
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی۔(الاعراف؛٣٢)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛کھاؤ،پیواور پہنو اور خیرات کرو بغیر اسراف اور تکبر کے۔ابن عباس کا قول ہے کہ جو چاہو کھاؤ،پیو اور پہنو لیکن دو غلطیاں نہ کرنا یعنی اسراف اور تکبر۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تکبر کے سبب کپڑا گھسیٹ کر چلے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر بھی نہیں فرمائے گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہبند کا ایک حصہ غیر ارادی طور پر لٹک جاتا ہے سوائے اس کے کہ ہر وقت ادھر متوجہ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ازارہ من غیر خیلاء؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٤)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سورج گرہن ہوا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ جلدی میں کپڑا گھسیٹتے ہوئے اٹھے اور مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی، گرہن ختم ہو گیا، تب آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لیے جب تم ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ازارہ من غیر خیلاء؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٥)
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر آئے اور اسے زمین میں گاڑ دیا پھر نماز کے لیے تکبیر کہی گئی۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوڑا پہنے ہوئے باہر تشریف لائے جسے آپ نے سمیٹ رکھا تھا۔ پھر آپ نے نیزہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز عید پڑھائی اور میں نے دیکھا کہ انسان اور جانور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ کے باہر کی طرف سے گزر رہے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التشمیر فی الثیاب؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ازار کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ دوزخ میں ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما أسفل من الکعبین فھو فی النار؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف قیامت کے دن نظر نہیں فرماے گا جو تکبر کے سبب اپنی چادر کو گھسیٹ کر چلتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ کے نبی یا ابو القاسم نے فرمایا کہ کوئی شخص حلہ پہن کر اور خود پر خوش ہو کر جا رہا تھا اور اپنے بالوں میں کنگھی کرتا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا،پس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی جائے گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٨٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص غرور میں اپنا تہمد گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اسی طرح قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔“ اس کی متابعت یونس نے زہری سے کی ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤١؛حدیث نمبر ٥٧٩٠)
جریر بن زید نے بیان کیا کہ میں سالم بن عبداللہ بن عمر کے ساتھ ان کے گھر کے دروازے پر تھا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٧٧١ کےطرح بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤١؛)
شعبہ نے بیان کیا،فرماتے ہیں میں نے محارب بن دثار قاضی سے ملاقات کی، وہ گھوڑے پر سوار تھے اور مکان عدالت میں آ رہے تھے جس میں وہ فیصلہ کیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے یہی حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آپ اپنا کپڑا غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہوا چلے گا، قیامت کے دن اس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر نہیں کرے گا۔“ (شعبہ نے کہا کہ) میں نے محارب سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تہبند کا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ تہبند یا قمیص کسی کی انہوں نے تخصیص نہیں کی تھی۔ محارب کے ساتھ اس حدیث کو جبلہ بن سحیم اور زید بن اسلم اور زید بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور لیث نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی روایت کی اور نافع کے ساتھ اس کو موسیٰ بن عقبہ اور عمر بن محمد اور قدامہ بن موسیٰ نے بھی سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اس میں یوں ہے کہ جو شخص اپنا کپڑا (ازراہ تکبر) لٹکائے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جر ثوبہ من الخیلا؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩١)
زہری، ابوبکر بن محمد، حمزہ بن ابی اسید اور معاویہ بن عبداللہ بن جعفر سے منقول ہے کہ ان بزرگوں نے حاشیہ دارکپڑے پہنے ہیں۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ میں بھی بیٹھی ہوئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے طلاق دے دی لیکن جب مدت طلاق پوری ہو گئی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا اور اللہ کی قسم یا رسول اللہ!ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہے مگر اس پھندنے جیسی اور اپنی چادر کا کنارا پکڑ کر دکھایا۔خالد بن سعید رضی اللہ عنہ جو دروازے پر کھڑے تھے اور انہیں ابھی اندر آنے کی اجازت نہیں ہوئی تھی، اس نے بھی ان کی بات سنی۔ بیان کیا کہ خالد رضی اللہ عنہ (وہیں سے) بولے۔ ابوبکر! آپ اس عورت کو روکتے نہیں کہ کس طرح کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھول کر بیان کرتی ہے لیکن اللہ کی قسم اس بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور بڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تم دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ لیکن ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ (تمہارے دوسرے شوہر عبدالرحمٰن بن زبیر) تمہارا مزا نہ چکھ لیں اور تم ان کا مزا نہ چکھ لو پھر بعد میں یہی قانون بن گیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الازار المھذب؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کھینچی۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا (کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے حرمت شراب سے پہلے شراب کے نشہ میں جب ان کی اونٹنی ذبح کر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر اس کی شکایت کی تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ کر تشریف لے چلنے لگے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے۔ آخر آپ اس گھر میں پہنچے جس میں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے اندر آنے کی اجازت مانگی اور انہوں نے آپ حضرات کو اجازت دی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاردیۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٣)
اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی حکایت فرمایا:ترجمہ کنز الایمان"میرا یہ کرتا لے جاؤ اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔(یوسف ٩٣) نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ!احرام باندھنے والا کس طرح کا کپڑا پہنے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص، پاجامہ،ٹوپی اور موزے نہیں پہنے گا ہاں جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن سکتا ہے لیکن وہ ٹخنوں سے نیچے ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القمیص؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس جب اسے قبر میں داخل کیا جا چکا تھا تشریف لائے پھر آپ کے حکم سے اس کی لاش نکالی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر اسے رکھا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن اس پر ڈالا اور اپنی قمیص پہنائی اور اللہ ہی خوب جاننے والا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القمیص؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٥)
نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کی وفات ہوئی تو اس کے لڑکے (عبداللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی قمیص مجھے عطا فرمائے تاکہ میں اپنے باپ کو اس کا کفن دوں اور آپ ان کی نماز جنازہ پڑھا دیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں عطا فرمائی اور فرمایا کہ نہلا دھلا کر مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ جب نہلا دھلا لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تاکہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں فرمایا ہے؟چنانچہ ارشاد ہوا؛ ترجمہ کنز الایمان"تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ تعالیٰ ہر گز انھیں نہیں بخشے گے۔(التوبہ ٨٠)پس یہ آیت نازل ہوئی" اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا۔(التوبہ ٨٤) اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القمیص؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو شخصوں جیسی بیان فرمائی جن کے اوپر لوہے کی زرہیں ہوں اور ان کے دونوں ہاتھ سینے کے ساتھ گلے سے لگے ہوئے ہوں۔پس صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کے جبہ میں کشادگی ہو جاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدم کے نشانات کو ڈھک لیتا ہے اور بخیل جب بھی کبھی صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اسے اور چمٹ جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی مبارک انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس میں وسعت پیدا کرنا چاہے گا لیکن وسعت پیدا نہیں ہو گی۔ اس کی متابعت ابن طاؤس نے اپنے والد سے کی ہے اور ابوالزناد نے اعرج سے کی ”دو جبوں“ کے ذکر کے ساتھ اور حنظلہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا"جبتان"اور جعفر نے اعرج کے واسطہ سے «جبتان.» کا لفظ بیان کیا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب جیب القمیص من عند الصدر وغیرہ؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٧)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے پھر واپس آئے تو میں پانی لے کر حاضر تھا۔ آپ نے وضو کیا آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور آپ اپنا چہرہ انور دھویا پھر اپنی آستینیں چڑھانے لگے لیکن وہ تنگ تھی اس لیے آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور انہیں دھویا اور سر پر اور موزوں پر مسح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من لبس جبۃ ضیقۃ الکمین فی السفر؛جلد؛٧ص؛١٤٢؛حدیث نمبر ٥٧٩٨)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے دریافت فرمایا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور چلتے رہے یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں آپ چھپ گئے پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن کا پانی آپ کو استعمال کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ انور دھویا، ہاتھ دھوئے آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستین چڑھانی آپ کے لیے دشوار تھی چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور بازوؤں کو (کہنیوں تک) دھویا۔ پھر سر پر مسح کیا پھر میں بڑھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رہنے دو میں نے طہارت کے بعد انہیں پہنا تھا چنانچہ آپ نے ان پر مسح کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس جبۃ الصوف فی الغزو؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٧٩٩)
یہ بھی قبا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا چاک پیچھے ہوتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں اپنے والد کو ساتھ لے کر چلا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ذکر کر دو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخرمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو آپ باہر تشریف لائے۔اور آپ کے اوپر ایک قبا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے ہی لیے رکھ چھوڑی تھی۔ مسور نے بیان کیا کہ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ خوش ہو گئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القباء وفروج حریر؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٠)
ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی فروج (قباء) ہدیہ میں دی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا (ریشم کا مردوں کے لیے حرمت کے حکم سے پہلے) اور اسی کو پہنے ہوئے نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی تیزی کے ساتھ اتار ڈالا جیسے آپ اس سے ناگواری محسوس کرتے ہوں پھر فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس روایت کی متابعت عبداللہ بن یوسف نے کی ان سے لیث نے اور عبداللہ بن یوسف کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ «فروج حرير.»۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القباء وفروج حریر؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠١)
مسدد،معتمر،ان کے والد ماجد نے حضرت انس کو ریشمی ملی اونی زرد ٹوپی پہنے دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرانس؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ!احرام باندھنے والا کس طرح کا کپڑا پہنے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (محرم کے لیے) کہ قمیص نہ پہنو، نہ عمامے، نہ پاجامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملے تو وہ (چمڑے کے) موزوں کو ٹخنہ سے نیچے تک کاٹ کر انہیں پہن سکتا ہے اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگایا گیا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرانس؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (محرم کے بارے میں) فرمایا ”جسے تہبند نہ ملے وہ پاجامہ پہنے اور جسے چپل نہ ملیں وہ موزے پہنیں۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب السراويل؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٤)
حضرت عبداللہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! احرام باندھنے کے بعد ہمیں کس چیز کے پہننے کا حکم ہے؟ فرمایا کہ قمیص نہ پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے پہنو۔ البتہ اگر کسی کے پاس چپل نہ ہوں تو وہ چمڑے کے ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران اور ورس لگا ہوا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب السراويل؛جلد؛٧ص؛١٤٤؛حدیث نمبر ٥٨٠٥)
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص نہ پہنے , نہ عمامہ پہنے,نہ پاجامہ،نہ ٹوپی اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران اور ورس لگا ہو اور نہ موزے پہنے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے (پھر پہنے)۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب فی العمامۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٥؛حدیث نمبر ٥٨٠٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حالت میں باہر تشریف لائے کہ سیاہ پٹی بندھی تھی۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک پر چادر کا کنارہ باندھا۔ عروہ کا بیان ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر جاؤ کیونکہ مجھے بھی امید ہے کہ مجھے (ہجرت کی) اجازت دی جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی امید ہے؟ میرا باپ آپ پر قربان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے خیال سے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے پتے کھلا کر چار مہینے تک انہیں خوب تیار کرتے رہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت کسی وجہ ہی سے تشریف لا سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت چاہی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور اندر داخل ہوتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس اس وقت ہیں انہیں اٹھا دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرا باپ آپ پر قربان ہو یا رسول اللہ! یہ سب آپ کے گھر ہی کے افراد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی پھر یا رسول اللہ! مجھے رفاقت کا شرف حاصل رہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ عرض کی یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے بہت جلدی جلدی سامان سفر تیار کیا اور سفر کا ناشتہ ایک تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے کمر بند کے ایک ٹکڑے سے تھیلہ کے منہ کو باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ”ذات النطاق“کہنے لگے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ثور نامی پہاڑ کی ایک غار میں جا پہنچے اور تین دن تک اسی میں ٹھہرے رہے۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات آپ حضرات کے پاس ہی گزارتے تھے۔ وہ نوجوان ذہین اور سمجھدار تھے۔ صبح تڑکے میں وہاں سے چل دیتے تھے اور صبح ہوتے ہوتے مکہ کے قریش میں پہنچ جاتے تھے۔ جیسے رات میں مکہ ہی میں رہے ہوں۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ رکھتے اور جوں ہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غار ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات کی اطلاع دیتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتے تھے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غار ثور کی طرف ہانک لاتے تھے۔ آپ حضرات بکریوں کے دودھ پر رات گزارتے اور صبح کی پو پھٹتے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو جاتے۔ ان تین راتوں میں انہوں نے ہر رات ایسا ہی کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التقنع؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨٠٧)
زہری نے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے خود پہن رکھا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المغفر؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨٠٨)
حضرت خباب کا بیان ہے کہ ہم ایک مرض کی عرض لے کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ایک دھاری دار چادر سے ٹیک لگاے ہوے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر (یمن کے) نجران کی بنی ہوئی موٹے حاشیے کی ایک چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آ گیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ کر اتنی زور سے کھینچا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے پر دیکھا کہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے نشان پڑ گیا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! مجھے اس مال میں سے دیئے جانے کا حکم کیجیئے جو اللہ کا مال آپ کے پاس ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے اور آپ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨٠٩)
ابوحازم نے بیان کیا کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئیں (جو اس نے خود بنی تھی) سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ پردہ کیا تھا پھر بتلایا کہ یہ ایک اونی چادر تھی جس کے کناروں پر حاشیہ ہوتا ہے۔ ان خاتون نے حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ چادر میں نے خاص آپ کے اوڑھنے کے لیے بنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ان سے اس طرح لی گویا آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند کے طور پر پہن کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ جماعت صحابہ میں سے ایک صاحب (عبدالرحمٰن بن عوف) نے اس چادر کو چھوا اور عرض کی یا رسول اللہ! یہ مجھے عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا۔ جتنی دیر اللہ نے چاہا آپ مجلس میں بیٹھے رہے پھر تشریف لے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر ان صاحب کے پاس بھجوا دیا۔ صحابہ نے اس پر ان سے کہا تم نے اچھی بات نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی۔ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سائل کو محروم نہیں فرماتے۔ ان صاحب نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اس لیے مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن ہو۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ وہ چادر اس صحابی کے کفن ہی میں استعمال ہوئی۔ حضرت خباب کا بیان ہے کہ ہم ایک مرض کی عرض لے کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ایک دھاری دار چادر سے ٹیک لگاے ہوے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے جنت میں ستر ہزار کی ایک جماعت داخل ہو گی ان کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی دھاری دار چادر سنبھالتے ہوئے اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے بھی دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں میں سے بنا دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! عکاشہ کو بھی انہیں میں سے بنا دے۔ اس کے بعد قبیلہ انصار کے ایک صحابی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے عکاشہ دعا کرا چکا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨١١)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا کپڑا زیادہ پسند تھا؟حبرہ چادر۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨١٢)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا کپڑا زیادہ پسند تھا؟حبرہ چادر۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٦؛حدیث نمبر ٥٨١٣)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال(ظاہری)فرمایا تو آپ کے اوپر حبرہ چادر ڈالی ہوئی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب البرود والحبرۃ والشملۃ؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٤)
حضرت عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جب گرنے لگی تو آپ اپنی کملی چہرہ مبارک پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں فرماتے ”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عمل بد سے (مسلمانوں کو) ڈرا رہے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاکسیۃ والخمائص؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٥)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک نقشی چادر میں نماز پڑھی اور اس کے نقش و نگار پر نماز ہی میں ایک نظر ڈالی۔پھر سلام پھیر کر فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم کو واپس دے دو۔ کیونکہ نماز کے دوران اس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تھا اور ابوجہم کی سادی چادر لیتے آؤ۔ یہ ابوجہم بن حذیفہ بن غانم بنی عدی بن کعب قبیلے میں سے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاکسیۃ والخمائص؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٦ و حدیث نمبر ٥٨١٧)
ابوبردہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی ( «كساء») اور ایک موٹا تہبند نکال کر دکھائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان ہی دو کپڑوں میں ہوا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاکسیۃ والخمائص؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور دو وقت نمازوں سے بھی آپ نے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑا جسم پر لپیٹ کر گھٹنے اوپر اٹھا کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اس کی شرمگاہ پر آسمان و زمین کے درمیان کوئی چیز نہ ہو اور اشتمال صماء سے منع فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب اشتمال الصماء؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨١٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ خرید و فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ ملامسہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص (خریدار) دوسرے (بیچنے والے) کے کپڑے کو رات یا دن میں کسی بھی وقت بس چھو دیتا (اور دیکھے بغیر صرف چھونے سے بیع ہو جاتی) صرف چھونا ہی کافی تھا کھول کر دیکھا نہیں جاتا تھا۔ منابذہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص اپنی ملکیت کا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور دوسرا اپنا کپڑا پھینکتا اور بغیر دیکھے اور بغیر باہمی رضا مندی کے صرف اسی سے بیع منعقد ہو جاتی اور دو کپڑے (جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا انہیں میں سے ایک) اشتمال صماء ہے۔ صماء کی صورت یہ تھی کہ اپنا کپڑا (ایک چادر) اپنے ایک شانے پر اس طرح ڈالا جاتا کہ دوسرا کندھا کھلا رہے اوردوسرے کندھا پر ڈالنے کے لئے کوئی کوئی کپڑا یا لباس نہ ہو۔ دوسرا لباس احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑے میں اس طرح لپٹ کر بیٹھ جانا کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب اشتمال الصماء؛جلد؛٧ص؛١٤٧؛حدیث نمبر ٥٨٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا ایک یہ کہ کوئی شخص ایک ہی کپڑے سے اپنی کمر اور پنڈلی کو ملا کر باندھ لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص ایک کپڑے کو اس طرح جسم پر لپیٹے کہ ایک طرف کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو اور آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاحتباء فی ثوب واحد؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢١)
عبیداللہ بن عبداللہ،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور ایک کپڑے میں اس طرح لپیٹ کر بیٹھنے سے کہ اس کی شرمگاہ پر کپڑے کو کوئی حصہ نہ ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاحتباء فی ثوب واحد؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٢)
عمرو بن سعید بن عاص نے حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ چادر کسے دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا (کیونکہ بچی تھیں) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ طویل عرصہ تک پہنو حتیٰ کہ پرانا کر کے پھاڑو اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد! یہ نقش و نگار ”سناہ“ ہیں۔ ”سناہ“ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاحتباء فی ثوب واحد؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس اس بچہ کو دیکھتے رہو کوئی چیز اس کے پیٹ میں نہ جائے اور صبح اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا کر تحنیک کر وا لی جائے۔ چنانچہ صبح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ کے جسم پر قبیلہ بنی حریث کی بنی ہوئی چادر ( «خميصة حريثية») تھی اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر آپ فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الاحتباء فی ثوب واحد؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٤)
ایوب نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ پھر ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ نے نکاح کر لیا تھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ خاتون سبز اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (اپنے شوہر کی) شکایت کی اور اپنے جسم پر سبز نشانات (چوٹ کے) دکھائے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو (جیسا کہ عادت ہے) عکرمہ نے بیان کیا کہ عورتیں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا کہ کسی ایمان والی عورت کا میں نے اس سے زیادہ برا حال نہیں دیکھا ان کا جسم ان کے کپڑے سے بھی زیادہ برا ہو گیا ہے۔ بیان کیا کہ ان کے شوہر نے بھی سن لیا تھا کہ (ان کی) بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ہے چنانچہ وہ بھی آ گئے اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے ان سے پہلی بیوی کے تھے۔ ان کی بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے ان سے کوئی اور شکایت نہیں البتہ ان کے ساتھ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں جس سے میرا کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر اشارہ کیا (یعنی ان کے شوہر کمزور ہیں) اس پر ان کے شوہر نے کہا: یا رسول اللہ! واللہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں تو اس کی (جماع کے وقت)کھال بھی رگڑدیتا ہوں مگر یہ شریر ہے، یہ مجھے پسند نہیں کرتی اور رفاعہ کے یہاں دوبارہ جانا چاہتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو تمہارے لیے وہ (رفاعہ) اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک یہ (عبدالرحمٰن دوسرے شوہر) تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کے ساتھ دو بچے بھی دیکھے تو دریافت فرمایا کیا یہ تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، اس وجہ سے تم یہ باتیں سوچتی ہو۔ اللہ کی قسم یہ بچے ان سے اتنے ہی مشابہ ہیں جتنا کہ کوا کوے سے مشابہ ہوتا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ثیاب الخضر؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٥)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو (جو فرشتے تھے) دیکھا وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے انہیں نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الثیاب البیض؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٦)
ابوالاسود دولی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر.») ضرور بیان کرتے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہ بات قریب المرگ ہو یا اس سے قبل،جب بھی کوئی تائب اور نادم ہو اور کہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الثیاب البیض؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٧)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب (خط) آیا ہم اس وقت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذر بائیجان میں تھے (اس میں لکھا تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے استعمال سے (مردوں کو) منع کیا ہے سوا اتنے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کے قریب کی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے اس کی مقدار بتائی۔ ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ ہماری سمجھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس سے (کپڑے وغیرہ ریشم کے) پھول بوٹے بنانے سے تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٨)
عاصم نے بیان، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا اس وقت ہم آذر بائیجان میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا سوا اتنے کے اور اس کی وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے اشارے سے کی تھی۔ زہیر (راوی حدیث) نے بیچ کی اور شہادت کی انگلیاں اٹھا کر بتایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٤٨؛حدیث نمبر ٥٨٢٩)
سلیمان تیمی نے بیان کیا اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہم عتبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دنیا میں ریشم جو شخص بھی پہنے گا اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔“ سلیمان تیمی کا بیان ہے کہ ابو عثمان نے ہم سے مذکورہ حدیث بیان کی،پھر ابو عثمان نے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٤٩؛حدیث نمبر ٥٨٣٠)
ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا۔ ایک دیہاتی چاندی کے برتن میں پانی لایا۔ انہوں نے اسے پھینک دیا اور کہا کہ میں نے صرف اسے اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کر چکا ہوں (کہ چاندی کے برتن میں مجھے کھانا اور پانی نہ دیا کرو) لیکن وہ نہیں مانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا، چاندی، ریشم اور دیباج ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے (مسلمانوں) کے لیے آخرت میں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٤٩؛حدیث نمبر ٥٨٣١)
عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا،فرماتے ہیں میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، شعبہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے پوچھا کیا یہ روایت مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ عبدالعزیز نے زور سے فرمایا کہ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٢)
ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٣)
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا،انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ اور ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے یزید نے معاذ نے بیان کیا کہ مجھے ام عمرو بنت عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٤)
عمران بن حطان نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ریشم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے معلوم کرو میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوحفص یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ریشم تو وہی مرد پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ میں نے اس پر کہا کہ سچ کہا اور ابوحفص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات نسبت نہیں کر سکتے اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے عمران نے اور پوری حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس الحریر وافتراشہ للرجال وقدر ما یجوز منہ؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٥)
اس کی زبیدی،زہری،حضرت انس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ میں پیش ہوا تو ہم اسے چھونے لگے اور اس کی (نرمی و ملائمت پر) حیرت زدہ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس پر حیرت ہے۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہتر ہیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب مس الحریر من غیر لبس؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٦)
اور عبیدہ فرماتے ہیں کہ یہ پہننے کے حکم میں ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور کھانے سے منع فرمایا تھا اور ریشم اور دیباج پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب افتراش الحریر؛جلد؛٧ص؛١٥٠؛حدیث نمبر ٥٨٣٧)
عاصم،ابوبردہ نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا «قسي» کیا چیز ہے؟ بتلایا کہ یہ کپڑا تھا جو ہمارے یہاں (حجاز میں) شام یا مصر سے آتا تھا اس پر چوڑی ریشمی دھاریاں پڑی ہوتی تھیں اور اس پر ترنج جیسے نقش و نگار بنے ہوئے تھے اور «ميثرة» زین پوش وہ کپڑا کہلاتا تھا جسے عورتیں ریشم سے اپنے شوہروں کے لیے بناتی تھیں۔ یہ جھالر دار چادر کی طرح ہوتی تھی وہ اسے زرد رنگ سے رنگ دیتی تھیں جیسے اوڑھنے کے رومال ہوتے ہیں اور جریر نے بیان کیا کہ ان سے زید نے بیان کیا کہ «قسية» وہ چوخانے کپڑے ہوتے تھے جو مصر سے منگوائے جاتے تھے اور اس میں ریشم ملا ہوا ہوتا تھا اور «ميثرة» درندوں کے چمڑے کے زین پوش۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ «ميثرة» کی تفسیر میں عاصم کی روایت کثرت طرق اور صحت کے اعتبار سے یہی زیادہ درست ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القسی؛جلد؛٧ص؛١٥١؛) معاویہ بن سوید بن مقرن نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں میاثر اور قسی کپڑوں کے پہننے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لبس القسی؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٣٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کو ریشم پہننے کی اجازت دی تھی کیونکہ دونوں حضرات کو خارش تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یرخص للرجال من الحریر للحکۃ؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٣٩)
زید بن وہب کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا، حلہ عنایت فرمایا۔ میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے۔ چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنی عورتوں میں بانٹ دیئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الحریر للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بہتر ہے کہ آپ اسے خرید لیں اور وفود سے ملاقات کے وقت اور جمعہ کے دن اسے زیب تن کیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہ پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی دھاریوں والا ایک جوڑا حلہ بھیجا، ہدیہ کے طور پر۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے مجھے یہ جوڑا حلہ عنایت فرمایا ہے حالانکہ میں خود آپ سے اس کے بارے میں وہ بات سن چکا ہوں جو آپ نے فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں یہ کپڑا اس لیے دیا ہے کہ اسے بیچ دو یا (عورتوں وغیرہ میں سے) کسی کو پہنا دو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الحریر للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٤١)
زہری کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے اوپر سرخ ریشمی چادر تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الحریر للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥١؛حدیث نمبر ٥٨٤٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں منصوبہ سازی کی تھی، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن (مکہ کے راستہ میں) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں (وہ قضائے حاجت کے لیے) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا (اور ان کے حقوق) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ میں (اپنی بیٹی ام المؤمنین) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہو۔لیکن اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل اندازی کرنے لگے۔ انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے (بادشاہ وغیرہ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔ میں نے جو ہوش و حواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب (مدینہ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتجوز من اللباس والبسط؛جلد؛٧ص؛١٥٢؛حدیث نمبر ٥٨٤٣)
ہند بنت حارث نے بیان کیا اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوئے اور کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کیسی کیسی بلائیں اس رات میں نازل ہوئی اور کیا کیا رحمتیں نازل ہوئی۔ کوئی ہے جو ان حجرہ والیوں کو بیدار کر دے۔ دیکھو بہت سی دنیا میں پہننے اوڑھنے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ زہری نے بیان کیا کہ ہند کی آستینوں میں انگلیوں کے قریب بٹن لگے ہوئے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتجوز من اللباس والبسط؛جلد؛٧ص؛١٥٢؛حدیث نمبر ٥٨٤٤)
سعید بن عمرو نے حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک کالی چادر بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، کسے یہ چادر دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد کو بلا لاؤ۔ چنانچہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور مجھے وہ چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے عنایت فرمائی اور فرمایا طویل عرصہ تک پہنو دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر آپ اس چادر کے نقش و نگار کو دیکھنے لگے اور اپنے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ام خالد! «سنا ". والسنا» یہ حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا ہے اچھا ہے۔ اسحاق بن سعید نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے گھر کی ایک عورت نے بیان کیا کہا کہ انہوں نے وہ چادر ام خالد رضی اللہ عنہا کے پاس دیکھی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یدعی لمن لبس ثوبا جدیدا؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٤٥)
مسدد،عبد الوارث،عبد العزيز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی رنگ کے کپڑے سے ممانعت فرمائی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النھی عن التزعفران للرجال؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٤٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے والے کو ورس اور زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الثوب المزعفر؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٤٧)
ابواسحاق کا بیان ہے کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ حلے میں دیکھا آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الثوب الاحمر؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٤٨)
معاویہ بن سوید بن مقرن بیان کیا کہ ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کا جواب(یرحمک اللہ سے)دینے کا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم، دیبا، قسی، استبرق اور سرخ زین پوشوں کے استعمال سے بھی منع فرمایا تھا۔ (بخاری شریف،کتاب اللباس،بَابُ المِيثَرَةِ الحَمْرَاءِ،حدیث نمبر ٥٨٤٩)
سعید ابو مسلمہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔فرمایا ہاں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النعال السبتیۃ وغیرہا؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٥٠)
عبید بن جریج کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں آپ کو چار ایسی چیزیں کرتے دیکھتا ہوں جو میں نے آپ کے کسی ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن جریج! وہ کیا چیزیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ (خانہ کعبہ کے) کسی کونے کو طواف میں ہاتھ نہیں لگاتے صرف دو ارکان یمانی (یعنی صرف رکن یمانی اور حجر اسود) کو چھوتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صاف زین کے چمڑے کا جوتا پہنتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا کپڑا زرد رنگ سے رنگتے ہیں یا زرد خضاب لگاتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ جب مکہ میں ہوتے ہیں تو سب لوگ تو ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر احرام باندھ لیتے ہیں لیکن آپ احرام نہیں باندھتے بلکہ ترویہ کے دن(8 ذی الحجہ کو)کو احرام باندھتے ہیں۔ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ خانہ کعبہ کے ارکان کے متعلق جو تم نے کہا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھوتے دیکھا۔ صاف تری کے چمڑے کے جوتوں کے متعلق جو تم نے پوچھا تو میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی چمڑے کا جوتا پہنتے تھے جس میں بال نہیں ہوتے تھے اور آپ اس کو پہنے ہوئے وضو کرتے تھے اس لیے میں بھی پسند کرتا ہوں کہ ایسا ہی جوتا استعمال کروں۔ زرد رنگ کے متعلق تم نے جو کہا ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے خضاب کرتے یا کپڑے رنگتے دیکھا ہے اس لیے میں بھی اس زرد رنگ کو پسند کرتا ہوں اور رہا احرام باندھنے کا مسئلہ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی وقت احرام باندھتے جب اونٹ پر سوار ہو کر جانے لگتے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النعال السبتیۃ وغیرہا؛جلد؛٧ص؛١٥٣؛حدیث نمبر ٥٨٥١)
عبداللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو زعفران یا ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع فرمایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے ہی پہن لیں لیکن ان کو ٹخنے کے نیچے تک کاٹ دیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النعال السبتیۃ وغیرہا؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جس کو چادر میسر نہ ہو تو شلوار پہن لے اور جس کو جوتے نہ مل سکیں تو وہ موزے پہن لے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب النعال السبتیۃ وغیرہا؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٣)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے،کنگھی کرنے اور جوتا پہننے میں داہنی طرف سے ابتداء کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب یبدا بالنعل الیمنی؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جوتے پہنے تو داہنی طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے شروع کرے تاکہ دایاں پاؤں پہننے میں اول اور اتارنے میں آخری رہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ینزع نعلہ الیسری؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛کوئی تم میں سے ایک جوتا پہن کر نہ چلے چاہیے کہ دونوں جوتے اتارے یا دونوں پہنے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب لا یمشی فی نعل واحدۃ؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک میں دو تسمے ہوتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قبالان فی نعل ومن رای قبالا واحدا واسعا؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٧)
عیسیٰ بن طہمان کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہمارے پاس جوتے پہن کر تشریف لائے جن دو دو تسمے تھے تو ثابت بنانی نے کہا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک ہیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قبالان فی نعل ومن رای قبالا واحدا واسعا؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٨)
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک سرخ خیمہ میں تشریف فرما تھے اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لیے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو لینے میں ایک دوسرے کے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو کچھ پانی مل جاتا ہے تو وہ اسے اپنے بدن پر لگا لیتا ہے اور جسے کچھ نہیں ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی کو لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القبۃ الحمراء من ادم؛جلد؛٧ص؛١٥٤؛حدیث نمبر ٥٨٥٩)
زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں ایک قبے میں ایک جگہ جمع کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القبۃ الحمراء من ادم؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٠)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چٹائی کا گھیرا بنا لیتے تھے اور ان گھیرے میں نماز پڑھتے تھے اور اسی چٹائی کو دن میں بچھاتے تھے اور اس پر بیٹھتے تھے پھر لوگ (رات کی نماز کے وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء کرنے لگے جب مجمع زیادہ بڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! عمل اتنے ہی کیا کرو جتنی کہ تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (اجر دینے سے) نہیں تھکتا مگر تم (عمل سے) تھک جاتے ہو اور اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جسے پابندی سے ہمیشہ کیا جائے، خواہ وہ کم ہی ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الجلوس علی الحصیر ونحوہ؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦١)
لیث،ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ان کے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئی ہیں اور آپ انہیں تقسیم فرما رہے ہیں۔ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ہم گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر ہی میں پایا۔ والد نے مجھ سے کہا بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لے آؤ۔میں نے اسے گستاخ شمار کیا اور عرض کی کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے پاس بلا کر لاؤں؟فرمایا کہ بیٹے!وہ ظالم حکمرانوں کی طرح نہیں ہیں۔چنانچہ میں نے بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر دیباج کی ایک قباء تھی جس میں سونے کی بٹن لگی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ اسے میں نے تمہارے لیے رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قباء انہیں عنایت فرما دی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المزرر بالذھب؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٢)
معاویہ بن سوید بن مقرن کا بیان ہے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں سے روکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے یا راوی نے کہا کہ سونے کے چھلے سے، ریشم سے، استبرق سے، دیباج سے، سرخ میثرہ سے، قسی سے اور چاندی کے برتن سے منع فرمایا تھا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں یعنی بیمار کی مزاج پرسی کرنے، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، سلام کے جواب دینے، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے، (کسی بات پر) قسم کو پوری کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خواتیم الذھب؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٣)
بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے ممانعت فرمائی ہے۔عمر،شعبہ،قتادہ،نضر نے بشیر بن نمیک سے اسی طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خواتیم الذھب؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا پھر کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔لہذا آپ نے وہ اتار دی اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خواتیم الذھب؛جلد؛٧ص؛١٥٥؛حدیث نمبر ٥٨٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے یا چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا اور اس پر «محمد رسول الله.» کے الفاظ کھدوائے پھر دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس طرح کی انگوٹھیاں بنوا لی تو آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا کہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس انگوٹھی کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنا پھر عمر رضی اللہ عنہ اور پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنا۔ آخر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ انگوٹھی اریس کے کنویں میں گر گئی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خاتم الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٦٦)
حضرت عبداللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کی انگوٹھی پہنی لیکن پھر اتار دی اور فرمایا کہ میں اب سے کبھی نہیں پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خاتم الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٦٧)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی پھر دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوانی شروع کر دیں اور پہننے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار دی اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دی۔ اس روایت کی متابعت ابراہیم بن سعد، زیاد اور شعیب نے زہری سے کی ہے اور ابن مسافر نے زہری سے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ «خاتما من ورق.» بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خاتم الفضۃ؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٦٨)
حمید کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات تک تاخیر کر دی۔پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا، جیسے اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کے انتظار میں رہوگے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب فص الخاتم؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٦٩)
حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک چاندی کی تھی اور اس میں نگینہ بھی تھا،یحییٰ،ایوب،حمید،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب فص الخاتم؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٧٠)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں، دیر تک وہ عورت کھڑی رہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور پھر سر جھکا لیا جب دیر تک وہ وہیں کھڑی رہیں تو ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کیا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے اپنی زوجیت میں لینے کی حاجت نہیں تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو مہر میں انہیں دے سکو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھ لو۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ واللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تلاش کرو، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ وہ مجھے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ وہ ایک تہبند پہنے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر (کرتے کی جگہ) چادر بھی نہیں تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں انہیں اپنا تہبند مہر میں دے دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارا تہبند یہ پہن لیں گی تو تمہارے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر تم اسے پہن لو گے تو ان کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ وہ صاحب اس کے بعد ایک طرف بیٹھ گئے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ انہوں نے سورتوں کو شمار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کے عوض میں دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب خاتم الحدید؛جلد؛٧ص؛١٥٦؛حدیث نمبر ٥٨٧١)
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجم کے کچھ لوگوں (شاہان عجم) کے پاس خط لکھنا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ عجم کے لوگ کوئی خط اس وقت تک نہیں قبول کرتے جب تک اس پر مہر لگی ہوئی نہ ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ جس پر یہ کندہ تھا «محمد رسول الله» ۔ گویا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی یا آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب نقش الخاتم؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ وہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گر گئی اس کا نقش «محمد رسول الله» تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب نقش الخاتم؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اس پر لفظ ( «محمد رسول الله») کندہ کرایا ہے اس لیے انگوٹھی پر کوئی شخص یہ نقش نہ کندہ کرائے۔ انس نے بیان کیا کہ جیسے اس انگوٹھی کی چمک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلیاں میں اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الخاتم فی الخنصر؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٤)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روم (کے بادشاہ کو) خط لکھنا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ کے خط پر مہر نہ ہوئی تو وہ خط نہیں پڑھتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس پر لفظ «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ اتِّخَاذُ الْخَاتَمِ لِيُخْتَمَ بِهِ الشَّيْءُ، أَوْ لِيُكْتَبَ بِهِ إِلَى أَهْلِ الْكِتَابِ وَغَيْرِهِمْ؛ترجمہ؛انگوٹھی کسی ضرورت سے مثلاً مہر کرنے کے لیے یا اہل کتاب وغیرہ کو خطوط لکھنے کے لیے بنانا؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٥)
نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی اور جب اسے پہنتے تو نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے۔ آپ کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنا لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی لیکن اب میں اسے نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے وہ انگوٹھی اتار دی اور لوگوں نے بھی اپنی سونے کی انگوٹھیوں کو پھینک دیا۔ جویریہ کا قول ہے کہ نافع نے ”داہنے ہاتھ میں“ بیان کیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من جعل فص الخاتم فی بطن کفہ؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٦)
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں یہ نقش کروایا«محمد رسول الله» اور لوگوں سے کہہ دیا کہ میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا کر اس پر «محمد رسول الله» نقش کروایا ہے۔ اس لیے اب کوئی شخص یہ نقش اپنی انگوٹھی پر نہ کرواے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛لا ینقش علی نفسہ خاتمہ؛جلد؛٧ص؛١٥٧؛حدیث نمبر ٥٨٧٧)
ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے میرے لیے خط لکھا اور انگوٹھی (مہر) کا نقش تین سطروں میں تھا ایک سطر میں ”محمد“ دوسری سطر میں ”رسول“ اور تیسری سطر میں ”اللہ“۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ھل یجعل نقش الخاتم ثلاثۃ اسطر؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٧٨)
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اتنا اور روایت کیا، کہا مجھ سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی۔ آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا تو وہ اریس کے کنویں پر ایک مرتبہ بیٹھے، بیان کیا کہ پھر انگوٹھی نکالی اور اسے الٹنے پلٹنے لگے کہ اتنے میں وہ (کنویں میں) گر گئی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم تین دن تک اسے ڈھونڈتے رہے اور کنویں کا سارا پانی بھی کھینچ ڈالا لیکن وہ انگوٹھی نہیں ملی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ھل یجعل نقش الخاتم ثلاثۃ اسطر؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٧٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سونے کی انگوٹھیاں پہنیں۔ طاؤس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے (اور صدقہ کی ترغیب دلائی) تو عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الخاتم للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٨٠)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن (آبادی سے باہر) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں،کڑے صدقہ میں دینے لگیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القلائد والسخاب للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٨١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کا ہار (جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عاریت پر لیا تھا) گم ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا اسی دوران میں نماز کا وقت ہو گیا اور لوگ بلا وضو (وضو کے بغیر) تھے چونکہ پانی بھی موجود نہیں تھا، اس لیے سب نے بلا وضو نماز پڑھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ہار انہوں نے اسماء سے عاریتاً لیا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب استعارۃ القلائد؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٨٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں اور گلوں کی طرف بڑھا رہی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القرط للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛) سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھائیں نہ اس کے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد پھر آپ عورتوں کی طرف تشریف لائے، آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو وہ اپنی بالیاں بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القرط للنساء؛جلد؛٧ص؛١٥٨؛حدیث نمبر ٥٨٨٣)
نافع بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پھر آپ کے ساتھ واپس ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منا کہاں ہے۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ حسن بن علی کو بلاؤ چناچہ حسن بن علی کھڑے ہوئے اور چل پڑے اور ان کی گردن میں سخاب تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک پھیلا کر فرمایا کہ ایسے۔امام حسن نے بھی ہاتھ پھیلا کر کہا کہ ایسے چناچہ آپ نے اسے سینے سے لگا کر کہا اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر جو اس سے محبت رکھیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب السخاب للصبیان؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛حدیث نمبر ٥٨٨٤)
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو زنانی مشابہت اختیار کرے اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردانی مشابہت کریں۔ عمرو بن مرزوق نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ہمیں شعبہ نے خبر دی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ الْمُتَشَبِّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتُ بِالرِّجَالِ:؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛حدیث نمبر ٥٨٨٥)
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پر اور مردوں کی چال چلن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ ان زنانہ بننے والے مردوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو نکالا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو نکالا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ إِخْرَاجِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الْبُيُوتِ؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛حدیث نمبر ٥٨٨٦)
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے۔ گھر میں ایک مخنث بھی تھا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا عبداللہ! اگر کل تمہیں طائف پر فتح حاصل ہو جائے تو میں تمہیں بنت غیلان (بادیہ نامی) کو دکھلاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو (اس کے موٹاپے کی وجہ سے) چار بل پڑتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ بل پڑتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب یہ شخص تم لوگوں کے پاس نہ آیا کرے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سامنے سے چار بل کا مطلب یہ ہے کہ (موٹے ہونے کی وجہ سے) اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں اور جب وہ سامنے آتی ہے تو وہ دکھائی دیتی ہیں اور آٹھ سلوٹوں سے پیچھے پھرتی ہے کا مفہوم ہے (آگے کی) ان چاروں سلوٹوں کے کنارے کیونکہ یہ دونوں پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر وہ مل جاتی ہیں اور حدیث میں «بثمان» کا لفظ ہے حالانکہ از روئے قائدہ نحو کے «بثمانية.» ہونا تھا کیونکہ مراد آٹھ اطراف یعنی کنارے ہیں اور «لأطراف»، «طرف» کی جمع ہے اور «طرف» کا لفظ مذکر ہے۔ مگر چونکہ «لأطراف» کا لفظ مذکور نہ تھا اس لیے «بثمان» بھی کہنا درست ہوا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ إِخْرَاجِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الْبُيُوتِ؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛حدیث نمبر ٥٨٨٧)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی مونچھیں اتنی ترشواے کہ جلد نظر آنے لگتی تھی نیز داڑھی اور مونچھیں کے درمیانی بال ترشوا دیتے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قص اپشارب؛جلد؛٧ص؛١٥٩؛) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛مونچھوں کا ترشوانا فطرت میں سے ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قص اپشارب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے)روایت کیا کہ پانچ چیزیں ہیں یا فرمایا کہ پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ختنہ کرانا، موئے زیر ناف مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھیں پست کرنا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب قص اپشارب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٨٩)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛فطرت میں سے موے زیر ناف کا صاف کرنا،ناخن تراشنا اور مونچھوں کا کتروانا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب تقلیم الاظفار؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ فطرت پانچ باتیں ہیں ختنہ کروانا،موئے زیر ناف کی صفائی کرنا،مونچھیں تراشنا ناخن کٹوانا اور بغل کے بال اکھاڑنا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب تقلیم الاظفار؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛مشرکین کی مخالفت کرو اور داڑھی بڑھاؤ مونچھیں تراشواو اور جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جتنی زائد ہوتی اسے ترشوا دیتے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب تقلیم الاظفار؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٢)
ترجمہ کنز الایمان؛معاف کرنے والا۔زیادہ اور بہت زیادہ مال۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مونچھیں پست کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب إعفاء اللحی؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٣)
محمد بن سیرین کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے معلوم کیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگایا کرتے تھے؟فرمایا کہ آپ بڑھاپے کے نزدیک بہت کم پہنچے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی الشیب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٤)
ثابت کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ خضاب کی عمر کو پہنچے ہی تھے اگر میں چاہتا تو آپ کی داڑھی مبارک کے سفید بالوں کو شمار کر سکتا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی الشیب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٥)
اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا (راوی حدیث) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موے مبارک تھے۔عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ (وہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موے مبارک ڈبو دیتیں) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا (جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی الشیب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٦)
سلام کا بیان ہے کہ حضرت عثمان بن عبد اللہ بن موہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو وہ ہماری جانب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خضاب والا موے مبارک لے کر آئیں۔لیکن ہم سے ابو نعیم،نصیر بن ابو الاشعب نے ابن موہب سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سرخ بال دکھایا تھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی الشیب؛جلد؛٧ص؛١٦٠؛حدیث نمبر ٥٨٩٧ و حدیث نمبر ٥٨٩٨)
ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛بیشک یہود و نصاریٰ خضاب نہیں کرتے لہٰذا تم ان کی مخالفت کیا کرو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الخضاب؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٨٩٩)
ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے اور نہ پست قد نہ آپ بہت زیادہ سفید تھے اور نہ بالکل گندمی رنگ والے نہ آپ کے بال گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینہ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ وفات کے وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٠)
ابو اسحاق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئےسنا، انہوں نے بیان کہا کہ میں نے سرخ حلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) مجھ سے میرے بعض اصحاب نے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک کبھی شانہ مبارک کے قریب ہوتے تھے۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ سے زیادہ یہ حدیث بیان کرتے سنا جب بھی وہ یہ حدیث بیان کرتے تو مسکراتے۔ اس روایت کی متابعت شعبہ نے کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک آپ کے کانوں کی لو تک تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠١)
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات خانہ کعبہ کے پاس خواب میں ایک شخص دکھایا گیا میں نے دیکھا کہ ایک صاحب ہیں گندمی رنگ، گندمی رنگ کے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، ان کے شانوں تک لمبے لمبے بال ہیں ایسے بال والے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، انہوں نے بالوں میں کنگھا کر رکھا ہے اور اس کی وجہ سے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں یا دو آدمیوں کے شانوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں پھر اچانک میں نے ایک الجھے ہوئے گھونگھریالے بال والے شخص کو دیکھا، دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا انگور ہے جو ابھرا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کانا کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٢)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک آپ کے مبارک شانوں تک ہوا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٣)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک آپ کے مبارک شانوں تک ہوا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٤)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک نہ بالکل سیدھے تھے اور نہ مکمل گھنگھریالے بلکہ ان کے درمیان میں تھے جو کبھی کان تک ہوتے اور کبھی کندھوں تک۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦١؛حدیث نمبر ٥٩٠٥)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک ہاتھ پر گوشت تھے اور آپ کے بعد میں دوسرا اور کوئی نہیں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیسوئے مبارک نہ بالکل گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے بلکہ ان کے درمیان میں تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩٠٦)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک ہاتھ اور دونوں مبارک پاؤں پر گوشت تھے چہرہ انور اتنا حسین تھا کہ آپ جیسے نہ میں نے پہلے کوئی دیکھا اور نہ آپ کے بعد اور آپ کی مبارک ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩٠٧)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اور ایک شخص کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پاؤں پر گوشت تھے۔چہرہ انور اتنا حسین کہ میں نے آپ کے بعد ایسا اور کوئی نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩٠٨ و حدیث نمبر ٥٩٠٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پیر مبارک اور ہتھیلیاں مبارک پر گوشت تھیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیاں مبارک اور دونوں پاؤں مبارک پر گوشت تھے۔بعد میں ایسا کوئی نہیں دیکھا جو آپ سے بالکل مشابہت رکھتا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١١ و حدیث نمبر ٥٩١٢)
مجاہد نے بیان کیا کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ ”کافر“ لکھا ہو گا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میں نے تو نہیں سنا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تمہیں ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے صاحب (خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھو (کہ آپ بالکل ان کے ہم شکل ہیں)اور حضرت موسیٰ گندمی رنگت کے،گھنگھریالے بالوں والے اور سرخ اونٹ پر سوار ہوں گے۔گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں جبکہ وہ وادی میں اتر کر تلبیہ پڑھیں گے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب االجعد؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جو شخص سر کے بالوں کو گوند لے (وہ حج یا عمرے سے فارغ ہو کر سر منڈائے) اور جیسے احرام میں بالوں کو جما لیتے ہیں غیر احرام میں نہ جماؤ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بال جماتے دیکھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التلبید؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال جما لیے تھے اور احرام کے وقت یوں آپ لبیک کہہ رہے تھے «لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ان کلمات کے اوپر اور کچھ آپ نہیں بڑھاتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التلبید؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ لوگ عمرہ کر کے احرام کھول چکے ہیں حالانکہ آپ نے احرام نہیں کھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیونکہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے ہیں اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے۔ اس لیے جب تک میری قربانی کا نحر نہ ہو لے میں احرام نہیں کھول سکتا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التلبید؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٦)
عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس کام میں اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے جس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا گیا ہو۔چناچہ اہل کتاب اپنے بالوں کو لٹکاتے جبکہ مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گیسوئے مبارک کو لٹکایا کرتے لیکن پھرمانگ نکالنے لگے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الفرق؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٧)
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا؛گویا میں اب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک مانگ میں خوشبو دار چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ حالت احرام میں ہیں۔عبد اللہ بن رجا نے مفرق النبی کہا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الفرق؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٨)
حضرت سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس رات انہیں کے ہاں باری تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر کے بالوں سے پکڑ کر اپنی داہنی طرف کر دیا۔ عمرو بن ہشیم،ابو بشر نے اسی طرح روایت کر کے کہا کہ میرے گیسوئے کو پکڑ کر یا میرے سر کو پکڑ کر۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الذوائب؛جلد؛٧ص؛١٦٢؛حدیث نمبر ٥٩١٩)
نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے فرماتے ہیں میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے «قزع.» سے منع فرمایا، عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے پوچھا کہ «قزع.» کیا ہے؟ پھر عبیداللہ نے ہمیں اشارہ سے بتایا کہ نافع نے کہا کہ بچہ کا سر منڈاتے وقت کچھ یہاں چھوڑ دے اور کچھ بال وہاں چھوڑ دے۔ (تو اسے «قزع.» کہتے ہیں) اسے عبیداللہ نے پیشانی اور سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کر کے ہمیں اس کی صورت بتائی۔ عبیداللہ نے اس کی تفسیر یوں بیان کی یعنی پیشانی پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں اور سر کے دونوں کونوں پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں۔ پھر عبیداللہ سے پوچھا گیا کہ اس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نافع نے صرف لڑکے کا لفظ کہا تھا۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عمرو بن نافع سے دوبارہ اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی کنپٹی یا گدی پر چوٹی کے بال اگر چھوڑ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن «قزع.» یہ ہے کہ پیشانی پر بال چھوڑ دیئے جائیں اور باقی سب منڈوائے جائیں اسی طرح سر کے اس جانب میں اور اس جانب میں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القزع؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٠)
عبد اللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی کہ سر کے کچھ بال مونڈے جائیں اور کچھ چھوڑ دیے جائیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب القزع؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام میں رہنے کے لیے اپنے ہاتھ سے خوشبو لگائی میں نے اسی طرح (دسویں تاریخ کو) منیٰ میں طواف زیارت کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ سے آپ کو خوشبو لگائی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب تطییب المرآۃ زوجھا بیدھا؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ خوشبو کی چمک میں آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں دیکھتی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الطیب فی الراس واللحیۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٣)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوار کے ایک سوراخ سے گھر کے اندر دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنا سر کنگھے سے کھجلا رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا اذن (اجازت) لینا تو اس کے لیے ہے کہ آدمی کی نظر (کسی کے) ستر پر نہ پڑے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الامتشاط؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں حالت حیض کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھا کرتی تھی۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ترجیل الحائض زوجھا؛جلد؛٧ص؛١٦٣؛حدیث نمبر ٥٩٢٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں جہاں تک ممکن ہوتا داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، کنگھا کرنے اور وضو کرنے میں بھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الترجیل والتیمن؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ دار کے منہ کے خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہے۔" (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یذکر فی المسک؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٢٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو جو مل سکتی تھی، وہ لگاتی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب ما یستحب من الطیب؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٢٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (جب ان کو) خوشبو (ہدیہ کی جاتی تو) آپ وہ واپس نہیں کیا کرتے تھے اور کہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من لم یر الطیب؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٢٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے وقت اپنے ہاتھ سے ذریرہ (ایک قسم کی مرکب) خوشبو لگائی تھی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الذریرۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٣٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حسن کے لیے گودنے والیوں، گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلیں ان سب پر لعنت بھیجی ہے، میں بھی کیوں نہ ان لوگوں پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور اس کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ آیت «وما آتاكم الرسول فخذوه» ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المتفلجات للحسن؛جلد؛٧ص؛١٦٤؛حدیث نمبر ٥٩٣١)
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے مروی ہے فرماتے ہیں انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا کہاں ہیں تمہارے علماء میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیئے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سر کے قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اور گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی۔ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے، اس کے گھر والوں نے چاہا کہ اس کے بالوں میں مصنوعی بال لگا دیں۔ اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی ابان بن صالح سے، انہوں نے حسن بن مسلم سے، انہوں نے صفیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٤)
منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میری والدہ صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی ہے اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے اور اس کا شوہر مجھ پر اس کے معاملہ میں زور دیتا ہے۔ کیا میں اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں کو برا کہا، ان پر لعنت فرمائی۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٥)
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں پر، جڑوانے والیوں پر، گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ نافع نے کہا کہ گودنا کبھی مسوڑے پر بھی گودا جاتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٧)
عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ آخری مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا۔ آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکال کے کہا کہ یہ یہودیوں کے سوا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «زور.» یعنی فریبی فرمایا یعنی جو بالوں میں جوڑ لگائے تو ایسا آدمی مرد ہو یا عورت وہ مکار ہے جو اپنے مکر و فریب پر اس طور پر پردہ ڈالتا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الوصل فی الشعر؛جلد؛٧ص؛١٦٥؛حدیث نمبر ٥٩٣٨)
علقمہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خوبصورتی کے لیے گودنے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، ان سب پر لعنت فرمائی تو ام یعقوب نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور کتاب اللہ میں اس پر لعنت موجود ہے۔ ام یعقوب نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے پورا قرآن مجید پڑھ ڈالا اور کہیں بھی ایسی کوئی آیت مجھے نہیں ملی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم کو یہ آیت معلوم نہیں «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» یعنی ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے بھی تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“(الحشر؛٧) (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المتنمصات؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٣٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الموصولۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٠)
ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہو گیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کو لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الموصولۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الموصولۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، لعنت بھیجی ہے پھر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الموصولۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نظر لگ جانا حق ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور کی حدیث ذکر کی جو وہ ابراہیم سے بیان کرتے تھے کہ ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو عبدالرحمٰن نے کہا کہ میں نے بھی منصور کی حدیث کی طرح ام یعقوب سے سنا ہے وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی تھیں۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الواشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٤)
عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) کو دیکھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اور سود لینے والے اور دینے والے، گودنے والی اور گودانے والی (پر لعنت فرمائی ہے)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نظر لگ جانا حق ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب الواشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو گودنے کا کام کرتی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے (اور اس وقت موجود صحابہ سے) کہا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی نے کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گودنے کے متعلق سنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا: امیرالمؤمنین! میں نے سنا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا سنا ہے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ گودنے کا کام نہ کرو اور نہ گدواؤ۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المستوشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٦؛حدیث نمبر ٥٩٤٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المستوشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٤٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر، بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے پھر میں بھی کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور وہ کتاب اللہ میں بھی موجود ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب المستوشمۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٤٨)
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہوں۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب التصاویر؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٤٩)
سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے مسلم بن صبیحہ نے بیان کیا کہ ہم مسروق بن اجدع کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے۔ مسروق نے ان کے گھر کے سائبان میں تصویریں دیکھیں تو کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب عذاب المصورين یوم القیامۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٥٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ یہ تصویر بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو۔“ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب عذاب المصورين یوم القیامۃ؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٥١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس میں تصویر والی کوئی چیز نہ چھوڑتے مگر اسے توڑ دیتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب نقض الصور؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٥٢)
ابوزرعہ نے حدیث بیان کی فرماتے ہیں، میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں (مروان بن حکم کے گھر میں) گیا تو انہوں نے چھت پر ایک مصور کو دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک چیونٹی پیدا کرے۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا اور اپنے ہاتھ اس میں دھوئے۔ جب بغل دھونے لگے تو میں نے عرض کیا ابوہریرہ! کیا (بغل تک دھونے کے بارے میں) تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے انہوں نے کہا میں نے جہاں تک زیور پہنا جا سکتا ہے وہاں تک دھویا ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب نقض الصور؛جلد؛٧ص؛١٦٧؛حدیث نمبر ٥٩٥٣)
سفیان بن عیینہ نے بیان کیا،کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، ان دنوں مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر عالم فاضل نیک کوئی آدمی نہیں تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (قاسم بن ابی بکر) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر(غزوہ تبوک)سے تشریف لائے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا، اس پر تصویریں تھیں جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اسے کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے پھاڑ کر اس پردہ کی ایک یا دو تو شک بنالیں۔ (بخاری شریف ،کتاب اللباس،بَابُ مَا وُطِئَ مِنَ التَّصَاوِيرِ،حدیث نمبر ٥٩٥٤)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے اور میں نے پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے اتار لینے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار لیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من وطی من التصاویر؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٥)
اور میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کر لیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛باب من وطی من التصاویر؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اسے دیکھ کر) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہیں لائے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویر کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویر ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقُعُودَ عَلَى الصُّورَةِ؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٧)
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔“ بسر نے بیان کیا کہ (اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد) پھر حضرت زید رضی اللہ عنہ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا، حدیث بیان کرتے ہوئے کپڑے کے نقوش کو مستثنٰی کیا تھا اور عبداللہ بن وہب نے کہا، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے بیان کیا، ان سے زید نے بیان کیا، ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ مَنْ كَرِهَ الْقُعُودَ عَلَى الصُّورَةِ؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٨)
عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا۔ اسے انہوں نے گھر کے ایک کنارے پر لٹکا دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پردہ نکال ڈال،کیونکہ اس پردے کی تصویریں نماز میں میرے سامنے ہوتی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الصَّلاَةِ فِي التَّصَاوِيرِ؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٥٩)
سالم سے مروی ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں(ابن عمر رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ ایک وقت پر جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آنے کا وعدہ کیا لیکن آنے میں دیر ہوئی۔تو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزری پھر آپ باہر تشریف لاے اور ملاقات کے وقت ان سے شکایت کی کہ مقررہ وقت پر کیوں نہیں آے حضرت جبریل نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ ہم کسی ایسے گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٦٠)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں آپ کے چہرے سے ناراضگی پہچان گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ سے اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گدا کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اب ان میں جان بھی ڈالو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہوتی ہے اس میں (رحمت کے) فرشتے نہیں داخل ہوتے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛ بَابُ مَنْ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ:؛جلد؛٧ص؛١٦٨؛حدیث نمبر ٥٩٦١)
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ان کے والد(وہب بن عبداللہ) نے کہا انہوں نے ایک غلام خریدا جو پچھنا لگاتا تھا پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون نکالنے کی اجرت، کتے کی قیمت اور رنڈی کی کمائی کھانے سے منع فرمایا ہے اور آپ نے سود لینے والے، دینے والے، گودنے والی، گدوانے والی اور تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ مَنْ لَعَنَ الْمُصَوِّرَ؛جلد؛٧ص؛١٦٩؛حدیث نمبر ٥٩٦٢)
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا لوگ ان سے مختلف مسائل پوچھ رہے تھے۔ جب تک ان سے خاص طور سے پوچھا نہ جاتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ نہیں دیتے تھے پھر انہوں نے کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں تصویر بنائے گا قیامت کے دن اس پر زور ڈالا جائے گا کہ اسے وہ زندہ کرے حالانکہ وہ اسے زندہ نہیں کر سکتا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ؛جلد؛٧ص؛١٦٩؛حدیث نمبر ٥٩٦٣)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی کملی پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اسی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ الاِرْتِدَافِ عَلَى الدَّابَّةِ؛جلد؛٧ص؛١٦٩؛حدیث نمبر ٥٩٦٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے (فتح کے موقع پر) تو عبدالمطلب کی اولاد نے(جو مکہ میں تھی) آپ کا استقبال کیا۔ (یہ سب بچے ہی تھے) آپ نے از راہ محبت ایک بچے کو اپنے سامنے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ الثَّلاَثَةِ عَلَى الدَّابَّةِ: باب:ایک جانور سواری پر تین آدمیوں کا سوار ہونا؛جلد؛٧ص؛١٦٩؛حدیث نمبر ٥٩٦٥)
بعض نے کہا ہے کہ جانور کے مالک کو جانور پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق ہے۔ البتہ اگر وہ کسی دوسرے کو (آگے بیٹھنے کی) اجازت دے تو جائز ہے۔ ایوب کا بیان ہے کہ عکرمہ کے سامنے یہ ذکر ہوا کہ سواری پر تین افراد کا بیٹھنا بری بات ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ مکرمہ) تشریف لائے تو آپ قثم بن عباس کو اپنی سواری پر آگے اور فضل بن عباس کو پیچھے بٹھائے ہوئے تھے۔ یا قثم پیچھے تھے اور فضل آگے تھے (رضی اللہ عنہم) اب تم ان میں سے کسے برا کہو گے اور کسے اچھا۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛بَابُ حَمْلِ صَاحِبِ الدَّابَّةِ غَيْرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ؛ترجمہ؛جانور کے مالک کا دوسرے کو سواری پر اپنے آگے بٹھانا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛١٧٠؛حدیث نمبر ٥٩٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا،ان سے معاذ بن جبل نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں تھی اسی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یامعاذ! میں بولا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں اور مستعد ہوں ۔ پھر آپ نے تھوڑی دیر تک چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا: یا معاذ! میں بولا، یا رسول اللہ! حاضر ہوں اور مستعد ہوں۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اس کے بعد فرمایا: یا معاذ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں، یا رسول اللہ! اور مستعد ہوں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم ہے اللہ کے اپنے بندوں پر کیا حق ہیں؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر حق یہ ہیں کہ بندے خاص اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ اس کے بعد فرمایا: معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ!اور مستعد ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔ جب کہ وہ یہ کام کر لیں۔ میںپ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ پھر بندوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ (بخاری شریف:؛کتاب اللباس؛ بَابُ إِرْدَافِ الرَّجُلِ خَلْفَ الرَّجُلِ؛ترجمہ؛ایک مرد دوسرے مرد کے پیچھے ایک سواری پر بیٹھ سکتا ہے؛جلد؛٧ص؛١٧٠؛حدیث نمبر ٥٩٦٧)
ابو اسحاق کا بیان ہے فرماتے ہیں،میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے واپس آ رہے تھے اور میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور وہ چل رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں کہ اچانک اونٹنی پھسلی تو میں چلایا کی عورت،عورت پھر میں اتر گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری ماں ہیں پھر میں نے کجاوہ مضبوط باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے پھر جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے یا (راوی نے بیان کیا کہ) مدینہ منورہ دیکھا تو فرمایا ”ہم واپس ہونے والے ہیں،توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے مالک کی تعریف کرنے والے ہیں۔“ بخاری شریف؛کتاب اللباس؛بَابُ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ خَلْفَ الرَّجُلِ؛ترجمہ؛سواری ر پر عورت کا مرد کے پیچھے بیٹھنا جائز ہے؛جلد؛٧ص؛١٧٠؛حدیث نمبر ٥٩٦٨)
عباد بن تمیم اپنے چچا(عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں(چت) لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر اٹھا کر رکھے ہوئے تھے۔ بخاری شریف؛کتاب اللباس؛103. بَابُ الاِسْتِلْقَاءِ، وَوَضْعِ الرِّجْلِ عَلَى الأُخْرَى؛ترجمہ؛چت لیٹ کر ایک پاؤں کا دوسرے پاؤں پر رکھنا؛جلد؛٧ص؛١٧٠؛حدیث نمبر ٥٩٦٩)
Bukhari Shareef : Kitabul Lebas
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ اللِّبَاسِ
|
•