
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بہتر اخلاق والے تھے، ایک دن آپ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا تو میں نے کہا: قسم اللہ کی، میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں یہ بات تھی کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، اس لیے ضرور جاؤں گا، چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ جب میں کچھ بچوں کے پاس سے گزر رہا تھا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑ کر دیکھا، آپ ہنس رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ننھے انس! جاؤ جہاں میں نے تمہیں حکم دیا ہے“ میں نے عرض کیا: ٹھیک ہے، میں جا رہا ہوں، اللہ کے رسول، انس کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میں نے سات سال یا نو سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کبھی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں نہیں کیا؟ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْحِلْمِ وَأَخْلاَقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور تحمل و بردباری کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٦،حدیث ٤٧٧٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے مدینہ منورہ میں 10 سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے، میں اس وقت کم سن لڑکا تھا، میرے تمام کام اس طرح کے نہیں ہوتے تھے جس طرح میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہوتی تھی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی بھی کام کے سلسلے میں کبھی"اف" نہیں فرمایا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ فرمایا کہ تم یہ کیوں کیا یا تم نے یہ کیوں نہیں کیا؟ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْحِلْمِ وَأَخْلاَقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور تحمل و بردباری کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٧،حدیث ٤٧٧٤)
ہلال بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کرتے ہوئے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے باتیں کرتے تھے تو جب آپ اٹھ کھڑے ہوتے تو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوتے یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے کہ آپ اپنی ازواج میں سے کسی کے گھر میں داخل ہو گئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک دن گفتگو کی، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہو گئے، تو ہم نے ایک اعرابی کو دیکھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر اور آپ کے اوپر چادر ڈال کر آپ کو کھینچ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن لال ہو گئی ہے، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں: وہ ایک کھردری چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اعرابی نے آپ سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری کے لیے مجھے یہ دو اونٹ دے، اس لیے کہ نہ تو آپ اپنے مال سے دے رہے ہیں اور نہ اپنے باپ کے مال سے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں میں تمہیں نہیں دوں گا جب تک کہ تم مجھے چھوڑ نہیں دیتےجو تم نے مجھے پکڑا ہے“ لیکن اعرابی ہر بار یہی کہتا رہا: اللہ کی قسم میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ”اس کے لیے اس کے دونوں اونٹ دے دو : ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”واپس جاؤ اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْحِلْمِ وَأَخْلاَقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور تحمل و بردباری کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٧،حدیث ٤٧٧٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک نیک چال چلن، اچھا کردار اور میانہ روی اختیار کرنا نبوت کا پچیسواں حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی الوقار؛وقار کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٨،حدیث ٤٧٧٦)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ كَظَمَ غَيْظًا؛غصہ پی جانے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٨،حدیث ٤٧٧٧)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے فرزندوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، آپ نے فرمایا: ”اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور اس میں یہ واقعہ مذکور نہیں کہ اللہ اسے بلائے گا، البتہ اتنا اضافہ ہے، اور جو عمدہ لباس پہننا ترک کر دے، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا، اور جو اللہ کی خاطر شادی کرے گا تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا“ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ كَظَمَ غَيْظًا؛غصہ پی جانے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٨،حدیث ٤٧٧٨)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے درمیان پہلوان کسے سمجھتے ہو؟لوگوں نے عرض کی وہ شخص جسے کوئی دوسرا پچھاڑ نہ سکے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی نہیں طاقتور وہ ہوتا ہے جو غصے کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ كَظَمَ غَيْظًا؛غصہ پی جانے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٢٤٨،حدیث ٤٧٧٩)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں کے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں تکرار ہوگئی،تو ان میں سے ایک کو بہت شدید غصہ آیا یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مارے غصے کے اس کی ناک پھٹ جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا“ عرض کیا: کیا ہے وہ؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”وہ کہے «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» ”اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ تو معاذ اسے اس کا حکم دینے لگے، لیکن اس نے انکار کیا، اور لڑنے لگا، اس کا غصہ مزید شدید ہوتا چلا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْغَضَبِ؛غصے کے وقت کیا دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٢٤٨،حدیث ٤٧٨٠)
حضرت سلیمان بن صرد کہتے ہیں کہ دو شخصوں کے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں تکرار ہوگئی،تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا، وہ کلمہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم»، تو اس آدمی نے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے جنون ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْغَضَبِ؛غصے کے وقت کیا دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٢٤٩،حدیث ٤٧٨١)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو سخت غصہ آئے اور وہ اس وقت کھڑا ہوا ہو تو اسے بیٹھ جانا چاہیے، اس طرح اس کا غصہ ختم ہو جائے گا یا پھر اسے لیٹ جانا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْغَضَبِ؛غصے کے وقت کیا دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٢٤٩،حدیث ٤٧٨٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ روایت ان دونوں سے زیادہ مستند ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْغَضَبِ؛غصے کے وقت کیا دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٢٤٩،حدیث ٤٧٨٣)
ابو وائل جو ایک خطیب ہیں وہ بیان کرتے ہیں ہم عروہ بن محمد سعدی کے پاس آئے کسی شخص نے ان سے بات کرتے ہوئے انہیں غصہ دلا دیا تو وہ اٹھے، انہوں نے وضو کیا، پھر واپس آئے تو وہ وضو کر کے آئے تھے، انہوں نے بتایا میرے والد نے مجھے میرے دادا عطیہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا ہے: "بے شک غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ کو پانی کے ذریعے بجھایا جاتا ہے، جب کسی شخص کو غصہ آئے تو اس کو پانی سے وضو کر لینا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْغَضَبِ؛غصے کے وقت کیا دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٢٤٩،حدیث ٤٧٨٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْعَفْوِ وَالتَّجَاوُزِ فِي الأَمْرِ؛عفو و درگزر کرنے اور انتقام نہ لینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٠،حدیث ٤٧٨٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو یا اپنی اہلیہ کو نہیں مارا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْعَفْوِ وَالتَّجَاوُزِ فِي الأَمْرِ؛عفو و درگزر کرنے اور انتقام نہ لینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٠،حدیث ٤٧٨٦)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں:(ارشاد باری تعالی) "تم درگزر کرنے کو اختیار کرو"(اعراف ١٩٩) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا، کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے معاف کرنے(کی عادت) کو اختیار کریں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْعَفْوِ وَالتَّجَاوُزِ فِي الأَمْرِ؛عفو و درگزر کرنے اور انتقام نہ لینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٠،حدیث ٤٧٨٧)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے: "جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے بارے میں کسی چیز کا علم ہوتا (جو نامناسب بات ہوتی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں کہتے تھے کہ فلاں کو کیا ہوا ہے کہ وہ یوں کہتا ہے، یا یوں کرتا ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ یوں کہتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ؛حسن معاشرت کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٠،حدیث ٤٧٨٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس پر زردی کا نشان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ بہت کم کسی ایسے شخص کے روبرو ہوتے، جس کے چہرے پر کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند کرتے تو جب وہ نکل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش تم لوگ اس سے کہتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: سلم علوی (یعنی اولاد علی میں سے) نہیں تھا بلکہ وہ ستارے دیکھا کرتا تھااور اس نے عدی بن ارطاۃ کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی قبول نہیں کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ؛حسن معاشرت کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٠،حدیث ٤٧٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مومن سیدھا سادہ اور معزز ہوتا ہے جبکہ فاجر(کافر)دھوکے باز اور کنجوس ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ؛حسن معاشرت کا بیان؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٧٩٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ”یہ اپنے خاندان کا لڑکا یا خاندان کا آدمی برا شخص ہے“ پھر فرمایا: اسے اجازت دے دو، جب وہ اندر آ گیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی، اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس سے نرم گفتگو کی حالانکہ آپ اس کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہہ چکے تھے، آپ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے برا شخص اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس سے لوگوں نے اس کی فحش کلامی سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی ہو یا اسے چھوڑ دیا ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ؛حسن معاشرت کا بیان؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٧٩١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ”یہ اپنے کنبے کا برا شخص ہے“ جب وہ اندر آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ”یہ اپنے کنبے کا برا شخص ہے، اور جب وہ اندر آ گیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے“ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ؛حسن معاشرت کا بیان؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٧٩٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے یہی واقعہ ایک اور سند کے ہمراہ موجود ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ!لوگوں میں سب سے برے وہ لوگ ہیں جن کی بد زبانی سے بچنے کے لیے ان کی عزت کی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ؛حسن معاشرت کا بیان؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٧٩٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو (کچھ کہنے کے لیے) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ؛حسن معاشرت کا بیان؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٧٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص پر سے گزرے، وہ اپنے بھائی کو شرم و حیاء کرنے پر ڈانٹ رہا تھا (اور سمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم کرنا اچھی بات نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کے حال پر چھوڑ دو،حیا تو ایمان کا ایک حصہ ہے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی الحیاء؛حیا کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٢،حدیث ٤٧٩٥)
ابوقتادہ کہتے ہیں ہم حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اور وہاں بشیر بن کعب بھی تھے تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”حیاء خیر ہے پورا کا پورا، یا کہا حیاء پورا کا پورا خیر ہے،، اس پر بشیر بن کعب نے کہا: ہم بعض کتابوں میں لکھا پاتے ہیں کہ حیاء میں سے کچھ تو سکینہ اور وقار ہے، اور کچھ ضعف و ناتوانی، یہ سن کر عمران نے حدیث دہرائی تو بشیر نے پھر اپنی بات دہرائی تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور بولے: میں تم سے حدیث رسول اللہ بیان کر رہا ہوں، اور تم اپنی کتابوں کے بارے میں مجھ سے بیان کرتے ہو۔ ابوقتادہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابونجید (عمران کی کنیت ہے) چھوڑئیے جانے دیجئیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی الحیاء؛حیا کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٢،حدیث ٤٧٩٦)
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لوگوں نے پہلی نبوت کے کلام میں سے جو پایا ہے اس میں ایک بات یہ بھی ہے جب تمہیں حیا نہ آئے تو جو چاہے کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی الحیاء؛حیا کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٢،حدیث ٤٧٩٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "بے شک مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ دار اور نوافل ادا کرنے والے شخص کے درجے تک پہنچ جاتا ہے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی حسن الخلق؛حسن اخلاق کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٥٠،حدیث ٤٧٩٨)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:(قیامت کے دن)نامہ اعمال میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہوگی۔ ولید کہتے ہیں میں نے عطا کیخارانی کو سنا یہ عطا بن یعقوب ہے یہ ابراہیم بن نافع کا ماموں ہے، اس کے اسم منسوب میں کیخارانی یا کوخارانی کہا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی حسن الخلق؛حسن اخلاق کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٥٠،حدیث ٤٧٩٩)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں اس شخص کو جنت کی ایک طرف محل ملنے کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑے کو چھوڑ دے اور اس شخص کو جنت کے درمیان محل ملنے کی ضمانت دیتا ہوں جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے خواہ وہ مذاق کے طور پر ہی کیوں نہ ہو،اور میں اس شخص کو جنت میں بلند درجہ میں ایک محل ملنے کی ضمانت دیتا ہوں جو اپنے اخلاق کو عمدہ بنا لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی حسن الخلق؛حسن اخلاق کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٨٠٠)
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں بد مزاج شخص داخل نہیں ہوگا اور تکبر سے چلنے والا بھی داخل نہیں ہوگا۔ "جواظ" سے مراد سخت مزاج اور برے اخلاق کا مالک شخص ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی حسن الخلق؛حسن اخلاق کا تذکرہ؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٨٠١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی)عضباء کو مقابلے میں ہرایا نہیں جا سکتا تھا، ایک مرتبہ ایک دیہاتی ایک اونٹ پر بیٹھ کر آیا اس دیہاتی نے اس اونٹنی کے ساتھ مقابلہ کیا تو وہ جیت گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ بات بہت گراں گزری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی پر یہ بات لازم ہے کہ وہ دنیا میں جس شخص کو بلندی عطا کرے اسے(کبھی) پستی بھی عطا کر دے" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی کراھیۃ الرفعۃ فی الأمور؛أمور میں بلندی کا ناپسندیدہ ہونا؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٨٠٢)
یہی واقعہ ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "بےشک اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ جب وہ دنیا میں کسی چیز کو بلندی عطا کرے تو اسے نیچا بھی دکھائے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی کراھیۃ الرفعۃ فی الأمور؛أمور میں بلندی کا ناپسندیدہ ہونا؛جلد٤،ص٢٥١،حدیث ٤٨٠٣)
ہمام کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا، تو حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی کراھیۃ التمادح؛جلد٤،ص٢٥٤،حدیث ٤٨٠٤)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کی تعریف کی، تو آپ نے اس سے فرمایا: ”تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی“ اسے آپ نے تین بار کہا، پھر فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی مدح و تعریف کرنی ہی پڑ جائے تو یوں کہے: میں اسے ایسے ہی سمجھ رہا ہوں، لیکن میں اللہ کے بالمقابل اس کا تزکیہ نہیں کرتا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی کراھیۃ التمادح؛جلد٤،ص٢٥٤،حدیث ٤٨٠٥)
مطرف کہتے ہیں میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے:کہ میں بنی عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، تو ہم نے عرض کیا: آپ ہمارے سردار ہیں، آپ نے فرمایا: ”سردار تو اللہ تعالیٰ ہے“ ہم نے عرض کیا: آپ ہمارے سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے شخص ہیں اور سب سے زیادہ عظمت والے شخص ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ بات کہہ سکتے ہو(یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)البتہ شیطان تمہیں اپنا نمائندہ نہ بنا لے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی کراھیۃ التمادح؛جلد٤،ص٢٥٤،حدیث ٤٨٠٦)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالی نرمی کا اظہار کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر وہ چیز عطاء کرتا ہے جو کرختگی پر عطا نہیں کرتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی الرفق؛ نرمی کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٤،حدیث ٤٨٠٧)
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیابان میں قیام کرنے کے بارے میں پوچھا (کہ کیسا ہے) آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیابان کا علاقہ آیا،تو آپ نے ایک بار بیابان میں رہائش اختیار کرنے کا ارادہ کیا تو میرے پاس زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی، جس پر سواری نہیں کی گئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! نرمی کرو، اس لیے کہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، اسے زینت دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکل جاتی ہے، اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ ابن الصباح اپنی حدیث میں کہتے ہیں: «محرمۃ» سے مراد وہ اونٹنی ہے جس پر سواری نہ کی گئی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی الرفق؛ نرمی کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٤،حدیث ٤٨٠٨)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ پوری بھلائی سے محروم رہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی الرفق؛ نرمی کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٤،حدیث ٤٨٠٩)
مصعب بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:کسی بھی کام میں جلدبازی نہیں کرنی چاہیے البتہ آخرت سے متعلق عمل میں ایسا کرنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فی الرفق؛ نرمی کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٥،حدیث ٤٨١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کا شکر بھی ادا نہیں کرتا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي شُكْرِ الْمَعْرُوفِ؛نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٥،حدیث ٤٨١١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مہاجرین نے عرض کی: یا رسول اللہ! انصار سارے کا سارا اجر لے گئے ہیں،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں!جب تک تم اللہ تعالی سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے تو تمہیں بھی اجر ملتا رہے گا۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي شُكْرِ الْمَعْرُوفِ؛نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٥،حدیث ٤٨١٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے، اس لیے ان کا نام نہیں لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي شُكْرِ الْمَعْرُوفِ؛نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٥،حدیث ٤٨١٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جس شخص پر کوئی احسان کیا جائے اور پھر وہ اس کا ذکر کر دے تو گویا اس نے اس کا شکریہ ادا کر دیا اور اگر وہ اسے چھپا لے تو گویا کہ اس نے اس کی ناشکری کی" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي شُكْرِ الْمَعْرُوفِ؛نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٦،حدیث ٤٨١٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے اس طرح بیٹھنے کے بغیر گزارہ نہیں کیونکہ ہم اس طرح بیٹھ کر بات چیت کر لیتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر اگر تم اصرار کرتے تو راستے کا حق ادا کرو“ لوگوں نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ؛راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٦،حدیث ٤٨١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں: "مسافر کو راستے کی راہنمائی کرنا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ؛راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٦،حدیث ٤٨١٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: تم پریشان حال شخص کی مدد کرو، راستہ بھول جانے والے کی راہنمائی کرو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ؛راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٦،حدیث ٤٨١٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ!مجھے آپ سے کام ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام فلاں!تم کسی گلی کے کونے میں بیٹھ جاؤ،میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا اور تمہاری بات سن لوں گا وہ خاتون بیٹھ گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے،یہاں تک کہ اس نے اپنی ضرورت کو پورا کر لیا۔ ابن عیسی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے:"اس نے اپنی ضرورت پوری کر لی۔" کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:حمید نامی راوی کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ؛راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٦،حدیث ٤٨١٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ایک عورت کی عقل میں کچھ خرابی تھی اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ؛راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٦،حدیث ٤٨١٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؛ "سب سے بہترین محفل وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو" یہ راوی عبدالرحمن بن عمرو بن ابو عمرہ انصاری ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي سَعَةِ الْمَجْلِسِ؛مجلس کی کشادگی کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٧،حدیث نمبر ٤٨٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب کوئی شخص دھوپ میں بیٹھا ہو (ایک راوی نے یہ ہے الفاظ نقل کیے ہیں) سائے میں بیٹھا،اور پھر اس کا سایہ چڑھ جائے اور اس کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو جائے اور کچھ حصہ سائے میں ہو تو اسے وہاں سے اٹھ جانا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْجُلُوسِ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ؛کچھ دھوپ اور کچھ سائے میں بیٹھنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٥٧،حدیث نمبر ٤٨٢١)
قیس اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، وہ آئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے،وہ صاحب دھوپ میں کھڑے ہو گئے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو وہ سائے میں آگئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْجُلُوسِ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ؛کچھ دھوپ اور کچھ سائے میں بیٹھنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٥٧،حدیث نمبر ٤٨٢٢)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے،تو لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں الگ الگ بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي التَّحَلُّقِ؛مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٨،حدیث نمبر ٤٨٢٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ موجود ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اجتماعیت کو پسند کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي التَّحَلُّقِ؛مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٨،حدیث نمبر ٤٨٢٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آدمی وہاں بیٹھتا تھا جہاں تک لوگ بیٹھے ہوتے تھے(یعنی محفل کے آخر میں بیٹھتا تھا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي التَّحَلُّقِ؛مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٨،حدیث نمبر ٤٨٢٥)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو حلقے کے درمیان میں بیٹھتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب الْجُلُوسِ وَسْطَ الْحَلْقَةِ؛حلقہ کے بیچ میں بیٹھنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٥٨،حدیث نمبر ٤٨٢٦)
سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ایک گواہی کے سلسلے میں ہمارے ہاں آئے، تو ان کے لیے ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، تو انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کیا، اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ کسی ایسے کپڑے سے پہنچے جسے اس نے پہنا ہوا نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُومُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ؛ایک شخص دوسرے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھے تو یہ کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٥٨،حدیث نمبر ٤٨٢٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ایک شخص اس کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ گئے وہ شخص وہاں بیٹھنے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ابو خصیب نامی راوی کا نام زیاد بن عبدالرحمن ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُومُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ؛ایک شخص دوسرے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھے تو یہ کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٥٨،حدیث نمبر ٤٨٢٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس نارنگی کی سی ہے جس کی بو بھی اچھی ہے اور جس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور ایسے مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے لیکن اس میں بو نہیں ہوتی، اور فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے، گلدستے کی طرح ہے جس کی بو عمدہ ہوتی ہے اور اس کا مزا کڑوا ہوتا ہے، اور فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا، ایلوے کے مانند ہے، جس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی بو بھی نہیں ہوتی، اور صالح دوست کی مثال مشک والے کی طرح ہے، کہ اگر تمہیں اس سے کچھ بھی نہ ملے تو اس کی خوشبو تو ضرور پہنچ کر رہے گی، اور برے دوست کی مثال اس لوہار (لوہے کی بٹھی) والے کی سی ہے، کہ وہ اگر اس کی سیاہی سے بچ بھی جائے تو اس کا دھواں تو لگ ہی کر رہے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ؛کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟؛جلد٤،ص٢٥٩،حدیث نمبر ٤٨٢٩)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلا کلام ان الفاظ میں منقول ہے"اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے" ابن معاذ نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے اچھے ہم نشین کی مثال اس کے بعد راوی نے بقیہ روایت نقل کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ؛کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟؛جلد٤،ص٢٥٩،حدیث نمبر ٤٨٣٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: نیک ہم نشین کی مثال اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ؛کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟؛جلد٤،ص٢٥٩،حدیث نمبر ٤٨٣١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تم صرف مومن کی ہم نشینی اختیار کرو اور تمہارا کھانا صرف پرہیزگار لوگ کھائیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ؛کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟؛جلد٤،ص٢٥٩،حدیث نمبر ٤٨٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں؛ آدمی اپنے دوست کے طریقے پر ہوتا ہے، تو ہر شخص کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کا دوست کون ہو؟" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ؛کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟؛جلد٤،ص٢٥٩،حدیث نمبر ٤٨٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: روح مل جل کے رہتی ہیں، ان میں سے جن کا عالم ارواح میں ایک دوسرے سے تعارف ہو وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہے اور جو وہاں ایک دوسرے سے ناواقف ہوں ان کے درمیان دنیا میں بھی(واقفیت)نہیں ہو پاتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ؛کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟؛جلد٤،ص٢٦٠،حدیث نمبر ٤٨٣٤)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے کسی کو کسی کام کے سلسلے میں بھیجتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے: "تم خوشخبری سنانا، تم متنفر نہ کرنا، آسانیاں فراہم کرنا، تم تنگی کا شکار نہ کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْمِرَاءِ؛جھگڑے اور فساد کی برائی کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٠،حدیث نمبر ٤٨٣٥)
حضرت سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو لوگ میری تعریف اور میرا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کو تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں“ میں نے عرض کیا: سچ کہا آپ نے میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں، آپ میرے شریک تھے، تو آپ ایک بہترین شریک تھے،تو آپ نہ تو مخالفت کرتے نہ آپ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْمِرَاءِ؛جھگڑے اور فساد کی برائی کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٠،حدیث نمبر ٤٨٣٦)
یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے والد کا یہ کلام بیان کرتے ہیں: "جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بات چیت کر رہے ہوتے تھے تو اکثر اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ آسمان کی طرف ہوتی تھی۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب الْهَدْىِ فِي الْكَلاَمِ؛بات چیت کے آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٠،حدیث نمبر ٤٨٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں ٹھہراؤ ہوتا تھا۔ (یہاں ایک لفظ راوی نے مختلف بیان کیا ہے،لیکن مفہوم ایک ہی ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب الْهَدْىِ فِي الْكَلاَمِ؛ بات چیت کے آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٠،حدیث نمبر ٤٨٣٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام واضح ہوتا تھا جسے سننے والا ہر شخص سمجھ لیتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب الْهَدْىِ فِي الْكَلاَمِ؛ بات چیت کے آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٦١،حدیث نمبر ٤٨٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ کلام جس کی ابتداء الحمدللہ (اللہ کی تعریف) سے نہ ہو تو وہ ناقص و ناتمام ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس، عقیل، شعیب، اور سعید بن عبدالعزیز نے زہری سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب الْهَدْىِ فِي الْكَلاَمِ؛ بات چیت کے آداب کا بیان؛جلد٤،ص٢٦١،حدیث نمبر ٤٨٤٠)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ خطبہ جس میں تشہد کے کلمات نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے (یعنی وہ ناتمام اور ناقص ہے) یا اس ہاتھ کی طرح ہے جس میں جذام ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْخُطْبَةِ؛خطبہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٦١،حدیث نمبر ٤٨٤١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے پاس سے ایک بھکاری گزرا تو انہوں نے اس کو روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا، پھر ایک شخص کپڑوں میں ملبوس اور معقول صورت میں گزرا تو انہوں نے اسے بٹھایا اور (اسے کھانا پیش کیا) اور اس نے کھایا، لوگوں نے ان سے اس (امتیاز) کی بابت پوچھا تو وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھو۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ کی حدیث مختصر ہے، اور میمون نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي تَنْزِيلِ النَّاسِ مَنَازِلَهُمْ؛ہر آدمی کو اس کے مقام و مرتبہ پر رکھنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٦١،حدیث نمبر ٤٨٤٢)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالی کے اجلال میں یہ بات شامل ہے کہ بوڑھے مسلمان اور قرآن کے عالم کے عزت کی جائے، جو اس میں غلو اور تقصیر سے بچتا ہو،اور عادل حکمران کی عزت کی جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي تَنْزِيلِ النَّاسِ مَنَازِلَهُمْ؛ہر آدمی کو اس کے مقام و مرتبہ پر رکھنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٦١،حدیث نمبر ٤٨٤٣)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھا کرو البتہ ان کی اجازت سے(بیٹھا جا سکتا ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَجْلِسُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمَا؛ایک آدمی بلا اجازت دو آدمی کے درمیان بیٹھے تو کیسا ہے؛جلد٤،ص٢٦٢،حدیث نمبر ٤٨٤٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: آدمی کے لیے بات جائز نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان(بیٹھ کر)تفریق کر دے البتہ ان کی اجازت سے(ان کے درمیان بیٹھ سکتا ہے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَجْلِسُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمَا؛ایک آدمی بلا اجازت دو آدمی کے درمیان بیٹھے تو کیسا ہے؛جلد٤،ص٢٦٢،حدیث نمبر ٤٨٤٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کے ذریعے احتباء کر لیتے تھے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن ابراہیم نامی راوی بزرگ ہیں لیکن منکر الحدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي جُلُوسِ الرَّجُلِ؛آدمی کس طرح بیٹھے؟؛جلد٤،ص٢٦٢،حدیث نمبر ٤٨٤٦)
سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرفضاء کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے،وہ خاتون بیان کرتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے اتنی عاجزی و انکساری کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں خوف سے لرز گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي جُلُوسِ الرَّجُلِ؛آدمی کس طرح بیٹھے؟؛جلد٤،ص٢٦٢،حدیث نمبر ٤٨٤٧)
حضرت شرید بن سوید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے،تو میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف کر کے انگوٹھے کی طرف دباؤ ڈالا ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا تم ان لوگوں کی طرف بیٹھے ہو جن پر غضب نازل ہوا" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْجِلْسَةِ الْمَكْرُوهَة؛بیٹھنے کا ناپسندیدہ طریقہ؛جلد٤،ص٢٦٣،حدیث نمبر ٤٨٤٨)
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس(عشاء)سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے سے منع کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب النَّهْىِ عَنِ السَّمَرِ، بَعْدَ الْعِشَاءِ؛عشاء کے بعد بات چیت منع ہے؛جلد٤،ص٢٦٣،حدیث نمبر ٤٨٤٩)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز ادا کر لیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر چوکڑی مار کر بیٹھ جاتے تھے اور اس وقت تک بیٹھے رہتے تھے جب تک سورج اچھی طرح طلوع نہیں ہو جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَجْلِسُ مُتَرَبِّعًا؛ ادمی کا چوکڑی مار کر بیٹھنا؛جلد٤،ص٢٦٣،حدیث نمبر ٤٨٥٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "دو آدمی اپنے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات چیت نہ کرے کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کر دے گی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي التَّنَاجِي؛کانا پھوسی کرنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٦٣،حدیث نمبر ٤٨٥١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے۔ ابو صالح کہتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اگر چار آدمی ہو انہوں نے کہا تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي التَّنَاجِي؛کانا پھوسی کرنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٦٣،حدیث نمبر ٤٨٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں؛ جب کوئی شخص محفل سے اٹھ جائے اور پھر اس میں واپس آئے تو وہ(اس)جگہ کا زیادہ حقدار ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ؛دوبارہ مجلس میں آنے والا آدمی اپنی جگہ کا زیادہ مستحق ہے؛جلد٤،ص٢٦٤،حدیث نمبر ٤٨٥٣)
کعب ایادی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آتا جاتا تھا تو ابو الدرداء نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے۔جب کوئی شخص وہاں سے اٹھتا اور اس کا واپس آنے کا ارادہ ہوتا تو وہ اپنا جوتا یا اپنے جسم پر موجود کوئی چیز اتار کر(وہاں رکھ دیتا) جس سے اس کے ساتھی یہ جان لیتے تھے کہ وہ واپس آئے گا تو وہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ؛دوبارہ مجلس میں آنے والا آدمی اپنی جگہ کا زیادہ مستحق ہے؛جلد٤،ص٢٦٤،حدیث نمبر ٤٨٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب کچھ لوگ کسی محفل سے اللہ تعالی کا ذکر کیے بغیر اٹھ جائے تو وہ یوں اٹھتے ہیں جیسے مردار گدھے کے پاس سے اٹھتے ہوں اور(آخرت میں یہ محفل)ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلاَ يَذْكُرُ اللَّهَ؛ اس بات کا ناپسندیدہ ہونا کہ ادمی اپنی محفل سے اللہ تعالی کا ذکر کیے بغیر اٹھ جائے؛جلد٤،ص٢٦٤،حدیث نمبر ٤٨٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کسی جگہ پر بیٹھے اور وہاں اللہ تعالی کا ذکر نہ کرے تو اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لیے نقصان ہوگا اور جو شخص کسی جگہ لیٹے اور وہاں اللہ تعالی کا ذکر نہ کرے تو اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لیے نقصان ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلاَ يَذْكُرُ اللَّهَ؛ اس بات کا ناپسندیدہ ہونا کہ ادمی اپنی محفل سے اللہ تعالی کا ذکر کیے بغیر اٹھ جائے؛جلد٤،ص٢٦٤،حدیث نمبر ٤٨٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے (ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ ان کلمات کے ذریعے اس محفل کی نیکیوں یا اجر و ثواب پر یوں مہر لگا دی جائے گی جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں «سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”اے اللہ! تو پاک ہے،حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي كَفَّارَةِ الْمَجْلِسِ؛مجلس کے کفارہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٤،حدیث نمبر ٤٨٥٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي كَفَّارَةِ الْمَجْلِسِ؛مجلس کے کفارہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٥،حدیث نمبر ٤٨٥٨)
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ کفارہ ہے اس چیز کا جو مجلس میں ہو جاتی ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي كَفَّارَةِ الْمَجْلِسِ؛مجلس کے کفارہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٥،حدیث نمبر ٤٨٥٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے اصحاب کی طرف سے کوئی بات مجھ تک نہ پہنچے، کیونکہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب میں تمہاری طرف آؤں تو میرا سینہ صاف ہو۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي رَفْعِ الْحَدِيثِ مِنَ الْمَجْلِسِ؛ محفل میں شکایات کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٥،حدیث نمبر ٤٨٦٠)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، آپ مجھے کچھ مال دے کر ابوسفیان کے پاس بھیجنا چاہتے تھے، جو آپ فتح مکہ کے بعد قریش میں تقسیم فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”کوئی اور ساتھی تلاش کر لو“، تو میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارا ارادہ نکلنے کا ہے اور تمہیں ایک ساتھی کی تلاش ہے، میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کون؟“ میں نے کہا: عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا: ”جب تم اس کی قوم کے ملک میں پہنچو تو اس سے بچ کے رہنا اس لیے کہ کہنے والے نے کہا ہے کہ بکر قبیلے سے تعلق رکھنے والا تمہارا جو بھائی ہے تم اس سے محفوظ نہیں ہو (یعنی تم مجھ سے بات نہ کرنا)“، چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم ابواء میں پہنچے تو اس نے کہا: میں ودان میں اپنی قوم کے پاس ایک ضرورت کے تحت جانا چاہتا ہوں لہٰذا تم میرے لیے تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نے کہا: جاؤ راستہ نہ بھولنا، جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آئی، تو میں نے زور سے اپنے اونٹ کو بھگایا، اور تیزی سے دوڑاتا وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب مقام اصافر میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے روکنے آ رہا ہے میں نے اونٹ کو اور تیز کر دیا، اور میں اس سے بہت آگے نکل گیا، جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوں، تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور وہ میرے پاس آیا اور بولا، مجھے اپنی قوم میں ایک کام تھا، میں نے کہا: ٹھیک ہے اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کو دے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْحَذَرِ مِنَ النَّاسِ؛ لوگوں سے بچ کے رہنا؛جلد٤،ص٢٦٦،حدیث نمبر ٤٨٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ ڈسا نہیں جاتا"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْحَذَرِ مِنَ النَّاسِ؛ لوگوں سے بچ کے رہنا؛جلد٤،ص٢٦٦،حدیث نمبر ٤٨٦٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تھے تو آگے کی طرف ذرا جھک کر چلتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي هَدْىِ الرَّجْلِ؛ پیدل چلنے والے کی چال کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٦،حدیث نمبر ٤٨٦٣)
حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے، راوی بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا آپ نے انہیں کیسا دیکھا؟تو انہوں نے بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگت کے مالک دلکش شخص تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے تو یوں لگتا تھا جیسے بلندی سے نیچے کی طرف آرہے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي هَدْىِ الرَّجْلِ؛پیدل چلنے والے کی چال کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٦،حدیث نمبر ٤٨٦٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى؛ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھ کر لیٹنا منع ہے؛جلد٤،ص٢٦٧،حدیث نمبر ٤٨٦٥)
عباد بن تمیم اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چت لیٹے ہوئے دیکھا۔ قعنبی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں مسجد میں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى؛ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھ کر لیٹنا منع ہے؛جلد٤،ص٢٦٧،حدیث نمبر ٤٨٦٦)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے وہ ایسا کر لیتے تھے۔(یعنی لیٹنے کے دوران ایک ٹانگ دوسری پر رکھ لیتے تھے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الرَّجُلِ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى؛ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھ کر لیٹنا منع ہے؛جلد٤،ص٢٦٧،حدیث نمبر ٤٨٦٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب کوئی شخص کوئی بات کر رہا ہو اور وہ اِدھر اُدھر دیکھ رہا ہوں(کہ کہیں کوئی اور تو نہیں سن رہا ہے)تو وہ بات امانت ہوتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي نَقْلِ الْحَدِيثِ؛راز کی باتوں کو افشاء کرنے کی ممانعت؛جلد٤،ص٢٦٧،حدیث نمبر ٤٨٦٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مجالس امانت ہوتی ہے البتہ تین مجالس کا حکم مختلف ہے، وہ جس میں حرام طور پر خون بہانے کی بات ہو،یا جس میں حرام طور پر شرمگاہ(استعمال کرنے)کا ذکر ہو، یا جس میں ناحق طور پر کسی کا مال ہتھیانے کی بات ہو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي نَقْلِ الْحَدِيثِ؛راز کی باتوں کو افشاء کرنے کی ممانعت؛جلد٤،ص٢٦٨،حدیث نمبر ٤٨٦٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں سب سے بڑی امانت یہ ہوگی کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہو، اور وہ عورت اس کے ساتھ خلوت میں ہو اور پھر وہ اس عورت کے راز کو فاش کر دے۔" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي نَقْلِ الْحَدِيثِ؛راز کی باتوں کو افشاء کرنے کی ممانعت؛جلد٤،ص٢٦٨،حدیث نمبر ٤٨٧٠)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي الْقَتَّاتِ؛چغل خور کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٨،حدیث نمبر ٤٨٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "لوگوں میں سب سے برا وہ شخص ہے جو دوغلہ ہو جو اِس کے پاس اس منہ کے ساتھ آے اور اُس کے پاس اس منہ کے ساتھ جائے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي ذِي الْوَجْهَيْنِ؛دو رخے شخص کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٨،حدیث نمبر ٤٨٧٢)
حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے دنیا میں دو رخ ہوں گے(یعنی دوغلہ ہوگا)قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛باب فِي ذِي الْوَجْهَيْنِ؛دو رخے شخص کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٨،حدیث نمبر ٤٨٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو“ عرض کیا گیا: اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٩،حدیث نمبر ٤٨٧٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے لیے تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا(سے دور ہونے کے لیے) یہ،یہ چیز کافی ہے،دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ان کی مراد یہ تھی کہ ان کا قد چھوٹا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر میں ملا دیا جائے تو یہ اسے بھی کڑوا کر دے“ اور میں نے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اگرچہ میرے لیے اتنا اور اتنا (مال) ہو“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٩،حدیث نمبر ٤٨٧٥)
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ آدمی کسی کی عزت کے ساتھ ناحق طور پر کھیلے" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٩،حدیث نمبر ٤٨٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق طور پر کسی مسلمان کی عزت کے در پے ہو،اور کبیرہ گناہوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک گالی کے بدلے میں دو گالیاں دی جائیں" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٩،حدیث نمبر ٤٨٧٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے، اس میں حضرت انس موجود نہیں ہیں۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٦٩،حدیث نمبر ٤٨٧٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہیں۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٠،حدیث نمبر ٤٨٧٩)
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اے لوگوں کے گروہ!جو اپنی زبان کے ذریعے ایمان لے آئے، لیکن ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوا، تم لوگ ان کی غیبت نہ کرو اور ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو، کیونکہ جو شخص ان کے پوشیدہ معاملات کے پیچھے جائے گا اللہ تعالی اس کے پوشیدہ معاملات کو ظاہر کر دے گا،اور جس شخص کے پوشیدہ معاملات کی اللہ تعالی تحقیق کرے گا اللہ تعالی اس کے گھر میں موجود ہونے کے باوجود اسے رسوا کر دے گا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٠،حدیث نمبر ٤٨٨٠)
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص کسی مسلمان کی وجہ سے ایک لقمہ کھائے(یعنی اس کی غیبت کرے)تو اللہ تعالی اسے اس کی مانند جہنم میں سے کھلائے گا، اور جس شخص کو کسی مسلمان کی جانب سے کپڑا پہنایا جائے(یعنی کسی مسلمان کو غیبت کرنے یا برائی کرنے کی وجہ سے ایسا کیا جائے)تو اللہ تعالی اسے جہنم میں اس کی مانند پہنائے گا اور جو شخص کسی شخص کی وجہ سے کسی مقام پر کھڑا ہو جو دکھاوے اور ریاکاری کا مقام ہو تو اللہ تعالی قیامت کے دن اسے شہرت اور ریاکاری کے مقام پر کھڑا کرے گا( یعنی اس کو دیے جانے والے عذاب کی شہرت ہوگی) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٠،حدیث نمبر ٤٨٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر مال، اس کی عزت اور اس کا خون حرام ہے۔ آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛آداب و اخلاق کا بیان؛ باب فِي الْغِيبَةِ؛غیبت کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٠،حدیث نمبر ٤٨٨٢)
حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا“ اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا جب تک وہ اپنی کہی ہوئی بات(کے عذاب) سے نکل نہیں آتا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَنْ رَدَّ عَنْ مُسْلِمٍ، غِيبَةً؛ ادمی کا اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرنا؛جلد٤،ص٢٧٠،حدیث نمبر ٤٨٨٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص کسی مسلمان کو کسی ایسی جگہ پر بے یار و مددگار چھوڑ دے جہاں اسے بے عزت کیا جا رہا ہو،تو اللہ تعالی اس شخص کو ایسی جگہ پر بےیار و مددگار چھوڑے گا جہاں وہ اس بات کا خواہش مند ہوگا کہ اس کی مدد کی جائے،اور جو شخص کسی مسلمان کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا جہاں اس سے بے عزت کیا جا رہا ہو تو اللہ تعالی اس شخص کی ایسی جگہ مدد کرے گا کہ جہاں وہ چاہے گا کہ اس کی مدد کی جائے۔ یحیی بن سلیم(کے والد سلیم)حضرت زید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، اسماعیل بن بشیر بنو مغالہ کے آزاد کردہ غلام تھے اور ایک روایت میں عقبہ کے بجائے عتبہ نقل کیا گیا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَنْ رَدَّ عَنْ مُسْلِمٍ، غِيبَةً؛ ادمی کا اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرنا؛جلد٤،ص٢٧١،حدیث نمبر ٤٨٨٤)
ابوعبداللہ جشمی کہتے ہیں کہ ہم سے حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اس نے اپنی سواری بٹھائی پھر اسے باندھا، اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے اس نے کھولا پھر اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کر (یعنی کسی اور پر رحم نہ فرما) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کیا کہتے ہو؟ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور سنا ہے“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. باب مَنْ لَيْسَتْ لَهُ غِيبَةٌ؛اس شخص کا بیان جس کی غیبت غیبت کے حکم میں نہیں ہے؛جلد٤،ص٢٧١،حدیث نمبر ٤٨٨٥)
قتادہ بیان کرتے ہیں کیا کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابو ضیغم کی طرح ہو جائے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)ابو ضمضم کی طرح ہو جائے یہ شک ابو عبید راوی کو ہے۔وہ شخص صبح کے وقت یہ دعا کرتا تھا: "اے اللہ!میں نے اپنی عزت تیرے بندوں پر صدقہ کر دی(یعنی جس نے میری غیبت کی میں اسے معاف کرتا ہوں)" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُحِلُّ الرَّجُلَ قَدِ اغْتَابَهُ؛اس شخص کا ذکر جس نے غیبت کرنے والے کو معاف کر دیا؛جلد٤،ص٢٧٢،حدیث نمبر ٤٨٨٦)
عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو“ لوگوں نے عرض کیا: ابوضمضم کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا“ پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( «عرضي على عبادك») کے بجائے ( «عرضي لمن شتمني») (میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں: ہم سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُحِلُّ الرَّجُلَ قَدِ اغْتَابَهُ؛اس شخص کا ذکر جس نے غیبت کرنے والے کو معاف کر دیا؛جلد٤،ص٢٧٢،حدیث نمبر ٤٨٨٧)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو۔ ابو الدرداء کہتے ہیں: یہ وہ کلمہ ہے جسے حضرت معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ التَّجَسُّسِ؛کسی کی ٹوہ لینے کی ممانعت؛جلد٤،ص٢٧٢،حدیث نمبر ٤٨٨٨)
حضرت عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ، حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک امیر غلط الزامات کی وجہ سے لوگوں کے بارے میں شک و شبہ کا شکار ہوگا تو انہیں خراب کر دے گا" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ التَّجَسُّسِ؛کسی کی ٹوہ لینے کی ممانعت؛جلد٤،ص٢٧٢،حدیث نمبر ٤٨٨٩)
زید بن وہب بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا اور کہا گیا یہ فلاں شخص ہے جس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رہے تھے،تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں ٹوہ لگانے سے منع کیا گیا ہے،البتہ جو چیز ہمارے سامنے ظاہر ہوگی ہم اس کا مواخذہ کریں گے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ التَّجَسُّسِ؛کسی کی ٹوہ لینے کی ممانعت؛جلد٤،ص٢٧٢،حدیث نمبر ٤٨٩٠)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص کسی کی پوشیدہ چیز دیکھے اور اس پر پردہ ڈال دے تو وہ اس شخص کی مانند ہوگا جس نے زندہ دفن کرنے والی لڑکی کو بچا لیا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي السَّتْرِ عَنِ الْمُسْلِمِ؛مسلمان کے عیب کو چھپانا بہتر ہے؛جلد٤،ص٢٧٣،حدیث نمبر ٤٨٩١)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی (سکریٹری) دخین کہتے ہیں کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے تھے، میں نے انہیں منع کیا تو وہ باز نہیں آئے، چنانچہ میں نے عقبہ بن عامر سے کہا کہ ہمارے یہ پڑوسی شراب پیتے ہیں، ہم نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہیں آئے، لہٰذا اب میں ان کے لیے کوتوال کو بلاؤں گا، تو انہوں نے کہا: انہیں چھوڑ دو، پھر میں دوبارہ عقبہ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے ان سے کہا: میرے پڑوسیوں نے شراب پینے سے باز آنے سے انکار کر دیا ہے، اور اب میں ان کے لیے کوتوال بلانے والا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، انہیں چھوڑ دو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ... پھر انہوں نے مسلم جیسی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہاشم بن قاسم نے کہا کہ اس حدیث میں لیث سے اس طرح روایت ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہا: ”ایسا نہ کرو بلکہ انہیں نصیحت کرو اور انہیں دھمکاؤ“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي السَّتْرِ عَنِ الْمُسْلِمِ؛مسلمان کے عیب کو چھپانا بہتر ہے؛جلد٤،ص٢٧٣،حدیث نمبر ٤٨٩٢)
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا وہ اسے اس کے حال پر نہیں چھوڑتا،جو شخص کسی بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اللہ تعالی اس کی حاجت پوری کرتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان سے تکلیف کو دور کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی تکلیف کو دور کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب الْمُؤَاخَاةِ؛بھائی چارے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٣،حدیث نمبر ٤٨٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "گالی گلوچ کرنے والے دو افراد جو کچھ بھی کہتے ہیں تو اس کا وبال ان میں سے پہل کرنے والے شخص پر ہوتا ہے،جب تک مظلوم زیادتی نہیں کرتا" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب الْمُسْتَبَّانِ؛باہم گالی گلوچ کرنے والوں کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٤،حدیث نمبر ٤٨٩٤)
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللہ تعالی نے میری طرف یہ وحی بھیجی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو،جب تک کوئی شخص کسی دوسرے پر ظلم نہیں کرتا اور کوئی شخص کسی دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار نہیں کرتا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فی التواضع؛جلد٤،ص٢٧٤،حدیث نمبر ٤٨٩٥)
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہ کرآپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لے لیا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آ پڑا پھر جب شیطان آ پڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فی الانتصار؛بدلہ لینا؛جلد٤،ص٢٧٤،حدیث نمبر ٤٨٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا کہنا شروع کیا(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ اسی طرح منقول ہے جس طرح سفیان نے نقل کی ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فی الانتصار؛بدلہ لینا؛جلد٤،ص٢٧٤،حدیث نمبر ٤٨٩٧)
عبداللہ بن عون کہتے ہیں میں بدلہ لینے کے بارے میں دریافت کرتا رہا(جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے:) "اور بے شک جس نے اپنی مظلو می پر بدلہ لیا اُن پر کچھ مواخذہ کی راہ نہیں ۔"(سورہ شوریٰ، آیت نمبر ٤١) علی بن زید نے ام محمد کے حوالے سے جو ان کے والد کی بیوی تھی یہ بات نقل کی لوگ یہ بات بیان کرتے ہیں وہ خاتون ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئی اس خاتون نے یہ الفاظ نقل کئےہیں: ام المؤمنین نے کہا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہمارے پاس حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے مبارک ہاتھ سے چھونا چاہا تو میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتا دیا کہ زینب بنت جحش بیٹھی ہوئی ہیں، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا: ”تم بھی انہیں کہو“، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آ گئیں، تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا، علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں، اور کہا عائشہ نے تم لوگوں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہی ہیں اور یہ کچھ کہا ہے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ظاہر ہوئیں اور آپ کو اس کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فی الانتصار؛بدلہ لینا؛جلد٤،ص٢٧٤،حدیث نمبر ٤٨٩٨)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے تو اسے چھوڑ دو اور اس کے عیب بیان نہ کرو۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى؛مرحومین کو برا بھلا کہنا منع ہے؛جلد٤،ص٢٧٥،حدیث نمبر ٤٨٩٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اپنے مرحومین کی اچھی باتوں کا ذکر کرو اور ان کی(برائیاں ذکر کرنے سے)بازآجاؤ" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى؛مرحومین کو برا بھلا کہنا منع ہے؛جلد٤،ص٢٧٥،حدیث نمبر ٤٩٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بنی اسرائیل میں دو شخص ایک دوسرے کے بھائی بنے ہوئے تھے، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا“ اور دوسرا عبادت میں کوشاں رہتا تھا، عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا: باز رہ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا: باز رہ اس نے کہا: تم میرے اور میرے پروردگار کے معاملے کو ہمارے درمیان رہنے دو،کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا، پھر ان کی روحیں قبض کر لی گئیں تو وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھا ہوئے، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا:کیا تم میرے ارادے کے بارے میں علم رکھتے تھے یا تم میری قدرت میں دخل رکھتے تھے؟اور گنہگار سے کہا: جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جا، اور دوسرے کے متعلق کہا: اسے جہنم میں لے جاؤ۔ حضرت بوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کر دی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْبَغْىِ؛سرکشی کی ممانعت؛جلد٤،ص٢٧٥،حدیث نمبر ٤٩٠١)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کوئی بھی گناہ اس لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالی اس کو کرنے والے کو جلدی سزا دے دے نیز آخرت میں بھی اس کے لیے سزا تیار رکھے،جو گناہ سرکشی کرنے اور قطع رحمی کرنے کی مانند ہو۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْبَغْىِ؛جلد٤،ص٢٧٦،حدیث نمبر ٤٩٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو یوں کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)گھاس کو کھا جاتی ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْحَسَدِ؛حسد کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٦،حدیث نمبر ٤٩٠٣)
سہل بن ابو امامہ کا بیان ہے کہ وہ اور ان کے والد حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے، مدینے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو دیکھا، وہ ہلکی یا مختصر نماز پڑھ رہے ہیں، جیسے وہ مسافر کی نماز ہو یا اس سے قریب تر کوئی نماز، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ بتائیے کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ کوئی نفلی نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، اور جب بھی مجھ سے کوئی بھول کر غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کر لیتا ہوں، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اپنے آپ پر شدت نہ کرو ورنہ تم پر شدت کی جائے گی، کچھ لوگوں نے اپنے اوپر شدت کی تو اللہ تعالی نے بھی ان پر شدت کو مسلط کر دیا، تو ان کی باقیات جنگلوں میں، عبادت خانوں اور گرجا گھروں میں محفوظ ہیں، یہ وہ رہبانیت ہے جس کا انہوں نے خود اغاز کیا تھا ہم نے ان پر لازم نہیں کی تھی۔ پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی تو کہا: کیا تم سواری نہیں کرتے یعنی سفر نہیں کرتے کہ دیکھو اور نصیحت حاصل کرو، انہوں نے کہا: ہاں (کرتے ہیں) پھر وہ سب سوار ہوئے تو جب وہ اچانک کچھ ایسے گھروں کے پاس پہنچے، جہاں کے لوگ ہلاک اور فنا ہو کر ختم ہو چکے تھے، اور گھر چھتوں کے بل گرے ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان گھروں کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: مجھے کس نے ان کے اور ان کے لوگوں کے بارے میں بتایا؟ (یعنی میں نہیں جانتا) تو حضرت انس نے کہا: یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جنہیں ان کے ظلم اور حسد نے ہلاک کر دیا، بیشک حسد نیکیوں کے نور کو ختم کر دیتا ہے اور ظلم اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب اور آنکھ زنا کرتی ہے اور ہتھیلی، قدم، جسم،زبان اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْحَسَدِ؛حسد کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٦،حدیث نمبر ٤٩٠٤)
حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے، تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے، تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے، تو اس کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی، اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: مروان بن محمد کہتے ہیں اس راوی کا نام رباح بن ولید ہے، انہوں نے اس سے سما کیا ہے، انہوں نے یہ بات کی ہے یحیی بن حسان نامی راوی اس کا ذکر کرتے ہوئے وہم کا شکار ہوئے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي اللَّعْنِ؛لعنت کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٧،حدیث نمبر ٤٩٠٥)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اللہ تعالی کی لعنت(کا نام لے کر)لعنت نہ کرو اور اللہ تعالی کے غضب اور جہنم(کا نام لے کر بددعا نہ کرو) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي اللَّعْنِ؛لعنت کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٧،حدیث نمبر ٤٩٠٦)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "لعنت کرنے والے لوگ سفارشی یا گواہ نہیں ہوں گے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي اللَّعْنِ؛لعنت کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٧،حدیث نمبر ٤٩٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک شخص نے ہوا پر لعنت بھیجی۔ مسلم نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:ایک شخص کی چادر ہوا کی وجہ سے اڑ گئی،یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بات ہے،اس شخص نے ہوا پر لعنت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس پہ لعنت نہ کرو، کیونکہ یہ حکم کی پابند ہے، جو شخص کسی چیز پر لعنت کرتا ہے اور وہ چیز اس کی اہل نہ ہو تو وہ لعنت اس شخص پہ لوٹ آتی ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي اللَّعْنِ؛لعنت کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٧٨،حدیث نمبر ٤٩٠٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے ان کی کوئی چیز چوری ہو گئی،تو انہوں نے اس کے لیے بددعا کرنا شروع کر دی،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "تم اس کی سزا کو ہلکا نہ کرو۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِيمَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَ؛ظالم کو بددعا دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٧٨،حدیث نمبر ٤٩٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو، کسی بھی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لا تعلق رہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ؛مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٧٨،حدیث نمبر ٤٩١٠)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "کسی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہے، جب ان کی ملاقات ہو تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے، ان دونوں میں سے زیادہ بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ؛مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٧٨،حدیث نمبر ٤٩١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ؛مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٧٩،حدیث نمبر ٤٩١٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "مسلمان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ لا تعلق رکھے،جب وہ اس سے ملے تو اسے تین مرتبہ سلام کرے اگر وہ ہر مرتبہ اس کا جواب نہیں دیتا تو اس کا گناہ اس کے سر ہوگا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ؛مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٧٩،حدیث نمبر ٤٩١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " کسی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لا تعلقی اختیار کرے،جو شخص تین دن سے زیادہ لا تعلقی اختیار کرتے ہوئے انتقال کر جائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ؛مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٧٩،حدیث نمبر ٤٩١٤)
حضرت ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص ایک سال تک اپنے بھائی سے لا تعلقی رکھے تو یہ اس کا خون بہانے کے مترادف ہے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ؛مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٧٩،حدیث نمبر ٤٩١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان ناراضگی چل رہی ہو، پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں (کی مغفرت) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کر لیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات سے چالیس دن تک لاتعلقی رکھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لیے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ؛مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٧٩،حدیث نمبر ٤٩١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تم لوگ گمان کرنے سے بچو کیونکہ گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور تم ٹوہ نہ لگاؤ اور جاسوسی نہ کرو۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الظَّنِّ؛بدظنی اور بدگمانی کی ممانعت؛جلد٤،ص٢٨٠،حدیث نمبر ٤٩١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے، ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے مال کا بچاؤ کرتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرتا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّصِيحَةِ وَالْحِيَاطَةِ؛خلوص و خیر خواہی کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٠،حدیث نمبر ٤٩١٨)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "کیا میں تمہیں اس عمل کے بارے میں بتاؤں؟جو روزہ رکھنے، نماز ادا کرنے اور صدقہ کرنے سے زیادہ فضیلت والا درجہ ہے،لوگوں نے عرض کی: جی ہاں!یا رسول اللہ!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " آپس میں بہتری پیدا کرنا آپس میں فساد،خراب کر دینے والی چیز ہے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي إِصْلاَحِ ذَاتِ الْبَيْنِ؛میل جول اور مصالحت کرانے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٠،حدیث نمبر ٤٩١٩)
حمید بن عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے کوئی غلط بیانی کرتا ہے۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے: ”جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي إِصْلاَحِ ذَاتِ الْبَيْنِ؛میل جول اور مصالحت کرانے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٠،حدیث نمبر ٤٩٢٠)
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي إِصْلاَحِ ذَاتِ الْبَيْنِ؛میل جول اور مصالحت کرانے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨١،حدیث نمبر ٤٩٢١)
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری رخصتی والے دن کی صبح میرے ہاں تشریف لائے اور میرے بستر پر اسی طرح تشریف فرما ہوئے جیسے تم بیٹھے ہو، پھر (انصار کی) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوہ بدر کی شہید ہونے والے آباء و اجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْغِنَاءِ؛ گانے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٨١،حدیث نمبر ٤٩٢٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر حبشیوں نے اپنے ہتھیاروں کے ذریعے جنگی کرتب دکھائے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْغِنَاءِ؛ گانے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٨١،حدیث نمبر ٤٩٢٣)
نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک بانسری کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے امام ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَرَاهِيَةِ الْغِنَاءِ وَالزَّمْرِ؛ گانے اور آلات موسیقی کا ناپسندیدہ ہونا؛جلد٤،ص٢٨١،حدیث نمبر ٤٩٢٤)
نافع بیان کرتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عمر کے پیچھے سواری پر سوار تھا، اسی دوران ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا،جو بانسری بجا رہا تھا۔(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: مطعم اور نافع کے درمیان سلیمان بن موسی نامی راوی کا ذکر کیا گیا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَرَاهِيَةِ الْغِنَاءِ وَالزَّمْرِ؛ گانے اور آلات موسیقی کا ناپسندیدہ ہونا؛جلد٤،ص٢٨٢،حدیث نمبر ٤٩٢٥)
نافع بیان کرتے ہیں ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے بانسری بجانے والے کی اواز سنی،(اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) امام ابو داؤ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ روایت زیادہ منکر ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَرَاهِيَةِ الْغِنَاءِ وَالزَّمْرِ؛ گانے اور آلات موسیقی کا ناپسندیدہ ہونا؛جلد٤،ص٢٨٢،حدیث نمبر ٤٩٢٦)
سلام بن مسکین ایک عمر رسید شخص سے روایت کرتے ہیں جو ابووائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگ گئے، تو ابووائل نے اپنی کمر پر بندھے ہوئے کپڑے کو کھولا اور بولے: میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَرَاهِيَةِ الْغِنَاءِ وَالزَّمْرِ؛ گانے اور آلات موسیقی کا ناپسندیدہ ہونا؛جلد٤،ص٢٨٢،حدیث نمبر ٤٩٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا کیا معاملہ ہے ؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کر دیں؟، آپ نے فرمایا: ”مجھے نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے“ نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع (مدینہ کا قبرستان) نہیں ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي الْحُكْمِ فِي الْمُخَنَّثِينَ؛ہجڑوں کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٢،حدیث نمبر ٤٩٢٨)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتاؤں گا، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اپنے گھروں سے نکال دو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «تقبل بأربع» کا مطلب ہے وہ عورت ایسی تھی کہ اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے تھے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي الْحُكْمِ فِي الْمُخَنَّثِينَ؛ہجڑوں کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٣،حدیث نمبر ٤٩٢٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجڑے بننے والے مردوں پر اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ان لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دو تم فلاں کو اور فلاں کو نکال دو یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجڑوں کے بارے میں یہ بات بیان فرمائی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي الْحُكْمِ فِي الْمُخَنَّثِينَ؛ہجڑوں کے حکم کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٣،حدیث نمبر ٤٩٣٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں گڑیا کے ساتھ کھیلا کرتی تھی، بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لاتے تو میری سہیلیاں میرے پاس ہوتی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ چلی جاتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جاتے تو وہ آجایا کرتی تھیں۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي اللَّعِبِ بِالْبَنَاتِ؛گڑیوں سے کھیلنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٣،حدیث نمبر ٤٩٣١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: ”اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟“ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: ”گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ مجھے آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي اللَّعِبِ بِالْبَنَاتِ؛گڑیوں سے کھیلنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٣،حدیث نمبر ٤٩٣٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جب شادی کی، میں چھ یا سات سال کی تھی، پھر جب ہم مدینہ آئے، تو کچھ عورتیں آئیں، بشر کی روایت میں ہے: پھر میرے پاس (میری والدہ) ام رومان آئیں، اس وقت میں ایک جھولہ پر تھی، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے سنوارا سجایا پھر میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رخصتی ہوگئی، اس وقت میں نو سال کی تھی وہ مجھے لے کر دروازے پر کھڑی ہوئیں، میں نے کہا: «هيه هيه» ۔ (ابوداؤد کہتے ہیں: «هيه هيه» کا مطلب ہے کہ انہوں نے زور زور سے سانس کھینچی)، عائشہ کہتی ہیں: پھر میں ایک کمرے میں لائی گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں (پہلے سے بیٹھی ہوئی) ہیں، انہوں نے «على الخير والبركة» کہہ کر مجھے دعا دی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الأُرْجُوحَةِ؛جھولے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٤،حدیث نمبر ٤٩٣٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: آنے والی بھلائی کے ساتھ(اپ کی رخصتی ہو)سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے مجھے ان خواتین کے سپرد کیا تو انہوں نے میرا سر دھویا مجھے تیار کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت تشریف لائے اور ان خواتین نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الأُرْجُوحَةِ؛جھولے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٤،حدیث نمبر ٤٩٣٤)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو خواتین میرے پاس آئیں میں اس وقت جھولے پر کھیل رہی تھی،میرے بال کانوں سے نیچے تک تھے،وہ مجھے لے گئیں،انہوں نے مجھے تیار کیا،بنایا سوارا پھر وہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور میرے رخصتی ہو گئی اس وقت میری عمر نو سال تھی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الأُرْجُوحَةِ؛جھولے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٤،حدیث نمبر ٤٩٣٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: میں جھولے میں تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھی،ان خواتین نے مجھے میرے گھر میں داخل کیا وہاں کچھ انصاری خواتین بھی موجود تھی انہوں نے کہا بھلائی اور برکت کے ساتھ(آپ کی شادی ہو) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الأُرْجُوحَةِ؛جھولے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٤،حدیث نمبر ٤٩٣٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو ہم نے بنو حارث بن خزرج کے محلے میں پڑاؤ کیا،آپ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم میں اس وقت کھجور کی دو لکڑیوں کے درمیان لگے ہوئے جھولے میں موجود تھی،جب میری والدہ میرے پاس آئیں، انہوں نے مجھے اس سے اتارا اور میرے بال چھوٹے چھوٹے تھے(اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث بیان کی ہے) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الأُرْجُوحَةِ؛جھولے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٥،حدیث نمبر ٤٩٣٧)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص چوسر کھیلتا ہے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ اللَّعِبِ، بِالنَّرْدِ؛چوسر کھیلنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٥،حدیث نمبر ٤٩٣٨)
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص جوسر کھیلتا ہے وہ اپنے ساتھ گویا خنزیر کے گوشت اور خون سے لت پت کر لیتا ہے"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ اللَّعِبِ، بِالنَّرْدِ؛چوسر کھیلنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٥،حدیث نمبر ٤٩٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو کبوتر کے پیچھے جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"شیطان' شیطانہ کے پیچھے جا رہا ہے"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ اللَّعِبِ، بِالنَّرْدِ؛چوسر کھیلنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٥،حدیث نمبر ٤٩٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے: "رحم کرنے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے،تم اہل زمین پر رحم کرو، وہ ذات تم پر رحم کرے گی، جو آسمان میں ہے۔ مسدد نامی راوی نے اس روایت میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے غلام کا ذکر نہیں کیا انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرَّحْمَةِ؛رحمت و شفقت اور مہربانی کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٥،حدیث نمبر ٤٩٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے اس حجرے والی ہستی حضرت ابو القاسم صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "رحمت صرف بدبخت سے الگ ہوتی ہے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرَّحْمَةِ؛رحمت و شفقت اور مہربانی کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٦،حدیث نمبر ٤٩٤٢)
ایک اور سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے: جو شخص ہمارے چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے حق کو پہچانتا نہیں وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرَّحْمَةِ؛رحمت و شفقت اور مہربانی کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٦،حدیث نمبر ٤٩٤٣)
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً، دین خیر خواہی کا نام ہے“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مومنوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے یا کہا مسلمانوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّصِيحَةِ؛نصیحت و خیر خواہی کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٦،حدیث نمبر ٤٩٤٤)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری پر بیعت کی، اور یہ کہ میں ہر مسلمان کا خیرخواہ ہوں گا، راوی کہتے ہیں: وہ (یعنی جریر) جب کوئی چیز بیچتے یا خریدتے تو فرما دیتے: ہم جو چیز تم سے لے رہے ہیں، وہ ہمیں زیادہ محبوب و پسند ہے اس چیز کے مقابلے میں جو ہم تمہیں دے رہے ہیں، اب تم چاہو بیچو یا نہ بیچو، خریدو یا نہ خریدو۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي النَّصِيحَةِ؛نصیحت و خیر خواہی کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٦،حدیث نمبر ٤٩٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:عثمان نامی راوی نے ابو معاویہ سے روایت نقل کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:" جو شخص کسی تنگدست کو آسانی فراہم کرے گا۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْمَعُونَةِ لِلْمُسْلِمِ؛مسلمان کو مدد دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٧،حدیث نمبر ٤٩٤٦)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: "ہر نیکی صدقہ ہے"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْمَعُونَةِ لِلْمُسْلِمِ؛مسلمان کو مدد دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٧،حدیث نمبر ٤٩٤٧)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم لوگوں کو قیامت کے دن تمہارے ناموں اور تمہارے آباؤ و اجداد کے ناموں سے پکارا جائے گا،تو تم لوگ اپنے نام اچھے رکھو۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ابن ابو زکریا نامی راوی نے حضرت ابو درداء کا زمانہ نہیں پایا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ؛نام بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٧،حدیث نمبر ٤٩٤٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "اللہ تعالی کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ؛نام بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٧،حدیث نمبر ٤٩٤٩)
حضرت ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں یہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "انبیاء کے ناموں پر نام رکھو اللہ کے نزدیک سب سے پیارا نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہے اور سب سے زیادہ سچے نام حارث اور ہمام ہے اور سب سے زیادہ برے نام حرب اور مرہ ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ؛نام بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٧،حدیث نمبر ٤٩٥٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابو طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے، اور اپنے ایک اونٹ کو کچھ کھلا رہے تھے، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: ہاں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کھجوریں پکڑائیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے“ اور آپ نے اس لڑکے کا نام ”عبداللہ“ رکھا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ؛نام بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٨،حدیث نمبر ٤٩٥١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسیہ(نامی خاتون)کا نام تبدیل کر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جمیلہ ہو۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٨،حدیث نمبر ٤٩٥٢)
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟ کہا: میں نے اس کا نام ”برہ“ رکھا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے ”برہ“ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر (میرے گھر والوں میں سے) کسی نے پوچھا: تو ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا: ”زینب“ رکھ دو۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٨،حدیث نمبر ٤٩٥٣)
حضرت اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص کا نام اصرم تھا وہ کچھ لوگوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کی!میرا نام اصرم(کاٹنے والا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی نہیں تم زرعہ(کاشتکاری کرنے والے ہو) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٨،حدیث نمبر ٤٩٥٤)
حضرت ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا: ”حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟“ انہوں نے کہا: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں“ آپ نے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ”شریح“ آپ نے فرمایا: تو تم ”ابوشریح ہو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی سرنگ کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٩،حدیث نمبر ٤٩٥٥)
سعید بن مسیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ کہا:"حزن" آپ نے فرمایا: ”تم سہل ہو، انہوں نے کہا: نہیں، سہل روندا جاتا ہے اور کمتر کیا جاتا ہے، سعید کہتے ہیں: تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی (اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا)۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاص (گنہگار) عزیز (غالب )، عتلہ (سختی) شیطان، حکم (ثالث)، غراب (کوے کو کہتے ہیں)، حباب (سانپ ) اور شہاب (شعلہ ) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا، اور حرب (جنگ) کے بدلے سلم (امن) رکھا، مضطجع (لیٹنے والا) کے بدلے منبعث (اٹھنے والا) رکھا، اور جس زمین کا نام عفرۃ (بنجر اور غیر آباد) تھا، اس کا خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھا، شعب الضلالۃ (گمراہی کی گھاٹی) کا نام شعب الہدی (ہدایت کی گھاٹی) رکھا، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٩،حدیث نمبر ٤٩٥٦)
مسروق بیان کرتے ہیں میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا انہوں نے دریافت کیا تم کون ہو؟میں نے عرض کی مسروق بن اجدع تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اجدع شیطان(کا نام)ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٨٩،حدیث نمبر ٤٩٥٧)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم اپنے بچے کا نام یسار،رواح، نجیح یا افلح نہ رکھو کیونکہ اگر تم نے دریافت کیا کیا وہ یہاں ہے تو جواب دے گا، جی نہیں! راوی بیان کرتے ہیں یہ چار نام ہیں تم مزید میری طرف کوئی بات منسوب نہ کرنا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٠،حدیث نمبر ٤٩٥٨)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم اپنے کسی غلام کا نام ان چار میں سے کوئی رکھیں، افلح، یسار، نافع اور رباح۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٠،حدیث نمبر ٤٩٥٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا،(اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں (سفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، (تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے)۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں ”برکت“ کا ذکر نہیں ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٠،حدیث نمبر ٤٩٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ناپسندیدہ نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہو گا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے «أخنع اسم» کے بجائے «أخنى اسم» کہا ہے، (جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں)۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ؛برے نام کو بدل دینے کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٠،حدیث نمبر ٤٩٦١)
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی:(ترجمہ)”ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو، ایمان کے بعد فسق بری چیز ہے“ (الحجرات: ۱۱) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا:“ اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الأَلْقَاب؛القاب کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٠،حدیث نمبر ٤٩٦٢)
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب ذنب بخش دئیے گئے تھے، لیکن ہم تو عام سے لوگ ہیں۔ چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِيمَنْ يَتَكَنَّى بِأَبِي عِيسَى؛ابوعیسیٰ کنیت رکھنا کیسا ہے؟ ؛جلد٤،ص٢٩١،حدیث نمبر ٤٩٦٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:"اے میرے بیٹے"! امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں میں یحییٰ بن معین کو محمد بن محبوب نامی راوی کی تعریف کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے تھے کہ یہ صاحب، علم حدیث کے بڑے ماہر تھے(یا بکثرت احادیث روایت کرتے تھے) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِبْنِ غَيْرِهِ يَا بُنَىَّ؛دوسرے کے بیٹے کو اے میرے بیٹے کہنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٩١،حدیث نمبر ٤٩٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے (یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو)۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَتَكَنَّى بِأَبِي الْقَاسِمِ؛آدمی اپنی کنیت ابوالقاسم رکھے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٩٢،حدیث نمبر ٤٩٦٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَنْ رَأَى أَنْ لاَ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا؛محمد نام اور ابوالقاسم کنیت ایک ساتھ نہ رکھے اس کے قائلین کی دلیل؛جلد٤،ص٢٩٢،حدیث نمبر ٤٩٦٦)
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ ابوبکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے، میں نے کہا، انہوں نے یہ بیان کیا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي الْجَمْعِ بَيْنَهُمَا؛محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٢،حدیث نمبر ٤٩٦٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: " وہ کیا چیز ہے جس نے میرے نام کو حلال قرار دے دیا اور میری کنیت کو حرام قرار دے دیا یا جس نے میری کنیت کو حرام قرار دے دیا اور میرے نام کو حلال قرار دے دیا“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي الْجَمْعِ بَيْنَهُمَا؛محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٢،حدیث نمبر ٤٩٦٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی، تو آپ نے فرمایا: ”اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر (چڑیا) کو؟“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَكَنَّى وَلَيْسَ لَهُ وَلَدٌ؛آدمی کنیت رکھے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٩٣،حدیث نمبر ٤٩٦٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو“ مسدد کی روایت میں (عبداللہ کے بجائے) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں: چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْمَرْأَةِ تُكْنَى؛عورت کی کنیت رکھنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٩٣،حدیث نمبر ٤٩٧٠)
حضرت سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "یہ بڑی خیانت ہوگی کہ تم اپنے بھائی سے کوئی ایسی بات کرو جس میں وہ تمہاری تصدیق کر رہا ہو لیکن تم غلط بیانی کر رہے ہو"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْمَعَارِيضِ؛ذو معنیٰ بات کرنا؛جلد٤،ص٢٩٣،حدیث نمبر ٤٩٧١)
ابو قلابہ بیان کرتے ہیں:حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبداللہ (حذیفہ) رضی اللہ عنہ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا تم نے «زعموا» کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «زعموا» (لوگوں نے گمان کیا) آدمی کی بہت بری سواری ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ابو عبداللہ نامی راوی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب قَوْلِ الرَّجُلِ زَعَمُوا؛آدمی کا «زعموا» (لوگوں کا ایسا گمان ہے) کہنا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٢٩٤،حدیث نمبر ٤٩٧٢)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اما بعد۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ " أَمَّا بَعْدُ "؛خطبہ میں «أما بعد» کہنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٤،حدیث نمبر ٤٩٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "کوئی بھی شخص(انگور کو)"کرم"ہرگز نہ کہے،کیونکہ"کرم"مسلمان شخص ہوتا ہے بلکہ تم لوگ یہ کہو انگوروں کے باغات" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْكَرْمِ وَحِفْظِ الْمَنْطِقِ؛انگور کو «كرم» کہنے اور غیر مناسب الفاظ بولنے سے بچنے کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٤،حدیث نمبر ٤٩٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی (اپنے غلام یا لونڈی کو) «عبدي» (میرا بندہ) اور «أمتي» (میری بندی) نہ کہے اور نہ کوئی غلام یا لونڈی (اپنے آقا کو) «ربي» (میرے مالک) اور «ربتي» (میری مالکن) کہے بلکہ مالک یوں کہے: میرے جوان! یا میری جوان! اور غلام اور لونڈی یوں کہیں: «سيدي» (میرے آقا) اور «سيدتي» (میری مالکن) اس لیے کہ تم سب مملوک ہو اور رب صرف اللہ ہے“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يَقُولُ الْمَمْلُوكُ " رَبِّي وَرَبَّتِي "؛غلام یا لونڈی اپنے آقا یا مالکن کے لیے «رب» کا لفظ استعمال نہ کریں؛جلد٤،ص٢٩٤،حدیث نمبر ٤٩٧٥)
یہی روایت ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تاہم اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہے(یعنی یہ موقوف روایت ہے) اور اس میں یہ الفاظ ہیں:(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) "اسے یہ کہنا چاہیے میرا سردار اور میرا آقا"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يَقُولُ الْمَمْلُوكُ " رَبِّي وَرَبَّتِي "؛غلام یا لونڈی اپنے آقا یا مالکن کے لیے «رب» کا لفظ استعمال نہ کریں؛جلد٤،ص٢٩٥،حدیث نمبر ٤٩٧٦)
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "کسی منافق کو سید نہ کہو،کیونکہ اگر وہ سید ہوا تو تم اپنے پروردگار کو ناراض کر دو گے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يَقُولُ الْمَمْلُوكُ " رَبِّي وَرَبَّتِي "؛غلام یا لونڈی اپنے آقا یا مالکن کے لیے «رب» کا لفظ استعمال نہ کریں؛جلد٤،ص٢٩٥،حدیث نمبر ٤٩٧٧)
ابو امامہ بن سہل اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے میرا نفس خبیث ہو گیا ہے،بلکہ اسے یہ کہنا چاہیے میرا نفس تھکاوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِي؛میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٥،حدیث نمبر ٤٩٧٨)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے: "کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے میرا نفس جوش مارتا ہے بلکہ اسے یہ کہنا چاہیے میرا نفس پریشان ہے"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِي؛میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٥،حدیث نمبر ٤٩٧٩)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم لوگ یہ نہ کہو: جو اللہ چاہے اور جو فلاں چاہے،بلکہ تم یہ کہو جو اللہ چاہے اور پھر جو فلاں چاہے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِي؛میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٥،حدیث نمبر ٤٩٨٠)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ایک خطیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں خطبہ دیتے ہوئے کہا: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پا گیا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی(راوی کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اٹھ جاؤ(راوی کو شک ہے،شاید یہ الفاظ ہیں)تم چلے جاؤ،تم برے خطیب ہو۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِي؛میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٥،حدیث نمبر ٤٩٨١)
ابوالملیح ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، تو اس سواری کو ٹھوکر لگی، تو میرے منہ سے نکلا: شیطان برباد ہو جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم یہ نہ کہو، شیطان برباد ہو جائے، کیونکہ جب تم یہ کلمہ کہو گے: تو وہ پھولتا جائے گا اور گھر کی مانند ہو جائے گا، اور وہ یہ کہے گا: میری قوت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے، بلکہ تمہیں یہ کہنا چاہیے میں اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتا ہوں کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو وہ چھوٹا ہونا شروع ہو جائے گا یہاں تک کہ مکھی کی مانند ہو جائے گا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِي؛میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٦،حدیث نمبر ٤٩٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب تم سنو(راوی کو شک ہے،شاید یہ الفاظ ہیں)جب کوئی شخص یہ کہے: لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے، تو وہ شخص سب سے زیادہ ہلاکت کا شکار ہوگا۔" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمت اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے:جب کوئی شخص لوگوں میں دین کے معاملے میں کمزوری دیکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہے تو میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب وہ خود پسندی کی بنا پر یا لوگوں کو کمتر سمجھتے ہوئے ایسا کہے تو وہ یہ ناپسندیدہ صورت ہوگی جس سے منع کیا گیا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب لاَ يُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِي؛میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٦،حدیث نمبر ٤٩٨٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تمہاری نماز کے نام کے حوالے سے دیہاتی لوگ ان پر غالب نہ آ جائیں،یہ عشاء کی نماز ہے کیونکہ وہ لوگ اونٹوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں(اس لیے اسے اندھیرے کی نماز کہتے ہیں) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي صَلاَةِ الْعَتَمَةِ؛اندھیرے کی نماز؛جلد٤،ص٢٩٦،حدیث نمبر ٤٩٨٤)
سالم بن ابو جعد ایک شخص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں اس کا تعلق خزاعہ قبیلے سے تھا،اس شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا، اس پر لوگوں نے اس کی بات پر اعتراض کیا، تو اس نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے "اے بلال!تم نماز کے لیے اقامت کہو اور اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي صَلاَةِ الْعَتَمَةِ؛اندھیرے کی نماز؛جلد٤،ص٢٩٦،حدیث نمبر ٤٩٨٥)
محمد بن حنفیہ کے صاحبزادے عبداللہ بیان کرتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ ان کے سسرالی عزیزوں کے پاس گیا، جن کا تعلق انصار سے تھا، وہ ان کے ہاں کسی کی عیادت کے لیے گئے تھے، نماز کا وقت ہو گیا تو گھر والوں سے(یا اپنی بیوی سے)کہا اے لڑکی! میرے لیے وضو کا پانی لے آؤ تاکہ میں نماز ادا کر کے راحت حاصل کروں۔ راوی کہتے ہیں ہم نے ان کی اس بات پر اعتراض کیا تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " اے بلال! تم اٹھو اور نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي صَلاَةِ الْعَتَمَةِ؛اندھیرے کی نماز؛جلد٤،ص٢٩٦،حدیث نمبر ٤٩٨٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے: "میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز کی(کسی چیز کی طرف نسبت کرتے ہوئے نہیں سنا)مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دین کی طرف نسبت کرتے تھے"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي صَلاَةِ الْعَتَمَةِ؛اندھیرے کی نماز؛جلد٤،ص٢٩٧،حدیث نمبر ٤٩٨٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں افواہ پھیل گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں کوئی چیز نظر نہیں آئی (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ہم نے کوئی پریشانی کی چیز نہیں دیکھی اور ہم نے اسے(گھوڑے کو)سمندر پایا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا رُوِيَ فِي التَّرْخِيصِ، فِي ذَلِكَ؛ اس بارے میں جو رخصت روایت کی گئی ہے؛جلد٤،ص٢٩٧،حدیث نمبر ٤٩٨٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے، اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور سچ بولنے کو لازم کر لو اس لیے کہ سچ بھلائی اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، آدمی سچ بولتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ؛جھوٹ بولنے کی شدید مذمت؛جلد٤،ص٢٩٧،حدیث نمبر ٤٩٨٩)
بھز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: " اس شخص کے لیے بربادی ہے جو بات کرتے ہوئے صرف اس لیے جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، اس شخص کے لیے بربادی ہے، اس شخص کے لیے بربادی ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ؛جھوٹ بولنے کی شدید مذمت؛جلد٤،ص٢٩٧،حدیث نمبر ٤٩٩٠)بھز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: " اس شخص کے لیے بربادی ہے جو بات کرتے ہوئے صرف اس لیے جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، اس شخص کے لیے بربادی ہے، اس شخص کے لیے بربادی ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ؛جھوٹ بولنے کی شدید مذمت؛جلد٤،ص٢٩٧،حدیث نمبر ٤٩٩٠)
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر بیٹھے ہوئے تھے، وہ بولیں: سنو یہاں آؤ، میں تمہیں کچھ دوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ وہ بولیں، میں اسے کھجور دوں گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: سنو، اگر تم اسے کوئی چیز نہیں دیتیں،تو تمہارا جھوٹ نوٹ کیا جاتا۔ (معلوم ہوا کہ جب ماں کے لئے بچہ کو اپنی کسی ضرورت کے لئے جھوٹ بول کر پکارنا صحیح نہیں تو بھلا کسی بڑے کے ساتھ جھوٹی بات کیونکر کی جاسکتی ہے، گویا ازراہ ہنسی ہی کیوں نہ ہو وہ حرام ہے۔) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ؛جھوٹ بولنے کی شدید مذمت؛جلد٤،ص٢٩٨،حدیث نمبر ٤٩٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حفص نے حضرت ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صرف اسی شیخ یعنی علی بن حفص المدائنی نے ہی مسند کیا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ؛جھوٹ بولنے کی شدید مذمت؛جلد٤،ص٢٩٨،حدیث نمبر ٤٩٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اچھا گمان رکھنا عبادت کے حسن کا حصہ ہے۔" امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں مہنہ نامی راوی ثقہ ہے اور بصرہ کا رہنے والا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي حُسْنِ الظَّنِّ؛حسن ظن کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٨،حدیث نمبر ٤٩٩٣)
ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا: ”تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں“ ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کے رسول! (یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں) آپ نے فرمایا: ”شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون (رگوں میں) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا: کوئی بری بات نہ ڈال دے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي حُسْنِ الظَّنِّ؛حسن ظن کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٨،حدیث نمبر ٤٩٩٤)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب کوئی شخص اپنے بھائی کے ساتھ کوئی وعدہ کرے،اور اس کی نیت ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا اور پھر وہ اسے پورا نہ کر سکے اور طے شدہ مدت میں نہ آئے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْعِدَةِ؛وعدہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٩،حدیث نمبر ٤٩٩٥)
حضرت عبداللہ بن ابو حمساء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، پھر مجھے تین (دن) کے بعد یاد آیا تو میں آیا، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا: ”اے جوان! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں“۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: محمد بن یحی نامی راوی کہتے ہیں ہمارے نزدیک یہ راوی عبدالکریم بن عبداللہ بن شقیق ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں مجھ تک یہ روایت بھی پہنچی ہے بشر بن سری نے یہ روایت عبدالکریم بن عبداللہ بن شقیق سے نقل کی ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْعِدَةِ؛وعدہ کا بیان؛جلد٤،ص٢٩٩،حدیث نمبر ٤٩٩٦)
حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: ”جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب فِي الْمُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَ؛ جو خود کو،کسی ایسی چیز کے ذریعے سیر ظاہر کرے جو اسے نہ دی گئی ہو؛جلد٤،ص٢٩٩،حدیث نمبر ٤٩٩٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ!مجھے سواری کے لیے کچھ دیجئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تمہیں سواری کے لیے اونٹ کا بچہ دیں گے، اس نے عرض کی: اونٹنی کے بچے کے ساتھ میں کیا کروں گا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ کو اونٹنی ہی جنم دیتی ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ؛ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٠،حدیث نمبر ٤٩٩٨)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے: سنو! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا“ پھر حضرت ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے (یعنی ان کے گھر نہیں گئے) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے: آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کر لیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ؛ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٠،حدیث نمبر ٤٩٩٩)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ تبوک کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اندر آجاؤ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!کیا پورا(اندر آجاؤں؟)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پورا (اندر آجاؤ)تو میں اندر آگیا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ؛ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٠،حدیث نمبر ٥٠٠٠)
ایک روایت میں یہ الفاظ ہے: خیمہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے انہوں نے یہ کہا تھا کہ کیا میں پورا اندر آجاؤں؟ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ؛ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان؛جلد٤،ص٣٠١،حدیث نمبر ٥٠٠١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:"اے دو کانوں والے" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ؛ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان؛جلد٤،ص٣٠١،حدیث نمبر ٥٠٠٢)
حضرت یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا سامان (بلا اجازت) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی سنجیدگی میں“۔ سلیمان کی روایت میں ( «لاعبا ولا جادا"» کے بجائے) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَنْ يَأْخُذُ الشَّىْءَ عَلَى الْمِزَاحِ؛ہنسی مذاق میں کوئی کسی کی چیز لے لے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٠١،حدیث نمبر ٥٠٠٣)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ گھبرا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَنْ يَأْخُذُ الشَّىْءَ عَلَى الْمِزَاحِ؛ہنسی مذاق میں کوئی کسی کی چیز لے لے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٠١،حدیث نمبر ٥٠٠٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "بے شک اللہ تعالی ایسے شخص سے ناراض ہوتا ہے جو بلاغت کے ساتھ گفتگو کرتا ہے کہ اپنی زبان کو موڑ لیتا ہے، جس طرح گائے اپنی زبان کو موڑ لیتی ہے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَنْ يَأْخُذُ الشَّىْءَ عَلَى الْمِزَاحِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَدِّقِ فِي الْكَلاَمِ؛تکلف کے ساتھ بات چیت کرنا؛جلد٤،ص٣٠١،حدیث نمبر ٥٠٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص اس لیے گفتگو کا فن سیکھے تاکہ اس کے ذریعے مردوں(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)لوگوں کے دل قید کر لے،قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَنْ يَأْخُذُ الشَّىْءَ عَلَى الْمِزَاحِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَدِّقِ فِي الْكَلاَمِ؛تکلف کے ساتھ بات چیت کرنا؛جلد٤،ص٣٠٢،حدیث نمبر ٥٠٠٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مشرق کی طرف سے دو آدمی آئے انہوں نے خطاب کیا تو لوگوں کو ان کا بیان بہت پسند آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بعض بیان جادو ہوتے ہیں" (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) "بیانوں میں سے بعض جادو ہوتے ہیں۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَنْ يَأْخُذُ الشَّىْءَ عَلَى الْمِزَاحِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَدِّقِ فِي الْكَلاَمِ؛تکلف کے ساتھ بات چیت کرنا؛جلد٤،ص٣٠٢،حدیث نمبر ٥٠٠٧)
ابو ظہبہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے طویل گفتگو کی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر یہ اپنے کلام میں میانہ روی اختیار کرتا تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میری یہ رائے ہے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)مجھے اس بات کا حکم دیا گیا کہ میں میانہ گفتگو کروں کیونکہ میانہ روی، بھلائی ہوتی ہے۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَنْ يَأْخُذُ الشَّىْءَ عَلَى الْمِزَاحِ؛باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَدِّقِ فِي الْكَلاَمِ؛تکلف کے ساتھ بات چیت کرنا؛جلد٤،ص٣٠٢،حدیث نمبر ٥٠٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کا مطلب (شعر سے پیٹ بھرنے کی) یہ ہے کہ اس کا ذہن بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم غائب ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے (اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات (تعریف میں) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کر دیا“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ؛شعر کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٢،حدیث نمبر ٥٠٠٩)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بعض شعر' حکمت ہوتے ہیں"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ؛شعر کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٣،حدیث نمبر ٥٠١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور گفتگو کرنے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض شعر حکمت آموز ہوتے ہیں۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ؛شعر کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٣،حدیث نمبر ٥٠١١)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں (یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے)، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں“۔ تو صعصہ بن صوحان بولے: اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل (پیش کرنے) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چنانچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ کا قول ”بعض علم جہل ہوتا ہے“ تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چنانچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول ”بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں“ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ ”بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ؛شعر کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٣،حدیث نمبر ٥٠١٢)
سعید بیان کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو مسجد میں شعر سنا رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھور کر دیکھا تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس مسجد میں اس وقت بھی شعر سنایا کرتا تھا جب یہاں وہ صاحب موجود ہوتے تھے جو آپ سے بہتر تھے۔(یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں میں ایسا کرتا تھا۔) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ؛شعر کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٣،حدیث نمبر ٥٠١٣)
سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں: جس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تو حضرت عمر کو یہ اندیشہ ہوا کہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حضرت حسان پر الزام عائد نہ کر دے تو انہوں نے اس کی اجازت دے دی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ؛شعر کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٣،حدیث نمبر ٥٠١٤)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں ممبر رکھواتے تھے وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کو ہجو کیا کرتے تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلاف بولتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'بے شک روح القدر اس وقت تک حسان کے ساتھ ہوتا ہے جب تک یہ اللہ کے رسول کی طرف سے جواب دیتا رہتا ہے" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ؛شعر کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٣،حدیث نمبر ٥٠١٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:(ارشاد باری تعالی ہے) (ترجمہ)"شاعروں کی پیروی بھٹکے ہوئے لوگ کرتے ہیں"(الشعراء :٢٢٤) تو اللہ تعالی نے اس حکم کو منسوخ قرار دیا اور اس میں اس بات کا استثنی کر لیا،اللہ تعالی نے فرمایا:(ترجمہ) "سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے انہوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ تعالی کا بکثرت ذکر کیا"(الشعراء :٢٢٧) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ؛شعر کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٤،حدیث نمبر ٥٠١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے،تو دریافت کرتے؟گزشتہ رات تم لوگوں نے کوئی خواب دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد نبوت میں سے سچے خوابوں کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں رہ گئی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٤،حدیث نمبر ٥٠١٧)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مومن کا خواب نبوت کا 46 واں حصہ ہے"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٤،حدیث نمبر ٥٠١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ(قیامت کے)قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ فرماتے ہیں(یا محمد بن سیرین کہتے ہیں)میں قید (پیر میں بیڑی پہننے) کو (خواب میں) پسند کرتا ہوں اور غل (گردن میں طوق) کو ناپسند کرتا ہوں اور قید (پیر میں بیڑی ہونے) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ”جب زمانہ قریب ہو جائے گا“ کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہو جائیں۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٤،حدیث نمبر ٥٠١٩)
حضرت ابورزین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "خواب کی جب تک تعبیر بیان نہ کی جائے اس وقت تک وہ پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے، جب اس کی تعبیر بیان کر دی جائے تو وہ واقع ہو جاتا ہے،راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ شاید یہ الفاظ بھی ہیں: تم اسے کسی مخلص شخص کے سامنے یا صاحب علم شخص کے سامنے بیان کرو" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٥،حدیث نمبر ٥٠٢٠)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "اچھے خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، جو شخص کوئی ناپسندیدہ چیز(خواب میں)دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے اور پھر اس خواب کے شر سے پناہ مانگ لے تو خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٥،حدیث نمبر ٥٠٢١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب کوئی شخص کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اسے اپنے بائیں طرف تھوک دینا چاہیے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے ایسا تین مرتبہ کرنا چاہیے اور پھر جس پہلو کے بل وہ لیٹا ہوا تھا اسے تبدیل کر کے(سو جانا چاہیے) (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٥،حدیث نمبر ٥٠٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب بیداری کے عالم میں مجھے دیکھ لے گا(راوی کو شک ہے،شاید یہ الفاظ ہے) گویا کہ اس نے مجھے بیداری کے عالم میں دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٥،حدیث نمبر ٥٠٢٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے (اللہ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا“۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٦،حدیث نمبر ٥٠٢٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم لوگ عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں اور ہمارے پاس ابن طاب مخصوص قسم کی کھجور لائی گئی ہے، میں نے اس کی یہ تعبیر نکالی ہے کہ دنیا میں ہمیں سربلندی حاصل ہوگی، اور آخرت میں اچھا انجام ہوگا اور ہمارا دین بہترین ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الرُّؤْيَا؛خواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٦،حدیث نمبر ٥٠٢٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسی شخص کو جماہی آئے تو اپنے منہ کو بند کر لے، کیونکہ شیطان(منہ کے ذریعے اندر) داخل ہو جاتا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ؛جمائی لینے کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٦،حدیث نمبر ٥٠٢٦)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں جب نماز کے دوران(جمائی آجائے)آدمی سے جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ؛جمائی لینے کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٦،حدیث نمبر ٥٠٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک اللہ تعالی چھینک کو پسند کرتا ہے اور جماہی کو ناپسند کرتا ہے،جب کسی شخص کو جماہی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکنے کی کوشش کرے اور ہاہ ہاہ نہ کہے، کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان اس پر ہنستا ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ باب مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ؛جمائی لینے کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٦،حدیث نمبر ٥٠٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے تھے اور اس کی آواز کو پست رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْعُطَاسِ؛چھینک کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٧،حدیث نمبر ٥٠٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہےٌ مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کے حوالے پانچ چیزیں لازم ہے، سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، بیمار کے عیادت کرنا اور جنازے میں جانا۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِي الْعُطَاسِ؛چھینک کا بیان؛جلد٤،ص٣٠٧،حدیث نمبر ٥٠٣٠)
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» (تم پر سلامتی ہو) تو سالم نے کہا: «عليك وعلى أمك» (تم پر بھی اور تمہاری ماں پر بھی) پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: شاید جو بات میں نے تم سے کہی تمہیں ناگوار لگی، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے، نہ خیر کے ساتھ نہ شر کے ساتھ، وہ بولے، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اسی دوران کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك وعلى أمك»، پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد الله» کہے اللہ کی تعریف کرے پھر راوی نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا (جو چھینک آنے والا کہے) اور چاہیئے کہ وہ جو اس کے پاس ہو «يرحمك الله» (اللہ تم پر رحم کرے) کہے، اور چاہیئے کہ وہ (چھینکنے والا) ان کو پھر جواب دے، «يغفر الله لنا ولكم» (اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے)۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَيْفَ تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کا جواب کیسے دے؟؛جلد٤،ص٣٠٧،حدیث نمبر ٥٠٣١)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سالم بن عبید کے حوالے سے منقول ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَيْفَ تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کا جواب کیسے دے؟؛جلد٤،ص٣٠٧،حدیث نمبر ٥٠٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ یہ پڑھے: " ہر حال میں ہر طرح کی حمد'اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے" تو اس کے بھائی(راوی کو شک ہے،شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے ساتھی کو یہ الفاظ کہنے چاہیے: اللہ تعالی تم پر رحم کرے"ماور وہ جسے چھینک آئی تھے) اسے یہ کہنا چاہیے: "اللہ تعالی تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات درست رکھیں" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَيْفَ تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ؛چھینکنے والے کا جواب کیسے دے؟؛جلد٤،ص٣٠٧،حدیث نمبر ٥٠٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں تم تین مرتبہ اپنے بھائی کو چھینک کا جواب دو اس کے بعد(جو چھینک آئے گی)وہ زکام ہوگی۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ؛چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟؛جلد٤،ص٣٠٨،حدیث نمبر ٥٠٣٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے،راوی کہتے ہیں:میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر وہ روایت نقل کی ہے۔ یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ؛چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟؛جلد٤،ص٣٠٨،حدیث نمبر ٥٠٣٥)
حمیدہ راوی(کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)عبیدہ بنت عبید بن رفاعہ زرقی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے: " تم چھینکنے والے کو تین مرتبہ جواب دو ،پھر اگر تم چھینک کا جواب دینا چاہو تو اسے جواب دو،اگر چاہو، تو اس سے رک جاؤ۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ؛چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟؛جلد٤،ص٣٠٨،حدیث نمبر ٥٠٣٦)
ایاس بن سلمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک ماری، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اللہ تعالی تم پر رحم کرے، اس نے پھر چھینک ماری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو زکام ہے۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ؛چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟؛جلد٤،ص٣٠٨،حدیث نمبر ٥٠٣٧)
حضرت ابوبردہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس امید کے تحت چھینک مار دیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ فرمائیں گے:"اللہ تعالی تم لوگوں پر رحم کرے" لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے:" اللہ تعالی تمہیں ہدایت نصیب کرے اور تمہارے احوال کو ٹھیک کرے"۔ (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب كَيْفَ يُشَمَّتُ الذِّمِّيُّ؛ذمی کی چھینک کا جواب کیسے دیا جائے؟؛جلد٤،ص٣٠٨،حدیث نمبر ٥٠٣٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں نے چھینک ماری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو چھینک کا جواب دیا دوسرے کو نہیں دیا، تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ!دو آدمیوں نے چھینک ماری، آپ نے ایک کو جواب دیا،(یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)اور دوسرے کو نہیں دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالی کی حمد بیان کی تھی اور اس(دوسرے نے)اللہ تعالی کی حمد بیان نہیں کی۔" (ابی داؤد؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب فِيمَنْ يَعْطُسُ وَلاَ يَحْمَدُ اللَّهَ؛چھینکنے والا «الحمد الله» نہ کہے تو اس کا جواب دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٠٩،حدیث نمبر ٥٠٣٩)
Abu Dawood Shareef : Adab Ka Bayan
|
Abu Dawood Shareef : کتاب الادب
|
•