
کتاب:صلح کا بیان۔ باب:لوگوں کے درمیان صلح کرانا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے۔(سورۃ النساء ١١٤) اور سربراہ کا اپنے اصحاب کے ساتھ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے مختلف جگہوں پر جانا ۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (قباء کے) بنو عمرو بن عوف میں آپس میں کچھ تکرار ہوگئی تھی تو رسول اللہ ﷺ اپنے کئی اصحاب کو ساتھ لے کر ان کے یہاں ان میں صلح کرانے کے لیے گئے اور نماز کا وقت ہوگیا، لیکن نبی کریم ﷺ تشریف نہ لاسکے۔ چناں چہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اذان دی، ابھی تک چوں کہ نبی کریم ﷺ تشریف نہیں لائے تھے اس لیے وہ (نبی کریم ﷺ ہی کی ہدایت کے مطابق) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ نبی کریم ﷺ وہیں رک گئے ہیں اور نماز کا وقت ہوگیا ہے، کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر تم چاہو۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی تکبیر کہی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے (نماز کے درمیان)نبی کریم ﷺ صفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آپہنچے۔ لوگ باربار ہاتھ پر ہاتھ مارنے لگے۔ مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے (مگر جب باربار ایسا ہوا تو) آپ متوجہ ہوئے اور معلوم کیا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کے پیچھے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے انہیں حکم دیا کہ جس طرح وہ نماز پڑھا رہے ہیں، اسے جاری رکھیں۔ لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد بیان کی اور الٹے پاؤں پیچھے آگئے اور صف میں مل گئے۔ پھر نبی کریم ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ہدایت کی کہ لوگو! جب نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تم ہاتھ پر ہاتھ مارنے لگتے ہو۔ ہاتھ پر ہاتھ مارنا عورتوں کے لیے ہے (مردوں کو) جس کی نماز میں کوئی بات پیش آئے تو اسے سبحان اللہ کہنا چاہیے، کیوں کہ یہ لفظ جو بھی سنے گا وہ متوجہ ہوجائے گا۔ اے ابوبکر! جب میں نے اشارہ بھی کردیا تھا تو پھر آپ لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھاتے رہے؟ انہوں نے عرض کیا، ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے یہ بات مناسب نہ تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے نماز پڑھائے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح، مَا جَاءَ فِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ،حدیث نمبر ٢٦٩٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا، اگر آپ عبداللہ بن ابی(منافق) کے یہاں تشریف لے چلتے تو بہتر تھا۔ نبی کریم ﷺ اس کے یہاں ایک گدھے پر سوار ہو کر تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم پیدل نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے۔ جدھر سے نبی کریم ﷺ گزر رہے تھے وہ شور والی زمین تھی۔ جب نبی کریم ﷺ اس کے یہاں پہنچے تو وہ کہنے لگا ذرا آپ دور ہی رہئیے آپ کے گدھے کی بونے میرا دماغ پریشان کردیا ہے۔ اس پر ایک انصاری صحابی بولے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔عبداللہ (منافق)کی طرف سے اس کی قوم کا ایک شخص اس صحابی کی اس بات پر غصہ ہوگیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ پھر دونوں طرف سے دونوں کے حمایتی مشتعل ہوگئے اور ہاتھا پائی، چھڑی اور جوتے تک نوبت پہنچ گئی۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ آیت اسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔ وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فأصلحوا بينهما: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ۔(سورۃ الحجرات ٩) (بخاری شریف کتاب الصلح، مَا جَاءَ فِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ،حدیث نمبر ٢٦٩١)
باب:جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کرائے وہ جھوٹا نہیں ہے۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ان کی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ نے انہیں خبر دی اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جھوٹا وہ نہیں ہے جو لوگوں میں باہم صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے کسی اچھی بات کی چغلی کھائے یا اسی سلسلہ کی اور کوئی اچھی بات کہہ دے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح، بَابٌ : لَيْسَ الْكَاذِبُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ،حدیث نمبر ٢٦٩٢)
باب:سربراہ اپنے اصحاب سے کہے ہمیں صلح کرانے کے لئے لے چلو۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قباء کے لوگوں نے آپس میں جھگڑا کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک نے دوسرے پر پتھر پھینکے، نبی کریم ﷺ کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:چلو ہم ان میں صلح کرائیں گے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح،بَابُ قَوْلِ الْإِمَامِ لِأَصْحَابِهِ : اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ،حدیث نمبر ٢٦٩٣)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(خاوند اور بیوی)آپس میں صلح کرلیں اور صلح خوب ہے۔(سورۃ النساء ١٢٨) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے(اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں فرمایا)وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا: اگر کسی عورت اپنے شوہر زیادتی اور بے رغبتی کا خطرہ ہو۔۔تو اس سے مراد ایسا شوہر ہے جو اپنی بیوی میں ایسی چیزیں پائے جو اسے پسند نہ ہوں، عمر کی زیادتی وغیرہ اور اس لیے اسے اپنے سے جدا کرنا چاہتا ہو اور عورت کہے کہ مجھے جدا نہ کرو (نفقہ وغیرہ)جس طرح تم چاہو دیتے رہنا، تو انہوں نے فرمایا کہ اگر دونوں اس پر راضی ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : أَنْ يَصَّالَحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ،حدیث نمبر ٢٦٩٤)
باب:اگر فریقین ظلم پر صلح کر لے تو وہ صلح مردود۔ عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کر دیجئیے۔ دوسرے فریق نے بھی یہی کہا کہ اس نے سچ کہا ہے۔ آپ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کردیں۔ دیہاتی نے کہا کہ میرا لڑکا اس کے یہاں مزدور تھا۔ پھر اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ قوم نے کہا تمہارے لڑکے کو رجم کیا جائے گا، لیکن میں نے اپنے لڑکے کے اس جرم کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی، پھر میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے ملک بدر کردیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس لوٹا دی جاتی ہیں، البتہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کیا جائے گا اور انیس تم (یہ قبیلہ اسلم کے صحابی تھے)اس عورت کے گھر جاؤ اور اسے رجم کر دو (اگر وہ زنا کا اقرار کرلے)چناں چہ انیس گئے، اور (چوں کہ اس نے بھی زنا کا اقرار کرلیا تھا اس لیے) اسے رجم کردیا۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابٌ : إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ، فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،حدیث نمبر ٢٦٩٥،و حدیث نمبر ٢٦٩٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس دین میں نہیں تھی تو مردود ہے۔ اس حدیث کو عبد اللہ بن جعفر مخرمی اور عبد الواحد بن ابی عون نے از سعد بن ابراہیم روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابٌ : إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ، فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،حدیث نمبر ٢٦٩٧،) تشریح :دین میں نئی چیز ایجاد کرنے کا مطلب بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی شرح بخاری عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں کہ :اس حدیث میں مذکور ہے کہ :جس نے ہمارے اس امر میں احداث کیا، نبی کے آمر میں احداث کا معنی یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کے دین میں کسی ایسے نئے کام کا ارتکاب کیا جائے جس کی اصل کتاب و سنت میں نہ ہو۔اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :ایسا کام مردود ہے یعنی وہ باطل ہے اور قابل شمار نہیں ہے۔اس سے ان بدعات کا رد مقصود ہے جن کی اصل دین میں نہیں ہے۔(عمدۃ القاری ج ١٣،ص ٢٧٤،ادارہ الطباعۃ المنیر، مصر)
باب:صلح نامہ کس طرح لکھا جائے گا؟ (کیا اس طرح کہ) یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر فلاں بن فلاں نے صلح کی خواہ اس کے قبیلہ یا نسب کی طرف نسبت نہ کی ہو۔ صحیح بخاری کتاب: صلح کا بیان حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کی صلح (قریش سے) کی تو اس کی دستاویز حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی۔ انہوں نے اس میں لکھا محمد اللہ کے رسول ( ﷺ ) کی طرف سے۔ مشرکین نے اس پر اعتراض کیا کہ لفظ محمد کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھو، اگر آپ (ہمارے نزدیک) رسول اللہ ہوتے تو ہم آپ سے لڑتے ہی کیوں؟ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: رسول اللہ کا لفظ مٹا دو، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں تو اسے نہیں مٹا سکتا، تو نبی کریم ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے وہ لفظ مٹا دیا اور مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ (آئندہ سال) تین دن کے لیے مکہ آئیں اور ہتھیار میان میں رکھ کر داخل ہوں، شاگردوں نے پوچھا کہ جلبان السلاح (جس کا یہاں ذکر ہے) کیا چیز ہوتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میان اور جو چیز اس کے اندر ہوتی ہے (اس کا نام جلبان ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابٌ : كَيْفَ يُكْتَبُ : هَذَا مَا صَالَحَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. وَإِنْ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى قَبِيلَتِهِ أَوْ نَسَبِهِ،حدیث نمبر ٢٦٩٨)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ذی قعدہ کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھا۔ لیکن مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ آخر کار صلح اس پر ہوئی کہ (آئندہ سال) نبی کریم ﷺ مکہ میں تین روز قیام کریں گے۔ جب صلح نامہ لکھا جانے لگا تو اس میں لکھا گیا کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ لیکن مشرکین نے کہا کہ ہم تو اسے نہیں مانتے۔ اگر ہمیں یقین ہو جاتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو نہ روکتے۔لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دو، انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم! میں تو یہ لفظ کبھی نہ مٹاؤں گا۔ آخر نبی کریم ﷺ نے خود دستاویز لی اور لکھا کہ یہ اس کی دستاویز ہے کہ محمد بن عبداللہ نے اس شرط پر صلح کی ہے کہ مکہ میں وہ ہتھیار میان میں رکھے بغیر داخل نہ ہوں گے۔ اگر مکہ کا کوئی شخص ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو وہ اسے ساتھ نہ لے جائیں گے۔ لیکن اگر ان کے اصحاب میں سے کوئی شخص مکہ میں رہنا چاہے گا تو اسے وہ نہ روکیں گے۔ جب(آئندہ سال) نبی کریم ﷺ مکہ تشریف لے گئے اور (مکہ میں قیام کی) مدت پوری ہوگئی تو قریش حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے صاحب سے کہئے کہ مدت پوری ہوگئی ہے اور اب وہ ہمارے یہاں سے چلے جائیں۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ مکہ سے روانہ ہونے لگے۔ اس وقت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ایک بچی چچا چچا کرتی ہوئی آئیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے ساتھ لے لیا، پھر حضرت فاطمہ علیہا السلام کے پاس ہاتھ پکڑ کر لائے اور فرمایا، اپنی چچا زاد بہن کو بھی ساتھ لے لو، انہوں نے اس کو اپنے ساتھ سوار کرلیا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ،حضرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا جھگڑا ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کا میں زیادہ مستحق ہوں، یہ میرے چچا کی بچی ہے۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ میرے بھی چچا کی بچی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں بھی ہیں۔حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے بھائی کی بچی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بچی کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا کہ خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم صورت اور عادات و اخلاق سب میں مجھ سے مشابہ ہو۔حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی بھی ہو اور ہمارے مولا بھی۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابٌ : كَيْفَ يُكْتَبُ : هَذَا مَا صَالَحَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. وَإِنْ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى قَبِيلَتِهِ أَوْ نَسَبِهِ،حدیث نمبر ٢٦٩٩)
باب:مشرکین کے ساتھ صلح کا بیان۔ اس باب میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :پھر تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح ہو جائے گی۔ اور اس باب میں حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اور حضرت اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا اور حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے بھی اس باب میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین باتوں پر صلح کی ( 1 ) یہ کہ مشرکین میں سے اگر کوئی آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آ جائے تو نبی کریم ﷺ اسے واپس کر دیں گے۔ لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی مشرکین کے یہاں پناہ لے گا تو یہ لوگ ایسے شخص کو واپس نہیں کریں گے۔ ( 2 ) یہ کہ نبی کریم ﷺ آئندہ سال مکہ آ سکیں گے اور صرف تین دن ٹھہریں گے۔ ( 3 ) یہ کہ ہتھیار، تلوار، تیر وغیرہ نیام اور ترکش میں ڈال کر ہی مکہ میں داخل ہوں گے۔ چناں چہ حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ (جو مسلمان ہو گئے تھے اور قریش نے ان کو قید کر رکھا تھا ) بیڑیوں کو گھسیٹتے ہوئے آئے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں ( شرائط معاہدہ کے مطابق ) مشرکوں کو واپس کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مؤمل نے سفیان سے ابوجندل کا ذکر نہیں کیا ہے اور «إلا بجلبان السلاح» کے بجائے «إلا بجلب السلاح.» کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ الصُّلْحِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ،حدیث نمبر ٢٧٠٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے، تو کفار قریش نے نبی کریم ﷺ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے قربانی کا جانور حدیبیہ میں ذبح کردیا اور سر بھی وہیں منڈوا لیا اور کفار مکہ سے نبی کریم ﷺ نے اس شرط پر صلح کی تھی کہ نبی کریم ﷺ آئندہ سال عمرہ کرسکیں گے۔ تلواروں کے سوا اور کوئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں گے۔ (اور وہ بھی نیام میں ہوں گی) اور قریش جتنے دن چاہیں گے اس سے زیادہ مکہ میں نہ ٹھہر سکیں گے۔ (یعنی تین دن) چناں چہ نبی کریم ﷺ نے آئندہ سال عمرہ کیا اور شرائط کے مطابق نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے، پھر جب تین دن گزر چکے تو قریش نے مکے سے چلے جانے کے لیے کہا اور نبی کریم ﷺ وہاں سے واپس چلے آئے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ الصُّلْحِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ،حدیث نمبر ٢٧٠١)
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ خیبر گئے۔ خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی ان دنوں صلح تھی۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ الصُّلْحِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ،حدیث نمبر ٢٧٠٢)
باب:دیت میں صلح کرنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نضر کی بیٹی ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دئیے۔ اس پر لڑکی والوں نے تاوان مانگا اور ان لوگوں نے معافی چاہی، لیکن معاف کرنے سے انہوں نے انکار کیا۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے بدلہ لینے کا حکم دیا۔ (یعنی ان کا بھی دانت توڑ دیا جائے) حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ربیع کا دانت کس طرح توڑا جاسکے گا۔ نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے انس! کتاب اللہ کا فیصلہ تو بدلہ لینے (قصاص) ہی کا ہے۔ چناں چہ یہ لوگ راضی ہوگئے اور معاف کردیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ خود ان کی قسم پوری کرتا ہے۔ فزاری نے (اپنی روایت میں) حمید سے، اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ زیادتی نقل کی ہے کہ وہ لوگ راضی ہوگئے اور تاوان لے لیا۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ الصُّلْحِ فِي الدِّيَةِ،حدیث نمبر ٢٧٠٣،)
باب:حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ :میرا یہ بیٹا سید ہے اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے سبب سے دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کرا دے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :تو ان کے درمیان صلح کرا دو ۔(الحجرات ٩) حضرت امام حسن بصری بیان کرتے تھے کہ قسم اللہ کی جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں) پہاڑوں میں لشکر لے کر پہنچے، تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا (جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مشیر خاص تھے)کہ میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو اپنے مقابل کو نیست و نابود کیے بغیر واپس نہ جائے گا۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا: اور اللہ کی قسم!وہ ان دونوں اصحاب میں زیادہ اچھے تھے، کہ اے عمرو! اگر اس لشکر نے اس لشکر کو قتل کردیا، یا اس نے اس کو قتل کردیا، تو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں)لوگوں کے امور (کی جواب دہی کے لیے) میرے ساتھ کون ذمہ داری لے گا، لوگوں کی بیوہ عورتوں کی خبرگیری کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہوگا۔ لوگوں کی آل اولاد کے سلسلے میں میرے ساتھ کون ذمہ دار ہوگا۔ آخر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے یہاں قریش کی شاخ بنو عبد شمس کے دو آدمی بھیجے۔ عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز، آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے یہاں جاؤ اور ان کے سامنے صلح پیش کرو، ان سے اس پر گفتگو کرو اور فیصلہ انہیں کی مرضی پر چھوڑ دو۔ چناں چہ یہ لوگ آئے اور آپ سے گفتگو کی اور فیصلہ آپ ہی کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم بنو عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم اس مال سے حصہ ملا ہے۔اور ہمارے ساتھ یہ لوگ ہیں،اور یہ لوگ خون خرابہ کرنے میں طاق ہیں۔ وہ کہنے لگے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کو اتنا اتنا مال دینے کی پیشکش کی ہے اور آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔ فیصلہ آپ کی مرضی پر چھوڑا ہے اور آپ سے پوچھا ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان دونوں قاصدوں نے کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ آخر آپ نے صلح کرلی، پھر فرمایا کہ میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا ہے اور حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما نبی کریم ﷺ کے پہلو میں تھے، نبی کریم ﷺ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سید (سردار)ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہمارے نزدیک اس حدیث سے حسن بصری کا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت ہوا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ،حدیث نمبر ٢٧٠٤)
باب: کیا امام صلح کے لیے فریقین کو اشارہ کر سکتا ہے؟ ابو الرجال محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ان سے ان کی والدہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر دو جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی جو بلند ہوگئی تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے قرض میں کچھ کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا اور دوسرا کہتا تھا کہ اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروں گا۔ آخر رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والے صاحب کہاں ہیں؟ کہ وہ ایک اچھا کام نہیں کریں گے۔ ان صحابی نے عرض کیا، میں ہی ہوں یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اب میرا بھائی جو چاہتا ہے وہی مجھ کو بھی پسند ہے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابٌ : هَلْ يُشِيرُ الْإِمَامُ بِالصُّلْحِ ؟،حدیث نمبر ٢٧٠٥)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرض تھا، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا،(آخر تکرار میں) دونوں کی آواز بلند ہوگئی۔ پھر نبی کریم ﷺ ادھر سے گزرے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اے کعب! اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، جیسے آپ کہہ رہے ہوں کہ آدھا (قرض کم کر دے) چناں چہ انہوں نے آدھا قرض چھوڑ دیا اور آدھا لیا۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابٌ : هَلْ يُشِيرُ الْإِمَامُ بِالصُّلْحِ ؟حدیث نمبر ٢٧٠٦)
باب:لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے اور عدل کرنے کی فضیلت۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان کے بدن کے (تین سو ساٹھ جوڑوں میں سے) ہر جوڑ پر ہر اس دن کا صدقہ واجب ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان انصاف کرنا بھی ایک صدقہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ فَضْلِ الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ، وَالْعَدْلِ بَيْنَهُمْ،حدیث نمبر ٢٧٠٧)
باب:جب سربراہ صلح کا اشارہ کرے اور کوئی شخص نہ مانے تو پھر وعدہ کے مطابق فیصلہ کرے۔ زہری نے بیان کیا کہ انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ان میں اور ایک انصاری صحابی میں جو بدر کی لڑائی میں بھی شریک تھے، مدینہ کی پتھریلی زمین کی نالی کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ وہ اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ دونوں حضرات اس نالے سے (اپنے باغ) سیراب کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اے زبیر! تم پہلے سیراب کرلو، پھر اپنے پڑوسی کو بھی سیراب کرنے دو، اس پر انصاری کو غصہ آگیا اور کہا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !(یہ فیصلہ) اس وجہ سے کہ یہ آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں۔۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اے زبیر! تم سیراب کرو اور پانی کو (اپنے باغ میں)اتنی دیر تک آنے دو کہ دیوار تک چڑھ جائے۔ اس مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق عطا فرمایا، اس سے پہلے نبی کریم ﷺ نے ایسا فیصلہ کیا تھا، جس میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور انصاری صحابی دونوں کی رعایت تھی۔ لیکن جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو قانون کے مطابق پورا حق عطا فرمایا۔ عروہ نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ یہ آیت فلا وربک لا يؤمنون حتى يحكموک فيما شجر بينهم اسی واقعہ پر نازل ہوئی تھی:اے نبی مکرم! آپ کے رب کی قسم!وہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ کو اپنے ہر جھگڑے میں حاکم نہ مان لیں(النساء ٦٥) (بخاری شریف کتاب الصلح ،إِذَا أَشَارَ الْإِمَامُ بِالصُّلْحِ فَأَبَى، حَكَمَ عَلَيْهِ بِالْحُكْمِ الْبَيِّنِ،حدیث نمبر ٢٧٠٨)
باب:میت کے وارثوں اور مقروضوں کے درمیان صلح کرنا اور اندازہ سے قرض ادا کرنا۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ دو شریک یہ طے کر لیں کہ ایک شخص قرض وصول کرے گا اور دوسرا شخص نقد رقم لے گا پھر اگر ان میں سے ایک کا حصہ ڈوب جائے(یعنی قرض وصول نہ ہو) تو وہ دوسرے شریک سے رجوع نہیں کرے گا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد جب شہید ہوئے تو ان پر قرض تھا۔ میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ صورت رکھی کہ قرض کے بدلے میں وہ (اس سال کی کھجور کے) پھل لے لیں۔ انہوں نے اس سے انکار کیا، کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اس سے قرض پورا نہیں ہو سکے گا، میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب پھل توڑ کر مربد (وہ جگہ جہاں کھجور خشک کرتے تھے) میں جمع کر دو (تو مجھے خبر دو )چناں چہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی۔ نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ ساتھ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ وہاں کھجور کے ڈھیر پر بیٹھے اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا کہ اب اپنے قرض خواہوں کو بلا لا اور ان کا قرض ادا کر دے، چناں چہ کوئی شخص ایسا باقی نہ رہا جس کا میرے باپ پر قرض رہا اور میں نے اسے ادا نہ کردیا ہو۔ پھر بھی تیرہ وسق کھجور باقی بچ گئی۔ سات وسق عجوہ میں سے اور چھ وسق لون میں سے، یا چھ وسق عجوہ میں سے اور سات وسق لون میں سے، بعد میں میں رسول اللہ ﷺ سے مغرب کے وقت جا کر ملا اور نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ ہنسے اور فرمایا، ابوبکر اور عمر کے یہاں جا کر انہیں بھی یہ واقعہ بتادو۔ چناں چہ میں نے انہیں بتلایا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کرنا تھا نبی کریم ﷺ نے وہ کیا۔ ہمیں جبھی معلوم ہوگیا تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔ ہشام نے وہب سے اور انہوں نے جابر سے عصر کے وقت (حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حاضری کا) ذکر کیا ہے اور انہوں نے نہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور نہ ہنسنے کا، یہ بھی بیان کیا کہ(حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا) میرے والد اپنے اوپر تیس وسق قرض چھوڑ گئے تھے اور ابن اسحاق نے وہب سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ظہر کی نماز کا ذکر کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ الصُّلْحِ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ وَأَصْحَابِ الْمِيرَاثِ، وَالْمُجَازَفَةِ فِي ذَلِكَ،حدیث نمبر ٢٧٠٩)
باب: کچھ نقد دے کر قرض کے بدلے صلح کرنا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنا قرض طلب کیا، جو ان کے ذمہ تھا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کا واقعہ ہے۔ مسجد کے اندر ان دونوں کی آواز اتنی بلند ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی سنی۔ نبی کریم ﷺ اس وقت اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ باہر آئے اور اپنے حجرہ کا پردہ اٹھا کر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ نبی کریم ﷺ نے پکارا اے کعب! انہوں نے کہا یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا معاف کر دے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آدھا معاف کردیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم !نبی کریم ﷺ نے (ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ اب اٹھو اور قرض ادا کر دو۔ (بخاری شریف کتاب الصلح ،بَابُ الصُّلْحِ بِالدَّيْنِ وَالْعَيْنِ،حدیث نمبر ٢٧١٠)
Bukhari Shareef : Kitabus Sulhe
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الصُّلْحِ
|
•