
کتاب:جہاد اور سِیر کا بیان۔ باب:جہاد اور سِیر کی فضیلت۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں اور مریں اس کے ذمہ کرم پر سچا وعدہ توریت اور انجیل اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ قول کا پورا کون ہے تو خوشیاں مناؤ اپنے سودے کی جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہی بڑی کامیابی ہے، اور مومنین کو بشارت دیجیے تک ہے(التوبہ آیت ١١١ تا ١١٢) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ دین کے کاموں میں کون سا عمل افضل ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:وقت پر نماز پڑھنا۔میں نے پوچھا اس کے بعد؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔پھر میں نے نبی کریم ﷺ سے زیادہ سوالات نہیں کئے ‘ ورنہ نبی کریم ﷺ اسی طرح ان کے جوابات عنایت فرماتے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ،حدیث نمبر ٢٧٨٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد اب ہجرت (فرض)نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت بخیر کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ،حدیث نمبر ٢٧٨٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا (ام المؤمنین)سے مروی ہے کہ انہوں پوچھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے پھر ہم (عورتیں)بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لیکن سب سے افضل جہاد مقبول حج ہے جس میں گناہ نہ ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ،حدیث نمبر ٢٧٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم اتنا کرسکتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لیے) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور (نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور کوئی دن بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان شخص نے عرض کیا بھلا ایسا کون کرسکتا ہے؟حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین (پر پاؤں) مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ،حدیث نمبر ٢٧٨٥)
باب۔تمام لوگوں سے وہ مومن افضل ہے جو اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اے ایمان والو کیا میں بتادوں وہ تجارت جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے، ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،(الصف ١٠ تا ١٢) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کون شخص سب سے افضل ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔صحابہ کرام نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا وہ مومن جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں رہنا اختیار کرے ‘ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہو اور لوگوں کو چھوڑ کر اپنی برائی سے ان کو محفوظ رکھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : أَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى،حدیث نمبر ٢٧٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال۔۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوب جانتا ہے جو (خلوص دل کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔۔۔۔ اس شخص کی سی ہے جو رات میں برابر نماز پڑھتا رہے اور دن میں برابر روزے رکھتا رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے اس کی ذمہ داری لے لی ہے کہ اگر اسے شہادت دے گا تو اسے بےحساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا یا پھر زندہ و سلامت (گھر) ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : أَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى،حدیث نمبر ٢٧٨٧)
باب: جہاد اور مرتبہ شہادت کے حصول کے لیے مرد اور عورت دونوں کا دعا کرنا۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی اے اللہ مجھے اپنے محبوب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شہر میں شہادت عطا فرما۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ام حرام رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے (یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں جو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں)ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور نبی کریم ﷺ کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں ‘ اس عرصے میں نبی کریم ﷺ سو گئے ‘ جب بیدار ہوئے تو نبی کریم ﷺ مسکرا رہے تھے۔حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لیے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر نبی کریم ﷺ اپنا سر رکھ کر سو گئے ‘ اس مرتبہ بھی نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں پہلے کی طرح ‘ اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے۔نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تم سب سے پہلی فوج میں شامل ہوگی (جو بحری راستے سے جہاد کرے گی) چناں چہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے بحری سفر کیا پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرا دیا اور اسی حادثہ میں ان کی وفات ہوگئی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الدُّعَاءِ بِالْجِهَادِ وَالشَّهَادَةِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ،حدیث نمبر ٢٧٨٨،و حدیث نمبر ٢٧٨٩)
باب: اللہ کی راہ میں مجاہدین کے درجات کا بیان۔ اور کہا جاتا ہے یہ میرا راستہ ہے اور یہ میرا راستہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ جنت میں داخل کرے گا خواہ اللہ کے راستے میں وہ جہاد کرے یا اسی جگہ پڑا رہے جہاں پیدا ہوا تھا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا ہم لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کئے ہیں ‘ ان کے دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیوں کہ وہ جنت کا سب سے درمیانی حصہ اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے۔ یحییٰ بن صالح نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ محمد بن فلیح نے اپنے والد سے وفوقه عرش الرحمن ہی کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دَرَجَاتِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٧٩٠)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں نے رات میں دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے پھر وہ مجھے لے کر ایک درخت پر چڑھے اور اس کے بعد مجھے ایک ایسے مکان میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بڑا پاکیزہ تھا، ایسا خوبصورت مکان میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ یہ گھر شہیدوں کا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دَرَجَاتِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٧٩١)
باب: اللہ کی راہ میں صبح و شام چلنے کی اور جنت میں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح یا ایک شام دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَابِ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ،حدیث نمبر ٢٧٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک (کمان)ہاتھ جگہ دنیا کی ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام چلنا ان سب چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَابِ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ،حدیث نمبر ٢٧٩٣)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ کی راہ میں گزرنے والی ایک صبح و شام دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بڑھ کر ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَابِ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ،حدیث نمبر ٢٧٩٤)
باب: بڑی آنکھ والی حوروں کا بیان، ان کی صفات جن کو دیکھ کر آنکھ حیران ہو گی۔جن کی آنکھوں کی پتلی بہت سیاہ ہوگی اور سفیدی بھی بہت صاف ہوگی۔اور قرآن میں ہے:وزوجناھم "اس کا معنی ہے ہم ان کا نکاح کر دیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ کا کوئی بھی بندہ جو مرجائے اور اللہ کے نزدیک اس کی کچھ بھی نیکی جمع ہو وہ پھر دنیا میں آنا پسند نہیں کرتا گو اس کی ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ مل جائے مگر شہید پھر دنیا میں آنا چاہتا ہے کہ جب وہ (اللہ تعالیٰ کے)یہاں شہادت کی فضیلت کو دیکھے گا تو چاہے گا کہ دنیا میں دوبارہ آئے اور پھر شہید ہو (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحُورِ الْعِينِ، وَصِفَتِهِنَّ، يُحَارُ فِيهَا الطَّرْفُ، شَدِيدَةُ سَوَادِ الْعَيْنِ، شَدِيدَةُ بَيَاضِ الْعَيْنِ،حدیث نمبر ٢٧٩٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام بھی گزار دینا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سب سے بہتر ہے اور کسی کے لیے جنت میں ایک ہاتھ کے برابر جگہ بھی یا (راوی کو شبہ ہے)ایک قيد جگہ، قيد سے مراد کوڑا ہے، دنيا وما فيها سے بہتر ہے اور اگر جنت کی کوئی حور زمین کی طرف جھانک بھی لے تو زمین و آسمان اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ منور ہوجائیں اور خوشبو سے معطر ہوجائیں۔ اس کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحُورِ الْعِينِ، وَصِفَتِهِنَّ، يُحَارُ فِيهَا الطَّرْفُ، شَدِيدَةُ سَوَادِ الْعَيْنِ، شَدِيدَةُ بَيَاضِ الْعَيْنِ،حدیث نمبر ٢٧٩٦)
باب: شہادت کی تمنا کرنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل جاؤں اور مجھے خود اتنی سواریاں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کر کے اپنے ساتھ لے چلوں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رکتا جو اللہ کے راستے میں غزوہ کے لیے جا رہا ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! میری تو تمنا ہے کہ میں اللہ کے راستے میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کردیا جاؤں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ تَمَنِّي الشَّهَادَةِ،حدیث نمبر ٢٧٩٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا،جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:فوج کا جھنڈا اب زید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ شہید کردیئے گئے پھر جعفر نے لے لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے پھر عبداللہ بن رواحہ نے لے لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے اور اب کسی ہدایت کا انتظار کئے بغیر خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور ان کے ہاتھ پر اسلامی لشکر کو فتح ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اور ہمیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ یہ لوگ جو شہید ہوگئے ہیں ہمارے پاس زندہ رہتے کیوں کہ وہ بہت عیش و آرام میں چلے گئے ہیں۔ ایوب نے بیان کیا یا نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا: انہیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ ہمارے ساتھ زندہ رہتے، اس وقت نبی کریم ﷺ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ تَمَنِّي الشَّهَادَةِ،حدیث نمبر ٢٧٩٨)
باب: جہاد میں سواری سے گر کر مرنے والے کی فضیلت اور اس کا شمار بھی مجاہدین میں ہو گا۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور جو اپنے گھر سے نکلا اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ پر ہوگیا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے(النساء آیت ١٠٠) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کی خالہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں عرض کیا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو غزوہ کرنے کے لیے اس بہتے دریا پر سوار ہو کر جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر چڑھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آپ میرے لیے بھی دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ نبی کریم ﷺ سو گئے اور پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی کیا (بیدار ہوتے ہوئے مسکرائے) حضرت ام حرام رضی اللہ تعالٰی عنہا نے پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی عرض کی اور نبی کریم ﷺ نے وہی جواب دیا۔حضرت ام حرام رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کیا آپ دعا کردیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہوگی چناں چہ وہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں کے سب سے پہلے بحری بیڑے میں شریک ہوئیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں غزوہ سے لوٹتے وقت جب شام کے ساحل پر لشکر اترا تو حضرت ام حرام رضی اللہ تعالٰی عنہا کے قریب ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوجائیں لیکن جانور نے انہیں گرا دیا اور اسی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ مَنْ يُصْرَعُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ فَهُوَ مِنْهُمْ،حدیث نمبر ٢٧٩٩، و حدیث نمبر ٢٨٠٠)
باب: جس کو اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچے (یعنی اس کے کسی عضو کو صدمہ ہو)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بنو سلیم کے (٧٠) ستر آدمی(جو قاری قرآن تھے) بنو عامر کے یہاں بھیجے۔ جب یہ سب حضرات(بئرمعونہ پر) پہنچے تو میرے ماموں حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے کہا میں (بنو سلیم کے یہاں) آگے جاتا ہوں اگر مجھے انہوں نے اس بات کا امن دے دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی باتیں ان تک پہنچاؤں تو۔ بہتر ورنہ تم لوگ میرے قریب تو ہو ہی۔ چناں چہ وہ ان کے یہاں گئے اور انہوں نے امن بھی دے دیا۔ ابھی وہ قبیلہ کے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی باتیں سنا ہی رہے تھے کہ قبیلہ والوں نے اپنے ایک آدمی (عامر بن طفیل) کو اشارہ کیا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر برچھا پیوست کردیا جو آرپار ہوگیا۔ اس وقت ان کی زبان سے نکلا اللہ اکبر میں کامیاب ہوگیا کعبہ کے رب کی قسم! اس کے بعد قبیلہ والے حضرت حرام رضی اللہ عنہ کے دوسرے ساتھیوں کی طرف (جو ستر کی تعداد میں تھے) بڑھے اور سب کو قتل کردیا۔ البتہ ایک صاحب جو لنگڑے تھے ‘ پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ہمام (راوی حدیث) نے بیان کیا میں سمجھتا ہوں کہ ایک اور ان کے ساتھ (پہاڑ پر چڑھے تھے) (عمر بن امیہ ضمری) اس کے بعد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے جا ملے ہیں پس اللہ خود بھی ان سے خوش ہے اور انہیں بھی خوش کردیا ہے۔ اس کے بعد ہم (قرآن کی دوسری آیتوں کے ساتھ یہ آیت بھی) پڑھتے تھے (ترجمہ) ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ بے شک ہم نے اپنے رب سے ملاقات کرلی اور وہ ان سے رضی ہو گیا اور اس نے ان کو راضی کردیا۔اس کے بعد یہ آیت منسوخ ہوگئی ‘ نبی کریم ﷺ نے چالیس دن تک صبح کی نماز میں قبیلہ رعل ‘ ذکوان ‘ بنی لحیان اور بنی عصیہ کے خلاف دعا کی تھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ يُنْكَبُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨٠١)
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کہ نبی کریم ﷺ کسی لڑائی کے موقع پر موجود تھے اور نبی کریم ﷺ کی انگلی خون آلود ہوگئی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے انگلی سے مخاطب ہو کر فرمایا تیری حقیقت فقط ایک خون آلود انگلی کے سوا کیا ہے اور جو کچھ تجھے تکلیف پہنچی ہے ہے وہ اللہ کے راستے میں پہنچی۔۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ مَنْ يُنْكَبُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨٠٢)
باب:جو اللہ عزوجل کی راہ میں زخمی کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہوا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کون زخمی ہوا ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا ‘ رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہوگی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،حدیث نمبر ٢٨٠٣)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :تم فرماؤ تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو خوبیوں میں سے ایک کا۔(سورۃ التوبہ آیت ٥٢) حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل نے ان سے کہا تھا میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے یعنی (نبی کریم ﷺ ) کے ساتھ تمہاری لڑائیوں کا کیا انجام رہتا ہے تو تم نے بتایا کہ لڑائی ڈولوں کی طرح ہے ‘ کبھی ادھر کبھی ادھر یعنی کبھی لڑائی کا انجام ہمارے حق میں ہوتا ہے اور کبھی ان کے حق میں۔ انبیا کا بھی یہی حال ہوتا ہے کہ ان کی آزمائش ہوتی رہتی ہے (کبھی فتح اور کبھی ہار سے) لیکن انجام انہیں کے حق میں اچھا ہوتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد۔بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ }. وَالْحَرْبُ سِجَالٌ،حدیث نمبر ٢٨٠٤)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے (الاحزاب ٢٣) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سے دو سندوں کے ساتھ روایت ہے کہ کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں حاضر نہ ہو سکے ‘ اس لیے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں پہلی لڑائی ہی سے غائب رہا جو آپ نے مشرکین کے خلاف لڑی لیکن اگر اب اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکین کے خلاف کسی لڑائی میں حاضری کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ پھر جب احد کی لڑائی کا موقع آیا اور مسلمان بھاگ نکلے تو حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ! جو کچھ مسلمانوں نے کیا میں اس سے معذرت کرتا ہوں اور جو کچھ ان مشرکین نے کیا ہے میں اس سے بیزار ہوں۔ پھر وہ آگے بڑھے (مشرکین کی طرف) تو حضرت سعد بن معاذ سے سامنا ہوا۔ ان سے حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا اے سعد بن معاذ! میں تو جنت میں جانا چاہتا ہوں اور نضر (ان کے باپ) کے رب کی قسم میں جنت کی خوشبو احد پہاڑ کے قریب پاتا ہوں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! جو انہوں نے کر دکھایا اس کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد جب حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کو ہم نے پایا تو تلوار نیزے اور تیر کے تقریباً اسی زخم ان کے جسم پر تھے وہ شہید ہوچکے تھے۔ مشرکوں نے ان کے اعضاء کاٹ دئیے تھے اور کوئی شخص انہیں پہچان نہ سکا تھا ‘ صرف ان کی بہن انگلیوں سے انہیں پہچان سکی تھیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم سمجھتے ہیں (یا آپ نے بجائے نرى کے نظن کہا) مطلب ایک ہی ہے کہ یہ آیت ان کے اور ان جیسے مومنین کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه :مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے(الاحزاب ٢٣) آخر آیت تک۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی ایک بہن حضرت ربیع نامی رضی اللہ عنہ نے کسی خاتون کے آگے کے دانت توڑ دیئے تھے ‘ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان سے قصاص لینے کا حکم دیا۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بناکر بھیجا ہے (قصاص میں) ان کے دانت نہ ٹوٹیں گے۔ چناں چہ مدعی تاوان لینے پر راضی ہوگئے اور قصاص کا خیال چھوڑ دیا ‘ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ بندے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ خود ان کی قسم پوری کردیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا }حدیث نمبر ٢٨٠٥،و حدیث نمبر ٢٨٠٦،)
خارجہ بن زید نے بیان کیا کہ کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب قرآن مجید کو ایک مصحف (کتابی) کی شکل میں جمع کیا جانے لگا تو میں نے سورة الاحزاب کی ایک آیت نہیں پائی جس کی تلاوت رسول اللہ ﷺ سے برابر کرتے تھے اور میں سنتا رہا تھا جب میں نے اسے تلاش کیا تو) صرف خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں وہ آیت مجھے ملی۔ یہ خزیمہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه (سورۃ الاحزاب: ٢٣) مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا }حدیث نمبر ٢٨٠٧)
باب:نیک عمل سے پہلے قتال کرنا۔اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اپنے نیک اعمال کی وجہ سے ہی کفار سے قتال کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے، کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو، بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی (سیسہ پلائی دیوار)(الصف ٢ تا ٣) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک صاحب زرہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں پہلے جنگ میں شریک ہوجاؤں یا پہلے اسلام لاؤں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا پہلے اسلام لاؤ پھر جنگ میں شریک ہونا۔ چناں چہ وہ پہلے اسلام لائے اور اس کے بعد جنگ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عمل کم کیا لیکن اجر بہت پایا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : عَمَلٌ صَالِحٌ قَبْلَ الْقِتَالِ،حدیث نمبر ٢٨٠٨)
باب: کسی کو اچانک نامعلوم تیر لگا اور اس تیر نے اسے مار دیا، اس کی فضیلت کا بیان۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ام الربیع بنت براء رضی اللہ تعالٰی عنہا جو حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ‘ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا، اے اللہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! حارثہ کے بارے میں بھی آپ مجھے کچھ بتائیں۔ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہوگئے تھے ‘ انہیں نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر لگا تھا۔ کہ اگر وہ جنت میں ہے تو صبر کرلوں اور اگر کہیں اور ہے تو اس کے لیے روؤں دھوؤں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت کے بہت سے درجے ہیں اور تمہارے بیٹے کو فردوس اعلیٰ میں جگہ ملی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ،حدیث نمبر ٢٨٠٩)
باب: جس شخص نے اس ارادہ سے جنگ کی کہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلمہ بلند رہے، اس کی فضیلت۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی (لاحق بن ضمیرہ رضی اللہ عنہ)نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے غنیمت حاصل کرنے کے لیے ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے ناموری کے لیے ‘ ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے تاکہ اس کی بہادری کی دھاک بیٹھ جائے تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون لڑتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص اس ارادہ سے جنگ میں شریک ہوتا ہے کہ اللہ ہی کا کلمہ بلند رہے ‘ صرف وہی اللہ کے راستہ میں لڑتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا،حدیث نمبر ٢٨١٠)
باب:جن کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں گرد آلود ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :مدینہ والوں اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں یہ اس لیے کہ انہیں جو پیاس یا تکلیف یا بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں جس سے کافروں کو غیظ آئے اور جو کچھ کسی دشمن کا بگاڑتے ہیں اس سب کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھا جاتا ہے بیشک اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،(سورۃ التوبہ ١٢٠) عبایہ بن رافع بن خدیج نے کہا کہ مجھے حضرت ابوعبس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ آپ کا نام عبدالرحمٰن بن جبیر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس بندے کے بھی قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوگئے ‘ انہیں (جہنم کی) آگ چھوئے؟ (یہ ناممکن ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ } إِلَى قَوْلِهِ : { إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ }حدیث نمبر ٢٨١١)
باب: اللہ کی راہ میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان کی گرد پونچھنا۔ عکرمہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ان سے اور(اپنے صاحبزادے) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چناں چہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے (رضاعی)بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو (ہمارے پاس) تشریف لائے اور (چادر اوڑھ کر)گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں (ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کے لیے )ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم ﷺ ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی(اطاعت کی)طرف دعوت دے رہا ہوگا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَسْحِ الْغُبَارِ عَنِ الرَّأْسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨١٢)
باب: جنگ اور گرد غبار کے بعد غسل کرنا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب جنگ خندق سے(فارغ ہو کر) واپس تشریف لائے اور ہتھیار رکھ کر غسل کرنا چاہا تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے ‘ ان کا سر غبار آلود تھا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا آپ نے ہتھیار اتار دیئے ‘ اللہ کی قسم میں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا تو پھر اب کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا ادھر اور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔حع عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ کے خلاف لشکر کشی کی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْغَسْلِ بَعْدَ الْحَرْبِ وَالْغُبَارِ،حدیث نمبر ٢٨١٣)
باب:اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی فضیلت:اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منا رہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،(آل عمران ١٦٩ تا ١٧٠) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اصحاب بئر معونہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کو جن لوگوں نے قتل کیا تھا رسول اللہ ﷺ نے تیس دن تک صبح کی نماز میں ان کے خلاف کے دعا کی تھی۔ یہ رعل ‘ ذکوان اور عصیہ قبائل کے لوگ تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو (٧٠ قاری) صحابہ کرام بئر معونہ کے موقع پر شہید کر دئیے گئے تھے ‘ ان کے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی تھی جسے ہم مدت تک پڑھتے رہے تھے بعد میں آیت منسوخ ہوگئی تھی (اس آیت کا ترجمہ یہ ہے) ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کرلی سو وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم ان سے راضی ہو گئے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ }حدیث نمبر ٢٨١٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ کچھ لوگوں نے جنگ احد کے دن صبح کے وقت شراب پی (راوی حدیث)سے پوچھا گیا کیا اسی دن کے آخری حصے میں (ان کی شہادت ہوئی) تھی جس دن انہوں نے شراب پی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ،حدیث نمبر ٢٨١٥)
باب: شہیدوں پر فرشتوں کا سایہ کرنا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ میرے والد رسول اللہ ﷺ کے سامنے لائے گئے (احد کے موقع پر) اور کافروں نے ان کے ناک کان کاٹ ڈالے تھے ‘ ان کی نعش نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھی گئی تو میں نے آگے بڑھ کر ان کا چہرہ کھولنا چاہا لیکن میری قوم کے لوگوں نے مجھے منع کردیا پھر نبی کریم ﷺ نے رونے پیٹنے کی آواز سنی (تو دریافت فرمایا کہ کس کی آواز ہے؟ ) لوگوں نے بتایا کہ عمرو کی لڑکی ہیں (شہید کی بہن) یا عمرو کی بہن ہیں (شہید کی چچی شک راوی کو تھا)نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیوں رو رہی ہیں یا (آپ نے فرمایا کہ) روئیں نہیں ملائکہ برابر ان پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں۔ امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ ) کہتے ہیں کہ میں نے صدقہ سے پوچھا کیا حدیث میں یہ بھی ہے کہ (جنازہ) اٹھائے جانے تک تو انہوں نے بتایا کہ سفیان نے بعض اوقات یہ الفاظ بھی حدیث میں بیان کئے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ ظِلِّ الْمَلَائِكَةِ عَلَى الشَّهِيدِ،حدیث نمبر ٢٨١٦)
باب: شہید کا دوبارہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کوئی شخص بھی ایسا نہ ہوگا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے ‘ خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہوگی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور شہید ہو (اللہ کی راہ میں) کیوں کہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ تَمَنِّي الْمُجَاهِدِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا،حدیث نمبر ٢٨١٧)
باب:جنت کا چمکتی کوئی تلواروں کے نیچے ہونا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے رب کا یہ پیغام دیا کہ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم میں سے جو بھی قتل(شہید) کیا جائے گا وہ سیدھا جنت میں جاے گا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول دوزخ میں ہیں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔ عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ سالم ابوالنضر نے سالم عمر بن عبیداللہ کے کاتب بھی تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے عمر بن عبیداللہ کو لکھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: یقین جانو جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ اس روایت کی متابعت اویسی نے ابن ابی الزناد کے واسطہ سے کی ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْجَنَّةُ تَحْتَ بَارِقَةِ السُّيُوفِ؟حدیث نمبر ٢٨١٨)
باب: جو جہاد کرنے کے لیے اللہ سے اولاد مانگے اس کی فضیلت۔ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ہرمز نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) نے فرمایا آج رات اپنی سو یا(راوی کو شک تھا) ننانوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک ایک شہسوار جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاء اللہ بھی کہہ لیجئے لیکن انہوں نے ان شاء اللہ نہیں کہا۔ چناں چہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان کے بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس وقت ان شاء اللہ کہہ لیتے تو (تمام بیویاں حاملہ ہوتیں اور) سب کے یہاں ایسے شہسوار بچے پیدا ہوتے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ مَنْ طَلَبَ الْوَلَدَ لِلْجِهَادِ ،حدیث نمبر ٢٨١٩)
باب: جنگ کے موقع پر بہادری اور بزدلی کا بیان۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ حسین (خوبصورت) سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ فیاض تھے ‘ مدینہ طیبہ کے تمام لوگ (ایک رات) خوف زدہ تھے (آواز سنائی دی تھی اور سب لوگ اس کی طرف بڑھ رہے تھے) لیکن نبی کریم ﷺ اس وقت ایک گھوڑے پر سوار سب سے آگے تھے (جب واپس ہوئے تو) فرمایا اس گھوڑے کو (دوڑنے میں) ہم نے سمندر پایا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ الشَّجَاعَةِ فِي الْحَرْبِ وَالْجُبْنِ،حدیث نمبر ٢٨٢٠)
محمد بن جبیر نے کہا کہ مجھے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کرام تھے۔ وادی حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ کچھ (بدو) لوگ نبی کریم ﷺ سے لپٹ گئے۔ بالآخر آپ کو مجبوراً ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر مبارک ببول کے کانٹے میں الجھ گئی تو ان لوگوں نے اسے لے لیا (تاکہ جب نبی کریم ﷺ انہیں کچھ عنایت فرمائیں تو چادر واپس کریں) نبی کریم ﷺ وہاں کھڑے ہوگئے اور فرمایا میری چادر مجھے دے دو ‘ اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں تم میں تقسیم کردیتا ‘ مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل پاؤ گے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الشَّجَاعَةِ فِي الْحَرْبِ وَالْجُبْنِ،حدیث نمبر ٢٨٢١)
باب: بزدلی سے اللہ کی پناہ مانگنا۔ عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو یہ کلمات دعائیہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے معلم بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے تھے:اللهم إني أعوذ بک من الجبن، وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بک من فتنة الدنيا، وأعوذ بک من عذاب القبر۔اے اللہ! بزدلی سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ عمر کے سب سے ذلیل حصے (بڑھاپے)میں پہنچا دیا جاؤں اور تیری پناہ مانگتا ہوں میں دنیا کے فتنوں سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔ پھر میں نے یہ حدیث جب مصعب بن سعد سے بیان کی تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يُتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ،حدیث نمبر ٢٨٢٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ یوں دعا کرتے تھے:اے اللہ میں عجز سے سستی سے بزدلی سے اور بڑھاپے سے تیری پناہ میں آتا ہوں! اور میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں! اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں! (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يُتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ،حدیث نمبر ٢٨٢٣) ضروری وضاحت: اس حدیث میں"عجز " کا لفظ ہے یہ لفظ قدرت کی ضد ہے متکلمین کے نزدیک اس کا معنی ہے: جس کام کی کوئی طاقت نہ رکھے اور فقہاء کے نزدیک اس کا معنی ہے: جب انسان ارادہ کرے تو اس کام کو نہ کر سکے۔ (بحوالہ نعمۃ الباری فی شرح بخاری جلد ٥ حدیث نمبر ٢٨٢٣ کے تحت)
باب: جس نے جنگ میں اپنے حاضر ہونے کے واقعات بیان کیے۔ اس کو ابو عثمان نے سعد سے روایت کیا۔ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ‘حضرت سعد بن ابی وقاص ‘ حضرت مقداد بن اسود اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین) کی صحبت میں بیٹھا ہوں لیکن میں نے کسی کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ البتہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ احد کی جنگ کے متعلق بیان کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ حَدَّثَ بِمَشَاهِدِهِ فِي الْحَرْبِ. قَالَهُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ سَعْدٍ،حدیث نمبر ٢٨٢٤)
باب:جہاد کے لیے نکلنے کا وجوب اور جہاد اور نیت کا واجب ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے اور اللہ کی راہ میں لڑو اپنے مال اور جان سے، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر جانو اگر کوئی قریب مال یا متوسط سفر ہوتا تو ضرور تمہارے ساتھ جاتے مگر ان پر تو مشقت کا راستہ دور پڑ گیا، اور اب اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم سے بن پڑتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے اپنی جانو کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ بیشک ضرور جھوٹے ہیں(سورۃ التوبہ آیت ٤١ تا ٤٢)(اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:)اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ خدا کی راہ میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کر لی اور جیتی دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا، اگر نہ کوچ کرو گے انہیں سخت سزا دے گا اور تمہاری جگہ اور تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکوگے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا(التوبہ آیت ٣٨ تا ٣٩) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے کہ :فنفروا ثبات، متخلف ٹولیوں میں نکلو کہا جاتا ہے کہ "الثبات" کا واحد "ثبۃ" ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا مکہ فتح ہونے کے بعد (اب مکہ سے مدینہ کے لیے) ہجرت باقی نہیں ہے ‘ لیکن خلوص نیت کے ساتھ جہاد اب بھی باقی ہے اس لیے تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ وُجُوبِ النَّفِيرِ، وَمَا يَجِبُ مِنَ الْجِهَادِ وَالنِّيَّةِ،حدیث نمبر ٢٨٢٥)
باب: کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے، اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن)اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر (اپنی شان کے مطابق) ہنس دے گا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا تھا اور پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوگئے۔ پہلا وہ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہ شہید ہوگیا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قاتل کو توبہ کی توفیق دی اور وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔ اس طرح دونوں قاتل و مقتول بالآخر جنت میں داخل ہوگئے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْكَافِرِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيُسَدِّدُ بَعْدُ وَيُقْتَلُ،حدیث نمبر ٢٨٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ خیبر میں ٹھہرے ہوئے تھے اور خیبر فتح ہوچکا تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرا بھی(مال غنیمت میں) حصہ لگا دیجیے ۔سعید بن العاص کے ایک لڑکے(حضرت ابان بن سعید رضی اللہ عنہ )نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ان کا حصہ نہ لگائیے۔ اس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یہ شخص تو ابن قوتل (حضرت نعمان بن مالک رضی اللہ عنہ ) کا قاتل ہے۔ حضرت ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور (یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آگیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا مجھ پر الزام لگاتا ہے۔ اس کو یہ خبر نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے (شہادت) عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا (اگر اس وقت میں مارا جاتا) تو دوزخی ہوتا ‘ عنبسہ نے بیان کیا کہ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ نبی کریم ﷺ نے ان کا بھی حصہ لگایا یا نہیں۔ سفیان نے بیان کیا کہ مجھ سے سعیدی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ امام ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ علیہ) نے کہا کہ سعیدی سے مراد عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْكَافِرِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيُسَدِّدُ بَعْدُ وَيُقْتَلُ،حدیث نمبر ٢٨٢٧)
باب: جہاد کو (نفلی روزوں پر) مقدم رکھنا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوطلحہ زید بن سہیل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جہاد میں شرکت کے خیال سے (نفلی روزے نہیں رکھتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد پھر میں نے انہیں عیدالفطر اور عید الاضحی کے سوا روزے کے بغیر نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنِ اخْتَارَ الْغَزْوَ عَلَى الصَّوْمِ،حدیث نمبر ٢٨٢٨)
باب:اللہ کی راہ میں شہادت پانے کے سوا شہادت کی اور بھی قسمیں ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں ہلاک ہونے والا ‘ پیٹ کی بیماری میں ہلاک ہونے والا ‘ ڈوب کر مرنے والا ‘ دب کر مرجانے والا اور اللہ کی راہ میں شہادت پانے والا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ،حدیث نمبر ٢٨٢٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: طاعون کی موت ہر مسلمان کے لیے شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ.حدیث نمبر ٢٨٣٠)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:برابر نہیں وہ مسلمان کہ بےعذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللہ نے جہاد والوں کو بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے،اس کی طرف سے درجے اور بخشش اور رحمت اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،(سورۃ النساء آیت ٩٥ تا ٩٦) ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا آپ بیان کرتے تھے کہجب آیت لا يستوي القاعدون من المؤمنين نازل ہوئی(ترجمہ)برابر نہیں وہ مسلمان کہ بےعذر جہاد سے بیٹھ رہیں)تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ (جو کاتب وحی تھے) ان کو بلایا ‘ آپ ایک چوڑی ہڈی ساتھ لے کر حاضر ہوئے اور اس آیت کو لکھا اور حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے جب اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو آیت یوں نازل ہوئی لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر۔برابر نہیں وہ مسلمان کہ بےعذر جہاد سے بیٹھ رہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ۔الی آخرہ۔حدیث نمبر ٢٨٣١)
حضرت سہل بن سعد زہری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم (جو اس وقت کے امیر مدینہ تھا)کو مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان کے قریب گیا اور پہلو میں بیٹھ گیا اور پھر انہوں نے ہمیں خبر دی کہ حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے آیت لکھوائی لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله"برابر نہیں وہ مسلمان کہ بےعذر جہاد سے بیٹھ رہیں۔اور انہوں نے بیان کیا کہ پھر حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے۔ نبی کریم ﷺ اس وقت مجھ سے آیت مذکورہ لکھوا رہے تھے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں جہاد میں شریک ہوتا۔ وہ نابینا تھے ‘ اس پر اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر وحی نازل کی۔ اس وقت آپ ﷺ کی ران میری ران پر تھی میں نے آپ پر وحی کی شدت کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کی ران کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ڈر ہوگیا کہ کہیں میری ران پھٹ نہ جائے۔ اس کے بعد وہ کیفیت نبی کریم ﷺ سے ختم ہوگئی اور اللہ عزوجل نے فقط غير أولي الضرر نازل فرمایا۔یعنی:برابر نہیں وہ مسلمان کہ بےعذر جہاد سے بیٹھ رہیں- (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ،الی آخری، حدیث نمبر ٢٨٣٢)
باب: کافروں سے لڑتے وقت صبر کرنا۔ سالم بن ابی النضر نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے (عمر بن عبیداللہ کو) لکھا تو میں نے وہ تحریر پڑھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:جب تمہاری کفار سے مڈبھیڑ ہو تو صبر سے کام لو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الصَّبْرِ عِنْدَ الْقِتَالِ،حدیث نمبر ٢٨٣٣)
باب:قتال میں برانگینخہ کرنا اور ابھارنا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اور مومنین کو قتال پر بر انگینختہ کیجیے۔(الانفال آیت ٦٥) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ میدان خندق کی طرف تشریف لے گئے (غزوہ خندق کے شروع ہونے سے کچھ پہلے جب خندق کی کھدائی ہو رہی تھی) تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سردی کی سختی کے باوجود صبح ہی صبح خندق کھودنے میں مصروف ہیں ‘ ان کے پاس غلام بھی نہیں تھے جو ان کی اس کھدائی میں مدد کرتے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی تھکن اور بھوک کو دیکھا تو نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ! زندگی تو پس آخرت ہی کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ یعنی درحقیقت جو مزہ ہے آخرت کا ہے مزہ۔۔۔ بخش دے انصار اور پردیسیوں کو اے اللہ۔۔۔ صحابہ نے اس کے جواب میں کہا ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کرنے کا عہد کیا ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ اپنے پیغمبر محمد ﷺ سے یہ بیعت ہم نے کی جب تلک ہے زندگی۔۔۔ لڑتے رہیں گے ہم سدا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الْقِتَالِ، وَقَوْلِهِ تَعَالَى : { حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ }حدیث نمبر ٢٨٣٤)
باب: خندق کھودنے کا بیان۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (جب تمام کفار عرب کے مدینہ منورہ پر حملہ کا خطرہ ہوا تو)مدینہ کے اردگرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مشغول ہوگئے ‘ مٹی اپنی پشت پر لاد لاد کر اٹھاتے اور (یہ اشعار) پڑھتے جاتے: ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ نبی کریم ﷺ ان کے پاس شعر کے جواب میں یہ دعا فرماتے: اے اللہ! آخرت کی خیر کے سوا اور کوئی خیر نہیں ‘ پس تو انصار اور مہاجرین کو برکت عطا فرما۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَفْرِ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٢٨٣٥)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جنگ احزاب کے دن مٹی اٹھا رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ (اے اللہ! ) اگر تیری رحمت نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَفْرِ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٢٨٣٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر دیکھا کہ نبی کریم ﷺ مٹی (خندق کھودنے کی وجہ سے جو مٹی نکلتی تھی) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے نبی کریم ﷺ کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے: لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا. فأنزل السکينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا. إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا. اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بیشک ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات میں نہیں آتے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَفْرِ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٢٨٣٧)
باب: جو شخص کسی معقول عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی ساتھ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٨٣٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک غزوہ (تبوک)پر تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ میں ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں لیکن ہم کسی بھی گھاٹی یا وادی میں (جہاد کے لیے) چلیں وہ ثواب میں ہمارے ساتھ ہیں کہ وہ صرف عذر کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں آسکے۔ اور موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے ‘ ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ امام ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلی سند زیادہ صحیح ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٨٣٩)
باب:اللہ تعالیٰ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد کرتے ہوئے) ایک دن بھی روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت کی دوری تک دور کر دے گا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨٤٠)
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک جوڑا (کسی چیز کا)خرچ کیا تو اسے جنت کے داروغہ بلائیں گے۔ جنت کے ہر دروازے کا داروغہ(اپنی طرف) بلائے گا کہ اے فلاں! اس دروازے سے آ، اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! پھر اس شخص کو کوئی خوف نہیں رہے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨٤١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا میرے بعد تم پر دنیا کی جو برکتیں کھول دی جائیں گی ‘ میں تمہارے بارے میں ان سے ڈر رہا ہوں کہ (کہیں تم ان میں مبتلا نہ ہوجاؤ)اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے دنیا کی رنگینیوں کا ذکر فرمایا۔ پہلے دنیا کی برکات کا ذکر کیا پھر اس کی رنگینیوں کو بیان فرمایا ‘ اتنے میں ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی، برائی پیدا کر دے گی۔ نبی کریم ﷺ اس پر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ ہم نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ سب لوگ خاموش ہوگئے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے چہرہ مبارک سے پسینہ صاف کیا اور دریافت فرمایا سوال کرنے والا کہاں ہے؟ کیا یہ بھی (مال اور دنیا کی برکات) خیر ہے؟ تین مرتبہ نبی کریم ﷺ نے یہی جملہ دہرایا پھر فرمایا دیکھو بہار کے موسم میں جب ہری گھاس پیدا ہوتی ہے ‘ وہ جانور کو مار ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب کردیتی ہے مگر وہ جانور بچ جاتا ہے جو ہری ہری دوب چرتا ہے ‘ کوکھیں بھرتے ہی سورج کے سامنے جا کھڑا ہوتا ہے۔ لید ‘ گوبر ‘ پیشاب کرتا ہے پھر اس کے ہضم ہوجانے کے بعد اور چرتا ہے ‘ اسی طرح یہ مال بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے اور مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جسے اس نے حلال طریقوں سے جمع کیا ہو اور پھر اسے اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے)یتیموں کے لیے مسکینوں کے لیے وقف کردیا ہو لیکن جو شخص ناجائز طریقوں سے جمع کرتا ہے تو وہ ایک ایسا کھانے والا ہے جو کبھی آسودہ نہیں ہوتا اور وہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ بن کر آئے گا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨٤٢)
باب: جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے، اس کی فضیلت۔ حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے اللہ کی راہ میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا اور جس نے خیر خواہانہ طریقہ پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تو وہ (گویا)خود غزوہ میں شریک ہوا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ بِخَيْرٍ،حدیث نمبر ٢٨٤٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ میں اپنی بیویوں کے سوا اور کسی کے گھر نہیں جایا کرتے تھے مگر حضرت ام سلیم کے پاس جاتے۔ نبی کریم ﷺ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس پر رحم آتا ہے، اس کا بھائی (حرام بن ملحان) میرے کام میں شہید کردیا گیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ بِخَيْرٍ،حدیث نمبر ٢٨٤٤)
باب: جنگ کے موقع پر خوشبو ملنا۔ موسیٰ بن انس نے بیان کیا اور وہ جنگ یمامہ کا ذکر کر رہے تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ‘ انہوں نے اپنی ران کھول رکھی تھی اور خوشبو لگا رہے تھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا چچا! اب تک آپ جنگ میں کیوں تشریف نہیں لائے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹے ابھی آتا ہوں اور وہ پھر خوشبو لگانے لگے پھر (کفن پہن کر تشریف لائے اور بیٹھ گئے) مراد صف میں شرکت سے ہے) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے کچھ کمزوری کے آثار کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے سامنے سے ہٹ جاؤ تاکہ ہم کافروں سے دست بدست لڑیں ‘ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم ایسا کبھی نہیں کرتے تھے۔ (یعنی پہلی صف کے لوگ ڈٹ کر لڑتے تھے کمزوری کا ہرگز مظاہرہ نہیں ہونے دیتے تھے) تم نے اپنے دشمنوں کو بہت بری چیز کا عادی بنادیا ہے (تم جنگ کے موقع پر پیچھے ہٹ گئے) وہ حملہ کرنے لگے۔ اس حدیث کو حماد نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّحَنُّطِ عِنْدَ الْقِتَالِ،حدیث نمبر ٢٨٤٥)
باب: دشمنوں کی خبر لانے والے دستہ کی فضیلت۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ خندق کے دن فرمایا دشمن کے لشکر کی خبر میرے پاس کون لاسکتا ہے؟ (دشمن سے مراد یہاں بنو قریظہ تھے) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ نبی کریم ﷺ نے دوبارہ پھر پوچھا دشمن کے لشکر کی خبریں کون لاسکے گا؟ اس مرتبہ بھی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری(سچے مددگار) ہوتے ہیں اور میرے حواری (زبیر)ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ الطَّلِيعَةِ،حدیث نمبر ٢٨٤٦)
باب: کیا جاسوسی کے لیے کسی ایک شخص کو بھیجا جا سکتا ہے؟ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو (بنی قریظہ کی طرف خبر لانے کے لیے) دعوت دی۔ صدقہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کے استاد) نے کہا کہ میرا خیال ہے یہ غزوہ خندق کا واقعہ ہے۔ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر لبیک کہا پھر نبی کریم ﷺ نے بلایا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا پھر تیسری بار نبی کریم ﷺ نے بلایا اور اس مرتبہ بھی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : هَلْ يُبْعَثُ الطَّلِيعَةُ وَحْدَهُ ؟حدیث نمبر ٢٨٤٧)
باب: دو آدمیوں کا مل کر سفر کرنا۔ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کے یہاں سے وطن کے لیے واپس لوٹے تو نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا ایک تم ہو اور دوسرے تمہارے ساتھی‘ (ہر نماز کے وقت) اذان پکارنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ سَفَرِ الِاثْنَيْنِ،حدیث نمبر ٢٨٤٨)
باب: قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت وابستہ رہے گی (کیوں کہ اس سے جہاد میں کام لیا جاتا رہے گا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،حدیث نمبر ٢٨٤٩)
حضرت عروہ بن جعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی رہے گی۔ سلیمان نے شعبہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے حضرت عروہ بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ نے اس روایت کی متابعت (جس میں بجائے ابن الجعد کے ابن ابی الجعد ہے) مسدد نے ہشیم سے کی، ان سے حصین نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عروہ ابن ابی الجعد نے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،حدیث نمبر ٢٨٥٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:گھوڑے کی پیشانی میں برکت بندھی ہوئی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.حدیث نمبر ٢٨٥١)
باب:جہاد جاری رہے گا خواہ حاکم نیک ہو یا بد کیوں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:گھوڑوں کی پریشانیوں میں قیامت کے دن تک خیر بندھی ہوئی ہے۔ حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ بندھی رہے گی یعنی آخرت میں ثواب اور دنیا میں مال غنیمت ملتا رہے گا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْجِهَادُ مَاضٍ مَعَ الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ،حدیث نمبر ٢٨٥٢)
باب:جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑے کو تیار رکھا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور گھوڑے کو تیار رکھنے میں (انفال ٦٠) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس شخص نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ اور اس کے وعدہ ثواب کو جانتے ہوئے اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا کھانا، پینا اور اس کا پیشاب و لید سب قیامت کے دن اس کے میران عمل پر وزن کیا جائے گا(اور سب پر اس کو ثواب ملے گا۔) (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا،حدیث نمبر ٢٨٥٣)
باب: گھوڑوں اور گدھوں کا نام رکھنا۔ عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ (صلح حدیبیہ کے موقع پر) نکلے۔حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کے دوسرے تمام ساتھی تو محرم تھے لیکن انہوں نے خود احرام نہیں باندھا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے ایک ایک جنگلی گدھا دیکھا۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی اس پر نظر پڑنے سے پہلے ان حضرات کی نظر اگرچہ اس پر پڑی تھی لیکن انہوں نے اسے چھوڑ دیا تھا لیکن حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے ہی اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، ان کے گھوڑے کا نام جرادہ تھا، اس کے بعد انہوں نے ساتھیوں سے کہا کہ کوئی ان کا کوڑا اٹھا کر انہیں دیدے (جسے لیے بغیر وہ سوار ہوگئے تھے) ان لوگوں نے اس سے انکار کیا (محرم ہونے کی وجہ سے) اس لیے انہوں نے خود ہی لے لیا اور اس جنگلی گدھا پر حملہ کر کے اس کی کونچیں کاٹ دیں انہوں نے خود بھی اس کا گوشت کھایا اور دوسرے ساتھیوں نے بھی کھایا پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہو لیے تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کیا اس کا گوشت تمہارے پاس بچا ہوا باقی ہے؟ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں! اس کی ایک ران ہمارے ساتھ باقی ہے۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ نے بھی وہ گوشت کھایا۔ گھوڑے کا نام جرادہ تھا، (اس سے باب کا مطلب ثابت ہوا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ،حدیث نمبر ٢٨٥٤)
ابی بن عباس بن سہل نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے ان کے دادا (حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ ) سے بیان کیا کہ ہمارے باغ میں نبی کریم ﷺ کا ایک گھوڑا رہتا تھا جس کا نام لحیف تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ،حدیث نمبر ٢٨٥٥)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جس گدھے پر سوار تھے، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا :اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔ (اور نیک اعمال سے غافل ہوجائیں گے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ،حدیث نمبر ٢٨٥٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا (ایک رات) مدینہ میں کچھ خطرہ سا محسوس ہوا تو نبی کریم ﷺ نے ہمارا (حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا جو آپ کے عزیز تھے) گھوڑا منگوایا، گھوڑے کا نام مندوب تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا :خطرہ تو ہم نے کوئی نہیں دیکھا البتہ اس گھوڑے کو ہم نے سمندر پایا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ،حدیث نمبر ٢٨٥٧)
باب:گھوڑے کی نحوست کے بارے میں جو کہا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ شُؤْمِ الْفَرَسِ،حدیث نمبر ٢٨٥٨)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نحوست اگر ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہوتی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ شُؤْمِ الْفَرَسِ،حدیث نمبر ٢٨٥٩)
باب:گھوڑوں کی تین قسمیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کیے) تاکہ تم ان پر سواری کرو اور وہ تمہاری زینت ہو (النحل ٨) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ بعض وہ گھوڑے ہیں جو لوگوں کے لیےباعث اجر و ثواب ہیں، بعض وہ گھوڑے ہوتے ہیں جو لوگوں کے لیے صرف پردہ ہیں اور بعض وہ گھوڑے ہوتے ہیں جو لوگوں کے لیے وبال جان ہیں۔ تو جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کی نیت سے اسے پالتا ہے پھر جہاں خوب چری ہوتی ہے یا (یہ فرمایا کہ) کسی شاداب جگہ اس کی رسی کو خوب لمبی کر کے باندھتا ہے (تاکہ چاروں طرف چر سکے) تو گھوڑا اس کی چری کی جگہ سے یا اس شاداب جگہ سے اپنی رسی میں بندھا ہوا جو کچھ بھی کھاتا پیتا ہے مالک کو اس کی وجہ سے نیکیاں ملتی ہیں اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک زغن یا دو زغن لگائے تو اس کی لید اور اس کے قدموں کے نشانوں میں بھی مالک کے لیے نیکیاں ہیں اور اگر وہ گھوڑا نہر سے گزرے اور اس میں سے پانی پی لے تو اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو پھر بھی اس سے اسے نیکیاں ملتی ہیں، دوسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر، دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ ﷺ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر اس جامع اور منفرد آیت کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نازل نہیں ہوا:فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره، ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره:پس جس نے ایک ذرا برار نیکی کی وہ اس جزا دیکھے گا اور جس نے ایک ذرا برابر برائی کی وہ اس کی سزا دیکھے گا۔(الزلزال ٧ تا ٨) (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى : { وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً }حدیث نمبر ٢٨٦٠)
باب: جہاد میں دوسرے کے جانور کو مارنا۔ ابوالمتوکل ناجی (علی بن داود) نے کہا کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنا ہے، ان میں سے مجھ سے بھی کوئی حدیث بیان کیجئے۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ابوعقیل راوی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں (یہ سفر) جہاد کے لیے تھا یا عمرہ کے لیے (واپس ہوتے ہوئے) جب (مدینہ منورہ) دکھائی دینے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر جلدی جانا چاہے وہ جاسکتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم آگے بڑھے۔ میں اپنے ایک سیاہی مائل سرخ اونٹ بےداغ پر سوار تھا دوسرے لوگ میرے پیچھے رہ گئے، میں اسی طرح چل رہا تھا کہ اونٹ رک گیا (تھک کر) نبی کریم ﷺ نے فرمایا جابر! اپنا اونٹ تھام لے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کوڑے سے اونٹ کو مارا، اونٹ کود کر چل نکلا پھر نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: یہ اونٹ بیچو گے؟ میں نے کہا ہاں! جب مدینہ پہنچے اور نبی کریم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو میں بھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور بلاط کے ایک کونے میں، میں نے اونٹ کو باندھ دیا اور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یہ آپ کا اونٹ ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور اونٹ کو گھمانے لگے اور فرمایا کہ اونٹ تو ہمارا ہی ہے، اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے چند اوقیہ سونا مجھے دلوایا اور دریافت فرمایا تم کو قیمت پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قیمت اور اونٹ (دونوں ہی) تمہارے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ ضَرَبَ دَابَّةَ غَيْرِهِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٨٦١)
باب:سرکش اور نر گھوڑوں پر سواری کرنا۔ اور راشد بن سعد نے کہا کہ سلف(صحابہ کرام) نر جانور پر سواری کو پسند کرتے تھے کیونکہ وہ زیادہ تیز رفتار اور بہادر ہوتا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ شریف میں (ایک رات) کچھ خوف اور گھبراہٹ ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا مانگ لیا۔ اس گھوڑے کا نام مندوب تھا۔نبی کریم ﷺ اس پر سوار ہوئے اور واپس آ کر فرمایا کہ خوف کی تو کوئی بات ہم نے نہیں دیکھی البتہ یہ گھوڑا کیا ہے دریا ہے!۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الرُّكُوبِ عَلَى الدَّابَّةِ الصَّعْبَةِ، وَالْفُحُولَةِ مِنَ الْخَيْلِ،حدیث نمبر ٢٨٦٢)
باب: (غنیمت کے مال سے) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے( مال غنیمت سے)گھوڑے کے دو حصے لگائے تھے اور اس کے مالک کا ایک حصہ۔ امام مالک (رحمۃ اللہ علیہ ) نے فرمایا کہ عربی اور ترکی گھوڑے سب برابر ہیں کیوں کہ اللہ نے فرمایا والخيل والبغال والحمير لترکبوها:اور گھوڑے،اور خچر اور گدھے کو پیدا کیے تاکہ تم اس پر سواری کرو سوار اور وہ تمہاری زینت ہو۔(النحل ٨)اور ایک ہی گھوڑے کا حصہ دیا جائے گا گھوڑے کو مالک کو (گرچہ اس کے پاس کئی گھوڑے ہوں) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ سِهَامِ الْفَرَسِ،حدیث نمبر ٢٨٦٣)
باب: اگر کوئی لڑائی میں دوسرے کے جانور کو کھینچ کر چلائے۔ ابواسحاق سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حنین کی لڑائی میں آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر چلے گئے تھے؟ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں! لیکن رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے۔ ہوازن کے لوگ (جن سے اس لڑائی میں مقابلہ تھا) بڑے تیرانداز تھے، جب ہمارا ان سے سامنا ہوا تو شروع میں ہم نے حملہ کر کے انہیں شکست دے دی، پھر مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور دشمن نے تیروں کی ہم پر بارش شروع کردی پھر رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے نہیں ہٹے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اور نبی کریم ﷺ یہ شعر فرما رہے تھے:أنا النبي لا کذب أنا ابن عبد المطلب! میں نبی ہوں اس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ قَادَ دَابَّةَ غَيْرِهِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٨٦٤)
باب:جانور کی رکاب اور غرز۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جب اپنا پائے مبارک غرز (رکاب) میں ڈالا اور اونٹنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی اٹھ گئی تو نبی کریم ﷺ نے مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لبیک کہا (احرام باندھا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الرِّكَابِ وَالْغَرْزِ لِلدَّابَّةِ،حدیث نمبر ٢٨٦٥)
باب: گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہونا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر جس پر زین نہیں تھی، سوار ہو کر صحابہ کرام سے آگے نکل گئے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ رُكُوبِ الْفَرَسِ الْعُرْيِ،حدیث نمبر ٢٨٦٦)
باب: سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ (رات میں) اہل مدینہ کو دشمن کا خطرہ ہوا تو نبی کریم ﷺ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے (مندوب) پر سوار ہوئے، گھوڑا سست رفتار تھا یا (راوی نے یوں کہا کہ) اس کی رفتار میں سستی تھی، پھر جب نبی کریم ﷺ واپس ہوئے تو فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا (یہ بڑا ہی تیز رفتار ہے) چناں چہ اس کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْفَرَسِ الْقَطُوفِ،حدیث نمبر ٢٨٦٧)
باب: گھوڑ دوڑ کا بیان۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق تک کرائی تھی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والوں میں میں بھی تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک پانچ میل کا فاصلہ ہے اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ السَّبْقِ بَيْنَ الْخَيْلِ،حدیث نمبر ٢٨٦٨)
باب: گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق رکھی تھی اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ أمدا (حدیث میں) حد اور انتہا کے معنی میں ہے۔ (قرآن مجید میں ہے) فطال علیہم الامد: بھی میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ إِضْمَارِ الْخَيْلِ لِلسَّبْقِ،حدیث نمبر ٢٨٦٩)
باب: تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ کی حد کہاں تک ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنہیں تیار کیا گیا تھا۔ یہ دوڑ مقام حفیاء سے شروع کرائی اور ثنیۃ الوداع اس کی آخری حد تھی (ابواسحاق راوی نے بیان کیا کہ) میں نے ابوموسیٰ سے پوچھا اس کا فاصلہ کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات میل اور نبی کریم ﷺ نے ان گھوڑوں کی بھی دوڑ کرائی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے گھوڑوں کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے شروع ہوئی اور حد مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا اس میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک میل۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی دوڑ میں شرکت کرنے والوں میں تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ غَايَةِ السَّبْقِ لِلْخَيْلِ الْمُضَمَّرَةِ،حدیث نمبر ٢٨٧٠)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا ذکر۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنی اونٹنی القصواء پر اپنے پیچھے بیٹھایا۔ اور حضرت المسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا القصواء نہیں بیٹھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو العظباء کہا جاتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٢٨٧١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور نبی کریم ﷺ کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم ﷺ کو اس کا علم ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے (کبھی کبھی) اسے وہ گراتا بھی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٢٨٧٢)
باب:گدھے پر بیٹھ کر جہاد کرنا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا ذکر اس کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے۔ اور ابو حمید نے کہا کہ:ایلہ کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سفید خچر ہدیہ کی تھی۔ حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے(وصال کے بعد) سوا اپنے سفید خچر کے، اپنے ہتھیار اور اس زمین کے جو نبی کریم ﷺ نے خیرات کردی تھی اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ بَغْلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءِ، حدیث نمبر ٢٨٧٣)
ابواسحاق نے بیان کیا کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے (مسلمانوں کے لشکر نے) حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیرلی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے نبی کریم ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ جلد باز لوگ (میدان سے) بھاگ پڑے تھے (اور وہ مال غنیمت کے لوٹ میں لگ گئے تھے) قبیلہ ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دئیے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے أنا النبي لا کذب أنا ابن عبد المطلب میں نبی ہوں جس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ بَغْلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءِ، حدیث نمبر ٢٨٧٤)
باب: عورتوں کا جہاد کیا ہے۔ حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا جہاد حج ہے۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث نقل کی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ جِهَادِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر ٢٨٧٥)
ابوسفیان نے حبیب بن ابی عمرہ سے یہی روایت کی جو عائشہ بنت طلحہ سے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے واسطہ سے ہے (اس میں ہے کہ)نبی کریم ﷺ سے آپ کی ازواج مطہرات نے جہاد کی اجازت مانگی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حج بہت ہی عمدہ جہاد ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ جِهَادِ النِّسَاءِ،حدیث نمبر ٢٨٧٦)
باب: دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ ام حرام بنت ملحان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں تکیہ لگا کر سو گئے پھر نبی کریم ﷺ (اٹھے تو) مسکرا رہے تھے۔ ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ کیوں ہنس رہے تھے؟ نبی کریم ﷺ نے جواب دیا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں ان کی مثال (دنیا یا آخرت میں) تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کی اے اللہ! انہیں بھی ان لوگوں میں سے کر دے پھر دوبارہ نبی کریم ﷺ لیٹے اور (اٹھے) تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس مرتبہ بھی نبی کریم ﷺ سے وہی سوال کیا اور نبی کریم ﷺ نے بھی پہلی ہی وجہ بتائی۔ انہوں نے پھر عرض کیا نبی کریم ﷺ آپ دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر میں شریک ہوگی اور یہ کہ بعد والوں میں تمہاری شرکت نہیں ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ نے (ام حرام نے) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کرلیا اور بنت قرظ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ انہوں نے دریا کا سفر کیا۔ پھر جب واپس ہوئیں اور اپنی سواری پر چڑھیں تو اس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس سواری سے گرگئیں اور (اسی میں) ان کی وفات ہوئی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ غَزْوِ الْمَرْأَةِ فِي الْبَحْرِ،حدیث نمبر ٢٨٧٧،و حدیث نمبر ٢٨٧٨)
باب: آدمی جہاد میں اپنی ایک بیوی کو لے جائے ایک کو نہ لے جائے (یہ درست ہے)۔ ابن شہاب زہری نے کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث سنی، ان چاروں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی یہ حدیث مجھ سے تھوڑی تھوڑی بیان کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (جہاد کے لیے) تو اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں نبی کریم ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَمْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ فِي الْغَزْوِ دُونَ بَعْضِ نِسَائِهِ،حدیث نمبر ٢٨٧٩)
باب: عورتوں کا جنگ کرنا اور مردوں کے ساتھ لڑائی میں شرکت کرنا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر مسلمان نبی کریم ﷺ کے پاس سے جدا ہوگئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ تعالٰی عنہا (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں اور (تیز چلنے کی وجہ سے) پانی کے مشکیزے چھلکاتی ہوئی لیے جا رہی تھیں اور ابومعمر کے علاوہ جعفر بن مہران نے بیان کیا کہ مشکیزے کو اپنی پشت پر ادھر سے ادھر جلدی جلدی لیے پھرتی تھیں اور قوم کو اس میں سے پانی پلاتی تھیں، پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزوں کو بھر کرلے جاتی تھیں اور قوم کو پانی پلاتی تھیں، میں ان کے پاؤں کی پازیبیں دیکھ رہا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ غَزْوِ النِّسَاءِ وَقِتَالِهِنَّ مَعَ الرِّجَالِ،حدیث نمبر ٢٨٨٠)
باب: جہاد میں عورتوں کا مردوں کے پاس مشکیزہ اٹھا کر لے جانا۔ ثعلبہ بن ابی مالک نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ شریف کی خواتین میں کچھ چادریں تقسیم کیں۔ ایک نئی چادر بچ گئی تو بعض حضرات نے جو آپ کے پاس ہی تھے کہا یا امیرالمؤمنین! یہ چادر رسول اللہ ﷺ کی نواسی کو دے دیجئیے، جو آپ کے گھر میں ہیں۔ ان کی مراد (آپ کی بیوی)حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالٰی عنہا سے تھی لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ام سلیط اس کی زیادہ مستحق ہیں۔ یہ حضرت ام سلیط رضی اللہ تعالٰی عنہا ان انصاری خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ احد کی لڑائی کے موقع پر ہمارے لیے مشکیزے (پانی کے) اٹھا کر لاتی تھیں۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا (حدیث میں) لفظ تزفر کا معنی یہ ہے کہ سیتی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَمْلِ النِّسَاءِ الْقِرَبَ إِلَى النَّاسِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٨٨١)
باب: جہاد میں عورتیں زخمیوں کی مرہم پٹی کر سکتی ہیں۔ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (غزوہ میں) شریک ہوتے تھے، مسلمان فوجیوں کو پانی پلاتیں تھیں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور جو لوگ شہید ہوجاتے انہیں مدینہ اٹھا کر لاتیں تھیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مُدَاوَاةِ النِّسَاءِ الْجَرْحَى فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٨٨٢)
باب: زخمیوں اور شہیدوں کو عورتیں لے کر جا سکتی ہیں۔ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتیں تھیں مجاہد مسلمانوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں اور زخمیوں اور شہیدوں کو اٹھا کر مدینہ لے جاتیں تھیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ رَدِّ النِّسَاءِ الْجَرْحَى وَالْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ،حدیث نمبر ٢٨٨٣)
باب: (مجاہدین کے) جسم مبارک سے تیر کا کھینچ کر نکالنا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر لگا تو میں ان کے پاس پہنچا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس تیر کو کھینچ کر نکال لو میں نے کھینچ لیا تو اس سے خون بہنے لگا پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم ﷺ کو اس حادثہ کی اطلاع دی تو نبی کریم ﷺ نے (ان کے لیے) دعا فرمائی اللهم اغفر لعبيد أبي عامر۔ اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ نَزْعِ السَّهْمِ مِنَ الْبَدَنِ؟حدیث نمبر ٢٨٨٤)
باب: اللہ کی راہ میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے؟ عبداللہ بن ربیعہ بن عامر نے خبر دیتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سنا، آپ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم ﷺ نے (ایک رات) بیداری میں گزاری، مدینہ پہنچنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا! ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ (آنے والے نے) کہا میں ہوں سعد بن ابی وقاص، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر نبی کریم ﷺ خوش ہوئے۔ ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحِرَاسَةِ فِي الْغَزْوِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اشرفی کا بندہ، روپے کا بندہ، چادر کا بندہ، کمبل کا بندہ ہلاک ہوا کہ اگر اسے کچھ دے دیا جائے تب تو خوش ہوجاتا ہے اور اگر نہیں دیا جائے تو ناراض ہوجاتا ہے۔اس حدیث کو اسرائیل اور محمد بن جہادہ نے ابوحصین سے مرفوع نہیں کیا۔ اور عمرو ابن مرزوق نے ہم سے بڑھا کر بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے خبر دی، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اشرفی کا بندہ اور روپے کا بندہ اور کمبل کا بندہ تباہ ہوا، اگر اس کو کچھ دیا جائے تب تو خوش جب نہ دیا جائے تو غصہ ہوجائے، ایسا شخص تباہ سرنگوں ہوا۔ اس کو کانٹا لگے تو اللہ کرے پھر نہ نکلے۔ مبارک کا مستحق ہے وہ بندہ جو اللہ کے راستے میں (غزوہ کے موقع پر) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں اور اس کے قدم گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں، اگر اسے چوکی پہرے پر لگا دیا جائے تو وہ اپنے اس کام میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر لشکر کے پیچھے (دیکھ بھال کے لیے) لگا دیا جائے تو اس میں بھی پوری تندہی اور فرض شناسی سے لگا رہے۔(اگرچہ زندگی میں غربت کی وجہ سے اس کی کوئی اہمیت بھی نہ ہو کہ) اگر وہ کسی سے ملاقات کی اجازت چاہے تو اسے اجازت بھی نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش بھی قبول نہ کی جائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا کہ اسرائیل اور محمد بن جحادہ نے ابوحصین سے یہ روایت مرفوعاً نہیں بیان کی ہے اور کہا کہ قرآن مجید میں جو لفظ تعسا آیا ہے گویا یوں کہنا چاہیے کہ فأتعسهم الله. (اللہ انہیں گرائے ہلاک کرے)طوبى فعلى کے وزن پر ہے ہر اچھی اور طیب چیز کے لیے۔ واو اصل میں یا تھا (طیبیٰ ) پھر یا کو واو سے بدل دیا گیا اور یہ طیب سے نکلا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحِرَاسَةِ فِي الْغَزْوِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨٨٦،و حدیث نمبر ٢٨٨٧)
باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو وہ میری خدمت کرتے تھے حالاں کہ عمر میں وہ مجھ سے بڑے تھے، حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہر وقت انصار کو ایک ایسا کام کرتے دیکھا (رسول اللہ ﷺ کی خدمت) کہ جب ان میں سے کوئی مجھے ملتا ہے تو میں اس کی تعظیم و اکرام کرتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ الْخِدْمَةِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٨٨٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر (غزوہ کے موقع پر) گیا، میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، پھر جب نبی اکرم ﷺ واپس ہوئے اور احد پہاڑ دکھائی دیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس سے میں محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے سے محبت کرتا ہے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرم قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم والا شہر قرار دیا تھا، اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ الْخِدْمَةِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٨٨٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (ایک سفر میں) تھے۔ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا۔ موسم گرمی کا تھا، ہم میں زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا، اپنا کمبل تان لیتا۔ خیر جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام نہ کرسکے تھے اور جن حضرات نے روزہ نہیں رکھا تھا تو انہوں نے ہی اونٹوں کو اٹھایا (پانی پلایا) اور روزہ داروں کی خوب خوب خدمت بھی کی۔ اور (دوسرے تمام) کام کئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:آج اجر و ثواب کو روزہ نہ رکھنے والے لوٹ کرلے گئے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَضْلِ الْخِدْمَةِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٨٩٠)
باب: اس شخص کی فضیلت جس نے سفر میں اپنے ساتھی کا سامان اٹھا دیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:روزانہ انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہے اور اگر کوئی شخص کسی کی سواری میں مدد کرے کہ اس کو سہارا دے کر اس کی سواری پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اس پر اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ اچھا اور پاک لفظ بھی (زبان سے نکالنا)صدقہ ہے۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور (کسی مسافر کو)راستہ بتادینا بھی صدقہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ فَضْلِ مَنْ حَمَلَ مَتَاعَ صَاحِبِهِ فِي السَّفَرِ،حدیث نمبر ٢٨٩١)
باب: اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن پہرہ دینا کتنا بڑا ثواب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اے ایمان والو! صبر کرو (آل عمران ٢٠٠) حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ کی راہ میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دنيا وما عليها سے بڑھ کر ہے جنت میں کسی کے لیے ایک کوڑے جتنی جگہ دنيا وما عليها سے بڑھ کر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں شام کو چلے یا صبح کو تو وہ دنيا وما عليها سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد بَابُ فَضْلِ رِبَاطِ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٨٩٢)
باب:جس نے بچے کو خدمت کے لیے ساتھ لے کر جہاد کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ میرے ساتھ کر دو جو خیبر کے غزوے میں میرے کام کردیا کرے، جب کہ میں خیبر کا سفر کروں۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر مجھے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کو) لے گئے، میں اس وقت ابھی لڑکا تھا۔ بالغ ہونے کے قریب۔ جب بھی نبی کریم ﷺ کہیں قیام فرماتے تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا۔ اکثر میں سنتا کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا کرتے۔ اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن والعجز والکسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم، عاجزی، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے، آخر ہم خیبر پہنچے اور جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کے قلعہ پر نبی کریم ﷺ کو فتح دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ تعالٰی عنہا کے جمال (ظاہری و باطنی) کا ذکر کیا گیا ان کا شوہر (یہودی) لڑائی میں کام آگیا تھا اور وہ ابھی دلہن ہی تھیں (اور چوں کہ قبیلہ کے سردار کی لڑکی تھیں)اس لیے رسول اللہ ﷺ نے (ان کا اکرام کرنے کے لیے کہا) انہیں اپنے لیے پسند فرما لیا۔ پھر نبی کریم ﷺ انہیں ساتھ لے کر وہاں سے چلے۔ جب ہم سدا الصبہاء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے خلوت کی۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے حیس (کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا ایک کھانا) تیار کرا کر ایک چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھ سے فرمایا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی نبی کریم ﷺ کا سیدہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا۔ آخر ہم مدینہ کی طرف چلے،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے (اونٹ کے کوہان کے اردگرد) اپنی عباء سے پردہ کئے ہوئے تھے (سواری پر جب حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سوار ہوتیں) تو نبی کریم ﷺ اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اپنا پاؤں نبی کریم ﷺ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوجاتیں۔ اس طرح ہم چلتے رہے اور جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا یہ پہاڑ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور میں بھی اس سے محبت رکھتا ہوں، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کی مد اور صاع میں برکت دیجئیے ! (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ غَزَا بِصَبِيٍّ لِلْخِدْمَةِ،حدیث نمبر ٢٨٩٣)
باب: جہاد کے لیے سمندر میں سفر کرنا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ام حرام رضی اللہ تعالٰی عنہا نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا تھا۔ جب نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ فرمایا مجھے اپنی امت میں ایک ایسی قوم کو (خواب میں دیکھ کر) خوشی ہوئی جو سمندر میں (غزوہ کے لیے) اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی وہ ان میں سے کر دے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر نبی اکرم ﷺ سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ (میں نے وہی سوال کیا تو) نبی اکرم ﷺ نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین دفعہ ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہوگی وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کو (اسلام کے سب سے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ) غزوہ میں لے گئے، واپسی میں سوار ہونے کے لیے اپنی سواری سے قریب ہوئیں (سوار ہوتے ہوئے یا سوار ہونے کے بعد)گرپڑیں جس سے آپ کی گردن ٹوٹ گئی اور شہادت کی موت پائی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ رُكُوبِ الْبَحْرِ،حدیث نمبر ٢٨٩٤،و حدیث نمبر ٢٨٩٥)
باب:جہاد میں کمزوروں اور نیک لوگوں کی دعاؤں سے مدد حاصل کرنا۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ مجھ سے قیصر نے کہا کہ میں نے تم سے سوال کیا تھا کہ کہ معزز لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں یا غریب و نادر لوگ؟ تو تم نے جواب دیا کہ غریب و نادر لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہی لوگ رسولوں کی پیروی کرنے والے ہوتے ہیں۔ مصعب ابن سعد نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ انہیں دوسرے بہت سے صحابہ پر (اپنی مالداری اور بہادری کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ صرف اپنے کمزور معذور لوگوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے مدد پہنچائے جاتے ہو اور ان ہی کی دعاؤں سے رزق دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ بِالضُّعَفَاءِ وَالصَّالِحِينَ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٨٩٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ کو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج کی فوج جہاں پر ہوں گی جن میں پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت اٹھائی ہو، کہا جائے گا کہ ہاں تو ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہوگی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو، (یعنی تابعی) ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کے شاگردوں کی صحبت اٹھائی ہو کہا جائے گا کہ ہاں اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ بِالضُّعَفَاءِ وَالصَّالِحِينَ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٨٩٧)
باب:یہ نہ کہو کہ فلاں شخص شہید ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے کہ کون اس کی راہ جہاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوتا ہے۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی(اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب نبی اکرم ﷺ (اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف تو نبی اکرم ﷺ کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں ان کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر آجاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کردیتا۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں سے کوئی بھی شخص اس طرح نہ لڑ سکا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے(اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کا پیچھا کروں گا (دیکھوں) نبی کریم ﷺ نے اسے کیوں دوزخی فرمایا ہے)بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب کبھی وہ کھڑا ہوجاتا تو یہ بھی کھڑا ہوجاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہوگیا زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لیے اس نے چاہا کہ موت جلدی آجائے اور اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلہ میں کرلیا اور تلوار پر گر کر اپنی جان دے دی۔ اب وہ صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین پر یہ آپ کا فرمان بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں۔ چناں چہ میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آجائے۔ اس لیے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کرلیا اور اس پر گر کر خود جان دے دی۔ اس وقت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالاں کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالاں کہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : لَا يَقُولُ : فُلَانٌ شَهِيدٌ،حدیث نمبر ٢٨٩٨)
باب:تیر اندازی پر بر انگینختہ کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے،(الانفال ٦٠) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کا قبیلہ بنو اسلم کے چند لوگوں پر گزر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسماعیل (علیہ السلام) کے بیٹو! تیر اندازی کرو کہ تمہارے بزرگ دادا اسماعیل (علیہ السلام) بھی تیرانداز تھے۔ ہاں! تیر اندازی کرو، میں بنی فلاں (ابن ال اورع رضی اللہ عنہ )کی طرف ہوں۔ بیان کیا، جب نبی کریم ﷺ ایک فریق کے ساتھ ہوگئے تو (مقابلے میں حصہ لینے والے) دوسرے ایک فریق نے ہاتھ روک لیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا بات پیش آئی، تم لوگوں نے تیر اندازی بند کیوں کردی؟ دوسرے فریق نے عرض کیا جب نبی کریم ﷺ ایک فریق کے ساتھ ہوگئے تو بھلا ہم کس طرح مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھا تیر اندازی جاری رکھو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الرَّمْيِ،حدیث نمبر ٢٨٩٩)
حمزہ بن ابی اسید بیان کرتے ہیں کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ہم قریش کے مقابلہ میں صف باندھے ہوئے کھڑے ہوگئے تھے اور وہ ہمارے مقابلہ میں تیار تھے، فرمایا کہ اگر (حملہ کرتے ہوئے)قریش تمہارے قریب آجائیں تو تم لوگ تیر اندازی شروع کردینا تاکہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الرَّمْيِ،حدیث نمبر ٢٩٠٠)
باب: برچھے سے (مشق کرنے کے لیے) کھیلنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے سامنےحراب (چھوٹے نیزے) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اے عمر! انہیں کھیل دکھانے دو۔ علی بن مدینی نے یہ بیان زیادہ کیا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی کہ مسجد میں (یہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی علیہم اجمعین اپنے کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ اللَّهْوِ بِالْحِرَابِ وَنَحْوِهَا،حدیث نمبر ٢٩٠١)
باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی اور نبی کریم ﷺ کی آڑ(یعنی دشمن سے حفاظت)ایک ہی ڈھال سے کر رہے تھے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے اچھے تیرانداز تھے۔ جب وہ تیر مارتے تو نبی کریم ﷺ سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْمِجَنِّ وَمَنْ يَتَّرِسُ بِتُرْسِ صَاحِبِهِ،حدیث نمبر ٢٩٠٢)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں نبی کریم ﷺ کا خٓود نبی اکرم ﷺ کے سر مبارک پر توڑا گیا اور چہرہ مبارک خون آلود ہوگیا اور نبی اکرم ﷺ کے آگے کے دانت مبارک شہید ہوگئے(یعنی دانت مبارک کے کچھ حصے شہید ہوگئے) تو علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں بھربھر کر پانی باربار لا رہے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا زخم کو دھو رہی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ خون پانی سے اور زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو نبی اکرم ﷺ کے زخموں پر لگا دیا، جس سے خون آنا بند ہوگیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْمِجَنِّ وَمَنْ يَتَّرِسُ بِتُرْسِ صَاحِبِهِ،حدیث نمبر ٢٩٠٣)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنونضیر کے باغات وغیرہ ان اموال میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بغیر لڑے دے دیا تھا۔ مسلمانوں نے ان کے حاصل کرنے کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تو یہ اموال خاص طور سے رسول اللہ ﷺ ہی کے تھے جن میں سے نبی اکرم ﷺ اپنی ازواج مطہرات کو سالانہ نفقہ کے طور پر بھی دے دیتے تھے اور باقی ہتھیار اور گھوڑوں پر خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) ہر وقت تیاری رہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْمِجَنِّ وَمَنْ يَتَّرِسُ بِتُرْسِ صَاحِبِهِ،حدیث نمبر ٢٩٠٤)
دو سندوں کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ بیان کرتے تھے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد میں نے کسی کے متعلق نبی کریم ﷺ سے نہیں سنا کہ آپ نے خود کو ان پر صدقے کیا ہو۔ میں نے سنا کہ نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے: تیر برساؤ (سعد) تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْمِجَنِّ وَمَنْ يَتَّرِسُ بِتُرْسِ صَاحِبِهِ،حدیث نمبر ٢٩٠٥)
باب: ڈھال کے بیان میں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو دو لڑکیاں میرے پاس جنگ بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔ نبی اکرم ﷺ بستر پر لیٹ گئے اور چہرہ مبارک دوسری طرف کرلیا اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور آپ نے مجھے ڈانٹا کہ یہ شیطانی گانا اور رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں! لیکن نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ انہیں گانے دو، پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسری طرف متوجہ ہوگئے تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ عید کے دن سوڈان کے کچھ صحابہ ڈھال اور حراب کا کھیل دکھا رہے تھے، اب یا میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے کہا یا نبی اکرم ﷺ نے ہی فرمایا کہ تم بھی دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کرلیا، میرا چہرہ نبی اکرم ﷺ کے چہرہ پر تھا(اس طرح میں پیچھے پردے سے کھیل کو بخوبی دیکھ سکتی تھی) اور نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے: خوب بنوارفدہ! جب میں تھک گئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بس؟ میں نے کہا جی ہاں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو پھر جاؤ۔ احمد نے بیان کیا اور ان سے ابن وہب نے (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد دوسری طرف متوجہ ہوجانے کے لیے لفظ عمل کے بجائے) فلما غفل. نقل کیا ہے۔ یعنی جب وہ ذرا غافل ہوگئے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الدَّرَقِ،حدیث نمبر ٢٩٠٦، و حدیث نمبر ٢٩٠٧)
باب: تلواروں کی حمائل اور تلوار کو گلے میں لٹکانے کا بیان ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ پر (ایک آواز سن کر)بڑا خوف چھا گیا تھا، سب لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن نبی کریم ﷺ سب سے آگے تھے اور نبی اکرم ﷺ نے ہی واقعہ کی تحقیق کی۔ نبی کریم ﷺ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کی پشت ننگی تھی۔ نبی اکرم ﷺ کی گردن سے تلوار لٹک رہی تھی اور نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے کہ ڈرو مت۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے تو گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا ہے یا یہ فرمایا کہ گھوڑا جیسے سمندر ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحَمَائِلِ وَتَعْلِيقِ السَّيْفِ بِالْعُنُقِ،حدیث نمبر ٢٩٠٨)
باب: تلوار کی آرائش کرنا۔ ابوامامہ باہلی بیان کرتے تھے کہ ایک قوم (یعنی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین)نے بہت سی فتوحات کیں اور ان کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اونٹ کی پشت کا چمڑہ، سیسہ اور لوہا ان کی تلواروں کے زیور تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حِلْيَةِ السُّيُوفِ،حدیث نمبر ٢٩٠٩)
باب: جس نے سفر میں دوپہر کے آرام کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کے اطراف میں ایک غزوہ میں شریک تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ جہاد سے واپس ہوئے تو آپ کے ساتھ یہ بھی واپس ہوئے۔ راستے میں قیلولہ کا وقت ایک ایسی وادی میں ہوا جس میں ببول کے درخت بکثرت تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس وادی میں پڑاؤ کیا اور صحابہ پوری وادی میں (درخت کے سائے کے لیے) پھیل گئے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی ایک ببول کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی۔ ہم سب سو گئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے پکارنے کی آواز سنائی دی، دیکھا گیا تو ایک بدوی(دیہاتی)نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے غفلت میں میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور میں سویا ہوا تھا، جب بیدار ہوا تو ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے کہا مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! تین مرتبہ (میں نے اسی طرح کہا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرگئی)رسول اللہ ﷺ نے اعرابی کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ نبی اکرم ﷺ بیٹھ گئے (پھر وہ خود متاثر ہو کر اسلام لایا)۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ عَلَّقَ سَيْفَهُ بِالشَّجَرِ فِي السَّفَرِ عِنْدَ الْقَائِلَةِ،حدیث نمبر ٢٩١٠)
باب: خٓود پہننے کا بیان (یعنی لوہے کا ٹوپ جس سے میدان جنگ میں سر کا بچاؤ کیا جاتا تھا)۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے احد کی لڑائی میں نبی کریم ﷺ کے زخمی ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتلایا نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور نبی اکرم ﷺ کے آگے کے دانت شہید ہو گئے تھے(یعنی دانٹ کے کچھ حصے شہید ہو گئے تھے)اور خٓود نبی اکرم ﷺ کے سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی۔ (جس سے آپ کے سر مبارک پر زخم آئے تھے) حضرت فاطمہ علیہا السلام خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ پانی ڈال رہے تھے۔جب حضرت فاطمہ علیہا السلام نے دیکھا کہ خون برابر بڑھتا ہی جا رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو نبی اکرم ﷺ کے زخموں پر لگا دیا جس سے خون بہنا بند ہوگیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ لُبْسِ الْبَيْضَةِ،حدیث نمبر ٢٩١١)
باب: کسی کے انتقال پر اس کے ہتھیار وغیرہ توڑنے درست نہیں۔ حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے(وصال کے بعد) اپنے ہتھیار ایک سفید خچر اور ایک قطعہ اراضی جسے نبی اکرم ﷺ پہلے ہی صدقہ کرچکے تھے کے سوا اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ؟بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ كَسْرَ السِّلَاحِ عِنْدَ الْمَوْتِ،حدیث نمبر ٢٩١٢)
باب: دوپہر کے وقت درختوں کا سایہ حاصل کرنے کے لیے فوجی لوگ امام سے جدا ہو کر (متفرق درختوں کے سائے تلے) پھیل سکتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھے۔ ایک ایسے جنگل میں جہاں ببول کے درخت بکثرت تھے۔ قیلولہ کا وقت ہوگیا، تمام صحابہ سائے کی تلاش میں (پوری وادی میں متفرق درختوں کے نیچے) پھیل گئے اور نبی کریم ﷺ نے بھی ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا۔نبی اکرم ﷺ نے تلوار (درخت کے تنے سے) لٹکا دی تھی اور سو گئے تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے تو نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک اجنبی موجود تھا۔ اس اجنبی نے کہا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ پھر نبی کریم ﷺ نے آواز دی اور جب صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نبی اکرم ﷺ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور مجھ سے کہنے لگا تھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکے گا؟ میں نے کہا اللہ (اس پر وہ شخص خود ہی دہشت زدہ ہوگیا) اور تلوار نیام میں کرلی، اب یہ بیٹھا ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی سزا نہیں دی تھی۔(اس اخلاق سے متاثر ہو کر وہ مسلمان بھی ہوگیا جیسا ماقبل میں حدیث گزری) (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ تَفَرُّقُ النَّاسِ عَنِ الْإِمَامِ عِنْدَ الْقَائِلَةِ، وَالِاسْتِظْلَالِ بِالشَّجَرِ،حدیث نمبر ٢٩١٣)
باب: بھالوں (نیزوں) کا بیان۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی گئی از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا :میرا رزق میرے نیزے کے سایا کے نیچے کر دیا گیا ہے اور ذلت اور پستی ان لوگوں پر مسلط کر دی گئی ہے جنہوں نے میری مخالفت کی۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) مکہ کے راستے میں نبی اکرم ﷺ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے، لشکر سے پیچھے رہ گئے۔ خود حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ پھر انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور اپنے گھوڑے پر (شکار کرنے کی نیت سے)سوار ہوگئے، اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں سے (جو احرام باندھے ہوئے تھے)کہا کہ کوڑا اٹھا دیں انہوں نے اس سے انکار کیا، پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا اس کے دینے سے انہوں نے انکار کیا، آخر انہوں نے خود اسے اٹھایا اور جنگلی گدھا پر جھپٹ پڑے اور اسے مار لیا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے بعض نے تو اس جنگلی گدھا کا گوشت کھایا اور بعض نے اس کے کھانے سے (احرام کے عذر کی بنا پر) انکار کیا۔ پھر جب یہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو اس کے متعلق مسئلہ پوچھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو ایک کھانے کی چیز تھی جو اللہ نے تمہیں عطا کی۔ اور زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے جنگلی گدھا کے (شکار سے) متعلق ابوالنضر ہی کی حدیث کی طرح (البتہ اس روایت میں یہ زائد ہے) نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس کا کچھ بچا ہوا گوشت ابھی تمہارے پاس موجود ہے؟ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا قِيلَ فِي الرِّمَاحِ،حدیث نمبر ٢٩١٤)
باب: نبی کریم ﷺ کا لڑائی میں زرہ پہننے کا بیان۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛رہا خالد تو ان کی زرہیں اللہ کی راہ میں وقف ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (بدر کے دن) دعا فرما رہے تھے، اس وقت نبی اکرم ﷺ ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے، کہ اے اللہ! میں تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دے کر فریاد کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا: بس کیجئے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم ﷺ نے اپنے رب کے حضور میں دعا کی حد کردی ہے۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی سيهزم الجمع ويولون الدبر بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر:اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت(مشرکین)اور پیٹھیں پھیردیں گے، بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑوی اور سخت کڑوی (سورۃ القمر آیت ٤٥ تا ٤٦)اور وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا کہ بدر کے دن کا(یہ واقعہ ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا قِيلَ فِي دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَالْقَمِيصِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩١٥)
حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو نبی اکرم ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں رہن رکھی ہوئی تھی۔ اور یعلیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ لوہے کی زرہ (تھی) اور معلیٰ نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے لوہے کی ایک زرہ رہن رکھی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا قِيلَ فِي دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَالْقَمِيصِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بخیل (جو زکوٰۃ نہیں دیتا)اور زکوٰۃ دینے والے(سخی) کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے کہ دونوں لوہے کے کرتے (زرہ) پہنے ہوئے ہیں، دونوں کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں زکوٰۃ دینے والا (سخی) جب بھی زکوٰۃ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کرتہ اتنا کشادہ ہوجاتا ہے کہ زمین پر چلتے میں گھسٹتا جاتا ہے لیکن جب بخیل صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ایک ایک حلقہ اس کے بدن پر تنگ ہوجاتا ہے اور اس طرح سکڑ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے جڑ جاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا:پھر بخیل اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا قِيلَ فِي دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَالْقَمِيصِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩١٧)
باب: سفر میں اور لڑائی میں چغہ پہننے کا بیان۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب نبی اکرم ﷺ واپس ہوئے تو میں پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم ﷺ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرہ پاک کو دھویا۔ اس کے بعد (ہاتھ دھونے کے لیے)آستین چڑھانے کی کوشش کی لیکن آستین تنگ تھی اس لیے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا پھر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں ہر دو کا بھی مسح کیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْجُبَّةِ فِي السَّفَرِ وَالْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩١٨)
باب: لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننے کا بیان ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو خارش کے مرض کی وجہ سے ریشمی کرتہ پہننے کی اجازت دے دی تھی، جو ان دونوں کو لاحق ہوگئی تھی جو اس مرض میں مفید ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحَرِيرِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩١٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ریشمی کپڑے کے استعمال کی اجازت دے دی، پھر میں نے جہاد میں انہیں ریشمی کپڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحَرِيرِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩٢٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحَرِيرِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩٢١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (نبی کریم ﷺ نے) رخصت دی تھی یا (یہ بیان کیا کہ) رخصت دی گئی تھی،(ریشمی کپڑے پہننے کی) ان دونوں حضرات کو(یعنی حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو)خارش کی وجہ سے جو ان کو لاحق ہوگئی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحَرِيرِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩٢٢)
باب: چھری کا استعمال کرنا درست ہے۔ جعفر بن عمرو بن امیہ نے بیان کیا ک ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ شانے کا گوشت (چھری سے) کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر نماز کے لیے اذان ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے (اس روایت میں)یہ زیادتی بھی موجود ہے کہ (جب نبی اکرم ﷺ نماز کے لیے بلائے گئے تو) نبی اکرم ﷺ نے چھری ڈال دی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي السِّكِّينِ،حدیث نمبر ٢٩٢٣)
باب: نصاریٰ سے لڑنے کی فضیلت کا بیان۔ عمیر بن اسود عنسی نے بیان کیا کہ وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کا قیام ساحل حمص پر اپنے ہی ایک مکان میں تھا اور آپ کے ساتھ (آپ کی بیوی)حضرت ام حرام رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی تھیں۔ عمیر نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت ام حرام رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو دریائی سفر کر کے جہاد کے لیے جائے گا، اس نے(اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت) واجب کرلی۔ حضرت ام حرام رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، تم بھی ان کے ساتھ ہوگی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہوگی۔ میں نے کہا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا قِيلَ فِي قِتَالِ الرُّومِ،حدیث نمبر ٢٩٢٤)
باب: یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ایک دور آئے گا جب)تم یہودیوں سے جنگ کرو گے۔ (اور وہ شکست کھا کر بھاگتے پھریں گے) کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کر ڈال۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قِتَالِ الْيَهُودِ،حدیث نمبر ٢٩٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک یہودی سے تمہاری جنگ نہ ہو لے گی اور وہ پتھر بھی اس وقت (اللہ تعالیٰ کے حکم سے)بول اٹھیں گے جس کے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہوگا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ لے کر چھپا ہوا ہے اسے قتل کر ڈالو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قِتَالِ الْيَهُودِ،حدیث نمبر ٢٩٢٦)
باب: ترکوں سے جنگ کا میدان۔ حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کی جوتیاں پہنے ہوں گے (یا ان کے بال بہت لمبے ہوں گے)اور قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں سے لڑو گے جن کے منہ چوڑے چوڑے ہوں گے گویا ڈھالیں ہیں چمڑا جمی ہوئی(یعنی بہت موٹے منہ والے ہوں گے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قِتَالِ التُّرْكِ،حدیث نمبر ٢٩٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو گے، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک موٹی پھیلی ہوئی ہوگی، ان کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بند چمڑا لگی ہوئی ہوتی ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرلو گے جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قِتَالِ التُّرْكِ،حدیث نمبر ٢٩٢٨)
باب: ان لوگوں سے لڑائی کا بیان جو بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے لڑائی نہ کرلو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرلو گے جن کے چہرے تہ شدہ ڈھالوں جیسے ہوں گے۔ سفیان نے بیان کیا کہ اس میں ابوالزناد نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ زیادہ نقل کیا کہ ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، ناک موٹی، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بتہ چمڑہ لگی ڈھال ہوتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ قِتَالِ الَّذِينَ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ،حدیث نمبر ٢٩٢٩)
باب: ہار جانے کے بعد امام کا سواری سے اترنا اور بچے کھچے لوگوں کی صف باندھ کر اللہ سے مدد مانگنا۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے ایک صاحب نے پوچھا تھا کہ ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے حنین کی لڑائی میں فرار اختیار کیا تھا؟حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں اللہ کی قسم، رسول اللہ ﷺ نے پشت ہرگز نہیں پھیری تھی۔ البتہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں جو نوجوان تھے بےسروسامان جن کے پاس نہ زرہ تھی، نہ خود اور کوئی ہتھیار بھی نہیں لے گئے تھے، انہوں نے ضرور میدان چھوڑ دیا تھا کیوں کہ مقابلہ میں ہوازن اور بنو نصر کے بہترین تیرانداز تھے کہ کم ہی ان کا کوئی تیر خطا جاتا۔ چناں چہ انہوں نے خوب تیر برسائے اور شاید ہی کوئی نشانہ ان کا خطا ہوا ہو(اس دوران میں مسلمان)نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر جمع ہوگئے۔ نبی اکرم ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور نبی اکرم ﷺ کے چچیرے بھائی ابوسفیان بن حارث ابن عبدالمطلب نبی اکرم ﷺ کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے سواری سے اتر کر اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا مانگی۔ پھر فرمایا: أنا النبي لا کذب أنا ابن عبد المطلب میں نبی ہوں اس میں غلط بیانی کا کوئی شائبہ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کی(نئے طریقے پر) صف بندی کی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ صَفَّ أَصْحَابَهُ عِنْدَ الْهَزِيمَةِ، وَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَاسْتَنْصَرَ،حدیث نمبر ٢٩٣٠)
باب: مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بددعا کرنا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احزاب (خندق)کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے (مشرکین کے)خلاف یہ دعا کی کہ اے اللہ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہم کو صلوٰۃ وسطیٰ (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی (یہ نبی اکرم ﷺ نے اس وقت فرمایا)جب سورج غروب ہوچکا تھا اور عصر کی نماز قضاء ہوگئی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ،حدیث نمبر ٢٩٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ (صبح کی) دعائے قنوت میں(اور دوسری رکعت کے رکوع کے بعد)یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتک على مضر، اللهم سنين كسني يوسف اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! تمام کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ (جو مکہ میں مشرکین کی سختیاں جھیل رہے ہیں)اے اللہ! مضر پر اپنا سخت عذاب نازل کر۔ اے اللہ ایسا قحط نازل کر جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں پڑا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ،حدیث نمبر ٢٩٣٢)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کی تھی: اللهم منزل الکتاب سريع الحساب، اللهم اهزم الأحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهم اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے (قیامت کے دن)حساب بڑی سرعت سے لینے والے، اے اللہ! مشرکوں اور کفار کی جماعتوں کو (جو کہ مسلمانوں کا استیصال کرنے آئی ہیں) شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ،حدیث نمبر ٢٩٣٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کعبہ کے سائے میں نماز پڑھ رہے تھے،تو ابوجہل اور قریش کے بعض دوسرے لوگوں نے کہا کہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر کون ان پر ڈالے گا؟ مکہ کے کنارے ایک اونٹ ذبح ہوا تھا (اور اسی کی اوجھڑی لانے کے واسطے) ان سب نے اپنے آدمی بھیجے اور وہ اس اونٹ کی اوجھڑی اٹھا لائے اور اسے نبی کریم ﷺ کے اوپر (نماز پڑھتے ہوئے)ڈال دیا۔ اس کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آئیں اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے اوپر سے اس گندگی کو ہٹایا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس وقت یہ بددعا کی: اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش . لأبي جهل بن هشام، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة، وأبى بن خلف، وعقبة بن أبي معيط. اے اللہ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو پکڑ، ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط سب کو پکڑ لے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا چناں چہ میں نے ان سب کو جنگ بدر میں بدر کے کنوئیں میں دیکھا کہ سب کو قتل کر کے اس میں ڈال دیا گیا تھا۔ ابواسحاق نے کہا کہ میں ساتویں شخص کا (جس کے حق میں نبی اکرم ﷺ نے بددعا کی تھی نام) بھول گیا اور یوسف بن ابی اسحاق نے کہا کہ ان سے ابواسحاق نے (سفیان کی روایت میں ابی بن خلف کی بجائے) امیہ بن خلف بیان کیا اور شعبہ نے کہا کہ امیہ یا ابی (شک کے ساتھ ہے) لیکن صحیح امیہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ،حدیث نمبر ٢٩٣٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعض یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا السام عليك(تم پر موت آئے)میں نے ان پر لعنت بھیجی۔تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کیا انہوں نے ابھی جو کہا تھا آپ نے نہیں سنا؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اور کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے اس کا کیا جواب دیا وعليكم یعنی تم پر بھی وہی آئے (یعنی میں نے کوئی برا لفظ زبان سے نہیں نکالا صرف ان کی بات ان ہی پر لوٹا دی) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ،حدیث نمبر ٢٩٣٥)
باب: مسلمان اہل کتاب کو دین کی بات بتلائے یا ان کو قرآن سکھائے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے(روم کے بادشاہ)قیصر کو(خط)لکھا جس میں نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی لکھا تھا کہ اگر تم نے (اسلام کی دعوت سے) منہ موڑا تو (اپنے گناہ کے ساتھ) ان کاشتکاروں کا بھی گناہ تم پر پڑے گا (جن پر تم حکمرانی کر رہے ہو) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : هَلْ يُرْشِدُ الْمُسْلِمُ أَهْلَ الْكِتَابِ، أَوْ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ ؟حدیث نمبر ٢٩٣٦)
باب: مشرکین کا دل ملانے کے لیے ان کی ہدایت کی دعا کرنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! قبیلہ دوس کے لوگ سرکشی پر اتر آئے ہیں اور اللہ کا کلام سننے سے انکار کرتے ہیں۔ آپ ان کے خلاف دعا کیجئے! بعض صحابہ کرام نے کہا کہ اب دوس کے لوگ برباد ہوجائیں گے۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللهم اهد دوسا وائت بهم اے اللہ! دوس کے لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں (دائرہ اسلام میں) کھینچ لا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمُشْرِكِينَ بِالْهُدَى لِيَتَأَلَّفَهُمْ،حدیث نمبر ٢٩٣٧)
باب: یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے۔ اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کسری اور قیصر کی طرف جو خط لکھا اور قتال سے پہلے جو اسلام کی دعوت دی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ جب نبی کریم ﷺ نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم ﷺ سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک وہ مہر کے ساتھ نہ ہو، چناں چہ نبی اکرم ﷺ نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ گویا دست مبارک پر اس کی سفیدی میری نظروں کے سامنے ہے۔ اس انگوٹھی پر محمد رسول اللہ نقش کیا ہوا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دَعْوَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ. وَعَلَى مَا يُقَاتَلُونَ عَلَيْهِ،حدیث نمبر ٢٩٣٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا خط کسریٰ کے پاس بھیجا۔ نبی اکرم ﷺ نے (ایلچی سے) یہ فرمایا تھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے خط کو بحرین کے گورنر کو دے دیں، بحرین کا گورنر اسے کسریٰ کے دربار میں پہنچا دے گا۔ جب کسریٰ نے مکتوب مبارک پڑھا تو اسے اس نے پھاڑ ڈالا۔ مجھے یاد ہے کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا تھا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے اس کے خلاف دعا کی تھی کہ وہ بھی پارہ پارہ ہوجائے (چناں چہ ایسا ہی ہوا) (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دَعْوَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ. وَعَلَى مَا يُقَاتَلُونَ عَلَيْهِ.حدیث نمبر ٢٩٣٩)۔
باب: نبی کریم ﷺ کا (غیر مسلموں کو) اسلام کی طرف دعوت دینا اور اس بات کی دعوت دینا کہ کوئی شخص اللہ کے سوا دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:کسی آدمی کا یہ حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم و پیغمبری دے پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ(آل عمران ٧٩) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے قیصر کو ایک خط لکھا جس میں نبی اکرم ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی تھی۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ نے مکتوب دے کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ مکتوب بصریٰ کے گورنر کے حوالہ کردیں وہ اسے قیصر تک پہنچا دے گا۔ جب فارس کی فوج (اس کے مقابلے میں) شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئی تھی (اور اس کے ملک کے مقبوضہ علاقے واپس مل گئے تھے) تو اس انعام کے شکرانہ کے طور پر جو اللہ تعالیٰ نے (اس کا ملک اسے واپس دے کر) اس پر کیا تھا ابھی قیصر حمص سے ایلیاء (بیت المقدس) تک پیدل چل کر آیا تھا۔ جب اس کے پاس رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک پہنچا اور اس کے سامنے پڑھا گیا تو اس نے کہا کہ اگر ان کی (نبی کریم ﷺ کی)قوم کا کوئی شخص یہاں ہو تو اسے تلاش کر کے لاؤ تاکہ میں اس رسول کے متعلق اس سے کچھ سوالات کروں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ قریش کے ایک قافلے کے ساتھ وہ ان دنوں شام میں مقیم تھے۔ یہ قافلہ اس دور میں یہاں تجارت کی غرض سے آیا تھا جس میں نبی کریم ﷺ اور کفار قریش میں باہم صلح ہوچکی تھی۔ (صلح حدیبیہ)حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قیصر کے آدمی کی ہم سے شام کے ایک مقام پر ملاقات ہوئی اور وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو اپنے (قیصر کے دربار میں بیت المقدس) لے کر چلا پھر جب ہم ایلیاء (بیت المقدس) پہنچے تو قیصر کے دربار میں ہماری بازیابی ہوئی۔ اس وقت قیصر دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا اور روم کے امراء اس کے اردگرد تھے، اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھو کہ جنہوں نے ان کے یہاں نبوت کا دعویٰ کیا ہے نسب کے اعتبار سے ان سے قریب ان میں سے کون شخص ہے؟ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا میں نسب کے اعتبار سے ان کے زیادہ قریب ہوں۔ قیصر نے پوچھا تمہاری اور ان کی قرابت کیا ہے؟ میں نے کہا (رشتے میں) وہ میرے چچازاد بھائی ہوتے ہیں، اتفاق تھا کہ اس مرتبہ قافلے میں میرے سوا بنی عبد مناف کا اور آدمی موجود نہیں تھا۔ قیصر نے کہا کہ اس شخص (حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ )کو مجھ سے قریب کر دو اور جو لوگ میرے ساتھ تھے اس کے حکم سے میرے پیچھے قریب میں کھڑے کر دئیے گئے۔ اس کے بعد اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس شخص (حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ )کے ساتھیوں سے کہہ دو کہ اس سے میں ان صاحب کے بارے میں پوچھوں گا جو نبی ہونے کے مدعی ہیں، اگر یہ ان کے بارے میں کوئی جھوٹ بات کہے تو تم فوراً اس کی تکذیب کر دو۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! اگر اس دن اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ کہیں میرے ساتھی میری تکذیب نہ کر بیٹھیں تو میں ان سوالات کے جوابات میں ضرور جھوٹ بول جاتا جو اس نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں کئے تھے، لیکن مجھے تو اس کا خطرہ لگا رہا کہ کہیں میرے ساتھی میری تکذیب نہ کردیں۔ اس لیے میں نے سچائی سے کام لیا۔(کیوں کہ اس وقت تک حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ مسلمان نہیں ہوئے تھے)اس کے بعد اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے پوچھو کہ تم لوگوں میں ان صاحب جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ان کا نسب کیسا سمجھا جاتا ہے؟ میں نے بتایا کہ ہم میں ان کا نسب بہت عمدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے پوچھا اچھا یہ نبوت کا دعویٰ اس سے پہلے بھی تمہارے یہاں کسی نے کیا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس دعویٰ سے پہلے ان پر کوئی جھوٹ کا الزام تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں، اس نے پوچھا ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ اس نے پوچھا تو اب بڑے امیر لوگ ان کی اتباع کرتے ہیں یا کمزور اور کم حیثیت کے لوگ؟ میں نے کہا کہ کمزور اور معمولی حیثیت کے لوگ ہی ان کے (زیادہ تر ماننے والے ہیں)اس نے پوچھا کہ اس کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے یا گھٹتی جا رہی ہے؟ میں نے کہا جی نہیں تعداد برابر بڑھتی جا رہی ہے۔ اس نے پوچھا کوئی ان کے دین سے بیزار ہو کر اسلام لانے کے بعد پھر بھی گیا ہے کیا؟ میں نے کہا کہ نہیں، اس نے پوچھا انہوں نے کبھی وعدہ خلافی بھی کی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں لیکن آج کل ہمارا ان سے ایک معاہدہ ہو رہا ہے اور ہمیں ان کی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پوری گفتگو میں سوا اس کے اور کوئی ایسا موقع نہیں ملا جس میں میں کوئی ایسی بات (جھوٹی) ملا سکوں جس سے نبی اکرم ﷺ کی توہین ہو۔ اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے بھی جھٹلانے کا ڈر نہ ہو۔ اس نے پھر پوچھا کیا تم نے کبھی ان سے لڑائی کی ہے یا انہوں نے تم سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، اس نے پوچھا تمہاری لڑائی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ میں نے کہا لڑائی میں ہمیشہ کسی ایک گروہ نے فتح نہیں حاصل کی۔ کبھی وہ ہمیں مغلوب کرلیتے ہیں اور کبھی ہم انہیں، اس نے پوچھا وہ تمہیں کن کاموں کا حکم دیتے ہیں؟ کہا ہمیں وہ اس کا حکم دیتے ہیں کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں، ہمیں ان بتوں کی عبادت سے منع کرتے ہیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے، نماز، صدقہ، پاک بازی و مروت، وفاء، عہد اور امانت کے ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ جب میں اسے یہ تمام باتیں بتاچکا تو اس نے اپنے ترجمان سے کہا، ان سے کہو کہ میں نے تم سے ان کے نسب کے متعلق دریافت کیا تو تم نے بتایا کہ وہ تمہارے یہاں صاحب نسب اور شریف سمجھے جاتے ہیں اور انبیاء بھی یوں ہی اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں پیدا کئے جاتے ہیں۔ میں نے تم سے یہ پوچھا تھا کہ کیا نبوت کا دعویٰ تمہارے یہاں اس سے پہلے بھی کسی نے کیا تھا تم نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایسا دعویٰ پہلے کسی نے نہیں کیا تھا، اس سے میں یہ سمجھا کہ اگر اس سے پہلے تمہارے یہاں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہوتا تو میں یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ یہ صاحب بھی اسی دعویٰ کی نقل کر رہے ہیں جو اس سے پہلے کیا جا چکا ہے۔ میں نے تم سے دریافت کیا کہ کیا تم نے دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی ان کی طرف جھوٹ منسوب کیا تھا، تم نے بتایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اس سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص جو لوگوں کے متعلق کبھی جھوٹ نہ بول سکا ہو وہ اللہ کے متعلق جھوٹ بول دے۔ میں نے تم سے دریافت کیا کہ ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ تھا، تم نے بتایا کہ نہیں۔ میں نے اس سے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ (نبوت کا دعویٰ کر کے) وہ اپنے باپ دادا کی سلطنت حاصل کرنا چاہتے ہیں، میں نے تم سے دریافت کیا کہ ان کی اتباع قوم کے بڑے لوگ کرتے ہیں یا کمزور اور بےحیثیت لوگ، تم نے بتایا کہ کمزور غریب قسم کے لوگ ان کی تابعداری کرتے ہیں اور یہی گروہ انبیاء کی (ہر دور میں) اطاعت کرنے والا رہا ہے۔ میں نے تم سے پوچھا کہ ان تابعداروں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے یا گھٹتی بھی ہے؟ تم نے بتایا کہ وہ لوگ برابر بڑھ ہی رہے ہیں، ایمان کا بھی یہی حال ہے، یہاں تک کہ وہ مکمل ہوجائے، میں نے تم سے دریافت کیا کہ کیا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد کبھی اس سے پھر بھی گیا ہے؟ تم نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا، ایمان کا بھی یہی حال ہے جب وہ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے تو پھر کوئی چیز اس سے مومن کو ہٹا نہیں سکتی۔ میں نے تم سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے وعدہ خلافی بھی کی ہے؟ تم نے اس کا بھی جواب دیا کہ نہیں، انبیاء کی یہی شان ہے کہ وہ وعدہ خلافی کبھی نہیں کرتے۔ میں نے تم سے دریافت کیا کہ کیا تم نے کبھی ان سے یا انہوں نے تم سے جنگ بھی کی ہے؟ تم نے بتایا کہ ایسا ہوا ہے اور تمہاری لڑائیوں کا نتیجہ ہمیشہ کسی ایک ہی کے حق میں نہیں گیا۔ بلکہ کبھی تم مغلوب ہوئے ہو اور کبھی وہ۔ انبیاء کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے وہ امتحان میں ڈالے جاتے ہیں لیکن انجام انہیں کا بہتر ہوتا ہے۔ میں نے تم سے دریافت کیا کہ وہ تم کو کن کاموں کا حکم دیتے ہیں؟ تم نے بتایا کہ وہ ہمیں اس کا حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں تمہارے ان معبودوں کی عبادت سے منع کرتے ہیں جن کی تمہارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے۔ تمہیں وہ نماز، صدقہ، پاک بازی، وعدہ وفائی اور اداء امانت کا حکم دیتے ہیں، اس نے کہا کہ ایک نبی کی یہی صفت ہے میرے بھی علم میں یہ بات تھی کہ وہ نبی مبعوث ہونے والے ہیں۔ لیکن یہ خیال نہ تھا کہ تم میں سے وہ مبعوث ہوں گے، جو باتیں تم نے بتائیں اگر وہ صحیح ہیں تو وہ دن بہت قریب ہے جب وہ اس جگہ پر حکمراں ہوں گے جہاں اس وقت میرے دونوں قدم موجود ہیں، اگر مجھے ان تک پہنچ سکنے کی توقع ہوتی تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی پوری کوشش کرتا اور اگر میں ان کی خدمت میں موجود ہوتا تو ان کے پاؤں دھوتا۔حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد قیصر نے رسول اللہ ﷺ کا نامہ مبارک طلب کیا اور وہ اس کے سامنے پڑھا گیا اس میں لکھا ہوا تھا (ترجمہ)اللہ ہی کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔ یہ خط ہے(سیدنا)محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کی طرف، اس شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت قبول کرلے۔ امابعد میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کرو، تمہیں بھی سلامتی و امن حاصل ہوگی اور اسلام قبول کرو اللہ تمہیں دہرا اجر دے گا (ایک تمہارے اپنے اسلام کا اور دوسرا تمہاری قوم کے اسلام کا جو تمہاری وجہ سے اسلام میں داخل ہوگی) لیکن اگر تم نے اس دعوت سے منہ موڑ لیا تو تمہاری رعایا کا گناہ بھی تم پر ہوگا۔ اور اے اہل کتاب! ایک ایسے کلمہ پر آ کر ہم سے مل جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک ہی ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو پروردگار بنائے اب بھی اگر تم منہ موڑتے ہو تو اس کا اقرار کرلو کہ(اللہ تعالیٰ کا واقعی) فرمان بردار ہم ہی ہیں۔حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہرقل اپنی بات پوری کرچکا تو روم کے سردار اس کے اردگرد جمع تھے، سب ایک ساتھ چیخنے لگے اور شور و غل بہت بڑھ گیا۔ مجھے کچھ پتہ نہیں چلا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے تھے۔ پھر ہمیں حکم دیا گیا اور ہم وہاں سے نکال دئیے گئے۔ جب میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے چلا آیا اور ان کے ساتھ تنہائی ہوئی تو میں نے کہا کہ ابن ابی کبشہ (مراد نبی کریم ﷺ سے ہے) کا معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے، بنو الاصفر (رومیوں) کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے، حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! مجھے اسی دن سے اپنی ذلت کا یقین ہوگیا تھا اور برابر اس بات کا بھی یقین رہا کہ نبی اکرم ﷺ ضرور غالب ہوں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں بھی اسلام داخل کردیا۔ حالاں کہ (پہلے) میں اسلام کو برا جانتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَالنُّبُوَّةِ، وَأَنْ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ, حدیث نمبر ٢٩٤٠،حدیث نمبر ٢٩٤١)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا،نبی اکرم ﷺ نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا کہ اسلامی جھنڈا میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھئیے جھنڈا کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو سب سر کردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش! انہیں کو مل جائے لیکن نبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا: علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں، آخر نبی اکرم ﷺ کے حکم سے انہیں بلایا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا لعاب دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا اور فوراً ہی وہ اچھے ہوگئے۔ جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہم ان (یہودیوں سے)اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے (مسلمان) نہ ہوجائیں۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابھی ٹھہرو پہلے ان کے میدان میں اتر کر انہیں تم اسلام کی دعوت دے لو اور ان کے لیے جو چیز ضروری ہیں ان کی خبر کر دو (پھر وہ نہ مانیں تو لڑنا) اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَالنُّبُوَّةِ، وَأَنْ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٩٤٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی قوم پر چڑھائی کرتے تو اس وقت تک کوئی اقدام نہ فرماتے جب تک صبح نہ ہوجاتی، جب صبح ہوجاتی اور اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو صبح ہونے کے بعد حملہ کرتے۔ چناچہ خیبر میں بھی ہم رات میں پہنچے تھے۔ قتیبہ نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم ﷺ جب ہمارے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَالنُّبُوَّةِ، وَأَنْ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٩٤٣،و حدیث نمبر ٢٩٤٤،)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات میں خیبر تشریف لے گئے اور نبی اکرم ﷺ کی عادت تھی کہ جب کسی قوم تک رات کے وقت پہنچتے تو صبح سے پہلے ان پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنے پھاوڑے اور ٹوکرے لے کر باہر (کھیتوں میں کام کرنے کے لیے) نکلے۔ جب انہوں نے اسلامی لشکر کو دیکھا تو چیخ پڑے محمد واللہ محمد لشکر سمیت آگئے۔ پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے۔ اب خیبر تو خراب ہوگیا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں مجاہدانہ اتر آتے ہیں تو(کفر سے) ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہوجاتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَالنُّبُوَّةِ، وَأَنْ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٩٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس کا اقرار کرلیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس جس نے اقرار کرلیا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں تو اس کی جان اور مال ہم سے محفوظ ہے سوا اس حق کے جس کی بناء پر قانوناً اس کی جان و مال زد میں آئے اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ اس کی روایت عمر اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بھی نبی کریم ﷺ سے کی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَالنُّبُوَّةِ، وَأَنْ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٢٩٤٦)
باب: لڑائی کا مقام چھپانا (دوسرا مقام بیان کرنا) اور جمعرات کے دن سفر کرنا۔ حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ(جب نابینا ہوگئے تھے)کے ساتھ ان کے دوسرے صاحبزادوں میں یہی عبداللہ انہیں لے کر راستے میں ان کے آگے آگے چلتے تھے۔رسول اللہ ﷺ کا اصول یہ تھا کہ جب نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو (مصلحت کے لیے)دوسرا مقام بیان کرتے (تاکہ دشمن کو خبر نہ ہو) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا، وَمَنْ أَحَبَّ الْخُرُوجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ،حدیث نمبر ٢٩٤٧)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایسا کم اتفاق ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کسی جہاد کا قصد کریں اور وہی مقام بیان فرما کر اس کو نہ چھپائیں۔ جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک کو جانے لگے تو چوں کہ یہ غزوہ بڑی سخت گرمی میں ہونا تھا، لمبا سفر تھا اور جنگلوں کو طے کرنا تھا اور مقابلہ بھی بہت بڑی فوج سے تھا، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں سے صاف صاف فرما دیا تھا تاکہ دشمن کے مقابلہ کے لیے پوری تیاری کرلیں چناں چہ (غزوہ کے لیے)جہاں نبی اکرم ﷺ کو جانا تھا (یعنی تبوک) اس کا آپ نے صاف اعلان کردیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا، وَمَنْ أَحَبَّ الْخُرُوجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ،حدیث نمبر ٢٩٤٨)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کسی سفر میں جمعرات کے سوا اور کسی دن نکلیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا، وَمَنْ أَحَبَّ الْخُرُوجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ،حدیث نمبر ٢٩٤٩)
حضرت عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے۔ نبی اکرم ﷺ جمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا، وَمَنْ أَحَبَّ الْخُرُوجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ،حدیث نمبر ٢٩٥٠)
باب: ظہر کی نماز کے بعد سفر کرنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی پھر عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی اور میں نے سنا کہ صحابہ حج اور عمرہ دونوں کا لبیک ایک ساتھ پکار رہے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْخُرُوجِ بَعْدَ الظُّهْرِ،حدیث نمبر ٢٩٥١)
باب: مہینہ کے آخر میں سفر کے لیے نکلنا۔ اور کریب نے کہا از حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پچیس ذی القعدیٰ کو روانہ ہوئے اور چار ذی الحج کو مکہ تشریف لائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ سے(حجۃ الوداع کے لیے)رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم اس وقت نکلے جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہفتہ کے دن ہمارا مقصد حج کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔ جب ہم مکہ سے قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہوجائے تو احرام کھول دے۔ (پھر حج کے لیے بعد میں احرام باندھے)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ دسویں ذی الحجہ کو ہمارے یہاں گائے کا گوشت آیا، میں نے پوچھا کہ گوشت کیسا ہے؟ تو بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے جو گائے قربانی کی ہے یہ اسی کا گوشت ہے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے اس کے بعد اس حدیث کا ذکر قاسم بن محمد سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ قسم اللہ کی! عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے تم سے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْخُرُوجِ آخِرَ الشَّهْرِ،حدیث نمبر ٢٩٥٢)
باب: رمضان کے مہینے میں سفر کے لیے نکلنا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (فتح مکہ کے لیے مدینہ سے) رمضان میں نکلے اور روزے سے تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام کدید پر پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے افطار کیا۔ سفیان نے کہا کہ زہری نے بیان کیا، انہیں عبداللہ نے خبر دی اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے پھر یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْخُرُوجِ فِي رَمَضَانَ،حدیث نمبر ٢٩٥٣)
باب:مقیم کا مسافر کو رخصت کرنا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک فوج میں بھیجا اور ہدایت فرمائی کہ اگر فلاں فلاں دو قریشی ( ہبا بن اسود اور نافع بن عبد عمر )جن کا آپ نے نام لیا تم کو مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں نبی اکرم ﷺ سے رخصت ہونے کی اجازت کے لیے حاضر ہوئے، اس وقت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہلے ہدایت کی تھی کہ فلاں فلاں قریشی اگر تمہیں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آگ کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے سزاوار نہیں ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں مل جائیں تو انہیں قتل کر دینا ( آگ میں نہ جلانا )۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّوْدِيعِ،حدیث نمبر ٢٩٥٤)
باب: امام (بادشاہ یا حاکم) کی اطاعت کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے حوالہ سے۔ (دوسری سند)میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (خلیفہ وقت کے احکام)سننا اور انہیں بجا لانا(ہر مسلمان کے لیے)واجب ہے، جب تک کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ اسے سننا چاہیے اور نہ اس پر عمل کرنا چاہیے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلْإِمَامِ،حدیث نمبر ٢٩٥٥)
باب: امام (بادشاہ اسلام) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا (دشمن کے حملوں سے) بچاؤ کرنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ ہم لوگ گو دنیا میں سب سے پیچھے آئے لیکن (آخرت میں) جنت میں سب سے آگے ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : يُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الْإِمَامِ وَيُتَّقَى بِهِ،حدیث نمبر ٢٩٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ:(نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا)جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔ امام کی مثال ڈھال جیسی ہے کہ اس کے پیچھے رہ کر اس کی آڑ میں (یعنی اس کے ساتھ ہو کر) جنگ کی جاتی ہے۔ اور اسی کے ذریعہ (دشمن کے حملہ سے) بچا جاتا ہے، پس اگر امام تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دے اور انصاف کرے اس کا ثواب اسے ملے گا، لیکن اگر بےانصافی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : يُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الْإِمَامِ وَيُتَّقَى بِهِ،حدیث نمبر ٢٩٥٧)
باب:جنگ میں اس بات پر بیعت کرنا کہ وہ لڑائی سے نہ بھاگیں کے امیر کا ساتھ چھوڑ کر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا (سورۃ الفتح آیت ١٨) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ(صلح حدیبیہ کے بعد) جب ہم دوسرے سال پھر آئے، تو ہم میں سے (جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ سے بیعت کی تھی) دو شخص بھی اس درخت کی نشان دہی پر متفق نہیں ہو سکے۔ جس کے نیچے ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی اور یہ صرف اللہ کی رحمت تھی۔ جویریہ نے کہا، میں نے نافع سے پوچھا، نبی اکرم ﷺ نے صحابہ سے کس بات پر بیعت کی تھی، کیا موت پر لی تھی؟ فرمایا کہ نہیں، بلکہ صبر و استقامت پر بیعت لی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْبَيْعَةِ فِي الْحَرْبِ أَنْ لَا يَفِرُّوا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَلَى الْمَوْتِ،حدیث نمبر ٢٩٥٨)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حرہ کی لڑائی کے زمانہ میں ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہا کہ عبداللہ بن حنظلہ لوگوں سے (یزید کے خلاف) موت پر بیعت لے رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اب میں موت پر کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْبَيْعَةِ فِي الْحَرْبِ أَنْ لَا يَفِرُّوا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَلَى الْمَوْتِ،حدیث نمبر ٢٩٥٩)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا (حدیبیہ کے موقع پر) میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی۔ پھر ایک درخت کے سائے میں آ کر کھڑا ہوگیا۔ جب لوگوں کا ہجوم کم ہوا تو نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا، ابن الاکوع کیا بیعت نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں تو بیعت کرچکا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، دوبارہ اور بھی! چناں چہ میں نے دوبارہ بیعت کی (یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ) میں نے حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا، ابومسلم اس دن آپ حضرات نے کس بات پر بیعت کی تھی؟ کہا کہ موت پر۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْبَيْعَةِ فِي الْحَرْبِ أَنْ لَا يَفِرُّوا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَلَى الْمَوْتِ،حدیث نمبر ٢٩٦٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ انصار خندق کھودتے ہوئے (غزوہ خندق کے موقع پر)کہتے تھے نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْبَيْعَةِ فِي الْحَرْبِ أَنْ لَا يَفِرُّوا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَلَى الْمَوْتِ،حدیث نمبر ٢٩٦١)
حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ (فتح مکہ کے بعد)نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہجرت تو (مکہ کے فتح ہونے کے بعد، وہاں سے) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہوگئی۔ میں نے عرض کیا، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْبَيْعَةِ فِي الْحَرْبِ أَنْ لَا يَفِرُّوا. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَلَى الْمَوْتِ،حدیث نمبر ٢٩٦٢،و حدیث نمبر ٢٩٦٣)
باب:بادشاہ اسلام کی اطاعت واجب ہے جب تک وہ طاقت رکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس ایک شخص آیا، اور ایسی بات پوچھی کہ میری کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اس کا جواب کیا دوں۔ اس نے پوچھا، مجھے یہ مسئلہ بتائیے کہ ایک شخص بہت ہی خوش اور ہتھیار بند ہو کر ہمارے امیروں کے ساتھ جہاد کے لیے جاتا ہے۔ پھر وہ امیر ہمیں ایسی چیزوں کا مکلف قرار دیتے ہیں کہ ہم ان کی طاقت نہیں رکھتے۔ میں نے کہا، اللہ کی قسم! میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہاری بات کا جواب کیا دوں، البتہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں)تھے تو نبی اکرم ﷺ کو کسی بھی معاملہ میں صرف ایک مرتبہ حکم کی ضرورت پیش آتی تھی اور ہم فوراً ہی اسے بجا لاتے تھے، یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ تم لوگوں میں اس وقت تک خیر رہے گی جب تک تم اللہ سے ڈرتے رہو گے، اور اگر تمہارے دل میں کسی معاملہ میں شبہ پیدا ہوجائے (کہ کیا چاہیے یا نہیں) تو کسی عالم سے اس کے متعلق پوچھ لو تاکہ تشفی ہوجائے، وہ دور بھی آنے والا ہے کہ کوئی ایسا آدمی بھی(جو صحیح صحیح مسئلے بتادے) تمہیں نہیں ملے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! جتنی دنیا باقی رہ گئی ہے وہ وادی کے اس پانی کی طرح ہے جس کا صاف اور اچھا حصہ تو پیا جا چکا ہے اور گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ عَزْمِ الْإِمَامِ عَلَى النَّاسِ فِيمَا يُطِيقُونَ،حدیث نمبر ٢٩٦٤)
باب: نبی کریم ﷺ دن ہوتے ہی اگر جنگ نہ شروع کر دیتے تو سورج کے ڈھلنے تک لڑائی ملتوی رکھتے۔ عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابی النضر نے، (سالم ان کے منشی تھے)بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا اور میں نے اسے پڑھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بعض دنوں میں جن میں آپ جنگ کرتے تھے نبی اکرم ﷺ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا (پھر نبی اکرم ﷺ لڑائی شروع کرتے) ۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:اے لوگو! دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو، یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے یوں دعا کی اللهم منزل الکتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب، اهزمهم وانصرنا عليهم. اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے، بادل بھیجنے والے، احزاب(دشمن کے دستوں) کو شکست دینے والے، انہیں شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ.،حدیث نمبر ٢٩٦٥،و حدیث نمبر ٢٩٦٦)
باب: اگر کوئی جہاد میں سے لوٹنا چاہے یا جہاد میں نہ جانا چاہے تو امام سے اجازت کرنا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :ایمان والے وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر حقیقتاً ایمان رکھتے ہیں۔اور وہ جب کسی اجتماعی مہم میں رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو ان کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاتے۔(سورۃ النور ٦٢) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ (جنگ تبوک)میں شریک تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ پیچھے سے آ کر میرے پاس تشریف لائے۔ میں اپنے پانی لادنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا۔ چوں کہ وہ تھک چکا تھا، اس لیے آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ اے جابر! تمہارے اونٹ کو کیا ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ تھک گیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی اکرم ﷺ پیچھے گئے اور اسے ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی۔ پھر تو وہ برابر دوسرے اونٹوں کے آگے آگے چلتا رہا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا، اپنے اونٹ کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ اب اچھا ہے۔ آپ کی برکت سے ایسا ہوگیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پھر کیا اسے بیچو گے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں شرمندہ ہوگیا، کیوں کہ ہمارے پاس پانی لانے کو اس کے سوا اور کوئی اونٹ نہیں رہا تھا۔ مگر میں نے عرض کیا، جی ہاں! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پھر بیچ دے۔ چناں چہ میں نے وہ اونٹ نبی اکرم ﷺ کو بیچ دیا اور یہ طے پایا کہ مدینہ تک میں اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سے(آگے بڑھ کر اپنے گھر جانے کی) اجازت چاہی تو نبی اکرم ﷺ نے اجازت عنایت فرما دی۔ اس لیے میں سب سے پہلے مدینہ پہنچ آیا۔ جب ماموں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے متعلق پوچھا۔ جو معاملہ میں کرچکا تھا اس کی انہیں اطلاع دی۔ تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا۔(ایک اونٹ تھا تیرے پاس وہ بھی بیچ ڈالا اب پانی کس پر لائے گا)جب میں نے نبی کریم ﷺ سے اجازت چاہی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا تھا کہ کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا تھا بیوہ سے اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ باکرہ سے کیوں نہ کی، وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے۔(کیوں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی ابھی کنوارے تھے)میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے باپ کی وفات ہوگئی ہے یا(یہ کہا کہ)وہ(جنگ احد) میں شہید ہوچکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں۔ اس لیے مجھے اچھا نہیں معلوم ہوا کہ انہیں جیسی کسی لڑکی کو بیاہ کے لاؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے نہ ان کی نگرانی کرسکے۔ اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ انہوں نے بیان کیا، پھر جب نبی کریم ﷺ مدینہ پہنچے تو صبح کے وقت میں اسی اونٹ پر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس اونٹ کی قیمت عطا فرمائی اور پھر وہ اونٹ بھی واپس کردیا۔ مغیرہ راوی (رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا کہ ہمارے نزدیک بیع میں یہ شرط لگانا اچھا ہے کچھ برا نہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ اسْتِئْذَانِ الرَّجُلِ الْإِمَامَ ،حدیث نمبر ٢٩٦٧)
باب:نئی نئی شادی ہونے کے باوجود جو شخص جہاد کے لیے روانہ ہوا۔ اس باب حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ جس نے شب زفاف کے بعد جہاد کرنے کو اختیار کیا۔ اس باب کے ثبوت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ دہشت کے وقت امام کا سبقت کرنا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ مدینہ شریف میں دہشت تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہوئے پس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے کوئی خطرہ والی چیز نہیں دیکھی اور ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ عِنْدَ الْفَزَعِ،حدیث نمبر ٢٩٦٨)
باب:دہشت کے وقت سرعت کے ساتھ گھوڑے کو ایڑ لگانا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ دہشت زدہ ہو گئے تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے سست رفتار گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ علیہ السلام تنہا اس گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے نکلے پھر لوگ آپ علیہ السلام کے پیچھے گھوڑے کو دوڑاتے رہے تھے آپ نے تم لوگ خوف نہ کرو یہ گھوڑا تو تیز رفتاری میں سمندر ہے تب اس دن کے بعد کوئی اس گھوڑے پر سبقت نہیں کر سکا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ السُّرْعَةِ وَالرَّكْضِ فِي الْفَزَعِ،حدیث نمبر ٢٩٦٩)
باب:دہشت کے وقت تنہا نکلنا۔ کسی کو اجرت دیے کر جہاد کرانا اور اللہ کی راہ میں سواری دینا۔ اور مجاہد کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کہا:میں جہاد پر جانے کا ارادہ کر رہا ہوں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا:میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے کچھ مال سے تمہاری مدد کروں، (مجاہد کہتے ہیں میں نے کہا) اللہ نے مجھے بہت وسعت دی ہے (مال کے اعتبار سے) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا تمہاری مال وسعت تمہیں مبارک ہو میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے مال میں سے کچھ حصہ جہاد میں خرچ ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:لوگ بیت المال میں سے جہاد کرنے کے لیے وظیفہ لیتے ہیں پھر جہاد نہیں کرتے سو جس نے ایسا کیا تو ہم اس کے مال کے زیادہ مستحق ہیں حتی کہ جومال اس نے لیا وہ ہم اس سے وصول کر لیں۔ اور طاؤس اور مجاہد نے کہا:جب تم کو کچھ مال اس لیے دیا گیا کہ تم اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو! تو تم اس مال سے جو چاہو کرو اور اس مال کو اپنے گھر والوں کے پاس رکھو (یعنی ان پر خرچ کرو) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:میں نے کسی کو اللہ کی راہ میں گھوڑا دیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ گھوڑا فروخت کیا جا رہا ہے تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں اس کو خرید لوں! تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اس کو مت خریدو! اور اپنے صدقہ میں رجوع مت کرو! (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْخُرُوجِ فِي الْفَزَعِ وَحْدَهُ،حدیث نمبر ٢٩٧٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں اپنا ایک گھوڑا سواری کے لیے دے دیا تھا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا فروخت ہو رہا ہے۔تو اپنے گھوڑے کو انہوں نے خریدنا چاہا اور رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو۔ اور اس طرح اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْجَعَائِلِ وَالْحُمْلَانِ فِي السَّبِيلِ،حدیث نمبر ٢٩٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میری امت پر یہ امر مشکل نہ گزرتا تو میں کسی سریہ(یعنی مجاہدین کا ایک چھوٹا سا دستہ جس کی تعداد زیادہ سے زیادہ چالیس ہو) کی شرکت بھی نہ چھوڑتا۔ لیکن میرے پاس سواری کے اتنے اونٹ نہیں ہیں کہ میں ان کو سوار کر کے ساتھ لے چلوں اور یہ مجھ پر بہت مشکل ہے کہ میرے ساتھی مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ میری تو یہ خوشی ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور شہید کیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْجَعَائِلِ وَالْحُمْلَانِ فِي السَّبِيلِ،حدیث نمبر ٢٩٧٢)
باب:مزدور کا بیان۔ حضرت حسن علیہ الرحمہ اور ابن سیرین علیہ الرحمہ نے کہا کہ مال غنیمت سے مزدور کا حصہ نکالا جائے گا۔ اور عطیہ بن قیس نے ایک گھوڑا (مال غنیمت کے حصے کے) نصف کے شرط پر لیا۔گھوڑے کے حصے میں (فتح کے بعد مال غنیمت سے) چار سو دینار ملے عطیہ نے دو سو دینار خود رکھ لیے اور دو سو دینار گھوڑے کے مالک کو دے دیے۔ صفوان بن یعلیٰ اپنے والد سے خود روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے سواری کے لیے دیا تھا، میرے خیال میں میرا یہ عمل، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا۔ ( کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو گا ) میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ پھر وہ مزدور ایک شخص ( خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں فریادی ہوا لیکن نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْأَجِيرِ،حدیث نمبر ٢٩٧٣)
باب: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان۔ ثعلبہ بن ابی مالک قرظی نے خبر دی کہ حضرت قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ جو جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے علمبردار تھے، جب حج کا ارادہ کیا تو (احرام باندھنے سے پہلے) کنگھی کی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا قِيلَ فِي لِوَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٢٩٧٤) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا؟ چناں چہ وہ نکلے اور نبی اکرم ﷺ سے جا ملے۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا یا (نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ) کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں۔ یا نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ حالاں کہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی۔ (کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے) لوگوں نے کہا کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور نبی اکرم ﷺ نے جھنڈا انہیں کو دیا۔ اور اللہ نے انہیں کے ہاتھ پر فتح فرمائی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا قِيلَ فِي لِوَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٢٩٧٥)
حضرت نافع بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اس جگہ جھنڈا گاڑنے کا حکم دیا تھا؟ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ مَا قِيلَ فِي لِوَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٢٩٧٦)
باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ایک ماہ کی مسافت تک رعب سے میری مدد کی گئی۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا،(آل عمران ١٥١) اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرکے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :مجھے جوامع الکلم کے ساتھ بھیجا گیا ہے، اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی میں سوایا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی چابیاں میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو اپنے رب کے پاس چلے گئے اور اب تم ان خزانوں کے نکال رہے ہو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ "،حدیث نمبر ٢٩٧٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ (نبی اکرم ﷺ کا مکتوب مبارک جب شاہ روم ہرقل کو ملا تو) اس نے اپنا آدمی انہیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ لوگ اس وقت ایلیاء میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آخر ( طویل گفتگو کے بعد) اس نے نبی کریم ﷺ کا مکتوب مبارک منگوایا۔ جب وہ پڑھا جا چکا تو اس کے دربار میں ہنگامہ برپا ہوگیا (چاروں طرف سے)آواز بلند ہونے لگی۔ اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ جب ہم باہر کر دئیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ(مراد رسول اللہ ﷺ سے ہے) کا معاملہ تو اب بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ ملک بنی اصفر (قیصر روم) بھی ان سے ڈرنے لگا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ،حدیث نمبر ٢٩٧٨)
باب: سفر جہاد میں توشہ (خرچ وغیرہ) ساتھ رکھنا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :سفر میں کھانے کی چیزیں تیار رکھو اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے(البقرہ ١٩٧) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی ہجرت کا ارادہ کیا تو میں نے (والد ماجد سیدنا)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آپ کے لیے سفر کا ناشتہ تیار کیا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب آپ کے ناشتے اور پانی کو باندھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملی، تو میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بجز میرے کمر بند کے اور کوئی چیز اسے باندھنے کے لیے نہیں ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پھر اسی کے دو ٹکڑے کرلو۔ ایک سے ناشتہ باندھ دینا اور دوسرے سے پانی، چناں چہ اس نے ایسا ہی کیا، اور اسی وجہ سے میرا نام:ذات النطاقین (دو کمر بندوں والی) پڑگیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَمْلِ الزَّادِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٩٧٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں قربانی کا گوشت بطور توشہ مدینہ لے جایا کرتے تھے(یہ لے جانا بطور توشہ ہوا کرتا تھا، اس سے آپ کا مطلب ثابت ہوا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَمْلِ الزَّادِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٩٨٠)
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ گئے تھے۔ جب لشکر مقام صہباء پر پہنچا جو خیبر کا نشیبی علاقہ ہے تو لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی اور نبی کریم ﷺ نے کھانا منگوایا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی اور ہم نے وہی ستو کھایا اور پیا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور نبی اکرم ﷺ نے کلی کی۔ ہم نے بھی کلی کی اور نماز پڑھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَمْلِ الزَّادِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٩٨١)
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب لوگوں کے پاس زاد راہ ختم ہونے لگا تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لوگ اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت لینے حاضر ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے اجازت دے دی۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس اجازت کی اطلاع انہیں بھی ان لوگوں نے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سن کر کہا، ان اونٹوں کے بعد پھر تمہارے پاس باقی کیا رہ جائے گا(کیونکہ انہیں پر سوار ہو کر اتنی دور دراز کی مسافت بھی تو طے کرنی تھی) اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! لوگ اگر اپنے اونٹ بھی ذبح کردیں گے۔ تو پھر اس کے بعد ان کے پاس باقی کیا رہ جائے گا؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر لوگوں میں اعلان کر دو کہ(اونٹوں کو ذبح کرنے کے بجائے)اپنا بچا کچھا توشہ لے کر یہاں آجائیں۔ (سب لوگوں نے جو کچھ بھی ان کے پاس کھانے کی چیز باقی بچ گئی تھی، نبی اکرم ﷺ کے سامنے لا کر رکھ دی) نبی اکرم ﷺ نے دعا فرمائی اور اس میں برکت ہوئی۔ پھر سب کو ان کے برتنوں کے ساتھ آپ علیہ السلام نے بلایا۔ سب نے بھربھر کر اس میں سے لیا۔ اور جب سب لوگ فارغ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَمْلِ الزَّادِ فِي الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٢٩٨٢)
باب: توشہ اپنے کندھوں پر لاد کر خود لے جانے کا بیان ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم (ایک غزوہ پر) نکلے۔ ہماری تعداد تین سو تھی، ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آخر ہمارا توشہ جب (تقریباً ) ختم ہوگیا، تو ایک شخص کو روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملنے لگی۔ ایک شاگرد نے پوچھا، اے ابوعبداللہ! (حضرت جابر رضی اللہ عنہ )ایک کھجور سے بھلا ایک آدمی کا کیا بنتا ہوگا؟انہوں نے فرمایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب ایک کھجور بھی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس کے بعد ہم دریا پر آئے تو ایک ایسی مچھلی ملی جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا۔ اور ہم اٹھارہ دن تک خوب جی بھر کر اسی کو کھاتے رہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ حَمْلِ الزَّادِ عَلَى الرِّقَابِ،حدیث نمبر ٢٩٨٣)
باب: عورت کا اپنے بھائی کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار ہونا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ کے اصحاب حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس جا رہے ہیں اور میں صرف حج کر پائی ہوں۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پھر جاؤ (عمرہ کر آؤ)حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) تمہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیں گے۔ چناں چہ آپ علیہ السلام نے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تنعیم سے (احرام باندھ کر)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو عمرہ کرا لائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عرصہ میں مکہ کے بالائی علاقہ پر ان کا انتظار کیا۔ یہاں تک کہ وہ آگئیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ خَلْفَ أَخِيهَا،حدیث نمبر ٢٩٨٤)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو بٹھا کرلے جاؤں اور تنعیم سے (احرام باندھ کر) انہیں عمرہ کرا لاؤں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ خَلْفَ أَخِيهَا،حدیث نمبر ٢٩٨٥)
باب: جہاد اور حج کے سفر میں دو آدمیوں کا ایک سواری پر بیٹھنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ تمام صحابہ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے ایک ساتھ لبیک کہہ رہے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الِارْتِدَافِ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ،حدیث نمبر ٢٩٨٦)
باب: ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک گدھے پر اس کی پالان رکھ کر سوار ہوئے۔ جس پر ایک چادر بچھی ہوئی تھی اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الرِّدْفِ عَلَى الْحِمَارِ،حدیث نمبر ٢٩٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مکہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا دیا تھا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی جو کعبہ کے کلید بردار تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے مسجد الحرام میں اپنی سواری بٹھا دی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بیت اللہ الحرام کی کنجی لائیں۔ انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھول دیا اور رسول اللہ ﷺ اندر داخل ہوگئے۔نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔نبی اکرم ﷺ کافی دیر تک اندر ٹھہرے رہے۔ اور جب باہر تشریف لائے تو صحابہ نے(اندر جانے کے لیے)ایک دوسرے سے آگے ہونے کی کوشش کی سب سے پہلے اندر داخل ہونے والے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ مجھے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الرِّدْفِ عَلَى الْحِمَارِ،حدیث نمبر ٢٩٨٨)
باب: جو رکاب پکڑ کر کسی کو سواری پر چڑھا دے یا کچھ ایسی ہی مدد کرے اس کے ثواب بیان ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ أَخَذَ بِالرِّكَابِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٢٩٨٩)
باب:دشمن کی زمین پر قرآن کے ساتھ سفر کرنا مکروہ ہے۔ اور اسی طرح محمد بن بشر سے روایت کیا گیا ہے از عبید اللہ از نافع از ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ محمد بن بشر کی ابن اسحاق نے متابعت کی ہے از نافع از ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما از نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ اور تحقیق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے دشمن کے علاقے میں سفر کیا اور وہ قرآن کو جاننے والے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید کے ساتھ سفر کرنے سے منع کیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ السَّفَرِ بِالْمَصَاحِفِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ.،حدیث نمبر ٢٩٩٠)
باب: جنگ کے وقت نعرہ تکبیر بلند کرنے کا بیان۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ خیبر میں داخل تھے۔ اتنے میں وہاں کے رہنے والے(یہودی)پھاوڑے اپنی گردنوں پر لیے ہوئے نکلے۔ جب نبی کریم ﷺ کو(مع آپ کے لشکر کے)دیکھا تو چلا اٹھے کہ یہ محمد لشکر کے ساتھ (آگئے)محمد لشکر کے ساتھ، محمد لشکر کے ساتھ! ( ﷺ ) چناں چہ وہ سب بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزیں ہوگئے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور نعرہ تکبیر بلند فرمایا، ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ خیبر تو تباہ ہوچکا۔ کہ جب کسی قوم کے آنگن میں ہم اتر آتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کو گدھے مل گئے، اور ہم نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کردیا کہ نبی کریم ﷺ کے منادی نے یہ پکارا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں۔ چناں چہ ہانڈیوں میں جو کچھ تھا سب الٹ دیا گیا۔ اس روایت کی متابعت علی نے سفیان سے کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّكْبِيرِ عِنْدَ الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٢٩٩١)
باب: بہت چلا کر تکبیر کہنا منع ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم کسی وادی میں اترتے تو لا إله إلا الله اور الله اکبر کہتے اور ہماری آواز بلند ہوجاتی اس لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ، کیوں کہ تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ہو۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے۔ بیشک وہ سننے والا اور تم سے بہت قریب ہے۔ برکتوں والا ہے۔ اس کا نام اور اس کی عظمت بہت ہی بڑی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ رَفْعِ الصَّوْتِ فِي التَّكْبِيرِ،حدیث نمبر ٢٩٩٢)
باب: کسی نشیب کی جگہ میں اترتے وقت سبحان اللہ کہنا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو الله اکبر کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے تو سبحان الله کہتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّسْبِيحِ إِذَا هَبَطَ وَادِيًا،حدیث نمبر ٢٩٩٣)
باب: جب بلندی پر چڑھے تو اللہ اکبر کہنا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو الله اکبر کہتے اور گڑھے میں اترتے تو سبحان الله کہتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّكْبِيرِ إِذَا عَلَا شَرَفًا،حدیث نمبر ٢٩٩٤)
باب: جب بلندی پر چڑھے تو اللہ اکبر کہنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ حج یا عمرہ سے واپس ہوتے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یوں کہا جب نبی اکرم ﷺ جہاد سے لوٹتے، تو جب بھی آپ کسی بلندی پر چڑھتے یا (نشیب سے)کنکریلے میدان میں آتے تو تین مرتبہ الله اکبر کہتے۔ پھر فرماتے لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملک، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده. اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ ملک اس کا ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔ ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے۔ اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے اور اس کی حمد پڑھتے ہوئے، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا(کفار کی)تمام جماعتوں کو شکست دے دی۔صالح نے کہا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے لفظ آيبون کے بعد إن شاء الله نہیں کہا تھا تو انہوں نے بتایا کہ نہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّكْبِيرِ إِذَا عَلَا شَرَفًا،حدیث نمبر ٢٩٩٥)
باب: مسافر کو اس عبادت کا جو وہ گھر میں رہ کر کیا کرتا تھا ثواب ملنا (گو وہ سفر میں نہ کر سکے)۔ ابراہیم ابواسماعیل سکسکی نے بیان نے کہا کہ میں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے سنا، وہ اور یزید بن ابی کبشہ ایک سفر میں ساتھ تھے اور یزید سفر کی حالت میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے۔ ابوبردہ نے کہا کہ میں نے (اپنے والد) حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بارہا سنا۔ و وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : يُكْتَبُ لِلْمُسَافِرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي الْإِقَامَةِ،حدیث نمبر ٢٩٩٦)
باب: اکیلے سفر کرنا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے (ایک کام کے لیے)غزوہ خندق کے موقع پر صحابہ کو پکارا، تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو پکارا، اور اس مرتبہ بھی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے کو پیش کیا،نبی اکرم ﷺ نے پھر پکارا اور پھر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا، رسول اللہ ﷺ نے آخر فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ سفیان نے کہا کہ حواری کے معنی معاون، مددگار کے ہیں(یا وفادار محرم راز کو حواری کہا گیا ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ السَّيْرِ وَحْدَهُ،حدیث نمبر ٢٩٩٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جتنا میں جانتا ہوں، اگر لوگوں کو بھی اکیلے سفر (کی برائیوں) کے متعلق اتنا علم ہوتا تو کوئی سوار رات میں اکیلا سفر نہ کرتا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ السَّيْرِ وَحْدَهُ،حدیث نمبر ٢٩٩٨)
باب:وطن کی طرف واپسی میں تیزی سے چلنا۔ ابو حمید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں مدینہ کی طرف جلدی جا رہا ہوں سو جو جلدی جانے کا ارادہ کرے وہ میرے ساتھ چلے۔ ہشام نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے حجۃ الوداع کے سفر کی رفتار کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کس کس چال پر چلتے، یحییٰ نے کہا عروہ نے یہ بھی کہا تھا(کہ میں سن رہا تھا) لیکن میں اس کا کہنا بھول گیا۔ غرض حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی اکرم ﷺ ذرا تیز چلتے جب فراخ جگہ پاتے تو سواری کو دوڑا دیتے۔ نص اونٹ کی چال جو عنق. سے تیز ہوتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ السُّرْعَةِ فِي السَّيْرِ،حدیث نمبر ٢٩٩٩)
زید بن اسلم سے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا، اتنے میں ان کو صفیہ بنت ابی عبید رضی تعالیٰ عنہما (ان کی بیوی) کے متعلق سخت بیماری کی خبر ملی۔ چناں چہ آپ نے تیز چلنا شروع کردیا اور جب(سورج غروب ہونے کے بعد)شفق ڈوب گئی تو آپ سواری سے اترے اور مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھی، پھر کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ سفر کرنا چاہتے تو مغرب میں تاخیر کر کے دونوں نمازیں(مغرب اور عشاء)ایک ساتھ ادا فرماتے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ السُّرْعَةِ فِي السَّيْرِ،حدیث نمبر ٣٠٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سفر کیا ہے گویا عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کی نیند، کھانے پینے سب میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ اس لیے جب مسافر اپنا کام پورا کرلے تو اسے جلدی گھر واپس آجانا چاہیے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ السُّرْعَةِ فِي السَّيْرِ،حدیث نمبر ٣٠٠١)
زید بن اسلم نے بیان کیا کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے لیے دیا، اور جسے دیا تھا وہ اسے بیچنے لگا۔ یا (آپ نے یہ فرمایا تھا کہ)اس نے اسے بالکل کمزور کردیا تھا۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں اسے واپس خرید لوں، مجھے یہ خیال تھا کہ وہ شخص سستے داموں پر اسے بیچ دے گا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم ﷺ سے جب پوچھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ گھوڑا تمہیں ایک درہم میں مل جائے پھر بھی اسے نہ خریدنا۔ کیوں کہ اپنے ہی صدقہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو خود ہی چاٹتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : إِذَا حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فَرَآهَا تُبَاعُ،حدیث نمبر ٣٠٠٣)
باب: ماں باپ کی اجازت لے کر جہاد میں جانا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے تھے کہ ایک صحابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرم ﷺ سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر انہیں میں جہاد کرو۔(یعنی ان کی خدمت کرکے ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو)۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ الْجِهَادِ بِإِذْنِ الْأَبَوَيْنِ،حدیث نمبر ٣٠٠٤)
باب: اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے؟ عباد بن تمیم نے بیان کیا کہ انہیں حضرت ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ عبداللہ (عبداللہ بن ابی بکر بن حزم راوی حدیث)نے کہا کہ میرا خیال ہے حضرت ابو بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ایک قاصد (حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ )یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس شخص کے اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا ہو یا یوں فرمایا کہ گنڈا (ہار)ہو وہ اسے کاٹ ڈالے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ مَا قِيلَ فِي الْجَرَسِ وَنَحْوِهِ فِي أَعْنَاقِ الْإِبِلِ،حدیث نمبر ٣٠٠٥)
باب: ایک شخص اپنا نام مجاہدین میں لکھوا دے پھر اس کی عورت حج کو جانے لگے یا اور کوئی عذر پیش آئے تو اس کو اجازت دی جا سکتی ہے(کہ جہاد میں نہ جائے)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ‘نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی(غیر محرم)عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور کوئی عورت اس وقت تک سفر نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی اس کا محرم نہ ہو۔ اتنے میں ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا ‘ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں نے فلاں جہاد میں اپنا نام لکھوا دیا ہے اور ادھر میری بیوی حج کے لیے جا رہی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تو بھی جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ مَنِ اكْتُتِبَ فِي جَيْشٍ فَخَرَجَتِ امْرَأَتُهُ حَاجَّةً، وَكَانَ لَهُ عُذْرٌ، هَلْ يُؤْذَنُ لَهُ ؟حدیث نمبر ٣٠٠٦)
باب:جاسوس کا بیان۔ قرآن مجید میں ہے:اے ایمان والو! میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ! (الممتحنہ ١) التجسس کا معنی التبحث یعنی تفتیش کرنا اور کھوج لگانا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے،اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر بھیجا اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم لوگ روضہ خاخ (جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے)پر پہنچ جاؤ تو وہاں ایک بڑھیا عورت تمہیں اونٹ پر سوار ملے گی اور اس کے پاس ایک خط ہوگا ‘ تم لوگ اس سے وہ خط لے لینا۔ ہم روانہ ہوئے اور ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ آخر ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے اور وہاں واقعی ایک بوڑھی عورت موجود تھی جو اونٹ پر سوار تھی۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ لیکن جب ہم نے اسے دھمکی دی کہ اگر تو نے خط نہ نکالا تو تمہارے کپڑے ہم خود اتار دیں گے۔ اس پر اس نے اپنی گندھی ہوئی چوٹی کے اندر سے خط نکال کردیا ‘ اور ہم اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ‘ اس کا مضمون یہ تھا ‘ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے چند آدمیوں کی طرف ‘ اس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعض بھیدوں کی خبر دی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا واقعہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے بارے میں عجلت سے کام نہ لیجئے۔ میری حیثیت(مکہ میں)یہ تھی کہ قریش کے ساتھ میں نے رہنا سہنا اختیار کرلیا تھا ‘ ان سے رشتہ ناتہ میرا کچھ بھی نہ تھا۔ آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین ہیں ان کی تو مکہ میں سب کی رشتہ داری ہے اور مکہ والے اسی وجہ سے ان کے عزیزوں کی اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کریں گے مگر مکہ والوں کے ساتھ میرا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے ‘ اس لیے میں نے سوچا کہ ان پر کوئی احسان کر دوں جس سے اثر لے کر وہ میرے بھی عزیزوں کی مکہ میں حفاظت کریں۔ میں نے یہ کام کفر یا ارتداد کی وجہ سے ہرگز نہیں کیا ہے اور نہ اسلام کے بعد کفر سے خوش ہو کر۔ رسول اللہ ﷺ نے سن کر فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اجازت دیجئیے میں اس منافق کا سر اڑا دوں ‘نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:نہیں ‘ یہ بدر کی لڑائی میں( مسلمانوں کے ساتھ مل کر) لڑے ہیں اور تمہیں معلوم نہیں‘ اللہ تعالیٰ مجاہدین بدر کے احوال(موت تک کے) پہلے ہی سے جانتا تھا ‘ اور وہ خود ہی فرما چکا ہے کہ تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کرچکا ہوں۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ حدیث کی یہ سند بھی کتنی عمدہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ الْجَاسُوسِ،حدیث نمبر ٣٠٠٧)
باب: قیدیوں کو کپڑے پہنانا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی سے قیدی (مشرکین مکہ) لائے گئے۔ جن میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کے بدن پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے قمیص تلاش کروائی۔ (وہ لمبے قد کے تھے) اس لیے عبداللہ بن ابی (منافق) کی قمیص ہی ان کے بدن پر آسکی اور نبی کریم ﷺ نے انہیں وہ قمیص پہنا دی۔ نبی کریم ﷺ نے (عبداللہ بن ابی کی موت کے بعد)اپنی قمیص اتار کر اسے پہنائی تھی۔ ابن عیینہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ پر جو اس کا احسان تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے چاہا کہ اسے ادا کردیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ الْكِسْوَةِ لِلْأُسَارَى،حدیث نمبر ٣٠٠٨)
باب: جس شخص کے ہاتھ پر کوئی مرد مسلمان ہوا ہو اس کی فضیلت ۔ حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا:کل میں ایسے شخص کے ہاتھ میں اسلامی جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اسلامی فتح حاصل ہوگی ‘(وہ شخص ایسا ہے کہ) جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول بھی محبت رکھتے ہیں۔ رات بھر سارے صحابہ کرام کے ذہن میں یہی خیال رہا کہ دیکھئیے کہ کسے جھنڈا ملتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو ہر شخص امیدوار تھا ‘(کاش مجھے جھنڈا مل جائے) لیکن نبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا:علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہوگیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے (انکو بلایا اور )اپنا مبارک لعاب پاک ان کی آنکھوں میں لگا دیا۔(جس کی برکت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو) صحت ہوگئی یہاں تک کہ کسی قسم کی بھی تکلیف باقی نہ رہی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں کو جھنڈا عطا فرمایا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک نہ لڑوں جب تک یہ ہمارے ہی جیسے یعنی مسلمان نہ ہوجائیں۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ یوں ہی چلاجا۔ جب ان کی سرحد میں اترے تو انہیں اسلام کی دعوت دینا اور انہیں بتانا کہ (اسلام کے ناطے) ان پر کون کون سے کام ضروری ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی مسلمان کر دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ،حدیث نمبر ٣٠٠٩)
باب: قیدیوں کو زنجیروں میں باندھنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس قوم پر تعجب فرمائے گا‘جو جنت میں بیڑیوں سمیت داخل ہوں گے(یعنی مسلمانوں نے کافروں کو پکڑ کر بیڑیوں میں قید کردیا پھر وہ مسلمان ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر تعجب کرے گا کہ یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے پابہ زنجیر ہوئے اور اسلام لا کر جنت میں داخل ہوگئے۔ ) (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْأُسَارَى فِي السَّلَاسِلِ،حدیث نمبر ٣٠١٠)
باب: یہود یا نصاریٰ مسلمان ہو جائیں تو ان کے ثواب کا بیان۔ شعبی بیان کرتے تھے کہ مجھ سے حضرت ابوبردہ نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تین طرح کے آدمی ایسے ہیں جنہیں دوگنا ثواب ملتا ہے۔ اول وہ شخص جس کی لونڈی ہو ‘ وہ اسے تعلیم دے اور تعلیم دینے میں اچھا طریقہ اختیار کرے ‘ اسے ادب سکھائے اور اس میں اچھے طریقے سے کام لے ‘ پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔ دوسرا وہ مومن جو اہل کتاب میں سے ہو کہ پہلے (اپنے نبی پر ایمان لایا تھا) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دہرا اجر ملے گا ‘ تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی بھی ادائیگی کرتا ہے اور اپنے آقا کے ساتھ بھی بھلائی کرتا ہے۔ اس کے بعد شعبی (راوی حدیث) نے کہا کہ میں نے تمہیں یہ حدیث بلا کسی محنت و مشقت کے دے دی ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب اس سے بھی کم حدیث کے لیے مدینہ منورہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ،حدیث نمبر ٣٠١١)
باب: اگر (لڑنے والے) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں اور بغیر ارادہ کے عورتیں، بچے بھی زخمی ہو جائیں تو پھر اس کا کیا حکم ہے؟ بیاتاً(الأعراف ٤)یعنی رات میں، لیبیتنۃ، (النمل ٤٩)یعنی چھاپا ماریں گے، لیلاً، یعنی رات میں، یبیت، یعنی گھر میں، لیلاً، یعنی رات میں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ ان سے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مقام ابواء یا مقام ودان میں میرے پاس سے گزرے تو نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ مشرکین کے جس قبیلے پر شب خون مارا جائے گا کیا ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرنا درست ہوگا؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے اللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کسی کی چراگاہ نہیں ہے۔ (سابقہ سند کے ساتھ) روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ ان سے حضرت صعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘اور صرف ذراري(بچوں) کا ذکر کیا ‘ سفیان نے کہا کہ عمرو ہم سے حدیث بیان کرتے تھے۔ ان سے ابن شہاب ‘ نبی کریم ﷺ سے، (سفیان نے) بیان کیا کہ پھر ہم نے حدیث خود زہری(ابن شہاب) سے سنی۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ نے خبر دی، انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اور انہیں حضرت صعب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا (مشرکین کی عورتوں اور بچوں کے متعلق کہ) وہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ (زہری کے واسطہ سے)جس طرح عمرو نے بیان کیا تھا کہ هم من آبائهم وہ بھی انہیں کے باپ دادوں کی نسل ہیں۔ زہری نے خود ہم سے ان الفاظ کے ساتھ بیان نہیں کیا یعنی هم من آبائهم نہیں کہا بلکہ هم منهم کہا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ الْوِلْدَانُ وَالذَّرَارِيُّ, حدیث نمبر ٣٠١٢،و حدیث نمبر ٣٠١٣)
باب: جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غزوہ (غزوہ فتح)میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر انکار کا اظہار فرمایا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ قَتْلِ الصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣٠١٤)
باب: جنگ میں عورتوں کا قتل کرنا کیسا ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کسی غزوے میں مقتول پائی گئی تو نبی کریم ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا (تو انہوں نے اس کا اقرار کیا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ قَتْلِ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣٠١٥)
باب: اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ دیا جائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور یہ ہدایت فرمائی کہ اگر تمہیں فلاں اور فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا ‘ پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ ایک ایسی چیز ہے جس کی سزا صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں ملیں تو انہیں قتل کرنا(آگ میں نہ جلانا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : لَا يُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٣٠١٦)
عکرمہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو(جو عبداللہ بن سبا کی متبع تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا رب کہتی تھی)جلا دیا تھا۔ جب یہ خبر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کو ملی تو آپ نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو کبھی انہیں نہ جلاتا کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب(آگ)کی سزا کسی کو نہ دو ‘ البتہ میں انہیں قتل ضرور کرتا کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کر دے اسے قتل کر دو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : لَا يُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ،حدیث نمبر ٣٠١٧)
باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :پس یا تو ان پر احسان کرکے چھوڑ دو اور یا فدیہ لے کر چھوڑ دو (سورہ محمد ٤) اس میں ثمامہ کی حدیث ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ اس کے قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ (کافروں کا) زمین میں اچھی طرح خون بہا دے (یہاں تک کہ نبی زمین پر غالب ہو جائے) تم اپنے لیے دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ تمہارے لیے آخرت کا ارادہ کرتا ہے، اور اللہ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔(الأنفال ٦٧) باب:مسلمان قیدی کے لیے جائز ہے کہ وہ قتل کرکے یا قید کرنے والوں کو دھوکا دے کر اپنے آپ کو کافروں کی قید سے چھڑالے۔ اس باب میں حضرت مسور رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ باب:اگر کوئی مشرک مسلمان کو جلا دے تو کیا جواب میں اس مشرک کو جلا دینا جائز ہے؟ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمیوں کی جماعت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (اسلام قبول کرنے کو)حاضر ہوئی لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی‘ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے(اونٹ کے) دودھ کا انتظام کر دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے دودھ نہیں دے سکتا ‘ تم(صدقہ کے) اونٹوں میں چلے جاؤ۔ ان کا دودھ اور پیشاب پیو ‘ تاکہ تمہاری صحت ٹھیک ہوجائے۔ وہ لوگ وہاں سے چلے گئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پی کر تندرست ہوگئے تو چرواہے کو قتل کردیا ‘ اور اونٹوں کو اپنے ساتھ لے کر بھاگ نکلے اور اسلام لانے کے بعد کفر کیا ‘ ایک شخص نے اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو دی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی تلاش کے لیے سوار دوڑائے ‘ دوپہر سے پہلے ہی وہ پکڑ کر لائے گئے۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے۔ پھر آپ علیہ السلام کے حکم سے ان کی آنکھوں میں سلائی گرم کر کے پھیر دی گئی اور انہیں حرہ (مدینہ کی پتھریلی زمین) میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ سب مرگئے۔(ایسا ہی انہوں نے اونٹوں کے چرانے والوں کے ساتھ کیا تھا ‘ جس کا بدلہ انہیں دیا گیا) ابوقلابہ نے کہا کہ انہوں نے قتل کیا تھا ‘ چوری کی تھی ‘ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کی تھی اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : { فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً }حدیث نمبر ٣٠١٨)
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے کہ ایک چیونٹی نے ایک نبی (عزیر علیہ السلام یا موسیٰ علیہ السلام) کو کاٹ لیا تھا۔ تو ان کے حکم سے چیونٹیوں کے سارے گھر جلا دئیے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ اگر تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو تم نے ایک ایسی خلقت کو جلا کر خاک کردیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : إِذَا حَرَّقَ الْمُشْرِكُ الْمُسْلِمَ، هَلْ يُحَرَّقُ ؟حدیث نمبر ٣٠١٩)
باب: (حربی کافروں کے) گھروں اور باغوں کو جلانا کے بیان۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ذوالخلصہ کو (برباد کر کے) مجھے راحت کیوں نہیں دے دیتے۔ یہ ذوالخلصہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا اور اسے كعبة اليمانية کہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں قبیلہ احمس کے ایک سو پچاس سواروں کو لے کر چلا۔ یہ سب حضرات بڑے اچھے گھوڑ سوار تھے۔ لیکن میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے میرے سینے پر(اپنے ہاتھ سے) مارا ‘ میں نے انگشت ہائے مبارک کا نشان اپنے سینے پر دیکھا۔ فرمایا: اے اللہ! گھوڑے کی پشت پر اسے ثبات عطا فرما ‘ اور اسے دوسروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا اور خود ہدایت یافتہ بنا ‘ اس کے بعد حضرت جریر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ‘ اور ذوالخلصہ کی عمارت کو گرا کر اس میں آگ لگا دی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر بھجوائی۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد(ابو ارطاۃ حصین بن ربیعہ)نے خدمت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا ‘ جب تک ہم نے ذوالخلصہ کو ایک خالی پیٹ والے اونٹ کی طرح نہیں بنادیا ‘ یا (انہوں نے کہا) خارش والے اونٹ کی طرح (مراد ویرانی سے ہے)حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے قبیلہ احمس کے سواروں اور قبیلوں کے تمام لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکتوں کی دعا فرمائی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ حَرْقِ الدُّورِ وَالنَّخِيلِ،حدیث نمبر ٣٠٢٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (یہود) بنو نضیر کے کھجور کے باغات جلوا دیئے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ حَرْقِ الدُّورِ وَالنَّخِيلِ،حدیث نمبر ٣٠٢١)
باب: (حربی) مشرک سو رہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے کیسا ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع (یہودی) کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ‘ ان میں سے ایک صاحب (حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ) آگے چل کر اس قلعہ کے اندر داخل ہوگئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اندر جانے کے بعد میں اس مکان میں گھس گیا ‘ جہاں ان کے جانور بندھا کرتے تھے۔ بیان کیا کہ انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا ‘ لیکن اتفاق کہ ان کا ایک گدھا ان کے مویشیوں میں سے گم تھا۔ اس لیے اسے تلاش کرنے کے لیے باہر نکلے۔(اس خیال سے کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں) نکلنے والوں کے ساتھ میں بھی باہر آگیا ‘ تاکہ ان پر یہ ظاہر کر دوں کہ میں بھی تلاش کرنے والوں میں سے ہوں ‘ آخر گدھا انہیں مل گیا ‘ اور وہ پھر اندر آگئے۔ میں بھی ان کے ساتھ اندر آگیا اور انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا ‘ رات کا وقت تھا ‘ کنجیوں کا گچھا انہوں نے ایک ایسے طاق میں رکھا ‘ جسے میں نے دیکھ لیا تھا۔ جب وہ سب سو گئے تو میں نے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دروازہ کھول کر ابورافع کے پاس پہنچا۔ میں نے اسے آواز دی ‘ ابورافع! اس نے جواب دیا اور میں فوراً اس کی آواز کی طرف بڑھا اور اس پر وار کر بیٹھا۔ وہ چیخنے لگا تو میں باہر چلا آیا۔ اس کے پاس سے واپس آ کر میں پھر اس کے کمرہ میں داخل ہوا ‘ گویا میں اس کی مدد کو پہنچا تھا۔ میں نے پھر آواز دی ابورافع! اس مرتبہ میں نے اپنی آواز بدل لی تھی، اس نے کہا کہ کیا کر رہا ہے، تیری ماں برباد ہو۔ میں نے پوچھا، کیا بات پیش آئی؟ وہ کہنے لگا ‘ نہ معلوم کون شخص میرے کمرے میں آگیا ‘ اور مجھ پر حملہ کر بیٹھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اب کی بار میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنی زور سے دبائی کہ اس کی ہڈیوں میں اتر گئی ‘ جب میں اس کے کمرہ سے نکلا تو بہت دہشت میں تھا۔ پھر قلعہ کی ایک سیڑھی پر میں آیا تاکہ اس سے نیچے اتر جاؤں مگر میں اس پر سے گرگیا ‘ اور میرے پاؤں میں موچ آگئی ‘ پھر جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ میں تو اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کی موت کا اعلان خود نہ سن لوں۔ چناں چہ میں وہیں ٹھہر گیا۔ اور میں نے رونے والی عورتوں سے ابورافع حجاز کے سوداگر کی موت کا اعلان بلند آواز سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں وہاں سے اٹھا ‘ اور مجھے اس وقت کچھ بھی درد معلوم نہیں ہوا ‘ پھر ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو اس کی بشارت دی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ قَتْلِ النَّائِمِ الْمُشْرِكِ،حدیث نمبر ٣٠٢٢)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع کے پاس (اسے قتل کرنے کے لیے)بھیجا تھا۔ چناں چہ رات میں حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ اس کے قلعہ میں داخل ہوئے اور اسے سوتے ہوئے قتل کیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ قَتْلِ النَّائِمِ الْمُشْرِكِ،حدیث نمبر ٣٠٢٣)
باب: دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزو نہ کرنا۔ عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ سالم نے بیان کیا کہ جب وہ خوارج سے لڑنے کے لیے روانہ ہوئے تو انہیں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کا خط ملا۔ میں نے اسے پڑھا تو اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑائی کے موقع پر انتظار کیا ‘ پھر جب سورج ڈھل گیا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو! دشمن سے لڑائی بھڑائی کی تمنا نہ کرو ‘ بلکہ اللہ سے سلامتی مانگو۔ ہاں! جب جنگ چھڑ جائے تو پھر صبر کئے رہو اور ڈٹ کر مقابلہ کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی اللهم منزل الکتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم اے اللہ! کتاب (قرآن) کے نازل فرمانے والے ‘ اے بادلوں کے چلانے والے! اے احزاب (یعنی کافروں کی جماعتوں کو غزوہ خندق کے موقع پر) شکست دینے والے! ہمارے دشمن کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ ان کے پاس حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا دشمن سے لڑائی لڑنے کی تمنا نہ کرو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ،حدیث نمبر ٣٠٢٤،و حدیث نمبر ٣٠٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دشمن سے لڑنے بھڑنے کی تمنا نہ کرو ‘ ہاں! اگر جنگ شروع ہوجائے تو پھر صبر سے کام لو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ،حدیث نمبر ٣٠٢٦)
باب: لڑائی مکر و فریب کا نام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کسریٰ(ایران کا بادشاہ)برباد و ہلاک ہوگیا ‘ اب اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں آئے گا۔ اور قیصر (روم کا بادشاہ)بھی ہلاک و برباد ہوگیا ‘ اور اس کے بعد (شام میں) کوئی قیصر باقی نہیں رہ جائے گا۔ اور ان کے خزانے اللہ کے راستے میں تقسیم ہوں گے اور نبی اکرم ﷺ نے لڑائی کو مکر اور فریب فرمایا۔ اور نبی اکرم ﷺ نے لڑائی کو مکر اور فریب فرمایا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْحَرْبُ خَدْعَةٌ،حدیث نمبر ٣٠٢٧، و حدیث نمبر ٣٠٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لڑائی کیا ہے؟ ایک چال ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْحَرْبُ خَدْعَةٌ،حدیث نمبر ٣٠٢٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا:جنگ تو ایک چالبازی کا نام ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : الْحَرْبُ خَدْعَةٌ،حدیث نمبر ٣٠٣٠)
باب: جنگ میں جھوٹ بولنا (مصلحت کے لیے)درست ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہت اذیتیں پہنچا چکا ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے اجازت بخش دیں گے کہ میں اسے قتل کر آؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں! راوی نے بیان کیا کہ پھر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف یہودی کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں تھکا دیا ‘ اور ہم سے آپ زکوٰۃ مانگتے ہیں۔ کعب نے کہا کہ قسم اللہ کی! ابھی کیا ہے ابھی اور مصیبت میں پڑو گے۔حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس پر کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ ہم نے ان کی پیروی کرلی ہے۔ اس لیے اس وقت تک اس کا ساتھ چھوڑنا ہم مناسب بھی نہیں سمجھتے جب تک ان کی دعوت کا کوئی انجام ہمارے سامنے نہ آجائے۔ غرض حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے اسی طرح باتیں کرتے رہے۔ آخر موقع پا کر اسے قتل کردیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ الْكَذِبِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣٠٣١)
باب: جنگ میں حربی کافر کو اچانک دھوکے سے مار ڈالنا۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف کے لیے کون ہمت کرتا ہے؟ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیا میں اسے قتل کر دوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:ہاں! انہوں نے عرض کیا کہ پھر آپ مجھے اجازت دیں (کہ میں جو چاہوں جھوٹ سچ کہوں)نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری طرف سے اس کی اجازت ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ الْفَتْكِ بِأَهْلِ الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣٠٣٢)
باب: اگر کسی سے فساد یا شرارت کا اندیشہ ہو تو اس سے مکر و فریب کر سکتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابن صیاد (یہودی بچے)کی طرف جا رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی تھے(ابن صیاد کے عجیب و غریب احوال کے متعلق نبی اکرم ﷺ خود تحقیق کرنا چاہتے تھے) نبی کریم ﷺ کو اطلاع دی گئی تھی کہ ابن صیاد اس وقت کھجوروں کی آڑ میں موجود ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ وہاں پہنچے تو شاخوں کی آڑ میں چلنے لگے۔ (تاکہ وہ آپ علیہ السلام کو دیکھ نہ سکے)ابن صیاد اس وقت ایک چادر اوڑھے ہوئے چپکے چپکے کچھ گنگنا رہا تھا ‘ اس کی ماں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھ لیا اور پکار اٹھی کہ اے ابن صیاد! یہ محمد ( ﷺ ) آپہنچے ‘ وہ چونک اٹھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ اس کی خبر نہ کرتی تو وہ کھولتا (یعنی اس کی باتوں سے اس کا حال کھل جاتا) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الِاحْتِيَالِ وَالْحَذَرِ مَعَ مَنْ يَخْشَى مَعَرَّتَهُ،حدیث نمبر ٣٠٣٣)
باب: جنگ میں شعر پڑھنا اور کھائی کھودتے وقت آواز بلند کرنا۔ اس باب میں حضرت سہل رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت موجود ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں (خندق کھودتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے چھپ گئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے (جسم مبارک پر) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کرسکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر (دشمنوں سے مڈبھیڑ ہوجائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو فتنہ فساد میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔آپ یہ شعر بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ الرَّجَزِ فِي الْحَرْبِ، وَرَفْعِ الصَّوْتِ فِي حَفْرِ الْخَنْدَقِ،حدیث نمبر ٣٠٣٤)
باب: جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو (اس کے لیے دعا کرنا)۔ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں اسلام لایا رسول اللہ ﷺ نے (پردہ کے ساتھ)مجھے (اپنے گھر میں داخل ہونے سے)کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ مجھ کو دیکھتے ‘ خوشی سے آپ مسکرانے لگتے۔ ایک دفعہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ میں گھوڑے کی پیٹھ پر اچھی طرح نہیں جم پاتا ہوں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک مارا ‘ اور دعا کی اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور دوسروں کو سیدھا راستہ بتانے والا بنا دے اور خود اسے بھی سیدھے راستے پر قائم رکھ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ مَنْ لَا يَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ،حدیث نمبر ٣٠٣٥،و حدیث نمبر ٣٠٣٦)
باب: بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا۔ ابوحازم نے بیان کیا کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے شاگردوں نے پوچھا کہ(جنگ احد میں) نبی کریم ﷺ کے زخموں کا علاج کس دوا سے کیا گیا تھا؟ تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ اب صحابہ میں کوئی شخص بھی ایسا زندہ موجود نہیں ہے جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی بھربھر کر لا رہے تھے اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے چہرے سے خون کو دھو رہی تھیں۔ اور ایک بوریا جلایا گیا تھا اور آپ کے زخموں میں اسی کی راکھ کو بھر دیا گیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ دَوَاءِ الْجُرْحِ بِإِحْرَاقِ الْحَصِيرِ. وَغَسْلِ الْمَرْأَةِ عَنْ أَبِيهَا الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ. وَحَمْلِ الْمَاءِ فِي التُّرْسِ،حدیث نمبر ٣٠٣٧)
باب: جنگ میں جھگڑا اور اختلاف کرنا مکروہ ہے اور جو سردار لشکر کی نافرمانی کرے، اس کی سزا کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی(انفال ٤٦) اور قتادہ نے کہا:"الریح" کا منعی حرب ہے۔ سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ان کے دادا حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یمن کہ طرف بھیجا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس موقع پر یہ ہدایت فرمائی تھی کہ (لوگوں کے لیے) آسانی پیدا کرنا ‘ انہیں سختیوں میں مبتلا نہ کرنا ‘ ان کو خوش رکھنا ‘ نفرت نہ دلانا ‘ اور تم دونوں آپس میں اتفاق رکھنا،اختلاف نہ پیدا کرنا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّنَازُعِ وَالِاخْتِلَافِ فِي الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣٠٣٨)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد کے موقع پر (تیر اندازوں کے) پچاس آدمیوں کا افسر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں تاکید کردی تھی کہ اگر تم یہ بھی دیکھ لو کہ پرندے ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ پھر بھی اپنی جگہ سے مت ہٹنا ‘ جب تک میں تم لوگوں کو کہلا نہ بھیجوں۔ اسی طرح اگر تم یہ دیکھو کہ کفار کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں پامال کردیا ہے پھر بھی یہاں سے نہ ٹلنا ‘ جب میں تمہیں خود بلا نہ بھیجوں۔ پھر اسلامی لشکر نے کفار کو شکست دے دی۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ اللہ کی قسم! میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ تیزی کے ساتھ بھاگ رہی تھیں۔ ان کے پازیب اور پنڈلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ اور وہ اپنے کپڑوں کو اٹھائے ہوئے تھیں۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا ‘ کہ غنیمت لوٹو ‘ اے قوم! غنیمت تمہارے سامنے ہے۔ تمہارے ساتھی غالب آگئے ہیں۔ اب ڈر کس بات کا ہے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ کیا جو ہدایت رسول اللہ ﷺ نے کی تھی ‘ تم اسے بھول گئے؟ لیکن وہ لوگ اسی پر اڑے رہے کہ دوسرے اصحاب کے ساتھ غنیمت جمع کرنے میں شریک رہیں گے۔ جب یہ لوگ(اکثریت)اپنی جگہ چھوڑ کر چلے آئے تو ان کے منہ کافروں نے پھیر دیئے ‘ اور (مسلمانوں کو) شکست زدہ پا کر بھاگتے ہوئے آئے ‘ یہی وہ گھڑی تھی(جس کا ذکر سورة آل عمران میں ہے کہ)جب رسول اللہ ﷺ تم کو پیچھے کھڑے ہوئے بلا رہے تھے،اس سے یہی مراد ہے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارہ صحابہ کے سوا اور کوئی بھی باقی نہ رہ گیا تھا۔ آخر ہمارے ستر آدمی شہید ہوگئے۔ بدر کی لڑائی میں نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ مشرکین کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا ‘ ستر ان میں سے قیدی تھے اور ستر مقتول‘(جب جنگ ختم ہوگئی تو ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر) حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا کیا محمد ﷺ اپنی قوم کے ساتھ موجود ہیں؟ تین مرتبہ انہوں نے یہی پوچھا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے جواب دینے سے منع فرما دیا تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا ‘ کیا ابن ابی قحافہ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ )اپنی قوم میں موجود ہیں؟ یہ سوال بھی تین مرتبہ کیا ‘ پھر پوچھا ابن خطاب (حضرت عمر رضی اللہ عنہ )اپنی قوم میں موجود ہیں؟ یہ بھی تین مرتبہ پوچھا ‘ پھر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑ کر کہنے لگے کہ یہ تینوں قتل ہوچکے ہیں اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نہ رہا گیا اور آپ بول پڑے کہ اے اللہ کے دشمن! اللہ گواہ ہے کہ تو جھوٹ بول رہا ہے جن کے تو نے ابھی نام لیے تھے وہ سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا! آج کا دن بدر کا بدلہ ہے۔ اور لڑائی بھی ایک ڈول کی طرح ہے (کبھی ادھر کبھی ادھر)تم لوگوں کو اپنی قوم کے بعض لوگ مثلہ کئے ہوئے ملیں گے۔ میں نے اس طرح کا کوئی حکم (اپنے آدمیوں کو)نہیں دیا تھا ‘ لیکن مجھے ان کا یہ عمل برا بھی نہیں معلوم ہوا۔ اس کے بعد وہ فخر یہ رجز پڑھنے لگا ‘ ہبل(بت کا نام) بلند رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہ کرام نے پوچھا ہم اس کے جواب میں کیا کہیں یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہو کہ اللہ سب سے بلند اور سب سے بڑا بزرگ ہے۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا ہمارا مددگار عزیٰ (بت) ہے اور تمہارا کوئی بھی نہیں،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، جواب کیوں نہیں دیتے، صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس کا جواب کیا دیا جائے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، کہو کہ اللہ ہمارا حامی ہے اور تمہارا حامی کوئی نہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّنَازُعِ وَالِاخْتِلَافِ فِي الْحَرْبِ. وَعُقُوبَةِ مَنْ عَصَى إِمَامَهُ،حدیث نمبر ٣٠٣٩) ضرورت نوٹ! حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ یہ ساری باتیں اس وقت کی تھی جب وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے بعد میں وہ مسلمان ہو گئے تھے اور صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہو گئے تھے اس لیے ان کا نام ادب سے لینا ضروری ہے۔
باب: اگر رات کے وقت دشمن کا ڈر پیدا ہو (تو چاہئے کہ حاکم اس کی خبر لے)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حسین ‘ سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ گھبرا گئے تھے ‘ کیوں کہ ایک آواز سنائی دی تھی۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر جس کی پیٹھ ننگی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے تنہا اطراف مدینہ میں سب سے آگے تشریف لے گئے۔ پھر نبی اکرم ﷺ واپس آ کر صحابہ کرام سے ملے تو تلوار نبی اکرم ﷺ کی گردن میں لٹک رہی تھی اور نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ‘ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو اس سوار کو دریا کی طرح پایا۔ (تیز دوڑنے میں)نبی کریم ﷺ کا اشارہ گھوڑے کی طرف تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : إِذَا فَزِعُوا بِاللَّيْلِ،حدیث نمبر ٣٠٤٠)
باب: دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے یا صباحاہ پکارنا تاکہ لوگ سن لیں اور مدد کو آئیں۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ سے غابہ (شام کے راستے میں ایک مقام) جا رہا تھا اور غابہ کی پہاڑی پر ابھی میں پہنچا تھا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک غلام (رباح)مجھے ملا۔ میں نے کہا ‘ کیا بات پیش آئی؟ کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ کی دو دہیل اونٹنیاں (دودھ دینے والیاں) چھین لی گئیں ہیں۔ میں نے پوچھا کس نے چھینا ہے؟ بتایا کہ قبیلہ غطفان اور قبیلہ فزارہ کے لوگوں نے۔ پھر میں نے تین مرتبہ بہت زور سے چیخ کر یا صباحاہ ‘ یا صباحاہ کہا۔ اتنی زور سے کہ مدینہ کے چاروں طرف میری آواز پہنچ گئی۔ اس کے بعد میں بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھا ‘ اور ڈاکوؤں کو جا لیا(ان تک پہنچ گیا)‘ اونٹنیاں ان کے ساتھ تھیں ‘ میں نے ان پر تیر برسانا شروع کردیا ‘ اور کہنے لگا ‘ میں اکوع کا بیٹا سلمہ ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ آخر اونٹنیاں میں نے ان سے چھڑا لیں ‘ ابھی وہ لوگ پانی نہ پینے پائے تھے اور انہیں ہانک کر واپس لا رہا تھا کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ بھی مجھ کو مل گئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ڈاکو پیاسے ہیں اور میں نے مارے تیروں کے پانی بھی نہیں پینے دیا۔ اس لیے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیج دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اے ابن الاکوع! تو ان پر غالب ہوچکا اب جانے دے ‘ درگزر کر وہ تو اپنی قوم میں پہنچ گئے جہاں ان کی مہمانی ہو رہی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ مَنْ رَأَى الْعَدُوَّ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا صَبَاحَاهْ. حَتَّى يُسْمِعَ النَّاسَ،حدیث نمبر ٣٠٤١)
باب: حملہ کرتے وقت یوں کہنا اچھا لے میں فلاں کا بیٹا ہوں۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا ‘ اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کی جنگ میں واقعی فرار ہوگئے تھے؟ ابواسحاق نے کہا میں سن رہا تھا ‘ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ اس دن اپنی جگہ سے بالکل نہیں ہٹے تھے۔ ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ‘ جس وقت مشرکین نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو آپ سواری سے اترے اور (تنہا میدان میں آ کر) فرمانے لگے میں اللہ کا نبی ہوں ‘ اس میں بالکل جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ سے زیادہ بہادر اس دن کوئی بھی نہیں تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ مَنْ قَالَ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ فُلَانٍ. وَقَالَ سَلَمَةُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ،حدیث نمبر ٣٠٤٢)
باب: اگر کافر لوگ ایک مسلمان کے فیصلے پر راضی ہو کر اپنے قلعے سے اتر آئیں؟ ابوامامہ نے بیان کیا جو کہ سہل بن حنیف کے لڑکے تھے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب بنو قریظہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال کر قلعہ سے اتر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں (حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو) بلایا۔ آپ وہیں قریب ہی ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے(کیوں کہ زخمی تھے) حضرت سعد رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ‘ جب وہ آپ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہوجاؤ (اور ان کو سواری سے اتارو) آخر آپ اتر کر نبی اکرم ﷺ کے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں (بنو قریظہ کے یہودی) نے آپ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ (اس لیے آپ ان کا فیصلہ کردیں)انہوں نے کہا کہ پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں جتنے آدمی لڑنے والے ہیں ‘ انہیں قتل کردیا جائے ‘ اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : إِذَا نَزَلَ الْعَدُوُّ عَلَى حُكْمِ رَجُلٍ،حدیث نمبر ٣٠٤٣)
باب: قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہوئے تو نبی اکرم ﷺ کے سر مبارک پر خود تھا(سر کو دشمن کے وار سے بچانے کے لیے جو ٹوپی استعمال کی جاتی تھی )۔نبی اکرم ﷺ جب اسے اتار رہے تھے تو ایک شخص(ابوبرزہ اسلمی)نے آ کر آپ کو خبر دی کہ ابن خطل(اسلام کا بدترین دشمن) کعبہ کے پردے سے لٹکا ہوا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اسے وہیں قتل کر دو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابُ قَتْلِ الْأَسِيرِ وَقَتْلِ الصَّبْرِ،حدیث نمبر ٣٠٤٤)
باب: کیا کو شخص خود قید کرا سکتا ہے؟ اور جو شخص خود قید نہ کرائے اس کا حکم اور قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دس صحابہ کی ایک جماعت کفار کی جاسوسی کے لیے بھیجی ‘ اس جماعت کا امیر عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا اور جماعت روانہ ہوگئی۔ جب یہ لوگ مقام ھداۃ پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان میں ہے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنولحیان کو کسی نے خبر دے دی اور اس قبیلہ کے دو سو تیر اندازوں کی جماعت ان کی تلاش میں نکلی ‘ یہ سب صحابہ کے نشانات قدم سے اندازہ لگاتے ہوئے چلتے چلتے آخر ایک ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں صحابہ نے بیٹھ کر کھجوریں کھائی تھیں ‘ جو وہ مدینہ منورہ سے اپنے ساتھ لے کر چلے تھے۔ پیچھا کرنے والوں نے کہا کہ یہ(گٹھلیاں) تو یثرب (مدینہ)کی (کھجوروں کی)ہیں اور پھر قدم کے نشانوں سے اندازہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ آخر حضرت عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب انہیں دیکھا تو ان سب نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی ‘ مشرکین نے ان سے کہا کہ ہتھیار ڈال کر نیچے اتر آؤ ‘ تم سے ہمارا عہد و پیمان ہے۔ ہم کسی شخص کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ مہم کے امیر نے کہا کہ میں تو آج کسی صورت میں بھی ایک کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔ اے اللہ! ہماری حالت سے اپنے نبی کو مطلع کر دے۔ اس پر ان کافروں نے تیر برسانے شروع کر دئیے اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ اور سات دوسرے صحابہ کو شہید کر ڈالا باقی تین صحابی ان کے عہد و پیمان پر اتر آئے، یہ حضرت خبیب انصاری رضی اللہ عنہ حضرت ابن دثنہ رضی اللہ عنہ اور ایک تیسرے صحابی (حضرت عبداللہ بن طارق بلوی رضی اللہ عنہ ) تھے۔ جب یہ صحابی ان کے قابو میں آگئے تو انہوں نے اپنی کمانوں کے تانت اتار کر ان کو ان سے باندھ لیا ‘ حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہرگز نہ جاؤں گا ‘ بلکہ میں تو انہیں کا اسوہ اختیار کروں گا ‘ ان کی مراد شہداء سے تھی۔ مگر مشرکین انہیں کھنچنے لگے اور زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہا جب وہ کسی طرح نہ گئے تو ان کو بھی شہید کردیا۔ اب یہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن دثنہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر چلے اور ان کو مکہ میں لے جا کر بیچ دیا۔ یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے لڑکوں نے خرید لیا، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ہی بدر کی لڑائی میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ آپ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی بن کر رہے، (زہری نے بیان کیا) کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی اور انہیں حارث کی بیٹی (حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا ) نے خبر دی کہ جب (ان کو قتل کرنے کے لیے) لوگ آئے تو حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا سے انہوں نے موئے زیر ناف مونڈنے کے لیے استرا مانگا۔ انہوں نے استرا دے دیا، (حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا)پھر انہوں نے میرے ایک بچے کو اپنے پاس بلا لیا ‘ جب وہ ان کے پاس گیا تو میں غافل تھی ‘حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر جب میں نے اپنے بچے کو ان کی ران پر بیٹھا ہوا دیکھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا ‘ تو میں اس سے بری طرح گھبرا گئی کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ بھی میرے چہرے سے سمجھ گئے انہوں نے کہا ‘ تمہیں اس کا خوف ہوگا کہ میں اسے قتل کر ڈالوں گا ‘ یقین کرو میں کبھی ایسا نہیں کرسکتا۔ اللہ کی قسم! کوئی قیدی میں نے خبیب سے بہتر کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا کہ انگور کا خوشہ ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس میں سے کھا رہے ہیں۔ حالاں کہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں پھلوں کا موسم بھی نہیں تھا۔ کہا کرتی تھیں کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی روزی تھی جو اللہ نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو بھیجی تھی۔ پھر جب مشرکین انہیں حرم سے باہر لائے ‘ تاکہ حرم کے حدود سے نکل کر انہیں شہید کردیں تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ انہوں نے ان کو اجازت دے دی۔ پھر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا ‘ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں (قتل سے) گھبرا رہا ہوں تو میں ان رکعتوں کو اور لمبا کرتا۔ اے اللہ! ان ظالموں سے ایک ایک کو ختم کر دے، (پھر یہ اشعار پڑھے)جب کہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں ‘ تو مجھے کسی قسم کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ خواہ اللہ کی راہ میں مجھے کسی پہلو پر بھی پچھاڑا جائے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو اس جسم کے ٹکڑوں میں بھی برکت دے سکتا ہے جس کی بوٹی بوٹی کردی گئی ہو۔ آخر حارث کے بیٹے (عقبہ) نے ان کو شہید کردیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے ہی ہر اس مسلمان کے لیے جسے قید کر کے قتل کیا جائے (قتل سے پہلے) دو رکعتیں مشروع ہوئی ہیں۔ ادھر حادثہ کے شروع ہی میں حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ (مہم کے امیر) کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کرلی تھی کہ اے اللہ! ہماری حالت کی خبر اپنے نبی کو دیدے) اور نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو وہ سب حالات بتا دیئے تھے جن سے یہ مہم دو چار ہوئی تھی۔ کفار قریش کے کچھ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ شہید کردیئے گئے تو انہوں نے نے ان کی لاش کے لیے اپنے آدمی بھیجے تاکہ ان کی جسم کا کوئی ایسا حصہ کاٹ لائیں جس سے ان کی شناخت ہوسکتی ہو۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں کفار قریش کے ایک سردار (عقبہ بن ابی معیط)کو قتل کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کا ایک چھتہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی نعش پر قائم کردیا انہوں نے قریش کے آدمیوں سے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش کو بچا لیا اور وہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : هَلْ يَسْتَأْسِرُ الرَّجُلُ ؟ وَمَنْ لَمْ يَسْتَأْسِرْ، وَمَنْ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ،حدیث نمبر ٣٠٤٥)
باب: (مسلمان) قیدیوں کو قید سے چھڑانا۔ اس باب میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :العاني یعنی قیدی کو چھڑایا کرو ‘بھوکے کو کھلایا کرو ‘ بیمار کی عیادت کرو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابُ فَكَاكِ الْأَسِيرِ،حدیث نمبر ٣٠٤٦)
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا‘آپ حضرات (اہل بیت)کے پاس کتاب اللہ کے سوا اور بھی کوئی وحی محفوظ ہے؟ آپ نے اس کا جواب دیا۔ اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو(زمین)چیر کر(نکالا)اور جس نے روح کو پیدا کیا‘ مجھے تو کوئی ایسی وحی معلوم نہیں(جو قرآن میں نہ ہو)البتہ سمجھ ایک دوسری چیز ہے ‘ جو اللہ کسی بندے کو قرآن میں عطا فرمائے(قرآن سے طرح طرح کے مطالب نکالے) یا جو اس ورق میں ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس ورق میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ دیت کے احکام اور قیدی کا چھڑانا اور مسلمان کا کافر کے بدلے میں نہ مارا جانا (یہ مسائل اس ورق میں لکھے ہوئے ہیں اور بس) (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فَكَاكِ الْأَسِيرِ،حدیث نمبر ٣٠٤٧)
باب: مشرکین سے فدیہ لینا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کے بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں اس کی اجازت دے دیں کہ ہم اپنے بھانجے حضرت عباس بن عبدالمطلب کا فدیہ معاف کردیں ‘ لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ان کے فدیہ میں سے ایک درہم بھی نہ چھوڑو۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بحرین کا خراج آیا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اس مال سے مجھے بھی دیجئیے کیوں کہ (بدر کے موقع پر)میں نے اپنا اور عقیل دونوں کا فدیہ ادا کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: پھر آپ لے لیں چناں چہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ان کے کپڑے میں نقدی کو بندھوا دیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فِدَاءِ الْمُشْرِكِينَ،حدیث نمبر ٣٠٤٨،و حدیث نمبر ٣٠٤٩)
محمد بن جبیر نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد (حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ وہ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے (وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے)انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورة الطور پڑھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ فِدَاءِ الْمُشْرِكِينَ،حدیث نمبر ٣٠٥٠)
باب: اگر حربی کافر مسلمانوں کے ملک میں بے امان چلا آئے تو اس کا مار ڈالنا درست ہے۔(کیا؟) حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ‘ ان سے ان کے والد (حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ )نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سفر میں مشرکوں کا ایک جاسوس آیا۔( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ہوازن کے لیے تشریف لے جا رہے تھے) وہ جاسوس صحابہ کرام کی جماعت میں بیٹھا ‘ باتیں کیں ‘ پھر وہ واپس چلا گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسے تلاش کر کے مار ڈالو۔ چناں چہ اسے (حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے) قتل کردیا ‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہتھیار اور اوزار قتل کرنے والے کو دلوا دئیے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْحَرْبِيِّ إِذَا دَخَلَ دَارَ الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ أَمَانٍ،حدیث نمبر ٣٠٥١)
باب:ذمیوں کی مدافعت میں جنگ کی جائے اور ان کو غلام نہ بنایا جائے۔ روایت ہے عمرو بن میمون سے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں اللہ کے ذمہ اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ذمہ کو ادا کرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور یہ کہ(ذمیوں سے) ان کے عہد کو پورا کیا جائے، اور یہ کہ ان کی مدافعت میں (ان کے دشمنوں سے) جنگ کی جائے، اور یہ ان کو ان کی طاقت سے زیادہ مکلف نہ کیا جائے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : يُقَاتَلُ عَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَلَا يُسْتَرَقُّونَ،حدیث نمبر ٣٠٥٢)
باب:ذمیوں کی سفارش اور ان سے کیسا معاملہ کیا جائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جمعرات کے دن ‘ اور معلوم ہے جمعرات کا دن کیا ہے؟ پھر آپ اتنا روئے کہ کنکریاں تک بھیگ گئیں۔آخر آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیماری میں شدت اسی جمعرات کے دن ہوئی تھی۔ تو نبی اکرم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ قلم دوات لاؤ ‘ تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھوا جاؤں کہ تم(میرے بعد اس پر چلتے رہو تو)کبھی گمراہ نہ ہو سکو اس پر صحابہ کرام میں اختلاف ہوگیا۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نبی کے سامنے جھگڑنا مناسب نہیں ہے۔صحابہ کرام نے کہا کہ نبی کریم ﷺ (بیماری کی شدت سے)ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا ‘ اب مجھے میری حالت پر چھوڑ دو ‘ میں جس حال میں اس وقت ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو تم کرانا چاہتے ہو۔ آخر نبی اکرم ﷺ نے اپنے وصال کے وقت تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ یہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کردینا۔ دوسرے یہ کہ وفود سے ایسا ہی سلوک کرتے رہنا ‘ جیسے میں کرتا رہا (ان کی خاطرداری ضیافت وغیرہ)(راوی کہتے ہیں) اور تیسری ہدایت میں بھول گیا۔ اور یعقوب بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے جزیرہ عرب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہا مکہ ‘ مدینہ ‘ یمامہ اور یمن (کا نام جزیرہ عرب) ہے۔ اور یعقوب نے کہا کہ عرج سے تہامہ شروع ہوتا ہے(عرج مکہ اور مدینہ کے راستے میں ایک منزل کا نام ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ جَوَائِزِ الْوَفْدِ،حدیث نمبر ٣٠٥٣)
باب: وفود سے ملاقات کے لیے اپنے آپ کو آراستہ کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ بازار میں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ پھر اسے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! یہ جوڑا آپ خرید لیں اور عید اور وفود کی ملاقات پر اس سے اپنی زیبائش فرمایا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں یا (آپ نے یہ جملہ فرمایا) اسے تو وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ پھر اللہ نے جتنے دنوں چاہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ پھر جب ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ ان کا لباس ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ‘ یا (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بات اس طرح دہرائی کہ)اسے وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ اور پھر آپ نے یہی میرے پاس ارسال فرما دیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (میرے بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ)تم اسے بیچ لو ‘ یا (فرمایا کہ)اس سے اپنی کوئی ضرورت پوری کرسکو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ التَّجَمُّلِ لِلْوُفُودِ،حدیث نمبر ٣٠٥٤)
باب: بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ‘ ابن صیاد (یہودی لڑکا) کے یہاں جا رہی تھی۔ آخر بنو مغالہ (ایک انصاری قبیلے) کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسے ان لوگوں نے پا لیا ‘ ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا۔ اسے (رسول اللہ ﷺ کی آمد کا)پتہ نہیں ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے(اس کے قریب پہنچ کر)اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا ‘ اور فرمایا کیا تو اس کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا ‘ پھر کہنے لگا۔ ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے نبی ہیں۔ اس کے بعد اس نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ نے اس کا جواب(صرف اتنا)دیا کہ میں اللہ اور اس کے (سچے)انبیاء پر ایمان لایا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا ‘ تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک خبر سچی آتی ہے تو دوسری جھوٹی بھی۔نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ حقیقت حال تجھ پر مشتبہ ہوگئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا اچھا میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے (بتا وہ کیا ہے؟ ) ابن صیاد بولا کہ دھواں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ذلیل ہو ‘ کمبخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اگر یہ وہی(دجال) ہے تو تم اس پر قادر نہیں ہوسکتے اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کی جان لینے میں کوئی خیر نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ(ایک مرتبہ)حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب نبی کریم ﷺ باغ میں داخل ہوگئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے نبی اکرم ﷺ آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کردیا کہ اے صاف! یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ‘ اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو خطاب فرمایا ‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی ‘ جو اس کی شان کے لائق تھی۔ پھر دجال کا ذکر فرمایا ‘ اور فرمایا کہ میں بھی تمہیں اس کے (فتنوں سے)ڈراتا ہوں ‘ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو ‘ نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی ‘ اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : كَيْفَ يُعْرَضُ الْإِسْلَامُ عَلَى الصَّبِيِّ،حدیث نمبر ٣٠٥٥،٣٠٥٦،٣٠٥٧)
حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرض کیا ‘ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!کل آپ (مکہ میں)کہاں قیام فرمائیں گے؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا! عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہی کب ہے۔ پھر فرمایا کہ کل ہمارا قیام حنیف بن کنانہ کے مقام محصب میں ہوگا ‘ جہاں پر قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ بنی کنانہ اور قریش نے(یہیں پر)بنی ہاشم کے خلاف اس بات کی قسمیں کھائی تھیں کہ ان سے خریدو فروخت کی جائے اور نہ انہیں اپنے گھروں میں آنے دیں۔ زہری نے کہا کہ خیف وادی کو کہتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابٌ : إِذَا أَسْلَمَ قَوْمٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَلَهُمْ مَالٌ وَأَرَضُونَ، فَهِيَ لَهُمْ،حدیث نمبر ٣٠٥٨)
زید بن اسلم نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہنی نامی اپنے ایک غلام کو (سرکاری)چراگاہ کا حاکم بنایا ‘ تو انہیں یہ ہدایت کی ‘ اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا)اور مظلوم کی بددعا سے ہر وقت بچتے رہنا ‘ کیوں کہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اور ہاں ابن عوف اور ابن عفان اور ان جیسے (امیر صحابہ)کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہیے۔(یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا)کیوں کہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہوجائیں گے تو یہ رؤسا اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اونٹوں اور گنی چنی بکریوں کا مالک (غریب)کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہوگئے ‘ تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آئے گا ‘ اور فریاد کرے گا: یا امیرالمؤمنین! یا امیرالمؤمنین! تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں گا (یعنی ان کو پالنا)تمہارا باپ نہ ہو؟ اس لیے (پہلے ہی سے)ان کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کردینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کے لیے سونے چاندی کا انتظام کروں اور اللہ کی قسم! وہ(اہل مدینہ)یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے کیوں کہ یہ زمینیں انہیں کی ہیں۔ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں اس کے لیے لڑائیاں لڑیں ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ اموال (گھوڑے وغیرہ) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقوں میں ایک بالشت زمین کو بھی میں چراگاہ نہ بناتا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : إِذَا أَسْلَمَ قَوْمٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَلَهُمْ مَالٌ وَأَرَضُونَ، فَهِيَ لَهُمْ،حدیث نمبر ٣٠٥٩)
باب: سربراہ ملک کا مردم شماری کرنا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :میرے لیے لکھو کہ لوگوں میں سے کتنے آدمیوں نے اسلام قبول کیا؟ پس ہم نے آپ کے لیے ایک ہزار اور پانچ سو مرد لکھے پس ہم نے دل میں کہا کہ ہم ایک ہزار اور پانچ سو ہیں اور پھر بھی ڈرتے ہیں پس تحقیق یہ ہے کہ ہم نے دیکھا کہ ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا گیا حتیٰ کہ ایک آدمی اکیلے نماز پڑھتے ہوئے ڈرتا تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ :پس ہم نے ان کو پانچ سو پایا ابو معاویہ نے کہا پانچ سو سے سات سو تک۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ كِتَابَةِ الْإِمَامِ النَّاسَ،حدیث نمبر ٣٠٦٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرا نام فلاں جہاد میں جانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ ادھر میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر کے آ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ كِتَابَةِ الْإِمَامِ النَّاسَ،حدیث نمبر ٣٠٦١)
باب: بے شک اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے۔نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے متعلق جو اپنے کو مسلمان کہتا تھا ‘ فرمایا کہ یہ شخص دوزخ والوں میں سے ہے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو وہ شخص(مسلمانوں کی طرف سے )بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور وہ زخمی بھی ہوگیا۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم!جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخ میں جائے گا۔ آج تو وہ بڑی بےجگری کے ساتھ لڑا ہے اور (زخمی ہو کر)مر بھی گیا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے اب بھی وہی جواب دیا کہ (وہ)جہنم میں گیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ممکن تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں کچھ شبہ پیدا ہوجاتا۔ لیکن ابھی لوگ اسی غور و فکر میں تھے کہ کسی نے بتایا کہ ابھی وہ مرا نہیں ہے۔ البتہ زخم کاری ہے۔ پھر جب رات آئی تو اس نے زخموں کی تاب نہ لا کر خودکشی کرلی۔ جب نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ اکبر! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ‘ اور انہوں نے لوگوں میں اعلان کردیا کہ مسلمان کے سوا جنت میں کوئی اور داخل نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی امداد کسی فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ،حدیث نمبر ٣٠٦٢)
باب: جو شخص میدان جنگ میں خود سے امیر بن جائے جبکہ اسے دشمن کا خوف ہو۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے(مدینہ شریف میں)غزوہ موتہ کے موقع پر خطبہ دیا ‘(جب کہ مسلمان سپاہی موتہ کے میدان میں داد شجاعت دے رہے تھے)نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اب اسلامی علم (جھنڈا)زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سنبھالا اور انہیں شہید کردیا گیا، پھر جعفر رضی اللہ عنہ نے علم اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے۔ اب عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے علم تھاما ‘ یہ بھی شہید کردیئے گئے۔ آخر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کسی نئی ہدایت کے بغیر اسلامی علم اٹھا لیا ہے۔ اور ان کے ہاتھ پر فتح حاصل ہوگئی ‘ اور میرے لیے اس میں کوئی خوشی کی بات نہیں تھی یا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ کہ ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں تھی کہ وہ (شہداء) ہمارے پاس زندہ ہوتے۔(کیونکہ شہادت کے بعد وہ زندہ ہوتے ہیں عالم برزخ میں اور آرام سے رہتے ہیں جنت میں)اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ تَأَمَّرَ فِي الْحَرْبِ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ إِذَا خَافَ الْعَدُوَّ،حدیث نمبر ٣٠٦٣)
باب: لشکر کی مدد کے لیے فوج روانہ کرنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رعل ‘ ذکوان ‘ عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور یقین دلایا کہ وہ لوگ اسلام لا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کافر قوم کے مقابل امداد اور تعلیم و تبلیغ کے لیے آپ سے مدد چاہی۔ تو نبی کریم ﷺ نے ستر انصاریوں کو ان کے ساتھ کردیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ دن میں جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے اور رات میں نماز پڑھتے رہتے،یہ حضرات ان قبیلہ والوں کے ساتھ چلے گئے ‘ لیکن جب بئرمعونہ پر پہنچے تو انہیں قبیلہ والوں نے ان صحابہ کرام کے ساتھ دغا کی اور انہیں شہید کر ڈالا۔ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینہ تک(نماز میں قنوت پڑھی اور رعل و ذکوان اور بنو لحیان کے خلاف دعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا کہ ہم سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (ان شہداء صحابہ کرام کے بارے میں قرآن مجید میں ہم یہ آیت یوں پڑھتے رہے:سنو! ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کرلی،سو وہ ہم سے راضی ہوگیا ہے اور اس نے ہمیں راضی کر دیا۔پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْعَوْنِ بِالْمَدَدِ،حدیث نمبر ٣٠٦٤)
باب:جو شخص دشمن پر فتح پانے کے بعد پھر تین دن تک ان کے ملک میں ٹھہرا رہا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو جب کسی قوم پر فتح حاصل ہوتی،تو میدان جنگ میں تین رات قیام فرماتے۔روح بن عبادہ کے ساتھ اس حدیث کو معاذ اور عبدالاعلیٰ نے بھی روایت کیا۔ دونوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا انہوں نے قتادہ سے ‘ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ غَلَبَ الْعَدُوَّ فَأَقَامَ عَلَى عَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا،حدیث نمبر ٣٠٦٥)
باب:جس نے اپنے غزوہ میں اور سفر میں غنیمت کو تقسیم کیا۔ اور رافع رضی اللہ عنہ نے کہا ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ذو الحلیفہ میں تھے تو ہم نے بکریوں اور اونٹوں کو پایا پس آپ علیہ السلام نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے الجعرانہ سے عمرہ کیا جہاں پر غزوہ حنین کی غنیمتوں کو تقسیم کیا گیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ قَسَمَ الْغَنِيمَةَ فِي غَزْوِهِ وَسَفَرِهِ،حدیث نمبر ٣٠٦٦)
باب:جب مشرکین کسی مسلمان کا مال لوٹ لیں پھر وہ مسلمان اسی مال کو پالے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا تھا اور دشمنوں نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ پھر مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تو ان کا گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کا ہے۔ اسی طرح ان کے ایک غلام نے بھاگ کر روم میں پناہ حاصل کر لی تھی۔ پھر جب مسلمانوں کو اس ملک پر غلبہ حاصل ہوا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا غلام انہیں واپس کر دیا۔ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے بعد کا ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُونَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ،حدیث نمبر ٣٠٦٧)
نافع نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا ایک غلام بھاگ کر روم کے کافروں میں مل گیا تھا۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سر کردگی میں (اسلامی لشکر نے)اس پر فتح پائی اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے وہ غلام ان کو واپس کردیا۔اور یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ کر روم پہنچ گیا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جب روم پر فتح ہوئی تو انہوں نے یہ گھوڑا بھی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو واپس کردیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُونَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ،حدیث نمبر ٣٠٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جس دن اسلامی لشکر کی مڈبھیڑ (رومیوں سے)ہوئی تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ سالار فوج حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر گھوڑے کو دشمنوں نے پکڑ لیا لیکن جب رومیوں کو شکست ہوئی تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو واپس کردیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُونَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ،حدیث نمبر ٣٠٦٩)
باب:فارسی یا کسی غیر عربی زبان میں کلام کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور تمہاری زبانوں کا اور رنگوں کا اختلاف ہے (الروم ٢٢) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں مبعوث کیا۔(ابراهيم ٤) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے (جنگ خندق میں نبی اکرم ﷺ کو بھوکا پا کر چپکے سے)عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم نے ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے۔ اور ایک صاع جو کا آٹا پکوایا ہے۔ اس لیے آپ دو چار آدمیوں کو ساتھ لے کر تشریف لائیں۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے بآواز بلند فرمایا اے خندق کھودنے والو! جابر نے دعوت کا کھانا تیار کرلیا ہے۔ آؤ چلو ‘ جلدی چلو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ تَكَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ وَالرَّطَانَةِ،حدیث نمبر ٣٠٧٠)
حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی تو میں اس وقت ایک زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔تو نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا:سنہ سنہ، عبداللہ نے کہا یہ لفظ حبشی زبان میں عمدہ کے معنے میں بولا جاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں مہر نبوت کے ساتھ(جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پشت پر تھی اس سے)کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا ‘ لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسے مت ڈانٹو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ام خالد کو(درازی عمر کی) دعا دی کہ اس قمیص کو خوب پہن اور پرانی کر ‘ پھر پہن اور پرانی کر ‘ اور پھر پہن اور پرانی کر ‘ عبداللہ نے کہا کہ چناں چہ یہ قمیص اتنے دنوں تک باقی رہی کہ زبانوں پر اس کا چرچا آگیا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ تَكَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ وَالرَّطَانَةِ،حدیث نمبر ٣٠٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما نے صدقہ کی کھجور میں سے (جو بیت المال میں آئی تھی) ایک کھجور اٹھا لی اور اپنے منہ کے قریب لے گئے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں فارسی زبان کا یہ لفظ کہہ کر روک دیا کہ كخ كخ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَنْ تَكَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ وَالرَّطَانَةِ،حدیث نمبر ٣٠٧٢)
باب: خیانت کا حکم۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :جو خیانت کرے گا (وہ قیامت کے دن) اس چیز کو لے کر آئے گا جس میں اس نے خیانت کی تھی(آل عمران ١٦١) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا اور غلول (یعنی خیانت) کا ذکر فرمایا ‘ اس جرم کی ہولناکی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم میں کسی کو بھی قیامت کے دن اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری لدی ہوئی ہو اور وہ چلا رہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا لدا ہوا ہو اور وہ چلا رہا ہو اور وہ شخص مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ میں تو (اللہ کا پیغام) تم تک پہنچا چکا تھا۔ اور اس کی گردن پر اونٹ لدا ہوا ہو اور چلا رہا ہو اور وہ شخص کہے کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا ‘ میں اللہ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا ‘ یا (وہ اس حال میں آئے کہ) وہ اپنی گردن پر سونا ‘ چاندی ‘ اسباب لادے ہوئے ہو اور وہ مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری مدد فرمایئے ‘ لیکن میں اس سے یہ کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا ‘ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا۔ یا اس کی گردن پر کپڑے کے ٹکڑے ہوں جو اسے حرکت دے رہے ہوں اور وہ کہے کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا ‘ میں تو (اللہ کا پیغام) پہلے ہی پہنچا چکا تھا۔ اور ایوب سختیانی نے بھی ابوحیان سے روایت کیا ہے گھوڑا لادے دیکھوں جو ہنہنا رہا ہو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْغُلُولِ،حدیث نمبر ٣٠٧٣)
باب:تھوڑی سی خیانت کرنا۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اپنی روایت میں یہ ذکر نہیں کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے کا سامان جلا دیا تھا، اور یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے سامان و اسباب پر ایک صاحب مقرر تھے جن کا نام کِرکِرہ تھا۔ ان کا انتقال ہوگیا ‘ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ تو جہنم میں گیا۔ صحابہ کرام انہیں دیکھنے گئے تو ایک عباء جسے خیانت کر کے انہوں نے چھپالیا تھا ان کے یہاں ملی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا کہ محمد بن سلام نے (ابن عیینہ سے نقل کیا اور) کہا یہ لفظ كركرة بفتح کاف ہے اور اسی طرح منقول ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الْغُلُولِ،حدیث نمبر ٣٠٧٤)
باب:مال غنیمت میں سے اونٹوں اور بکریوں کو ذبح کرنے کی کراہت ۔ عبایہ بن رفاعہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام ذوالحلیفہ میں ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑاؤ کیا۔ لوگ بھوکے تھے۔ ادھر مال غنیمت میں ہمیں اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ نبی کریم ﷺ لشکر کے پیچھے حصے میں تھے۔ لوگوں نے (بھوک کے مارے)جلدی کی اور ہانڈیاں چڑھا دیں۔ بعد میں نبی کریم ﷺ کے حکم سے ان ہانڈیوں کو اوندھا دیا گیا پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم شروع کی دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا اتفاق سے مال غنیمت کا ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لشکر میں گھوڑوں کی کمی تھی۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے دوڑے لیکن اونٹ نے سب کو تھکا دیا۔ آخر ایک صحابی(خود حضرت رافع رضی اللہ عنہ) نے اسے تیر مارا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اونٹ جہاں تھا وہیں رہ گیا۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ان (پالتو) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہوجاتی ہے۔ اس لیے اگر ان میں سے کوئی قابو میں نہ آئے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ عبایہ کہتے ہیں کہ میرے دادا (حضرت رافع رضی اللہ عنہ ) نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ ہمیں امید ہے یا (یہ کہا کہ) خوف ہے کہ کل کہیں ہماری دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہوجائے۔ ادھر ہمارے پاس چھری نہیں ہے۔ تو کیا ہم بانس کی کھپچیوں سے جانور ذبح کرسکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو چیز خون بہا دے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو ‘ تو اس کا گوشت کھانا حلال ہے۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو)دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیے۔ تمہارے سامنے میں اس کی وجہ بھی بیان کرتا ہوں دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہیں۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ ذَبْحِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ فِي الْمَغَانِمِ،حدیث نمبر ٣٠٧٥)
باب:فتوحات کی بشارت دینا۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم ذو الخلصۃ (کو ڈھا کر) مجھے راحت نہیں پہنچاتے!اور ذو الخلصۃ قبیلہ خثعم کو بت خانہ تھا، جس کا نام کعبہ یمانیہ رکھا گیا تھا، پس میں احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ روانہ ہوا اور یہ بہترین گھوڑے سوار تھے، پس میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا، تو آپ علیہ السلام نے میرے سینے پر ہاتھ مارا حتیٰ کہ میں نے آپ علیہ السلام کے انگلیوں کے نشان اپنے سینے میں دیکھے، پس آپ نے دعا کی:اے اللہ! اس کو ثابت قدم رکھ اور اس کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا، پس وہ اس بت خانہ کی طرف روانہ ہوئے ۔پھر اس بت خانہ کو منہدم کردیا اور اس کو جلا دیا۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک خوش خبری دینے والے کو بھیجا پس حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد نے کہا:یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے۔میں آپ کے پاس اس وقت آیا ہوں حتیٰ کہ میں اس بت خانہ کو ایک خالی پیٹ والے اونٹ کی طرح چھوڑ دیا ہے۔پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم احمس کے گھوڑے سواروں اور پیادوں کے متعلق پانچ مرتبہ برکت کی دعا کی۔اور مسدد نے کہا:وہ مثعم بت خانہ تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الْبِشَارَةِ فِي الْفُتُوحِ،حدیث نمبر ٣٠٧٦)
باب:بشارت دینے والے کو جو چیز دی جائے۔ اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو دو کپڑے انعام میں دیے، جس نے ان کی توبہ قبول ہونے کی بشارت دی تھی۔ باب:فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا:اب ہجرت (مکہ سے مدینہ کے لیے) باقی نہیں رہی ‘ البتہ حسن نیت اور جہاد باقی ہے۔ اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو فوراً نکل جاؤ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،التَّوْبَةِ. بَابٌ : لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٣٠٧٧)
حضرت مجاشع بن مسعود نے بیان کیا کہ حضرت مجاشع اپنے بھائی مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ مجالد ہیں۔ آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ ہاں میں اسلام پر ان سے بیعت لے لوں گا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٣٠٧٨،و حدیث نمبر ٣٠٧٩)
عطا بیان کرتے تھے کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ ثبیر پہاڑ کے قریب قیام فرما تھیں۔ آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مکہ پر فتح دی تھی ‘ اسی وقت سے ہجرت کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا (ثبیر مشہور پہاڑ ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابٌ : لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ،حدیث نمبر ٣٠٨٠)
باب:ضرورت کے وقت ذمیہ یا مسلمان عورت کے بال دیکھنے کا جواز اور جب مسلمان عورت اللہ کی نافرمانی کرے تو اس برہنہ دیکھنے کا جواز۔ ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور وہ عثمانی تھے ‘انہوں نے عطیہ سے کہا جو کہ علوی تھے کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہارے صاحب (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کو کس چیز سے خون بہانے پر جرات ہوئی میں نے خود ان سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے بھیجا۔ اور ہدایت فرمائی کہ روضہ خاخ پر جب تم پہنچو ‘ تو انہیں ایک عورت(سارہ نامی) ملے گی۔ جسے حاطب ابن بلتعہ رضی اللہ عنہ نے ایک خط دے کر بھیجا ہے (تم وہ خط اس سے لے کر آؤ)چناں چہ جب ہم اس باغ تک پہنچے ہم نے اس عورت سے کہا خط لا۔ اس نے کہا کہ حاطب رضی اللہ عنہ نے مجھے کوئی خط نہیں دیا۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط خود بخود نکال کر دیدے ورنہ(تلاشی کے لیے) تمہارے کپڑے اتار لیے جائیں گے۔تب کہیں اس نے خط اپنے نیفے میں سے نکال کردیا۔ (جب ہم نے وہ خط رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا ‘ تو) آپ نے حاطب رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا انہوں نے (حاضر ہو کر) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں! اللہ کی قسم! میں نے نہ کفر کیا ہے اور نہ میں اسلام سے ہٹا ہوں ‘ صرف اپنے خاندان کی محبت نے اس پر مجبور کیا تھا۔نبی اکرم ﷺ کے اصحاب (مہاجرین) میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کے رشتہ دار وغیرہ مکہ میں نہ ہوں۔ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کے خاندان والوں اور ان کی جائیداد کی حفاظت نہ کراتا ہو۔ لیکن میرا وہاں کوئی بھی آدمی نہیں ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ ان مکہ والوں پر ایک احسان کر دوں ‘ نبی کریم ﷺ نے بھی ان کی بات کی تصدیق فرمائی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے مجھے اس کا سر اتارنے دیجئیے یہ تو منافق ہوگیا ہے۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا معلوم! اللہ تعالیٰ اہل بدر کے حالات سے خوب واقف تھا اور وہ خود اہل بدر کے بارے میں فرما چکا ہے کہ جو چاہو کرو۔ ابوعبدالرحمٰن نے کہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اسی ارشاد نے(کہ تم جو چاہو کرو، خون ریزی پر) جراءت دی ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد،بَابٌ : إِذَا اضْطَرَّ الرَّجُلُ إِلَى النَّظَرِ فِي شُعُورِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَالْمُؤْمِنَاتِ إِذَا عَصَيْنَ اللَّهَ وَتَجْرِيدِهِنَّ،حدیث نمبر ٣٠٨١)
باب: غازیوں کے استقبال کو جانا (جب وہ جہاد سے لوٹ کر آئیں)۔ حبیب بن شہید نے بیان کیا کہ ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا ‘ تمہیں وہ قصہ یاد ہے جب میں اور تم اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تینوں آگے جا کر رسول اللہ ﷺ سے ملے تھے (نبی اکرم ﷺ جہاد سے واپس آ رہے تھے)حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ ہاں یاد ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ نے مجھ کو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ سوار کرلیا تھا ‘ اور تمہیں چھوڑ دیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ اسْتِقْبَالِ الْغُزَاةِ،حدیث نمبر ٣٠٨٢)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہا(جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے تو)ہم سب بچے ثنیۃ الوداع تک نبی اکرم ﷺ کا استقبال کرنے گئے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ اسْتِقْبَالِ الْغُزَاةِ،حدیث نمبر ٣٠٨٣)
باب: جہاد سے واپس ہوتے ہوئے کیا کہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ (جہاد سے)واپس ہوتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے ‘ اور یہ دعا پڑھتے آيبون إن شاء الله تائبون عابدون حامدون لربنا ساجدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده،ہم رجوع کرنے والے ہیں، ان شاء اللہ ہم توبہ کرنے والے ہیں،ہم اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں، ہم سجدہ کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ‘ اپنے بندے کی مدد کی ‘ اور کافروں کے لشکر کو اسی اکیلے نے شکست دے دی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَجَعَ مِنَ الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٣٠٨٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ(غزوہ بنو لحیان میں جو چھے ہجری میں ہوا)عسفان سے واپس ہوتے ہوئے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ نے سواری پر پیچھے (حضرت ام المؤمنین)صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالٰی عنہا کو بٹھایا تھا۔ اتفاق سے آپ کی اونٹنی پھسل گئی اور آپ دونوں گرگئے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی فوراً اپنی سواری سے کود پڑے اور کہا ‘ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے ‘ کچھ چوٹ تو نہیں لگی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پہلے عورت کی خبر لو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا ‘ پھر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے قریب آئے اور وہی کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد دونوں کی سواری درست کی ‘ جب آپ سوار ہوگئے تو ہم نبی اکرم ﷺ کے چاروں طرف جمع ہوگئے۔ پھر جب مدینہ دکھائی دینے لگا تو نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا پڑھی:آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون: ہم رجوع کرنے والے ہیں اللہ کی طرف ہم توبہ کرنے والے ہیں‘ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کی حمد و ثنا کرنے والے ہیں۔ نبی کریم ﷺ یہ دعا برابر پڑھتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوگئے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَجَعَ مِنَ الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٣٠٨٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، حضرت ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو نبی کریم ﷺ نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ راستے میں اتفاق سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اونٹنی پھسل گئی اور نبی اکرم ﷺ زمین پر گرگئے اور حضرت ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی زمین پر گرگئیں۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یوں کہا کہ میں سمجھتا ہوں ‘ انہوں نے اپنے آپ کو اونٹ سے گرا دیا اور نبی اکرم ﷺ کے قریب پہنچ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کوئی چوٹ تو آپ کو نہیں آئی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں لیکن تم عورت کی خبر لو۔ چناں چہ انہوں نے ایک کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا ‘ پھر حضرت ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی طرف بڑھے اور وہی کپڑا ان پر ڈال دیا۔ اب حضرت ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کھڑی ہوگئیں۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ دونوں کے لیے اونٹنی کو مضبوط کیا۔ تو آپ سوار ہوئے اور سفر شروع کیا۔ جب مدینہ منورہ کے سامنے پہنچ گئے یا راوی نے یہ کہا کہ جب مدینہ دکھائی دینے لگا تو نبی کریم ﷺ نے یہ دعا پڑھی آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون:ہم اللہ کی طرف رجوع والے ہیں۔ہم توبہ کرنے والے ہیں ‘ ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں!نبی اکرم ﷺ یہ دعا برابر پڑھتے رہے ‘ یہاں تک کی مدینہ میں داخل ہوگئے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَجَعَ مِنَ الْغَزْوِ،حدیث نمبر ٣٠٨٦)
باب: سفر سے واپسی پر نفل نماز (بطور نماز شکر ادا کرنا)۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پہلے مسجد میں جا اور دو رکعت (نفل) نماز پڑھ۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الصَّلَاةِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ،حدیث نمبر ٣٠٨٧)
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد(عبداللہ)اور چچا عبیداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب دن چڑھے سفر سے واپس ہوتے تو بیٹھنے سے پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نفل نماز پڑھتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الصَّلَاةِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ،حدیث نمبر ٣٠٨٨)
باب: سفر سے واپسی کے بعد کھانا تیار کرنا۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سفر سے واپسی کے بعد لوگوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے (غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سے) تو اونٹ یا گائے ذبح کی(راوی کو شبہ ہے) معاذ عنبری نے (اپنی روایت میں)کچھ زیادتی کے ساتھ کہا۔ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محارب بن دثار نے ‘ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے اونٹ خریدا تھا۔ دو اوقیہ اور ایک درہم یا(راوی کو شبہ ہے کہ دو اوقیہ)دو درہم میں۔ جب آپ مقام صرار پر پہنچے تو آپ نے حکم دیا اور گائے ذبح کی گئی اور لوگوں نے اس کا گوشت کھایا۔ پھر جب آپ مدینہ منورہ پہنچے تو مجھے حکم دیا کہ پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھوں ‘ اس کے بعد مجھے میرے اونٹ کی قیمت وزن کر کے عنایت فرمائی۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الطَّعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ،حدیث نمبر ٣٠٨٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں سفر سے واپس مدینہ پہنچا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ مسجد میں جا کر دو رکعت نفل نماز پڑھوں ‘ صرار (مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر مشرق میں)ایک جگہ کا نام ہے۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد ،بَابُ الطَّعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ،حدیث نمبر ٣٠٩٠)
باب: اگر اللہ کی راہ میں سواری کے لیے گھوڑا دے پھر اس کو بکتا پائے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دے دیا تھا، پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ انہوں نے چاہا کہ اسے خرید لیں۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے اجازت چاہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تم اسے نہ خریدو، اور اپنے صدقہ کو واپس نہ پھیرو۔ (بخاری شریف کتاب الجہاد، بَابٌ : إِذَا حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فَرَآهَا تُبَاعُ،حدیث نمبر ٣٠٠٢)
Bukhari Shareef : Kitabul Jihade
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الْجِهَادِ
|
•