
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو“ تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ“ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ“ تو وہ تھوڑا سا حیس لے کر آئیں،"قطاۃ" پرندے کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں پینے کے لیے کچھ دو“ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم لوگوں سے) فرمایا: ”تم لوگ چاہو (ادھر ہی) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ“ وہ کہتے ہیں: تو میں (مسجد میں) صبح کے قریب اوندھا (پیٹ کے بل) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے حرکت دی،تو وہ شخص یہ کہ رہا تھا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے (آنکھ کھول کر) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَنْبَطِحُ عَلَى بَطْنِهِ؛آدمی پیٹ کے بل لیٹے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٠٩،حدیث نمبر ٥٠٤٠)
عبدالرحمن بن علی بن شیبان اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص کسی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر نہ ہو(یعنی منڈیر نہ ہو)تو وہ شخص ذمے سے بری ہو جاتا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي النَّوْمِ عَلَى سَطْحٍ غَيْرِ مُحَجَّرٍ؛بغیر چہار دیواری کی چھت پر سوئے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣١٠،حدیث نمبر ٥٠٤١)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے باوضو سوتا ہے پھر رات میں (کسی بھی وقت) اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے“۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: ہمارے پاس ابوظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: فلاں شخص نے کہا کہ میں نے اپنی نیند سے بیدار ہوتے وقت کئی بار اس کلمہ کے ادا کرنے کی کوشش کی مگر میں کامیاب نہ ہو سکا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي النَّوْمِ عَلَى طَهَارَةٍ؛باوضو سونے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٣١٠،حدیث نمبر ٥٠٤٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں: رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے آپ نے قضائے حاجت ادا کی، آپ نے چہرے اور دونوں بازوں کو دھویا اور پھر سو گئے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے پہلے پیشاب کیا تھا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي النَّوْمِ عَلَى طَهَارَةٍ؛باوضو سونے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٣١٠،حدیث نمبر ٥٠٤٣)
ابو قلابہ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کسی شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر تقریبا اتنا ہوتا تھا جتنا کسی شخص کے لیے اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے ہوتی تھی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب کیف یتوجہ؛آدمی کس طرف رخ کرے؟ ؛جلد٤،ص٣١٠،حدیث نمبر ٥٠٤٤)
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دایاں دست مبارک اپنے رخسار کے نیچے رکھتے پھر یہ پڑھتے تھے۔ "اے اللہ!اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو زندہ کرے گا"اپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتے تھے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٠،حدیث نمبر ٥٠٤٥)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ (یعنی سونے چلو) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم (یہ دعا پڑھ کر) انتقال کر گئے تو فطرت (یعنی دین اسلام) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو“ براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے (یاد کرتے ہوئے) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں بلکہ «وبنبيك الذي أرسلت» (جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو)“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١١،حدیث نمبر ٥٠٤٦)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:"جب تم بستر پر آؤ تو باوضو ہو اور اپنے دائیں ہاتھ کو تکیہ بنا لو(یا دائیں پہلو کے بل لیٹو)۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١١،حدیث نمبر ٥٠٤٧)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تاہم ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:" جب تم باوضو ہو کر اپنے بستر پر آؤ" اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: "تم نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١١،حدیث نمبر ٥٠٤٨)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب سونے لگتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: " اے اللہ!میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے زندہ ہوتا ہوں اور مرتا ہوں" جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوتے تھے،تو یہ پڑھتے تھے:"ہر طرح کے حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی عطا کی اور اسی کی طرف لوٹنا ہے"۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١١،حدیث نمبر ٥٠٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کیا چیز آئی تھی، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٢،حدیث نمبر ٥٠٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! یہ آسمانوں کے پروردگار، اے زمین کے پروردگار، اے ہر چیز کے پروردگار،اے دانے اور گٹھلی کو چیر دینے والے، اے توریت، انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے، ہر شر والی چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے، تو ایسا پہلا ہے کہ تجھ سے پہلے کوئی اور نہیں،تو ایسا آخری ہے کہ تیرے بعد کوئی اور نہیں ہوگا، تو ایسا ظاہر ہے کہ تیرے اوپر کوئی اور نہیں تو ایسا باطن ہے کہ تیری نیچے کوئی اور نہیں ہے“ وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ: تو میرا قرض اتار دے اور مجھے محتاجی سے بے نیاز کردے"۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٢،حدیث نمبر ٥٠٥١)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت یہ کلمات پڑھتے تھے: "اے اللہ!میں تیری معزز ذات اور تیرے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جس کی پیشانی کو تو نے پکڑا ہوا ہے، یہ اللہ قرض اور گناہ کو تو ہی ختم کر سکتا ہے،اے اللہ تیرے لشکر کو پسپا نہیں کیا جا سکتا، تیرے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی مالدار شخص کا مال اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا، تو پاک ہے اور ہر طرح کی حمد تیرے لیے مخصوص ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٢،حدیث نمبر ٥٠٥٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: "ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں کھلایا، جس نے ہمیں پلایا، جس نے ہماری کفایت کی، جس نے ہمیں پناہ دی، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کفایت کرنے والا اور انہیں پناہ دینے والا کوئی نہیں ہے؟" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٢،حدیث نمبر ٥٠٥٣)
حضرت ابو ازہر انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب بستر پر جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: اللہ تعالی کے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں اپنا(بدن)بستر پر رکھتا ہوں، اے اللہ!میرے ذنب کی مغفرت کر دے اور میرے شیطان کو دور کر دے میرے نفس کو اگ کے(عذاب)سے آزاد کر دے اور مجھے بلند محفل والوں میں شامل کر دے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ روایت ابو ہمام اھوازی نے ثور کے حوالے سے نقل کی ہے، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں حضرت ابو زہیر انماری۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٤،حدیث نمبر ٥٠٥٤)
فروہ بن نوفل اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نوفل سے فرمایا تم سورہ کافرون کی تلاوت کر کے اس پر اپنی بات چیت ختم کر کے سویا کرو، کیونکہ یہ شرک سے بری الذمہ ہونے کا اظہار ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٤،حدیث نمبر ٥٠٥٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو روزانہ جب اپنے بستر پر جاتے تھے تو دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان پر پھونک مارتے تھے اور یہ پڑھ کر پھونک مارتے تھے، سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں کو اپنے جسم پر جہاں تک ہو سکتا تھا پھیرتے تھے، سر اور چہرے سے آغاز کرتے تھے اور پھر جسم کے سامنے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے تھے ایسا اپ تین مرتبہ کرتے تھے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٤،حدیث نمبر ٥٠٥٦)
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات کی تلاوت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے،ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٤،حدیث نمبر ٥٠٥٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر آتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے: "ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے، جس نے میری کفایت کی، مجھے پناہ دی، جس نے مجھے کھلایا، پلایا اور جس نے مجھ پر احسان کیا اور سب سے بہترین احسان کیا اور جس نے مجھے عطا کیا اور بھرپور عطا کیا، ہر حالت میں ہر طرح کے حمد اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے، اے اللہ!یہ ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک اے ہر چیز کے معبود!میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص بستر پر لیٹے اور اس پر اللہ کا نام نہ لے، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی اور جو شخص کسی جگہ پر بیٹھے اور وہاں پر اللہ تعالی کا ذکر نہ کرے تو وہ محفل قیامت کے دن اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ما یقال عند النوم؛سوتے وقت کیا پڑھا جائے؟؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٥٩)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات کے وقت بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے (ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ؛نیند سے بیدار ہونے پر آدمی کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٦٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: "تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں، تو ہر عیب سے پاک ہے، اے اللہ!میں اپنے گناہوں کی تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری رحمت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ!میرے علم میں اضافہ کر دے اور جب تو نے مجھے ہدایت دیدی ہے تو اس کے بعد میرے دل کو گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنی بارگاہ سے رحمت عطا کرنا بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ؛نیند سے بیدار ہونے پر آدمی کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٦١)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چکی پیسنے سے اپنے ہاتھ میں پہنچنے والی تکلیف کی شکایت لے کر گئیں، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو وہ آپ کے پاس لونڈی مانگنے آئیں، لیکن آپ نہ ملے تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر چلی آئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا (کہ حضرت فاطمہ آئی تھیں ایک خادمہ مانگ رہی تھیں) یہ سن کر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کے لیے اپنی خواب گاہ میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا: ”اپنی اپنی جگہ پر رہو (اٹھنا ضروری نہیں)“ چنانچہ آپ آ کر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے، جب تم سونے چلو تو (۳۳) بار سبحان اللہ کہو، (۳۳) بار الحمدللہ کہو، اور (۳۴) بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٦٢)
ابوورد بن ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابن اعبد سے کہا: کیا میں تم سے اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متعلق واقعہ نہ بیان کروں،حضرت فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں اور میری زوجیت میں تھیں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان پڑ گئے، مشکیں بھرتے بھرتے ان کے سینے میں نشان پڑ گئے، گھر کی صفائی کرتے کرتے ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے، کھانا پکاتے پکاتے کپڑے کالے ہو گئے، اس سے انہیں نقصان پہنچا (صحت متاثر ہوئی) پھر ہم نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈیاں لائی گئی ہیں، تو میں نے فاطمہ سے کہا: اگر تم اپنے والد کے پاس جاتیں اور ان سے خادم مانگتیں تو تمہاری ضرورت پوری ہو جاتی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، لیکن وہاں لوگوں کو آپ کے پاس بیٹھے باتیں کرتے ہوئے پایا تو شرم سے بات نہ کہہ سکیں اور لوٹ آئیں، دوسرے دن صبح آپ خود ہمارے پاس تشریف لے آئے (اس وقت) ہم اپنے لحافوں میں تھے، آپ فاطمہ کے سر کے پاس بیٹھ گئے، فاطمہ نے والد سے شرم کھا کر اپنا سر لحاف میں چھپا لیا، آپ نے پوچھا: کل تم محمد کے اہل و عیال کے پاس کس ضرورت سے آئی تھیں؟ فاطمہ دو بار سن کر چپ رہیں تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں: انہوں نے میرے یہاں رہ کر اتنا چکی پیسی کہ ان کے ہاتھ میں نشان پڑ گیا، مشک ڈھو ڈھو کر لاتی رہیں یہاں تک کہ سینے پر اس کے نشان پڑ گئے، انہوں نے گھر کے جھاڑو دیئے یہاں تک کہ ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے، ہانڈیاں پکائیں، یہاں تک کہ کپڑے کالے ہو گئے، اور مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے پاس غلام اور لونڈیاں آئیں ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جا کر اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیں، پھر راوی نے حکم والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور پوری ذکر کی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٦٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں، جس میں یہ الفاظ ہیں؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی میں نے جب سے یہ کلمات سنے ہیں اس کے بعد میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا، البتہ صفین کی رات یہ مجھ سے رہ گئے تھے، رات کے آخری حصے میں یہ مجھے یاد آئے تو میں نے پڑھ لی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جو کوئی مسلم بندہ پابندی سے انہیں (برابر) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں (۱) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» اور دس بار «الحمد الله» اور دس بار «الله اكبر» کہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں ایک سو پچاس بار ہوئے، اور قیامت میں میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، (کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے) اور سونے کے وقت چونتیس بار «الله اكبر»، تینتیس بار «الحمد الله»، تینتیس بار «سبحان الله» کہنا، اس طرح یہ زبان سے کہنے میں سو بار ہوئے اور میزان میں یہ ہزار بار ہوں گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ (کی انگلیوں) میں اسے شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ دونوں کام تو آسان ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے کیسے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: (اس طرح کہ) تم میں کوئی شخص سونے کے لئے جاتا ہے تو شیطان اس کے پاس آجاتا ہے، اور ان کلمات کے کہنے سے پہلے ہی اسے سلا دے گا، ایسے ہی شیطان تمہارے نماز پڑھنے والے کے پاس نماز کی حالت میں آئے گا، اور ان کلمات کے ادا کرنے سے پہلے اسے اس کا کوئی (ضروری) کام یاد دلا دے گا، (اور وہ ان تسبیحات کو ادا کئے بغیر اٹھ کر چل دے گا)۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان؛جلد٤،ص٣١٦،حدیث نمبر ٥٠٦٥)
حضرت زبیر کی بیٹیوں ام الحکم یا ضباعہ میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم جس محنت و مشقت سے دو چار تھے اسے ہم نے بطور شکایت آپ کے سامنے پیش کیا، ہم نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں قیدی دیئے جانے کا آپ حکم فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں، (وہ پہلے آئیں اور پا گئیں اب قیدی نہیں بچے) پھر آپ نے تسبیح کے واقعہ کا ذکر کیا اس میں «في كل دبر صلاة» کے بجائے «على أثر كل صلاة» کہا اور سونے کا ذکر نہیں کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں اپنی ذات کے شر سے اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک ہونے سے پناہ مانگتا ہوں“ آپ نے فرمایا: ”جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٥،حدیث نمبر ٥٠٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ پڑھتے تھے: "اے اللہ!تیری مدد سے ہم نے صبح کیا اور تیری مدد سے ہم نے شام کی، تیری مدد سے ہم زندہ ہیں اور تیری مدد سے ہی ہم مریں گے، اور تیری ہی طرف اٹھیں گے، شام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے، یا اللہ!تیری مدد سے ہم نے شام کی تیری مدد سے ہم زندہ ہیں اور تیری ہی مرضی سے ہم مریں گے اور تیری ہی طرف اٹھائے جائیں گے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٦،حدیث نمبر ٥٠٦٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھے «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! میں نے صبح کی، میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ: تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں“ تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد کر دے گا، پھر جو دو مرتبہ کہے گا اللہ اس کا نصف حصہ آزاد کر دے گا، اور جو تین بار کہے گا تو اللہ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا، اور اگر وہ چار بار کہے گا تو اللہ اسے پورے طور پر جہنم سے نجات دیدے گا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٧،حدیث نمبر ٥٠٦٩)
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت کہے: «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء بنعمتك وأبوء بذنبي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے عہد اور وعدے پہ اپنی استطاعت کے مطابق کاربند ہوں، اس شر سے جو مجھ سے سرزد ہوئے ہوں تیری پناہ چاہتا ہوں، تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں تو مجھے معاف کر دے، تیرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کر سکتا“ اور اسی دن یا اسی رات میں مر جائے تو جنت میں داخل ہو گا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٧،حدیث نمبر ٥٠٧٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ”ہم نے شام کی، اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بھی شام ہو گئی، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے۔“ جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: زبید کہتے تھے کہ ابراہیم بن سوید کی روایت میں ہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب أعوذ بك من الكسل ومن سوء الكبر أو الكفر رب أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ملک ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے رب! اس رات اور اس کے بعد کی رات کی بھلائی کا طلب گار ہوں، اور اس رات اور اس کے بعد کی رات کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں سستی اور کاہلی سے، اور بڑھاپے، یا کفر سے یا غرور کی برائی سے، اے رب میں پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے“ اور جب صبح ہوتی تو بھی یہی کہتے فرق صرف یہ ہوتا کہ «أمسينا وأمسى الملك لله» کے بجائے «أصبحنا وأصبح الملك لله» “ کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے سلمہ بن کہل سے، سلمہ نے ابراہیم بن سوید سے روایت کیا ہے اس میں «من سوء الكبر» ہے انہوں نے «من سوء الكفر» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٧،حدیث نمبر ٥٠٧١)
ابو سلام کہتے ہیں کہ وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم رہے ہیں، راوی کہتے ہیں: تو ابو سلام اٹھ کر ان کے پاس گئے، اور ان سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث ہم سے بیان فرمائیے، جس میں آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی اور شخص کا واسطہ نہ ہو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے جب صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھی «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ”ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں“ تو اللہ تعالی کے ذمے یہ بات ہوگی کہ وہ اس شخص کو(جنت میں داخل کر کے)راضی کر دے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٨،حدیث نمبر ٥٠٧٢)
حضرت عبداللہ بن غنام بیاضی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی «اللهم ما أصبح بي من نعمة فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد ولك الشكر» ”اے اللہ! صبح کو جو نعمتیں میرے پاس ہیں وہ تیری ہی دی ہوئی ہیں، تو اکیلا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے، تو ہی ہر طرح کی تعریف کا مستحق ہے، اور میں تیرا ہی شکر گزار ہوں“ تو اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کے وقت ایسا ہی کہا تو اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٨،حدیث نمبر ٥٠٧٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت اور صبح کے وقت ان کلمات کو پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے «اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياى وأهلي ومالي اللهم استر عورتي» (عثمان کی روایت میں «عوراتي» ہے) «عوراتي وآمن روعاتي اللهم احفظني من بين يدى ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» ”اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز سے کہ مجھے نیچے کی طرف سے ہلاکت کا شکار کر دیا جائے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٨،حدیث نمبر ٥٠٧٤)
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صاحبزادی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» ”میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا“ جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی (اللہ کی طرف سے) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو شام کے وقت کہے گا اس کی صبح تک۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٩،حدیث نمبر ٥٠٧٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٩،حدیث نمبر ٥٠٧٦)
ابوعیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہے تو اسے ایک غلام حضرت اسماعیل علیہ السلام میں سے ایک آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور اگر شام کے وقت کہے تو صبح تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (خواب میں) دیکھا جیسے سونے والا دیکھتا ہے تو اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی ایسی حدیث روایت کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ابوعیاش صحیح کہہ رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسماعیل بن جعفر، موسی زمعی اور عبداللہ بن جعفر نے سہیل بن أبی صالح سے سہیل نے اپنے والد سے اور ابوصالح نے ابن عائش سے روایت کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣١٩،حدیث نمبر ٥٠٧٧)
مسلم بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“ کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٠،حدیث نمبر ٥٠٧٨)
حضرت مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان سے کہا: جب تم مغرب سے فارغ ہو جاؤ تو سات مرتبہ کہو «اللهم أجرني من النار» ”اے اللہ مجھے جہنم سے بچا لے“ اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات میں تمہارا انتقال ہو گیا، تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی، اور جب تم فجر پڑھ کر فارغ ہو اور ایسے ہی (یعنی سات مرتبہ «اللهم أجرني من النار») کہو اور پھر اسی دن میں تمہارا انتقال ہو جائے تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں کہ مجھے ابوسعید نے بتایا وہ حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات مجھے سرگوشی میں بتائی ہے، اس لیے ہم اسے اپنے خاص بھائیوں ہی سے بیان کرتے ہیں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٠،حدیث نمبر ٥٠٧٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت حارث بن مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا جیسے اوپر گزرا «كتب لك جوار منها» تک مگر اس میں دونوں میں اتنا اضافہ ہے کہ: یہ دعا کسی سے بات کرنے سے پہلے پڑھے۔ اور علی اور ابن مصفٰی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیجا پھر جب ہم اس جگہ کے قریب پہنچے جہاں ہمیں چھاپہ مارنا اور حملہ کرنا تھا، تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیزی سے آگے بڑھایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، بستی والے (ہمیں دیکھ کر) چیخنے چلانے لگے، میں نے ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دو (ایمان لے آؤ) تو بچ جاؤ گے، تو انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا، میرے ساتھی مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تو نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے میں نے جو کیا تھا اس سے آپ کو باخبر کیا، تو آپ نے مجھے بلایا اور میرے کام کی تعریف کی اور فرمایا: سن! اللہ نے تمہیں اس بستی کے ہر ہر فرد کے بدلے اتنا اتنا ثواب دیا ہے (عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں ثواب بھول گیا)، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں (وہ میرے بعد تیرے کام آئے گا)، پھر آپ نے لکھا، اس پر اپنی مہر ثبت کی اور مجھے دے دیا اور فرمایا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ تھا میں وصیت کر دوں گا کہ تمہیں میرے بعد والا خلیفہ اتنی، اتنی ادائیگی کر دے)۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٠،حدیث نمبر ٥٠٨٠)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» ”کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے“ کہے تو اللہ تعالی اس کے تمام امور میں کفایت کرے گا، جو اس کے لیے پریشانی کا باعث ہوں، خواہ وہ آدمی سچے دل سے اسے پڑھے یا جھوٹے دل سے اسے پڑھے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢١،حدیث نمبر ٥٠٨١)
حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: ”تم پڑھو “ اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں پڑھا ، آپ نے پھر فرمایا: ”تم کچھ پڑھو“ (پھر بھی) ہم نے کچھ نہیں پڑھا، پھر آپ نے فرمایا: ”کچھ تو پڑھو “ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں (ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے) کافی ہوں گی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢١،حدیث نمبر ٥٠٨٢)
حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں کوئی ایسی کلمے کے بارے میں بتائیں، جسے ہم صبح و شام اور لیٹتے وقت کہا کریں، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ کہا کریں: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت رب كل شىء والملائكة يشهدون أنك لا إله إلا أنت فإنا نعوذ بك من شر أنفسنا ومن شر الشيطان الرجيم وشركه وأن نقترف سوءا على أنفسنا أو نجره إلى مسلم» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے،غیب اور شہادت کے جاننے والے، تو ہر چیز کا رب ہے، فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، ہم تیری پناہ مانگتے ہیں، اپنے نفسوں کے شر سے، اور دھتکارے ہوئے شیطان کے شر، اور اس کے شریک ہونے کے شرک سے، اور اس بات سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہم اپنی ذات سے کسی برائی کا ارتکاب کرے یا ہم اس برائی کو کسی مسلمان کی طرف لے کے جائیں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٢،حدیث نمبر ٥٠٨٣)
امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ کہے «أصبحنا وأصبح الملك لله رب العالمين اللهم إني أسألك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه وأعوذ بك من شر ما فيه وشر ما بعده» ”ہم نے صبح کی اور ملک (پوری کائنات) نے صبح کی جو اللہ رب العالمین کا ہے، اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی، اس دن کی فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا طالب ہوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس دن کی اور اس کے بعد کے دنوں کی برائی سے“ اور جب شام کرے تو بھی اسی طرح کہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٢،حدیث نمبر ٥٠٨٤)
شریق ہوزنی کہتے ہیں: میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تھے تو پہلے کیا پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ہے، آپ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار، «الله اكبر» کہتے، دس بار «الحمد الله» کہتے، دس بار «سبحان الله وبحمده» کہتے، دس بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور دس بار «استغفر الله» کہتے، اور دس بار «لا إله إلا الله» کہتے، پھر دس بار «اللهم إني أعوذ بك من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی تنگی سے اور قیامت کے دن کی تنگی سے“ کہتے، پھر نماز شروع کرتے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٣،حدیث نمبر ٥٠٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے تو سحری کے وقت یہ پڑھتے تھے،:سننے والا سن لے، کہ ہم اللہ تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں، اس بات پر جو اس نے ہمیں نعمت عطا کی، جو ہم پر فضل و کرم کیا ہے، اے اللہ!تو ہمارے ساتھ رہنا اور ہم پر اپنا فضل کرنا ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٣،حدیث نمبر ٥٠٨٦)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے تھے جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے:«اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يدى ذلك كله ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي وتجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي» ”اے اللہ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے، جو تو، چاہے گا ہو گا، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہو گا، اے اللہ! تو مجھے بخش دے، اور مجھ سے درگزر فرما، اے اللہ! جس پر تو اپنی رحمت نازل کرتا ہے تو میری طرف سے بھی اس کے لیے رحمت کے نزول کی دعا قبول کر لے، اور جس پر تو لعنت کرتا ہے، میری طرف سے اس پر لعنت ہو۔ (حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: ان کلمات کو پڑھنے والا اس دن غلطیوں سے محفوظ رہے گا، راوی کو شک ہے «يومه ذلك» کہا یا «ذلك اليوم» کہا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٣،حدیث نمبر ٥٠٨٧)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص تین بار «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» ”اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے“ کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، راوی حدیث ابومودود کہتے ہیں: پھر راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ شخص جس نے ان سے یہ حدیث سنی تھی انہیں دیکھنے لگا، تو ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو، قسم اللہ کی! نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے اور نہ ہی عثمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، لیکن (بات یہ ہے کہ) جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی اس دن مجھ پر غصہ سوار تھا (اور غصے میں) اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٣،حدیث نمبر ٥٠٨٨)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اس میں راوی کے فالج کے شکار ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٣،حدیث نمبر ٥٠٨٩)
جعفر بن میمون بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابو بکرہ نے مجھے یہ بات بتائی،انہوں نے اپنے والد سے کہا ابو جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں «اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں؟، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں۔ عباس بن عبدالعظیم کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ آپ کہتے «اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! میں کفر و محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تو ہی معبود برحق ہے“ تین مرتبہ اسے صبح دہراتے اور تین مرتبہ اسے شام میں، ان کے ذریعہ آپ دعا کرتے تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت کا طریقہ اپناؤں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے «اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں تو مجھے پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی، میرے نفس کے سپرد نہ کرنا تو میرے تمام معاملات کو ٹھیک کر دے تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں“ بعض راوی الفاظ میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٣،حدیث نمبر ٥٠٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص صبح کے وقت ایک سو مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے،" سبحان اللہ العظیم وبحمدہ" اور شام کے وقت بھی ان کلمات کو پڑھے، تو مخلوق میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہوگا جو اس شخص کے جتنا اجر و ثواب حاصل کرے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛صبح کے وقت کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٤،حدیث نمبر ٥٠٩١)
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» ”یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے“ یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے: شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا رَأَى الْهِلاَلَ؛آدمی نیا چاند دیکھے تو کیا کہے؟؛جلد٤،ص٣٢٤،حدیث نمبر ٥٠٩٢)
قتادہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو اپنا چہرہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مرفوع مستند حدیث منقول نہیں ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا رَأَى الْهِلاَلَ؛آدمی نیا چاند دیکھے تو کیا کہے؟؛جلد٤،ص٣٢٥،حدیث نمبر ٥٠٩٣)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر سے نکلتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر یہ دعا پڑھتے تھے : "اے اللہ!میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کر دیا جائے، میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا دیا جائے، میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، میں جہالت کا مظاہرہ کروں یا میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کیا جائے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ؛آدمی گھر سے باہر نکلے تو کیا دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٥،حدیث نمبر ٥٠٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کوئی شخص اپنے گھر سے باہر نکلے اور یہ دعا پڑھے: " اللہ تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں نے اللہ تعالی پر توکل کیا، اس کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:تو اسے یہ کہا جاتا ہے تمہیں ہدایت نصیب ہوئی، تمہیں کفایت نصیب ہوئی، تمہیں بچا لیا گیا۔ شیاطین اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور دوسرا شیطان یہ کہتا ہے ایسے شخص کے ساتھ تم کیا کر سکتے ہو؟اسے ہدایت بھی نصیب ہو گئی، اسے کفایت بھی نصیب ہو گئی، اسے بچا بھی لیا گیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ؛آدمی گھر سے باہر نکلے تو کیا دعا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٥،حدیث نمبر ٥٠٩٥)
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو کہے «اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وبسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توكلنا» ”اے اللہ! ہم تجھ سے اندر جانے اور گھر سے باہر آنے کی بہتری مانگتے ہیں، ہم اللہ کا نام لے کر اندر جاتے ہیں اور اللہ ہی کا نام لے کر باہر نکلتے ہیں اور اللہ ہی پر جو ہمارا رب ہے بھروسہ کرتے ہیں“ پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؛گھر میں داخل ہو تو کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٥،حدیث نمبر ٥٠٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «ریح» (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے (سلمہ کی روایت میں «من روح الله» ہے)، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا هَاجَتِ الرِّيحُ؛جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٥،حدیث نمبر ٥٠٩٧)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان پر بادل کا کوئی کنارہ دیکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کام چھوڑ دیتے تھے،خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: "اے اللہ!میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں" اگر بارش نازل ہونا شروع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: یا اللہ!یہ خوب برسنے والی اور مبارک ہو" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا يَقُولُ إِذَا هَاجَتِ الرِّيحُ؛جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟؛جلد٤،ص٣٢٦،حدیث نمبر ٥٠٩٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم پر بارش ہو گئی، ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم سے کپڑا ہٹایا، تو آپ کے جسم پر پڑنے لگی،ہم نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا ہے؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوںکہ یہ میرے پروردگار کی بارگاہ سے آئی ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْمَطَرِ؛بارش کا بیان؛جلد٤،ص٣٢٦،حدیث نمبر ٥١٠٠)
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "تم لوگ مرغ کو برا نہ کہو،کیونکہ یہ نماز کے لیے بیدار کرتا ہے" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الدِّيكِ وَالْبَهَائِمِ؛مرغ اور چوپایوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢٦،حدیث نمبر ٥١٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ اس نے فرشتوں کو دیکھا ہوتا ہے اور جب تم کسی گدھے کی رینگنے کی آواز سنو تو اللہ تعالی کی پناہ مانگو، کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہوتا ہے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الدِّيكِ وَالْبَهَائِمِ؛مرغ اور چوپایوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢٦،حدیث نمبر ٥١٠٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم رات کے وقت کتوں کے بھوکنے یا گدھوں کے ریگنے کی آواز سنو تو اللہ تعالی کی پناہ مانگو، کیونکہ انہوں نے اس چیز کو دیکھا ہوتا ہے جسے تم نہیں دیکھتے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الدِّيكِ وَالْبَهَائِمِ؛مرغ اور چوپایوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢٧،حدیث نمبر ٥١٠٣)
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رات میں) آمدورفت بند ہو جانے (اور سناٹا چھا جانے) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، (وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں) (ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے)، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں: مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الدِّيكِ وَالْبَهَائِمِ؛مرغ اور چوپایوں کا بیان؛جلد٤،ص٣٢٧،حدیث نمبر ٥١٠٤)
عبید اللہ بن ابو رافع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے وقت ان کے کان میں اسی طرح اذان دی جو نماز کے لیے دی جاتی ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي الصَّبِيِّ يُولَدُ فَيُؤَذَّنُ فِي أُذُنِهِ؛بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٢٨،حدیث نمبر ٥١٠٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے برکت کی دعا کرتے تھے۔ یوسف نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹی دیا کرتے تھے اس راوی نے لفظ برکت کا ذکر نہیں کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي الصَّبِيِّ يُولَدُ فَيُؤَذَّنُ فِي أُذُنِهِ؛بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٢٨،حدیث نمبر ٥١٠٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا:کیا تمہارے درمیان"مغربون"دکھائی دیے ہیں،(راوی کہتے ہیں، یا شاید)اس کے علاوہ کوئی کلمہ ارشاد فرمایا:میں نے دریافت کیا "مغربون" سے مراد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس میں جن شریک ہوا ہو۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي الصَّبِيِّ يُولَدُ فَيُؤَذَّنُ فِي أُذُنِهِ؛بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان دینا کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٢٨،حدیث نمبر ٥١٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص اللہ تعالی کے نام پر پناہ مانگے، اسے پناہ دے دے اور جو اللہ تعالی کی ذات کے واسطے سے تم سے کچھ مانگے اسے دے دو" عبید اللہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:جو شخص اللہ تعالی کے واسطے سے تم سے کچھ مانگے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَسْتَعِيذُ مِنَ الرَّجُلِ؛آدمی آدمی سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٢٨،حدیث نمبر ٥١٠٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَسْتَعِيذُ مِنَ الرَّجُلِ؛آدمی آدمی سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٢٨،حدیث نمبر ٥١٠٩)
ابوزمیل بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا:اس چیز کا کیا حکم ہوگا؟ جو میں اپنے دل میں سوچتا ہوں،انہوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: قسم اللہ کی! میں اس کے متعلق کچھ نہ کہوں گا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا کوئی شک کی چیز ہے، یہ کہہ کر ہنسے اور بولے: اس سے تو کوئی نہیں بچا ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی «فإن كنت في شك مما أنزلنا إليك فاسأل الذين يقرءون الكتاب» ”اگر تجھے اس کلام میں شک ہے جو ہم نے تجھ پر اتارا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تم سے پہلے اتاری ہوئی کتاب (توراۃ و انجیل) پڑھتے ہیں“ (یونس: ۹۴)، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: جب تم اپنے دل میں اس قسم کا وسوسہ پاؤ تو «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شىء عليم» ”وہی اول ہے اور وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ (الحدید: ۳)، پڑھ لیا کرو۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي رَدِّ الْوَسْوَسَةِ؛وسوسہ دور کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٢٩،حدیث نمبر ٥١١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں، جن کو بیان کرنا ہم پر بہت گراں ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اندر ایسے وسوسے پیدا ہوں اور ہم ان کو بیان کریں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں ایسے وسوسے ہوتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو صریح ایمان ہے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي رَدِّ الْوَسْوَسَةِ؛وسوسہ دور کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٢٩،حدیث نمبر ٥١١١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، کہ اس کو بیان کرنے سے راکھ ہو جانا یا جل کر کوئلہ ہو جانا بہتر معلوم ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے شیطان کے مکر کو وسوسہ بنا دیا (اور وسوسہ مومن کو نقصان نہیں پہنچاتا)۔ ابن قدامہ نے اپنی روایت میں «رد كيده» کی جگہ «رد أمره» کہا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي رَدِّ الْوَسْوَسَةِ؛وسوسہ دور کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٢٩،حدیث نمبر ٥١١٢)
حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”جو شخص جان بوجھ کر، اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے تو جنت اس پر حرام ہے“۔ عثمان کہتے ہیں: میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا، تو انہوں نے بھی کہا: میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، عاصم کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوعثمان تمہارے پاس دو آدمیوں نے اس بات کی گواہی دی، لیکن یہ دونوں صاحب کون ہیں؟ ان کی صفات و خصوصیات کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں یا اسلام میں سب سے پہلے تیر چلایا یعنی حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور دوسرے وہ ہیں جو طائف سے بیس سے زائد آدمیوں کے ساتھ پیدل چل کر آئے پھر ان کی فضیلت بیان کی۔ نفیلی نے یہ حدیث بیان کی تو کہا: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے لیے شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے، یعنی ان کا «حدثنا وحدثني» کہنا (مجھے بہت پسند ہے)۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد سے سنا ہے، وہ کہتے تھے: میں نے امام احمد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل کوفہ کی حدیث میں کوئی نور نہیں ہوتا اور کہا: میں نے اہل بصرہ جیسے اچھے لوگ بھی نہیں دیکھے انہوں نے شعبہ سے حدیث حاصل کی (اور شعبہ کا طریقہ اسناد کو اچھی طرح بتا دینے کا تھا)۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَنْتَمِي إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ؛غلام اپنے آقا کو چھوڑ کر اپنی نسبت کسی اور سے کرے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٣٠،حدیث نمبر ٥١١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص اپنے آقا کی اجازت کے بغیر خود کو کسی اور قوم کی طرف منسوب کرے گا اس پر اللہ تعالی، تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہوگی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي رَدِّ الْوَسْوَسَةِ؛وسوسہ دور کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٠،حدیث نمبر ٥١١٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص اپنے باپ کی بجائے کسی اور کی طرف(ولدیت)کا دعوی کرے گا یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے گا، اس پر اللہ تعالی کی قیامت تک لگاتار لعنت ہوگی" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي رَدِّ الْوَسْوَسَةِ؛وسوسہ دور کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٠،حدیث نمبر ٥١١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کر دیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں (اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کر لے جاتا ہے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي التَّفَاخُرِ بِالأَحْسَابِ؛حسب و نسب پر فخر کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣١،حدیث نمبر ٥١١٦)
عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص ناحق طور پر کسی قوم کی مدد کرے تو وہ ایسے اونٹ کی مانند ہے جو کنویں میں گر گیا ہو اور اسے اس کی دم کی ذریعے کھینچا گیا۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَصَبِيَّةِ؛عصبیت (تعصب) کا بیان؛جلد٤،ص٣٣١،حدیث نمبر ٥١١٧)
عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے سے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھے، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَصَبِيَّةِ؛عصبیت (تعصب) کا بیان؛جلد٤،ص٣٣١،حدیث نمبر ٥١١٨)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!عصبیت کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم ظلم کے معاملے میں اپنی قوم کی مدد کرو۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَصَبِيَّةِ؛عصبیت (تعصب) کا بیان؛جلد٤،ص٣٣١،حدیث نمبر ٥١١٩)
حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم المدلجی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے خاندان کا دفاع کرے جبکہ وہ(ایسا کرتے ہوئے)کسی گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ایوب بن سوید نامی راوی ضعیف ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَصَبِيَّةِ؛عصبیت (تعصب) کا بیان؛جلد٤،ص٣٣١،حدیث نمبر ٥١٢٠)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی طرف لڑائی کرے، وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر مر جائے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَصَبِيَّةِ؛عصبیت (تعصب) کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٢،حدیث نمبر ٥١٢١)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَصَبِيَّةِ؛عصبیت (تعصب) کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٢،حدیث نمبر ٥١٢٢)
حضرت ابو عقبہ، جو اہل فارس کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوا،میں نے مشرکین کے ایک شخص پر حملہ کیا اور کہا: لو سنبھالو، میں فارسی نوجوان ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم نے یہ کیوں نہیں کہا؟اس کو میری طرف سے سنبھالو،میں ایک انصاری نوجوان ہوں۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْعَصَبِيَّةِ؛عصبیت (تعصب) کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٢،حدیث نمبر ٥١٢٣)
حضرت مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے بھائی سے محبت رکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب إِخْبَارِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُ؛ ادمی کا کسی شخص کی بھلائی دیکھ کر اس سے محبت کرنا؛جلد٤،ص٣٣٢،حدیث نمبر ٥١٢٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم نے اسے یہ بات بتا دی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے بتا دو“ یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ کے واسطے محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا: تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب إِخْبَارِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُ؛ ادمی کا کسی شخص کی بھلائی دیکھ کر اس سے محبت کرنا؛جلد٤،ص٣٣٣،حدیث نمبر ٥١٢٥)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا؟ آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! تو اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو“ تو انہوں نے کہا: میں تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”تم اسی کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو“ ابوذر نے پھر یہی کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی دہرایا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب إِخْبَارِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُ؛ ادمی کا کسی شخص کی بھلائی دیکھ کر اس سے محبت کرنا؛جلد٤،ص٣٣٣،حدیث نمبر ٥١٢٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آدمی ایک آدمی سے اس کے اچھے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس نے محبت کی ہے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب إِخْبَارِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُ؛ ادمی کا کسی شخص کی بھلائی دیکھ کر اس سے محبت کرنا؛جلد٤،ص٣٣٣،حدیث نمبر ٥١٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جس سے مشورہ مانگا گیا ہو،وہ امین ہوتا ہے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْمَشُورَةِ؛مشورے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٣،حدیث نمبر ٥١٢٨)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری سواری نہیں رہی،مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے“ تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الدَّالِّ عَلَى الْخَيْرِ؛بھلائی کی طرف رہنمائی کے ثواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٣،حدیث نمبر ٥١٢٩)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا اندھا اور بہرہ کر دیتا ہے"۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْهَوَى؛خواہش نفس کی برائی کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٤،حدیث نمبر ٥١٣٠)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "میرے سامنے سفارش کیا کرو،تاکہ تمہیں اجر ملے،اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جو چاہے فیصلہ دے دیتا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛سفارش کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٤،حدیث نمبر ٥١٣١)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے فرمایا: تم لوگ سفارش کیا کرو، تاکہ تمہیں اجر ملے،کیونکہ میں کوئی کام کرنا چاہتا ہوں لیکن اسے موخر کر دیتا ہوں، تاکہ تم لوگ سفارش کر کے اجر حاصل کر لو،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "تم لوگ سفارش کیا کرو، تمہیں اجر ملے گا۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛سفارش کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٤،حدیث نمبر ٥١٣٢)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الشَّفَاعَةِ؛سفارش کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٤،حدیث نمبر ٥١٣٣)
حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے بحرین کے گورنر تھے، وہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خط لکھا تو آغاز اپنی ذات کے ذکر سے کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَبْدَأُ بِنَفْسِهِ فِي الْكِتَابِ؛خط اپنے نام سے شروع کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٥،حدیث نمبر ٥١٣٤)
حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے خط لکھا تو پہلے اپنا نام تحریر کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَبْدَأُ بِنَفْسِهِ فِي الْكِتَابِ؛خط اپنے نام سے شروع کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٥،حدیث نمبر ٥١٣٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کے نام خط لکھا: ”اللہ کے رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے“۔ محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوسفیان نے ان سے کہا کہ ہم ہرقل کے پاس گئے، اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا تو اس میں لکھا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد» (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَيْفَ يُكْتَبُ إِلَى الذِّمِّيِّ؛ذمی کو کس طرح خط لکھا جائے؟؛جلد٤،ص٣٣٥،حدیث نمبر ٥١٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کوئی اولاد،اپنے والد کو بدلہ نہیں دے سکتی البتہ یہ صورت ہے کہ وہ اسے غلام ہونے کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٥،حدیث نمبر ٥١٣٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اسے طلاق دے دو، لیکن میں نے انکار کیا، تو حضرت ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے طلاق دے دو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٥،حدیث نمبر ٥١٣٨)
بہز بن حکیم اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں“۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: «أقرع» سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٦،حدیث نمبر ٥١٣٩)
کلیب بن منفعہ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی ماں، اور اپنے باپ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ، اور ان کے بعد اپنے غلام کے ساتھ، ان کے بعد ہر وہ شخص جس کا حق لازم ہے اور جس کے ساتھ صلہ رحمی کرنا لازم ہے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٦،حدیث نمبر ٥١٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بڑے گناہوں) میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کسی شخص کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، تو وہ شخص (جواب میں) اس کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، یا ایک شخص کسی شخص کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے“ (اس طرح وہ گویا خود ہی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجتا ہے)۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٦،حدیث نمبر ٥١٤١)
حضرت ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ کے مر جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں، انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٦،حدیث نمبر ٥١٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "سب سے اچھا سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ اچھائی کرے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٧،حدیث نمبر ٥١٤٣)
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام جعرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، ان دنوں میں لڑکا تھا، اونٹ کی ہڈی اٹھا سکتا تھا، کہ اتنے میں ایک عورت آئی، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئی، آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی، جس پر وہ بیٹھ گئی، ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں، جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٧،حدیث نمبر ٥١٤٤)
حضرت عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہو کر ملے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ؛ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٧،حدیث نمبر ٥١٤٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس کوئی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، نہ اس کی توہین کرے ، نہ لڑکے کو اس پر فوقیت دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا“۔ ابن عباس کہتے ہیں: «ولده» سے مراد جنس «ذکور» ہے، لیکن عثمان (راوی) نے «ذکور» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ مَنْ عَالَ يَتَامَى؛یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٧،حدیث نمبر ٥١٤٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص تین بیٹیوں کی پرورش کرے، ان کی تعلیم و تربیت کر کے شادی کرے، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اسے جنت ملے گی" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ مَنْ عَالَ يَتَامَى؛یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٨،حدیث نمبر ٥١٤٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمرا منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں: تین بہنوں یا تین بیٹیوں کی یا دو بیٹیوں اور دو بہنوں کی(پرورش کرے تو یہ اجر و ثواب حاصل کرے)۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ مَنْ عَالَ يَتَامَى؛یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٨،حدیث نمبر ٥١٤٨)
حضرت عوف بن مالک اشعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور سیاہ رخساروں والی عورت قیامت کے دن اس طرح (ساتھ)ہوں گے“ (یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا) ” (اس سیاہ فارم عورت سے مراد)وہ عورت ہے جو بیوہ ہو اور یتیم بچوں کی خاطر (دوسری شادی نہ کرے)یہاں تک کہ وہ بچے بڑے ہو جائے یا انتقال کر جائیں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ مَنْ عَالَ يَتَامَى؛یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٣٣٨،حدیث نمبر ٥١٤٩)
حضرت سہل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دو کی طرح ہوں گے" نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا باب: یتیم کی پرورش کی ذمہ داری لینے والے کی فضیلت کا بیان؛ جلد٤،ص٣٣٨،حدیث نمبر ٥١٥٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے: "جبرئیل علیہ السلام پڑوسی کے بارے میں مجھے مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ سوچا کہیں یہ اسے وارث نہ قرار دے دیں۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي حَقِّ الْجِوَارِ؛پڑوسی کے حق کا بیان؛ جلد٤،ص٣٣٨،حدیث نمبر ٥١٥١)
حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور سوال کیا کیا تم نے میرے یہودی ہمسائے کو کچھ گوشت بھیجا ہے؟میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دیں گے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي حَقِّ الْجِوَارِ؛پڑوسی کے حق کا بیان؛ جلد٤،ص٣٣٨،حدیث نمبر ٥١٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”جاؤ صبر کرو“ پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو“ تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ (سن کر) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا: اب آپ (گھر میں) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي حَقِّ الْجِوَارِ؛پڑوسی کے حق کا بیان؛ جلد٤،ص٣٣٩،حدیث نمبر ٥١٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت (قیامت) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي حَقِّ الْجِوَارِ؛پڑوسی کے حق کا بیان؛ جلد٤،ص٣٣٩،حدیث نمبر ٥١٥٤)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!میرے دو پڑوسی ہیں میں ان میں سے کس سے آغاز کروں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي حَقِّ الْجِوَارِ؛پڑوسی کے حق کا بیان؛ جلد٤،ص٣٣٩،حدیث نمبر ٥١٥٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلام یہ تھا: "نماز کا خیال رکھنا اور جو تمہارے زیر ملکیت ہے ان کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٣٩،حدیث نمبر ٥١٥٦)
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر کو ربذہ (مدینہ کے قریب ایک گاؤں) میں دیکھا وہ ایک موٹی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام کے بھی (جسم پر) اسی جیسی چادر تھی، معرور بن سوید کہتے ہیں: تو لوگوں نے کہا: ابوذر! اگر تم وہ (چادر) لے لیتے جو غلام کے جسم پر ہے اور اپنی چادر سے ملا لیتے تو پورا جوڑا بن جاتا اور غلام کو اس چادر کے بدلے کوئی اور کپڑا پہننے کو دے دیتے (تو زیادہ اچھا ہوتا) اس پر ابوذر نے کہا:ایک مرتبہ میری ایک شخص کے ساتھ لڑائی ہوگئی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اس کی ماں کے غیر عربی ہونے کا اسے طعنہ دیا، اس نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دی، تو آپ نے فرمایا: ”ابوذر! تم میں ابھی جاہلیت (کی بو باقی) ہے وہ (غلام، لونڈی) تمہارے بھائی بہن، ہیں (کیونکہ سب آدم کی اولاد ہیں)، اللہ نے تم کو ان پر فضیلت دی ہے، (تم کو حاکم اور ان کو محکوم بنا دیا ہے) تو جو تمہارے موافق نہ ہو اسے بیچ دو، اور اللہ کی مخلوق کو تکلیف نہ دو۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤٠،حدیث نمبر ٥١٥٧)
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ربذہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے جسم پر ایک چادر ہے اور ان کے غلام پر بھی اسی جیسی چادر ہے، تو ہم نے کہا: ابوذر! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے، تو آپ کا پورا جوڑا ہو جاتا، اور آپ اسے کوئی اور کپڑا دے دیتے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ (غلام اور لونڈی) تمہارے بھائی (اور بہن) ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کیا ہے، تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو تو اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے اور وہی پہنائے جو خود پہنے، اور اسے ایسے کام کرنے کے لیے نہ کہے جسے وہ انجام نہ دے سکے، اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بنائے جو اس کے بس کا نہ ہو تو خود بھی اس کام میں لگ کر اس کا ہاتھ بٹائے“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤٠،حدیث نمبر ٥١٥٨)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: اے ابومسعود! جان لو، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس (غلام) پر رکھتے ہو، یہ آواز دو مرتبہ سنائی پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم اسے (آزاد) نہ کرتے تو آگ تمہیں لپیٹ میں لے لیتی یا آگ تمہیں چھو لیتی“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤٠،حدیث نمبر ٥١٥٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: میں اپنے غلام کو کوڑے کے ساتھ مار رہا تھا، اس میں راوی نے غلام کو آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤١،حدیث نمبر ٥١٦٠)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "تمہارے غلاموں میں سے جو تمہارے لیے مناسب ہو اسے تم اس میں سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہو، اسے وہ پہناؤ جو تم پہنتے ہو، ان میں سے جو تمہارے لیے مناسب نہ ہو اسے فروخت کر دو لیکن اللہ تعالی کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤١،حدیث نمبر ٥١٦١)
عثمان بن زفر اپنی سند کے ساتھ حضرت رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ بیان کرتے ہیں: "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے ماتحت کے ساتھ اچھا سلوک کرنا برکت ہے اور برا سلوک کرنا نحوست ہے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤١،حدیث نمبر ٥١٦٢)
حضرت رافع رضی اللہ عنہ جن کا تعلق جہنیہ قبیلے سے ہے، انہیں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "ماتحت کے ساتھ اچھا سلوک کرنا برکت ہے اور برے اخلاق نحوست ہیں۔" (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤١،حدیث نمبر ٥١٦٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ (سن کر) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ”ہر دن ستر بار اسے معاف کرو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤١،حدیث نمبر ٥١٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی التوبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤١،حدیث نمبر ٥١٦٥)
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے ہاں پڑاؤ کیا، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤٢،حدیث نمبر ٥١٦٦)
حضرت سوید بن مقرن کے صاحبزادے معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص (بدلہ) لو، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو“ لوگوں نے عرض کیا: اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہو جائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو، اور جب یہ لوگ غنی ہو جائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کر دیں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤٢،حدیث نمبر ٥١٦٧)
زاذان کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی (معمولی) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ؛غلام کا حق؛جلد٤،ص٣٤٢،حدیث نمبر ٥١٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْمَمْلُوكِ إِذَا نَصَحَ؛مالک کے خیرخواہ غلام کے ثواب کا بیان؛جلد٤،ص٣٤٢،حدیث نمبر ٥١٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کی بیوی یا غلام و لونڈی کو (اس کے شوہر یا مالک کے خلاف) ورغلائے تو وہ ہم میں سے نہیں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِيمَنْ خَبَّبَ مَمْلُوكًا عَلَى مَوْلاَهُ؛غلام کو آقا کے خلاف ورغلانے کی مذمت کا بیان؛جلد٤،ص٣٤٣،حدیث نمبر ٥١٧٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک حجرے مبارک میں جھانکا،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کنگھی لے کر اس کی طرف بڑھے، راوی کہتے ہیں: میں گویا اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس(کنگھی)کو اس کی طرف لہرا رہے تھے کہ گویا اس کو چبھو دیں گے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٤٣،حدیث نمبر ٥١٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی"۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٤٣،حدیث نمبر ٥١٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب نگاہ اندر چلی گئی تو پھر اجازت نہ رہی"۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٤٣،حدیث نمبر ٥١٧٣)
ہزیل بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، (عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ (یعنی دروازہ سے ہٹ کر) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٤٤،حدیث نمبر ٥١٧٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَابُ النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٤٤،حدیث نمبر ٥١٧٥)
حضرت کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر (باہر) جاؤ اور (پھر سے آ کر) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛. باب كَيْفَ الاِسْتِئْذَانُ؛گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے؟؛جلد٤،ص٣٤٤،حدیث نمبر ٥١٧٦)
ربعی کہتے ہیں کہ بنو عامر کے ایک شخص نے ہم سے بیان کیا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی آپ گھر میں تھے تو کہا: «ألج» (کیا میں اندر آ جاؤں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: ”تم اس شخص کے پاس جاؤ اور اسے اجازت لینے کا طریقہ سکھاؤ اور اس سے کہو ”السلام علیکم“ کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا: ”السلام علیکم“ کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اور وہ اندر آ گیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛. باب كَيْفَ الاِسْتِئْذَانُ؛گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے؟؛جلد٤،ص٣٤٥،حدیث نمبر ٥١٧٧)
ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں مجھے یہ بات بتائی گئی ہے،بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس کی سند میں کچھ اختلاف ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛. باب كَيْفَ الاِسْتِئْذَانُ؛گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے؟؛جلد٤،ص٣٤٥،حدیث نمبر ٥١٧٨)
بنو عامر کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: ”میں نے اسے سن لیا تو میں نے کہا: ”السلام علیکم“ کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛. باب كَيْفَ الاِسْتِئْذَانُ؛گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے؟؛جلد٤،ص٣٤٥،حدیث نمبر ٥١٧٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا (دوبارہ ملاقات پر) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے (یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، اس پر ابوسعید نے کہا: (اس کی گواہی کے لیے تو) تمہارے ساتھ قوم کا ایک معمولی شخص ہی جا سکتا ہے، پھر ابوسعید ہی اٹھ کر ابوموسیٰ کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٤٥،حدیث نمبر ٥١٨٠)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اندر آنے کی اجازت تین مرتبہ مانگی:حضرت ابوموسیٰ اجازت کا طلب گار ہے، اشعری اجازت مانگ رہا ہے، عبداللہ بن قیس اجازت مانگ رہا ہے انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لیے بھیجا (جب وہ آئے) تو پوچھا: لوٹ کیوں گئے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے ہر کوئی تین بار اجازت مانگے، اگر اسے اجازت دے دی جائے (تو اندر چلا جائے) اور اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جائے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، وہ گئے اور (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر) واپس آئے اور کہا یہ ابی (گواہ) ہیں ، ابی نے کہا: اے عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے سخت نہ بنو تو حضرت عمر نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے باعث اذیت نہیں ہو سکتا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٤٦،حدیث نمبر ٥١٨١)
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی واقعہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ حضرت ابوموسیٰ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی، بازاروں کی خرید و فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کر دیا، (اب تمہارے لیے اجازت ہے) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٤٦،حدیث نمبر ٥١٨٢)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے جس میں یہ الفاظ موجود ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں آپ پر الزام عائد نہیں کر رہا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول حدیث کا معاملہ انتہائی اہم ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٤٦،حدیث نمبر ٥١٨٣)
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہیں، جس میں یہ الفاظ موجود ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے فرمایا میں آپ پر الزام عائد نہیں کر رہا، لیکن مجھے یہ اندیشہ تھا کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف باتیں خواہ مخواہ منسوب کرنا شروع کر دیں گے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٤٦،حدیث نمبر ٥١٨٤)
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملنے کے لیے تشریف لائے (باہر رک کر) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے (سعد سے) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو (جلدی نہ کرو) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ (اور جواب نہ سن کر) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے (پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے: ”اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما“ پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم بھی سوار ہو جاؤ“ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: ”سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ“۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٤٧،حدیث نمبر ٥١٨٥)
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے گھر تشریف لاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے عین سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دائیں طرف یا بائیں طرف کھڑے ہوتے تھے اور السلام علیکم فرماتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ؛گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٤٧،حدیث نمبر ٥١٨٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، وہ اپنے لیے قرض کے معاملے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ کہتے ہیں میں نے دروازہ کھٹکھٹایا،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کون ہے؟ میں نے عرض کی میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ہوں، میں ہوں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يَسْتَأْذِنُ بِالدَّقِّ،دستک دے کر اجازت لینا؛جلد٤،ص٣٤٨،حدیث نمبر ٥١٨٧)
حضرت نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ایک (باغ کی) چہار دیواری میں داخل ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا: ”دروازہ بند کئے رہنا“ پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے پوچھا: کون ہے؟ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی ابوموسیٰ اشعری کی حدیث بیان کی اس میں «ضرب الباب» کے بجائے «فدق الباب» کے الفاظ ہیں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب الرَّجُلِ يَسْتَأْذِنُ بِالدَّقِّ،دستک دے کر اجازت لینا؛جلد٤،ص٣٤٨،حدیث نمبر ٥١٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں، "آدمی کا کسی دوسرے شخص کی طرف قاصد کو بھیجنا، اس کی طرف سے اذن ہے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي الرَّجُلِ يُدْعَى أَيَكُونُ ذَلِكَ إِذْنَهُ،آدمی کو بلایا جائے تو کیا بلایا جانا اس کے لیے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے؟؛جلد٤،ص٣٤٨،حدیث نمبر ٥١٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی کھانے کے لیے بلایا جائے اور وہ بلانے والا آنے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے“ (پھر اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں)۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: کہ قتادہ نے ابورافع سے کچھ نہیں سنا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي الرَّجُلِ يُدْعَى أَيَكُونُ ذَلِكَ إِذْنَهُ،آدمی کو بلایا جائے تو کیا بلایا جانا اس کے لیے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے؟؛جلد٤،ص٣٤٨،حدیث نمبر ٥١٩٠)
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا (استیذان کا) حکم دیتے تھے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب الاِسْتِئْذَانِ فِي الْعَوْرَاتِ الثَّلاَثِ:پردے کے تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا بیان۔؛جلد٤،ص٣٤٨،حدیث نمبر ٥١٩١)
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا: ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول: ”اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ، اور وہ تمہارے پاس آئیں۔ (النور: ۵۸) قعنبی نے آیت «عليم حكيم» تک پڑھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ حلیم (بردبار) ہے اور مسلمانوں پر رحیم (مہربان) ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، (یہ آیت جب نازل ہوئی ہے تو) لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے، اور نہ ہی چلمن (سرکیاں)، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی خدمت گار کوئی لڑکا یا کوئی یتیم بچی ایسے وقت میں آ جاتی جب آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ان اوقات میں اجازت لینے کا حکم دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پردے دیے اور خیر (مال) سے نوازا، اس وقت سے میں نے کسی کو اس آیت پر عمل کرتے نہیں دیکھا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ اور عطاء کی حدیث (جن کا ذکر اس سے پہلے آ چکا ہے) اس حدیث کی تضعیف کرتی ہے یعنی یہ حدیث ان دونوں احادیث کی ضد ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب الاِسْتِئْذَانِ فِي الْعَوْرَاتِ الثَّلاَثِ:پردے کے تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا بیان۔؛جلد٤،ص٣٤٩،حدیث نمبر ٥١٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے: تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور تم (کامل) مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو: آپس میں سلام کو عام کرو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ؛سلام کو عام کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٠،حدیث نمبر ٥١٩٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ؛سلام کو عام کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٠،حدیث نمبر ٥١٩٤)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ”السلام علیکم“ کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ ﷲ“ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اس کو بیس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ“ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے تیس نیکیاں ملیں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب كَيْفَ السَّلاَمُ؛سلام کس طرح کیا جائے؟؛جلد٤،ص٣٥٠،حدیث نمبر ٥١٩٥)
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا ”السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ“ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح (اور کلمات کے اضافے پر) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب كَيْفَ السَّلاَمُ؛سلام کس طرح کیا جائے؟؛جلد٤،ص٣٥٠،حدیث نمبر ٥١٩٦)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "اللہ تعالی کے سب سے زیادہ نزدیک وہ شخص ہوگا جو سلام کرنے میں پہل کرے گا۔" (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي فَضْلِ مَنْ بَدَأَ بِالسَّلاَمِ؛سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٠،حدیث نمبر ٥١٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "چھوٹا بڑے کو سلام کرے، گزرنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔" (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ أَوْلَى بِالسَّلاَمِ؛سلام میں پہل کسے کرنا چاہئے؟؛جلد٤،ص٣٥١،حدیث نمبر ٥١٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَنْ أَوْلَى بِالسَّلاَمِ؛سلام میں پہل کسے کرنا چاہئے؟؛جلد٤،ص٣٥١،حدیث نمبر ٥١٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے، پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے ملے (ان کا آمنا سامنا ہو) تو وہ پھر اسے سلام کرے۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے عبدالوہاب بن بخت نے بیان کیا ہے انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو بہو اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَارِقُ الرَّجُلَ ثُمَّ يَلْقَاهُ أَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ؛کیا (مل کر) جدا ہو جانے والا دوبارہ ملنے پر سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٥١،حدیث نمبر ٥٢٠٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے بالا خانے میں موجود تھے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی نازل ہو، کیا عمر اندر آجائے؟ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُفَارِقُ الرَّجُلَ ثُمَّ يَلْقَاهُ أَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ؛کیا (مل کر) جدا ہو جانے والا دوبارہ ملنے پر سلام کرے؟؛جلد٤،ص٣٥١،حدیث نمبر ٥٢٠١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي السَّلاَمِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛بچوں کو سلام کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٢،حدیث نمبر ٥٢٠٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي السَّلاَمِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛بچوں کو سلام کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٢،حدیث نمبر ٥٢٠٣)
سید اسماءبنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم خواتین کے پاس سے گزرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي السَّلاَمِ عَلَى النِّسَاءِ؛عورتوں کو سلام کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٢،حدیث نمبر ٥٢٠٤)
سہیل بن ابوصالح بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ شام گیا تو وہاں لوگوں (یعنی قافلے والوں) کا گزر نصاریٰ کے گرجا گھروں کے پاس سے ہونے لگا تو لوگ انہیں (اور ان کے پجاریوں کو) سلام کرنے لگے تو میرے والد نے کہا: تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے، آپ نے فرمایا ہے: ”انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستہ پر چلنے پر مجبور کرو“ (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو وہ کونے کنارے سے ہو کر چلیں)۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةَِ؛ ذمیوں کو سلام کرنا؛جلد٤،ص٣٥٢،حدیث نمبر ٥٢٠٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: یہودیوں میں سے کوئی جب تمہیں سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے سام علیکم(تمہیں موت آئے) تو تم لوگ یہ کہو علیکم تمہیں بھی آئے امام ابو داؤد رحمت اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةَِ؛ ذمیوں کو سلام کرنا؛جلد٤،ص٣٥٣،حدیث نمبر ٥٢٠٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی، اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیسے جواب دیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ یہ کہو تم پر بھی۔ امام ابو داود رحمت اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةَِ؛ ذمیوں کو سلام کرنا؛جلد٤،ص٣٥٣،حدیث نمبر ٥٢٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو کوئی شخص محفل میں آئے تو اسے سلام کرنا چاہیے اور جب وہ اٹھے تو اسے سلام کرنا چاہے کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي السَّلاَمِ إِذَا قَامَ مِنَ الْمَجْلِسَِمجلس سے اٹھ کر جاتے وقت سلام کرنے کا بیان ؛جلد٤،ص٣٥٣،حدیث نمبر ٥٢٠٨)
حضرت ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: «عليك السلام يا رسول الله» ”آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول!“ تو آپ نے فرمایا: «عليك السلام» مت کہو کیونکہ «عليك السلام» مردوں کا سلام ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ؛«عليك السلام» کہنے کی کراہیت کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٣،حدیث نمبر ٥٢٠٩)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے)، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو (لوگ چل رہے ہوں) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کر لینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہو گا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي رَدِّ الْوَاحِدِ عَنِ الْجَمَاعَةِ؛ایک آدمی کا جواب جماعت کی طرف سے کافی ہونے کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٤،حدیث نمبر ٥٢١٠)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب دو مسلمان ملے اور مصافہ کریں اور اللہ کی حمد بیان کریں اور اس سے مغفرت طلب کرے تو ان لوگوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٤،حدیث نمبر ٥٢١١)
حضرت براء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب بھی دو مسلمان ملے اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرے تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٤،حدیث نمبر ٥٢١٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب اہل یمن تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں یہ وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے(مصافحہ کرنے کا رواج شروع کیا) (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْمُصَافَحَةِ؛مصافحہ کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٤،حدیث نمبر ٥٢١٣)
ایوب بن بشیر بن کعب بن عدوی جو قبیلہ عنزہ سے تعلق رکھتے ہیں سے مروی ہے کہ اس نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے جب وہ شام جا رہے تھے،کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا، میں نے کہا: وہ راز کی بات نہیں ہے (پوچھنا یہ ہے) کہ جب آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تھے تو کیا وہ آپ سے مصافحہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میری تو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ ہی فرمایا، اور ایک دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، میں گھر پر موجود نہ تھا، پھر جب میں آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا تھا تو میں آپ کے پاس آیا اس وقت آپ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، تو آپ نے مجھ سے مصافحہ فرمایا ، یہ بہت اچھا اور بہت عمدہ (طریقہ) ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فی المعانقۃ؛معانقہ کا بیان ؛جلد٤،ص٣٥٤،حدیث نمبر ٥٢١٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب بنو قریظہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا،وہ ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے سردار کے لیے(راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)اپنے بہترین فرد کے لیے کھڑے ہو جاؤ، وہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بیٹھ گئے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ماجا فی القیام؛کسی کے لیے کھڑا ہونا؛جلد٤،ص٣٥٥،حدیث نمبر ٥٢١٥)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا :اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ " (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ماجا فی القیام؛کسی کے لیے کھڑا ہونا؛جلد٤،ص٣٥٥،حدیث نمبر ٥٢١٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عادات و اطوار، گفتگو اور چال ڈھال میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا (حسن کی روایت میں ”بات چیت میں“ کے الفاظ ہیں، اور حسن نے «سمتا وهديا ودلا» (طور طریق اور چال ڈھال) کا ذکر نہیں کیا ہے) وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ کھڑے ہو کر ان سے ملتے تھے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیتے، ان کو بوسہ دیتے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی تھی، آپ کا ہاتھ تھام لیتیں، آپ کو بوسہ دیتیں، اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب ماجا فی القیام؛کسی کے لیے کھڑا ہونا؛جلد٤،ص٣٥٥،حدیث نمبر ٥٢١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین (حسین بن علی رضی اللہ عنہما) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے: میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا“ (پیار و شفقت رحم ہی تو ہے)۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قُبْلَةِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ؛آدمی اپنے بچے کا بوسہ لے اس کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٥،حدیث نمبر ٥٢١٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے“ اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں، تو اس وقت میرے والدین نے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو چوم لو، میں نے کہا: میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں (کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں) نہ کہ آپ دونوں کی تعریف کروں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قُبْلَةِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ؛آدمی اپنے بچے کا بوسہ لے اس کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٥،حدیث نمبر ٥٢١٩)
امام شعبی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گلے لگا لیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قُبْلَةِ مَا بَيْنَ الْعَيْنَيْنِ؛آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٦،حدیث نمبر ٥٢٢٠)
ایاس بن دغفل بیان کرتے ہیں میں نے نضرہ کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے رخسار پر بوسہ دیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قُبْلَةِ الخد؛جلد٤،ص٣٥٦،حدیث نمبر ٥٢٢١)
حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو بوسہ دیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قُبْلَةِ الخد؛جلد٤،ص٣٥٦،حدیث نمبر ٥٢٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ ایک واقعہ منقول ہے،جس میں یہ الفاظ ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دست بوسی کی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قُبْلَةِ الید؛جلد٤،ص٣٥٦،حدیث نمبر ٥٢٢٣)
حضرت اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی ماری، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”بدلہ لے لو“ تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قُبْلَةِ الجسد؛جلد٤،ص٣٥٦،حدیث نمبر ٥٢٢٤)
زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے، اور منذر اشج انتظار میں رہے یہاں تک کہ وہ اپنے کپڑے کے صندوق کے پاس آئے اور دو کپڑے نکال کر پہن لیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں: ایک بردباری اور دوسری وقار و متانت“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ دونوں خصلتیں جو مجھ میں ہیں میں نے اختیار کیا ہے؟ (کسبی ہیں) (یا وہبی) اللہ نے مجھ میں پیدائش سے یہ خصلتیں رکھی ہیں، آپ نے فرمایا: بلکہ اللہ نے پیدائش سے ہی تم میں یہ خصلتیں رکھی ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا جن دونوں کو اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قُبْلَةِ الرَجلِ؛جلد٤،ص٣٥٧،حدیث نمبر ٥٢٢٥)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی، اے ابوذر! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ،!میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہو جاؤں " (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؛آدمی کسی سے کہے ”اللہ مجھے آپ پر فدا کرے“ تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٥٧،حدیث نمبر ٥٢٢٦)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: «أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا» ”اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور صبح خوشگوار بنائے“ لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں اس طرح کہنے سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر کہتے ہیں: «أنعم الله بك عينا» کہنا مکروہ ہے اور «أنعم الله عينك» کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا؛آدمی یہ کہے کہ ”اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے“۔؛جلد٤،ص٣٥٧،حدیث نمبر ٥٢٢٧)
حضرت عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا (آپ کو چھوڑ کر نہ گیا) تو آپ نے فرمایا: " جو تم نے اللہ کے نبی کی حفاظت کی ہے اس کی بناء پر اللہ تعالی تمہاری بھی حفاظت کرے" (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ حَفِظَكَ اللَّهُ؛آدمی کسی کو «حفظك الله» ”اللہ تم کو اپنی حفاظت میں رکھے“ کہے اس کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٨،حدیث نمبر ٥٢٢٨)
ابومجلز کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ابن زبیر اور ابن عامر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو ابن عامر کھڑے ہو گئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، حضرت معاویہ نے ابن عامر سے کہا: بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو شخص یہ بات پسند کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے رہیں اسے جہنم میں ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ؛ایک شخص دوسرے شخص کے احترام میں کھڑا ہو جائے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٥٨،حدیث نمبر ٥٢٢٩)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصا سے ٹیک لگا کر ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑے ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم لوگ اس طرح کھڑے نہ ہو جس طرح عجمی کھڑے ہوتے ہیں، جن میں کوئی ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہوتا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ؛ایک شخص دوسرے شخص کے احترام میں کھڑا ہو جائے تو کیسا ہے؟؛جلد٤،ص٣٥٨،حدیث نمبر ٥٢٣٠)
غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: ”آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو“ میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ؛آدمی کا یہ کہنا کہ فلاں تمہیں سلام کہہ رہا ہے تو جواب میں کیا کہے؟؛جلد٤،ص٣٥٨،حدیث نمبر ٥٢٣١)
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ”ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ؛آدمی کا یہ کہنا کہ فلاں تمہیں سلام کہہ رہا ہے تو جواب میں کیا کہے؟؛جلد٤،ص٣٥٩،حدیث نمبر ٥٢٣٢)
حضرت ابوعبدالرحمٰن فہری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، ہم سخت گرمی کے دن میں چلے، پھر ایک درخت کے سایہ میں اترے، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اس وقت آپ اپنے خیمہ میں تھے، میں نے کہا: «السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته» کوچ کا وقت ہو چکا ہے، آپ نے فرمایا: ہاں، پھر آپ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو، یہ سنتے ہی بلال ایک درخت کے نیچے سے اچھل کر نکلے ان کا سایہ گویا پرندے کے سایہ جیسا تھا(ضعف کی طرف اشارہ ہے) انہوں نے کہا: «لبيك وسعديك وأنا فداؤك» ”میں حاضر ہوں، حکم فرمائیے، میں آپ پر فدا ہوں“ آپ نے فرمایا: ”میرے گھوڑے پر زین کس دو“ تو انہوں نے زین اٹھایا جس کے دونوں کنارے خرما کے پوست کے تھے، نہ ان میں بڑائی کی کوئی بات تھی نہ نمایاں کرنے کا پہلو تھا،پھر آپ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے (اور چل پڑے) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن فہری سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور یہ ایک عمدہ اور قابل قدر حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يُنَادِي الرَّجُلَ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ؛آدمی کسی کو پکارے تو اس کے جواب میں «لبيك» کہنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٥٩،حدیث نمبر ٥٢٣٣)
ابن کنانہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے «أضحك الله سنك» ”اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے“ کہا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؛آدمی کسی کو کہے «أضحك الله سنك» ”اللہ تجھے ہنستا رکھے“؛جلد٤،ص٣٥٩،حدیث نمبر ٥٢٣٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا: عبداللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ مرمت کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی سے ہوگا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ؛ مکان بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٠،حدیث نمبر ٥٢٣٥)
ایک اور سند کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہو گیا تھا، آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ ہم نے کہا: ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مگر میں تو معاملہ (موت) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ؛ مکان بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٠،حدیث نمبر ٥٢٣٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں تشریف لے جا رہے تھے (راہ میں)ایک اونچا گھر دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ: آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ (مکان) دیکھا تھا (شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے (توڑ تاڑ کر) زمین کے برابر کر دیا، پھر ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا: وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا: مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بے التفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتا دیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا: ”سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ؛ مکان بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٠،حدیث نمبر ٥٢٣٧)
حضرت دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا: عمر! جاؤ اور انہیں دے دو، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے ڈب میں سے چابی لی اور اسے کھولا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي اتِّخَاذِ الْغُرَفِ؛بالاخانے بنانے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٠،حدیث نمبر ٥٢٣٨)
حضرت عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا“۔ امام ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ: یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے (تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَطْعِ السِّدْرِ؛بیر کے درخت کاٹنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦١،حدیث نمبر ٥٢٣٩)
عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَطْعِ السِّدْرِ؛بیر کے درخت کاٹنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦١،حدیث نمبر ٥٢٤٠)
حسان بن ابراہیم بیان کرتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے گھر سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا: ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا: اے عراقی (بھائی) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ ”بدعت“ تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَطْعِ السِّدْرِ؛بیر کے درخت کاٹنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦١،حدیث نمبر ٥٢٤١)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور انسان کو چاہیئے کہ ہر جوڑ کی طرف سے کچھ نہ کچھ صدقہ دے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اتنی طاقت کس کو ہے؟ آپ نے فرمایا: ”مسجد میں پڑی ہوئی تھوک کو دفن کردینا اور (موذی) چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہارے لیے کافی ہیں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ؛راستے سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹا دینے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٢،حدیث نمبر ٥٢٤٢)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزانہ ابن آدم کے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے، تو اس کا ملنے والے کو سلام کر لینا بھی صدقہ ہے، اس کا معروف (اچھی بات) کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے اور منکر (بری بات) سے روکنا بھی صدقہ ہے، اس کا راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، اور اس کا اپنی بیوی سے ہمبستری بھی صدقہ ہے“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو اس سے اپنی شہوت پوری کرتا ہے، پھر بھی صدقہ ہو گا؟ (یعنی اس پر اسے ثواب کیونکر ہو گا) تو آپ نے فرمایا: ”کیا خیال ہے تمہارا اگر وہ اپنی خواہش (بیوی کے بجائے) کسی اور کے ساتھ پوری کرتا تو گنہگار ہوتا یا نہیں؟“ (جب وہ غلط کاری کرنے پر گنہگار ہوتا تو صحیح جگہ استعمال کرنے پر اسے ثواب بھی ہو گا) اس کے بعد آپ نے فرمایا: اشراق کی دو رکعتیں ان تمام کی طرف سے کافی ہو جائیں گی (یعنی صدقہ بن جائیں گی)۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: حماد نے اپنی روایت میں امر و نہی (کے صدقہ ہونے) کا ذکر نہیں کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ؛راستے سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹا دینے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٢،حدیث نمبر ٥٢٤٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ؛راستے سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹا دینے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٢،حدیث نمبر ٥٢٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا کانٹے کی ایک ڈالی راستے پر سے ہٹا دی، یا تو وہ ڈالی درخت پر (جھکی ہوئی) تھی (آنے جانے والوں کے سروں سے ٹکراتی تھی) اس نے اسے کاٹ کر الگ ڈال دیا، یا اسے کسی نے راستے پر ڈال دیا تھا اور اس نے اسے ہٹا دیا تو اللہ اس کے اس کام سے خوش ہوا اور اسے جنت میں داخل کر دیا“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ؛راستے سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹا دینے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٢،حدیث نمبر ٥٢٤٥)
سالم اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: "سوتے وقت تم اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو" (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِطْفَاءِ النَّارِ بِاللَّيْلِ؛رات میں آگ بجھا کر سونے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٣،حدیث نمبر ٥٢٤٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، (یہ دیکھ کر) آپ نے فرمایا: ”جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان اس طرح کے جانوروں کی اس نوعیت کے کاموں کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور وہ چیزوں کو جلا دیتے ہیں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي إِطْفَاءِ النَّارِ بِاللَّيْلِ؛رات میں آگ بجھا کر سونے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٣،حدیث نمبر ٥٢٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب سے ہم نے ان کے ساتھ لڑائی شروع کی ہے، ہم نے انہیں سلامت نہیں رہنے دیا، جو شخص ڈر کی وجہ سے ان میں سے کسی کو چھوڑ دے گا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٣،حدیث نمبر ٥٢٤٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "ہر طرح کے سانپوں کو مار دو، جو شخص ان کے بدلے سے ڈرے، وہ مجھ سے نہیں ہے"۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٣،حدیث نمبر ٥٢٤٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص سانپوں کو صرف اس لیے چھوڑ دے کہ کہیں وہ ہمارے پیچھے نہ پڑ جائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہم نے ان کے ساتھ لڑائی کی ہے ہم نے ان کے ساتھ صلح نہیں کی"۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٣،حدیث نمبر ٥٢٥٠)
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ہم زمزم کو صاف کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس میں یہ چھوٹے چھوٹے سانپ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار دینے کا حکم دیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٣،حدیث نمبر ٥٢٥١)
سالم اپنے والد(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ)کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تمام سانپوں کو مار دو اور دو دھاری اور دم کٹے ہوئے کو بھی مار دو، کیونکہ وہ نظر کو زائل کر دیتے ہیں اور حمل ضائع کر دیتے ہیں۔" حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو جو بھی سانپ ملتا تھا وہ اسے مار دیتے تھے، ایک مرتبہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ یا حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا وہ اس وقت ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے، انہوں نے بتایا گھر میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٤،حدیث نمبر ٥٢٥٢)
حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے، البتہ ان سانپوں کا حکم مختلف ہے جو دو دھاری ہوتے ہیں یا جن کی دم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ نظر کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں موجود (حمل کو) ضائع کر دیتے ہیں۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٤،حدیث نمبر ٥٢٥٣)
نافع بیان کرتے ہیں اس کے بعد یعنی حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں ایک سانپ دیکھا تو اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے گھر سے باہر کی جانب نکال دیا گیا، یعنی کھلے میدان کی جانب نکال دیا گیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٤،حدیث نمبر ٥٢٥٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، نافع بیان کرتے ہیں: میں نے ان کے گھر میں سانپ دیکھا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٤،حدیث نمبر ٥٢٥٥)
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے (وہ ان کے پاس چلے گئے) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس (مسجد) میں آ گئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں ان کو دیکھے، تو وہ تین مرتبہ ان کو تنبیہ کرے، اگر وہ پھر نظر آئے تو اسے مار دے، کیونکہ وہ شیطان ہوگا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٤،حدیث نمبر ٥٢٥٦)
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے (جھانک کر) دیکھا تو (وہاں) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا،حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ (کیوں کھڑے ہو گئے) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا (چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی (ساتھی) کو لوٹا دے، (زندہ کر دے) آپ نے فرمایا: ”اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو“ پھر آپ نے فرمایا: ”مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو (سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٥،حدیث نمبر ٥٢٥٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اس کے بعد اگر اسے مناسب لگے تو اسے مار دے کیونکہ وہ شیطان ہوگا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٥،حدیث نمبر ٥٢٥٨)
ابو سائب بیان کرتے ہیں وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے، جو اس سے زیادہ مکمل ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: تم تین دن تک اسے تنبیہ کرو، اس کے بعد اگر تمہیں مناسب لگے، تو اسے مار دو، کیونکہ وہ شیطان ہوگا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٥،حدیث نمبر ٥٢٥٩)
عبدالرحمن بن ابو لیلی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " گھروں سے نکل آنے والے سانپوں کے بارے میں اپنے گھر میں دیکھو،تو یہ کہو میں تمہیں اس عہد کا واسطہ دیتا ہوں جو حضرت نوح علیہ السلام نے تم سے لیا تھا اور میں تمہیں اس عہد کا واسطہ دیتا ہوں جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے تم سے لیا تھا کہ تم ہمیں ایذا نہ پہنچانا، اگر وہ پھر سامنے آئے تو تم انہیں مار دینا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٦،حدیث نمبر ٥٢٦٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "ہر قسم کے سانپ کو مار دیا کرو سوائے ایسے سفید سانپ کے جو چاندی کی چھڑی کی مانند ہو۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ؛سانپوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٦،حدیث نمبر ٥٢٦١)
عامر بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا ہے اور اسے چھوٹے فاسق کا نام دیا ہے۔" (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الأَوْزَاغِ؛چھپکلی مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٦،حدیث نمبر ٥٢٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چھپکلی کو پہلے ہی وار میں قتل کر دیا اس کو اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، اور جس نے دوسرے وار میں اسے قتل کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، پہلے سے کم، اور جس نے تیسرے وار میں اسے ہلاک کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی دوسرے وار سے کم“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الأَوْزَاغِ؛چھپکلی مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٦،حدیث نمبر ٥٢٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھپکلی کو پہلے وار میں مارنے سے ستر نیکیاں ہیں“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الأَوْزَاغِ؛چھپکلی مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٦،حدیث نمبر ٥٢٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا، ایک چیونٹی نے انہیں کاٹ لیا، ان کے حکم کے تحت ان کے نیچے سے چیونٹیوں کا بل نکالا گیا اور پھر انہیں جلا دیا گیا، تو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی کی: تم نے صرف ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہیں مارا۔" (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَتْلِ الذَّرِّ؛چیونٹی مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٦،حدیث نمبر ٥٢٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "ایک چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹ لیا، تو انہوں نے چیونٹیوں کی بستی کو جلا دینے کا حکم دے دیا، تو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی کی:کیا ایک چيونٹی کو تمہیں کاٹنے کی وجہ سے تم نے پوری امت کو ہلاک کر دیا، جو تسبیح کرتی تھی۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَتْلِ الذَّرِّ؛چیونٹی مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٧،حدیث نمبر ٥٢٦٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کو مارنے سے منع کیا ہے، چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صرد۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَتْلِ الذَّرِّ؛چیونٹی مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٧،حدیث نمبر ٥٢٦٧)
حضرت عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور (انہیں حاصل کرنے کے لیے) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا: ”کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو“، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا: ”آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے“۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي قَتْلِ الذَّرِّ؛چیونٹی مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٧،حدیث نمبر ٥٢٦٨)
عبدالرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں ایک طبیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کے بارے میں دریافت کیا: جس سے وہ دوائی میں شامل کرتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مینڈک کو مارنے سے منع کیا۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛ باب فِي قَتْلِ الضِّفْدَعِ؛مینڈک مارنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٨،حدیث نمبر ٥٢٦٩)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس کے ذریعے کوئی شکار نہیں ہوتا اور نہ ہی دشمن زخمی ہوتا ہے یہ آنکھ پھوڑ دیتی ہے یا دانت توڑ دیتی ہے"۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الْخَذْفِ؛کنکریاں پھینکنے کی ممانعت؛جلد٤،ص٣٦٨،حدیث نمبر ٥٢٧٠)
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” ختنہ گہرا نہ کیا کرو“ کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبیداللہ بن عمرو سے مروی ہے انہوں نے عبدالملک سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، وہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْخِتَانِ؛ختنہ کرنے کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٨،حدیث نمبر ٥٢٧١)
حمزہ بن ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: ”تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے“ پھر تو ایسا ہو گیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے (دوپٹے وغیرہ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي مَشْىِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ فِي الطَّرِيقِ؛عورتیں مردوں کے ساتھ راستہ میں کس طرح چلیں؟؛جلد٤،ص٣٦٩،حدیث نمبر ٥٢٧٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مرد،عورتوں کے درمیان چلے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي مَشْىِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ فِي الطَّرِيقِ؛عورتیں مردوں کے ساتھ راستہ میں کس طرح چلیں؟؛جلد٤،ص٣٦٩،حدیث نمبر ٥٢٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم مجھے ایذاء دیتا ہے، جب وہ زمانے کو برا کہتا ہے، حالانکہ میں زمانہ ہوں۔ زمانہ میرے دست قدرت میں ہے،میں رات اور دن کو پیدا کرتا ہوں"۔ ابن سرح نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:ابن مسیب سے منقول ہے۔ ابن سرح نے "سعید" کی جگہ ابن مسیب نقل کیا ہے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ (ابی داؤد؛أَبْوَاب النَّوْمِ؛سونے سے متعلق احکام و مسائل؛باب فِي الرَّجُلِ يَسُبُّ الدَّهْرَ؛زمانے کو برا بھلا کہنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٤،ص٣٦٩،حدیث نمبر ٥٢٧٤)
Abu Dawood Shareef : Abwabun Naom
|
Abu Dawood Shareef : ابواب النوم
|
•