
عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جو اسلام سے پھر گئے تھے آگ میں جلوا دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں انہیں جلاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح کا عذاب نہ دو“ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی رو سے انہیں قتل کر دیتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے اسے قتل کر دو“ پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ ابن عباس کی ماں پر رحم فرمائے انہوں نے بڑی اچھی بات کہی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٦،حدیث ٤٣٥١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان آدمی کا جو صرف اللہ کے معبود ہونے، اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو خون حلال نہیں، سوائے تین صورتوں کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا اس نے کسی کا قتل کیا ہو تو اس کو اس کے بدلہ قتل کیا جائے گا، یا اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو گیا ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٦،حدیث ٤٣٥٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون جو صرف اللہ کے معبود ہونے اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے ایک وہ شخص جو شادی شدہ ہو اور اس کے بعد زنا کا ارتکاب کرے تو وہ رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا، یا اسے سولی دے دی جائے گی، یا وہ جلا وطن کر دیا جائے گا، تیسرے جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے وہ قتل کیا جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٦،حدیث ٤٣٥٣)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو شخص تھے، ایک میرے دائیں طرف تھا دوسرا بائیں طرف، تو دونوں نے آپ سے عامل کا عہدہ طلب کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر فرمایا: ”ابوموسیٰ!“ یا فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، ان دونوں نے مجھے اس چیز سے آگاہ نہیں کیا تھا جو ان کے دل میں تھا، اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ آپ سے عامل بنائے جانے کا مطالبہ کریں گے، گویا میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھے کے نیچے تھی اور مسوڑھا اس کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اپنے کام پر اس شخص کو ہرگز عامل نہیں بنائیں گے یا عامل نہیں بناتے جو عامل بننے کی خواہش کرے، لیکن اے ابوموسیٰ!“ یا آپ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! اس کام کے لیے تم جاؤ“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیج دیا، پھر ان کے پیچھے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا،جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اترو، اور ایک تکیہ ان کے لیے لگا دیا، تو اچانک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس بندھا ہوا ہے،حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کیسا آدمی ہے؟ ابوموسیٰ نے کہا: یہ ایک یہودی تھا جو اسلام لے آیا تھا، لیکن اب پھر وہ اپنے باطل دین کی طرف پھر گیا ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق جب تک یہ قتل نہ کر دیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا، ابوموسیٰ نے کہا: اچھا بیٹھئیے، معاذ نے پھر کہا: اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی رو سے جب تک وہ قتل نہ کر دیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا، آپ نے تین بار ایسا کہا، چنانچہ انہوں نے اس کے قتل کا حکم دیا، وہ قتل کر دیا گیا، (پھر وہ بیٹھے) پھر ان دونوں نے آپس میں قیام اللیل (نوافل)کا ذکر کیا تو ان دونوں میں سے ایک نے غالباً وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے کہا: رہا میں، تو میں سوتا بھی ہوں، اور قیام بھی کرتا ہوں، یا کہا قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور بحالت نیند بھی اسی ثواب کی امید رکھتا ہوں جو بحالت قیام رکھتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٦،حدیث ٤٣٥٤)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آئے، میں یمن میں تھا، ایک یہودی نے اسلام قبول کر لیا، پھر وہ اسلام سے مرتد ہو گیا، تو جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو کہنے لگے: میں اس وقت تک اپنی سواری سے نہیں اتر سکتا جب تک وہ قتل نہ کر دیا جائے چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا، اس سے پہلے اسے توبہ کے لیے کہا جا چکا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٧،حدیث ٤٣٥٥)
یہی واقعہ ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو اسلام سے مرتد ہو گیا تھا، بیس دن تک یا اس کے لگ بھگ وہ اسے اسلام کی دعوت دیتے رہے کہ اسی دوران حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آ گئے تو آپ نے بھی اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے انکار کر دیا تو آپ نے اس کی گردن مار دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں ”توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے“ اور اسے ابن فضیل نے شیبانی سے شیبانی نے سعید بن ابی بردہ سے، ابوبردہ نے اپنے والد ابوبردہ سے اور ابوبردہ نے ابوموسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے اور اس میں بھی انہوں نے ”توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٧،حدیث ٤٣٥٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت تک سواری سے نیچے نہیں اترے جب تک اس شخص کی گردن نہیں اڑا دی گئی انہوں نے اس شخص سے توبہ بھی نہیں کروائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٨،حدیث ٤٣٥٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عبداللہ بن سعد بن ابو سرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کرتا تھا،شیطان نے اسے بہکا دیا تو وہ کفار کے ساتھ جا کر مل گیا، فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے امان کے درخواست کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امان دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٨،حدیث ٤٣٥٨)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن عبداللہ بن سعد بن ابو سرح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر آپ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کھڑا کیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا، ہر بار آپ انکار فرماتے رہے، پھر تین دفعہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی ایسا سمجھدار انسان نہیں تھا کہ جب میں نے اس سے بیعت لینے سے ہاتھ روک لیا تھا تو وہ اٹھ کر اس کی طرف جاتا اور اسے قتل کر دیتا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں اندازہ نہیں ہو سکا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں کیا ہے؟ اگر اپ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھ کے ذریعے ہماری طرف اشارہ کر دیتے تو(ہم اس پر عمل کر لیتے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٨،حدیث ٤٣٥٩)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب کوئی غلام مفرور ہو کر مشرکین کے علاقے کی طرف چلا جائے تو اس کا خون حلال ہو جاتا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنِ ارْتَدَّ؛مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٢٨،حدیث ٤٣٦٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہتی تھی اور آپ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو شروع کی، اور آپ کو برا کہنے لگی، تو اس (اندھے) نے ایک چھری لی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا کر اسے ہلاک کر دیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کر دیا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حادثہ کا ذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا: ”جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے“ تو وہ اندھا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے اور ہانپتے کانپتے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو برا کہتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو برا کہنے لگی، اور ہجو کرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مار ہی ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون رائیگاں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلمَنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم؛جلد٤،ص١٢٩،حدیث ٤٣٦١)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک یہودی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھی ایک شخص نے اس کا گلہ گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائگاں قرار دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلمَنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم؛جلد٤،ص١٢٩،حدیث ٤٣٦٢)
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن مار دوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کر دیا، پھر وہ اٹھے اور اندر چلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا: ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے کہا تھا: مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، بولے: اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کر گزرتے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، ضرور، بولے: نہیں، قسم اللہ کی! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی آدمی کے لئے یہ درست نہیں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کے الفاظ ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں: یعنی ابوبکر ایسا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں: ایک ایمان کے بعد کافر ہو جانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر سکتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحُكْمِ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلمَنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم؛جلد٤،ص١٢٩،حدیث ٤٣٦٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل، یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاں دلوائیں، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ (اونٹنیاں لے کر) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چنانچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑ کر لے آیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣٠،حدیث ٤٣٦٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت سلاخیں گرم کی گئیں اور ان کی آنکھوں میں پھیر دی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ نہیں لگوائے۔(یعنی خون بند کروانے کی کوشش نہیں کی) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣٠،حدیث ٤٣٦٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو بھیجا انہیں لایا گیا اللہ تعالی نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی۔(ترجمہ) "وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین و فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے"۔(المائدہ ٣٣) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣١،حدیث ٤٣٦٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت میں کٹوا دیے۔ اس روایت کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں: وہ لوگ اونٹوں کو ہانک کر لے گئے،اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے زمین کو چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ وہ لوگ(اسی حالت میں) مر گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣١،حدیث ٤٣٦٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے:تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "پھر مثلہ کرنے سے منع کر دیا گیا" اس روایت میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ان کے ہاتھ،پاؤں مخالف سمت میں کاٹے گئے تھے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس کے حوالے سے منقول ہے ان دونوں نے بھی یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں کاٹے گئے تھے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں حماد بن سلمہ کی نقل کردہ روایت کے علاوہ اور کسی روایت میں الفاظ مجھے نہیں ملے کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت میں کاٹے گئے تھے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت میں کٹوا دیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣١،حدیث ٤٣٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کٹوا دیئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣١،حدیث ٤٣٦٩)
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان لوگوں کے (ہاتھ پاؤں) کٹواے جنہوں نے آپ کے اونٹ چرائے تھے اور ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائیاں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں عتاب کرتے ہوئے یہ آیت نازل کی(ترجمہ)”جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی پر چڑھا دئیے جائیں (سورۃ المائدہ: ۳۳) اخیر تک نازل فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣١،حدیث ٤٣٧٠)
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں یہ روایت حدود کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی ہے یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣٢،حدیث ٤٣٧١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:(ارشاد باری تعالی ہے) "بےشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں،ان کی جزاء یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا مصلوب کر دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں کاٹ دیے جائیں یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے" یہ آیت یہاں تک "مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے"۔(المائدہ ٣٣) مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کر لے تو ایسا نہ ہو گا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہو جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُحَارِبَةِ؛ڈاکہ زنی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے؛جلد٤،ص١٣٢،حدیث ٤٣٧٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکرمند کر دیا، وہ کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرات ہو سکتی ہے؟ چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ نے اس خطبہ میں فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کیونکہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور سے یہ جرم سرزد ہو جاتا تو اس پر حد قائم کرتے، قسم اللہ کی اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْحَدِّ يُشْفَعُ فِيهِ؛کسی حد کے بارے میں سفارش کرنے کا حکم؛جلد٤،ص١٣٢،حدیث ٤٣٧٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کر دیا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔ اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔ اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے (کوئی چیز) مانگ کر لی تھی (پھر وہ مکر گئی تھی)۔ اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔ اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْحَدِّ يُشْفَعُ فِيهِ؛کسی حد کے بارے میں سفارش کرنے کا حکم؛جلد٤،ص١٣٢،حدیث ٤٣٧٤)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "معزز لوگوں کے لغزشوں سے درگزر کیا کرو البتہ حدود کا حکم مختلف ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْحَدِّ يُشْفَعُ فِيهِ؛کسی حد کے بارے میں سفارش کرنے کا حکم؛جلد٤،ص١٣٣،حدیث ٤٣٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "حدود کے مقدمات کو اپنے درمیان ہی معاف کر دیا کرو،مجھ تک حد سے متعلق جو مقدمہ پہنچے گا اس کو لاگو کرنا لازم ہوگا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْعَفْوِ عَنِ الْحُدُودِ، مَا لَمْ تَبْلُغِ السُّلْطَانَ؛ حد کے مقدمات جب تک قاضی تک نہیں پہنچتے اس وقت تک انہیں معاف کرنا؛جلد٤،ص١٣٣،حدیث ٤٣٧٦)
یزید بن نعیم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:حضرت ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چار مرتبہ(زنا کا ارتکاب کرنے کا)اقرار کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ھزال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اگر تم اپنے کپڑے کے ذریعے اس پر پردہ ڈال دیتے تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر تھا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي السَّتْرِ عَلَى أَهْلِ الْحُدُودِ؛حد والوں پر پردہ ڈالنے کا بیان؛جلد٤،ص١٣٤،حدیث ٤٣٧٧)
ابن منکدر بیان کرتے ہیں حضرت ھزال رضی اللہ عنہ نے حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتائیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي السَّتْرِ عَلَى أَهْلِ الْحُدُودِ؛حد والوں پر پردہ ڈالنے کا بیان؛جلد٤،ص١٣٤،حدیث ٤٣٧٨)
علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس کو ایک شخص ملا،اس نے اس عورت پر حملہ کر کے اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی، وہ جا چکا تھا، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس (فلاں) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آ گئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، اور اسے لے کر آئے، تو اس نے کہا: ہاں اسی نے کیا ہے، چنانچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا (کہ اس پر حد جاری کی جائے) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہو گیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول!میں نے یہ جرم کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا اور اس آدمی سے بھلی بات کہی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد وہ آدمی ہے (ناحق) جو پکڑا گیا تھا، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا: ”اس کو رجم کر دو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہو جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي صَاحِبِ الْحَدِّ يَجِيءُ فَيُقِرُّ؛جس نے حد کا کام کیا پھر خود آ کر اقرار جرم کیا اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٣٤،حدیث ٤٣٧٩)
ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے“ اس نے عرض کیا:جی ہاں(یعنی میں نے چوری کی ہے) اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو“ اس نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي التَّلْقِينِ فِي الْحَدِّ؛حد میں تلقین کرنا؛جلد٤،ص١٣٤،حدیث ٤٣٨٠)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَعْتَرِفُ بِحَدٍّ وَلاَ يُسَمِّيهِ؛آدمی یہ اعتراف کرے کہ وہ حد کا مستحق ہے لیکن جرم نہ بتائے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٣٥،حدیث ٤٣٨١)
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا،حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اس قول سے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الاِمْتِحَانِ بِالضَّرْبِ؛جرم کی تفتیش میں مجرم کو مارنا پیٹنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٣٥،حدیث ٤٣٨٢)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوتھائی دینار(یا اس سے زیادہ کی قیمت والی چیز)کی چوری پر ہاں کٹوا دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا يُقْطَعُ فِيهِ السَّارِقُ؛چور کا ہاتھ کتنے مال کی چوری میں کاٹا جائے؟؛جلد٤،ص١٣٦،حدیث ٤٣٨٣)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: "ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (قیمت والی چیز کی چوری)پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔" احمد بن صالح نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ایک چوتھائی دینار یا زیادہ(قیمت والی چیز کی چوری پر)ہاتھ کاٹا جائے گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا يُقْطَعُ فِيهِ السَّارِقُ؛چور کا ہاتھ کتنے مال کی چوری میں کاٹا جائے؟؛جلد٤،ص١٣٦،حدیث ٤٣٨٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کٹوا دیا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا يُقْطَعُ فِيهِ السَّارِقُ؛چور کا ہاتھ کتنے مال کی چوری میں کاٹا جائے؟؛جلد٤،ص١٣٦،حدیث ٤٣٨٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کٹوا دیا تھا جس نے عورتوں کے چبوترے سے ڈھال چوری کی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا يُقْطَعُ فِيهِ السَّارِقُ؛چور کا ہاتھ کتنے مال کی چوری میں کاٹا جائے؟؛جلد٤،ص١٣٦،حدیث ٤٣٨٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری کی وجہ سے ایک شخص کا ہاتھ کٹوا دیا تھا جس کی قیمت ایک دینار(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)10 درہم تھی۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب مَا يُقْطَعُ فِيهِ السَّارِقُ؛چور کا ہاتھ کتنے مال کی چوری میں کاٹا جائے؟؛جلد٤،ص١٣٦،حدیث ٤٣٨٧)
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے (ایک باغ میں لگا) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کر لیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”پھل اور جمار (کھجور کے درخت کا گوند) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا“ تو اس شخص نے کہا: مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے، اور مروان کے پاس آئے، اور ان سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”پھل اور گابھا کے (چرانے میں) ہاتھ نہیں کٹے گا“ مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا، چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «کثر» کے معنیٰ «جمار» کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب مَا لاَ قَطْعَ فِيهِ؛جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان کا بیان؛جلد٤،ص١٣٦،حدیث ٤٣٨٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں مروان نے اسے کچھ کوڑے لگوائے اور پھر اسے چھوڑ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب مَا لاَ قَطْعَ فِيهِ؛جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان کا بیان؛جلد٤،ص١٣٧،حدیث ٤٣٨٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جس ضرورت مند نے اسے کھا لیا، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہو گی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب مَا لاَ قَطْعَ فِيهِ؛جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان کا بیان؛جلد٤،ص١٣٧،حدیث ٤٣٩٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "لوٹنے والے پر(ہاتھ کو)کاٹنے کی سزا لازم نہیں ہوگی اور جو شخص اعلانیہ طور پر کوئی چیز لوٹتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْقَطْعِ فِي الْخُلْسَةِ وَالْخِيَانَةِ؛کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؛جلد٤،ص١٣٨،حدیث ٤٣٩١)
اسی سند کے ساتھ یہ بات بھی منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "خیانت کرنے والے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا لازم نہیں ہوگی" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْقَطْعِ فِي الْخُلْسَةِ وَالْخِيَانَةِ؛کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؛جلد٤،ص١٣٨،حدیث ٤٣٩٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "اچکنے والے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا لازم نہیں ہوگی"۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ دونوں روایات ابن جریج نے ابو زبیر سے نہیں سنی،تاہم امام احمد بن حنبل کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ یہ فرماتے ہیں ابن جریج نے یہ دونوں روایات یاسین زیات سے سنی ہیں۔امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:یہ دونوں روایات مغیرہ بن مسلم نے ابو زبیر کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْقَطْعِ فِي الْخُلْسَةِ وَالْخِيَانَةِ؛کھلم کھلا چھین کر بھاگ جانا یا امانت میں خیانت کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؛جلد٤،ص١٣٨،حدیث ٤٣٩٣)
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے اوپر میری ایک اونی چادر پڑی تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کر لے کر بھاگا، لیکن وہ پکڑ لیا گیا، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے، تو میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا تیس درہم کی وجہ سے آپ اس کا ہاتھ کٹوا ڈالیں گے؟ میں اسے اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں، اور اس کی قیمت اس پر ادھار چھوڑ دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لانے سے پہلے تم نے ایسا کیوں نہیں کیا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زائدہ نے سماک سے، سماک نے جعید بن حجیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: ”صفوان سو گئے تھے اتنے میں چور آیا“۔ اور طاؤس و مجاہد نے اس کو یوں روایت کیا ہے کہ وہ سوئے تھے اتنے میں ایک چور آیا، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر چرا لی۔ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسے یوں روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ان کے سر کے نیچے سے کھینچا، تو وہ جاگ گئے، اور چلائے، اور وہ پکڑ لیا گیا۔ اور زہری نے صفوان بن عبداللہ سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ وہ مسجد میں سوئے اور انہوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، اتنے میں ایک چور آیا، اور اس نے ان کی چادر چرا لی، تو اسے پکڑ لیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب مَنْ سَرَقَ مِنْ حِرْزٍ؛جو شخص کسی چیز کو محفوظ مقام سے چرائے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٣٩،حدیث ٤٣٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں مانگ کر مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے تین بار فرمایا: ”کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی“۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ اس کے خلاف گواہی دے دی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْقَطْعِ فِي الْعَارِيَةِ إِذَا جُحِدَتْ؛ عاریت کے طور پر لی ہوئی کسی چیز کو واپس کرنے کے انکار پر ہاتھ کاٹنا؛جلد٤،ص١٣٩،حدیث ٤٣٩٥)
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور عارضی استعمال کے لیے لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات ارشاد فرمائی تھی،(جو نقل کی گئی) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْقَطْعِ فِي الْعَارِيَةِ إِذَا جُحِدَتْ؛ عاریت کے طور پر لی ہوئی کسی چیز کو واپس کرنے کے انکار پر ہاتھ کاٹنا؛جلد٤،ص١٣٩،حدیث ٤٣٩٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے ایک عورت ساز و سامان عارضی طور پر لیتی تھی اور پھر(واپس کرنے سے)انکار کر دیتی تھی،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْقَطْعِ فِي الْعَارِيَةِ إِذَا جُحِدَتْ؛جلد٤،ص١٣٩،حدیث ٤٣٩٧)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے،سوئے ہوئے شخص سے جب تک وہ بیدار نہیں ہو جاتا،پاگل سے جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا اور بچے سے جب تک وہ بڑا(یعنی بالغ)نہیں ہو جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا؛ مجنون کا چوری کرنا یا قابل حد جرم کا ارتکاب کرنا؛جلد٤،ص١٣٩،حدیث ٤٣٩٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے واپس لے چلو، پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، کہا: کیوں نہیں؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ بولے:اس پر کوئی سزا لاگو نہیں ہوگی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور ساتھ اللہ اکبر کہنے لگے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا؛ مجنون کا چوری کرنا یا قابل حد جرم کا ارتکاب کرنا؛جلد٤،ص١٤٠،حدیث ٤٣٩٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:یہاں تک کہ وہ سمجھدار ہو جائے، اور یہ الفاظ ہیں: پاگل سے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا؛ مجنون کا چوری کرنا یا قابل حد جرم کا ارتکاب کرنا؛جلد٤،ص١٤٠،حدیث ٤٤٠٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے( اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) جس میں یہ الفاظ ہیں :حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایسے پاگل سے جس کی عقل مغلوب ہو چکی ہو جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا، سوئے ہوئے شخص سے جب تک وہ بیدار نہیں ہو جاتا اور بچے سے جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اپ نے ٹھیک کہا ہے،راوی کہتے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا؛ مجنون کا چوری کرنا یا قابل حد جرم کا ارتکاب کرنا؛جلد٤،ص١٤٠،حدیث ٤٤٠١)
ھناد جنبی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا،حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اسے چھوڑوا دیا، تو حضرت عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے“ اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے، فلاں قوم کی ہے، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی، اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا؛ مجنون کا چوری کرنا یا قابل حد جرم کا ارتکاب کرنا؛جلد٤،ص١٤٠،حدیث ٤٤٠٢)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے سوئے ہوئے شخص سے، جب تک وہ بیدار نہیں ہو جاتا، بچے سے، جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتا، اور پاگل سے جب تک وہ عقلمند نہیں ہو جاتا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں لفظ"خرف" زائد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْمَجْنُونِ يَسْرِقُ أَوْ يُصِيبُ حَدًّا؛ مجنون کا چوری کرنا یا قابل حد جرم کا ارتکاب کرنا؛جلد٤،ص١٤١،حدیث ٤٤٠٣)
عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں کہ میں بنی قریظہ کے قیدیوں میں تھا تو لوگوں نے جائزہ لیا،جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْغُلاَمِ يُصِيبُ الْحَدَّ؛نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٤١،حدیث ٤٤٠٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: ان لوگوں نے میرے زیر ناف حصے کا جائزہ لیا تو انہوں نے پایا وہاں بال نہیں ہوئے ہیں،انہوں نے مجھے قیدیوں میں شامل کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْغُلاَمِ يُصِيبُ الْحَدَّ؛نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٤١،حدیث ٤٤٠٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے دن انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت ان کی عمر 14 برس تھی،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت نہیں دی،پھر غزوہ خندق کے موقع پر انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا،اس وقت وہ 15 سال کے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْغُلاَمِ يُصِيبُ الْحَدَّ؛نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٤١،حدیث ٤٤٠٦)
نافع بیان کرتے ہیں میں نے عمر بن عبدالعزیز کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے کہا یہ چھوٹے اور بڑے(یعنی بالغ اور نابالغ کے درمیان عمر کی)حد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الْغُلاَمِ يُصِيبُ الْحَدَّ؛نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٤١،حدیث ٤٤٠٧)
جنادہ بن ابو امیہ کہتے ہیں کہ ہم بسر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر پر تھے کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مصدر تھا اس نے ایک اونٹ چرایا تھا تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سفر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“ اگر آپ کا یہ فرمان نہ ہوتا تو میں ضرور اسے کاٹ ڈالتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب السَّارِقِ يَسْرِقُ فِي الْغَزْوِ أَيُقْطَعُ؛کیا جنگ میں چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟؛جلد٤،ص١٤١،حدیث ٤٤٠٨)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر!“ میں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا؟جب لوگوں کو موت لاحق ہو جائے گی اور اس وقت میں غلام کے عوض میں گھر ہوگا(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر سے مراد قبر تھی) میں نے عرض کی:اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند کرے(میں وہی کروں گا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کو لازم پکڑنا“ یا فرمایا: ”اس دن صبر کرنا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي قَطْعِ النَّبَّاشِ؛کفن چور کے ہاتھ کاٹنے کا بیان؛جلد٤،ص١٤٢،حدیث ٤٤٠٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“ تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اسی شخص کو دوسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ لوگوں نے پھر یہی کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کا ہاتھ کاٹ دو“ تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر وہی شخص تیسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس کا ہاتھ کاٹ دو“ پھر اسے چوتھی بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔لوگوں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے پانچویں مرتبہ لایا گیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے قتل کر دو،حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور ہم نے اسے قتل کر دیا، اور گھسیٹ کر اسے ایک کنویں میں ڈال دیا، اور اس پر پتھر ڈال دئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي السَّارِقِ يَسْرِقُ مِرَارًا؛باربار چوری کرنے والے کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٤٢،حدیث ٤٤١٠)
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فی تعلیق ید السارق فی عنقہ؛چور کے ہاتھ کو اس کی گردن میں لٹکا دینا؛جلد٤،ص١٤٣،حدیث ٤٤١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دو خواہ نصف اوقیہ کے عوض میں کرو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب بَيْعِ الْمَمْلُوكِ إِذَا سَرَقَ؛غلام چوری کرے تو اسے بیچ ڈالنے کا بیان؛جلد٤،ص١٤٣،حدیث ٤٤١٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(ترجمہ) ”تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے“ (سورۃ النساء: ۱۵) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا: «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» ”تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو“ (سورۃ النساء: ۱۶)، پھر یہ «جَلْد» والی آیت «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة» ”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو“ (سورۃ النور: ۲) منسوخ کر دی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجْمِ؛شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٣،حدیث ٤٤١٣)
مجاہد کہتے ہیں کہ «سبیل» سے مراد حد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: «فآذوهما» سے مراد کنوارا مرد اور کنواری عورت ہے، اور «فأمسكوهن في البيوت» سے مراد غیر کنواری عورتیں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجْمِ؛شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٣،حدیث ٤٤١٤)
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے احکام حاصل کر لو، مجھ سے احکام حاصل لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے طریقہ مقرر کردیا ہے۔ "غیر کنوارہ مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارا مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجْمِ؛شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٤،حدیث ٤٤١٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: "ایک سو کوڑے ہوں گے اور سنگسار کرنا ہوگا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجْمِ؛شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٤،حدیث ٤٤١٦)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ کچھ لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: اے ابوثابت! حدود نازل ہو چکے ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو کیا کریں، انہوں نے کہا: ان دونوں کا کام تلوار سے تمام کر دوں گا، کیا میں چار گواہ جمع کرنے جاؤں گا تب تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے گا، چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو ملاحظہ فرمایا؟وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح کی صورت میں گواہ کے طور پر تلوار ہی کافی ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں، اسے قتل مت کرنا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ غصہ والا ، اور غیرت مند پیچھے پڑ کر (بغیر اس کی تحقیق کئے کہ اس سے زنا سرزد ہوا ہے یا نہیں محض گمان ہی پر) اسے قتل نہ کر ڈالیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، فضل نے حسن سے، حسن نے قبیصہ بن حریث سے، قبیصہ نے سلمہ بن محبق سے سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، یہ سند جس کا ذکر وکیع نے کیا ہے ابن محبق والی روایت کی سند ہے جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مجامعت کر لی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فضل بن دلہم حافظ حدیث نہیں تھے، وہ واسط میں ایک قصاب تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجْمِ؛شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٤،حدیث ٤٤١٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے کہا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، تو جو آیتیں آپ پر نازل ہوئیں ان میں آیت رجم بھی ہے، ہم نے اسے پڑھا، اور یاد رکھا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں آیت رجم نہیں پاتے، تو وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے چھوڑ کر گمراہ ہو جائے، لہٰذا مردوں اور عورتوں میں سے جو زنا کرے اسے رجم (سنگسار) کرنا برحق ہے، جب وہ شادی شدہ ہو اور دلیل قائم ہو چکی ہو، یا حمل ہو جائے یا اعتراف کرے، اور قسم اللہ کی اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے تو میں اسے یعنی آیت رجم کو مصحف میں لکھ دیتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجْمِ؛شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٤،حدیث ٤٤١٨)
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا: جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کے مطابق سزا لاگو کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کے مطابق سزا لاگو کرے، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے؟“ ماعز نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس سے چمٹے تھے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم (سنگسار) کئے جانے کا حکم دیا، انہیں حرہ میں لے جایا گیا، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے، ان کے ساتھی تھک چکے تھے، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ان سے اسے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٥،حدیث ٤٤١٩)
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں: مجھے قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں نے جو تمہیں محبوب ہیں اور جنہیں میں متہم نہیں قرار دیتا بتایا ہے کہ «فهلا تركتموه» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، حسن کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سمجھی نہ تھی، تو میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور ان سے کہا کہ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے پتھر پڑنے سے ماعز کی گھبراہٹ کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا“ یہ بات میرے سمجھ میں نہیں آئی، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! میں اس حدیث کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا جب ہم انہیں لے کر نکلے اور رجم کرنے لگے اور پتھر ان پر پڑنے لگا تو وہ چلائے اور کہنے لگے: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو، میری قوم نے مجھے مار ڈالا، ان لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، انہوں نے مجھے یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مار نہیں ڈالیں گے، لیکن ہم لوگوں نے انہیں جب تک مار نہیں ڈالا چھوڑا نہیں، پھر جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، میرے پاس لے آتے“ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا تاکہ آپ ان سے مزید تحقیق کر لیتے، نہ اس لیے کہ آپ انہیں چھوڑ دیتے، اور حد قائم نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: تو میں اس وقت حدیث کا مطلب سمجھ سکا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٦،حدیث ٤٤٢٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کر لیا ہے، آپ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ پھیر لیتے تھے، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا: ”کیا یہ دیوانہ تو نہیں؟“ لوگوں نے کہا: نہیں ایسی کوئی بات نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہاں واقعی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا، تو انہیں لا کر سنگسار کر دیا گیا، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٦،حدیث ٤٤٢١)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے، ان کے جسم پر چادر نہ تھی، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی میں نے زنا کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کیا، پھر خطبہ دیا، اور فرمایا: ” خبردار!جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں،تو کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے جو عورتوں کو مانوس کرنے کے لیے یوں آواز نکالتا ہے،جس طرح بکرا(بکری کو اپنے پاس کرنے کے لیے)آواز نکالتا ہے پھر وہ کسی عورت کو تھوڑی سی(لذت)دے دیتا ہے،بے شک اگر اللہ تعالی نے مجھے ان میں سے کسی شخص پر قابو دیا تو میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٦،حدیث ٤٤٢٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم پہلی روایت زیادہ مکمل ہے، اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اسے واپس کیا تھا۔ سماک کہتے ہیں میں نے یہ روایت سعید بن جبیر کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار مرتبہ واپس کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٧،حدیث ٤٤٢٣)
شعبہ بیان کرتے ہیں میں نے سماک سے حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ کثبہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد تھوڑا سا دودھ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٧،حدیث ٤٤٢٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تمہارے متعلق جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے صحیح ہے؟“ وہ بولے: میرے متعلق آپ کو کون سی بات معلوم ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے بنی فلاں کی باندی سے زنا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، پھر چار بار اس کی گواہی دی، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیئے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٧،حدیث ٤٤٢٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور انہوں نے زنا کا دو بار اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھگا دیا، وہ پھر آئے اور انہوں نے پھر دو بار زنا کا اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے خلاف چار بار گواہی دے دی، لے جاؤ اسے سنگسار کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٧،حدیث ٤٤٢٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”شاید تو نے بوسہ لیا ہو گا، یا ہاتھ سے چھوا ہو گا، یا دیکھا ہو گا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، ایسا نہیں ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو اس اقرار کے بعد آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٧،حدیث ٤٤٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا“ بولا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ہے“ اس نے کہا: ہاں ایسے ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے معلوم ہے زنا کیا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، میں نے اس سے حرام طور پر وہ کام کیا ہے، جو آدمی اپنی بیوی سے حلال طور پر کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اچھا، اب تیرا اس سے کیا مطلب ہے؟“ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں آپ مجھے گناہ سے پاک کر دیجئیے، پھر آپ نے حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں کو یہ کہتے سنا کہ اس شخص کو دیکھو، اللہ نے اس کی ستر پوشی کی، لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکا یہاں تک کہ پتھروں سے اسی طرح مارا گیا جیسے کتا مارا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے، اور تھوڑی دیر چلتے رہے، یہاں تک کہ ایک مرے ہوئے گدھے کی لاش پر سے گزرے جس کے پاؤں اٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟“ وہ دونوں بولے: ہم حاضر ہیں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ“ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا گوشت کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عیب جوئی کی ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ سخت ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٨،حدیث ٤٤٢٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے،جس میں یہ الفاظ زائد ہیں:بعض راویوں نے اس بارے میں مجھ سے مختلف الفاظ نقل کیا ہے،بعض نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اسے ایک درخت کے ساتھ باندھا گیا تھا،اور بعض نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں اسے، کھڑا کر دیا گیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٨،حدیث ٤٤٢٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا، پھر اس نے آ کر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اپنا منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہیاں دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تجھے جنون ہے؟“ اس نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو شادی شدہ ہے“ اس نے کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا، تو انہیں عید گاہ میں رجم کر دیا گیا، جب ان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی تو وہ بھاگے، پھر پکڑ لیے گئے، اور پتھروں سے مارے گئے، یہاں تک کہ ان کی موت ہو گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٨،حدیث ٤٤٣٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کی طرف چلے، قسم اللہ کی! نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا، لیکن وہ خود کھڑے ہو گئے، ہم نے انہیں ہڈیوں، ڈھیلوں اور مٹی کے برتن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے مار ا، تو وہ ادھر ادھر دوڑنے لگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ پتھریلی جگہ کی طرف آئے تو وہ کھڑے ہو گئے ہم نے انہیں حرہ کے بڑے بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے، تو نہ تو آپ نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی، اور نہ ہی انہیں برا کہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٩،حدیث ٤٤٣١)
ابونضرہ سے روایت ہے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آگے اسی جیسی روایت ہے، اور پوری نہیں ہے اس میں ہے: لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے، تو آپ نے انہیں منع فرمایا، پھر لوگ اس کی مغفرت کی دعا کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا، اور فرمایا: ” وہ ایک ایسا شخص ہے جس نے گناہ کا ارتکاب کیا،تو اللہ تعالی اس سے حساب لے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٩،حدیث ٤٤٣٢)
ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کو سونگھا بھی تھا۔(کہ کہیں وہ نشے کی حالت میں تو نہیں ہیں۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٩،حدیث ٤٤٣٣)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ(قبیلہ غامد کی ایک عورت)اور حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہما دونوں اگر اقرار سے پھر جاتے، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کر چکے تھے (اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٤٩،حدیث ٤٤٣٤)
خالد بن لجلاج کا بیان ہے کہ ان کے والد الجلاج نے انہیں بتایا کہ وہ بیٹھے بازار میں کام کر رہے تھے اتنے میں ایک عورت ایک لڑکے کو لیے گزری تو لوگ اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ان اٹھنے والوں میں میں بھی تھا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ اس سے پوچھ رہے تھے: ”اس بچہ کا باپ کون ہے؟“ وہ عورت چپ تھی، ایک نوجوان جو اس کے برابر میں تھا بولا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: ”اس بچے کا باپ کون ہے؟“ تو نوجوان نے پھر کہا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے کسی کی طرف دیکھا، آپ ان سے اس نوجوان کے متعلق دریافت فرما رہے تھے؟ تو لوگوں نے کہا: ہم تو اسے نیک ہی جانتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا، اس میں ہے کہ ہم اس کو لے کر نکلے اور ایک گڑھے میں اسے گاڑا پھر پتھروں سے اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، اتنے میں ایک شخص آیا، اور اس رجم کئے گئے شخص کے متعلق پوچھنے لگا، تو اسے لے کر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ہم نے کہا: یہ اس خبیث کے متعلق پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“ پھر پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا ہم نے اس کے غسل اور کفن دفن میں اس کی مدد کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ”اور اس پر نماز جنازہ ادا کرنے کا ذکر کیا یا نہیں“ یہ عبدہ کی روایت ہے، اور زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٠،حدیث ٤٤٣٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت لجلاج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں روایت کا کچھ حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٠،حدیث ٤٤٣٦)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اقرار کیا کہ اس نے آپ کے سامنے ایک عورت کا نام بھی ذکر کیا، زنا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا، اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو آپ نے اس مرد پر حد نافذ کی، اسے سو کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٠،حدیث ٤٤٣٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے حد میں کوڑے لگائے گئے پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ تھا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو محمد بن بکر برسانی نے ابن جریج سے جابر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ابن وہب نے کیا ہے، اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا، اس کے شادی شدہ ہونے کا علم نہیں تھا، تو اسے کوڑے مارے گئے، پھر پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥١،حدیث ٤٤٣٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا،اس مرد کے شادی شدہ ہونے کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا،اسے کوڑے لگوائے گئے پھر پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے،تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ؛ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥١،حدیث ٤٤٣٩)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، اور وہ حاملہ ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا، اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا، اور جب یہ حمل وضع کر چکے تو اسے لے کر آنا“ چنانچہ جب وہ حمل وضع کر چکی تو وہ اسے لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول!کیا آپ نے اس کے نماز جنازہ ادا کی،حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو انہیں کافی ہو گی، کیا تم اس سے بہتر کوئی بات پاؤ گے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟“۔ ابان کی روایت میں ”اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ؛ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا؛جلد٤،ص١٥١،حدیث ٤٤٤٠)
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں اس کے کپڑے مضبوطی سے باندھ دیے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ؛ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا؛جلد٤،ص١٥٢،حدیث ٤٤٤١)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کی: میں نے زنا کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جاؤ“، چنانچہ وہ واپس چلی گئی، دوسرے دن وہ پھر آئی، اور کہنے لگی: شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ واپس جاؤ“ چنانچہ وہ پھر واپس چلی گئی، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: ”جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہو جائے پھر آنا“ چنانچہ وہ چلی گئی، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی، اور کہا: اسے میں جن چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو“ دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے، اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے، تو وہ رجم کر دی گئی۔ خالد رضی اللہ عنہ اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ بھتہ وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہو جاتی“، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ؛ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا؛جلد٤،ص١٥٢،حدیث ٤٤٤٢)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کروایا تو اس کے لیے ایک گڈھا سینے تک کھودا گیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: غسانی کا کہنا ہے کہ جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ؛ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا؛جلد٤،ص١٥٢،حدیث ٤٤٤٣)
امام ابوداؤد کہتے ہیں مجھ سے یہ حدیث عبدالصمد بن عبدالوارث کے واسطہ سے بیان کی گئی ہے، زکریا بن سلیم نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چنے کے برابر ایک کنکری سے مارا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مارو لیکن چہرے کو بچا کر مارنا“ پھر جب وہ مر گئی تو آپ نے اسے نکالا، پھر اس پر نماز پڑھی، اور توبہ کے سلسلہ میں ویسے ہی فرمایا جیسے بریدہ کی روایت میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ؛ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا؛جلد٤،ص١٥٢،حدیث ٤٤٤٤)
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اچھا کہو“ اس نے کہنا شروع کیا: میرا بیٹا اس کے یہاں «عسیف» یعنی مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم اس کی بیوی پر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں ضرور بالضرور تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تو یہ تمہیں واپس ملیں گی“ اور اس کے بیٹے کو آپ نے سو کوڑے لگوائے، اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، اور اس سے پوچھیں اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دیں، چنانچہ اس نے اقرار کر لیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ؛ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا؛جلد٤،ص١٥٣،حدیث ٤٤٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کر لیا ہے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم تورات میں زنا کے معاملہ میں کیا حکم پاتے ہو؟“ تو ان لوگوں نے کہا: ہم انہیں رسوا کرتے اور کوڑے لگاتے ہیں، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ جھوٹ کہتے ہو، اس میں تو رجم کا حکم ہے، چنانچہ وہ لوگ تورات لے کر آئے، اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، پھر وہ اس کے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا، تو عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ، اس نے اٹھایا تو وہیں آیت رجم ملی، تو وہ کہنے لگے: صحیح ہے اے محمد! اس میں رجم کی آیت موجود ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ دونوں رجم کر دیے گئے۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٣،حدیث ٤٤٤٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ تو اس نے کہا: رجم ہے، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائے اور جو ایسے نہ ہوں ان پر حد جاری کی جائے، تو ہم نے اس حکم ہی کو اپنے اوپر سے اٹھا لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری کتاب میں سے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٣،حدیث ٤٤٤٧)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کو لے جایا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: نہیں، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے، لیکن جب ہمارے معزز اور شریف لوگوں میں اس کا کثرت سے رواج ہو گیا تو جب ہم کسی معزز شخص کو اس جرم میں پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کرتے تھے، پھر ہم نے کہا: آؤ ہم تم اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اسے شریف اور کم حیثیت دونوں پر جاری کریں گے، تو ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے پر اتفاق کر لیا، اور رجم کو چھوڑ دیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا ہے، جبکہ ان لوگوں نے اسے ختم کر دیا تھا“ پھر آپ نے اسے رجم کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی:(ترجمہ) اے رسول!وہ لوگ جو کفر کی طرف تیزی کرتے ہیں وہ تمہیں غمگین نہ کریں۔"یہ ایت یہاں تک ہے"وہ لوگ یہ کہتے ہیں اگر تمہیں یہ دے دیا گیا تو اسے حاصل کر لو اگر نہیں دیا گیا تو اس سے بچ جاؤ" یہ ایت یہاں تک ہے" اور جو شخص اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا جو اللہ تعالی نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ کافر ہیں" یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی: اور جو لوگ اس چیز کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے جسے اللہ نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں" اس سے مراد بھی یہودی ہے۔ یہ آیت یہاں تک ہے: "اور جو لوگ اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے جو اللہ تعالی نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ فاسق ہیں۔ (راوی کہتے ہیں)یہ تمام آیات کفار کے بارے میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٤،حدیث ٤٤٤٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی قف لے گئے آپ ان کے پاس ان کی ایک درسگاہ میں آئے تو وہ کہنے لگے: ابوالقاسم! ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کر لیا ہے، آپ ان کا فیصلہ کر دیجئیے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گاؤ تکیہ لگایا، آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے پاس تورات لاؤ“ چنانچہ وہ لائی گئی، آپ نے اپنے نیچے سے گاؤ تکیہ نکالا، اور تورات کو اس پر رکھا اور فرمایا: ”میں تجھ پر ایمان لایا اور اس نبی پر جس پر اللہ نے تجھے نازل کیا ہے“ پھر آپ نے فرمایا: ”جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اسے بلاؤ“ چنانچہ ایک نوجوان کو بلا کر لایا گیا آگے واقعہ رجم کا اسی طرح ذکر ہے جیسے مالک کی روایت میں ہے جسے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٥،حدیث ٤٤٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا تو ان میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: ہم سب اس نبی کے پاس چلیں کیونکہ وہ تخفیف و آسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، اگر اس نے رجم کے علاوہ کوئی اور فتویٰ دیا تو ہم اسے مان لیں گے، اور اسے اللہ کے سامنے دلیل بنائیں گے، ہم کہیں گے کہ یہ تیرے نبیوں میں سے ایک نبی کا فتویٰ ہے، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ مسجد نبوی میں اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اور پوچھنے لگے: آپ اس مرد اور عورت کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے زنا کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا جب تک کہ آپ ان کے درسگاہ والے جگہ میں نہیں آ گئے، پھر درسگاہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے بتاؤ تم تورات میں اس شخص کا کیا حکم پاتے ہو جو شادی شدہ ہو کر زنا کرے؟“ لوگوں نے کہا: اس کا منہ کالا کیا جائے گا، اسے گدھے پر بٹھا کر پھرایا جائے گا، اور کوڑے لگائے جائیں گے ( «تَجبیہ» یہ ہے کہ مرد اور عورت کو گدھے پر اس طرح سوار کیا جائے کہ ان کی گدی ایک دوسرے کے مقابل میں ہو، اور انہیں پھرایا جائے) ان میں کا ایک نوجوان چپ رہا، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاموش دیکھا تو اس سے سخت قسم دلا کر پوچھا، تو اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: جب آپ نے ہمیں قسم دلائی ہے تو صحیح یہی ہے کہ تورات میں ایسے شخص کا حکم رجم ہے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کب سے تم لوگوں نے اللہ کے اس حکم کو چھوڑ رکھا ہے؟“ تو اس نے بتایا: ہمارے بادشاہوں میں ایک بادشاہ کے کسی رشتہ دار نے زنا کیا تو اس نے اسے رجم نہیں کیا، پھر ایک عام شخص نے زنا کیا، تو بادشاہ نے اسے رجم کرنا چاہا تو اس کی قوم کے لوگ آڑے آ گئے، اور کہنے لگے: ہمارے آدمی کو اس وقت تک رجم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ آپ اپنے آدمی کو لا کر رجم نہ کر دیں، چنانچہ اس سزا پر لوگوں نے آپس میں مصالحت کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو تورات میں ہے“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا۔ زہری کہتے ہیں: ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آیت کریمہ «إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا» ”ہم نے تورات نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے اللہ کے ماننے والے انبیاء کرام اسی سے فیصلہ کرتے تھے“ (المائدہ: ۴۴) انہیں کے بارے میں اتری ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں میں سے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٥،حدیث ٤٤٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو تورات میں ان لوگوں پر سنگسار کرنے کی سزا لازم کی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ «تَجبیہ» کو اختیار کر لیا تھا، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پیٹھ کی طرف ہوتا، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا: ”اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو (سورۃ المائدہ: ۴۲)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٦،حدیث ٤٤٥١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ“ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا: ”تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو؟“ ان دونوں نے کہا: ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو پھر انہیں رجم کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہماری سلطنت تو رہی نہیں اس لیے اب ہمیں قتل اچھا نہیں لگتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلایا، وہ چار گواہ لے کر آئے، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٦،حدیث ٤٤٥٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے تاہم اس میں یہ مذکور نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوایا اور انہوں نے گواہی دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٧،حدیث ٤٤٥٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٧،حدیث ٤٤٥٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور عورت کو سنگسار کروایا تھا ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ؛دو یہودیوں کے رجم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٧،حدیث ٤٤٥٥)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران سامنے سے کچھ گھوڑ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِحَرِيمِهِ؛محرم سے زنا کرنے والے کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٧،حدیث ٤٤٥٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِحَرِيمِهِ؛محرم سے زنا کرنے والے کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٧،حدیث ٤٤٥٧)
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی، معاملہ کوفہ کے امیر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا: میں بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کر دیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کر دیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ؛بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٧،حدیث ٤٤٥٨)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو: ”اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کر دیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ؛بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٨،حدیث ٤٤٥٩)
حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی، اور اگر لونڈی نے خوشی سے زنا کیا ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ؛بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٨،حدیث ٤٤٦٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں اگر اس کنیز نے رضامندی کے ساتھ اس کے ساتھ یہ عمل کیا تھا تو اس کنیز کی قیمت جتنا مال اس کی مالکن کو ادا کرنا ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ؛بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٥٨،حدیث ٤٤٦١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قوم لوط کا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث کے طور پر منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِيمَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ؛قوم لوط کے فعل کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٥٨،حدیث ٤٤٦٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر کنوارا قوم لوط کا ایسا عمل کرتا ہے تو اسے سنگسار کیا جائے گا امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں؛ عاصم کی نقل کردہ روایت عمرو بن ابو عمرو کی نقل کردہ روایت کو ضعیف کر دیتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِيمَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ؛قوم لوط کے فعل کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٥٩،حدیث ٤٤٦٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو“۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِيمَنْ أَتَى بَهِيمَةً؛جانور سے جماع کرنے والے کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٥٩،حدیث ٤٤٦٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِيمَنْ أَتَى بَهِيمَةً؛جانور سے جماع کرنے والے کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٥٩،حدیث ٤٤٦٥)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ بِالزِّنَا وَلَمْ تُقِرَّ الْمَرْأَةُ؛جب مرد زنا کا اقرار کرے اور عورت انکار کرے تو کیا ہو گا؟؛جلد٤،ص١٥٩،حدیث ٤٤٦٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا: قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی (۸۰) کوڑے لگائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ بِالزِّنَا وَلَمْ تُقِرَّ الْمَرْأَةُ؛جب مرد زنا کا اقرار کرے اور عورت انکار کرے تو کیا ہو گا؟؛جلد٤،ص١٥٩،حدیث ٤٤٦٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس کے سامنے یہ تلاوت فرمائی؛ (ترجمہ)"دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو"یہ آیت آخر تک(ھود: ۱۱۴) تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے لوگوں کے لیے ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ دُونَ الْجِمَاعِ فَيَتُوبُ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَهُ الإِمَامُ؛آدمی عورت سے جماع کے علاوہ کچھ کر لے پھر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو کیا حکم ہے؟؛جلد٤،ص١٦٠،حدیث ٤٤٦٨)
حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو (تو اس کا کیا حکم ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو“۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا: یا چوتھی بار میں اور «ضفیر» کے معنی ”رسی“ کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ؛غیر شادی شدہ لونڈی زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟؛جلد٤،ص١٦٠،حدیث ٤٤٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ؛غیر شادی شدہ لونڈی زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟؛جلد٤،ص١٦٠،حدیث ٤٤٧٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں ہے کہ ہر بار اسے اللہ کی کتاب کے موافق کوڑے مارے اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر نہ چھوڑ دے، یا حد لگانے کے بعد پھر نہ ڈانٹے، اور چوتھی بار میں فرمایا: اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے اللہ کی کتاب کے موافق حد لگائے، پھر چاہیئے کہ اسے بیچ دے، گو بال کی ایک رسی ہی کے بدلے کیوں نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ؛غیر شادی شدہ لونڈی زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟؛جلد٤،ص١٦٠،حدیث ٤٤٧١)
ابوامامہ سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس کسی شخص کی کنیز آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْمَرِيضِ؛مریض پر حد نافذ کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٦١،حدیث ٤٤٧٢)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی ایک کنیز نے زنا کاری کر لی تو آپ نے فرمایا: ”علی! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو“ میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”علی! کیا حد لگا کر آ گئے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہو جائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے“ لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْمَرِيضِ؛مریض پر حد نافذ کرنے کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٦١،حدیث ٤٤٧٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے اس کا ذکر کیا، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي حَدِّ الْقَذْفِ؛زنا کی تہمت کی حد کا بیان؛جلد٤،ص١٦٢،حدیث ٤٤٧٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ محمد بن اسحاق سے مروی ہے اس میں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی (کوڑے لگانے کا) حکم دیا، وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے نفیل کہتے ہیں: اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛ باب فِي حَدِّ الْقَذْفِ؛زنا کی تہمت کی حد کا بیان؛جلد٤،ص١٦٢،حدیث ٤٤٧٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس رضی اللہ عنہ کے مکان میں جا گھسا، اور ان سے چمٹ گیا، پھر یہ قصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے، اور صرف اتنا فرمایا: ”کیا اس نے ایسا کیا ہے؟“ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ؛شراب کی حد کا بیان؛جلد٤،ص١٦٢،حدیث ٤٤٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا: ”اسے مارو“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ؛شراب کی حد کا بیان؛جلد٤،ص١٦٣،حدیث ٤٤٧٧)
ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ اسے مارنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”تم لوگ اسے تنبیہ کرو“، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے: ”نہ تو تو اللہ سے ڈرا، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمایا“ پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، اور اس کے آخر میں ہے: ”لیکن یوں کہو: اے اللہ اس کو بخش دے، اس پر ر حم فرما“ کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ؛شراب کی حد کا بیان؛جلد٤،ص١٦٣،حدیث ٤٤٧٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے پٹائی کروائی تھی، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلایا، اور ان سے کہا: لوگ گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (اور مسدد کی روایت میں ہے) بستیوں اور گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (یعنی شراب زیادہ پینے لگے ہیں) تو اب شراب کی حد کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ان سے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے ہلکی جو حد ہے وہی آپ اس میں مقرر کر دیں، چنانچہ اسی (۸۰) کوڑے مارنے کا حکم ہوا (کیونکہ سب سے ہلکی حد یہی حدقذف تھی)۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے چالیس مار مروائی۔ اور اسے شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس کے قریب مار مروائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ؛شراب کی حد کا بیان؛جلد٤،ص١٦٣،حدیث ٤٤٧٩)
حضین بن منذر رقاشی ابوساسان کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو ان کے پاس لایا گیا، اور حمران اور ایک اور شخص نے اس کے خلاف گواہی دی، ان میں سے ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے، اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اسے (شراب) قے کرتے دیکھا ہے، تو حضرت عثمان نے کہا: جب تک پیئے گا نہیں قے نہیں کر سکتا، پھر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اس پر حد قائم کرو، تو حضرت علی نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو حسن نے کہا:آپ کی تپش کا نگران اسی کو بناے،جو اس کی ٹھنڈک کا نگران ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو انہوں نے کوڑا لے کر اسے مارنا شروع کیا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گننے لگے، تو جب چالیس کوڑے ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بس کافی ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے ہی مارے ہیں، اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے ہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی، اور سب سنت ہے، اور یہ چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ؛شراب کی حد کا بیان؛جلد٤،ص١٦٣،حدیث ٤٤٨٠)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے پورے کئے، اور یہ سب سنت ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی کہتے ہیں: «من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها» اس کی تفش کا نگران اسی کو بنائے جو اس کی ٹھنڈک کا نگران ہے،اس سے مراد یہ ہے سختی کا نگران اسے بنائیں جو اس بارے میں نرمی کا نگران ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛حدود کا بیان؛باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ؛شراب کی حد کا بیان؛جلد٤،ص١٦٤،حدیث ٤٤٨١)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو انہیں قتل کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ؛جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٦٤،حدیث ٤٤٨٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، اس میں یہ ہے کہ میرا خیال ہے کہ پانچویں بار میں فرمایا: ”پھر اگر وہ پئے تو اسے قتل کر دو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوغطیف کی روایت میں پانچویں بار کا ذکر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ؛جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٦٤،حدیث ٤٤٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرابی جب نشہ سے مست ہو جائے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو، اور اگر چوتھی بار پھر ایسا ہی کرے تو اسے قتل کر دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عمر بن ابی سلمہ کی روایت ہے جسے وہ اپنے والد سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر چوتھی بار پھر ویسے ہی کرے تو اسے قتل کر دو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سہیل کی حدیث ہے جسے وہ ابوصالح سے اور ابوصالح ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اگر وہ چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو“۔ اور اسی طرح ابن ابی نعم کی روایت بھی ہے جسے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور شرید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت بھی ہے، اور جدلی کی روایت میں ہے جسے وہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ تیسری یا چوتھی بار پھر کرے تو اسے قتل کر دو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ؛جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٦٤،حدیث ٤٤٨٤)
حضرت قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو“ تو ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگوائے، پھر اسے لایا گیا، آپ نے پھر اسے کوڑے لگوائے، پھر اسے لایا گیا، تو آپ نے اسے کوڑے لگواے ، پھر لایا گیا تو پھر آپ نے کوڑے ہی لگواے، اور قتل کا حکم اٹھا دیا اور رخصت ہو گئی۔ سفیان کہتے ہیں: زہری نے اس حدیث کو بیان کیا اور ان کے پاس منصور بن معتمر اور مخول بن راشد موجود تھے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: تم دونوں اہل عراق کے لیے یہ حدیث یہاں سے تحفے میں لیتے جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شرید بن سوید، شرحبیل بن اوس، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عمر، ابوغطیف کندی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ؛جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٦٥،حدیث ٤٤٨٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ؛جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٦٥،حدیث ٤٤٨٦)
حضرت عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ کجاؤں کے درمیان میں کھڑے تھے، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا کجاوہ ڈھونڈ رہے تھے، آپ اسی حالت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: ”اسے مارو“، تو کسی نے جوتے سے، کسی نے چھڑی سے، اور کسی نے کھجور کی ٹہنی سے اسے مارا (ابن وہب کہتے ہیں) «ميتخة» کے معنی کھجور کی تر ٹہنی کے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی لی اور اس کے چہرے پر ڈال دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ؛جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٦٥،حدیث ٤٤٨٧)
حضرت عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا، اور آپ حنین میں تھے، آپ نے اس کے منہ پر خاک ڈال دی، پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے، اور جو چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھیں ان سے مارا، یہاں تک کہ آپ فرمانے لگے: ”بس کرو، بس کرو“ تب لوگوں نے اسے چھوڑا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ فرما گئے تو آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شراب کی حد میں چالیس کوڑے مارتے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں چالیس کوڑے ہی مارے، پھر خلافت کے اخیر میں انہوں نے اسی کوڑے مارے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کبھی اسی کوڑے اور کبھی چالیس کوڑے مارے، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑوں کی تعیین کر دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ؛جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٦٦،حدیث ٤٤٨٨)
عبدالرحمٰن بن ازہر کہتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں ایک نوجوان لڑکا تھا، لوگوں میں گھس کر آیا جایا کرتا تھا، آپ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیام گاہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شرابی لایا گیا، آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا، تو لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی اسی سے انہوں نے اس کی پٹائی کی، کسی نے اسے کوڑے سے، کسی نے لاٹھی سے، کسی نے جوتے سے پیٹا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ان کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مار کے متعلق دریافت کیا جسے آپ نے مارا تھا تو لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ چالیس کوڑے رہے ہوں گے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد چالیس کوڑے مقرر کر دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو خالد بن ولید نے انہیں لکھا کہ لوگ کثرت سے شراب پینے لگے ہیں اور اس کی حد اور سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور لکھا کہ لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے پوچھ لیں، اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین موجود تھے، آپ نے ان سے پوچھا تو سب کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ اسی کوڑے مارے جائیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی جب شراب پیتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اس کی حد بہتان کی حد کر دی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ؛جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان؛جلد٤،ص١٦٦،حدیث ٤٤٨٩)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے، اشعار پڑھنے اور حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں حدود کا نفاذ ممنوع ہے؛جلد٤،ص١٦٧،حدیث ٤٤٩٠)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوڑے دس سے زیادہ نہ مارے جائیں سوائے اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں حدود کا نفاذ ممنوع ہے؛جلد٤،ص١٦٧،حدیث ٤٤٩١)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو بردہ انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں حدود کا نفاذ ممنوع ہے؛جلد٤،ص١٦٧،حدیث ٤٤٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب بھی کوئی شخص(کسی کو)مارے تو اس کے(چہرے پر مارنے سے) بچے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْحُدُودِ؛باب فِي ضَرْبِ الْوَجْهِ فِي الْحَدِّ؛حد میں چہرے پر مارنا منع ہے؛جلد٤،ص١٦٧،حدیث ٤٤٩٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورا منہ کھول کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے (ہلکا سا مسکراتے) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کے ناپسندیدگی کے آثار آپ کے چہرے پر دکھتا،تو (ایک بار) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری (گھبراہٹ اور پریشانی) جھلکتی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟) آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم (قوم عاد) ہوا کے عذاب سے دو چار ہو چکی ہے، اور ایک قوم نے (بدلی کا) عذاب دیکھا، تو وہ کہنے لگی «هذا عارض ممطرنا»: یہ بادل تو ہم پر برسے گا(الأحقاف، ٢٤)(وہ برسا تو لیکن، بارش پتھروں کی ہوئی، سب ہلاک کر دیے گئے)۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا هَاجَتِ الرِّيحُ؛جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٥،حدیث نمبر ٥٠٩٨)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Hudood
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الحدود
|
•