
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:بے شک اللہ تعالی اس امت میں ہر ایک سو سال بعد اس شخص کو بھیجے گا جو ان کے لیے دین(کے کام)کی تجدید کرے گا۔ امام ابوداؤد کہتے عبدالرحمن نے یہ روایت نقل کی ہے تا ہم وہ شراحیل سے آگے نہیں بڑھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب مَا يُذْكَرُ فِي قَرْنِ الْمِائَةِ؛ ایک صدی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٠٩،حدیث ٤٢٩١)
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا: خالد بن معدان کی طرف چلے، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا: ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چنانچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”عنقریب تم رومیوں سے ایک پر امن صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہو گے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہو گا، پھر نصرانیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا: صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو قتل کر دے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛ باب مَا يُذْكَرُ مِنْ مَلاَحِمِ الرُّومِ؛رومیوں سے ہونے والی لڑائیوں کا بیان؛جلد٤،ص١٠٩،حدیث ٤٢٩٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی حسان بن عطیہ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: ”پھر جلدی سے مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھیں گے، اور لڑنے لگیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو شہادت سے نوازے گا“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جو حضرت ذی مخبر کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛ باب مَا يُذْكَرُ مِنْ مَلاَحِمِ الرُّومِ؛رومیوں سے ہونے والی لڑائیوں کا بیان؛جلد٤،ص١١٠،حدیث ٤٢٩٣)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المقدس کی آبادی یثرب کی آبادی ختم ہونے کا سبب بنے گا،اور یثرب کی آبادی ختم ہونے کے نتیجے میں فتنوں کا ظہور ہو گا، فتنوں کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہو گی، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا ظہور ہو گا“ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس شخص یعنی معاذ بن جبل کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرما رہے تھے، پھر فرمایا: ”یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي أَمَارَاتِ الْمَلاَحِمِ؛لڑائیوں اور فتنوں کی نشانیوں کا بیان؛جلد٤،ص١١٠،حدیث ٤٢٩٤)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "بڑی جنگ قسطنطنیہ کا فتح ہونا اور دجال کا ظہور سات مہینوں میں ہوگا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي تَوَاتُرِ الْمَلاَحِمِ؛معرکوں کا،یکے بعد دیگرے ہونا؛جلد٤،ص١١٠،حدیث ٤٢٩٥)
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:بڑی جنگ اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا چھ سال میں ہوگا اور ساتویں سال میں دجال کا ظہور ہوگا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت عیسی کی روایت سے زیادہ درست ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي تَوَاتُرِ الْمَلاَحِمِ؛معرکوں کا،یکے بعد دیگرے ہونا؛جلد٤،ص١١٠،حدیث ٤٢٩٦)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا“ تو کسی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا کی محبت اور موت کو ناپسند کرنا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي تَدَاعِي الأُمَمِ عَلَى الإِسْلاَمِ؛دوسری اقوام کا اسلام کے خلاف اکھٹا ہونا؛جلد٤،ص١١١،حدیث ٤٢٩٧)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:بڑی جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ(یعنی پڑاؤ)غوطہ کے مقام پر ہوگا جو ایک شہر کی ایک طرف ہے جس شہر کا نام دمشق ہے اور جو شام کا سب سے بہترین شہر ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي الْمَعْقِلِ مِنَ الْمَلاَحِمِ؛ان جنگوں کے درمیان مسلمانوں کے مرکز کا بیان؛جلد٤،ص١١١،حدیث ٤٢٩٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:عنقریب لوگ شہر(یعنی قسطنطنیہ)کا محاصرہ کر لیں گے یہاں تک کہ ان کی سب سے دور کی چھاؤنی سلاح کے مقام پر ہوگی"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي الْمَعْقِلِ مِنَ الْمَلاَحِمِ؛جلد٤،ص١١١،حدیث ٤٢٩٩)
زہری فرماتے ہیں:سلاح خیبر کے قریب ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي الْمَعْقِلِ مِنَ الْمَلاَحِمِ؛جلد٤،ص١١١،حدیث ٤٣٠٠)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں اکٹھی نہیں کرے گا کہ ایک تلوار تو خود اسی کی ہو، اور ایک تلوار اس کے دشمن کی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب ارْتِفَاعِ الْفِتْنَةِ فِي الْمَلاَحِمِ؛جنگوں کے درمیان فتنہ ختم ہو جانا؛جلد٤،ص١١١،حدیث ٤٣٠١)
ابو سکینہ،ایک صحابی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:حبشیوں کو اس وقت تک ان کے حال پر رہنے دو جب تک وہ تمہارے درپے نہ ہوتے اور ترکوں کو اس وقت تک چھوڑے رکھو جب تک انہوں نے تمہیں چھوڑا ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي النَّهْىِ عَنْ تَهْيِيجِ التُّرْكِ، وَالْحَبَشَةِ؛ ترکوں اور حبشیوں سے بلاوجہ لڑائی مول لینے کی ممانعت؛جلد٤،ص١١٢،حدیث ٤٣٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان ترکوں سے جنگ نہیں کریں گے یہ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے چمڑے کی ڈھالوں مانند ہوں گے، اور یہ لوگ بالوں سے بنے ہوئے لباس پہنتے ہوں گے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي قِتَالِ التُّرْكِ؛ترکوں کے ساتھ جنگ کا تذکرہ؛جلد٤،ص١١٢،حدیث ٤٣٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم کے ساتھ لڑائی نہیں کرو گے جن کے جوتے بالوں سے بنے ہوتے ہیں،قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس قوم سے لڑائی نہیں کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چمڑے کی ڈھالوں جیسے ہوں گے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي قِتَالِ التُّرْكِ؛ترکوں کے ساتھ جنگ کا تذکرہ؛جلد٤،ص١١٢،حدیث ٤٣٠٤)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم سے ایک ایسی قوم لڑے گی جس کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ترک تھے ، پھر فرمایا: ”تم انہیں تین بار پیچھے کھدیڑ دو گے، یہاں تک کہ تم انہیں جزیرہ عرب سے ملا دو گے، تو پہلی بار میں ان میں سے جو بھاگ گیا وہ نجات پا جائے گا، اور دوسری بار میں کچھ بچ جائیں گے، اور کچھ ہلاک ہو جائیں گے، اور تیسری بار میں ان کا بالکل خاتمہ ہی کر دیا جائے گا «أو کماقال» (جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛اہم معرکوں کا بیان جو امت میں ہونے والے ہیں؛باب فِي قِتَالِ التُّرْكِ؛ترکوں کے ساتھ جنگ کا تذکرہ؛جلد٤،ص١١٢،حدیث ٤٣٠٥)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ دجلہ نامی ایک نہر کے قریب کے ایک نشیبی زمین پر اتریں گے جسے وہ لوگ بصرہ کہتے ہوں گے، اس پر ایک پل ہو گا، وہاں کے لوگ (تعداد میں) دیگر شہروں کے بالمقابل زیادہ ہوں گے، اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہو گا (ابومعمر کی روایت میں ہے کہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا)، پھر جب آخری زمانہ ہو گا تو وہاں قنطورہ کی اولاد (اہل بصرہ کے قتل کے لیے) آئیگی جن کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی، یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے، پھر تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ بیلوں کے دم پکڑے گا، اور صحرا کو اختیار کر کے ہلاک ہو جائے گا، اور ایک گروہ اپنی جان کی امان حاصل کرے گا،یہ لوگ کافر شمار ہوں گے، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے چھوڑ کر نکل کھڑا ہو گا، اور ان سے لڑے گا یہی لوگ شہداء ہوں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي ذِكْرِ الْبَصْرَةِ؛بصرہ کا تذکرہ؛جلد٤،ص١١٣،حدیث ٤٣٠٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ شہر بسائیں گے انہیں شہروں میں سے ایک شہر ہو گا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہو گا، اگر تمہارا وہاں سے گزر ہو یا تم اس شہر میں داخل ہو تو وہاں کی تھور زدہ زمین اور وہاں کی گھاس اور وہاں کے بازاروں اور وہاں کے امراء کے دروازوں سے بچ کے رہنا، اور اپنے آپ کو اس کے اطراف ہی میں رکھنا، کیونکہ اس میں «خسف» (زمینوں کا دھنسنا) «قذف» (پتھر برسنا) اور «رجف» (زلزلہ) ہو گا، اور کچھ لوگ رات صحیح سالم ہو کر گزاریں گے، اور صبح کو بندر اور سور ہو کر اٹھیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي ذِكْرِ الْبَصْرَةِ؛بصرہ کا تذکرہ؛جلد٤،ص١١٣،حدیث ٤٣٠٧)
صالح بن درہم کہتے ہیں کہ ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا جس نے ہم سے پوچھا: کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو؟ ہم نے کہا: ہاں، ہے، پھر اس نے کہا: تم میں سے کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعت نماز پڑھے؟ اور کہے: اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے کیونکہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ قیامت کے دن مسجد عشّار سے ایسے شہداء اٹھائے گا جن کے علاوہ کوئی اور شہداء بدر کے ساتھ نہیں اٹھے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسجد نہر کے متصل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي ذِكْرِ الْبَصْرَةِ؛بصرہ کا تذکرہ؛جلد٤،ص١١٣،حدیث ٤٣٠٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "حبشیوں کو اس وقت تک ان کے حال پر چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہارے در پے نہیں ہوتے کیونکہ خانہ کعبہ کے خزانے کو چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی شخص ہی نکالے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛ باب النَّهْىِ عَنْ تَهْيِيجِ الْحَبَشَةِ؛حبشہ کا تذکرہ؛جلد٤،ص١١٤،حدیث ٤٣٠٩)
ابوزرعہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مروان کے پاس مدینہ آئے تو وہاں اسے (قیامت کی) نشانیوں کے متعلق بیان کرتے سنا کہ سب سے پہلی نشانی ظہور دجال کی ہو گی، تو میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، اور ان سے اسے بیان کیا، تو حضرت عبداللہ فرمایا اس نے کچھ نہیں کہا(یعنی اس نے غلط بیان کی ہے)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ پہلی نشانی سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ہے، یا بوقت چاشت لوگوں کے درمیان دابہ (چوپایہ) کا ظہور ہے، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے واقع ہو دوسری بالکل اس سے متصل ہو گی، اور حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا:وہ اس وقت تحریریں بھی دیکھتے جا رہے تھے،میرا خیال ہے کہ ان دونوں میں پہلے سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب أَمَارَاتِ السَّاعَةِ؛قیامت کی نشانیوں کا بیان؛جلد٤،ص١١٤،حدیث ٤٣١٠)
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ کے ساے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ہم نے قیامت کا ذکر کیا تو ہماری آوازیں بلند ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک نہیں ہو گی، یا قائم نہیں ہو گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: سورج کا پچھم سے طلوع ہونا، دابہ (چوپایہ) کا ظہور، یاجوج و ماجوج کا خروج، ظہور دجال، ظہور عیسیٰ بن مریم، ظہور دخان (دھواں) اور تین جگہوں: مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں خسف (دھنسنا) اور سب سے آخر میں یمن کی طرف سے عدن کے گہرائی میں سے ایک آگ ظاہر ہو گی وہ ہانک کر لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب أَمَارَاتِ السَّاعَةِ؛قیامت کی نشانیوں کا بیان؛جلد٤،ص١١٤،حدیث ٤٣١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب کی طرف سے نہیں نکل آتا،جب وہ نکل آئے گا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو زمین پر موجود تمام لوگ ایمان لے آئیں گے یہ وہ وقت ہوگا(جس کے بارے میں قران نے یہ کہا ہے) " اس وقت ایسے کسی شخص کو ایمان لانا فائدہ نہ دے گا اور جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا،جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہیں کمائی تھی۔"(الانعام ١٥٨) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب أَمَارَاتِ السَّاعَةِ؛قیامت کی نشانیوں کا بیان؛جلد٤،ص١١٥،حدیث ٤٣١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "عنقریب فرات سونے کے خزانے کو ظاہر کرے گا جو شخص وہاں موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛ باب حَسْرِ الْفُرَاتِ عَنْ كَنْزٍ؛دریائے فرات میں سے خزانہ نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٥،حدیث ٤٣١٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: وہ "سونے کے پہاڑ کو ظاہر کرے گا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛ باب حَسْرِ الْفُرَاتِ عَنْ كَنْزٍ؛دریائے فرات میں سے خزانہ نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٥،حدیث ٤٣١٤)
ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اکٹھا ہوئے تو حذیفہ نے کہا: دجال کے ساتھ جو چیز ہو گی میں اسے خوب جانتا ہوں، اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی ہو گی اور ایک آگ کی، جس کو تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا، اور جس کو پانی سمجھتے ہو گے وہ آگ ہو گی، تو جو تم میں سے اسے پائے اور پانی پینا چاہے تو چاہیئے کہ وہ اس میں سے پئے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے کیونکہ وہ اسے پانی پائے گا۔ حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٥،حدیث ٤٣١٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جس بھی نبی کو مبعوث کیا گیا اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے دجال سے ڈرایا ہے خبردار!وہ کانا ہوگا تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے،اس شخص کی دو آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٦،حدیث ٤٣١٦)
شعبہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:"ک ف ر"لکھا ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٦،حدیث ٤٣١٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے تاہم اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: "ہر مسلمان اسے پڑھ سکے گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٦،حدیث ٤٣١٨)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص دجال کے ظہور کے بارے میں سنے وہ اس سے بچنے کی کوشش کرے اللہ کی قسم آدمی اس کے پاس آئے گا اور وہ یہ سمجھتا ہوگا کہ وہ مومن ہے لیکن اس کی طرف سے پیش کیے جانے والے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگے گا۔ (یہاں الفاظ کے بارے میں کوئی شک ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٦،حدیث ٤٣١٩)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دجال کے متعلق تمہیں بتا رہا تھا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم اسے پورے طور سمجھ نہ سکو (تو یاد رکھو) مسیح دجال پستہ قد ہو گا، چلنے میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ فاصلہ رہے گا، اس کے بال گھونگھریالے ہوں گے، کانا ہو گا، آنکھ اٹھی ہوئی ہو گی، نہ ابھری ہوئی اور نہ اندر گھسی ہوئی، پھر اس پر بھی اگر تمہیں اشتباہ ہو جائے تو یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٦،حدیث ٤٣٢٠)
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اگر وہ ظاہر ہوا اور میں تم میں موجود رہا تو میں تمہاری طرف سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر وہ ظاہر ہوا اور میں تم میں نہیں رہا تو ہر شخص اپنی ذات کا دفاع کرے، اور اللہ میری جگہ ہر مسلمان کا نگہبان ہوگا، پس تم میں سے جو اس کو پائے تو اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے کیونکہ یہ تمہیں اس کے فتنے سے بچائیں گی“۔ ہم نے عرض کیا: وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس دن تک، اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا، اور ایک دن ایک مہینہ کے، اور ایک دن ایک ہفتہ کے، اور باقی دن تمہارے اور دنوں کی طرح ہوں گے“۔ تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو دن ایک سال کے برابر ہو گا، کیا اس میں ایک دن اور رات کی نماز ہمارے لیے کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تم اس دن اندازہ کر لینا، اور اسی حساب سے نماز پڑھنا، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس اتریں گے، اور اسے (یعنی دجال کو) باب لد کے پاس پائیں گے اور وہیں اسے قتل کر دیں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٧،حدیث ٤٣٢١)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں راوی نے نمازوں کے بارے میں حسب سابق روایت نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٧،حدیث ٤٣٢٢)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے: ”جس نے سورۃ الکہف کی آخری آیتیں یاد کیں“، شعبہ نے بھی قتادہ سے ”کہف کے آخر“ سے کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٧،حدیث ٤٣٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اور ان یعنی عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں، یقیناً وہ اتریں گے، جب تم انہیں دیکھنا تو پہچان لینا، وہ ایک درمیانی قد و قامت کے شخص ہوں گے، ان کا رنگ سرخ و سفید ہو گا، ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوں گے، ایسا لگے گا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے گو وہ تر نہ ہوں گے، تو وہ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے، صلیب توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے اور جزیہ معاف کر دیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے سارے مذاہب کو ختم کر دے گا، وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے، پھر اس کے بعد دنیا میں چالیس سال تک زندہ رہیں گے، پھر ان کی وفات ہو گی تو مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب خُرُوجِ الدَّجَّالِ؛دجال کے نکلنے کا بیان؛جلد٤،ص١١٧،حدیث ٤٣٢٤)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیرکی، پھر تشریف لائے تو فرمایا: ”میں ایک واقعہ کی وجہ سے دیر سے آیا ہوں، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولی: میں جساسہ ہوں، تم اس محل کی طرف جاؤ، تو میں اس محل میں آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے، میں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں دجال ہوں، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ میں نے کہا: ہاں (وہ ظاہر ہو چکے ہیں) اس نے پوچھا: لوگوں نے ان کی فرمانبرداری کر لی ہے یا ان کی نافرمانی کی ہے میں نے کہا انہوں نے ان کی فرمانبرداری کر لی ہے تو اس نے کہا یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ الْجَسَّاسَةِ؛جساسہ کا بیان؛جلد٤،ص١١٨،حدیث ٤٣٢٥)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو پکارتے سنا: ”لوگو! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“، تو میں نکلی اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نے نماز ختم فرمائی تو ہنستے ہوئے منبر پر جا بیٹھے، اور فرمایا: ”ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے“ پھر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں کسی چیز کی خوشخبری سنانے کے لیے یا کسی چیز سے ڈرانے کے لیے نہیں جمع کیا، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتلانے کے لیے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری نے جو نصرانی شخص تھے آ کر مجھ سے بیعت کی ہے، اور اسلام لے آئے ہیں، انہوں نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا ہے جو اس بات کے مطابق ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق بتائی ہے، انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سمندری کشتی پر سوار ہوئے، ان کے ہمراہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی بھی تھے، تو پورے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں ان کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر سورج ڈوبتے وقت وہ ایک جزیرہ کے پاس جا لگے، وہاں سے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے، وہاں انہیں ایک لمبی دم اور زیادہ بالوں والا ایک دابہ (جانور) ملا، لوگوں نے اس سے کہا:تمہارا ستیاناس ہو؟ اس نے جواب دیا: میں جساسہ ہوں، تم اس شخص کے پاس جاؤ جو اس گھر میں ہے، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے، جب ہم سے اس نے اس شخص کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو، پھر وہاں سے جلدی سے بھاگے اور اس گھر میں جا پہنچے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الجثہ اور انتہائی طاقتور انسان ہے کہ اس جیسا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا، جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی اور ان سے بیسان کے کھجوروں، اور زعر کے چشموں کا حال پوچھا، اور نبی امی کے متعلق دریافت کیا، پھر اس نے اپنے متعلق بتایا کہ میں مسیح دجال ہوں، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، (پھر آپ نے کہا:) نہیں، بلکہ مشرق کی سمت میں ہے“ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دو بار مشرق کی جانب اشارہ کیا۔ فاطمہ کہتی ہیں: یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ الْجَسَّاسَةِ؛جساسہ کا بیان؛جلد٤،ص١١٨،حدیث ٤٣٢٦)
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر چڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے کبھی جمعہ کے دن کے علاوہ اس پر نہیں چڑھتے تھے(اس کے بعد راوی نے یہ واقعہ نقل کیا ہے) امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ابن صدران بصری نامی راوی ابن مسور کے ساتھ سمندر میں ڈوب گئے تھے ان لوگوں میں سے اس راوی کے علاوہ اور کوئی نہیں بچا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ الْجَسَّاسَةِ؛جساسہ کا بیان؛جلد٤،ص١١٩،حدیث ٤٣٢٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر یہ ارشاد فرمایا: ”کچھ لوگ سمندر میں سفر کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کا کھانا ختم ہو گیا تو ان کو ایک جزیرہ نظر آیا اور وہ روٹی کی تلاش میں نکلے، ان کی ملاقات جساسہ سے ہوئی“ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایک عورت تھی جو اپنی کھال اور سر کے بال کھینچ رہی تھی، اس جساسہ نے کہا: اس محل میں (چلو) پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے ”اور دجال نے بیسان کے کھجور کے درختوں، اور زغر کے چشموں کے متعلق دریافت کیا، اس میں ہے ”یہی مسیح ہے“۔ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: اس پر ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو مجھے یاد نہیں ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: جابر نے پورے وثوق سے کہا: کہ دجال ابن صیاد ہے،میں نے کہا وہ تو مر چکا ہے، انہوں نے کہا اگرچہ وہ مر چکا ہے،(پھر بھی دجال وہی ہے)میں نے کہا وہ تو مسلمان ہو گیا تھا، انہوں نے کہا اگرچہ وہ مسلمان ہو گیا تھا، (پھر بھی دجال وہی ہے)میں نے کہا وہ تم مدینہ منورہ میں داخل ہو گیا تھا تو انہوں نے کہا اگرچہ وہ مدینہ منور میں داخل ہو گیا تھا(پھر بھی دجال وہی ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ الْجَسَّاسَةِ؛جساسہ کا بیان؛جلد٤،ص١١٩،حدیث ٤٣٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، وہ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، وہ خود بھی بچہ تھا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا جب تک آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پشت پر مار نہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ تو ابن صیاد نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا، اور بولا: ہاں، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو آپ نے اس سے فرمایا: ”میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تیرے پاس کیا چیز آتی ہے؟“ وہ بولا: سچی اور جھوٹی باتیں آتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو معاملہ تیرے اوپر مشتبہ ہو گیا ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میرے ذہن میں ایک بات ہے(تم بتاؤ کہ وہ کیا ہو سکتی ہے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت سوچی تھی:(ترجمہ) "جب آسمان واضح دھواں لے کر ائے گا" (الدخان ١٠) ابن صیاد نے کہا یہ"دخ"ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے،اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ (دجال) ہے تو تم اس پر قادر نہ ہو سکو گے، اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کے قتل میں کوئی بھلائی نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ ابْنِ صَائِدٍ؛ابن صیاد کا بیان؛جلد٤،ص١٢٠،حدیث ٤٣٢٩)
نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے اللہ کی قسم مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ دجال"ابن صیاد" ہی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ ابْنِ صَائِدٍ؛ابن صیاد کا بیان؛جلد٤،ص١٢٠،حدیث ٤٣٣٠)
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے، میں نے کہا: آپ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟ تو بولے: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم کھاتے سنا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ ابْنِ صَائِدٍ؛ابن صیاد کا بیان؛جلد٤،ص١٢١،حدیث ٤٣٣١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قرا کے دن ہم نے حرہ کے دن ابن صیاد کو غیر موجود پایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ ابْنِ صَائِدٍ؛ابن صیاد کا بیان؛جلد٤،ص١٢١،حدیث ٤٣٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس دجال نہیں آئیں گے ان میں سے ہر ایک اس بات کا دعوی دار ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ ابْنِ صَائِدٍ؛ابن صیاد کا بیان؛جلد٤،ص١٢١،حدیث ٤٣٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس دجال ظہور پذیر نہیں ہوں گے،ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہوگا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ ابْنِ صَائِدٍ؛ابن صیاد کا بیان؛جلد٤،ص١٢١،حدیث ٤٣٣٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے راوی کہتے ہیں:جب انہوں نے یہ بات نقل کی تو میں نے دریافت کیا کہ آپ کے خیال میں یہ ان لوگوں میں سے ہے یعنی مختار؟تو عبیدہ نے کہا یہ تو ان کا سردار ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب فِي خَبَرِ ابْنِ صَائِدٍ؛ابن صیاد کا بیان؛جلد٤،ص١٢١،حدیث ٤٣٣٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر وہ اگلے دن اسے ملتا تو اسے منع نہیں کرتا تھا کیونکہ اس نے اس کے ساتھ کھانا،پینا اور بیٹھنا ہوتا تھا جب لوگوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالی نے ان کے درمیان اختلافات پیدا کر دیے پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی۔(ترجمہ) "بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی ہے۔"(المائدہ٧٨) پھر فرمایا: ”ہرگز ایسا نہیں، قسم اللہ کی! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے، بری باتوں سے روکو گے، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے، اور اسے حق کی طرف موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم رکھو گے“ یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٢،حدیث ٤٣٣٦)
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "یا تو اللہ تعالی تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا یا پھر وہ تمہیں اپنی رحمت سے اس طرح دور کر دے گا جس طرح انہیں دور کیا تھا۔" امام ابو داؤ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٢،حدیث ٤٣٣٧)
قیس بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد یہ بیان فرمایا: اے لوگو!تم لوگ ایک آیت تلاوت کرتے ہو اور اس کا غلط مطلب بیان کرتے ہو(ارشاد باری تعالی ہے:) "تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے،جب تم ہدایت پا جاؤ،تو جو گمراہ ہے وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا۔(المائدہ ١٠٥) ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا:"ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں گے اور اس کا ہاتھ نہیں روکیں گے تو اللہ تعالی ان سب پر عذاب نازل کرے گا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جس قوم میں گناہ ہونے لگے اور لوگ انہیں روکنے کی قدرت رکھتے ہوں لیکن نہ روکے تو ان سب پر اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوگا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ روایت ایک اور سند کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جب کسی قوم میں گناہوں پر عمل ہونے لگے اور(اسے روکنے کی قدرت رکھنے والے لوگ) ان لوگوں سے زیادہ ہوں جو گناہوں پر عمل کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٢،حدیث ٤٣٣٨)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص کسی ایسے قوم میں ہو جس میں گناہوں پر عمل کیا جاتا ہو اور وہ لوگ اس بات کی قدرت رکھتے ہوں کہ اسے ختم کر سکے اور پھر وہ اسے ختم نہ کرے تو ان کے مرنے سے پہلے اللہ تعالی ان سب پر عذاب نازل کرے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٣،حدیث ٤٣٣٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی برائی دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٣،حدیث ٤٣٤٠)
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوثعلبہ! آپ آیت کریمہ(ترجمہ) "تم پر اپنے آپ کی (فکر کرنا)لازم ہے"(المائدہ ١٠٥)کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! تم نے اس کے متعلق ایک جانکار شخص سے سوال کیا ہے، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے روکو، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہو گا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا“ اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہو گا جو انہیں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٣،حدیث ٤٣٤١)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا؟“ یا آپ نے یوں فرمایا: ”عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں لوگوں کو چھان لیا جائے گا، اچھے لوگ سب مر جائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا (یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٣،حدیث ٤٣٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہو گئے ہوں، اور ان سے امانتداریاں کم ہو گئیں ہوں“ اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہو گیا ہو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے! ایسے وقت میں میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا“ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٤،حدیث ٤٣٤٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٤،حدیث ٤٣٤٤)
عرس بن عمیر کندی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب زمین میں کوئی غلطی کی جائے تو جو شخص وہاں موجود ہو وہ اسے ناپسند کرے(ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں)وہ اس کا انکار کرے تو یہ اس طرح ہوگا کہ جس طرح وہ وہاں موجود نہیں تھا اب جو شخص وہاں موجود نہیں تھا وہ اب اس غلطی سے راضی ہے تو یہ اس طرح ہوگا جیسے وہ بھی وہاں موجود تھا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٤،حدیث ٤٣٤٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جو شخص وہاں موجود ہو اور اسے برا سمجھے تو وہ یوں ہوگا جیسے وہاں موجود نہیں تھا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٤،حدیث ٤٣٤٦)
ابو بختری بیان کرتے ہیں: ایک صحابی نے مجھے یہ بات بتائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ اس وقت تک ہلاکت کا شکار نہیں ہوں گے جب تک وہ اپنی ذات کے حوالے سے معذور(یعنی گنہگار نہیں ہو جاتے)(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)اپنے اپ کو معزور قرار نہیں دیتے(گناہوں کا برملا اعتراف نہیں کرتے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ؛امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان؛جلد٤،ص١٢٥،حدیث ٤٣٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری دنوں میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہیں پتا ہے، آج کی رات کے سو سال بعد اس وقت جتنے آدمی اس روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی (زندہ) باقی نہیں رہے گا“حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سو سال کے بعد کے متعلق احادیث بیان کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ سو برس بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جتنے لوگ زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ رہے گا مطلب یہ تھا کہ یہ نسل ختم ہو جائے گی، اور دوسری نسل آ جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب قِيَامِ السَّاعَةِ؛قیامت آنے کا بیان؛جلد٤،ص١٢٥،حدیث ٤٣٤٨)
حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "اللہ تعالی اس امت کو نصف دن سے عاجز نہیں رکھے گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب قِيَامِ السَّاعَةِ؛قیامت آنے کا بیان؛جلد٤،ص١٢٥،حدیث ٤٣٤٩)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:مجھے یہ امید ہے کہ میرے امت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اس لیے عاجز نہیں ہوگی کہ وہ نصف دن تک انہیں موخر رکھے"، حضرت سعد سے دریافت کیا گیا ہے نصف دن کتنا ہوگا انہوں نے جواب دیا پانچ سو سال کا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْمَلَاحِمِ؛باب قِيَامِ السَّاعَةِ؛قیامت آنے کا بیان؛جلد٤،ص١٢٥،حدیث ٤٣٥٠)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Malahim
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الملاحم
|
•