asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabut Talaq

From 5151 to 5350

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بحالت حیض طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو رجوع کرنے کا حکم دو،پھر وہ اس کو روکے رکھے،یہاں تک کہ پاک ہوجائے،پھر حیض آئے پھر پاک ہوجائے پھر اگر چاہے تو اس کے بعد اپنے پاس رہنے دے اور اگر چاہے تو صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے،یہی وہ عدت ہے،جس کے لئے عورتوں کو طلاق دیئے جانے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیاہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا العِدَّةَ} [الطلاق: ١] {أَحْصَيْنَاهُ} [يس: ١٢] " حَفِظْنَاهُ [ص: ٤١] وَعَدَدْنَاهُ، وَطَلاَقُ السُّنَّةِ: أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، وَيُشْهِدَ شَاهِدَيْنِ "ج؛٧ص؛٤١حدیث نمبر٥٢٥١)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5151

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے،میں نے کہا کیا وہ طلاق شمار ہوگی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں،اور قتادہ نے بواسطہ یونس، ابن جبیر،ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو اس سے رجوع کا حکم دو، میں نے کہا وہ طلاق شمار کی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص عاجز ہو اور احمق ہوگیا ہو(تو کیا طلاق نہ ہوگی)اور ابومعمر، عبدالوارث، ایوب، سعید بن جبیر، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ پر ایک طلاق شمار کی گئی۔ ایک اور سند کے ساتھ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ پر ایک طلاق شمار ہوگی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب إذا طلقت الحائض تعتد بذالک الچلاق"ج؛٧ص؛٤١حدیث نمبر٥٢٥٢, حدیث نمبر ٥٢٥٣)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لِيُرَاجِعْهَا» قُلْتُ: تُحْتَسَبُ؟ قَالَ: فَمَهْ؟ وَعَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا» قُلْتُ: تُحْتَسَبُ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «حُسِبَتْ عَلَيَّ بِتَطْلِيقَةٍ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5252/5253

اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کونسی بیوی نے آپ سے پناہ مانگی تھی،انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ نے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نقل کیا ہے کہ جون کی بیٹی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اور آپ اس کے قریب پہنچے تو اس نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں،آپ نے اس سے فرمایا تو نے بہت بڑی پناہ مانگی ہے اس لئے تو اپنے رشتہ داروں میں چلی جا، امام بخاری نے کہا کہ اس کو حجاج بن ابی منیع نے اپنے داداسے،انہوں نے زہری سے،زہری نے عروہ سے،عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب إذا طلقت الحائض تعتد بذالک الچلاق"ج؛٧ص؛٤١حدیث نمبر٥٢٥٤)

حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ، أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ ابْنَةَ الجَوْنِ، لَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَنَا مِنْهَا، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ لَهَا: «لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ، الحَقِي بِأَهْلِكِ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5254

ابواسید کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل کر ایک باغ پر پہنچے،جس کو شوط کہا جاتا تھا، جب ہم اس کی دو دیواروں کے درمیان پہنچے تو ہم وہاں بیٹھ گئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں بیٹھے رہو،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے، وہاں جونیہ لائی گئی اور امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے کھجور کے گھر میں اتاری گئی اور اس کے ساتھ ایک نگرانی کرنے والی دایہ تھی،جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب پہنچے تو فرمایا تو اپنے آپ کو میرے حوالہ کردے، اس نے کہا کیا کوئی شہزادی اپنے آپ کو کسی آے گئے کے حوالہ کرسکتی ہے،آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ اس کے سر پر رکھ کر اسے تسکین دیں،اس نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے ایسی ذات کی پناہ مانگی ہے جس کی پناہ مانگی جاتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ابواسید! اس کو دو رازقی کپڑے پہنا کر اس کے گھر والوں کے پاس پہنچادے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب إذا طلقت الحائض تعتد بذالک الچلاق"ج؛٧ص؛٤١حدیث نمبر٥٢٥٥)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَسِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ: لَهُ الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ، فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسُوا هَا هُنَا» وَدَخَلَ، وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي نَخْلٍ فِي بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ، وَمَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَبِي نَفْسَكِ لِي» قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ المَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ: «قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ» ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «يَا أَبَا أُسَيْدٍ، اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ، وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5255

حسین بن ولید،نیشاپوری نے عبدالرحمن، عباس بن سہل وہ اپنے والد اور ابواسید سے روایت کرتے ہیں، ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا،جب وہ آپ کے پاس لائی گئی تو آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا،اس نے ناپسند کیا تو آپ نے ابواسید کو حکم دیا کہ اسے سامان مہیا کردے اور دورازقی کپڑے پہنادے۔ حمزہ اپنے والد اور عباس بن سہل اپنے والد سے حدیث نمبر٥٢٥٥ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب إذا طلقت الحائض تعتد بذالک الچلاق"ج؛٧ص؛٤١حدیث نمبر٥٢٥٦،و حدیث نمبر ٥٢٥٧)

وَقَالَ الحُسَيْنُ بْنُ الوَلِيدِ النَّيْسَابُورِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبِي أُسَيْدٍ، قَالاَ: «تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ شَرَاحِيلَ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَكَأَنَّهَا كَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُجَهِّزَهَا وَيَكْسُوَهَا ثَوْبَيْنِ رَازِقِيَّيْنِ»، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الوَزِيرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5256/5257

یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی( تو اس کا کیا حکم ہے؟)انہوں نے کہا،تو ابن عمر کو جانتا ہے،ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے بیان کیا،تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ اس سے رجوع کرلے،جب وہ پاک ہوجائے اور طلاق دینا چاہے تو اسے طلاق دے دے،میں نے پوچھا کیا اس کو طلاق شمار کیا،انہوں نے کہا بتاو تو سہی کہ اگر کوئی شخص عاجز اور احمق ہوجائے( تو اس کا کیا علاج ہے)۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب إذا طلقت الحائض تعتد بذالک الچلاق"ج؛٧ص؛٤٢حدیث نمبر٥٢٥٨)

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَقَالَ: «تَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ،» فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا "، قُلْتُ: فَهَلْ عَدَّ ذَلِكَ طَلاَقًا؟ قَالَ: «أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ؟»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5258

سہل بن سعد ساعدی روایت کرتے ہیں کہ عویمرعجلانی،عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے پوچھا اے عاصم! بتاؤ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے اگر وہ اس کو قتل کر دیتا ہے تو تم اسے قصاص میں قتل کردیتے ہو پھر وہ(بیچارہ)کیا کرے،اے عاصم اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری خاطر دریافت کر،عاصم نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ان مسئلوں کو(جو بلا ضرورت پوچھے جائیں)برا جانا اور معیوب سمجھا،عاصم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات سنی وہ ان کو گراں گزری جب عاصم اپنے گھر واپس ہوئے تو عویمر نے آکر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا:عاصم نے فرمایا تم میرے پاس اچھی چیز نہیں لائے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس سوال کو جو میں نے آپ سے کیا برا سمجھا ہے،عویمر نے کہا میں باز نہیں آؤں گا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ نہ لوں،چنانچہ عویمر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور لوگوں کی موجودگی میں پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے اور وہ اس کو قتل کردے تو آپ اس سے قصاص لیتے ہیں بتائیے پھر وہ کیا کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق اللہ کا حکم نازل ہوچکا ہے جاؤ اس کو لے کر آؤ،سہل نے کہا پھر ان دونوں نے لعان کیا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا،جب دونوں لعان سے فارغ ہوگئے،تو عویمر نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اس کو روک لوں،تو میں جھوٹا ہوں گا،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے اس کو تین طلاق دے دیں،ابن شہاب نے کہا کہ لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ہوگیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ؛لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فِي مَرِيضٍ طَلَّقَ: «لاَ أَرَى أَنْ تَرِثَ مَبْتُوتَتُهُ» وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «تَرِثُهُ» وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ، " تَزَوَّجُ إِذَا انْقَضَتِ العِدَّةُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَرَأَيْتَ إِنْ مَاتَ الزَّوْجُ الآخَرُ؟» فَرَجَعَ عَنْ ذَلِكَ؛ج؛٧ص؛٤٢حدیث نمبر٥٢٥٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُوَيْمِرًا العَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ، جَاءَ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا» قَالَ سَهْلٌ: فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ المُتَلاَعِنَيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5259

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتے ہیں،انہوں نے بیان کیا کہ رفاعہ قرظی کی بیوی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا یا رسول اللہ!رفاعہ نے مجھے طلاق دیدی اور طلاق بتہ دی،میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر قرضی سے نکاح کیا لیکن اس کے پاس کپڑے کے پھندنے کی طرح ہے یعنی نامرد ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تو رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہے؟لیکن ایسا نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ تجھ سے اور تو اس سے لطف اندوز نہ ہولے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ؛لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فِي مَرِيضٍ طَلَّقَ: «لاَ أَرَى أَنْ تَرِثَ مَبْتُوتَتُهُ» وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «تَرِثُهُ» وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ، " تَزَوَّجُ إِذَا انْقَضَتِ العِدَّةُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَرَأَيْتَ إِنْ مَاتَ الزَّوْجُ الآخَرُ؟» فَرَجَعَ عَنْ ذَلِكَ؛ج؛٧ص؛٤٢حدیث نمبر٥٢٦٠)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ القُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي، وَإِنِّي نَكَحْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ القُرَظِيَّ، وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ الهُدْبَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5260

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی تو اس عورت نے (دوسرا)نکاح کرلیا پھر اس نے بھی طلاق دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا کہ کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک کہ اس کا شوہر اس سے لطف اندوز نہ ہو لے جس طرح پہلا شوہر لطف اندوز ہوا تھا۔۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ؛لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فِي مَرِيضٍ طَلَّقَ: «لاَ أَرَى أَنْ تَرِثَ مَبْتُوتَتُهُ» وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «تَرِثُهُ» وَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ، " تَزَوَّجُ إِذَا انْقَضَتِ العِدَّةُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَرَأَيْتَ إِنْ مَاتَ الزَّوْجُ الآخَرُ؟» فَرَجَعَ عَنْ ذَلِكَ؛ج؛٧ص؛٤٣حدیث نمبر٥٢٦١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي القَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا، فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: «لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5261

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تو ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا،اور آپ اس اختیار کو ہمارے حق میں کچھ بھی یعنی طلاق وغیرہ شمار نہیں کیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مَنْ خَيَّرَ نِسَاءَهُ؛وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا، فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: ٢٨]؛ج؛٧ص؛٤٣حدیث نمبر٥٢٦٢)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5262

حضرت مسروق روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خیار کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دے دیا تھا تو کیا وہ طلاق ہو گئی،مسروق نے کہا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اس کو ایک بار یا سو بار اختیار دوں جب کہ وہ مجھے اختیار کرلے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مَنْ خَيَّرَ نِسَاءَهُ؛وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا، فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: ٢٨]؛ج؛٧ص؛٤٣حدیث نمبر٥٢٦٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنِ الخِيَرَةِ، فَقَالَتْ: «خَيَّرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَكَانَ طَلاَقًا؟» قَالَ مَسْرُوقٌ: «لاَ أُبَالِي أَخَيَّرْتُهَا وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً، بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5263

اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی سے کہے تو مجھ پر حرام ہے،حسن نے کہا مرد کی نیت کا اعتبار ہوگا اور اہل علم نے کہا کہ جب تین طلاق دے تو اس پر حرام ہے اور اس کو کہتے ہیں طلاق یا فراق کے باعث حرام ہے، لیکن یہ تحریم ایسی نہیں جیسے کوئی شخص کھانے کو حرام کہہ دے اس لئے کہ حلال کھانے کو حرام نہیں کہہ سکتے اور طلاق دی گئی عورت کو حرام کہا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تین طلاق دینے کے متعلق فرمایا کہ عورت اس کے لئے حلال نہیں جب تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے اور لیث نے نافع سے نقل کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے تین طلاق دی ہو تو کہتے کاش ایک یا دو طلاق دیتا اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا، اگر اس کو تین طلاق دیدی تو وہ حرام ہوگئی،جب تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے۔ (بخاری شریف؛کتاب الطلاق؛بَابُ إِذَا قَالَ: فَارَقْتُكِ، أَوْ سَرَّحْتُكِ، أَوِ الخَلِيَّةُ، أَوِ البَرِيَّةُ، أَوْ مَا عُنِيَ بِهِ الطَّلاَقُ، فَهُوَ عَلَى نِيَّتِهِ وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: ٤٩] وَقَالَ: {وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: ٢٨] وَقَالَ: {فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] وَقَالَ: {أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [الطلاق: ٢] وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «قَدْ عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ»بَابُ مَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ؛جلد٧؛ص؛٤٣؛حدیث نمبر ٥٢٦٤)

بَابُ إِذَا قَالَ: فَارَقْتُكِ، أَوْ سَرَّحْتُكِ، أَوِ الخَلِيَّةُ، أَوِ البَرِيَّةُ، أَوْ مَا عُنِيَ بِهِ الطَّلاَقُ، فَهُوَ عَلَى نِيَّتِهِ وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: 49] وَقَالَ: {وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: 28] وَقَالَ: {فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229] وَقَالَ: {أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [الطلاق: 2] وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «قَدْ عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ» بَابُ مَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ وَقَالَ الحَسَنُ: «نِيَّتُهُ» وَقَالَ أَهْلُ العِلْمِ: إِذَا طَلَّقَ ثَلاَثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ، فَسَمَّوْهُ حَرَامًا بِالطَّلاَقِ وَالفِرَاقِ، وَلَيْسَ هَذَا كَالَّذِي يُحَرِّمُ الطَّعَامَ، لِأَنَّهُ لاَ يُقَالُ لِطَعَامِ الحِلِّ حَرَامٌ، وَيُقَالُ لِلْمُطَلَّقَةِ حَرَامٌ. وَقَالَ فِي الطَّلاَقِ ثَلاَثًا: لاَ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " - وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ ثَلاَثًا، قَالَ: «لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلاَثًا حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5264

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی،اس عورت نے دوسرے شوہر سے نکاح کرلیا جس کے پاس عضو مخصوص کپڑے کے پھندنے کی طرح تھا اس شوہر سے اپنا مقصد نہ پاسکی کچھ ہی دنوں کے بعد اس نے عورت کو طلاق دے دی،پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا یا رسول اللہ!میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے،میں نے ایک دوسرے مرد سے نکاح کرلیا،وہ میرے پاس آیا تو اس کے پاس(عضو مخصوص)کپڑے کے پھندنے کی طرح تھا،میرے پاس تھوڑی ہی دیر ٹھہرسکا اور مجھ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکا،تو کیا میں پہلے شوہر کے لئے حلال ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر تجھ سے اور تو اس سے لطف اندوز نہ ہولے۔ (بخاری شریف؛کتاب الطلاق؛بَابُ إِذَا قَالَ: فَارَقْتُكِ، أَوْ سَرَّحْتُكِ، أَوِ الخَلِيَّةُ، أَوِ البَرِيَّةُ، أَوْ مَا عُنِيَ بِهِ الطَّلاَقُ، فَهُوَ عَلَى نِيَّتِهِ وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: ٤٩] وَقَالَ: {وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: ٢٨] وَقَالَ: {فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] وَقَالَ: {أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [الطلاق: ٢] وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «قَدْ عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ»بَابُ مَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ؛جلد٧؛ص؛٦٥؛حدیث نمبر ٥٢٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ مَعَهُ مِثْلُ الهُدْبَةِ، فَلَمْ تَصِلْ مِنْهُ إِلَى شَيْءٍ تُرِيدُهُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ طَلَّقَهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِي، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الهُدْبَةِ، فَلَمْ يَقْرَبْنِي إِلَّا هَنَةً وَاحِدَةً، لَمْ يَصِلْ مِنِّي إِلَى شَيْءٍ، فَأَحِلُّ لِزَوْجِي الأَوَّلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَحِلِّينَ لِزَوْجِكِ الأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5265

سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تو میرے لیے حرام ہے تو اس کا یہ کہنا کچھ نہیں اور فرمایا کہ ترجمہ کنز الایمان:بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (پ٢١؛الأحزاب ٢١) (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ{لم تحرم ما احل اللہ لک}(التحریم؛١)؛ج؛٧ص؛٤٤حدیث نمبر٥٢٦٦)

بَابُ {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] حَدَّثَنِي الحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، سَمِعَ الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «إِذَا حَرَّمَ امْرَأَتَهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ» وَقَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21]

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5266

امام بخاری فرماتے ہیں مجھ سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا،کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے،ان سے ابن جریج نے،عطاء بن ابی رباح نے یقین کے ساتھ کہا کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹھہرتے تھے اور ان کے یہاں شہد پیا کرتے تھے۔ چنانچہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے مل کر صلاح کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جس کے یہاں بھی تشریف لائیں تو آپ سے یہ کہا جائے کہ آپ کے منہ سے مغافیر (ایک خاص قسم کے بدبودار گوند)کی مہک آتی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ہم میں سے ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا ہے، اب دوبارہ نہیں پیوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك‏» کہ ”اے غیب بتا نے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی۔“ سے «‌‌‌‏إن تتوبا إلى الله‏» تک۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہما اور حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف خطاب ہے «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه‏» ۔ حدیث سے آپ کا یہی فرمانا مراد ہے کہ میں نے مغافیر نہیں کھایا بلکہ شہد پیا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ{لم تحرم ما احل اللہ لک}(التحریم؛١)؛ج؛٧ص؛٤٤حدیث نمبر٥٢٦٧)

حَدَّثَنِي الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ: أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لاَ، بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ» فَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1]- إِلَى - {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ} [التحريم: 4] لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ: {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ} [التحريم: 3] لِقَوْلِهِ: «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5267

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب واپس آتے تو اپنی ازواج کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔ مجھے اس پر غیرت آئی اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قوم کی کسی خاتون نے شہد کا ایک ڈبہ دیا ہے اور انہوں نے اسی کا شربت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا ہے۔ میں نے اپنے جی میں کہا: اللہ کی قسم! میں تو ایک حیلہ کروں گی، پھر میں نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں گے اور جب آئیں تو کہنا کہ معلوم ہوتا ہے آپ نے مغافیر کھا رکھا ہے؟ ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں انکار کریں گے۔ اس وقت کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے جو آپ کے منہ سے معلوم کر رہی ہوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے کہ حفصہ نے شہد کا شربت مجھے پلایا ہے۔ تم کہنا کہ غالباً اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہوں گی اور صفیہ تم بھی یہی کہنا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سودہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جونہی دروازے پر آ کر کھڑے ہوئے تو تمہارے خوف سے میں نے ارادہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات کہوں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔ چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کے قریب تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے کہا، پھر یہ بو کیسی ہے جو آپ کے منہ سے محسوس کرتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی اس کے بعد جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کو دہرایا۔ اس کے بعد جب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ شہد پھر نوش فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سودہ بولیں، واللہ! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکنے میں کامیاب ہوگئے میں نے ان سے کہا ابھی چپ رہو۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ{لم تحرم ما احل اللہ لک}(التحریم؛١)؛ج؛٧ص؛٤٤حدیث نمبر٥٢٦٨)

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي المَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ العَسَلَ وَالحَلْوَاءَ، وَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ العَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ، فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَغِرْتُ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ، فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: إِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَإِذَا دَنَا مِنْكِ فَقُولِي: أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لاَ، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ العُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكِ، وَقُولِي أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ ذَاكِ، قَالَتْ: تَقُولُ سَوْدَةُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَامَ عَلَى البَابِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَادِيَهُ بِمَا أَمَرْتِنِي بِهِ فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهَا قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ: «لاَ» قَالَتْ: فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي أَجِدُ مِنْكَ؟ قَالَ: «سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ» فَقَالَتْ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ العُرْفُطَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَيَّ قُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَارَ إِلَى صَفِيَّةَ قَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ -، فَلَمَّا دَارَ إِلَى حَفْصَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلاَ أَسْقِيكَ مِنْهُ؟ قَالَ: «لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ» قَالَتْ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ، قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5268

اور اللہ تعالیٰ نے(سورۃ الاحزاب میں)فرمایا «يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها فمتعوهن وسرحوهن سراحا جميلا‏» ”اے ایمان والو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو۔ قبل اس کے کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو تو اب ان پر کوئی عدت ضروری نہیں ہے جسے تم شمار کرنے لگو تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کر کے اچھی طرح رخصت کر دو۔“ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد رکھا ہے۔ (اس کو امام احمد اور بیہقی اور ابن خزیمہ نے نکالا) اور اس سلسلے میں علی رضی اللہ عنہ، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبدالرحمٰن، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابان بن عثمان، علی بن حسین، شریح، سعید بن جبیر، قاسم، سالم، طاؤس، حسن، عکرمہ، عطاء، عامر بن سعد، جابر بن زید، نافع بن جبیر، محمد بن کعب، سلیمان بن کعب، سلیمان بن یسار، مجاہد، قاسم بن عبدالرحمٰن، عمرو بن حزم اور شعبی رحمۃ اللہ علیہم ان سب بزرگوں سے ایسی ہی روایتیں آئی ہیں۔ سب نے یہی کہا ہے کہ طلاق نہیں پڑے گی۔ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی سارہ کو کہا کہ یہ میری بہن ہے (یعنی اللہ کی راہ میں دینی بہن)۔ اسی طرح نشہ یا جنون میں دونوں کا حکم ایک ہونا، اسی طرح بھول چوک سے طلاق دینا یا بھول چوک سے کوئی شرک (بعضوں نے یہاں لفظ «واشك» نقل کیا ہے جو زیادہ قرین قیاس ہے) کا حکم نکال بیٹھنا یا شرک کا کوئی کام کرنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام کام نیت صحیح پر ہوتے ہیں اور ہر ایک آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے اور عامر شعبی نے یہ آیت پڑھی «لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا‏» اور اس باب میں یہ بھی بیان ہے کہ وسواسی اور مجنون آدمی کا اقرار صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جو زنا کا اقرار کر رہا تھا۔ کہیں تجھ کو جنون تو نہیں ہے اور علی رضی اللہ عنہ نے کہا جناب امیر حمزہ نے میری اونٹنیوں کے پیٹ پھاڑ ڈالے (ان کے گوشت کے کباب بنائے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ملامت کرنی شروع کی پھر آپ نے دیکھا کہ وہ نشہ میں چور ہیں۔ ان کی آنکھیں سرخ ہیں۔ انہوں نے (نشہ کی حالت میں) یہ جواب دیا تم سب کیا میرے باپ کے غلام نہیں ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان لیا کہ وہ بالکل نشے میں چور ہیں، آپ نکل کر چلے آئے، ہم بھی آپ کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔ اور عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا مجنون اور نشہ والے کی طلاق نہیں پڑے گی (اسے ابن ابی شیبہ نے وصل کیا)۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نشے اور زبردستی کی طلاق نہیں پڑے گی (اس کو سعید بن منصور اور ابن ابی شیبہ نے وصل کیا)۔ اور عقبہ بن عامر جہنی صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا اگر طلاق کا وسوسہ دل میں آئے تو جب تک زبان سے نہ نکالے طلاق نہیں پڑے گی۔ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا اگر کسی نے پہلے ( «انت طالق») کہا اس کے بعد شرط لگائی کہ اگر تو گھر میں گئی تو شرط کے مطابق طلاق پڑ جائے گی۔ اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا اگر کسی نے اپنی عورت سے یوں کہا تجھ کو طلاق بائن ہے اگر تو گھر سے نکلی پھر وہ نکل کھڑی ہوئی تو کیا حکم ہے۔ انہوں نے کہا عورت پر طلاق بائن پڑ جائے گی۔ اگر نہ نکلے تو طلاق نہیں پڑے گی اور ابن شہاب زہری نے کہا(اسے عبدالرزاق نے نکالا)۔ اگر کوئی مرد یوں کہے میں ایسا ایسا نہ کروں تو میری عورت پر تین طلاق ہیں۔ اس کے بعد یوں کہے جب میں نے کہا تھا تو ایک مدت معین کی نیت کی تھی (یعنی ایک سال یا دو سال میں یا ایک دن یا دو دن میں) اب اگر اس نے ایسی ہی نیت کی تھی تو معاملہ اس کے اور اللہ کے درمیان رہے گا (وہ جانے اس کا کام جانے)۔ اور ابراہیم نخعی نے کہا (اسے ابن ابی شیبہ نے نکالا) اگر کوئی اپنی بیوی سے یوں کہے اب مجھ کو تیری ضرورت نہیں ہے تو اس کی نیت پر مدار رہے گا۔ اور ابراہیم نخعی نے یہ بھی کہا کہ دوسری زبان والوں کی طلاق اپنی اپنی زبان میں ہوگی۔ اور قتادہ نے کہا اگر کوئی اپنی عورت سے یوں کہے جب تجھ کو پیٹ رہ جائے تو تجھ پر تین طلاق ہیں اس کو لازم ہے کہ ہر طہر پر عورت سے ایک بار صحبت کرے اور جب معلوم ہو جائے کہ اس کو پیٹ رہ گیا، اسی وقت وہ مرد سے جدا ہو جائے گی۔ اور امام حسن بصری نے کہا اگر کوئی اپنی عورت سے کہا جا اپنے میکے چلی جا اور طلاق کی نیت کی تو طلاق پڑ جائے گی۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا طلاق تو (مجبوری سے) دی جاتی ہے ضرورت کے وقت اور غلام کو آزاد کرنا اللہ کی رضا مندی کے لیے ہوتا ہے۔ اور ابن شہاب زہری نے کہا اگر کسی نے اپنی عورت سے کہا تو میری بیوی نہیں ہے۔ اور اس کی نیت طلاق کی تھی تو طلاق پڑ جائے گی اور علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تین آدمی مرفوع القلم ہیں (یعنی ان کے اعمال نہیں لکھے جاتے) ایک تو پاگل جب تک وہ تندرست نہ ہو، دوسرے بچہ جب تک وہ جوان نہ ہو، تیسرے سونے والا جب تلک وہ بیدار نہ ہو۔ اور علی رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر ایک کی طلاق پڑ جائے گی مگر نادان، بیوقوف (جیسے دیوانہ، نابالغ، نشہ میں مست وغیرہ) کی طلاق نہیں پڑے گی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خیالات فاسدہ کی حد تک معاف کیا ہے،جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے یا اسے زبان سے ادا نہ کرے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کسی نے اپنے دل میں طلاق دے دی تو اس کا اعتبار نہیں ہو گا جب تک زبان سے نہ کہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الطلاق فی الاغلاق والکرہ،والسکران،والمجنون،وامرھما،والغلط والنسيان فی الطلاق والشرک وغیرہ؛جلد؛٧ص؛٤٦حدیث نمبر٥٢٦٩)

بَابُ لاَ طَلاَقَ قَبْلَ النِّكَاحِ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ المُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ، فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا، فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: 49] وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «جَعَلَ اللَّهُ الطَّلاَقَ بَعْدَ النِّكَاحِ» وَيُرْوَى فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَشُرَيْحٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَالقَاسِمِ، وَسَالِمٍ، وَطَاوُسٍ، وَالحَسَنِ، وَعِكْرِمَةَ، وَعَطَاءٍ، وَعَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، وَالشَّعْبِيِّ: أَنَّهَا لاَ تَطْلُقُ بَابُ إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُكْرَهٌ: هَذِهِ أُخْتِي، فَلاَ شَيْءَ عَلَيْهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِسَارَةَ: هَذِهِ أُخْتِي، وَذَلِكَ فِي ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " بَابُ الطَّلاَقِ فِي الإِغْلاَقِ وَالكُرْهِ، وَالسَّكْرَانِ وَالمَجْنُونِ وَأَمْرِهِمَا، وَالغَلَطِ وَالنِّسْيَانِ فِي الطَّلاَقِ وَالشِّرْكِ وَغَيْرِهِ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى» وَتَلاَ الشَّعْبِيُّ: {لاَ تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: 286] " وَمَا لاَ يَجُوزُ مِنْ إِقْرَارِ المُوَسْوِسِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ: «أَبِكَ جُنُونٌ» وَقَالَ عَلِيٌّ: بَقَرَ حَمْزَةُ خَوَاصِرَ شَارِفَيَّ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ ثَمِلَ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ: هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ ثَمِلَ، فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ وَقَالَ عُثْمَانُ: «لَيْسَ لِمَجْنُونٍ وَلاَ لِسَكْرَانَ طَلاَقٌ» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «طَلاَقُ السَّكْرَانِ وَالمُسْتَكْرَهِ لَيْسَ بِجَائِزٍ» وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ: «لاَ يَجُوزُ طَلاَقُ المُوَسْوِسِ» وَقَالَ عَطَاءٌ: «إِذَا بَدَا بِالطَّلاَقِ فَلَهُ شَرْطُهُ» وَقَالَ نَافِعٌ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ البَتَّةَ إِنْ خَرَجَتْ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «إِنْ خَرَجَتْ فَقَدْ بُتَّتْ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ تَخْرُجْ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ» وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: " فِيمَنْ قَالَ: إِنْ لَمْ أَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا فَامْرَأَتِي طَالِقٌ ثَلاَثًا: يُسْأَلُ عَمَّا قَالَ وَعَقَدَ عَلَيْهِ قَلْبُهُ حِينَ حَلَفَ بِتِلْكَ اليَمِينِ؟ فَإِنْ سَمَّى أَجَلًا أَرَادَهُ وَعَقَدَ عَلَيْهِ قَلْبُهُ حِينَ حَلَفَ، جُعِلَ ذَلِكَ فِي دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ " وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: " إِنْ قَالَ: لاَ حَاجَةَ لِي فِيكِ، نِيَّتُهُ، وَطَلاَقُ كُلِّ قَوْمٍ بِلِسَانهِمْ " وَقَالَ قَتَادَةُ: " إِذَا قَالَ: إِذَا حَمَلْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلاَثًا، يَغْشَاهَا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ مَرَّةً، فَإِنِ اسْتَبَانَ حَمْلُهَا فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ " وَقَالَ الحَسَنُ: " إِذَا قَالَ: الحَقِي بِأَهْلِكِ، نِيَّتُهُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «الطَّلاَقُ عَنْ وَطَرٍ، وَالعَتَاقُ مَا أُرِيدَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ» وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: " إِنْ قَالَ: مَا أَنْتِ بِامْرَأَتِي، نِيَّتُهُ، وَإِنْ نَوَى طَلاَقًا فَهُوَ مَا نَوَى " وَقَالَ عَلِيٌّ: " أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ القَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلاَثَةٍ: عَنِ المَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ " وَقَالَ عَلِيٌّ: «وَكُلُّ الطَّلاَقِ جَائِزٌ، إِلَّا طَلاَقَ المَعْتُوهِ» حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ» قَالَ قَتَادَةُ: «إِذَا طَلَّقَ فِي نَفْسِهِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5269

ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گئے (اور زنا کا اقرار کیا) پھر انہوں نے اپنے اوپر چار مرتبہ شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو، کیا واقعی تم نے زنا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، پھر آپ نے پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہو چکی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عیدگاہ پر رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب انہیں پتھر لگا تو وہ بھاگنے لگے لیکن انہیں حرہ کے پاس پکڑا گیا اور جان سے مار دیا گیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الطلاق فی الاغلاق والکرہ،والسکران،والمجنون،وامرھما،والغلط والنسيان فی الطلاق والشرک وغیرہ؛جلد؛٧ص؛٤٦حدیث نمبر٥٢٧٠)

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي المَسْجِدِ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّهِ الَّذِي أَعْرَضَ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ بِكَ جُنُونٌ؟ هَلْ أَحْصَنْتَ» قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أُدْرِكَ بِالحَرَّةِ فَقُتِلَ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5270

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کر لیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا ہے لیکن وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف مڑ گیا، جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک پھیر لیا تھا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دوسرے (یعنی خود) نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی منہ موڑ لیا لیکن وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف آ گیا جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا تھا اور یہی عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان سے منہ موڑ لیا، پھر جب چوتھی مرتبہ وہ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور اپنے اوپر اس نے چار مرتبہ (زنا کی) شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو؟انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور سنگسار کرو کیونکہ وہ شادی شدہ تھے۔ اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جنہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس صحابی کو سنگسار کیا تھا۔ہم نے مدینہ منورہ کی عیدگاہ پر سنگسار کیا تھا۔جب ان پر پتھر پڑا تو وہ بھاگنے لگے لیکن ہم نے انہیں حرہ میں پھر پکڑ لیا اور انہیں سنگسار کیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الطلاق فی الاغلاق والکرہ،والسکران،والمجنون،وامرھما،والغلط والنسيان فی الطلاق والشرک وغیرہ؛جلد؛٧ص؛٤٦حدیث نمبر٥٢٧١،و حدیث نمبر ٥٢٧٢)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي المَسْجِدِ، فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الآخَرَ قَدْ زَنَى - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الآخَرَ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لَهُ الرَّابِعَةَ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ بِكَ جُنُونٌ؟» قَالَ: لاَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5271/5272

یہ باب ہے"اور خلع میں طلاق کیونکر پڑے گی؟"اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا«ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا‏»کہ”اور تمہارے لیے (شوہروں کے لیے)جائز نہیں کہ جو(مہر) تم انہیں(اپنی بیویوں کو)دے چکے ہو، اس میں سے کچھ بھی واپس لو،سوا اس صورت کے جبکہ زوجین اس کا خوف محسوس کریں کہ وہ(ایک ساتھ رہ کر) اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلع جائز رکھا ہے۔اس میں بادشاہ یا قاضی کے حکم کی ضرورت نہیں ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر بیوی اپنے سارے مال کے بدلہ میں خلع کرے صرف جوڑا باندھنے کا دھاگہ رہنے دے تب بھی خلع کرانا درست ہے۔طاؤس نے کہا کہ«إلا أن يخافا أن لا يقيما حدود الله‏»کا یہ مطلب ہے کہ جب بیوی اور خاوند اپنے اپنے فرائض کو جو حسن معاشرت اور صحبت سے متعلق ہیں ادا نہ کر سکیں(اس وقت خلع کرانا درست ہے)۔ طاؤس نے ان بیوقوفوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ خلع اسی وقت درست ہے جب عورت کہے کہ میں جنابت یا حیض سے غسل ہی نہیں کروں گی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ!مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔(کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی)۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الخلع وکیف الطلاق فیہ؛جلد؛٧ص؛٤٦حدیث نمبر٥٢٧٣)

بَابُ الخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلاَقُ فِيهِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ} [البقرة: 229]- إِلَى قَوْلِهِ - {الظَّالِمُونَ} [البقرة: 229] وَأَجَازَ عُمَرُ، الخُلْعَ دُونَ السُّلْطَانِ وَأَجَازَ عُثْمَانُ، الخُلْعَ دُونَ عِقَاصِ رَأْسِهَا وَقَالَ طَاوُسٌ: {إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ} [البقرة: 229] فِيمَا افْتَرَضَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ فِي العِشْرَةِ وَالصُّحْبَةِ، وَلَمْ يَقُلْ قَوْلَ السُّفَهَاءِ: لاَ يَحِلُّ حَتَّى تَقُولَ لاَ أَغْتَسِلُ لَكَ مِنْ جَنَابَةٍ حَدَّثَنَاأَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلاَ دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْبَلِ الحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «لاَ يُتَابَعُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5273

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عبداللہ بن ابی(منافق)کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہانے یہ بیان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان (ثابت رضی اللہ عنہ)کا باغ واپس کر دو گی؟انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں۔اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے،ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور(اس روایت میں بیان کیا کہ)ان کے شوہر(ثابت رضی اللہ عنہ) نے انہیں طلاق دے دی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الخلع وکیف الطلاق فیہ؛جلد؛٧ص؛٤٧حدیث نمبر٥٢٧٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ: بِهَذَا، وَقَالَ: «تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْهَا، وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَطَلِّقْهَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5274

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا:یا رسول اللہ!مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الخلع وکیف الطلاق فیہ؛جلد؛٧ص؛٤٧حدیث نمبر٥٢٧٥)

وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لاَ أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، وَلَكِنِّي لاَ أُطِيقُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ» قَالَتْ: نَعَمْ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5275

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا:یا رسول اللہ!ثابت کے دین اور ان کے اخلاق سے مجھے کوئی شکایت نہیں لیکن مجھے خطرہ ہے(کہ میں ثابت رضی اللہ عنہ کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں)۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ(جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا۔ ایک اور سند کے ساتھ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٢٧٦ کے مثل مروی ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الخلع وکیف الطلاق فیہ؛جلد؛٧ص؛٤٧حدیث نمبر٥٢٧٦،حدیث نمبر ٥٢٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ المُبَارَكِ المُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، إِلَّا أَنِّي أَخَافُ الكُفْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ، فَذَكَرَ الحَدِيثَ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5276/5277

وقوله تعالى:وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من اهله وحكما من اهلها إلى قوله:خبيرا سورة النساء آية 35. (ترجمہ)"‌‌‌‏اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک مُنْصِفْ مرد کے گھروالوں کی طرف سے بھیجو اور ایک مُنْصِفْ عورت کے گھروالوں کی طرف سے (بھیجو) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کردے گا۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا ،خبردار ہے۔" حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الشقاق،وھل یشیر بالخلع عند الضرورۃ؛جلد؛٧ص؛٤٧حدیث نمبر٥٢٧٨)

بَابُ الشِّقَاقِ، وَهَلْ يُشِيرُ بِالخُلْعِ عِنْدَ الضَّرُورَةِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [النساء: 35]- إِلَى قَوْلِهِ - {خَبِيرًا} [النساء: 35] حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ بَنِي المُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ، فَلاَ آذَنُ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5278

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ کے معاملہ میں تین احکام معلوم ہوئے،اول یہ کہ جب بریرہ آزاد کی گئی تو اسے اس کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا اور (دوسرے یہ کہ) حق ولاء آزاد کرنے والے کا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دیکھا ہانڈی جوش مار رہی تھی، آپ کے سامنے روٹی گھر کے شوربے کے ساتھ رکھی گئی، تو آپ نے فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے کہ اس ہانڈی میں بھی گوشت ہے اسے نہیں دیکھتا، جواب دیا گیا کہ ہاں ہے تو سہی مگر وہ صدقہ کا گوشت ہے جو بریرہ کو ملا ہے اور آپ تو صدقہ نہیں کھاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے لئے صدقہ ہے اور میرے لئے ہدیہ۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ لا یکون بیع الامۃ طلاقا؛جلد؛٧ص؛٤٧حدیث نمبر٥٢٧٩)

بَابُ لاَ يَكُونُ بَيْعُ الأَمَةِ طَلاَقًا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ البَيْتِ، فَقَالَ: «أَلَمْ أَرَ البُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ» قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ: «عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5279

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اس کو یعنی بریرہ کے شوہر کو غلام دیکھا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ خیار الامۃ تحت العبد؛جلد؛٧ص؛٤٨حدیث نمبر٥٢٨٠)

بَابُ خِيَارِ الأَمَةِ تَحْتَ العَبْدِ حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «رَأَيْتُهُ عَبْدًا» يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5280

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ مغیث یعنی بریرہ کا شوہر بنی فلاں کا غلام تھا، اور گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے روتا ہوا پھر رہا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ خیار الامۃ تحت العبد؛جلد؛٧ص؛٤٨حدیث نمبر٥٢٨١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلاَنٍ - يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ - كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ المَدِينَةِ، يَبْكِي عَلَيْهَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5281

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند ایک سیاہ غلام تھا، اس کا نام مغیث تھا اور بنی فلاں کا غلام تھا، گویا میں اسے دیکھ رہاہوں کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھر رہا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ خیار الامۃ تحت العبد؛جلد؛٧ص؛٤٨حدیث نمبر٥٢٨٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ، يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ، عَبْدًا لِبَنِي فُلاَنٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ وَرَاءَهَا فِي سِكَكِ المَدِينَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5282

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر ایک مغیث نامی غلام تھا، گویا میں اسے دیکھ رہاہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے روتا ہوا گھوم رہاہے، آنسو اس کی داڑھی پر گر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے عباس! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور بریرہ کی مغیث سے عداوت پر تعجب نہیں ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! تو اسے لوٹا لے، یعنی رجوع کرلے، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا (نہیں بلکہ) میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں، بریرہ نے کہا تو پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ شفاعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی زوج بریرۃ؛جلد؛٧ص؛٤٨حدیث نمبر٥٢٨٣)

بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَوْجِ بَرِيرَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ: «يَا عَبَّاسُ، أَلاَ تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا» فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَاجَعْتِهِ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ» قَالَتْ: لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5283

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بریرہ کو خریدنا چاہا، اس کے مالکوں نے انکار کردیا مگر اس شرط پر راضی ہوئے کہ حق ولاء انہیں حاصل ہو،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو خرید لو اور آزاد کردو، اس لئے کہ ولاء تو اسی کے لئے ہے جس نے آزاد کیا، اور آپ کے پاس گوشت لایا گیا اور کہا گیا کہ یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے، لیکن ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ شفاعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی زوج بریرۃ؛جلد؛٧ص؛٤٨حدیث نمبر٥٢٨٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الوَلاَءَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ» حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَزَادَ: فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5284

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جب ان سے نصرانی اور بیوہ عورت سے نکاح کے متعلق دریافت کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر مشرک عورتیں حرام قرار دی ہیں، اور شرک کی بات اس سے بڑھ کر میں نہیں جانتا کہ کوئی عورت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا رب کہے حالانکہ وہ اللہ کے ایک بندے ہیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَنْكِحُوا المُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ، وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ} [البقرة: ٢٢١]؛جلد؛٧ص؛٤٨حدیث نمبر٥٢٨٥)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَنْكِحُوا المُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ، وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ} [البقرة: 221] حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ نِكَاحِ النَّصْرَانِيَّةِ وَاليَهُودِيَّةِ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ المُشْرِكَاتِ عَلَى المُؤْمِنِينَ، وَلاَ أَعْلَمُ مِنَ الإِشْرَاكِ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنْ أَنْ تَقُولَ المَرْأَةُ: رَبُّهَا عِيسَى، وَهُوَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ "

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5285

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کی دو جماعتیں تھیں، اول حربی مشرک کہ آپ ان سے جنگ کرتے اور وہ آپ سے جنگ کرتے تھے، دوسرے معاہد مشرک کی نہ تو آپ ان سے جنگ کرتے تھے اور نہ وہ آپ سے جنگ کرتے تھے، اور اگر کوئی حربی عورت ہجرت کرکے آجاتی تو اس کے پاس پیغام نکاح نہ بھیجتے جب تک کہ اسے حیض نہ آجائے، اور اس سے پاک نہ ہوجائے، جب وہ پاک ہوجاتی تو اس کے لئے نکاح جائز ہوتا اور اگر شوہر نے اس کے نکاح سے پہلے ہی ہجرت کی تو وہ اپنے شوہر کو واپس کردی جاتی اور اگر ان کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کرکے آتی تو وہ دونوں آزاد ہوجاتے اور ان کو بھی وہی حق ہوتا جو مہاجرین کا ہوتا، پھر معاہد کا ذکر مجاہد کی حدیث کی طرح کیا، اگر معاہد کی لونڈی یا غلام ہجرت کر کے آتے تو انہیں واپس نہ کیا جاتا بلکہ ان کی قیمتیں دی جاتیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ نکاح من اسلم من المشرکات وعدتھن؛جلد؛٧ص؛٤٨حدیث نمبر٥٢٨٦)

بَابُ نِكَاحِ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ المُشْرِكَاتِ وَعِدَّتِهِنَّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ عَطَاءٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " كَانَ المُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالمُؤْمِنِينَ: كَانُوا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ، يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ، وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ، لاَ يُقَاتِلُهُمْ وَلاَ يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ، وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ، وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ - ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ العَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ - وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ أَهْلِ العَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا، وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ "

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5286

اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نقل کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ حضرت عمر بن الخطاب کے نکاح میں تھیں، اس کو طلاق دے دی، تو اس سے معاویہ بن ابی سفیان نے نکاح کرلیا اور ام حکم بنت ابی سفیان، عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس کو طلاق دے دی تو عبداللہ بن عثمان ثقفی نے اس سے نکاح کر لیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ نکاح من اسلم من المشرکات وعدتھن؛جلد؛٧ص؛٤٨حدیث نمبر٥٢٨٧)

وَقَالَ عَطَاءٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: «كَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ أُمُّ الحَكَمِ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الفِهْرِيِّ، فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمانَ الثَّقَفِيُّ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5287

اور عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ اگر کوئی نصرانی عورت اپنے شوہر سے تھوڑی دیر پہلے اسلام لائی تو وہ اپنے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے اور داؤد نے بیان کیا کہ ان سے ابراہیم الصائغ نے عطاء سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جو ذمی قوم سے تعلق رکھتی ہو اور اسلام قبول کر لے، پھر اس کے بعد اس کا شوہر بھی اس کی عدت کے زمانہ ہی میں اسلام لے آئے تو کیا وہ اسی کی بیوی سمجھی جائے گی؟ فرمایا کہ نہیں البتہ اگر وہ نیا نکاح کرنا چاہے، نئے مہر کے ساتھ (تو کر سکتا ہے)مجاہد نے فرمایا کہ (بیوی کے اسلام لانے کے بعد)اگر شوہر اس کی عدت کے زمانہ میں ہی اسلام لے آیا تو اس سے نکاح کر لینا چاہیئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن» کہ ”نہ مومن عورتیں مشرک مردوں کے لیے حلال ہیں اور نہ مشرک مرد مومن عورتوں کے لیے حلال ہیں۔“ اور حسن اور قتادہ نے دو مجوسیوں کے بارے میں(جو میاں بیوی تھے) جو اسلام لے آئے تھے، کہا کہ وہ دونوں اپنے نکاح پر باقی ہیں اور اگر ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے (اسلام میں) سبقت کر جائے اور دوسرا انکار کر دے تو عورت اپنے شوہر سے جدا ہو جاتی ہے اور شوہر اسے حاصل نہیں کر سکتا (سوا نکاح جدید کے) اور ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ مشرکین کی کوئی عورت (اسلام قبول کرنے کے بعد) اگر مسلمانوں کے پاس آئے تو کیا اس کے مشرک شوہر کو اس کا مہر واپس کر دیا جائے گا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «وأتوهم ما أنفقوا» ”اور انہیں وہ واپس کر دو جو انہوں نے خرچ کیا ہو۔“ عطاء نے فرمایا کہ نہیں، یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور معاہد مشرکین کے درمیان تھا اور مجاہد نے فرمایا کہ یہ سب کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان باہمی صلح کی وجہ سے تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں مومن عورتیں جب ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزماتے تھے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن‏» کہ ”اے ایمان والوں!جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو انہیں آزماؤ“۔ آخر آیت تک۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ان (ہجرت کرنے والی) مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی (جس کا ذکر اسی سورۃ الممتحنہ میں ہے کہ ”اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گی“) تو وہ آزمائش میں پوری سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ جب وہ اس کا اپنی زبان سے اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے کہ اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں! واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے (بیعت لیتے وقت) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف زبان سے (بیعت لیتے تھے)۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہیں چیزوں کا عہد لیا جن کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا۔ بیعت لینے کے بعد آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ یہ آپ صرف زبان سے کہتے کہ میں نے تم سے بیعت لے لی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ اذا اسلمت المشرکۃ او النصرانیۃ تحت الذمی او الحربی؛جلد؛٧ص؛٤٩حدیث نمبر٥٢٨٨)

بَابُ إِذَا أَسْلَمَتِ المُشْرِكَةُ أَوِ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الذِّمِّيِّ أَوِ الحَرْبِيِّ وَقَالَ عَبْدُ الوَارِثِ: عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: «إِذَا أَسْلَمَتِ النَّصْرَانِيَّةُ قَبْلَ زَوْجِهَا بِسَاعَةٍ حَرُمَتْ عَلَيْهِ» وَقَالَ دَاوُدُ: عَنْ إِبْراهِيمَ الصَّائِغِ، سُئِلَ عَطَاءٌ: عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِ العَهْدِ أَسْلَمَتْ، ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا فِي العِدَّةِ، أَهِيَ امْرَأَتُهُ؟ قَالَ: «لاَ، إِلَّا أَنْ تَشَاءَ هِيَ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ وَصَدَاقٍ» وَقَالَ مُجَاهِدٌ: «إِذَا أَسْلَمَ فِي العِدَّةِ يَتَزَوَّجُهَا» وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {لاَ هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلاَ هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ} [الممتحنة: 10] وَقَالَ الحَسَنُ، وَقَتَادَةُ: فِي مَجُوسِيَّيْنِ أَسْلَمَا: هُمَا عَلَى نِكَاحِهِمَا، وَإِذَا سَبَقَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَأَبَى الآخَرُ بَانَتْ، لاَ سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهَا وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: امْرَأَةٌ مِنَ المُشْرِكِينَ جَاءَتْ إِلَى المُسْلِمِينَ، أَيُعَاوَضُ زَوْجُهَا مِنْهَا، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَآتُوهُمْ مَا أَنْفَقُوا} [الممتحنة: 10] قَالَ: " لاَ، إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَهْلِ العَهْدِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: هَذَا كُلُّهُ فِي صُلْحٍ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَتِ المُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، إِذَا جَاءَكُمُ المُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ} [الممتحنة: 10] إِلَى آخِرِ الآيَةِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ المُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ، قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ» لاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ بَايَعَهُنَّ بِالكَلاَمِ، وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ: «قَدْ بَايَعْتُكُنَّ» كَلاَمًا

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5288

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ [ص: ٥٠] أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ، وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} "فَإِنْ فَاءُوا: رَجَعُوا "؛جلد؛٧ص؛٥٠حدیث نمبر٥٢٨٩)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ -[50]- أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ، وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} " فَإِنْ فَاءُوا: رَجَعُوا " حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتْ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا؟ فَقَالَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5289

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس ایلاء کے بارے میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، فرماتے تھے کہ مدت پوری ہونے کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں، سوا اس کے کہ قاعدہ کے مطابق (اپنی بیوی کو) اپنے پاس ہی روک لے یا پھر طلاق دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا کہ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ چار مہینے گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دیدے اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک طلاق دی نہ جائے اور عثمان، علی، ابودرداء اور حضرت عائشہ اور بارہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ [ص: ٥٠] أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ، وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} "فَإِنْ فَاءُوا: رَجَعُوا "؛جلد؛٧ص؛٥٠حدیث نمبر٥٢٩٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ فِي الإِيلاَءِ الَّذِي سَمَّى اللَّهُ: «لاَ يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدَ الأَجَلِ إِلَّا أَنْ يُمْسِكَ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يَعْزِمَ بِالطَّلاَقِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» وقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، " إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ: يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ، وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ حَتَّى يُطَلِّقَ " وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ: عُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعَائِشَةَ، وَاثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5290

اور ابن المسیب نے کہا جب جنگ کے وقت صف سے اگر کوئی شخص گم ہوا تو اس کی بیوی کو ایک سال اس کا انتظار کرنا چاہیئے(اور پھر اس کے بعد دوسرا نکاح کرنا چاہے)۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی کسی سے خریدی (اصل مالک قیمت لیے بغیر کہیں چلا گیا اور گم ہو گیا) تو آپ نے اس کے پہلے مالک کو ایک سال تک تلاش کیا، پھر جب وہ نہیں ملا تو (غریبوں کو اس لونڈی کی قیمت میں سے) ایک ایک دو دو درہم دینے لگے اور آپ نے دعا کی کہ اے اللہ! یہ فلاں کی طرف سے ہے (جو اس کا پہلا مالک تھا اور جو قیمت لیے بغیر کہیں گم ہو گیا تھا) پھر اگر وہ (آنے کے بعد) اس صدقہ سے انکار کرے گا (اور قیمت کا مطالبہ کرے گا تو اس کا ثواب) مجھے ملے گا اور لونڈی کی قیمت کی ادائیگی مجھ پر واجب ہو گی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسی طرح تم لقطہٰ ایسی چیز کو کہتے ہیں جو راستے میں پڑی ہوئی کسی کو مل جائے، کے ساتھ کیا کرو۔ زہری نے ایسے قیدی کے بارے میں جس کی جائے قیام معلوم ہو، کہا کہ اس کی بیوی دوسرا نکاح نہ کرے اور نہ اس کا مال تقسیم کیا جائے، پھر اس کی خبر ملنی بند ہو جائے تو اس کا معاملہ بھی مفقود الخبر کی طرح ہو جاتا ہے۔ منبعث کے مولیٰ یزید سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئی ہوئی بکری کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ یا وہ تمہاری ہو گی (اگر ایک سال تک اعلان کے بعد اس کا مالک نہ ملا)یا تمہارے کسی بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑیے کی ہوگی (اگر انہی جنگلوں میں پھرتی رہی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئے ہوئے اونٹ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ غصہ ہو گئے اور غصہ کی وجہ سے آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا غرض! اس کے پاس (مضبوط) کھر ہیں (جس کی وجہ سے چلنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہوگی) اس کے پاس مشکیزہ ہے جس سے وہ پانی پیتا رہے گا اور درخت کے پتے کھاتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رسی کا (جس سے وہ بندھا ہو) اور اس کے ظرف کا (جس میں وہ رکھا ہو) اعلان کرو اور اس کا ایک سال تک اعلان کرو، پھر اگر کوئی ایسا شخص آجائے جو اسے پہچانتا ہو (اور اس کا مالک ہو تو اسے دے دو) ورنہ اسے اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ پھر میں ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور مجھے ان سے اس کے سوا اور کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ گم شدہ چیزوں کے بارے میں منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟کیا وہ زید بن خالد سے منقول ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں (سفیان نے بیان کیا کہ ہاں) یحییٰ نے بیان کیا کہ ربیعہ نے منبعث کے مولیٰ یزید سے بیان کیا، ان سے زید بن خالد نے۔ سفیان نے بیان کیا کہ پھر میں نے ربیعہ سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق پوچھا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ حکم المفقود فی اھلہ ومالہ"؛جلد؛٧ص؛٥٠حدیث نمبر ٥٢٩١ و حدیث نمبر ٥٢٩٢)

بَابُ حُكْمِ المَفْقُودِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَقَالَ ابْنُ المُسَيِّبِ: «إِذَا فُقِدَ فِي الصَّفِّ عِنْدَ القِتَالِ تَرَبَّصُ امْرَأَتُهُ سَنَةً» وَاشْتَرَى ابْنُ مَسْعُودٍ جَارِيَةً، وَالتَمَسَ صَاحِبَهَا سَنَةً، فَلَمْ يَجِدْهُ، وَفُقِدَ، فَأَخَذَ يُعْطِي الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَنْ فُلاَنٍ فَإِنْ أَتَى فُلاَنٌ فَلِي وَعَلَيَّ، وَقَالَ: هَكَذَا فَافْعَلُوا بِاللُّقَطَةِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَحْوَهُ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: فِي الأَسِيرِ يُعْلَمُ مَكَانُهُ: " لاَ تَتَزَوَّجُ امْرَأَتُهُ، وَلاَ يُقْسَمُ مَالُهُ، فَإِذَا انْقَطَعَ خَبَرُهُ فَسُنَّتُهُ سُنَّةُ المَفْقُودِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى المُنْبَعِثِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الغَنَمِ، فَقَالَ: «خُذْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ، فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَقَالَ: «مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا الحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ، تَشْرَبُ المَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا» وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: «اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، وَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَإِلَّا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ» قَالَ سُفْيَانُ: فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ - قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ شَيْئًا غَيْرَ هَذَا - فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ حَدِيثَ يَزِيدَ مَوْلَى المُنْبَعِثِ فِي أَمْرِ الضَّالَّةِ، هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ يَحْيَى: وَيَقُولُ رَبِيعَةُ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى المُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سُفْيَانُ: فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ فَقُلْتُ لَهُ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5291/5292

اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ المجادلہ میں فرمانا ”اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے، اپنے شوہر کے بارے میں بحث کرتی تھی۔ آیت «فمن لم يستطع فإطعام ستين مسكينا» تک، اور مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے ابن شہاب سے کسی نے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ اس کا ظہار بھی آزاد کے ظہار کی طرح ہو گا۔ امام مالک نے بیان کیا کہ غلام روزے دو مہینے کے رکھے گا۔ حسن بن حر نے کہا کہ آزاد مرد یا غلام کا ظہار آزاد عورت یا لونڈی سے یکساں ہے۔ عکرمہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ظہار اپنی بیویوں سے ہوتا ہے اور عربی زبان میں «لام فى» کے معنوں میں آتا ہے تو «يعودون لما قالوا» کا یہ معنی ہو گا کہ پھر اس عورت کو رکھنا چاہیں اور ظہار کے کلمہ کو باطل کرنا اور یہ ترجمہ اس سے بہتر ہے کیونکہ ظہار کو اللہ نے بری بات اور جھوٹ فرمایا ہے اس کو دہرانے کے لیے کیسے کہے گا۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں دے گا لیکن اس پر عذاب دے گا، اس وقت آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا (کہ نوحہ عذاب الٰہی کا باعث ہے)۔ اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک قرض کے سلسلہ میں جو میرا ایک صاحب پر تھا) میری طرف اشارہ کیا کہ آدھا لے لو (اور آدھا چھوڑ دو)۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسوف کی نماز پڑھ رہے تھے (میں پہنچی اور) عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے سر سے سورج کی طرف اشارہ کیا (کہ یہ سورج گرہن کی نماز ہے) میں نے کہا، کیا یہ کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اپنے سر کے اشارہ سے بتایا کہ ہاں اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں اور ابوقتادہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے شکار کے سلسلے میں دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے شکاری کو شکار مارنے کے لیے کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر (اس کا گوشت) کھاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رکن کے پاس آتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے تکبیر کہتے اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج کے دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے نوے کا عدد بنایا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَاب الظھار؛باب الاشارۃ فی الطلاق والأمور "؛جلد؛٧ص؛٥١؛حدیث نمبر٥٢٩٣)

بابُ الظِّهَارِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: 1]- إِلَى قَوْلِهِ - {فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا} [المجادلة: 4] وَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ ظِهَارِ العَبْدِ، فَقَالَ: نَحْوَ ظِهَارِ الحُرِّ قَالَ مَالِكٌ: «وَصِيَامُ العَبْدِ شَهْرَانِ» وَقَالَ الحَسَنُ بْنُ الحُرِّ: «ظِهَارُ الحُرِّ وَالعَبْدِ، مِنَ الحُرَّةِ وَالأَمَةِ، سَوَاءٌ» وَقَالَ عِكْرِمَةُ: «إِنْ ظَاهَرَ مِنْ أَمَتِهِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ إِنَّمَا الظِّهَارُ مِنَ النِّسَاءِ» وَفِي العَرَبِيَّةِ: لِمَا قَالُوا: أَيْ -[51]- فِيمَا قَالُوا، وَفِي بَعْضِ مَا قَالُوا، وَهَذَا أَوْلَى، لِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَدُلَّ عَلَى المُنْكَرِ وَقَوْلِ الزُّورِ " بَابُ الإِشَارَةِ فِي الطَّلاَقِ وَالأُمُورِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يُعَذِّبُ اللَّهُ بِدَمْعِ العَيْنِ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا» فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَيْ: «خُذِ النِّصْفَ» وَقَالَتْ أَسْمَاءُ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الكُسُوفِ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ وَهِيَ تُصَلِّي، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى الشَّمْسِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا: أَنْ نَعَمْ وَقَالَ أَنَسٌ، أَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ: «لاَ حَرَجَ» وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ: «آحَدٌ مِنْكُمْ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا، أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا» قَالُوا: لاَ، قَالَ: «فَكُلُوا» حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَانَ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ، أَشَارَ إِلَيْهِ وَكَبَّرَ» وَقَالَتْ زَيْنَبُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» وَعَقَدَ تِسْعِينَ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5293

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الاشارۃ فی الطلاق والامور؛جلد؛٧ص؛٥١؛حدیث نمبر٥٢٩٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الجُمُعَةِ سَاعَةٌ، لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ» وَقَالَ بِيَدِهِ، وَوَضَعَ أُنْمُلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الوُسْطَى وَالخِنْصِرِ، قُلْنَا: يُزَهِّدُهَا

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5294

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا،اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الاشارۃ فی الطلاق والامور؛جلد؛٧ص؛٥١؛حدیث نمبر٥٢٩٥)

وَقَالَ الأُوَيْسِيُّ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا، وَرَضَخَ رَأْسَهَا، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَكِ؟» فُلاَنٌ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا: أَنْ لاَ، قَالَ: فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ: أَنْ لاَ، فَقَالَ: «فَفُلاَنٌ» لِقَاتِلِهَا، فَأَشَارَتْ: أَنْ نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5295

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الاشارۃ فی الطلاق والامور؛جلد؛٧ص؛٥١؛حدیث نمبر٥٢٩٦)

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الفِتْنَةُ مِنْ هَا هُنَا» وَأَشَارَ إِلَى المَشْرِقِ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5296

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی(بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول(کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے) انہوں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے، ابھی دن باقی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اترو اور ستو گھول لو۔ آخر تیسری مرتبہ کہنے پر انہوں نے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الاشارۃ فی الطلاق والامور؛جلد؛٧ص؛٥١؛حدیث نمبر٥٢٩٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ لِرَجُلٍ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، ثُمَّ قَالَ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ» فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى المَشْرِقِ، فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5297

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو(سحری کھانے سے) بلال کی پکار نہ روکے یا آپ نے فرمایا کہ ”ان کی اذان“ کیونکہ وہ پکارتے ہیں، یا فرمایا، اذان دیتے ہیں تاکہ اس وقت نماز پڑھنے والا رک جائے۔ اس کا اعلان سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ صبح صادق ہو گئی۔ اس وقت یزید بن زریع نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے (صبح کاذب کی صورت بتانے کے لیے) پھر ایک ہاتھ کو دوسرے پر پھیلایا (صبح صادق کی صورت کے اظہار کے لیے)۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الاشارۃ فی الطلاق والامور؛جلد؛٧ص؛٥٢؛حدیث نمبر٥٢٩٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ - أَوْ قَالَ أَذَانُهُ - مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي - أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ - لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ - كَأَنَّهُ يَعْنِي - الصُّبْحَ أَوِ الفَجْرَ» وَأَظْهَرَ يَزِيدُ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَدَّ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5298

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور سخی کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں سینے سے گردن تک ہیں۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو زرہ اس کے چمڑے پر ڈھیلی ہو جاتی ہے اور اس کے پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے(اور پھیل کر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ)اس کے نشان قدم کو مٹاتی چلتی ہے لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ نے اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الاشارۃ فی الطلاق والامور؛جلد؛٧ص؛٥٢؛حدیث نمبر٥٢٩٩)

وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ البَخِيلِ وَالمُنْفِقِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا المُنْفِقُ: فَلاَ يُنْفِقُ شَيْئًا إِلَّا مَادَّتْ عَلَى جِلْدِهِ، حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَأَمَّا البَخِيلُ: فَلاَ يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلَّا لَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، فَهُوَ يُوسِعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ " وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى حَلْقِهِ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5299

اور اللہ تعالیٰ نے(سورۃ النور میں)فرمایا «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم‏» ”اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس ان کی ذات کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔“ آخر آیت «من الصادقين‏» تک۔ اگر گونگا اپنی بیوی پر لکھ کر، اشارہ سے یا کسی مخصوص اشارہ سے تہمت لگائے تو اس کی حیثیت بولنے والے کی سی ہوگی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض میں اشارہ کو جائز قرار دیا ہے اور یہی بعض اہل حجاز اور بعض دوسرے اہل علم کا فتویٰ ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فأشارت إليه قالوا كيف نكلم من كان في المهد صبيا‏» ”اور (مریم علیہا السلام نے) ان کی (عیسیٰ علیہ السلام) طرف اشارہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ ہم اس سے کس طرح گفتگو کر سکتے ہیں جو ابھی گہوارہ میں بچہ ہے۔“ اور ضحاک نے کہا کہ «إلا رمزا‏» بمعنی «إشارة‏.‏» ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ( «إشارة‏.‏» سے) حد اور لعان نہیں ہو سکتی ہے۔ جبکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ طلاق کتابت، اشارہ اور ایماء سے ہو سکتی ہے۔ حالانکہ طلاق اور تہمت صرف کلام ہی کے ذریعہ مانی جائے گی تو ان سے کہا جائے گا کہ پھر یہی صورت طلاق میں بھی ہونی چاہیئے اور وہ بھی صرف کلام ہی کے ذریعہ معتبر مانا جانا چاہیئے ورنہ طلاق اور تہمت (اگر اشارہ سے ہو) تو سب کو باطل ماننا چاہیئے اور (اشارہ سے غلام کی) آزادی کا بھی یہی حشر ہو گا اور یہی صورت لعان کرنے والے گونگے کے ساتھ بھی پیش آئے گی۔ اور شعبی اور قتادہ نے بیان کیا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ”تجھے طلاق ہے“ اور اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا تو وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی۔ ابراہیم نے کہا کہ گونگا اگر طلاق اپنے ہاتھ سے لکھے تو وہ پڑ جاتی ہے۔ حماد نے کہا کہ گونگے اور بہرے اپنے سر سے اشارہ کریں تو جائز ہے۔ حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بتاؤں کہ قبیلہ انصار کا سب سے بہتر گھرانہ کون سا ہے؟صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے یا رسول اللہ!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا۔ اس کے بعد ان کا مرتبہ ہے جو ان سے قریب ہیں یعنی بنو عبدالاشہل کا، ان کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنی الحارث بن خزرج کا۔ اس کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنو ساعدہ کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مٹھی بند کی، پھر اسے اس طرح کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھ کی چیز کو پھینکتا ہے پھر فرمایا کہ انصار کے ہر گھرانہ میں خیر ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ اللعان؛جلد؛٧ص؛٥٢؛حدیث نمبر٥٣٠٠)

بَابُ اللِّعَانِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ} [النور: 6]- إِلَى قَوْلِهِ - {إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [النور: 9] «فَإِذَا قَذَفَ الأَخْرَسُ امْرَأَتَهُ، بِكِتَابَةٍ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ بِإِيمَاءٍ مَعْرُوفٍ، فَهُوَ كَالْمُتَكَلِّمِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَازَ الإِشَارَةَ فِي الفَرَائِضِ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الحِجَازِ وَأَهْلِ العِلْمِ،» وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا: كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي المَهْدِ صَبِيًّا؟} وَقَالَ الضَّحَّاكُ، {إِلَّا رَمْزًا} [آل عمران: 41] «إِلَّا إِشَارَةً» وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لاَ حَدَّ وَلاَ لِعَانَ، ثُمَّ زَعَمَ: أَنَّ الطَّلاَقَ بِكِتَابٍ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ إِيمَاءٍ جَائِزٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الطَّلاَقِ وَالقَذْفِ فَرْقٌ، فَإِنْ قَالَ: القَذْفُ لاَ يَكُونُ إِلَّا بِكَلاَمٍ، قِيلَ لَهُ: كَذَلِكَ الطَّلاَقُ لاَ يَجُوزُ إِلَّا بِكَلاَمٍ، وَإِلَّا بَطَلَ الطَّلاَقُ وَالقَذْفُ، وَكَذَلِكَ العِتْقُ، وَكَذَلِكَ الأَصَمُّ يُلاَعِنُ " وَقَالَ الشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ: «إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ، فَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ، تَبِينُ مِنْهُ بِإِشَارَتِهِ» وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: «الأَخْرَسُ إِذَا كَتَبَ الطَّلاَقَ بِيَدِهِ لَزِمَهُ» وَقَالَ حَمَّادٌ: «الأَخْرَسُ وَالأَصَمُّ إِنْ قَالَ بِرَأْسِهِ، جَازَ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الحَارِثِ بْنِ الخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ» ثُمَّ قَالَ -[53]- بِيَدِهِ فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5300

ابوحازم سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا،انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری بعثت قیامت سے اتنی قریب ہے جیسے اس کی اس سے(یعنی شہادت کی انگلی بیچ کی انگلی سے)یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (راوی کو شک تھا) کہ جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ اللعان؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣٠١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ، أَوْ: كَهَاتَيْنِ " وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5301

جبلہ بن سحیم سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ آپ کی مراد تیس دن سے تھی۔ پھر فرمایا اور اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا بھی ہوتا ہے۔ آپ کا اشارہ انتیس دنوں کی طرف تھا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس کی طرف اشارہ کیا اور دوسری مرتبہ انتیس کی طرف۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ اللعان؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣٠٢)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:: «الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» - يَعْنِي: ثَلاَثِينَ - ثُمَّ قَالَ: «وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» - يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ - يَقُولُ: مَرَّةً ثَلاَثِينَ، وَمَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5302

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ برکتیں ادھر ہیں۔دو مرتبہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا) ہاں اور سختی اور قساوت قلب ان کی کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں یعنی ربیعہ اور مضر میں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ اللعان؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: وَأَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ اليَمَنِ: «الإِيمَانُ هَا هُنَا - مَرَّتَيْنِ - أَلاَ وَإِنَّ القَسْوَةَ وَغِلَظَ القُلُوبِ فِي الفَدَّادِينَ - حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ - رَبِيعَةَ وَمُضَرَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5303

حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ اللعان؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣٠٤)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا وَكَافِلُ اليَتِيمِ فِي الجَنَّةِ هَكَذَا» وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى، وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5304

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:یا رسول اللہ! میرے یہاں تو کالا کلوٹا بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ رنگ کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا کہ اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر یہ پڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا یہ لڑکا بھی اپنی نسل کے کسی دور کے رشتہ دار پر پڑا ہو گا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ اذا عرض بنفی الولد؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣٠٥)

بَابُ إِذَا عَرَّضَ بِنَفْيِ الوَلَدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ لِي غُلاَمٌ أَسْوَدُ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا أَلْوَانُهَا؟» قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَنَّى ذَلِكَ؟» قَالَ: لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: «فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5305

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میاں بیوی سے قسم کھلوائی اور پھر دونوں میں جدائی کرا دی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ احلاف الملاعن؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣٠٦)

بَابُ إِحْلاَفِ المُلاَعِنِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَأَحْلَفَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5306

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہےکہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کو تہمت لگائی وہ آیا اور اس نے گواہی دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک شخص جھوٹا ہے اس لئے تم میں سے کون توبہ کرتا ہے پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ یبدا الرجل بالتلاعن؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣٠٧)

بَابُ يَبْدَأُ الرَّجُلُ بِالتَّلاَعُنِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَجَاءَ فَشَهِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟» ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5307

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا اے عاصم! بتاؤ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے اور وہ اس کو قتل کردے تو تم اس کو قتل کردیتے ہو پھر وہ بے چارہ کیا کرے؟ اے عاصم! اس کے متعلق تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، عاصم نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ان مسئلوں کو جو بلا ضرورت پوچھے جائیں، ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا، اور عیب کی بات سمجھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات عاصم نے سنی وہ ان کو ناگوار گذری، جب عاصم اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو ان کے پاس عویمر آئے اور پوچھا کہ اے عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے، عاصم نے کہا کہ تم کوئی اچھی چیز نہیں لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سوال کو ناپسند سمجھا ہے، عویمر نے کہا کہ واللہ میں باز نہیں آوں گا جب تک کہ میں اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، عویمر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگوں کے درمیان میں آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بتلائیے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے اور وہ اس کو قتل کردے تو آپ اس کو قتل کردیں گے، تو پھر وہ (بے چارہ) کیا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے اور تیری بیوی کے متعلق آیت نازل ہوچکی ہے، جا اپنی بیوی کو لے آ، سہل کا بیان ہے کہ دونوں نے لعان کیا اور میں لوگوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمرنے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں گا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے انہوں نے تین طلاقیں دے دیں، ابن شہاب نے کہا کہ لعان کرنے والوں کے لئے یہی سنت ہوگی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ اللعان،ومن طلق بعد اللعان؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣٠٨)

بَابُ اللِّعَانِ، وَمَنْ طَلَّقَ بَعْدَ اللِّعَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُوَيْمِرًا العَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا» قَالَ سَهْلٌ: فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ سُنَّةَ المُتَلاَعِنَيْنِ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5308

ابن جریج فرماتے ہیں ابن شہاب نے مجھ سے لعان اور اس کے مسنون طریقے کے متعلق بنی ساعدہ کے بھائی سہل بن سعد کی حدیث بیان کی کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاتا ہے اور وہ اس کو قتل کر دیتا ہے تو آپ اس کو قتل کردیتے ہیں، بتلائیے آخروہ (قتل نہ کرے) تو کیا کرے، اللہ تعالیٰ نے اس کی شان میں وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے متعلق حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تیرے اور تیری بیوی کے متعلق حکم صادر فرما دیا ہے ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا، جب دونوں فارغ ہوئے تو اس مرد نے کہا کہ اگر میں اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو لوگ مجھے جھوٹا سمجھیں گے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جدا کردیا تو آپ نے فرمایا ہر لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کی یہی صورت ہے۔ ابن جریج نے ابن شہاب کا قول نقل کیا کہ ان دونوں سے یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ لعان کرنے والوں میں تفریق کرادی جائے۔ وہ عورت حاملہ تھی اور وہ بچہ اپنی ماں کے نام سے پکارا جاتا تھا، ابن شہاب کا بیان ہے کہ میراث میں یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ وہ عورت اس بچے کی اور بچہ اپنی ماں کا وارث ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے۔ ابن جریج نے بواسطہ ابن شہاب سہل بن سعد ساعدی سے اس حدیث میں روایت کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عورت سرخ رنگ کا ٹھگنا بچہ دے تو میں سمجھوں گا کہ وہ عورت سچی ہے اور اگر بڑی بڑی کالی آنکھوں والا اور بڑے بڑے چوتڑوں والا پیدا ہوا تو میں سمجھوں گا کہ مرد سچا ہے، بعد ازاں اس عورت نے اسی دوسری صورت کا بچہ جنا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب التلاعن فی المسجد؛جلد؛٧ص؛٥٤؛حدیث نمبر٥٣٠٩)

بَابُ التَّلاَعُنِ فِي المَسْجِدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ المُلاَعَنَةِ، وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَكَرَ فِي القُرْآنِ مِنْ أَمْرِ المُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ» قَالَ: فَتَلاَعَنَا فِي المَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلاَعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ المُتَلاَعِنَيْنِ. وَكَانَتْ حَامِلًا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لِأُمِّهِ، قَالَ: ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي هَذَا الحَدِيثِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا، كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلاَ أُرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ، ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلاَ أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا» فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى المَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5309

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کا تذکرہ ہورہا تھا، عاصم بن عدی نے اس کے متعلق کچھ بڑی بات کہی پھر واپس چلا آیا اس کے پاس اس کی قوم کا ایک آدمی آیا اور شکایت کی کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھا ہے تو عاصم نے کہا بڑا بول سامنے آیا اور اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس مرد کے متعلق آپ سے بیان کیا جس کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا تھا، وہ (دعوی) کرنے والامرد زرد رنگ، کم گوشت والا (دبلا) اور سیدھے بالوں والا تھا اور جس کے متعلق دعوی کیا تھا کہ اس کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے گندم گوں اور فربہ پنڈلیوں والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ! اصل حقیقت آشکار کردے، وہ عورت اس مرد کے مشابہ بچہ جنے جس کے متعلق دعوی کیا تھا کہ اس کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا کیا یہ عورت وہی تھی جس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بغیر گواہ کے سنگسار کرتا تو یہی ہے، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا نہیں وہ دوسری عورت تھی جو علانیہ اسلام میں برائی کرتی تھی۔ ابوصالح اور عبداللہ بن یوسف نے "خدلاً " کا لفظ روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لو کنت راجما بغیر بینۃ؛جلد؛٧ص؛٥٣؛حدیث نمبر٥٣١٠)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ» حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنِ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» فَجَاءَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ، فَلاَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا. قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي المَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ، رَجَمْتُ هَذِهِ» فَقَالَ: لاَ، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ: آدَمَ خَدِلًا

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5310

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کا حکم پوچھا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان ایسی صورت میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تو کیا تم میں سے ایک (جو واقعی گناہ میں مبتلا ہو) رجوع کرے گا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کر دی۔ اور بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے فرمایا کہ حدیث کے بعض اجزاء میرا خیال ہے کہ میں نے ابھی تم سے بیان نہیں کئے ہیں۔ فرمایا کہ ان صاحب نے (جنہوں نے لعان کیا تھا) کہا کہ میرے مال کا کیا ہو گا (جو میں نے مہر میں دیا تھا) بیان کیا کہ اس پر ان سے کہا گیا کہ وہ مال (جو عورت کو مہر میں دیا تھا) اب تمہارا نہیں رہا۔ اگر تم سچے ہو (اس تہمت لگانے میں تب بھی کیونکہ) تم اس عورت کے پاس تنہائی میں جا چکے ہو اور اگر تم جھوٹے ہو تب تو تم کو اور بھی مہر نہ ملنا چاہیئے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ صداق الملاعنۃ؛جلد؛٧ص؛٥٥؛حدیث نمبر٥٣١١)

بَابُ صَدَاقِ المُلاَعَنَةِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: فَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي العَجْلاَنِ، وَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ» فَأَبَيَا، وَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ» فَأَبَيَا، فَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ» فَأَبَيَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ أَيُّوبُ: فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، إِنَّ فِي الحَدِيثِ شَيْئًا لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ؟ قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ مَالِي؟ قَالَ: قِيلَ: «لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ مِنْكَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5311

حضرت عمرو نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کا حکم پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ اب تمہیں تمہاری بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ ان صحابی نے عرض کیا کہ میرا مال واپس کرا دیجئیے (جو مہر میں دیا گیا تھا)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں ہے۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو تمہارا یہ مال اس کے بدلہ میں ختم ہو چکا کہ تم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی پھر تو وہ تم سے بعید تر ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ یہ حدیث میں نے عمرو سے یاد کی اور ایوب نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی سے لعان کیا ہو تو آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ سفیان نے اس اشارہ کو اپنی دو شہادت اور بیچ کی انگلیوں کو جدا کر کے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کر لے گا؟ آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان بن عیینہ نے مجھ سے کہا، میں نے یہ حدیث جیسے عمرو بن دینار اور ایوب سے سن کر یاد رکھی تھی ویسی ہی تجھ سے بیان کر دی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قول الإمام للمتلاعنین:"ان احدکما کاذب،فھل منکما تائب"؛جلد؛٧ص؛٥٥؛حدیث نمبر٥٣١٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنْ حَدِيثِ المُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا» قَالَ: مَالِي؟ قَالَ: «لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ» قَالَ سُفْيَانُ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو وَقَالَ أَيُّوبُ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ لاَعَنَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: بِإِصْبَعَيْهِ - وَفَرَّقَ سُفْيَانُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، السَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى - فَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي العَجْلاَنِ "، وَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ» ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " قَالَ سُفْيَانُ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ كَمَا أَخْبَرْتُكَ "

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5312

حضرت نافع نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرا دی تھی جنہوں نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تھی اور دونوں سے قسم لی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب التفریق بین المتلاعنین؛جلد؛٧ص؛٥٥؛حدیث نمبر٥٣١٣)

بَابُ التَّفْرِيقِ بَيْنَ المُتَلاَعِنَيْنِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ قَذَفَهَا، وَأَحْلَفَهُمَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5313

عبیداللہ نے کہا مجھے نافع نے خبر دی اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرایا تھا اور دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب التفریق بین المتلاعنین؛جلد؛٧ص؛٥٦؛حدیث نمبر٥٣١٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لاَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5314

حضرت نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا تھا۔ پھر ان صاحب نے اپنی بیوی کے لڑکے کا انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور لڑکا عورت کو دے دیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب یلحق الولد بالملاعنۃ؛جلد؛٧ص؛٥٦؛حدیث نمبر٥٣١٥)

بَابُ يَلْحَقُ الوَلَدُ بِالْمُلاَعِنَةِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5315

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ لعان کرنے والوں کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہوا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی (کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤں تو وہیں قتل کر ڈالوں) پھر واپس آئے تو ان کی قوم کے ایک صاحب ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس معاملہ میں میرا یہ ابتلاء میری اس بات کی وجہ سے ہوا ہے (جس کے کہنے کی جرات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی) پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت سے مطلع کیا جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے اور سیدھے بالوں والے تھے اور وہ جسے انہوں نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا گندمی رنگ، گھٹے جسم کا زرد، بھرے گوشت والا تھا اس کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! معاملہ صاف کر دے چنانچہ ان کی بیوی نے جو بچہ جنا وہ اسی شخص سے مشابہ تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کے پاس اسے پایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شاگرد نے مجلس میں پوچھا، کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت سنگسار کرتا تو اسے کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں۔ یہ دوسری عورت تھی جو اسلام کے زمانہ میں اعلانیہ بدکاری کیا کرتی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب قول الإمام؛الھم بین؛جلد؛٧ص؛٥٦؛حدیث نمبر٥٣١٦)

بَابُ قَوْلِ الإِمَامِ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ القَاسِمِ، عَنِ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ المُتَلاَعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا، قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ، جَعْدًا قَطَطًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَهَا، فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي المَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ»؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لاَ، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ السُّوءَ فِي الإِسْلاَمِ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5316

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں(دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، پھر انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد ایک دوسرے صاحب نے ان خاتون سے نکاح کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے دوسرے شوہر کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تو ان کے پاس آتے ہی نہیں اور یہ کہ ان کے پاس کپڑے کے پلو جیسا ہے (انہوں نے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کی خواہش ظاہر کی لیکن)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم اس (دوسرے شوہر) کا مزا نہ چکھ لو اور یہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب إذا طلقھا ثلاثا،ثم تزوجت بعد العدۃ زوجا غیرہ،فلم یمسھا؛جلد؛٧ص؛٥٦؛حدیث نمبر٥٣١٧)

بَابُ إِذَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ العِدَّةِ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَلَمْ يَمَسَّهَا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رِفَاعَةَ القُرَظِيَّ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ طَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَتْ آخَرَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهُ لاَ يَأْتِيهَا، وَأَنَّهُ لَيْسَ مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةٍ، فَقَالَ: «لاَ، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5317

مجاھد نے کہایعنی ”تمہاری مطلقہ بیویوں میں سے جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو“ کی تفسیر مجاہد نے کہا یعنی جن عورتوں کا حال تم کو معلوم نہ ہو کہ ان کو حیض آتا ہے یا نہیں آتا۔اسی طرح وہ عورتیں جو بڑھاپے کی وجہ سے حیض سے مایوس ہو گئی ہیں۔ اسی طرح وہ عورتیں جو نابالغی کی وجہ سے ابھی حیض والی ہی نہیں ہوئی ہیں۔ ان سب قسم کی عورتوں کی عدت تین مہینے ہے۔ عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، کہا کہ مجھے خبر دی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ زینب ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک خاتون جو اسلام لائی تھیں اور جن کا نام سبیعہ تھا، اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھیں، شوہر کا جب انتقال ہوا تو وہ حاملہ تھیں۔ ابوسنان بن بعکک رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے نکاح کرنے سے انکار کیا۔ ابوالسنابل نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک عدت کی دو مدتوں میں سے لمبی نہ گزار لوں گی، تمہارے لیے اس سے (جس سے نکاح وہ کرنا چاہتی تھیں) نکاح کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ پھر وہ (وضع حمل کے بعد) تقریباً دس دن تک رکی رہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نکاح کر لو۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ: {وَاللاَّئِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ}:؛بَابُ: {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}:باب:"حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں"؛جلد؛٧ص؛٥٦؛حدیث نمبر٥٣١٨)

بَابُ {وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ المَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ} [الطلاق: 4] قَالَ مُجَاهِدٌ: " إِنْ لَمْ تَعْلَمُوا يَحِضْنَ أَوْ لاَ يَحِضْنَ، وَاللَّائِي قَعَدْنَ عَنِ المَحِيضِ، وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ: {فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاَثَةُ أَشْهُرٍ} [الطلاق: 4] " بَابُ {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ- جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ، كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا، تُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ مَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِيهِ حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الأَجَلَيْنِ»، فَمَكُثَتْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ لَيَالٍ، ثُمَّ جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «انْكِحِي»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5318

یزید سے مروی ہے فرماتے ہیں ابن شہاب نے انہیں لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عتبہ بن مسعود) سے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن الارقم کو لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ سے پوچھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کیا فتویٰ دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میرے یہاں بچہ پیدا ہو گیا تو نبی کریم نے مجھے فتویٰ دیا کہ اب میں نکاح کر لوں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ: {وَاللاَّئِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ}:؛بَابُ: {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}:باب:"حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں"؛جلد؛٧ص؛٥٧؛حدیث نمبر٥٣١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ الأَرْقَمِ، أَنْ يَسْأَلَ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ، كَيْفَ أَفْتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: «أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5319

مسور بن مخرمہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ: {وَاللاَّئِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ}:؛بَابُ: {وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ}:باب:"حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں"؛جلد؛٧ص؛٥٧؛حدیث نمبر٥٣٢٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ، «فَأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5320

اور ابراہیم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے کسی عورت سے عدت ہی میں نکاح کر لیا اور پھر وہ اس کے پاس تین حیض کی مدت گزرنے تک رہی کہ اس کے بعد وہ پہلے ہی شوہر سے جدا ہو گی۔(اور یہ صرف اس کی عدت سمجھی جائے گی) دوسرے نکاح کی عدت کا شمار اس میں نہیں ہو گا لیکن زہری نے کہا کہ اسی میں دوسرے نکاح کی عدت کا شمار بھی ہو گا، یہی یعنی زہری کا قول سفیان کو زیادہ پسند تھا۔ معمر نے کہا کہ «أقرأت المرأة» اس وقت بولتے ہیں جب عورت کا حیض قریب ہو۔ اسی طرح «أقرأت» اس وقت بھی بولتے ہیں جب عورت کا طہر قریب ہو، جب کسی عورت کے پیٹ میں کبھی کوئی حمل نہ ہوا ہو تو اس کے لیے عرب کہتے ہیں «ما قرأت بسلى قط» یعنی اس کو کبھی پیٹ نہیں رہا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان(ترجمہ)”اور اپنے پروردگار اللہ سے ڈرتے رہو، انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، بجز اس صورت کے کہ وہ کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدود سے بڑھے گا، اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ تجھے خبر نہیں شاید کہ اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔“(الطلاق؛ ١) "ان مطلقات کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے انہیں تکلیف مت پہنچاؤ اور اگر وہ حمل والیاں ہوں تو انہیں خرچ بھی دیتے رہو۔ ان کے حمل کے پیدا ہونے تک۔ آخر آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد «بعد عسر يسرا‏» تک۔(الطلاق؛٧) یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی(عمرہ)کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے (شوہر کے) گھر سے لے آئے (عدت کے ایام گزرنے سے پہلے)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر (جہاں اسے طلاق ہوئی ہے) پہنچا دو۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ (مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟ (انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا (کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا)۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک (فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں (میاں بیوی) کے درمیان کشیدگی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قصۃ فاطمۃ بنت قیس؛جلد؛٧ص؛٥٧؛حدیث نمبر٥٣٢١)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: 228] وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: " فِيمَنْ تَزَوَّجَ فِي العِدَّةِ، فَحَاضَتْ عِنْدَهُ ثَلاَثَ حِيَضٍ: بَانَتْ مِنَ الأَوَّلِ، وَلاَ تَحْتَسِبُ بِهِ لِمَنْ بَعْدَهُ " وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: «تَحْتَسِبُ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ» يَعْنِي قَوْلَ الزُّهْرِيِّ " وَقَالَ مَعْمَرٌ: " يُقَالُ: أَقْرَأَتِ المَرْأَةُ إِذَا دَنَا حَيْضُهَا، وَأَقْرَأَتْ إِذَا دَنَا طُهْرُهَا، وَيُقَالُ: مَا قَرَأَتْ بِسَلًى قَطُّ، إِذَا لَمْ تَجْمَعْ وَلَدًا فِي بَطْنِهَا " بَابُ قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَوْلِ اللَّهِ: {وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ، وَلاَ يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ، وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ، لاَ تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا} [الطلاق: 1]، {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ، وَلاَ تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِنْ كُنَّ أُولاَتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 6]- إِلَى قَوْلِهِ - {بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا} [الطلاق: 7] حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ القَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ: أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ العَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحَكَمِ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ المُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ، وَهُوَ أَمِيرُ المَدِينَةِ: «اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا» قَالَ مَرْوَانُ - فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ -: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الحَكَمِ غَلَبَنِي، وَقَالَ القَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ قَالَتْ: «لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ»، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ: إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ، فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5321

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا فاطمہ بنت قیس، اللہ سے ڈرتی نہیں! ان کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا (کہ مطلقہ بائنہ کو) «نفقة وسكنى» دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قصۃ فاطمہ بنت قیس"؛جلد؛٧ص؛٥٧؛حدیث نمبر٥٣٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا لِفَاطِمَةَ أَلاَ تَتَّقِي اللَّهَ» يَعْنِي فِي قَوْلِهَا: لاَ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةَ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5322

حضرت عروہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہاکہ آپ فلانہ (عمرہ بنت حکم) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں (عدت گزارے بغیر)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں سے منتقل ہونے کی) انہیں اجازت دے دی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قصۃ فاطمہ بنت قیس"؛جلد؛٧ص؛٥٨؛حدیث نمبر٥٣٢٣ حدیث نمبر ٥٣٢٤ و حدیث نمبر ٥٣٢٥ حدیث نمبر ٥٣٢٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ: أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلاَنَةَ بِنْتِ الحَكَمِ، طَلَّقَهَا زَوْجُهَا البَتَّةَ فَخَرَجَتْ؟ فَقَالَتْ: «بِئْسَ مَا صَنَعَتْ» قَالَ: أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ؟ قَالَتْ: «أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الحَدِيثِ» وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَابَتْ عَائِشَةُ، أَشَدَّ العَيْبِ، وَقَالَتْ: «إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ، فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5323/5324/5325/5326

یہ باب ہےوہ مطلقہ عورت جس کے شوہر کے گھر میں کسی (چور وغیرہ یا خود شوہر) کے اچانک اندر آ جانے کا خوف ہو یا شوہر کے گھر والے بدکلامی کریں تو اس کو عدت کے اندر وہاں سے اٹھ جانا درست ہے۔ حضرت عروہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا (کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا) انکار کیا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ المطلقۃ اذا خشی علیہا فی مسکن زوجہا؛ان یقتحم علیہا او تبذو علی اھلہا بفاحشۃ؛جلد؛٧ص؛٥٨؛حدیث نمبر٥٣٢٧)

بَابُ المُطَلَّقَةِ إِذَا خُشِيَ عَلَيْهَا فِي مَسْكَنِ زَوْجِهَا: أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَيْهَا أَوْ تَبْذُوَ عَلَى أَهْلِهَا بِفَاحِشَةٍ حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، «أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5327

باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپا رکھیں کہ حیض آتا ہے یا حمل ہے, حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا (فرمایا راوی کو شک تھا) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} مِنَ الْحَيْضِ وَالْحَبَلِ: جلد؛٧ص؛٥٨؛حدیث نمبر٥٣٢٨،و حدیث نمبر ٥٣٢٩)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: 228] «مِنَ الحَيْضِ وَالحَبَلِ» حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً، فَقَالَ لَهَا: «عَقْرَى أَوْ حَلْقَى، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَانْفِرِي إِذًا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5328/5329

باب: اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ"عدت کی اندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے"۔ في العدة، وكيف يراجع المراة إذا طلقها واحدة او ثنتين. ‌‌‌‏ اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یا دو طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے۔؛ امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن جمیلہ کا نکاح کیا،پھر(ان کے شوہر نے)انہیں ایک طلاق دی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ بَابُ: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ}: جلد؛٧ص؛٥٨؛حدیث نمبر٥٣٣٠)

بَابُ {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ} [البقرة: 228] فِي العِدَّةِ، وَكَيْفَ يُرَاجِعُ المَرْأَةَ إِذَا طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الحَسَنِ، قَالَ: «زَوَّجَ مَعْقِلٌ أُخْتَهُ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5330

معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد انہوں نے تنہائی میں عدت گزاری۔ عدت کے دن جب ختم ہو گئے تو ان کے پہلے شوہر نے ہی پھر معقل رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا۔ معقل کو اس پر بڑی غیرت آئی۔ انہوں نے کہا جب وہ عدت گزار رہی تھی تو اسے اس پر قدرت تھی(کہ دوران عدت میں رجعت کر لیں لیکن ایسا نہیں کیا) اور اب میرے پاس نکاح کا پیغام بھیجتا ہے۔ چنانچہ وہ ان کے اور اپنی بہن کے درمیان میں حائل ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن‏» ”اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں تو تم انہیں مت روکو۔“ آخر آیت تک پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر یہ آیت سنائی تو انہوں نے ضد چھوڑ دی اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ بَابُ: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ}:باب:اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ"عدت کی اندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے"۔ في العدة، وكيف يراجع المراة إذا طلقها واحدة او ثنتين. ‌‌‌‏ اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یا دو طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے۔؛جلد؛٧ص؛٥٨؛حدیث نمبر٥٣٣١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا الحَسَنُ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ، كَانَتْ أُخْتُهُ تَحْتَ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا ثُمَّ خَلَّى عَنْهَا، حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ خَطَبَهَا، فَحَمِيَ مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِكَ أَنَفًا، فَقَالَ: خَلَّى عَنْهَا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا، ثُمَّ يَخْطُبُهَا، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} [البقرة: 232] إِلَى آخِرِ الآيَةِ «فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ»، فَتَرَكَ الحَمِيَّةَ وَاسْتَقَادَ لِأَمْرِ اللَّهِ

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5331

ابن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تو اس وقت وہ حائضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ رجعت کر لیں اور انہیں اس وقت تک اپنے ساتھ رکھیں جب تک وہ اس حیض سے پاک ہونے کے بعد پھر دوبارہ حائضہ نہ ہوں۔ اس وقت بھی ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور جب وہ اس حیض سے بھی پاک ہو جائیں تو اگر اس وقت انہیں طلاق دینے کا ارادہ ہو تو طہر میں اس سے پہلے کہ ان سے ہمبستری کریں، طلاق دیں۔ پس یہی وہ وقت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر اس کے (مطلقہ ثلاثہ کے) بارے میں سوال کیا جاتا تو سوال کرنے والے سے وہ کہتے کہ اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر تمہاری بیوی تم پر حرام ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمہارے سوا دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔ «غير قتيبة» (ابوالجہم) کے اس حدیث میں لیث سے یہ اضافہ کیا ہے کہ (انہوں نے بیان کیا کہ) مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دے دی ہو۔ (تو تم اسے دوبارہ اپنے نکاح میں لا سکتے ہو) کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ بَابُ: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ}:باب: اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ"عدت کی اندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے"۔ في العدة، وكيف يراجع المراة إذا طلقها واحدة او ثنتين. ‌‌‌‏ اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یا دو طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے۔؛جلد؛٧ص؛٥٨؛حدیث نمبر٥٣٣٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا: «فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ» وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: «إِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاَثًا، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ» وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ، عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5332

یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی،اس وقت وہ حائضہ تھیں۔پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ابن عمر اپنی بیوی سے رجوع کر لیں۔ پھر جب طلاق کا صحیح وقت آئے تو طلاق دیں (یونس بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) میں نے پوچھا کہ کیا اس طلاق کا بھی شمار ہوا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر کوئی طلاق دینے والا شرع کے احکام بجا لانے سے عاجز ہو یا احمق بیوقوف ہو (تو کیا طلاق نہیں پڑے گی؟)۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مُرَاجَعَةِ الْحَائِضِ:حائضہ سے رجعت کرنا؛جلد؛٧ص؛٥٩؛حدیث نمبر٥٣٣٣)

بَابُ مُرَاجَعَةِ الحَائِضِ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: «طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُطَلِّقَ مِنْ قُبُلِ عِدَّتِهَا» قُلْتُ: فَتَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ؟

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5333

زہری نے کہا کہ کم عمر لڑکی کا شوہر بھی اگر انتقال کر گیا ہو تو میں اس کے لیے بھی خوشبو کا استعمال جائز نہیں سمجھتا کیونکہ اس پر بھی عدت واجب ہے۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا،کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے،انہیں حمید بن نافع نے اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان تین احادیث کی خبر دی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا۔ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی اور ام المؤمنین نے خود اپنے رخساروں پر اسے لگایا۔اس کے بعد کہا کہ واللہ!مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے (کہ اس کا سوگ)چار مہینے دس دن کا ہے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے بعد میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں اس وقت گئی جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا۔ انہوں نے بھی خوشبو منگوائی اور استعمال کیا کہا کہ واللہ!مجھےخوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے سنا ہے کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے،صرف شوہر کے لیے چار مہینے دس دن کا سوگ ہے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ تُحِدُّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا: باب:جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے؛جلد؛٧ص؛٥٩؛حدیث نمبر ٥٣٣٤ و حدیث نمبر ٥٣٣٥)

بَابُ تُحِدُّ المُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: " لاَ أَرَى أَنْ تَقْرَبَ الصَّبِيَّةُ المُتَوَفَّى عَنْهَا الطِّيبَ، لِأَنَّ عَلَيْهَا العِدَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ الثَّلاَثَةَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ، خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» قَالَتْ زَيْنَبُ، فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى المِنْبَرِ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5334/5335

حضرت زینت بنت ام سلمہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری لڑکی کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ نہیں، دو تین مرتبہ (نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) ہر مرتبہ یہ فرماتے تھے کہ نہیں! پھر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ( شرعی عدت ) چار مہینے اور دس دن ہی کی ہے۔جاہلیت میں تو تمہیں سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ( جب کہیں عدت سے باہر ہوتی تھی )۔ حمید نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ”سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی؟“انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی۔سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی۔یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ «تفتض به» کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس کا جسم چھوتی تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛تحدالمتوفی عنھازوجھا اربعۃ اشہر وعشرا؛جلد؛٧ص؛٥٩؛حدیث نمبر٥٣٣٦ و حدیث نمبر ٥٣٣٧)

قَالَتْ زَيْنَبُ، وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، أَفَتَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ: «لاَ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الحَوْلِ» قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ، وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: «كَانَتِ المَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ، حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ، فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ- إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً، فَتَرْمِي، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ» سُئِلَ مَالِكٌ مَا تَفْتَضُّ بِهِ؟ قَالَ: «تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5336/5337

حمید بن نافع نے بیان کیا کہ ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے اپنی والدہ سے روایت کیا کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا، اس کے بعد اس کی آنکھ میں تکلیف ہوئی تو اس کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ(زمانہ عدت میں)نہ لگاؤ۔ (زمانہ جاہلیت میں) تمہیں بدترین کپڑے میں وقت گزارنا پڑتا تھا، یا (راوی کو شک تھا کہ یہ فرمایا کہ) بدترین گھر میں وقت (عدت) گزارنا پڑتا تھا۔ جب اس طرح ایک سال پورا ہوجاتا تو اس کے پاس سے کتا گزرتا اور وہ اس پر مینگنی پھینکتی(جب عدت سے باہر آتی) پس سرمہ نہ لگاؤ۔ یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر جائیں۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ( کی وفات ) کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب الکحل للحادۃ؛جلد؛٧ص؛٦٠؛حدیث نمبر٥٣٣٨ و حدیث نمبر ٥٣٣٩)

بَابُ الكُحْلِ لِلْحَادَّةِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَخَشُوا عَلَى عَيْنَيْهَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الكُحْلِ، فَقَالَ: «لاَ تَكَحَّلْ، قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا أَوْ شَرِّ بَيْتِهَا، فَإِذَا كَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ، فَلاَ حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ»، وَسَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5338/5339

محمد بن سیرین سے مروی ہے فرماتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں منع کیا گیا ہے کہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب الکحل للحادۃ؛جلد؛٧ص؛٦٠؛حدیث نمبر٥٣٤٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: «نُهِينَا أَنْ نُحِدَّ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثٍ إِلَّا بِزَوْجٍ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5340

حضرت حفصہ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائیں سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن کی عدت تھی۔ اس عرصہ میں ہم نہ سرمہ لگاتے نہ خوشبو استعمال کرتے اور نہ رنگا کپڑا پہنتے تھے۔ البتہ وہ کپڑا اس سے الگ تھا جس کا (دھاگا) بننے سے پہلے ہی رنگ دیا گیا ہو۔ ہمیں اس کی اجازت تھی کہ اگر کوئی حیض کے بعد غسل کرے تو اس وقت اظفار کا تھوڑا سا عود استعمال کر لے اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے کی بھی ممانعت تھی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب القسط للحادۃ عند الطھر؛جلد؛٧ص؛٦٠؛حدیث نمبر٥٣٤١)

بَابُ القُسْطِ لِلْحَادَّةِ عِنْدَ الطُّهْرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ، وَلاَ نَطَّيَّبَ، وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ، إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا، فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَائِزِ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5341

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے وہ اس کے سوگ میں نہ سرمہ لگائے نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے مگر یمن کا دھاری دار کپڑا (جو بننے سے پہلے ہی رنگا گیا ہو)۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب تلبس الحادۃ ثیاب العصب؛جلد؛٧ص؛٦٠؛حدیث نمبر ٥٣٤٢)

بَابُ تَلْبَسُ الحَادَّةُ ثِيَابَ العَصْبِ حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا لاَ تَكْتَحِلُ وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5342

ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ(کسی میت پر) خاوند کے سوا تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے اور (فرمایا کہ) خوشبو کا استعمال نہ کرے، سوا طہر کے وقت جب حیض سے پاک ہو تو تھوڑا سا عود (قسط) اور (مقام) اظفار (کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے)، ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ «قسط» اور «الكست» ایک ہی چیز ہیں، جیسے ”کافور“ اور ”قافور“ دونوں ایک ہیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب تلبس الحادۃ ثیاب العصب؛جلد؛٧ص؛٦٠؛حدیث نمبر ٥٣٤٣)

وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلاَ تَمَسَّ طِيبًا، إِلَّا أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «القُسْطُ وَالكُسْتُ مِثْلُ الكَافُورِ وَالقَافُورِ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5343

مجاہد سے آیت کریمہ «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا‏» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ کے متعلق کہا کہ یہ عدت جو شوہر کے گھر والوں کے پاس گزاری جاتی تھی، پہلے واجب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف‏» الخ، یعنی ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں (ان پر لازم ہے کہ) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت کر جائیں کہ وہ ایک سال تک (گھر سے) نہ نکالی جائیں لیکن اگر وہ (خود) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔“ اس باب میں جسے وہ (بیویاں) اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیوہ کے لیے سات مہینے بیس دن سال بھر میں سے وصیت قرار دی۔ اگر وہ چاہے تو شوہر کی وصیت کے مطابق وہیں ٹھہری رہے اور اگر چاہے (چار مہینے دس دن کی عدت) پوری کر کے وہاں سے چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم‏» تک یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔ البتہ اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ کا یہی منشا ہے۔ پس عدت تو جیسی کہ پہلے تھی، اب بھی اس پر واجب ہے۔ ابن ابی نجیح نے اسے مجاہد سے بیان کیا اور عطاء نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس پہلی آیت نے بیوہ کو خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا، اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے اور (اسی طرح اس آیت نے) اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج‏» یعنی ”انہیں نکالا نہ جائے۔“ (کو بھی منسوخ کر دیا ہے)۔ عطاء نے کہا کہ اگر وہ چاہے تو اپنے (شوہر کے) گھر والوں کے یہاں ہی عدت گزارے اور وصیت کے مطابق قیام کرے اور اگر چاہے وہاں سے چلی آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلا جناح عليكم فيما فعلن‏» الخ، یعنی ”پس تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں، جو وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں۔“ عطاء نے کہا کہ اس کے بعد میراث کا حکم نازل ہوا اور اس نے مکان کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ پس وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے اور اس کے لیے (شوہر کی طرف سے) مکان کا انتظام نہیں ہو گا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} إِلَى قَوْلِهِ: {بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} (ترجمہ)اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں اللہ تعالیٰ کے فرمان «بما تعملون خبير» تک، یعنی وفات کی عدت کا بیان؛جلد؛٧ص؛٦٠؛حدیث نمبر٥٣٤٤)

بَابُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: 234]- إِلَى قَوْلِهِ - {بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} [البقرة: 234] حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: 234] قَالَ: " كَانَتْ هَذِهِ العِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ: " جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً، إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} [البقرة: 240] فَالعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا " زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ وَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: 240] وَقَالَ عَطَاءٌ: " إِنْ شَاءَتْ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا، وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ: {فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} [البقرة: 234] قَالَ عَطَاءٌ: «ثُمَّ جَاءَ المِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَلاَ سُكْنَى لَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5344

زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛باب تلبس الحادۃ ثیاب العصب؛جلد؛٧ص؛٦١؛حدیث نمبر٥٣٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، لَمَّا جَاءَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا، دَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5345

امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص نہ جان کر کسی محرمہ عورت سے نکاح کرے تو ان کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی اور وہ کچھ مہر لے چکی ہے وہ اسی کا ہو گا۔ اس کے سوا اور کچھ اسے نہیں ملے گا، پھر اس کے بعد کہ اسے اس کا مہر مثل دیا جائے گا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، کاہن کی کمائی اور زانیہ عورت کے زنا کی کمائی کھانے سے منع فرمایا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَالنِّكَاحِ الْفَاسِدِ: بیوہ کے خرچے اور نکاح فاسد کا بیان؛جلد؛٧ص؛٦١؛حدیث نمبر ٥٣٤٦)

بَابُ مَهْرِ البَغِيِّ وَالنِّكَاحِ الفَاسِدِ وَقَالَ الحَسَنُ: «إِذَا تَزَوَّجَ مُحَرَّمَةً وَهُوَ لاَ يَشْعُرُ، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَلَهَا مَا أَخَذَتْ، وَلَيْسَ لَهَا غَيْرُهُ» ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: «لَهَا صَدَاقُهَا» حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الكَاهِنِ، وَمَهْرِ البَغِيِّ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5346

عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا،ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گدوانے والی، سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت بھیجی اور آپ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی کھانے سے منع فرمایا اور تصویر بنانے والوں پر لعنت کی۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَالنِّكَاحِ الْفَاسِدِ؛جلد؛٧ص؛٦١؛حدیث نمبر٥٣٤٧)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَاشِمَةَ وَالمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ، وَكَسْبِ البَغِيِّ، وَلَعَنَ المُصَوِّرِينَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5347

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کے زنا کی کمائی سے منع فرمایا۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَالنِّكَاحِ الْفَاسِدِ؛جلد؛٧ص؛٦١؛حدیث نمبر٥٣٤٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الإِمَاءِ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5348

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کرے گا؟ لیکن دونوں نے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے اسے جو تم میں سے ایک جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن دونوں نے پھر توبہ سے انکار کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے کہا کہ یہاں حدیث میں ایک چیز اور ہے میں نے تمہیں اسے بیان کرتے نہیں دیکھا۔ وہ یہ ہے کہ (تہمت لگانے والے) شوہر نے کہا تھا کہ میرا مال (مہر) دلوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تمہارا مال ہی نہیں رہا، اگر تم سچے بھی ہو تو تم اس سے خلوت کر چکے ہو اور اگر جھوٹے ہو تب تو تم کو بطریق اولیٰ کچھ نہ ملنا چاہیئے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ الْمَهْرِ لِلْمَدْخُولِ عَلَيْهَاوكيف الدخول، او طلقها قبل الدخول والمسيس؛جلد؛٧ص؛٦١؛حدیث نمبر٥٣٤٩)

بَابُ المَهْرِ لِلْمَدْخُولِ عَلَيْهَا، وَكَيْفَ الدُّخُولُ، أَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَالمَسِيسِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ؟ فَقَالَ: فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي العَجْلاَنِ، وَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟» فَأَبَيَا، فَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟» فَأَبَيَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا - قَالَ أَيُّوبُ: فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: فِي الحَدِيثِ شَيْءٌ لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ قَالَ - قَالَ الرَّجُلُ: مَالِي؟ قَالَ: «لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ مِنْكَ»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5349

اللہ تعالیٰ نے(سورۃ البقرہ میں)فرمایا «لا جناح عليكم إن طلقتم النساء ما لم تمسوهن‏» یعنی ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ان بیویوں کو جنہیں تم نے نہ ہاتھ لگایا ہو اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا ہو طلاق دے دو تو ان کو کچھ فائدہ پہنچاؤ۔“ ارشاد «إن الله بما تعملون بصير‏» تک۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی سورت میں فرمایا طلاق والی عورتوں کے لیے دستور کے موافق دینا پرہیزگاروں پر واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لیے کھول کر اپنے احکام بیان کرتا ہے۔ شاید کہ تم سمجھو۔“ اور لعان کے موقع پر، جب عورت کے شوہر نے اسے طلاق دی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متاع کا ذکر نہیں فرمایا تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا کہ تمہارا حساب اللہ کے یہاں ہوگا۔ تم میں سے ایک تو یقیناً جھوٹا ہے۔ تمہارے یعنی (شوہر کے) لیے اسے (بیوی کو) حاصل کرنے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے۔ شوہر نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا مال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں رہا۔ اگر تم نے اس کے متعلق سچ کہا تھا تو وہ اس کے بدلہ میں ہے کہ تم نے اس کی شرمگاہ اپنے لیے حلال کی تھی اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تب تو اور زیادہ تجھ کو کچھ نہ ملنا چاہیئے۔ (بخاری شریف:کتاب الطلاق؛بَابُ المتعۃ للتی لم یفرض لھا؛جلد؛٧ص؛٦١؛حدیث نمبر٥٣٥٠)

بَابُ المُتْعَةِ لِلَّتِي لَمْ يُفْرَضْ لَهَا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {لاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ، أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً} [البقرة: 236]- إِلَى قَوْلِهِ - {إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ} [البقرة: 110] وَقَوْلِهِ: {وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ -[62]- بِالْمَعْرُوفِ، حَقًّا عَلَى المُتَّقِينَ، كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ} [البقرة: 242] وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي المُلاَعَنَةِ مُتْعَةً حِينَ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: «لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ وَأَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا»

Bukhari Shareef, Kitabut Talaq, Hadees No. 5350

Bukhari Shareef : Kitabut Talaq

|

Bukhari Shareef : کتاب الطلاق

|

•