
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر دو (یہودی) قبیلے تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ باعزت تھے، جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے اس کے بدلے قتل کر دیا جاتا، اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو سو وسق کھجور فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا جاتا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، نضیر نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کریں گے، چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آیت «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ”اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو“(المائدہ ٤٢)اتری، اور انصاف کی بات یہ تھی کہ جان کے بدلے جان لی جائے، پھر آیت «أفحكم الجاهلية يبغون» ”کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں؟“ نازل ہوئی(المائدہ ٥٠) امام ابوداؤد کہتے ہیں: قریظہ اور نضیر دونوں ہارون علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب النَّفْسِ بِالنَّفْسِ؛جان کے بدلے جان لینے کا بیان؛جلد٤،ص١٦٨،حدیث ٤٤٩٤)
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے میرے والد سے پوچھا: ”یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ میرے والد نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعی؟“ انہوں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، کیونکہ میں اپنے والد کے مشابہ تھا، اور میرے والد نے قسم کھائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! نہ یہ تمہارے جرم میں پکڑا جائے گا، اور نہ تم اس کے جرم میں“ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی“ (الانعام:١٦٤)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب لاَ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ أَوْ أَبِيهِ؛کسی سے اس کے بھائی اور باپ کے جرم کا بدلہ نہ لیا جائے؛جلد٤،ص١٦٨،حدیث ٤٤٩٥)
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر کوئی شخص قتل ہو جائے یا اس کا کوئی عضو ضائع ہو جائے تو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا: یا تو قصاص لے لے، یا معاف کر دے، یا دیت لے لے، اگر وہ ان کے علاوہ کوئی چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو، اور جس نے ان (اختیارات) میں زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ؛امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٦٩،حدیث ٤٤٩٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے یہ بات دیکھی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب بھی کوئی ایسا مقدمہ پیش ہوا جس میں قصاص کی صورت ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم معاف کرنے کے ہدایت کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ؛امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٦٩،حدیث ٤٤٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص قتل کر دیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا، آپ نے اس (قاتل) کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا، قاتل کہنے لگا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث سے فرمایا: ”سنو! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا، تو تم جہنم میں جاؤ گے“ یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑ گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ؛امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٦٩،حدیث ٤٤٩٨)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا، اور اس سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا دیت لو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا تم قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا لے جاؤ اسے“ چنانچہ جب وہ (اسے لے کر) چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اسے معاف کرو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیت لو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“ چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا“ یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا۔ وائل کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ؛امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٦٩،حدیث ٤٤٩٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ؛امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٧٠،حدیث ٤٥٠٠)
حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: ”تم نے اسے کیسے قتل کر دیا؟“ وہ بولا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر گیا، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کر سکو“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کر سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کر دیں گے؟“ اس نے کہا: نہیں، تب آپ نے اس شخص (مقتول کے وارث) سے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا: ”اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا“ وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا:یہ رہا،آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہو گا“ چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ؛امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٧٠،حدیث ٤٥٠١)
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، آپ گھر میں محصور تھے، گھر میں داخل ہونے کا ایک راستہ ایسا تھا کہ جو اس میں داخل ہو جاتا وہ باہر سطح زمین پر کھڑے لوگوں کی گفتگو سن سکتا تھا، حضرت عثمان اس میں داخل ہوئے اور ہمارے پاس لوٹے تو ان کا رنگ متغیر تھا، کہنے لگے: ان لوگوں نے ابھی ابھی مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے، تو ہم نے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ کی ان سے حفاظت کے لیے اللہ کافی ہے، اس پر انہوں نے کہا: آخر یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”تین باتوں کے بغیر کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں: ایک یہ کہ اسلام لانے کے بعد وہ کفر کا ارتکاب کرے، دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہو کر زنا کرے، اور تیسرے یہ کہ ناحق کسی کو قتل کر دے“ تو اللہ کی قسم! میں نے نہ تو جاہلیت میں، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی زنا کیا، اور جب سے اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہے میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میرا دین اس کے بجائے کوئی اور ہو، اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو آخر کس بنیاد پر مجھے یہ قتل کریں گے؟۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں:حضرت عثمان اور ابوبکر رضی اللہ عنہما نے تو جاہلیت میں بھی شراب سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ؛امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٧١،حدیث ٤٥٠٢)
حضرت زبیر بن عوام اور ان کے والد عوام رضی اللہ عنہما (یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) سے روایت ہے کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کر دیا، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں، اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟“ عیینہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟“ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ ڈھال تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو، اور پچاس مدینے لوٹ کر دینا“۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے، اب میں توبہ کرتا ہوں، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ آواز بلند فرمایا: ”کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے، اے اللہ! محلم کو نہ بخشنا“ ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں: محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ «غير» کے معنی دیت کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛دیتوں کا بیان؛باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ؛امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص١٧١،حدیث ٤٥٠٣)
حضرت ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو خزاعہ کے لوگو! تم نے ہذیل کے اس شخص کو قتل کیا ہے، اور میں اس کی دیت ادا کروں گا، میری اس گفتگو کے بعد کوئی قتل کیا گیا تو مقتول کے لوگوں کو دو باتوں کا اختیار ہو گا یا وہ دیت لے لیں یا قتل کر ڈالیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب وَلِيِّ الْعَمْدِ يَأْخُذُ الدِّيَةَ؛ قتل امد کے مقتول کے وارث کا دیت وصول کر لینا ہے؛جلد٤،ص١٧٢،حدیث ٤٥٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: ”جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے“ یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھوا دیجئیے (عباس بن ولید کی روایت «اکتب لی» کے بجائے «اکتبوا لی» یہ صیغۂ جمع ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو شاہ کے لیے لکھ دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اکتبوا لی» سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب وَلِيِّ الْعَمْدِ يَأْخُذُ الدِّيَةَ؛ قتل امد کے مقتول کے وارث کا دیت وصول کر لینا ہے؛جلد٤،ص١٧٢،حدیث ٤٥٠٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب وَلِيِّ الْعَمْدِ يَأْخُذُ الدِّيَةَ؛ قتل امد کے مقتول کے وارث کا دیت وصول کر لینا ہے؛جلد٤،ص١٧٣،حدیث ٤٥٠٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے ہرگز نہیں معاف کروں گاجو دیت لینے کے بعد بھی (قاتل کو) قتل کر دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِ الدِّيَةِ؛جو شخص قاتل سے دیت لے کر پھر اس کو قتل کر دے اس کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٧٣،حدیث ٤٥٠٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا، تو اس نے کہا: میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا، آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل تجھے یہ نہیں کرنے دے گا(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)مجھ پر مسلط نہیں کرے گا“ صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں، آپ نے فرمایا: ”نہیں“ چنانچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے(حلق میں موجود کوے) میں دیکھا کرتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ؛آدمی نے کسی کو زہر پلایا یا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟؛جلد٤،ص١٧٣،حدیث ٤٥٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری بھیجی، لیکن آپ نے اس عورت سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرحب کی ایک یہودی بہن تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ؛آدمی نے کسی کو زہر پلایا یا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟؛جلد٤،ص١٧٣،حدیث ٤٥٠٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں بھیجا، آپ نے دست کا گوشت لے کر اس میں سے کچھ کھایا، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا، پھر ان سے آپ نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ روک لو“ اور آپ نے اس یہودیہ کو بلا بھیجا، اور اس سے سوال کیا: ”کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟“ یہودیہ بولی: آپ کو کس نے بتایا؟ آپ نے فرمایا: ”دست کے اسی گوشت نے مجھے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے“ وہ بولی: ہاں (میں نے ملایا تھا)، آپ نے پوچھا: ”اس سے تیرا کیا ارادہ تھا؟“ وہ بولی: میں نے سوچا: اگر نبی ہوں گے تو زہر نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر نہیں ہوں گے تو ہم کو ان سے نجات مل جائے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا، کوئی سزا نہیں دی، اور آپ کے بعض صحابہ جنہوں نے بکری کا گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے شانوں کے درمیان پچھنے لگوائے، جسے ابوہند نے آپ کو سینگ اور چھری سے لگایا، ابوہند انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کے غلام تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ؛آدمی نے کسی کو زہر پلایا یا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟؛جلد٤،ص١٧٣،حدیث ٤٥١٠)
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی، پھر راوی نے ویسے ہی بیان کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے، ابوسلمہ کہتے ہیں: پھر بشر بن براء بن معرور انصاری فوت ہو گئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟“ پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا: تو وہ قتل کر دی گئی، اور انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ؛آدمی نے کسی کو زہر پلایا یا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟؛جلد٤،ص١٧٤،حدیث ٤٥١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر حضرت ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”اپنے ہاتھ روک لو، اس (گوشت) نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے“ چنانچہ بشر بن براء بن معرور انصاری مر گئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا: ”ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟“ وہ بولی: اگر آپ نبی ہیں تو جو میں نے کیا ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں نے لوگوں کو آپ سے نجات دلا دی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ قتل کر دی گئی، پھر آپ نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں فرمایا: جس میں آپ نے وفات پائی کہ میں برابر خیبر کے اس کھانے کے اثر کو محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ؛آدمی نے کسی کو زہر پلایا یا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟؛جلد٤،ص١٧٤،حدیث ٤٥١٢)
حضرت کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی کہا: اللہ کے رسول! آپ کا شک کس چیز پر ہے؟ میرے بیٹے کے سلسلہ میں میرا شک تو اس زہر آلود بکری پر ہے جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سلسلہ میں بھی میرا شک اسی پر ہے، اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کبھی اس حدیث کو معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور کبھی معمر نے اسے زہری سے اور، زہری نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس حدیث کو ان سے کبھی مرسلاً روایت کرتے تو وہ اسے لکھ لیتے اور کبھی مسنداً روایت کرتے تو بھی وہ اسے بھی لکھ لیتے، اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: جب ابن مبارک معمر کے پاس آئے تو معمر نے وہ تمام حدیثیں جنہیں وہ موقوفاً روایت کرتے تھے ان سے متصلًا روایت کیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ؛آدمی نے کسی کو زہر پلایا یا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟؛جلد٤،ص١٧٥،حدیث ٤٥١٣)
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے، اس میں ہے کہ بشر بن براء بن معرور مر گئے، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا: ”یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟“ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ؛آدمی نے کسی کو زہر پلایا یا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟؛جلد٤،ص١٧٥،حدیث ٤٥١٤)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ أَوْ مَثَّلَ بِهِ أَيُقَادُ مِنْهُ؛جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟؛جلد٤،ص١٧٦،حدیث ٤٥١٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی قتادہ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے“ اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ أَوْ مَثَّلَ بِهِ أَيُقَادُ مِنْهُ؛جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟؛جلد٤،ص١٧٦،حدیث ٤٥١٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ قتادہ سے شعبہ کی سند والی روایت کے مثل مروی ہے اس میں اضافہ ہے کہ پھر حسن (راوی حدیث) اس حدیث کو بھول گئے چنانچہ وہ کہتے تھے: کسی غلام شخص کے بدلے میں ازاد شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ أَوْ مَثَّلَ بِهِ أَيُقَادُ مِنْهُ؛جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟؛جلد٤،ص١٧٦،حدیث ٤٥١٧)
حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں غلام کے بدلے میں آزاد شخص کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ أَوْ مَثَّلَ بِهِ أَيُقَادُ مِنْهُ؛جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟؛جلد٤،ص١٧٦،حدیث ٤٥١٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا: ”ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا؟“ اس نے کہا: برا ہوا، اس نے بتایا کہ اس کے مالک نے اپنی کنیز کو اس کے ساتھ دیکھ لیا تو غصے میں آکر اس کی شرم گاہ کو کاٹ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو میرے پاس لاؤ“ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے (اس غلام سے) فرمایا: ”جاؤ تم آزاد ہو“ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہر مومن پر“ یا کہا: ”ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ أَوْ مَثَّلَ بِهِ أَيُقَادُ مِنْهُ؛جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟؛جلد٤،ص١٧٦،حدیث ٤٥١٩)
سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں (چلتے چلتے) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے، پھر عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑوں کا لحاظ کرو“ (اور انہیں گفتگو کا موقع دو) یا یوں فرمایا: ”بڑے کو پہلے بولنے دو“ چنانچہ ان دونوں (حویصہ اور محیصہ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کر دیا جائے“ ان لوگوں نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے“ وہ بولے: اللہ کے رسول! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی، سہل کہتے ہیں: ایک دن میں ان کے باڑے میں گیا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ”کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو؟“ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے ابتداء «تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون» سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب القتل باالْقَسَامَةِ؛قسامہ کا بیان؛جلد٤،ص١٧٧،حدیث ٤٥٢٠)
حضرت سہل بن ابو حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا، وہ (محیصہ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے: قسم اللہ کی! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے، وہ بولے: اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آئے، محیصہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کیونکہ وہی خیبر میں ساتھ تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے کو موقع دو“ آپ کی مراد عمر میں بڑائی سے تھی چنانچہ حویصہ نے گفتگو کی، پھر محیصہ نے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا تو یہ لوگ تمہارے آدمی کی دیت دیں، یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں“ پھر آپ نے اس سلسلے میں انہیں خط لکھا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، تو آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے پوچھا: ”کیا تم قسم کھاؤ گے کہ اپنے بھائی کے خون کا مستحق بن سکو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اس پر آپ نے فرمایا: ”تو پھر یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے“ اس پر وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی، اور سو اونٹ بھیج دیے گئے یہاں تک کہ وہ ان کے مکان میں داخل کر دیے گئے، سہل کہتے ہیں: انہیں میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب القتل باالْقَسَامَةِ؛قسامہ کا بیان؛جلد٤،ص١٧٧،حدیث ٤٥٢١)
عمرو بن شعیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃالرغاء میں لیۃالبحرہ کے کنارے پر قتل کیا، راوی کہتے ہیں: قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے، «ببحرة الرغاء على شطر لية البحر» کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب القتل باالْقَسَامَةِ؛قسامہ کا بیان؛جلد٤،ص١٧٨،حدیث ٤٥٢٢)
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن ابا حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے: ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا: ”پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے“ وہ کہنے لگے: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب فِي تَرْكِ الْقَوَدِ بِالْقَسَامَةِ؛قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان؛جلد٤،ص١٧٨،حدیث ٤٥٢٣)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کر دیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہو جانے کی گواہی دیں؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کر لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو“ لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب فِي تَرْكِ الْقَوَدِ بِالْقَسَامَةِ؛قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان؛جلد٤،ص١٧٩،حدیث ٤٥٢٤)
حضرت عبدالرحمٰن بن بجید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ہم اللہ کے نام کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں: اس پر اس کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹ (خود) ادا کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب فِي تَرْكِ الْقَوَدِ بِالْقَسَامَةِ؛قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان؛جلد٤،ص١٧٩،حدیث ٤٥٢٥)
ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار انصار کے کچھ لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا: ”تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں“ تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: ”تم اپنا حق ثابت کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب فِي تَرْكِ الْقَوَدِ بِالْقَسَامَةِ؛قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان؛جلد٤،ص١٧٩،حدیث ٤٥٢٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی اس حالت میں ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب يُقَادُ مِنَ الْقَاتِلِ؛قاتل سے قصاص لیے جانے کا بیان۔؛جلد٤،ص١٨٠،حدیث ٤٥٢٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لڑکی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اسے رجم کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب يُقَادُ مِنَ الْقَاتِلِ؛قاتل سے قصاص لیے جانے کا بیان۔؛جلد٤،ص١٨٠،حدیث ٤٥٢٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: ”تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟“ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا فلاں نے کیا ہے؟“ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان (کچل کر) مار ڈالا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛ باب يُقَادُ مِنَ الْقَاتِلِ؛قاتل سے قصاص لیے جانے کا بیان۔؛جلد٤،ص١٨٠،حدیث ٤٥٢٩)
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں اور اشتر دونوں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات کی وصیت کی تھی جو آپ نے دوسرے لوگوں کو نہ کی ہو؟ وہ بولے: نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس تحریر میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک تحریر نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک تحریر (نکالی) اس میں یہ لکھا تھا: مومنوں کے خون برابر کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنے علاوہ لوگوں کے لیے وہ ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی دی ہوئی پناہ اور امان کا عام فرد بھی پابند ہوگا،خبردار!کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور کسی ذمی کو اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا،جو شخص کوئی نیا کام ایجاد کرے گا تو اس کا وبال اس کے سر ہوگا اور جو شخص کوئی نئی چیز ایجاد کرے گا یا کسی نئی چیز ایجاد کرنے والے کو پناہ دے گا اس پر اللہ کی تمام فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ مسدد کہتے ہیں: ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک تحریرنکالی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب أَيُقَادُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ؛کیا کافر کے بدلے مسلمان سے قصاص لیا جائے گا؟؛جلد٤،ص١٨٠،حدیث ٤٥٣٠)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے بعد راوی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کی مانند روایت نقل کی ہے،جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: "ان کا دور کا فرد پناہ دے سکتا ہے اور ان کا طاقتور ان کے کمزور شخص کو اور ان کا دستے میں شریک ہونے والا اس میں شریک نہ ہونے والے کو(مال غنیمت کا حصہ)لوٹائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب أَيُقَادُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ؛کیا کافر کے بدلے مسلمان سے قصاص لیا جائے گا؟؛جلد٤،ص١٨١،حدیث ٤٥٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ سعد نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی (میں تو اسے قتل کر دوں گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں“ (عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، (سنو) جو سعد کہہ رہے ہیں)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي مَنْ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ؛جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟؛جلد٤،ص١٨١،حدیث ٤٥٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:آپ کی رائے کیا ہے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي مَنْ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ؛جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟؛جلد٤،ص١٨١،حدیث ٤٥٣٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک شخص نے اپنی زکاۃ کے سلسلہ میں ان سے جھگڑا کر لیا، ابوجہم نے اسے مارا تو اس کا سر زخمی ہو گیا، تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! قصاص دلوائیے، اس پر آپ نے ان سے فرمایا: ”تم اتنا اور اتنا لے لو“ لیکن وہ لوگ راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے فرمایا: ”اچھا اتنا اور اتنا لے لو“ وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”اچھا اتنا اور اتنا لے لو“ اس پر وہ رضامند ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج شام کو میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی خبر دوں گا“ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: ”قبیلہ لیث کے یہ لوگ قصاص کے ارادے سے میرے پاس آئے ہیں تو میں نے ان کو اتنا اور اتنا مال پیش کیا اس پر یہ راضی ہو گئے ہیں (پھر آپ نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا:) بتاؤ کیا تم لوگ راضی ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو مہاجرین نے ان کی پٹائی کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان سے باز رہنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رک گئے، پھر آپ نے انہیں بلایا، اور کچھ اضافہ کیا پھر پوچھا: ”کیا اب تم راضی ہو؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”میں لوگوں کو خطاب کروں گا، اور انہیں تمہاری رضا مندی کے بارے میں بتاؤں گا“ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا، اور پوچھا: ”کیا تم راضی ہو؟“ وہ بولے: ہاں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الْعَامِلِ يُصَابُ عَلَى يَدَيْهِ خَطَأً؛زکاۃ وصول کرنے والے کے ہاتھ سے لاعلمی میں کوئی زخمی ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے؛جلد٤،ص١٨١،حدیث ٤٥٣٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، چنانچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الْقَوَدِ بِغَيْرِ حَدِيدٍ؛لوہے کے بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان؛جلد٤،ص١٨٢،حدیث ٤٥٣٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”آؤ قصاص لے لو“ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے در گزر کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الْقَوَدِ مِنَ الضَّرْبَةِ وَقَصِّ الأَمِيرِ مِنْ نَفْسِهِ؛مار پیٹ کا قصاص اور امیر کو اپنی ذات سے قصاص دلوانے کا بیان؛جلد٤،ص١٨٢،حدیث ٤٥٣٦)
ابوفراس کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: ”میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا“حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے، وہ بولے: ”ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں اس سے قصاص لوں گا“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الْقَوَدِ مِنَ الضَّرْبَةِ وَقَصِّ الأَمِيرِ مِنْ نَفْسِهِ؛مار پیٹ کا قصاص اور امیر کو اپنی ذات سے قصاص دلوانے کا بیان؛جلد٤،ص١٨٢،حدیث ٤٥٣٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قصاص دینے کے لیے) مقدمہ کرنے والے لوگوں کو درجہ بدرجہ معاف کرنے کا حق ہوتا ہے خواہ وہ کوئی عورت ہی کیوں نہ ہو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عورتوں کا قتل کے سلسلے میں قصاص معاف کر دینا جائز ہے جب وہ مقتول کے اولیاء میں سے ہوں، اور مجھے ابو عبید کے واسطے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے قول «ينحجزوا» کے معنی قصاص سے باز رہنے کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب عَفْوِ النِّسَاءِ عَنِ الدَّمِ؛عورتیں قصاص معاف کر سکتی ہیں؛جلد٤،ص١٨٣،حدیث ٤٥٣٨)
طاؤس کہتے ہیں کہ جو مارا جائے، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی بلوے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر، کوڑے، یا لاٹھی سے مارا جائے تو وہ قتل خطا ہے، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے“ (البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ) اس میں جان کا قصاص ہوگا، (پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے تو اس پر اللہ کی لعنت، اور اس کا غضب ہو، اس کی نہ توبہ قبول ہو گی اور نہ فدیہ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّاءَ بَيْنَ قَوْمٍ جسے لوگوں کے درمیان بلوے کے دوران قتل کر دیا جائے؛جلد٤،ص١٨٣،حدیث ٤٥٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اس کے بعد رابی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّاءَ بَيْنَ قَوْمٍ جسے لوگوں کے درمیان بلوے کے دوران قتل کر دیا جائے؛جلد٤،ص١٨٣،حدیث ٤٥٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض(ایسی اونٹنی جو ایک برس کی ہو چکی ہو۔)تیس بنت لبون(ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہو چکی ہو۔)تیس حقے(ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی ہو)اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الدِّيَةِ كَمْ هِيَ؛دیت کی مقدار کا بیان؛جلد٤،ص١٨٤،حدیث ٤٥٤١)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار (درہم) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں (مسلمانوں کی دیت کی طرح) اضافہ نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الدِّيَةِ كَمْ هِيَ؛دیت کی مقدار کا بیان؛جلد٤،ص١٨٤،حدیث ٤٥٤٢)
عطا بن ابی رباح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد (محمد بن اسحاق) کو یاد نہیں رہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الدِّيَةِ كَمْ هِيَ؛دیت کی مقدار کا بیان؛جلد٤،ص١٨٤،حدیث ٤٥٤٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا پھر راوی نے ایسے ہی ذکر کیا جیسے موسیٰ کی روایت میں ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ طَعام والوں پر کچھ مقرر کیا جو کہ مجھ کو یاد نہیں رہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الدِّيَةِ كَمْ هِيَ؛دیت کی مقدار کا بیان؛جلد٤،ص١٨٤،حدیث ٤٥٤٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض مذکر ہیں“ اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الدِّيَةِ كَمْ هِيَ؛دیت کی مقدار کا بیان؛جلد٤،ص١٨٤،حدیث ٤٥٤٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الدِّيَةِ كَمْ هِيَ؛دیت کی مقدار کا بیان؛جلد٤،ص١٨٥،حدیث ٤٥٤٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسدد کی روایت کے مطابق) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی“ (یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے) سنو! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہر ترجیحی چیز جس کا دعوی کیا جائے خواہ اس کا تعلق جان سے ہو، یا مال سے ہو،میرے ان دونوں پاؤں کے نیچے کلعدم قرار پاتی ہے،(یعنی لغو اور باطل ہیں) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے (یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپر د پہلے تھی“ پھر فرمایا: ”سنو! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں“ (اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٥،حدیث ٤٥٤٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٥،حدیث ٤٥٤٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دن یا فتح مکہ کے دن بیت اللہ یا کعبہ کی سیڑھی پر خطبہ دیا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے بھی اسی طرح علی بن زید سے، علی بن زید نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور اسے ایوب سختیانی نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے خالد کی حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ نیز اسے حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے، علی بن زید نے یعقوب سدوسی سے، سدوسی نے عبداللہ بن عمرو سے، اور عبداللہ بن عمرو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور زید اور ابوموسیٰ کا قول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مثل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٥،حدیث ٤٥٤٩)
مجاہد کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قتل شبہ عمد میں تیس حقہ، تیس جزعہ، چالیس گابھن اونٹنیوں (جو چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) کی دیت کا فیصلہ کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٦،حدیث ٤٥٥٠)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت میں تین قسم کے اونٹ ہوں گے، تینتیس حقہ، تینتیس جذعہ اور چونتیس ایسی اونٹنیاں جو چھ برس سے لے کر نو برس تک کی ہوں اور سب گابھن ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٦،حدیث ٤٥٥١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٦،حدیث ٤٥٥٢)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قتل خطا کی دیت میں چار قسم کے اونٹ ہوں گے: پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٦،حدیث ٤٥٥٣)
حضرت عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں چالیس گابھن جزعہ، تیس حقہ اور تیس بنت لبون ہیں، اور دیت خطا میں تیس حقہ، تیس بنت لبون، بیس ابن لبون، اور بیس بنت مخاض ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٦،حدیث ٤٥٥٤)
سعید بن مسیب حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مغلظہ دیت کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں ابو عبید اور دوسرے بہت سے لوگوں نے کہا: اونٹ جب چوتھے سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «حق» اور مادہ کو «حقة» کہتے ہیں، اس لیے کہ اب وہ اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس پر بار لادا جائے، اور سواری کی جائے اور جب وہ پانچویں سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «جذع» اور مادہ کو «جذعة» کہتے ہیں، اور جب چھٹے سال میں داخل ہو جائے، اور سامنے کے دانت نکال دے تو نر کو «ثني» اور مادہ کو «ثنية» کہتے ہیں، اور جب ساتویں سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «رباع» اور مادہ کو «رباعية» کہتے ہیں، اور جب آٹھویں سال میں داخل ہو جائے، اور وہ دانت نکال دے جو «رباعية» کے بعد ہے تو نر کو «سديس» اور مادہ کو «سدس» کہتے ہیں: اور جب نویں سال میں داخل ہو جائے اور اس کی کچلیاں نکل آئیں تو اسے «بازل» کہتے ہیں، اور جب دسویں سال میں داخل ہو جائے تو وہ «مخلف» ہے، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں ہوتا، البتہ یوں کہا جاتا ہے ایک سال کا «بازل»، دو سال کا «بازل» ایک سال کا «مخلف»، دو سال کا «مخلف» اسی طرح جتنا بڑھتا جائے۔ نضر بن شمیل کہتے ہیں: ایک سال کی «بنت مخاض» ہے، دو سال کی «بنت لبون»، تین سال کی «حقة»، چار سال کی «جذعة» پانچ سال کا «ثني» چھ سال کا «رباع»، سات سال کا «سديس»، آٹھ سال کا «بازل» ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحاتم اور اصمعی نے کہا: «جذوعة» ایک وقت ہے ناکہ کسی مخصوص سن کا نام۔ ابوحاتم کہتے ہیں: جب اونٹ اپنے «رباعیہ» ڈال دے تو وہ «رباع» اور جب «ثنیہ» ڈال دے تو «ثني» ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں: جب وہ حاملہ ہو جائے تو اسے «خلفہ» کہتے ہیں اور وہ دس ماہ تک «خلفة» کہلاتا ہے، جب دس ماہ کا ہو جائے تو اسے «عشراء» کہتے ہیں۔ ابوحاتم نے کہا: جب وہ «ثنیہ» ڈال دے تو «ثني» ہے اور «رباعیہ» ڈال دے تو «رباع» ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٧،حدیث ٤٥٥٥)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، ان کی دیت دس دس اونٹ ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٨،حدیث ٤٥٥٦)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں تمام برابر ہیں“ میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٨،حدیث ٤٥٥٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اور یہ برابر ہیں“ یعنی انگوٹھا اور چھوٹی انگلی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٨،حدیث ٤٥٥٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، سامنے کے دانت ہوں، یا ڈاڑھ کے سب برابر ہیں، یہ بھی برابر اور وہ بھی برابر“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٨،حدیث ٤٥٥٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٨،حدیث ٤٥٦٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کو برابر قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٨،حدیث ٤٥٦١)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:جبکہ آپ نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی ہوئی تھی،(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) انگلیوں کی دیت دس دس اونٹ ہوں گی" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٨،حدیث ٤٥٦٢)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دانتوں (کی دیت)پانچ، پانچ (اونٹ ہوگی)" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٩،حدیث ٤٥٦٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف علاقوں والوں پر قتل خطا کی دیت کی قیمت چار سو دینار، یا اس کے برابر چاندی سے لگایا کرتے تھے، اور اس کی قیمت اونٹوں کی قیمتوں پر لگاتے، جب وہ مہنگے ہو جاتے تو آپ اس کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیتے، اور جب وہ سستے ہوتے تو آپ اس کی قیمت بھی گھٹا دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ قیمت چار سو دینار سے لے کر آٹھ سو دینار تک پہنچی، اور اسی کے برابر چاندی سے (دیت کی قیمت) آٹھ ہزار درہم پہنچی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے بیل والوں پر (دیت میں) دو سو گایوں کا فیصلہ کیا، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریوں کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہو گا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کے سلسلے میں فیصلہ کیا کہ اگر وہ کاٹ دی جائے تو پوری دیت لازم ہو گی۔ اور اگر اس کا بانسہ (دونوں نتھنوں کے بیچ کی ہڈی) کاٹا گیا ہو تو آدھی دیت لازم ہو گی، یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا یا چاندی، یا سو گائیں، یا ایک ہزار بکریاں۔ اور ہاتھ جب کاٹا گیا ہو تو اس میں آدھی لازم ہو گی، پیر میں بھی آدھی دیت ہو گی۔ اور مامومہ(سر کے ایسے زخم کو کہتے ہیں جو دماغ تک پہنچ جائے۔)میں ایک تہائی دیت ہو گی، تینتیس اونٹ اور ایک اونٹ کا تہائی یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، گائے یا بکری اور جائفہ(وہ زخم ہے جو سر، پیٹ یا پیٹھ کے اندر تک پہنچ جائے اور اگر وہ زخم دوسری طرف بھی پار کر جائے تو اس میں دو تہائی دیت دینی ہو گی۔)میں بھی یہی دیت ہے۔ اور انگلیوں میں ہر انگلی میں دس اونٹ اور دانتوں میں ہر دانت میں پانچ اونٹ کی دیت ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”عورت کی جنایت کی دیت اس کے عصبات میں تقسیم ہو گی (یعنی عورت اگر کوئی جنایت کرے تو اس کے عصبات کو دینا پڑے گا) یعنی ان لوگوں کو جو ذوی الفروض سے بچا ہوا مال لے لیتے ہیں (جیسے بیٹا، چچا، باپ، بھائی وغیرہ) اور اگر وہ قتل کر دی گئی ہو تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی (نہ کہ عصبات میں) اور وہی اپنے قاتل کو قتل کریں گے (اگر قصاص لینا ہو)“۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں، اور اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا وارث سب سے قریبی رشتے دار ہو گا لیکن قاتل کسی چیز کا وارث نہ ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٨٩،حدیث ٤٥٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شبہ عمد کی دیت عمد کی دیت کی طرح سخت ہے، البتہ اس کے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا“۔ خلیل کی محمد بن راشد سے روایت میں یہ اضافہ ہے ”یہ (قتل شبہ عمد) لوگوں کے درمیان ایک شیطانی فساد ہے کہ بلا کسی کینے اور بغیر ہتھیار اٹھائے خون ہو جاتا ہے اور قاتل کا پتا نہیں چلتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٠،حدیث ٤٥٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «مواضح»(ایسے زخم کو کہتے ہیں جس سے ہڈی دکھائی دینے لگے۔) میں دیت پانچ اونٹ ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٠،حدیث ٤٥٦٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی آنکھ میں جو اپنی جگہ باقی رہے لیکن بینائی جاتی رہے، تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ؛اعضاء کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٠،حدیث ٤٥٦٧)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیہاتیوں کی طرح پرتکلف بات کر رہا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غرہ (لونڈی یا غلام) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ (وارثین) کے ذمہ ٹھہرایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٠،حدیث ٤٥٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ (غلام یا لونڈی) ٹھہرایا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩١،حدیث ٤٥٦٩)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو حضرت عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩١،حدیث ٤٥٧٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩١،حدیث ٤٥٧١)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حضرت حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مر گئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «مسطح» چوپ یعنی (روٹی پکانے کی لکڑی) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا: «مسطح» خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩١،حدیث ٤٥٧٢)
طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے «بغرة عبد أو أمة» کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩١،حدیث ٤٥٧٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حضرت حمل بن مالک کے واقعے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کر دیا، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مر گئی، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے چچا نے کہا: اللہ کے نبی! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ تو وہ چیخا، نہ پیا، اور نہ کھایا، اس جیسے کا خون تو معاف (رائیگاں) قرار دے دیا جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جاہلیت جیسی پر تکلف باتیں بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہو گی“۔ ابن عباس کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٢،حدیث ٤٥٧٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا، ان میں سے ہر ایک کا شوہر بھی تھا، اور اولاد بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبات پر ٹھہرائی اور اس کے شوہر اور اولاد سے کوئی مواخذہ نہیں کیا، مقتولہ کے عصبات نے کہا: کیا اس کی میراث ہمیں ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس کی میراث تو اس کے شوہر اور اولاد کی ہو گی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٢،حدیث ٤٥٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مار کر قتل کر ڈالا، تو لوگ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا: ”جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور عورت کی دیت کا فیصلہ کیا کہ یہ اس کے عصبہ پر ہو گی“ اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد کو اور ان کے ساتھ کے لوگوں کو قرار دیا۔ حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، اور نہ چیخا، ایسے کا خون تو لغو قرار دے دیا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کاہنوں کا بھائی ہے“ آپ نے یہ بات اس کی پرتکلف گفتگو کی وجہ سے کہی جو اس نے کی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٢،حدیث ٤٥٧٦)
یہی واقعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں پھر وہ عورت، جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا تھا، مر گئی، تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں کی ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ پر ہو گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٢،حدیث ٤٥٧٧)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر مارا تو اس کا حمل گر گیا، یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے اس بچہ کی دیت پانچ سو بکریاں مقرر فرمائی، اور لوگوں کو پتھر مارنے سے اس دن منع فرما دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: روایت اسی طرح ہے ”پانچ سو بکریوں کی“ لیکن صحیح ”سو بکریاں“ ہے، اسی طرح عباس نے کہا ہے حالانکہ یہ وہم ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٢،حدیث ٤٥٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع کرنے پر ایک غلام یا ایک لونڈی یا ایک گھوڑے یا ایک خچر کی دیت کا فیصلہ کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ اور خالد بن عبداللہ نے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے البتہ ان دونوں نے «أو فرس أو بغل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٣،حدیث ٤٥٧٩)
امام شعبی بیان کرتے ہیں غلام کی قیمت 500 درہم ہوگی۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:ربیعہ کہتے ہیں غلام کی قیمت 50 دینار ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب دِيَةِ الْجَنِينِ؛جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ)کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٣،حدیث ٤٥٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب غلام جسے قتل کر دیا جائے کی دیت میں فیصلہ فرمایا کہ قتل کے وقت جس قدر وہ بدل کتابت ادا کر چکا ہے اتنے حصہ کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی اور جس قدر ادائیگی باقی ہے اتنے حصے کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہو گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ؛مکاتب غلام کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٣،حدیث ٤٥٨١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مکاتب غلام پر حد جاری ہوجاے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ؛مکاتب غلام کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٤،حدیث ٤٥٨٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذمی معاہد کی دیت آزاد کی دیت کی آدھی ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسامہ بن زید لیثی اور عبدالرحمٰن بن حارث نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛23. باب فِي دِيَةِ الذِّمِّيِّ؛ذمی کی دیت کا بیان؛جلد٤،ص١٩٤،حدیث ٤٥٨٣)
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک مزدور نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کر کے دانت سے دبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو کر دیا، اور فرمایا: ”کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیدے، اور تم اسے اونٹ کی طرح چبا ڈالو“ ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے لغو قرار دیا اور کہا: (اللہ کرے) اس کا دانت نہ رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُقَاتِلُ الرَّجُلَ فَيَدْفَعُهُ عَنْ نَفْسِهِ؛ایک شخص دوسرے سے لڑے اور دوسرا اپنا دفاع کرے تو اس پر سزا نہ ہو گی؛جلد٤،ص١٩٤،حدیث ٤٥٨٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت یعلیٰ بن امیہ سے مروی ہے البتہ اتنا اضافہ ہے ”پھر آپ نے (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے) دانت کاٹنے والے سے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دو وہ اسے کاٹے پھر تم اسے اس کے منہ سے کھینچ لو“ اور اس کے دانتوں کی دیت باطل قرار دے دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُقَاتِلُ الرَّجُلَ فَيَدْفَعُهُ عَنْ نَفْسِهِ؛ایک شخص دوسرے سے لڑے اور دوسرا اپنا دفاع کرے تو اس پر سزا نہ ہو گی؛جلد٤،ص١٩٤،حدیث ٤٥٨٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو طب نہ جانتا ہو اور علاج کرے تو وہ (مریض کا) ضامن ہو گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا، ہمیں نہیں معلوم یہ صحیح ہے یا نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ تَطَبَّبَ وَلاَ يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَأَعْنَتَ؛جس نے طب جانے بغیر کسی کا علاج کیا اور اس کو نقصان پہنچا دیا تو اس کی سزا کیا ہے؟؛جلد٤،ص١٩٥،حدیث ٤٥٨٦)
حضرت عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا“۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: «اعنت نعت» سے نہیں (بلکہ «عنت» سے ہے جس کے معنی) رگ کاٹنے، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ تَطَبَّبَ وَلاَ يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَأَعْنَتَ؛جس نے طب جانے بغیر کسی کا علاج کیا اور اس کو نقصان پہنچا دیا تو اس کی سزا کیا ہے؟؛جلد٤،ص١٩٥،حدیث ٤٥٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: خبردار!زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی جان یا مال سے متعلق ہر ترجیحی چیز جس کا ذکر کیا جاتا ہو یا جس کا دعوی کیا جا سکتا ہو،وہ میرے ان دونوں پاؤں کے نیچے کلعدم قرار پاتی ہے، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے“ پھر فرمایا: ”سنو! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛ایسے قتل خطأ کی دیت جو شبہ عمد کی مشابہت رکھتا ہو؛جلد٤،ص١٩٥،حدیث ٤٥٨٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ؛ایسے قتل خطأ کی دیت جو شبہ عمد کی مشابہت رکھتا ہو؛جلد٤،ص١٩٥،حدیث ٤٥٨٩)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ غریب لوگوں کا ایک غلام تھا اس نے امیر لوگوں کے غلام کا کان کاٹ دیا،وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ لے کر آئے تو دوسرے فریق نے عرض کی یا رسول اللہ!ہم غریب لوگ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی ادائیگی لازم قرار نہیں دی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي جِنَايَةِ الْعَبْدِ يَكُونُ لِلْفُقَرَاءِ؛فقیر کا غلام کوئی جرم کرے تو اس کی سزا کا حکم؛جلد٤،ص١٩٦،حدیث ٤٥٩٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی بلوے میں مارا جائے یا لوگوں کے درمیان ایک دوسرے کو پتھر مارنے،یا ڈنڈے مارنے کے دوران مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو جان بوجھ کر عمداً کسی کو قتل کرے تو وہ موجب قصاص ہے، اب اگر کوئی ان دونوں کے بیچ میں پڑ کر (قاتل کو بچانا چاہے) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِيمَنْ قَتَلَ فِي عِمِّيَّا بَيْنَ قَوْمٍ؛جو شخص لوگوں کے درمیان بلوے میں مارا جاے؛جلد٤،ص١٩٦،حدیث ٤٥٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جانور کے لات مار کر نقصان کرنے کو) پاؤں باطل و رائیگاں ہے اس کی کوئی دیت نہیں ہو گی“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: جانور پیر سے مار دے جب کہ وہ اس پہ سوار ہو تو اس کی کوئی دیت نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي الدَّابَّةِ تَنْفَحُ بِرِجْلِهَا؛جانور کسی کو لات مار دے تو اس کے مالک سے مواخذہ نہ ہو گا؛جلد٤،ص١٩٦،حدیث ٤٥٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جانور کے زخمی کرنے کو رائیگاں قرار دیا جائے گا کان میں گرنے کو رائیگا قرار دیا جائے گا کنویں میں گرنے کو رائگاں کرا دیا جائے گا اور"رکاز" میں خمس کی ادائیگی لازم ہوگی امام ابوداؤد کہتے ہیں: جانور سے مراد جانور ہے جو چھڑا کر بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور دن ہو، رات نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الْعَجْمَاءُ وَالْمَعْدِنُ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ؛ جانوروں کے مارنے یا کان میں گرنے یا کنویں میں گرنے کا نقصان رائگاں جائے گا؛جلد٤،ص١٩٧،حدیث ٤٥٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے آگ(سے ہونے والے نقصان)کو رائیگاں قرار دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب فِي النَّارِ تَعَدَّى؛پھیل جانے والی آگ کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص١٩٧،حدیث ٤٥٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی بہن ربیع نے ایک عورت کا سامنے کا دانت توڑ دیا، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق قصاص کا فیصلہ کیا، تو انس بن نضر نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کا دانت تو آج نہیں توڑا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے“راوی بیان کرتے ہیں تو دوسرے فریق کے لوگ دیت پر راضی ہو گئے جسے انہوں نے لے لیا، اس پر اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعجب ہوا اور آپ نے فرمایا: ”اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو وہ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ان سے پوچھا گیا تھا کہ دانت کا قصاص کیسے لیا جائے؟ تو انہوں نے کہا: وہ ریتی سے رگڑا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الدِّيَاتِ؛باب الْقِصَاصِ مِنَ السِّنِّ؛دانت کے قصاص کا بیان؛جلد٤،ص١٩٧،حدیث ٤٥٩٥)
Abu Dawood Shareef : Kitabut Diyaat
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الدیات
|
•