458

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں اور موسیٰ(علیہ السلام)کو چھ دی گئی تھیں،جب انہوں نے تختیاں(جن پر تورات لکھی ہوئی تھی)زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب من قال ھی من الطول؛جلد٢؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٥٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا مِنَ المَثَانِي الطُّوَلِ، وَأُوتِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام سِتًّا، فَلَمَّا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ، رُفِعَتْ ثِنْتَانِ، وَبَقِيَ أَرْبَعٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1459

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے ابومنذر!کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت؟میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟میں نے عرض کیا "الله لا إله إلا هو الحي القيوم"تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایااے ابومنذر!تمہیں علم مبارک ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب من ما جاء فی آیۃ الکرسی؛جلد٢؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ الَّلهِ أَعْظَمُ؟» قَالَ: قُلْتُ: الَّلهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟» قَالَ: قُلْتُ: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255]. قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: «لِيَهْنِ لَكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1460

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے دوسرے شخص کو"قل هو الله أحد"باربار پڑھتے سنا،جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا،گویا وہ سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ(سورۃ)ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی سورۃ الصمد؛جلد٢؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٦١)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1461

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا،آپ نے فرمایااے عقبہ!کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے "قل أعوذ برب الفلق"اور"قل أعوذ برب الناس"سکھائیں،لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں(کے سیکھنے)سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا،چناں چہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے(سواری سے)اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں،پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایاعقبہ!تم نے انہیں کیا سمجھا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی المعوذتین؛جلد 2؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٦٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لِي: «يَا عُقْبَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟» فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، قَالَ: فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: «يَا عُقْبَةُ، كَيْفَ رَأَيْتَ؟»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1462

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جحفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"قل أعوذ برب الفلق"اور"قل أعوذ برب الناس"پڑھنے لگے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھےاے عقبہ!تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو،اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی۔عقبہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب فی المعوذتین؛جلد 2؛ص٧٢؛حدیث نمبر؛١٤٦٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ، وَالْأَبْوَاءِ، إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ، وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِأَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَأَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وَيَقُولُ: «يَا عُقْبَةُ، تَعَوَّذْ بِهِمَا فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا»، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1463

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاصاحب قرآن(حافظ قرآن یا ناظرہ خواں)سے کہا جائے گا پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے،تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٣؛حدیث نمبر؛١٤٦٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ، وَارْتَقِ، وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1464

حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٣؛حدیث نمبر؛١٤٦٥)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كَانَ يَمُدُّ مَدًّا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1465

یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا تم کہاں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کہاں؟آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے،پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے،پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی،پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٣؛حدیث نمبر؛١٤٦٦)

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ، عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَاتِهِ، فَقَالَتْ: «وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ؟ كَانَ يُصَلِّي وَيَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، حَتَّى يُصْبِحَ، وَنَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَتَهُ حَرْفًا حَرْفًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1466

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا،آپ سورة الفتح پڑھ رہے تھے اور(ایک ایک آیت)کئی بار دہرا رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٦٧)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ يَقْرَأُ بِسُورَةِ الْفَتْحِ، وَهُوَ يُرَجِّعُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1467

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقرآن کو اپنی آواز سے زینت دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٦٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1468

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے،وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد ٢؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، بِمَعْنَاهُ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - وَقَالَ: يَزِيدُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ. وَقَالَ قُتَيْبَةُ: هُوَ فِي كِتَابِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1469

اسی سند کے ساتھ بھی بھی سعد رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٤٦٩ کے مثل حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد٣؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٧٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1470

حضرت عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہوگئے تو ہم بھی داخل ہوگئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔بوسیدہ ساگھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے،میں نے سنا وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہےجو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ عبدالجبار کہتے ہیں میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہااے ابو محمد!اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟انہوں نے جواب دیاجہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد٣؛ص٧٤؛حدیث نمبر؛١٤٧١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ: مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَجُلٌ رَثُّ الْبَيْتِ، رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ»، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَرَأَيْتَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ؟ قَالَ: «يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ».

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1471

محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ بےنیاز ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1472

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب استحباب الترتیل فی القرءۃ؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٣)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ، وَحَيْوَةُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1473

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ہو کر ملے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التشدید فیمن حفظ القرآن ثم نسیہ؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، ثُمَّ يَنْسَاهُ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1474

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورة الفرقان پڑھتے سنا،وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوگئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورة الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہشام سے فرمایاتم پڑھو، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ اسی طرح نازل ہوئی ہے،پھر مجھ سے فرمایاتم پڑھو،میں نے بھی پڑھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسی طرح نازل ہوئی ہے،پھر فرمایا قرآن مجید سات حرفوں پر نازل ہوا ہے،لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٥)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ»، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ»، ثُمَّ قَالَ لِيَ: «اقْرَأْ»، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1475

زہری کہتے ہیں کہ یہ حروف(اگرچہ بظاہر مختلف ہوں)ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں،ان میں حلال و حرام میں اختلاف نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف؛جلد٣؛ص٧٥؛حدیث نمبر؛١٤٧٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: «إِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ تَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1476

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااُبَّْی!مجھے قرآن پڑھایا گیا،پھر مجھ سے پوچھا گیا ایک حرف پر یا دو حرف پر؟میرے ساتھ جو فرشتہ تھا،اس نے کہا کہو دو حرف پر، میں نے کہادو حرف پر،پھر مجھ سے پوچھا گیا دو حرف پر یا تین حرف پر؟اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا،کہا کہو تین حرف پر،چناں چہ میں نے کہا تین حرف پر،اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے،چا ہے تم"سميعا عليما"کہو یا"عزيزا حكيما"جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف؛جلد٣؛ص٧٦؛حدیث نمبر؛١٤٧٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أُبَيُّ، إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِيلَ لِي: عَلَى حَرْفٍ، أَوْ حَرْفَيْنِ؟ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: قُلْ: عَلَى حَرْفَيْنِ، قُلْتُ: عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقِيلَ لِي: عَلَى حَرْفَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةٍ؟ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: قُلْ: عَلَى ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: عَلَى ثَلَاثَةٍ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ "، ثُمَّ قَالَ: " لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ، إِنْ قُلْتَ: سَمِيعًا عَلِيمًا عَزِيزًا حَكِيمًا، مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ، أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1477

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل(علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں،میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے،پھر دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا،تو انہوں نے کہا اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں،لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف؛جلد٣؛ص٧٦؛حدیث نمبر؛١٤٧٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ عَلَى حَرْفٍ، قَالَ: «أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ»، ثُمَّ أَتَاهُ ثَانِيَةً فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1478

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دعا عبادت ہے تمہارا رب فرماتا ہے(ترجمہ)"مجھ سے دعا کرو،میں تمہاری دعا قبول کروں گا"(سورۃ غافر٦٠) (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٣؛ص٧٦؛حدیث نمبر؛١٤٧٩)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، {قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} [غافر: 60] "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1479

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میرے والد نے مجھے کہتے سنا اے اللہ!میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے،اس کی زنجیروں سے،اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے،تو انہوں نے مجھ سے کہا اے میرے بیٹے!میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہےعنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے،لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہوجاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٧؛حدیث نمبر؛١٤٨٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنِ ابْنٍ لِسَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي، وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَنَعِيمَهَا، وَبَهْجَتَهَا، وَكَذَا، وَكَذَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، وَسَلَاسِلِهَا، وَأَغْلَالِهَا، وَكَذَا، وَكَذَا، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ، إِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَ الْجَنَّةَ أُعْطِيتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنْ أُعِذْتَ مِنَ النَّارِ أُعِذْتَ مِنْهَا، وَمَا فِيهَا مِنَ الشَّرِّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1480

صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا،اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس شخص نے جلد بازی سے کام لیا،پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے،اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٧؛حدیث نمبر؛١٤٨١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ لَمْ يُمَجِّدِ اللَّهَ تَعَالَى، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِلَ هَذَا»، ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: - أَوْ لِغَيْرِهِ - «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِتَمْجِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ، وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1481

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع دعائیں پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٧؛حدیث نمبر؛١٤٨٢)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ، وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1482

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگےاے اللہ!اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے،اے اللہ!اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر،بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٧؛حدیث نمبر؛١٤٨٣)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1483

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ، فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ، فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1484

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیواروں پر پردہ نہ ڈالو،جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے،اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہوجاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق(سند)سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسْتُرُوا الْجُدُرَ مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ، سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ، وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ، فَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ كُلُّهَا وَاهِيَةٌ، وَهَذَا الطَّرِيقُ أَمْثَلُهَا وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1485

حضرت مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سلیمان بن عبدالحمید نے کہا ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٦)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ، أَنَّ أَبَا بَحْرِيَّةَ السَّكُونِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ السَّكُونِيِّ ثُمَّ الْعَوْفِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ، وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ: «لَهُ عِنْدَنَا صُحْبَةٌ - يَعْنِي مَالِكَ بْنَ يَسَارٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1486

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کرکے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٧)

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو هَكَذَا بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ، وَظَاهِرِهِمَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1487

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارا رب بہت باحیاء اور کریم(کرم والا)ہے،جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے حیا آتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٨؛حدیث نمبر؛١٤٨٨)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ، صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ، أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1488

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ،اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال(عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا)یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٨٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ، أَوْ نَحْوَهُمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ، وَالِابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1489

ایک اور سند کے ساتھ بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہےابتہال اس طرح ہےاور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کردی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩٠)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ: وَالِابْتِهَالُ هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ.

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1490

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا،پھر راوی نے حدیث نمبر ١٤٩٠ کے مثل حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1491

حضرت یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ، مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1492

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا"اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت،الأحد،الصمد،الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد"(ترجمہ)یا اللہ!میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے،تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں،تو تنہا اور ایسا بےنیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے"یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالِاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ».

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1493

ایک اور سندسے بھی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے"لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم"تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم(عظیم نام)کا حوالہ دے کر سوال کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٧٩؛حدیث نمبر؛١٤٩٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: «لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1494

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا،(نماز سے فارغ ہو کر)اس نے دعا مانگی"اللهم إني أسألک بأن لک الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإکرام يا حى يا قيوم"(ترجمہ)یا اللہ!میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ ساری حمد تیرے لیے ہے،تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں،تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے،اے جلال اور عطاء و بخشش والے،اے زندہ جاوید،اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے!یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم(عظیم نام)کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصٍ يَعْنِي ابْنَ أَخِي أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم جَالِسًا وَرَجُلٌ يُصَلِّي، ثُمَّ دَعَا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1495

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا اسم اعظم(عظیم نام)ان دونوں آیتوں"وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم"(البقرہ:١٦٣)اور سورة آل عمران کی ابتدائی آیت"الله لا إله إلا هو الحي القيوم"میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ} [البقرة: 163]، وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ: {الم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [آل عمران: 2] "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1496

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں"لا تسبخي" کا مطلب ہے"لا تخففي عنه"یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " لَا تُسَبِّخِي: أَيْ لَا تُخَفِّفِي "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1497

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی،جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایامیرے بھائی!مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا،آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔(راوی حدیث)شعبہ کہتے ہیں پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقتلا تنسنا يا أخى من دعائك"کے بجائے"أشرکنا يا أخى في دعائك"کے الفاظ کہے اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٨)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لِي، وَقَالَ: «لَا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ»، فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا، قَالَ شُعْبَةُ، ثُمَّ لَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ، فَحَدَّثَنِيهِ، وَقَالَ: «أَشْرِكْنَا يَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1498

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے،میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایک انگلی سے کرو،ایک انگلی سے کرواور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب الدعاء؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٤٩٩)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَدْعُو بِأُصْبُعَيَّ، فَقَالَ: «أَحِّدْ أَحِّدْ»، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1499

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے،اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں،جن سے وہ تسبیح گنتی تھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہا کرو"سبحان الله عدد ما خلق في السماء و سبحان الله عدد ما خلق في الأرض و سبحان الله عدد ما خلق بين ذلک و سبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلک والحمد لله مثل ذلک. ولا إله إلا الله مثل ذلک.ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨٠؛حدیث نمبر؛١٥٠٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى - أَوْ حَصًى - تُسَبِّحُ بِهِ، فَقَالَ: «أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا - أَوْ أَفْضَلُ -»، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1500

حضرت یُسیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر،تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے(قیامت کے روز)سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨١؛حدیث نمبر؛١٥٠١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ يُسَيْرَةَ، أَخْبَرَتْهَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالتَّقْدِيسِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ، مُسْتَنْطَقَاتٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1501

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا(ابن قدامہ کی روایت میں ہے)اپنے دائیں ہاتھ پر۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨١؛حدیث نمبر؛١٥٠٢)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَثَّامٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ»، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ: بِيَمِينِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1502

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے(پہلے ان کا نام برہ تھاآپ نے اسے بدل دیا)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟انہوں نے کہا ہاں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے(اتنی دیر میں)کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے"سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد کلماته"(ترجمہ)میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر،اس کی مرضی کے مطابق،اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨١؛حدیث نمبر؛١٥٠٣)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِ جُوَيْرِيَةَ، وَكَانَ اسْمُهَا بُرَّةَ، فَحَوَّلَ اسْمَهَا، فَخَرَجَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا وَرَجَعَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، فَقَالَ: «لَمْ تَزَالِي فِي مُصَلَّاكِ هَذَا؟»، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «قَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1503

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ!مال والے تو ثواب لے گئے،وہ نماز پڑھتے ہیں،جس طرح ہم پڑھتے ہیں،روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں،البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے،جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے ابوذر!کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو،جو تم پر (ثواب میں)بازی لے گئے ہیں،اور جو(ثواب میں)تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہوسکتے،سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے،انہوں نے کہا ضرور،یا رسول اللہ!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہر نماز کے بعد(٣٣)بار الله اکبر(٣٣)بار الحمد الله(٣٣)بار سبحان الله کہا کرو،اور آخر میں"لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير" پڑھا کرو(جو ایسا کرے گا)اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب تفریع ابواب الوتر؛باب التسبیح با الحصی؛جلد٢؛ص٨١؛حدیث نمبر؛١٥٠٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا، وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ نَتَصَدَّقُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تُدْرِكُ بِهِنَّ مَنْ سَبَقَكَ، وَلَا يَلْحَقُكَ مَنْ خَلْفَكَ إِلَّا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ؟» قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «تُكَبِّرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ، ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ، وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1504

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا،اس میں تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير،اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منک الجد"(ترجمہ)کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کے لیے بادشاہت ہے،اسی کے لیے حمد ہے،وہ ہر چیز پر قادر ہے۔یا اللہ!جو تو دے،اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے،اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی"پڑھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٢؛حدیث نمبر؛١٥٠٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَيُّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ؟ فَأَمْلَاهَا الْمُغِيرَةُ عَلَيْهِ، وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1505

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر کہتے سنا نبی اکرم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے"لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شيء قدير،لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو کره الکافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن،لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو کره الکافرون" (ترجمہ)اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کے لیے بادشاہت ہے،اسی کے لیے حمد ہے،وہ ہر چیز پر قادر ہے،کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے،ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں،وہ احسان،فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے،ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں،اگرچہ کافر برا سمجھیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٢؛حدیث نمبر؛١٥٠٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ، وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، أَهْلُ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ، وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1506

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد"لا إله إلا الله" کہا کرتے تھے پھر انہوں نے حدیث نمبر ١٥٠٦ جیسی دعا کا ذکر کیا،البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا"ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة"اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٣؛حدیث نمبر؛١٥٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الدُّعَاءِ، زَادَ فِيهِ: «وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ» وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1507

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا(سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے)"اللهم ربنا ورب کل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدک لا شريك لك،اللهم ربنا ورب کل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدک ورسولک،اللهم ربنا ورب کل شىء،أن العباد کلهم إخوة،اللهم ربنا ورب کل شىء،اجعلني مخلصا لک وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإکرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر،حسبي الله ونعم الوکيل الله أكبر الأكبر" (ترجمہ)یا اللہ!ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے،تیرا کوئی شریک نہیں،یا اللہ!ہمارے رب!اور اے ہر چیز کے رب!میں گواہ ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں،یا اللہ!ہمارے رب!اور ہر چیز کے رب!میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں،یا اللہ ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب!مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں،اے جلال،بزرگی اور عزت والے!سن لے اور قبول فرما لے،اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے،یا اللہ!تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے(سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے،اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے،اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٣؛حدیث نمبر؛١٥٠٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ الَّلهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: - وَقَالَ سُلَيْمَانُ: كَانَ رَسُولُ الَّلهُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ: - «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ»، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: «رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1508

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے"اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت،وما أسررت وما أعلنت،وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني،أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت" (ترجمہ)یا اللہ!میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو،اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے،بخش دے۔تو جسے چاہے آگے کرے،جسے چاہے پیچھے کرے،تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٣؛حدیث نمبر؛١٥٠٩)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1509

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے"رب أعني ولا تعن علي،وانصرني ولا تنصر علي،وامکر لي ولا تمکر علي،واهدني ويسر هداي إلي،وانصرني على من بغى علي،اللهم اجعلني لک شاکرا لك،ذاکرا لك،راهبا لك،مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي،واغسل حوبتي،وأجب دعوتي،وثبت حجتي،واهد قلبي،وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي " (ترجمہ)اے میرے رب!میری مدد کر،میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر،میری تائید کر،میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر،ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو،مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے،اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے،اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر،جو مجھ پر زیادتی کرے،یا اللہ!مجھے تو اپنا شکر گزار،اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا،اپنا اطاعت گزار،اپنی طرف گڑگڑانے والا،یا دل لگانے والا بنا،اے میرے پروردگار!میری توبہ قبول کر،میرے گناہ دھو دے،میری دعا قبول فرما،میری دلیل مضبوط کر،میرے دل کو سیدھی راہ دکھا،میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٣؛حدیث نمبر؛١٥١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا، لَكَ ذَاكِرًا، لَكَ رَاهِبًا، لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ، مُخْبِتًا، أَوْ مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1510

حضرت سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے حدیث نمبر ١٥١٠ کے مفہوم کی روایت سنی ہے،اس میں"يسر هداي إلى"کے بجائے"يسر الهدى إلى"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: «وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّ»، وَلَمْ يَقُلْ: هُدَايَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1511

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے"اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت يا ذا الجلال والإكرام" (ترجمہ)اے اللہ!تو ہی سلام ہے،تیری ہی طرف سے سلام ہے،تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے،لوگوں نے کہا ہے انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١٢)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " سَمِعَ سُفْيَانُ مِنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالُوا: ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا "،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1512

حضرت ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے،اس کے بعد"اللهم" کہتے،پھر راوی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب ما یقول الرجل إذا سلم؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1513

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١٤)

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1514

اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے دل پر غفلت کا پردہ آجاتا ہے،حالانکہ میں اپنے پروردگار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٤؛حدیث نمبر؛١٥١٥)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، - قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1515

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار "رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم" اے میرے رب!مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر،تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے"کہنے کو شمار کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥١٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1516

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناجس نے"أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه"کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥١٧)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُرَّةَ الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُنِيهِ عَنْ جَدِّي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، غُفِرَ لَهُ، وَإِنْ كَانَ قَدْ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1517

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو کوئی استغفار کا التزام کرلےتو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا،جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥١٨)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1518

حضرت عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے؟انہوں نے جواب دیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے"اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار" اے ہمارے رب!ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے(البقرہ ٢٠١)زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کرلیتے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥١٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ح وحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، الْمَعْنَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَأَلَ قَتَادَةُ، أَنَسًا، أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ، قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»، وَزَادَ زِيَادٌ، وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهَا

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1519

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا،اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا،اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٥؛حدیث نمبر؛١٥٢٠)

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1520

حضرت اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لیے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا،جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی بات مان لیتا،مجھ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ کہا،انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے،پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے،پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی"والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا الله"{آل عمران؛١٣٥}(إلى آخر الآية)"جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔۔۔ آیت کے اخیر تک۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٦؛حدیث نمبر؛١٥٢١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ} [آل عمران: 135] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1521

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے معاذ!قسم اللہ کی،میں تم سے محبت کرتا ہوں،قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں،پھر فرمایااے معاذ!میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا"اللهم أعني على ذکرک وشکرک وحسن عبادتك"یا اللہ!اپنے ذکر،شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے صُنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٦؛حدیث نمبر؛١٥٢٢)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ الصُّنَابِحِيّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ»، فَقَالَ: " أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ "، وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1522

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٦؛حدیث نمبر؛١٥٢٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حُنَيْنَ بْنَ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1523

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٦؛حدیث نمبر؛١٥٢٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1524

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو"الله الله ربي لا أشرک به شيئًا"(ترجمہ)"اللہ ہی میرا رب ہے،میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ہلال،عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں،اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ - أَوْ فِي الْكَرْبِ -؟ أَللَّهُ أَللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا هِلَالٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَابْنُ جَعْفَرٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1525

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا،جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے لوگو!تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو،بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوموسیٰ!کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟میں نے عرض کیا وہ کیا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"وہ لا حول ولا قوة إلا بالله"ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٦)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ، وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ، وَلَا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا مُوسَى، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْتُ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1526

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے،ایک شخص تھا،وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو "لا إله إلا الله والله أكبر"پکارتا،اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔پھر فرمایااے عبداللہ بن قیس!پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٧)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ يَتَصَعَّدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ، فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلَا الثَّنِيَّةَ نَادَى: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا»، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ»، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1527

ایک اورسند سے بھی حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو!اپنے اوپر آسانی کرو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٨)

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1528

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص کہے "رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا"میں اللہ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہواتو جنت اس کے لیے واجب گئی۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٧؛حدیث نمبر؛١٥٢٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1529

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمت نازل کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٨؛حدیث نمبر؛١٥٣٠)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1530

حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے،لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجا کرو،اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں،لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ قبر میں بوسیدہ ہوچکے ہوں گے تو ہمارے درود آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم کو کھانا حرام کر دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستغفار؛جلد٢؛ص٨٨؛حدیث نمبر؛١٥٣١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ»، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ، وَقَدْ أَرَمْتَ؟ - قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1531

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے،نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کرلے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب النھی عن ان یدعو الإنسان علی اھلہ ومالہ؛جلد٢؛ص٨٨؛حدیث نمبر؛١٥٣٢)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى خَدَمِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَاعَةَ نَيْلٍ فِيهَا عَطَاءٌ، فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا الْحَدِيثُ مُتَّصِلٌ، عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، لَقِيَ جَابِراً»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1532

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"صلى الله عليك وعلى زوجک"اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الصلاۃ علی غیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد٢؛ص٨٨؛حدیث نمبر؛١٥٣٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الَّلهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّي عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الَّلهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1533

حضرت ام الدرادء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناجب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے(غائبانہ)میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدعاء بظہر الغیب؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٤)

حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي سَيِّدِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلٍ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1534

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدعاء بظہر الغیب؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً، دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1535

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں،ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں باپ کی دعا،مسافر کی دعا،مظلوم کی دعا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدعاء بظہر الغیب؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٦)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1536

حضرت ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے"اللهم إنا نجعلک في نحورهم ونعوذ بک من شرورهم‏"یا اللہ!ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب الدعاء بظہر الغیب؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا، قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1537

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورة سکھاتے تھے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے فرماتے جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور یہ دعا پڑھے"اللهم إني أستخيرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظيم فإنک تقدر ولاأقدر و تعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي و بارک لي فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث کان ثم رضني به" (ترجمہ)یا اللہ!میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے خیر طلب کرتا ہوں،تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے قوت طلب کرتا ہوں،تجھ سے تیرے بڑے فضل میں سے کچھ کا سوال کرتا ہوں،تو قدرت رکھتا ہے مجھ کو قدرت نہیں۔تو جانتا ہے،میں نہیں جانتا،تو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے،یا اللہ!اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ یا یہ کام میرے واسطے دین و دنیا،آخرت اور انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان بنا دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا کر،یا اللہ!اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین،دنیا،آخرت اور انجام میں برا ہے تو مجھ کو اس سے پھیر دے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور جہاں کہیں بھلائی ہو،اسے میرے لیے مقدر کر دے،پھر مجھے اس پر راضی فرما۔ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں عن محمد بن المنکدر عن جابر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستخارۃ؛جلد٢؛ص٨٩؛حدیث نمبر؛١٥٣٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُقَاتِلٍ، خَالُ الْقَعْنَبِيِّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ لَنَا: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ - يُسَمِّيهِ - بِعَيْنِهِ الَّذِي يُرِيدُ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي، وَمَعَادِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي مِثْلَ الْأَوَّلِ، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاقْدِرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ "، أَوْ قَال: «َ فِي عَاجِلِ أَمْرِي، وَآجِلِهِ»، قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ، وَابْنُ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابَرٍ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1538

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں بزدلی،بخل،بری عمر،سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٠؛حدیث نمبر؛١٥٣٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1539

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من العجز،والکسل،والجبن،والبخل،والهرم، وأعوذ بک من عذاب القبر،وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات" (ترجمہ)یا اللہ!میں تیری پناہ مانگتاہوں عاجزی سے،سستی سے،بزدلی سے،بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٠؛حدیث نمبر؛١٥٤٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ».

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1540

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا "اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال"یا اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے،قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سےاور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی نے ذکر کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٠؛حدیث نمبر؛١٥٤١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ: عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»، وَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1541

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورة سکھاتے تھے،فرماتے"اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات" (ترجمہ)یا اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے،تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے،تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٠؛حدیث نمبر؛١٥٤٢)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1542

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے"اللهم إني أعوذ بک من فتنة النار، و عذاب النار،ومن شر الغنى،والفقر" یا اللہ!میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى وَالْفَقْرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1543

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من الفقر،والقلة،والذلة،وأعوذ بک من أن أظلم أو أظلم"یا اللہ!میں فقر،قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1544

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی"اللهم إني أعوذ بک من زوال نعمتک،وتحويل عافيتك،وفجاءة نقمتک،وجميع سخطک" یا اللہ!میں تیری نعمت کے زوال سے،تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے،تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٥)

حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سُخْطِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1545

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تو فرماتے"اللهم إني أعوذ بک من الشقاق،والنفاق،وسوء الأخلاق"یا اللہ!میں پھوٹ،نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ بْنِ أَبِي السُّلَيْكِ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ، وَالنِّفَاقِ، وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1546

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من الجوع فإنه بئس الضجيع،وأعوذ بک من الخيانة فإنها بئست البطانة" یا اللہ!میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے،میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو ۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩١؛حدیث نمبر؛١٥٤٧،و حدیث نمبر ١٥٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ، مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1547/1548

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من صلاة لا تنفع"یا اللہ!میں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے تیری پناہ چاہتا ہوں اور پھر راوی نے دوسری دعا کا ذکر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٢؛حدیث نمبر؛١٥٤٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: أُرَى أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُ»، وَذَكَرَ دُعَاءً آخَرَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1549

فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا،انہوں نے کہاآپ کہتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من شرما عملت،ومن شر ما لم أعمل"یا اللہ!میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٢؛حدیث نمبر؛١٥٥٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، عَمَّا كَانَ رَسُولُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ، قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1550

شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہو "اللهم إني أعوذ بک من شر سمعي،ومن شر بصري،ومن شر لساني،ومن شر قلبي، ومن شر منيي" یا اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی،نظر کی برائی زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٢؛حدیث نمبر؛١٥٥١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، الْمَعْنَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ - فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ -، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ، عَلِّمْنِي دُعَاءً، قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1551

حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من الهدم،وأعوذ بک من التردي،وأعوذ بک من الغرق،والحرق والهرم،وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت،وأعوذ بك أن أموت في سبيلک مدبرا،وأعوذ بك أن أموت لديغا" یا اللہ!کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔میں ڈوبنے،جل جانے اور بہت بوڑھا ہوجانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٢؛حدیث نمبر؛١٥٥٢)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ، مَوْلَى أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا»،

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1552

اسی سند سے حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہےاس میں والغم کا اضافہ ہے یعنی"تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے"۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٣؛حدیث نمبر؛١٥٥٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ- بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، زَادَ فِيهِ وَالْغَمِّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1553

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے"اللهم إني أعوذ بک من البرص، والجنون،والجذام،ومن سيئ الأسقام"یا اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی،کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٣؛حدیث نمبر؛١٥٥٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ البَرَصِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1554

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری پر پڑی جنہیں ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہاابوامامہ!کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز کے وقت کے علاوہ بھی مسجد میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں کہو تو اللہ تم سے تمہارے غم دور اور قرض ادا کر دے،میں نے کہا ضرور،یا رسول اللہ!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاصبح و شام یہ کہا کرو"اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن،وأعوذ بک من العجز والکسل،وأعوذ بک من الجبن والبخل،وأعوذ بک من غلبة الدين وقهر الرجال"یا اللہ!میں غم اور حزن سے تیری پناہ مانگتا ہوں،عاجزی و سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں،بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے غلبہ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ پڑھنا شروع کیا تو اللہ نے میرا غم دور کردیا اور میرا قرض ادا کروا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛کتاب الصلوۃ؛باب فی الاستعاذۃ؛جلد٢؛ص٩٣؛حدیث نمبر؛١٥٥٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ الْغُدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا غَسَّانُ بْنُ عَوْفٍ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو أُمَامَةَ، فَقَالَ: «يَا أُمَامَةَ، مَا لِي أَرَاكَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟»، قَالَ: هُمُومٌ لَزِمَتْنِي، وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَذْهَبَ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّكَ، وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ؟»، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، يَا رَسُولَ، قَالَ: " قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَقَهْرِ الرِّجَالِ "، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمِّي، وَقَضَى عَنِّي دَيْنِي

Abu Dawood Shareef, Kitabus Salat, Hadees No. 1555

Abu Dawood Shareef : Kitabus Salat

|

Abu Dawood Shareef : كِتَاب الصَّلَاةِ

|

•