asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabo Farazul Khumse

From 3091 to 3155

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

کتاب:مال غنیمت کے پانچویں حصے کا بیان۔ باب: خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصہ کے فرض ہونے کا بیان۔ حضرت زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ انہیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما نے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ جنگ بدر کے مال غنیمت سے میرے حصے میں ایک جوان اونٹنی آئی تھی اور نبی کریم ﷺ نے بھی ایک جوان اونٹنی خمس کے مال میں سے دی تھی ‘ جب میرا ارادہ ہوا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بنت رسول اللہ ﷺ سے شادی کروں ‘ تو بنی قینقاع (قبیلہ یہود) کے ایک صاحب سے جو سنار تھے ‘ میں نے یہ طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں اذخر گھاس (جنگل سے) لائیں۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں وہ گھاس سناروں کو بیچ دوں گا اور اس کی قیمت سے اپنے نکاح کا ولیمہ کروں گا۔ ابھی میں ان دونوں اونٹنیوں کا سامان ‘ پالان اور تھیلے اور رسیاں جمع کر رہا تھا۔ اور یہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے گھر کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ جب سارا سامان فراہم کر کے واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری دونوں اونٹنیوں کے کوہان کسی نے کاٹ دیئے ہیں۔ اور ان کے پیٹ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی گئی ہیں۔ جب میں نے یہ حال دیکھا تو میں بےاختیار رو دیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ اسی گھر میں کچھ انصار کے ساتھ شراب پی رہے ہیں۔ میں وہاں سے واپس آگیا اور سیدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام کی خدمت میں اس وقت حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام مجھے دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ میں کسی بڑے صدمے میں ہوں۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا: علی! کیا ہوا؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میں نے آج کے دن جیسا صدمہ کبھی نہیں دیکھا۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کردیا۔ دونوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کے پیٹ چیر ڈالے۔ ابھی وہ اسی گھر میں کئی یاروں کے ساتھ شراب کی مجلس جمائے ہوئے موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر اپنی چادر مانگی اور اسے اوڑھ کر پیدل چلنے لگے۔ میں اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے ہوئے۔ آخر جب وہ گھر آگیا جس میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ موجود تھے تو آپ نے اندر آنے کی اجازت چاہی اور اندر موجود لوگوں نے آپ کو اجازت دے دی۔ وہ لوگ شراب پی رہے تھے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں کچھ ملامت کرنا شروع کی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شراب کے نشے میں مخمور اور سرخ ہو رہی تھیں۔ انہوں نے نظر اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کو دیکھا۔ پھر نظر ذرا اور اوپر اٹھائی ‘ پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے گھٹنوں پر نظر لے گئے اس کے بعد نگاہ اور اٹھا کے نبی کریم ﷺ کی ناف کے قریب دیکھنے لگے۔ پھر چہرے پر جما دی۔ پھر کہنے لگے کہ تم سب میرے باپ کے غلام ہو، یہ حال دیکھ کر نبی اکرم ﷺ نے جب محسوس کیا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بالکل نشے میں ہیں، تو آپ وہیں سے الٹے پاؤں واپس آگئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکل آئے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس، بَابُ فَرْضِ الْخُمُسِ،حدیث نمبر ٣٠٩١)

كِتَابٌ : فَرْضُ الْخُمُسِ بَابُ فَرْضِ الْخُمُسِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ : كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِيَ فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ الصَّوَّاغِينَ وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ، وَشَارِفَايَ مُنَاخَتَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ، فَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّ أَسْنِمَتُهُمَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، فَقُلْتُ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ فَقَالُوا : فَعَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الْأَنْصَارِ. فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي الَّذِي لَقِيتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ. فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَى ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُمْ، فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ ثَمِلَ مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى رُكْبَتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ، ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ : هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي ؟ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ ثَمِلَ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجْنَا مَعَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3091

حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ علیہا السلام نے نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ کے اس ترکہ سے انہیں ان کی میراث کا حصہ دلایا جائے جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو مال فے کی صورت میں دیا تھا(جیسے فدک وغیرہ)۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے (اپنی حیات میں)فرمایا تھا کہ ہمارا(گروہ انبیاء(علیہم السلام) کا)ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ‘ ہمارا ترکہ صدقہ ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا یہ سن کر غضب ناک ہوگئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ترک ملاقات کی اور وفات تک ان سے نہ ملیں۔وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ مہینے زندہ رہی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے خیبر اور فدک اور مدینہ کے صدقے کی وراثت کا مطالبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی ایسے عمل کو نہیں چھوڑ سکتا جسے رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی میں کرتے رہے تھے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ) پھر نبی اکرم ﷺ کا مدینہ کا جو صدقہ تھا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو (اپنے عہد خلافت میں) دے دیا۔ البتہ خیبر اور فدک کی جائیداد کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روک رکھا اور فرمایا کہ یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کا صدقہ ہیں اور ان حقوق کے لیے جو وقتی طور پر پیش آتے یا وقتی حادثات کے لیے رکھی تھیں۔ یہ جائیداد اس شخص کے اختیار میں رہیں گی جو خلیفہ وقت ہو۔ زہری نے کہا ‘چناں چہ ان دونوں جائیدادوں کا انتظام آج تک (بذریعہ حکومت)اسی طرح ہوتا چلا آتا ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس، بَابُ فَرْضِ الْخُمُسِ،حدیث نمبر ٣٠٩٢،و حدیث نمبر ٣٠٩٣) ضروری نوٹ:خوب اچھی طرح یاد رکھیں اس قسم کی حدیث کے سبب شیعہ اور ناصبی دونوں ہم اہل سنت و جماعت کے عوام کو دھوکا میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ان جیسی حدیثوں میں اہل سنت و جماعت کا درست نظریہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے میراث کا مطالبہ اس سبب کیا تھا کہ ان کے علم میں لانورث والی حدیث نہیں تھی پھر جب ان کو یہ حدیث معلوم ہو گئی تو انہوں نے دوبارہ اس کا مطالبہ نہیں کیا یعنی دوبارہ اس میراث کا مطالبہ لے کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں گئیں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ترک کلام کا معنی یہ نہیں کہ آپ ان سے ناراض تھی بلکہ دوبارہ اس حدیث کو سننے کے بعد انہوں نے مطالبہ ہی نہیں فرمایا تو ملاقات کس سبب کرتیں ویسے بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وصال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلسل بیمار رہیں اور اسی بیماری میں آپ کا وصال ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کا نہ ہونا ناراضگی کے سبب نہیں تھا بلکہ ملاقات کی ضرورت ہی پیش نہ آئی تھی۔پوری کتب حدیث میں ایک بھی صحیح روایت ایسی نہیں ملتی جہاں لکھا ہو کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خود فرمایا ہو کہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوں بلکہ جو بھی الفاظ ملتے ہیں وہ راوی کے الفاظ ہیں اور پوری حدیث میں یہ بھی نہیں ملتا کہیں کہ دوبارہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی ملاقات حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بات کرنا چاہی لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بات نہیں کی اس قسم کی کوئی روایت نہیں ملتی۔تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ نہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ناراض تھیں نہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ناراض تھے۔یہی درست اور انسب نظریہ اور فکر ہے اس کے علاوہ نظریہ پر دھیان دینے کی ہمیں ضرورت نہیں(از شبیر احمد راج محلی)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا، مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ. قَالَتْ : وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ، وَصَدَقَتَهُ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ : لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ ؛ فَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ ، فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ، وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ وَقَالَ : هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ. قَالَ : فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : اعْتَرَاكَ افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ فَأَصَبْتُهُ، وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3092/3093

مالک بن اوس بن حدثان نے (زہری نے بیان کیا کہ) محمد بن جبیر نے مجھ سے(اسی آنے والی)حدیث کا ذکر کیا تھا۔ اس لیے میں نے مالک بن اوس کی خدمت میں خود حاضر ہو کر ان سے اس حدیث کے متعلق (بطور تصدیق) پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ دن چڑھ آیا تھا اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ‘ اتنے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک بلانے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ امیرالمؤمنین آپ کو بلا رہے ہیں۔ میں اس قاصد کے ساتھ ہی چلا گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ایک تخت پر بوریا بچھائے ‘ بورئیے پر کوئی بچھونا نہ تھا صرف ایک چمڑے کے تکئے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں سلام کر کے بیٹھ گیا۔ پھر انہوں نے فرمایا ‘ مالک! تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے ‘ میں نے ان کے لیے کچھ حقیر سی امداد کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تم اسے اپنی نگرانی میں ان میں تقسیم کرا دو ‘ میں نے عرض کیا ‘ یا امیرالمؤمنین! اگر آپ اس کام پر کسی اور کو مقرر فرما دیتے تو بہتر ہوتا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہی اصرار کیا کہ نہیں تم اپنی ہی تحویل میں بانٹ دو۔ ابھی میں وہیں حاضر تھا کہ امیرالمؤمنین کے دربان یرفا آئے اور کہا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ‘حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ہاں انہیں اندر بلا لو۔ آپ کی اجازت پر یہ حضرات داخل ہوئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے۔ یرفا بھی تھوڑی دیر بیٹھے رہے اور پھر اندر آ کر عرض کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بھی اندر آنے کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں انہیں بھی اندر بلا لو۔ آپ کی اجازت پر یہ حضرات بھی اندر تشریف لے آئے۔ اور سلام کر کے بیٹھ گئے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ یا امیرالمؤمنین! میرا اور ان کا(یعنی حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ) فیصلہ کر دیجئیے۔ ان حضرات کا جھگڑا اس جائیداد کے بارے میں تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نبی اکرم ﷺ کو بنی نضیر کے اموال میں سے (خمس کے طور پر) عنایت فرمائی تھی۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ جو دیگر صحابہ تھے کہنے لگے ‘ ہاں! امیرالمؤمنین! ان حضرات میں فیصلہ فرما دیجئیے اور ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے بےفکر کر دیجئیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ اچھا ‘ تو پھر ذرا ٹھہرئیے اور دم لے لیجئے میں آپ لوگوں سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ جو کچھ ہم (انبیاء)چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ جس سے نبی کریم ﷺ کی مراد خود اپنی ذات گرامی بھی تھی۔ ان حضرات نے تصدیق کی ‘ کہ جی ہاں ‘ بیشک نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا تھا۔ اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف مخاطب ہوئے ‘ ان سے پوچھا۔ میں آپ حضرات کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘ کیا آپ حضرات کو بھی معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا فرمایا ہے یا نہیں؟ انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی کہ نبی اکرم ﷺ نے بیشک ایسا فرمایا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں آپ لوگوں سے اس معاملہ کی شرح بیان کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے لیے اس غنیمت کا ایک مخصوص حصہ مقرر کردیا تھا۔ جسے نبی اکرم ﷺ نے بھی کسی دوسرے کو نہیں دیا تھا۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی وما أفاء الله على رسوله منهم‏ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد قدير‏ تک:ترجمہ آیت:اور جو مال اللہ تعالیٰ نے ان سے نکال کر اپنے رسول پر لوٹا دیے تو تم نے نہ ان پر گھوڑے دوڑاے تھے اور نہ اونٹ ہاں اللہ!اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط فرما دیتا ہے۔اور اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے(الحشر آیت نمبر ٦)(پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا) اور وہ حصہ نبی اکرم ﷺ کے لیے خاص رہا۔ مگر قسم اللہ کی یہ جائیداد نبی اکرم ﷺ نے تم کو چھوڑ کر اپنے لیے جوڑ نہ رکھی ‘ نہ خاص اپنے خرچ میں لائے ‘ بلکہ تم ہی لوگوں کو دیں اور تمہارے ہی کاموں میں خرچ کیں۔ یہ جو جائیداد بچ رہی ہے اس میں سے آپ اپنی بیویوں کا سال بھر کا خرچ لیا کرتے اس کے بعد جو باقی بچتا وہ اللہ کے مال میں شریک کردیتے (جہاد کے سامان فراہم کرنے میں)خیر! نبی اکرم ﷺ تو اپنی زندگی میں ایسا ہی کرتے رہے۔ حاضرین تم کو اللہ کی قسم! کیا تم یہ نہیں جانتے؟ انہوں نے کہا بیشک جانتے ہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا میں آپ حضرات سے بھی قسم دے کر پوچھتا ہوں ‘ کیا آپ لوگ یہ نہیں جانتے ہیں؟ (دونوں حضرات نے جواب دیا ہاں! ) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو دنیا سے اٹھا لیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں رسول اللہ ﷺ کا خلیفہ ہوں ‘ اور اس لیے انہوں نے(نبی اکرم ﷺ کی اس مخلص) جائیداد پر قبضہ کیا اور جس طرح نبی اکرم ﷺ اس میں مصارف کیا کرتے تھے ‘ وہ کرتے رہے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے اس طرز عمل میں سچے مخلص ‘ نیکوکار اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا اور اب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نائب مقرر ہوا۔ میری خلافت کو دو سال ہوگئے ہیں۔ اور میں نے بھی اس جائیداد کو اپنی تحویل میں رکھا ہے۔ جو مصارف رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس میں کیا کرتے تھے ویسا ہی میں بھی کرتا رہا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے اس طرز عمل میں سچا ‘ مخلص اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں۔ پھر آپ دونوں میرے پاس مجھ سے گفتگو کرنے آئے اور بالاتفاق گفتگو کرنے لگے کہ دونوں کا مقصد ایک تھا۔ اے حضرت عباس! آپ تو اس لیے تشریف لائے کہ آپ کو اپنے بھتیجے( نبی اکرم ﷺ ) کی میراث کا دعویٰ میرے سامنے پیش کرنا تھا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ اس لیے تشریف لائے کہ آپ کو اپنی بیوی (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ) کا دعویٰ پیش کرنا تھا کہ ان کے والد (رسول اللہ ﷺ )کی میراث انہیں ملنی چاہیے ‘ میں نے آپ دونوں حضرات سے عرض کردیا کہ رسول اللہ ﷺ خود فرما گئے کہ ہم پیغمبروں کا کوئی میراث تقسیم نہیں ہوتی ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ پھر مجھ کو یہ مناسب معلوم ہوا کہ میں ان جائیدادوں کو تمہارے قبضے میں دے دوں ‘ تو میں نے تم سے کہا ‘ دیکھو اگر تم چاہو تو میں یہ جائیداد تمہارے سپرد کردیتا ہوں ‘ لیکن اس عہد اور اس اقرار پر کہ تم اس کی آمدنی سے وہ سب کام کرتے رہو گے جو نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی خلافت میں کرتے رہے اور جو کام میں اپنی حکومت کے شروع سے کرتا رہا۔ تم نے اس شرط کو قبول کر کے درخواست کی کہ جائیدادیں ہم کو دے دو۔ میں نے اسی شرط پردے دی ‘ حاضرین کہو میں نے یہ جائیدادیں اسی شرط پر ان کے حوالے کی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے کہا ‘ بیشک اسی شرط پر آپ نے دی ہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ‘ میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘ میں نے اسی شرط پر یہ جائیدادیں آپ حضرات کے حوالے کی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے کہا بیشک۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ پھر مجھ سے کس بات کا فیصلہ چاہتے ہو؟ (کیا جائیداد کو تقسیم کرانا چاہتے ہو) قسم اللہ کی! جس کے حکم سے زمین اور آسمان قائم ہیں میں تو اس کے سوا اور کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں۔ ہاں! یہ اور بات ہے کہ اگر تم سے اس کا انتظام نہیں ہوسکتا تو پھر جائیداد میرے سپرد کر دو۔ میں اس کا بھی کام دیکھ لوں گا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس، بَابُ فَرْضِ الْخُمُسِ،حدیث نمبر ٣٠٩٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ ذَكَرَ لِي ذِكْرًا مِنْ حَدِيثِهِ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ فَقَالَ مَالِكٌ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي أَهْلِي حِينَ مَتَعَ النَّهَارُ ، إِذَا رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَأْتِينِي فَقَالَ : أَجِبْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى عُمَرَ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى رِمَالِ سَرِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَ : يَا مَالِ، إِنَّهُ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ قَوْمِكَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ، وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَاقْبِضْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ. فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَمَرْتَ بِهِ غَيْرِي. قَالَ : اقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ. فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا، فَقَالَ : هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يَسْتَأْذِنُونَ ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا، ثُمَّ جَلَسَ يَرْفَا يَسِيرًا، ثُمَّ قَالَ : هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَأَذِنَ لَهُمَا، فَدَخَلَا فَسَلَّمَا فَجَلَسَا، فَقَالَ عَبَّاسٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا. وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ. فَقَالَ الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ. قَالَ عُمَرُ : تَيْدَكُمْ ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ ؟ قَالَ الرَّهْطُ : قَدْ قَالَ ذَلِكَ. فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ : أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ ذَلِكَ ؟ قَالَا : قَدْ قَالَ ذَلِكَ. قَالَ عُمَرُ : فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ. ثُمَّ قَرَأَ : { وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ }. إِلَى قَوْلِهِ : { قَدِيرٌ }. فَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، قَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ حَيَاتَهُ. أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ. ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ ؟ قَالَ عُمَرُ : ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهَا لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فَكُنْتُ أَنَا وَلِيَّ أَبِي بَكْرٍ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا عَمِلَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي فِيهَا لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي تُكَلِّمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ، وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، جِئْتَنِي يَا عَبَّاسُ تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَجَاءَنِي هَذَا - يُرِيدُ عَلِيًّا - يُرِيدُ نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ لَكُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". فَلَمَّا بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قُلْتُ : إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِمَا عَمِلَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ، وَبِمَا عَمِلْتُ فِيهَا مُنْذُ وَلِيتُهَا، فَقُلْتُمَا : ادْفَعْهَا إِلَيْنَا. فَبِذَلِكَ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا، فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ ؟ قَالَ الرَّهْطُ : نَعَمْ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَقَالَ : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ، هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ ؟ قَالَا : نَعَمْ. قَالَ : فَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ ؟ فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ ؛ فَإِنِّي أَكْفِيكُمَاهَا.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3094

باب: مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا دین ایمان میں داخل ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے تھے کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد (دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں)حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے اور قبیلہ مضر کے کفار ہمارے اور آپ کے بیچ میں بستے ہیں۔ (اس لیے ان کے خطرے کی وجہ سے ہم لوگ)آپ کی خدمت میں صرف ادب والے مہینوں میں حاضر ہوسکتے ہیں۔ آپ ہمیں کوئی ایسا واضح حکم فرما دیں جس پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہیں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آسکے ہیں انہیں بھی بتادیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں (میں تمہیں حکم دیتا ہوں)اللہ پر ایمان لانے کا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ کو گرہ لگائی ‘(اور حکم دیتا ہوں) نماز قائم کرنے کا ‘ زکوٰۃ دینے کا اور رمضان کے روزے رکھنے کا ‘ اور اس بات کا کہ جو کچھ بھی تمہیں غنیمت کا مال ملے۔ اس میں پانچواں حصہ(خمس)اللہ کے لیے نکال دو اور تمہیں میں خشک کدّو ‘اور کھوکھلی لکڑی، اور سبز گھڑے، اور تارکول ملے ہوئے لکڑی کے برتن کے استعمال سے روکتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس، بَابٌ : أَدَاءُ الْخُمُسِ مِنَ الدِّينِ،حدیث نمبر ٣٠٩٥)

بَابٌ : أَدَاءُ الْخُمُسِ مِنَ الدِّينِ. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ؛ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - وَعَقَدَ بِيَدِهِ - وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُؤَدُّوا لِلَّهِ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3095

باب: نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات کے خرچ کا بیان۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میرے وارثوں میں میرے بعد ایک دینار بھی نہ تقسیم کیا جائے (یعنی میرا ترکہ تقسیم نہ کریں)میں جو چھوڑ جاؤں اس میں سے میرے عاملوں کی تنخواہ اور میری بیویوں کا خرچ نکال کر باقی سب صدقہ ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس، بَابُ نَفَقَةِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ، حدیث نمبر ٣٠٩٦)

بَابُ نَفَقَةِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3096

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میرے گھر میں آدھے وسق جو کے سوا جو ایک طاق میں رکھے ہوئے تھے اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی اور بہت دن گزر گئے۔ پھر میں نے اس میں سے ناپ کر نکالنا شروع کیا تو وہ جلدی ختم ہوگئے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ نَفَقَةِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ، حدیث نمبر ٣٠٩٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي بَيْتِي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3097

عمرو بن حارث کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے (اپنی وفات کے بعد)اپنے ہتھیار ‘ ایک سفید خچر ‘ اور ایک زمین جسے آپ خود صدقہ کر گئے تھے کے سوا اور کوئی ترکہ نہیں چھوڑا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ نَفَقَةِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ، حدیث نمبر ٣٠٩٨)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ قَالَ : مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سِلَاحَهُ وَبَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3098

باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کے متعلق اور جو گھروں کی طرف منسوب ہیں ان کے متعلق کا بیان۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو (أحزاب ٣٣)اور نبی کے گھر میں داخل نہ ہو جب تک کہ تمہیں بلایا نہ جائے(الاحزاب ٥٣) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ(مرض الوفات میں)جب نبی کریم ﷺ کا مرض بہت بڑھ گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے سب بیویوں سے اس کی اجازت چاہی کہ مرض کے دن آپ میرے گھر میں گزاریں۔ لہٰذا اس کی اجازت نبی اکرم ﷺ کو مل گئی تھی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ، مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ،حدیث نمبر ٣٠٩٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ. وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ } وَ { لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ }. حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، وَمُحَمَّدٌ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3099

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر میری باری کے دن میرے پھیپھڑے اور سینے کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے وفات پائی اللہ تعالیٰ نے (وفات کے وقت)میرے لعاب اور نبی کریم ﷺ کے لعاب مبارک کو ایک ساتھ جمع کردیا تھا ‘ بیان کیا (وہ اس طرح کہ) حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بھائی)مسواک لیے ہوئے اندر آئے۔ نبی کریم ﷺ اسے چبا نہ سکے۔ اس لیے میں نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور میں نے اسے چبانے کے بعد وہ مسواک آپ علیہ السلام کے دانتوں پر ملی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ،حدیث نمبر ٣١٠٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَفِي نَوْبَتِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ. قَالَتْ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِسِوَاكٍ فَضَعُفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ ثُمَّ سَنَنْتُهُ بِهِ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3100

حضرت علی زین العابدین بن حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ملنے کے لیے حاضر ہوئیں۔ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے تھے۔ پھر وہ واپس ہونے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم ﷺ بھی ان کے ساتھ اٹھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازہ کے قریب پہنچے جو مسجد نبوی کے دروازے سے ملا ہوا تھا تو دو انصاری صحابی(حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) وہاں سے گزرے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو انہوں نے سلام کیا اور آگے بڑھنے لگے۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا ‘ ذرا ٹھہر جاؤ (میرے ساتھ میری بیوی صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ہیں یعنی کوئی دوسرا نہیں) ان دونوں صحابی نے عرض کیا۔ سبحان اللہ ‘ یا رسول اللہ! ان حضرات پر آپ کا یہ فرمانا بڑا شاق گزرا۔نبی اکرم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا رہتا ہے جیسے جسم میں خون دوڑتا ہے۔ مجھے یہی خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ پیدا نہ ہوجائے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ،حدیث نمبر ٣١٠١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى رِسْلِكُمَا ". قَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3101

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں (ام المؤمنین)حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر کے اوپر چڑھا ‘ تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کر رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی اور چہرہ مبارک شام کی طرف تھا۔(یعنی بیت المقدس کی طرف منھ تھا) (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ،حدیث نمبر ٣١٠٢)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : ارْتَقَيْتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ، مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3102

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب عصر کی نماز پڑھتے تو دھوپ ابھی ان کے حجرے میں باقی رہتی تھی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ،حدیث نمبر ٣١٠٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3103

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اسی طرف سے (یعنی مشرق کی طرف سے) فتنے برپا ہوں گے ‘ تین مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے اسی طرح فرمایا کہ یہیں سے شیطان کا سر نمودار ہوگا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ،حدیث نمبر ٣١٠٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَأَشَارَ نَحْوَ مَسْكَنِ عَائِشَةَ، فَقَالَ : " هُنَا الْفِتْنَةُ - ثَلَاثًا - مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3104

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے گھر میں موجود تھے۔ اچانک انہوں نے سنا کہ کوئی صاحب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ دیکھتے نہیں، یہ شخص گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ میرا خیال ہے یہ فلاں صاحب ہیں، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے رضاعی چچا! رضاعت بھی ان تمام چیزوں کو حرام کردیتی ہے جنہیں ولادت حرام کرتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ،حدیث نمبر ٣١٠٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرَاهُ فُلَانًا - لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ - الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3105

باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زرواور آپ کے عصا اور آپ کی تلوار اور آپ کے پیالہ اور آپ کی انگوٹھی کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے۔اور ان میں سے جن چیزوں کو خلفاء نے آپ کے بعد استعمال کیا اور آپ کے بال مبارک اور نعلین مبارک اور آپ کے برتنوں میں سے جن کی تقسیم کا ذکر نہیں کیا گیا، اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب اور دوسروں نے جن چیزوں کو بہ طور تبرک حاصل کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا اور ان کو یہ مکتوب لکھ کر دیا، اور اس پر یہ مہر لگا دی،اور آپ کی انگوٹھی میں تین سطریں تھیں ایک سطر میں لکھا ہوا تھا:محمد، اور دوسری سطر میں لکھا ہوا تھا :رسول، اور تیسری سطر میں لکھا ہوا تھا:اللہ۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ، وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ، وَمِنْ شَعَرِهِ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ مِمَّا يَتَبَرَّكُ أَصْحَابُهُ وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٣١٠٦)

بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ، وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ، وَمِنْ شَعَرِهِ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ مِمَّا يَتَبَرَّكُ أَصْحَابُهُ وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ، وَكَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ ؛ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3106

عیسیٰ بن طہمان نے نے کہا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو پرانے جوتے نکال کر دکھائے جن میں دو تسمے لگے ہوئے تھے ‘ اس کے بعد پھر ثابت بنانی نے مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ وہ دونوں جوتے نبی کریم ﷺ کے تھے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ، وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ، وَمِنْ شَعَرِهِ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ مِمَّا يَتَبَرَّكُ أَصْحَابُهُ وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٣١٠٧)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ لَهُمَا قِبَالَانِ ، فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بَعْدُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُمَا نَعْلَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3107

حضرت ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم ﷺ کی روح قبض ہوئی تھی۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار (لنگی)اور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ (اور موٹا پیوند دار کہتے ہو) ہمیں نکال کر دکھائی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ، وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ، وَمِنْ شَعَرِهِ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ مِمَّا يَتَبَرَّكُ أَصْحَابُهُ وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٣١٠٨)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كِسَاءً مُلَبَّدًا وَقَالَتْ : فِي هَذَا نُزِعَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَزَادَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الَّتِي يَدْعُونَهَا الْمُلَبَّدَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3108

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کا پانی پینے کا پیالہ ٹوٹ گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہوں کو چاندی کی زنجیروں سے جٖڑوا لیا۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے وہ پیالہ دیکھا ہے۔ اور اس میں میں نے پانی بھی پیا ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ، وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ، وَمِنْ شَعَرِهِ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ مِمَّا يَتَبَرَّكُ أَصْحَابُهُ وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٣١٠٩)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَسَرَ، فَاتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ. قَالَ عَاصِمٌ : رَأَيْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِيهِ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3109

حضرت علی بن حسین (یعنی زین العابدین رضی اللہ عنہ )نے بیان کیا کہ جب ہم سب حضرات حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے یہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے ملاقات کی ‘ اور کہا اگر آپ کو کوئی ضرورت ہو تو مجھے حکم فرما دیجئیے۔ (امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) میں نے کہا ‘ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا تو کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی تلوار عنایت فرمائیں گے؟ کیوں کہ مجھے خوف ہے کہ کچھ لوگ(یعنی بنو امیہ)اسے آپ سے نہ چھین لیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ تلوار آپ مجھے عنایت فرما دیں تو کوئی شخص بھی جب تک میری جان باقی ہے اسے چھین نہیں سکے گا۔ پھر حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے ایک قصہ بیان کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی موجودگی میں ابوجہل کی ایک بیٹی(جمیلہ نامی)کو پیغام نکاح دے دیا تھا۔ میں نے خود سنا کہ اسی مسئلہ پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے اسی منبر پر کھڑے ہو کر صحابہ کو خطاب فرمایا۔ میں اس وقت بالغ تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ میں فرمایا کہ فاطمہ مجھ سے ہے۔ اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ(اس رشتہ کی وجہ سے)کسی گناہ میں نہ پڑجائے کہ اپنے دین میں وہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے خاندان بنی عبد شمس کے ایک اپنے داماد (حضرت عاص بن ربیع رضی اللہ عنہ)کا ذکر کیا اور دامادی سے متعلق آپ نے ان کی تعریف کی آپ نے فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات کہی سچ کہی ‘ جو وعدہ کیا ‘ اسے پورا کیا۔ میں کسی حلال (یعنی نکاح ثانی) کو حرام نہیں کرتا اور نہ کسی حرام کو حلال بناتا ہوں۔ لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ، وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ، وَمِنْ شَعَرِهِ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ مِمَّا يَتَبَرَّكُ أَصْحَابُهُ وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٣١١٠)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ كَثِيرٍ حَدَّثَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ : هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا ؟ فَقُلْتُ لَهُ : لَا. فَقَالَ لَهُ : فَهَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللَّهِ، لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا حَتَّى تُبْلَغَ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ - فَقَالَ : " إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ". ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ. قَالَ : " حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا، وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ أَبَدًا ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3110

حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نا مناسب بات کہنے والے ہوتے تو اس دن ہوتے جب کچھ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی(جو زکوٰۃ وصول کرتے تھے) شکایت کرنے ان کے پاس آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور یہ زکوٰۃ کا حکم نامہ لے جا۔ ان سے کہنا کہ یہ حکم نامہ نبی کریم ﷺ کا لکھوایا ہوا ہے۔ تم اپنے عاملوں کو حکم دو کہ وہ اسی کے مطابق عمل کریں۔ چناں چہ میں اسے لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں پیغام پہنچا دیا لیکن انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں (کیوں کہ ہمارے پاس اس کی نقل موجود ہے)میں نے جا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا! پھر اس حکم نامے کو جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن سوقہ نے کہا کہ میں نے منذر ثوری سے سنا ‘ وہ حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ میرے والد (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) نے مجھ کو کہا کہ یہ حکم نامہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو لے جا کر دے آؤ اس میں زکوٰۃ سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ احکامات درج ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ، وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ، وَمِنْ شَعَرِهِ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ مِمَّا يَتَبَرَّكُ أَصْحَابُهُ وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ،حدیث نمبر ٣١١١،و حدیث نمبر ٣١١٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ : لَوْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاكِرًا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ : اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ : أَغْنِهَا عَنَّا. فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا. قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ قَالَ : سَمِعْتُ مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبِي : خُذْ هَذَا الْكِتَابَ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى عُثْمَانَ ؛ فَإِنَّ فِيهِ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3111/3112

باب:اس پر دلیل کہ خمس (پانچواں حصہ مال غنیمت کا) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات اور مساکین کے لیے ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب صفہ اور بیواؤں کو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر ترجیح دی جب انہوں نے چکّی میں آٹا پیسنے کی مشقت بتا کر کہا کہ آپ قیدیوں میں سے ان کو کوئی خادم دے دیں، تو آپ علیہ السلام نے ان کے معاملہ کو اللہ کی طرف سونپ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو چکّی پیسنے کی بہت تکلیف ہوتی۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں۔ اس لیے وہ بھی ان میں سے ایک لونڈی یا غلام کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کے متعلق کہہ کر (واپس) چلی آئیں۔ پھر جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے ان کی درخواست پیش کردی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسے سن کر نبی اکرم ﷺ ہمارے یہاں (رات ہی کو) تشریف لائے۔جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے(جب ہم نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا (تو ہم لوگ کھڑے ہونے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح ہو ویسے ہی لیٹے رہو۔(پھر نبی اکرم ﷺ میرے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بیچ میں بیٹھ گئے اور اتنے قریب ہوگئے کہ) میں نے آپ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر پائی۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو کچھ تم لوگوں نے (لونڈی یا غلام) مانگے ہیں ‘ میں تمہیں اس سے بہتر بات کیوں نہ بتاؤں جب تم دونوں اپنے بستر پر لیٹ جاؤ (تو سونے سے پہلے) اللہ اکبر چونتیس مرتبہ اور الحمداللہ تینتیس مرتبہ اور سبحان اللہ تینتیس مرتبہ پڑھ لیا کرو ‘ یہ عمل بہتر ہے اس سے جو تم دونوں نے مانگا ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَسَاكِينِ. وَإِيثَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الصُّفَّةِ وَالْأَرَامِلَ حِينَ سَأَلَتْهُ فَاطِمَةُ وَشَكَتْ إِلَيْهِ الطَّحْنَ وَالرَّحَى، أَنْ يُخْدِمَهَا مِنَ السَّبْيِ، فَوَكَلَهَا إِلَى اللَّهِ،حدیث نمبر ٣١١٣)

بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَسَاكِينِ. وَإِيثَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الصُّفَّةِ وَالْأَرَامِلَ حِينَ سَأَلَتْهُ فَاطِمَةُ وَشَكَتْ إِلَيْهِ الطَّحْنَ وَالرَّحَى، أَنْ يُخْدِمَهَا مِنَ السَّبْيِ، فَوَكَلَهَا إِلَى اللَّهِ. حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى مِمَّا تَطْحَنُ، فَبَلَغَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَبْيٍ، فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَلَمْ تُوَافِقْهُ، فَذَكَرَتْ لِعَائِشَةَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لَهُ، فَأَتَانَا وَقَدْ دَخَلْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ فَقَالَ : " عَلَى مَكَانِكُمَا ". حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَاهُ ؛ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا فَكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمَا مِمَّا سَأَلْتُمَاهُ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3113

باب:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :پس بے شک خُمس اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے ہے (الانفال ٤١)یعنی رسول کے لیے خمس کو تقسیم کرنا ہے۔اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں صرف قاسم اور خازن ہوں اور اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم انصاریوں کے قبیلہ میں ایک انصاری کے گھر بچہ پیدا ہو تو انہوں نے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا اور شعبہ نے منصور سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ ان انصاری نے بیان کیا(جن کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا)کہ میں بچے کو اپنی گردن پر اٹھا کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ‘تو نبی اکرم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت(ابوالقاسم)پر کنیت نہ رکھنا ‘ کیوں کہ مجھے تقسیم کرنے والا (قاسم) بنایا گیا ہے۔ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں ‘ اور حصین نے (اپنی روایت میں) یوں بیان کیا ‘ کہ مجھے تقسیم کرنے والا (قاسم) بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں۔ عمرو بن مرزوق نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے سالم سے سنا انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ ان انصاری صحابی نے اپنے بچے کا نام قاسم رکھنا چاہا تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن کنیت نہ رکھو۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ } يَعْنِي لِلرَّسُولِ قَسْمَ ذَلِكَ،حدیث نمبر ٣١١٤)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ } يَعْنِي لِلرَّسُولِ قَسْمَ ذَلِكَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَخَازِنٌ، وَاللَّهُ يُعْطِي ". حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَقَتَادَةَ ، سَمِعُوا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا - قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ : إِنَّ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ : حَمَلْتُهُ عَلَى عُنُقِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا - قَالَ : " سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ؛ فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ". وَقَالَ حُصَيْنٌ : بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ. قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، عَنْ جَابِرٍ : أَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ الْقَاسِمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3114

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا ‘ انصار کہنے لگے کہ ہم تمہیں ابوالقاسم کہہ کر کبھی نہیں پکاریں گے اور ہم تمہاری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے یہ سن کر وہ انصاری نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے تو انصار کہتے ہیں ہم تیری کنیت ابوالقاسم نہیں پکاریں گے اور تیری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:انصار نے ٹھیک کہا ہے میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت مت رکھو ‘ کیوں کہ قاسم میں ہوں۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ } يَعْنِي لِلرَّسُولِ قَسْمَ ذَلِكَ،حدیث نمبر ٣١١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا. فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ الْقَاسِمَ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْسَنَتِ الْأَنْصَارُ، سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3115

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ اور عطا کرنے والا تو اللہ ہی ہے میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اپنے دشمنوں کے مقابلے میں یہ امت (مسلمہ) ہمیشہ غالب رہے گی۔ جب تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے اور اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ } يَعْنِي لِلرَّسُولِ قَسْمَ ذَلِكَ،حدیث نمبر ٣١١٦)

حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَاللَّهُ الْمُعْطِي، وَأَنَا الْقَاسِمُ، وَلَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3116

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:نہ میں تمہیں کوئی چیز دیتا ہوں نہ تم سے کسی چیز کو روکتا ہوں۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں۔ جہاں جہاں کا مجھے حکم ہوتا ہے بس وہیں رکھ دیتا ہوں۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ } يَعْنِي لِلرَّسُولِ قَسْمَ ذَلِكَ،حدیث نمبر ٣١١٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أُعْطِيكُمْ وَلَا أَمْنَعُكُمْ، أَنَا قَاسِمٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3117

حضرت خولہ بنت قیس انصاریہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے میں نے سنا ‘ نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مال کو بےجا اڑاتے ہیں ‘ انہیں قیامت کے دن آگ ملے گی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : { فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ } يَعْنِي لِلرَّسُولِ قَسْمَ ذَلِكَ،حدیث نمبر ٣١١٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ - وَاسْمُهُ نُعْمَانُ - عَنْ خَوْلَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللَّهِ بِغَيْرِ حَقٍّ، فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3118

باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ تمہارے لیے غنیمتوں کو حلال کر دیا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا جو تم(آئندہ) حاصل کرو گے، پس یہ نعمت تم کو جلدی عطا فرما دی۔(الفتح ٢٠) حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک خیر و برکت (آخرت میں)اور غنیمت(دنیا میں)بندھی ہوئی ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ،حدیث نمبر ٣١١٩)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ ". وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : { وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ }. وَهِيَ لِلْعَامَّةِ حَتَّى يُبَيِّنَهُ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3119

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب کسریٰ مرجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہوگا۔ اور جب قیصر مرجائے گا تو اس کی بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہوگا اور اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ،حدیث نمبر ٣١٢٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3120

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسریٰ مرجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہوگا اور جب قیصر مرجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہوگا اور اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ،حدیث نمبر ٣١٢١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، سَمِعَ جَرِيرًا ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3121

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا:میرے لیے(مراد اس آپ علیہ السلام کی امت ہے)غنیمت کے مال حلال کئے گئے ہیں۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ ،حدیث نمبر ٣١٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3122

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور جہاد ہی کی نیت سے وہ اللہ کی راہ میں نکلے اور اللہ کے کلام (اس کے وعدے)کو سچ جان کر وہ اللہ کی راہ میں نکلے تو اللہ اس کا ضامن ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہادت کا درجہ دے کر جنت میں داخل کرے گا ‘ یا اس کو ثواب اور غنیمت کا مال دلا کر اس کے گھر لوٹا لائے گا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ،حدیث نمبر ٣١٢٣)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3123

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک نبی(حضرت یوشع علیہ السلام)نے غزوہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص جس نے ابھی نئی شادی کی ہو اور بیوی کے ساتھ رات بھی نہ گزاری ہو اور وہ رات گزارنا چاہتا ہو اور وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو اور وہ شخص جس نے حاملہ بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو تو(ایسے لوگوں میں سے کوئی بھی)ہمارے ساتھ جہاد میں نہ چلے۔ پھر انہوں نے جہاد کیا ‘ اور جب اس آبادی (اریحا)سے قریب ہوئے تو عصر کا وقت ہوگیا یا اس کے قریب وقت ہوا۔ انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے۔ چناں چہ سورج رک گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی لیکن جلا نہ سکی اس نبی نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے۔ اس لیے ہر قبیلہ کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے(جب بیعت کرنے لگے تو) ایک قبیلہ کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ چوری تمہارے قبیلہ ہی والوں نے کی ہے۔ اب تمہارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں۔ چناں چہ اس قبیلے کے دو تین آدمیوں کا ہاتھ اس طرح ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ‘ تو آپ نے فرمایا کہ چوری تمہیں لوگوں نے کی ہے۔(آخر چوری مان لی گئی)اور وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے(جو غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا ‘ تب آگ آئی اور اسے جلا گئی ‘ پھر غنیمت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جائز قرار دے دی ‘ ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا۔ اس لیے ہمارے واسطے حلال قرار دے دی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ،حدیث نمبر ٣١٢٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ : لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا، وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا، وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا، وَلَا أَحَدٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا. فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا. فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ، فَجَاءَتْ - يَعْنِي النَّارَ - لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا، فَقَالَ : إِنَّ فِيكُمْ غُلُولًا ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ. فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَلْيُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ. فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ. فَجَاءُوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعُوهَا، فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا. ثُمَّ أَحَلَّ اللَّهُ لَنَا الْغَنَائِمَ ؛ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3124

باب: مال غنیمت ان لوگوں کو ملے گا جو جنگ میں حاضر ہوں۔ حضرت زید بن اسلم نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اگر مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کا خیال نہ ہوتا تو جو شہر بھی فتح ہوتا میں اسے فاتحوں میں اسی طرح تقسیم کردیا کرتا جس طرح نبی کریم ﷺ نے خیبر کی تقسیم کی تھی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ،حدیث نمبر ٣١٢٥)

بَابٌ : الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ. حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا، كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3125

باب: اگر کوئی مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرے مگر نیت دین کی ترقی بھی ہو تو کیا ثواب کم ہو گا؟ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی (لاحق بن ضمیرہ باہلی)نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا ایک شخص ہے جو مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوا(اور)ایک شخص ہے جو اس لیے شرکت کرتا ہے کہ اس کی بہادری کے چرچے زبانوں پر آجائیں (اسی طرح) ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے ‘ تو ان میں سے اللہ کی راہ میں کون سا ہوگا؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جنگ میں شرکت اس لیے کرے تاکہ اللہ کا کلمہ (دین)ہی بلند رہے۔ فقط وہی اللہ کے راستے میں ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِلْمَغْنَمِ هَلْ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ،حدیث نمبر ٣١٢٦)

بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِلْمَغْنَمِ هَلْ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ. حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : قَالَ أَعْرَابِيٌّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، مَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3126

باب: جو سربراہ کے پاس پہلے آجائیں تو ان کو وہ تقسیم کردے اور اس وقت جو حاضر نہ ہو ان کا حصہ چھپا کر محفوظ رکھ لیں۔ حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ریشم کی کچھ قبائیں(شیروانیاں)تحفہ کے طور پر آئی تھیں۔ جن میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے ‘ انہیں نبی کریم ﷺ نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء. حضرت مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لیے رکھ لی۔ پھر حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم ﷺ کو بلا لا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کے بٹن ان کے سامنے کردیں۔ پھر فرمایا: ابومسور! یہ قباء میں نے تمہارے لیے الگ کر کے رکھ لی تھی۔ حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث (مرسلاً ہی) روایت کی ہے۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم ﷺ کے یہاں کچھ قبائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ قِسْمَةِ الْإِمَامِ مَا يَقْدَمُ عَلَيْهِ، وَيَخْبَأُ لِمَنْ لَمْ يَحْضُرْهُ أَوْ غَابَ عَنْهُ،حدیث نمبر ٣١٢٧)

بَابُ قِسْمَةِ الْإِمَامِ مَا يَقْدَمُ عَلَيْهِ، وَيَخْبَأُ لِمَنْ لَمْ يَحْضُرْهُ أَوْ غَابَ عَنْهُ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ، فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنُهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ : ادْعُهُ لِي. فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، فَأَخَذَ قَبَاءً فَتَلَقَّاهُ بِهِ وَاسْتَقْبَلَهُ بِأَزْرَارِهِ، فَقَالَ : " يَا أَبَا الْمِسْوَرِ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، يَا أَبَا الْمِسْوَرِ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ". وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شِدَّةٌ. وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . قَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ : قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ. تَابَعَهُ اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3127

باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے اموال کی کس طرح تقسیم کی اور اپنی ضرورتوں میں کس طرح خرچ کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ (انصار) کچھ کھجور کے درخت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل پر فتح دی تو نبی کریم ﷺ اس کے بعد اس طرح کے ہدایا واپس فرما دیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : كَيْفَ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ ؟ وَمَا أَعْطَى مِنْ ذَلِكَ فِي نَوَائِبِهِ،حدیث نمبر ٣١٢٨)

بَابٌ : كَيْفَ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ ؟ وَمَا أَعْطَى مِنْ ذَلِكَ فِي نَوَائِبِهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ، حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3128

Bukhari Sharif Kitabo Farazul Khumse Hadees No # 3129

بَابُ بَرَكَةِ الْغَازِي فِي مَالِهِ حَيًّا وَمَيِّتًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُلَاةِ الْأَمْرِ. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ الْجَمَلِ دَعَانِي فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ : يَا بُنَيِّ، إِنَّهُ لَا يُقْتَلُ الْيَوْمَ إِلَّا ظَالِمٌ أَوْ مَظْلُومٌ، وَإِنِّي لَا أُرَانِي إِلَّا سَأُقْتَلُ الْيَوْمَ مَظْلُومًا، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي، أَفَتُرَى يُبْقِي دَيْنُنَا مِنْ مَالِنَا شَيْئًا ؟ فَقَالَ : يَا بُنَيِّ، بِعْ مَالَنَا فَاقْضِ دَيْنِي، وَأَوْصَى بِالثُّلُثِ وَثُلُثِهِ لِبَنِيهِ. يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ. يَقُولُ : ثُلُثُ الثُّلُثِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا فَضْلٌ بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَيْءٌ، فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ. قَالَ هِشَامٌ : وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ خُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِينَ، وَتِسْعُ بَنَاتٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ وَيَقُولُ : يَا بُنَيِّ، إِنْ عَجَزْتَ عَنْهُ فِي شَيْءٍ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلَايَ. قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى قُلْتُ : يَا أَبَةِ، مَنْ مَوْلَاكَ ؟ قَالَ : اللَّهُ. قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلَّا قُلْتُ : يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ، اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ. فَيَقْضِيهِ، فَقُتِلَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِلَّا أَرَضِينَ، مِنْهَا الْغَابَةُ وَإِحْدَى عَشْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ، وَدَارًا بِالْكُوفَةِ، وَدَارًا بِمِصْرَ. قَالَ : وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ، فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ : لَا، وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ ؛ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ. وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ، وَلَا جِبَايَةَ خَرَاجٍ، وَلَا شَيْئًا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ : فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ، فَوَجَدْتُهُ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ. قَالَ : فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي، كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ ؟ فَكَتَمَهُ، فَقَالَ : مِائَةُ أَلْفٍ. فَقَالَ حَكِيمٌ : وَاللَّهِ مَا أُرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : أَفَرَأَيْتَكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ ؟ قَالَ : مَا أُرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِينُوا بِي. قَالَ : وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ حَقٌّ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ. فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ : إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا. قَالَ : فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا. قَالَ : قَالَ : فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَكَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا. قَالَ : فَبَاعَ مِنْهَا فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ، وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : كَمْ قُوِّمَتِ الْغَابَةُ ؟ قَالَ : كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ أَلْفٍ. قَالَ : كَمْ بَقِيَ ؟ قَالَ : أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ. قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ : قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ : قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ : قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : كَمْ بَقِيَ ؟ فَقَالَ : سَهْمٌ وَنِصْفٌ. قَالَ : قَدْ أَخَذْتُهُ بِخَمْسِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ : وَبَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ : اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا. قَالَ : لَا، وَاللَّهِ لَا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ : أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ. قَالَ : فَجَعَلَ كُلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ، فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ. قَالَ : فَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَرَفَعَ الثُّلُثَ فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ أَلْفُ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ، فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3129

باب:جب سربراہ کسی شخص کو کسی کام سے بھیجے یا اس کو کسی جگہ ٹھہرنے کا حکم دے تو کیا اس کا مال غنیمت سے حصہ نکالا جائے گا؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ (کیوں کہ)ان کے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی(حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا)تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : إِذَا بَعَثَ الْإِمَامُ رَسُولًا فِي حَاجَةٍ، أَوْ أَمَرَهُ بِالْمُقَامِ، هَلْ يُسْهَمُ لَهُ ؟حدیث نمبر ٣١٣٠)

بَابٌ : إِذَا بَعَثَ الْإِمَامُ رَسُولًا فِي حَاجَةٍ، أَوْ أَمَرَهُ بِالْمُقَامِ، هَلْ يُسْهَمُ لَهُ ؟ حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّمَا تَغَيَّبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ، فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3130

باب:(مال غنیمت کا) خمس مسلمانوں کی ضرورت کے لیے ہے۔ اور ہوازن نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اپنے دودھ کے رشتہ کی وجہ سے سوال کیا تھا، (کہ آپ علیہ السلام ان کے اموال اور قیدی واپس کر دیں) تو آپ علیہ السلام نے اس کو مسلمانوں سے معاف کروایا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں سے جو کچھ عطاء کرنے کا وعدہ فرماتے تھے تو وہ مال فئے سے عطا فرماتے تھے اور انفال (مال غنیمت) کے خمس میں سے عطاء فرماتے تھے اور آپ نے جو انصار کو عطا کیا اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو خبیر کی کھجوریں عطا کیں، (تو آپ نے وہ بھی مال غنیمت کے خمس میں سے ہی عطا کی تھیں) مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب ہوازن کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے مالوں اور قیدیوں کی واپسی کا سوال کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ ان دونوں چیزوں میں سے تم ایک ہی واپس لے سکتے ہو۔ اپنے قیدی واپس لے لو یا پھر مال لے لو ‘ اور میں نے تمہارا انتظار بھی کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے تقریباً دس دن تک طائف سے واپسی پر ان کا انتظار کیا اور جب یہ بات ان پر واضح ہوگئی کہ نبی اکرم ﷺ ان کی صرف ایک ہی چیز (قیدی یا مال) واپس کرسکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدی ہی واپس لینا چاہتے ہیں۔ اب نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو خطاب فرمایا:نبی اکرم ﷺ نے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا:امابعد! تمہارے یہ بھائی اب ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردیئے جائیں۔ اسی لیے جو شخص اپنی خوشی سے غنیمت کے اپنے حصے کے(قیدی) واپس کرنا چاہے وہ کر دے اور جو شخص چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہمیں جب اس کے بعد سب سے پہلی غنیمت ملے تو اس میں سے اس کے حصے کی ادائیگی کردی جائے تو وہ بھی اپنے قیدی واپس کر دے ‘ (اور جب ہمیں دوسرے غنیمت ملے گی تو اس کا حصہ ادا کردیا جائے گا) ۔اس پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم اپنی خوشی سے انہیں اپنے حصے واپس کردیتے ہیں۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لیکن ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کن لوگوں نے اپنی خوشی سے اجازت دی اور کن لوگوں نے نہیں دی ہے۔ اس لیے سب لوگ(اپنے خیموں میں)واپس چلے جائیں اور تمہارے سردار لوگ تمہاری بات ہمارے سامنے آ کر بیان کریں۔ سب لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سرداروں نے اس مسئلہ پر گفتگو کی اور پھر نبی اکرم ﷺ کو آ کر خبر دی کہ سب لوگ خوشی سے اجازت دیتے ہیں۔ یہی وہ خبر ہے جو ہوازن کے قیدیوں کے سلسلے میں ہمیں معلوم ہوئی ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ، مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ، فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٣١٣١ و حدیث نمبر ٣١٣٢)

بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ، مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ، فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ؛ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ". وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَ آخِرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا : فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَيِّبَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ". فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3131/3132

ابوقلابہ نے بیان کیا اور (ایوب نے ایک دوسری سند کے ساتھ اس طرح روایت کی ہے کہ)مجھ سے قاسم بن عاصم کلیبی نے بیان کیا اور کہا کہ قاسم کی حدیث (ابوقلابہ کی حدیث کی بہ نسبت) مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے زہدم سے انہوں نے بیان کیا کہ ہم حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھے (کھانا لایا گیا اور) وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا۔ بنی تمیم اللہ کے ایک آدمی سرخ رنگ والے وہاں موجود تھے۔ غالباً موالی میں سے تھے۔ انہیں بھی حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کھانے پر بلایا وہ کہنے لگے کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ایک مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے بڑی نفرت ہوئی اور میں نے قسم کھالی کہ اب کبھی مرغی کا گوشت نہ کھاؤں گا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریب آجاؤ(تمہاری قسم پر)میں تم سے ایک حدیث اسی سلسلے کی بیان کرتا ہوں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (غزوہ تبوک کے لیے) حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کرسکتے کیوں کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آسکے۔ پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں غنیمت کے کچھ اونٹ آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا اور فرمایا کہ قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں؟ چناں چہ نبی اکرم ﷺ نے پانچ اونٹ ہمیں دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا۔خوب موٹے تازے اور فربہ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے آپس میں کہا کہ جو نامناسب طریقہ ہم نے اختیار کیا اس سے نبی اکرم ﷺ کے اس عطیہ میں ہمارے لیے کوئی برکت نہیں ہوسکتی۔ چناں چہ ہم پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے پہلے جب آپ سے درخواست کی تھی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کرسکوں گا۔ شاید آپ علیہ السلام کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا انتظام واقعی نہیں کیا وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمہیں یہ سواریاں دے دی ہیں۔ اللہ کی قسم! تم اس پر یقین رکھو کہ ان شاء اللہ جب بھی میں کوئی قسم کھاؤں پھر مجھ پر یہ بات ظاہر ہوجائے کہ بہتر اور مناسب طرز عمل اس کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہوگی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ، مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ، فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٣١٣٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ : وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيُّ - وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ - عَنْ زَهْدَمٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَأُتِيَ ذَكَرَ دَجَاجَةً، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ، كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ لِلطَّعَامِ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ لَا آكُلُ. فَقَالَ : هَلُمَّ فَلْأُحَدِّثْكُمْ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ". وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا فَقَالَ : " أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ ؟ " فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا : مَا صَنَعْنَا ؟ لَا يُبَارَكُ لَنَا. فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا : إِنَّا سَأَلْنَاكَ أَنْ تَحْمِلَنَا، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، أَفَنَسِيتَ ؟ قَالَ : " لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3133

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بھی لشکر کے ساتھ تھے۔ غنیمت کے طور پر اونٹوں کی ایک بڑی تعداد اس لشکر کو ملی۔ اس لیے اس کے ہر سپاہی کو حصہ میں بھی بارہ بارہ گیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے اور ایک ایک اونٹ اور انعام میں ملا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ، مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ، فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٣١٣٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً، فَكَانَتْ سِهَامُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3134

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ بعض مہموں کے موقع پر اس میں شریک ہونے لشکروں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ (خمس وغیرہ میں سے)اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ، مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ، فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٣١٣٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً، سِوَى قِسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3135

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی ہجرت کی خبر ہمیں ملی تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مہاجر کی حیثیت سے حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے۔ میں تھا میرے بھائی تھے۔(میری عمر ان دونوں سے کم تھی‘ دونوں بھائیوں میں)ایک حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ابورہم۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ اپنی قوم کے چند افراد کے ساتھ یا یہ کہا تریپن یا باون آدمیوں کے ساتھ (یہ لوگ روانہ ہوئے تھے) ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نجاشی کے ملک حبشہ پہنچ گئی اور وہاں ہمیں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ملے۔حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہم یہیں رہیں۔ چناں چہ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے۔ اور پھر سب ایک ساتھ (مدینہ شریف)حاضر ہوئے‘جب ہم خدمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچے تو نبی اکرم ﷺ خیبر فتح کرچکے تھے۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے (دوسرے مجاہدوں کے ساتھ)ہمارا بھی حصہ مال غنیمت میں لگایا۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں سے ہمیں بھی عطا فرمایا حالاں کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی ایسے شخص کا غنیمت میں حصہ نہیں لگایا جو لڑائی میں شریک نہ رہا ہو۔ صرف انہی لوگوں کو حصہ ملا تھا ‘ جو لڑائی میں شریک تھے۔ البتہ ہمارے کشتی کے ساتھیوں اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں شریک کیا تھا(حالاں کہ ہم لوگ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے) ۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ، مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ، فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٣١٣٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ. إِمَّا قَالَ : فِي بِضْعٍ، وَإِمَّا قَالَ : فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ، أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً، فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، وَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا هَاهُنَا وَأَمَرَنَا بِالْإِقَامَةِ، فَأَقِيمُوا مَعَنَا. فَأَقَمْنَا مَعَهُ، حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا - أَوْ قَالَ : فَأَعْطَانَا مِنْهَا - وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ، إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3136

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب بحرین سے وصول ہو کر میرے پاس مال آئے گا تو میں تمہیں اس طرح اس طرح اس طرح (تین لپ) دوں گا اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کیا وصال ہو گیا اور بحرین کا مال اس وقت تک نہ آیا۔ پھر جب وہاں سے مال آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے منادی نے اعلان کیا کہ جس کا بھی نبی کریم ﷺ پر کوئی قرض ہو یا آپ کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے۔ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا۔ چناں چہ انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دیا۔ سفیان بن عیینہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے (لپ بھرنے کی) کیفیت بتائی پھر ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ابن منکدر نے بھی ہم سے اسی طرح بیان کیا تھا۔ اور ایک مرتبہ سفیان نے(سابقہ سند کے ساتھ) بیان کیا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ پھر میں حاضر ہوا اور اس مرتبہ بھی مجھے انہوں نے کچھ نہیں دیا۔ پھر میں تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک مرتبہ آپ سے مانگا اور آپ نے عنایت نہیں فرمایا۔ دوبارہ مانگا ‘ پھر بھی آپ نے عنایت نہیں فرمایا اور پھر مانگا لیکن آپ نے عنایت نہیں فرمایا۔ اب یا آپ مجھے دیجئیے یا پھر میرے بارے میں بخل سے کام لیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ میرے معاملے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ حالاں کہ تمہیں دینے سے جب بھی میں نے منہ پھیرا تو میرے دل میں یہ بات ہوتی تھی کہ تمہیں کبھی نہ کبھی دینا ضرور ہے۔، سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن علی نے اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کردیا اور فرمایا کہ اسے شمار کر میں نے شمار کیا تو پانچ سو کی تعداد تھی‘ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اتنا ہی دو مرتبہ اور لے لے۔ اور ابن المنکدر نے بیان کیا(کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا) بخل سے زیادہ بدترین اور کیا بیماری ہوسکتی ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ، مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ، فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٣١٣٧)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَدْ جَاءَنِي مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". فَلَمْ يَجِئْ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا فَنَادَى : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا. فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا. فَحَثَا لِي ثَلَاثًا، وَجَعَلَ سُفْيَانُ يَحْثُو بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ لَنَا : هَكَذَا قَالَ لَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ. وَقَالَ مَرَّةً : فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَسَأَلْتُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقُلْتُ : سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، ثُمَّ سَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي. قَالَ : قُلْتَ : تَبْخَلُ عَلَيَّ ؟ مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ. قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ : فَحَثَا لِي حَثْيَةً وَقَالَ : عُدَّهَا. فَوَجَدْتُهَا خَمْسَمِائَةٍ، قَالَ : فَخُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ، وَقَالَ - يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ - : وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ؟

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3137

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ مقام جعرانہ میں غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص ذوالخویصرہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہا، انصاف سے کام لیجئے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر میں بھی انصاف سے کام نہ لوں تو میں خیر سے محروم ہو جاؤں گا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ، مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ، فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعِدُ النَّاسَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ مِنَ الْفَيْءِ وَالْأَنْفَالِ مِنَ الْخُمُسِ، وَمَا أَعْطَى الْأَنْصَارَ، وَمَا أَعْطَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَمْرَ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٣١٣٨)

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعْرَانَةِ، إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : اعْدِلْ. فَقَالَ لَهُ : " شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3138

باب: نبی کریم ﷺ کا احسان رکھ کر قیدیوں کو مفت چھوڑ دینا، اور خمس وغیرہ نہ نکالنا۔ محمد بن جبیر نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد حضرت جبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی (جو کفر کی حالت میں مرگیا تھا)زندہ ہوتے اور ان نجس، ناپاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش سے انہیں (فدیہ لیے بغیر)چھوڑ دیتا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا مَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأُسَارَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمِّسَ،حدیث نمبر ٣١٣٩)

بَابُ مَا مَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأُسَارَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمِّسَ. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ : لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3139

باب: اس کی دلیل کہ خمس میں امام کو اختیار ہے وہ اسے اپنے بعض (مستحق) رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے اور جس کو چاہے نہ دے، دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے خمس میں سے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو دیا (اور دوسرے قریش کو نہ دیا)۔اور عمر بن عبدالعزیز نے کہا:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قرابت داروں کو خمس عطا نہیں کیا، اور زیادہ محتاجوں کو چھوڑ کر اپنے قرابت داروں کو نہیں دیا، بلکہ جو زیادہ ضرورت مند تھا اسی کو عطا فرمایا خواہ وہ قرابت میں دور کا کیوں نہ ہو اور آپ اسی کو عطا فرماتے تھے جو اپنی ضرورت کی شکایت کرتا تھا، اور آپ ان لوگوں کو عطا فرماتے جن کو آپ کی طرف داری کرنے کی وجہ سے اور آپ کی مدد کرنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا، حالاں کہ ہم کو آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کو آپ سے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہے۔ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور(اس روایت میں) یہ زیادتی کی کہ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم ﷺ نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا، اور ابن اسحاق نے کہا ہے کہ عبدشمس، ہاشم اور مطلب ایک ماں سے تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بن مرہ تھا اور نوفل باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے (ان کی ماں دوسری تھیں) ۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِلْإِمَامِ، وَأَنَّهُ يُعْطِي بَعْضَ قَرَابَتِهِ دُونَ بَعْضٍ - مَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي الْمُطَّلِبِ وَبَنِي هَاشِمٍ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ،حدیث نمبر ٣١٤٠)

بَابٌ : وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِلْإِمَامِ، وَأَنَّهُ يُعْطِي بَعْضَ قَرَابَتِهِ دُونَ بَعْضٍ - مَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي الْمُطَّلِبِ وَبَنِي هَاشِمٍ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ. قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : لَمْ يَعُمَّهُمْ بِذَلِكَ، وَلَمْ يَخُصَّ قَرِيبًا دُونَ مَنْ أَحْوَجُ إِلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي أَعْطَى لِمَا يَشْكُو إِلَيْهِ مِنَ الْحَاجَةِ، وَلِمَا مَسَّتْهُمْ فِي جَنْبِهِ مِنْ قَوْمِهِمْ وَحُلَفَائِهِمْ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبِ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ ". قَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، وَزَادَ : قَالَ جُبَيْرٌ : وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : عَبْدُ شَمْسٍ وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ إِخْوَةٌ لِأُمٍّ، وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ، وَكَانَ نَوْفَلٌ أَخَاهُمْ لِأَبِيهِمْ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3140

باب:جس نے مقتول کے سامان سے خمس نہیں نکالا۔ اور کسی نے کسی مقتول کو قتل کیا تو اس سے چھینے ہوئے سامان کا وہی مالک ہے بغیر خمس کے اور بغیر امام کے حکم کے۔ صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا کہ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص)نے بیان کے کہ بدر کی لڑائی میں، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا، تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے۔ میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زبردست زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا، اور پوچھا چچا! آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہوگا، مر نہ جائے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی۔ پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں(کفار کے لشکر میں)گھومتا پھر رہا تھا۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ سامنے (پھرتا ہوا نظر آ رہا) ہے۔ دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی، نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے؟ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے۔ اس لیے آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کرلی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے۔ اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا۔ وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع تھے۔ محمد نے کہا یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَنْ لَمْ يُخَمِّسِ الْأَسْلَابَ. وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمِّسَ. وَحُكْمِ الْإِمَامِ فِيه،حدیث نمبر ٣١٤١)

بَابُ مَنْ لَمْ يُخَمِّسِ الْأَسْلَابَ. وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمِّسَ. وَحُكْمِ الْإِمَامِ فِيهِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ، فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بِغُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ : يَا عَمِّ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ، مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ، حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا. فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ، قُلْتُ : أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي سَأَلْتُمَانِي. فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ : " أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ؟ " قَالَ : كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُهُ. فَقَالَ : " هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ؟ " قَالَا : لَا. فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ : " كِلَاكُمَا قَتَلَهُ، سَلَبُهُ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ". وَكَانَا مُعَاذَ ابْنَ عَفْرَاءَ وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3141

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے سال ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو(شروع میں) اسلامی لشکر ہارنے لگا۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ مشرکین کے لشکر کا ایک شخص ایک مسلمان کے اوپر چڑھا ہوا ہے۔ اس لیے میں فوراً ہی گھوم پڑا اور اس کے پیچھے سے آ کر تلوار اس کی گردن پر ماری۔ اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا، اور مجھے اتنی زور سے اس نے دبوچا کہ میری روح جیسے قبض ہونے کو تھی۔ آخر جب اس کو موت نے آ دبوچا، تب کہیں جا کر اس نے مجھے چھوڑا۔ اس کے بعد مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملے، تو میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اب کس حالت میں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا۔ لیکن مسلمان ہارنے کے بعد پھر مقابلہ پر سنبھل گئے تو نبی کریم ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جس نے بھی کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس پر وہ گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا ساز و سامان اسے ہی ملے گا (حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا)میں بھی کھڑا ہوا۔ اور میں نے کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ لیکن(جب میری طرف سے کوئی نہ اٹھا تو)میں بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ(آج) جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کی طرف سے کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا سارا سامان اسے ملے گا۔ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ اور پھر مجھے بیٹھنا پڑا۔ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم ﷺ نے وہی ارشاد دہرایا اور اس مرتبہ جب میں کھڑا ہوا تو نبی کریم ﷺ نے خود ہی دریافت فرمایا، کس چیز کے متعلق کہہ رہے ہو ابوقتادہ! میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے سارا واقعہ بیان کردیا، تو ایک صاحب (اسود بن خزاعی اسلمی)نے بتایا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! اور اس مقتول کا سامان میرے پاس محفوظ ہے۔ اور میرے حق میں انہیں راضی کر دیجئیے (کہ وہ مقتول کا سامان مجھ سے نہ لیں)لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ، جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے لڑے، نبی کریم ﷺ ایسا نہیں کریں گے کہ ان کا سامان تمہیں دے دیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر نے سچ کہا ہے۔ پھر آپ نے سامان حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر اس کی زرہ بیچ کر میں نے بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس،بَابُ مَنْ لَمْ يُخَمِّسِ الْأَسْلَابَ. وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمِّسَ. وَحُكْمِ الْإِمَامِ فِيهِ،حدیث نمبر ٣١٤٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاسْتَدَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ، حَتَّى ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ : مَا بَالُ النَّاسِ ؟ قَالَ : أَمْرُ اللَّهِ. ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ". فَقُمْتُ فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ". فَقُمْتُ فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ مِثْلَهُ، فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ " ؟ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَلَبُهُ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ عَنِّي. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَا هَا اللَّهِ إِذَنْ يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْطِيكَ سَلَبَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ ". فَأَعْطَاهُ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3142

باب:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مؤلف القلوب اور دوسروں کو جو خمس وغیرہ سے عطاء فرماتے تھے۔ باب کے عنوان میں جو حدیث مذکور ہے اس حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ حضرت سعید بن مسیب اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ روپیہ مانگا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے عطا فرمایا، پھر دوبارہ میں نے مانگا اور اس مرتبہ بھی آپ نے عطا فرمایا، پھر ارشاد فرمایا،؛اے حکیم! یہ مال دیکھنے میں سرسبز بہت میٹھا اور مزیدار ہے لیکن جو شخص اسے دل کی بےطمعی کے ساتھ لے اس کے مال میں تو برکت ہوتی ہے اور جو شخص اسے لالچ اور حرص کے ساتھ لے تو اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی، بلکہ اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کھائے جاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور اوپر کا ہاتھ(دینے والا) نیچے کے ہاتھ(لینے والے)سے بہتر ہوتا ہے۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! آپ کے بعد اب میں کسی سے کچھ بھی نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ اس دنیا میں سے چلا جاؤں گا۔ چناں چہ (نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں دینے کے لیے بلاتے، لیکن وہ اس میں سے ایک پیسہ بھی لینے سے انکار کردیتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ (اپنے زمانہ خلافت میں انہیں دینے کے لیے بلاتے اور ان سے بھی لینے سے انہوں نے انکار کردیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مسلمانو! میں انہیں ان کا حق دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فئے کے مال سے ان کا حصہ مقرر کیا ہے۔ لیکن یہ اسے بھی قبول نہیں کرتے۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی لیکن نبی اکرم ﷺ کے بعد انہوں نے کسی سے کوئی چیز نہیں لی۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر ٣١٤٣)

بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ". قَالَ حَكِيمٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا. فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُو حَكِيمًا لِيُعْطِيَهُ الْعَطَاءَ فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قَسَمَ اللَّهُ لَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ ، فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ. فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3143

حضرت نافع نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! زمانہ جاہلیت (کفر) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا۔حضرت نافع نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا (اور سب کو مفت آزاد کردیا)تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا،اے عبداللہ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر احسان کیا ہے(اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دئیے گئے ہیں)حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دے۔حضرت نافع نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مقام جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا۔ اگر نبی کریم ﷺ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھتے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو یہ ضرور معلوم ہوتا اور جریر بن حازم نے جو ایوب سے روایت کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے، اس میں یوں ہے کہ(وہ دونوں باندیاں جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تھیں)خمس میں سے تھیں۔(اعتکاف سے متعلق یہ روایت)معمر نے ایوب سے نقل کی ہے، ان سے نافع نے، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نذر کا قصہ جو روایت کیا ہے اس میں ایک دن کا لفظ نہیں ہے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيَّ اعْتِكَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ. قَالَ : وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ، فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ مَكَّةَ. قَالَ : فَمَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَبْيِ حُنَيْنٍ، فَجَعَلُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : مَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّبْيِ. قَالَ : اذْهَبْ فَأَرْسِلِ الْجَارِيَتَيْنِ. قَالَ نَافِعٌ : وَلَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، وَلَوِ اعْتَمَرَ لَمْ يَخْفَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ. وَزَادَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مِنَ الْخُمُسِ. وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : فِي النَّذْرِ. وَلَمْ يَقُلْ : يَوْمٍ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3144

حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا۔ غالباً جن لوگوں کو نبی اکرم ﷺ نے نہیں دیا تھا، ان کو ناگوار ہوا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں کچھ ایسے لوگوں کو دیتا ہوں کہ مجھے جن کے بگڑ جانے (اسلام سے پھرجانے) اور بےصبری کا ڈر ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر میں بھروسہ کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھلائی اور بےنیازی رکھی ہے(ان کو میں نہیں دیتا)حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں شامل ہیں۔ حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری نسبت یہ جو کلمہ فرمایا اگر اس کے بدلے سرخ اونٹ ملتے تو بھی میں اتنا خوش نہ ہوتا۔ ابوعاصم نے جریر سے بیان کیا کہ میں نے حسن بصریٰ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم سے حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کے پاس مال یا قیدی آئے تھے اور انہیں کو آپ نے تقسیم فرمایا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٤٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا، وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَكَأَنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ : " إِنِّي أُعْطِي قَوْمًا أَخَافُ ظَلَعَهُمْ وَجَزَعَهُمْ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْغِنَى، مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ". فَقَالَ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ : مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ . وَزَادَ أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ - أَوْ بِسَبْيٍ - فَقَسَمَهُ بِهَذَا.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3145

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قریش کو میں ان کا دل ملانے کے لیے دیتا ہوں، کیوں کہ ان کی جاہلیت(کفر) کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے(اس لیے ان کی دلجوئی کرنا ضروری ہے) ۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُعْطِي قُرَيْشًا أَتَأَلَّفُهُمْ ؛ لِأَنَّهُمْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3146

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور نبی کریم ﷺ قریش کے بعض آدمیوں کو (تالیف قلب کی غرض سے)سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی بخشش کرے۔ آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا۔ حالاں کہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔(قریش کے لوگوں کو حال ہی میں ہم نے مارا، ان کے شہر کو ہم ہی نے فتح کیا)حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو نبی اکرم ﷺ نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو نبی اکرم ﷺ نے نہیں بلایا۔ جب سب انصاری لوگ جمع ہوگئے تو نبی اکرم ﷺ بھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے؟ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم میں جو عقل والے ہیں، وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں، ہاں چند نوعمر لڑکے ہیں، انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہ ﷺ کی بخشش کرے، نبی اکرم ﷺ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالاں کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہے۔(اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں)کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے، تو تم لوگ اپنے گھروں کو رسول اللہ کو لے کر واپس جا رہے ہو گے۔ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے۔ سب انصاریوں نے کہا: بیشک یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا، اس وقت تم صبر کرنا، (دنگا فساد نہ کرنا)یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوض کوثر پر۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، پھر ہم سے صبر نہ ہوسکا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٤٧)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ، فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. قَالَ أَنَسٌ : فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ ". قَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ : أَمَّا ذَوُو آرَائِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُ الْأَنْصَارَ، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُوا إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ ". قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ رَضِينَا. فَقَالَ لَهُمْ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَوْضِ ". قَالَ أَنَسٌ : فَلَمْ نَصْبِرْ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3147

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔اور آپ کے ساتھ اور بھی صحابہ تھے۔حنین کے جہاد سے واپسی ہو رہی تھی۔ راستے میں کچھ دیہاتی نبی کریم ﷺ سے لپٹ گئے(مال غنیمت کا مال)آپ سے مانگتے تھے۔وہ آپ سے ایسا لپٹے کہ نبی کریم ﷺ کو ایک ببول کے درخت کی طرف دھکیل لے گئے۔اور آپ کی چادر اس میں اٹک کر رہ گئی۔اس وقت آپ ٹھہر گئے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:میری چادر تو دے دو۔ اگر میرے پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں اونٹ ہوتے تو وہ بھی تم میں تقسیم کردیتا۔تم مجھے بخیل، جھوٹا اور بزدل ہرگز نہیں پاؤ گے۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٤٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلًا مِنْ حُنَيْنٍ، عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ، حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَعْطُونِي رِدَائِي، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا، وَلَا كَذُوبًا، وَلَا جَبَانًا ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3148

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا۔نبی اکرم ﷺ نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی نے نبی کریم ﷺ کو گھیر لیا اور زور سے آپ کو کھینچا، میں نے آپ علیہ السلام کے شانے کو دیکھا، اس پر چادر کے کونے کا نشان پڑگیا، ایسا کھینچا۔ پھر کہنے لگا۔ اللہ کا مال جو آپ علیہ السلام کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے۔نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دئیے۔پھر نبی کریم ﷺ نے اسے دینے کا حکم فرمایا(آخری جملہ میں سے ترجمۃ الباب نکلتا ہے)۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٤٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ : مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ. فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3149

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حنین کی لڑائی کے بعد نبی کریم ﷺ نے(غنیمت کی) تقسیم میں بعض لوگوں کو زیادہ دیا۔جیسے حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دئیے، اتنے ہی اونٹ حضرت عیینہ بن حصین رضی اللہ عنہ کو دئیے اور کئی عرب کے اشراف لوگوں کو اسی طرح تقسیم میں زیادہ دیا۔ اس پر ایک شخص(معتب بن قشیر منافق)نے کہا، کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں نہ تو عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور نہ اللہ کی خوشنودی کا خیال ہوا۔ میں نے کہا کہ واللہ! اس کی خبر میں رسول اللہ ﷺ کو ضرور دوں گا۔ چناں چہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی کریم ﷺ نے سن کر فرمایا اگر اللہ اور اس کا رسول بھی عدل نہ کرے تو پھر کون عدل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ ان کو لوگوں کے ہاتھ اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٥٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، آثَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي الْقِسْمَةِ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ فَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ، قَالَ رَجُلٌ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا عُدِلَ فِيهَا، وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ. فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ رَحِمَ اللَّهُ مُوسَى، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ".

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3150

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو جو زمین عنایت فرمائی تھی، میں اس میں سے گٹھلیاں (سوکھی کھجوریں)اپنے سر پر لایا کرتی تھی۔ وہ جگہ میرے گھر سے دو میل فرسخ کی دو تہائی پر تھی۔ ابوضمرہ نے ہشام سے بیان کیا اور انہوں نے اپنے باپ سے (مرسلاً )بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو بنی نضیر کی زمینوں میں سے زمین کا ایک قطعہ عطا فرمایا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٥١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ : كُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي، وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ. وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ : عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3151

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو سر زمین حجاز سے نکال کر دوسری جگہ بسا دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر فتح کیا تو آپ کا بھی ارادہ ہوا تھا کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔جب آپ نے فتح پائی تو اس وقت وہاں کی کچھ زمین یہودیوں کے قبضے میں ہی تھی۔ اور اکثر زمین پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کے قبضے میں تھی۔ لیکن پھر یہودیوں نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ زمین انہیں کے پاس رہنے دیں۔ وہ (کھیتوں اور باغوں میں)کام کیا کریں گے۔ اور آدھی پیداوار لیں گے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔ چناں چہ یہ لوگ وہیں رہے اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دور خلافت میں(مسلمانوں کے خلاف ان کے فتنوں اور سازشوں کی وجہ سے یہود خیبر کو)تیماء یا اریحا کی طرف نکال دیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر ٣١٥٢)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا، وَكَانَتِ الْأَرْضُ لَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلْيَهُودِ وَلِلرَّسُولِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ، وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُقِرُّكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ". فَأُقِرُّوا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَا.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3152

باب:دار الحرب کھانے کی چیزوں کے ملنے کا حکم حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ کسی شخص نے ایک کپی پھینکی جس میں چربی بھری ہوئی تھی۔ میں اسے لینے کے لیے لپکا، لیکن مڑ کر جو دیکھا تو پاس ہی نبی کریم ﷺ موجود تھے۔ میں شرم سے پانی پانی ہوگیا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا يُصِيبُ مِنَ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ ،حدیث نمبر ٣١٥٣)

بَابُ مَا يُصِيبُ مِنَ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ. حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ، فَرَمَى إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيهِ شَحْمٌ، فَنَزَوْتُ لِآخُذَهُ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3153

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (نبی کریم ﷺ کے زمانے میں)غزووں میں ہمیں شہد اور انگور ملتا تھا۔ ہم اسے اسی وقت کھالیتے (تقسیم کے لیے اٹھا نہ رکھتے)۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا يُصِيبُ مِنَ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣١٥٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ : كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ فَنَأْكُلُهُ وَلَا نَرْفَعُهُ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3154

حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ جنگ خیبر کے موقع پر فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو(مال غنیمت میں) گھریلو گدھے بھی ہمیں ملے۔ چناں چہ انہیں ذبح کر کے(پکانا شروع کردیا گیا)جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ ﷺ کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ۔حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض لوگوں نے اس پر کہا کہ غالباً نبی اکرم ﷺ نے اس لیے روک دیا ہے کہ ابھی تک اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا۔ لیکن بعض دوسرے صحابہ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے گدھے کا گوشت قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔(شیبانی نے بیان کیا کہ)میں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے قطعی طور پر حرام کردیا تھا۔ (بخاری شریف کتاب فرض الخمس ،بَابُ مَا يُصِيبُ مِنَ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ،حدیث نمبر ٣١٥٥)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، فَانْتَحَرْنَاهَا، فَلَمَّا غَلَتِ الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ، فَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقُلْنَا : إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ. قَالَ : وَقَالَ آخَرُونَ : حَرَّمَهَا الْبَتَّةَ. وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ : حَرَّمَهَا الْبَتَّةَ.

Bukhari Shareef, Kitabo Farazul Khumse, Hadees No. 3155

Bukhari Shareef : Kitabo Farazul Khumse

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ فَرْضُ الْخُمُسِ

|

•