
قرآن کریم کے فضائل, وحی نازل ہونے کی کیفیت اور پہلی وحی ۔ ابن عباس کا قول ہے: الْمُهَيْمِنُ امین، یعنی قرآن کریم تمام پچھلی کتابوں کا امین ہے۔ ابوسلمہ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں حضرات نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نزول قرآن کے نزول کے وقت دس سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں جلوہ افروز رہے۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن، بَابٌ: كَيْفَ نَزَلَ الوَحْيُ، وَأَوَّلُ مَا نَزَلَ،حدیث نمبر ٤٩٧٨)
معمر ابو عثمان سے راوی ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ام المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اس وقت آپ کے پاس تھیں۔ پس آپ گفتگو کرتے رہے پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا: یہ کون ہیں؟ یا ایسا ہی کوئی لفظ ادا فرمایا انہوں نے کہا کہ دحیہ کلبی ہیں جب وہ کھڑے ہوئے تو یہ فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم میں تو یہی سمجھی تھی حتیٰ کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا: آپ نے فرمایا کہ مجھے جبرئیل نے یہ بتایا ہے جو کچھ فرمایا میرے والد ماجد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے انہوں نے کہا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،حدیث نمبر ٤٩٧٩،و حدیث نمبر ٤٩٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں مگر جتنے لوگ اس پر ایمان لائے ان کے مطابق ہی اسے معجزے دیئے گئے اور جو چیز ( بطور معجزہ) مجھے دی گئی وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری جانب فرمائی۔ پس مجھے امید ہے کہ بروز قیامت کے روز میرے متبعین سب سے زیادہ ہوں گے۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،حدیث نمبر ٤٩٨١)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر آپ کے وصال سے قبل برابر وحی کا نزول شروع کردیا حتی کہ وصال کا وقت قریب آنے پر وحی بہت زیادہ آنے لگی تھی اور پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وصال فرمایا۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،حدیث نمبر ٤٩٨٢)
اسود بن قیس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیمار علیل ہو گئے تو آپ نے ایک دو راتیں قیام نہ فرمایا۔ پس ایک عورت(عورا زوجہ ابولہب ) آپ کے پاس آکر کہنے لگی: اے محمد ! مجھے ایسا لگتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان : چاشت کی قسم اور رات کی جب پردہ ڈالے کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا (والضحی ٢) (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،حدیث نمبر ٤٩٨٣)
قرآن کریم قریش اور عرب کی زبان میں نازل ہوا ہے، اور ارشاد باری تعالیٰ :قُرْآنًا عَرَبِيًّا سے یہی عربی زبان مراد ہے جو بالکل واضح ہے۔ زہری کا بیان ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت حضرت سعید بن العاص، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبد الرحمن بن حارث رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم دیا کہ قرآن مجید کو ایک جگہ اکھٹا کریں اور اُن سے فرمایا کہ اگر کسی مقام پر تمہارے اور زید بن ثابت کے درمیان قرآن کریم کی عربی زبان کے متعلق کوئی اختلاف واقع ہو تو اس آیت کو قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن کریم اُن کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ نَزَلَ القُرْآنُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ وَالعَرَبِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ،حدیث نمبر ٤٩٨٤)
صفوان بن یعلی ابن امیہ کا بیان ہے کہ حضرت یعلی ابن امیہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھوں جبکہ آپ پر وحی کا نزول ہوا، جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جعرانہ کے مقام پر تھے اور آپ کے اوپر ایک کپڑا تان رکھا تھا اور صحابہ کرام میں سے کئی حضرات آپ کی خدمت میں حاضر تھے تو ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ ! آپ اس آدمی کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس نے جبّے میں احرام باندھا ہوا ہو اور اس نے خوشبو لگائی ہوئی ہو۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کچھ دیر تو اسے دیکھتے رہے پھر آپ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ حضرت عمر نے حضرت یعلیٰ کو اشارے سے بلایا۔ حضرت یعلی آئے اور سر اندر کر کے دیکھا تو حضور کا مبارک چہرہ سرخ ہو گیا تھا ، خراٹوں جیسی آواز آرہی تھی۔ کچھ دیر تک یہی حالت رہی پھر دور ہو گئی تو آپ نے فرمایا:وہ آدمی کہاں ہے جس نے عمرہ کے متعلق ابھی کچھ پوچھا تھا ؟ پس اس شخص کو تلاش کیا گیا اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جب تم نے اپنے اوپر خوشبو لگائی ہوتی ہے تو اسے تین دفعہ دھوڈالو اور جبّہ اتار دو، پھر عمرہ میں اسی طرح کرو جس طرح تم اپنے حج میں کرتے ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،حدیث نمبر ٤٩٨٥)
قرآن مجید کا جمع کرنا, حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا جبکہ یمامہ والوں سے لڑائی ہو رہی تھی اور اس وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اُن کے پاس موجود تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کریم کے کتنے ہی قاری شہید ہو گئے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ قاریوں کے مختلف مقامات پر شہید ہو جانے کے سبب قرآن مجید کا اکثر حصہ ضایع ہو جائے گا، لہذا میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ قرآن کریم کے جمع کرنے کا حکم فرمائیں۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں وہ کام کس طرح کروں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم پھر بھی یہ اچھا ہے۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ متواتر اس کے متعلق مجھ سے اصرار کرتے رہے حتی کہ اللہ تعالٰی نے اس کے متعلق میرا سینہ کھول دیا اور میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ متفق ہو گیا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نوجوان آدمی اور صاحب عقل و دانش ہو اور تمہاری قرآن فہمی پر کسی کو کلام بھی نہیں اور تم رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کاتب وحی بھی ہو۔ پس بھر پور کوشش کے ساتھ قرآن کریم کو جمع کردو۔ پس خدا کی قسم، اگر مجھے پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیا جاتا تو اُسے اس سے بھاری نہ جانتا جو حکم دیا گیا کہ قرآن کریم کو جمع کروں۔ میں نے عرض کی کہ آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا، خدا کی قسم، پھر بھی یہ بہتر ہے۔ پس متواتر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مباحثہ کرتا رہا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس طرح کھول دیا جس طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کھول دیا تھا۔ پس میں نے قرآن کریم کو کھجور کے پتوں، پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کر کے جمع کیا یہاں تک کہ سورۃ التوبہ کی آخری آیت حضرت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ملی اور کسی سے دستیاب نہ ہوئی لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ . پس یہ جمع کیا ہوا نسخہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رہا۔ جب ان کا وصال ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اور پھر حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کی تحویل میں رہا۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ جَمْعِ القُرْآنِ ،حدیث نمبر ٤٩٨٦)
حضرت ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت حذیفہ بن الیمان جب اہل شام اور اہل عراق کے ساتھ ارمینیہ اور اذربئیجان کی فتوحات حاصل کر رہے تھے تو امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ انہیں شامیوں اور عراقیوں کے قرات میں اختلاف نے مضطرب کر دیا تھا۔ چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے امیر المومنین! یہود و نصاری کی طرح کتاب الٰہی میں اختلاف کرنے سے پہلے اس امت کی مدد فرمائیے۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے لیے پیغام بھیجا کہ قرآن کریم کا جو اصل نسخہ آپ کے پاس محفوظ ہے وہ ہمیں عطا فرمائیے ، ہم اسے واپس کردیں گے۔ پس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ نسخہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کر دیا۔ پس انہوں نے حضرت زید بن ثابت ، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کو حکم دیا تو انہوں نے اس کی نقلیں تیار کیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آخر الذکر تینوں قریشی حضرات سے فرمایا کہ جب تمہارے اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مابین کسی لفظ میں اختلاف واقع ہو تو اسے قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن مجید کا نزول ان کی زبان میں ہوا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ہے اور اصل نسخہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا گیا۔ پھر نقل شدہ نسخوں سے ایک ایک نسخہ ہر علاقے میں بھیج دیا گیا اور حکم دیا کہ ان کے خلاف جو کسی کے پاس قرآن کریم کے نام سے لکھا ہوا ہو اسے جلا دیا جائے۔ ابن شہاب کو خارجہ بن زید نے بتایا اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا کہ قرآن کریم جمع کرتے وقت مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں مل رہی تھی حالانکہ وہ میں نے رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی۔ جب ہم نے اسے تلاش کیا تو حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی یعنی: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رَجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیه. پس ہم نے جمع کردہ نسخہ کے اندر اس کی سورت کے مقام پر اُسے لکھ دیا, (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ جَمْعِ القُرْآنِ،حدیث نمبر ٤٩٨٧،و حدیث نمبر ٤٩٨٨)
کاتب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم, حضرت زید ثابت انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلا کر فرمایا: بیشک تم رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وحی لکھ کر دیتے رہے لہذا قرآن کریم جمع کرو۔ چنانچہ میں نے جمع کیا ، حتی کہ سورۃ التوبہ کی آخری دو آیتیں حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں اور ان کے سوا اور کسی کے پاس نہ ملی یعنی لَقَدْ جَاءَ كُم رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ... تا. آخری سورت, (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ كَاتِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،حدیث نمبر ٤٩٨٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِن المؤمنينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: زید بن ثابت کو بلاؤ اور وہ تختی ، دوات اور شانے کی ہڈی لے کر آئیں ۔ راوی کو شبہہ ہے کہ شاید آپ نے شانے کی ہڈی کا پہلے نام لیا آپ نے لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ لکھنے کے لیے فرمایا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت عمرو بن ام مکتوم بیٹھے ہوئے تھے جو بصارت سے محروم تھے، انہوں نے عرض کی۔یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ! میرے متعلق کیا حکم ہے جبکہ میں تو بینائی سے محروم ہوں ۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ کنز الایمان برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے ہے جہاد کرتے ہیں (النساء ۹۵) (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ كَاتِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٩٩٠)
قرآن کریم سات قرآتوں میں نازل ہوا ہے, عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت جبرئیل نے مجھے ایک قرآت قرآن مجید پڑھایا مگر اس میں زیادہ قرآتوں کا مطالبہ کرتا رہا حتی کہ سات قرآتوں تک اجازت مل گئی۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ أُنْزِلَ القُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ،حدیث نمبر ٤٩٩١)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ اُن سے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن عبد القاری نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں،میں نے ہشام بن حکیم کو سورۃ الفرقان پڑھتے ہوئے سنا۔ وہ کسی اور قرآت میں پڑھ رہے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے میں نے اس قرآت میں نہیں پڑھی تھی۔قریب تھا کہ میں نماز ہی میں اُن پر ٹوٹ پڑتا لیکن سلام : پھیرنے تک میں نے صبر سے کام لیا اور پھر میں نے اپنی چادر اُن کے گلے میں ڈال کر کہا تمہیں اس طرح یہ سورت کس نے پڑھائی، جس طرح میں نے تمہاری زبانی سنی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تم نے جھوٹ بولا کیونکہ رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے تو اور طرح پڑھائی ہے، پس میں انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا اور میں نے عرض کی کہ جس طرح آپ نے سورۃ الفرقان مجھے سکھائی میں نے انہیں اس سے مختلف طریقے پر قرآت کرتے ہوئے سنا ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہ انہیں چھوڑ دو اور اے ہشام ! تم پڑھو۔ پس انہوں نے ہی سورۃ الفرقان اسی طرح پڑھی جس طرح میں نے ان کی زبانی سنی تھی۔ پس رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے پھر فرمایا: اے عمر ! تم پڑھو، پس میں نے اسی طرح پڑھی جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی تھی ہیں رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ بیشک قرآن کریم سات قراتوں میں نازل فرمایا گیا ہے۔ پس ان میں سے جو طریقہ جس کے لیے آسان ہو اُسی طریقے سے پڑھا کرے۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ أُنْزِلَ القُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ،حدیث نمبر ٤٩٩٢)
قرآن مجید کی ترتیب, یوسف بن مالک کا بیان ہے کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک عراقی آیا اور اس نے کہا: کون سا کفن بہتر ہے؟ حضرت صدیقہ نے فرمایا۔ تجھ پر افسوس ہے، کفن تجھے کیا نقصان دیتا ہے؟ عرض کی: اے ام المؤمنین! مجھے اپنا قرآن کریم تو دکھائے۔ فرمایا: بھلا کس لیے؟ عرض کی تاکہ میں قرآن کریم کی ترتیب ٹھیک کرلوں کیونکہ لوگ خلاف ترتیب پڑھتے ہیں۔ فرمایا اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں کہ جس کو چاہو پہلے پڑھ لو۔ قرآن کریم کا جو حصہ پہلے نازل ہوا وہ ہوا اور وہ مفصل سورتوں میں سے ایک سورت ہے جس میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں میں اسلام جم گیا تو حلال و حرام کے احکام نازل ہوئے۔ اگر شروع ہی میں یہ نازل ہوتا کہ شراب نہ پینا تو لوگ کہتے کہ ہم تو شراب کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اگر یہ نازل ہوتا کہ زنا نہ کرنا تو لوگ کہتے کہ ہم تو زنا کبھی ترک نہیں کریں گے۔ جب محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں یہ آیت: ترجمہ کنز الایمان: بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑی اور سخت کڑوی (القمر ٤٦) نازل ہوئی تو میں چھوٹی سی لڑکی تھی اور کھیلتی کودتی تھی اور جب سورۃ البقرہ اور سورۃ النساء نازل ہوئیں تو میں آپ کی حضوری میں تھی راوی کا بیان ہے کہ پھر آپ نے مصحف نکالا اور اسے سورتوں کی ترتیب لکھوا دی۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ تَأْلِيفِ القُرْآنِ ،حدیث نمبر ٤٩٩٣)
عبد الرحمن بن یزید کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورہ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف، سورۃ مریم، سورہ طٰہ اور سورۃ الانبیاء سب سے پہلے نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہیں اور عرصہ دراز سے میری علم میں ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ تَأْلِيفِ القُرْآنِ،حدیث نمبر ٤٩٩٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے سورۃ الاعلی میں نے سیکھ لی تھی۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ تَأْلِيفِ القُرْآنِ،حدیث نمبر ٤٩٩٥)
شفیق کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ان جڑواں سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو کو ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ یہ فرما کر حضرت عبداللہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ علقمہ بھی چلے گئے ۔ جب علقمہ باہر تشریف لائے تو ہم نے اس کے متعلق ان سے دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ابتدائی بیس سورتیں تو لمبی ہیں مطابق ترتیب حضرت ابن مسعود کے اور ان کی دوسری حم والی سورتیں یعنی الدخان اور عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ تَأْلِيفِ القُرْآنِ،حدیث نمبر ٤٩٩٦)
باب حضرت جبرئیل عَلَيْهِ السلام ، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دورہ کیا کرتے تھے ۔ مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھ سے نبی کرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سرگوشی کی کہ ہر سال جبرئیل علیہ السلام میرے ساتھ قرآن کریم کا ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال دو مرتبہ کیا ہے۔ میں تو یہی سمجھا ہوں کہ میرے وصال کا وقت آگیا ہے۔ عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیرات کرنے میں سب سے سخی تھے اور رمضان المبارک کے مہینے میں تو آپ کی سخاوت میں جوش آجاتا کیونکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام رمضان المبارک کے مہینے کی ہر رات میں آخر ماہ تک برابر حاضر خدمت ہوتے رہتے کیونکہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے۔ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر خدمت ہوتے تو آپ نفع پہنچانے میں چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ كَانَ جِبْرِيلُ يَعْرِضُ القُرْآنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،حدیث نمبر ٤٩٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کا وصال ہوا اُس سال دو دفعہ دور کیا اور پہلے آپ ہر سال دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کا وصال ہوا اس سال بیس دن اعتکاف فرمایا۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ كَانَ جِبْرِيلُ يَعْرِضُ القُرْآنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٤٩٩٨)
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصحاب میں قاری حضرات۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ابن العاص نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں متواتر ان سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن مجید چار حضرات سے حاصل کرو یعنی عبداللہ بن مسعود، سالم مولی ابو حذیفہ ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب سے (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ القُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،حدیث نمبر ٤٩٩٩)
شفیق بن سلمہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ستر سے زیادہ سورتیں سیکھی ہیں اور خدا کی قسم، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام تو یہی سمجھتے ہیں کہ میں ان کے اندر اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں حالانکہ میں ان کے بہترین افراد سے نہیں ہوں۔ شفیقی کا کہنا ہے کہ میں کتنی ہی مجالس میں بیٹھا ہوں لیکن میں نے نہیں سنا کہ کسی نے اس بات کی تردید کی ہو۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ القُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٥٠٠٠)
علقمہ کا بیان ہے کہ ہم حمص کے مقام پر تھے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ یوسف کی تلاوت کی۔ پس ایک شخص نے کہا کہ یہ اس طرح تو نازل نہیں ہوئی۔ انہوں نے فرمایا کہ جب میں نے یہی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حضور پڑھی تو آپ نے تعریف فرمائی تھی۔ دیکھا تو اس شخص کے منہ سے شراب کی بدبو آرہی تھی ۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : تم کتاب اللہ کی تکذیب کرتے اور شراب پیتے ہو؟ چنانچہ اس پر حد قائم کی گئی۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ القُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٥٠٠١)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، قرآن کریم کی کوئی سورت ایسی نہیں ہے جس کے کے بارے میں مجھے یہ علم نہ ہو کہ کہاں نازل ہوئی اور قرآن مجید کی کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ یہ کس کے متعلق نازل ہوئی۔ اگر مجھے علم ہو جائے کہ فلاں شخص اللہ کی کتاب کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے تو میں اونٹ پر سوار ہو کر اس کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ القُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٥٠٠٢)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے معلوم کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قرآن کریم کس نے جمع کیا تھا؟انہوں نے فرمایا کہ چار حضرات نے اور چاروں انصار سے تھے یعنی ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید رضی الله عنهم، فضل، حسین بن واقد، ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ القُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٥٠٠٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال تک چار حضرات کے سوا اور کسی نے قرآن کریم جمع نہیں کیا تھا۔ وہ چاروں یہ ہیں:ابو درداء، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید ( سعد بن عبید رضی اللہ عنہم ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ اُن حضرت ابوزید کے وارث ہم ہیں۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ القُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٥٠٠٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا علی رضی اللہ عنہ ہمارے سب سے بڑے قاضی اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے بڑے قاری ہیں لیکن ہم ان کی بعض قرآت کو چھوڑ دیتے ہیں اور اُبی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اسی طرح سیکھا ہے لہٰذا ایسی چیز کو میں کس طرح ترک کردوں حالانکہ ارشاد باری تعالی ہے۔ ترجمہ کنز الایمان: جب کوئی آیت ہم منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے(البقرة ١٠٦) (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ القُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر ٥٠٠٥)
سورۃ الفاتحہ کی فضیلت حضرت ابو سعید بن المعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا تو مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بلایا لیکن میں نے جواب نہ دیا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ فرمایا، کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ترجمہ کنز الایمان: اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو ۔ (الانفال ۲۴) پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں قرآن کریم کی سب سے عظمت والی سورت نہ سکھاؤں اس سے پہلے کہ تم مسجد سے نکلو؟ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تھا کہ میں ضرور تجھے قرآن مجید کی بہت ہی عظمت والی سورت سکھاؤں گا۔ فرمایا سورت الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے۔ یہی سبع مثانی اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا فرمائی گئی۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ فَضْلِ فَاتِحَةِ الكِتَابِ،حدیث نمبر ٥٠٠٦)
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دوران سفر ہم ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ایک لونڈی آئی اور کہنے لگی کہ اس قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے اور قبیلے والے موجود نہیں ہیں تو کیا آپ حضرات میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ پس ہم میں سے ایک شخص اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا حالانکہ ہم نے نہیں سنا تھا کہ اسے دم کرنا آتا ہے۔ پس اس نے دم کیا اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ سردار نے اس کو تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ واپس لوٹا تو ہم نے اس سے کہا ، کیا آپ اچھی طرح دم کرنا جانتے ہیں یا کیا آپ دم کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا، نہیں میں نے دم تو نہیں کیا، سوائے اس کے کہ سورۃ فاتحہ پڑھ دی تھی۔ ہم نے طے کیا کہ اس کے متعلق ہمیں کچھ نہیں کہنا چاہیئے جب تک ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر معلوم نہ کر لیں۔ پس جب ہم مدینہ منورہ میں پہنچے تو ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا۔ اسے کیسے علم ہوا کہ اسے پڑھ کر دم کیا جا سکتا ہے؟ بہر حال بکریاں تقسیم کر لو اور ایک حصہ میرا بھی ہو۔ معمر عبد الوارث ، ہشام ، محمد بن سیرین نے بھی اس کی حضرت ابوسعید خدری سے رایت کی ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ فَضْلِ فَاتِحَةِ الكِتَابِ،حدیث نمبر ٥٠٠٧)
سورۃ البقرہ کی فضیلت حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے دو آیتیں پڑھیں حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سورہ البقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھیں تو وہ اس کو کفایت کریں گی۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ فَضْلِ سُورَةِ البَقَرَةِ ،حدیث نمبر ٥٠٠٨ و حدیث نمبر ٥٠٠٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے رمضان المبارک میں مال زکوٰۃ کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔ ایک آدمی آیا اور خوراک میں سے لپ بھر کر لے جانے لگا، تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ضرور پیش کروں گا۔ پس اس نے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب تم سونے لگو تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو تو صبح تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت تمہارے ساتھ رہے گی اور شیطان تمہارے نزدیک نہیں آسکے گا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تم سچ کہتے ہو لیکن وہ جھوٹا ہے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ فَضْلِ سُورَةِ البَقَرَةِ،حدیث نمبر ٥٠١٠)
سورۃ الکہف کی فضیلت حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص سورہ الکہف پڑھ رہا تھا اور اس کے قریب ہی دو رسیوں سے ایک گھوڑا بندھا ہوا تھا۔ پس اس کے اوپر بادل چھا گیا اور وہ اس کی جانب قریب سے قریب تر ہوتا گیا حتی کہ اس کا گھوڑا بدکنے لگا۔ جب صبح کے وقت وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے خدمت میں اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا۔ وہ سکینہ ہے جس کی تلاوت قرآن کے سبب نزول ہوا۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الكَهْفِ ،حدیث نمبر ٥٠١١)
سورۃ الفتح کی فضیلت زید بن اسلم اپنے والد ماجد سے راوی ہیں کہ اپنے ایک سفر میں رات کے وقت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم چلتے جارہیں تھے اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوئی بات دریافت کی مگر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا۔ پھر دوبارہ عرض کی مگر آپ نے انہیں جواب نہ دیا۔ پھر تیسری مرتبہ دریافت کیا مگر آپ نے جواب نہ دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دل میں کہا۔ تجھے تیری ماں روئے ، تین مرتبہ تو نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا مگر تینوں دفعہ تجھے جواب عطا نہیں۔ فرمایا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اونٹ کو دوڑایا حتی کہ لوگوں سے آگے جا پہنچا اور مجھے خوف تھا کہ میرے متعلق قرآن کریم کی کوئی آیت نازل ہو جائے گی۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ایک پکارنے والے نے مجھے آواز دی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا، پھر آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا کی تلاوت فرمائی (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الفَتْحِ ،حدیث نمبر ٥٠١٢)
سورۃ اخلاص کی فضیلت اس کے متعلق عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے شخص کو بار بار سورۃ اخلاص پڑھتے ہوئے سنا۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس بات کا آپ سے ذکر کیا اور اس کا خیال تھا کہ یہ تو چھوٹی سی سورت ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ بے شک یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔ دوسری روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایک آدمی رات کو قیام کرتا اور اس میں صبح تک سورۃ الاخلاص پڑھتا اور اس پر کسی سورت کا اضافہ نہ کرتا۔ جب صبح ہوئی تو وہ شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ آگے حدیث مثل سابق ۔ (بخاری شریف ،کتاب فضائل القرآن ،بَابُ فَضْلِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ،حدیث نمبر ٥٠١٣ و حدیث نمبر ٥٠١٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ہر رات کے اندر تہائی قرآن کریم پڑھنے سے عاجز ہے؟صحابہ کو یہ عمل بڑا مشکل معلوم ہوا اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ «الواحد الصمد» (یعنی «قل هو الله أحد») قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن،بَابُ فَضْلِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ؛جلد٦ص١٨٩،حدیث نمبر ٥٠١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے پھر جب آپ کا مرض شدید ہوا تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ فَضْلِ الْمُعَوِّذَاتِ؛معوذات کی فضیلت کا بیان؛جلد٦ص١٩٠،حدیث نمبر ٥٠١٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» (تینوں سورتیں مکمل) پڑھ کر ان پر پھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ کرتے تھے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ فَضْلِ الْمُعَوِّذَاتِ؛معوذات کی فضیلت کا بیان؛جلد٦ص١٩٠،حدیث نمبر ٥٠١٧)
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے (تو بہتر تھا) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔ اور ابن الہاد نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن خباب نے بیان کی، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ وَالْمَلاَئِكَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛قرآن کی تلاوت کے وقت سکینت اور فرشتوں کے اترنے کا بیان؛جلد٦ص١٩٠،حدیث نمبر ٥٠١٨)
عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا کہ میں اور شداد بن معقل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز ترک فرمائی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو کچھ قرآن کی صورت میں ہے اس کے سوا حضور نے اور کچھ ترک نہیں فرمایا۔وہ فرماتے ہیں کہ پھر امام محمد بن حنفیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ قرآنی مجموعہ کے سوا حضور نے اور کچھ ترک نہیں فرمایا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ قَالَ لَمْ يَتْرُكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلاَّ مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ؛یہ باب ہے اس کے بارے میں جس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن ترکہ میں چھوڑا وہ سب مصحف میں محفوظ ہیں؛جلد٦ص١٩٠،حدیث نمبر ٥٠١٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی (مومن کی) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار (منافق) کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ فَضْلِ الْقُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الْكَلاَمِ؛قرآن مجید کی فضیلت دوسرے تمام کلاموں پر کس قدر ہے؟؛جلد٦ص١٩٠،حدیث نمبر ٥٠٢٠)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانو! گزری امتوں کی عمروں کے مقابلہ میں تمہاری عمر ایسی ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے اور تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کچھ مزدور کام پر لگائے اور ان سے کہا کہ ایک قیراط مزدوری پر میرا کام صبح سے دوپہر تک کون کرے گا؟ یہ کام یہودیوں نے کیا۔ پھر اس نے کہا کہ اب میرا کام آدھے دن سے عصر تک (ایک ہی قیراط مزدوری پر) کون کرے گا؟ یہ کام نصاریٰ نے کیا۔ پھر تم نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط مزدوری پر کام کیا۔ یہود و نصاریٰ قیامت کے دن کہیں گے ہم نے کام زیادہ کیا لیکن مزدوری کم پائی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تمہارا کچھ حق مارا گیا؟ وہ کہیں گے کہ نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر یہ میرا فضل ہے،میں جسے چاہوں اور جتنا چاہوں عطا کروں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ فَضْلِ الْقُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الْكَلاَمِ؛قرآن مجید کی فضیلت دوسرے تمام کلاموں پر کس قدر ہے؟؛جلد٦ص١٩١،حدیث نمبر ٥٠٢١)
طلحہ نے بیان کیا،کہ میں نے حضرت عبداللہ بن اوفی سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی؟انہوں نے جواب دیا نہیں۔انہوں نے دریافت فرمایا کیا پھر جو لوگوں کو وصیت کا حکم دیا گیا ہے یہ کس طرح فرض ہوا جبکہ آپ نے وصیت ہی نہ فرمائی۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ الْوَصَاةِ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کا بیان۔؛جلد٦ص١٩١،حدیث نمبر ٥٠٢٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور کیا انہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔(العنكبوت٥١) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اتنی کسی چیز کی سماعت نہیں فرماتا جتنا اپنے نبی کو سماعت فرماتا ہے جب کہ وہ ہر ایک سے مستغنی ہوکر قرآن کریم پڑھتے ہیں۔ان کے ایک دوست نے کہا کہ اس سے ان کی مراد بلند آواز سے پڑھنا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ؛اس شخص کے بارے میں جو قرآن مجید کو خوش آوازی سے نہ پڑھے؛جلد٦ص١٩١،حدیث نمبر ٥٠٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کسی چیز کی سماعت نہیں فرماتا جتنا تمہارے نبی کے قرآن پڑھنے کی سماعت فرماتا ہے۔سفیان بن عیینہ نے یغنی کی تفسیر میں کہا ہے کہ جس کے سبب آدمی دوسری چیزوں سے بےپرواہ ہو جائے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ؛اس شخص کے بارے میں جو قرآن مجید کو خوش آوازی سے نہ پڑھے؛جلد٦ص١٩١،حدیث نمبر ٥٠٢٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے ایک تو اس پر جسے اللہ نے قرآن مجید کا علم دیا اور وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہا اور دوسرا آدمی وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اسے محتاجوں پر رات دن خیرات کرتا رہا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ اغْتِبَاطِ صَاحِبِ الْقُرْآنِ؛قرآن مجید پڑھنے والے پر رشک کرنا جائز ہے؛جلد٦ص١٩١،حدیث نمبر ٥٠٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہونا چاہئے ایک اس پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے کہ اس کا پڑوسی سن کر کہہ اٹھے کہ کاش مجھے بھی اس جیسا علم قرآن ہوتا اور میں بھی اس کی طرح عمل کرتا اور وہ دوسرا جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کے لیے لٹا رہا ہے (اس کو دیکھ کر) دوسرا شخص کہہ اٹھتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی اس کے جتنا مال ہوتا اور میں بھی اس کی طرح خرچ کرتا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ اغْتِبَاطِ صَاحِبِ الْقُرْآنِ؛قرآن مجید پڑھنے والے پر رشک کرنا جائز ہے؛جلد٦ص١٩١،حدیث نمبر ٥٠٢٦)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سیکھائے۔سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمٰن سلمی نے لوگوں کو عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج بن یوسف کے عراق کے گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ(قرآن مجید پڑھانے کے لیے) بٹھا رکھا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ؛تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سیکھاے؛ جلد٦ص١٩٢،حدیث نمبر ٥٠٢٧)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سیکھاے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ؛تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سیکھاے؛ جلد٦ص١٩٢،حدیث نمبر ٥٠٢٨)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول (کی رضا) کے لیے ہبہ کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب مجھے عورتوں سے نکاح کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ایک صاحب نے عرض کیا:یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں (مہر میں) ایک کپڑا لا کے دے دو۔ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو یہ بھی میسر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر انہیں کچھ تو دو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ اس پر بہت پریشان ہوئے (کیونکہ ان کے پاس یہ بھی نہ تھی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تم کو قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں نے تمہارا ان سے قرآن کی ان سورتوں پر نکاح کیا جو تمہیں یاد ہیں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ؛تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سیکھاے؛ جلد٦ص١٩٢،حدیث نمبر ٥٠٢٩)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر نظر نیچی کر لی اور سر جھکا لیا۔ جب اس خاتون نے دیکھا کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو میرے ساتھ ان کا نکاح کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ (مہر کے لیے) بھی ہے۔ انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ، اللہ کی قسم! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز ملے، وہ صاحب گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! مجھے وہاں کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دیکھ لو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ گئے اور عرض کیا نہیں اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مجھے نہیں ملی۔ البتہ یہ ایک تہبند میرے پاس ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی چادر بھی (اوڑھنے کے لیے) نہیں تھی۔ اس صحابی نے کہا کہ خاتون کو اس میں سے آدھا پھاڑ کر دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اس تہبند کا وہ کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنتے ہو تو اس کے قابل نہیں رہتا اور اگر وہ پہنتی ہے تو تمہارے قابل نہیں۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے ہوئے دیکھا تو بلوایا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ فلاں، فلاں، فلاں سورتیں مجھے یاد ہیں۔ انہوں نے ان کے نام گنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم انہیں زبانی پڑھ لیتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تمہیں قرآن مجید کی جو سورتیں یاد ہیں ان کے بدلے میں میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ الْقِرَاءَةِ عَنْ ظَهْرِ الْقَلْبِ؛زبانی قرآن مجید کی تلاوت کرنا؛ جلد٦ص١٩٢،حدیث نمبر ٥٠٣٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قرآن مجید پڑھے ہوئے شخص کی مثال اونٹوں کے مالک جیسی ہے جو بندھے ہوئے ہوں۔اگر ان کی نگرانی کرے گا توٹھہرے رہیں گے اور اگر انہیں کھول دے گا تو چلے جائیں گے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ اسْتِذْكَارِ الْقُرْآنِ وَتَعَاهُدِهِ؛قرآن مجید کو ہمیشہ پڑھتے اور یاد کرتے رہنا؛جلد٦ص١٩٣،حدیث نمبر ٥٠٣١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت برا ہے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں (کہنا چاہیے) کہ مجھے بھلا دیا گیا اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے نکل کر بھاگنے میں جانوروں سے بھی زیادہ تیز ہے۔ عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، اور ان سے منصور بن معتمر نے پچھلی حدیث کی طرح۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو بشر بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن مبارک سے، انہوں نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو ابن جریج نے بھی عبدہ سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ اسْتِذْكَارِ الْقُرْآنِ وَتَعَاهُدِهِ؛قرآن مجید کو ہمیشہ پڑھتے اور یاد کرتے رہنا؛جلد٦ص١٩٣،حدیث نمبر ٥٠٣٢)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قرآن مجید کو ہمیشہ پڑھتے رہو۔کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ نکل کر بھاگ جانے میں اونٹ سے زیادہ تیز ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ اسْتِذْكَارِ الْقُرْآنِ وَتَعَاهُدِهِ؛قرآن مجید کو ہمیشہ پڑھتے اور یاد کرتے رہنا؛جلد٦ص١٩٣،حدیث نمبر ٥٠٣٣)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ فتح مکہ کے دن اپنی سواری پر سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛باب القرءۃ علی الدابۃ؛سواری پر تلاوت کرنا؛جلد٦ص١٩٣،حدیث نمبر ٥٠٣٤)
ابو بشر نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جس حصے کو تم مفصل کہتے ہو وہ محکم ہے۔ان کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور میں محکم سورتیں پڑھ چکا تھا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ تَعْلِيمِ الصِّبْيَانِ الْقُرْآنَ؛بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینا؛جلد٦ص١٩٣،حدیث نمبر ٥٠٣٥)
سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے اندر محکم سورتوں کو میں یاد کرچکا تھا۔پس ان سے کہا گیا کہ محکم سورتیں کون سی ہیں تو انہوں نے کہا کہ جن کو مفصل کہا جاتا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ تَعْلِيمِ الصِّبْيَانِ الْقُرْآنَ؛بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینا؛جلد٦ص١٩٣،حدیث نمبر ٥٠٣٦)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اب ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم نہ بھولوگے مگر جو اللہ چاہے۔( اعلیٰ٦،٧) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے سن کر فرمایا۔اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ اس نے مجھے فلاں سورت کی فلاں فلاں آیتیں یاد کروادیں۔ محمد بن عبید بن میمون،عیسیٰ،ہشام فرماتے ہیں کہ فلاں سورت سے جو بھلا دی گئی تھیں۔اسی طرح علی بن مسہر،عبدہ نے ہشام سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ نِسْيَانِ الْقُرْآنِ وَهَلْ يَقُولُ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا؛قرآن مجید کو بھلا دینا اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا ہوں؟؛جلد٦ص١٩٣،حدیث نمبر ٥٠٣٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات کے وقت قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ بےشک اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں جو فلاں فلاں سورتوں کی ہیں یاد کروادی جو مجھے بھلا دی گئی تھیں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ نِسْيَانِ الْقُرْآنِ وَهَلْ يَقُولُ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا؛قرآن مجید کو بھلا دینا اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا ہوں؟؛جلد٦ص١٩٤،حدیث نمبر ٥٠٣٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی آدمی یہ نہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا ہوں بلکہ یوں کہے کہ میں بھلا دیا گیا ہوں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ نِسْيَانِ الْقُرْآنِ وَهَلْ يَقُولُ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا؛قرآن مجید کو بھلا دینا اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا ہوں؟؛جلد٦ص١٩٤،حدیث نمبر ٥٠٣٩)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی آدمی یہ نہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا ہوں بلکہ یوں کہے کہ میں بھلا دیا گیا ہوں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ بَأْسًا أَنْ يَقُولَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَسُورَةُ كَذَا وَكَذَا؛یوں کہنا کہ سورۃ البقرہ اور فلاں فلاں سورت؛جلد٦ص١٩٤،حدیث نمبر ٥٠٤٠)
مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبد القاری دونوں کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا،انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں ان کی قرآت کو غور سے سننے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے بہت سے طریقوں میں تلاوت کر رہے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھایا تھا۔ ممکن تھا کہ میں نماز ہی میں ان کا سر پکڑ لیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر لپیٹ دی اور پوچھا یہ سورتیں جنہیں ابھی ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے تمہیں کس نے سکھائی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح ان سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورتیں پڑھائی ہیں جو میں نے تم سے سنیں۔میں انہیں کھینچتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے خود سنا کہ یہ شخص سورۃ الفرقان ایسی قرآت سے پڑھ رہا تھا۔ جس کی تعلیم آپ نے ہمیں نہیں دی ہے آپ مجھے بھی سورۃ الفرقان پڑھا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہشام! پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے اسی طرح اس کی قرآت کی جس طرح میں ان سے سن چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! اب تم پڑھو۔ میں نے بھی اسی طرح قرآت کی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید سات قراتوں پر نازل ہوا ہے بس تمہارے لیے جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ بَأْسًا أَنْ يَقُولَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَسُورَةُ كَذَا وَكَذَا؛یوں کہنا کہ سورۃ البقرہ اور فلاں فلاں سورت؛جلد٦ص١٩٤،حدیث نمبر ٥٠٤١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت ایک آدمی کو مسجد میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا۔اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ فلاں فلاں سورتوں کی فلاں فلاں آیتیں جو میرے ذہن سے نکل گئی تھی اس نے مجھے یاد کروادیں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ بَأْسًا أَنْ يَقُولَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَسُورَةُ كَذَا وَكَذَا؛یوں کہنا کہ سورۃ البقرہ اور فلاں فلاں سورت؛جلد٦ص١٩٤،حدیث نمبر ٥٠٤٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔(المزمل ٤) نیز فرمایا ہے ترجمہ کنز الایمان:اور قرآن ہم نے جدا جدا کر کے اتارا کہ تم اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔(الإسراء ١٠٦)اور شعر کی طرح اسے جلدی جلدی پڑھنا پڑھنا مکروہ ہے۔"یفرق"جدا جدا کرنا۔ابن عباس کا قول ہے۔فرقنا ہم نے اسے جدا جدا کیا۔ ابووائل کا بیان ہے کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے۔حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے (تمام) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہوگی۔ ہم نے حضور کا قرآن مجید پڑھنا سنا ہے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون کون سیسورتوں کو پڑھا کرتے تھے۔یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں «حم.» ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ؛قرآن کریم ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٤٣)
حضرت سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان «لا تحرك به لسانك لتعجل به» کی تفسیر میں بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آپ کو دشواری ہوتی تھی جو دوسروں کو بھی نظر آتی تھی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ القیامہ کی یہ آیت نازل فرمائی:ترجمہ کنز الایمان:اور یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو بےشک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمے ہے تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت اس پڑھے ہوے کی اتباع کرو۔(القیامۃ ١٦،١٩) یعنی جب ہم اس کو نازل کرے تو اس کو غور سے سنو۔پھر اس کا بیان کروانا ہمارے ذمے۔ابن عباس کا بیان ہے کہ(اللہ تعالیٰ)بیشک یہ ہمارا ذمہ ہے کہ اسے تمہاری زبان سے بیان کروادیں۔وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کر آتے تو حضور سر جھکا لیتے اور جب وہ چلے جاتے تو آپ اسی طرح پڑھ دیتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے وعدہ فرمایا تھا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ؛قرآن کریم ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٤٤)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ خوب کھینچ کر پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَدِّ الْقِرَاءَةِ؛تلاوت کے وقت مد کا ادا کرنا؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٤٥)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھینچ کر پڑھا کرتے تھے۔چناچہ انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی تو بسم اللہ کو لمبا کیا،الرحمن کو لمبا کیا کہ اور الرحیم کو لمبا کیا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَدِّ الْقِرَاءَةِ؛تلاوت کے وقت مد کا ادا کرنا؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٤٦)
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنی اونٹنی یا اونٹ پر سوار تھا۔وہ چل رہی تھی اور آپ سورۃ الفتح کی سورۃ الفتح کی تلاوت کر رہے تھے۔آپ کا پڑھنا نرم آواز میں تھا اور ترجیع کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛ بَابُ التَّرْجِيعِ؛نرمی سے تلاوت کرنا؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٤٧)
ابوبردہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔اے ابو موسیٰ!بےشک تمہیں ال داؤد کی خوش الحانی عطاء مرحمت فرمائی گئی ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ؛خوش آوازی سے تلاوت کرنا؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٤٨)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔"مجھے قرآن پاک پڑھ کر سناؤ۔میں نے عرض کیا کہ حضور!میں پڑھوں جبکہ قرآن مجید تو آپ پر نازل فرمایا گیا۔ارشاد ہوا کہ بیشک مجھے یہ پسند ہے کہ دوسرے کی زبانی اسے سنوں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛باب من أحب أن یسمع القرآن من غیرہ؛دوسرے کی زبانی قرآن سننا پسند ہونا؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٤٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو پڑھ کر سناؤں، آپ پر تو قرآن مجید نازل فرمایا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سناؤ۔ چنانچہ میں نے سورۃ نساء پڑھی جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بس کرو۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ قَوْلِ الْمُقْرِئِ لِلْقَارِئِ حَسْبُكَ؛قرآن مجید سننے والے کا پڑھنے والے سے کہنا کہ بس کر بس کر؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٥٠)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو۔(مزمل ٢٠) سفیان کا بیان ہے کہ مجھ سے ابن شبرمہ نے بیان کیا(جو کوفہ کے قاضی تھے)جب میں نے اس بات میں غور کیا کہ ایک شخص کو کم از کم کتنا قرآن مجید کفایت کرتا ہے تو مجھے تین آیتوں سے کم کوئی سورت نہ ملی تو میں نے کہا کہا کوئی شخص تین آیات سے کم نہ پڑھے۔ علی المدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم کو منصور نے خبر دی، انہیں ابراہیم نے، انہیں عبدالرحمٰن بن یزید نے، انہیں علقمہ نے خبر دی اور انہیں ابومسعود رضی اللہ عنہ نے (علقمہ نے بیان کیا کہ) میں نے ان سے ملاقات کی تو وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) کہ جس نے سورۃ البقرہ کے آخری کی دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اس کے لیے کافی ہیں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابٌ في كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؛قرآن مجید کتنے عرصے میں ختم کرے؛جلد٦ص١٩٥،حدیث نمبر ٥٠٥١)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے میرا نکاح ایک شریف خاندان کی عورت (ام محمد بنت محمیہ) سے کر دیا تھا اور ہمیشہ اس کی خبرگیری کرتے رہتے تھے اور ان سے باربار اس کے شوہر (یعنی خود ان) کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ میری بیوی کہتی کہ بہت اچھا مرد ہے۔ البتہ جب سے میں ان کے نکاح میں آئی ہوں انہوں نے اب تک ہمارے بستر پر قدم بھی نہیں رکھا نہ میرے قریب آے ہیں۔ جب بہت دن اسی طرح ہو گئے تو والد صاحب نے مجبور ہو کر اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی ملاقات کراؤ۔ چنانچہ میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ روزہ کس طرح رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ روزانہ پھر دریافت فرمایا قرآن مجید کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہر رات۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کرو۔بیان کیا کہ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جمعہ کے دوران تین روزے رکھ لیا کرو۔میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ روزہ رکھو جو سب سے افضل ہے، یعنی داؤد علیہ السلام کا روزہ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور قرآن مجید سات دن میں ختم کرو۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی کیونکہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں۔ حجاج نے کہا کہ آپ اپنے گھر کے کسی آدمی کو قرآن مجید کا ساتواں حصہ یعنی ایک منزل دن میں سنا دیتے تھے۔ جتنا قرآن مجید آپ رات کے وقت پڑھتے اسے پہلے دن میں سنا رکھتے تاکہ رات کے وقت آسانی سے پڑھ سکیں اور جب (قوت ختم ہو جاتی اور نڈھال ہو جاتے اور) قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے کیونکہ آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ جس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے وعدہ کر لیا ہے (ایک دن روزہ رکھنا ایک دن افطار کرنا) اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے تین دن میں اور بعض نے پانچ دن میں۔ لیکن اکثر نے سات راتوں میں ختم کی حدیث روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابٌ في كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؛قرآن مجید کتنے عرصے میں ختم کرے؛جلد٦ص١٩٦،حدیث نمبر ٥٠٥٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔"تم کتنے عرصے میں قرآن پاک ختم کرتے ہو۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابٌ في كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؛قرآن مجید کتنے عرصے میں ختم کرے؛جلد٦ص١٩٦،حدیث نمبر ٥٠٥٣)
دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک ماہ میں قرآن مجید ختم کیا کرو۔میں نے عرض کی کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت دیکھتا ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات دن میں قرآن مجید پڑھا کرو لیکن اس سے زیادہ نہ پڑھا کرو۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابٌ في كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؛قرآن مجید کتنے عرصے میں ختم کرے؛جلد٦ص١٩٦،حدیث نمبر ٥٠٥٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یحییٰ راوی کا بیان ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ عمر بن مرہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اعمش راوی نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا تو خود ابراہیم سے سنا اور ایک ٹکڑا اس حدیث کا مجھ سے عمرو بن مرہ نے نقل کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ میں نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں کیا تلاوت کروں آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے سنوں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر میں نے سورۃ نساء پڑھی اور جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) «كف» فرمایا یا «أمسك» راوی کو شک ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اشک جاری تھے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ الْبُكَاءِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛تلاوت کرتے وقت رونا؛جلد٦ص١٩٧،حدیث نمبر ٥٠٥٥)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا۔مجھے قرآن کریم پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کی کہ حضور!میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوا ہے۔ارشاد ہوا۔میں چاہتا ہوں کہ دوسرے کی زبانی سنوں۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ الْبُكَاءِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ؛تلاوت کرتے وقت رونا؛جلد٦ص١٩٧،حدیث نمبر ٥٠٥٦)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو عمر کے چھوٹےاور عقل کے کم ہوں گے۔ان کی زبانوں پر حدیثیں ہوں گی لیکن اسلام سے اس طرح خارج ہوجائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ان کے ایمان ان کے حلق کے آگے نہیں جائیں گے۔تم انہیں جہاں بھی پاؤ تو قتل کر دینا کیوں کہ ان کو قتل کرنے والا قیامت کے دن ثواب پاے گا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ رَايَا بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأَكَّلَ بِهِ أَوْ فَخَرَ بِهِ؛ریا کے لیے تلاوت کرنا یا کمانے کے لئے یا فخریہ پڑھنا؛جلد٦ص١٩٧،حدیث نمبر ٥٠٥٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں ایک قوم ایسی نکلے گی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے، ان کے روزوں کے مقابلہ میں تمہیں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلہ میں تمہیں اپنا عمل حقیر نظر آئے گا اور وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ (کہ تیر چلانے والا) تیر کے پھل میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی (شکار کے خون وغیرہ کا) کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ اس سے اوپر دیکھتا ہے وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ تیر کے پر کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔البتہ سو فار کو دیکھ کر شک گزرتا ہو۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ رَايَا بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأَكَّلَ بِهِ أَوْ فَخَرَ بِهِ؛ریا کے لیے تلاوت کرنا یا کمانے کے لئے یا فخریہ پڑھنا؛جلد٦ص١٩٧،حدیث نمبر ٥٠٥٨)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے میٹھے لیموں کی سی ہے جس کا مزا بھی لذت دار اور خوشبو بھی اچھی اور وہ مومن جو قرآن پڑھتا تو نہیں لیکن اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی ہے جس کا مزہ تو عمدہ ہے لیکن خوشبو کے بغیر اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے (راوی کو شک ہے) کہ لفظ «مر» ہے یا «خبيث» اور اس کی بو بھی خراب ہوتی ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ مَنْ رَايَا بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأَكَّلَ بِهِ أَوْ فَخَرَ بِهِ؛ریا کے لیے تلاوت کرنا یا کمانے کے لئے یا فخریہ پڑھنا؛جلد٦ص١٩٧،حدیث نمبر ٥٠٥٩)
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک اس میں دل لگےاور جب تمہارا دل نہ چاہے تو پڑھنا موقوف کر دو۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ؛اطمینان قلب سے تلاوت کرنا؛جلد٦ص١٩٨،حدیث نمبر ٥٠٦٠)
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید کی تلاوت اس وقت تک کیا کرو جب تک تمہارا دل چاہے اور جب دل نہ چاہے تو پڑھنا موقوف کر کے کھڑے ہو جایا کرو۔ سلام کے ساتھ اس حدیث کو حارث بن عبید اور سعید بن زید نے بھی ابوعمران جونی سے روایت کیا اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوع نہیں بلکہ موقوفاً روایت کیا ہے اور غندر محمد بن جعفر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران سے یوں روایت کیا کہ میں نے جندب سے سنا، وہ کہتے تھے۔ (لیکن موقوفاً روایت کیا) اور عبداللہ بن عون نے اس کو ابوعمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا قول روایت کیا (مرفوعاً نہیں کیا) اور جندب کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ؛اطمینان قلب سے تلاوت کرنا؛جلد٦ص١٩٨،حدیث نمبر ٥٠٦١)
نزال بن سبرہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صاحب(ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) کو ایک آیت پڑھتے سنا، وہی آیت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنی تھی۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں صحیح ہو (اس لیے اپنے اپنے طور پر پڑھو۔) (شعبہ کہتے ہیں کہ) میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ (اختلاف و نزاع نہ کیا کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتوں نے اختلاف کیا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ (بخاری شریف،کتاب فضائل القرآن؛بَابُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ؛اطمینان قلب سے تلاوت کرنا؛جلد٦ص١٩٨،حدیث نمبر ٥٠٦٢)
Bukhari Shareef : Kitabo Fazailil Quran
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ فَضَائِلِ القُرْآنِ
|
•