
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:یہودی 71(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور عیسائی 71(راوی کو شک شاید الفاظ یہ ہیں)72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛بَابُ شَرح السُنَّةِ؛سنت کی وضاحت؛جلد٤،ص١٩٧،حدیث ٤٥٩٦)
حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے ایک مرتبہ وہ کھڑے ہوئے اور بولے جان لو؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے،آپ نے فرمایا تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے وہ 72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور یہ امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے 72 جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا اور وہ ایک(فرقہ)جماعت ہوگی۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہے میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن کے اندر خواہش نفس یوں سرایت کر جائے گی جیسے کتے کا(زہر)آدمی(جسے کتے نے کاٹا ہو)کہ اندر سرایت کر جاتا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:جیسے کتے (کا زہر)اس آدمی کے اندر سرایت کر جاتا ہے جسے اس نے کاٹا ہو اور کوئی ایک جوڑ ایسا نہیں ہوتا جس میں وہ داخل نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛بَابُ شَرح السُنَّةِ؛سنت کی وضاحت؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٥٩٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی : "وہی وہ ذات ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس میں سے بعض محکم آیات ہیں"یہ آیت یہاں تک ہے"عقلمند لوگ"(ال عمران ٧)سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات کے پیچھے پڑتے ہوں تو جان لو کہ یہی لوگ ہیں جن کی اللہ نے نشاندہی کی ہے تو ان سے بچو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب النَّهْىِ عَنِ الْجِدَالِ، وَاتِّبَاعِ، مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ؛ اختلاف کرنے اور قران کے متشابہات کی پیروی کرنے کی ممانعت؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٥٩٨)
مجاہد ایک صاحب کے حوالے سے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا عمل یہ ہے اللہ تعالی کی وجہ سے(کسی سے)محبت رکھنا اور اللہ تعالی کی وجہ سے(کسی سے)دشمنی رکھنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مُجَانَبَةِ أَهْلِ الأَهْوَاءِ وَبُغْضِهِمْ؛ خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں سے تعلق رہنا اور ان سے دشمنی رکھنا؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٥٩٩)
عبداللہ بن کعب سے روایت ہے (جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں عبداللہ آپ کے قائد تھے) وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت کعب بن مالک سے سنا (ابن السرح ان کے غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے کہتے ہیں کہ کعب نے کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ جب لمبا عرصہ ہو گیا تو میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار کود کر ان کے پاس گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر راوی نے ان کی توبہ کے نازل ہونے کا قصہ بیان کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مُجَانَبَةِ أَهْلِ الأَهْوَاءِ وَبُغْضِهِمْ؛ خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں سے تعلق رہنا اور ان سے دشمنی رکھنا؛جلد٤،ص١٩٩،حدیث ٤٦٠٠)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اپنے گھر آیا،میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے،انہوں نے اس پر زعفران لگا دیا، صبح کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا آپ نے فرمایا جاؤ اور اسے دھو دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب تَرْكِ السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الأَهْوَاءِ؛بدمذہبوں کو سلام نہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٦٠١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سید صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا ایک اونٹ بیمار ہو گیا،سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک اضافی اونٹ تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم یہ اونٹ اسے دے دو۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بولیں :کیا میں یہ اس یہودیہ کو دے دوں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اپ نے ذوالحج، محرم اور صفر کے کچھ حصے تک ان سے لا تعلق کی اختیار کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب تَرْكِ السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الأَهْوَاءِ؛بدمذہبوں کو سلام نہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٦٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قران کے بارے میں بحث کرنا (جو قران کے احکام کے خلاف ہو)کفر ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب النَّهْىِ عَنِ الْجِدَالِ، فِي الْقُرْآنِ؛قرآن کے بارے میں بحث کرنے کی ممانعت؛جلد٤،ص١٩٨،حدیث ٤٦٠٣)
حضرت مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت)،ایسا نہ ہو کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے: اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی کی گری پڑی ہوئی چیز اٹھانا حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠٠،حدیث ٤٦٠٤)
عبید بن ابو رافع اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے سے ٹیک لگا کر یہ کہے جس کے پاس میرا کوئی حکم آچکا ہو جو میں نے دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہو تو وہ یہ کہے کہ ہمیں اللہ کی کتاب میں یہ بات نہیں ملی ورنہ ہم اس کی پیروی کر لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠٠،حدیث ٤٦٠٥)
قاسم بن محمد،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص ہمارے حکم میں کوئی ایسی بات کہے جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہوگی۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی ایسا کام کرے جو ہمارے حکم کے مخالف ہو تو وہ مردود ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠٠،حدیث ٤٦٠٦)
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ: اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جب وہ تمہارے پاس آئیں تاکہ تم انہیں سواری کے لیے جانور دو تو تم نے کہا میرے پاس تمہیں سواری کے لیے دینے کے لیے جانور نہیں ہے"(التوبہ ٩٢)نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر حضرت عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں ایسی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کی سنت کی پیروی کرنا لازم ہے، تم اسے پکڑ لینا اور اسے مضبوطی سے تھام لینا اور تم نئے پیدا ہونے والے معاملات سے پرہیز کرنا کیونکہ ہر نئی پیدا ہونے والی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠٠،حدیث ٤٦٠٧)
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا (دینی معاملات میں)بحث و مباحثہ کرنے والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي لُزُومِ السُّنَّةِ؛سنت کی پیروی ضروری ہے؛جلد٤،ص٢٠١،حدیث ٤٦٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی برائی کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں (بھی) کوئی کمی نہیں ہوتی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠١،حدیث ٤٦٠٩)
عامر بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مسلمانوں کے معاملے میں سب سے زیادہ جرم اس شخصوں کا ہوگا جو کسی ایسے معاملے کے بارے میں دریافت کرے جو حرام نہیں ہوا تھا اور اس کے سوال پوچھنے کی وجہ سے وہ حرام ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠١،حدیث ٤٦١٠)
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ یزید بن عمیرہ (جو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ جب بھی کسی مجلس میں وعظ کہنے کو بیٹھتے تو کہتے: اللہ بڑا حاکم اور عادل ہے، شک کرنے والے تباہ ہو گئے تو ایک روز حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تمہارے بعد بڑے بڑے فتنے ہوں گے، ان (دنوں) میں مال کثرت سے ہو گا، قرآن کو کھول دیا جائے گا، یہاں تک کہ اسے مومن و منافق، مرد و عورت، چھوٹے بڑے، غلام اور آزاد سبھی اس کا علم حاصل کر لیں گے، تو قریب ہے کہ کہنے والا کہے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میری پیروی نہیں کرتے، حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے، اور پھر بھی میری پیروی نہیں کرتے میں ان کے لیے کوئی نئی چیز ایجاد کرتا ہوں،(حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا)تو اس نے جو نئی چیز نکالی ہوگی تو تم اس سے بچنا کیونکہ جو چیز اس نے نکالی ہوگی گمراہی ہوگی اور میں تمہیں سمجھدار آدمی کی گمراہی سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں، اس لیے کہ بسا اوقات شیطان، حکیم و دانا شخص کی زبانی گمراہی کی بات کہتا ہے اور کبھی کبھی منافق بھی حق بات کہتا ہے۔ میں نے معاذ سے کہا: (اللہ آپ پر رحم کرے) مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ حکیم و دانا گمراہی کی بات کہتا ہے، اور منافق حق بات؟ وہ بولے: کیوں نہیں، حکیم و عالم کی ان مشہور باتوں سے بچو، جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہو کہ وہ یوں نہیں ہے، لیکن یہ چیز تمہیں خود اس حکیم سے نہ پھیر دے، اس لیے کہ امکان ہے کہ وہ (اپنی پہلی بات سے) پھر جائے اور حق پر آ جائے، اور جب تم حق بات سنو تو اسے لے لو، اس لیے کہ حق میں ایک نور ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصے میں معمر نے زہری سے «ولا يثنينك ذلك عنه» کے بجائے «ولا ينئينك ذلك عنه» روایت کی ہے اور صالح بن کیسان نے زہری سے اس میں «المشتهرات» کے بجائے «المشبهات» روایت کی ہے اور «ولا يثنينك» ہی روایت کی ہے جیسا کہ عقیل کی روایت میں ہے۔ ابن اسحاق نے زہری سے روایت کی ہے: کیوں نہیں، جب کسی حکیم و عالم کا قول تم پر مشتبہ ہو جائے یہاں تک کہ تم کہنے لگو کہ اس بات سے اس کا کیا مقصد ہے؟ (تو سمجھ لو کہ یہ حکیم و عالم کی زبانی گمراہی کی بات ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٢،حدیث ٤٦١١)
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خط لکھ کر حضرت عمر بن عبدالعزیز سے تقدیر کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا: امابعد! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے دین کے سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنے، اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرنے کی اور بدعتیوں نے جو بدعتیں ایجاد کی ہے اور ضروریات کے لیے کافی ہو جانے کے بعد ایجاد کی ہیں ان کے چھوڑ دینے کی وصیت کرتا ہوں، لہٰذا تم پر سنت کا دامن تھامے رہنا لازم ہے، اللہ کے حکم سے یہی چیز تمہارے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہو گی۔ پھر یہ بھی جان لو کہ لوگوں نے کوئی بدعت ایسی نہیں نکالی ہے جس کے خلاف پہلے سے کوئی دلیل موجود نہ رہی ہو یا اس کے بدعت ہونے کے سلسلہ میں کوئی نصیحت آمیز بات نہ ہو، اس لیے کہ سنت کو جس نے جاری کیا ہے،وہ جانتا تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا وبال ہے، کیا کیا غلطیاں، بہکنا،حماقت اور گہرائی ہے(ابن کثیر کی روایت میں «من قد علم» کا لفظ نہیں ہے) لہٰذا تم اپنے آپ کو اسی چیز سے خوش رکھو جس سے پہلے زمانے کے لوگ نے اپنے آپ کو خوش رکھا ہے، اس لیے کہ وہ دین کے بڑے واقف کار تھے، جس بات سے انہوں نے روکا ہے گہری بصیرت سے روکا ہے، انہیں معاملات کے سمجھنے پر ہم سے زیادہ دسترس تھی، اور تمام خوبیوں میں وہ ہم سے فائق تھے، لہٰذا اگر ہدایت وہ ہوتی جس پر تم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے آگے بڑھ گئے، اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ جن لوگوں نے بدعتیں نکالی ہیں وہ اگلے لوگوں کی راہ پر نہیں چلے اور ان سے اعراض کیا تو واقعہ بھی یہی ہے کہ اگلے لوگ ہی فائق و برتر تھے انہوں نے جتنا کچھ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ کہہ دیا ہے شافی و کافی ہے، لہٰذا اب دین میں نہ اس سے کم کی گنجائش ہے نہ زیادہ کی، اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس میں کمی کر ڈالی تو وہ جفا کار ٹھہرے اور کچھ لوگوں نے زیادتی کی تو وہ غلو کا شکار ہو گئے، اور اگلے لوگ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ سیدھی راہ پر رہے، اور تم نے ایمان بالقدر کے اقرار کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو باذن اللہ تم نے یہ سوال ایک ایسے شخص سے کیا ہے جو اس کو خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے جتنی بھی بدعتیں ایجاد کی ہیں ان میں اثر کے اعتبار سے ایمان بالقدر کے اقرار سے زیادہ واضح اور ٹھوس کوئی نہیں ہے، اس کا تذکرہ تو جاہلیت میں جہلاء نے بھی کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے شعر میں اس کا تذکرہ کرتے تھے، اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کسی فوت ہو جانے والے کے غم میں تسلی دیتے ہیں۔ پھر اسلام نے اس خیال کو مزید پختگی بخشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر ایک یا دو حدیثوں میں نہیں بلکہ کئی حدیثوں میں کیا، اور اس کو مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر آپ کی زندگی میں بھی اسے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی، اس پر یقین کر کے، اس کو تسلیم کر کے اور اپنے کو اس سے کمزور سمجھ کے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ کا علم محیط نہ ہو، اور جو اس کے نوشتہ میں نہ آ چکی ہو، اور اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہو چکی ہو، اس کے باوجود اس کا ذکر اس کی کتاب محکم میں ہے، اسی سے لوگوں نے اسے حاصل کیا، اسی سے اسے سیکھا۔ اور اگر تم یہ کہو: اللہ نے ایسی آیت کیوں نازل فرمائی؟ اور ایسا کیوں کہا (جو آیات تقدیر کے خلاف ہیں)؟ تو (جان لو) ان لوگوں نے بھی اس میں سے وہ سب پڑھا تھا جو تم نے پڑھا ہے لیکن انہیں اس کی تاویل و تفسیر کا علم تھا جس سے تم ناواقف ہو، اس کے بعد بھی وہ اسی بات کے قائل تھے: ہر بات اللہ کی تقدیر اور اس کے لکھے ہوئے کے مطابق ہے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہو گا، جو اللہ نے چاہا، وہی ہوا، جو نہیں چاہا، نہیں ہوا۔ اور ہم تو اپنے لیے نہ کسی ضرر کے مالک ہیں اور نہ ہی کسی نفع اس کے بعد انہوں نے( اللہ تعالی کی طرف)رغبت اختیار کی اور(اس کے خوف سے)خوفزدہ رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠١،٢٠٢،٢٠٣،حدیث ٤٦١٢)
حضرت نافع بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست تھا جو شام سے تعلق رکھتا تھا اور وہ انہیں خط لکھا کرتا تھا ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے خط لکھا کہ مجھے پتہ چلا ہے تم تقدیر کے بارے میں بحث کرتے ہو آئندہ مجھے خط نہ لکھنا،کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٣)
خالد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے کہا: اے ابوسعید!حضرت آدم علیہ السلام کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ بچے رہتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ کرنا ان کی مجبوری تھی، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان:(ترجمہ)" تم اسے بہکانے والے نہیں ہو ماسوائے اس شخص کے جو جہنم میں ضرور جائے گا"(الصافات: ۱۶۳) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: ”شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٤)
حضرت حسن بصری اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں: "اور اسی کے لیے اس نے انہیں پیدا کیا ہے"۔(ھود ١١٩) حسن بصری فرماتے ہیں یہ لوگ(یعنی کچھ لوگ) اس(جنت) کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور یہ(یعنی کچھ لوگ) اس (جہنم) کے لیے پیدا کیے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٥)
خالد حذاء بیان کرتے ہیں میں نے حسن بصری سے دریافت کیا(قرآن کی اس آیت کا مفہوم کیا ہے) "تم اسے نہیں بہکا سکو گے ماسوائے اس کے جو جہنم میں جائے گا" حسن بصری نے فرمایا:جس شخص پر اللہ تعالی نے جہنم کو واجب کر دیا وہ جہنم میں جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٦)
حسن بصری فرماتے ہیں آسمان سے زمین پر گر جانا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ میں یہ کہوں کہ میں اپنے معاملات پر اختیارات رکھتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٧)
حمید کہتے ہیں کہ حضرت حسن بصری ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٤،حدیث ٤٦١٨)
حمید بیان کرتے ہیں حسن بصری فرماتے ہیں(اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے:) " اسی طرح ہم اسے جرم کرنے والوں کے دل میں جگہ دیتے ہیں"(الحجر١٢) حسن بصری فرماتے ہیں اس سے مراد شرک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦١٩)
حسن بصری فرماتے ہیں،اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے: "اور ان کے اور جو خواہش رکھتے ہیں ان کے درمیان حائل کر دیا گیا" حسن فرماتے ہیں: یعنی ان لوگوں کے درمیان اور ایمان کے درمیان حائل کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢٠)
ابن عون بیان کرتے ہیں میں شام گیا وہاں ایک شخص نے پیچھے سے مجھے آواز دی، میں نے مڑ کر دیکھا،تو وہ رجا بن حیوہ تھا،انہوں نے کہا ہے اے ابن عون!یہ لوگ حسن بصری کے حوالے سے کیا بات نقل کرتے ہیں؟تو میں نے جواب دیا یہ لوگ حسن بصری کے حوالے سے بہت سی جھوٹی باتیں بیان کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢١)
ایوب بیان کرتے ہیں دو طرح کے لوگوں نے حضرت حسن بصری کی طرف سے جھوٹ باتیں بیان کی ہیں،ایک وہ لوگ جو تقدیر کے منکر ہیں،وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے اس نظریے کی تائید ہو جائے اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں کے اندر نفرت اور دشمنی تھی،وہ یہ کہتے تھے کہ اس نے فلاں موقع پر یہ بات نہیں کہی تھی اور فلاں موقع پر یہ بات نہیں کہی تھی؟ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢٢)
یحیی بن کثیر بیان کرتے ہیں،قرہ بن خالد نے ہم سے کہا اے نوجوانوں!حسن بصری کے معاملے میں مبالغے سے کام نہ لینا، کیونکہ ان کی رائے سنت کے مطابق اور بالکل ٹھیک ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢٣)
ابن عون بیان کرتے ہیں اگر ہمیں یہ پتہ ہوتا کہ حسن بصری کی باتیں اس حد تک پہنچ جائے گی جہاں اب پہنچ چکی ہے تو ہم ان کے رجوع کو تحریری طور پر لے لیتے اور اس پر گواہ بھی بنا لیتے،لیکن ہم نے تو یہ سوچا تھا انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ ان کے منہ سے نکل گئی ہے۔اب اس کو نوٹ نہیں کیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٥،حدیث ٤٦٢٤)
عثمان بتی فرماتے ہیں حسن بصری نے جس بھی آیت کی تفسیر بیان کی ہے اس میں انہوں نے تقدیر کا(اثبات)کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛ باب لُزُومِ السُّنَّةِ؛جو شخص سنت کو لازم پکڑنے کی دعوت دے؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٢٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٢٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر ہیں، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان ہیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٢٨)
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھے؟ انہوں نے کہا:حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا: پھر کون؟ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ، پھر مجھے اس بات سے ڈر ہوا کہ میں کہوں پھر کون؟ اور وہ کہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، چنانچہ میں نے کہا: پھر آپ؟ اے ابا جان! وہ بولے: میں تو مسلمانوں ایک فرد ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٢٩)
سفیان کہتے تھے:اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دونوں (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہما) سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے حضرت ابوبکر، عمر، مہاجرین اور انصار کو غلط قرار دیا، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اس عقیدے کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کو اٹھ کر جائے گا(یعنی قبول نہیں کیا جاے گا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٣٠)
سفیان بیان کرتے ہیں: خلفاء پانچ ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّفْضِيلِ؛صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟؛جلد٤،ص٢٠٦،حدیث ٤٦٣١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعبیر بیان کرو“ وہ بولے: بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت (شیرینی) اور نرمی مراد ہے، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں، اپ نے اسے حاصل کیا تو اللہ تعالی نے اپ کو سر بلندی عطاء کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑا تو وہ بھی سربلند ہوا، پھر ایک اور شخص پکڑا تو وہ بھی سربلند ہوا، پھر اسے ایک اور شخص پکڑا، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا، پھر وہ بھی سربلند ہوگا، اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط“ کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ دلاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٧،حدیث ٤٦٣٢)
عبید اللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی واقعہ نقل کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتانے سے انکار کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٧،حدیث ٤٦٣٣)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا: تم میں سے کس شخص نے کیا خواب دیکھا ہے؟تو ایک شخص نے عرض کی میں نے دیکھا ہے،جیسے ایک ترازو آسمان سے نازل ہوا ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا آپ کا پلڑا بھاری تھا،پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا،پھر میزان اٹھا لیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے مبارک پر ناپسندیدگی کے اثار دیکھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٨،حدیث ٤٦٣٤)
حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا؟کس شخص نے کیا خواب دیکھا ہے، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے، اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا ذکر نہیں ہے تاہم یہ الفاظ ہیں کہ یہ بات آپ کو پسند نہیں آئی (یعنی آپ نے اسے برا سمجھا) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٨،حدیث ٤٦٣٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسلک کر دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر سے اور عثمان کو عمر سے“۔ حضرت جابر کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا: مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر (دین) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس اور شعیب نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان دونوں نے عمرو بن ابان کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٨،حدیث ٤٦٣٦)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پہلے حضرت ابوبکر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑ کر اس میں سے تھوڑا سا پیا، پھر حضرت عمر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا، پھر حضرت عثمان آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور خوب سیر ہو کر پیا، پھر حضرت علی آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں، تو وہ چھلک گیا اور اس میں سے کچھ ان کے اوپر بھی پڑ گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٨،حدیث ٤٦٣٧)
مکحول بیان کرتے ہیں رومی 40 دن تک شام میں گھسے رہیں گے،وہ لوگ صرف دمشق اور عمان کے اندر نہیں آسکیں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٣٨)
عبدالرحمن بن سلمان بیان کرتے ہیں عنقریب ایک ایسا آدمی بادشاہ آئے گا جو تمام شہروں پر حکومت کرے گا۔صرف دمشق پر نہیں کر سکے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٣٩)
مکحول بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جنگ کے دوران مسلمانوں کا خیمہ اس جگہ ہوگا جس کا نام"غوطہ" ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٤٠)
عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ:(ترجمہ)"یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا"(سورۃ آل عمران: ۵۵) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٤١)
ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے (پیغام لے جا رہا) ہو زیادہ درجے والا ہے، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢٠٩،حدیث ٤٦٤٢)
عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے، اللہ کی قسم، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے، اور کون مجھے عبدہذیل (عبداللہ بن مسعود ہذلی) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی، وہ سوائے اعرابیوں کے نغمے کے کچھ نہیں، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے، پھر کہتا ہے، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے؟ (فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے، اللہ کی قسم، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا (جو اب کبھی نہیں آنے والا)۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے: اللہ کی قسم میں نے بھی اسے، اس سے سنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٠،حدیث ٤٦٤٣)
اعمش بیان کرتے ہیں میں نے حجاج کو ممبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ان سرخ لوگوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، اللہ کی قسم اگر یہ ایک لکڑی کے بدلے میں لکڑی مارے تو میں انہیں یوں ختم کر دوں گا جیسے یہ گزشتہ کل تھے،حجاج کی مراد"موالی" تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٠،حدیث ٤٦٤٤)
سلیمان اعمش بیان کرتے ہیں میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ پڑھا،اس نے خطبہ دیتے ہوئے حضرت ابوبکر بن عیاش رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کی اور پھر اس نے خطبے میں یہ کہا: تم اللہ کے خلیفہ اور اس کے صفی عبدالملک بن مروان کی اطاعت و فرمانبرداری کرو،(اس کے بعد اس نے آگے گفتگو جاری رکھی) اس میں اس کی یہ بات ہے اگر میں مضر کی جگہ ربیعہ کو پکڑ لوں،تاہم سرخ لوگوں کا قصہ مذکور نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٠،حدیث ٤٦٤٥)
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلافت علی منہاج النبوۃ (نبوت کی خلافت) تیس سال رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا دے گا“ سعید کہتے ہیں: سفینہ نے مجھ سے کہا: اب تم شمار کر لو: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال،حضرت عمر رضی اللہ عنہ دس سال، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بارہ سال، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اتنے سال۔ سعید کہتے ہیں: میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ لوگ (مروانی) کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں تھے، انہوں نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنی مروان جھوٹ بولتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٠،حدیث ٤٦٤٦)
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے نبوت کی خلافت 30 برس تک ہوگی پھر اللہ تعالی جسے چاہے گا بادشاہت عطا کر دے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١١،حدیث ٤٦٤٧)
عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو اس نے فلاں شخص کو خطبہ کے لیے کھڑا کیا، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم اس ظالم کو نہیں دیکھتے پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں، اور کہا: اگر میں دسویں شخص (کے جنت میں داخل ہونے) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا، (ابن ادریس کہتے ہیں: عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے) «آثم» کہتے ہیں)، میں نے پوچھا: اور وہ نو کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس وقت آپ حراء (پہاڑی) پر تھے: ”حراء ٹھہر جا (مت ہل) اس لیے کہ تیرے اوپر ایک نبی ہے، ایک صدیق ہے، ایک شہید ہے“ میں نے عرض کیا: اور نو کون ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکر،حضرت عمر، حضرت عثمان،حضرت علی،حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم، میں نے عرض کیا: اور دسواں آدمی کون ہے؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا: میں۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے منصور سے، منصور نے ہلال بن یساف سے، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١١،حدیث ٤٦٤٨)
حضرت عبدالرحمٰن بن اخنس سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں تھے، ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا (برائی کے ساتھ) تذکرہ کیا، تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا: ”دس لوگ جنتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنتی ہیں،ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر بن عوام جنتی ہیں، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں“ اور اگر تم چاہو تو دسویں کا نام لیتا، وہ کہتے ہیں: لوگوں نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ تو وہ خاموش رہے، لوگوں نے پھر پوچھا: وہ کون ہیں؟ تو کہا: وہ سعید بن زید ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١١،حدیث ٤٦٤٩)
ریاح بن حارث کہتے ہیں میں کوفہ کی مسجد میں فلاں شخص کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس کوفہ کے لوگ جمع تھے، اتنے میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ آئے، تو انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا، اور دعا دی، اور اپنے پاؤں کے پاس انہیں تخت پر بٹھایا، پھر اہل کوفہ میں سے قیس بن علقمہ نامی ایک شخص آیا، تو انہوں نے اس کا استقبال کیا، لیکن اس نے برا بھلا کہا، سعید بولے: یہ شخص کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہہ رہا ہے، وہ بولے: کیا میں دیکھ نہیں رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو تمہارے پاس برا بھلا کہا جا رہا ہے لیکن تم نہ منع کرتے ہو نہ اس سے روکتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اور مجھے کیا پڑی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی بات کہوں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ کل جب میں آپ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کریں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں“ پھر اوپر جیسی حدیث بیان فرمایا، پھر ان (صحابہ) میں سے کسی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہو جائے یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم میں کا کوئی شخص اپنی عمر بھر عمل کرے اگرچہ اس کی عمر نوح کی عمر ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٢،حدیث ٤٦٥٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم "احد" پہاڑ پر چڑھے آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی چڑھے، تو وہ ہلنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں اس پر مارا اور فرمای: اے احد!ٹھہرے رہو(تمہارے اوپر)ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٢،حدیث ٤٦٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے، انہوں نے میرا بازو تھاما، اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی“حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ میں بھی ہوتا تاکہ میں اسے دیکھتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو اے ابوبکر! میری امت میں سے تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جہنم میں ایسا کوئی شخص داخل نہیں ہوگا جس نے درخت کے نیچے بیعت کی ہو(یعنی بیعت رضوان کی ہو) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: شاید اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہو،ایک روایت میں یہ الفاظ ہے: اللہ تعالی نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ کہا: تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٤)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تشریف لے گئے، پھر راوی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، جب وہ آپ سے بات کرتا، تو آپ کی ڈاڑھی مبارک پر ہاتھ لگاتا، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود پہنا ہوا تھا، انہوں نے تلوار کی نعل اس کے ہاتھ پر ماری اور کہا: اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٥)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مؤذن اقرع کہتے ہیں مجھے حضرت عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا، میں اسے بلا لایا، تو حضرت عمر نے اس سے کہا: کیا تم کتاب میں مجھے (میرا حال) پاتے ہو؟ وہ بولا: ہاں، انہوں نے کہا: کیسا پاتے ہو؟ وہ بولا: میں آپ کو قرن پاتا ہوں، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا: قرن کیا ہے؟ وہ بولا: لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار، انہوں نے کہا: جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا،حضرت عمر نے کہا: اللہ عثمان پر رحم کرے، (تین مرتبہ) پھر کہا: ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: وہ تو لوہے کا میل ہے (یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہو جائیں گے) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، اور فرمایا: اے گندے! بدبودار (تو یہ کیا کہتا ہے) اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ ایک نیک خلیفہ ہو گا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہو گا کہ تلوار بے نیام ہو گی، خون بہہ رہا ہو گا، (یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہو گی)۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «الدفر» کے معنی «نتن» یعنی بدبو کے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْخُلَفَاءِ؛خلفاء کا بیان؛جلد٤،ص٢١٣،حدیث ٤٦٥٦)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں بہترین زمانہ وہ ہیں جب مجھے مبعوث کیا گیا، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں“ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں، ”پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا، اور ان میں موٹاپا عام ہو گا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي فَضْلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؛ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٢١٤،حدیث ٤٦٥٧)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنْ سَبِّ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؛ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے؛جلد٤،ص٢١٤،حدیث ٤٦٥٨)
عمرو بن ابی قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فرمائی تھیں، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور ان سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی باتوں کا تذکرہ کرتے تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے:حضرت حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں، تو وہ لوگ حضرت حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے: ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب، یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے، وہ اپنی سبزی کے کھیت میں تھے کہنے لگے: اے سلمان! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں؟ تو سلمان نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہوتے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے، تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کو اختلاف میں مبتلا نہ کر دیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: ”میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو (اے اللہ) میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے“ اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب (امیر المؤمنین) کو لکھ بھیجوں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنْ سَبِّ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؛ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے؛جلد٤،ص٢١٤،حدیث ٤٦٥٩)
حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے“ عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے، میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے نماز پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا: ”ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ تعالیٰ اور مسلمان اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ اور مسلمان اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے“ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي اسْتِخْلاَفِ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه؛ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان؛جلد٤،ص٢١٥،حدیث ٤٦٦٠)
حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے،آپ نے اپنا سر مبارک حجرے سے باہر نکالا اور فرمایا نہیں، نہیں، نہیں۔ابن ابی قحافہ لوگوں کو نماز پڑھائے آپ نے غضب کے عالم میں یہ بات ارشاد فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي اسْتِخْلاَفِ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه؛ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان؛جلد٤،ص٢١٥،حدیث ٤٦٦١)
حسن بصری،حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروا دے گا۔ حماد نامی راوی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں شاید اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کروا دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٢)
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٣)
ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا: میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے، ہم اندر گئے تو اس میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ہیں ، ہم نے ان سے پوچھا (کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں؟) تو فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لیے جب تک معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٥)
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا ہمیں اس روانگی کے بارے میں بتائے،کیا یہ کوئی عہد تھا،جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے لیا تھا یا آپ کی اپنی رائے ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی عہد نہیں لیا یہ میری ذاتی رائے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٦،حدیث ٤٦٦٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مسلمانوں کے درمیان اختلاف کرنے سے ایک گروہ الگ ہو جائے گا ان کے ساتھ جنگ وہ گروہ کرے گا جو مسلمانوں کے دونوں گروہوں میں حق کے زیادہ قریب ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنے کے دوران گفتگو ترک کرنے پر جو چیز دلالت کرتی ہے؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٦٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء کرام میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٦٨)
ابن شہاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کسی بھی شخص کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٦٩)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کسی بھی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سب پر فضیلت دی، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، (پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٧،حدیث ٤٦٧١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے خیر البریہ(اے مخلوق میں سب سے بہتر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میں اولاد ادم کا سردار ہوں، سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شک کیا جائے گا، میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا، سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مجھے نہیں معلوم کیا "تبع" قوم کے لوگ ملعون ہے یا نہیں ہیں، اور مجھے نہیں معلوم حضرت عزیر نبی تھے یا نہیں تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٤) ضروری نوٹ:اس حدیث میں تو یہ ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تبع قوم ملعون ہے کا نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن ایک دوسری حدیث میں ہے حضرت سہل بن سعد ساعدی (رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :تبع کو بُرا نہ کہو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ (مسند احمد ج 5 ص 340) امام عبد الرزاق، امام ابن ابی حاتم اور امام طبرانی نے بھی اپنی سندوں کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 156-157، ملحضا، دار الفکر، بیروت، 1419ھ بحوالہ تفسیر تبیان القرآن سورہ ق آیت نمبر ١٤) نیز المستدرک للحاکم اورابن عساکروغیرہ کی روایات میں عزیر کی بجائے ذوالقرنین کا ذکر ہے اور ذوالقرنینن کے بارے نہیں معلوم وہ نبی تھے یا نہیں رہی بات حضرت عزیر کی تو ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ نبی تھے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میں ابن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہوں، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں اور میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ؛انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ایمان کی 70 سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے زیادہ فضیلت اس بات کا اقرار ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں،اور ان میں سب سے کم تر راستے میں سے کسی ہڈی کو دور کرنا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي رَدِّ الإِرْجَاءِ؛ارجاء کی تردید کا بیان؛جلد٤،ص٢١٨،حدیث ٤٦٧٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو: ایمان باللہ کیا ہے؟“ وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي رَدِّ الإِرْجَاءِ؛ارجاء کی تردید کا بیان؛جلد٤،ص٢١٩،حدیث ٤٦٧٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بندے اور کفر کے درمیان(بنیادی نشانی)نماز ترک کرنا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي رَدِّ الإِرْجَاءِ؛ارجاء کی تردید کا بیان؛جلد٤،ص٢١٩،حدیث ٤٦٧٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا“ (ایک عورت) نے کہا: عقل اور دین میں کیا نقص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقل کی کمی کا تعلق تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، اور جہاں تک دین میں کمی کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ (حیض و نفاس میں) تم میں کوئی نہ روزے رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢١٩،حدیث ٤٦٧٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کا کیا ہوگا جو ایسے عالم میں فوت ہوئے ہیں جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے تو اللہ تعالی نے یہ ایت نازل کی۔ "اللہ تعالی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہاری ایمان(اعمال)کو ضائع کر دے"(البقرہ ١٤٣) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨٠)
حضرت ابو امامہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص اللہ تعالی کے لیے محبت رکھے، اللہ تعالی کے لیے ناراضگی رکھے، اللہ تعالی کے لیے دے، اللہ تعالی کے لیے نہ دے تو اس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مومنین میں ایمان کے اعتبار سے سب سے کامل وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨٢)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو عطاء کیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا تو سعد نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا لیکن فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلم ہے“ سعد نے تین بار یہی عرض کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے: ”یا مسلم ہے“ پھر آپ نے فرمایا: ”میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور ان میں جو مجھے زیادہ محبوب ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں، میں اسے کچھ بھی نہیں دیتا، ایسا اس اندیشے سے کہ کہیں وہ دوسرے لوگ جہنم میں اوندھے منہ نہ ڈال دیئے جائیں۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں زہری کے الفاظ ہیں، ارشاد باری تعالی ہے: "تم فرما دو تم لوگ مومن نہیں ہو تم یہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا ہے۔"(الحجرات ١٤) زہری فرماتے ہیں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ اسلام سے مراد ظاہری طور پر کلمہ پڑھنا ہے اور ایمان سے مراد عمل کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٠،حدیث ٤٦٨٤)
حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ تقسیم کیا،میں نے عرض کی: آپ فلاں کو بھی کچھ عطا کیجئے،کیونکہ وہ مومن ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(مومن)یا مسلمان ہے۔ میں ایک شخص کو کچھ دیتا ہوں جبکہ دوسرا شخص اس سے زیادہ مجھے محبوب ہوتا ہے۔اس اندیشے کہ تحت کے کہیں وہ پہلا شخص منہ کے بل جہنم میں نہ گر جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢١،حدیث ٤٦٨٥)
واقد بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔"میرے بعد زمانے کفر کی طرح ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع نہ کر دینا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢١،حدیث ٤٦٨٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢١،حدیث ٤٦٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا اور توبہ کی گنجائش اس کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢١،حدیث ٤٦٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس پر موجود رہتا ہے جب وہ شخص اس سے الگ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف واپس آجاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ؛ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قدریہ (منکرین تقدیر) اس امت کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩١)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت میں مجوس ہوتے ہیں، اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہیں، ان میں کوئی مر جائے تو تم اس کے جنازے میں شرکت نہ کرو، اور اگر کوئی بیمار پڑے، تو اس کی عیادت نہ کرو، یہ دجال کی جماعت کے لوگ ہیں، اور یہ بات اللہ تعالی کے ذمے ہے(کہ وہ اخرت میں یا جہنم)میں انہیں دجال کے ساتھ رکھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩٢)
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا، چنانچہ آدم کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے مختلف رنگ کے ہے، کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان، کوئی نرم خو، تو کوئی درشت خو، سخت گیر، کوئی خبیث تو کوئی پاک باز“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ کے قبرستان بقیع غرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے، آپ آئے اور بیٹھ گئے، آپ کے پاس ایک چھڑی تھی، چھڑی سے زمین کریدنے لگے، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک نفس کا ٹھکانہ جنت یا دوزخ میں لکھ دیا ہے، اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گا یا بدبخت“ لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے نبی! پھر ہم کیوں نہ اپنے لکھے پر اعتماد کر کے بیٹھ رہیں اور عمل ترک کر دیں کیونکہ جو نیک بختوں میں سے ہو گا وہ لازماً نیک بختی کی طرف جائے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا وہ ضرور بدبختی کی طرف جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کے لیے اس کا عمل آسان ہے، اہل سعادت کے لیے سعادت کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں اور بدبختوں کے لیے بدبختی کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا:(ترجمہ)”تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی ۔اور سب سے اچھی کو سچ مانا۔ تو بہت جلد ہم اُسے آسانی مہیا کردیں گے ۔اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا ۔اور سب سے اچھی کو جھٹلایا ۔تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے۔“۔(اللیل ٦) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٢،حدیث ٤٦٩٤)
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کے بارے میں گفتگو کی، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور علم میں مہارت حاصل کرتے ہیں، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں، تو آپ نے عرض کیا: جب تم ان سے ملنا تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں، اور وہ مجھ سے بری ہیں (میرا ان سے کوئی تعلق نہیں)، اس ہستی کی قسم، جس کی قسم عبداللہ بن عمر کھایا کرتا ہے، اگر ان میں ایک شخص کے پاس احد کے برابر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو بھی اللہ اس کے کسی عمل کو قبول نہ فرمائے گا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے، پھر آپ نے کہا: مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا جس کا لباس نہایت سفید اور بال انتہائی کالے تھے، اس پر نہ تو سفر کے آثار دکھائی دے رہے تھے، اور نہ ہی ہم اسے پہچانتے تھے، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا، اس نے اپنے گھٹنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے، اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے رانوں پر رکھ لیا اور عرض کیا: محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روز ے رکھو، اور اگر پہنچنے کی قدرت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو“ وہ بولا: آپ نے سچ کہا، حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں: ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور تقدیر کے بھلے یا برے ہونے پر ایمان لاؤ“ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ پھر پوچھا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو (یہ تصور رکھو کہ) وہ تو تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے“ اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھا جا رہا ہے، وہ اس بارے میں پوچھنے والے سے زیادہ جانتا ہے “۔ اس نے کہا: تو مجھے اس کی علامتیں ہی بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی، اور یہ کہ تم ننگے پیر اور ننگے بدن، محتاج، بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں فخر کریں گے“ پھر وہ چلا گیا، پھر میں تین (ساعت) تک ٹھہرا رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٣،حدیث ٤٦٩٥)
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے تو ہم نے آپ سے تقدیر کے بارے میں جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا ذکر کیا۔ پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ سے مزینہ یا جہینہ کے ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کیا جان کر عمل کریں؟ کیا یہ جان کر کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ سب پہلے ہی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے، یا یہ جان کر کہ (پہلے سے نہیں لکھا گیا ہے) نئے سرے سے ہونا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جان کر کہ جو کچھ ہونا ہے سب تقدیر میں لکھا جا چکا ہے“ پھر اس شخص نے یا کسی دوسرے نے کہا: تو آخر یہ عمل کس لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کے لیے اہل جنت والے اعمال آسان کر دئیے جائیں گےاور اہل جہنم کو اہل جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جائیں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٤،حدیث ٤٦٩٦)
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں تاہم اس میں کچھ اضافہ ہے۔ اس شخص نے دریافت کیا اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے مہینے میں روزے رکھنا اور غسل جنابت کرنا۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں؛اس روایت کا ایک راوی علقمہ مرجئی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٤،حدیث ٤٦٩٧)
حضرت ابوذر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے بیچ میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ جب کوئی اجنبی شخص آتا تو وہ بغیر پوچھے آپ کو پہچان نہیں پاتا تھا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے ایک ایسی جائے نشست بنا دیں کہ جب بھی کوئی اجنبی آئے تو وہ آپ کو پہچان لے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے آپ کے لیے ایک مٹی کا چبوترا بنا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے، آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی جیسی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ ایک شخص آیا، پھر انہوں نے اس کی ہیئت ذکر کی، یہاں تک کہ اس نے بیٹھے ہوئے لوگوں کے کنارے سے ہی آپ کو یوں سلام کیا: السلام علیک یا محمد! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٥،حدیث ٤٦٩٨)
ابن دیلمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا، فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور عذاب دینے میں وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے، اگر تم احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا، اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گئے تو ضرور جہنم میں داخل ہو گے۔ ابن دیلمی کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرفوع روایت بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٦٩٩)
ابوحفصہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! تم ایمان کی حقیقت کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: لکھ، قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“ اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو اس کے علاوہ کسی دوسرے نظریے پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٧٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ نے ہمیں محروم کیا، اور ہمیں جنت سے نکلوایا، آدم نے کہا: تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے لیے چن لیا، اور تمہارے لیے تورات کو اپنے دست قدرت سے لکھا، تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اس نے میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھوا دیا تھا، پس آدم موسیٰ پر غالب آ گئے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٧٠١)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اے میرے رب! ہمیں آدم علیہ السلام کو دکھا جنہوں نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوایا، تو اللہ نے انہیں آدم علیہ السلام کو دکھایا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے باپ آدم ہیں؟ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: آپ ہی ہیں جس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی، جسے تمام نام سکھائے اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تو آپ نے ہمیں اور اپنے آپ کو جنت سے کیوں نکلوایا؟ تو آدم نے ان سے کہا: اور تم کون ہو؟ وہ بولے: میں موسیٰ ہوں، انہوں نے کہا: تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جس سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی اور تمہارے اور اپنے درمیان اپنی مخلوق میں سے کوئی قاصد مقرر نہیں کیا؟ کہا: ہاں، آدم علیہ السلام نے کہا: تو کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ وہ (جنت سے نکالا جانا) میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی کتاب میں لکھا ہوا تھا؟ کہا: ہاں معلوم ہے، انہوں نے کہا: پھر ایک چیز کے بارے میں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کیوں مجھے ملامت کرتے ہو؟“ یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آدم، موسیٰ پر غالب آ گئے، تو آدم موسیٰ پر غالب آ گئے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٧٠٢)
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت،(ترجمہ)"اور جب تمہارے پروردگار نے اولاد ادم کو ان کی پشت سے نکالا"(الاعراف ١٧٢)کے متعلق پوچھا گیا۔ (حدیث بیان کرتے وقت) قعنبی نے آیت پڑھی تو آپ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا، اس سے اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے، اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے، پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے بھی اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جہنمیوں کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم کے کام کریں گے“ تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! پھر عمل سے کیا فائدہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام کراتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے، تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنمیوں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٦،حدیث ٤٧٠٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول نعیم بن ربیعہ کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا،اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں؛ امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول حدیث زیادہ مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٧،حدیث ٤٧٠٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: وہ لڑکا جسے حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا اس کی تقدیر میں کافر ہونا لکھا تھا،اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف کھینچ لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٧،حدیث ٤٧٠٥)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کے اس فرمان کے متعلق یہ بیان کرتے ہوئے سنا "اور جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے اس کے ماں باپ مومن تھے"(کھف ٨٠) (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں)اسے فطری طور پر کافر پیدا کیا گیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٧،حدیث ٤٧٠٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ بات بتائی ہے: حضرت خضر علیہ السلام نے ایک لڑکے کو دیکھا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا انہوں نے اس کا سر پکڑا اور اس کو جسم سے الگ کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے پاک جان کو قتل کر دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٧،حدیث ٤٧٠٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صادق ہیں اور آپ کی صداقت کی بیان کی گئی فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: تو وہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل لکھتا ہے، پھر لکھتا ہے: آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جنت) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے کام کر بیٹھتا ہے تو وہ داخل جہنم ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی شخص جہنمیوں کے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس (شخص) کے اور اس (جہنم) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب (تقدیر) اس پر سبقت کر جاتی ہے، اب وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے تو داخل جنت ہو جاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٨،حدیث ٤٧٠٨)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم)کیا یہ طے ہو چکا ہے کہ اہل جہنم اور اہل جنت کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں اس نے دریافت کیا پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک کے لیے وہ کام آسان ہو جاتا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٨،حدیث ٤٧٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: منکرین تقدیر کے ساتھ نہ بیٹھو اور ان کے ساتھ تعلق نہ رکھو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقَدَرِ؛تقدیرکا بیان؛جلد٤،ص٢٢٨،حدیث ٤٧١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے جو انہوں نے عمل کرنا تھا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٢٩،حدیث ٤٧١١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک بچہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!یہ کتنا خوش نصیب ہے کہ اس نے کوئی برائی نہیں کی اور اسے کسی برائی تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تم ایسا سمجھتی ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے اور جنت کو ان لوگوں کے لیے جب بنایا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے گئے اور جہنم کو ان لوگوں کے لیے پیدا کیا جب کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٢٩،حدیث ٤٧١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا ڈالتے ہیں، جیسے اونٹ صحیح و سالم جانور سے پیدا ہوتا ہے تو کیا تمہیں اس میں کوئی کنکٹا نظر آتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے جو بچپنے میں مر جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٢٩،حدیث ٤٧١٤)
امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہ روایت حارث بن مسکین کے سامنے پڑھی گئی میں اس وقت وہاں موجود تھا(اس کے بعد انہوں نے اس حدیث کی سند نقل کی) ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا:بدمذہب (قدریہ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو، اس لیے کہ اس میں ہے: صحابہ نے عرض کیا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٢٩،حدیث ٤٧١٥)
حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حماد بن سلمہ کو «كل مولود يولد على الفطرة» ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے“ کی تفسیر کرتے سنا، آپ نے کہا: ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا: «ألست بربكم قالوا بلى» ”کیا میں تمہارا رب (معبود) نہیں ہوں؟“(الأعراف ١٧٢) تو انہوں نے کہا تھا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧١٦)
عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وائدہ» (زندہ درگور کرنے والی) اور «مؤودہ» (زندہ درگور کی گئی دونوں) جہنم میں ہیں“۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ («وائدہ» سے مراد زندہ درگور کرنے والی عورت، اور «مؤودہ» سے مراد وہ عورت ہے جو اپنی بچی کو زندہ درگور کرنے پر راضی ہو، اس صورت میں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧١٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا باپ کہاں ہے؟آپ نے فرمایا تمہارا باپ جہنم ہے جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے فرمایا میرا باپ(یعنی چچا)اور تمہارا باپ جہنم میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧١٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: شیطان آدم کے بیٹے کی رگوں میں گردش کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧١٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے قدریوں(یعنی تقدیر کا انکار کرنے والوں)کے ساتھ نہ بیٹھو اور ان کے ساتھ لین دین نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے بچوں کا حکم؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧٢٠)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟تو جو شخص ایسی چیز پائے تو وہ یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لایا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٠،حدیث ٤٧٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:جب وہ لوگ یہ کہیں تو تم یہ کہو۔ اللہ تعالی ایک ہے، اللہ تعالی بے نیاز ہے، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی اس کو جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ پھر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے اور شیطان سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣١،حدیث ٤٧٢٢)
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: ”تم اسے کیا نام دیتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: «سحاب» (بادل)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور «مزن» بھی“ لوگوں نے کہا: ہاں «مزن» بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور «عنان» بھی“ لوگوں نے عرض کیا: اور «عنان» بھی، (ابوداؤد کہتے ہیں: «عنان» کو میں اچھی طرح ضبط نہ کر سکا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہمیں نہیں معلوم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے“ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنائے ”پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کے نیچے والے اور اوپر والے حصے کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں جن کے پاؤں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣١،حدیث ٤٧٢٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣١،حدیث ٤٧٢٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣١،حدیث ٤٧٢٥)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے، گھربار تباہ ہو گئے، مال برباد ہوگیا، جانور ہلاک ہو گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور آپ کی بارگاہ میں اللہ تعالیٰ کی سفارش پیش کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا برا ہو،کیا تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ کہنے لگے، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا: ”تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے سامنے سفارشی نہیں بنایا جا سکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے، تمہارا برا ہو! کیا تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ کتنا عظیم ہے، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے (آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے، (ابن بشار کی حدیث میں ہے) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر اپنی شان کے لائق ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے“ اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔ عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے، اور عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، ایک ہی نسخے سے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٢،حدیث ٤٧٢٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: انہوں نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ اجازت دی گئی ہے کہ میں عرش کو تھامنے والے اللہ تعالی کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بتاؤں اس کے کان کی لو سے لے کر کندھے کے درمیان تک ساتھ سو سال کے مسافت کا فاصلہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٢،حدیث ٤٧٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها"إلى قوله تعالى"سميعا بصيرا» ”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔۔۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے“ (سورۃ النساء: ۵۸) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، (یعنی شہادت کی انگلی کو)، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔ ابن یونس کہتے ہیں: عبداللہ بن یزید مقری نے کہا: یعنی «إن الله سميع بصير» پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سماعت اور بصارت ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جہمیہ کا رد ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٣،حدیث ٤٧٢٨)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں شب کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: ”تم لوگ عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی الجھن پیش نہیں ہوگی، لہٰذا اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ تم فجر اور عصر کی نماز نہ چھوڑنا“ پھر آپ نے یہ آیت «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» ”اور اپنے رب کی تسبیح کرو، سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے“ (سورۃ طہٰ: ۱۳۰) پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرُّؤْيَةِ؛رویت باری تعالیٰ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٣،حدیث ٤٧٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرُّؤْيَةِ؛رویت باری تعالیٰ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٣،حدیث ٤٧٣٠)
ابورزین موسیٰ عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کی (قیامت کے دن)زیارت کرےگا؟ اور اس کی نشانی اس کی مخلوق میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابورزین! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ تو سب سے عظیم ہے“ ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے،اللہ تعالی کی شان تو اس سے کہیں زیادہ بلند ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرُّؤْيَةِ؛رویت باری تعالیٰ کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے گا، اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑے گا، پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں اترانے والے؟“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرَّدِّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کے رد کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣٢) ضروری نوٹ:اس قسم کے الفاظ کہ اللہ ہاٹھ سے پکڑے گا متشابہات میں سے ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی پکار کو قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کر دوں۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الرَّدِّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ؛جہمیہ کے رد کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں لوگوں کے سامنے تشریف لے جاتے تھے اور فرماتے تھے: کہ کوئی شخص مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے گا،قریش تو مجھے اس بات سے روکتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے کلام کی تبلیغ کروں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے نزدیک میری اتنی حیثیت نہیں تھی کہ اللہ تعالی میرے بارے میں ایسا کلام نازل کرے کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٤،حدیث ٤٧٣٥)
حضرت عامر بن شہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نجاشی کے پاس موجود تھا اس کے بیٹے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی،تو میں ہنس پڑھا تو نجاشی بولا کیا تم اللہ کے کلام پر ہنس رہے ہو؟ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٥،حدیث ٤٧٣٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو یہ پڑھ کر دم کرتے تھے؛ «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ”میں تم دونوں کو مکمل پناہ میں دیتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے (سانپ بچھو وغیرہ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے“ پھر فرماتے: ”تمہارے باپ (ابراہیم) اسماعیل و اسحاق (علیہم السلام) کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٥،حدیث ٤٧٣٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ وحی سے متعلق کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل! تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: حق (فرمایا) تو وہ سب کہتے ہیں حق (فرمایا) حق (فرمایا)“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْقُرْآنِ؛قرآن(کے بارے میں جو کچھ منقول ہے)؛جلد٤،ص٢٣٥،حدیث ٤٧٣٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہوگی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛شفاعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٣٩)
حضرت عمران بن حصین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے جہنم سے کچھ لوگ نکلیں گے اور جنت میں داخل ہو جائیں گے اور انہیں"جہنمیوں"کا نام دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛شفاعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اہل جنت اس میں کھائیں گے بھی اور پئیں گے بھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛شفاعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤١)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں صور ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی ذکر البعث والصور؛دوبارہ زندہ ہونے اور صور کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ابن ادم(کے جسم کے)ہر حصے کو زمین کھا لے گی سوائے ریڑ کی ہڈی کے مخصوص حصے کے کیونکہ اس سے تخلیق کیا گیا اور اس سے اسے دوبارہ بنایا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی ذکر البعث والصور؛دوبارہ زندہ ہونے اور صور کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا، پھر (اللہ نے) اسے ناپسندیدہ صورتحال کے ذریعے اسے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہو گا، تو اللہ نے اسے شہوات کے ذریعے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی خلق الجنۃ والنار؛جلد٤،ص٢٣٦،حدیث ٤٧٤٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے آگے حوض ہوگا اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا"جرباء"اور"اذرح"کے درمیان ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٧،حدیث ٤٧٤٥)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے،ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ آپ نے فرمایا: جتنے لوگ میرے حوض پر آئیں گے تم ان کا ایک لاکھوں حصہ بھی نہیں ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا آپ لوگوں کی تعداد اس وقت کتنی تھی انہوں نے جواب دیا 700 تھی یا شاید 800 تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٧،حدیث ٤٧٤٦)
مختار بن فلفل بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آگئی جب آپ نے سر مبارک اٹھایا تو آپ مسکرا رہے تھے لوگوں نے آپ سے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟تو آپ نے فرمایا ابھی میرے اوپر یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔پھر آپ نے(ان آیات کی)تلاوت کی۔ "اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے( وہ فرماتا ہے): " بے شک ہم نے تمہیں الکوثر عطا کی ہے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری سورت کو تلاوت کیا،جب آپ نے اسے پڑھ لیا تو اپ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو" کوثر" سے مراد کیا ہے لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک نہر ہے جس کا میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے،یہ جنت میں ہے اس میں بہت زیادہ بھلائی ہے اس پر ایک حوض ہے میری امت کے لوگ قیامت کے دن اس حوض پر آئیں گے اس کے کوزے ستاروں کی تعداد جتنے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٧،حدیث ٤٧٤٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو آپ جنت میں تھے(راوی کو شک ہوا کہ شاید یہ الفاظ ہیں)آپ کے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کنارے کھوکھلے یاقوت کے تھے، فرشتے نے جو آپ کے ساتھ تھے اپنا ہاتھ اس پر مارا اور اس میں سے مشک نکال کر دکھائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتے سے جو آپ کے ساتھ تھا دریافت کیا یہ کیا ہے اس نے جواب دیا یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالی نے آپ کو عطا کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٨،حدیث ٤٧٤٨)
ابو طالوت بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا،جب وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس آئے جب عبید اللہ نے انہیں دیکھا تو بولا اے چھوٹے قد کا موٹا محمدی ہے۔ وہ بزرگ اس بات کو سمجھ گئے اور بولے مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ میں ایسی قوم میں باقی رہوں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کی وجہ سے مجھے طعنہ دیں گے،تو عبید اللہ نے ان سے کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونا آپ کے لیے عزت کا باعث ہے رسوائی کا باعث نہیں ہے، پھر اس نے بتایا میں نے آپ کو اس لیے بلوایا ہے تاکہ آپ سے حوض کوثر کے بارے میں دریافت کروں کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں کوئی تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے؟تو حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں ایک مرتبہ نہیں، دو مرتبہ نہیں، تین مرتبہ نہیں، چار مرتبہ نہیں، پانچ مرتبہ نہیں (بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنا ہے) اور جو شخص آپ کے حوالے سے کوئی جھوٹی بات بیان کرے تو اللہ تعالی اسے اس حوض سے پینا نصیب نہ کرے، پھر حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ غضب کے عالم میں وہاں سے چلے گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الحوض؛جلد٤،ص٢٣٨،حدیث ٤٧٤٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“۔ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» ”اللہ ایمان والوں کو قول ثابت کے ذریعے ثابت رکھے گا“ (سورۃ ابراہیم: ۲۷) سے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٨،حدیث ٤٧٥٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گھبراہٹ طاری ہوگئی ، فرمایا: ”یہ قبریں کس کی ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو“ لوگوں نے عرض کیا: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت نصیب کر دے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا، تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے، ٹھہرا رہ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی (یعنی قرآن)، پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٨،حدیث ٤٧٥١)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے تاہم اس میں ہے: ”جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس طرح ہے: رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں“ راوی نے ”منافق“ کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے: ”اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٩،حدیث ٤٧٥٢)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو“ اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: اور فرمایا: ”اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے بندے ! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟“ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا“ جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: ”اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے“ (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے“۔ اور رہا کافر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں“ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٣٩،حدیث ٤٧٥٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ؛قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٠،حدیث ٤٧٥٤)
حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جہنم کا ذکر کیا تو رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں روتی ہو؟“، وہ بولیں: مجھے جہنم یاد آ گئی تو رونے لگی، کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین جگہوں پر تو وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: ایک میزان کے پاس یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری ہے، دوسرے کتاب(نامہ اعمال)کے وقت جب کہا جائے گا: آؤ پڑھو اپنی اپنی کتاب یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کی کتاب کس میں دی جائے گی آیا دائیں ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں، یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے اور تیسرے پل صراط کے پاس جب وہ جہنم پر رکھا جائے گا“۔ یعقوب نے «عن يونس» کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی ذکر المیزان؛میزان کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٤٠،حدیث ٤٧٥٥)
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”حضرت نوح علیہ السلام کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کی اور فرمایا: ”شاید اسے کوئی ایک شخص پائے جس نے مجھے دیکھا اور میری بات سنی“ لوگوں نے عرض کیا: اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ کیا اسی طرح جیسے آج ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بھی بہتر“ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الدجال؛ دجال کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٤١،حدیث ٤٧٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، اللہ کی اس کے شان کے مطابق حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا نہ ہو،حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتا رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی: وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی الدجال؛ دجال کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٤١،حدیث ٤٧٥٧)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے تو اس نے اسلام کے پٹے کو اپنی گردن میں سے نکال دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤١،حدیث ٤٧٥٨)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تم کیا کرو گے جب میرے بعد حکمراں اس مال فے کو تم لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کریں گے“ میں نے عرض کیا: تب تو اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا، پھر اس سے ان کے ساتھ لڑوں گا یہاں تک کہ میں آپ سے ملاقات کروں یا آ ملوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو“۔(یعنی مرتے دم تک صبر سے کام لینا) (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤١،حدیث ٤٧٥٩)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عنقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جن کی کچھ باتیں تمہیں اچھی لگے گی اور کچھ باتیں تمہیں بری لگے گی تو جو شخص ناپسند کرے، (ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے جس نے اپنی زبان کے ذریعے ناپسند کرے تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ (سلیمان ابن داود طیالسی) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤٢،حدیث ٤٧٦٠)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جو شخص ناپسند کرے گا وہ بری ہو جائے گا اور جو انکار کرے گا وہ سلامت رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤٢،حدیث ٤٧٦١)
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عنقریب میری امت میں فساد ہوں گے، فساد ہوں گے، فساد ہوں گے تو جو شخص مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا جبکہ وہ اکٹھا ہوں تو تم اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دو خواہ وہ کوئی بھی شخص ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتل الخوارج؛خارجیوں کو قتل کرنا؛جلد٤،ص٢٤٢،حدیث ٤٧٦٢)
عبیدہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ان میں ایک ایسا شخص ہوگا جس کا دایاں ہاتھ نامکمل ہوگا،اگر تم لوگ یقین کرو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے ساتھ کیا وعدہ کیا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے انہوں نے فرمایا ہاں،رب کعبہ کی قسم! (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٢،حدیث ٤٧٦٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی سے آلودہ سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار لوگوں: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید الخیل طائی جو بنی نبہان کے ایک فرد ہیں اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنی کلاب سے ہیں کے درمیان تقسیم کر دیا، اس پر قریش اور انصار کے لوگ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: آپ اہل نجد کے رئیسوں کو عطا کر دیا اور ہمیں نہیں دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں“ اتنے میں ایک شخص آیا (جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی بلند، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا) اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں ہی اس کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو کون اس کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ زمین والوں میں مجھے امین بنایا ہے اور تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے؟“ تو ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، اور جب وہ لوٹ گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کی نسل میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اس شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے جسے تیر مارا جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پوجنے والوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٣،حدیث ٤٧٦٤)
حضرت ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ واپس نہیں آتا یہاں تک کہ وہ اوپر کی طرف سے لوٹ کر آئے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو اس کے ساتھ جنگ کرے اور جس کے ساتھ وہ جنگ کرے، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈانا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٣،حدیث ٤٧٦٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند ایک روایت منقول ہے، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ان کی مخصوص نشانی سر منوانا ہے اور بالوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہے،جب تم انہیں دیکھو تو انہیں فنا کر دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٤،حدیث ٤٧٦٦)
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم سے بیان کروں تو آسمان سے میرا گر جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ پر جھوٹ بولوں، اور جب میں تم سے اس کے متعلق کوئی بات کروں جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے تو جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو کم عمر اور کم عقل ہوں گے، جو تمام مخلوقات میں بہتر شخص کی طرح باتیں کریں گے، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کا ایمان ان کی گردنوں سے نیچے نہ اترے گا، لہٰذا جہاں کہیں تم ان سے ملو تم انہیں قتل کر دو، اس لیے کہ ان کا قتل کرنا، قیامت کے روز اس شخص کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہو گا جو انہیں قتل کرے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٤،حدیث ٤٧٦٧)
حضرت زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس فوج میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، تمہارا پڑھنا ان کے پڑھنے کے مقابلے کچھ نہ ہو گا، نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے کچھ ہو گی، اور نہ ہی تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے کچھ ہو گا، وہ قرآن پڑھیں گے، اور سمجھیں گے کہ وہ ان کے لیے (ثواب) ہے حالانکہ وہ ان پر (عذاب) ہو گا، ان کی صلاۃ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی، وہ اسلام سے نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے، یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کس چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو وہ ضرور اسی عمل پر بھروسہ کر لیں گے (اور دوسرے نیک اعمال چھوڑ بیٹھیں گے) ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کے بازو ہو گا، لیکن ہاتھ نہ ہو گا، اس کے بازو پر پستان کی گھنڈی کی طرح ایک گھنڈی ہو گی، اس کے اوپر کچھ سفید بال ہوں گے“ تو کیا تم لوگ معاویہ اور اہل شام سے لڑنے جاؤ گے، اور انہیں اپنی اولاد اور اسباب پر چھوڑ دو گے (کہ وہ ان پر قبضہ کریں اور انہیں برباد کریں) اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں (جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے) اس لیے کہ انہوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کی چراگاہوں پر شب خون مارا ہے، چلو اللہ کے نام پر۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں: پھر زید بن وہب نے مجھے ایک ایک مقام بتایا (جہاں سے ہو کر وہ خارجیوں سے لڑنے گئے تھے) یہاں تک کہ وہ ہمیں لے کر ایک پل سے گزرے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواروں کو میان سے کھینچ لو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تم سے اسی طرح صلح کا مطالبہ نہ کریں جس طرح انہوں نے تم سے حروراء کے دن کیا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے نیز ے پھینک دئیے، تلواریں کھینچ لیں، لوگوں (مسلمانوں) نے انہیں اپنے نیزوں سے روکا اور انہوں نے انہیں ایک پر ایک کر کے قتل کیا اور (مسلمانوں میں سے) اس دن صرف دو آدمی شہید ہوئے،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں «مخدج» یعنی لنجے کو تلاش کرو، لیکن وہ نہ پا سکے، تو آپ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو ایک پر ایک کر کے مارے گئے تھے، آپ نے کہا: انہیں نکالو، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ سب سے نیچے زمین پر پڑا ہے، آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بولے: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے ساری باتیں پہنچا دیں۔ پھر عبیدہ سلمانی آپ کی طرف اٹھ کر آئے کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ وہ بولے: ہاں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، یہاں تک کہ انہوں نے انہیں تین بار قسم دلائی اور وہ (تینوں بار) قسم کھاتے رہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٤،حدیث ٤٧٦٨)
حضرت ابو الوضی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نا مکمل ہاتھ والے شخص کو تلاش کرو(امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ)فرماتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث نقل کی ہے، پھر ان لوگوں نے مقتولین کے نیچے سے مٹی میں ملے ہوئے اس شخص کو نکالا ابوالوضی بیان کرتے ہیں میں اسے گویا ابھی بھی دیکھ رہا ہوں وہ حبشی تھا اس نے قریطق پہنا ہوا تھا اس کا ایک بازو اس طرح تھا جیسے عورت کی چھاتی ہوتی اس پر کچھ بال موجود تھے جیسے جنگلی چوہے کے دم پر موجود ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٥،حدیث ٤٧٦٩)
ابو مریم بیان کرتے ہیں وہ نامکمل ہاتھ والا شخص ہمارے ساتھ مسجد میں موجود تھا،ہم رات اور دن اس کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، وہ غریب آدمی تھا میں نے اس سے ان غریبوں کے ساتھ دیکھا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا کھانے کے لیے لوگوں کے ساتھ آیا کرتے تھے،میں نے اسے اپنی ٹوپی بھی پہننے کے لیے دی تھی،ابو مریم بیان کرتے ہیں اس نامکمل ہاتھ والے شخص کا نام چھاتی والا تھا،اس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح تھا اس پر اسی طرح گھنڈی بنی ہوئی تھی جیسے چھاتی کے اوپر گھنڈی بنی ہوتی ہے اور اس پر کچھ بال تھے جیسے بلی کی مونچھ کے بال ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فی قتال الخوارج؛خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنا؛جلد٤،ص٢٤٥،حدیث ٤٧٧٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا مال لینے کا ناحق ارادہ کیا جائے اور وہ (اپنے مال کے بچانے کے لیے) لڑے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ؛چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٦،حدیث ٤٧٧١)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے بال بچوں کو بچانے یا اپنی جان بچانے یا اپنے دین کو بچانے میں مارا جائے وہ بھی شہید ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَابُ السُّنَّةِ؛باب فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ؛چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٦،حدیث ٤٧٧٢)
Abu Dawood Shareef : Kitabus Sunnate
|
Abu Dawood Shareef : کتاب السنۃ
|
•