asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Abu Dawood Shareef

Abu Dawood Shareef

Kitabus Sunnate

From 4596 to 4772

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:یہودی 71(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور عیسائی 71(راوی کو شک شاید الفاظ یہ ہیں)72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛بَابُ شَرح السُنَّةِ؛سنت کی وضاحت؛جلد٤،ص١٩٧،حدیث ٤٥٩٦)

كِتَاب السُّنَّةِ بَابُ شَرْحِ السُّنَّةِ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَرَقَتِ - الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4596

حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے ایک مرتبہ وہ کھڑے ہوئے اور بولے جان لو؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے،آپ نے فرمایا تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے وہ 72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور یہ امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے 72 جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا اور وہ ایک(فرقہ)جماعت ہوگی۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہے میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن کے اندر خواہش نفس یوں سرایت کر جائے گی جیسے کتے کا(زہر)آدمی(جسے کتے نے کاٹا ہو)کہ اندر سرایت کر جاتا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:جیسے کتے (کا زہر)اس آدمی کے اندر سرایت کر جاتا ہے جسے اس نے کاٹا ہو اور کوئی ایک جوڑ ایسا نہیں ہوتا جس میں وہ داخل نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛بَابُ شَرح السُنَّةِ؛سنت کی وضاحت؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٥٩٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، نَحْوَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَامَ فِينَا فَقَالَ: أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ: ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ «زَادَ ابْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو فِي حَدِيثَيْهِمَا» وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ، كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ لِصَاحِبِهِ " وَقَالَ عَمْرٌو: «الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4597

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی : "وہی وہ ذات ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس میں سے بعض محکم آیات ہیں"یہ آیت یہاں تک ہے"عقلمند لوگ"(ال عمران ٧)سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات کے پیچھے پڑتے ہوں تو جان لو کہ یہی لوگ ہیں جن کی اللہ نے نشاندہی کی ہے تو ان سے بچو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب النَّهْىِ عَنِ الْجِدَالِ، وَاتِّبَاعِ، مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ؛ اختلاف کرنے اور قران کے متشابہات کی پیروی کرنے کی ممانعت؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٥٩٨)

بَابُ النَّهْيِ عَنِ الجِدَالِ وَاتِّبَاعِ الْمُتَشَابِهِ مِنَ الْقُرْآنِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّسْتُرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ} [آل عمران: 7] إِلَى {أُولُو الْأَلْبَابِ} قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ، فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4598

مجاہد ایک صاحب کے حوالے سے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا عمل یہ ہے اللہ تعالی کی وجہ سے(کسی سے)محبت رکھنا اور اللہ تعالی کی وجہ سے(کسی سے)دشمنی رکھنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مُجَانَبَةِ أَهْلِ الأَهْوَاءِ وَبُغْضِهِمْ؛ خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں سے تعلق رہنا اور ان سے دشمنی رکھنا؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٥٩٩)

بَابُ مُجَانَبَةِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ وَبُغْضِهِمْ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4599

عبداللہ بن کعب سے روایت ہے (جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں عبداللہ آپ کے قائد تھے) وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت کعب بن مالک سے سنا (ابن السرح ان کے غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے کہتے ہیں کہ کعب نے کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ جب لمبا عرصہ ہو گیا تو میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار کود کر ان کے پاس گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر راوی نے ان کی توبہ کے نازل ہونے کا قصہ بیان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مُجَانَبَةِ أَهْلِ الأَهْوَاءِ وَبُغْضِهِمْ؛ خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں سے تعلق رہنا اور ان سے دشمنی رکھنا؛جلد٤،ص١٩٩،حدیث ٤٦٠٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ، قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، - وَذَكَرَ ابْنُ السَّرْحِ، قِصَّةَ تَخَلُّفِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ - قَالَ: «وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةَ، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، ثُمَّ سَاقَ خَبَرَ تَنْزِيلِ تَوْبَتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4600

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اپنے گھر آیا،میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے،انہوں نے اس پر زعفران لگا دیا، صبح کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا آپ نے فرمایا جاؤ اور اسے دھو دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب تَرْكِ السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الأَهْوَاءِ؛بدمذہبوں کو سلام نہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٦٠١)

بَابُ تَرْكِ السَّلَامِ عَلَى أَهْلِ الْأَهْوَاءِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ، فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ، فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَقَالَ: «اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4601

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سید صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا ایک اونٹ بیمار ہو گیا،سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک اضافی اونٹ تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم یہ اونٹ اسے دے دو۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بولیں :کیا میں یہ اس یہودیہ کو دے دوں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اپ نے ذوالحج، محرم اور صفر کے کچھ حصے تک ان سے لا تعلق کی اختیار کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب تَرْكِ السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الأَهْوَاءِ؛بدمذہبوں کو سلام نہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٦٠٢)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهُ اعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلُ ظَهْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِزَيْنَبَ: «أَعْطِيهَا بَعِيرًا» فَقَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ؟ «فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَجَرَهَا ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ وَبَعْضَ صَفَرٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4602

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قران کے بارے میں بحث کرنا (جو قران کے احکام کے خلاف ہو)کفر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب النَّهْىِ عَنِ الْجِدَالِ، فِي الْقُرْآنِ؛قرآن کے بارے میں بحث کرنے کی ممانعت؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٦٠٣)

بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجِدَالِ فِي الْقُرْآنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4603

حضرت مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت)،ایسا نہ ہو کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے: اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی کی گری پڑی ہوئی چیز اٹھانا حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠٠،حدیث ٤٦٠٤)

بَابٌ فِي لُزُومِ السُّنَّةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ، إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4604

عبید بن ابو رافع اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے سے ٹیک لگا کر یہ کہے جس کے پاس میرا کوئی حکم آچکا ہو جو میں نے دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہو تو وہ یہ کہے کہ ہمیں اللہ کی کتاب میں یہ بات نہیں ملی ورنہ ہم اس کی پیروی کر لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠٠،حدیث ٤٦٠٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لَا نَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4605

قاسم بن محمد،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص ہمارے حکم میں کوئی ایسی بات کہے جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہوگی۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی ایسا کام کرے جو ہمارے حکم کے مخالف ہو تو وہ مردود ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠٠،حدیث ٤٦٠٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ» قَالَ ابْنُ عِيسَى: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَنَعَ أَمْرًا عَلَى غَيْرِ أَمْرِنَا فَهُوَ رَدٌّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4606

عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ: اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جب وہ تمہارے پاس آئیں تاکہ تم انہیں سواری کے لیے جانور دو تو تم نے کہا میرے پاس تمہیں سواری کے لیے دینے کے لیے جانور نہیں ہے"(التوبہ ٩٢)نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر حضرت عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں ایسی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کی سنت کی پیروی کرنا لازم ہے، تم اسے پکڑ لینا اور اسے مضبوطی سے تھام لینا اور تم نئے پیدا ہونے والے معاملات سے پرہیز کرنا کیونکہ ہر نئی پیدا ہونے والی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠٠،حدیث ٤٦٠٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ {وَلَا عَلَى الَّذِينَ -- إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ} [التوبة: 92] فَسَلَّمْنَا، وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ وَعَائِدِينَ وَمُقْتَبِسِينَ، فَقَالَ الْعِرْبَاضُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4607

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا (دینی معاملات میں)بحث و مباحثہ کرنے والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠١،حدیث ٤٦٠٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عَتِيقٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4608

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی برائی کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں (بھی) کوئی کمی نہیں ہوتی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠١،حدیث ٤٦٠٩)

بَابُ لُزُومِ السُّنَّةِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4609

عامر بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مسلمانوں کے معاملے میں سب سے زیادہ جرم اس شخصوں کا ہوگا جو کسی ایسے معاملے کے بارے میں دریافت کرے جو حرام نہیں ہوا تھا اور اس کے سوال پوچھنے کی وجہ سے وہ حرام ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠١،حدیث ٤٦١٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْظَمَ -الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ، مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4610

ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ یزید بن عمیرہ (جو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ جب بھی کسی مجلس میں وعظ کہنے کو بیٹھتے تو کہتے: اللہ بڑا حاکم اور عادل ہے، شک کرنے والے تباہ ہو گئے تو ایک روز حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تمہارے بعد بڑے بڑے فتنے ہوں گے، ان (دنوں) میں مال کثرت سے ہو گا، قرآن کو کھول دیا جائے گا، یہاں تک کہ اسے مومن و منافق، مرد و عورت، چھوٹے بڑے، غلام اور آزاد سبھی اس کا علم حاصل کر لیں گے، تو قریب ہے کہ کہنے والا کہے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میری پیروی نہیں کرتے، حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے، اور پھر بھی میری پیروی نہیں کرتے میں ان کے لیے کوئی نئی چیز ایجاد کرتا ہوں،(حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا)تو اس نے جو نئی چیز نکالی ہوگی تو تم اس سے بچنا کیونکہ جو چیز اس نے نکالی ہوگی گمراہی ہوگی اور میں تمہیں سمجھدار آدمی کی گمراہی سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں، اس لیے کہ بسا اوقات شیطان، حکیم و دانا شخص کی زبانی گمراہی کی بات کہتا ہے اور کبھی کبھی منافق بھی حق بات کہتا ہے۔ میں نے معاذ سے کہا: (اللہ آپ پر رحم کرے) مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ حکیم و دانا گمراہی کی بات کہتا ہے، اور منافق حق بات؟ وہ بولے: کیوں نہیں، حکیم و عالم کی ان مشہور باتوں سے بچو، جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہو کہ وہ یوں نہیں ہے، لیکن یہ چیز تمہیں خود اس حکیم سے نہ پھیر دے، اس لیے کہ امکان ہے کہ وہ (اپنی پہلی بات سے) پھر جائے اور حق پر آ جائے، اور جب تم حق بات سنو تو اسے لے لو، اس لیے کہ حق میں ایک نور ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصے میں معمر نے زہری سے «ولا يثنينك ذلك عنه» کے بجائے «ولا ينئينك ذلك عنه» روایت کی ہے اور صالح بن کیسان نے زہری سے اس میں «المشتهرات» کے بجائے «المشبهات» روایت کی ہے اور «ولا يثنينك» ہی روایت کی ہے جیسا کہ عقیل کی روایت میں ہے۔ ابن اسحاق نے زہری سے روایت کی ہے: کیوں نہیں، جب کسی حکیم و عالم کا قول تم پر مشتبہ ہو جائے یہاں تک کہ تم کہنے لگو کہ اس بات سے اس کا کیا مقصد ہے؟ (تو سمجھ لو کہ یہ حکیم و عالم کی زبانی گمراہی کی بات ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٢،حدیث ٤٦١١)

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ عَائِذَ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عُمَيْرَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - أَخْبَرَهُ قَالَ: كَانَ لَا يَجْلِسُ مَجْلِسًا لِلذِّكْرِ حِينَ يَجْلِسُ إِلَّا قَالَ: «اللَّهُ حَكَمٌ قِسْطٌ هَلَكَ الْمُرْتَابُونَ»، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَوْمًا: " إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ فِتَنًا يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ، وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ حَتَّى يَأْخُذَهُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ، وَالرَّجُلُ، وَالْمَرْأَةُ، وَالصَّغِيرُ، وَالْكَبِيرُ، وَالْعَبْدُ، وَالْحُرُّ، فَيُوشِكُ قَائِلٌ أَنْ يَقُولَ: مَا لِلنَّاسِ لَا يَتَّبِعُونِي وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ؟ مَا هُمْ بِمُتَّبِعِيَّ حَتَّى أَبْتَدِعَ لَهُمْ غَيْرَهُ، فَإِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ، فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ، وَأُحَذِّرُكُمْ زَيْغَةَ الْحَكِيمِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ عَلَى لِسَانِ الْحَكِيمِ، وَقَدْ يَقُولُ الْمُنَافِقُ كَلِمَةَ الْحَقِّ "، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذٍ: مَا يُدْرِينِي رَحِمَكَ اللَّهُ أَنَّ الْحَكِيمَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ وَأَنَّ الْمُنَافِقَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الْحَقِّ؟ قَالَ: «بَلَى، اجْتَنِبْ مِنْ كَلَامِ الْحَكِيمِ الْمُشْتَهِرَاتِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا مَا هَذِهِ، وَلَا يُثْنِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ، فَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ يُرَاجِعَ، وَتَلَقَّ الْحَقَّ إِذَا سَمِعْتَهُ فَإِنَّ عَلَى الْحَقِّ نُورًا»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَا يُنْئِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ، مَكَانَ يُثْنِيَنَّكَ، وَقَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي هَذَا: الْمُشَبِّهَاتِ، مَكَانَ الْمُشْتَهِرَاتِ، وَقَالَ: لَا يُثْنِيَنَّكَ كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ بَلَى مَا تَشَابَهَ عَلَيْكَ مِنْ قَوْلِ الْحَكِيمِ حَتَّى تَقُولَ مَا أَرَادَ بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4611

سفیان ثوری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خط لکھ کر حضرت عمر بن عبدالعزیز سے تقدیر کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا: امابعد! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے دین کے سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنے، اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرنے کی اور بدعتیوں نے جو بدعتیں ایجاد کی ہے اور ضروریات کے لیے کافی ہو جانے کے بعد ایجاد کی ہیں ان کے چھوڑ دینے کی وصیت کرتا ہوں، لہٰذا تم پر سنت کا دامن تھامے رہنا لازم ہے، اللہ کے حکم سے یہی چیز تمہارے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہو گی۔ پھر یہ بھی جان لو کہ لوگوں نے کوئی بدعت ایسی نہیں نکالی ہے جس کے خلاف پہلے سے کوئی دلیل موجود نہ رہی ہو یا اس کے بدعت ہونے کے سلسلہ میں کوئی نصیحت آمیز بات نہ ہو، اس لیے کہ سنت کو جس نے جاری کیا ہے،وہ جانتا تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا وبال ہے، کیا کیا غلطیاں، بہکنا،حماقت اور گہرائی ہے(ابن کثیر کی روایت میں «من قد علم» کا لفظ نہیں ہے) لہٰذا تم اپنے آپ کو اسی چیز سے خوش رکھو جس سے پہلے زمانے کے لوگ نے اپنے آپ کو خوش رکھا ہے، اس لیے کہ وہ دین کے بڑے واقف کار تھے، جس بات سے انہوں نے روکا ہے گہری بصیرت سے روکا ہے، انہیں معاملات کے سمجھنے پر ہم سے زیادہ دسترس تھی، اور تمام خوبیوں میں وہ ہم سے فائق تھے، لہٰذا اگر ہدایت وہ ہوتی جس پر تم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے آگے بڑھ گئے، اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ جن لوگوں نے بدعتیں نکالی ہیں وہ اگلے لوگوں کی راہ پر نہیں چلے اور ان سے اعراض کیا تو واقعہ بھی یہی ہے کہ اگلے لوگ ہی فائق و برتر تھے انہوں نے جتنا کچھ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ کہہ دیا ہے شافی و کافی ہے، لہٰذا اب دین میں نہ اس سے کم کی گنجائش ہے نہ زیادہ کی، اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس میں کمی کر ڈالی تو وہ جفا کار ٹھہرے اور کچھ لوگوں نے زیادتی کی تو وہ غلو کا شکار ہو گئے، اور اگلے لوگ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ سیدھی راہ پر رہے، اور تم نے ایمان بالقدر کے اقرار کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو باذن اللہ تم نے یہ سوال ایک ایسے شخص سے کیا ہے جو اس کو خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے جتنی بھی بدعتیں ایجاد کی ہیں ان میں اثر کے اعتبار سے ایمان بالقدر کے اقرار سے زیادہ واضح اور ٹھوس کوئی نہیں ہے، اس کا تذکرہ تو جاہلیت میں جہلاء نے بھی کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے شعر میں اس کا تذکرہ کرتے تھے، اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کسی فوت ہو جانے والے کے غم میں تسلی دیتے ہیں۔ پھر اسلام نے اس خیال کو مزید پختگی بخشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر ایک یا دو حدیثوں میں نہیں بلکہ کئی حدیثوں میں کیا، اور اس کو مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر آپ کی زندگی میں بھی اسے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی، اس پر یقین کر کے، اس کو تسلیم کر کے اور اپنے کو اس سے کمزور سمجھ کے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ کا علم محیط نہ ہو، اور جو اس کے نوشتہ میں نہ آ چکی ہو، اور اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہو چکی ہو، اس کے باوجود اس کا ذکر اس کی کتاب محکم میں ہے، اسی سے لوگوں نے اسے حاصل کیا، اسی سے اسے سیکھا۔ اور اگر تم یہ کہو: اللہ نے ایسی آیت کیوں نازل فرمائی؟ اور ایسا کیوں کہا (جو آیات تقدیر کے خلاف ہیں)؟ تو (جان لو) ان لوگوں نے بھی اس میں سے وہ سب پڑھا تھا جو تم نے پڑھا ہے لیکن انہیں اس کی تاویل و تفسیر کا علم تھا جس سے تم ناواقف ہو، اس کے بعد بھی وہ اسی بات کے قائل تھے: ہر بات اللہ کی تقدیر اور اس کے لکھے ہوئے کے مطابق ہے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہو گا، جو اللہ نے چاہا، وہی ہوا، جو نہیں چاہا، نہیں ہوا۔ اور ہم تو اپنے لیے نہ کسی ضرر کے مالک ہیں اور نہ ہی کسی نفع اس کے بعد انہوں نے( اللہ تعالی کی طرف)رغبت اختیار کی اور(اس کے خوف سے)خوفزدہ رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠١،٢٠٢،٢٠٣،حدیث ٤٦١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ، ح وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ دُلَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، يُحَدِّثُنَا عَنِ النَّضْرِ، ح وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ -أَبِي الصَّلْتِ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ وَمَعْنَاهُمْ، قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ، فَكَتَبَ: " أَمَّا بَعْدُ، أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالِاقْتِصَادِ فِي أَمْرِهِ، وَاتِّبَاعِ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ مَا أَحْدَثَ الْمُحْدِثُونَ بَعْدَ مَا جَرَتْ بِهِ سُنَّتُهُ، وَكُفُوا مُؤْنَتَهُ، فَعَلَيْكَ بِلُزُومِ السُّنَّةِ فَإِنَّهَا لَكَ - بِإِذْنِ اللَّهِ - عِصْمَةٌ، ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَدِعِ النَّاسُ بِدْعَةً إِلَّا قَدْ مَضَى قَبْلَهَا مَا هُوَ دَلِيلٌ عَلَيْهَا أَوْ عِبْرَةٌ فِيهَا، فَإِنَّ السُّنَّةَ إِنَّمَا سَنَّهَا مَنْ قَدْ عَلِمَ مَا فِي خِلَافِهَا - وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ كَثِيرٍ مَنْ قَدْ عَلِمَ مِنْ - الْخَطَإِ وَالزَّلَلِ وَالْحُمْقِ وَالتَّعَمُّقِ، فَارْضَ لِنَفْسِكَ مَا رَضِيَ بِهِ الْقَوْمُ لِأَنْفُسِهِمْ، فَإِنَّهُمْ عَلَى عِلْمٍ وَقَفُوا، وَبِبَصَرٍ نَافِذٍ كَفُّوا، وَهُمْ عَلَى كَشْفِ الْأُمُورِ كَانُوا أَقْوَى، وَبِفَضْلِ مَا كَانُوا فِيهِ أَوْلَى، فَإِنْ كَانَ الْهُدَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَقَدْ سَبَقْتُمُوهُمْ إِلَيْهِ وَلَئِنْ قُلْتُمْ إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدَهُمْ مَا أَحْدَثَهُ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَ غَيْرَ سَبِيلِهِمْ وَرَغِبَ بِنَفْسِهِ عَنْهُمْ، فَإِنَّهُمْ هُمُ السَّابِقُونَ، فَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ بِمَا يَكْفِي، وَوَصَفُوا مِنْهُ مَا يَشْفِي، فَمَا دُونَهُمْ مِنْ مَقْصَرٍ، وَمَا فَوْقَهُمْ مِنْ مَحْسَرٍ، وَقَدْ قَصَّرَ قَوْمٌ دُونَهُمْ فَجَفَوْا، وَطَمَحَ عَنْهُمْ أَقْوَامٌ فَغَلَوْا، وَإِنَّهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ، كَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ فَعَلَى الْخَبِيرِ - بِإِذْنِ اللَّهِ - وَقَعْتَ، مَا أَعْلَمُ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ مِنْ مُحْدَثَةٍ، وَلَا ابْتَدَعُوا مِنْ بِدْعَةٍ هِيَ أَبْيَنُ أَثَرًا وَلَا أَثْبَتُ أَمْرًا مِنَ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ، لَقَدْ كَانَ ذَكَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْجُهَلَاءُ يَتَكَلَّمُونَ بِهِ فِي كَلَامِهِمْ وَفِي شِعْرِهِمْ، يُعَزُّونَ بِهِ أَنْفُسَهُمْ عَلَى مَا فَاتَهُمْ، ثُمَّ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ بَعْدُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَقَدْ ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ وَلَا حَدِيثَيْنِ، وَقَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ الْمُسْلِمُونَ فَتَكَلَّمُوا بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ وَفَاتِهِ، يَقِينًا وَتَسْلِيمًا لِرَبِّهِمْ، وَتَضْعِيفًا لِأَنْفُسِهِمْ، أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ لَمْ يُحِطْ بِهِ عِلْمُهُ، وَلَمْ يُحْصِهِ كِتَابُهُ، وَلَمْ يَمْضِ فِيهِ قَدَرُهُ، وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ لَفِي مُحْكَمِ كِتَابِهِ: مِنْهُ اقْتَبَسُوهُ، وَمِنْهُ تَعَلَّمُوهُ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ لِمَ أَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ كَذَا لِمَ قَالَ كَذَا لَقَدْ قَرَءُوا مِنْهُ مَا قَرَأْتُمْ، وَعَلِمُوا مِنْ تَأْوِيلِهِ مَا جَهِلْتُمْ، وَقَالُوا بَعْدَ ذَلِكَ: كُلِّهِ بِكِتَابٍ وَقَدَرٍ، وَكُتِبَتِ الشَّقَاوَةُ، وَمَا يُقْدَرْ يَكُنْ، وَمَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا -لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا نَمْلِكُ لِأَنْفُسِنَا ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، ثُمَّ رَغِبُوا بَعْدَ ذَلِكَ وَرَهِبُوا "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4612

حضرت نافع بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست تھا جو شام سے تعلق رکھتا تھا اور وہ انہیں خط لکھا کرتا تھا ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے خط لکھا کہ مجھے پتہ چلا ہے تم تقدیر کے بارے میں بحث کرتے ہو آئندہ مجھے خط نہ لکھنا،کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4613

خالد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے کہا: اے ابوسعید!حضرت آدم علیہ السلام کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ بچے رہتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ کرنا ان کی مجبوری تھی، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان:(ترجمہ)" تم اسے بہکانے والے نہیں ہو ماسوائے اس شخص کے جو جہنم میں ضرور جائے گا"(الصافات: ۱۶۳) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: ”شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ، أَلِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلْأَرْضِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ لِلْأَرْضِ»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ؟ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ»، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى {مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ. إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ} [الصافات: 163] الْجَحِيمِ قَالَ: «إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَفْتِنُونَ بِضَلَالَتِهِمْ إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4614

حضرت حسن بصری اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں: "اور اسی کے لیے اس نے انہیں پیدا کیا ہے"۔(ھود ١١٩) حسن بصری فرماتے ہیں یہ لوگ(یعنی کچھ لوگ) اس(جنت) کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور یہ(یعنی کچھ لوگ) اس (جہنم) کے لیے پیدا کیے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ} [هود: 119] قَالَ: «خَلَقَ هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ، وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4615

خالد حذاء بیان کرتے ہیں میں نے حسن بصری سے دریافت کیا(قرآن کی اس آیت کا مفہوم کیا ہے) "تم اسے نہیں بہکا سکو گے ماسوائے اس کے جو جہنم میں جائے گا" حسن بصری نے فرمایا:جس شخص پر اللہ تعالی نے جہنم کو واجب کر دیا وہ جہنم میں جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: {مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ. إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ} [الصافات: 163] الْجَحِيمِ قَالَ: «إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَنَّهُ يَصْلَى الْجَحِيمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4616

حسن بصری فرماتے ہیں آسمان سے زمین پر گر جانا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ میں یہ کہوں کہ میں اپنے معاملات پر اختیارات رکھتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٧)

حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: " لَأَنْ يُسْقَطَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَقُولَ: الْأَمْرُ بِيَدِي "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4617

حمید کہتے ہیں کہ حضرت حسن بصری ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا الْحَسَنُ، مَكَّةَ فَكَلَّمَنِي فُقَهَاءُ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي أَنْ يَجْلِسَ لَهُمْ يَوْمًا -- يَعِظُهُمْ فِيهِ فَقَالَ: نَعَمْ فَاجْتَمَعُوا فَخَطَبَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَخْطَبَ مِنْهُ فَقَالَ: رَجُلٌ يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَنْ خَلَقَ الشَّيْطَانَ؟ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ؟ خَلَقَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ، وَخَلَقَ الْخَيْرَ، وَخَلَقَ الشَّرَّ»، قَالَ الرَّجُلُ: قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، كَيْفَ يَكْذِبُونَ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4618

حمید بیان کرتے ہیں حسن بصری فرماتے ہیں(اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے:) " اسی طرح ہم اسے جرم کرنے والوں کے دل میں جگہ دیتے ہیں"(الحجر١٢) حسن بصری فرماتے ہیں اس سے مراد شرک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦١٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ، {كَذَلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ} [الحجر: 12] قَالَ: «الشِّرْكُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4619

حسن بصری فرماتے ہیں،اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے: "اور ان کے اور جو خواہش رکھتے ہیں ان کے درمیان حائل کر دیا گیا" حسن فرماتے ہیں: یعنی ان لوگوں کے درمیان اور ایمان کے درمیان حائل کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ غَيْرُ ابْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدٍ الصِّيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ قَالَ: «بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْإِيمَانِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4620

ابن عون بیان کرتے ہیں میں شام گیا وہاں ایک شخص نے پیچھے سے مجھے آواز دی، میں نے مڑ کر دیکھا،تو وہ رجا بن حیوہ تھا،انہوں نے کہا ہے اے ابن عون!یہ لوگ حسن بصری کے حوالے سے کیا بات نقل کرتے ہیں؟تو میں نے جواب دیا یہ لوگ حسن بصری کے حوالے سے بہت سی جھوٹی باتیں بیان کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ بِالشَّامِ، فَنَادَانِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ فَقَالَ: يَا أَبَا عَوْنٍ مَا هَذَا الَّذِي يَذْكُرُونَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قُلْتُ: «إِنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَى الْحَسَنِ كَثِيرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4621

ایوب بیان کرتے ہیں دو طرح کے لوگوں نے حضرت حسن بصری کی طرف سے جھوٹ باتیں بیان کی ہیں،ایک وہ لوگ جو تقدیر کے منکر ہیں،وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے اس نظریے کی تائید ہو جائے اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں کے اندر نفرت اور دشمنی تھی،وہ یہ کہتے تھے کہ اس نے فلاں موقع پر یہ بات نہیں کہی تھی اور فلاں موقع پر یہ بات نہیں کہی تھی؟ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢٢)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يَقُولُ: " كَذَبَ عَلَى الْحَسَنِ ضَرْبَانِ مِنَ النَّاسِ: قَوْمٌ الْقَدَرُ رَأْيُهُمْ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُنَفِّقُوا بِذَلِكَ رَأْيَهُمْ، وَقَوْمٌ لَهُ فِي قُلُوبِهِمْ شَنَآنٌ وَبُغْضٌ يَقُولُونَ: أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا؟ أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا؟ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4622

یحیی بن کثیر بیان کرتے ہیں،قرہ بن خالد نے ہم سے کہا اے نوجوانوں!حسن بصری کے معاملے میں مبالغے سے کام نہ لینا، کیونکہ ان کی رائے سنت کے مطابق اور بالکل ٹھیک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢٣)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَنَّ يَحْيَى بْنَ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيَّ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: كَانَ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ يَقُولُ لَنَا يَا فِتْيَانُ: «لَا تُغْلَبُوا عَلَى الْحَسَنِ فَإِنَّهُ كَانَ رَأْيُهُ السُّنَّةَ وَالصَّوَابَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4623

ابن عون بیان کرتے ہیں اگر ہمیں یہ پتہ ہوتا کہ حسن بصری کی باتیں اس حد تک پہنچ جائے گی جہاں اب پہنچ چکی ہے تو ہم ان کے رجوع کو تحریری طور پر لے لیتے اور اس پر گواہ بھی بنا لیتے،لیکن ہم نے تو یہ سوچا تھا انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ ان کے منہ سے نکل گئی ہے۔اب اس کو نوٹ نہیں کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: " لَوْ عَلِمْنَا أَنَّ كَلِمَةَ الْحَسَنِ تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ لَكَتَبْنَا بِرُجُوعِهِ كِتَابًا وَأَشْهَدْنَا عَلَيْهِ شُهُودًا، وَلَكِنَّا قُلْنَا: كَلِمَةٌ خَرَجَتْ لَا تُحْمَلُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4624

عثمان بتی فرماتے ہیں حسن بصری نے جس بھی آیت کی تفسیر بیان کی ہے اس میں انہوں نے تقدیر کا(اثبات)کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٢٦)

حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، قَالَ: «مَا فَسَّرَ الْحَسَنُ آيَةً قَطُّ إِلَّا عَنِ الْإِثْبَاتِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4626

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٢٧)

بَابٌ فِي التَّفْضِيلِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ، أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ، ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4627

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر ہیں، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان ہیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٢٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: «أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4628

محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھے؟ انہوں نے کہا:حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا: پھر کون؟ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ، پھر مجھے اس بات سے ڈر ہوا کہ میں کہوں پھر کون؟ اور وہ کہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، چنانچہ میں نے کہا: پھر آپ؟ اے ابا جان! وہ بولے: میں تو مسلمانوں ایک فرد ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٢٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عُمَرُ»، قَالَ: ثُمَّ خَشِيتُ أَنْ أَقُولَ ثُمَّ مَنْ فَيَقُولَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ يَا أَبَةِ؟ قَالَ: «مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4629

سفیان کہتے تھے:اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دونوں (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہما) سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے حضرت ابوبکر، عمر، مہاجرین اور انصار کو غلط قرار دیا، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اس عقیدے کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کو اٹھ کر جائے گا(یعنی قبول نہیں کیا جاے گا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: «مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ أَحَقَّ بِالْوِلَايَةِ مِنْهُمَا فَقَدْ خَطَّأَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَالْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارَ، وَمَا أُرَاهُ يَرْتَفِعُ لَهُ مَعَ هَذَا عَمَلٌ إِلَى السَّمَاءِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4630

سفیان بیان کرتے ہیں: خلفاء پانچ ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ السَّمَّاكُ -، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، يَقُولُ: «الْخُلَفَاءُ خَمْسَةٌ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4631

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعبیر بیان کرو“ وہ بولے: بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت (شیرینی) اور نرمی مراد ہے، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں، اپ نے اسے حاصل کیا تو اللہ تعالی نے اپ کو سر بلندی عطاء کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑا تو وہ بھی سربلند ہوا، پھر ایک اور شخص پکڑا تو وہ بھی سربلند ہوا، پھر اسے ایک اور شخص پکڑا، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا، پھر وہ بھی سربلند ہوگا، اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط“ کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ دلاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٧،حدیث ٤٦٣٢)

بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: مُحَمَّدٌ كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْهَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ بِأَيْدِيهِمْ، فَالْمُسْتَكْثِرُ، وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ، ثُمَّ وُصِلَ فَعَلَا بِهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي وَأُمِّي لَتَدَعَنِّي فَلَأُعَبِّرَنَّهَا، فَقَالَ: «اعْبُرْهَا» قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا مَا يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ، وَالْعَسَلِ، فَهُوَ الْقُرْآنُ لِينُهُ وَحَلَاوَتُهُ، وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ، وَالْمُسْتَقِلُّ، فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ، وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْهُ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَهُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ: تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ بَعْدَكَ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ، فَقَالَ: «أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا» فَقَالَ: أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْسِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4632

عبید اللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی واقعہ نقل کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتانے سے انکار کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٧،حدیث ٤٦٣٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4633

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا: تم میں سے کس شخص نے کیا خواب دیکھا ہے؟تو ایک شخص نے عرض کی میں نے دیکھا ہے،جیسے ایک ترازو آسمان سے نازل ہوا ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا آپ کا پلڑا بھاری تھا،پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا،پھر میزان اٹھا لیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے مبارک پر ناپسندیدگی کے اثار دیکھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٨،حدیث ٤٦٣٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ، فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4634

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا؟کس شخص نے کیا خواب دیکھا ہے، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے، اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا ذکر نہیں ہے تاہم یہ الفاظ ہیں کہ یہ بات آپ کو پسند نہیں آئی (یعنی آپ نے اسے برا سمجھا) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٨،حدیث ٤٦٣٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ذَاتَ يَوْمٍ «أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟» فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ: فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي فَسَاءَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: «خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4635

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسلک کر دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر سے اور عثمان کو عمر سے“۔ حضرت جابر کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا: مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر (دین) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس اور شعیب نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان دونوں نے عمرو بن ابان کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٨،حدیث ٤٦٣٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنِيطَ عُمَرُ، بِأَبِي بَكْرٍ، وَنِيطَ عُثْمَانُ، بِعُمَرَ»، قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا تَنَوُّطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ يُونُسُ، وَشُعَيْبٌ لَمْ يَذْكُرَا عَمْرَو بْنَ أَبَانَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4636

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پہلے حضرت ابوبکر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑ کر اس میں سے تھوڑا سا پیا، پھر حضرت عمر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا، پھر حضرت عثمان آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور خوب سیر ہو کر پیا، پھر حضرت علی آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں، تو وہ چھلک گیا اور اس میں سے کچھ ان کے اوپر بھی پڑ گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٨،حدیث ٤٦٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: «إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ شُرْبًا ضَعِيفًا، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ، ثُمَّ -جَاءَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَانْتَشَطَتْ، وَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4637

مکحول بیان کرتے ہیں رومی 40 دن تک شام میں گھسے رہیں گے،وہ لوگ صرف دمشق اور عمان کے اندر نہیں آسکیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٣٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: «لَتَمْخُرَنَّ الرُّومُ الشَّامَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا لَا يَمْتَنِعُ مِنْهَا إِلَّا دِمَشْقَ وَعَمَّانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4638

عبدالرحمن بن سلمان بیان کرتے ہیں عنقریب ایک ایسا آدمی بادشاہ آئے گا جو تمام شہروں پر حکومت کرے گا۔صرف دمشق پر نہیں کر سکے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٣٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَعْيَسِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَلْمَانَ، يَقُولُ: «سَيَأْتِي مَلِكٌ مِنْ مُلُوكِ الْعَجَمِ يَظْهَرُ عَلَى الْمَدَائِنِ كُلِّهَا إِلَّا دِمَشْقَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4639

مکحول بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جنگ کے دوران مسلمانوں کا خیمہ اس جگہ ہوگا جس کا نام"غوطہ" ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٤٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4640

عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ:(ترجمہ)"یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا"(سورۃ آل عمران: ۵۵) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّ مَثَلَ عُثْمَانَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَقْرَؤُهَا وَيُفَسِّرُهَا {إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ، وَرَافِعُكَ إِلَيَّ، وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا} [آل عمران: 55] يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ وَإِلَى أَهْلِ الشَّامِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4641

ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے (پیغام لے جا رہا) ہو زیادہ درجے والا ہے، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٤٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَخْطُبُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " رَسُولُ أَحَدِكُمْ فِي حَاجَتِهِ أَكْرَمُ عَلَيْهِ أَمْ خَلِيفَتُهُ فِي أَهْلِهِ؟ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لِلَّهِ عَلَيَّ أَلَّا أُصَلِّيَ خَلْفَكَ صَلَاةً أَبَدًا، وَإِنْ وَجَدْتُ -قَوْمًا يُجَاهِدُونَكَ لَأُجَاهِدَنَّكَ مَعَهُمْ "، زَادَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ: «فَقَاتَلَ فِي الْجَمَاجِمِ حَتَّى قُتِلَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4642

عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے، اللہ کی قسم، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے، اور کون مجھے عبدہذیل (عبداللہ بن مسعود ہذلی) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی، وہ سوائے اعرابیوں کے نغمے کے کچھ نہیں، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے، پھر کہتا ہے، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے؟ (فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے، اللہ کی قسم، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا (جو اب کبھی نہیں آنے والا)۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے: اللہ کی قسم میں نے بھی اسے، اس سے سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٠،حدیث ٤٦٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " اتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ، وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ، لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَاللَّهِ لَوْ أَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَخَرَجُوا مِنْ بَابٍ آخَرَ لَحَلَّتْ لِي دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَاللَّهِ لَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ لَكَانَ ذَلِكَ لِي مِنَ اللَّهِ حَلَالًا، وَيَا عَذِيرِي مِنْ عَبْدِ هُذَيْلٍ يَزْعُمُ أَنَّ قِرَاءَتَهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلَّا رَجَزٌ مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ مَا أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ عَلَيْهِ السَّلَام، وَعَذِيرِي مِنْ هَذِهِ الْحَمْرَاءِ يَزْعُمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَرْمِي بِالْحَجَرِ فَيَقُولُ: إِلَى أَنْ يَقَعَ الْحَجَرُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ، فَوَاللَّهِ لَأَدَعَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الدَّابِرِ " قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِلْأَعْمَشِ فَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ سَمِعْتُهُ مِنْهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4643

اعمش بیان کرتے ہیں میں نے حجاج کو ممبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ان سرخ لوگوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، اللہ کی قسم اگر یہ ایک لکڑی کے بدلے میں لکڑی مارے تو میں انہیں یوں ختم کر دوں گا جیسے یہ گزشتہ کل تھے،حجاج کی مراد"موالی" تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٠،حدیث ٤٦٤٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: هَذِهِ الْحَمْرَاءُ هَبْرٌ هَبْرٌ، «أَمَا وَاللَّهِ لَوْ قَدْ قَرَعْتُ عَصًا بِعَصًا، لَأَذَرَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الذَّاهِبِ»، يَعْنِي الْمَوَالِيَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4644

سلیمان اعمش بیان کرتے ہیں میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ پڑھا،اس نے خطبہ دیتے ہوئے حضرت ابوبکر بن عیاش رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کی اور پھر اس نے خطبے میں یہ کہا: تم اللہ کے خلیفہ اور اس کے صفی عبدالملک بن مروان کی اطاعت و فرمانبرداری کرو،(اس کے بعد اس نے آگے گفتگو جاری رکھی) اس میں اس کی یہ بات ہے اگر میں مضر کی جگہ ربیعہ کو پکڑ لوں،تاہم سرخ لوگوں کا قصہ مذکور نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٠،حدیث ٤٦٤٥)

حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، قَالَ: جَمَّعْتُ مَعَ الْحَجَّاجِ فَخَطَبَ فَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ: فِيهَا «فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِخَلِيفَةِ اللَّهِ، وَصَفِيِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ» وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ: «وَلَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ» وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْحَمْرَاءِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4645

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلافت علی منہاج النبوۃ (نبوت کی خلافت) تیس سال رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا دے گا“ سعید کہتے ہیں: سفینہ نے مجھ سے کہا: اب تم شمار کر لو: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال،حضرت عمر رضی اللہ عنہ دس سال، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بارہ سال، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اتنے سال۔ سعید کہتے ہیں: میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ لوگ (مروانی) کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں تھے، انہوں نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنی مروان جھوٹ بولتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٠،حدیث ٤٦٤٦)

حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ أَوْ مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ» قَالَ سَعِيدٌ قَالَ لِي سَفِينَةُ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ أَبَا بَكْرٍ سَنَتَيْنِ، وَعُمَرُ عَشْرًا، وَعُثْمَانُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَعَلِيٌّ كَذَا» قَالَ سَعِيدٌ، قُلْتُ: لِسَفِينَةَ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام لَمْ يَكُنْ بِخَلِيفَةٍ قَالَ: «كَذَبَتْ أَسْتَاهُ بَنِي الزَّرْقَاءِ يَعْنِي بَنِي مَرْوَانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4646

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے نبوت کی خلافت 30 برس تک ہوگی پھر اللہ تعالی جسے چاہے گا بادشاہت عطا کر دے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١١،حدیث ٤٦٤٧)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ، أَوْ مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4647

عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو اس نے فلاں شخص کو خطبہ کے لیے کھڑا کیا، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم اس ظالم کو نہیں دیکھتے پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں، اور کہا: اگر میں دسویں شخص (کے جنت میں داخل ہونے) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا، (ابن ادریس کہتے ہیں: عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے) «آثم» کہتے ہیں)، میں نے پوچھا: اور وہ نو کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس وقت آپ حراء (پہاڑی) پر تھے: ”حراء ٹھہر جا (مت ہل) اس لیے کہ تیرے اوپر ایک نبی ہے، ایک صدیق ہے، ایک شہید ہے“ میں نے عرض کیا: اور نو کون ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکر،حضرت عمر، حضرت عثمان،حضرت علی،حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم، میں نے عرض کیا: اور دسواں آدمی کون ہے؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا: میں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے منصور سے، منصور نے ہلال بن یساف سے، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١١،حدیث ٤٦٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلًا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ فُلَانٌ إِلَى الْكُوفَةِ أَقَامَ فُلَانٌ خَطِيبًا، فَأَخَذَ بِيَدِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الظَّالِمِ، فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ إِنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ إِيثَمْ، - قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: وَالْعَرَبُ تَقُولُ آثَمُ -، قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ «اثْبُتْ حِرَاءُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ» قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ "، قُلْتُ: وَمَنِ الْعَاشِرُ؟ فَتَلَكَّأَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ: أَنَا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ ابْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4648

حضرت عبدالرحمٰن بن اخنس سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں تھے، ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا (برائی کے ساتھ) تذکرہ کیا، تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا: ”دس لوگ جنتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنتی ہیں،ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر بن عوام جنتی ہیں، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں“ اور اگر تم چاہو تو دسویں کا نام لیتا، وہ کہتے ہیں: لوگوں نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ تو وہ خاموش رہے، لوگوں نے پھر پوچھا: وہ کون ہیں؟ تو کہا: وہ سعید بن زید ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١١،حدیث ٤٦٤٩)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ -، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ رَجُلٌ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: «عَشْرَةٌ فِي الْجَنَّةِ النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شِئْتُ لَسَمَّيْتُ الْعَاشِرَ» قَالَ: فَقَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَسَكَتَ. قَالَ: فَقَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَقَالَ: هُوَ «سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4649

ریاح بن حارث کہتے ہیں میں کوفہ کی مسجد میں فلاں شخص کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس کوفہ کے لوگ جمع تھے، اتنے میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ آئے، تو انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا، اور دعا دی، اور اپنے پاؤں کے پاس انہیں تخت پر بٹھایا، پھر اہل کوفہ میں سے قیس بن علقمہ نامی ایک شخص آیا، تو انہوں نے اس کا استقبال کیا، لیکن اس نے برا بھلا کہا، سعید بولے: یہ شخص کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہہ رہا ہے، وہ بولے: کیا میں دیکھ نہیں رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو تمہارے پاس برا بھلا کہا جا رہا ہے لیکن تم نہ منع کرتے ہو نہ اس سے روکتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اور مجھے کیا پڑی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی بات کہوں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ کل جب میں آپ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کریں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں“ پھر اوپر جیسی حدیث بیان فرمایا، پھر ان (صحابہ) میں سے کسی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہو جائے یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم میں کا کوئی شخص اپنی عمر بھر عمل کرے اگرچہ اس کی عمر نوح کی عمر ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٢،حدیث ٤٦٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فَرَحَّبَ بِهِ وَحَيَّاهُ وَأَقْعَدَهُ عِنْدَ رِجْلِهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، يُقَالُ لَهُ قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ فَاسْتَقْبَلَهُ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيًّا، قَالَ أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ ثُمَّ لَا تُنْكِرُ، وَلَا تُغَيِّرُ، أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ غَدًا إِذَا لَقِيتُهُ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ» وَسَاقَ مَعْنَاهُ ثُمَّ قَالَ: «لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4650

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم "احد" پہاڑ پر چڑھے آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی چڑھے، تو وہ ہلنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں اس پر مارا اور فرمای: اے احد!ٹھہرے رہو(تمہارے اوپر)ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٢،حدیث ٤٦٥١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4651

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے، انہوں نے میرا بازو تھاما، اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی“حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ میں بھی ہوتا تاکہ میں اسے دیکھتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو اے ابوبکر! میری امت میں سے تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٢)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4652

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جہنم میں ایسا کوئی شخص داخل نہیں ہوگا جس نے درخت کے نیچے بیعت کی ہو(یعنی بیعت رضوان کی ہو) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4653

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: شاید اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہو،ایک روایت میں یہ الفاظ ہے: اللہ تعالی نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ کہا: تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مُوسَى - «فَلَعَلَّ اللَّهَ» - وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ - " اطَّلَعَ اللَّهُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4654

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تشریف لے گئے، پھر راوی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، جب وہ آپ سے بات کرتا، تو آپ کی ڈاڑھی مبارک پر ہاتھ لگاتا، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود پہنا ہوا تھا، انہوں نے تلوار کی نعل اس کے ہاتھ پر ماری اور کہا: اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَأَتَاهُ يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ: " أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4655

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مؤذن اقرع کہتے ہیں مجھے حضرت عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا، میں اسے بلا لایا، تو حضرت عمر نے اس سے کہا: کیا تم کتاب میں مجھے (میرا حال) پاتے ہو؟ وہ بولا: ہاں، انہوں نے کہا: کیسا پاتے ہو؟ وہ بولا: میں آپ کو قرن پاتا ہوں، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا: قرن کیا ہے؟ وہ بولا: لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار، انہوں نے کہا: جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا،حضرت عمر نے کہا: اللہ عثمان پر رحم کرے، (تین مرتبہ) پھر کہا: ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: وہ تو لوہے کا میل ہے (یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہو جائیں گے) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، اور فرمایا: اے گندے! بدبودار (تو یہ کیا کہتا ہے) اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ ایک نیک خلیفہ ہو گا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہو گا کہ تلوار بے نیام ہو گی، خون بہہ رہا ہو گا، (یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہو گی)۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «الدفر» کے معنی «نتن» یعنی بدبو کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٦)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ -، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ الْأَقْرَعِ، مُؤَذِّنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: بَعَثَنِي عُمَرُ إِلَى الْأُسْقُفِّ، فَدَعَوْتُهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «وَهَلْ تَجِدُنِي فِي الْكِتَابِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «كَيْفَ تَجِدُنِي؟» قَالَ: أَجِدُكَ قَرْنًا، فَرَفَعَ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ، فَقَالَ: «قَرْنٌ مَهْ؟» فَقَالَ: قَرْنٌ حَدِيدٌ، أَمِينٌ شَدِيدٌ، قَالَ: «كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي يَجِيءُ مِنْ بَعْدِي؟» فَقَالَ: أَجِدُهُ خَلِيفَةً صَالِحًا غَيْرَ أَنَّهُ يُؤْثِرُ قَرَابَتَهُ، قَالَ عُمَرُ: «يَرْحَمُ اللَّهُ عُثْمَانَ، ثَلَاثًا»، فَقَالَ: «كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي بَعْدَهُ؟» قَالَ: أَجِدُهُ صَدَأَ حَدِيدٍ، فَوَضَعَ عُمَرُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: «يَا دَفْرَاهُ، يَا دَفْرَاهُ»، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّهُ خَلِيفَةٌ صَالِحٌ، وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْلَفُ حِينَ يُسْتَخْلَفُ، وَالسَّيْفُ مَسْلُولٌ وَالدَّمُ مُهْرَاقٌ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " الدَّفْرُ: النَّتْنُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4656

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں بہترین زمانہ وہ ہیں جب مجھے مبعوث کیا گیا، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں“ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں، ”پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا، اور ان میں موٹاپا عام ہو گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي فَضْلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؛ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٢١٤،حدیث ٤٦٥٧)

بَابٌ فِي فَضْلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ح، وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ، وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ، وَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ، وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4657

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنْ سَبِّ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؛ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے؛جلد٤،ص٢١٤،حدیث ٤٦٥٨)

بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ سَبِّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4658

عمرو بن ابی قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فرمائی تھیں، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور ان سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی باتوں کا تذکرہ کرتے تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے:حضرت حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں، تو وہ لوگ حضرت حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے: ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب، یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے، وہ اپنی سبزی کے کھیت میں تھے کہنے لگے: اے سلمان! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں؟ تو سلمان نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہوتے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے، تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کو اختلاف میں مبتلا نہ کر دیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: ”میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو (اے اللہ) میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے“ اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب (امیر المؤمنین) کو لکھ بھیجوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنْ سَبِّ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؛ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے؛جلد٤،ص٢١٤،حدیث ٤٦٥٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي الْغَضَبِ، فَيَنْطَلِقُ نَاسٌ مِمَّنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ حُذَيْفَةَ فَيَأْتُونَ سَلْمَانَ فَيَذْكُرُونَ لَهُ قَوْلَ حُذَيْفَةَ، فَيَقُولُ سَلْمَانُ: حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، فَيَرْجِعُونَ إِلَى حُذَيْفَةَ فَيَقُولُونَ لَهُ قَدْ ذَكَرْنَا قَوْلَكَ لِسَلْمَانَ فَمَا صَدَّقَكَ وَلَا كَذَّبَكَ، فَأَتَى حُذَيْفَةُ سَلْمَانَ وَهُوَ فِي مَبْقَلَةٍ فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَدِّقَنِي بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَلْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ فِي الْغَضَبِ لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَيَرْضَى فَيَقُولُ فِي الرِّضَا لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، أَمَا تَنْتَهِي حَتَّى تُوَرِّثَ رِجَالًا حُبَّ رِجَالٍ وَرِجَالًا بُغْضَ رِجَالٍ، وَحَتَّى تُوقِعَ اخْتِلَافًا وَفُرْقَةً؟ وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً، أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فِي غَضَبِي، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ صَلَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ» وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4659

حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے“ عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے، میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے نماز پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا: ”ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ تعالیٰ اور مسلمان اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ اور مسلمان اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے“ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي اسْتِخْلاَفِ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه؛ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان؛جلد٤،ص٢١٥،حدیث ٤٦٦٠)

بَابٌ فِي اسْتِخْلَافِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ دَعَاهُ بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ: «مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ» فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ، فَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ، فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا، قَالَ: «فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ، يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ» فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4660

حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے،آپ نے اپنا سر مبارک حجرے سے باہر نکالا اور فرمایا نہیں، نہیں، نہیں۔ابن ابی قحافہ لوگوں کو نماز پڑھائے آپ نے غضب کے عالم میں یہ بات ارشاد فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي اسْتِخْلاَفِ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه؛ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان؛جلد٤،ص٢١٥،حدیث ٤٦٦١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ، أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: لَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَوْتَ عُمَرَ قَالَ ابْنُ زَمْعَةَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَطْلَعَ رَأْسَهُ مِنْ حُجْرَتِهِ ثُمَّ قَالَ: «لَا لَا لَا لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ يَقُولُ ذَلِكَ مُغْضَبًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4661

حسن بصری،حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروا دے گا۔ حماد نامی راوی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں شاید اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کروا دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٢)

بَابُ مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلَامِ فِي الْفِتْنَةِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ، مِنْ أُمَّتِي» - وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ - وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4662

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٣)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ، إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4663

ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا: میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے، ہم اندر گئے تو اس میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ہیں ، ہم نے ان سے پوچھا (کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں؟) تو فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لیے جب تک معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٤)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ ضُبَيْعَةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ فَقَالَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا لَا تَضُرُّهُ الْفِتَنُ شَيْئًا»، قَالَ: فَخَرَجْنَا فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ فَدَخَلْنَا فَإِذَا فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: مَا أُرِيدُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ أَمْصَارِكُمْ حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4664

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ضُبَيْعَةَ بْنِ حُصَيْنٍ الثَّعْلَبِيِّ بِمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4665

قیس بن عباد بیان کرتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا ہمیں اس روانگی کے بارے میں بتائے،کیا یہ کوئی عہد تھا،جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے لیا تھا یا آپ کی اپنی رائے ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی عہد نہیں لیا یہ میری ذاتی رائے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٦)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا أَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ فَقَالَ: «مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4666

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مسلمانوں کے درمیان اختلاف کرنے سے ایک گروہ الگ ہو جائے گا ان کے ساتھ جنگ وہ گروہ کرے گا جو مسلمانوں کے دونوں گروہوں میں حق کے زیادہ قریب ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٦٧)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4667

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء کرام میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٦٨)

بَابٌ فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4668

ابن شہاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کسی بھی شخص کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٦٩)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4669

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کسی بھی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٧٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4670

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سب پر فضیلت دی، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، (پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٧١)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَا - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدِيثُ ابْنِ يَحْيَى أَتَمُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4671

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے خیر البریہ(اے مخلوق میں سب سے بہتر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٢)

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، يَذْكُرُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4672

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میں اولاد ادم کا سردار ہوں، سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شک کیا جائے گا، میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا، سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٣)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4673

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مجھے نہیں معلوم کیا "تبع" قوم کے لوگ ملعون ہے یا نہیں ہیں، اور مجھے نہیں معلوم حضرت عزیر نبی تھے یا نہیں تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٤) ضروری نوٹ:اس حدیث میں تو یہ ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تبع قوم ملعون ہے کا نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن ایک دوسری حدیث میں ہے حضرت سہل بن سعد ساعدی (رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :تبع کو بُرا نہ کہو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ (مسند احمد ج 5 ص 340) امام عبد الرزاق، امام ابن ابی حاتم اور امام طبرانی نے بھی اپنی سندوں کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 156-157، ملحضا، دار الفکر، بیروت، 1419ھ بحوالہ تفسیر تبیان القرآن سورہ ق آیت نمبر ١٤) نیز المستدرک للحاکم اورابن عساکروغیرہ کی روایات میں عزیر کی بجائے ذوالقرنین کا ذکر ہے اور ذوالقرنینن کے بارے نہیں معلوم وہ نبی تھے یا نہیں رہی بات حضرت عزیر کی تو ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ نبی تھے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَدْرِي أَتُبَّعٌ لَعِينٌ هُوَ أَمْ لَا، وَمَا أَدْرِي أَعُزَيْرٌ نَبِيٌّ هُوَ أَمْ لَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4674

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میں ابن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہوں، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں اور میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ -رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4675

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ایمان کی 70 سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے زیادہ فضیلت اس بات کا اقرار ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں،اور ان میں سب سے کم تر راستے میں سے کسی ہڈی کو دور کرنا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي رَدِّ الإِرْجَاءِ؛ارجاء کی تردید کا بیان؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٦)

بَابٌ فِي رَدِّ الْإِرْجَاءِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ: أَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْعَظْمِ عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4676

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو: ایمان باللہ کیا ہے؟“ وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي رَدِّ الإِرْجَاءِ؛ارجاء کی تردید کا بیان؛جلد٤،ص٢١٩،حدیث ٤٦٧٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ»، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4677

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بندے اور کفر کے درمیان(بنیادی نشانی)نماز ترک کرنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي رَدِّ الإِرْجَاءِ؛ارجاء کی تردید کا بیان؛جلد٤،ص٢١٩،حدیث ٤٦٧٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَ الْعَبْدِ، وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4678

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا“ (ایک عورت) نے کہا: عقل اور دین میں کیا نقص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل کی کمی کا تعلق تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، اور جہاں تک دین میں کمی کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ (حیض و نفاس میں) تم میں کوئی نہ روزے رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢١٩،حدیث ٤٦٧٩)

بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الْإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَلَا دِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ» قَالَتْ: وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: «أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ -- امْرَأَتَيْنِ شَهَادَةُ رَجُلٍ، وَأَمَّا نُقْصَانُ الدِّينِ فَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ تُفْطِرُ رَمَضَانَ وَتُقِيمُ أَيَّامًا لَا تُصَلِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4679

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کا کیا ہوگا جو ایسے عالم میں فوت ہوئے ہیں جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے تو اللہ تعالی نے یہ ایت نازل کی۔ "اللہ تعالی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہاری ایمان(اعمال)کو ضائع کر دے"(البقرہ ١٤٣) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَمَّا تَوَجَّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَكَيْفَ الَّذِينَ مَاتُوا، وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} [البقرة: 143]

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4680

حضرت ابو امامہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص اللہ تعالی کے لیے محبت رکھے، اللہ تعالی کے لیے ناراضگی رکھے، اللہ تعالی کے لیے دے، اللہ تعالی کے لیے نہ دے تو اس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨١)

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4681

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مومنین میں ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4682

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو عطاء کیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا تو سعد نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا لیکن فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلم ہے“ سعد نے تین بار یہی عرض کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے: ”یا مسلم ہے“ پھر آپ نے فرمایا: ”میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور ان میں جو مجھے زیادہ محبوب ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں، میں اسے کچھ بھی نہیں دیتا، ایسا اس اندیشے سے کہ کہیں وہ دوسرے لوگ جہنم میں اوندھے منہ نہ ڈال دیئے جائیں۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ مُسْلِمٌ» حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَوْ مُسْلِمٌ» ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ لَا أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4683

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں زہری کے الفاظ ہیں، ارشاد باری تعالی ہے: "تم فرما دو تم لوگ مومن نہیں ہو تم یہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا ہے۔"(الحجرات ١٤) زہری فرماتے ہیں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ اسلام سے مراد ظاہری طور پر کلمہ پڑھنا ہے اور ایمان سے مراد عمل کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: وَقَالَ -الزُّهْرِيُّ: {قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا} [الحجرات: 14] قَالَ: «نَرَى أَنَّ الْإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ وَالْإِيمَانَ الْعَمَلُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4684

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ تقسیم کیا،میں نے عرض کی: آپ فلاں کو بھی کچھ عطا کیجئے،کیونکہ وہ مومن ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(مومن)یا مسلمان ہے۔ میں ایک شخص کو کچھ دیتا ہوں جبکہ دوسرا شخص اس سے زیادہ مجھے محبوب ہوتا ہے۔اس اندیشے کہ تحت کے کہیں وہ پہلا شخص منہ کے بل جہنم میں نہ گر جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢١،حدیث ٤٦٨٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، قَالَ: «أَوْ مُسْلِمٌ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ الْعَطَاءَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُكَبَّ عَلَى وَجْهِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4685

واقد بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔"میرے بعد زمانے کفر کی طرح ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع نہ کر دینا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢١،حدیث ٤٦٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4686

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢١،حدیث ٤٦٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ خَالِصٌ وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4688

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا اور توبہ کی گنجائش اس کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢١،حدیث ٤٦٨٩)

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4689

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس پر موجود رہتا ہے جب وہ شخص اس سے الگ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف واپس آجاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الرَّجُلُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ كَانَ عَلَيْهِ كَالظُّلَّةِ، فَإِذَا انْقَطَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4690

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قدریہ (منکرین تقدیر) اس امت کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩١)

بَابٌ فِي الْقَدَرِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِمِنًى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ: إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4691

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت میں مجوس ہوتے ہیں، اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہیں، ان میں کوئی مر جائے تو تم اس کے جنازے میں شرکت نہ کرو، اور اگر کوئی بیمار پڑے، تو اس کی عیادت نہ کرو، یہ دجال کی جماعت کے لوگ ہیں، اور یہ بات اللہ تعالی کے ذمے ہے(کہ وہ اخرت میں یا جہنم)میں انہیں دجال کے ساتھ رکھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسٌ وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا قَدَرَ، مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلَا تَشْهَدُوا جَنَازَتَهُ، وَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، وَحَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِالدَّجَّالِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4692

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا، چنانچہ آدم کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے مختلف رنگ کے ہے، کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان، کوئی نرم خو، تو کوئی درشت خو، سخت گیر، کوئی خبیث تو کوئی پاک باز“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ، وَيَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَاهُمْ قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ: جَاءَ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ، وَالْأَبْيَضُ، وَالْأَسْوَدُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ، وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ، وَالطَّيِّبُ «زَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى» وَبَيْنَ ذَلِكَ " وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4693

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ کے قبرستان بقیع غرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے، آپ آئے اور بیٹھ گئے، آپ کے پاس ایک چھڑی تھی، چھڑی سے زمین کریدنے لگے، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک نفس کا ٹھکانہ جنت یا دوزخ میں لکھ دیا ہے، اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گا یا بدبخت“ لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے نبی! پھر ہم کیوں نہ اپنے لکھے پر اعتماد کر کے بیٹھ رہیں اور عمل ترک کر دیں کیونکہ جو نیک بختوں میں سے ہو گا وہ لازماً نیک بختی کی طرف جائے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا وہ ضرور بدبختی کی طرف جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کے لیے اس کا عمل آسان ہے، اہل سعادت کے لیے سعادت کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں اور بدبختوں کے لیے بدبختی کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا:(ترجمہ)”تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی ۔اور سب سے اچھی کو سچ مانا۔ تو بہت جلد ہم اُسے آسانی مہیا کردیں گے ۔اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا ۔اور سب سے اچھی کو جھٹلایا ۔تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے۔“۔(اللیل ٦) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ -- بْنَ الْمُعْتَمِرِ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِالْمِخْصَرَةِ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ مَكَانَهَا مِنَ النَّارِ أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ، إِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً، أَوْ سَعِيدَةً»، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ لَيَكُونَنَّ إِلَى السَّعَادَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ لَيَكُونَنَّ إِلَى الشِّقْوَةِ؟ قَالَ: " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ: أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشِّقْوَةِ، فَيُيَسَّرُونَ لِلشِّقْوَةِ " ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 6]

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4694

یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کے بارے میں گفتگو کی، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور علم میں مہارت حاصل کرتے ہیں، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں، تو آپ نے عرض کیا: جب تم ان سے ملنا تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں، اور وہ مجھ سے بری ہیں (میرا ان سے کوئی تعلق نہیں)، اس ہستی کی قسم، جس کی قسم عبداللہ بن عمر کھایا کرتا ہے، اگر ان میں ایک شخص کے پاس احد کے برابر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو بھی اللہ اس کے کسی عمل کو قبول نہ فرمائے گا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے، پھر آپ نے کہا: مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا جس کا لباس نہایت سفید اور بال انتہائی کالے تھے، اس پر نہ تو سفر کے آثار دکھائی دے رہے تھے، اور نہ ہی ہم اسے پہچانتے تھے، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا، اس نے اپنے گھٹنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے، اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے رانوں پر رکھ لیا اور عرض کیا: محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روز ے رکھو، اور اگر پہنچنے کی قدرت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو“ وہ بولا: آپ نے سچ کہا، حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں: ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور تقدیر کے بھلے یا برے ہونے پر ایمان لاؤ“ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ پھر پوچھا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو (یہ تصور رکھو کہ) وہ تو تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے“ اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھا جا رہا ہے، وہ اس بارے میں پوچھنے والے سے زیادہ جانتا ہے “۔ اس نے کہا: تو مجھے اس کی علامتیں ہی بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی، اور یہ کہ تم ننگے پیر اور ننگے بدن، محتاج، بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں فخر کریں گے“ پھر وہ چلا گیا، پھر میں تین (ساعت) تک ٹھہرا رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٣،حدیث ٤٦٩٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ، أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ، فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ، فَوَفَّقَ اللَّهُ لَنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ دَاخِلًا فِي الْمَسْجِدِ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَفَقَّرُونَ الْعِلْمَ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، وَالْأَمْرَ أُنُفٌ، فَقَالَ: إِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَهُمْ بُرَآءُ مِنِّي، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ -- بِالْقَدَرِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا» قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: «مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا، بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا، قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ، رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ»، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «يَا عُمَرُ، هَلْ تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4695

یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے تو ہم نے آپ سے تقدیر کے بارے میں جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا ذکر کیا۔ پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ سے مزینہ یا جہینہ کے ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کیا جان کر عمل کریں؟ کیا یہ جان کر کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ سب پہلے ہی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے، یا یہ جان کر کہ (پہلے سے نہیں لکھا گیا ہے) نئے سرے سے ہونا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جان کر کہ جو کچھ ہونا ہے سب تقدیر میں لکھا جا چکا ہے“ پھر اس شخص نے یا کسی دوسرے نے کہا: تو آخر یہ عمل کس لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کے لیے اہل جنت والے اعمال آسان کر دئیے جائیں گےاور اہل جہنم کو اہل جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جائیں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٤،حدیث ٤٦٩٦)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: لَقِيَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَذَكَرْنَا لَهُ الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ زَادَ قَالَ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَا نَعْمَلُ أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى أَوْ فِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: «فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا وَمَضَى» فَقَالَ الرَّجُلُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4696

یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں تاہم اس میں کچھ اضافہ ہے۔ اس شخص نے دریافت کیا اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے مہینے میں روزے رکھنا اور غسل جنابت کرنا۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں؛اس روایت کا ایک راوی علقمہ مرجئی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٤،حدیث ٤٦٩٧)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ يَعْمَرَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ -، قَالَ: فَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «إِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَالِاغْتِسَالُ مِنَ الْجَنَابَةِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عَلْقَمَةُ مُرْجِئٌ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4697

حضرت ابوذر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے بیچ میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ جب کوئی اجنبی شخص آتا تو وہ بغیر پوچھے آپ کو پہچان نہیں پاتا تھا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے ایک ایسی جائے نشست بنا دیں کہ جب بھی کوئی اجنبی آئے تو وہ آپ کو پہچان لے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے آپ کے لیے ایک مٹی کا چبوترا بنا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے، آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی جیسی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ ایک شخص آیا، پھر انہوں نے اس کی ہیئت ذکر کی، یہاں تک کہ اس نے بیٹھے ہوئے لوگوں کے کنارے سے ہی آپ کو یوں سلام کیا: السلام علیک یا محمد! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٥،حدیث ٤٦٩٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَيْ أَصْحَابِهِ، فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلَا يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ، فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ، قَالَ: فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، وَكُنَّا نَجْلِسُ بِجَنْبَتَيْهِ، وَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَذَكَرَ هَيْئَتَهُ، حَتَّى سَلَّمَ مِنْ طَرَفِ السِّمَاطِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ: «فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4698

ابن دیلمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا، فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور عذاب دینے میں وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے، اگر تم احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا، اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گئے تو ضرور جہنم میں داخل ہو گے۔ ابن دیلمی کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرفوع روایت بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٦٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقُلْتُ: لَهُ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَهُ مِنْ قَلْبِي، قَالَ: «لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ»، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4699

ابوحفصہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! تم ایمان کی حقیقت کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: لکھ، قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“ اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو اس کے علاوہ کسی دوسرے نظریے پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٧٠٠)

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ، إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ قَالَ: رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4700

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ نے ہمیں محروم کیا، اور ہمیں جنت سے نکلوایا، آدم نے کہا: تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے لیے چن لیا، اور تمہارے لیے تورات کو اپنے دست قدرت سے لکھا، تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اس نے میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھوا دیا تھا، پس آدم موسیٰ پر غالب آ گئے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٧٠١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ فَحَجَّ آدَمُ، مُوسَى " قَالَ: أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4701

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے رب! ہمیں آدم علیہ السلام کو دکھا جنہوں نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوایا، تو اللہ نے انہیں آدم علیہ السلام کو دکھایا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے باپ آدم ہیں؟ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: آپ ہی ہیں جس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی، جسے تمام نام سکھائے اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تو آپ نے ہمیں اور اپنے آپ کو جنت سے کیوں نکلوایا؟ تو آدم نے ان سے کہا: اور تم کون ہو؟ وہ بولے: میں موسیٰ ہوں، انہوں نے کہا: تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جس سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی اور تمہارے اور اپنے درمیان اپنی مخلوق میں سے کوئی قاصد مقرر نہیں کیا؟ کہا: ہاں، آدم علیہ السلام نے کہا: تو کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ وہ (جنت سے نکالا جانا) میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی کتاب میں لکھا ہوا تھا؟ کہا: ہاں معلوم ہے، انہوں نے کہا: پھر ایک چیز کے بارے میں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کیوں مجھے ملامت کرتے ہو؟“ یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آدم، موسیٰ پر غالب آ گئے، تو آدم موسیٰ پر غالب آ گئے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٧٠٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مُوسَى قَالَ: يَا رَبِّ، أَرِنَا آدَمَ الَّذِي أَخْرَجَنَا وَنَفْسَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، فَأَرَاهُ اللَّهُ آدَمَ، فَقَالَ: أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَفَخَ اللَّهُ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَعَلَّمَكَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ أَخْرَجْتَنَا وَنَفْسَكَ مِنَ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: أَنْتَ نَبِيُّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ لَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ رَسُولًا مِنْ خَلْقِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَمَا وَجَدْتَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فِيمَ تَلُومُنِي فِي شَيْءٍ سَبَقَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى فِيهِ الْقَضَاءُ قَبْلِي؟ «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ» فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4702

مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت،(ترجمہ)"اور جب تمہارے پروردگار نے اولاد ادم کو ان کی پشت سے نکالا"(الاعراف ١٧٢)کے متعلق پوچھا گیا۔ (حدیث بیان کرتے وقت) قعنبی نے آیت پڑھی تو آپ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا، اس سے اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے، اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے، پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے بھی اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جہنمیوں کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم کے کام کریں گے“ تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! پھر عمل سے کیا فائدہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام کراتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے، تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنمیوں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٧٠٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُنَيْسَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَخْبَرَهُ عَنْ مُسْلِمِ -- بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ} [الأعراف: 172] قَالَ: قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ الْآيَةَ فَقَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ "، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4703

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول نعیم بن ربیعہ کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا،اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں؛ امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول حدیث زیادہ مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٧،حدیث ٤٧٠٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ جُعْثُمٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4704

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: وہ لڑکا جسے حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا اس کی تقدیر میں کافر ہونا لکھا تھا،اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف کھینچ لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٧،حدیث ٤٧٠٥)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغُلَامُ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا، وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4705

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کے اس فرمان کے متعلق یہ بیان کرتے ہوئے سنا "اور جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے اس کے ماں باپ مومن تھے"(کھف ٨٠) (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں)اسے فطری طور پر کافر پیدا کیا گیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٧،حدیث ٤٧٠٦)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ فِي قَوْلِهِ {وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ} [الكهف: 80] «وَكَانَ طُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4706

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ بات بتائی ہے: حضرت خضر علیہ السلام نے ایک لڑکے کو دیکھا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا انہوں نے اس کا سر پکڑا اور اس کو جسم سے الگ کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے پاک جان کو قتل کر دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٧،حدیث ٤٧٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ -- عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبْصَرَ الْخَضِرُ غُلَامًا يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَتَنَاوَلَ رَأْسَهُ فَقَلَعَهُ، فَقَالَ مُوسَى: {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً} [الكهف: 74] الْآيَةَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4707

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صادق ہیں اور آپ کی صداقت کی بیان کی گئی فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: تو وہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل لکھتا ہے، پھر لکھتا ہے: آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جنت) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے کام کر بیٹھتا ہے تو وہ داخل جہنم ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی شخص جہنمیوں کے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جہنم) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے، اب وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے تو داخل جنت ہو جاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٨،حدیث ٤٧٠٨)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ وَالْإِخْبَارُ، فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ " إِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: فَيُكْتَبُ رِزْقُهُ، وَأَجَلُهُ، وَعَمَلُهُ، ثُمَّ يُكْتَبُ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، أَوْ قِيدُ ذِرَاعٍ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، أَوْ قِيدُ ذِرَاعٍ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4708

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم)کیا یہ طے ہو چکا ہے کہ اہل جہنم اور اہل جنت کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں اس نے دریافت کیا پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک کے لیے وہ کام آسان ہو جاتا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٨،حدیث ٤٧٠٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعُلِمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَفِيمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: «كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4709

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: منکرین تقدیر کے ساتھ نہ بیٹھو اور ان کے ساتھ تعلق نہ رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٨،حدیث ٤٧١٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4710

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے جو انہوں نے عمل کرنا تھا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٢٩،حدیث ٤٧١١)

بَابٌ فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4711

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک بچہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!یہ کتنا خوش نصیب ہے کہ اس نے کوئی برائی نہیں کی اور اسے کسی برائی تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تم ایسا سمجھتی ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے اور جنت کو ان لوگوں کے لیے جب بنایا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے گئے اور جہنم کو ان لوگوں کے لیے پیدا کیا جب کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٢٩،حدیث ٤٧١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُصَلِّي عَلَيْهِ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُوبَى لِهَذَا لَمْ يَعْمَلْ شَرًّا وَلَمْ يَدْرِ بِهِ، فَقَالَ: «أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا، وَخَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا، وَخَلَقَهَا لَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4713

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا ڈالتے ہیں، جیسے اونٹ صحیح و سالم جانور سے پیدا ہوتا ہے تو کیا تمہیں اس میں کوئی کنکٹا نظر آتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے جو بچپنے میں مر جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٢٩،حدیث ٤٧١٤)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تَنَاتَجُ الْإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ؟ قَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4714

امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت حارث بن مسکین کے سامنے پڑھی گئی میں اس وقت وہاں موجود تھا(اس کے بعد انہوں نے اس حدیث کی سند نقل کی) ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا:بدمذہب (قدریہ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو، اس لیے کہ اس میں ہے: صحابہ نے عرض کیا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٢٩،حدیث ٤٧١٥)

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، أَخْبَرَكَ يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، قِيلَ لَهُ: إِنَّ -أَهْلَ الْأَهْوَاءِ يَحْتَجُّونَ عَلَيْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مَالِكٌ: احْتَجَّ عَلَيْهِمْ بِآخِرِهِ، قَالُوا: أَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ، قَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4715

حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حماد بن سلمہ کو «كل مولود يولد على الفطرة» ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے“ کی تفسیر کرتے سنا، آپ نے کہا: ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا: «ألست بربكم قالوا بلى» ”کیا میں تمہارا رب (معبود) نہیں ہوں؟“(الأعراف ١٧٢) تو انہوں نے کہا تھا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧١٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، يُفَسِّرُ حَدِيثَ «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ» قَالَ: هَذَا عِنْدَنَا حَيْثُ أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ حَيْثُ قَالَ: {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى} [الأعراف: 172]

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4716

عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وائدہ» (زندہ درگور کرنے والی) اور «مؤودہ» (زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں“۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ («وائدہ» سے مراد زندہ درگور کرنے والی عورت، اور «مؤودہ» سے مراد وہ عورت ہے جو اپنی بچی کو زندہ درگور کرنے پر راضی ہو، اس صورت میں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧١٧)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ» قَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا: قَالَ أَبِي فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُ بِذَلِكَ عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4717

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟آپ نے فرمایا تمہارا باپ جہنم ہے جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے فرمایا میرا باپ(یعنی چچا)اور تمہارا باپ جہنم میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧١٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: «أَبُوكَ فِي النَّارِ» فَلَمَّا قَفَّى قَالَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4718

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: شیطان آدم کے بیٹے کی رگوں میں گردش کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧١٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4719

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے قدریوں(یعنی تقدیر کا انکار کرنے والوں)کے ساتھ نہ بیٹھو اور ان کے ساتھ لین دین نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧٢٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ، وَلَا تُفَاتِحُوهُمُ الْحَدِيثَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4720

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟تو جو شخص ایسی چیز پائے تو وہ یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لایا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧٢١)

بَابٌ فِي الْجَهْمِيَّةِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4721

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جب وہ لوگ یہ کہیں تو تم یہ کہو۔ اللہ تعالی ایک ہے، اللہ تعالی بے نیاز ہے، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی اس کو جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ پھر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے اور شیطان سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣١،حدیث ٤٧٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، مَوْلَى بَنِي تَيْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: " فَإِذَا قَالُوا ذَلِكَ فَقُولُوا: اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ثُمَّ لِيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ مِنَ الشَّيْطَانِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4722

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: ”تم اسے کیا نام دیتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: «سحاب» (بادل)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور «مزن» بھی“ لوگوں نے کہا: ہاں «مزن» بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور «عنان» بھی“ لوگوں نے عرض کیا: اور «عنان» بھی، (ابوداؤد کہتے ہیں: «عنان» کو میں اچھی طرح ضبط نہ کر سکا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہمیں نہیں معلوم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے“ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنائے ”پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کے نیچے والے اور اوپر والے حصے کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں جن کے پاؤں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣١،حدیث ٤٧٢٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟» قَالُوا: السَّحَابَ، قَالَ: «وَالْمُزْنَ» قَالُوا: وَالْمُزْنَ، قَالَ: «وَالْعَنَانَ» قَالُوا: وَالْعَنَانَ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «لَمْ أُتْقِنِ الْعَنَانَ جَيِّدًا» قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟» قَالُوا: لَا نَدْرِي، قَالَ: «إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا إِمَّا وَاحِدَةٌ أَوِ اثْنَتَانِ أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، ثُمَّ السَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ» حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ «ثُمَّ فَوْقَ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلَافِهِمْ وَرُكَبِهِمْ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِمُ الْعَرْشُ مَا بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4723

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣١،حدیث ٤٧٢٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4724

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣١،حدیث ٤٧٢٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4725

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے، گھربار تباہ ہو گئے، مال برباد ہوگیا، جانور ہلاک ہو گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور آپ کی بارگاہ میں اللہ تعالیٰ کی سفارش پیش کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا برا ہو،کیا تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ کہنے لگے، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا: ”تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے سامنے سفارشی نہیں بنایا جا سکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے، تمہارا برا ہو! کیا تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ کتنا عظیم ہے، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے (آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے، (ابن بشار کی حدیث میں ہے) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر اپنی شان کے لائق ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے“ اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔ عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے، اور عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، ایک ہی نسخے سے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٢،حدیث ٤٧٢٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ أَحْمَدُ: كَتَبْنَاهُ مِنْ نُسْخَتِهِ وَهَذَا لَفْظُهُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جُهِدَتِ الْأَنْفُسُ، وَضَاعَتِ الْعِيَالُ، وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ، وَهَلَكَتْ الْأَنْعَامُ، فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا تَقُولُ؟» وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ، إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا» وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ «وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ» قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: «إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ» وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: وَابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الصَّحِيحُ وَافَقَهُ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ أَحْمَدُ، أَيْضًا وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَابْنِ الْمُثَنَّى، وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4726

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: انہوں نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ اجازت دی گئی ہے کہ میں عرش کو تھامنے والے اللہ تعالی کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بتاؤں اس کے کان کی لو سے لے کر کندھے کے درمیان تک ساتھ سو سال کے مسافت کا فاصلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٢،حدیث ٤٧٢٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4727

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها"إلى قوله تعالى"سميعا بصيرا» ”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔۔۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے“ (سورۃ النساء: ۵۸) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، (یعنی شہادت کی انگلی کو)، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔ ابن یونس کہتے ہیں: عبداللہ بن یزید مقری نے کہا: یعنی «إن الله سميع بصير‏» پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سماعت اور بصارت ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جہمیہ کا رد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٣،حدیث ٤٧٢٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} [النساء: 58] إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: 58] قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ»، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: قَالَ الْمُقْرِئُ: يَعْنِي: إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ، يَعْنِي أَنَّ لِلَّهِ سَمْعًا وَبَصَرًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَهَذَا رَدٌّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4728

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں شب کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: ”تم لوگ عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی الجھن پیش نہیں ہوگی، لہٰذا اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ تم فجر اور عصر کی نماز نہ چھوڑنا“ پھر آپ نے یہ آیت «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» ”اور اپنے رب کی تسبیح کرو، سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے“ (سورۃ طہٰ: ۱۳۰) پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرُّؤْيَةِ؛رویت باری تعالیٰ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٣،حدیث ٤٧٢٩)

بَابٌ فِي الرُّؤْيَةِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا» ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَ {سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: 130]

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4729

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرُّؤْيَةِ؛رویت باری تعالیٰ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٣،حدیث ٤٧٣٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4730

ابورزین موسیٰ عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کی (قیامت کے دن)زیارت کرےگا؟ اور اس کی نشانی اس کی مخلوق میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابورزین! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ تو سب سے عظیم ہے“ ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے،اللہ تعالی کی شان تو اس سے کہیں زیادہ بلند ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرُّؤْيَةِ؛رویت باری تعالیٰ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣١)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ مُوسَى: ابْنِ عُدُسٍ -، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، - قَالَ مُوسَى: الْعُقَيْلِيِّ - قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ؟ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: يَا أَبَا رَزِينٍ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ؟ " قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: «لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ» ثُمَّ اتَّفَقَا: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «فَاللَّهُ أَعْظَمُ» قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: قَالَ: «فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4731

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے گا، اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑے گا، پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں اترانے والے؟“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرَّدِّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کے رد کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣٢) ضروری نوٹ:اس قسم کے الفاظ کہ اللہ ہاٹھ سے پکڑے گا متشابہات میں سے ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے۔

بَابٌ فِي الرَّدِّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ " قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: " بِيَدِهِ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4732

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی پکار کو قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کر دوں۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرَّدِّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کے رد کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣٣)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4733

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں لوگوں کے سامنے تشریف لے جاتے تھے اور فرماتے تھے: کہ کوئی شخص مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے گا،قریش تو مجھے اس بات سے روکتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے کلام کی تبلیغ کروں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣٤)

بَابٌ فِي الْقُرْآنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ -نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْقِفِ، فَقَالَ: «أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4734

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے نزدیک میری اتنی حیثیت نہیں تھی کہ اللہ تعالی میرے بارے میں ایسا کلام نازل کرے کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣٥)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ - وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً، مِنَ الْحَدِيثِ - قَالَتْ: «وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4735

حضرت عامر بن شہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نجاشی کے پاس موجود تھا اس کے بیٹے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی،تو میں ہنس پڑھا تو نجاشی بولا کیا تم اللہ کے کلام پر ہنس رہے ہو؟ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٥،حدیث ٤٧٣٦)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ، قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ فَقَرَأَ ابْنٌ لَهُ آيَةً مِنَ الْإِنْجِيلِ فَضَحِكْتُ فَقَالَ أَتَضْحَكُ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4736

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو یہ پڑھ کر دم کرتے تھے؛ «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ”میں تم دونوں کو مکمل پناہ میں دیتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے (سانپ بچھو وغیرہ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے“ پھر فرماتے: ”تمہارے باپ (ابراہیم) اسماعیل و اسحاق (علیہم السلام) کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٥،حدیث ٤٧٣٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ثُمَّ يَقُولُ: «كَانَ أَبُوكُمْ يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ لَيْسَ بِمَخْلُوقٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4737

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ وحی سے متعلق کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل! تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: حق (فرمایا) تو وہ سب کہتے ہیں حق (فرمایا) حق (فرمایا)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٥،حدیث ٤٧٣٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ابْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَكَلَّمَ اللَّهُ بِالْوَحْيِ، سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا، فَيُصْعَقُونَ، فَلَا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ، حَتَّى إِذَا جَاءَهُمْ جِبْرِيلُ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ» قَالَ: " فَيَقُولُونَ: يَا جِبْرِيلُ مَاذَا قَالَ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: الْحَقَّ، فَيَقُولُونَ: الْحَقَّ، الْحَقَّ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4738

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛شفاعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٣٩)

بَابٌ فِي الشَّفَاعَةِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا بَسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4739

حضرت عمران بن حصین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے جہنم سے کچھ لوگ نکلیں گے اور جنت میں داخل ہو جائیں گے اور انہیں"جہنمیوں"کا نام دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛شفاعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4740

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اہل جنت اس میں کھائیں گے بھی اور پئیں گے بھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛شفاعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4741

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں صور ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی ذکر البعث والصور؛دوبارہ زندہ ہونے اور صور کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤٢)

بَابٌ فِي ذِكْرِ الْبَعْثِ وَالصُّورِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْلَمُ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4742

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ابن ادم(کے جسم کے)ہر حصے کو زمین کھا لے گی سوائے ریڑ کی ہڈی کے مخصوص حصے کے کیونکہ اس سے تخلیق کیا گیا اور اس سے اسے دوبارہ بنایا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی ذکر البعث والصور؛دوبارہ زندہ ہونے اور صور کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤٣)

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلَّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُ الْأَرْضُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4743

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا، پھر (اللہ نے) اسے ناپسندیدہ صورتحال کے ذریعے اسے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہو گا، تو اللہ نے اسے شہوات کے ذریعے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی خلق الجنۃ والنار؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤٤)

بَابٌ فِي خَلْقِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ - يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ " قَالَ: " فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4744

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے آگے حوض ہوگا اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا"جرباء"اور"اذرح"کے درمیان ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٧،حدیث ٤٧٤٥)

بَابٌ فِي الْحَوْضِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4745

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے،ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ آپ نے فرمایا: جتنے لوگ میرے حوض پر آئیں گے تم ان کا ایک لاکھوں حصہ بھی نہیں ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا آپ لوگوں کی تعداد اس وقت کتنی تھی انہوں نے جواب دیا 700 تھی یا شاید 800 تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٧،حدیث ٤٧٤٦)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ: «مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «سَبْعُ مِائَةٍ أَوْ ثَمَانِ مِائَةٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4746

مختار بن فلفل بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آگئی جب آپ نے سر مبارک اٹھایا تو آپ مسکرا رہے تھے لوگوں نے آپ سے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟تو آپ نے فرمایا ابھی میرے اوپر یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔پھر آپ نے(ان آیات کی)تلاوت کی۔ "اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے( وہ فرماتا ہے): " بے شک ہم نے تمہیں الکوثر عطا کی ہے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری سورت کو تلاوت کیا،جب آپ نے اسے پڑھ لیا تو اپ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو" کوثر" سے مراد کیا ہے لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک نہر ہے جس کا میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے،یہ جنت میں ہے اس میں بہت زیادہ بھلائی ہے اس پر ایک حوض ہے میری امت کے لوگ قیامت کے دن اس حوض پر آئیں گے اس کے کوزے ستاروں کی تعداد جتنے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٧،حدیث ٤٧٤٧)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَإِمَّا قَالَ لَهُمْ، وَإِمَّا قَالُوا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ ضَحِكْتَ؟ فَقَالَ: «إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ» فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا قَرَأَهَا قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، عَلَيْهِ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4747

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو آپ جنت میں تھے(راوی کو شک ہوا کہ شاید یہ الفاظ ہیں)آپ کے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کنارے کھوکھلے یاقوت کے تھے، فرشتے نے جو آپ کے ساتھ تھے اپنا ہاتھ اس پر مارا اور اس میں سے مشک نکال کر دکھائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتے سے جو آپ کے ساتھ تھا دریافت کیا یہ کیا ہے اس نے جواب دیا یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالی نے آپ کو عطا کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٨،حدیث ٤٧٤٨)

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا عُرِجَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ كَمَا قَالَ: عُرِضَ لَهُ نَهْرٌ حَافَتَاهُ الْيَاقُوتُ الْمُجَيَّبُ، أَوْ قَالَ: الْمُجَوَّفُ، فَضَرَبَ -- الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ يَدَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَلَكِ الَّذِي مَعَهُ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4748

ابو طالوت بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا،جب وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس آئے جب عبید اللہ نے انہیں دیکھا تو بولا اے چھوٹے قد کا موٹا محمدی ہے۔ وہ بزرگ اس بات کو سمجھ گئے اور بولے مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ میں ایسی قوم میں باقی رہوں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کی وجہ سے مجھے طعنہ دیں گے،تو عبید اللہ نے ان سے کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونا آپ کے لیے عزت کا باعث ہے رسوائی کا باعث نہیں ہے، پھر اس نے بتایا میں نے آپ کو اس لیے بلوایا ہے تاکہ آپ سے حوض کوثر کے بارے میں دریافت کروں کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں کوئی تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟تو حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں ایک مرتبہ نہیں، دو مرتبہ نہیں، تین مرتبہ نہیں، چار مرتبہ نہیں، پانچ مرتبہ نہیں (بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنا ہے) اور جو شخص آپ کے حوالے سے کوئی جھوٹی بات بیان کرے تو اللہ تعالی اسے اس حوض سے پینا نصیب نہ کرے، پھر حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ غضب کے عالم میں وہاں سے چلے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٨،حدیث ٤٧٤٩)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ أَبُو طَالُوتَ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا بَرْزَةَ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَحَدَّثَنِي فُلَانٌ - سَمَّاهُ مُسْلِمٌ وَكَانَ فِي السِّمَاطِ - فَلَمَّا رَآهُ عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا الدَّحْدَاحُ، فَفَهِمَهَا الشَّيْخُ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسَبُ أَنِّي أَبْقَى فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ: إِنَّ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ زَيْنٌ غَيْرُ شَيْنٍ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِأَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ، سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِيهِ شَيْئًا؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَرْزَةَ: نَعَمْ «لَا مَرَّةً، وَلَا ثِنْتَيْنِ، وَلَا ثَلَاثًا، وَلَا أَرْبَعًا، وَلَا خَمْسًا، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ مُغْضَبًا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4749

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“۔ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» ”اللہ ایمان والوں کو قول ثابت کے ذریعے ثابت رکھے گا“ (سورۃ ابراہیم: ۲۷) سے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٨،حدیث ٤٧٥٠)

بَابٌ فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} [إبراهيم: 27] "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4750

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گھبراہٹ طاری ہوگئی ، فرمایا: ”یہ قبریں کس کی ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو“ لوگوں نے عرض کیا: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت نصیب کر دے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا، تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے، ٹھہرا رہ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی (یعنی قرآن)، پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٨،حدیث ٤٧٥١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ أَبُو نَصْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا فَفَزِعَ، فَقَالَ: «مَنْ أَصْحَابُ هَذِهِ الْقُبُورِ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَاسٌ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» قَالُوا: وَمِمَّ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَإِنِ اللَّهُ هَدَاهُ قَالَ: كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ -هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَمَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ، غَيْرِهَا، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى بَيْتٍ كَانَ لَهُ فِي النَّارِ فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا بَيْتُكَ كَانَ لَكَ فِي النَّارِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَصَمَكَ وَرَحِمَكَ، فَأَبْدَلَكَ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: دَعُونِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأُبَشِّرَ أَهْلِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَيَنْتَهِرُهُ فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَعْبُدُ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، فَيُقَالُ لَهُ: فَمَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيَضْرِبُهُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا الْخَلْقُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4751

یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے تاہم اس میں ہے: ”جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس طرح ہے: رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں“ راوی نے ”منافق“ کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے: ”اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٩،حدیث ٤٧٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيَقُولَانِ لَهُ» فَذَكَرَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ الْأَوَّلِ، قَالَ فِيهِ «وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَيَقُولَانِ لَهُ» زَادَ «الْمُنَافِقَ» وَقَالَ: «يَسْمَعُهَا مَنْ وَلِيَهُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4752

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو“ اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: اور فرمایا: ”اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے بندے ! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟“ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا“ جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: ”اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے“ (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے“۔ اور رہا کافر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں“ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٩،حدیث ٤٧٥٣)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا لَفْظُ هَنَّادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ «هَاهُنَا» وَقَالَ: " وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ حِينَ يُقَالُ لَهُ: يَا هَذَا، مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ " قَالَ هَنَّادٌ: قَالَ: " وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ " قَالَ: " فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ «زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ» فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا} [إبراهيم: 27] " الْآيَةُ - ثُمَّ اتَّفَقَا - قَالَ: " فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ " قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا» قَالَ: «وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ» قَالَ: «وَإِنَّ الْكَافِرَ» فَذَكَرَ مَوْتَهُ قَالَ: " وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ: لَهُ مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ " قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا» قَالَ: «وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ» زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ: «ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا» قَالَ: «فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ فَيَصِيرُ تُرَابًا» قَالَ: «ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4753

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٠،حدیث ٤٧٥٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ، عَنْ أَبِي عُمَرَ زَاذَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4754

حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جہنم کا ذکر کیا تو رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں روتی ہو؟“، وہ بولیں: مجھے جہنم یاد آ گئی تو رونے لگی، کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین جگہوں پر تو وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: ایک میزان کے پاس یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری ہے، دوسرے کتاب(نامہ اعمال)کے وقت جب کہا جائے گا: آؤ پڑھو اپنی اپنی کتاب یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کی کتاب کس میں دی جائے گی آیا دائیں ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں، یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے اور تیسرے پل صراط کے پاس جب وہ جہنم پر رکھا جائے گا“۔ یعقوب نے «عن يونس» کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی ذکر المیزان؛میزان کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٤٠،حدیث ٤٧٥٥)

بَابٌ فِي ذِكْرِ الْمِيزَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا: عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ -- أَوْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ} حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أَمْ فِي شِمَالِهِ أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ " قَالَ: يَعْقُوبُ، عَنْ يُونُسَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِهِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4755

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”حضرت نوح علیہ السلام کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کی اور فرمایا: ”شاید اسے کوئی ایک شخص پائے جس نے مجھے دیکھا اور میری بات سنی“ لوگوں نے عرض کیا: اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ کیا اسی طرح جیسے آج ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بھی بہتر“ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الدجال؛ دجال کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٤١،حدیث ٤٧٥٦)

بَابٌ فِي الدَّجَّالِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ»، فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ «لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ مَنْ قَدْ رَآنِي وَسَمِعَ كَلَامِي» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ؟ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: «أَوْ خَيْرٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4756

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، اللہ کی اس کے شان کے مطابق حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا نہ ہو،حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتا رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی: وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الدجال؛ دجال کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٤١،حدیث ٤٧٥٧)

حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4757

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے تو اس نے اسلام کے پٹے کو اپنی گردن میں سے نکال دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤١،حدیث ٤٧٥٨)

بَابٌ فِي قَتْلِ الْخَوَارِجِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَمَنْدَلٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي جَهْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4758

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تم کیا کرو گے جب میرے بعد حکمراں اس مال فے کو تم لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کریں گے“ میں نے عرض کیا: تب تو اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا، پھر اس سے ان کے ساتھ لڑوں گا یہاں تک کہ میں آپ سے ملاقات کروں یا آ ملوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو“۔(یعنی مرتے دم تک صبر سے کام لینا) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤١،حدیث ٤٧٥٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ - اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟» قُلْتُ: إِذَنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ، أَوْ أَلْحَقَكَ، قَالَ: «أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4759

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عنقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جن کی کچھ باتیں تمہیں اچھی لگے گی اور کچھ باتیں تمہیں بری لگے گی تو جو شخص ناپسند کرے، (ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے جس نے اپنی زبان کے ذریعے ناپسند کرے تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ (سلیمان ابن داود طیالسی) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤٢،حدیث ٤٧٦٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ هِشَامٌ «بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ؟ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا مَا صَلَّوْا»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4760

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جو شخص ناپسند کرے گا وہ بری ہو جائے گا اور جو انکار کرے گا وہ سلامت رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤٢،حدیث ٤٧٦١)

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ: «فَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ سَلِمَ» قَالَ قَتَادَةُ: «يَعْنِي مَنْ أَنْكَرَ بِقَلْبِهِ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4761

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عنقریب میری امت میں فساد ہوں گے، فساد ہوں گے، فساد ہوں گے تو جو شخص مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا جبکہ وہ اکٹھا ہوں تو تم اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دو خواہ وہ کوئی بھی شخص ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤٢،حدیث ٤٧٦٢)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «سَتَكُونُ فِي أُمَّتِي هَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ، وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4762

عبیدہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ان میں ایک ایسا شخص ہوگا جس کا دایاں ہاتھ نامکمل ہوگا،اگر تم لوگ یقین کرو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے ساتھ کیا وعدہ کیا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے انہوں نے فرمایا ہاں،رب کعبہ کی قسم! (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٢،حدیث ٤٧٦٣)

بَابٌ فِي قِتَالِ الْخَوَارِجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ: «فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ -- الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ؟ قَالَ: قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4763

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت  علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی سے آلودہ سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار لوگوں: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید الخیل طائی جو بنی نبہان کے ایک فرد ہیں اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنی کلاب سے ہیں کے درمیان تقسیم کر دیا، اس پر قریش اور انصار کے لوگ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: آپ اہل نجد کے رئیسوں کو عطا کر دیا اور ہمیں نہیں دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں“ اتنے میں ایک شخص آیا (جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی بلند، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا) اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں ہی اس کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو کون اس کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ زمین والوں میں مجھے امین بنایا ہے اور تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے؟“ تو ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، اور جب وہ لوٹ گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کی نسل میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اس شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے جسے تیر مارا جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پوجنے والوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٣،حدیث ٤٧٦٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا فَقَسَّمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، فَقَالَ: «إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ» قَالَ: فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقٌ قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: «مَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ، أَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟ ‍» ‍قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَهُ أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَمَنَعَهُ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: «إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا، أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا، قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ قَتَلْتُهُمْ قَتْلَ عَادٍ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4764

حضرت ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ واپس نہیں آتا یہاں تک کہ وہ اوپر کی طرف سے لوٹ کر آئے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو اس کے ساتھ جنگ کرے اور جس کے ساتھ وہ جنگ کرے، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈانا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٣،حدیث ٤٧٦٥)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَمُبَشِّرٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: يَعْنِي الْوَلِيدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: «التَّحْلِيقُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4765

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند ایک روایت منقول ہے، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ان کی مخصوص نشانی سر منوانا ہے اور بالوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہے،جب تم انہیں دیکھو تو انہیں فنا کر دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٤،حدیث ٤٧٦٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ قَالَ: «سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، وَالتَّسْبِيدُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " التَّسْبِيدُ: اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4766

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم سے بیان کروں تو آسمان سے میرا گر جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ پر جھوٹ بولوں، اور جب میں تم سے اس کے متعلق کوئی بات کروں جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے تو جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو کم عمر اور کم عقل ہوں گے، جو تمام مخلوقات میں بہتر شخص کی طرح باتیں کریں گے، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کا ایمان ان کی گردنوں سے نیچے نہ اترے گا، لہٰذا جہاں کہیں تم ان سے ملو تم انہیں قتل کر دو، اس لیے کہ ان کا قتل کرنا، قیامت کے روز اس شخص کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہو گا جو انہیں قتل کرے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٤،حدیث ٤٧٦٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي، وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّمَا الْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4767

حضرت زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس فوج میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، تمہارا پڑھنا ان کے پڑھنے کے مقابلے کچھ نہ ہو گا، نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے کچھ ہو گی، اور نہ ہی تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے کچھ ہو گا، وہ قرآن پڑھیں گے، اور سمجھیں گے کہ وہ ان کے لیے (ثواب) ہے حالانکہ وہ ان پر (عذاب) ہو گا، ان کی صلاۃ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی، وہ اسلام سے نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے، یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کس چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو وہ ضرور اسی عمل پر بھروسہ کر لیں گے (اور دوسرے نیک اعمال چھوڑ بیٹھیں گے) ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کے بازو ہو گا، لیکن ہاتھ نہ ہو گا، اس کے بازو پر پستان کی گھنڈی کی طرح ایک گھنڈی ہو گی، اس کے اوپر کچھ سفید بال ہوں گے“ تو کیا تم لوگ معاویہ اور اہل شام سے لڑنے جاؤ گے، اور انہیں اپنی اولاد اور اسباب پر چھوڑ دو گے (کہ وہ ان پر قبضہ کریں اور انہیں برباد کریں) اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں (جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے) اس لیے کہ انہوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کی چراگاہوں پر شب خون مارا ہے، چلو اللہ کے نام پر۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں: پھر زید بن وہب نے مجھے ایک ایک مقام بتایا (جہاں سے ہو کر وہ خارجیوں سے لڑنے گئے تھے) یہاں تک کہ وہ ہمیں لے کر ایک پل سے گزرے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواروں کو میان سے کھینچ لو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تم سے اسی طرح صلح کا مطالبہ نہ کریں جس طرح انہوں نے تم سے حروراء کے دن کیا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے نیز ے پھینک دئیے، تلواریں کھینچ لیں، لوگوں (مسلمانوں) نے انہیں اپنے نیزوں سے روکا اور انہوں نے انہیں ایک پر ایک کر کے قتل کیا اور (مسلمانوں میں سے) اس دن صرف دو آدمی شہید ہوئے،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں «مخدج» یعنی لنجے کو تلاش کرو، لیکن وہ نہ پا سکے، تو آپ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو ایک پر ایک کر کے مارے گئے تھے، آپ نے کہا: انہیں نکالو، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ سب سے نیچے زمین پر پڑا ہے، آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بولے: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے ساری باتیں پہنچا دیں۔ پھر عبیدہ سلمانی آپ کی طرف اٹھ کر آئے کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ وہ بولے: ہاں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، یہاں تک کہ انہوں نے انہیں تین بار قسم دلائی اور وہ (تینوں بار) قسم کھاتے رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٤،حدیث ٤٧٦٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَيْسَتْ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ شَيْئًا، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ شَيْئًا، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ شَيْئًا، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَتْ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ» أَفَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ؟ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ " قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: " فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا مَنْزِلًا --، حَتَّى مَرَّ بِنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا السُّيُوفَ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، قَالَ: فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ، وَاسْتَلُّوا السُّيُوفَ، وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضِهِمْ، قَالَ: وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ " فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَلَمْ يَجِدُوا، قَالَ: فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ، حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: أَخْرِجُوهُمْ، فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ، فَكَبَّرَ، وَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا، وَهُوَ يَحْلِفُ "

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4768

حضرت ابو الوضی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نا مکمل ہاتھ والے شخص کو تلاش کرو(امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ)فرماتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث نقل کی ہے، پھر ان لوگوں نے مقتولین کے نیچے سے مٹی میں ملے ہوئے اس شخص کو نکالا ابوالوضی بیان کرتے ہیں میں اسے گویا ابھی بھی دیکھ رہا ہوں وہ حبشی تھا اس نے قریطق پہنا ہوا تھا اس کا ایک بازو اس طرح تھا جیسے عورت کی چھاتی ہوتی اس پر کچھ بال موجود تھے جیسے جنگلی چوہے کے دم پر موجود ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٥،حدیث ٤٧٦٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَضِيءِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ، عَلَيْهِ السَّلَام اطْلُبُوا الْمُخْدَجَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَاسْتَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ الْقَتْلَى فِي طِينٍ قَالَ أَبُو الْوَضِيءِ: «فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ قُرَيْطِقٌ لَهُ إِحْدَى يَدَيْنِ، مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ عَلَيْهَا شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ شُعَيْرَاتِ الَّتِي تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4769

ابو مریم بیان کرتے ہیں وہ نامکمل ہاتھ والا شخص ہمارے ساتھ مسجد میں موجود تھا،ہم رات اور دن اس کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، وہ غریب آدمی تھا میں نے اس سے ان غریبوں کے ساتھ دیکھا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا کھانے کے لیے لوگوں کے ساتھ آیا کرتے تھے،میں نے اسے اپنی ٹوپی بھی پہننے کے لیے دی تھی،ابو مریم بیان کرتے ہیں اس نامکمل ہاتھ والے شخص کا نام چھاتی والا تھا،اس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح تھا اس پر اسی طرح گھنڈی بنی ہوئی تھی جیسے چھاتی کے اوپر گھنڈی بنی ہوتی ہے اور اس پر کچھ بال تھے جیسے بلی کی مونچھ کے بال ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٥،حدیث ٤٧٧٠)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: «إِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمُخْدَجُ لَمَعَنَا يَوْمَئِذٍ فِي الْمَسْجِدِ، نُجَالِسُهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَكَانَ فَقِيرًا، وَرَأَيْتُهُ مَعَ الْمَسَاكِينِ يَشْهَدُ طَعَامَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام مَعَ النَّاسِ وَقَدْ كَسَوْتُهُ بُرْنُسًا لِي» قَالَ أَبُو مَرْيَمَ: «وَكَانَ الْمُخْدَجُ يُسَمَّى نَافِعًا ذَا الثُّدَيَّةِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَى رَأْسِهِ حَلَمَةٌ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ سِبَالَةِ السِّنَّوْرِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَهُوَ عِنْدَ النَّاسِ اسْمُهُ حَرْقُوسُ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4770

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا مال لینے کا ناحق ارادہ کیا جائے اور وہ (اپنے مال کے بچانے کے لیے) لڑے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ؛چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٦،حدیث ٤٧٧١)

بَابٌ فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4771

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے بال بچوں کو بچانے یا اپنی جان بچانے یا اپنے دین کو بچانے میں مارا جائے وہ بھی شہید ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ؛چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٦،حدیث ٤٧٧٢)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا أَيُّوبَ الْهَاشِمِيَّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ، أَوْ دُونَ دَمِهِ، أَوْ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»

Abu Dawood Shareef, Kitabus Sunnate, Hadees No. 4772

Abu Dawood Shareef : Kitabus Sunnate

|

Abu Dawood Shareef : کتاب السنۃ

|

•