
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ مشہور سنت ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج (عید الاضحی کے دن) کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص (نماز عید سے) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے (نماز عید سے پہلے ہی) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے (کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کر لوں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ سُنَّةِ الأُضْحِيَّةِ: باب:قربانی کرنا سنت ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٤٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ سُنَّةِ الأُضْحِيَّةِ: باب:قربانی کرنا سنت ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر٥٥٤٦)
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی کر لو۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ سُنَّةِ الأُضْحِيَّةِ: باب:قربانی کرنا سنت ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر٥٥٤٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ الأُضْحِيَّةِ لِلْمُسَافِرِ وَالنِّسَاءِ: باب:مسافروں اور عورتوں کی طرف سے قربانی ہونا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر٥٥٤٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور (کہا کہ) میرے پاس ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے (ذبح کیا)۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُشْتَهَى مِنَ اللَّحْمِ يَوْمَ النَّحْرِ: باب:قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛٩٩؛حدیث نمبر٥٥٤٩)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ پھر کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں، تین پے در پے ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا) یہ کون سا مہینہ ہے، ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ ہی ہے۔ پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بلدہ (مکہ مکرمہ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ دن کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن (یوم النحر) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس تمہارا خون، تمہارے اموال۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ (ابن ابی بکرہ نے) یہ بھی کہا کہ اور تمہاری عزت تم پر (ایک کی دوسرے پر) اس طرح باحرمت ہیں جس طرح اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں ہے اور عنقریب اپنے رب سے ملو گے اس وقت وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا آ گاہ ہو جاؤ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض دوسرے کی گردن مارنے لگے۔ ہاں جو یہاں موجود ہیں وہ (میرا یہ پیغام) غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں۔ ممکن ہے کہ بعض وہ جنہیں یہ پیغام پہنچایا جائے بعض ان سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے ہوں جو اسے سن رہے ہیں۔ اس پر محمد بن سیرین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے (اس کا پیغام تم کو) پہنچا دیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَنْ قَالَ الأَضْحَى يَوْمَ النَّحْرِ: باب:جس نے کہا کہ قربانی صرف دسویں تاریخ تک ہی درست ہے؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٠)
نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں ذبح کیا کرتے تھے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مراد وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ الأَضْحَى وَالْمَنْحَرِ بِالْمُصَلَّى: باب:عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥١)
نافع کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قربانی) ذبح اور نحر عیدگاہ میں کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ الأَضْحَى وَالْمَنْحَرِ بِالْمُصَلَّى: باب:عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٢)
یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم مدینہ منورہ میں قربانی کے جانور کو خوب فربہ کرتے اور عام مسلمان بھی قربانی کے جانور کو اسی طرح فربہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابٌ في أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُذْكَرُ سَمِينَيْنِ: باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگ والےدنبے کی قربانی کی؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٣)
ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے دنبے کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ اس کی متابعت وہیب نے کی، ان سے ایوب نے اور اسماعیل اور حاکم بن وردان نے بیان کیا کہ ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابٌ في أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُذْكَرُ سَمِينَيْنِ: باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگ والےدنبے کی قربانی کی؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٤)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آپ کو کچھ قربانی کی بکریاں دیں انہوں نے انہیں تقسیم کیا پھر ایک سال سے کم کا ایک بچہ بچ گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کر لو۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابٌ في أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُذْكَرُ سَمِينَيْنِ: باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سینگ والےدنبے کی قربانی کی؛جلد؛٧ص؛١٠٠؛حدیث نمبر٥٥٥٥)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میرے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے ہی ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد (اس کی قربانی) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہوگی پھر فرمایا جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کو جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کے طریقے کو پا لیتا ہے۔اس روایت کی متابعت عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم نے کی اور اس کی متابعت وکیع نے کی، ان سے حریث نے اور ان سے شعبی نے (بیان کیا) اور عاصم اور داؤد نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک دودھ پیتی پٹھیا ہے۔“ اور زبید اور فراس نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے۔“ اور ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم کی پٹھیا۔“ اور ابن العون نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم عمر کی دودھ پیتی پٹھیا ہے۔" (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بُرْدَةَ: «ضَحِّ بِالْجَذَعِ مِنَ الْمَعَزِ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» : باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کم عمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی؛جلد؛٧ص؛١٠١؛حدیث نمبر٥٥٥٦)
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کے بچے کے سوا اور کوئی جانور نہیں۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بھی عمدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی کی اس کے بدلے میں قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر حدیث تک (اس روایت میں یہ لفظ ہیں) کہ ”ایک سال سے کم عمر کی بچی ہے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بُرْدَةَ: «ضَحِّ بِالْجَذَعِ مِنَ الْمَعَزِ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» : باب:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کم عمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی؛جلد؛٧ص؛١٠١؛حدیث نمبر٥٥٥٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے دنبے کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں دنبے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَنْ ذَبَحَ الأَضَاحِيَّ بِيَدِهِ: باب:اس بارے میں جس نے قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کئے؛جلد؛٧ص؛١٠١؛حدیث نمبر٥٥٥٨)
ایک صاحب نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ان کے اونٹ کی قربانی میں مدد کی ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں سے کہا کہ اپنی قربانی وہ اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کریں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اس لیے حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج انجام دو صرف کعبہ کا طواب نہ کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَنْ ذَبَحَ ضَحِيَّةَ غَيْرِهِ: باب:جس نے دوسرے کی قربانی ذبح کی؛جلد؛٧ص؛١٠١؛حدیث نمبر٥٥٥٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آکر قربانی کریں گے جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا لیکن جس نے (عید کی نماز سے پہلے) جانور ذبح کر لیا تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے تیار کیا ہے وہ قربانی کسی درجہ میں بھی نہیں۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے البتہ میرے پاس ابھی چھ ماہ کے عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے اور سال بھر کی بکری سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی اس کے بدلہ میں کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہو گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلاَةِ: باب:قربانی کا جانور نماز عید الاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔ اس پر ایک صحابی اٹھے اور عرض کیا: (یا رسول اللہ!) اس دن گوشت کی لوگوں کو خواہش زیادہ ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر قبول کر لیا(انہوں نے یہ بھی کہا کہ) میرے پاس بکری کا ایک بچہ ہے جو دو بکریوں سے بھی اچھا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے قربانی کی اجازت دے دی لیکن مجھے اس کا علم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی تھی یا نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو دنبے کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ: باب: اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦١)
حضرت جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ: باب: اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٢)
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز عید پڑھی اور فرمایا کہ جو ہماری طرح نماز پڑھتا ہو اور ہمارے قبلہ کو قبلہ بناتا ہو وہ نماز عید سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی نہ کرے۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو قربانی کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ایک ایسی چیز ہوئی جسے تم نے وقت سے پہلے ہی کر لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بچہ ہے جو ایک سال کی دو بکریوں سے عمدہ ہے کیا میں اسے ذبح کر لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ عامر نے بیان کیا کہ یہ ان کی بہترین قربانی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛ بَابُ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَعَادَ: باب: اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو دنبے ذبح فرمایا کرتے جو چتکبرے اور سینگوں والے ہوتے۔آپ قدم مبارک ان کے پہلوؤں پر رکھا کرتے اور اپنے دست مبارک سے ذبح فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛باب وضع القدم علی صفح الذبییحۃ؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے دنبے کی قربانی کی۔ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھا اور اپنا قدم مبارک ان کی گردن کے اوپر رکھ کر ذبح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ التَّكْبِيرِ عِنْدَ الذَّبْحِ: باب:ذبح کرنے کے وقت اللہ اکبر کہنا؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٥)
مسروق کا بیان ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ ام المؤمنین! اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے بھیجے اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں (نشانی کے طور پر) ایک قلادہ پہنا دیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المؤمنین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انہوں نے کہا میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ چیز بھی حرام نہ ہوئی جو مردوں پر اپنی بیویوں کے بارے میں حلال ہے،حتیٰ کہ لوگ لوٹ آئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛. بَابُ إِذَا بَعَثَ بِهَدْيِهِ لِيُذْبَحَ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ: باب: اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا جانور حرم میں کسی کے ساتھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی؛جلد؛٧ص؛١٠٢؛حدیث نمبر٥٥٦٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ پہنچنے تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت جمع کرتے تھے اور کئی مرتبہ (بجائے «لحوم الأضاحي» کے) «لحوم الهدى.» کا لفظ استعمال کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٦٧)
ابن خباب نے خبر دی، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گئے اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ یہ بات تمہارے بعد ظاہر ہوئی۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٦٨)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٦٩)
عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا منشا یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت (ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧٠)
ابو عبیدہ مولی ابن ازہر کا بیان ہے کہ میں بقر عید کے دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم (رمضان کے) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو (عیدالفطر) اور دوسرا دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧١)
ابو عبید نے بیان کیا کہ پھر میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ (ان کی خلافت کے زمانہ میں عیدگاہ میں) حاضر تھا۔ اس دن جمعہ بھی تھا۔ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! آج کے دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئیں ہیں۔ (عید اور جمعہ) پس اطراف کے رہنے والوں میں سے جو شخص پسند کرے جمعہ کا بھی انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہے (نماز عید کے بعد ہی) تو وہ واپس جا سکتا ہے، میں نے اسے اجازت دے دی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧٢)
ابوعبید نے بیان کیا کہ پھر میں عید کی نماز میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ انہوں نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کی ہے اور معمر نے زہری سے اور ان سے ابوعبیدہ نے اسی طرح بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧٣)
سالم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن تک کھاؤ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ سے کوچ کرتے وقت روٹی زیتون کے تیل سے کھاتے کیونکہ وہ قربانی کے گوشت سے (تین دن کے بعد) پرہیز کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب الاضاحی؛بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا؛قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے؛جلد؛٧ص؛١٠٣؛حدیث نمبر٥٥٧٤)
Bukhari Shareef : Kitabul Azahi
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الأَضَاحِيِّ
|
•