
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛"شراب اور جوا اور بت پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔(پ٧المائدہ٩٠) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ کتاب:شراب کابیان؛بَابُ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}؛جلد؛٧ص؛١٠٤؛حدیث نمبر٥٥٧٥)
سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بیت المقدس کے شہر) ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دین فطرت کی طرف چلنے کی ہدایت فرمائی۔ اگر آپ نے شراب کا پیالہ لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو معمر، ابن الہاد، عثمان بن عمر اور زبیدی نے زہری سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ کتاب:شراب کابیان؛بَابُ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}؛جلد؛٧ص؛١٠٤؛حدیث نمبر٥٥٧٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی جو تم سے اب میرے سوا کوئی اور نہیں بیان کرے گا (کیونکہ اب میرے سوا کوئی صحابی زندہ موجود نہیں رہا ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہو جائے گی اور علم کم ہو جائے گا، زناکاری بڑھ جائے گی، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی، عورتیں بہت ہو جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کی نگرانی کرنے والا صرف ایک ہی مرد رہ جائے گا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ کتاب:شراب کابیان؛بَابُ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}؛جلد؛٧ص؛١٠٤؛حدیث نمبر٥٥٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے کہ کوئی شخص (دن دھاڑے) اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ کتاب:شراب کابیان؛بَابُ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}؛جلد؛٧ص؛١٠٤؛حدیث نمبر٥٥٧٨)
امام مالک نے جو مغول کے صاحبزادے ہیں، بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَغَيْرِهِ؛جلد؛٧ص؛١٠٥؛حدیث نمبر٥٥٧٩)
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔اس وقت کچی اور پکی کھجوروں کی شراب عام تھی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَغَيْرِهِ؛جلد؛٧ص؛١٠٥؛حدیث نمبر٥٥٨٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب (خمر) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَغَيْرِهِ؛جلد؛٧ص؛١٠٥؛حدیث نمبر٥٥٨١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوعبیدہ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی اور پکی کھجور سے تیار کی ہوئی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے آ کر بتایا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کو بہا دو چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْيَ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ: باب:شراب کی حرمت جب نازل ہوئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی؛جلد؛٧ص؛١٠٥؛حدیث نمبر٥٥٨٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،فرماتے ہیں کہ ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے شراب پھینک دی۔ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کس چیز کی شراب بنتی تھی؟ فرمایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ ان کی شراب (کھجور کی) ہوتی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا اور مجھ سے میرے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْيَ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ: باب:شراب کی حرمت جب نازل ہوئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی؛جلد؛٧ص؛١٠٥؛حدیث نمبر٥٥٨٣)
بکر بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو وہ کچی اور پختہ کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْيَ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ: باب:شراب کی حرمت جب نازل ہوئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی؛جلد؛٧ص؛١٠٥؛حدیث نمبر٥٥٨٤)
معن نے کہا میں نے امام مالک بن انس سے «فقاع» (جو کشمش سے تیار کی جاتی تھی) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور ابن الدراوردی نے بیان کیا کہ ہم نے اس کے متعلق پوچھا تو کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بتع» کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی پینے والی چیز نشہ لاوے وہ حرام ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْخَمْرُ مِنَ الْعَسَلِ وَهْوَ الْبِتْعُ: باب: شہد کی شراب جسے «بتع» کہتے تھے؛جلد؛٧ص؛١٠٥؛حدیث نمبر٥٥٨٥)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بتع» کے متعلق سوال کیا گیا۔ یہ مشروب شہد سے تیار کیا جاتا تھا اور یمن میں اس کا عام رواج تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْخَمْرُ مِنَ الْعَسَلِ وَهْوَ الْبِتْعُ: باب: شہد کی شراب جسے «بتع» کہتے تھے؛جلد؛٧ص؛١٠٥؛حدیث نمبر٥٥٨٦)
زہری سے روایت ہے، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”دباء“ اور ”مزفت“ میں نبیذ نہ بنایا کرو اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ ”حنتم“ اور ”نقیر“ کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْخَمْرُ مِنَ الْعَسَلِ وَهْوَ الْبِتْعُ: باب: شہد کی شراب جسے «بتع» کہتے تھے؛جلد؛٧ص؛١٠٦؛حدیث نمبر٥٥٨٦) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی۔ انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جَو اور شہد سے اور «خمر» (شراب) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے اور تین مسائل ایسے ہیں کہ میری تمنا تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ہم سے جدا نہ ہوں جب تک تین باتوں کی مکمل وضاحت نہ فرمادیں۔کلالہ کا مسئلہ اور سود کے چند مسائل۔ ابوحیان نے بیان کیا کہ میں نے شعبی سے پوچھا: اے ابوعمرو! ایک ایسا شربت ہے جو سندھ میں چاول سے بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں پائی جاتی تھی یا کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نہ تھی اور فرج ابن منہال نے بھی اس حدیث کو حماد بن سلمہ سے بیان کیا اور ان سے ابوحیان نے اس میں انگور کے بجائے کشمش ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْخَمْرَ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ مِنَ الشَّرَابِ: باب: اس بارے میں کہ جو بھی پینے والی چیز عقل کو مدہوش کر دے وہ «خمر» ہے؛جلد؛٧ص؛١٠٦؛حدیث نمبر٥٥٨٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی منقی، کھجور، گیہوں، جَو اور شہد سے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْخَمْرَ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ مِنَ الشَّرَابِ: باب: اس بارے میں کہ جو بھی پینے والی چیز عقل کو مدہوش کر دے وہ «خمر» ہے؛جلد؛٧ص؛١٠٦؛حدیث نمبر٥٥٨٩)
ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر (اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو (ان کی سرکشی کی وجہ سے) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو (ان پر) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی منقی، کھجور، گیہوں، جَو اور شہد سے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَسْتَحِلُّ الْخَمْرَ وَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ: باب: اس شخص کے بیان میں جو شراب کا نام بدل کر اسے حلال کرے؛جلد؛٧ص؛١٠٦؛حدیث نمبر٥٥٩٠)
ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابواسید مالک بن ربیع آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ولیمہ کی دعوت دی، ان کی بیوی ہی سب کام کر رہی تھیں حالانکہ وہ نئی دلہن تھیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انہوں نے پتھر کے کونڈے میں رات کے وقت چند کھجور بھگو دی تھی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛ بَابُ الاِنْتِبَاذِ فِي الأَوْعِيَةِ وَالتَّوْرِ: باب: برتنوں اور پتھر کے پیالوں میں نبیذ بھگونا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛١٠٦؛حدیث نمبر٥٥٩١)
سالم کا بیان ہے کہ ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے کی (جن میں شراب بنتی تھی) ممانعت کر دی تھی پھر انصار نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو دوسرے برتن نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خیر پھر اجازت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے اور ان سے سالم بن ابی الجعد نے پھر یہی حدیث روایت کی تھی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛ بَابُ تَرْخِيصِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَوْعِيَةِ وَالظُّرُوفِ بَعْدَ النَّهْيِ: باب:ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا؛جلد؛٧ص؛١٠٦؛حدیث نمبر٥٥٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھ لگے گھڑے (روغن زفت لگے برتن) میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛ بَابُ تَرْخِيصِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَوْعِيَةِ وَالظُّرُوفِ بَعْدَ النَّهْيِ: باب:ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا؛جلد؛٧ص؛١٠٧؛حدیث نمبر٥٥٩٣)
حارث بن سوید نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء مزفت (خاص قسم کے برتن جن میں شراب بنتی تھی) کے استعمال کی بھی ممانعت کر دی تھی۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛ بَابُ تَرْخِيصِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَوْعِيَةِ وَالظُّرُوفِ بَعْدَ النَّهْيِ: باب:ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا؛جلد؛٧ص؛١٠٧؛حدیث نمبر٥٥٩٤)
ابراہیم نخعی کا بیان ہے کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا کیا تم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ (کھجور کا میٹھا شربت) بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، میں نے عرض کیا ام المؤمنین! کس برتن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اہل بیت کو کدو کی تونبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ) میں نے اسود سے پوچھا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا، کیا وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛ بَابُ تَرْخِيصِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَوْعِيَةِ وَالظُّرُوفِ بَعْدَ النَّهْيِ: باب:ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا؛جلد؛٧ص؛١٠٧؛حدیث نمبر٥٥٩٥)
شیبانی نے بیان کیا،کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے سے منع فرمایا تھا، میں نے پوچھا کیا ہم سفید گھڑوں میں پی لیا کریں کہا کہ نہیں۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛ بَابُ تَرْخِيصِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَوْعِيَةِ وَالظُّرُوفِ بَعْدَ النَّهْيِ: باب:ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا؛جلد؛٧ص؛١٠٧؛حدیث نمبر٥٥٩٦)
ابوحازم کا بیان ہے کہ انہوں نے سہیل بن سعد سے سنا کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنے ولیمہ کی دعوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، اس دن ان کی بیوی (ام اسید سلامہ) ہی مہمانوں کی خدمت کر رہی تھیں۔ زوجہ ابواسید نے کہا تم جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کس چیز کا شربت تیار کیا تھا لکڑی کے پیالے میں رات کے وقت کچھ کھجوریں بھگو دی تھیں اور دوسرے دن صبح کو آپ کو پلا دی تھی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ نَقِيعِ التَّمْرِ مَا لَمْ يُسْكِرْ: باب: کھجور کا شیرہ جب تک نشہ آور نہ ہو پینا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛١٠٧؛حدیث نمبر٥٥٩٧)
شیرہ کے بارے میں حضرت عمر، ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ رضی اللہ عنہم کی رائے یہ تھی کہ جب کوئی ایسا شربت (طلا) پک کر ایک مثلث تہائی رہ جائے تو اس کو پینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور براء بن عازب اور ابوجحیفہ رضی اللہ عنہما نے (پک کر) آدھا رہ جانے پر بھی پیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ شیرہ جب تک تازہ ہو اسے پی سکتے ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عبیداللہ (ان کے لڑکے) کے منہ میں ایک مشروب کی بو کے متعلق سنا ہے میں اس سے پوچھوں گا اگر وہ پینے کی چیز نشہ آور ثابت ہوئی تو میں اس پر حد شرعی جاری کروں گا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْبَاذَقِ، وَمَنْ نَهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ مِنَ الأَشْرِبَةِ: باب: «باذق» (انگور کے شیرہ کی ہلکی آنچ میں پکائی ہوئی شراب) کے بارے میں) اور جس نے ہر نشہ لانے والے مشروب سے منع کیا؛جلد؛٧ص؛١٠٧) ابوالجویریہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» (انگور کا شیرہ ہلکی آنچ دیا ہوا) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ باذق کا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی فرما چکے ہیں کہ جو نشہ لاے وہ حرام ہے۔ابو الجویریہ نے کہا کہ یہ شراب تو حلال طیب ہوگی۔فرمایا کہ حلال طیب کے بعد حرام اور خبیبث کے سوا اور کیا ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْبَاذَقِ، وَمَنْ نَهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ مِنَ الأَشْرِبَةِ: باب: «باذق» (انگور کے شیرہ کی ہلکی آنچ میں پکائی ہوئی شراب) کے بارے میں) اور جس نے ہر نشہ لانے والے مشروب سے منع کیا؛جلد؛٧ص؛١٠٧؛ حدیث نمبر ٥٥٩٨)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حلوا اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الْبَاذَقِ، وَمَنْ نَهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ مِنَ الأَشْرِبَةِ: باب: «باذق» (انگور کے شیرہ کی ہلکی آنچ میں پکائی ہوئی شراب) کے بارے میں) اور جس نے ہر نشہ لانے والے مشروب سے منع کیا؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٥٩٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوطلحہ، ابودجانہ اور سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو کچی کھجور کی ملی ہوئی نبیذ پلا رہا تھا کہ شراب حرام کر دی گئی اور میں نے موجودہ شراب پھینک دی۔ میں ہی انہیں پلا رہا تھا میں سب سے کم عمر تھا۔ ہم اس نبیذ کو اس وقت شراب ہی سمجھتے تھے اور عمرو بن حارث راوی نے بیان کیا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَنْ رَأَى أَنْ لاَ يَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ إِذَا كَانَ مُسْكِرًا، وَأَنْ لاَ يَجْعَلَ إِدَامَيْنِ فِي إِدَامٍ؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٦٠٠)
عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منقی اور کھجور (کے شیرہ) کو اور تازہ (پختہ، پکی ہوئی) کھجور اور نیم پختہ (کچی، گدری ہوئی) کھجور کو ملا کر بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَنْ رَأَى أَنْ لاَ يَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ إِذَا كَانَ مُسْكِرًا، وَأَنْ لاَ يَجْعَلَ إِدَامَيْنِ فِي إِدَامٍ؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٦٠١)
ابو قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کی تھی کہ پختہ اور گدرائی ہوئی کھجور، پختہ کھجور اور منقی کو ملا کر نبیذ بنایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو جدا جدا بھگونے کا حکم دیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَنْ رَأَى أَنْ لاَ يَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ إِذَا كَانَ مُسْكِرًا، وَأَنْ لاَ يَجْعَلَ إِدَامَيْنِ فِي إِدَامٍ؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٦٠٢)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ؛گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لئے۔"(النحل؛٦٦) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ شب معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:دودھ پینا؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٦٠٣)
عمیر مولیٰ ام الفضل کا بیان ہے کہ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شبہ تھا۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ حمیدی کہتے ہیں کبھی سفیان اس حدیث کو یوں بیان کرتے تھے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں لوگوں کو شبہ تھا اس لیے ام الفضل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (دودھ) بھیجا۔ جب ان سے کہا جاتا کہ کیا یہ حدیث موقوف ہے تو فرماتے کہ یہ تو ام الفضل سے مروی ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:دودھ پینا؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٦٠٤)
ابوسفیان کا بیان ہے کہ ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابو حمید ساعدی مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ (کھلا ہوا) لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے ایک لکڑی ہی اس پر رکھ لیتے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:دودھ پینا؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٦٠٥)
اعمش نے بیان کیا،کہامیں نے ابوصالح سے سنا، جیسا کہ مجھے یاد ہے وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک انصاری صحابی ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ مقام نقیع سے ایک برتن میں دودھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے، اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔ اور اعمش نے کہا کہ مجھ سے ابوسفیان نے بیان کیا، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:دودھ پینا؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٦٠٦)
ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (راستہ میں) ہم ایک چرواہے کے قریب سے گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیاسے تھے پھر میں نے ایک پیالے میں (چرواہے سے پوچھ کر) کچھ دودھ دوہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ نوش فرمایا اور اس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی اور سراقہ بن جعشم گھوڑے پر سوار ہمارے پاس (تعاقب کرتے ہوئے) پہنچ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بدعا کی۔ آخر اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بدعا نہ کریں اور وہ واپس ہو جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:دودھ پینا؛جلد؛٧ص؛١٠٨؛حدیث نمبر ٥٦٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ہی عمدہ صدقہ ہے خوب دودھ دینے والی اونٹنی جو کچھ دنوں کے لیے کسی کو عطیہ کے طور پر دی گئی ہو اور خوب دودھ دینے والی بکری جو کچھ دنوں کے لیے عطیہ کے طور پر دی گئی ہو جس سے صبح و شام دودھ برتن بھربھر کر نکالا جائے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:دودھ پینا؛جلد؛٧ص؛١٠٩؛حدیث نمبر ٥٦٠٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایاپھر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:دودھ پینا؛جلد؛٧ص؛١٠٩؛حدیث نمبر ٥٦٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا تو وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں۔ دو ظاہری نہریں اور دو باطنی۔ ظاہری نہریں تو نیل اور فرات ہیں اور باطنی نہریں جنت کی دو نہریں ہیں۔ پھر میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک پیالے میں دودھ تھا، دوسرے میں شہد تھا اور تیسرے میں شراب تھی۔ میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور پیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے اور آپ کی امت نے اصل فطرت کو پا لیا۔ ہشام، سعید اور ہمام نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں ندیوں کا ذکر تو ایسا ہی ہے لیکن تین پیالوں کا ذکر نہیں ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:دودھ پینا؛جلد؛٧ص؛١٠٩؛حدیث نمبر ٥٦١٠)
اسحاق بن عبداللہ کا بیان ہے کہ میں نےانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ کے تمام انصار میں سب سے زیادہ کھجور کے باغات تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور اس کا عمدہ پانی پیتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر جب آیت «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون»(ال عمران ٩٢)”(ترجمہ)"تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو“ نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» ”تم ہرگز نیکی کو نہیں پاؤ گے جب تک وہ مال نہ خرچ کرو جو تمہیں عزیز ہو۔“ اور مجھے اپنے مال میں سب سے زیادہ عزیز بیرحاء کا باغ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ ہے، اس کا ثواب اور اجر میں اللہ کے یہاں پانے کی امید رکھتا ہوں، اس لیے یا رسول اللہ! آپ جہاں اسے مناسب خیال فرمائیں خرچ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوب یہ بہت ہی فائدہ بخش مال ہے یا (اس کے بجائے آپ نے) «رايح» (یاء کے ساتھ فرمایا)۔ راوی حدیث عبداللہ کو اس میں شک تھا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مزید فرمایا کہ) جو کچھ تو نے کہا ہے میں نے سن لیا میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ایسا ہی کروں گا یا رسول اللہ! چنانچہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اپنے چچا کے لڑکوں میں اسے تقسیم کر دیا۔ اور اسماعیل اور یحییٰ بن یحییٰ نے «رايح.» کا لفظ نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الاستعذاب الماء؛جلد؛٧ص؛١٠٩؛حدیث نمبر ٥٦١١)
زہری نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پیتے دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے تھے (بیان کیا کہ) میں نے بکری کا دودھ نکالا اور اس میں کنویں کا تازہ پانی ملا کر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو) پیش کیا آپ نے پیالہ لے کر پیا۔ آپ کے بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا آپ نے اپنا باقی دودھ اعرابی کو دیا اور ارشاد فرمایا کہ داہنی طرف والا زیادہ مستحق ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شوب اللبن بالماء؛جلد؛٧ص؛١٠٩؛حدیث نمبر ٥٦١٢)
سعید بن حارث کا بیان ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک رفیق (ابوبکر رضی اللہ عنہ) بھی تھے۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے یہاں اسی رات کا باسی پانی کسی مشکیزے میں رکھا ہوا ہو (تو ہمیں پلاؤ) ورنہ ہم کسی اور جگہ چلو سے پی لیں گے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ صاحب (جن کے یہاں آپ تشریف لیے گئے تھے) اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ بیان کیا کہ ان صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس رات کا باسی پانی موجود ہے، آپ چھپر میں تشریف لے چلیں۔ بیان کیا کہ پھر وہ ان دونوں حضرات کو ساتھ لے کر گئے پھر انہوں نے ایک پیالہ میں پانی لیا اور اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا اس میں دودھ نکالا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، اس کے بعد آپ کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ شراب الحلوا والعسل؛جلد؛٧ص؛١١٠؛حدیث نمبر ٥٦١٣)
اور زہری نے کہا اگر پیاس کی شدت ہو اور پانی نہ ملے تو بھی انسان کا پیشاب پینا جائز نہیں کیونکہ وہ نجاست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «أحل لكم الطيبات» کہ ”تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں“(المائدہ٤)اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نشہ لانے والی چیزوں کے بارے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حرام چیزوں میں شفاء نہیں رکھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب شراب الحلوا والعسل؛جلد؛٧ص؛١١٠؛حدیث نمبر ٥٦١٤)
عبدالملک بن میسرہ سے مروی ہے ان سے نزال نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پانی پیش کیا گیا جبکہ وہ باب الرحبۃ کے پاس تھے پھر علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیا اور کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے اس وقت کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب قائما؛جلد؛٧ص؛١١٠؛حدیث نمبر ٥٦١٥)
عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے نزال بن سبرہ سے سنا، وہ علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی پھر مسجد کوفہ کے صحن میں لوگوں کی ضرورتوں کے لیے بیٹھ گئے۔ اس عرصہ میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا پھر ان کے پاس پانی لایا گیا۔ انہوں نے پانی پیا اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، ان کے سر اور پاؤں (کے دھونے کا بھی) ذکر کیا۔ پھر انہوں نے کھڑے ہو کر وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اس کے بعد کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی کیا تھا جس طرح میں نے کیا، وضو کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب قائما؛جلد؛٧ص؛١١٠؛حدیث نمبر ٥٦١٦)
شعبی کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب قائما؛جلد؛٧ص؛١١٠؛حدیث نمبر ٥٦١٧)
عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوالنضر نے خبر دی، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں ام فضل بنت حارث نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا ایک پیالہ بھیجا میدان عرفات میں۔ وہ عرفہ کے دن کی شام کا وقت تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی سواری پر) سوار تھے، آپ نے اپنے ہاتھ میں وہ پیالہ لیا اور اسے پی لیا۔ مالک نے ابوالنضر سے ”اپنے اونٹ پر“ کے الفاظ زیادہ کئے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ مَنْ شَرِبَ وَهْوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ: باب: جس نے اونٹ پر بیٹھ کر (پانی یا دودھ) پیا؛جلد؛٧ص؛١١٠؛حدیث نمبر ٥٦١٨)
ابن شہاب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی ملا ہوا دودھ پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف ایک دیہاتی تھا اور بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر باقی اعرابی کو دیا اور فرمایا کہ داہنی طرف والا زیادہ مستحق ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الایمن فاالایمن فی الشرب؛جلد؛٧ص؛١١١؛حدیث نمبر ٥٦١٩)
ابوحازم بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے بیٹھے ہوئے) تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے کہا کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں ان (شیوخ) کو (پہلے) دے دوں۔ لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ کے جھوٹے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں، میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب ھل یستاذن الرجل مَن عن یمینہ فی الشرب لیعطی الاکبر؛جلد؛٧ص؛١١١؛حدیث نمبر ٥٦٢٠)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک رفیق بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیق نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں یہ بڑی گرمی کا وقت ہے وہ اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس مشک میں رات کا رکھا ہوا پانی ہے (تو وہ پلا دو) ورنہ ہم کسی اور جگہ سے چلو سے پی لیں گے۔ وہ صاحب اس وقت بھی باغ میں پانی دے رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس مشک میں رات کا رکھا ہوا باسی پانی ہے پھر وہ چھپر میں گئے اور ایک پیالے میں باسی پانی لیا پھر اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا دودھ اس میں نکالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایاپھر وہ دوبارہ لائے اور اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الکرع فی الحوض؛جلد؛٧ص؛١١١؛حدیث نمبر ٥٦٢١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں کھڑا ہوا اپنے قبیلہ میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ میں ان میں سے سب سے چھوٹا تھا، اتنے میں کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ شراب پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے پھینک دی۔ سلیمان نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس وقت لوگ کس چیز کی شراب پیتے تھے کہا کہ پکی اور کچی کھجور کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ یہی ان کی شراب ہوتی تھی انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا، بکر بن عبداللہ مزنی یا قتادہ نے کہا اور مجھ سے بعض لوگوں نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ”ان کی ان دنوں یہی (فضیح) ان کی شراب تھی۔“ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب خدمۃ الصغار الکبار؛جلد؛٧ص؛١١١؛حدیث نمبر ٥٦٢٢)
Bukhari Sharif Kitabul Ashreba Hadees No# 5623
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جب سونے لگو تو چراغ بجھا دو۔ دروازے بند کر دو، مشکوں کے منہ باندھ دو اور کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ دو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا خواہ لکڑی ہی کے ذریعہ سے ڈھک سکو جو اس کی چوڑائی میں بسم اللہ کہہ کر رکھ دی جائے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب تغطیۃالاناء؛جلد؛٧ص؛١١١؛حدیث نمبر ٥٦٢٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں میں «اختناث» سے منع فرمایا مشک کا منہ کھول کر اس میں منہ لگا کر پانی پینے سے روکا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب اختناث الاسقیۃ؛جلد؛٧ص؛١١٢؛حدیث نمبر ٥٦٢٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مشکوں میں «اختناث» سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ معمر نے بیان کیا یا ان کے غیر نے کہا «اختناث» مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب اختناث الاسقیۃ؛جلد؛٧ص؛١١٢؛حدیث نمبر ٥٦٢٦)
ایوب نے بیان کیا کہ ہم سے عکرمہ نے کہا، تمہیں میں چند چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتا دوں جنہیں ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت کی تھی اور (اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ) کوئی شخص اپنے پڑوس کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے روکے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب من فم السقاء؛جلد؛٧ص؛١١٢؛حدیث نمبر ٥٦٢٧)
عکرمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت فرما دی تھی۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب من فم السقاء؛جلد؛٧ص؛١١٢؛حدیث نمبر ٥٦٢٨)
عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو منع فرمایا تھا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب من فم السقاء؛جلد؛٧ص؛١١٢؛حدیث نمبر ٥٦٢٩)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پانی پئے تو (پینے کے) برتن میں (پانی پیتے ہوئے) سانس نہ لے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ کو ذکر پر نہ لگائے اور اگر لگانا پڑے تو دایاں ہاتھ نہ لگایا جائے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب النہی عن التنفس فی الاناء؛جلد؛٧ص؛١١٢؛حدیث نمبر ٥٦٣٠)
ثمامہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ برتن سے پانی پیتے وقت دو یا تین مرتبہ سانس لیتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ سانس لیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب بنفسین او ثلاثۃ؛جلد؛٧ص؛١١٢؛حدیث نمبر ٥٦٣١)
ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک دیہاتی نے ان کو چاندی کے برتن میں پانی لا کر دیا، انہوں نے برتن کو پھینک دیا پھر کہا میں نے برتن صرف اس وجہ سے پھینکا ہے کہ اس شخص کو میں اس سے منع کر چکا تھا لیکن یہ باز نہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم و دیباج کے پہننے سے اور سونے اور چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے منع کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ چیزیں ان کفار کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہیں آخرت میں ملیں گے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب فی آنیۃ الذھب؛جلد؛٧ص؛١١٢؛حدیث نمبر ٥٦٣٢)
ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سونے اور چاندی کے پیالہ میں نہ پیا کرو اور نہ ریشم و دیباج پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے دینا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب آنیۃ الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١١٣؛حدیث نمبر ٥٦٣٣)
حضرت عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو وہ شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب آنیۃ الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١١٣؛حدیث نمبر ٥٦٣٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے ہم کو منع فرمایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمك الله» کہنے، دعوت کرنے والے کی دعوت کو قبول کرنے، سلام پھیلانے، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھانے کے بعد کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں سے، چاندی میں پینے یا (فرمایا) چاندی کے برتن میں پینے سے، میثر (زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا) کے استعمال کرنے سے اور قسی (اطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے) کے استعمال کرنے سے اور ریشم و دیباج اور استبرق پہننے سے منع فرمایا تھا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب آنیۃ الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١١٣؛حدیث نمبر ٥٦٣٥)
ام الفضل کے غلام عمیر نے اور ان سے ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شبہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک کٹورہ پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛باب الشرب فی الاقداح؛جلد؛٧ص؛١١٣؛حدیث نمبر ٥٦٣٦)
ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں تمہیں اس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا تھا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الشُّرْبِ مِنْ قَدَحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآنِيَتِهِ؛جلد؛٧ص؛١١٣؛) ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا پھر آپ نے اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس انہیں لانے کے لیے کسی کو بھیجنے کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے بھیجا اور وہ آئیں اور بنی ساعدہ کے قلعہ میں اتریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور ان کے پاس گئے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک عورت سر جھکائے بیٹھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگیں کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں نے تجھ کو پناہ دی! لوگوں نے بعد میں ان سے پوچھا۔ تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون تھے۔ اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو تجھے نکاح کا پیغام دینے آئے تھے۔ اس پر وہ بولیں کہ پھر تو میں بڑی بدبخت ہوں (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر کے واپس کر دیا) اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے صحابی کے ساتھ بیٹھے پھر فرمایا کہ سہل! پانی پلاؤ۔ میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا۔ سہل رضی اللہ عنہ ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکال کر لائے اور ہم نے بھی اس میں پانی پیا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر بعد میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ مانگ لیا تھا اور انہوں نے یہ ان کو ہبہ کر دیا تھا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الشُّرْبِ مِنْ قَدَحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآنِيَتِهِ؛جلد؛٧ص؛١١٣؛حدیث نمبر ٥٦٣٧)
عاصم احول نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس دیکھا ہے وہ پھٹ گیا تھا تو انس رضی اللہ عنہ نے اسے چاندی سے جوڑ دیا۔ پھر عاصم نے بیان کیا کہ وہ عمدہ چوڑا پیالہ ہے۔ چمکدار لکڑی کا بنا ہوا۔ بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے اس پیالہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہا پلایا ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابن سیرین نے کہا کہ اس پیالہ میں لوہے کا ایک حلقہ تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ اس کی جگہ چاندی یا سونے کا حلقہ جڑوا دیں لیکن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا ہے اس میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ کرو چنانچہ انہوں نے یہ ارادہ چھوڑ دیا۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الشُّرْبِ مِنْ قَدَحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآنِيَتِهِ؛جلد؛٧ص؛١١٣؛حدیث نمبر ٥٦٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تھوڑے سے بچے ہوئے پانی کے سوا ہمارے پاس اور کوئی پانی نہیں تھا اسے ایک برتن میں رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اپنی انگلیاں پھیلا دیں پھر فرمایا آؤ وضو کر لو یہ اللہ کی طرف سے برکت ہے۔ میں نے دیکھا کہ پانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا تھا چنانچہ سب لوگوں نے اس سے وضو کیا اور پیا بھی۔ میں نے اس کی پرواہ کئے بغیر کہ پیٹ میں کتنا پانی جا رہا ہے خوب پانی پیا کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ برکت کا پانی ہے۔ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لوگ اس وقت کتنی تعداد میں تھے؟ بتلایا کہ ایک ہزار چار سو۔ اس روایت کی متابعت عمرو نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے اور حسین اور عمرو بن مرہ نے سالم سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صحابہ کی اس وقت تعداد پندرہ سو تھی۔ اس کی متابعت سعید بن مسیب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف:؛كِتَاب الْأَشْرِبَةِ؛بَابُ الشُّرْبِ مِنْ قَدَحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآنِيَتِهِ؛جلد؛٧ص؛١١٣؛حدیث نمبر ٥٦٣٩)
Bukhari Shareef : Kitabul Ashreba
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الأَشْرِبَةِ
|
•