
کتاب:وصیتوں کا بیان۔ باب الوصایا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ مرد کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :جب تم میں سے کسی کو موت آے سو اگر اس نے مال چھوڑا ہے تو اس پر ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے دستور کے موافق وصیت کرنا فرض کیا گیا ہے یہ پرہیز گاروں پر حق ہے۔سو جس نے وصیت کو سننے کے بعد اس کو تبدیلی کیا تو اس کا گناہ صرف تبدیل کرنے والوں پر ہے۔بے شک اللہ سب کو سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔پھر جس کو وصیت کرنے والے سے بے انصافی یا گناہ کا خوف ہو پس وہ ان کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔بے شک اللہ بہت بخشنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے (البقرہ ٨١ تا ٨٢)۔جنفا کا معنی بے انصافی ہے اور متجانف کا معنی بے انصافی کرنے والا ۔مائل کا معنی ہے جھکنے والا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس شخص کے پاس کوئی وصیت کے لائق چیز ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے وصیت لکھے بغیر دو راتیں گزارنا بھی جائز نہیں ہے۔محمد بن مسلم نے امام مالک کی متابعت کی ہے از عمرو از حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا، بَابُ الْوَصَايَا، حدیث نمبر ٢٧٣٨)
ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کے نسبتی بھائی حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے جو حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ تعالٰی عنہا (ام المؤمنین) کے بھائی ہیں ‘ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات کے بعد سواے اپنے سفید خچر ‘ اپنے ہتھیار اور اپنی زمین کے جسے نبی کریم ﷺ وقف کر گئے تھے نہ کوئی درہم چھوڑا تھا نہ دینار نہ غلام نہ باندی اور نہ کوئی چیز۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الْوَصَايَا،حدیث نمبر ٢٧٣٩)
طلحہ بن مصرف نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر وصیت کس طرح لوگوں پر فرض ہوئی؟ یا (راوی نے اس طرح بیان کیا) کہ لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں کردیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی (اور کتاب اللہ میں وصیت کرنے کے لیے حکم موجود ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الْوَصَايَا،حدیث نمبر ٢٧٤٠)
اسود بن یزید نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ کے) وصی تھے تو آپ نے کہا کہ کب انہیں وصی بنایا۔ میں تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت سر مبارک اپنے سینے پر یا انہوں نے (بجائے سینے کے) کہا کہ اپنے گود میں رکھے ہوئے تھی پھر نبی کریم ﷺ نے (پانی کا) طشت منگوایا تھا کہ اتنے میں (سر مبارک) میری گود میں جھک گیا اور میں سمجھ نہ سکی کہ نبی کریم ﷺ کی وفات ہوچکی ہے تو نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصی کب بنایا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الْوَصَايَا،حدیث نمبر ٢٧٤١)
باب: اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (حجۃ الوداع میں) میری عیادت کو تشریف لائے ‘ میں اس وقت مکہ میں تھا۔ نبی کریم ﷺ اس سر زمین پر موت کو پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سے کوئی ہجرت کرچکا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ ابن عفراء(سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ )پر رحم فرمائے۔ میں عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے سارے مال و دولت کی وصیت کر دوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:نہیں! میں نے پوچھا پھر آدھے کی کر دوں؟ نبی کریم ﷺ نے اس پر بھی یہی فرمایا :نہیں! میں نے پوچھا پھر تہائی کی کر دوں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تہائی کی کرسکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے ‘ اگر تم اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ‘ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تم اپنی کوئی چیز (اللہ کے لیے خرچ کرو گے) تو وہ خیرات ہے ‘ یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے(وہ بھی خیرات ہے) اور(ابھی وصیت کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں)ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے اور اس کے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو اور دوسرے بہت سے لوگ (اسلام کے مخالف) نقصان اٹھائیں۔ اس وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی صرف ایک بیٹی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : أَنْ يَتْرُكَ وَرَثَتَهُ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَكَفَّفُوا النَّاسَ،حدیث نمبر ٢٧٤٢)
باب:تہائی مال کی وصیت کرنا۔ اور حسن بصری نے کہا:ذمی کے لیے تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا جائز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور آپ ان کے درمیان اس قرآن کے ساتھ فیصلہ کریں جس کو اللہ نے نازل کیا(سورۃ المائدہ ٤٩) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کاش! لوگ (وصیت کو)چوتھائی تک کم کردیتے تو بہتر ہوتا کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: تم تہائی (کی وصیت کرسکتے ہو) اور تہائی بھی بہت ہے۔یا(نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ) یہ بہت زیادہ رقم ہے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ،حدیث نمبر ٢٧٤٣)
عامر بن سعد نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے الٹے پاؤں واپس نہ کر دے (یعنی مکہ میں میری موت نہ ہو)نبی کریم ﷺ نے فرمایا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صحت دے اور تم سے بہت سے لوگ نفع اٹھائیں۔ میں نے عرض کیا میرا ارادہ وصیت کرنے کا ہے۔ ایک لڑکی کے سوا اور میرے کوئی(اولاد)نہیں۔ میں نے پوچھا کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدھا تو بہت ہے۔ پھر میں نے پوچھا تو تہائی کی کر دوں؟ فرمایا کہ تہائی کی کرسکتے ہو اگرچہ یہ بھی بہت ہے یا(یہ فرمایا کہ)بڑی(رقم)ہے۔ چناں چہ لوگ بھی تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ ان کے لیے جائز ہوگئی۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ،حدیث نمبر ٢٧٤٤)
باب: وصیت کرنے والا اپنے وصی سے کہے کہ میرے بچے کی دیکھ بھال کرتے رہنا اور وصی کے لیے کس طرح کے دعوے جائز ہیں؟ عروہ بن زبیر بیان کیا کہ ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے مرتے وقت اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کا لڑکا میرا ہے ‘ اس لیے تم اسے لے لینا چناں چہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں مجھے اس کی وصیت کی تھی۔ پھر حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے کہ یہ تو میرا بھائی ہے میرے باپ کی لونڈی نے اس کو جنا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ پھر یہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے ‘ مجھے اس نے وصیت کی تھی۔ لیکن حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ میرا بھائی اور میرے والد کی باندی کا لڑکا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فیصلہ یہ فرمایا کہ لڑکا تمہارا ہی ہے اے عبد بن زمعہ! بچہ فراش کے تحت ہوتا ہے اور زانی کے حصے میں پتھر ہیں لیکن نبی کریم ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کر کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے عتبہ کی مشابہت اس لڑکے میں صاف پائی تھی۔ چناں چہ اس کے بعد اس لڑکے نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو کبھی نہ دیکھا تاآنکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے جا ملیں۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ قَوْلِ الْمُوصِي لِوَصِيِّهِ : تَعَاهَدْ وَلَدِي. وَمَا يَجُوزُ لِلْوَصِيِّ مِنَ الدَّعْوَى،حدیث نمبر ٢٧٤٥)
باب: اگر مریض اپنے سر سے کوئی صاف اشارہ کرے تو اس پر حکم دیا جائے گا؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک (انصاری) لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں رکھ کر کچل دیا تھا۔ لڑکی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سر اس طرح کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں شخص نے کیا؟کیا فلاں نے کیا؟ آخر یہودی کا بھی نام لیا گیا(جس نے اس کا سر کچل دیا تھا)تو لڑکی نے سر کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا۔ پھر وہ یہودی بلایا گیا اور آخر اس نے بھی اقرار کرلیا اور نبی کریم ﷺ کے حکم سے اس کا بھی پتھر سے سر کچل دیا گیا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا أَوْمَأَ الْمَرِيضُ بِرَأْسِهِ إِشَارَةً بَيِّنَةً جَازَتْ،حدیث نمبر ٢٧٤٦)
باب: وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ شروع اسلام میں(میراث کا)مال اولاد کو ملتا تھا اور والدین کے لیے وصیت ضروری تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح چاہا اس حکم کو منسوخ کردیا پھر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر قرار دیا اور والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور بیوی کا (اولاد کی موجودگی میں) آٹھواں حصہ اور (اولاد کے نہ ہونے کی صورت میں) چوتھا حصہ قرار دیا۔ اسی طرح شوہر کا(اولاد نہ ہونے کی صورت میں)آدھا(اولاد ہونے کی صورت میں) چوتھائی حصہ قرار دیا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ،حدیث نمبر ٢٧٤٧)
باب: موت کے وقت صدقہ کرنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا یہ کہ صدقہ تندرستی کی حالت میں کر کہ (تجھ کو اس مال کو باقی رکھنے کی) خواہش بھی ہو جس سے کچھ سرمایہ جمع ہوجانے کی تمہیں امید ہو اور (اسے خرچ کرنے کی صورت میں)محتاجی کا ڈر ہو اور اس میں تاخیر نہ کر کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے بیٹھ جائے کہ اتنا مال فلاں کے لیے‘ فلانے کو اتنا دینا ‘ اب تو فلانے کا ہو ہی گیا (تو تو دنیا سے چلا) ۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الصَّدَقَةِ عِنْدَ الْمَوْتِ،حدیث نمبر ٢٧٤٨)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :یہ تقسیم وصیت کو ادا کرنے کے بعد ہے جو وہ کر جاتا ہے یا فرض ادا کرنے کے بعد ہے(النساء ١١) اور ذکر کیا جاتا ہے کہ شریح، عمر بن عبدالعزیز، طاؤس، عطا اور ابن اذینہ نے مریض کے قرض کو اقرار کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ اور حسن بصری نے کہا:آدمی جس چیز کا دنیا کے آخری دن میں اور آخرت کے پہلے دن میں صدقہ کرے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ اور ابراہیم اور حکم نے کہا:جب وارث کو قرض سے بری کردیا تو وہ بری ہو جائے گا۔ اور رافع بن خدیج نے یہ وصیت کی کہ فزاری عورت کے جس مال کا دروازہ بند کیا ہوا ہے اس کو نہ کھولا جائے۔ اور حسن بصری نے کہا کہ جب کسی شخص نے موت کے وقت اپنے غلام سے کہا کہ میں تمہیں آزاد کرچکا ہوں تو یہ جائز ہے۔ اور شعبی نے کہا کہ جب کسی عورت نے اپنی موت کے وقت کہا کہ میرے شوہر نے میرا حق ادا کر دیا تھا اور میں نے اس پر قبضہ کر لیا تھا تو یہ اقرار جائز ہے۔ اور امام بخاری نے کہا بعض الناس (یعنی امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کوفی رضی اللہ عنہ) نے کہا:اس مرد کا یعنی مریض کا یہ اقرار جائز نہیں ہے کیوں کہ اس کے وارث اس پر بدگمانی کریں گے پھر انہوں نے اس کے قول کو مستحسن قرار دیا اور کہا:امانت، بضاعت، اور مضاربت کے متعلق اس کا قول جائز ہے۔ اور تحقیق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :تم بدگمانی کرنے سے بچوں کیوں کہ بدگمانی سب بڑی جھوٹی بات ہے۔ اور مسلمانوں کا مال ناجائز کھانا حلال نہیں کیوں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:منافق کی علامت یہ ہے کہ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :بے شک اللہ تعالیٰ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ۔النساء ٥٨)اس میں اللہ تعالیٰ نے وارث کا یا کسی اور کا استثنا نہیں کیا ہے۔ اس باب میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :منافق کی تین نشانیاں ہیں:جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔اور جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : { مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ،حدیث نمبر ٢٧٤٩)
باب:اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تاویل :(تقسیم وراثت) وصیت کے بعد ہے یا قرض ادا کرنے کے بعد ہے۔(النساء ١٢) اور ذکر کیا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے میت کی وصیت سے پہلے اس کا قرض ادا کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانت رکھنے والوں کی امانت ادا کردو (النسا ٥٨)پس امانت (یعنی قرض کا ادا کرنا نفلی وصیت کو پورا کرنے کی بنسبت زیادہ حق دار ہے۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :صدقہ صرف اس کا مستحسن ہے جو صدقہ کرنے کے بعد خوش حال ہو۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ غلام صرف اپنے مالکوں کی اجازت سے وصیت کرے گا۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :غلام اپنے مالک کے مال کا محافظ ہے۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ (مشہور صحابی) نے بیان کیا میں نے نبی کریم ﷺ سے مانگا آپ نے مجھ کو دیا ‘ پھر مانگا پھر آپ نے دیا ‘پھر فرمانے لگے حکیم یہ دنیا کا روپیہ پیسہ دیکھنے میں خوشنما اور مزے میں شیریں ہے لیکن جو کوئی اس مال کو استغنا کے ساتھ لے گا اس کو برکت ہوتی ہے اور جو کوئی جان لڑا کر حرص کے ساتھ اس کو لے اس کو برکت نہ ہوگی۔ اس کی مثال ایسی ہے جو کماتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نیچے والے (لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! قسم اس کی جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر کے بھیجا ہے میں تو آج سے آپ کے بعد کسی سے کوئی چیز کبھی نہیں لوں گا مرنے تک پھر (حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا یہ حال رہا) کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کا سالانہ وظیفہ دینے کے لیے ان کو بلاتے ‘ وہ اس کے لینے سے انکار کرتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت میں ان کو بلایا ان کا وظیفہ دینے کے لیے لیکن انہوں نے انکار کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے مسلمانو! تم گواہ رہنا حکیم کو اس کا حق جو لوٹ کے مال میں اللہ نے رکھا ہے دیتا ہوں وہ نہیں لیتا۔ غرض حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے بعد پھر کسی شخص سے کوئی چیز قبول نہیں کی (اپنا وظیفہ بھی بیت المال سے نہ لیا)یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔ اللہ ان پر رحم کرے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ }حدیث نمبر ٢٧٥٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ‘ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور ان سے ان کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حاکم بھی نگہبان ہے اور ان سے ان کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان سے ان کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور ان سے ان کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور ان سے ان کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور ان سے ان کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ }حدیث نمبر ٢٧٥١)
باب:جب کسی شخص نے اپنے رشتہ داروں کے لیے کوئی چیز وقف کی یا وصیت کی تو اس کا کیا حکم ہے اور رشتہ دار کون ہیں؟ اور ثابت نے کہا از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور فقراء کے لیے وقف کردو تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس باغ کو حضرت حسان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے لیے وقف کردیا۔ اور انصاری نے کہا کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از ثمامہ از حضرت انس رضی اللہ عنہ جیسے ثابت کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے(حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا :اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور فقراء کے لیے وقف کردو پس اس باغ کو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے لیے وقف کردیا۔اور وہ دونوں میری بنسبت ان کے زیادہ قریبی تھے۔اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے قرابت اس طرح تھی کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا نام زید بن سہل بن الأسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے اور حسان بن ثابت بن المنذر بن حرام ہے پس یہ دونوں حرام میں جمع ہو جاتے ہیں۔اور حرام ان کی پشت میں تیسرے نمبر کے باپ ہیں اور حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار وہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی، عمرو بن مالک کے ساتھ چھٹی پشت میں جمع ہو جاتے ہیں اور وہ ابی بن کعب بن قیس بن عبید بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن النجار ہیں ۔پس عمرو بن مالک میں حضرت حسان بن رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جمع ہو جاتے ہیں۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ جب کوئی شخص اپنے رشتہ داروں کے لیے وصیت کی تو اس کے مسلمان آبا و اجداد کی طرف راجح ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوطلحہ سے فرمایا(جب انہوں نے اپنا باغ بیرحاء اللہ کی راہ میں دینا چاہا)میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم یہ باغ اپنے عزیزوں کو دیدو ۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا بہت خوب ایسا ہی کروں گا۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب (سورۃ الشعراء کی)یہ آیت اتری وأنذر عشيرتک الأقربين:اور آپ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائیے(الشعراء ٢١٤)تو نبی کریم ﷺ قریش کے خاندانوں بنی فہر ‘ بنی عدی کو پکارنے لگے(ان کو ڈرایا)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب یہ آیت اتری وأنذر عشيرتک الأقربين تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اے قریش کے لوگو! (اللہ سے ڈرو) ۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا وَقَفَ أَوْ أَوْصَى لِأَقَارِبِهِ، وَمَنِ الْأَقَارِبُ ؟ حدیث نمبر ٢٧٥٢)
باب: کیا رشتہ داروں میں عورتیں اور بچے بھی داخل ہوں گے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب (سورۃ الشعراء کی) یہ آیت اللہ تعالیٰ نے اتاری وأنذر عشيرتک الأقربين: اور آپ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراییے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اے قریش کے لوگو! یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ۔(اور فرمایا) تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو (ایمان لاکر ) عذاب سے(بچا لو)میں تمہیں اللہ کی اجازت کے بغیر اللہ کے عذاب سے بالکل نہیں بچاؤں گا۔اے عبد مناف کے بیٹو! میں اللہ کے عذاب سے اللہ کی اجازت کے بغیر بالکل نہیں بچاؤں گا۔ اے عباس عبدالمطلب کے بیٹے! میں اللہ کے عذاب سے اللہ کی اجازت کے بغیر تمہیں بالکل نہیں بچاؤں گا ۔ اے صفیہ میری پھوپھی!میں اللہ کے عذاب سے اللہ کی اجازت کے بغیر آپ کو بالکل نہیں بچاؤں گا۔ اے فاطمہ! میری بیٹی تو چاہے میرا مال مانگ لے لیکن میں اللہ کے عذاب سے اللہ کی اجازت کے بغیر تمہیں بالکل دور نہیں کروں گا۔ ابوالیمان کے ساتھ حدیث کو اصبغ نے بھی عبداللہ بن وہب سے ‘ انہوں نے یونس سے ‘ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : هَلْ يَدْخُلُ النِّسَاءُ وَالْوَلَدُ فِي الْأَقَارِبِ ؟حدیث نمبر ٢٧٥٣)
باب:کیا وقف کرنے والا خود بھی اپنے وقف سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ اور تحقیق یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ شرط لگائی ہے کہ اگر وقف کا منتظم وقف سے کچھ کھا لے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور کبھی واقف اور کبھی دوسرا شخص اس کے وقف کا منتظم ہوتا ہے۔ اور اسی طرح جب کسی شخص نے قربانی کے اونٹ کو یا اور کسی چیز کو اللہ کے لیے وقف کردیا تو اس کے لیے اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔جس طرح دوسرے کے لیے اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔خواہ اس نے شرط نہ لگائی ہو۔ (امام بخاری کی عبارات کا مطلب یہ ہے کہ اگر وقف کی ہوئی چیز کو نقصان نہ ہو تو واقف فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔لیکن دوسرے علما نے کہا ہے: واقف کو اپنے وقف سے فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں کیوں کہ واقف نے وقف اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے اور جب واقف کوئی چیز وقف کرتا ہے تو وہ چیز اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور اپنے کیے ہوئے صدقہ سے فائدہ اٹھانے کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ہاں اگر واقف نے شرط لگائی ہو کہ مجھے بھی اس چیز سے فائدہ حاصل کرنے کی اجازت ہوگی تب تو فائدہ اٹھانا جائز ہے۔یا پھر واقف اگر محتاج ہو جائے تو پھر واقف فائدہ اٹھا سکتا ہے۔(ماخوذ از نعمۃ الباری فی شرح البخاری علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ حدیث نمبر ٢٧٥٤ کے باب کے تحت) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص قربانی کا اونٹ ہانکے لیے جا رہا ہے۔نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجا۔ اس شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا افسوس! سوار بھی ہوجا یا آپ نے ويلك کی بجائے ويحك فرمایا جس کے معنی بھی وہی ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : هَلْ يَنْتَفِعُ الْوَاقِفُ بِوَقْفِهِ ؟حدیث نمبر ٢٧٥٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کا اونٹ لے جا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسے سے نے فرمایا اونٹ پر سوار ہو جا، اس نے کہا:یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! یہ قربانی کا اونٹ ہے، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم دوسری یا تیسری بار فرمایا :تم ہر افسوس ہے اس پر سوار ہو جا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : هَلْ يَنْتَفِعُ الْوَاقِفُ بِوَقْفِهِ ؟حدیث نمبر ٢٧٥٥)
باب:جب کسی چیز کو وقف کر کے اس کو کسی دوسرے کے حوالے نہ کرے تو جائز ہے۔کیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وقف کیا اور فرمایا :جو اس کا منتظم بنے اس کے لیے اس میں سے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔اور انہوں نے اس کی تخصیص نہیں کی کہ خواہ اس کا انتظام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کریں یا کوئی دوسرا۔اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :میری راے یہ ہے کہ تم اس باغ کو اپنے رشتہ داروں میں وقف کردو تو انہوں نے کہا :میں کرتا ہوں ۔پھر انہوں نے اس باغ کو اپنے قرابت داروں میں اور اپنے چچاؤں کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ باب:جب کسی شخص نے کہا:میرا مکان اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے اور فقراء اور دوسرے لوگوں کا بیان نہیں کیا تو یہ جائز ہے اب خواہ وہ اس کو اپنے رشتہ داروں میں وقف کردے یا جہاں ارادہ کرے۔(کیوں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے) حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا سب سے پسندیدہ مال بیر حاء کا باغ ہے اور یہ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :تم اس باغ کو اپنے قرابت داروں میں وقف کردو پس حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس باغ کو اپنے رشتہ داروں میں وقف کردیا تو اس کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا۔ اور بعض فقہا نے کہا کہ یہ جائز نہیں ہے حتیٰ کہ وہ بیان کردے کہ یہ صدقہ کسی کے لیے ہے ۔اور پہلا قول زیادہ درست ہے۔ باب:جب کسی شخص نے کہا کہ میری زمیں یا میرا باغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے تو یہ جائز ہے خواہ وہ یہ نہ بیان کرے کہ یہ کس کے لیے صدقہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی ماں فوت ہو گئی اور وہ اس وقت اپنی ماں کے پاس سے غائب تھے (یعنی اپنی ماں کے پاس موجود نہ تھے) تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! بے شک میری ماں وفات پا گئی ہیں اور میں اس وقت ان کے پاس نہیں تھا، اگر میں ان کی طرف سے کسی چیز کو صدقہ کروں تو کیا ان کو نفع پہنچے گا؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہاں! انہوں نے کہا:پس میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میرا مخراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا قَالَ : أَرْضِي أَوْ بُسْتَانِي صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَنْ أُمِّي، فَهُوَ جَائِزٌ، وَإِنْ لَمْ يُبَيِّنْ لِمَنْ ذَلِكَ،حدیث نمبر ٢٧٥٦)
باب:جب کسی شخص نے اپنا کچھ مال یا کوئی غلام یا کوئی سواری صدقہ کی یا وقف کی تو یہ جائز ہے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری توبہ(غزوہ تبوک میں نہ جانے کی)قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں دیدوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ پھر میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا تَصَدَّقَ، أَوْ أَوْقَفَ بَعْضَ مَالِهِ أَوْ بَعْضَ رَقِيقِهِ أَوْ دَوَابِّهِ، فَهُوَ جَائِزٌ،حدیث نمبر ٢٧٥٧)
باب:جس شخص نے اپنے وکیل کو صدقہ کیا پھر وہ وکیل نے صدقہ واپس کردیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا(جب سورة آل عمران کی) یہ آیت نازل ہوئی لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون: تم اس وقت تک ہر گز نیکی نہ پا سکو گے جب تک اس چیز سے نہ خرچ کرو جس کو تم پسند کرتے ہو (آل عمران ٩٢) تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون :تم اس وقت تک ہر گز نیکی نہ پا سکو گے جب تک اس چیز سے نہ خرچ کرو جس کو تم پسند کرتے ہو (آل عمران ٩٢)اور میرے اموال میں سب سے پسند مجھے بیرحاء ہے۔ بیان کیا کہ بیرحاء ایک باغ تھا۔ رسول اللہ ﷺ بھی اس میں تشریف لے جایا کرتے ‘ اس کے سائے میں بیٹھتے اور اس کا پانی پیتے تھے (حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ) اس لیے وہ اللہ عزوجل کی راہ میں صدقہ اور رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔ میں اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کی امید رکھتا ہوں۔ پس یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! جس طرح اللہ آپ کو بتائے اسے خرچ کیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :واہ واہ شاباش اے ابوطلحہ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے ‘ ہم تم سے اسے قبول کر کے پھر تمہارے ہی حوالے کردیتے ہیں اور اب تم اسے اپنے عزیزوں کو دیدو۔ چناں چہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں کو دے دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جن لوگوں کو باغ آپ نے دیا تھا ان میں حضرت ابی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بیچ دیا تو کسی نے ان سے کہا کہ کیا آپ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا دیا ہوا مال بیچ رہے ہو؟حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں کھجور کا ایک صاع روپوں کے ایک صاع کے بدل کیوں نہ بیچوں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا یہ باغ بنی حدیلہ کے محلہ کے قریب تھا جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے (بطور قلعہ کے) تعمیر کیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ إِلَى وَكِيلِهِ ثُمَّ رَدَّ الْوَكِيلُ إِلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٧٥٨)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور جب ترکہ کی تقسیم کے وقت غیر وارث رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو انہیں بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے اچھی بات کہو(النساء ٨) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ کچھ لوگ گمان کرنے لگے ہیں کہ یہ آیت (جس ذکر عنوان میں ہوا) میراث کی آیت منسوخ ہوگئی ہے ‘نہیں قسم اللہ کی آیت منسوخ نہیں ہوئی البتہ لوگ اس پر عمل کرنے میں سست ہوگئے ہیں۔ ترکے کے لینے والے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو وارث ہوں ان کو حصہ دیا جائے گا دوسرے وہ جو وارث نہ ہوں ان کو نرمی سے جواب دینے کا حکم ہے۔ وہ یوں کہے میاں میں تم کو دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ }حدیث نمبر ٢٧٥٩)
باب:جو اچانک فوت ہوئے جاے اس کی طرف سے صدقہ کرنا اور میت کی نذر کو پورا کرنا مستحب ہے. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی (حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ )نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میری والدہ کی موت اچانک واقع ہوگئی ‘ میرا خیال ہے کہ اگر انہیں گفتگو کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتیں تو کیا میں ان کی طرف سے خیرات کرسکتا ہوں؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا :ہاں! ان کی طرف سے خیرات کر۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ لِمَنْ يُتَوَفَّى فُجَاءَةً، أَنْ يَتَصَدَّقُوا عَنْهُ، وَقَضَاءِ النُّذُورِ عَنِ الْمَيِّتِ،حدیث نمبر ٢٧٦٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا ‘ انہوں نے عرض کیا کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے ذمہ ایک نذر تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان کی طرف سے نذر پوری کر دے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ لِمَنْ يُتَوَفَّى فُجَاءَةً، أَنْ يَتَصَدَّقُوا عَنْهُ، وَقَضَاءِ النُّذُورِ عَنِ الْمَيِّتِ،حدیث نمبر ٢٧٦١)
باب: وقف اور صدقہ پر گواہ بنانا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے غلام عکرمہ سے روایت ہے کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ قبیلہ بنی ساعدہ کے بھائی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی ماں کا انتقال ہوا تو وہ ان کی خدمت میں حاضر نہیں تھے (بلکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ دومۃ الجندل میں شریک تھے)اس لیے وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور میں اس وقت موجود نہیں تھا تو اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہاں! حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا باغ مخراف نامی ان کی طرف سے صدقہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الْإِشْهَادِ فِي الْوَقْفِ وَالصَّدَقَةِ،حدیث نمبر ٢٧٦٢)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور یتیموں کو ان کے اموال دے دو اور اپنے خراب مال کو ان کے اچھے مال کے ساتھ تبدیل نہ کرو اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کر سکو گے تو تمہیں (دوسری غیر یتیم) جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو (النساء ٢ تا ٣) عروہ بن الزبیر یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس آیت کے متعلق سوال کیا :اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کر سکو گے تو تمہیں جو (غیر یتیم) عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو ( ٣)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا :یہ آیت اس یتیم لڑکی کے لیے ہے جو اپنے ولی کے زیر پرورش ہوتی ہے اور وہ (ولی) اس کے حسن و جمال اور مال و دولت میں رغبت کرتا ہے اور کم مہر کے عوض اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے جو اس جیسی لڑکیوں کا مہر ہوتا ہے تو ان کو ان یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے منع کر دیا گیا سوا اس کے وہ اس کا پورا پورا مہر انصاف کے ساتھ مقرر کرے، اور ان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ان یتیم لڑکیوں کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کرے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ پھر اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:اور یہ لوگ آپ سے عورتوں کے متعلق حکم معلوم کرتے ہیں آپ کہیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے متعلق حکم دیتا ہے (النساء ١٢٧) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرما دیا کہ جب کوئی یتیم لڑکی خوبصورت اور مال دار ہو اور اس کے ولی اس سے نکاح کرنے میں رغبت رکھتا ہو اور اس کا مہر رواج کے مطابق نہ دے تو وہ اس سے نکاح نہ کرے۔(کیوں کہ اس میں ہوتا یہ کہ) جب اس لڑکی کا حسن اور اس کا مال کم ہوتا تو وہ اس یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے اور اس کے سوا کسی اور عورت کو طلب کرتے(اس وجہ سے کہا گیا کہ)جس طرح جب وہ کسی لڑکی سے رغبت نہ کرے تو اس کو چھوڑ دیتے ہیں اس طرح جب وہ کسی لڑکی سے رغبت کرے(اور مہر پورا دینے کا ارادہ نہ ہو) تو اس سے نکاح کرنا جائز نہیں سوا اس کے وہ انصاف سے اس کا پورا پورا مہر ادا کرے اور اس کا حق اس کو دے دے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا } { وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لَا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ }حدیث نمبر ٢٧٦٣)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پس اگر تم ان میں عقل مندی کے آثار دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو اور ان کے اموال فضول خرچی اور جلد بازی سے نہ کھا اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہو جائیں اور تم سے اپنا حق طلب کریں اور یتم کا وہ ولی جسے ضرورت نہ ہو وہ اس کا مال خرچ کرنے سے بچتا رہے اور جس کو ضرورت ہو وہ اس کے مال سے دستور کے مطابق کھا لے پھر جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لو اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔مردوں کے لیے اس مال میں سے حصہ ہے جس کو ماں باپ اور قرابت دار چھوڑ گئے اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابت دار چھوڑ گئے خواہ وہ تھوڑا حصہ مقرر کیا ہو یا بہت ہو۔(النساء ٦ تا ٧)اس آیت میں حسیب کا لفظ ہے اور اس کا معنی ہے کافی۔ باب :وصی کا یتیم کے مال میں تجارت کرنا اور اپنی محنت کے اندازے سے اس سے کھانا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ کے عہد میں اپنے کچھ مال کا صدقہ کیا جس کو ثمغ کہا جاتا تھا اور وہ کھجور کے باغات تھے پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! میں نے کچھ مال حاصل کیا ہے اور میرے نزدیک بہت نفیس ہے سو میں نے اس کو صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ہے تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم اصل مال کو صدقہ کردو کہ نہ اس کو فروخت کیا جا سکے نہ اس کو ہبہ کیا جا سکے نہ وراثت میں دیا جا سکے لیکن اس کے پھلوں کو خرچ کیا جائے۔پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا صدقہ کردیا اور ان کا یہ صدقہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں تھا اور غلاموں کو آزاد کرنے میں اور مسکینوں اور مہمانوں اور مسافروں میں اور رشتہ داروں میں اور جو اس صدقہ منتظم ہو وہ اگر دستور کے مطابق اس سے کھاے یا اپنے دوست کو کھلاے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس سے مال جمع نہ کرے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : وَمَا لِلْوَصِيِّ أَنْ يَعْمَلَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ وَمَا يَأْكُلُ مِنْهُ بِقَدْرِ عُمَالَتِهِ،حدیث نمبر ٢٧٦٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (قرآن مجید کی یہ آیت :) جو مال ہے اور بچتا رہے اور جو ضرورت مند وہ دستور کے مطابق اس سے کھا لے(النساء ٦)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی کہ یہ آیت یتیم کے ولی کے متعلق نازل ہوئی ہے کہ وہ یتیم کا مال حاصل کرے اور جب وہ ضرورت مند ہو تو وہ اس سے دستور کے مطابق کھا لے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : وَمَا لِلْوَصِيِّ أَنْ يَعْمَلَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ وَمَا يَأْكُلُ مِنْهُ بِقَدْرِ عُمَالَتِهِ،حدیث نمبر ٢٧٦٥)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :بے شک جو لوگ ناجائز طریقے سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔(النساء ١٠) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سات گناہوں سے جو تباہ کردینے والے ہیں بچتے رہو۔ حضرات صحابہ علیہم الرضوان نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا }حدیث نمبر ٢٧٦٦)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور آپ یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرمائیے ان کی اصلاح بہتر ہے اور اگر خرچ میں تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور فساد کرنے والوں کو اصلاح کرنے والوں سے خوب جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور سختی میں ڈال دیتا بے شک اللہ بہت غالب ہے بہت حکمت والا۔(البقرہ ٢٢٠) لاعنتم ،کا معنی ہے تم کو حرج میں ڈال دیتا اور تم ہر تنگی کر دیتا۔عنت، کا معنی ہے ذلت میں مبتلا ہوئی۔ اور ہم سے سلیمان نے کہا کہ ہم سے حماد نے حدیث بیان کی از ایوب از نافع انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کسی کی وصیت کو اس کے اوپر مسترد نہیں کیا۔ اور ابن سیرین کے نزدیک یتیموں کے مال میں سب سے پسندیدہ چیز یہ تھی کہ یتیم کے خیر خواہوں اور اس کے سرپرستوں کو جمع کیا جائے پھر اس پر غور کریں کہ کونسا کام یتیم کے لیے بہتر ہے۔ اور جب طاؤس سے یتیموں کے معاملات میں سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ یہ آیت پڑھتے:اور فساد کرنے والے سے اصلاح کرنے والے کو خوب جانتا ہے(البقرہ ٢٢٠) اور عطا نے چھوٹے اور بڑے یتیموں کے متعلق کہا کہ ولی ہر انسان پر اس کے حصے کے اندازے سے خرچ کرے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى(الی آخرہ) حدیث نمبر ٢٧٦٧)
باب: سفر اور حضر میں یتیم سے کام لینا جس میں اس کی بھلائی ہو اور ماں اور سوتیلے باپ کا یتیم پر نظر ڈالنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو نبی کریم ﷺ کے ساتھ کوئی خادم نہیں تھا۔ اس لیے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ (جو میرے سوتیلے باپ تھے)میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! انس سمجھ دار بچہ ہے۔ یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی سفر اور حضر میں خدمت کی ‘ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے کبھی کسی کام کے بارے میں جسے میں نے کردیا ہو ‘ یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا ‘ اسی طرح کسی ایسے کام کے متعلق جسے میں نہ کرسکا ہوں نبی کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ اسْتِخْدَامِ الْيَتِيمِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، إِذَا كَانَ صَلَاحًا لَهُ، وَنَظَرِ الْأُمِّ وَزَوْجِهَا لِلْيَتِيمِ،حدیث نمبر ٢٧٦٨)
باب: اگر کسی نے ایک زمین وقف کی (جو مشہور و معلوم ہے) اس کی حدیں بیان نہیں کیں تو یہ جائز ہو گا، اسی طرح ایسی زمین کا صدقہ دینا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھجور کے باغات کے اعتبار سے مدینہ کے انصار میں سب سے بڑے مالدار تھے اور انہیں اپنے تمام مالوں میں مسجد نبوی کے سامنے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پسند تھا۔ خود نبی کریم ﷺ بھی اس باغ میں تشریف لے جاتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون: تم ہرگز نیکی کو نہیں پاؤ گے جب تک تم ان چیزوں سے خرچ نہ کرو جن کو تم پسند کرتے ہو(۔آل عمران ٩٢)تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور آ کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون :تم ہرگز نیکی کو نہیں پاؤ گے جب تک تم ان چیزوں سے خرچ نہ کرو جن کو تم پسند کرتے ہو(۔آل عمران ٩٢)اور میرے اموال میں مجھے سب سے زیادہ پسند بیرحاء ہے اور یہ اللہ کے راستہ میں صدقہ ہے ‘ میں اللہ کی بارگاہ سے اس کی نیکی اور ذخیرہ آخرت ہونے کی امید رکھتا ہوں۔ آپ کو جہاں اللہ تعالیٰ بتائے اسے خرچ کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شاباش یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے یا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بجائے رابح رابع کے رايح کہا یہ شک عبداللہ بن مسلمہ راوی کو ہوا تھا۔۔۔ اور جو کچھ تم نے کہا میں نے سب سن لیا ہے اور میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چناں چہ انہوں نے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے لڑکوں میں تقسیم کردیا۔ اسماعیل ‘ عبداللہ بن یوسف اور یحییٰ بن یحییٰ نے مالک کے واسطہ سے۔ رابح کے بجائے رايح بیان کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا وَقَفَ أَرْضًا وَلَمْ يُبَيِّنِ الْحُدُودَ فَهُوَ جَائِزٌ، وَكَذَلِكَ الصَّدَقَةُ،حدیث نمبر ٢٧٦٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ان کی ماں کا انتقال ہوگیا ہے۔ کیا اگر وہ ان کی طرف سے صدقہ کریں تو انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ نبی کریم ﷺ نے جواب دیا: ہاں۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا ایک پُر میوہ باغ ہے اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ ان کی طرف سے صدقہ کردیا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا وَقَفَ أَرْضًا وَلَمْ يُبَيِّنِ الْحُدُودَ فَهُوَ جَائِزٌ، وَكَذَلِكَ الصَّدَقَةُ،حدیث نمبر ٢٧٧٠)
باب: اگر کئی آدمیوں نے اپنی مشترک زمین جو(تقسیم نہیں ہوتی تھی) وقف کر دی تو جائز ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے(مدینہ منورہ میں)مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنی نجار سے فرمایا تم اپنے اس باغ کی مجھ سے قیمت لے لو۔ انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں اللہ کی قسم ہم تو اللہ تعالیٰ ہی سے اس کی قیمت لیں گے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا أَوْقَفَ جَمَاعَةٌ أَرْضًا مُشَاعًا فَهُوَ جَائِزٌ،حدیث نمبر ٢٧٧١)
باب: وقف کی سند لکھی جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی (جس کا نام ثمغ تھا) تو آپ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے ایک زمین ملی ہے اور اس سے عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا تھا ‘آپ اس کے بارے میں مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاہے تو اصل جائیداد اپنے قبضے میں روک رکھ اور اس کے منافع کو خیرات کر دے۔ چناں چہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس شرط کے ساتھ صدقہ (وقف)کیا کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ وراثت میں کسی کو ملے اور فقراء، رشتہ دار، غلام آزاد کرانے ‘ اللہ کے راستے(کے مجاہدوں)مہمانوں اور مسافروں کے لیے(وقف ہے)جو شخص بھی اس کا متولی ہو اگر دستور کے مطابق اس میں سے کچھ کھائے یا اپنے کسی دوست کو کھلائے تو کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ مال جمع کرنے کا ارادہ نہ ہو۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الْوَقْفِ كَيْفَ يُكْتَبُ،حدیث نمبر ٢٧٧٢)
باب: مالدار آدمی محتاج اور مہمان سب پر وقف کر سکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک جائیداد ملی تو آپ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق خبر دی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ چناں چہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فقراء ‘ مساکین ‘ رشتہ داروں اور مہمانوں کے لیے اسے صدقہ کردیا۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ الْوَقْفِ لِلْغَنِيِّ، وَالْفَقِيرِ، وَالضَّيْفِ،حدیث نمبر ٢٧٧٣)
باب: مسجد کے لیے زمین کا وقف کرنا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کے لیے حکم دیا اور فرمایا اے بنو نجار! اپنے باغ کی مجھ سے قیمت لے لو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم تو اس کی قیمت صرف اللہ سے مانگتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ وَقْفِ الْأَرْضِ لِلْمَسْجِدِ،حدیث نمبر ٢٧٧٤)
باب:سواریوں، گھوڑوں، سامان اور سونے اور چاندی کو وقف کرنا۔ اور زہری نے کہا:جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار دینار وقف کیے اور وہ دینار اپنے اس غلام کو دے دیے جو تاجر ہے اور ان کے ساتھ تجارت کرتا ہے اور ان کا نفع مسکینوں اور قرابت داروں کے لیے وقف کردیا۔کیا اس شخص کے لیے جائز ہے کہ ان ہزار دینار کے نفع سے کچھ کھاے خواہ اس نے اس کے نفع کو مساکین کے لیے وقف نہ کیا ہو زہری نے کہا :اس کے لیے اس کے نفع سے کھانا جائز نہیں ہے۔ نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اپنا ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں(جہاد کرنے کے لیے)ایک آدمی کو دے دیا۔ یہ گھوڑا نبی کریم ﷺ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا ‘ تاکہ نبی کریم ﷺ جہاد میں کسی کو اس پر سوار کریں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ جس شخص کو یہ گھوڑا ملا تھا ‘ وہ اس گھوڑے کو بازار میں بیچ رہا ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا وہ اسے خرید سکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز اسے نہ خرید۔ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ وَقْفِ الدَّوَابِّ، وَالْكُرَاعِ، وَالْعُرُوضِ، وَالصَّامِتِ،حدیث نمبر ٢٧٧٥)
باب:وقف کے منتظم کا خرچ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میرے ورثاء ‘ وہ روپیہ اشرفی اگر میں چھوڑ جاؤں تو وہ تقسیم نہ کریں(بلکہ)‘وہ میری بیویوں کا خرچ اور جائیداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ نَفَقَةِ الْقَيِّمِ لِلْوَقْفِ،حدیث نمبر ٢٧٧٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف میں یہ شرط لگائی تھی کہ اس کا متولی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے دوست کو کھلا سکتا ہے لیکن وہ دولت جمع نہ کرے ۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ نَفَقَةِ الْقَيِّمِ لِلْوَقْفِ،حدیث نمبر ٢٧٧٧)
باب: جب کسی نے زمین یا کنواں وقف کیا اور اپنے لیے بھی اس میں سے عام مسلمانوں کی طرح پانی لینے کی شرط لگائی یا زمین سے فائدہ لینے کی شرط کر لی تو یہ بھی درست ہے۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک گھر وقف کیا تھا (مدینہ میں)جب(تو حضرت انس رضی اللہ عنہ جب) کبھی مدینہ آتے ‘ اس گھر میں قیام کیا کرتے تھے۔ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھروں کو وقف کردیا تھا اور اپنی ایک مطلقہ لڑکی سے فرمایا تھا کہ وہ اس میں قیام کریں لیکن اس گھر کو نقصان نہ پہنچائیں اور نہ اس میں کوئی دوسرا نقصان کرے اور جو خاوند والی بیٹی ہوتی اس کو وہاں رہنے کا حق نہیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے (وقف کردہ) گھر میں رہنے کا حصہ اپنی محتاج اولاد کو دے دیا تھا۔ اور عبدان نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے خبر دی اور انہیں ابواسحاق نے خبر دی اور انہیں ابوعبدالرحمٰن نے خبر دی کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ محاصرے میں لیے گئے تو (اپنے گھر کے)اوپر چڑھ کر آپ نے باغیوں سے فرمایا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں اور صرف نبی کریم ﷺ کے اصحاب سے قسمیہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص بیئر رومہ کو کھودے گا اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا تو اسے جنت کی بشارت ہے تو میں نے ہی اس کنویں کو کھودہ تھا۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب فرمایا تھا کہ جیش عسرت (غزوہ تبوک پر جانے والے لشکر) کو جو شخص ساز و سامان سے لیس کر دے گا تو اسے جنت کی بشارت ہے تو میں نے ہی اسے مسلح کیا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ آپ کی ان باتوں کی سب نے تصدیق کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف کے متعلق فرمایا تھا کہ اس کا منتظم اگر اس میں سے کچھ کھائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ منتظم خود واقف بھی ہوسکتا ہے اور کبھی دوسرے بھی ہوسکتے ہیں اور ہر ایک کے لیے یہ جائز ہے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا وَقَفَ أَرْضًا أَوْ بِئْرًا وَاشْتَرَطَ لِنَفْسِهِ، مِثْلَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ،حدیث نمبر ٢٧٧٨)
باب:جب وقف کرنے والے کہا کہ ہم اس کی صرف اللہ سے طلب کریں گے تو یہ جائز ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے بنو نجار مجھے اپنا باغ قیمۃً دے دو تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کریں گے ۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابٌ : إِذَا قَالَ الْوَاقِفُ : لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ فَهُوَ جَائِزٌ،حدیث نمبر ٢٧٧٩)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو وصیت کے وقت تمہاری آپس کی گواہی اس طرح ہو کہ تم میں سے دو نیک باشرع شخص ہو اور اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو پھر تمہیں موت کی مصیبت پہنچے تو غیروں میں سے دو شخص گواہ ہوں، اگر تمہیں شک ہو تو ان دو گواہوں کو مسلمانوں کے سامنے نماز کے بعد روک لو وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی مال نہیں لیں گے خواہ قریبی رشتہ دار ہوں (ہم ان کی رعایت نہیں کریں گے) اور ہم اللہ کی گواہی نہیں چھپائیں گے اگر ہم ایسا کریں تو ہم اس وقت گنہگاروں میں سے ہوں گے، پھر اگر معلوم ہو جائے کہ وہ دونوں گواہ کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو جن لوگوں کا حق ان گواہوں نے ضائع کیا ہے ان کی طرف سے دو گواہ ان کی جگہ کھڑے کیے جائیں گے اور وہ گواہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری شہادت ان دو وصیوں کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے حد سے تجاوز نہیں کیا ورنہ ہمارا شمار ظالموں میں ہوگا۔یہ طریقہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ وصی اس طرح شہادت دیں جس طرح شہادت دینے کا حق ہے یا وہ اس بات سے ڈرے کہ ورثاء کی قسموں کے بعد ان کی قسمیں مسترد کر دی جائیں اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے احکام سنو اور اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔(سورۃ المائدہ ١٠٦ تا ١٠٨) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ بنو سہم سے ایک آدمی تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر پر نکلا پس سہمی ایسے علاقے میں فوت ہو گیا جہاں کوئی مسلمان نہیں تھا۔پھر جب وہ دونوں اس کے ترکہ کو لے کر مدینہ شریف آئے تو ان کے ورثاء چاندی کا ایک جام کم پایا جس پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسمیں لے لی ۔پھر وہ چاندی کا جام مکہ میں پایا گیا۔ان لوگوں نے کہا ہم نے جام تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔پھر اس مرنے والے کے دو رشتہ دار کھڑے ہوے اور انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی تمیم اور عدی کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور یہ جام ان کے رشتہ دار ہی کا ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ یہ آیت انہیں کے متعلق نازل ہوئی ہے:اے ایمان والو! تمہاری گواہی اس طرح ہو ۔سے لے کر آخر تک۔(سورۃ المائدہ ١٠٦) (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ(الی آخرہ) حدیث نمبر ٢٧٨٠)
باب: میت پر جو قرضہ ہو وہ اس کا وصی ادا کر سکتا ہے چاہے دوسرے وارث حاضر نہ ہوں۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے والد(حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ )احد کی لڑائی میں شہید ہوگئے تھے۔اپنے پیچھے چھ لڑکیاں چھوڑی تھیں اور قرض بھی۔ جب کھجور کے پھل توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ کو یہ معلوم ہی ہے کہ میرے والد ماجد احد کی لڑائی میں شہید ہوچکے ہیں اور بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں ‘ میں چاہتا تھا کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں(تاکہ قرض میں کچھ رعایت کردیں)لیکن وہ یہودی تھے اور وہ نہیں مانے ‘ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اور کھلیان میں ہر قسم کی کھجور الگ الگ کرلو جب میں نے ایسا ہی کرلیا تو نبی کریم ﷺ کو بلایا ‘ قرض خواہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر اور زیادہ سختی شروع کردی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے جب یہ طرز عمل ملاحظہ فرمایا تو سب سے بڑے کھجور کے ڈھیر کے گرد نبی کریم ﷺ نے تین چکر لگائے اور وہیں بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ۔ نبی کریم ﷺ نے ناپ ناپ کردینا شروع کیا اور واللہ میرے والد کی تمام امانت ادا کردی ‘ اللہ گواہ ہے کہ میں اتنے پر بھی راضی تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کا تمام قرض ادا کر دے اور میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی اس میں سے نہ لے جاؤں لیکن ہوا یہ کہ ڈھیر کے ڈھیر بچ رہے اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ جس ڈھیر پر بیٹھے ہوئے تھے اس میں سے تو ایک کھجور بھی نہیں دی گئی تھی۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا کہ أغروا بي(حدیث میں الفاظ) کے معنی ہیں کہ مجھ پر بھڑکنے اور سختی کرنے لگے۔ اسی معنی میں قرآن مجید کی آیت فأغرينا بينهم العداوة والبغضاء میں فأغرينا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الوصایا ،بَابُ قَضَاءِ الْوَصِيِّ دُيُونَ الْمَيِّتِ بِغَيْرِ مَحْضَرٍ مِنَ الْوَرَثَةِ،حدیث نمبر ٢٧٨١)
Bukhari Shareef : Kitabul Wasaya
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الْوَصَايَا
|
•