
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اوپر افسوس ہے!ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں (دیتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم سمندروں کے پار بھی جو عمل کرو گے تو اللہ تعالی تمہارے عمل میں سے کسی بھی چیز کو( اجر و ثواب کے بغیر) ترک نہیں کرے گا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ کتاب: جہاد کے مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ؛ہجرت کا ذکر اور صحراء و بیابان میں رہائش کا بیان؛جلد٣،ص٣؛حدیث نمبر؛٢٤٧٧)
مقداد بن شریح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء و بیابان (میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: ”عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛جہاد کے مسائل؛باب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ؛ہجرت کا ذکر اور صحراء و بیابان میں رہائش کا بیان؛جلد٣،ص٣؛حدیث نمبر؛٢٤٧٨)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛جہاد کے مسائل؛باب فِي الْهِجْرَةِ هَلِ انْقَطَعَتْ؛کیا ہجرت ختم ہو گئی؟؛جلد٣،ص٣؛حدیث نمبر؛٢٤٧٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح (مکہ) کے دن فرمایا: ”اب (مکہ فتح ہو جانے کے بعد مکہ سے) ہجرت نہیں (کیونکہ مکہ خود دارالاسلام ہو گیا) لیکن جہاد اور (ہجرت کی) نیت باقی ہے، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛جہاد کے مسائل؛باب فِي الْهِجْرَةِ هَلِ انْقَطَعَتْ؛کیا ہجرت ختم ہو گئی؟؛جلد٣،ص٣؛حدیث نمبر؛٢٤٨٠)
عامر شعبی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے یہاں تک کہ وہ بھی آ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛جہاد کے مسائل؛باب فِي الْهِجْرَةِ هَلِ انْقَطَعَتْ؛کیا ہجرت ختم ہو گئی؟؛جلد٣،ص٤؛حدیث نمبر؛٢٤٨١)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ (شام) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی،لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی نہیں ہوگی کہ وہ نکلیں اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛جہاد کے مسائل؛باب فِي سُكْنَى الشَّامِ؛شام میں رہنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٤؛حدیث نمبر؛٢٤٨٢)
حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عنقریب یہ صورتحال ہوگی کہ کئی لشکر اکھٹے ہوں گے ان میں سے ایک لشکرشام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں“۔ ابن حوالہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس میں رہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر شام کو لازم کر لو، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛جہاد کے مسائل؛باب فِي سُكْنَى الشَّامِ؛شام میں رہنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٤؛حدیث نمبر؛٢٤٨٣)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛جہاد کے مسائل؛باب فِي دَوَامِ الْجِهَادِ؛جہاد کے ہمیشہ رہنے کا بیان؛جلد٣،ص٤؛حدیث نمبر؛٢٤٨٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے، نیز وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي ثَوَابِ الْجِهَادِ؛جہاد کے ثواب کا بیان؛جلد٣،ص٤؛حدیث نمبر؛٢٤٨٥)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ السِّيَاحَةِ؛سیاحت کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٤؛حدیث نمبر؛٢٤٨٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد سے لوٹنا(ثواب میں)جہاد ہی کی طرح ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فَضْلِ الْقَفْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى؛جہاد سے (فارغ ہو کر) لوٹنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٥؛حدیث نمبر؛٢٤٨٧)
قیس بن شماس کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، ایک صحابی نے اس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے“، وہ کہنے لگی: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فَضْلِ قِتَالِ الرُّومِ عَلَى غَيْرِهِمْ مِنَ الأُمَمِ؛دوسری قوموں کے مقابلے میں رومیوں سے لڑنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٥؛حدیث نمبر؛٢٤٨٨)
حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا سفر نہ کرے مگر حج کرنے والا، یا عمرہ کرنے والا، یا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور اس آگ کے نیچے سمندر ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي رُكُوبِ الْبَحْرِ فِي الْغَزْوِ؛جہاد کے لیے سمندر کے سفر کا بیان؛جلد٣،ص٥؛حدیث نمبر؛٢٤٨٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بہن ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں قیلولہ کیا، پھر بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ فرمایا: ”میں نے اپنی امت میں سے چند لوگوں کو دیکھا جو اس سمندر کی پشت پر سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا کیجئے، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے، فرمایا: ”تو انہیں میں سے ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا کیجئے، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پہلے لوگوں میں سے ہے“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے شادی کی، پھر انہوں نے سمندر میں جہاد کیا توا نہیں بھی اپنے ساتھ لے گئے، جب لوٹے تو ایک خچر ان کی سواری کے لیے ان کے قریب لایا گیا، تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ انتقال کر گئیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٥؛حدیث نمبر؛٢٤٩٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے، یہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی جوئیں نکالنے لگیں ، اور آگے راوی نے یہی حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: بنت ملحان کا انتقال قبرص میں ہوا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٦؛حدیث نمبر؛٢٤٩١)
عطاء بن یسار،سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بہن سیدہ رمیصاء رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے پھر بیدار ہوئے، اور وہ اپنا سر دھو رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ میرے سر کی وجہ سے ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کی۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: رمیصاء ام سلیم کی رضاعی بہن تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٦؛حدیث نمبر؛٢٤٩٢)
ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر میں سوار ہونے سے جس کا سر گھومے اور اسے قے آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے، اور جو ڈوب جائے تو اس کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٧؛حدیث نمبر؛٢٤٩٣)
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے افراد ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے: ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف چلا، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، تیسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہوا، اللہ اس کا بھی ضامن ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٧؛حدیث نمبر؛٢٤٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"جہنم میں کافر اور اس کا قاتل کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فَضْلِ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا؛کافر کو قتل کرنے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٧؛حدیث نمبر؛٢٤٩٥)
ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجاہدین کی بیویوں کی حرمت جہاد سے بیٹھے رہنے والے لوگوں پر ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی حرمت ہے، اور جو خانہ نشین مرد مجاہدین کے گھربار کی خدمت میں رہے، پھر ان کے اہل میں خیانت کرے تو قیامت کے دن ایسا شخص کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اس شخص نے تیرے اہل و عیال میں تیری خیانت کی اب تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے“، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”پھر تم کیا سمجھتے ہو؟“ ابوداؤد کہتے ہیں: قعنب ایک نیک آدمی تھے، ابن ابی لیلیٰ نے قعنب کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس سے انکار کیا، اور کہا کہ میں ایک درہم میں اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس میں کسی آدمی کی مدد لے سکوں، پھر کہا: کون ہے جو اپنی ضرورت کے لیے کسی سے مدد نہیں لیتا، پھر عرض کیا: تم لوگ مجھے نکال دو یہاں تک کہ میں دیکھوں (کہ کیسے میری ضرورت پوری ہوتی ہے) تو انہیں نکال دیا گیا، پھر وہ (ایک مکان میں) چھپ گئے، سفیان کہتے ہیں: اسی دوران کہ وہ چھپے ہوئے تھے وہ مکان ان پر گر پڑا اور وہ مر گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ؛جہاد میں حصہ نہ لینے والے لوگوں پر مجاہدین کی بیویوں کی حرمت کا بیان؛جلد٣،ص٨؛حدیث نمبر؛٢٤٩٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجاہدین کی کوئی جماعت ایسی نہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتی ہو پھر مال غنیمت حاصل کرتی ہو، مگر آخرت کا دو تہائی ثواب اسے پہلے ہی دنیا میں حاصل ہو جاتا ہے، اور ایک تہائی (آخرت کے لیے) باقی رہتا ہے، اور اگر اسے مال غنیمت نہیں ملا تو آخرت میں ان کے لیے مکمل ثواب ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّرِيَّةِ تَخْفِقُ؛مال غنیمت کے بغیر واپس ہونے والے لشکر کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٨؛حدیث نمبر؛٢٤٩٧)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دوران جہاد)نماز، روزہ اور ذکر الٰہی (کا ثواب) جہاد میں خرچ کے ثواب پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي تَضْعِيفِ الذِّكْرِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى؛جہاد میں ذکر الٰہی کا ثواب دوگنا ہو جاتا ہے؛جلد٣،ص٨؛حدیث نمبر؛٢٤٩٨)
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا پھر وہ مر گیا، یا مار ڈالا گیا تو وہ شہید ہے، یا اس کے گھوڑے یا اونٹ نے اسے روند دیا، یا کسی سانپ اور بچھو نے ڈنک مار دیا، یا اپنے بستر پہ، یا موت کے کسی بھی سبب سے جسے اللہ نے چاہا مر گیا، تو وہ شہید ہے، اور اس کے لیے جنت ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ مَاتَ غَازِيًا؛جہاد کرتے ہوئے مر جانے والے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٨؛حدیث نمبر؛٢٤٩٩)
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فَضْلِ الرِّبَاطِ؛سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٩؛حدیث نمبر؛٢٥٠٠)
حضرت سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین کے موقع پر سفر کر تھے اور بہت ہی تیزی کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ شام ہو گئی، میں نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اتنے میں ایک سوار نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں آپ لوگوں کے آگے گیا، یہاں تک کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ سب کے سب اپنی عورتوں، چوپایوں اور بکریوں کے ساتھ بھاری تعداد میں مقام حنین میں جمع ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”ان شاءاللہ یہ سب کل ہم مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گے“، پھر فرمایا: ”رات میں ہماری پہرہ داری کون کرے گا؟“ انس بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سوار ہو جاؤ“، چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھاٹی میں جاؤ یہاں تک کہ اس کی بلندی پہ پہنچ جاؤ اور آج رات تمہاری طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے“، جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر آئے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا: ”تم نے اپنے سوار کو دیکھا؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے نہیں دیکھا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس علاقے کی طرف توجہ دیتے جارہے تھے ، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے اور سلام پھیرا تو فرمایا: ”خوش ہو جاؤ! تمہارا سوار آ گیا“، ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے، یکایک وہی سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور سلام کیا اور کہنے لگا: میں گھاٹی کے بالائی حصہ پہ چلا گیا تھا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو جب صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں دکھائی پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم آج رات گھوڑے سے اترے تھے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ نماز پڑھنے کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے اترا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم نے اپنے لیے جنت کو واجب کر لیا، اب اگر اس کے بعد تم(کوئی نفلی)عمل نہ کرو تو تمہیں کچھ نقصان نہ ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فَضْلِ الْحَرْسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى؛اللہ کی راہ میں پہرہ دینے کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص٩؛حدیث نمبر؛٢٥٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب كَرَاهِيَةِ تَرْكِ الْغَزْوِ؛جہاد نہ کرنے کی مذمت کا بیان؛جلد٣،ص١٠؛حدیث نمبر؛٢٥٠٢)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبرگیری نہ کی تو اللہ اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا“، یزید بن عبداللہ کی روایت میں «قبل يوم القيامة» ”قیامت سے پہلے“ کا اضافہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب كَرَاهِيَةِ تَرْكِ الْغَزْوِ؛جہاد نہ کرنے کی مذمت کا بیان؛جلد٣،ص١٠؛حدیث نمبر؛٢٥٠٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکوں سے اپنے اموال، اپنی جانوں اور زبانوں سے جہاد کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب كَرَاهِيَةِ تَرْكِ الْغَزْوِ؛جہاد نہ کرنے کی مذمت کا بیان؛جلد٣،ص١٠؛حدیث نمبر؛٢٥٠٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالی ہے)"اگر تم نہیں نکلو گے تو تمہیں دردناک عذاب دے گا"(توبہ ٣٩) (ارشاد باری تعالی ہے)" اہل مدینہ کے لیے یہ جائز نہیں ہے"(توبہ ١٢٠)"یہ آیت یہاں تک ہے" جو وہ عمل کرتے ہیں"(توبہ ١٢٠) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس کے بعد والی آیت نے اسے منسوخ کر دیا ہے(وہ آیت یہ ہے) "مومنوں کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ سب کے سب روانہ ہو جائے"(توبہ ١٢٢) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَسْخِ نَفِيرِ الْعَامَّةِ بِالْخَاصَّةِ؛جہاد کے لیے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی؛جلد٣،ص١١؛حدیث نمبر؛٢٥٠٥)
نجدہ بن نفیع بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا "اگر تم لوگ نہیں روانہ ہو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا"(توبہ ٣٩) راوی بیان کرتے ہیں اس کے بعد ان پر بارش رک گئی تو یہ ان کے لیے عذاب تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَسْخِ نَفِيرِ الْعَامَّةِ بِالْخَاصَّةِ؛جہاد کے لیے سارے آدمیوں کا نکلنا منسوخ ہے صرف مخصوص جماعت جہاد کرے گی؛جلد٣،ص١١؛حدیث نمبر؛٢٥٠٦)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا اسی دوران آپ وحی کی کیفیت طاری ہوئی تھا(اسی دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑ گئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”لکھو“، میں نے شانہ (کی ایک ہڈی) پر «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں“ (سورۃ النساء: ۹۵) آخر آیت تک لکھ لیا، عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ (ایک نابینا شخص تھے) نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا حال ہے؟ جب انہوں نے اپنی بات پوری کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہی کیفیت طاری ہوئی(وحی اترنے لگی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑی تو میں نے اس کا بھاری پن پھر دوسری بار محسوس کیا جس طرح پہلی بار محسوس کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”زید! پڑھو“، تو میں نے «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» پوری آیت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «غير أولي الضرر»(وہ لوگ جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو) کا اضافہ فرمایا، زید کہتے ہیں: تو «غير أولي الضرر» کو اللہ نے الگ سے نازل کیا، میں نے اس کو اس کے ساتھ شامل کر دیا، اللہ کی قسم! گویا میں شانہ کے دراز کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے شامل کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي الْقُعُودِ مِنَ الْعُذْرِ؛عذر کی بنا پر جہاد میں نہ جانے کی اجازت کا بیان؛جلد٣،ص١١؛حدیث نمبر؛٢٥٠٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مدینہ میں کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آئے کہ تم کوئی قدم نہیں چلے یا کچھ خرچ نہیں کیا یا کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ تمہارے ساتھ رہے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ ہمارے ہمراہ کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں عذر نے روک رکھا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي الْقُعُودِ مِنَ الْعُذْرِ؛عذر کی بنا پر جہاد میں نہ جانے کی اجازت کا بیان؛جلد٣،ص١٢؛حدیث نمبر؛٢٥٠٨)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَزْوِ؛جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟؛جلد٣،ص١٢؛حدیث نمبر؛٢٥٠٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو“، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: ”تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَزْوِ؛جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟؛جلد٣،ص١٢؛حدیث نمبر؛٢٥١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی میں پائی جانے والی سب سے بری چیز انتہا کو پہنچی ہوئی بخیلی اور سخت بزدلی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْجُرْأَةِ وَالْجُبْنِ؛بہادری اور بزدلی کا بیان؛جلد٣،ص١٢؛حدیث نمبر؛٢٥١١)
اسلم ابوعمران کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے جہاد کے لیے چلے، ہم قسطنطنیہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور جماعت (اسلامی لشکر) کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید تھے، اور رومی شہر (قسطنطنیہ) کی دیواروں سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے تھےتو ہم میں سے ایک دشمن پر چڑھ دوڑا تو لوگوں نے کہا: رکو، رکو، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہ تو اپنی جان ہلاکت میں ڈال رہا ہے، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں اتری، جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا تو ہم نے اپنے دلوں میں کہا (اب جہاد کی کیا ضرورت ہے) آؤ اپنے مالوں میں رہیں اور اس کی دیکھ بھال کریں، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ”اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ (سورۃ البقرہ: ۱۹۵) اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں میں مصروف رہیں، ان کی فکر کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔ ابوعمران کہتے ہیں: ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى { وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ }آیت کریمہ «ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» کی تفسیر؛جلد٣،ص١٢؛حدیث نمبر؛٢٥١٢)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے: ایک اس کے بنانے والے کو جو ثواب کے ارادہ سے بنائے، دوسرے اس کے چلانے والے کو، اور تیسرے اٹھا کر دینے والے کو، تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا، مجھے سواری کرنے سے زیادہ پسند ہے، لہو و لعب میں سے صرف تین طرح کا لہو و لعب جائز ہے: ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو ادب سکھانا، دوسرے اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا، تیسرے اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرنا اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دیا، تو یہ ایک نعمت ہے جسے اس نے چھوڑ دیا“، یا راوی نے کہا: ”جس کی اس نے ناشکری کی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّمْىِ؛تیر اندازی کا بیان؛جلد٣،ص١٣؛حدیث نمبر؛٢٥١٣)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: آپ آیت کریمہ «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ”تم ان کے مقابلہ کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو“ (سورۃ الأنفال: ۶۰) پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”سن لو، قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّمْىِ؛تیر اندازی کا بیان؛جلد٣،ص١٣؛حدیث نمبر؛٢٥١٤)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد دو طرح کے ہیں: رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی، امام کی اطاعت کی، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا، امام کی نافرمانی کی، اور زمین میں فساد مچایا تو وہ برابری کے ساتھ واپس نہیں اتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي مَنْ يَغْزُو وَيَلْتَمِسُ الدُّنْيَا؛دنیا طلبی کی خاطر جہاد کرنے والے کا بیان؛جلد٣،ص١٣؛حدیث نمبر؛٢٥١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی فائدے کے حصول چاہتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں“، لوگوں نے اسے بڑی بات سمجھی اور اس شخص سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو، شاید تم انہیں نہ سمجھا سکے ہو، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و اسباب چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں“، لوگوں نے اس شخص سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو، اس نے آپ سے تیسری بار پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي مَنْ يَغْزُو وَيَلْتَمِسُ الدُّنْيَا؛دنیا طلبی کی خاطر جہاد کرنے والے کا بیان؛جلد٣،ص١٤؛حدیث نمبر؛٢٥١٦)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: کوئی شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے کوئی جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے، کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ مال غنیمت پائے اور کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ اس کے مرتبہ کا اظہار ہو سکے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے صرف اس لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے تو وہی اصل مجاہد ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا؛اللہ کا کلمہ (یعنی دین) کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان؛جلد٣،ص١٤؛حدیث نمبر؛٢٥١٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا؛اللہ کا کلمہ (یعنی دین) کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان؛جلد٣،ص١٤؛حدیث نمبر؛٢٥١٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب (ثواب کی نیت رکھنے والا) بنا کر اٹھائے گا، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا؛اللہ کا کلمہ (یعنی دین) کو بلند کرنے کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان؛جلد٣،ص١٤؛حدیث نمبر؛٢٥١٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کر لی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا“، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ”جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے جائیں تم انہیں مردہ ہرگز گمان نہ کرو“ (سورۃ آل عمران: ۱۶۹) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ؛شہادت کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص١٥؛حدیث نمبر؛٢٥٢٠)
حسناء بنت معاویہ صریمیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جنت میں کون ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، (نابالغ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ؛شہادت کی فضیلت کا بیان؛جلد٣،ص١٥؛حدیث نمبر؛٢٥٢١)
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (ولید بن رباح کے بجائے) صحیح رباح بن ولید ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الشَّهِيدِ يُشَفَّعُ؛شہید کی شفاعت کی قبولیت کا بیان؛جلد٣،ص١٥؛حدیث نمبر؛٢٥٢٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتا رہا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النُّورِ يُرَى عِنْدَ قَبْرِ الشَّهِيدِ؛شہید کی قبر پر دکھائی دینے والی روشنی کا بیان؛جلد٣،ص١٦؛حدیث نمبر؛٢٥٢٣)
عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا، ان میں سے ایک شہید کر دیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ ہم نے جواب دیا: ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ: اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس (شہید) کی نماز کے بعد اس کی نماز،اور اس کے روزے کے بعد اس کے روزے،(یہاں روزے کے بارے میں شعبہ نامی راوی کو شک ہے،)اور اس کے عمل کے بعد اس کے عمل کا کیا ہوگا،ان دونوں کے درمیان اسمان اور زمین جتنا فاصلہ ہے“ شعبہ کو «صومه بعد صومه» اور «عمله بعد عمله» میں شک ہوا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النُّورِ يُرَى عِنْدَ قَبْرِ الشَّهِيدِ؛شہید کی قبر پر دکھائی دینے والی روشنی کا بیان؛جلد٣،ص١٦؛حدیث نمبر؛٢٥٢٤)
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تم پر شہر کے شہر فتح ہوجائیں گے اور لشکر اکٹے کیے جائیں گے ان میں سے کچھ لوگوں کو تم میں سے لیا جائے گا تو یوں ہوگا کہ تم میں سے کوئی شخص تنخواہ لیے بغیر اس لشکر میں شامل ہونا پسند نہیں کرے گا وہ اپنی قوم میں سے نکل کھڑا ہوگا اور مختلف جگہوں پر گھومتا ہوا وہ اپنے اپ کو ان کے سامنے پیش کرتا رہے گا اور یہ کہے گا کون ایسا شخص ہے جو فلاں لشکر میں اپنی جگہ مجھے بھجوانا چاہتا ہے،کون ایسا شخص ہے کہ فلاں لشکر میں اس کی جگہ میں جاتا ہوں( اور مجھے اس کا معاوضہ دیا جائے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خبردار!ایسا شخص صرف مزدور ہے خواہ وہ اپنے خون کا اخری قطرہ بھی بہا دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْجَعَائِلِ فِي الْغَزْوِ؛مزدوری پر جہاد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٦؛حدیث نمبر؛٢٥٢٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جہاد میں حصہ لینے والے کو اس کا اجر ملتا ہے اور معاوضہ دینے والے کو اس کا اجر ملتا ہے اور جہاد میں حصہ لینے والے کا حصہ بھی ملتا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب الرُّخْصَةِ فِي أَخْذِ الْجَعَائِلِ؛جہاد پر اجرت لینے کی رخصت کا بیان؛جلد٣،ص١٦؛حدیث نمبر؛٢٥٢٦)
حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا اعلان کروایا اور میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی خادم نہ تھا، تو میں نے ایک مزدور تلاش کیا جو میری خدمت کرے اور میں اس کے لیے اس کا حصہ جاری کروں، آخر میں نے ایک مزدور پا لیا، تو جب روانگی کا وقت ہوا تو وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نہیں جانتا کہ کتنے حصے ہوں گے اور میرے حصہ میں کیا آئے گا؟ لہٰذا میرے لیے کچھ مقرر کر دیجئیے خواہ حصہ ملے یا نہ ملے، لہٰذا میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دئیے، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اس کا حصہ دینا چاہا، پھر خیال آیا کہ اس کے تو تین دینار مقرر ہوئے تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا معاملہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کے لیے اس کے اس غزوہ میں دنیا و آخرت میں کچھ نہیں پاتا سوائے ان تین دیناروں کے جو متعین ہوئے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَغْزُو بِأَجِيرٍ لِيَخْدُمَ؛آدمی جہاد میں اپنے ساتھ کسی کو خدمت کے لیے اجرت پر لے جائے؛جلد٣،ص١٧؛حدیث نمبر؛٢٥٢٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی:میں ہجرت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں،میں نے اپنے ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم واپس جاؤ جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَغْزُو بِأَجِيرٍ لِيَخْدُم؛آدمی جہاد میں اپنے ساتھ کسی کو خدمت کے لیے اجرت پر لے جائے؛جلد٣،ص١٧؛حدیث نمبر؛٢٥٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں جہاد کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی اچھی طرح خدمت کرو“ امام ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابو العباس شاعر ہیں جن کا نام سائب بن فروخ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَغْزُو بِأَجِيرٍ لِيَخْدُم؛آدمی جہاد میں اپنے ساتھ کسی کو خدمت کے لیے اجرت پر لے جائے؛جلد٣،ص١٧؛حدیث نمبر؛٢٥٢٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے ہجرت کر کے آیا، آپ نے اس سے فرمایا: ”کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، میرے ماں باپ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جاؤ اور اجازت لو، اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان دونوں کی خدمت کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَغْزُو بِأَجِيرٍ لِيَخْدُم؛آدمی جہاد میں اپنے ساتھ کسی کو خدمت کے لیے اجرت پر لے جائے؛جلد٣،ص١٧؛حدیث نمبر؛٢٥٣٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کو اور انصار کی کچھ عورتوں کو جہاد میں لے جاتے تھے تاکہ وہ مجاہدین کو پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛34. باب فِي النِّسَاءِ يَغْزُونَ؛عورتیں جہاد میں جا سکتی ہیں؛جلد٣،ص١٨؛حدیث نمبر؛٢٥٣١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین باتیں ایمان کی اصل ہیں: ۱- جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس (کے قتل اور ایذاء) سے رک جانا، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا۔ ۲- جہاد جاری رہے گا جب سے اللہ نے مجھے مبعوث کیا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا، کسی بھی ظالم کا ظلم، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کر سکتا۔ ۳- تقدیر پر ایمان لانا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْغَزْوِ مَعَ أَئِمَّةِ الْجَوْرِ؛ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٨؛حدیث نمبر؛٢٥٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرے، اور نماز (جنازہ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْغَزْوِ مَعَ أَئِمَّةِ الْجَوْرِ؛ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٨؛حدیث نمبر؛٢٥٣٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: ”اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ باری باری سوار ہوں“، تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب الرَّجُلِ يَتَحَمَّلُ بِمَالِ غَيْرِهِ يَغْزُو؛دوسرے کی سواری پر جہاد کے ارادے سے سوار ہونے کا بیان؛جلد٣،ص١٨؛حدیث نمبر؛٢٥٣٤)
ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس اترے، اور مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ (بھی) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آ جائیں، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر یا میرے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا: ”اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس میں اتر چکی ہے، تو سمجھ لو کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات (کے ظہور کا وقت) قریب آ گیا ہے، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہو گی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَغْزُو يَلْتَمِسُ الأَجْرَ وَالْغَنِيمَةَ؛ثواب اور مال غنیمت کی نیت سے جہاد کرنے کا بیان؛جلد٣،ص١٩؛حدیث نمبر؛٢٥٣٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب اس شخص سے خوش ہوتا ہے جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر (میدان سے) بھاگ گئے اور وہ گناہ کے ڈر سے واپس آگیا(میدان جنگ میں)(اور لڑا) یہاں تک کہ وہ قتل کر دیا گیا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے ڈر سے لوٹ آیا یہاں تک کہ اس کا خون بہا گیا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ الَّذِي يَشْرِي نَفْسَهُ؛آدمی کا اپنے آپ کو فروخت کردینا؛جلد٣،ص١٩؛حدیث نمبر؛٢٥٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن اقیش رضی اللہ عنہ کا جاہلیت میں کچھ سود (وصول کرنا) رہ گیا تھا انہوں نے اسے بغیر وصول کئے اسلام قبول کرنا اچھا نہ سمجھا، چنانچہ (جب وصول کر چکے تو) وہ احد کے دن آئے اور پوچھا: میرے چچازاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں ہیں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، پھر انہوں نے اپنی زرہ پہنی اور گھوڑے پر سوار ہوئے، پھر ان کی جانب چلے، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا: عمرو ہم سے دور رہو، انہوں نے کہا: میں ایمان لا چکا ہوں، پھر وہ لڑے یہاں تک کہ زخمی ہو گئے اور اپنے خاندان میں زخم خوردہ اٹھا کر لائے گئے، ان کے پاس سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کی بہن سے کہا: اپنے بھائی سے پوچھو: اپنی قوم کی غیرت یا ان کی خاطر غصہ سے لڑے یا اللہ تعالیٰ کے غصے کی وجہ سے ایسا کیا، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کے غصے کی وجہ سے ایسا کیا، پھر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہو گئے، حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک نماز بھی نہیں پڑھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ يُسْلِمُ وَيُقْتَلُ مَكَانَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اسلام لا کر اسی جگہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے شخص کا بیان؛جلد٣،ص٢٠؛حدیث نمبر؛٢٥٣٧)
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے، ان کی تلوار مڑ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے وفات کر جاے(وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے؟)، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر فوت ہوا ہے“۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں نے جھوٹ کہا، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر فوت ہوا ہے، اسے دوہرا اجر ملے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ بِسِلاَحِهِ؛اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر مر جانے والے شخص کا بیان؛جلد٣،ص٢٠؛حدیث نمبر؛٢٥٣٨)
ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور پلٹ کر اسی کو لگ گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جماعت! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو“، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے، تو اسے مردہ پایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ بِسِلاَحِهِ؛اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر مر جانے والے شخص کا بیان؛جلد٣،ص٢١؛حدیث نمبر؛٢٥٣٩)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو (وقت کی) دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں: ایک اذان کے بعد کی دعا، دوسرے لڑائی کے وقت کی، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں“۔ موسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: ”اور بارش کے وقت کی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب الدُّعَاءِ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛مڈبھیڑ کے وقت دعا (کی قبولیت) کا بیان؛جلد٣،ص٢١؛حدیث نمبر؛٢٥٤٠)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی کا دودھ دوہنے، جتنا وقت جہاد میں حصہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہو گیا، یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہو گی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں (دانے) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہوگی“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى الشَّهَادَةَ؛اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگنے والے شخص کا بیان؛جلد٣،ص٢١؛حدیث نمبر؛٢٥٤١)
حضرت عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑوں کی پیشانی کے بال نہ کاٹو، اور نہ ایال یعنی گردن کے بال کاٹو، اور نہ دم کے بال کاٹو، اس لیے کہ ان کے دم ان کے لیے پنکھے ہیں، اور ان کے ایال (گردن کے بال) گرمی حاصل کرنے کے لیے ہیں اور ان کی پیشانی میں خیر بندھا ہوا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كَرَاهَةِ جَزِّ نَوَاصِي الْخَيْلِ وَأَذْنَابِهَا؛گھوڑے کی پیشانی اور دم کے بال کاٹنے کی کراہت کا بیان؛جلد٣،ص٢٢؛حدیث نمبر؛٢٥٤٢)
ابو وہب جشمی سے روایت ہے اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنْ أَلْوَانِ الْخَيْلِ؛گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان؛جلد٣،ص٢٢؛حدیث نمبر؛٢٥٤٣)
حضرت ابو وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اوپر ہر سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا ہر چتکبرے سفید پیشانی کے گھوڑے لازم پکڑو، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا۔ محمد یعنی ابن مہاجر کہتے ہیں: میں نے عقیل سے پوچھا: سرخ رنگ کے گھوڑے کی فضیلت کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے جو شخص فتح کی بشارت لے کر آیا وہ سرخ گھوڑے پر سوار تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنْ أَلْوَانِ الْخَيْلِ؛گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان؛جلد٣،ص٢٢؛حدیث نمبر؛٢٥٤٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے کی برکت سرخ رنگ کے گھوڑے میں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنْ أَلْوَانِ الْخَيْلِ؛گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان؛جلد٣،ص٢٢؛حدیث نمبر؛٢٥٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی مادہ کو بھی «فرس» کا نام دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب هَلْ تُسَمَّى الأُنْثَى مِنَ الْخَيْلِ فَرَسًا؛کیا گھوڑی کا نام فرس رکھا جائے گا؟؛جلد٣،ص٢٣؛حدیث نمبر؛٢٥٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے میں «شکال» کو ناپسند فرماتے تھے، اور «شکال» یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پیر اور بائیں ہاتھ میں، یا دائیں ہاتھ اور بائیں پیر میں سفیدی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی دائیں اور بائیں ایک دوسرے کے مخالف ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الْخَيْلِ؛ناپسندیدہ گھوڑوں کا بیان؛جلد٣،ص٢٣؛حدیث نمبر؛٢٥٤٧)
حضرت سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان بے زبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو، ان پر سواری اچھے طریقے سے کرو اور ان کو اچھے طریقے سے کھاؤ“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْقِيَامِ عَلَى الدَّوَابِّ وَالْبَهَائِمِ؛جانوروں اور چوپایوں کی خدمت اور خبرگیری کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٣؛حدیث نمبر؛٢٥٤٨)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کیا پھر مجھ سے چپکے سے ایک بات کہی جسے میں کسی سے بیان نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشری ضرورت کے تحت چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں، یا تو کوئی اونچا مقام، یا درختوں کا جھنڈ، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا، اس کے بعد پوچھا: ”یہ اونٹ کس کا ہے؟“ ایک انصاری جوان آیا، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا رکھتا ہے اور تھکاتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْقِيَامِ عَلَى الدَّوَابِّ وَالْبَهَائِمِ؛جانوروں اور چوپایوں کی خدمت اور خبرگیری کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٣؛حدیث نمبر؛٢٥٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کسی راستہ پہ جا رہا تھا کہ اسی دوران اسے سخت پیاس لگی، (راستے میں) ایک کنواں ملا اس میں اتر کر اس نے پانی پیا، پھر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس شخص نے دل میں کہا: اس کتے کا پیاس سے وہی حال ہے جو میرا حال تھا، چنانچہ وہ (پھر) کنویں میں اترا اور اپنے موزوں کو پانی سے بھرا، پھر منہ میں دبا کر اوپر چڑھا اور (کنویں سے نکل کر باہر آ کر) کتے کو پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرما لیا اور اسے بخش دیا“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے چوپایوں میں بھی ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر تر کلیجہ والے (جاندار) میں ثواب ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْقِيَامِ عَلَى الدَّوَابِّ وَالْبَهَائِمِ؛جانوروں اور چوپایوں کی خدمت اور خبرگیری کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٢٣؛حدیث نمبر؛٢٥٥٠)
حضرت حمزہ ضبی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا فرماتے ہیں:جب ہم کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو اس وقت تک نوافل ادا نہیں کرتے تھے،جب تک سامان(سواریوں)سے اتار نہیں دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نُزُولِ الْمَنَازِلِ؛منزل پر اترنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤؛حدیث نمبر؛٢٥٥١)
ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے: ”کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا بنا ہوا ہار باقی نہ رہے، ایسے ہر ہار کو کاٹ دیا جائے“۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ یہ ہار نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي تَقْلِيدِ الْخَيْلِ بِالأَوْتَارِ؛گھوڑے کی گردن میں تانت کا ہار پہنانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤؛حدیث نمبر؛٢٥٥٢)
حضرت ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہیں (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی) صحبت حاصل تھی - وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو، اور ان کی گردنوں میں قلادہ (پٹہ) پہناؤ، اور انہیں تانت کا ہار نہ پہنانا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب إِكْرَامِ الْخَيْلِ وَارْتِبَاطِهَا وَالْمَسْحِ عَلَى أَكْفَالِهَا؛گھوڑوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے اور ان کے پٹھوں پر ہاتھ پھیرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٤؛حدیث نمبر؛٢٥٥٣)
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہے:فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں چلتے جن میں گھنٹی موجود ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي تَعْلِيقِ الأَجْرَاسِ؛جانور کے گلے میں گھنٹی لٹکانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥؛حدیث نمبر؛٢٥٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:"فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن میں کتا یا گھنٹی موجود ہو"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي تَعْلِيقِ الأَجْرَاسِ؛جانور کے گلے میں گھنٹی لٹکانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥؛حدیث نمبر؛٢٥٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کے بارے میں یہ فرمایا ہے:"یہ شیطان کا باجا ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي تَعْلِيقِ الأَجْرَاسِ؛جانور کے گلے میں گھنٹی لٹکانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥؛حدیث نمبر؛٢٥٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں گندگی کھانے والے جانور پر سواری کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي رُكُوبِ الْجَلاَّلَةِ؛گندگی کھانے والے جانور پر سواری منع ہے؛جلد٣،ص٢٥؛حدیث نمبر؛٢٥٥٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گندگی کھانے والے اونٹ پر سواری کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي رُكُوبِ الْجَلاَّلَةِ؛گندگی کھانے والے جانور پر سواری منع ہے؛جلد٣،ص٢٥؛حدیث نمبر؛٢٥٥٨)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں گدھے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا اس گدھے کا نام"عفیر"تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُسَمِّي دَابَّتَهُ؛آدمی اپنے جانور کا نام رکھے اس کا بیان؛جلد٣،ص٢٥؛حدیث نمبر؛٢٥٥٩)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے`، وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی (تسلی دیتے ہوئے) «خیل اللہ» کہتے،اور جب ہم گھبراہٹ کا شکار ہوتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ جب ہم گھبراہٹ کا شکار ہوں تو اکٹھا ہو جائے صبر سے کام لے،پرسکون رہے، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے (تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النِّدَاءِ عِنْدَ النَّفِيرِ يَا خَيْلَ اللَّهِ ارْكَبِي؛کوچ کے لیے اعلان کے وقت ”اے اللہ کے شہسوار سوار ہو جا“ کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٥؛حدیث نمبر؛٢٥٦٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے۔ لوگوں نے اس پر سے (کجاوہ) اتار لیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب النَّهْىِ عَنْ لَعْنِ الْبَهِيمَةِ؛جانوروں پر لعنت بھیجنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦؛حدیث نمبر؛٢٥٦١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو اپس میں لڑانے سے منع کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ؛جانوروں کو لڑانے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٦؛حدیث نمبر؛٢٥٦٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کی پیدائش پر اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تاکہ آپ اس کی تحنیک (گھٹی) فرما دیں، تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں کے ایک باڑہ میں بکریوں کو نشان (داغ) لگا رہے تھے۔ ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔ (”تحنيك“ یہ ہے کہ کھجور یا اسی جیسی کوئی میٹھی چیز منہ میں چبا کر بچے کے منہ میں رکھ دیا جائے تا کہ اس کی مٹھاس کا اثر بچے کے پیٹ میں پہنچ جائے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تحنیک کا مقصد برکت کا حصول تھا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي وَسْمِ الدَّوَابِّ؛جانوروں پر نشان لگانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٦؛حدیث نمبر؛٢٥٦٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب النَّهْىِ عَنِ الْوَسْمِ، فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ؛ چہرے پر داغنا اور مارنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٦؛حدیث نمبر؛٢٥٦٤)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں علم نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحُمُرِ تُنْزَى عَلَى الْخَيْلِ؛گدھوں کی گھوڑیوں سے جفتی (ملاپ) مکروہ ہے؛جلد٣،ص٢٧؛حدیث نمبر؛٢٥٦٥)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو بچہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چنانچہ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح (سواری پر) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي رُكُوبِ ثَلاَثَةٍ عَلَى دَابَّةٍ؛تین آدمیوں کا ایک ہی جانور پر سوار ہونے کا بیان؛جلد٣،ص٢٧؛حدیث نمبر؛٢٥٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ۱؎“۔(یعنی جب رکنا ہو تو زمین پر اتر جایا کرو) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْوُقُوفِ عَلَى الدَّابَّةِ؛جانور پر (بغیر ضرورت) بیٹھے رہنا منع ہے؛جلد٣،ص٢٧؛حدیث نمبر؛٢٥٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شیطانوں کے اونٹ ہوتے ہیں، شیطان کے گھر ہوتے ہیں،جہاں تک شیطان کے اونٹوں کا تعلق ہے تو میں نے انہیں دیکھا ہے جو شخص نکلتا ہے اور اس کے پاس اونٹنیاں ہوتی ہے جو خوب موٹی تازی ہوتی ہے وہ شخص اس پر سوار نہیں ہوتا پھر وہ اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے یہ چلنے سے عاجز ہوتا ہے وہ اسے بھی اس پر سوار نہیں کرواتا (تو ایسے اونٹ شیطانوں کے اونٹ ہوتے ہیں)البتہ شیطانوں کے گھر میں نے نہیں دیکھے۔ سعید بن ابو ہند نامی راوی کہتے ہیں:میرا یہ خیال ہے کہ شاید شیطانوں کے گھر وہ محلات ہوں گے جنہیں لوگ ریشمی کپڑوں کے ذریعے ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْجَنَائِبِ؛بازو میں چلنے والی سواریاں کا بیان؛جلد٣،ص٢٧؛حدیث نمبر؛٢٥٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو، اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي سُرْعَةِ السَّيْرِ وَالنَّهْىِ عَنِ التَّعْرِيسِ، فِي الطَّرِيقِ؛سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٨؛حدیث نمبر؛٢٥٦٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت کرتے ہیں جس میں یہ الفاظ ہیں:"تم منازل سے تجاوز نہ کرو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي سُرْعَةِ السَّيْرِ وَالنَّهْىِ عَنِ التَّعْرِيسِ، فِي الطَّرِيقِ؛سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٢٨؛حدیث نمبر؛٢٥٧٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کو لازم پکڑو، کیونکہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الدُّلْجَةِ؛رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٢٨؛حدیث نمبر؛٢٥٧١)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول سوار ہو جائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنا دو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب رَبُّ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا؛جانور کا مالک اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے؛جلد٣،ص٢٨؛حدیث نمبر؛٢٥٧٢)
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ شہید کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ (کونچ وہ موٹا پٹھا جو آدمی کے ایڑی کے اوپر اور چوپایوں کے ٹخنے کے نیچے ہوتا ہے، گھوڑے کی کونچ اس لئے کاٹ دی گئیں تا کہ دشمن اس گھوڑے کے ذریعہ مسلمانوں پر حملہ نہ کر سکے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑائی میں سامان کے سلسلہ میں یہ اندیشہ ہو کہ دشمن کے ہاتھ میں آ کر اس کی تقویت کا سبب بنے گا تو اسے تلف کر ڈالنا درست ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الدَّابَّةِ تُعَرْقَبُ فِي الْحَرْبِ؛جانور کی کونچ لڑائی میں کاٹ دئیے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩؛حدیث نمبر؛٢٥٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:(دوڑ کا)مقابلہ صرف تین چیزوں میں ہو سکتا ہے اونٹ میں، گھوڑے میں یا تیر اندازی میں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّبْقِ؛گھوڑ دوڑ کا بیان؛جلد٣،ص٢٩؛حدیث نمبر؛٢٥٧٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت یافتہ گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ حفیہ سے ثنیۃ الوداع تک کروایا تھا، اور غیر تربیت یافتہ گھوڑوں کا مقابلہ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّبْقِ؛گھوڑ دوڑ کا بیان؛جلد٣،ص٢٩؛حدیث نمبر؛٢٥٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں کی تربیت کرواتے تھے اور پھر ان کا مقابلہ کرواتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّبْقِ؛گھوڑ دوڑ کا بیان؛جلد٣،ص٢٩؛حدیث نمبر؛٢٥٧٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ کروایا اور اپ نے ان گھوڑوں کا فاصلہ زیادہ رکھا جو چار سال کے ہو کر پانچویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّبْقِ؛گھوڑ دوڑ کا بیان؛جلد٣،ص٢٩؛حدیث نمبر؛٢٥٧٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا وزن زیادہ ہو گیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّبْقِ عَلَى الرِّجْلِ؛پیدل دوڑ کے مقابلے کا بیان؛جلد٣،ص٢٩؛حدیث نمبر؛٢٥٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمُحَلِّلِ؛گھوڑ دوڑ میں محلل کی شرکت کا بیان؛جلد٣،ص٣٠؛حدیث نمبر؛٢٥٧٩)
یہ روایت ایک اور سنت کے ہمراہ منقول ہیں امام ابو داؤد علیہ رحمہ فرماتے ہیں یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمُحَلِّلِ؛گھوڑ دوڑ میں محلل کی شرکت کا بیان؛جلد٣،ص٣٠؛حدیث نمبر؛٢٥٨٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:جلب اور جنب کی کوئی حقیقت نہیں۔ یحی نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں"مقابلے میں"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْجَلَبِ عَلَى الْخَيْلِ فِي السِّبَاقِ؛گھوڑ دوڑ میں کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠؛حدیث نمبر؛٢٥٨١)
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا «جلب» اور «جنب» گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ (گھوڑ دوڑ میں «جلب» یہ ہے کہ کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے لگا لے کہ وہ گھوڑے کو ڈانٹتا رہے، تاکہ وہ آگے بڑھ جائے، اور «جنب» یہ ہے کہ اپنے گھوڑے کے پہلو میں ایک اور گھوڑا رکھے کہ جب سواری کا گھوڑا تھک جائے تو اس گھوڑے پر سوار ہو جائے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْجَلَبِ عَلَى الْخَيْلِ فِي السِّبَاقِ؛گھوڑ دوڑ میں کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠؛حدیث نمبر؛٢٥٨٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا قبضہ چاندی سے بنا ہوا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّيْفِ يُحَلَّى؛تلوار پر چاندی کا خول چڑھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠؛حدیث نمبر؛٢٥٨٣)
سعید بن ابو الحسن بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا قبضہ چاندی سے بنا ہوا تھا۔ قتادہ کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے اس کی متابعت کی ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّيْفِ يُحَلَّى؛تلوار پر چاندی کا خول چڑھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٠؛حدیث نمبر؛٢٥٨٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قوی حدیث سعید ابن ابو الحسن کی نقل کردہ ہے باقی روایات ضعیف ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّيْفِ يُحَلَّى؛تلوار پر چاندی کا خول چڑھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١؛حدیث نمبر؛٢٥٨٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جو مسجد میں تیر صدقہ کے طور پر بانٹ رہا تھا،اسے یہ حکم دیا کہ وہ جب انہیں لے کر گزرے تو ان کے پھل کی طرف سے انہیں پکڑ رکھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّبْلِ يُدْخَلُ بِهِ الْمَسْجِدُ؛تیر لے کر مسجد میں جانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١؛حدیث نمبر؛٢٥٨٦)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے“ یا فرمایا: ”مٹھی میں دبائے رہے“، یا یوں کہا کہ: ”اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّبْلِ يُدْخَلُ بِهِ الْمَسْجِدُ؛تیر لے کر مسجد میں جانے کا بیان؛جلد٣،ص٣١؛حدیث نمبر؛٢٥٨٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تلوار کو میان کے بغیر(لے کر چلا جائے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولاً؛ننگی تلوار دینے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٣١؛حدیث نمبر؛٢٥٨٨)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ چمڑے کو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹا جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يُقَدَّ السَّيْرُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ؛چمڑے کو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹنا منع ہے؛جلد٣،ص٣١؛حدیث نمبر؛٢٥٨٩)
سائب بن یزید ایک شخص کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:جس کا نام بھی انہوں نے بیان کیا تھا(وہ صاحب بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر اوپر نیچی دو زرہیں پہنے ہوئے تھے(یہاں ایک راوی نے الفاظ مختلف نقل کیے ہیں) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّهْىِ أَنْ يُقَدَّ السَّيْرُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ؛چمڑے کو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹنا منع ہے؛جلد٣،ص٣١؛حدیث نمبر؛٢٥٩٠)
محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا، تو انہوں نے کہا: وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّايَاتِ وَالأَلْوِيَةِ؛بڑے اور چھوٹے جھنڈے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢؛حدیث نمبر؛٢٥٩١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے آپ کا مخصوص جھنڈا سفید تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّايَاتِ وَالأَلْوِيَةِ؛بڑے اور چھوٹے جھنڈے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢؛حدیث نمبر؛٢٥٩٢)
سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم زرد دیکھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّايَاتِ وَالأَلْوِيَةِ؛بڑے اور چھوٹے جھنڈے کا بیان؛جلد٣،ص٣٢؛حدیث نمبر؛٢٥٩٣)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کمزور لوگوں کو تلاش کر کے میرے پاس لاؤ ، کیونکہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الاِنْتِصَارِ بِرَذْلِ الْخَيْلِ وَالضَّعَفَةِ؛معمولی گھوڑوں کے ذریعے اور کمزور لوگوں کے وسیلے سے مدد حاصل کرنا؛جلد٣،ص٣٢؛حدیث نمبر؛٢٥٩٤)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جنگ کے دوران مہاجرین کا(کوڈورڈ)عبداللہ تھا اور انصار کا(کوڈورڈ)عبدالرحمن تھا۔ (وہ خاص لفظ جس سے پہرے دار یا فوجی کو آپس میں ایک دوسرے کی شناخت کے لئے بتا دیا جاتا ہے کہ دوران جنگ اسے دھوکہ نہ دیا جا سکے، اسے ”پردل“ کہتے ہیں۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُنَادِي بِالشِّعَارِ؛آدمی کا مخصوص نعرے(کوڈورڈ)کے ذریعے پکارنا؛جلد٣،ص٣٢؛حدیث نمبر؛٢٥٩٥)
ایاز بن سلمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اقدس میں میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں جنگ میں حصہ لیا تو ہمارا مخصوص نعرہ یہ تھا"مارو،مار دو" (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُنَادِي بِالشِّعَارِ؛آدمی کا مخصوص نعرے(کوڈورڈ)کے ذریعے پکارنا؛جلد٣،ص٣٣؛حدیث نمبر؛٢٥٩٦)
مہلب بن ابو صفرہ بیان کرتے ہیں:مجھے ان صاحب نے یہ بات بیان کی ہے،جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا:اگر تم پر رات کے وقت حملہ کردیا جائے تو تمہاری مخصوص نعرہ"حم لاینصرون"ہوگا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُنَادِي بِالشِّعَارِ؛آدمی کا مخصوص نعرے(کوڈورڈ)کے ذریعے پکارنا؛جلد٣،ص٣٣؛حدیث نمبر؛٢٥٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر» ”اے اللہ!سفر میں تو ہی میرا ساتھی اور میری غیر موجودگی میں میرے اہل خانہ کا نگراں ہے،یا اللہ میں سفر کی مشقت اور اس کی سختی سے تیری پناہ مانگتا ہوں،اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں غم اور پریشانی کے ساتھ واپس آؤں،یا اپنے اہل خانہ یا مال کے بارے میں برا منظر دیکھوں،یا اللہ ہمارے لیے زمین کی مسافت کو لپیٹ دے اور سفر کو ہمارے لیے آسان کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَافَرَ؛سفر کے وقت آدمی کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٣؛حدیث نمبر؛٢٥٩٨)
علی ازدی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سیدھے بیٹھ جاتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «{ سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون } اللهم إني أسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا سفرنا هذا اللهم اطو لنا البعد اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال» ”پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے تابع کر دیا جب کہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہیں تھے، اور ہمیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور پسندیدہ اعمال کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے، اے اللہ! ہمارے لیے مسافت کو لپیٹ دے، اے اللہ! تو ہی رفیق سفر ہے، اور تو ہی اہل و عیال اور مال میں میرا قائم مقام ہے“، اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو مذکورہ دعا پڑھتے اور اس میں اتنا اضافہ کرتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ”ہم امن و سلامتی کے ساتھ سفر سے لوٹنے والے، اپنے رب سے توبہ کرنے والے، اس کی عبادت اور حمد و ثنا کرنے والے ہیں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لشکر کے لوگ جب چڑھائیوں پر چڑھتے تو ”اللہ اکبر“ کہتے، اور جب نیچے اترتے تو ”سبحان اللہ“ کہتے،(راوی کہتے ہیں)تو نماز کو بھی اسی طریقے کے مطابق مقرر کیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَافَرَ؛سفر کے وقت آدمی کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٣؛حدیث نمبر؛٢٥٩٩)
قزعہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آؤ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تھا: «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» ”میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الْوَدَاعِ؛الوداع (رخصت)کرتے وقت کی دعا کا بیان؛جلد٣،ص٣٤؛حدیث نمبر؛٢٦٠٠)
حضرت عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: «أستودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم» ”میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الْوَدَاعِ؛الوداع (رخصت)کرتے وقت کی دعا کا بیان؛جلد٣،ص٣٤؛حدیث نمبر؛٢٦٠١)
علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بسم الله» کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو «الحمد الله» کہا، اور «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون» کہا، پھر تین مرتبہ «الحمد الله» کہا، پھر تین مرتبہ «الله اكبر» کہا، پھر «سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» کہا، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا رَكِبَ؛سواری پر چڑھتے وقت سوار کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٤؛حدیث نمبر؛٢٦٠٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے: «يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن ساكن البلد ومن والد وما ولد» ”اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی ہے اور اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور شہر کے رہنے والوں اور پیدا کرنے والے اور جو پیدا ہوا ہے،ان سب سے(اللہ تعالیٰ کی)پناہ مانگتا ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا نَزَلَ الْمَنْزِلَ؛جب آدمی منزل پر پڑاؤ ڈالے تو کیا دعا پڑھے؟؛جلد٣،ص٣٤؛حدیث نمبر؛٢٦٠٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد خرابیاں پیدا کرتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ السَّيْرِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ؛رات کے ابتدائی حصے میں سفر کرنے کا ناپسندیدہ ہونا؛جلد٣،ص٣٥؛حدیث نمبر؛٢٦٠٤)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات جمعرات کے دن سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي أَىِّ يَوْمٍ يُسْتَحَبُّ السَّفَرُ؛کس دن سفر کرنا مستحب ہے؟؛جلد٣،ص٣٥؛حدیث نمبر؛٢٦٠٥)
حضرت صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لأمتي في بكورها» ”اے اللہ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے“ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے۔ (عمارہ کہتے ہیں) صخر ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صخر سے مراد صخر بن وداعہ ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الاِبْتِكَارِ فِي السَّفَرِ؛سفر میں صبح سویرے نکلنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٥؛حدیث نمبر؛٢٦٠٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اکیلا سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُسَافِرُ وَحْدَهُ؛تنہا سفر کرنے کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٣٥؛حدیث نمبر؛٢٦٠٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب تین لوگ سفر پر نکلے تو وہ اپنے میں سے کسی کو امیر مقرر کر لے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْقَوْمِ يُسَافِرُونَ يُؤَمِّرُونَ أَحَدَهُمْ؛ساتھ سفر کرنے والے کسی کو اپنا امیر بنا لیں؛جلد٣،ص٣٦؛حدیث نمبر؛٢٦٠٨)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں“، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا تا کہ ان میں آپس میں اجتماعیت برقرار رہے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور ایسا جبھی ممکن ہے جب وہ کسی امیر کے تابع ہوں گے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْقَوْمِ يُسَافِرُونَ يُؤَمِّرُونَ أَحَدَهُمْ؛ساتھ سفر کرنے والے کسی کو اپنا امیر بنا لیں؛جلد٣،ص٣٦؛حدیث نمبر؛٢٦٠٩)
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے حاصل کر کے اس کی بےحرمتی نہ کرے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمُصْحَفِ يُسَافَرُ بِهِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ؛قرآن کریم کے ساتھ دشمن کی سر زمین میں جانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٣٦؛حدیث نمبر؛٢٦١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر ساتھی چار لوگ ہیں، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی“۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْجُيُوشِ وَالرُّفَقَاءِ وَالسَّرَايَا؛چھوٹے بڑے لشکر، اور ساتھیوں کی کون سی تعداد مستحب و مناسب ہے؛جلد٣،ص٣٦؛حدیث نمبر؛٢٦١١)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کا کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو اسے اپنے نفس کے بارے میں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتے، اور فرماتے: ”جب تم اپنے مشرک دشمنوں کا سامنا کرنا تو انہیں تین چیزوں کی دعوت دینا، ان تینوں میں سے جس چیز کو وہ مان لیں تم ان سے اسے مان لینا اور ان سے رک جانا، (سب سے پہلے) انہیں اسلام کی جانب بلانا، اگر تمہاری اس دعوت کو وہ لوگ تسلیم کر لیں تو تم اسے قبول کر لینا اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جانا، پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا، اور انہیں یہ بتانا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی چیز ہو گی جو مہاجرین کے لیے ہو گی، اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ انکار کریں اور اپنے وطن ہی میں رہنا چاہیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے، اور فے اور مال غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ کی ادائیگی کی دعوت دینا، اگر وہ لوگ جزیہ کی ادائیگی قبول کر لیں تو ان سے اسے قبول کر لینا اور جہاد کرنے سے رک جانا، اور اگر وہ جزیہ بھی دینے سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرنا، اور ان سے جہاد کرنا، اور اگر تم کسی قلعہ والے کا محاصرہ کرنا اور وہ تمہارے ساتھ یہ ارادہ کرے کہ تمہیں اللہ کے فیصلے پر ثالث کے طور پر ماننے کو کہیں تو تم اس بات کو قبول نہ کرو ، کیونکہ تم نہیں جانتے ہو کہ ان کے بارے میں اللہ تعالی کا فیصلہ کیا ہوگا تم انہیں اپنے فیصلے جو ثالث کے طور پر ہو کو قبول کرنے پر امادہ کرو اور پھر تم جو چاہو ان کے بارے میں فیصلہ کرو“۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: علقمہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم نے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابن ہیصم ہیں، بیان کیا انہوں نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور نعمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمان بن بریدہ کی حدیث کے مثل روایت کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ؛کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٧؛حدیث نمبر؛٢٦١٢)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئےاللہ کے راستے میں جہاد کرو اور اس شخص سے جہاد کرو جو اللہ کا انکار کرے، جہاد کرو، بدعہدی نہ کرو، خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو، اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ؛کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٧؛حدیث نمبر؛٢٦١٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجاہدین کو رخصت کرتے وقت) فرمایا: ” اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ کی مدد سے روانہ ہو جاؤ اور اللہ تعالی کے رسول کے دین پر(گامزن رہتے ہوئے روانہ ہو جاؤ)، اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹے لڑکوں کو، اور نہ ہی عورتوں کو، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کر لینا، صلح کرنا اور نیکی کرنا، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ؛کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان؛جلد٣،ص٣٧؛حدیث نمبر؛٢٦١٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے باغات جلوا دیے تھے اور ان کے درختوں کو کٹوا دیا تھا،یہ باغات بویرہ کے مقام پر موجود تھے،تو اس بارے میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی:"جن درختوں کو تم نے کاٹ دیا،یا چھوڑ دیا۔"(الحشر،٥) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْحَرْقِ فِي بِلاَدِ الْعَدُوِّ؛دشمنوں کے کھیت اور باغات کو آگ لگانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٨؛حدیث نمبر؛٢٦١٥)
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ"ابنی"کے مقام پر صبح کے وقت حملہ کر دینا اور انہیں جلا دینا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْحَرْقِ فِي بِلاَدِ الْعَدُوِّ؛دشمنوں کے کھیت اور باغات کو آگ لگانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٨؛حدیث نمبر؛٢٦١٦)
ابو مسہر کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے دریافت کیا گیا ابنی کہاں ہے؟تو انہوں نے فرمایا ہم اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْحَرْقِ فِي بِلاَدِ الْعَدُوِّ؛دشمنوں کے کھیت اور باغات کو آگ لگانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٨؛حدیث نمبر؛٢٦١٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب بَعْثِ الْعُيُونِ؛جاسوس بھیجنے کا بیان؛جلد٣،ص٣٨؛حدیث نمبر؛٢٦١٨)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي ابْنِ السَّبِيلِ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ وَيَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ إِذَا مَرَّ بِهِ؛مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے گزرے تو؛جلد٣،ص٣٩؛حدیث نمبر؛٢٦١٩)
حضرت عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بھوک نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور (باقی) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور آپ سے سارا ماجرا بتایا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا: ”تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ ناواقف تھا اور نہ ہی کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق (ساٹھ صاع) یا نصف وسق (تیس صاع) غلہ مجھے دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي ابْنِ السَّبِيلِ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ وَيَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ إِذَا مَرَّ بِهِ؛مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے گزرے تو؛جلد٣،ص٣٩؛حدیث نمبر؛٢٦٢٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي ابْنِ السَّبِيلِ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ وَيَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ إِذَا مَرَّ بِهِ؛مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے گزرے تو؛جلد٣،ص٣٩؛حدیث نمبر؛٢٦٢١)
حضرت ابورافع بن عمرو غفاری کے چچا کہتے ہیں کہ میں کم سن تھا اور انصار کے کھجور کے درختوں پر ڈھیلے مارا کرتا تھا، لوگ مجھے (پکڑ کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، آپ نے فرمایا: ”بچے! تم کھجور کے درختوں پر کیوں پتھر مارتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: (کھجوریں) کھانے کی غرض سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پتھر نہ مارا کرو، جو نیچے گرا ہو اسے کھا لیا کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور میرے لیے دعا کی کہ اے اللہ اس کے پیٹ کو آسودہ کر دے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَنْ قَالَ إِنَّهُ يَأْكُلُ مِمَّا سَقَطَ؛زمین پر گری ہوئی چیزوں کے کھانے کا بیان؛جلد٣،ص٣٩؛حدیث نمبر؛٢٦٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں آ کر اس کا گودام توڑ کر غلہ نکال لیا جائے؟ اسی طرح ان جانوروں کے تھن ان کے مالکوں کے گودام ہیں تو کوئی کسی کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ قَالَ لاَ يَحْلِب؛بغیر اجازت کے کسی کے جانور کا دودھ نہ نکالے؛جلد٣،ص٤٠؛حدیث نمبر؛٢٦٢٣)
ابن جریج علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالی ہے)"اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو اولی الامر ہے ان کی اطاعت کرو۔"(نساء ٥٩) یہ آیت حضرت عبداللہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہم میں بھیجا تھا۔ ابن جریج کہتے ہیں مجھے یہ بات یہ یعلیٰ نے سعید بن جبیر کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے بتائی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛. باب فِي الطَّاعَةِ؛فرمانبرداری کرنا؛جلد٣،ص٤٠؛حدیث نمبر؛٢٦٢٤)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، اور ایک آدمی کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں، اور اس کی اطاعت کریں، اس آدمی نے آگ جلائی، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کیا اور کہا: ہم تو آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کود جانا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اس میں داخل ہو گئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے“، اور فرمایا: ”اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے“۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اگر امیر شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کی جائے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛. باب فِي الطَّاعَةِ؛فرمانبرداری کرنا؛جلد٣،ص٤٠؛حدیث نمبر؛٢٦٢٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننا لازم ہے چاہے وہ پسند کرے یا ناپسند، جب تک کہ اسے کسی گناہ کا حکم نہ دیا جائے، لیکن جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛. باب فِي الطَّاعَةِ؛فرمانبرداری کرنا؛جلد٣،ص٤٠؛حدیث نمبر؛٢٦٢٦)
حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ (دستہ) بھیجا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا: کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ملامت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرا حکم بجا لاتا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛. باب فِي الطَّاعَةِ؛فرمانبرداری کرنا؛جلد٣،ص٤١؛حدیث نمبر؛٢٦٢٧)
حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ جب کسی جگہ اترتے، عمرو کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو لوگ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی جانب سے ہے“، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ نہیں اترے مگر بعض بعض سے اس طرح سمٹ جاتا کہ یہ کہا جاتا کہ اگر ان پر کوئی کپڑا پھیلا دیا جاتا تو سب کو ڈھانپ لیتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُؤْمَرُ مِنَ انْضِمَامِ الْعَسْكَرِ وَسِعَتِهِ؛اہل لشکر کے ایک دوسرے سے مل کر رہنے اور وسعت(اختیار کرنے)کے بارے میں جو حکم؛جلد٣،ص٤١؛حدیث نمبر؛٢٦٢٨)
حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں، یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُؤْمَرُ مِنَ انْضِمَامِ الْعَسْكَرِ وَسِعَتِهِ؛اہل لشکر کے ایک دوسرے سے مل کر رہنے اور وسعت(اختیار کرنے)کے بارے میں جو حکم؛جلد٣،ص٤١؛حدیث نمبر؛٢٦٢٩)
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُؤْمَرُ مِنَ انْضِمَامِ الْعَسْكَرِ وَسِعَتِهِ؛اہل لشکر کے ایک دوسرے سے مل کر رہنے اور وسعت(اختیار کرنے)کے بارے میں جو حکم؛جلد٣،ص٤٢؛حدیث نمبر؛٢٦٣٠)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے کہ جب وہ خارجیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے نکلے تو انہوں نے عمر بن عبید اللہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا: ”لوگو! دشمنوں سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، لیکن جب ان سے مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“، پھر فرمایا: ”اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور دشمن کو شکست دینے والے، انہیں شکست دے، اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزو اور تمنا مکروہ ہے؛جلد٣،ص٤٢؛حدیث نمبر؛٢٦٣١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ میں حصہ لیتے تو فرماتے: «اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبك أصول وبك أقاتل» ”اے اللہ! تو ہی میرا بازو اور مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں لڑائی کرتا ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَا يُدْعَى عِنْدَ اللِّقَاءِ؛دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت کی دعا کا بیان؛جلد٣،ص٤٢؛حدیث نمبر؛٢٦٣٢)
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کے پاس لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے خط لکھا، تو انہوں نے مجھے لکھا: یہ شروع اسلام میں تھا (اس کے بعد) اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا، وہ غفلت میں تھے، اور ان کے چوپائے پانی پی رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کیا، اور باقی کو گرفتار کر لیا، اور اس موقع پر حضرت جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا(قیدیوں میں شامل ہوکر)آئیں تھیں۔یہ بات مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی جو خود اس لشکر میں تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک عمدہ حدیث ہے، اسے ابن عون نے نافع سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ؛(جنگ سے پہلے)کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان؛جلد٣،ص٤٢؛حدیث نمبر؛٢٦٣٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت حملہ کرتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سننے کی کوشش کرتے تھے،اگر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی اواز ا جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حملہ کردیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ؛(جنگ سے پہلے)کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان؛جلد٣،ص٤٣؛حدیث نمبر؛٢٦٣٤)
عصام مزنی بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا اور ارشاد فرمایا جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کو(اذان دیتے ہوئے)سنو تو پھر وہاں کسی کو قتل نہ کرنا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ؛(جنگ سے پہلے)کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان؛جلد٣،ص٤٣؛حدیث نمبر؛٢٦٣٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے"۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب الْمَكْرِ فِي الْحَرْبِ؛جنگ میں(دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے)کوئی چال چلنا؛جلد٣،ص٤٣؛حدیث نمبر؛٢٦٣٦)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف جانے کا اظہار کرتے تھے اور فرماتے: ”جنگ دھوکہ کا نام ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر کے سوا کسی اور نے اس سند سے نہیں روایت کیا ہے، وہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «الحرب خدعة» کو مراد لے رہے ہیں، یہ لفظ صرف عمرو بن دینار کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یا معمر کے واسطے سے ہمام بن منبہ سے مروی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب الْمَكْرِ فِي الْحَرْبِ؛جنگ میں(دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے)کوئی چال چلنا؛جلد٣،ص٤٣؛حدیث نمبر؛٢٦٣٧)
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا، ہم انہیں قتل کر رہے تھے، اور اس رات ہمارا شعار (کوڈ) «مار دو مار دو» تھا، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْبَيَاتِ؛شب خون (رات میں چھاپہ) مارنے کا بیان؛جلد٣،ص٤٣؛حدیث نمبر؛٢٦٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران پیچھے رہا کرتے تھے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزور شخص کی سواری کو ہانک کر لے جاتے تھے اس سے اپنے پیچھے بٹھا لیتے تھے اور ایسے لوگوں کے لیے دعائے رحمت کیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي لُزُومِ السَّاقَةِ؛امام کا لشکر کے پچھلے دستہ کے ساتھ رہنے کا بیان؛جلد٣،ص٤٤؛حدیث نمبر؛٢٦٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب عَلَى مَا يُقَاتَلُ الْمُشْرِكُونَ؛کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے؛جلد٣،ص٤٤؛حدیث نمبر؛٢٦٤٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» ”نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ کی گواہی نہیں دیتے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب عَلَى مَا يُقَاتَلُ الْمُشْرِكُونَ؛کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے؛جلد٣،ص٤٤؛حدیث نمبر؛٢٦٤١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مجھے مشرکین کے ساتھ لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب عَلَى مَا يُقَاتَلُ الْمُشْرِكُونَ؛کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے؛جلد٣،ص٤٤؛حدیث نمبر؛٢٦٤٢)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حرقات کی طرف ایک مہم پر بھیجا، تو ان کافروں کو ہمارے آنے کا علم ہو گیا، چنانچہ وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن ہم نے ایک آدمی کو پکڑ لیا، جب ہم نے اسے گھیرے میں لے لیا تو «لا إله إلا الله» کہنے لگا (اس کے باوجود) ہم نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن «لا إله إلا الله» کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے یہ بات تلوار کے ڈر سے کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ کیوں نہیں لیا کہ اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا ہے یا (تلوار کے ڈر سے) نہیں (بلکہ اسلام کے لیے)؟ قیامت کے دن «لا إله إلا الله» کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یہی بات فرماتے رہے، یہاں تک کہ میں نے سوچا کاش کہ میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب عَلَى مَا يُقَاتَلُ الْمُشْرِكُونَ؛کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے؛جلد٣،ص٤٤؛حدیث نمبر؛٢٦٤٣)
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تم اسے قتل نہ کرو“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو قتل کرنے سے پہلے تمہارا جو مقام تھا وہ اس مقام میں آ جائے گا اور تم اس مقام میں پہنچ جاؤ گے جو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے اس کا تھا“۔ (یعنی وہ معصوم الدم قرار پائے گا اور تمہیں بطور قصاص قتل کیا جائے گا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب عَلَى مَا يُقَاتَلُ الْمُشْرِكُونَ؛کس بنا پر کفار و مشرکین سے جنگ کی جائے؛جلد٣،ص٤٥؛حدیث نمبر؛٢٦٤٤)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک مہم روانہ کی تو ان کے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے بچنا چاہا پھر بھی لوگوں نے انہیں قتل کرنے میں جلد بازی کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے نصف دیت کا حکم دیا اور فرمایا: ” میں ایسے ہر مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان مقیم ہو،لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ!اس کی حد کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (انہیں مشرکین سے اتنی دور رہنا چاہیے) کہ دونوں کو ایک دوسرے کی اگ نظر نہ آئے "۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشیم، معمر، خالد واسطی اور ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے جریر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب النَّهْىِ عَنْ قَتْلِ، مَنِ اعْتَصَمَ بِالسُّجُودِ؛جو سجدہ کر کے پناہ حاصل کرے اس کو قتل کرنا منع ہے؛جلد٣،ص٤٥؛حدیث نمبر؛٢٦٤٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی"اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے" تو یہ بات مسلمانوں کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنی،جب اللہ تعالی نے ان پر یہ فرض کیا کہ ایک شخص دس آدمیوں کے مقابلے میں فرار نہیں ہو سکتا،پھر تخفیف کا حکم آگیا اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا" اب اللہ تعالی نے تم پر تخفیف کر دی ہے"(انفال ٦٦) ابوتوبہ نامی راوی نے یہ آیت ان الفاظ تک نقل کی کہ "وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے" راوی بیان کرتے ہیں جب اللہ تعالی نے تعداد میں ان کے لیے تخفیف کر دی تو اللہ تعالی نے ان سے جتنی تخفیف کی تھی اسی حساب سے صبر میں بھی کمی کر دی گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي التَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ؛میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے کا بیان؛جلد٣،ص٤٦؛حدیث نمبر؛٢٦٤٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ایک مہم میں شریک ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ تیزی کے ساتھ بھاگے، بھاگنے والوں میں میں بھی تھا، جب ہم رکے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کریں؟ ہم کافروں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے، پھر ہم نے کہا: چلو ہم مدینہ چلیں اور وہاں ٹھہرے رہیں، (پھر جب دوسری بار جہاد ہو) تو چل نکلیں اور ہم کو کوئی دیکھنے نہ پائے، خیر ہم مدینہ گئے، وہاں ہم نے اپنے دل میں کہا: کاش! ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا، اگر ہماری توبہ قبول ہوئی تو ہم ٹھہرے رہیں گے ورنہ ہم چلے جائیں گے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں فجر سے پہلے بیٹھ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ہم کھڑے ہوئے اور آپ کے پاس جا کر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھاگے ہوئے لوگ ہیں، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم لوگ «عکارون» ہو (یعنی دوبارہ لڑائی میں واپس لوٹنے والے ہو)“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: (خوش ہو کر) ہم آپ کے نزدیک گئے اور آپ کا ہاتھ چوما تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوں“، (یعنی ان کا ملجا و ماویٰ ہوں میرے سوا وہ اور کہاں جائیں گے؟) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي التَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ؛میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے کا بیان؛جلد٣،ص٤٦؛حدیث نمبر؛٢٦٤٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہ ایت غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی(ترجمہ) "جو شخص اس دن پیٹھ پھیر لیتا ہے" ۔(انفال ١٦) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي التَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ؛میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے کا بیان؛جلد٣،ص٤٦؛حدیث نمبر؛٢٦٤٨)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے (کافروں کے غلبہ کی) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: ”تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اور اسے اللہ تعالی کے علاوہ اور کسی کا خوف نہیں ہوگا صرف اپنی بکریوں کے بارے میں یہ اندیشہ ہوگا کہ بھیڑیا ان پر حملہ نہ کر دے لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الأَسِيرِ يُكْرَهُ عَلَى الْكُفْرِ؛مسلمان قیدی کفر پر مجبور کیا جائے تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٤٧؛حدیث نمبر؛٢٦٤٩)
عبیداللہ بن ابو رافع جو علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے معتمد تھے، کہتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا: ”تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچو، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا“، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا، ہم نے اس سے کہا: خط لاؤ، اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: خط نکالو ورنہ ہم تمہارے جامہ تلاشی لیں گے، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا، ہم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، وہ حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام تھا، وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امور سے آگاہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”حاطب یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے سلسلے میں جلدی نہ کیجئے، میں تو ایسا شخص ہوں جو قریش میں آ کر شامل ہوا ہوں یعنی ان کا حلیف ہوں، خاص ان میں سے نہیں ہوں، اور جو لوگ قریش کی قوم سے ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں، مشرکین اس قرابت کے سبب مکہ میں ان کے مال اور عیال کی نگہبانی کرتے ہیں، چونکہ میری ان سے قرابت نہیں تھی، میں نے چاہا کہ میں ان کے حق میں کوئی ایسا کام کر دوں جس کے سبب مشرکین مکہ میرے اہل و عیال کی نگہبانی کریں، قسم اللہ کی! میں نے یہ کام نہ کفر کے سبب کیا اور نہ ہی ارتداد کے سبب، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے تم سے سچ کہا“، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے: مجھے چھوڑئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جنگ بدر میں شریک رہے ہیں، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کی طرف توجہ کر کے ارشاد فرمایا ہو: تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي حُكْمِ الْجَاسُوسِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا؛جاسوس اگر مسلمان ہو اور کافروں کے لیے جاسوسی کرے تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٤٧؛حدیث نمبر؛٢٦٥٠)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو لکھ بھیجا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت بولی: ”میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے“، ہم نے اس کا اونٹ بٹھا کر دیکھا تو اس کے پاس ہمیں کوئی خط نہیں ملا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا، ورنہ خط مجھے نکال کر دے، پھر پوری حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي حُكْمِ الْجَاسُوسِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا؛جاسوس اگر مسلمان ہو اور کافروں کے لیے جاسوسی کرے تو اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٤٨؛حدیث نمبر؛٢٦٥١)
حضرت فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، یہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے، ان کا گزر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے کچھ انصار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہم انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان ہی میں سے فرات بن حیان بھی ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْجَاسُوسِ الذِّمِّيِّ؛ذمی جاسوس کا بیان؛جلد٣،ص٤٨؛حدیث نمبر؛٢٦٥٢)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکوں میں سے ایک جاسوس آیا، آپ سفر میں تھے، وہ آپ کے اصحاب کے پاس بیٹھا رہا، پھر چپکے سے فرار ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو تلاش کر کے قتل کر ڈالو“، سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب سے پہلے میں اس کے پاس پہنچا اور جا کر اسے قتل کر دیا اور اس کا مال لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سامان مجھے بطور انعام دیدیا۔ حضرت فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، یہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے، ان کا گزر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے کچھ انصار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہم انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان ہی میں سے فرات بن حیان بھی ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْجَاسُوسِ الْمُسْتَأْمَنِ؛مستامن جاسوس کا بیان؛جلد٣،ص٤٨؛حدیث نمبر؛٢٦٥٣)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوازن کے جنگ میں حصہ لیا، وہ کہتے ہیں: ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے، اور اکثر لوگ ہم میں سے پیدل تھے، ہمارے ساتھ کچھ لوگ ضعیف بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اونٹ کی کمر سے ایک رسی نکال کر اس سے اپنے اونٹ کو باندھا، اور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا، جب اس نے ہمارے کمزوروں اور سواریوں کی کمی کو دیکھا تو اپنے اونٹ کی طرف دوڑتا ہوا نکلا، اس کی رسی کھولی پھر اسے بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگاتے ہوئے تیزی کے ساتھ چل پڑا (جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ جاسوس ہے) تو قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کا پیچھا کیا اور یہ لوگوں کی سواریوں میں سب سے بہتر تھی، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا اور حال یہ تھا کہ اونٹنی کا سر اونٹ کے پٹھے کے پاس اور میں اونٹنی کے پٹھے پر تھا، پھر میں تیزی سے آگے بڑھتا گیا یہاں تک کہ میں اونٹ کے پٹھے کے پاس پہنچ گیا، پھر آگے بڑھ کر میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھایا، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا تو میں نے تلوار میان سے نکال کر اس کے سر پر ماری تو وہ کٹ کر دور جا گرا، میں اس کا اونٹ مع ساز و سامان کے کھینچتے ہوئے لایا تو لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر میرا استقبال کیا اور پوچھا: ”اس شخص کو کس نے مارا؟“ لوگوں نے بتایا: سلمہ بن اکوع نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا سارا سامان انہی کو ملے گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْجَاسُوسِ الْمُسْتَأْمَنِ؛مستامن جاسوس کا حکم؛جلد٣،ص٤٩؛حدیث نمبر؛٢٦٥٤)
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کے ابتدائی حصے میں اگر لڑائی نہ کرنی ہوتی،تو اسے اتنا مؤخر کرتے تھے کہ سورج ڈھل جاتا ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہوجاتی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي أَىِّ وَقْتٍ يُسْتَحَبُّ اللِّقَاءُ؛دشمن سے لڑائی کس وقت بہتر ہے؟؛جلد٣،ص٤٩؛حدیث نمبر؛٢٦٥٥)
حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جنگ کے وقت آوازیں نکالنے کو ناپسند کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الصَّمْتِ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت خاموش رہنے کا حکم؛جلد٣،ص٥٠؛حدیث نمبر؛٢٦٥٦)
ابو بردہ اپنے والد حضرت(ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ل(حدیث نمبر ٢٦٥٦)مانند روایت نقل کرتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الصَّمْتِ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت خاموش رہنے کا حکم؛جلد٣،ص٥٠؛حدیث نمبر؛٢٦٥٧)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ حنین کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرکین سے سامنا ہوا اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے نیچے اتر آئے اور پیدل ہو گئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَتَرَجَّلُ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛مڈبھیڑ کے وقت سواری سے اتر کر پیدل چلنے کا بیان؛جلد٣،ص٥٠؛حدیث نمبر؛٢٦٥٨)
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، اور دوسری غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، رہی وہ غیرت جسے اللہ پسند کرتا ہے تو وہ کسی شبہ کی بنیاد پر ہو، رہی وہ غیرت جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ شک کے علاوہ میں غیرت کرنا ہے، اور تکبر میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے اور دوسرا وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، پس وہ تکبر جسے اللہ پسند کرتا ہے وہ لڑائی کے دوران آدمی کا کافروں سے جہاد کرتے وقت اپنی بڑائی کا اظہار کرنا ہے، اور صدقہ دیتے وقت اپنی بڑائی کا اظہار کرنا، اور وہ تکبر جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ ظلم میں تکبر کرنا ہے“، اور موسیٰ کی روایت میں ہے: ”فخر و مباہات میں تکبر کرنا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْخُيَلاَءِ فِي الْحَرْبِ؛لڑائی میں غرور اور تکبر کرنے کا بیا؛ ؛جلد٣،ص٥٠؛حدیث نمبر؛٢٦٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے بھیجا، اور ان کا امیر حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا، ان سے لڑنے کے لیے ہذیل کے تقریباً سو تیر انداز نکلے، جب عاصم رضی اللہ عنہ نے ان کے آنے کو محسوس کیا تو ان لوگوں نے ایک ٹیلے کی آڑ میں پناہ لی، کافروں نے ان سے کہا: اترو اور اپنے آپ کو سونپ دو، ہم تم سے عہد کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کریں گے، عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی میری بات تو میں کافر کی امان میں اترنا پسند نہیں کرتا، اس پر کافروں نے انہیں تیروں سے مارا اور ان کے سات ساتھیوں کو شہید کر دیا جن میں عاصم رضی اللہ عنہ بھی تھے اور تین آدمی کافروں کے عہد اور اقرار پر اعتبار کر کے اتر آئے، ان میں ایک خبیب، دوسرے زید بن دثنہ، اور تیسرے ایک اور آدمی تھے رضی اللہ عنہم، جب یہ لوگ کفار کی گرفت میں آ گئے تو کفار نے اپنی کمانوں کے تانت کھول کر ان کو باندھا، تیسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ پہلی بدعہدی ہے، اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میرے لیے میرے ان ساتھیوں کی زندگی نمونہ ہے، کافروں نے ان کو کھینچا، انہوں نے ساتھ چلنے سے انکار کیا، تو انہیں شہید کر دیا، اور خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاتھ میں قیدی ہی رہے، یہاں تک کہ انہوں نے خبیب کے بھی شہید کرنے کا ارادہ کر لیا، تو آپ نے زیر ناف کے بال مونڈنے کے لیے استرا مانگا، پھر جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے لے کر چلے تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مجھے چھوڑو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں، پھر کہا: اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھو گے کہ میں موت کے خوف کی وجہ سے نماز پڑھ رہا ہوں میں یہ نماز طویل ادا کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُسْتَأْسَرُ؛آدمی سے قید ہونے کا مطالبہ کیا جانا؛جلد٣،ص٥١؛حدیث نمبر؛٢٦٦٠)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے حوالے سے بھی منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَتَرَجَّلُ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُسْتَأْسَرُ؛آدمی سے قید ہونے کا مطالبہ کیا جانا؛جلد٣،ص٥٠؛حدیث نمبر؛٢٦٦١)
حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو تیر اندازوں کا امیر بنایا ان کی تعداد پچاس تھی اور فرمایا: ”اگر تم دیکھو کہ ہم کو پرندے اچک رہے ہیں پھر بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے، انہیں روند ڈالا ہے، پھر بھی اس جگہ سے نہ ہٹنا، یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں“، پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی اور اللہ کی قسم میں نے مشرکین کی عورتوں کو دیکھا کہ بھاگ کر پہاڑوں پر چڑھنے لگیں، عبداللہ بن جبیر کے ساتھی کہنے لگے: لوگو! غنیمت، غنیمت، تمہارے ساتھی غالب آ گئے تو اب تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ اس پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم وہ بات بھول گئے جو تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو ان لوگوں کے ساتھ مل کر مال غنیمت کو اکٹھا کریں گے تو وہ لوگ آگے چلے گئے پھر اس کے نتیجے میں ان کے منہ پھیر دیے گئے اور وہ شکست سے دوچار ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْكُمَنَاءِ؛کمین (گھات) میں بیٹھنے والوں کا بیان؛جلد٣،ص٥٠؛حدیث نمبر؛٢٦٦٢)
حمزہ بن ابو اسید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:غزوہ بدر کے موقع پر جب ہم نے صفیں قائم کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب وہ تمہارے زد پر آجائیں تو تم انہیں تیر مارنا اور اپنے تیر احتیاط سے استعمال کرنا۔(یعنی غیر ضروری تیر اندازی نہ کرنا) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يَتَرَجَّلُ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛باب فِي الصُّفُوفِ؛جنگ میں صف بندی کا بیان؛جلد٣،ص٥١؛حدیث نمبر؛٢٦٦٣)
مالک بن حمزہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب وہ تمہاری زد پر آجائے تو تم انہیں تیر مارنا اور تلوار کے ذریعے تم اس وقت حملہ کرنا جب وہ تمہاری تلوار کی زد تک پہنچ جائیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي سَلِّ السُّيُوفِ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت تلوار نکال لینے کا بیان؛جلد٣،ص٥٢؛حدیث نمبر؛٢٦٦٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ آگے آیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا (ولید) اور اس کا بھائی اس کے پیچھے آئے، پھر عتبہ نے آواز دی: کون میرے مقابلے میں آئے گا؟ تو انصار کے کچھ جوانوں نے اس کا جواب دیا، اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے اسے بتایا (کہ ہم انصار کے لوگ ہیں) اس نے (سن کر) کہا: ہمیں تمہاری ضرورت نہیں، ہم اپنے چچا زادوں کو (مقابلہ کے لیے) چاہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمزہ! تم کھڑے ہو، علی! تم کھڑے ہو، عبیدہ بن حارث! تم کھڑے ہو“، تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ عتبہ کی طرف بڑھے، اور میں شیبہ کی طرف بڑھا، اور عبیدہ اور ولید (آپس میں بھڑے تو دونوں) کو دو دو زخم لگے، دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو نڈھال کر دیا، پھر ہم ولید کی طرف مائل ہوئے اور اسے قتل کر دیا، اور عبیدہ کو اٹھا کر لے آئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي الْمُبَارَزَةِ؛مقابل یا حریف کو مقابلہ میں آنے کی دعوت دینے کا بیان؛جلد٣،ص٥٢؛حدیث نمبر؛٢٦٦٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہتر قتل کرنے والے صاحب ایمان لوگ ہیں"۔(یعنی وہ لاش کی بےحرمتی نہیں کرتے) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْمُثْلَةِ؛مثلہ (ناک، کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٥٢؛حدیث نمبر؛٢٦٦٦)
ہیاج بن عمران سے روایت ہے کہ عمران (یعنی: ہیاج کے والد) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے (بھی) پوچھا: تو انہوں نے (بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْمُثْلَةِ؛مثلہ (ناک، کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٥٣؛حدیث نمبر؛٢٦٦٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی غزوہ میں مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کو ناپسندیدہ قرار دیا فرمادیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي قَتْلِ النِّسَاءِ؛عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٥٣؛حدیث نمبر؛٢٦٦٨)
حضرت رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: ”جاؤ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں“، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے“ ۱؎، مقدمۃ الجیش (فوج کے اگلے حصہ) پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي قَتْلِ النِّسَاءِ؛عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٥٣؛حدیث نمبر؛٢٦٦٩)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین کے بوڑھوں کو (جو لڑنے کے قابل ہوں) قتل کرو، اور کم سنوں کو باقی رکھو“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي قَتْلِ النِّسَاءِ؛عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٥٤؛حدیث نمبر؛٢٦٧٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ جا رہے تھے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا: فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ بولی: میں ہوں، میں نے پوچھا: تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی: میں نے ایک نیا کام کیا ہے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑ جا رہے تھے، حالانکہ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی۔ (کہا جاتا ہے کہ اس عورت کا نیا کام یہ تھا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی تھیں، اسی سبب سے اسے قتل کیا گیا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي قَتْلِ النِّسَاءِ؛عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٥٤؛حدیث نمبر؛٢٦٧١)
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھروں کے بارے میں پوچھا کہ اگر ان پر شب خون مارا جائے اور ان کے بچے اور بیوی زخمی ہوں (تو کیا حکم ہے؟)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہیں میں سے ہیں“ اور عمرو بن دینار کہتے تھے: ”وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں“۔ زہری کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي قَتْلِ النِّسَاءِ؛عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان؛جلد٣،ص٥٤؛حدیث نمبر؛٢٦٧٢)
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک مہم کا امیر بنایا،راوی کہتے ہیں جب میں روانہ ہونے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر فلاں کافر کو پانا تو اسے آگ میں جلا دینا“، جب میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا، میں لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کو پانا تو مار ڈالنا، جلانا نہیں، کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کا پروردگار دے سکتا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ حَرْقِ الْعَدُوِّ بِالنَّارِ؛دشمن کو آگ سے جلانے کی کراہت کا بیان؛جلد٣،ص٥٤؛حدیث نمبر؛٢٦٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک جنگ میں بھیجا اور فرمایا: ”اگر تم فلاں اور فلاں کو پانا“، پھر راوی نے حدیث نمبر ٢٦٧٣ کے مثل حدیث ذکر کی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ حَرْقِ الْعَدُوِّ بِالنَّارِ؛دشمن کو آگ سے جلانے کی کراہت کا بیان؛جلد٣،ص٥٥؛حدیث نمبر؛٢٦٧٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اور (یہ دیکھ کر) فرمایا: ”اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو“، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا: ”اس کو کس نے جلایا ہے؟“ ہم لوگوں نے کہا: ہم نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے عذاب دینا آگ کے پروردگار کے لیے مناسب ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كَرَاهِيَةِ حَرْقِ الْعَدُوِّ بِالنَّارِ؛دشمن کو آگ سے جلانے کی کراہت کا بیان؛جلد٣،ص٥٥؛حدیث نمبر؛٢٦٧٥)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سلسلہ میں منادی کرائی، میں اپنے اہل کے پاس گیا اور وہاں سے ہو کر آیا تو صحابہ کرام نکل چکے تھے، تو میں شہر میں پکار لگانے لگا کہ کوئی ایسا ہے جو ایک آدمی کو سوار کر لے، اور جو حصہ مال غنیمت سے ملے اسے لے لے، ایک بوڑھے انصاری بولے: اچھا ہم اس کا حصہ لے لیں گے، اور اس کو اپنے ساتھ بٹھا لیں گے، اور ساتھ کھانا کھلائیں گے، میں نے کہا: ہاں قبول ہے، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے چلو، میں بہت ہی اچھے ساتھی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنیمت کا مال دیا، میرے حصہ میں چند تیز رو اونٹنیاں آئیں، میں ان کو ہنکا کر اپنے ساتھی کے پاس لایا، وہ نکلے اور اپنے اونٹ کے پچھلے حصہ (حقیبہ) پر بیٹھے، پھر کہا: ان کی پیٹھ میری طرف کر کے ہانکو، پھر بولے: ان کا منہ میری طرف کر کے ہانکو، اس کے بعد کہا: تیری اونٹنیاں میرے نزدیک عمدہ ہیں، میں نے کہا: یہ تو آپ کا وہی مال ہے جس کی میں نے شرط رکھی تھی، انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تو اپنی اونٹنیاں لے لے، میرا ارادہ تیرا حصہ لینے کا نہ تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرَّجُلِ يُكْرِي دَابَّتَهُ عَلَى النِّصْفِ أَوِ السَّهْمِ؛آدمی اپنا جانور مال غنیمت کے آدھے یا پورے حصے کے بدلے کرایہ پر دے؛جلد٣،ص٥٥؛حدیث نمبر؛٢٦٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:ہمارا پروردگار ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جنہیں زنجیروں میں جگڑ کر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ (اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قید ہو کر مسلمانوں کے ہاتھ میں آتے ہیں پھر اللہ انہیں اسلام کی توفیق دیتا ہے اور وہ اسلام قبول کرکے جنت کی راہ پر چل پڑتے ہیں یا وہ مسلمان قیدی مراد ہیں جو کفار کے ہاتھوں قید ہو کر انتقال کر جاتے ہیں پھر اللہ انہیں جنت میں داخل کرتا ہے۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الأَسِيرِ يُوثَقُ؛قیدی کے باندھنے کا بیان؛جلد٣،ص٥٦؛حدیث نمبر؛٢٦٧٧)
حضرت جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر روانہ کیا، میں بھی انہیں میں تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بنو الملوح پر کدید میں کئی طرف سے حملہ کریں، چنانچہ ہم لوگ نکلے جب کدید میں پہنچے تو ہم حارث بن برصاء لیثی سے ملے، ہم نے اسے پکڑ لیا، وہ کہنے لگا: میں تو مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف جا رہا تھا، ہم نے کہا: اگر تم واقعی مسلمان ہونا چاہتے ہو تو پھر اگر ہم تمہیں ایک دن اور ایک رات کے لیے باندھ لیتے ہیں تو اس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا اس طرح ہم تمہاری طرف سے بے فکر ہو جائیں گے اور اگر اس کے علاوہ صورتحال ہوئی تو ہم تمہاری تحقیق کر لیں گے تو ہم نے اسے مضبوطی سے باندھ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الأَسِيرِ يُوثَقُ؛قیدی کے باندھنے کا بیان؛جلد٣،ص٥٦؛حدیث نمبر؛٢٦٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کی جانب بھیجا وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی آدمی کو گرفتار کر کے لائے، وہ اہل یمامہ کے سردار تھے، ان کو مسجد کے ایک کھمبے سے باندھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور پوچھا: ”ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟“ کہا: اے محمد! میرے پاس خیر ہے، اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک حیثیت دار شخص کو قتل کریں گے، اور اگر احسان کریں گے، تو آپ ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر گزار ہوتا ہے، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو کہئے جتنا چاہیں گے دیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ کر واپس آ گئے، یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے؟“ تو انہوں نے پھر اپنی وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا، پھر جب تیسرا دن ہوا تو پھر وہی بات ہوئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو، چنانچہ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گئے، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله» پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کیا۔ عیسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے لیث نے «ذَاْ دَمٍ» کے بجائے «ذَا ذِمٍّ» (یعنی ایک عزت دار کو قتل کرو گے) روایت کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛؛باب فِي الأَسِيرِ يُوثَقُ؛قیدی کے باندھنے کا بیان؛ جلد٣،ص٥٧؛حدیث نمبر؛٢٦٧٩)
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قیدیوں کو لایا گیا جس وقت انہیں لایا گیا، اور سودہ بنت زمعہ (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) آل عفراء یعنی عوف بن عفراء اور معوذ بن عفراء کے پاس اس جگہ تھیں جہاں ان کے اونٹ بٹھائے جاتے تھے، اور یہ معاملہ پردہ کا حکم اترنے سے پہلے کا ہے، سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قسم اللہ کی! میں انہیں کے پاس تھی، یکایک آئی تو کہا گیا یہ قیدی ہیں پکڑ کر لائے گئے ہیں، تو میں اپنے گھر واپس آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تھے اور ابویزید سہیل بن عمرو حجرے کے ایک کونے میں تھا، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے ایک رسی سے بندھے ہوئے تھے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں دونوں (عوف و معوذ) نے ابوجہل بن ہشام کو قتل کیا، اور یہی دونوں اس کے آگے آئے حالانکہ اسے پہچانتے نہ تھے، یہ دونوں بدر کے دن شہید ہو گئے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الأَسِيرِ يُوثَقُ؛قیدی کے باندھنے کا بیان؛جلد٣،ص٥٧؛حدیث نمبر؛٢٦٨٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بلایا، وہ سب بدر کی طرف چلے، اچانک قریش کے پانی والے اونٹ ملے ان میں بنی حجاج کا ایک کالا کلوٹا غلام تھا، صحابہ کرام نے اسے پکڑ لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ بتاؤ ابوسفیان کہاں ہے؟ وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! مجھے ابوسفیان کے سلسلہ میں کوئی علم نہیں، البتہ قریش کے لوگ آئے ہیں ان میں ابوجہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف بھی آئے ہوئے ہیں، جب اس نے یہ کہا تو صحابہ کرام اسے مارنے لگے، وہ بولا: مجھے چھوڑ دو، مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں بتاتا ہوں، جب اس کو چھوڑا تو پھر وہ یہی بات کہنے لگا: اللہ کی قسم مجھے ابوسفیان کے سلسلہ میں کوئی علم نہیں البتہ قریش آئے ہیں ان میں ابوجہل، ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ و شیبہ اور امیہ بن خلف بھی آئے ہوئے ہیں، (اس وقت) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اسے سن رہے تھے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب وہ تم سے سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو، (ابوسفیان تو شام کے قافلہ کے ساتھ مال لیے ہوئے آ رہا ہے) اور یہ قریش کے لوگ ہیں اس کو بچانے کے لیے آئے ہیں“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل یہاں فلاں کی لاش گرے گی“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا، ”کل یہ فلاں کا مقتل ہو گا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا، ”اور کل یہ فلاں کا مقتل ہو گا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلسلہ میں حکم دیا تو ان کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے انہیں بدر کے کنوئیں میں ڈال دیا گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الأَسِيرِ يُنَالُ مِنْهُ وَيُضْرَبُ وَيُقَرَّرُ؛قیدی کو دھمکانا،مارنا اور اس سے اقرار کروانا؛جلد٣،ص٥٨؛حدیث نمبر؛٢٦٨١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ (کفر کے زمانہ میں) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا (زندہ نہ رہتا) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے (زندہ رہے گا) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی؛ترجمہ کنز الایمان:"کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے"(سورۃ البقرہ: ۲۵۶) امام ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات»: اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي الأَسِيرِ يُكْرَهُ عَلَى الإِسْلاَمِ؛قیدی کو اسلام لانے کے لیے مجبور نہ کئے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٥٨؛حدیث نمبر؛٢٦٨٢)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب کو امان دے دی، انہوں نے ان کا اور ابن ابی السرح کا نام لیا، رہا ابن ابی سرح تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو عثمان نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! عبداللہ سے بیعت لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی جانب دیکھا، تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار آپ انکار کرتے رہے، تین بار کے بعد پھر اس سے بیعت لے لی، پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی بھی عقلمند آدمی نہیں تھا کہ جس وقت میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روک رکھا تھا، اٹھتا اور اسے قتل کر دیتا؟“ لوگوں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! ہمیں پتہ نہیں تھا کہ اپ کے ذہن میں کیا ہے اگر اپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں انکھ کے ذریعے اشارہ کر دیتے تو ہم ایسا کر لیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کی انکھ خیانت کرنے والی ہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ عثمان کا رضاعی بھائی تھا اور ولید بن عقبہ عثمان کا اخیافی بھائی تھا، اس نے شراب پی تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگائی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب قَتْلِ الأَسِيرِ وَلاَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ الإِسْلاَمُ؛قیدی پر اسلام پیش کئے بغیر اسے قتل کر دینے کا بیان؛جلد٣،ص٥٩؛حدیث نمبر؛٢٦٨٣)
حضرت سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”چار آدمیوں کو میں حرم اور حرم سے باہر کہیں بھی امان نہیں دیتا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام لیے، اور مقیس کی دو لونڈیوں کو، ایک ان میں سے قتل کی گئی، دوسری بھاگ گئی پھر وہ مسلمان ہو گئی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب قَتْلِ الأَسِيرِ وَلاَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ الإِسْلاَمُ؛قیدی پر اسلام پیش کئے بغیر اسے قتل کر دینے کا بیان؛جلد٣،ص٥٩؛حدیث نمبر؛٢٦٨٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فتح مکہ کے سال داخل ہوئے، آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابن خطل کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو“ امام ابوداؤد کہتے ہیں: ابن خطل کا نام عبداللہ تھا اور اسے ابوبرزہ اسلمی نے قتل کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب قَتْلِ الأَسِيرِ وَلاَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ الإِسْلاَمُ؛قیدی پر اسلام پیش کئے بغیر اسے قتل کر دینے کا بیان؛جلد٣،ص٦٠؛حدیث نمبر؛٢٦٨٥)
ابراہیم کہتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نے مسروق کو عامل بنانا چاہا تو عمارہ بن عقبہ نے ان سے کہا: کیا آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے ایک شخص کو عامل بنا رہے ہیں؟ تو مسروق نے ان سے کہا: مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ ہم میں حدیث (بیان کرنے) میں قابل اعتماد تھے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ (عقبہ ۱؎) کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگا: میرے لڑکوں کی خبرگیری کون کرے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ ۲؎ پس میں تیرے لیے اسی چیز سے راضی ہوں جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوئے“۔عقبہ بن ابی معیط یہی وہ بدقماش شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر نماز کی حالت میں اوجھڑی ڈالی تھی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن ابی معیط کے جواب میں ” آگ “ کہا، علماء اس کی دو وجہیں بیان کرتے ہیں۔ یہ بطور استہزاء ہے اور اشارہ ہے اس کی اولاد کے ضائع ہونے کی طرف۔ ۲- یا مفہوم ہے «لك النار» یعنی تیرے لئے آگ ہے، رہا بچوں کا معاملہ تو ان کا محافظ اللہ ہے)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي قَتْلِ الأَسِيرِ صَبْرًا؛قیدی کو باندھ کر مار ڈالنے کا بیان؛جلد٣،ص٦٠؛حدیث نمبر؛٢٦٨٦)
ابن تعلی کہتے ہیں کہ ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ساتھ جہاد کیا تو ان کے سامنے عجمی کافروں میں سے چار طاقتور تھے ان کے حکم کے تحت انہیں بندھے ہوئے ہونے کے دوران قتل کر دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے سعید بن منصور کے سوا اور لوگوں نے ابن وہب سے یہی حدیث یوں روایت کی ہے کہ پکڑ کر نشانہ بنا کر تیروں سے مار ڈالے گئے، تو یہ خبر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مرغی بھی ہو تو میں اس کو اس طرح روک کر نہ ماروں، یہ خبر عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوں نے (اپنی اس غلطی کی تلافی کے لیے) چار غلام آزاد کئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي قَتْلِ الأَسِيرِ بِالنَّبْلِ؛قیدی کو باندھ کر تیروں سے مار ڈالنے کا بیان؛جلد٣،ص٦٠؛حدیث نمبر؛٢٦٨٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں میں سے اسی(٨٠) آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی؛ ”اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا“۔(سورۃ الفتح: ۲۴) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛. باب فِي الْمَنِّ عَلَى الأَسِيرِ بِغَيْرِ فِدَاءٍ؛قیدی پر احسان رکھ کر بغیر فدیہ لیے مفت چھوڑ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٦١؛حدیث نمبر؛٢٦٨٨)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا: ”اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا“۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل طائف سے پہنچنے والی ایذاء اور تکلیف سے بچنے کے لئے طائف سے لوٹتے وقت مطعم بن عدی کے یہاں پہنچے، تو انہوں نے مشرکین کو دفع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بچایا، اسی احسان کا بدلہ چکانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ مطعم کی سفارش پر میں ان سب کو چھوڑ دیتا، یعنی فدیہ وغیرہ نہیں لیتا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛. باب فِي الْمَنِّ عَلَى الأَسِيرِ بِغَيْرِ فِدَاءٍ؛قیدی پر احسان رکھ کر بغیر فدیہ لیے مفت چھوڑ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٦١؛حدیث نمبر؛٢٦٨٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے لیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی:"نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں(اور وہ ان سے فدیہ لے)جب تک وہ(دشمن کو)زمین میں پوری طرح کچل نہیں دیتا۔" یہ آیت یہاں تک ہے: تو تم نے جو کچھ اصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں(عذاب لائق ہوتا ہے) راوی کہتے ہیں اس سے مراد فدیاہے پھر اللہ تعالی نے ان لوگوں کے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دے دیا۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل کو سنا ان سے ابو نوح نامی راوی کے نام کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا تم نے اس کے نام کا کیا کرنا ہے؟اس کا نام ناپسندیدہ ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اس کا نام قراد ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس کا نام عبدالرحمن بن غزوان ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فِدَاءِ الأَسِيرِ بِالْمَالِ؛قیدی کو مال لے کر رہا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٦١؛حدیث نمبر؛٢٦٩٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جاہلیت (مشرکین)کا فدیہ 400 درہم(فی کس مقرر کیا تھا)۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فِدَاءِ الأَسِيرِ بِالْمَالِ؛قیدی کو مال لے کر رہا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٦١؛حدیث نمبر؛٢٦٩١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو اس وقت زینب رضی اللہ عنہا نے ابوالعاص کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا اور اس مال میں اپنا ایک ہار بھیجا جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا، انہوں نے یہ ہار زینب رضی اللہ عنہاکو ابوالعاص سے نکاح کے موقع پر رخصتی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر سخت رقت طاری ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مناسب سمجھو تو ان کا قیدی چھوڑ دو، اور ان کا مال انہیں لوٹا دو“، لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑتے وقت یہ عہد لے لیا کہ وہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو میرے پاس آنے سے نہ روکیں گے، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور انصار میں سے ایک شخص کو بھیجا، اور فرمایا: ”تم دونوں ”بطن یأجج“ میں رہنا یہاں تک کہ زینب تم دونوں کے پاس سے گزریں تو ان کو ساتھ لے کر آنا“۔ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحب زادی تھیں، اور ابو العاص رضی اللہ عنہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے اور زینب کے شوہر تھے۔ شاید یہ نامحرم کے ساتھ سفر کرنے کی ممانعت سے پہلے کا واقعہ ہو، زینب رضی اللہ عنہا کے مدینہ آجانے کے بعد ابو العاص رضی اللہ عنہ کفر کی حالت میں مکہ ہی میں مقیم رہے، پھر تجارت کے لئے شام گئے، وہاں سے لوٹتے وقت انھیں اسلام پیش کیا گیا، تو وہ مکہ واپس گئے اور وہ مال جس جس کا تھا اس کو واپس کیا اور سب کے سامنے کلمہ شہادت پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر ہجرت کر کے مدینہ آگئے اور مسلمان ہو جانے پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب کو ان کی زوجیت میں لوٹا دیا تھا۔) (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فِدَاءِ الأَسِيرِ بِالْمَالِ؛قیدی کو مال لے کر رہا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٦٢؛حدیث نمبر؛٢٦٩٢)
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے ذکر کیا کہ انہیں مروان اور مسور بن مخرمہ نے خبر دی کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوازن مسلمان ہو کر آیا اور اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کے مال انہیں واپس لوٹا دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے ساتھ جو ہیں انہیں تم دیکھ رہے ہو، اور میرے نزدیک سب سے عمدہ بات سچی بات ہے تم یا تو قیدیوں (کی واپسی) اختیار کر لو یا مال“، انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اس کے بعد فرمایا: ”تمہارے یہ بھائی (شرک سے) توبہ کر کے آئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدیوں کو واپس لوٹا دوں، لہٰذا تم میں سے جو شخص اپنی خوشی سے واپس لوٹا سکتا ہو تو وہ واپس لوٹا دے، اور جو شخص اپنا حصہ لینے پر مصر ہے تو پہلا مال غنیمت جو اللہ ہم کو دے ہم اس میں سے اس کا عوض دیں تو وہ ایسا ہی کر لے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے انہیں بخوشی واپس لوٹا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی، اور کس نے نہیں دی؟ لہٰذا تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار معاملہ کی تفصیل ہمارے پاس لے کر آئیں“، لوگ لوٹ گئے، اور ان سے ان کے سرداروں نے بات کی تو انہوں نے اپنے سرداروں کو بتایا کہ انہوں نے خوشی خوشی اجازت دی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فِدَاءِ الأَسِيرِ بِالْمَالِ؛قیدی کو مال لے کر رہا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٦٢؛حدیث نمبر؛٢٦٩٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا: ”لوگو! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے“، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا: ”یہاں تک کہ یہ (بال) بھی حلال نہیں سوائے خمس (پانچواں حصہ) کے، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا دیا جاتا ہے، لہٰذا تم سوئی اور دھاگا بھی ادا کر دو“ (یعنی بیت المال میں جمع کر دو)، ایک شخص کھڑا ہوا اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، اس نے کہا: میں نے اس کو پالان کے نیچے کی کملی درست کرنے کے لیے لیا تھا؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تو وہ تمہارے لیے ہے“، تو اس نے کہا: جب معاملہ اتنا اہم ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور اس نے اسے (غنیمت کے مال میں) پھینک دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي فِدَاءِ الأَسِيرِ بِالْمَالِ؛قیدی کو مال لے کر رہا کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٦٣؛حدیث نمبر؛٢٦٩٤)
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے۔ ابن مثنیٰ کا بیان ہے: جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جو ان کی سر زمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیونکہ یہ سعید (سعید ابن ابی عروبہ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے، اس لیے کہ ۱۴۵ ہجری میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہو گیا تھا، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ تغیر میں ہی حدیث حاصل کی ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الإِمَامِ يُقِيمُ عِنْدَ الظُّهُورِ عَلَى الْعَدُوِّ بِعَرْصَتِهِمْ؛دشمن پر غلبہ پانے کے بعد امام کا میدان جنگ میں ٹھہرنا؛جلد٣،ص٦٣؛حدیث نمبر؛٢٦٩٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کرا دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اور بیع کو رد کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میمون نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے، میمون جنگ جماجم میں قتل کئے گئے، اور جماجم ۸۳ ہجری میں ہوئی ہے، نیز واقعہ حرہ (۶۳ ہجری) میں پیش آیا، اور ابن زبیر (۷۳ ہجری) میں قتل ہوئے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي التَّفْرِيقِ بَيْنَ السَّبْىِ؛قیدیوں کو الگ الگ کر دینے کا بیان؛جلد٣،ص٦٣؛حدیث نمبر؛٢٦٩٦)
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے قبیلہ بنی فزارہ سے جنگ کی، ہم نے ان پر اچانک حملہ کیا، کچھ بچوں اور عورتوں کی گردنیں ہمیں نظر آئیں، تو میں نے ایک تیر چلائی، تیر ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا وہ سب کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو پکڑ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی، وہ کھال پہنے ہوئی تھی، اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کی بیٹی کو بطور انعام دے دیا، میں مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو“، میں نے کہا: اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند آئی ہے، اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، آپ خاموش ہو گئے، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: ”سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو، قسم ہے اللہ کی“میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، اور وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ والوں کے پاس بھیج دیا، اور اس کے بدلے میں ان کے پاس جو مسلمان قیدی تھے انہیں چھڑا لیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب الرُّخْصَةِ فِي الْمُدْرِكِينَ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمْ؛جوان قیدیوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی رخصت؛جلد٣،ص٦٤؛حدیث نمبر؛٢٦٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا ایک غلام دشمنوں کی جانب بھاگ گیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلام عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس دے دیا، اسے مال غنیمت میں تقسیم نہیں کیا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں ہے خالد بن ولید نے اسے انہیں لوٹا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمَالِ يُصِيبُهُ الْعَدُوُّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ يُدْرِكُهُ صَاحِبُهُ فِي الْغَنِيمَةِ؛جب دشمن کسی مسلمان کا مال حاصل کر لے پھر وہ شخص اس مال کو مال غنیمت میں پاے؛جلد٣،ص٦٤؛حدیث نمبر؛٢٦٩٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس لوٹا دیا گیا، اور ان کا ایک غلام بھاگ کر روم چلا گیا، پھر رومیوں پر مسلمان غالب آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے (بھی) انہیں غلام واپس لوٹا دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمَالِ يُصِيبُهُ الْعَدُوُّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ يُدْرِكُهُ صَاحِبُهُ فِي الْغَنِيمَةِ؛جب دشمن کسی مسلمان کا مال حاصل کر لے پھر وہ شخص اس مال کو مال غنیمت میں پاے؛جلد٣،ص٦٤؛حدیث نمبر؛٢٦٩٩)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حدیبیہ کے دن صلح سے پہلے کچھ غلام (بھاگ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، تو ان کے مالکوں نے آپ کو لکھا: اے محمد! اللہ کی قسم! یہ غلام تمہارے دین کے شوق میں تمہارے پاس نہیں آئے ہیں، یہ تو فقط غلامی کی قید سے بھاگ کر آئے ہیں، تو کچھ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان لوگوں نے سچ کہا: انہیں مالکوں کے پاس واپس لوٹا دیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور فرمایا: ”اے قریش کے گروہ!میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگ اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تعالی تم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہیں کرتا جو تمہاری اس طرح کی حرکتوں پر تمہارے گردنیں نہیں اڑاتا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس لوٹانے سے انکار کیا اور فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کے آزاد کئے ہوئے ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي عَبِيدِ الْمُشْرِكِينَ يَلْحَقُونَ بِالْمُسْلِمِينَ فَيُسْلِمُونَ؛کفار و مشرکین کے غلام مسلمانوں سے آ ملیں اور مسلمان ہو جائیں تو کیا کیا جائے؟؛جلد٣،ص٦٥؛حدیث نمبر؛٢٧٠٠)
Abu Daud Sharif Kitabul Jehaad Hadees No# 2701
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی سے بھرا ہوا،ایک تھیلہ(قلعے کی دیوار کے)اوپر سے نیچے پھینک دیا گیا میں آگے بڑھا اور میں نے اسے پکڑ لیا،راوی بیان کرتے ہیں، پھر میں نے کہا: آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي إِبَاحَةِ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ؛دشمن کے ملک میں (غنیمت میں) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے؛جلد٣،ص٦٥؛حدیث نمبر؛٢٧٠٢)
حضرت ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ؛دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو لوٹ مار کرنے کی ممانعت؛جلد٣،ص٦٦؛حدیث نمبر؛٢٧٠٣)
محمد بن ابو مجالد بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ: کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ کا پانچواں حصہ نکالا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہمیں خیبر کے دن غلہ ملا تو آدمی آتا اور اس میں سے کھانے کی مقدار میں لے لیتا پھر واپس چلا جاتا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ؛دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو لوٹ مار کرنے کی ممانعت؛جلد٣،ص٦٦؛حدیث نمبر؛٢٧٠٤)
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے ایک انصاری کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے، اور فرمایا: ”لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں“، یا فرمایا: ”مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں“، یہ شک ہناد راوی کی جانب سے ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ؛دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو لوٹ مار کرنے کی ممانعت؛جلد٣،ص٦٦؛حدیث نمبر؛٢٧٠٥)
قاسم،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں؛ ہم لوگ جنگ کے دوران اونٹ ذبح کر کے کھاتے تھے ہم اسے تقسیم نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب ہم اپنی رہائش کی جگہ پر واپس آتے تو ہمارے تھیلے گوشت سے بھرے ہوئے ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي حَمْلِ الطَّعَامِ مِنْ أَرْضِ الْعَدُوِّ؛دشمن کی زمین سے اپنے ساتھ کھانے کی چیزیں لانے کا بیان؛جلد٣،ص٦٦؛حدیث نمبر؛٢٧٠٦)
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ہم نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ شہر قنسرین کا محاصرہ کیا، جب آپ نے اس شہر کو فتح کیا تو وہاں بکریاں اور گائیں ملیں تو ان میں سے کچھ تو ہم میں تقسیم کر دیں اور کچھ مال غنیمت میں شامل کر لیں، پھر میری ملاقات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے بیان کیا، تو آپ نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کیا تو ہمیں اس میں بکریاں ملیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حصہ ہم میں تقسیم کر دیا اور بقیہ حصہ مال غنیمت میں شامل کر دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي بَيْعِ الطَّعَامِ إِذَا فَضَلَ عَنِ النَّاسِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ؛دشمن کے علاقہ میں ضرورت سے زائد کھانے کی چیزوں کو بیچنے کا بیان؛جلد٣،ص٦٧؛حدیث نمبر؛٢٧٠٧)
حضرت رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت کے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ اسے تھکا دے تو واپس لوٹا دے، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو اسے واپس کر دے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي الرَّجُلِ يَنْتَفِعُ مِنَ الْغَنِيمَةِ بِالشَّىْء؛مال غنیمت میں سے کسی چیز کو اپنے کام میں لانا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٦٧؛حدیث نمبر؛٢٧٠٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (غزوہ بدر میں) گزرا تو ابوجہل کو پڑا ہوا دیکھا، اس کا پاؤں زخمی تھا، میں نے کہا: اللہ کے دشمن! ابوجہل! آخر اللہ نے اس شخص کو جو اس کی رحمت سے دور تھا ذلیل کر ہی دیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں اس سے ڈر نہیں رہا تھا، اس پر اس نے کہا: اس سے زیادہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ہے کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے مار ڈالا اور یہ کوئی عار کی بات نہیں، پھر میں نے اسے کند تلوار سے مارا لیکن وار کارگر نہ ہوا یہاں تک کہ اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی، تو اسی کی تلوار سے میں نے اس کو (دوبارہ) مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرُّخْصَةِ فِي السِّلاَحِ يُقَاتَلُ بِهِ فِي الْمَعْرَكَةِ؛لڑائی میں غنیمت کے ہتھیار کا استعمال جائز ہے؛جلد٣،ص٦٨؛حدیث نمبر؛٢٧٠٩)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا غزوہ خیبر کے دن انتقال ہو گیا، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، یہ سن کر لوگوں کے چہرے بدل گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی(اللہ کے راہ میں) نے جہاد میں خیانت کی ہے“، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں سے ایسے ہار ملے جسے یہودی استعمال کرتے تھے اور اس کی قیمت دو درہم بھی نہیں تھی۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي تَعْظِيمِ الْغُلُولِ؛مال غنیمت میں خیانت بڑا گناہ ہے؛جلد٣،ص٦٨؛حدیث نمبر؛٢٧١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے موقع پر نکلے، تو ہمیں غنیمت میں نہ سونا ہاتھ آیا نہ چاندی، البتہ کپڑے اور مال و اسباب ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القری کی جانب چلے اور آپ کو ایک کالا غلام ہدیہ میں دیا گیا تھا جس کا نام مدعم تھا، جب لوگ وادی القری میں پہنچے تو مدعم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کا پالان اتار رہا تھا، اتنے میں اس کو ایک تیر آ لگا اور وہ مر گیا، لوگوں نے کہا: اس کے لیے جنت کی مبارک بادی ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! وہ چادر جو اس نے خیبر کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے تقسیم سے قبل لی تھی اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے“، جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ کا ایک تسمہ ہے“ یا فرمایا: ”آگ کے دو تسمے ہیں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي تَعْظِيمِ الْغُلُولِ؛مال غنیمت میں خیانت بڑا گناہ ہے؛جلد٣،ص٦٨؛حدیث نمبر؛٢٧١١)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مال غنیمت حاصل ہوتا تو آپ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ لوگ اپنا مال غنیمت لے کر آئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیتے، ایک شخص اس تقسیم کے بعد بال کی ایک لگام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بھی اسی مال غنیمت میں سے ہے جو ہمیں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے بلال رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ آواز لگاتے سنا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے لانے سے تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟“ تو اس نے آپ سے کچھ عذر بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ لے جاؤ، قیامت کے دن لے کر آنا، میں تم سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْغُلُولِ إِذَا كَانَ يَسِيرًا يَتْرُكُهُ الإِمَامُ وَلاَ يُحَرِّقُ رَحْلَهُ؛مال غنیمت میں سے کوئی معمولی چیز چرا لے تو امام اس کو چھوڑ دے اور اس کا سامان نہ جلائے؛جلد٣،ص٦٨؛حدیث نمبر؛٢٧١٢)
صالح بن محمد کہتے ہیں کہ میں مسلمہ کے ساتھ روم کی سر زمین میں گیا تو وہاں ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں چوری کی تھی، انہوں نے سالم سے اس سلسلہ میں مسئلہ پوچھا تو سالم بن عبداللہ نے کہا: میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ کہ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو، اور اسے مارو۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں اس کے سامان میں ایک مصحف بھی ملا تو مسلمہ نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي عُقُوبَةِ الْغَالِّ؛مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان؛جلد٣،ص٦٩؛حدیث نمبر؛٢٧١٣)
صالح بن محمد کہتے ہیں کہ ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ جنگ کر رہے تھے اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر اور عمر بن عبدالعزیز بھی تھے، ایک شخص نے مال غنیمت سے ایک سامان چرا لیا تو ولید بن ہشام کے حکم سے اس کا سامان جلا دیا گیا، پھر وہ سب لوگوں میں پھرایا گیا اور اسے اس کا حصہ بھی نہیں دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دونوں حدیثوں میں سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اسے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کے ساز و سامان کو اس لیے جلوا دیا تھا کہ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، اور اسے زد و کوب بھی کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي عُقُوبَةِ الْغَالِّ؛مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان؛جلد٣،ص٦٩؛حدیث نمبر؛٢٧١٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں: علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید (ولید بن مسلم) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن نجدہ حوطی نے ”حصہ سے محروم کر دینے“ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي عُقُوبَةِ الْغَالِّ؛مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان؛جلد٣،ص٦٩؛حدیث نمبر؛٢٧١٥)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حمد و صلاۃ کے بعد کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپائے تو وہ بھی اسی جیسا ہے“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي عُقُوبَةِ الْغَالِّ؛مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان؛جلد٣،ص٧٠؛حدیث نمبر؛٢٧١٦)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے موقع پر نکلے، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آ پڑا، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی، پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا ہو گیا ہے؟انہوں نے کہا اللہ کا حکم ہے، پھر لوگ(میدان جنگ کی طرف)واپس آئے (یا جنگ سے فارغ ہو کر اگئے)تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا“۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (جب میں نے یہ سنا) تو میں اٹھ کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار فرمایا: ”جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا“۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (جب میں نے یہ سنا) تو اٹھ کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی پھر میں اٹھ کھڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوقتادہ کیا بات ہے؟“ میں نے آپ سے سارا معاملہ بیان کیا، تو قوم کے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہے ہیں اور اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے، آپ ان کو اس بات پر راضی کر لیجئے (کہ وہ مال مجھے دے دیں) اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور سامان تمہیں مل جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سچ کہہ رہے ہیں، تم اسے ابوقتادہ کو دے دو“۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس نے مجھے دے دیا، تو میں نے زرہ بیچ دی اور اس سے میں نے ایک باغ قبیلہ بنو سلمہ میں خریدا، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّلَبِ يُعْطَى الْقَاتِلُ؛جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا؛جلد٣،ص٧٠؛حدیث نمبر؛٢٧١٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کے مال و اسباب اسی کے ہوں گے“، چنانچہ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے مال و اسباب لے لیے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا انہوں نے پوچھا: ام سلیم! تمہارے ساتھ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ قصد کیا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی میرے نزدیک آیا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی، تو اس کی خبر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اس حدیث سے ہم نے سمجھا ہے کہ خنجر کا استعمال جائز ہے، ان دنوں اہل عجم کے ہتھیار خنجر ہوتے تھے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّلَبِ يُعْطَى الْقَاتِلُ؛جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا؛جلد٣،ص٧١؛حدیث نمبر؛٢٧١٨)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا تو اہل یمن میں سے ایک مددی(مدد قبیلے کا ایک شخص)میرے ساتھ ہو گیا، اس کے پاس ایک تلوار کے سوا کچھ نہ تھا، پھر ایک مسلمان نے کچھ اونٹ ذبح کئے تو مددی نے اس سے تھوڑی سی کھال مانگی، اس نے اسے دے دی، مددی نے اس کھال کو ڈھال کی شکل کا بنا لیا، ہم چلے تو رومی فوجیوں سے ملے، ان میں ایک شخص اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا، اس پر ایک سنہری زین تھی، ہتھیار بھی سنہرا تھا، تو رومی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اکسانے لگا تو مددی اس سوار کی تاک میں ایک چٹان کی آڑ میں بیٹھ گیا، وہ رومی ادھر سے گزرا تو مددی نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے، وہ گر پڑا، اور مددی اس پر چڑھ بیٹھا اور اسے قتل کر کے گھوڑا اور ہتھیار لے لیا، پھر جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مددی کے پاس کسی کو بھیجا اور سامان میں سے کچھ لے لیا۔حضرت عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: خالد! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مقتول کا ساز و سامان قاتل کو ملتا ہے؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، میں جانتا ہوں لیکن میں نے اسے زیادہ سمجھا، تو میں نے کہا: تم یہ سامان اس کو دے دو، ورنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ کو ذکر کروں گا، لیکن خالد رضی اللہ عنہ نے لوٹانے سے انکار کیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا ہوئے تو میں نے آپ سے مددی کا واقعہ اور خالد رضی اللہ عنہ کی سلوک بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد! تم نے جو یہ کام کیا ہے اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا؟“ خالد نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ جانا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد! تم نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دو“۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: خالد! کیا میں نے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے آپ سے بتایا۔ عوف کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے، اور فرمایا: ”خالد! واپس نہ دو، کیا تم لوگ میری خاطر میری طرف سے مقرر کیے گئے امیروں سے رعایت نہیں کر سکتے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کے معاملے کی بھلائی تمہیں ملے اور خرابی کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں“۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الإِمَامِ يَمْنَعُ الْقَاتِلَ السَّلَبَ إِنْ رَأَى وَالْفَرَسُ وَالسِّلاَحُ مِنَ السَّلَبِ؛امام کو یہ اختیار ہے کہ وہ قاتل کو مقتول کا سامان نہ دے، گھوڑا اور ہتھیار بھی مقتول کے سامان میں سے ہے؛جلد٣،ص٧١؛حدیث نمبر؛٢٧١٩)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت اعوذ بن مالک اشعی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الإِمَامِ يَمْنَعُ الْقَاتِلَ السَّلَبَ إِنْ رَأَى وَالْفَرَسُ وَالسِّلاَحُ مِنَ السَّلَبِ؛امام کو یہ اختیار ہے کہ وہ قاتل کو مقتول کا سامان نہ دے، گھوڑا اور ہتھیار بھی مقتول کے سامان میں سے ہے؛جلد٣،ص٧٢؛حدیث نمبر؛٢٧٢٠)
حضرت اعوذ بن مالک اشعی رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ(جنگ کے دوران مقتول کافر کا)سامان قاتل کو ملے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان میں سے خمس اصول نہیں کیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّلَبِ لاَ يُخَمَّسُ؛(کافر مقتول کے)سامان میں سے خمس وصول نہیں کیا جاے گا؛جلد٣،ص٧٢؛حدیث نمبر؛٢٧٢١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کی تلوار مجھے انعام کے طور پر عطا کی تھی(راوی کہتے ہیں)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَنْ أَجَازَ عَلَى جَرِيحٍ مُثْخَنٍ يُنَفَّلُ مِنْ سَلَبِهِ؛زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا؛جلد٣،ص٧٢؛حدیث نمبر؛٢٧٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک مہم کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کر چکے تھے، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے، تو ابان نے کہا: اللہ کے رسول!ہمیں بھی (مال غنیمت میں سے کچھ)عنایت کیجئے،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے: اس پر میں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے، ابان نے کہا: اے بلے تم یہ بات کہہ رہے ہو جو ایک پہاڑ کی چوٹی سے اتر کر ہم پر آیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابان تم بیٹھ جاؤ“، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نہیں لگایا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ جَاءَ بَعْدَ الْغَنِيمَةِ لاَ سَهْمَ لَهُ؛جو شخص مال غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا؛جلد٣،ص٧٣؛حدیث نمبر؛٢٧٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا: اللہ کے رسول! اسے حصہ نہ دیجئیے، تو میں نے کہا: ابن قوقل کا قاتل یہی ہے، تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پہاڑی بلے پر حیرت ہوتی ہے جو پہاڑ کی چوٹی سے اتر کر ہمارے پاس اگیا ہے اور مجھے ایک مسلمان کو قتل کرنے کا طعنہ دے رہا ہے جسے اللہ تعالی نے میرے ہاتھوں عزت عطا کی( یعنی اسے میرے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی)اور اللہ تعالی نے مجھے اس کے ہاتھوں ذلیل نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ لوگ نو یا دس افراد تھے جن میں سے چھ شہید کر دیئے گئے اور باقی واپس آئے۔۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَنْ أَجَازَ عَلَى جَرِيحٍ مُثْخَنٍ يُنَفَّلُ مِنْ سَلَبِهِ؛زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا؛جلد٣،ص٧٣؛حدیث نمبر؛٢٧٢٤)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (حبشہ سے) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح خیبر کے موقع پر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت سے) ہمارے لیے حصہ لگایا، یا ہمیں اس میں سے دیا، اور جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھے انہیں کچھ بھی نہیں دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر اور خیبر کی فتح میں شریک تھے، البتہ ہماری کشتی والوں کو یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان سب کے ساتھ حصہ دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَنْ أَجَازَ عَلَى جَرِيحٍ مُثْخَنٍ يُنَفَّلُ مِنْ سَلَبِهِ؛زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا؛جلد٣،ص٧٣؛حدیث نمبر؛٢٧٢٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا: ”بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب مَنْ أَجَازَ عَلَى جَرِيحٍ مُثْخَنٍ يُنَفَّلُ مِنْ سَلَبِهِ؛زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا؛جلد٣،ص٧٤؛حدیث نمبر؛٢٧٢٦)
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ (اگر جہاد میں جائے) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا (پھر انہوں نے اسے لکھا:) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا، (اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يُحْذَيَانِ مِنَ الْغَنِيمَةِ؛عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٤؛حدیث نمبر؛٢٧٢٧)
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا، وہ عورتوں کے متعلق آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں؟ اور کیا آپ ان کے لیے حصہ متعین کرتے تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خط میں نے ہی نجدہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں، رہی ان کے لیے حصہ کی بات تو ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا البتہ انہیں کچھ دے دیا جاتا تھا۔ (سنن ابی داؤد؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يُحْذَيَانِ مِنَ الْغَنِيمَةِ؛عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٤؛حدیث نمبر؛٢٧٢٨)
حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں، یہ چھ عورتوں میں سے ایک تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کس کے ساتھ نکلیں؟ اور کس کے حکم سے نکلیں؟“ ہم نے عرض کی:یا رسول اللہ!ہم اس لیے آئی ہیں،تاکہ بال کاتتی رہیں اور اس کے ذریعے اللہ کی راہ میں(جہاد کرنے والوں)کی مدد کرے، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے، اور ستو گھول کر پلائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اٹھ جاؤ“(یعنی تم جا سکتی ہو)یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا، حشرج بن زیاد کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: دادی! وہ حصہ کیا تھا؟ تو وہ کہنے لگیں: کچھ کھجوریں تھیں۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يُحْذَيَانِ مِنَ الْغَنِيمَةِ؛عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٤؛حدیث نمبر؛٢٧٢٩)
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے (ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا) حکم دیا، چنانچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے (اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر) گھسیٹ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں (آبی اللحم) نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يُحْذَيَانِ مِنَ الْغَنِيمَةِ؛عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٥؛حدیث نمبر؛٢٧٣٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر میں اپنے ساتھیوں کے لیے کنویں میں سے پانی نکلتا تھا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يُحْذَيَانِ مِنَ الْغَنِيمَةِ؛عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٥؛حدیث نمبر؛٢٧٣١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ایک مشرک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ا کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لے،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم واپس چلے جاؤ ہم کسی مشرک سے مدد حاصل نہیں کرتے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛لڑائی میں مسلمانوں کے ساتھ مشرک ہو تو اس کو حصہ ملے گا یا نہیں؟؛جلد٣،ص٧٥؛حدیث نمبر؛٢٧٣٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(مال غنیمت میں)آدمی اور اس کے گھوڑے کے تین حصے مقرر کیے تھے جن میں سے ایک حصہ آدمی کا تھا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے تھے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي سُهْمَانِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے حصے کا بیان؛جلد٣،ص٧٥؛حدیث نمبر؛٢٧٣٣)
ابو عمرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہم چار لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر شخص کو ایک حصہ عطا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کو دو حصے عطا کیے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي سُهْمَانِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے حصے کا بیان؛جلد٣،ص٧٦؛حدیث نمبر؛٢٧٣٤)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ابو عمرہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:وہ تین افراد تھے اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر گھڑ سوار کو تین حصہ دیے تھے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي سُهْمَانِ الْخَيْلِ؛گھوڑے کے حصے کا بیان؛جلد٣،ص٧٦؛حدیث نمبر؛٢٧٣٥)
حضرت مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے، وہ کہتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے، بعض نے بعض سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ (اپنی سواریوں) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، یہی فتح ہے“، پھر خیبر کی جنگ میں جو مال آیا وہ صلح حدیبیہ کے لوگوں پر تقسیم ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کے اٹھارہ حصے کئے اور لشکر کے لوگ سب ایک ہزار پانچ سو تھے جن میں تین سو سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو حصے دئیے اور پیدل والوں کو ایک حصہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابومعاویہ کی حدیث (نمبر ۲۷۳۳) زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل ہے، اور میرا خیال ہے مجمع کی حدیث میں وہم ہوا ہے انہوں نے کہا ہے: تین سو سوار تھے حالانکہ دو سو سوار تھے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ أَسْهَمَ لَهُ سَهْمًا؛ان کا ایک باقاعدہ حصہ ہونا؛جلد٣،ص٧٦؛حدیث نمبر؛٢٧٣٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: ”جس نے ایسا ایسا کیا اس کو بطور انعام اتنا اتنا ملے گا“، جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے جھنڈوں سے چمٹے رہے اس سے ہٹے نہیں، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا: ہم تمہارا سہارا تھے کیونکہ اگر تمہیں شکست ہو جاتی تو تم لوگوں نے لوٹ کے ہمارے پاس آنا تھا اس لیے تمام مال غنیمت تم سمیٹ کر نہ لے جاؤ کہ ہمیں کچھ بھی نہ ملے تو ان نوجوانوں نے ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور انہوں نے انہیں کہا یہ وہ چیز ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مخصوص کی ہے اس وقت اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی(ترجمہ کنز الایمان)"اے محبوب تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ و رسول ہیں تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس میں میل رکھو اور اللہ و رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو۔ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں۔یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔جس طرح اے محبوب تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا۔“ (سورۃ الانفال: ۱-۵) سے «كما أخرجك ربك من بيتك بالحق وإن فريقا من المؤمنين لكارهون» تک نازل فرمائی، پھر ان کے لیے یہی بہتر ہوا، اسی طرح تم سب میری اطاعت کرو، کیونکہ میں اس کے انجام کار کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّفْلِ؛اضافی ادائگی(یعنی انعام کے طور پر کچھ دینا)ق؛جلد٣،ص٧٧؛حدیث نمبر؛٢٧٣٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی کو قتل کر دے گا تو اسے یہ،یہ انعام ملے گا اور جو کسی کو قیدی بنا لے گا تو اسے یہ،یہ انعام ملے گا۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی تاہم خالد نامی راوی کی نقل کردہ روایت زیادہ مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّفْلِ؛جلد٣،ص٧٧؛حدیث نمبر؛٢٧٣٨)
اسی سند کے ساتھ یہ روایت بھی منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کو برابر برابر تقسیم کیا تھا،تاہم خالد کی نقل کردہ روایت زیادہ مکمل ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّفْلِ؛جلد٣،ص٧٧؛حدیث نمبر؛٢٧٣٩)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری“ یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا: یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا، اور کہا چلو، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے یہ تلوار مانگی جب کہ یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری، اب اسے اللہ نے مجھے عطا کر دیا ہے، لہٰذا (اب) یہ تمہاری ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ انفال کی یہ آیات تلاوت کی۔ لوگ تم سے انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو تم یہ فرما دو انفال اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے"(انفال ١) ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «يسألونك عن النفل» ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّفْلِ؛جلد٣،ص٧٨؛حدیث نمبر؛٢٧٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں نجد کی سمت روانہ کیا اس میں سے ایک دستہ دشمن کے مقابلے میں گیا ان لشکر والوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور اس دستے میں شریک مجاہدین کو ایک ایک مزید اونٹ دیا گیا تو ان کے حصے میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ؛لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٧؛حدیث نمبر؛٢٧٤١)
ولید بن مسلم کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن مبارک کو یہ حدیث سنائی میں نے کہا اس طرح کی حدیث ابن ابو فروہ نے نافع کے حوالے سے نقل کی ہے تو عبداللہ بن مبارک نے کہا تم نے جن کا نام لیا ہے وہ امام مالک علیہ الرحمہ کے برابر نہیں ہو سکتے(یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ؛لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٨؛حدیث نمبر؛٢٧٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم نجد کی جانب بھیجا، میں بھی اس کے ساتھ نکلا، ہمیں بہت سے اونٹ ملے، تو ہمارے دستہ کے سردار نے ایک ایک اونٹ ہم میں سے ہر شخص کو بطور انعام دیا، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے ہمارے غنیمت کے مال کو ہم میں تقسیم کیا، تو ہر ایک کو ہم میں سے خمس کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے، اور وہ اونٹ جو ہمارے سردار نے دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حساب میں شمار نہ کیا، اور نہ ہی آپ نے اس سردار کے عمل پر طعن کیا، تو ہم میں سے ہر ایک کو اس کے نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ؛لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٨؛حدیث نمبر؛٢٧٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک مہم بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل (انعام) دئیے گئے۔ ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم کو بدلا نہیں۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ؛لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٨؛حدیث نمبر؛٢٧٤٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم میں بھیجا، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور انعام دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئیے گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ؛لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٩؛حدیث نمبر؛٢٧٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چھوٹی مہمات کو روانہ کرتے تو انہیں عام لشکر میں تقسیم ہونے والے مال غنیمت کے علاوہ ان دستوں کو اضافی انعام بھی دیا کرتے تھے اور خمس تمام مال غنیمت میں واجب ہوتا ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ؛لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٩؛حدیث نمبر؛٢٧٤٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن تین سو پندرہ افراد کے ہم راہ نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی: «اللهم إنهم حفاة فاحملهم اللهم إنهم عراة فاكسهم اللهم إنهم جياع فأشبعهم» ”اے اللہ! یہ لوگ پیدل ہیں تو ان کو سوار کر دے، اے اللہ!ان کے پاس مناسب لباس نہیں ہے ان کو مناسب لباس دے دے ، اے اللہ! یہ لوگ بھوکے ہیں ان کو آسودہ کر دے“، پھر اللہ نے بدر کے دن انہیں فتح دی، جب وہ لوٹے تو کوئی بھی آدمی ان میں سے ایسا نہ تھا جو ایک یا دو اونٹ لے کر نہ آیا ہو، اور ان کے پاس کپڑے بھی ہو گئے اور وہ آسودہ بھی ہو گئے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ؛لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان؛جلد٣،ص٧٩؛حدیث نمبر؛٢٧٤٧)
حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مال غنیمت میں سے) خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے بعد ثلث (ایک تہائی) بطور نفل (انعام) دیتے تھے۔ (یعنی پہلے کل مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکال لیتے پھر باقی میں سے ایک تہائی انعام میں دیتے اور دو تہائی بانٹ دیتے۔) (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ قَالَ الْخُمُسُ قَبْلَ النَّفْلِ؛جو اس بات کا قائل ہے،خمس،انعام سے پہلے ہوگا؛جلد٣،ص٧٩؛حدیث نمبر؛٢٧٤٨)
حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس تشریف لاتے تھے تو خمس کے بعد چوتھا حصہ یا خمس کے بعد تیسرا حصہ اضافی انعام کے طور پر ادا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ قَالَ الْخُمُسُ قَبْلَ النَّفْلِ؛جو اس بات کا قائل ہے،خمس،انعام سے پہلے ہوگا؛جلد٣،ص٨٠؛حدیث نمبر؛٢٧٤٩)
مکحول شامی کہتے ہیں میں مصر میں قبیلہ بنو ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے مجھے آزاد کر دیا، تو میں مصر سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا، پھر میں حجاز آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ جتنا علم وہاں تھا اپنے خیال کے مطابق حاصل نہیں کر لیا، پھر عراق آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا، پھر میں شام آیا تو اسے بھی اچھی طرح چھان مارا، ہر شخص سے میں نفل کا حال پوچھتا تھا، میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کرے، یہاں تک کہ میں ایک شیخ سے ملا جن کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا، میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نفل کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ کہا: ہاں! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے آغاز میں چوتھا حصہ اور واپسی پر تیسرا حصہ اضافی انعام کے طور پر عطا کیا تھا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَنْ قَالَ الْخُمُسُ قَبْلَ النَّفْلِ؛جو اس بات کا قائل ہے،خمس،انعام سے پہلے ہوگا؛جلد٣،ص٨٠؛حدیث نمبر؛٢٧٥٠)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام مسلمانوں کی جانیں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں سے ادنیٰ شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی، اسی طرح دور مقام کا مسلمان پناہ دے سکتا ہے (گرچہ اس سے نزدیک والا موجود ہو) اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں جس کی سواریاں زور آور اور تیز رو ہوں وہ (غنیمت کے مال میں) اس کے برابر ہو گا جس کی سواریاں کمزور ہیں، اور لشکر میں سے کوئی سریہ نکل کر مال غنیمت حاصل کرے تو لشکر کے باقی لوگوں کو بھی اس میں شریک کرے، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو“۔ ابن اسحاق نے «القود» اور «التكافؤ» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّرِيَّةِ تَرُدُّ عَلَى أَهْلِ الْعَسْكَرِ؛دستہ،لشکر والوں کو(مال غنیمت)ادا کرے گا؛جلد٣،ص٨٠؛حدیث نمبر؛٢٧٥١)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا، آپ کے چرواہے کو مار ڈالا، اور اونٹوں کو ہانکتا ہوا وہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگ جو گھوڑوں پر سوار تھے چلے، تو میں نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا، اور تین بار پکار کر کہا «يا صباحاه» (خطرہ ہے)، اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا، ان کو تیر مارتا اور زخمی کرتا جاتا تھا، جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اونٹوں کو میں نے اپنے پیچھے کر دیا، انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے تیس سے زائد نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں نیچے پھینک دیں، اتنے میں عیینہ ان کی مدد کے لیے آ پہنچا، اور اس نے کہا: تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف (یعنی سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ) کی طرف جائیں (اور اسے قتل کر دیں) چنانچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے، جب اتنے فاصلہ پر ہوئے کہ میں ان کو اپنی آواز پہنچا سکوں تو میں نے کہا: تم مجھے پہچانتے ہو، انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بزرگی عنایت کی، تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو کبھی نہ پکڑ سکے گا، اور میں جس کو چاہوں گا وہ بچ کر جا نہ سکے گا، پھر تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے بیچ سے چلے آ رہے ہیں، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ فزاری سے جا ملے، عبدالرحمٰن نے ان کو دیکھا تو دونوں میں بھالا چلنے لگا، اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور عبدالرحمٰن نے اخرم رضی اللہ عنہ کو مار ڈالا، پھر عبدالرحمٰن اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا، اس کے بعد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو جا لیا، دونوں میں بھالا چلنے لگا، تو اس نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو مار ڈالا، پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو گئے، اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ ذو قرد نامی چشمے پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا تو دیکھتا ہوں کہ آپ پانچ سو آدمیوں کے ساتھ موجود ہیں، آپ نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ دیا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي السَّرِيَّةِ تَرُدُّ عَلَى أَهْلِ الْعَسْكَرِ؛دستہ،لشکر والوں کو(مال غنیمت)ادا کرے گا؛جلد٣،ص٨١؛حدیث نمبر؛٢٧٥٢)
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّفْلِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمِنْ أَوَّلِ مَغْنَمٍ باب: سونے، چاندی اور مال غنیمت سے نفل (انعام) دینے کا بیان؛جلد٣،ص٨١؛حدیث نمبر؛٢٧٥٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٥٣ کے مثل مروی ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي النَّفْلِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمِنْ أَوَّلِ مَغْنَمٍ باب: سونے، چاندی اور مال غنیمت سے نفل (انعام) دینے کا بیان؛جلد٣،ص٨١؛حدیث نمبر؛٢٧٥٤)
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کے اونٹ کی طرف رخ کر کے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کے پہلو میں سے کچھ بال لیے اور ارشاد فرمایا تمہارے مال غنیمت میں سے خمس کے علاوہ میرے ان بالوں جتنا حصہ بھی حلال نہیں وہ خمس بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛مال فے میں سے امام کا اپنے لیے کچھ رکھ لینے کا بیان؛جلد٣،ص٨١؛حدیث نمبر؛٢٧٥٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں عہد شکنی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا اور یہ کہا جائے گا یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ؛عہد و پیمان کو نبھانے کا بیان؛جلد٣،ص٨٢؛حدیث نمبر؛٢٧٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے:"امام ڈھال ہے جس کی مدد سے لڑائی کی جاتی ہے"۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي الإِمَامِ يُسْتَجَنُّ بِهِ فِي الْعُهُودِ؛امام کے طے کردہ معاہدے کو پورا کرنا(لازم ہے)؛جلد٣،ص٨٢؛حدیث نمبر؛٢٧٥٧)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش نے مجھے (صلح حدیبیہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں، تم واپس جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آ جانا“، ابورافع کہتے ہیں: میں قریش کے پاس لوٹ آیا، پھر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گیا۔ بکیر کہتے ہیں: مجھے حسن بن علی نے خبر دی ہے کہ ابورافع قبطی غلام تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس زمانہ میں تھا اب یہ مناسب نہیں۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي الإِمَامِ يُسْتَجَنُّ بِهِ فِي الْعُهُودِ؛امام کے طے کردہ معاہدے کو پورا کرنا(لازم ہے)؛جلد٣،ص٨٢؛حدیث نمبر؛٢٧٥٨)
سلیم بن عامر سے روایت ہے، وہ قبیلہ حمیر کے ایک فرد تھے، وہ کہتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک متعین وقت تک کے لیے یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپس میں لڑائی نہیں کریں گے، (اس مدت میں)حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے، یہاں تک کہ جب معاہدہ کی مدت گزر گئی، تو انہوں نے ان سے جنگ کی، ایک شخص عربی یا ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، وہ کہہ رہا تھا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، وعدہ کا پاس و لحاظ ہو بدعہدی نہ ہو لوگوں نے اس کو بغور دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ان کے پاس بھیجا، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو معاہدہ نہ توڑے اور نہ نیا معاہدہ کرے جب تک کہ اس معاہدہ کی مدت پوری نہ ہو جائے، یا برابری پر عہد ان کی طرف واپس نہ کر دے“، تو یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ واپس آ گئے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الإِمَامِ يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ عَهْدٌ فَيَسِيرُ إِلَيْهِ؛جب امام اور دشمن میں معاہدہ ہو تو امام دشمن کے ملک میں جا سکتا ہے؛جلد٣،ص٨٣؛حدیث نمبر؛٢٧٥٩)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی معاہد کو بغیر کسی وجہ کے قتل کرے گا تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا“۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْوَفَاءِ لِلْمُعَاهِدِ وَحُرْمَةِ ذِمَّتِه؛ذمی اور جس سے عہد و پیمان ہو اس کا پاس و احترام ضروری ہے؛جلد٣،ص٨٣؛حدیث نمبر؛٢٧٦٠)
نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے مسیلمہ کا خط پڑھا اس کے دونوں ایلچیوں سے کہتے سنا: ”تم دونوں مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ ان دونوں نے کہا: ”ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ ۱؎ نے کہا ہے“، (یعنی اس کی تصدیق کرتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کئے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا“۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرُّسُلِ باب: ایلچی اور سفیر کا بیان؛جلد٣،ص٨٣؛حدیث نمبر؛٢٧٦١)
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: میرے اور کسی عرب کے بیچ کوئی عداوت و دشمنی نہیں ہے، میں قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک مسجد سے گزرا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسیلمہ پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سن کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بلا بھیجا، وہ ان کے پاس لائے گئے تو انہوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کرنے کو کہا، اور ابن نواحہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا آج تو ایلچی نہیں ہے“۔ پھر انہوں نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا تو انہوں نے بازار میں اس کی گردن مار دی، اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہے وہ بازار میں جا کر دیکھ لے وہ مرا پڑا ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الرُّسُلِ باب: ایلچی اور سفیر کا بیان؛جلد٣،ص٨٤؛حدیث نمبر؛٢٧٦٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے دن ایک مشرک کو امان دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی، اور ہم نے اس کو امان دیا جس کو تم نے امان دیا“۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي أَمَانِ الْمَرْأَةِ؛مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٨٤؛حدیث نمبر؛٢٧٦٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی کافر کو مسلمانوں سے پناہ دے دیا کرتی تو وہ پناہ درست ہوتی تھی۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي أَمَانِ الْمَرْأَةِ؛مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٨٤؛حدیث نمبر؛٢٧٦٤)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا، اور اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی، لوگوں نے کہا: ”حل حل“ قصواء اڑ گئی، قصواء اڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی مجھ سے طلب کریں گے جس میں اللہ کے حرمات کی تعظیم ہوتی ہو تو وہ میں ان کو دوں گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹ کر اٹھایا تو وہ اٹھی اور آپ ایک طرف ہوئے یہاں تک کہ میدان حدیبیہ کے آخری سرے پر ایک جگہ جہاں تھوڑا سا پانی تھا جا اترے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدیل بن ورقاء خزاعی آیا، پھر وہ یعنی عروہ بن مسعود ثقفی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا، گفتگو میں عروہ باربار آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، وہ تلوار لیے ہوئے اور زرہ پہنے ہوئے تھے، انہوں نے عروہ کے ہاتھ پر تلوار کی کاٹھی ماری اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ دور رکھ، تو عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں، اس پر عروہ نے کہا: اے بدعہد! کیا میں نے تیری عہد شکنی کی اصلاح میں سعی نہیں کی؟ اور وہ واقعہ یوں ہے کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں چند لوگوں کو اپنے ساتھ لیا تھا، پھر ان کو قتل کیا اور ان کے مال لوٹے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا اسلام تو ہم نے اسے قبول کیا، اور رہا مال تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں“ اس کے بعد مسور رضی اللہ عنہ نے آخر تک حدیث بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو، یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے“، پھر پورا قصہ بیان کیا۔ سہیل نے کہا: اور اس بات پر بھی کہ جو کوئی قریش میں سے آپ کے پاس آئے گا گو وہ مسلمان ہو کر آیا ہو تو آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے، پھر جب آپ صلح نامہ لکھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اٹھو اور اونٹ نحر (ذبح) کرو، پھر سر منڈا ڈالو“، پھر مکہ کی کچھ عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس ہجرت کر کے آئیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو واپس کر دینے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جو مہر ان کے کافر شوہروں نے انہیں دیا تھا انہیں واپس کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ایک شخص قریش میں سے جس کا نام ابوبصیر تھا، آپ کے پاس مسلمان ہو کر آ گیا، قریش نے اس کو واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر کو ان کے حوالہ کر دیا، وہ ابوبصیر کو ساتھ لے کر نکلے، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو اتر کر اپنی کھجوریں کھانے لگے، ابوبصیر نے ان دونوں میں سے ایک کی تلوار دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! تمہاری تلوار بہت ہی عمدہ ہے، اس نے میان سے نکال کر کہا: ہاں میں اس کو آزما چکا ہوں، ابوبصیر نے کہا: مجھے دکھاؤ ذرا میں بھی تو دیکھوں، اس قریشی نے اس تلوار کو ابوبصیر کے ہاتھ میں دے دی، تو انہوں نے (اسی تلوار سے) اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، (یہ دیکھ کر) دوسرا ساتھی بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ وہ مدینہ واپس آ گیا اور دوڑتے ہوئے مسجد میں جا گھسا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ڈر گیا ہے“، وہ بولا: قسم اللہ کی! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا، اتنے میں ابوبصیر آ پہنچے اور بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنا عہد پورا کیا، مجھے کافروں کے حوالہ کر دیا، پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تباہی ہو اس کی ماں کے لیے، عجب لڑائی کو بھڑکانے والا ہے، اگر اس کا کوئی ساتھی ہوتا“، ابوبصیر نے جب یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر انہیں ان کے حوالہ کر دیں گے، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے اور (ابوجندل جو صلح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے لیکن آپ نے انہیں واپس کر دیا تھا) کافروں کی قید سے اپنے آپ کو چھڑا کر ابوبصیر سے آ ملے یہاں تک کہ وہاں ان کی ایک جماعت بن گئی۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛ باب فِي صُلْحِ الْعَدُوِّ؛دشمن سے صلح کرنے کا بیان؛جلد٣،ص٨٥؛حدیث نمبر؛٢٧٦٥)
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر معاہدہ کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي أَمَانِ الْمَرْأَةِ؛مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٨٦؛حدیث نمبر؛٢٧٦٦)
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا خالد بن معدان کی طرف مڑے اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا وہ کہتے ہیں: جبیر نے (مجھ سے) کہا: ہمیں ذومخبر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں کے پاس لے چلو، چنانچہ ہم ان کے پاس آئے جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قریب ہے کہ تم روم سے ایسی صلح کرو گے کہ کوئی خوف نہ رہے گا، پھر تم اور وہ مل کر ایک اور دشمن سے لڑو گے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي أَمَانِ الْمَرْأَةِ؛مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان؛جلد٣،ص٨٦؛حدیث نمبر؛٢٧٦٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو کعب بن اشرف کو قتل کرے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے“، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کوئی جھوٹی باتیں کہہ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کہہ سکتے ہو“، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا: اس شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، کعب نے کہا: ابھی کیا ہے؟ تم اور اکتا جاؤ گے، اس پر انہوں نے کہا: ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو، کعب نے کہا: تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، انہوں نے کہا: ”سبحان الله!“ تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا، اس نے کہا: اپنی اولاد کو رکھ دو، انہوں نے کہا: ”سبحان الله!“ جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے، کعب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا، اس کا سر مہک رہا تھا، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں (تمہارے بال) سونگھوں؟ اس نے کہا: ہاں، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو (اپنے ساتھیوں سے) کہا: پکڑو اسے، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْعَدُوِّ يُؤْتَى عَلَى غِرَّةٍ وَيُتَشَبَّهُ بِهِمْ؛ دشمن پر اس کی غفلت میں یکبارگی حملہ کرنا اور ان کی مشابہت اختیار کرنے والوں کا حکم؛جلد٣،ص٨٧؛حدیث نمبر؛٢٧٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو ختم کر دیا ہے تو کوئی مومن دھوکے سے قتل نہ کرے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الْعَدُوِّ يُؤْتَى عَلَى غِرَّةٍ وَيُتَشَبَّهُ بِهِمْ؛ دشمن پر اس کی غفلت میں یکبارگی حملہ کرنا اور ان کی مشابہت اختیار کرنے والوں کا حکم؛جلد٣،ص٨٧؛حدیث نمبر؛٢٧٦٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنگ،حج یا عمرے کے سفر سے واپس تشریف لاتے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تین مرتبہ تکبیر کہتے اور یہ پڑھتے تھے: (ترجمہ) "اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پہ قدرت رکھتا ہے ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے سجدہ کرنے والے اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں، اللہ تعالی نے اپنے وعدے کو سچ کر دکھایا اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور صرف اس نے دشمن کے لشکروں کو پسپا کر دیا" (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي التَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فِي الْمَسِيرِ؛سفر میں ہر بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان؛جلد٣،ص٨٨؛حدیث نمبر؛٢٧٧٠)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تم ذوخلصہ(نامی بت کدے)سے مجھے آرام نہیں پہنچاؤ گے تو وہ وہاں گئے اور انہوں نے اسے جلا دیا پھر انہوں نے احمس قبیلے کے ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ آپ کو خوشخبری سنائے اس شخص کی کنیت ابو ارطاۃ تھی۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي بَعْثَةِ الْبُشَرَاءِ؛جنگ میں فتح کی خوشخبری دینے والوں کو بھیجنے کا بیان؛جلد٣،ص٨٨؛حدیث نمبر؛٢٧٧٢)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے (اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا، میں نے ان کو سلام کیا، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی تو ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو پکار رہا تھا: کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ، پھر جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے، اور میں مسجد نبوی کی طرف چل پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے، مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي إِعْطَاءِ الْبَشِيرِ؛خوشخبری لانے والے کو انعام دینے کا بیان؛جلد٣،ص٨٨؛حدیث نمبر؛٢٧٧٣)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں:جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی خوشی کی خبر آتی تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں چلے جاتے تھے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي سُجُودِ الشُّكْرِ؛سجدہ شکر کا بیان؛جلد٣،ص٨٩؛حدیث نمبر؛٢٧٧٤)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے نکلے، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے، جب ہم عزورا کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی، پھر سجدہ میں گر پڑے، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں رہے، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی، پھر سجدے میں چلے گئے اور دیر تک سجدہ میں رہے، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی، پھر دوبارہ آپ سجدے میں چلے گئے ، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی، میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا، پھر سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دے دیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے پھر سجدہ میں گر گیا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دے دیا تو میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑا“۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي سُجُودِ الشُّكْرِ؛سجدہ شکر کا بیان؛جلد٣،ص٨٩؛حدیث نمبر؛٢٧٧٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص(طویل سفر سے واپسی پر) رات کے وقت اپنے گھر جائے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الطُّرُوقِ؛رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٩٠؛حدیث نمبر؛٢٧٧٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں آدمی جب سفر سے واپس آئے تو گھر واپس جانے کا بہترین وقت رات کا ابتدائی حصہ ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الطُّرُوقِ؛رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٩٠؛حدیث نمبر؛٢٧٧٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے جب ہم نے مدینہ منورہ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ذرا ٹھہر جاؤ، تاکہ ہم رات کے وقت داخل ہوں،تاکہ بکھرے ہوئے بالوں والی عورت بال سوار لے اور جس عورت کا شوہر(طویل عرصے سے گھر سے باہر تھا)وہ زیر نام بال صاف کر لے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: زوری کہتے ہیں طروق سے مراد عشاء کے بعد انا ہے۔ امام ابو داؤد علیہ الرحمہ رحمہ فرماتے ہیں: اگر کوئی مغرب کے بعد آ جائے تو اس میں بھی حرج نہیں۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الطُّرُوقِ؛رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٩٠؛حدیث نمبر؛٢٧٧٨)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزبہ تبوک سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے آئے دوسرے بچوں کے ساتھ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا انہیں ثنیۃ الوداع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي التَّلَقِّي؛مسافر کا استقبال کرنا؛جلد٣،ص٩٠؛حدیث نمبر؛٢٧٧٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک جوان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس مال نہیں ہے جس سے میں اس کی تیاری کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں انصاری کے پاس جاؤ اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن بیمار ہو گیا، اس سے جا کر کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سلام کہا ہے، اور یہ کہو کہ جو اسباب تم نے جہاد کے لیے تیار کیا تھا وہ مجھے دے دو“، وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا اور آ کر اس نے یہی بات کہی، انصاری نے اپنی بیوی سے کہا: جتنا سامان تو نے میرے لیے جمع کیا تھا وہ سب اسے دیدے، اس میں سے کچھ مت رکھنا، اللہ کی قسم اگر تم نے اس میں کوئی بھی چیز روکی تو اللہ تعالی اس میں برکت نہیں رکھے گا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنْ إِنْفَاذِ الزَّادِ فِي الْغَزْوِ إِذَا قَفَلَ؛(جہاد سے)واپسی پر زاد سفر کو ختم کر دینے کا مستحب ہونا؛جلد٣،ص٩٠؛حدیث نمبر؛٢٧٨٠)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے ہمیشہ دن کے وقت تشریف لاتے، (حسن کہتے ہیں) چاشت کے وقت آتے اور جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھتے پھر(لوگوں سے ملاقات کے لئے)تشریف فرما ہو جاتے تھے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الصَّلاَةِ عِنْدَ الْقُدُومِ مِنَ السَّفَرِ؛سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کا بیان؛جلد٣،ص٩١؛حدیث نمبر؛٢٧٨١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے حج سے واپس تشریف لائے اور مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے دروازے پر اپنی سواری کو بٹھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی پھر اپنے گھر تشریف لے گئے۔ نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الصَّلاَةِ عِنْدَ الْقُدُومِ مِنَ السَّفَرِ؛سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کا بیان؛جلد٣،ص٩١؛حدیث نمبر؛٢٧٨٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم قسامہ سے بچو، راوی کہتے ہیں ہم نے عرض کی قسامہ سے مراد کیا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی ایسی چیز لوگوں کے درمیان مشترکہ ہو اور(کوئی شخص)اس میں سے(اپنے طور پر کچھ نکال لے) (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كِرَاءِ الْمَقَاسِمِ؛تقسیم کرنے والوں کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٩١؛حدیث نمبر؛٢٧٨٣)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں:کوئی شخص کچھ لوگوں کا امیر ہو اور وہ اس کا بھی حصہ حاصل کر لے اور اس کا بھی حصہ حاصل کرنا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي كِرَاءِ الْمَقَاسِمِ؛تقسیم کرنے والوں کی اجرت کا بیان؛جلد٣،ص٩١؛حدیث نمبر؛٢٧٨٤)
عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تباہی ہو تیرے لیے، کیا نفع کمایا تو نے؟“ بولا: میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے (تجھ سے) زیادہ نفع کمایا ہے“ اس نے پوچھا: وہ کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت (سنت) پڑھی“۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي التِّجَارَةِ فِي الْغَزْوِ؛جہاد کے دوران تجارت کرنا؛جلد٣،ص٩٢؛حدیث نمبر؛٢٧٨٥)
حضرت ذوالجوشن ابوشمر ضبابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بدر سے فارغ ہونے کے بعد کی بات ہے آپ کے پاس اپنے قرحاء نامی گھوڑے کا بچھڑا لے کر آیا، اور میں نے کہا: محمد! میں آپ کے پاس قرحا کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے استعمال میں رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم بدر کی زرہوں میں سے ایک زرہ اس کے بدلے میں لینا چاہو تو میں اسے لے لوں گا“، میں نے کہا: آج کے دن تو میں اس کے بدلے گھوڑا بھی نہ لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي حَمْلِ السِّلاَحِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ؛دشمن کے ملک میں ہتھیار لے جانے کا بیان؛جلد٣،ص٩٢؛حدیث نمبر؛٢٧٨٦)
حضرت سمورہ بن جلد رضی اللہ عنہ نے (خطبہ دیتے ہوئے)ارشاد فرمایا اما بعد!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص مشرکین کے ساتھ میل جول رکھے اور ان کے ساتھ رہائش رکھے وہ ان کی مانند شمار ہوگا۔ (سنن ابی داؤ؛كِتَاب الْجِهَادِ؛باب فِي الإِقَامَةِ بِأَرْضِ الشِّرْكِ؛شرک کی سر زمین میں رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟؛جلد٣،ص٩٢؛حدیث نمبر؛٢٧٨٧)
Abu Dawood Shareef : Kitabul Jehaad
|
Abu Dawood Shareef : كِتَاب الْجِهَادِ
|
•