
ارشاد باری تعالیٰ؛ترجمہ کنز الایمان؛"اور ہم آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی"۔(العنکبوت؛٨) ابوعمرو شیبانی کا بیان ہے کہ ہمیں اس گھر والے نے خبر دی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا۔ پوچھا کہ پھر کون سا؟ فرمایا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کاموں کے متعلق بیان کیا اور اگر میں اسی طرح سوال کرتا رہتا تو آپ جواب دیتے رہتے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ادب کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى؛{وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ}؛جلد؛٨ص٢؛حدیث نمبر ٥٩٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔پھر عرض کی اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔پھر عرض کی اس کے بعد کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔پھر عرض کی اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ ابن شبرمہ اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزرعہ نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؛ترجمہ؛لوگوں میں اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؛جلد؛٨ص٢؛حدیث نمبر ٥٩٧١)
حضرت عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں بھی جہاد میں شریک ہو جاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے ماں باپ موجود ہیں انہوں نے کہا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لاَ يُجَاهِدُ إِلاَّ بِإِذْنِ الأَبَوَيْنِ؛ترجمہ؛والدین کی اجازت کے بغیر کسی کو جہاد کے لیے نہ جانا چاہیئے؛جلد؛٨ص٣؛حدیث نمبر ٥٩٧٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے ہی والدین پر کیسے لعنت بھیجے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لاَ يَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؛ترجمہ؛کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی گلوچ نہ دے؛جلد؛٨ص٣؛حدیث نمبر ٥٩٧٣)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین آدمی چل رہے تھے کہ بارش نے انہیں آلیا اور انہوں نے مڑ کر پہاڑی کی غار میں پناہ لی۔ اس کے بعد ان کے غار کے منہ پر پہاڑ کی ایک چٹان گری اور اس کا منہ بند ہو گیا۔ اب بعض نے بعض سے کہا کہ تم نے جو نیک کام کئے ہیں ان میں سے ایسے کام کو دھیان میں لاؤ جو تم نے خالص اللہ کے لیے کیا ہو اور اس کے وسیلے سے دعاکرو شاید یہ مشکل آسان ہوجاےاس پر ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین تھے اور بہت بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں ان کے لیے بکریاں چراتا تھا اور واپس آ کر دودھ نکالتا تو سب سے پہلے اپنے والدین کو پلاتا تھا اپنے بچوں سے بھی پہلے۔ ایک دن چارے کی تلاش میں گھر آنے میں تاخیر ہوگئی۔ میں نے دیکھا کہ میرے والدین سو چکے ہیں۔ میں نے معمول کے مطابق دودھ نکالا پھر میں دوھا ہوا دودھ لے کر آیا اور ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا میں گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ انہیں سونے میں جگاؤں اور یہ بھی مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا کہ والدین سے پہلے بچوں کو پلاؤں۔ بچے بھوک سے میرے پاؤں کے پاس رو رہے تھےاور اسی کشمکش میں صبح ہو گئی۔ پس اے اللہ! تو جانتا ہے اگر کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے کشادگی پیدا کر دے کہ ہم آسمان دیکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے (دعا قبول کی اور) ان کے لیے اتنی کشادگی پیدا کر دی کہ وہ آسمان دیکھ سکتے تھے۔ دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی اور میں اس سے محبت کرتا تھا، وہ انتہائی محبت جو ایک مرد ایک عورت سے کر سکتا ہے۔ میں نے اس سے اسے مانگا تو اس نے انکار کیا اور صرف اس شرط پر راضی ہوئی کہ میں اسے سو دینار دوں۔ میں نے دوڑ دھوپ کی اور سو دینار جمع کر لایا پھر اس کے پاس انہیں لے کر گیا پھر جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا کہ اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور لگی ہوئی مہر کو مت توڑ۔ میں یہ سن کر کھڑا ہو گیا (اور زنا سے باز رہا)تو جانتا ہے اگرمیں نے یہ کام تیری رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے کچھ اور کشادگی (چٹان کو ہٹا کر) پیدا کر دے۔ چنانچہ ان کے لیے تھوڑی سی اور کشادگی ہو گئی۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور ایک فرق چاول کی مزدوری پر رکھا تھا اس نے اپنا کام پورا کر کے کہا کہ میری مزدوری دو۔ میں نے اس کی مزدوری دے دی لیکن وہ چھوڑ کر چلا گیا اور اس کے ساتھ بےتوجہی کی۔پس میں ان سے برابر کاشتکاری کرتا رہا اور اس طرح میں نے اس سے ایک گائے اور اس کا چرواہا کر لیا مدتوں بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر،مجھ پر ظلم نہ کر اور میرا حق مجھے دے دو میں نے اس سے کہا کہ یہ گائے اور چرواہا لے جاؤ۔ اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ اس گائے اور چرواہے کو لے جاؤ۔ چنانچہ وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ پس تو جانتا ہے اگر میں نے یہ کام تیری رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو (چٹان کی وجہ سے غار سے نکلنے میں جو رکاوٹ باقی رہ گئی ہے اسے بھی کھول دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پوری طرح کشادگی کر دی جس سے وہ باہر آ گئے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ إِجَابَةِ دُعَاءِ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ؛ترجمہ؛جس شخص نے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا اس کی دعا قبول ہوتی ہے؛جلد؛٨ص٣؛حدیث نمبر ٥٩٧٤)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام قرار دی ہے اور (والدین کے حقوق) نہ دینا اور ناحق ان سے مطالبات کرنا کو بھی منع فرمایا ہے ہے، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا (بھی حرام قرار دیا ہے) اور «قيل وقال» (فضول باتیں) کثرت سوال اور مال کی بربادی کو بھی ناپسند کیا ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْكَبَائِرِ؛ترجمہ؛والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے؛جلد؛٨ص٤؛حدیث نمبر ٥٩٧٥)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی (سب سے بڑے گناہ ہیں) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سکونت نہیں فرمائیں گے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْكَبَائِرِ؛ترجمہ؛والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے؛جلد؛٨ص٤؛حدیث نمبر ٥٩٧٦)
عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبائر کا ذکر کیا یا (انہوں نے کہا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبائر گناہوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا، کسی کی (ناحق) جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتا دوں؟ فرمایا کہ جھوٹی بات یا فرمایا کہ جھوٹی شہادت (سب سے بڑا گناہ ہے) شعبہ نے بیان کیا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی فرمایا تھا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْكَبَائِرِ؛ترجمہ؛والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے؛جلد؛٨ص٤؛حدیث نمبر ٥٩٧٧)
عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ میری والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میرے پاس آئیں، وہ مسلمان نہ تھیں۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين» یعنی ”ترجمہ کنز الایمان"اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں لڑے"(پ٢٨،الممتحنہ،٨) بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْكَبَائِرِ؛ترجمہ؛والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے؛جلد؛٨ص٤؛حدیث نمبر ٥٩٧٨)
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے ہشام نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میری مشرکہ والدہ اپنے والد کو ساتھ لے کر ان دنوں میرے پاس آئیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان معاہدہ تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق معلوم کیا کہ میری والدہ آئیں ہیں اور وہ مسلمان نہیں ہے (کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْكَبَائِرِ؛ترجمہ؛والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے؛جلد؛٨ص٤؛حدیث نمبر ٥٩٧٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے انہیں بلا بھیجا تو انہوں نے اسے بتایا کہ وہ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز، صدقہ، پاک دامنی اور صلہ رحمی کا حکم فرماتے ہیں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْكَبَائِرِ؛ترجمہ؛والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے؛جلد؛٨ص٤؛حدیث نمبر ٥٩٨٠)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیراء کا (ایک ریشمی) حلہ بکتے دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جب آپ کے پاس وفود کے آمد کے وقت اسے پہنا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کئی حلے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے بھیجا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اسے کیسے پہنوں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق ایسا فرمایا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تم اسے بیچ دو یا کسی دوسرے کو پہنا دو چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ مکرمہ میں تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوے تھے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ صلۃ الأخ المشرک؛جلد؛٨ص٥؛حدیث نمبر ٥٩٨١)
موسیٰ بن طلحہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا؛کسی نے بارگاہ نبوت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بابُ فَضْلِ صِلَةِ الرَّحِمِ؛ترجمہ؛صلہ رحمی کی فضیلت؛جلد؛٨ص٥؛حدیث نمبر ٥٩٨٢)
موسیٰ بن طلحہ نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے، اسے کیا ہو گیا ہے۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک حاجت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کر، نماز قائم کر، زکوٰۃ دیتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو۔ (بس یہ اعمال تجھ کو جنت میں لے جائیں گے)اب اسے چھوڑ دو۔ راوی نے کہا شاید اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بابُ فَضْلِ صِلَةِ الرَّحِمِ؛ترجمہ؛صلہ رحمی کی فضیلت؛جلد؛٨ص٥؛حدیث نمبر ٥٩٨٣)
محمد بن جبیر بن مطعم نے بیان کیا اور انہیں ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِثْمِ الْقَاطِعِ:؛ترجمہ؛قطع رحمی کرنے والے کا گناہ؛جلد؛٨ص٥؛حدیث نمبر ٥٩٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے پسند ہے کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز ہو تو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کیا کرے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ بُسِطَ لَهُ فِي الرِّزْقِ بِصِلَةِ الرَّحِمِ؛ترجمہ؛صلہ رحمی کے سبب رزق میں فراخی؛جلد؛٨ص٥؛حدیث نمبر ٥٩٨٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ بُسِطَ لَهُ فِي الرِّزْقِ بِصِلَةِ الرَّحِمِ؛ترجمہ؛صلہ رحمی کے سبب رزق میں فراخی؛جلد؛٨ص٥؛حدیث نمبر ٥٩٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛بیشک اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کیا اور اس کی تخلیق ہوگئی تو رشتہ داری نے اس کی بارگاہ میں عرض کی:یہ مقام اس کا ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ چاہے۔ارشاد ہوا کیا تو بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اس سے تعلق جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں اس سے قطع توڑ لوں؟عرض کی کہ اے رب! کیوں نہیں۔فرمایا کہ تجھے یہ ملا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ (ترجمہ)"تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو"(محمد٢٢) بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَنْ وَصَلَ وَصَلَهُ اللَّهُ؛ترجمہ؛جو صلہ رحمی کرے اللہ اس سے خوش ہوکر ملاقات کرے گا؛جلد؛٨ص٥؛حدیث نمبر ٥٩٨٧)
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بےشک رحم ایک ایسی شاخ ہے جو رحمان سے ملی ہوئی ہے پس جو کوئی اس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اللہ پاک نے فرمایا کہ میں بھی اس کو اپنے سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اسے توڑتا ہے میں بھی اپنے آپ کو اس سے توڑ لیتا ہوں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَنْ وَصَلَ وَصَلَهُ اللَّهُ؛ترجمہ؛جو صلہ رحمی کرے اللہ اس سے خوش ہوکر ملاقات کرے گا؛جلد؛٨ص٦؛حدیث نمبر ٥٩٨٨)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛رحم ایک شاخ ہے جو اس سے ملے گا تو میں اس سے ملوں گا اور جو اس سے قطع تعلق کرے گا میں اس سے قطع تعلق کروں گا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَنْ وَصَلَ وَصَلَهُ اللَّهُ؛ترجمہ؛جو صلہ رحمی کرے اللہ اس سے خوش ہوکر ملاقات کرے گا؛جلد؛٨ص٦؛حدیث نمبر ٥٩٨٩)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آہستہ نہیں بلند آواز سے سنا کہ بیشک میرے والد کی ال۔عمرو کا بیان ہے کہ محمد بن جعفر کی کتاب میں آگے سفید جگہ تھی میرا کوئی ولی نہیں،میرا ولی تو اللہ تعالیٰ ہے اور نیک مسلمان ہیں عنبسہ کی روایت میں اتنا اضافہ جو انہوں نے عبد الواحد،بیان،قیس،حضرت عمرو بن العاص نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا:یا میری ان کے ساتھ رشتہ داری ہے جسے میں تری کے ساتھ رکھتا ہوں یعنی رشتہ داری کے باعث صلہ رحمی کرتا ہوں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ تبل الرحم ببلالہا؛جلد؛٨ص٦؛حدیث نمبر ٥٩٩٠)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے سفیان سے، کہا کہ اعمش نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں بیان کی لیکن حسن اور فطر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا، فرمایا کہ کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِي؛ترجمہ؛بدلہ لینے والا صلحہ رحمی کرنے والا نہیں؛جلد؛٨ص٦؛حدیث نمبر ٥٩٩١)
حکیم بن حزام کا بیان ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کا ان کاموں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جنہیں میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلاً صلہ رحمی، غلام کی آزادی، صدقہ، کیا مجھے ان پر ثواب ملے گا؟حضرت حکیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؛تمہیں پچھلی بھلائیوں کی وجہ سے ہی اسلام کی دولت ملی ہے۔ اور بعضوں نے ابوالیمان سے بجائے «اتحنث» کے «اتحت» (تاء کے ساتھ) روایت کیا ہے اور معمر اور صالح اور ابن مسافر نے بھی «اتحت» روایت کیا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا «اتحنث»، «تحت» سے نکلا ہے اس کے معنی مثل اور عبادت کرنا۔ ہشام نے بھی اپنے والد عروہ سے ان لوگوں کی متابعت کی ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ وَصَلَ رَحِمَهُ فِي الشِّرْكِ ثُمَّ أَسْلَمَ؛ترجمہ؛جس نے حالت شرک میں صلہ رحمی کی پھر اسلام لے آیا؛جلد؛٨ص٦؛حدیث نمبر ٥٩٩٢)
حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی میں ایک زرد قمیص پہنے ہوئے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”سنہ سنہ“ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ یہ حبشی زبان میں ”اچھا“ کے معنی میں ہے۔ ام خالد نے بیان کیا کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت سے کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھیلنے دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛یہ کپڑا خوب پہنو اور پرانا کر کے ہھاڑو،پھر خوب پہنو اور پرانا کر کے ہھاڑو،پھر خوب پہنو اور پرانا کر کے ہھاڑو۔عبد اللہ کا بیان ہے کہ وہ کپڑا بہت دنوں باقی رہا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ تَرَكَ صَبِيَّةَ غَيْرِهِ حَتَّى تَلْعَبَ بِهِ أَوْ قَبَّلَهَا أَوْ مَازَحَهَا؛ترجمہ؛دوسرے کے بچے کو کھیلنے سے نہ روکنا،ان سے بوسہ اور اس کے ساتھ ہنسی کھیل کرنا؛جلد؛٨ص٧؛حدیث نمبر ٥٩٩٣)
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صاحبزادے) ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور انہیں بوسہ دیا اور اسے سونگھا۔ ابن یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابونعیم نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے (حالت احرام میں) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا (کہ اس کا کیا کفارہ ہو گا) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو؟ اس نے بتایا کہ عراق کا، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، (مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو شہید کر دیا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہ دونوں (حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ؛ترجمہ؛بچے سے پیار کرنا،اسے بوسہ دینا اور گلے لگانا؛جلد؛٨ص٧؛حدیث نمبر ٥٩٩٤)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک عورت (اور) اس کے ساتھ دو بچیاں وہ سوال کرنے آئی تھی۔ میرے پاس سے سوا ایک کھجور کے اسے اور کچھ نہ ملا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے وہ کھجور اپنی دونوں لڑکیوں کو تقسیم کر دی۔ پھر اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ان بیٹیوں کو کچھ بھی دے اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ؛ترجمہ؛بچے سے پیار کرنا،اسے بوسہ دینا اور گلے لگانا؛جلد؛٨ص٧؛حدیث نمبر ٥٩٩٥)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور حضرت اماہ بنت ابو العاص کو آپ نے اپنے دوش مبارک پر اٹھایا ہوا تھا۔پھر آپ نماز پڑھنے لگے تو جب رکوع میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ؛ترجمہ؛بچے سے پیار کرنا،اسے بوسہ دینا اور گلے لگانا؛جلد؛٨ص٧؛حدیث نمبر ٥٩٩٦)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ؛ترجمہ؛بچے سے پیار کرنا،اسے بوسہ دینا اور گلے لگانا؛جلد؛٨ص٧؛حدیث نمبر ٥٩٩٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں، ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ؛ترجمہ؛بچے سے پیار کرنا،اسے بوسہ دینا اور گلے لگانا؛جلد؛٨ص٧؛حدیث نمبر ٥٩٩٨)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چند قیدی پیش کیے گئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا اور وہ دوڑ رہی تھی،جب وہ قید میں کسی بچے کو دیکھتی تو اسے سینے سے لگا لیتی اور دودھ پلانے لگتی۔ ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہو گی یہ اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینک سکتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ؛ترجمہ؛بچے سے پیار کرنا،اسے بوسہ دینا اور گلے لگانا؛جلد؛٨ص٨؛حدیث نمبر ٥٩٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے کئے ہیں چنانچہ ننانوے حصے رکھ لیے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑا بھی اپنے بچہ کو اپنے کھر نہیں لگنے دیتی بلکہ کھر کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس کے بچہ کو تکلیف نہ پہنچے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ؛ترجمہ؛اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کئے ہیں؛جلد؛٨ص٨؛حدیث نمبر ٦٠٠٠)
عمرو بن شرحبیل کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا پھر، اس کے بعد فرمایا یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس خوف سے قتل کرو کہ اگر زندہ رہا تو وہ میرے ساتھ کھاے گی۔ انہوں نے کہا اس کے بعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی؛ترجمہ کنز الایمان؛اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔(الفرقان٥٨) بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَتْلِ الْوَلَدِ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَهُ؛اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ وہ اس کے ساتھ کھاے گی؛جلد؛٨ص٨؛حدیث نمبر ٦٠٠١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ(عبداللہ بن زبیر) کو اپنی گود میں لے کر اس کی تحنیک فرمائی تو اس نے پیشاب کر دیا آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ وَضْعِ الصَّبِيِّ فِي الْحِجْرِ؛بچے کو گود میں لینا؛جلد؛٨ص٨؛حدیث نمبر ٦٠٠٢)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی ایک ران پر بٹھاتے تھے اور حسن رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھلاتے تھے۔ پھر دونوں کو ملاتے اور دعا فرماتے، اے اللہ! ان دونوں پر رحم کر کہ میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں۔ اور علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اسی حدیث کو بیان کیا۔ سلیمان تیمی نے کہا جب ابو تمیمہ نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی ابوعثمان نہدی سے تو میرے دل میں شک پیدا ہوا۔ میں نے ابوعثمان سے بہت سی احادیث سنی ہیں پر یہ حدیث کیوں نہیں سنی پھر میں نے اپنی احادیث کی کتاب دیکھی تو اس میں یہ حدیث ابوعثمان نہدی سے لکھی ہوئی تھی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب وضع الصبی علی الفخذ؛بچے کو اپنی ران پر بٹھانا؛جلد؛٨ص٨؛حدیث نمبر ٦٠٠٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں۔ (رشک کی وجہ یہ تھی) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا تذکرہ فرماتے ہوئے سنتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے رب نے حکم فرمایا تھا کہ انہیں جنت میں موتی کے محل کی بشارت دے دو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حُسْنُ الْعَهْدِ مِنَ الإِيمَانِ؛وعدہ پورا کرنا ایمان کا حصہ ہے؛جلد؛٨ص٨؛حدیث نمبر ٦٠٠٤)
ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح قریب ہوں گے اور آپ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارہ سے (قرب کو) بتایا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ فَضْلِ مَنْ يَعُولُ يَتِيمًا؛یتیم کی پرورش کرنے کی فضیلت؛جلد؛٨ص٩؛حدیث نمبر ٦٠٠٥)
صفوان بن سلیم اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزے رکھتا ہے اور رات کو عبادت کرتا ہے۔ اسماعیل،مالک، ثور بن زید ویلی،ابو الغیث،مولیٰ ابن مطیع،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٩٨٥ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛. بَابُ السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ؛بیواؤں کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا؛جلد؛٨ص٩؛حدیث نمبر ٦٠٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ عبداللہ قعنبی کو اس میں شک ہے۔ امام مالک نے اس حدیث میں یہ بھی کہا تھا اس شخص کے برابر ثواب ملتا ہے جو نماز میں کھڑا رہتا ہے تھکتا ہی نہیں اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو کبھی روزہ ترک نہیں کرتا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ السَّاعِي عَلَى الْمِسْكِينِ؛مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا؛جلد؛٨ص٩؛حدیث نمبر ٦٠٠٧)
ابوقلابہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم چند ہم عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیس دنوں تک رہےجب آپ نے یہ محسوس کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کی جانب واپس لوٹنا چاہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ کر آئے تھے۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا حال سنا دیا۔ آپ بڑے ہی شفیق اور بڑے رحم کرنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ اور اپنے ملک والوں کو دین سکھاؤ اور بتاؤ اور تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص تمہارے لیے اذان دے پھر جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالْبَهَائِمِ؛انسانوں اور جانوروں پر رحم کھانا؛جلد؛٨ص٩؛حدیث نمبر ٦٠٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص راستہ میں چل رہا تھا کہ اسے شدت کی پیاس لگی اسے ایک کنواں ملا اور اس نے اس میں اتر کر پانی پیا۔ جب باہر نکلا تو وہاں ایک کتا دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی شدت کے سبب مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ یہ کتا بھی اتنا ہی زیادہ پیاسا معلوم ہو رہا ہے جتنا میں تھا۔ چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھرا اور منہ سے پکڑ کر اوپر لایا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو پسند فرمایا اور اس کی مغفرت کر دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہمیں جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ثواب ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں ہر تر جگر والے پر نیکی کرنے میں ثواب ملتا ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالْبَهَائِمِ؛انسانوں اور جانوروں پر رحم کھانا؛جلد؛٨ص٩؛حدیث نمبر ٦٠٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے۔دوران نماز دیہاتی نے کہا: اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو محدود کر دیا آپ کی مراد اللہ کی رحمت سے تھی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالْبَهَائِمِ؛انسانوں اور جانوروں پر رحم کھانا؛جلد؛٨ص١٠؛حدیث نمبر ٦٠١٠)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالْبَهَائِمِ؛انسانوں اور جانوروں پر رحم کھانا؛جلد؛٨ص١٠؛حدیث نمبر ٦٠١١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی مسلمان کسی درخت کا پودا لگاتا ہے اور اس درخت سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو لگانے والے کی جانب سے وہ صدقہ ہوتا ہے۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالْبَهَائِمِ؛انسانوں اور جانوروں پر رحم کھانا؛جلد؛٨ص١٠؛حدیث نمبر ٦٠١٢)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالْبَهَائِمِ؛انسانوں اور جانوروں پر رحم کھانا؛جلد؛٨ص١٠؛حدیث نمبر ٦٠١٣)
ارشاد ربانی ہے؛ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو۔(النساء،٣٦) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ حضرت جبریل علیہ السلام مجھے ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت فرماتے رہے حتیٰ کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید اسے اس کا وارث بنا دیا جائے گا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْوَصَاةِ بِالْجَارِ؛پڑوسی کے حق میں وصیت کرنے والا؛جلد؛٨ص١٠؛حدیث نمبر ٦٠١٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت جبریل علیہ السلام مجھے ہمیشہ پڑوسی کے بارے میں وصیت فرماتے رہے حتیٰ کہ میں نے گمان کیا کہ جلد اسے اس کا وارث بنا دیا جائے گا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْوَصَاةِ بِالْجَارِ؛پڑوسی کے حق میں وصیت کرنے والا؛جلد؛٨ص١٠؛حدیث نمبر ٦٠١٥)
يوبقهن} يهلكهن. {موبقا} مهلكا. قرآن مجید میں جو لفظ «يوبقهن»(الشوریٰ؛٣٤)ہے اس کے معنی"جو انہیں ہلاک کر دے"۔ «موبقا»(الکھف ٥٢)کے معنی ہلاکت کی جگہ۔ سعید نے ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ عرض کیا گیا کون: یا رسول اللہ؟ فرمایا وہ جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ اس حدیث کو شبابہ اور اسد بن موسیٰ نے بھی روایت کیا ہے اور حمید بن اسود اور عثمان بن عمر اور ابوبکر بن عیاش اور شعیب بن اسحاق نے اس حدیث کو ابن ابی ذئب سے یوں روایت کیا ہے، انہوں نے مقبری سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ؛جس کا پڑوسی اس کی ایذا رسانی سے بے خوف نہیں؛جلد؛٨ص١٠؛حدیث نمبر ٦٠١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے؛اے مسلمان عورتوں!تم میں سے کوئی عورت اپنی ہمسائی کی تحقیر نہ کرے اگرچہ وہ بکری کی کھر جیسی کیوں نہ ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا؛کوئی عورت اپنےہمسائی کی تحقیر نہ کرے؛جلد؛٨ص١٠؛حدیث نمبر ٦٠١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ؛جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوس کو ایذا نہ دے؛جلد؛٨ص١١؛حدیث نمبر ٦٠١٨)
حضرت ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق عزت کرے۔عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ! دستور کیا ہے؟۔ فرمایا ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ؛جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوس کو ایذا نہ دے؛جلد؛٨ص١١؛حدیث نمبر ٦٠١٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا؛یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے دو پڑوسی ہیں۔پس میں ان میں سے کس کے لیے ہدیہ بھیجوں؟فرمایا کہ ان میں سے جو دروازے کے لحاظ سے جو زیادہ قریب ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حَقِّ الْجِوَارِ فِي قُرْبِ الأَبْوَابِ؛پڑوسیوں کا حق نزدیکی کے لحاظ سے؛جلد؛٨ص١١؛حدیث نمبر ٦٠٢٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر نیک کام صدقہ ہے۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ؛ہر نیک کام صدقہ ہے؛جلد؛٨ص١١؛حدیث نمبر ٦٠٢١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔“لوگوں نے عرض کیا کہ اگر یہ کام نہ ہو سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔لوگوں نے عرض کی کہ اگر یہ نہ سکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند پریشان حال کی مدد کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیکی کرے یا نیکی کا حکم دے عرض کیا اور اگر یہ بھی نہ کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر برائی سے رکا رہے کیونکہ یہی اس کے لیے صدقہ ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ؛جلد؛٨ص١١؛حدیث نمبر ٦٠٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرہ پھیر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرہ پھیر لیا شعبہ نے بیان کیا کہ دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہنم سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو۔ خواہ آدھی کھجور ہی (کسی کو) صدقہ کر کے ہو سکے اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کر کے ہی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ طِيبِ الْكَلاَمِ؛خوش کلامی کا ثواب؛جلد؛٨ص١١؛حدیث نمبر ٦٠٢٣)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السام عليكم.» (تمہیں موت آئے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اس کا مفہوم سمجھ گئی اور میں نے ان کا جواب دیا کہ «وعليكم السام واللعنة.» (یعنی تمہیں موت آئے اور لعنت ہو) بیان کیا کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ٹھہرو، اے عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر کام میں شفقت کو پسند کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کا جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم»تم پر ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الرِّفْقِ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ:ہر کام میں نرمی کرنا؛جلد؛٨ص١٢؛حدیث نمبر ٦٠٢٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا۔ صحابہ کرام ان کی طرف دوڑے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے پیشاب کو مت روکو۔ پھر آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اس کے اوپر بہا دیا گیا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الرِّفْقِ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ:ہر کام میں نرمی کرنا؛جلد؛٨ص١٢؛حدیث نمبر ٦٠٢٥)
ابو بردہ نے اپنے والد محترم حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے دیوار کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔پھر آپ نے انگشت مبارک کو آپس میں پیوست کر کے بتایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز تھے کہ ایک شخص سوال کرنے یا کسی حاجت کے لیے حاضر ہوا تو آپ نے چہرہ مبارک ہماری جانب پھیر کر فرمایا؛سفارش کرو کہ تمہیں ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو بات چاہتا ہے نافذ فرما دیتا ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ تَعَاوُنِ الْمُؤْمِنِينَ بَعْضِهِمْ بَعْضًا؛مسلمانوں کا ایک دوسرے کی مدد کرنا؛جلد؛٨ص١٢؛حدیث نمبر ٦٠٢٦)
ارشاد ربانی ہے؛ ترجمہ کنز الایمان"جو اچھی سفارش کرے اس میں سے اس کے لیے حصہ ہے اور جو بری سفارش کرے اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے"(النساء ٨٥) کفل؛حصہ۔ابو موسیٰ کا قول ہے کہ کفلین حبشہ کی زبان میں دوہری مزدوری کو کہتے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کوئی سائل یا ضرورت مند آتا تو آپ حاضرین سے فرماتے کہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی اجر ملے کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان پر جو بات چاہے نافذ فرما دیتا ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا وَمَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُنْ لَهُ كِفْلٌ مِنْهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا}؛جلد؛٨ص١٢؛حدیث نمبر ٦٠٢٧)
مسروق نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے مسروق کا بیان ہے کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جب کہ حضرت معاویہ کوفہ میں تشریف لائے ہوے تھے اس وقت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور نہ فحش گو تھے اور نہ فحش گوئی کے نزدیک جاتے تھے اور ان کا یہ بھی بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ فحش گوئی کے نزدیک جاتے تھے؛جلد؛٨ص١٢؛حدیث نمبر ٦٠٢٨)
مسروق نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے مسروق کا بیان ہے کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جب کہ حضرت معاویہ کوفہ میں تشریف لائے ہوے تھے اس وقت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور نہ فحش گو تھے اور نہ فحش گوئی کے نزدیک جاتے تھے اور ان کا یہ بھی بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ فحش گوئی کے نزدیک جاتے تھے؛جلد؛٨ص١٢؛حدیث نمبر ٦٠٢٩)
عبداللہ بن ابو ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور کہا «السام عليكم.» (تم پر موت آئے) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «عليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم.» کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (رہنے دو) اے عائشہ!شفقت اختیار کرو۔بد خلقی اور بد گوئی سے بچو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بددعا قبول ہو جائے گی۔ لیکن میرے حق میں ان کی بددعا قبول ہی نہ ہو گی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ فحش گوئی کے نزدیک جاتے تھے؛جلد؛٨ص١٢؛حدیث نمبر ٦٠٣٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گالی دینے والے فحش گوئی کرنے والے اور لعنت بھیجنے والے نہ تھے۔ اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے اتنا فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ فحش گوئی کے نزدیک جاتے تھے؛جلد؛٨ص١٣؛حدیث نمبر ٦٠٣١)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ رشتہ داروں کا برا بھائی یا برا بیٹا پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ بیٹھا تو آپ اس کے ساتھ بہت خوش خلقی کے ساتھ پیش آئے۔ وہ شخص جب چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ نے اسے دیکھا تھا تو اس کے متعلق یہ کلمات فرمائے تھے، جب آپ اس سے ملے تو بہت ہی خندہ پیشانی سے ملے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! تم نے مجھے فحش گو کب پایا۔ اللہ کے یہاں قیامت کے دن وہ لوگ بدترین ہوں گے جن کے شر کے ڈر سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ فحش گوئی کے نزدیک جاتے تھے؛جلد؛٨ص١٣؛حدیث نمبر ٦٠٣٢)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان کے مہینے میں تو سب دنوں سے زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ جب ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے بھائی انس سے کہا کہ وادی مکہ کی طرف جاؤ اور اس شخص کی باتیں سن کر آؤ۔ جب وہ واپس آئے تو ابوذر سے کہا کہ میں نے دیکھا کہ وہ صاحب تو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے (شہر کے باہر شور سن کر) گھبرا گئے۔ (کہ شاید دشمن نے حملہ کیا ہے) سب لوگ اس شور کی طرف بڑھے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آواز کی طرف بڑھنے والوں میں سب سے آگے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ڈر کی بات نہیں، کوئی ڈر کی بات نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ابوطلحہ کے (مندوب نامی) گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، اس پر کوئی زین نہیں تھی اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس گھوڑے کو سمندر پایا یا فرمایا کہ یہ تیز دوڑنے میں سمندر کی طرح ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ؛ترجمہ؛حسن اخلاق اور سخاوت اور بخل کی برائی؛جلد؛٨ص١٣؛حدیث نمبر ٦٠٣٣)
محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی سوال کیا گیا تو آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ نہیں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ؛ترجمہ؛حسن اخلاق اور سخاوت اور بخل کی برائی؛جلد؛٨ص١٣؛حدیث نمبر ٦٠٣٤)
مسروق کا بیان ہے کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ انہوں نے ہم سے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو اور فحش گوئی کے نزدیک بھی جانے والے نہ تھے اور حضور فرمایا کرتے کہ تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ؛ترجمہ؛حسن اخلاق اور سخاوت اور بخل کی برائی؛جلد؛٨ص١٣؛حدیث نمبر ٦٠٣٥)
ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ”بردہ“ لے کر آئیں پھر سہل نے موجود لوگوں سے کہا تمہیں معلوم ہے، کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا کہ بردہ شملہ کو کہتے ہیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوا ہوتا ہے تو اس خاتون نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی ان سے قبول کر لی۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے پہن لیا۔ صحابہ میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پروہ لنگی دیکھی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے، آپ مجھے اس کو عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لو، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو اندر جا کر وہ لنگی بدل کر تہہ کر کے عبدالرحمٰن کو بھیج دی تو لوگوں نے ان صاحب کو ملامت سے کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لنگی مانگ کر اچھا نہیں کیا، تم نے دیکھ لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس طرح قبول کیا تھا گویا آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ اس کے باوجود تم نے لنگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگی، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو آپ انکار نہیں کرتے۔ اس صحابی نے عرض کیا کہ میں تو صرف اس کی برکت کا امیدوار ہوں کیونکہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم منور سے مس ہونے کا شرف حاصل ہوگیا ہے لہذا میں چاہتا ہوں کہ اسی میں کفن دیا جاؤں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ؛ترجمہ؛حسن اخلاق اور سخاوت اور بخل کی برائی؛جلد؛٨ص١٤؛حدیث نمبر ٦٠٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛زمانہ نزدیک ہوتا چلا جائے گا،عمل کم ہوتا چلا جائے گا،بخل داخل ہوجائے گا اور ہرج کی کثرت ہوجائے گی،لوگوں نے عرض کی ہرج کیا ہے؟فرمایا کہ قتل، قتل۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ؛ترجمہ؛حسن اخلاق اور سخاوت اور بخل کی برائی؛جلد؛٨ص١٣؛حدیث نمبر ٦٠٣٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے دس سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی سعادت پائی مگر آپ نے مجھ سے کبھی اف تک نہ کہی اور نہ یہ کہا کہ کام تم نے کیوں کیا اور کام تم نے کیوں نہ کیا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ، وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ؛ترجمہ؛حسن اخلاق اور سخاوت اور بخل کی برائی؛جلد؛٨ص١٣؛حدیث نمبر ٦٠٣٨)
اسود کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے ساتھ کیا کیا معاملہ رہتا ہے؟فرمایا کہ حضور اپنے گھر والوں کے ساتھ کام میں شریک رہتے اور جب نماز کا وقت ہوجاتا تو نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ كَيْفَ يَكُونُ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ؛آدمی اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسے رہے؛جلد؛٨ص١٤؛حدیث نمبر ٦٠٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ تمام آسمان والوں میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر تمام آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔پھر زمین والوں میں بھی اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ الْمِقَةِ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى؛محبت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے؛جلد؛٨ص١٤؛حدیث نمبر ٦٠٤٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص ایمان کی حلاوت (مٹھاس) اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک وہ کسی شخص سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے کرے اور اس کو آگ میں ڈالا جانا اچھا لگے لیکن ایمان کے بعد کفر میں جانا اسے پسند نہ ہو، اور جب تک اللہ اور اس کے رسول سے اسے ان کے سوا دوسری تمام چیزوں کے مقابلے میں زیادہ محبت نہ ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ الحب فی اللہ؛ اللہ کے لیے محبت کرنا؛جلد؛٨ص١٤؛حدیث نمبر ٦٠٤١)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔ (الحجرات ١١) حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی ریح خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی عورت کو جانوروں کی طرح کیوں مارتا ہے؟ہوسکتا ہے کہ اس کے وہ اس سے پھر ملے۔اور ثوری، وہیب اور ابومعاویہ نے ہشام سے بیان کیا کہ (جانور کی طرح) کے بجائے لفظ غلام کی طرح کا استعمال کیا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ}؛جلد؛٨ص١٥؛حدیث نمبر ٦٠٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع) کے موقع پر منیٰ میں فرمایا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا یہ حرمت والا دن ہے (پھر فرمایا) تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا یہ حرمت والا شہر ہے۔ (پھر فرمایا) تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا یہی حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر فرمایا بلاشبہ اللہ نے تم پر تمہارا (ایک دوسرے کا) خون، مال اور عزت اسی طرح حرام کیا ہے جیسے اس دن کو اس نے تمہارے اس مہینہ میں اور تمہارے اس شہر میں حرمت والا بنایا ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ}؛جلد؛٨ص١٥؛حدیث نمبر ٦٠٤٣)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔غندر نے بھی شعبہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما ینہی من السباب واللعن؛گالی دینا اور لعنت کرنے کی ممانعت؛جلد؛٨ص١٥؛حدیث نمبر ٦٠٤٤)
ابو الاسود الدیلمی کا بیان ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص دوسرے کو فسق کے ساتھ اور کفر کے ساتھ منسوب نہ کرے کیونکہ وہ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ بات اس کی طرف لوٹ آئے گی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما ینہی من السباب واللعن؛گالی دینا اور لعنت کرنے کی ممانعت؛جلد؛٨ص١٥؛حدیث نمبر ٦٠٤٥)
ہلال بن علی کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو،لعنت کرنے والے اور گالی دینے والے نہ تھے۔غصے میں بھی آپ صرف اتنا فرماتے کہ اسے کیا ہو گیا۔اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما ینہی من السباب واللعن؛گالی دینا اور لعنت کرنے کی ممانعت؛جلد؛٨ص١٥؛حدیث نمبر ٦٠٤٦)
ابوقلابہ نےحضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جو اصحاب شجر (بیعت رضوان کرنے والوں) میں سے تھے، انہوں نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے (کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں نصرانی ہوں، یہودی ہوں) تو وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کہ اس نے کہا اور کسی انسان پر ان چیزوں کی نذر صحیح نہیں ہوتی جو اس کے اختیار میں نہ ہوں اور جس نے دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کر لی اسے اسی چیز سے آخرت میں عذاب ہو گا اور جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی تو یہ اس کے خون کرنے کے برابر ہے اور جو ایمان والے پر کفر کا الزام لگایا تو وہ ایسا ہے جیسے اس کا خون کیا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما ینہی من السباب واللعن؛گالی دینا اور لعنت کرنے کی ممانعت؛جلد؛٨ص١٥؛حدیث نمبر ٦٠٤٧)
عدی بن ثابت نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں ایک دوسرے کو گالی دی ایک صاحب کو غصہ آ گیا اور بہت زیادہ آیا، ان کا چہرہ پھول گیا اور رنگ بدل گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر (غصہ کرنے والا شخص) اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ چنانچہ ایک صاحب نے جا کر غصہ ہونے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اور کہا شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ۔اس نے کہا؛کیا مجھ میں کوئی خرابی دیکھتے ہو؟کیا میں پاگل ہوں؟جاؤ چلے جاؤ۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما ینہی من السباب واللعن؛گالی دینا اور لعنت کرنے کی ممانعت؛جلد؛٨ص١٥؛حدیث نمبر ٦٠٤٨)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لیلۃ القدر کی بشارت دینے کے لیے حجرے سے باہر تشریف لائے، لیکن مسلمانوں کے دو آدمی اس وقت آپس میں کسی بات پر جھگڑتے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں (لیلۃ القدر کے متعلق) بتانے کے لیے نکلا تھا لیکن فلاں فلاں آپس میں لڑنے لگے جس کی وجہ سے یہ اجازت اٹھا لی گئی۔ ممکن ہے کہ یہی تمہارے لیے اچھا ہو۔ اب تم اسے 29 رمضان اور 27 رمضان اور 25 رمضان کی راتوں میں تلاش کرو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما ینہی من السباب واللعن؛گالی دینا اور لعنت کرنے کی ممانعت؛جلد؛٨ص١٦؛حدیث نمبر ٦٠٤٩)
معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے گا غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ (غلام بھی) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہئے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما ینہی من السباب واللعن؛گالی دینا اور لعنت کرنے کی ممانعت؛جلد؛٨ص١٦؛حدیث نمبر ٦٠٥٠)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لمبے ہاتھوں والا یا ایسا کلمہ نہ کہے جس سے کسی کی برائی کا ارادہ ہو۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا اس کے بعد سجدہ کے آگے ایک لکڑی پر سہارا لے کر کھڑے ہو گئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، حاضرین میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن یہ بھی بات کرنے سے خوف کرتے رہےاور جلدی کرنے والے مسجد سے باہر نکل گئے اور کہنے لگے کہ نماز کم ہوگئی حاضرین میں ایک صحابی تھے جنہیں آپ ذوالیدین (لمبے ہاتھوں والا) کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! نماز کی رکعات کم ہو گئیں ہیں یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعات کم ہوئیں ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ بھول گئے ہیں، چنانچہ آپ نے یاد کر کے فرمایا کہ ذوالیدین نے صحیح کہا ہے۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور دو رکعات اور پڑھائیں پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہہ کر سجدہ میں گئے، نماز کے سجدہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر پھر سجدہ میں گئے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ ذِكْرِ النَّاسِ نَحْوَ قَوْلِهِمُ الطَّوِيلُ وَالْقَصِيرُ؛لوگوں کا ذکر کس طرح کرنا چاہیے،لمبا یا ٹھگنا نہ کہے؛جلد؛٨ص١٦؛حدیث نمبر ٦٠٥١)
ارشاد ربانی ہے؛ترجمہ کنز الایمان؛اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھاے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔(الحجرات ١٢) طاؤس کا بیان ہےاور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں مردوں کو عذاب ہو رہا ہے اور یہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہیں ہیں بلکہ یہ (ایک قبر کا مردہ) اپنے پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا (یا پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کرتا تھا) اور یہ (دوسری قبر والا مردہ) چغل خور تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری شاخ منگائی اور اسے دو ٹکڑوں میں توڑ کر دونوں قبروں پر گاڑ دیا اس کے بعد فرمایا کہ جب تک یہ شاخیں سوکھ نہ جائیں اس وقت تک شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا رہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب الغیبۃ؛غیبت کا بیان؛جلد؛٨ص١٧؛حدیث نمبر ٦٠٥٢)
حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو نجار ہیں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ»؛جلد؛٨ص١٧؛حدیث نمبر ٦٠٥٣)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو،لیکن وہ قبیلہ کا برا بھائی یا برا بیٹا ہے جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو اس کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ ارشاد فرمایا اور پھر اس کے ساتھ نرم گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ!لوگوں میں سب سے برا وہ شخص ہے جسے لوگ اس کی بری باتوں کے سبب چھوڑ دیں یا ترک تعلق کر لیں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَجُوزُ مِنِ اغْتِيَابِ أَهْلِ الْفَسَادِ وَالرِّيَبِ؛فسادیوں اور مشکوک لوگوں کی غیبت جائز ہے؛جلد؛٨ص١٧؛حدیث نمبر ٦٠٥٤)
مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک باغ کی طرف تشریف لے گئے تو آپ نے دو (مردہ) انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے انہیں عذاب نہیں ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک شخص پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سبز ٹہنی منگوائی اور اسے دو حصوں میں توڑا اور ایک ٹکڑا ایک کی قبر پر اور دوسرا دوسرے کی قبر پر گاڑ دیا۔ پھر فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی ان کے عذاب میں کمی ہوتی رہے گی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ النمیمۃ من الکبائر؛چغلی کبیرہ گناہوں میں سے ہے؛٨ص١٧؛حدیث نمبر ٦٠٥٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛بہت طعنے دینے والا بہت ادھر کی ادھر لگاتا پھرنے والا(القلم١١) اور فرمایا؛خرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے۔(الھمزہ ١) ہمام کا بیان ہے کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو ان سے کہا گیا کہ ایک شخص فلاں حدیث کا رفع حضرت عثمان تک پیش کرتا ہے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ ما یکرہ من النمیمۃ؛چغلخور کی برائی؛٨ص١٧؛حدیث نمبر ٦٠٥٦)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور بچو جھوٹی بات سے"(الحج ٣٠) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو روزہ دار جھوٹی بات، اس کے مطابق جھوٹے کام اور جاہلانہ حرکات نہ چھوڑے تو اس کا کھانا پینا چھوڑنے کی اللہ تعالیٰ کو کوئی حاجت نہیں ہے۔ امام احمد کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے مجھے اس کی سند سمجھائی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ}؛٨ص١٧؛حدیث نمبر ٦٠٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛تم بروز قیامت دوغلی بات کرنے والے کو اللہ کے نزدیک تمام لوگوں سے برا دیکھو گے،جو ایک کے منہ پر کچھ کہتا ہے اور دوسرے کے منہ پر کچھ اور۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَا قِيلَ فِي ذِي الْوَجْهَيْنِ؛دوغلی بات کرنے والے کے بارے میں؛٨ص١٨؛حدیث نمبر ٦٠٥٨)
ابو وائل نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تقسیم فرمایا تو انصار میں سے ایک ایک آدمی نے کہا کہ اس تقسیم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رضاے الٰہی کو پیش نظر نہیں رکھا۔پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی آپ کو خبر دی تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے جنہیں اس سے زیادہ اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ أَخْبَرَ صَاحِبَهُ بِمَا يُقَالُ فِيهِ؛کسی کی بات اپنے ساتھی کو بتا دینا؛٨ص١٨؛حدیث نمبر ٦٠٥٩)
ابو بردہ نے اپنے والد ماجد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ دوسرے کی تعریف میں مبالغہ کر رہا ہے پس آپ نے فرمایا کہ اسے تم نے ہلاک کردیا تم نے اس کی کمر توڑ دی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ ما یکرہ من التمادح؛کون سی تعریف ناپسندیدہ ہے؛٨ص١٨؛حدیث نمبر ٦٠٦٠)
عبدالرحمٰن بن ابو بکرہ نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے ان کی مبالغہ سے تعریف کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار فرمایا، اگر تمہارے لیے کسی کی تعریف کرنی ضروری ہو تو کہے کہ میرے خیال میں وہ ایسا ہے جبکہ جانتا ہو کہ واقعی وہ ایسا ہے اور حساب لینے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پاک نہ بناؤ۔ اور وہیب نے اسی سند کے ساتھ خالد سے یوں روایت کی ارے تیری خرابی تو نے اس کی گردن کاٹ ڈالی یعنی لفظ «ويحك» کے بجائے لفظ «ويلك» بیان کیا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ ما یکرہ من التمادح؛کون سی تعریف ناپسندیدہ ہے؛٨ص١٨؛حدیث نمبر ٦٠٦١)
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے متعلق جو زمین پر چلتا پھرتا ہو، یہ کہتے نہیں سنا کہ یہ جنتی ہے سوا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے۔ سالم نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ازار لٹکانے کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا جب آپ نے فرمایا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا ازارایک طرف سے لٹکنے لگتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان تکبر کرنے والوں میں سے نہیں ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ أَثْنَى عَلَى أَخِيهِ بِمَا يَعْلَمُ؛اپنے بھائی کی ایسی تعریف کرنا جو معلوم ہے؛٨ص١٨؛حدیث نمبر ٦٠٦٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔(النحل،٩٠)نیز فرمایا؛تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے۔(یونس،٢٣)پھر اس پر زیادتی کی جائے تو بے شک اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔(الحج،٦٠)فساد کو بھڑکنے سے روکنا خواہ مسلمان کے خلاف ہو یا کافر کے۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند دن اسی کیفیت میں رہے کہ آپ کو خیال گزرتا کہ میں فلاں زوجہ کے پاس سے آیا ہوں حالانکہ ان کے پاس سے آے نہ ہوتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک دن فرمایا، عائشہ! میں نے اللہ تعالیٰ سے ایک معاملہ میں سوال کیا تھا اور اس نے وہ بات مجھے بتلا دی، دو فرشتے میرے پاس آئے، ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا سر کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اس سے کہا کہ جو میرے سر کے پاس تھا ان صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پوچھا، کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے، پوچھا، کس چیز میں کیا ہے، جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں، اس کے اندر کنگھی ہے اور کتان کے تار ہیں۔ اور یہ ذروان کے کنویں میں ایک چٹان کے نیچے دبا دیا ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا تھا۔ اس کے باغ کے درختوں کے پتے سانپوں کے پھن جیسے ڈراؤنے معلوم ہوتے ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑے ہوئے پانی کی طرح سرخ تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ جادو نکالا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہیں، ان کی مراد یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو شہرت کیوں نہ دی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے شفاء دے دی ہے اور میں ان لوگوں میں خواہ مخواہ برائی کے پھیلانے کو پسند نہیں کرتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لبید بن اعصم یہود کے حلیف بنی زریق سے تعلق رکھتا تھا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ أَثْنَى عَلَى أَخِيهِ بِمَا يَعْلَمُ؛اپنے بھائی کی ایسی تعریف کرنا جو معلوم ہے؛٨ص١٨؛حدیث نمبر ٦٠٦٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے"(الفلق،٥) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو، آپس میں حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، اے اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يُنْهَى عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ؛حسد اور پیٹھ پیچھے باتوں سے روکا گیا ہے؛٨ص١٩؛حدیث نمبر ٦٠٦٤)
زہری نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق رکھے۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يُنْهَى عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ؛حسد اور پیٹھ پیچھے باتوں سے روکا گیا ہے؛٨ص١٩؛حدیث نمبر ٦٠٦٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو۔(الحجرات،١٢) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولو اور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو اے اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلاَ تَجَسَّسُوا}؛٨ص١٩؛حدیث نمبر ٦٠٦٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں اور فلاں ہمارے دین کی کوئی بات نہیں جانتے ہیں۔“ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ یہ دونوں آدمی منافق تھے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَكُونُ مِنَ الظَّنِّ؛کیسا گمان کیا جاسکتا ہے؛٨ص١٩؛حدیث نمبر ٦٠٦٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے عائشہ!میں یہ گمان نہیں کرتا کہ فلاں فلاں ہمارے دین کے متعلق جس پر ہم ہیں کچھ جانتے ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَكُونُ مِنَ الظَّنِّ؛کیسا گمان کیا جاسکتا ہے؛٨ص١٩؛حدیث نمبر ٦٠٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ سَتْرِ الْمُؤْمِنِ عَلَى نَفْسِهِ؛مؤمن اپنے گناہ چھپائے؛٨ص٢٠؛حدیث نمبر ٦٠٦٩)
صفوان بن محرز کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے؟انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے (قیامت کے دن تم مسلمانوں) میں سے ایک شخص (جو گنہگار ہو گا) اپنے پروردگار سے نزدیک ہو جائے گا۔ پروردگار اپنا دست قدرت اس پر رکھ دے گا اور فرمائے گا تو نے (فلاں دن دنیا میں) یہ یہ برے کام کئے تھے، وہ عرض کرے گا۔ بیشک (پروردگار مجھ سے خطائیں ہوئی ہیں پر تو غفور رحیم ہے) غرض (سارے گناہوں کا) اس سے (پہلے) اقرار کرا لے گا پھر فرمائے گا دیکھ میں نے دنیا میں تیرے گناہ چھپائے رکھے تو آج میں ان گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ سَتْرِ الْمُؤْمِنِ عَلَى نَفْسِهِ؛مؤمن اپنے گناہ چھپائے؛٨ص٢٠؛حدیث نمبر ٦٠٧٠)
مجاہد کا قول ہے کہ"ثانی عطفہ" اپنے آپ کو بڑا سمجھنا۔عطفہ اس کی گردن۔ حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنتیوں کی خبر نہ دوں۔ ہر کمزور و تواضع کرنے والا اگر وہ (اللہ کا نام لے کر) قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں ہر تند خو، اکڑ کر چلنے والا اور متکبر۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْكِبْرِ؛تکبر کے بارے میں؛٨ص٢٠؛حدیث نمبر ٦٠٧١)
حمید الطویل کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ طیبہ کی لونڈیوں میں سے اگر کوئی لونڈی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہات پکڑ کر کہی لے جانا چاہتی تو لے جا سکتی تھی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْكِبْرِ؛تکبر کے بارے میں؛٨ص٢٠؛حدیث نمبر ٦٠٧٢)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑے رکھے۔ ابن الحارث جو والدہ کی طرف سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے ان کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کسی بیع یا اس عطیہ کے متعلق کہا جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کسی کو دیا تھا کہ اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان باتوں سے نہ رکیں تو میں ان سے ترک تعلق کر لوں گا۔ام المؤمنین نے کہا کیا اس نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں۔ فرمایا پھر میں اللہ سے نذر کرتی ہوں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اب کبھی نہیں بولوں گی۔ اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا۔ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی (کہ انہیں معاف فرما دیں) ام المؤمنین نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں مانوں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطعی تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گئی تو انہوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہم سے اس سلسلے میں بات کی وہ دونوں بنی زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلو دو کیونکہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی قسم کھائیں چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس میں ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا ہم سب؟ کہا ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ میں گھس گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے (کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو اللہ کا واسطہ دینے لگے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بولیں اور انہیں معاف کر دیں ان حضرات نے یہ بھی عرض کیا کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلق توڑنے سے منع کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق رکھےجب انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سمجھانے اور اصرار کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تو ام المؤمنین بھی انہیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو قسم کھا لی ہے؟ اور قسم کا معاملہ سخت ہے لیکن یہ بزرگ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم (توڑنے) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کئے۔ اس کے بعد جب بھی آپ یہ قسم یاد کرتیں تو رونے لگتیں اور آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الھجرۃ؛قطع کلام؛٨ص٢٠؛حدیث نمبر ٦٠٧٣ و حدیث نمبر ٦٠٧٤ و حدیث نمبر ٦٠٧٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو،اے اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت بند کرے۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْھجرۃ؛٨ص٢١؛حدیث نمبر ٦٠٧٦)
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْھجرۃ؛٨ص٢١؛حدیث نمبر ٦٠٧٧)
حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ تبوک میں) شریک نہیں ہوئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا اور آپ نے پچاس دن کا تذکرہ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو پہچان لیتا ہوں ۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کس طرح سے پہچانتے ہیں؟ فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو کہتی ہو، ہاں محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: جی ہاں , آپ کا فرمانا بالکل صحیح ہے میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ ما یجوز من الھجران لمن عصی؛نافرمانی کرنے والے سے قطع تعلق؛٨ص٢١؛حدیث نمبر ٦٠٧٨)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین کی دولت دین سے سرفراز پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں، ایک دن ابوبکر رضی اللہ عنہ (والد ماجد) گھر میں بھری دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، یہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا معمول نہیں تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہو سکتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ هَلْ يَزُورُ صَاحِبَهُ كُلَّ يَوْمٍ أَوْ بُكْرَةً وَعَشِيًّا؛کیا دوست کے ساتھ روزانہ صبح و شام ملا کرے؛٨ص٢١؛حدیث نمبر ٦٠٧٩)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے گئے اور ان کے ہاں کھانا کھایا۔ انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے مکان میں رونق افروز ہوئے اور ان کے پاس کھانا تناول فرمایا۔جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو گھر والوں کو کچھ جگہ صاف کرنے کا حکم فرمایا۔چناچہ وہاں پانی چھڑک کر فرش بچھا دیا گیا۔پس آپ نے اس پر نماز پڑھی اور ان کے دعا کی۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الزِّيَارَةِ وَمَنْ زَارَ، قَوْمًا فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ؛ملنے جانا اور ان کے گھر کھانا کھانا؛٨ص٢٢؛حدیث نمبر ٦٠٨٠)
ابو اسحاق نے،کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے پوچھا کہ «إستبرق» کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ دیباج سے بنا ہوا دبیز اور کھردرا کپڑا پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو استبرق کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے آپ خرید لیں اور وفد جب آپ سے ملاقات کے لیے آئیں تو ان کی ملاقات کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ریشم تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو خیر اس بات پر ایک مدت گزر گئی پھر ایسا ہوا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں ایک جوڑا بھیجا تو وہ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں آپ اس سے پہلے ایسا ارشاد فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ (بیچ کر) مال حاصل کرو۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی حدیث کی وجہ سے کپڑے میں (ریشم کے) بیل بوٹوں کو بھی مکروہ جانتے تھے۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ تَجَمَّلَ لِلْوُفُودِ؛وفود کے لئے آرائش اختیار کرنا؛٨ص٢٢؛حدیث نمبر ٦٠٨١)
اور ابوجحیفہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابودرداء کو بھائی بھائی بنا دیا تھا اور عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ منورہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارگی کرائی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ہمارے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور سعد بن ربیع میں بھائی چارگی کرائی تو پھر (جب عبدالرحمٰن بن عوف نے نکاح کیا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کر خواہ ایک بکری کا ہو۔ بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الإخاء والحلف؛٨ص٢٢؛حدیث نمبر ٦٠٨٢)
عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام میں معاہدہ(حلف) کی کوئی اصل نہیں؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے درمیان میرے گھر میں حلف کرائی تھی۔ (بخاری شریف کتاب الادب، بَابُ الإِخَاءِ وَالحِلْفِ،حدیث نمبر ٦٠٨٣)
اور فاطمہ علیہا السلام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے مجھ سے ایک بات کہی تو میں ہنس دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ ہی ہنساتا ہے اور رلاتا ہے۔ عروہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور جب طلاق کی مدت پوری ہوگئی تواس کے بعد ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نکاح کر لیا، لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے طلاق دے دی حتیٰ کہ تینوں طلاقیں پوری ہوگئیں۔پھر مجھ سے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نکاح کر لیا، لیکن اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مراد یہ کہ وہ نامرد ہیں) اور انہوں نے اپنے چادر کا پلو پکڑ کر بتایا (راوی نے بیان کیا کہ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سعید بن العاص کے لڑکے خالد حجرہ کے دروازے پر تھے اور اندر داخل ہونے کی اجازت کے منتظر تھے۔ خالد بن سعید اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دے کر کہنے لگے کہ آپ اس عورت کو ڈانتے نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح کی بات کہتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ پھر فرمایا، غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک تم ان کا (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کا) مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٢؛حدیث نمبر ٦٠٨٤)
محمد بن سعد اپنےوالد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی کئی بیویاں جو قریش سے تعلق رکھتی تھیں آپ سے عطیات،عطیات میں اضافہ کیا جائے اور اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ جلدی سے بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ داخل ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ آپ کو خوش رکھے، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر مجھے حیرت ہوئی، جو ابھی میرے پاس تقاضا کر رہی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے، پھر عورتوں کو مخاطب کر کے انہوں نے کہا، اپنی جانوں کی دشمن! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو او اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی تمہیں راستے پر آتا ہوا دیکھے گا تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چل دے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٣؛حدیث نمبر ٦٠٨٥)
ابو العباس کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند «خبر.» کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٣؛حدیث نمبر ٦٠٨٦)
حمید بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں تو تباہ ہو گیا اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں (روزہ کی حالت میں) ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس کوئی غلام نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے روزے رکھ۔ انہوں نے عرض کیا: اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ «عرق» ایک طرح کا ایک پیمانہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ لو اسے صدقہ کر دینا۔ انہوں نے عرض کی کیا اپنے سے زیادہ غریبوں کو؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے حتیٰ کہ دندان مبارک نظر آنے لگے،اس کے بعد فرمایا کہ پھر تو تم خود ان کے مستحق ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٣؛حدیث نمبر ٦٠٨٧)
اسحاق بن عبداللہ ابن ابو طلحہ کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ کے جسم پر ایک نجرانی چادر تھی، جس کا حاشیہ موٹا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانے کو دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے، اس پر نشان پڑ گئے۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم فرمایئے۔ اس وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مڑ کر دیکھا تو آپ مسکرا دیئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دینے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٤؛حدیث نمبر ٦٠٨٨)
قیس کا بیان ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے پاس آنے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی میں نے آپ کو دیکھا تو چہرہ انور کو مسکراتا ہی دیکھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٤؛حدیث نمبر ٦٠٨٩)
اور ایک مرتبہ میں نے آپ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح نہیں بیٹھ سکتا تو آپ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور کہا۔اے اللہ!اسے ٹھہرا دے اور اس کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٤؛حدیث نمبر ٦٠٩٠)
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے،حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ اظہار حق سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب عورت پانی دیکھے (تو اس پر غسل واجب ہے) اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہنسیں اور عرض کیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بچہ کی صورت ماں سے کیوں ملتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٤؛حدیث نمبر ٦٠٩١)
سلیمان بن یسار کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کھل کر کبھی ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق مبارک نظر آنے لگتاآپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف تبسم تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٤؛حدیث نمبر ٦٠٩٢)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے عرض کیا بارش کا قحط پڑ گیا ہے، آپ اپنے رب سے بارش کی دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا کہیں ہمیں بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر آپ نے بارش کی دعا کی، اتنے میں بادل اٹھا اور بعض ٹکڑے بعض کی طرف بڑھے اور بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ مدینہ کے نالے بہنے لگے۔ اگلے جمعہ تک اسی طرح بارش ہوتی رہی سلسلہ ٹوٹتا ہی نہ تھا چنانچہ وہی صاحب یا کوئی دوسرے (اگلے جمعہ کو) کھڑے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے عرض کیا: ہم ڈوب گئے، اپنے رب سے دعا کریں کہ اب بارش بند کر دے۔چناچہ آپ تبسم فرماے اور دعا کی، اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔ دو یا تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، چنانچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹنے لگے، بائیں اور دائیں، ہمارے چاروں طرف دوسرے مقامات پر بارش ہونے لگی اور ہمارے یہاں بارش یکدم بند ہو گئی۔یونہی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی برکت اور ان کی قبولیت دعا دکھاتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّبَسُّمِ وَالضَّحِكِ؛٨ص٢٤؛حدیث نمبر ٦٠٩٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور سچو کے ساتھ ہوجاؤ(سورہ توبہ،١١٩)اور جسے جھوٹ سے منع کیا گیا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق ہو جاتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} وَمَا يُنْهَى عَنِ الْكَذِبِ؛٨ص٢٥؛حدیث نمبر ٦٠٩٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} وَمَا يُنْهَى عَنِ الْكَذِبِ؛٨ص٢٥؛حدیث نمبر ٦٠٩٥)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں نے دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آکر کہنے لگے کہ جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا وہ بڑا ہی جھوٹا تھا،ایسی جھوٹی بات کہتا تھا کہ اس کا جھوٹ عالم میں پھیل جاتا تھا، قیامت تک اس کو یہی سزا ملتی رہے گی۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} وَمَا يُنْهَى عَنِ الْكَذِبِ؛٨ص٢٥؛حدیث نمبر ٦٠٩٦)
شقیق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ بلاشبہ سب لوگوں سے انداز و اطوار و عادات کے لحاظ سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ابن ام عبد(عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں)۔جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتے اور اس کے بعد دوبارہ اپنے گھر واپس آنے تک ان کا یہی حال رہتا ہے لیکن جب وہ اکیلے گھر میں رہتے تو معلوم نہیں کیا کرتے رہتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابٌ في الْهَدْيِ الصَّالِحِ؛نیک اطوار؛٨ص٢٥؛حدیث نمبر ٦٠٩٧)
طارق کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔بیشک سب سے بہترین کلام اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین اطوار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات و اطوار ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابٌ في الْهَدْيِ الصَّالِحِ؛نیک اطوار؛٨ص٢٥؛حدیث نمبر ٦٠٩٨)
ترجمہ کنز الایمان؛صابروں ہی کو ان کا ثواب بھر پور دیا جائے گا بے گنتی۔(الزمر، ١٠) ابوعبدالرحمٰن سلمی نے،حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کہ کوئی آدمی ایسا نہیں یا کوئی چیز ایسی نہیں کہ اذیت ناک بات سنے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ حلم والا ہو۔لوگ اس کے لیے بیٹا قرار دیتے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے در گزر فرماتا ہے اور انہیں روزی دیتا رہتاہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الصَّبْرِ عَلَى الأَذَى؛اذیت پر صبر؛٨ص٢٥؛حدیث نمبر ٦٠٩٩)
شقیق کا بیان ہے کہ ےعبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ حنین) میں کچھ مال تقسیم کیا جیسا کہ آپ ہمیشہ تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس پر قبیلہ انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم!اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ میں نے کہا کہ یہ بات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہوں گا۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے، میں نے چپکے سے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ ناراض ہو گئے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر نہ دی ہوتی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الصَّبْرِ عَلَى الأَذَى؛اذیت پر صبر؛٨ص٢٥؛حدیث نمبر ٦١٠٠)
مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کا نہ کرنا اچھا جانا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں، جو میں کرتا ہوں، اللہ کی قسم میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَنْ لَمْ يُوَاجِهِ النَّاسَ بِالْعِتَابِ؛جو غصے کے سبب لوگوں کی جانب متوجہ نہ ہو؛٨ص٢٦؛حدیث نمبر ٦١٠١)
عبداللہ یعنی ابن ابی عتبہ مولیٰ انس نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشیں کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ با حیا تھے، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم آپ کے چہرے مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَنْ لَمْ يُوَاجِهِ النَّاسَ بِالْعِتَابِ؛جو غصے کے سبب لوگوں کی جانب متوجہ نہ ہو؛٨ص٢٦؛حدیث نمبر ٦١٠٢)
ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی سے کہے،اے کافر!تو ایک ان میں سے کافر ہوتا ہے۔اور عکرمہ بن عمار نے یحییٰ سے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن یزید نے کہا، انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ كَفَّرَ أَخَاهُ بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ فَهْوَ كَمَا قَالَ؛جو اپنے بھائی کو بغیر تاویل کافر کہے تو وہ خود اسی کے مطابق ہے جو کہا؛٨ص٢٦؛حدیث نمبر ٦١٠٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے بھی اپنے کسی مسلمان بھائی کو کہا کہ اے کافر!تو وہ کفر ان میں سے ایک کی طرف ضرور لوٹے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ كَفَّرَ أَخَاهُ بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ فَهْوَ كَمَا قَالَ؛جو اپنے بھائی کو بغیر تاویل کافر کہے تو وہ خود اسی کے مطابق ہے جو کہا؛٨ص٢٦؛حدیث نمبر ٦١٠٤)
ابوقلابہ نے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے کہنے کے مطابق ہے اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کر لی تو اسے جہنم میں اسی سے عذاب دیا جائے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اسے قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اس کے قتل کے برابر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ كَفَّرَ أَخَاهُ بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ فَهْوَ كَمَا قَالَ؛جو اپنے بھائی کو بغیر تاویل کافر کہے تو وہ خود اسی کے مطابق ہے جو کہا؛٨ص٢٦؛حدیث نمبر ٦١٠٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حاطب کے لیے کہا کہ وہ منافق ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم،اللہ تعالیٰ نے ہر بات سے خبردار ہوتے ہوئے اہل بدر سے فرمایا کہ میں نے تمہاری مغفرت فرما دی۔ عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔ انہوں نے (ایک مرتبہ) نماز میں سورۃ البقرہ پڑھی۔ اس پر ایک صاحب جماعت سے الگ ہو گئے اور ہلکی نماز پڑھی۔ جب اس کے متعلق معاذ کو معلوم ہوا تو کہا وہ منافق ہے۔ معاذ کی یہ بات جب ان کو معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ محنت کا کام کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو خود پانی پلاتے ہیں معاذ نے کل رات ہمیں نماز پڑھائی اور سورۃ البقرہ پڑھنی شروع کر دی۔ اس لیے میں نماز توڑ کر الگ ہو گیا، اس پر انہوں نے گمان کیا کہ میں منافق ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتے ہو، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا (جب امام ہو تو) سورۃ «اقرأ»، «والشمس وضحاها» اور «سبح اسم ربک الاعلی"جیسی سورتیں پڑھا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ إِكْفَارَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مُتَأَوِّلاً أَوْ جَاهِلاً؛جو تکفیر کرنے والے کو تاویل یا بے خبری کے سبب کافر نہ کہے؛٨ص٢٦؛حدیث نمبر ٦١٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جس نے لات، عزیٰ کی قسم کھائی تو اسے «لا إله إلا الله.» پڑھنا چاہیئے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے بطور کفارہ صدقہ دینا چاہیئے۔“۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ إِكْفَارَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مُتَأَوِّلاً أَوْ جَاهِلاً؛٨ص٢٧؛حدیث نمبر ٦١٠٧)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکار کر کہا، خبردار! یقیناً اللہ پاک تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ کی قسم کھاؤ، پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے تو اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ إِكْفَارَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مُتَأَوِّلاً أَوْ جَاهِلاً؛٨ص٢٧؛حدیث نمبر ٦١٠٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر"(التوبہ؛٧٣) محمد بن قاسم نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس وقت گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ نے پردہ پکڑا اور اسے پھاڑ دیا۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ان لوگوں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا، جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشِّدَّةِ لأَمْرِ اللَّهِ؛اللہ کے حکم میں غضب اور شدت جائز ہے؛٨ص٢٧؛حدیث نمبر ٦١٠٩)
قیس بن ابی حازم کا بیان ہے کہ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں صبح کی نماز جماعت سے فلاں آدمی کی وجہ سے نہیں پڑھتا کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔راوی فرماتے ہیں میں نے دوران وعظ اس دن سے زیادہ حالت غضب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ (نماز باجماعت پڑھنے سے) لوگوں کو دور کرنے والے ہیں، پس جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے مختصر پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کوئی بیمار ہوتا ہے کوئی بوڑھا کوئی حاجت مند۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشِّدَّةِ لأَمْرِ اللَّهِ؛اللہ کے حکم میں غضب اور شدت جائز ہے؛٨ص٢٧؛حدیث نمبر ٦١١٠)
نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم دیکھی۔ پھر آپ نے اسے اپنے دست مبارک سے خرچ دیااور فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشِّدَّةِ لأَمْرِ اللَّهِ؛اللہ کے حکم میں غضب اور شدت جائز ہے؛٨ص٢٧؛حدیث نمبر ٦١١١)
یزید مولی منبعث نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ (راستہ میں گری پڑی چیز جسے کسی نے اٹھا لیا ہو) کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سال بھر لوگوں سے پوچھتے رہو پھر اس کی مہر اور ظرف پہچان کے رکھ اور خرچ کر ڈال۔ پھر اگر اس کے بعد اس کا مالک آ جائے تو وہ چیز اسے آپس کر دے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! بھولی بھٹکی بکری کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لا کیونکہ وہ تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑیئے کی ہے ۔عرض کیا : یا رسول اللہ! اور کھویا ہوا اونٹ؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے، یا راوی نے یوں کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا کہ تمہیں اس اونٹ سے کیا غرض ہے اس کا کھانا پینا اس کے ساتھ ہے حتیٰ کہ اس کا مالک اسے پا لے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشِّدَّةِ لأَمْرِ اللَّهِ؛اللہ کے حکم میں غضب اور شدت جائز ہے؛٨ص٢٧؛حدیث نمبر ٦١١٢)
بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخوں یا بوریئے سے ایک مکان چھوٹے سے حجرے کی طرح بنا لیا تھا۔ وہاں آ کر آپ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے، چند لوگ بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی پھر سب لوگ دوسری رات بھی آ گئے اور ٹھہرے رہے لیکن آپ گھر ہی میں رہے اور باہر ان کے پاس تشریف نہیں لائے۔ لوگ آواز بلند کرنے لگے اور دروازے پر کنکریاں ماریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا اگر تم مسلسل اسی طرح میرے پیچھے نماز پڑھتے رہے تو میرے گمان میں یہ بھی تم پر فرض ہوجائے گی۔لہٰذا تمہیں چاہیے کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ انسان کی بہتر نماز گھر میں ہے سوائے فرض نماز کے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشِّدَّةِ لأَمْرِ اللَّهِ؛اللہ کے حکم میں غضب اور شدت جائز ہے؛٨ص٢٨؛حدیث نمبر ٦١١٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ اے معاف کر دیتے ہیں۔(الشوریٰ٣٧)اور فرمایا؛جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اورغصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔(آل عمران ١٣٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے بے قابو نہ ہو جائے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْحَذَرِ مِنَ الْغَضَبِ؛غصے سے بچنا؛٨ص٢٨؛حدیث نمبر ٦١١٤)
عدی بن ثابت کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جھگڑا کیا، ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص دوسرے کو غصہ کی حالت میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے۔ اگر یہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» کہہ لے۔ صحابہ نے اس سے کہا کہ سنتے نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ میں پاگل نہیں ہوں؟ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْحَذَرِ مِنَ الْغَضَبِ؛غصے سے بچنا؛٨ص٢٨؛حدیث نمبر ٦١١٥)
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْحَذَرِ مِنَ الْغَضَبِ؛غصے سے بچنا؛٨ص٢٨؛حدیث نمبر ٦١١٦)
ابو السورا عدوی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمران بن حصین کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حیاء سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔“ اس پر بشیر بن کعب نے کہا کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقار حاصل ہوتا ہے، حیاء سے دل کا سکون حاصل ہوتی ہے۔ عمران نے ان سے کہا میں تجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تم مجھے اپنی کتاب سے سنا رہے ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب الحیاء؛حیاء کا بیان؛٨ص٢٩؛حدیث نمبر ٦١١٧)
سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر سے ہوا جو اپنے بھائی پر حیاء کی وجہ سے ناراض ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم بہت شرماتے ہو، گویا وہ کہہ رہا تھا کہ تم اس کی وجہ سے اپنا نقصان کر لیتے ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کہ حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب الحیاء؛حیاء کا بیان؛٨ص٢٩؛حدیث نمبر ٦١١٨)
عبد اللہ بن ابی عتبہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشیں کنواری لڑکی سے بھی زیادہ با حیا تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب الحیاء؛حیاء کا بیان؛٨ص٢٩؛حدیث نمبر ٦١١٩)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کلام نبوت سے جو پہلے بات لوگوں تک پہنچی وہ یہی ہے کہ جب تیرے پاس شرم و حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ؛جب حیاء نہ ہو تو جو چاہو کرو؛٨ص٢٩؛حدیث نمبر ٦١٢٠)
زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر عورت منی کی تری دیکھے تو اس پر بھی غسل واجب ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَا لاَ يُسْتَحْيَا مِنَ الْحَقِّ لِلتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ؛دینی بات سمجھنے میں حیا نہ کرے؛٨ص٢٩؛حدیث نمبر ٦١٢١)
محارب بن دثار کا بیان ہے فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کی مثال اس سرسبز درخت کے مثل ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے۔ صحابہ نے کہا کہ یہ فلاں درخت ہے، یہ فلاں درخت ہے۔ میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن چونکہ میں نوجوان تھا، اس لیے مجھ کو بولتے ہوئے حیاء آئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ اور اسی سند سے شعبہ سے روایت ہے کہ کہا ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ پھر میں نے اس کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہوتی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَا لاَ يُسْتَحْيَا مِنَ الْحَقِّ لِلتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ؛دینی بات سمجھنے میں حیا نہ کرے؛٨ص٢٩؛حدیث نمبر ٦١٢٢)
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا اور عرض کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے نکاح کی ضرورت ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بولیں، وہ کتنی بےحیا تھی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ تم سے تو اچھی تھیں انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَا لاَ يُسْتَحْيَا مِنَ الْحَقِّ لِلتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ؛دینی بات سمجھنے میں حیا نہ کرے؛٨ص٢٩؛حدیث نمبر ٦١٢٣)
اور آپ لوگوں کے لئے تخفیف اور آسانی کو پسند فرماتے تھے۔ ابو بردہ کا بیان ہے کہ ان کے والد ماجد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور معاذ بن جبل کو (یمن) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ (لوگوں کے لیے) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا،نفرت نہ دلانا اور تعاون کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «بتع» کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «مزر.» کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آسانی اختیار کرو دشواری کو نہیں؛٨ص٣٠؛حدیث نمبر ٦١٢٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛آسانی کرو،دشواری نہیں لوگوں کو اطمینان دلاؤ نفرت نہ دلاؤ۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آسانی اختیار کرو دشواری کو نہیں؛٨ص٣٠؛حدیث نمبر ٦١٢٥)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ ان میں آسان چیزوں کو اختیار فرمایا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہوتا۔ اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ اگر کوئی شخص اللہ کی حرمت و حد کو توڑتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے بدلہ لیتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آسانی اختیار کرو دشواری کو نہیں؛٨ص٣٠؛حدیث نمبر ٦١٢٦)
حماد بن زید کا بیان ہے کہ ازرق بن قیس نے فرمایا کہ ہم اہواز نامی ایرانی شہر میں ایک نہر کے کنارے تھے جو خشک پڑی تھی، پھر ابوبرزہ اسلمی صحابی گھوڑے پر تشریف لائے اور نماز پڑھی اور گھوڑا چھوڑ دیا۔ گھوڑا بھاگنے لگا تو آپ نے نماز توڑ دی اور اس کا پیچھا کیا، آخر اس کے قریب پہنچے اور اسے پکڑ لیا۔ پھر واپس آ کر نماز ادا کی،ہم میں ایک شخص نکتہ چیں تھا، وہ کہنے لگا کہ اس بوڑھے کو دیکھو اس نے گھوڑے کے لیے نماز توڑ ڈالی۔ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو کر آئے اور کہا جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں، کسی نے مجھ کو ملامت نہیں کی اور انہوں نے کہا کہ میرا گھر یہاں سے دور ہے، اگر میں نماز پڑھتا رہتا اور گھوڑے کو بھاگنے دیتا تو اپنے گھر رات تک بھی نہ پہنچ پاتا اور انہوں نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسان صورتوں کو اختیار کرتے دیکھا ہے۔(بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آسانی اختیار کرو دشواری کو نہیں؛٨ص٣٠؛حدیث نمبر ٦١٢٧ )
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اس کی طرف مارنے کو بڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی کا ایک ڈول یا ایک چرس پانی بہا دو کیونکہ تمہیں آسانی پیدا کرنے والا بنایا گیا ہے سختی کرنے والا نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آسانی اختیار کرو دشواری کو نہیں؛٨ص٣٠؛حدیث نمبر ٦١٢٨)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ دین کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگوں سے گھل مل کر رہو اور اہل خانہ کے ساتھ ان سے کنارہ کشی نہ کرو۔ ابو التیاح کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ملنے کے لیے ہمارے پاس تشریف لاتے تو ہم میں خوب گھل مل جاتے حتیٰ کہ میرے چھوٹے بھائی ابو عمیر سے فرماتے کہ نغیر کا کیا کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الاِنْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ؛لوگوں سے مسرت کے ساتھ ملنا؛٨ص٣٠؛حدیث نمبر ٦١٢٩)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی رہتی اور میری سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ اندر چھپ جاتیں۔آپ انہیں نکال کر میرے پاس لاتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الاِنْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ؛لوگوں سے مسرت کے ساتھ ملنا؛٨ص٣١؛حدیث نمبر ٦١٣٠)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ بعض لوگوں کی ہم خاطر داری کرتے حالانکہ ہمارے دل ان پر لعنت کرتے۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بلا لو، یہ قبیلے کا برا بیٹا یا قبیلے کا برا بھائی ہے۔ جب وہ شخص اندر آ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!آپ نے پہلے تو ایسا فرمایا پھر اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے عائشہ!اللہ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے وہ شخص سب سے برا ہے جسے لوگ اس کی بدخلقی کی وجہ سے چھوڑ دیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْمُدَارَاةِ مَعَ النَّاسِ؛لوگوں سے خاطر داری برتنا؛٨ص٣١؛حدیث نمبر ٦١٣١)
ایوب نے حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں دیباج کی چند قبائیں آئیں، ان میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبائیں اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیں اور مخرمہ کے لیے باقی رکھی، جب وہ حاضر خدمت ہوے تو فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لئے رکھ لی تھی۔ایوب راوی کا بیان ہے کہ کپڑے میں چھپا کر صرف انہیں کو دکھائی اور یہ بھی آپ کے اخلاق میں سے ہے۔ابن ابی ملیکہ نے حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چند قبائیں پیش کی گئیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْمُدَارَاةِ مَعَ النَّاسِ؛لوگوں سے خاطر داری برتنا؛٨ص٣١؛حدیث نمبر ٦١٣٢)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تجربہ کاری دانا ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لاَ يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ؛ترجمہ؛مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا؛٨ص٣١؛حدیث نمبر ٦١٣٣)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا، کیا یہ میری خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے رہتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں یہ صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، عبادت بھی کرو اور سو بھی، روزے بھی رکھو اور بلا روزے بھی رہو، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے،تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے،قریب ہے کہ تم لمبی عمر کو پاؤ، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ ہر مہینہ میں تین روزے رکھو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گناہ ملتا ہے، اس طرح زندگی بھر کا روزہ ہوگا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں سخت عبادت کا عادی ہوچکا تھااس لیے عرض کی کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہر ہفتے تین روزہ رکھا کر، بیان کیا کہ میں نے اس میں اضافہ چاہامیں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام جیسا روزہ رکھ۔ میں نے پوچھا، اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ حق الضیف؛ حق مہمانی؛٨ص٣١؛حدیث نمبر ٦١٣٤)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اے محبوب کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر ائی۔(الذاريات ٢٤)ابو عبد اللہ نے فرمایا کہا گیا اس سے مراد ملاقات کے لئے انے والا ہے اور یہ ملاقات کے لئے آنے والے اور مہمان ہیں اور اس کے معنی یہ ہیں اور کے مہمان اور اس کی ملاقات کے لئے آنے والے اس لیے کے یہ مصدر ہے۔جیسے؛ قوم رضا وعدل اور جیسے کہا جاتا ہے ماء غور وبئر غور وماءان غور ومياه غور اور جیسے کہا جاتا ہے الغور الغائر لا تناله الدلاء كل شيء غرت فيه فهو مغارة (تزاور)یعنی ملاقات کرنے کے لئے انا اور ملاقات کرنا کسی کی طرف جانا ہے۔ حضرت ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنا چاہیئے۔ اس کی خاطر داری بس ایک دن اور رات تو اس کا حق ہے،تین دن اور راتوں کی ضیافت ہے، اس کے بعد جو ہو وہ صدقہ ہے اور مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنے دن ٹھہر جائے کہ اسے تنگ کر ڈالے۔ اسماعیل نے بھی امام مالک سے اسی طرح روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا زائد ہے کہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَخِدْمَتِهِ إِيَّاهُ بِنَفْسِهِ؛مہمانوں کی عزت اور خدمت کرنا؛٨ص٣٢؛حدیث نمبر ٦١٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اپنے پڑوسی کو اذیت نہ دے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَخِدْمَتِهِ إِيَّاهُ بِنَفْسِهِ؛مہمانوں کی عزت اور خدمت کرنا؛٨ص٣٢؛حدیث نمبر ٦١٣٦)
ابوالخیر کا بیان ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ!اگر ہم ایسی قوم کے پاس اترے جو مہمان نوازی نہ کرے،تو آپ کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہم سے فرمایا کہ جب تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے ساتھ وہی حکم کرے جو جو مہمان کا حق ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر ایسا نہ کریں تو جو مہمانداری کا حق ہے وہ ان سے لے لو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَخِدْمَتِهِ إِيَّاهُ بِنَفْسِهِ؛مہمانوں کی عزت اور خدمت کرنا؛٨ص٣٢؛حدیث نمبر ٦١٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیئے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَخِدْمَتِهِ إِيَّاهُ بِنَفْسِهِ؛مہمانوں کی عزت اور خدمت کرنا؛٨ص٣٢؛حدیث نمبر ٦١٣٨)
عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی اور ابودرداء رضی اللہ عنہما کو بھائی بھائی بنا دیا۔ ایک مرتبہ سلمان، ابودرداء رضی اللہ عنہما کی ملاقات کے لیے تشریف لائے اور ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا اور پوچھا کیا حال ہے؟ وہ بولیں تمہارے بھائی ابودرداء کو دنیا سے کوئی سروکار نہیں۔ پھر ابودرداء تشریف لائے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کھائیے، میں روزے سے ہوں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بولے کہ میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا۔ جب تک آپ بھی نہ کھائیں۔ چنانچہ ابودرداء نے بھی کھایا رات ہوئی تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگے۔ سلمان نے کہا کہ سو جایئے، پھر جب آخر رات ہوئی تو ابودرداء نے کہا اب اٹھئیے، بیان کیا کہ پھر دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بلاشبہ تمہارے رب کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، پس سارے حق داروں کے حقوق ادا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا ہے۔ ابوجحیفہ کا نام وہب السوائی ہے، جسے وہب الخیر بھی کہتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ صُنْعِ الطَّعَامِ وَالتَّكَلُّفِ لِلضَّيْفِ؛مہمان کے لیے پر تکلف کھانے تیار کرنا؛٨ص٣٢؛حدیث نمبر ٦١٣٩)
ابو عثمان نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی میزبانی کی اور عبدالرحمٰن سے کہا کہ مہمانوں کا پوری طرح خیال رکھنا کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، میرے آنے سے پہلے انہیں کھانا کھلا دینا۔ چنانچہ عبدالرحمٰن کھانا مہمانوں کے پاس لائے اور کہا کہ کھانا کھائیے۔ انہوں نے پوچھا کہ ہمارے گھر کے مالک کہاں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ لوگ کھانا کھا لیں۔ مہمانوں نے کہا کہ جب تک ہمارے میزبان نہ آ جائیں ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری درخواست قبول کر لیجئے کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے تک اگر آپ لوگ کھانے سے فارغ نہیں ہو گئے تو ہمیں ان کے غصے کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے اس پر بھی انکار کیا۔ میں جانتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوں گے۔ اس لیے جب وہ آئے میں ان سے بچنے لگا۔ انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے کیا کیا؟ گھر والوں نے انہیں بتایا تو انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو پکارا! میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے پکارا! عبدالرحمٰن! میں اس مرتبہ بھی خاموش رہا۔ پھر انہوں نے کہا ارے جاہل میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو باہر آ جا، میں باہر نکلا اور عرض کیا کہ آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں۔ مہمانوں نے بھی کہا عبدالرحمٰن سچ کہہ رہا ہے۔ وہ کھانا ہمارے پاس لائے تھے۔ آخر والد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگوں نے میرا انتظار کیا، اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے بھی قسم کھا لی اللہ کی قسم جب تک آپ نہ کھائیں ہم بھی نہ کھائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بھائی میں نے ایسی خراب بات کبھی نہیں دیکھی۔ مہمانو! تم لوگ ہماری میزبانی سے کیوں انکار کرتے ہو۔ خیر عبدالرحمٰن کھانا لا، وہ کھانا لائے تو آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، پہلی حالت (کھانا نہ کھانے کی قسم) شیطان کی طرف سے تھی۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْغَضَبِ وَالْجَزَعِ عِنْدَ الضَّيْفِ؛مہمانوں کے سامنے غصہ اور دکھ کا اظہار کرنا ناپسندیدہ ہے؛٨ص٣٣؛حدیث نمبر ٦١٤٠)
اس باب میں ابوجحیفہ کی ایک حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ابوعثمان نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے مہمان یامہمانوں کو لے کر گھر آئے۔ پھر آپ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے، جب وہ لوٹ کر آئے تو میری والدہ نے کہا کہ آج اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر آپ کہاں رہ گئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے ان کو کھانا نہیں کھلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کھانا ان کے سامنے پیش کیا لیکن انہوں نے انکار کیا۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے (گھر والوں کی) سرزنش کی اور دکھ کا اظہار کیا اور قسم کھا لی کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں تو ڈر کے مارے چھپ گیا تو آپ نے پکارا کہ اے جاہل! کدھر ہے تو ادھر آ۔ میری والدہ نے بھی قسم کھا لی کہ اگر وہ کھانا نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گی۔ اس کے بعد مہمانوں نے بھی قسم کھا لی کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ غصہ کرنا شیطانی کام تھا، پھر آپ نے کھانا منگوایا اور خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھایا (اس کھانے میں یہ برکت ہوئی) جب یہ لوگ ایک لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے کھانا اور بھی بڑھ جاتا تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنی فراس کی بہن! یہ کیا ہو رہا ہے، کھانا تو اور بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک! اب یہ اس سے بھی زیادہ ہو گیا۔ جب ہم نے کھانا کھایا بھی نہیں تھا۔ پھر سب نے کھایا اور اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کھانے میں سے تناول فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الضَّيْفِ لِصَاحِبِهِ لاَ آكُلُ حَتَّى تَأْكُلَ؛مہمان کا میزبان سے کہنا کہ جب تک آپ نہیں کھاتے میں بھی نہیں کھاؤں گا؛٨ص٣٣؛حدیث نمبر ٦١٤١)
بشیر بن یسار مولیٰ انصار نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ دونوں حضرات سے روایت کی ہے کہ عبد اللہ بن سہل اور حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں خیبر گئے اور کھجور کے باغ میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ عبداللہ بن سہل وہیں شہید کر دیئے گئے۔ پھر عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے مقتول ساتھی (عبداللہ رضی اللہ عنہ) کے مقدمہ میں گفتگو کی۔ پہلے عبدالرحمٰن نے بولنا چاہا جو سب سے چھوٹے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑا شخص گفتگو کرےپھر انہوں نے اپنے ساتھی کے مقدمہ میں گفتگو کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے 50 آدمی قسم کھا لیں کہ عبداللہ کو یہودیوں نے مارا ہے تو تم دیت کے مستحق ہو جاؤ گے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے خود تو اسے دیکھا نہیں تھا (پھر اس کے متعلق قسم کیسے کھا سکتے ہیں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں سے قسم کھلوا کر تم سے چھٹکارا پا لیں گے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسم کا کیا بھروسہ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن سہل کے وارثوں کو دیت خود اپنی طرف سے ادا کر دی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان اونٹوں میں سے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیت میں دئیے تھے) ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا وہ ریوڑ میں گھس گئی، اس نے ایک لات مجھ کو لگائی۔ اور لیث نے کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر نے اور ان سے سہل نے، یحییٰ نے یہاں بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بشیر نے «مع رافع بن خديج» کے الفاظ کہے تھے۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر نے اور انہوں نے صرف سہل سے روایت کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِكْرَامِ الْكَبِيرِ وَيَبْدَأُ الأَكْبَرُ بِالْكَلاَمِ وَالسُّؤَالِ؛بڑوں کی عزت کرنا،کلام اور سوال میں بڑا پہل کرے؛٨ص٣٤؛حدیث نمبر ٦١٤٢ و حدیث نمبر ٦١٤٣)
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس درخت کا نام بتاؤ، جس کی مثال مسلمان کی سی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اس کے پتے نہیں جھڑا کرتے۔ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے کہنا پسند نہیں کیا۔ کیونکہ مجلس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما جیسے اکابر بھی موجود تھے۔ پھر جب ان دونوں بزرگوں نے کچھ نہیں کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ جب میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تو میں نے عرض کیا کہ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں یہ کھجور کا درخت ہے، انہوں نے کہا پھر تم نے کہا کیوں نہیں؟ اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو یہ بات میرے نزدیک بہت مال ملنے سے زیادہ محبوب ہوتی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (میں نے عرض کیا) صرف اس وجہ سے میں نے نہیں کہا کہ جب میں نے آپ کو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ کو خاموش دیکھا تو میں نے آپ بزرگوں کے سامنے بات کرنا برا جانا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَخِدْمَتِهِ إِيَّاهُ بِنَفْسِهِ؛مہمانوں کی عزت اور خدمت کرنا؛٨ص٣٤؛حدیث نمبر ٦١٤٤)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرکرداں پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور بکثرت اللہ کی یاد کی اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(التوبہ،٢٢٤،٢٢٧)ابن عباس کا قول ہے کہ ہر لغو بات میں سر کھپاتے ہیں۔ مروان بن حکم کو عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث نے بتایا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ کسی شعر میں دانائی بھی ہوتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما یجوز من الشعر والرجز الحداء وما یکرہ منہ؛کیا شعر،رجز اور حدی خوانی جائز ہے؛٨ص٣٤؛حدیث نمبر ٦١٤٥)
اسود بن قیس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جارہے تھے کہ ایک پتھر ملا جس سے آپ لڑکھڑاے اور قدم مبارک کی ایک انگلی سے خون مبارک بہنے لگا تو فرمایا:”تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی ... کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما یجوز من الشعر والرجز الحداء وما یکرہ منہ؛کیا شعر،رجز اور حدی خوانی جائز ہے؛٨ص٣٤؛حدیث نمبر ٦١٤٦)
ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کسی شاعر نے جو سب سے سچی بات کہی وہ لبید کے یہ الفاظ ہیں: سواے حق تعالیٰ کے سب کو مٹ جانا ہے اور امید بن صلت اسلام قبول کرلینے کے قریب تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما یجوز من الشعر والرجز الحداء وما یکرہ منہ؛کیا شعر،رجز اور حدی خوانی جائز ہے؛٨ص٣٥؛حدیث نمبر ٦١٤٧)
یزید بن ابو عبید کا بیان ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں گئے اور ہم نے رات میں سفر کیا، اتنے میں مسلمانوں کے آدمی نے عامر بن اکوع رضی للہ عنہ سے کہا کہ اپنے کچھ اشعار سناؤ۔ راوی نے بیان کیا کہ عامر شاعر تھے۔ وہ لوگوں کو اپنی حدی سنانے لگے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ہم نے جو کچھ پہلے گناہ کئے ان کو تو معاف کر دے اور جب (دشمن سے) ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما۔ جب ہمیں جنگ کے لیے بلایا جاتا ہے، تو ہم موجود ہو جاتے ہیں اور دشمن نے بھی پکار کر ہم سے نجات چاہی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کون اونٹوں کو ہانک رہا ہے جو حدی گا رہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ عامر بن اکوع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک اس پر رحم کرے۔لوگوں میں سے ایک نے کہا عامر کے لیے جنت واجب ہوگئی۔یا نبی اللہ!آپ ہمیں ان سے اور نفع اٹھانے دیجیے۔راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم خیبر آئے اور اس کو گھیر لیا اس گھراؤ میں ہم شدید فاقوں میں مبتلا ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر والوں پر ہم کو فتح عطا فرمائی جس دن ان پر فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ آگ کیسی ہے، کس کام کے لیے تم لوگوں نے یہ آگ جلائی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ گوشت پکانے کے لیے۔ اس پر آپ نے دریافت فرمایا کس چیز کے گوشت کے لیے؟ صحابہ نے کہا کہ بستی کے پالتو گدھوں کا گوشت پکانے کے لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گوشت کو برتنوں میں سے پھینک دو اور برتنوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم گوشت تو پھینک دیں، مگر برتن توڑنے کے بجائے اگر دھو لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا یوں ہی کر لو۔ جب لوگوں نے جنگ کی صف بندی کر لی تو عامر (ابن اکوع شاعر) نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر وار کیا، ان کی تلوار چھوٹی تھی اس کی نوک پلٹ کر خود ان کے گھٹنوں پر لگی اور اس کی وجہ سے ان کی شہادت ہو گئی۔ جب لوگ واپس آنے لگے تو سلمہ (عامر کے بھائی) نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میرے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے۔ دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں، لوگ کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے۔ (کیونکہ ان کی موت خود ان کی تلوار سے ہوئی ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس نے کہا؟ میں نے عرض کیا: فلاں، فلاں، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے یہ بات کہی اس نے جھوٹ کہا ہے انہیں تو دوہرا اجر ملے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا کہ وہ عابد بھی تھا اور مجاہد بھی (تو عبادت اور جہاد دونوں کا ثواب اس نے پایا) عامر کی طرح تو بہت کم بہادر عرب میں پیدا ہوئے ہیں (وہ ایسا بہادر اور نیک آدمی تھا) (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشِّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحُدَاءِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهُ؛٨ص٣٥؛حدیث نمبر ٦١٤٨)
ابو قلابہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج مطہرات کے پاس تشریف لائے جن کے پاس حضرت ام سلیم بھی تھیں تو آپ نے فرمایا۔اے انجشہ!تیری خرابی ہو،شیشے والی سواری کو آہستہ چلا۔ابو قلابہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کلمہ ارشاد فرمایا کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی اور کہتا تو لوگوں کو ناگوار ہوتا چناچہ فرمایا کہ تیری شیشے کی سواری۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ما یجوز من الشعر والرجز الحداء وما یکرہ منہ؛کیا شعر،رجز اور حدی خوانی جائز ہے؛٨ص٣٥؛حدیث نمبر ٦١٤٩)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو کہنے کی اجازت مانگی۔چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نسب کا کیا کرو گے؟عرض کی میں آپ کے نسب کو آٹے سے بال کی طرح کھینچ نکالوں گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ہجاء المشرکین؛مشرکین کی ہجو؛٨ص٣٦؛حدیث نمبر ٦١٥٠)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ میں حضرت حسان کو برا بھلا کہتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ حسان کو برا بھلا نہ کہو کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے جواب دیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ہجاء المشرکین) ابو سنان کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ذکر کرتے ہوئے بتائی کہ تمہارے ایک بھائی نے کوئی بری بات نہیں کہی۔ آپ کا اشارہ ابن رواحہ کی طرف تھا (اپنے اشعار میں) انہوں نے یوں کہا تھا ”اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اس وقت جب فجر کی روشنی پھوٹ کر پھیل جاتی ہے۔ ہمیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہدایت کا راستہ دکھایا۔ پس ہمارے دل اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔ آپ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے (یعنی جاگ کر) جب کہ کافروں کے بوجھ سے ان کی خواب گاہیں بوجھل ہوئی رہتی ہیں۔“ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عبدالرحمٰن اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ہجاء المشرکین؛مشرکین کی ہجو؛٨ص٣٦؛حدیث نمبر ٦١٥١)
زبیدی زہری،سعید اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابو الیمان،شعیب نے زہری سے روایت کی ہے ابن شہاب کا بیان ہے کہ انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف سے سنا کہ حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گواہ بنا کر کہہ رہے تھے کہ اے ابوہریرہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حسان! اللہ کے رسول کی طرف سے مشرکوں کو جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی مدد کر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ہجاء المشرکین؛مشرکین کی ہجو؛٨ص٣٦؛حدیث نمبر ٦١٥٢)
عدی بن ثابت نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ہجو کہو یا فرمایا کہ ان کی ہجو کہو اور جبرئیل تمہارے ساتھ ہیں۔ زبیدی زہری،سعید اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب ہجاء المشرکین؛مشرکین کی ہجو؛٨ص٣٦؛حدیث نمبر ٦١٥٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛اگر تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْغَالِبُ عَلَى الإِنْسَانِ الشِّعْرُ حَتَّى يَصُدَّهُ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَالْعِلْمِ وَالْقُرْآنِ؛وہ شاعری ناپسندیدہ ہے جو ذکر اللہ علم دین اور قرآن کریم پر غالب آجائے؛٨ص٣٧؛حدیث نمبر ٦١٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھر جائے۔ (بخاری شریف کتاب الادب،بَابُ مَا يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الغَالِبَ عَلَى الإِنْسَانِ الشِّعْرُ، حَتَّى يَصُدَّهُ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَالعِلْمِ وَالقُرْآنِ،حدیث نمبر ٦١٥٥)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوقعیس کے بھائی افلح (میرے رضاعی چچا نے) مجھ سے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے میں اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ کیونکہ ابوقعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابوقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا، دودھ تو ان کی بیوی نے پلایا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو، کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں، تمہارا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو۔ عروہ نے کہا کہ اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہی سمجھو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرِبَتْ يَمِينُكَ» . «وَعَقْرَى حَلْقَى»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:دائیں ہاتھ خاک آلود اور سر منڈی؛٨ص٣٧؛حدیث نمبر ٦١٥٦)
اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا قصد فرمایا تو دیکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر افسردہ کھڑی تھیں کیونکہ انہیں حیض آگیا تھا۔آپ نے قریشی محاورے کے لحاظ سے فرمایا کہ سرمنڈی کیا تم ہمیں روکنے والی ہو؟پھر فرمایا کہ کیا تم قربانی کے دن والا واپسی کا طواف کر چکی ہو؟انہوں نے جواب دیا ہاں۔فرمایا کہ پھر تو تم بھی چلو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرِبَتْ يَمِينُكَ» . «وَعَقْرَى حَلْقَى»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:دائیں ہاتھ خاک آلود اور سر منڈی؛٨ص٣٧؛حدیث نمبر ٦١٥٧)
ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابو مرہ کا بیان ہےانہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر دیا ہے۔ میں نے سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام ہانی! مرحبا ام ہانی۔ جب آپ غسل کر چکے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں۔ آپ اس وقت ایک کپڑے میں جسم مبارک کو لپیٹے ہوئے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! والدہ کی طرف سے میرا بھائی کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جسے میں نے امان دے رکھی ہے۔ یعنی فلاں بن ہبیرہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی۔ ام ہانی نے بیان کیا کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي زَعَمُوا؛لفظ زعموا کے متعلق؛٨ص٣٧؛حدیث نمبر ٦١٥٨)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے لیے ایک اونٹنی ہانکے لیے جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو کر جا، انہوں نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار ہو جا اس نے کہا کہ یہ قربانی کا اونٹ ہے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ تم پر افسوس۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٧؛حدیث نمبر ٦١٥٩)
اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکائے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہو جا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تم پر افسوس ہو، تو سوار ہو جا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٧؛حدیث نمبر ٦١٦٠)
ثابت بنانی اور ابو قلابہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ انجشہ نامی ایک سیاہ غلام تھا جو حدی خوانی کر رہا تھا۔چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے انجشہ!تیری خرابی ہو شیشے کو آہستہ چلا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٨؛حدیث نمبر ٦١٦١)
عبدالرحمٰن بن ابو بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس «ويلك» تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی، تین مرتبہ (یہ فرمایا) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑ جائے تو یہ کہو کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے اور اس کا حساب لینے والا اللہ ہے اگرچہ جانتا ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے بالمقابل کسی کو پاک نہ ٹھہراے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٨؛حدیث نمبر ٦١٦٢)
ابوسلمہ اور ضحاک کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا: یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کے کچھ (قبیلہ والے) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو معمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔پھر اس کے پیکان پر کچھ نظر نہیں آتا،اس کے پٹھے پر بھی کچھ نظر نہیں آتا،اس کی لکڑی پر بھی کچھ نظر نہیں آتا،اور نہ اس کے پروں پر کچھ نظر آے،وہ لید اور خون کو چھوڑ کر نکل گیا۔وہ لوگوں کی تفرقہ بازی کے وقت نکلتے ہیں۔ان کی علامت یہ ہے کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا یا (فرمایا) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہو گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے (نہروان میں) جنگ کی تھی۔ مقتولین میں تلاش کی گئی تو ایک شخص انہیں صفات کا لایا گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٨؛حدیث نمبر ٦١٦٣)
حمید بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو ہلاک ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس (کیا بات ہوئی؟) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروں میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنسے حتیٰ کہ آپ کے آپ کے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ فرمایا کہ جاؤ تم ہی لے لو۔ اوزاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ «ويحك» کے لفظ «ويلك.» روایت کیا ہے (معنی دونوں کے ایک ہی ہیں)۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٨؛حدیث نمبر ٦١٦٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے (اس کی نیت ہجرت کی تھی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے صدقہ کرنے کے لئے تیار ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا تو دریا کے اس جانب کام کرتے رہو ۔ اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ فرماے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٩؛حدیث نمبر ٦١٦٥)
واقد بن محمد بن زید کا بیان ہے کہ حضرت میں نے حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس ( «ويلكم» یا «ويحكم») شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ (واقد بن محمد کو) تھا۔ میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا «ويحكم» اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے «ويلكم» یا «ويحكم» کے لفظ نقل کئے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٩؛حدیث نمبر ٦١٦٦)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس «ويلك»کیا تم نے اس کے لئے تیاری کر لی ہے؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لیے تو کوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اس کے ساتھ ہو گےجس سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا؟ فرمایا کہ ہاں۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے، پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔ شعبہ،قتادہ،حضرت انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی لیکن شعبہ نے اختصار کے ساتھ۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ؛لفظ"ویلک"کہنے کے بارے میں؛٨ص٣٩؛حدیث نمبر ٦١٦٧)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا"(آل عمران ٣١) ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اللہ عز وجل سے محبت کی علامت؛٨ص٣٩؛حدیث نمبر ٦١٦٨)
ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اسے نہ پائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔اس روایت کی متابعت جریر بن حازم، سلیمان بن قرم اور ابوعوانہ نے اعمش سے کی، ان سے ابووائل نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اللہ عز وجل سے محبت کی علامت؛٨ص٣٩؛حدیث نمبر ٦١٦٩)
ابووائل کا بیان ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کیا کہ ایک شخص کسی قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اللہ عز وجل سے محبت کی علامت؛٨ص٣٩؛حدیث نمبر ٦١٧٠)
سالم بن ابو الجعد نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کیا کہ یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے لیے تیاری کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لیے بہت ساری نمازیں، روزے اور صدقے نہیں تیار کر رکھے ہیں، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اللہ عز وجل سے محبت کی علامت؛٨ص٤٠؛حدیث نمبر ٦١٧١)
ابورجاء کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ”میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات پوشیدہ رکھی ہے، وہ کیا ہے؟“ وہ بولا «الدخ.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ اخْسَأْ؛آدمی کا آدمی سے کہنا کہ دور ہوجاؤ؛٨ص٤٠؛حدیث نمبر ٦١٧٢)
سالم بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کےرسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے دھکا دیا اور فرمایا، میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا، تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا کام خلط ملط ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات اپنے دل میں پوشیدہ رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ وہ «الدخ.» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دور ہو، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر غلبہ نہیں پاسکتے اور اگر یہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ اخْسَأْ؛آدمی کا آدمی سے کہنا کہ دور ہوجاؤ؛٨ص٤٠؛حدیث نمبر ٦١٧٣)
سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتا دیا کہ اے صاف! (یہ اس کا نام تھا) محمد آ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ متنبہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسے اسی حالت میں رہنے دیتی تو معاملہ کھلتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ اخْسَأْ؛آدمی کا آدمی سے کہنا کہ دور ہوجاؤ؛٨ص٤٠؛حدیث نمبر ٦١٧٤)
سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے لائق حمد و ثناء کی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا ہونے سےپاک ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ اخْسَأْ؛آدمی کا آدمی سے کہنا کہ دور ہوجاؤ؛٨ص٤٠؛حدیث نمبر ٦١٧٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا؛میری بیٹی مرحبا۔حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا۔اے ام ہانی!مرحبا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ مَرْحَبًا؛کسی سے مرحبا کہنا؛٨ص٤١) ابوحمزہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو آن پہنچے تو نہ وہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ (خوشی سے مسلمان ہو گئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیع کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر ہے اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں (جن میں لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی) آپ کچھ ایسی جچی تلی بات بتا دیں جس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور جو لوگ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی اس کی دعوت پہنچائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چار چیزیں ہیں۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمت کا پانچواں حصہ (بیت المال کو) ادا کرو اور دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نہ پیو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ مَرْحَبًا؛کسی سے مرحبا کہنا؛٨ص٤١؛حدیث نمبر ٦١٧٦)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عہد توڑنے والے کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يُدْعَى النَّاسُ بِآبَائِهِمْ؛لوگوں کو ان کے باپ کا نام لے کر بلایا جائے گا؛٨ص٤١؛حدیث نمبر ٦١٧٧)
عبد اللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا۔پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يُدْعَى النَّاسُ بِآبَائِهِمْ؛لوگوں کو ان کے باپ کا نام لے کر بلایا جائے گا؛٨ص٤١؛حدیث نمبر ٦١٧٨)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا بلکہ یہ کہے کہ میرا نفس برا ہوگیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لاَ يَقُلْ خَبُثَتْ نَفْسِي؛کوئی یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا؛٨ص٤١؛حدیث نمبر ٦١٧٩)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا بلکہ یہ کہے کہ میرا نفس برا ہوگیا ہے اس طرح عقیل نے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ لاَ يَقُلْ خَبُثَتْ نَفْسِي؛کوئی یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا؛٨ص٤١؛حدیث نمبر ٦١٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:آدم کی اولاد زمانے کو برا کہتی ہے جبکہ زمانہ میں ہوں،رات اور دن میرے قبضے میں ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ لاَ تَسُبُّوا الدَّهْرَ:؛زمانے کو برا نہ کہو؛٨ص٤١؛حدیث نمبر ٦١٨١)
ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انگور کو گرم اور زمانے کو خراب مت کہو کیوں کہ اللہ خود ہی زمانہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ لاَ تَسُبُّوا الدَّهْرَ:؛زمانے کو برا نہ کہو؛٨ص٤١؛حدیث نمبر ٦١٨٢)
اور فرمایا کہ مفلس وہ ہے جو روز قیامت مفلس ہوگا جیسے آپ نے فرمایا ہے کہ پہلوان وہ جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھے۔بادشاہی صرف اللہ کی ہے اور اللہ کے سوا کسی کی بادشاہی بے انتہاء نہیں انتہائی بادشاہی سے کی جاتی ہے۔پھر بادشاہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں۔ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لوگ کرم کا لفظ استعمال کرتے ہیں حالانکہ کرم تو مؤمن کا دل ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کرم،مؤمن کا دل ہے؛٨ص٤٢؛حدیث نمبر ٦١٨٣)
اس کے متعلق حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ عبداللہ بن شداد کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فدا ہونے کا لفظ حضرت سعد بن وقاص کے علاوہ اور کسی کے لیے نہیں سنا۔فرماتے ہیں میرے ماں باپ تم پر قربان تیر چلاؤ۔میرے خیال میں یہ غزوہ احد کی بات ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؛آدمی کا کہنا کہ تجھ پر میرے ماں باپ قربان؛٨ص٤٢؛حدیث نمبر ٦١٨٤)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ہم اپنے باپوں اور ماؤں کو قربان کریں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اور ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ منورہ کے لیے) روانہ ہوئے۔ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں،راستہ میں کسی جگہ اونٹنی کا پاؤں پھسل گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین زمین پر تشریف لے آئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے ابوطلحہ نے اپنی سواری سے فوراً اپنے کو گرا دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا: یا نبی اللہ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کیا آپ کو کوئی چوٹ آئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، البتہ عورت کو دیکھو۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا، پھر ام المؤمنین کی طرف بڑھے اور ان کا کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہو گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین کے لیے ابوطلحہ نے پالان مضبوط باندھا۔ اب آپ نے سوار ہو کر پھر سفر شروع کیا، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے (یا یوں کہا کہ مدینہ دکھائی دینے لگا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «آيبون تائبون، عابدون لربنا حامدون» ”ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کی حمد بیان کرتے ہوئے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے برابر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؛آدمی کا کہنا کہ اللہ مجھے آپ پر قربان کرے؛٨ص٤٢؛حدیث نمبر ٦١٨٥)
ابن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک صاحب کے یہاں لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم تم کو ابوالقاسم کہہ کر نہیں پکاریں گے (کیونکہ ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت تھی) اور ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ ان صاحب نے اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ أَحَبِّ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وقول الرجل لصاحبه يا بني؛الله کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام؛٨ص٤٢؛حدیث نمبر ٦١٨٦)
سالم کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک شخص کے یہاں لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں۔ ہم اس نام پر تمہاری کنیت نہیں ہونے دیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام پر نام رکھ لو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو؛٨ص٤٢؛حدیث نمبر ٦١٨٧)
ابن سیرین کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام پر نام رکھ لو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو؛٨ص٤٣؛حدیث نمبر ٦١٨٨)
ابو المنکدر کا بیان ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں پکاریں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام پر نام رکھ لو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو؛٨ص٤٣؛حدیث نمبر ٦١٨٩)
ابن المسیب نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟عرض کی حزن۔فرمایا کہ تم سہل ہو۔کہنے لگے کہ میں اپنے اس نام کو تبدیل نہیں کروں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۔ابن المسیب کا بیان ہے کہ اس کے بعد سے حزن ہمارے خاندان کا ہو کر رہ گیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ اسْمِ الْحَزْنِ؛حزن نام رکھنا؛٨ص٤٣؛حدیث نمبر ٦١٩٠)
علی بن عبداللہ اور محمود،عبد الرزاق،معمر،زہری،ابن المسیب نے اپنے والد ماجد سے انہوں نے ان کے دادا سے حدیث مذکور کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ اسْمِ الْحَزْنِ؛حزن نام رکھنا؛٨ص٤٣؛) ابوحازم کا بیان ہے کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ منذر بن ابی اسید رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کو اپنی ران پر بٹھا لیا۔ ابواسید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں مصروف ہو گئے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بچہ کو لے جانے کا حکم دیا تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ ابواسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اسے گھر بھیج دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ عرض کیا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بلکہ اس کا نام منذر ہے۔پس اس دن سے اس کا نام منذر ہوگیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ تحویل الاسم الی اسم احسن منہ؛نام کو اچھے نام سے بدلنے کا باب؛٨ص٤٣؛حدیث نمبر٦١٩١)
ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت زینب کا نام برہ تھا تو ان سے کہا گیا کہ تم خود کو پاکیزگی ظاہر کرتی ہو۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ تحویل الاسم الی اسم احسن منہ؛نام کو اچھے نام سے بدلنے کا باب؛٨ص٤٣؛حدیث نمبر٦١٩٢)
عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ کا بیان ہے کہ میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے دادا حزن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا نام حزن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سہل ہو، انہوں نے کہا کہ میں تو اپنے باپ کا رکھا ہوا نام نہیں بدلوں گا۔ابن المسیب کا بیان ہے کہ اس کے بعد حزن ہمارے گھر کا ہو کر رہ گیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ تحویل الاسم الی اسم احسن منہ؛نام کو اچھے نام سے بدلنے کا باب؛٨ص٤٣؛حدیث نمبر٦١٩٣)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا یعنی اپنی صاحبزادے کو۔ اسماعیل کا بیان ہے:میں نے حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دیکھا؟فرمایا کہ وہ کم سنی ہی میں وفات پاگئے تھے۔اگر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کے صاحبزادے حیات رہتے لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب من سمی بأسماء الأنبياء؛جو انبیاء کرام کے ناموں پر نام رکھے؛٨ص٤٣؛حدیث نمبر٦١٩٤)
عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب ابراهيم فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بےشک اس کے لیے جنت میں دودھ پلانے والی موجود۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب من سمی بأسماء الأنبياء؛٨ص٤٤؛حدیث نمبر٦١٩٥)
سالم بن عبد االجعد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھ لو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو،کیونکہ میں قاسم ہوں کہ تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔اس کو حضرت انس نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب من سمی بأسماء الأنبياء؛٨ص٤٤؛حدیث نمبر٦١٩٦)
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو اور جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیوں کہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا اور جو دانستہ مجھ پر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب من سمی بأسماء الأنبياء؛٨ص٤٤؛حدیث نمبر٦١٩٧)
ابو بردہ کا بیان ہے کہ حضرت موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب میرے یہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔پس آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا،کھجور کے ساتھ اس کی تحنیک فرمائی اور اس کے لیے دعاء برکت کی اور پھر اسے میرے حوالے کردیا اور یہ حضرت ابو موسیٰ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب من سمی بأسماء الأنبياء؛٨ص٤٤؛حدیث نمبر٦١٩٨)
زیاد بن علاقہ کا بیان ہے میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس دن ابراهيم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو سورج کو گرہن لگا۔حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛باب من سمی بأسماء الأنبياء؛٨ص٤٤؛حدیث نمبر٦١٩٩)
سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک رکوع سے اٹھایا تو یہ دعا کی «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام، وعياش بن أبي ربيعة، والمستضعفين بمكة» ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ میں دیگر موجود کمزور مسلمانوں کو نجات دیدے۔“ «اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! قبیلہ مضر کے کفاروں کو سخت پکڑ، اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ تَسْمِيَةِ الْوَلِيدِ؛ولید بن ولید کا نام؛٨ص٤٤؛حدیث نمبر٦٢٠٠)
ابو حازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:اے بلی والے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عائش! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔“ میں نے کہا اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَنْ دَعَا صَاحِبَهُ فَنَقَصَ مِنِ اسْمِهِ حَرْفًا؛اپنے کا نام گھٹا کر لینا؛٨ص٤٤؛حدیث نمبر٦٢٠١)
ابو قلابہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ام سلیم سوار تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام انجشہ سواریوں کو چلا رہا تھا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انجش!اپنی شیشوں والی سواری کو آہستہ چلا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ مَنْ دَعَا صَاحِبَهُ فَنَقَصَ مِنِ اسْمِهِ حَرْفًا؛اپنے کا نام گھٹا کر لینا؛٨ص٤٤؛حدیث نمبر٦٢٠٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے عمدہ اخلاق والے تھے اور میرا ایک بھائی ابوعمیر نامی تھا۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچہ کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير»کبھی نماز کا وقت ہو جاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ہوتے تو آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے، چنانچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْكُنْيَةِ لِلصَّبِيِّ وَقَبْلَ أَنْ يُولَدَ لِلرَّجُلِ؛ولادت سے قبل بچے کی کنیت رکھنا؛٨ص٤٥؛حدیث نمبر٦٢٠٣)
ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت ابوتراب سب سے زیادہ پیاری تھی اور اس کنیت سے انہیں پکارا جاتا تو بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ یہ کنیت ابوتراب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی۔ ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شکر رنجی ہوئی تو وہ باہر چلے آئے اور مسجد کی دیوار کے پاس لیٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے آئے اور فرمایا کہ یہ تو دیوار کے پاس لیٹے ہوئے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیٹھ مٹی سے بھر چکی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑتے جاتے اور فرماتے کہ اے ابو تراب اٹھو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّكَنِّي بِأَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَتْ لَهُ كُنْيَةٌ أُخْرَى؛ایک کنیت کی موجودگی میں ابو تراب کنیت رکھنا؛٨ص٤٥؛حدیث نمبر٦٢٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا نام اس کا ہوگا جس نے اپنا نام ملک الاملاک رکھا ہو گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ أَبْغَضِ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ؛اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں؛٨ص٤٥؛حدیث نمبر٦٢٠٥)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا نام سفیان نے کئی بار کہا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا نام وہ ہوگا جس نے اپنا نام رکھا ہوگا۔سفیان کا بیان ہے کہ دوسرے حضرات اس کی تفسیر میں بادشاہوں کا بادشاہ کہتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ أَبْغَضِ الأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ؛اللہ کو جو نام بہت ہی زیادہ ناپسند ہیں؛٨ص٤٥؛حدیث نمبر٦٢٠٦)
حضرت مسور رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر ابن ابو طالب ارادہ کرے۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دراز گوش پر سوار ہوئے جس پر فدک کا بنا ہوا ایک کپڑا بچھا ہوا تھا، اسامہ آپ کے پیچھے سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے یہ دونوں روانہ ہوئے اور راستے میں ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا اور یہ عبد اللہ کے اسلام سے قبل کی بات ہےاس مجلس میں کچھ مسلمان بھی تھے۔ بتوں کی پرستش کرنے والے کچھ مشرکین بھی تھے اور کچھ یہودی بھی تھے۔ مسلمان شرکاء میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے۔ جب مجلس پر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) سواری کا غبار اڑ کر پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر ناک پر رکھ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اڑاؤ، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (قریب پہنچنے کے بعد) انہیں سلام کیا اور کھڑے ہو گئے۔ پھر سواری سے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور قرآن مجید کی آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں۔ اس پر عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ بھلے آدمی جو کلام تم نے پڑھا اس سے بہتر کلام نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ واقعی یہ حق ہے مگر ہماری مجلسوں میں آ کر اس کی وجہ سے ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ جو تمہارے پاس جائے بس اس کو یہ قصے سنا دیا کرو۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ضرور، یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں بھی تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ اس معاملہ پر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں کا جھگڑا ہو گیا اور قریب تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اٹھا دیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خاموش کرتے رہے آخر جب سب لوگ خاموش ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور روانہ ہوئے۔ جب سعد بن عبادہ کے یہاں پہنچے تو ان سے فرمایا کہ اے سعد! تم نے نہیں سنا آج ابوحباب نے کس طرح باتیں کی ہیں۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بولے، میرا باپ آپ پر قربان ہو، یا رسول اللہ! آپ اسے معاف فرما دیں اور اس سے درگذر فرمائیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اللہ نے آپ کو سچا کلام دے کر یہاں بھیجا جو آپ پر اتارا۔ آپ کے تشریف لانے سے پہلے اس شہر (مدینہ منورہ) کے باشندے اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے (عبداللہ بن ابی کو) شاہی تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ باندھ دیں لیکن اللہ نے سچا کلام دے کر آپ کو یہاں بھیج دیا اور یہ تجویز موقوف رہی تو وہ اس کی وجہ سے چڑ گیا اور جو کچھ آپ نے آج ملاحظہ کیا، وہ اسی جلن کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو معاف کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ، مشرکین اور اہل کتاب سے جیسا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ”تم ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے (اذیت دہ باتیں) سنو گے۔“(آل عمران ١٨٦)دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا ”بہت کتابیوں نے چاہا۔“ الخ۔چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برابر در گزر سے کام لیتے رہے۔ بالآخر آپ کو (جنگ کی) اجازت کا حکم مل گیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کیا اور اللہ کے حکم سے اس میں کفار کے بڑے بڑے بہادر اور قریش کے سردار قتل کئے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ فتح مند اور غنیمت کا مال لیے ہوئے واپس ہوئے، ان کے ساتھ کفار قریش کے کتنے ہی بہادر سردار قید بھی کر کے لائے تو اس وقت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی مشرکوں بت پرستوں نے کہا کہ اب اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے لہٰذا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر اسلام کی بیعت کر لی اور خود کو مسلمان ظاہر کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ كُنْيَةِ الْمُشْرِكِ؛مشرک کی کنیت رکھنا؛٨ص٤٥؛حدیث نمبر٦٢٠٧)
عبداللہ بن حارث بن نوفل کا بیان ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ!کیا آپ نے ابو طالب کو کوئی فائدہ پہنچایا جو آپ کی پشت پناہی اور غضبناک ہوتے؟فرمایا ہاں وہ اب ہلکی آگ میں ہیں اور اگر میں درمیان میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نچلے طبقے میں ہوتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ كُنْيَةِ الْمُشْرِكِ؛٨ص٤٦؛حدیث نمبر٦٢٠٨)
اور اسحاق نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوطلحہ کے ایک بچے ابوعمیر نامی کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے(اپنی بیوی سے)پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کی جان کو سکون ہے اور مجھے امید ہے کہ اب وہ چین سے ہو گا۔ ابوطلحہ اس کلام کا مطلب یہ سمجھے کہ ام سلیم سچی ہے۔ ثابت بنانی کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور ہانکنے والا اونٹوں کو تیزی سے چلا رہا تھا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے انجشہ!شیشوں کو آہستہ لے کر چل۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْمَعَارِيضُ مَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ؛٨ص٤٧؛حدیث نمبر٦٢٠٩)
ثابت اور ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور انجشہ نامی ایک غلام حدی خوانی کر رہا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انجشہ!ان شیشوں کی سواری کو آہستہ لے کر چل۔ابو قلابہ کا بیان ہے کہ یعنی عورتوں کو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْمَعَارِيضُ مَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ؛٨ص٤٧؛حدیث نمبر٦٢١٠)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانکنے والے کا نام انجشہ تھا اور اس کی آواز بہت خوبصورت تھی۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا۔اے انجشہ!آہستہ چلا،شیشوں کو توڑ نہ دینا۔حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یعنی نازک خواتین کو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْمَعَارِيضُ مَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ؛٨ص٤٧؛حدیث نمبر٦٢١١)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ خطرہ محسوس ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت طلحہ کے گھوڑے پر سوار ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ ہم نے تو اس میں کوئی کمی نہیں دیکھی اور ہم نے تو اسے دریا کی طرح روا پایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الْمَعَارِيضُ مَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ؛٨ص٤٧؛حدیث نمبر٦٢١٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قبر والوں کے حق میں فرمایا کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں دئے جاتے اور حالانکہ وہ بڑا گناہ ہے۔ یحییٰ بن عروہ نے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی (پیشین گوئیوں کی) کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی (کاہن) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس (ایک سچی بات میں) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلشَّيْءِ لَيْسَ بِشَيْءٍ. وَهْوَ يَنْوِي أَنَّهُ لَيْسَ بِحَقّ؛آدمی کا کہنا کہ یہ کوئی چیز نہیں،اس سے مراد یہ ہے کہ یہ سچ نہیں ہے؛٨ص٤٧؛حدیث نمبر٦٢١٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا اور آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا۔(الغاشیہ١٧،١٨) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر مبارک اٹھایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ پھر مجھ پر وحی آنے کا سلسلہ کچھ دنوں کے لئے بند ہو گیا۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ رَفْعِ الْبَصَرِ إِلَى السَّمَاءِ؛آسمان کی طرف نظر کرنا؛٨ص٤٧؛حدیث نمبر٦٢١٤)
کریب کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے ایک رات میمونہ رضی اللہ عنہا (خالہ) کے گھر گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوا یا اس کا بعض حصہ رہ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر اس آیت کی تلاوت کی «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ”بلاشبہ آسمان کی اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ رَفْعِ الْبَصَرِ إِلَى السَّمَاءِ؛آسمان کی طرف نظر کرنا؛٨ص٤٨؛حدیث نمبر٦٢١٥)
ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت کی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس کو پانی اور کیچڑ میں مار رہے تھے۔ اس دوران میں ایک صاحب نے باغ کا دروازہ کھلوانا چاہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لیے دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے۔ میں گیا تو وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے اس مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان کے لیے بھی دروازہ کھولا اور انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنا دی۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا دروازہ کھول دے اور جنت کی خوشخبری سنا دے لیکن اس مصیبت کے ساتھ جو اسے پہنچے گی یا اس کے لیے ہوگی میں گیا تو وہاں عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ ان کے لیے بھی میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی اور وہ بات بھی بتا دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ مددگار ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ نَكْتِ الْعُودِ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ؛پانی اور مٹی میں لکڑی مارنا؛٨ص٤٨؛حدیث نمبر٦٢١٦)
ابوعبدالرحمٰن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین کرید رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے آسانی پیدا کر دی جاتی ہے ۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورۃ واللیل میں ہے «فأما من أعطى واتقى» "تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی۔(الیل ٥) (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الرَّجُلِ يَنْكُتُ الشَّيْءَ بِيَدِهِ فِي الأَرْضِ؛آدمی کا اپنے ہاتھ سے کسی چیز کے ساتھ زمین کریدنا؛٨ص٤٨؛حدیث نمبر٦٢١٧)
ہند بنت حارث نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) بیدار ہوئے اور فرمایا ”سبحان اللہ! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور کس طرح کے فتنے بھی اتارے گئے ہیں۔ کون ہے! جو ان حجرہ والیوں کو جگائے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ وہ نماز پڑھ لیں کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اور ابن ابی ثور نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کیا آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا اللہ اکبر! (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ عِنْدَ التَّعَجُّبِ؛تعجب کے وقت تکبیر تسبیح؛٨ص٤٨؛حدیث نمبر٦٢١٨)
ابو الیمان،شعیب نے زہری سے روایت کی ہے۔ حضرت علی بن حسین کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کئے ہوئے تھے۔ عشاء کے وقت تھوڑی دیر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں اور واپس لوٹنے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ جب وہ مسجد کے اس دروازہ کے پاس پہنچیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا، تو ادھر سے دو انصاری صحابی گزرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آگے بڑھ گئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاؤ۔ یہ صفیہ بنت حی میری بیوی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ۔ان دونوں کو یہ بات عجب لگی ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے، اس لیے مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی شبہ نہ ڈال دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ عِنْدَ التَّعَجُّبِ؛تعجب کے وقت تکبیر تسبیح؛٨ص٤٨؛حدیث نمبر٦٢١٩)
عقبہ بن صہبان ازدی کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے ممانعت فرمائی ہے اور ارشاد ہوا کہ اس کے ساتھ نہ شکار مارا جاتا ہے اور نہ دشمن کو ضرب پہنچتی ہے بلکہ یہ تو آنکھ پھوڑتی یا دانت توڑتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْخَذْفِ؛کنکری پھینکنے کی ممانعت؛٨ص٤٩؛حدیث نمبر٦٢٢٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو اصحاب چھینکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کا جواب یرحمک اللہ (اللہ تم پر رحم کرے) سے دیا اور دوسرے کا نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا (اس لیے اس کا جواب دیا) اور دوسرے نے الحمدللہ نہیں کہا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ الحمد للعاطس؛ چھینکنے والا الحمد للہ کہے؛٨ص٤٩؛حدیث نمبر٦٢٢١)
اس کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ معاویہ بن سوید بن مقرن کا بیان ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات کاموں سے روکا تھا، ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی مزاج پرسی کرنے، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب دینے، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے، سلام کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھا لینے والے کی قسم پوری کرنے میں مدد دینے کا حکم دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں سے روکا تھا، سونے کی انگوٹھی سے، یا بیان کیا کہ سونے کے چھلے سے، ریشم اور دیباج اور سندس (دیباج سے باریک ریشمی کپڑا) پہننے سے اور ریشمی زین سے منع فرمایا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ؛چھینک کر الحمد للہ کہنے والے کا جواب؛٨ص٤٩؛حدیث نمبر٦٢٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے اور الحمدللہ کہے تو ہر مسلمان پر جو اسے سنے، حق ہے کہ اس کا جواب یرحمک اللہ سے دے۔ لیکن جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے جہاں تک ہو سکے اسے روکے کیونکہ جب وہ منہ کھول کر ہاہاہا کہتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْعُطَاسِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ التَّثَاؤُبِ؛چھینک کے وقت کیا مستحب ہے اور جماہی کے وقت کیا مکروہ ہے؛٨ص٤٩؛حدیث نمبر٦٢٢٣)
ابوصالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی چھینکے تو «الحمد الله» کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی (راوی کو شبہ تھا) «يرحمك الله» کہے۔ جب ساتھی «يرحمك الله» کہے تو اس کے جواب میں چھینکنے والا «يهديكم الله ويصلح بالكم» ۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ إِذَا عَطَسَ كَيْفَ يُشَمَّتُ؛چھینکنے والے کو کیا جواب دے؛٨ص٤٩؛حدیث نمبر٦٢٢٤)
سلیمان تیمی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں نے چھینکا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کی چھینک پر یرحمک اللہ کہا اور دوسرے کی چھینک پر نہیں کہا۔ اس پر دوسرا شخص بولا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ان کی چھینک پر یرحمک اللہ فرمایا۔ لیکن میری چھینک پر نہیں فرمایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے الحمدللہ کہا تھا اور تم نے نہیں کہا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛ بَابُ لاَ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ إِذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ؛اگر چھینکنے والا الحمد للہ نہ کہے؛٨ص٥٠؛حدیث نمبر٦٢٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے جب تم میں سے کسی کو چھینک آے اور وہ الحمد للہ کہے تو ہر مسلمان پر حق ہے جو اسے سنے کہ اس سے یرحمک اللہ کہے اور جماہی شیطان کی طرف سے ہے ہے اس لیے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق اسے روکے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْأَدَبِ؛بَابُ اذا تثاوب فلیضع یدہ علی فیہ؛جب جمائی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے؛٨ص٥٠؛حدیث نمبر٦٢٢٦)
Bukhari Shareef : Kitabul Adab
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الأَدَبِ
|
•