asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Istezan

From 6227 to 6303

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ جب انہیں پیدا کر دیا تو فرمایا کہ جاؤ اور ان فرشتوں کو جو بیٹھے ہوئے ہیں، سلام کرو اور غور سے سنو کہ تمہارے سلام کا کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم! فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ، انہوں نے آدم کے سلام پر ”ورحمۃ اللہ“ بڑھا دیا۔ پس جو شخص بھی جنت میں جائے گا وہ حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا ۔“ان کے بعد سے اب تک انسانوں کے قد میں کمی ہوتی آرہی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ بَدْءِ السَّلاَمِ؛٨ص٥٠؛حدیث نمبر٦٢٢٧)

كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ بَابُ بَدْءِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ: اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ، النَّفَرِ مِنَ المَلاَئِكَةِ، جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَزَادُوهُ: وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّى الآنَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6227

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان "اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکِنوں پر سلام نہ کرلو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو۔ پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ جب بھی بے ما لکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔ اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے اور اللہ جانتا ہے جوتم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو"۔(النور٢٧،٢٨،٢٩) اور سعید بن ابو الحسن نے (اپنے بھائی) حسن بصری سے کہا کہ عجمی عورتیں سینہ اور سر کھولے رہتی ہیں۔ تو حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ ان سے اپنی نگاہ پھیر لو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”مومنوں سے کہہ دیجئیے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔“(النور ٣٠)قتادہ کا بیان ہے کہ یہ ان کے لئے حلال نہیں۔"اور آپ کہہ دیجئیے ایمان والیوں سے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں"(النور٣١)۔ «خائنة الأعين» سے مراد اس چیز کی طرف دیکھنا ہے، جس سے منع کیا گیا ہے۔ زہری نے نابالغ لڑکیوں کو دیکھنے کے سلسلہ میں کہا کہ ان کی بھی کسی ایسی چیز کی طرف نظر نہ کرنی چاہئے جسے دیکھنے سے شہوت نفسانی پیدا ہو سکتی ہو۔ خواہ وہ لڑکی چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ عطاء نے ان لونڈیوں کی طرف نظر کرنے کو مکروہ کہا ہے، جو مکہ میں بیچی جاتی ہیں۔ ہاں اگر انہیں خریدنے کا ارادہ ہو تو جائز ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ بَدْءِ السَّلاَمِ؛٨ص٥٠) سلیمان بن یسار کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو قربانی کے دن اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ وہ خوبصورت شخص تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مسائل بتانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران میں قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔ فضل بھی اس عورت کو دیکھنے لگے۔ اس کا حسن و جمال ان کو بھلا معلوم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو فضل اسے دیکھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر فضل کی تھوڑی پکڑی اور ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔ پھر اس عورت نے عرض کیا:یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا لیکن میرے والد بوڑھے ہو چکے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛باب اور ذکر ہوچکا ہے؛٨ص٥١؛حدیث نمبر٦٢٢٨)

قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا، وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا، ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَّكَّرُونَ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلاَ تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ، وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ، وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ، لَيْسَ -[51]- عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَكُمْ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ} [النور: 28] وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الحَسَنِ، لِلْحَسَنِ: إِنَّ نِسَاءَ العَجَمِ يَكْشِفْنَ صُدُورَهُنَّ وَرُءُوسَهُنَّ؟ قَالَ: «اصْرِفْ بَصَرَكَ عَنْهُنَّ»، قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ} [النور: 30] وَقَالَ قَتَادَةُ: " عَمَّا لاَ يَحِلُّ لَهُمْ {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ} [النور: 31] {خَائِنَةَ الأَعْيُنِ} [غافر: 19]: مِنَ النَّظَرِ إِلَى مَا نُهِيَ عَنْهُ " وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: فِي النَّظَرِ إِلَى الَّتِي لَمْ تَحِضْ مِنَ النِّسَاءِ: لاَ يَصْلُحُ النَّظَرُ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُنَّ، مِمَّنْ يُشْتَهَى النَّظَرُ إِلَيْهِ، وَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً وَكَرِهَ عَطَاءٌ، النَّظَرَ إِلَى الجَوَارِي الَّتِي يُبَعْنَ بِمَكَّةَ إِلَّا أَنْ يُرِيدَ أَنْ يَشْتَرِيَ حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ النَّحْرِ خَلْفَهُ عَلَى عَجُزِ رَاحِلَتِهِ، وَكَانَ الفَضْلُ رَجُلًا وَضِيئًا، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ الفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِذَقَنِ الفَضْلِ، فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6228

عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو! صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!ہمیں ایسی جگہوں پر بیٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیوں کہ ہم باتیں کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جب تم ان مجلسوں میں بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستے کا حق ادا کیا کرو یعنی راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے یا رسول اللہ! فرمایا نظر نیچی رکھنا،اذیت دینے والی چیز کو ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛باب اور ذکر ہوچکا ہے؛٨ص٥١؛حدیث نمبر٦٢٢٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ: «إِذْ أَبَيْتُمْ إِلَّا المَجْلِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ» قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «غَضُّ البَصَرِ، وَكَفُّ الأَذَى، وَرَدُّ السَّلاَمِ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ المُنْكَرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6229

ارشاد باری تعالیٰ:"جب کوئی تہنیت دے تو اسے بہتر جواب دو یا وہی الفاظ لوٹا دو"(النساء٨٦) شقیق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے ”سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے،سلام ہو جبرائیل پر، سلام ہو میکائیل پر، سلام ہو فلاں پر، پھر (ایک مرتبہ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ ہی سلام ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو «التحيات لله،‌‌‌‏ والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته،‌‌‌‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين‏.‏» الخ پڑھا کرے۔ کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑھے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی۔ «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله‏.‏» اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ السَّلاَمُ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى؛السلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے؛٨ص٥١؛حدیث نمبر٦٢٣٠)

بَابٌ: السَّلاَمُ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا} [النساء: 86] حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى مِيكَائِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الكَلاَمِ مَا شَاءَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6230

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چھوٹا بڑے کو،گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم زیادہ کو سلام کریں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ تَسْلِيمِ الْقَلِيلِ عَلَى الْكَثِيرِ؛کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کرے؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣١)

بَابُ تَسْلِيمِ القَلِيلِ عَلَى الكَثِيرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الكَبِيرِ، وَالمَارُّ عَلَى القَاعِدِ، وَالقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6231

ثابت مولیٰ عبد الرحمن بن زید کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار پیدل کو،چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم زیادہ کو سلام کریں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي؛سوار پیدل کو سلام کرے؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٢)

بَابُ تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى المَاشِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى المَاشِي، وَالمَاشِي عَلَى القَاعِدِ، وَالقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6232

ثابت مولیٰ عبد الرحمن بن زید کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار پیدل کو،چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم زیادہ کو سلام کریں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ تَسْلِيمِ الْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ؛پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٣)

بَابُ تَسْلِيمِ المَاشِي عَلَى القَاعِدِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، أَخْبَرَهُ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى المَاشِي، وَالمَاشِي عَلَى القَاعِدِ، وَالقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6233

عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، گزرنے والا بیٹھنے والے کو اور کم تعداد والے بڑی تعداد والوں کو۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ تَسْلِيمِ الصَّغِيرِ عَلَى الْكَبِيرِ؛چھوٹا بڑے کو سلام کرے؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٤)

بَابُ تَسْلِيمِ الصَّغِيرِ عَلَى الكَبِيرِ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الكَبِيرِ، وَالمَارُّ عَلَى القَاعِدِ، وَالقَلِيلُ عَلَى الكَثِيرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6234

معاویہ بن سوید بن مقرن کا بیان ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی مزاج پرسی کرنے کا، جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کے جواب دینے کا۔ کمزور کی مدد کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا،سلام پھیلانے کا اور قسم کا پورا کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا تھا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے ہمیں منع فرمایا تھا۔ میثر (ریشم کی زین) پر سوار ہونے سے، ریشم اور دیباج پہننے، قسی (ریشمی کپڑا) اور استبرق پہننے سے (منع فرمایا تھا)۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِفْشَاءِ السَّلاَمِ؛سلام کو پھیلانا؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٥)

بَابُ إِفْشَاءِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ: بِعِيَادَةِ المَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ العَاطِسِ، وَنَصْرِ الضَّعِيفِ، وَعَوْنِ المَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ، وَإِبْرَارِ المُقْسِمِ. وَنَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي الفِضَّةِ، وَنَهَانَا عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ رُكُوبِ المَيَاثِرِ، وَعَنْ لُبْسِ الحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالقَسِّيِّ، وَالإِسْتَبْرَقِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6235

ابوالخیر نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام میں کیا بہتر ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کھانا کھلانا اور سلام کرنا خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ السَّلاَمِ لِلْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِ الْمَعْرِفَةِ؛جاننے والا اور انجان کو سلام کرنا؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٦)

بَابُ السَّلاَمِ لِلْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِ المَعْرِفَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَعَلَى مَنْ لَمْ تَعْرِفْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6236

عطاء بن یزید لیثی نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کسی مسلمان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے کہ جب وہ ملے تو ایک ادھر منہ پھیر لے اور دوسرا ادھر اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔سفیان کا بیان ہے کہ انہوں نے اسے تین دفعہ زہری سے سنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ السَّلاَمِ لِلْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِ الْمَعْرِفَةِ؛جاننے والا اور انجان کو سلام کرنا؛٨ص٥٣؛حدیث نمبر٦٢٣٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثٍ، يَلْتَقِيَانِ: فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلاَمِ " وَذَكَرَ سُفْيَانُ: أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6237

ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ (ہجرت کر کے) تشریف لائے تو ان کی عمر دس سال تھی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے باقی دس سالوں میں آپ کی خدمت کی اور میں پردہ کے حکم کے متعلق سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ کب نازل ہوا تھا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ پردہ کے حکم کا نزول سب سے پہلے اس رات ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ زفاف کیا۔صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت عروسی میں تھے اور آپ نے صحابہ کو دعوت ولیمہ پر بلایا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ چلے گئے لیکن چند آدمی آپ کے پاس بیٹھے رہ گئے اور بہت دیر تک وہیں ٹھہرے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا تاکہ وہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم چلتے رہے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا اور سمجھا کہ وہ لوگ اب چلے گئے ہیں۔ اس لیے واپس تشریف لائے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا لیکن آپ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ وہاں سے لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ گیا۔ جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی چوکھٹ تک پہنچے تو آپ نے سمجھا کہ وہ لوگ نکل چکے ہوں گے۔ پھر آپ لوٹ کر آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا تو واقعی وہ لوگ جا چکے تھے۔ پھر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ آيَةِ الْحِجَابِ؛پردہ کی آیت کے بارے میں؛٨ص٥٣؛حدیث نمبر٦٢٣٨)

بَابُ آيَةِ الحِجَابِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ، مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ، فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا حَيَاتَهُ، وَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، «أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا القَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ثُمَّ خَرَجُوا، وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا المُكْثَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ كَيْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَتَفَرَّقُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَظَنَّ أَنْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَأُنْزِلَ آيَةُ الحِجَابِ، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6238

ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت کا شرف بخشا سےتو لوگ اندر آئے اور کھانا کھایا پھر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اظہار کیا گویا آپ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو کھڑے ہو گئے۔ آپ کے کھڑے ہونے پر قوم کے جن لوگوں کو کھڑا ہونا تھا وہ بھی کھڑے ہو گئے لیکن بعض لوگ اب بھی بیٹھے رہے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہونے کے لیے تشریف لائے تو کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے (آپ واپس ہو گئے) اور پھر جب وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور چلے گئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي‏» ”اے ایمان والو! نبی کے گھر میں نہ حاضر ہو۔“(الاحزاب ٥٣آخر تک۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ آيَةِ الْحِجَابِ؛پردہ کی آیت کے بارے میں؛٨ص٥٣؛حدیث نمبر٦٢٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، دَخَلَ القَوْمُ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ القَوْمِ وَقَعَدَ بَقِيَّةُ القَوْمِ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا القَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ} [الأحزاب: 53] الآيَةَ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: " فِيهِ مِنَ الفِقْهِ: أَنَّهُ لَمْ يَسْتَأْذِنْهُمْ حِينَ قَامَ وَخَرَجَ، وَفِيهِ: أَنَّهُ تَهَيَّأَ لِلْقِيَامِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَقُومُوا "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6239

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کو پردے میں رکھا کیجئے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور ازواج مطہرات رفع حاجت کے لیے صرف رات ہی کے وقت نکلتی تھیں (اس وقت گھروں میں بیت الخلاء نہیں تھے) ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا باہر گئی ہوئی تھیں۔ ان کا قد لمبا تھا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا۔ اس وقت وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا سودہ میں نے آپ کو پہچان لیا یہ انہوں نے اس لیے کہا کیونکہ وہ پردہ کے حکم نازل ہونے کے بڑے متمنی تھے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیت نازل کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ آيَةِ الْحِجَابِ؛پردہ کی آیت کے بارے میں؛٨ص٥٣؛حدیث نمبر٦٢٤٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْجُبْ نِسَاءَكَ، قَالَتْ: فَلَمْ يَفْعَلْ، " وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْنَ لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ قِبَلَ المَنَاصِعِ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ وَهُوَ فِي المَجْلِسِ، فَقَالَ: عَرَفْتُكِ يَا سَوْدَةُ، حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الحِجَابُ " قَالَتْ: «فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ الحِجَابِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6240

زہری کا بیان ہے کہ مجھے اس حدیث کے صحیح ہونے پر ایسا ہی یقین ہے جیسا تمہارے یہاں ہونے پر کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں سوراخ سے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک کنگھا تھا جس سے آپ سر مبارک کھجا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں اسے تیری آنکھ میں مارتا۔اجازت لینے کا حکم اسی دیکھنے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ؛نظر پڑ جانے کے سبب اجازت لینے کا حکم؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤١)

بَابٌ: الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ البَصَرِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: الزُّهْرِيُّ، - حَفِظْتُهُ كَمَا أَنَّكَ هَا هُنَا - عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ البَصَرِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6241

عبید اللہ بن ابوبکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرے میں جھانک کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل یا کئی پھل لے کر گئے اور گویا یا آپ اسے تلاش کر رہے تھے کہ اس کی آنکھ میں تیر مار دیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤٢)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ، أَوْ: بِمَشَاقِصَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُ الرَّجُلَ لِيَطْعُنَهُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6242

طاؤس کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے زیادہ لمم سے مشابہ اور کسی کی بات نہیں دیکھی۔دوسری روایت کی ہے کہ میں نے کسی کے قول کو لمم سے مشابہت رکھنے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زنا میں جو انسان کا حصہ مقرر فرما دیا ہے وہ یقیناً اسے مل جاتا ہے،چناچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے،زبان کا زنا بات کرنا،نفس کا زنا خواہش و تمنا کرنا اور شرمگاہ ان سب کی تصدیق یا تردید کردیتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ زِنَا الْجَوَارِحِ دُونَ الْفَرْجِ؛شرمگاہ کے سوا دوسرے اعضاء کا زنا؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤٣)

بَابُ زِنَا الجَوَارِحِ دُونَ الفَرْجِ حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمْ أَرَ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا العَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ المَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6243

ثمامہ بن عبد اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام کرتے تو تین مرتبہ کرتے اور جب کچھ فرماتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ التَّسْلِيمِ وَالاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثًا؛سلام کرنا اور تین مرتبہ اجازت لینا؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤٤)

بَابُ التَّسْلِيمِ وَالِاسْتِئْذَانِ ثَلاَثًا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلاَثًا، وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6244

بسر بن سعید کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا، اس لیے واپس چلا آیا (عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا) تو انہوں نے دریافت کیا کہ (اندر آنے میں) کیا بات مانع تھی؟ میں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی اور جب مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو واپس چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت چاہے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلا جانا چاہئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہیں اس حدیث کی صحت کے لیے کوئی گواہ لانا ہو گا۔ (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجلس والوں سے پوچھا) کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہو؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم!آپ کی گواہی دے گا جو لوگوں میں سب سے چھوٹا ہو۔حضرت ابوسعید نے کہا اور میں ہی جماعت کا وہ سب سے کم عمر آدمی تھا میں ان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے۔ اور ابن مبارک نے بیان کیا کہ مجھ کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا، انہوں نے بسر بن سعید سے، کہا میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا پھر یہی حدیث نقل کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ التَّسْلِيمِ وَالاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثًا؛سلام کرنا اور تین مرتبہ اجازت لینا؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ، إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ، فَقَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ ثَلاَثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ؟ قُلْتُ: اسْتَأْذَنْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ» فَقَالَ: وَاللَّهِ لَتُقِيمَنَّ عَلَيْهِ بِبَيِّنَةٍ، أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ أُبَيُّ- بْنُ كَعْبٍ: وَاللَّهِ لاَ يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ القَوْمِ، فَكُنْتُ أَصْغَرَ القَوْمِ فَقُمْتُ مَعَهُ، فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ وَقَالَ ابْنُ المُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، بِهَذَا

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6245

سعید نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہی (بلانا) اس کے لیے اجازت ہے۔“ مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کے گھر میں) داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا ”ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جا اور انہیں میرے پاس بلا لا۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بلا لایا۔ وہ آئے اور (اندر آنے کی) اجازت چاہی پھر جب اجازت دی گئی تو داخل ہوئے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ إِذَا دُعِيَ الرَّجُلُ فَجَاءَ هَلْ يَسْتَأْذِنُ؛جب کسی شخص کو بلایا جائے تو کیا وہ بھی اجازت مانگے؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٤٦)

بَابُ إِذَا دُعِيَ الرَّجُلُ فَجَاءَ هَلْ يَسْتَأْذِنُ قَالَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هُوَ إِذْنُهُ» حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، أَخْبَرَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ: «أَبَا هِرٍّ، الحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ إِلَيَّ» قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا، فَأُذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6246

ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہی تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛بچوں کو سلام کرنا؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٤٧)

بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الصِّبْيَانِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ» وَقَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6247

ابو حازم کا بیان ہے کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم جمعہ کے دن کی بڑی خوشی مناتے۔ میں نے عرض کی کس لیے؟ہمارے یہاں ایک بڑی بی تھیں جو ہمیں بضاعہ کی جانب بھیجتی تھیں۔۔ ابن مسلمہ نے کہا کہ بضاعہ مدینہ منورہ کا کھجور کا ایک باغ تھا۔ پھر وہ وہاں سے چقندر لایا کرتی تھیں اور اسے ہانڈی میں ڈالتی تھیں اور جَو کے کچھ دانے پیس کر (اس میں ملاتی تھیں) جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو انہیں سلام کرنے آتے اور وہ یہ چقندر کی جڑ میں آٹا ملی ہوئی دعوت ہمارے سامنے رکھتی تھیں ہم اس وجہ سے جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے اور قیلولہ یا دوپہر کا کھانا ہم جمعہ کے بعد کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ تَسْلِيمِ الرِّجَالِ عَلَى النِّسَاءِ، وَالنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ؛مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٤٨)

بَابُ تَسْلِيمِ الرِّجَالِ عَلَى النِّسَاءِ، وَالنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ: «كُنَّا نَفْرَحُ يَوْمَ الجُمُعَةِ» قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: " كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ، تُرْسِلُ إِلَى بُضَاعَةَ - قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ: نَخْلٍ بِالْمَدِينَةِ - فَتَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ السِّلْقِ، فَتَطْرَحُهُ فِي قِدْرٍ، وَتُكَرْكِرُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ، فَإِذَا صَلَّيْنَا الجُمُعَةَ انْصَرَفْنَا، وَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَتُقَدِّمُهُ إِلَيْنَا، فَنَفْرَحُ مِنْ أَجْلِهِ، وَمَا كُنَّا نَقِيلُ وَلاَ نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الجُمُعَةِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6248

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں بیان کیا کہ میں نے عرض کیا «وعليه السلام ورحمة الله» آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے ام المؤمنین کا اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔ معمر کے ساتھ اس حدیث کو شعیب اور یونس اور نعمان نے بھی زہری سے روایت کیا ہے یونس اور نعمان کی روایتوں میں «وبركاته‏.» کا لفظ زیادہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ تَسْلِيمِ الرِّجَالِ عَلَى النِّسَاءِ، وَالنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ؛مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٤٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ» قَالَتْ: قُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، تَرَى مَا لاَ نَرَى، تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَابَعَهُ شُعَيْبٌ، وَقَالَ يُونُسُ، وَالنُّعْمَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: وَبَرَكَاتُهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6249

محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون ہیں؟ میں نے کہا ”میں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں، میں“گویا آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ إِذَا قَالَ مَنْ ذَا فَقَالَ أَنَا؛جب کوئی کہے کہ کونے؟تو جواب میں کہے کہ میں؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٥٠)

بَابُ إِذَا قَالَ: مَنْ ذَا؟ فَقَالَ: أَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي، فَدَقَقْتُ البَابَ، فَقَالَ: «مَنْ ذَا» فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: «أَنَا أَنَا» كَأَنَّهُ كَرِهَهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6250

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا:وعلیہ السلام ورحمت اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتوں نے حضرت آدم کو جواب دیا:السلام علیک ورحمت اللہ۔ سعید بن ابو سعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں رونق افروزتھے۔ اس نے نماز پڑھی اور پھر حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعلیک السلام واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور نماز پڑھی۔ پھر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئے اور سلام کیا آپ نے فرمایا وعلیک السلام۔ واپس جاؤ پھر نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور اس نے پھر نماز پڑھی۔ پھر واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا وعلیکم السلام۔ واپس جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ ان صاحب نے دوسری مرتبہ، یا اس کے بعد، عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نماز سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہو، اس کے بعد قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو وہ پڑھو، پھر رکوع کرو حتیٰ کہ رکوع میں اطمینان حاصل ہوجایا کرے تو سر اٹھاؤ۔ جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو پھر سجدہ میں جاؤ، جب سجدہ پوری طرح کر لو تو سر اٹھاؤ اور اچھی طرح سے بیٹھ جاؤ۔ یہی عمل اپنی ہر رکعت میں کرو۔ اور ابواسامہ راوی نے دوسرے سجدہ کے بعد یوں کہا کہ پھر سر اٹھا یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ مَنْ رَدَّ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ:؛جواب میں علیک السلام کہنا؛٨ص٥٦؛حدیث نمبر٦٢٥١) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر سر سجدہ سے اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ مَنْ رَدَّ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ:؛جواب میں علیک السلام کہنا؛٨ص٥٦؛حدیث نمبر٦٢٥٢)

بَابُ مَنْ رَدَّ فَقَالَ: عَلَيْكَ السَّلاَمُ وَقَالَتْ عَائِشَةُ: «وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَدَّ المَلاَئِكَةُ عَلَى آدَمَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ المَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ المَسْجِدِ، فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَقَالَ فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَسْبِغِ الوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ القِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا» وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ، فِي الأَخِيرِ: «حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا»، حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6251/6252

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ ان پر بھی اللہ کی طرف سے سلامتی اور اس کی رحمت نازل ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ إِذَا قَالَ فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ؛جب کوئی کہے کہ فلاں آپ کو سلام کہتا ہے؛٨ص٥٦؛حدیث نمبر٦٢٥٣)

بَابُ إِذَا قَالَ: فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، حَدَّثَتْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ» قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6253

عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دراز گوش پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بٹھایا تھا۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس پر سے گزرے جس میں مسلمان، بت پرست، مشرک اور یہودی موجود تھے۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا۔ مجلس میں مسلمانوں میں سے عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپا لی اور کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بولا،جناب آپ کا یہ عمل مجھے پسند نہیں اگر وہ چیز حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ اس پر ابن رواحہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تکرار ہونے لگی اور قریب تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر لڑ پڑنے پر آمادہ تھے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، سعد تم نے نہیں سنا کہ ابوحباب نے آج کیا بات کہی ہے۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ یہ باتیں کہی ہیں۔ سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجئیے اور درگزر فرمائیے۔اس خدا کی قسم جس نے آپ کو یہ مقام عطاء فرمایا۔ اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ التَّسْلِيمِ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ؛ایسی مجلس کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک کا اختلاط ہو؛٨ص٥٦؛حدیث نمبر٦٢٥٤)

بَابُ التَّسْلِيمِ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاَطٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَالمُشْرِكِينَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا، عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ، وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الحَارِثِ بْنِ الخَزْرَجِ، وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، حَتَّى مَرَّ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاَطٌ مِنَ المُسْلِمِينَ وَالمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ وَاليَهُودِ، وَفِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَفِي المَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ المَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لاَ تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ، فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ القُرْآنَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَيُّهَا المَرْءُ، لاَ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَلاَ تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا، وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، فَاسْتَبَّ المُسْلِمُونَ وَالمُشْرِكُونَ وَاليَهُودُ، حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ: «أَيْ سَعْدُ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ - يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ - قَالَ كَذَا وَكَذَا» قَالَ: اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ البَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ، فَيُعَصِّبُونَهُ بِالعِصَابَةِ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6254

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے کہ شرابی کو سلام نہ کرو۔ عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی تھی اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا تھا اور یہ اندازہ لگاتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب سلام میں لب مبارک ہلائے یا نہیں، آخر پچاس دن گزر گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کے قبول کئے جانے کا نماز فجر کے بعد اعلان کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ مَنْ لَمْ يُسَلِّمْ عَلَى مَنِ اقْتَرَفَ ذَنْبًا، وَلَمْ يَرُدَّ سَلاَمَهُ حَتَّى تَتَبَيَّنَ تَوْبَتُهُ، وَإِلَى مَتَى تَتَبَيَّنُ تَوْبَةُ الْعَاصِي؛جو اس وقت تک گناہ گار شخص کو سلام نہ کرے اور نہ جواب دے جب تک وہ گناہوں سے تائب نہ ہو جائے؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٥)

بَابُ مَنْ لَمْ يُسَلِّمْ عَلَى مَنِ اقْتَرَفَ ذَنْبًا، وَلَمْ يَرُدَّ سَلاَمَهُ، حَتَّى تَتَبَيَّنَ تَوْبَتُهُ، وَإِلَى مَتَى تَتَبَيَّنُ تَوْبَةُ العَاصِي وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: «لاَ تُسَلِّمُوا عَلَى شَرَبَةِ الخَمْرِ» حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ: " يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلاَمِنَا، وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي: هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلاَمِ أَمْ لاَ؟ حَتَّى كَمَلَتْ خَمْسُونَ لَيْلَةً، وَآذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى الفَجْرَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6255

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ «السام عليك‏.‏» (تمہیں موت آئے) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا «عليكم السام واللعنة‏.‏» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» (اور تمہیں بھی)۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ كَيْفَ يُرَدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ السَّلاَمُ؛ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٦)

بَابٌ: كَيْفَ يُرَدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ السَّلاَمُ حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ اليَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقَدْ قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6256

عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب یہودی تمہیں سلام کرے تو ان کے جواب میں وعلیکم کہ دیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ كَيْفَ يُرَدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ السَّلاَمُ؛ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ اليَهُودُ، فَإِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمْ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: وَعَلَيْكَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6257

عبید اللہ بن ابوبکر بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو ان کے جواب میں وعلیکم کہ دیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ كَيْفَ يُرَدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ السَّلاَمُ؛ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٨)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الكِتَابِ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6258

ابوعبدالرحمٰن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر بن عوام اور ابومرثد غنوی کو بھیجا۔ ہم سب گھوڑ سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین کے پاس بھیجا گیا ہے (اسے لے آؤ)۔ بیان کیا کہ ہم نے اس عورت کو پا لیا وہ اپنے اونٹ پر جا رہی تھی اور وہیں پر ملی (جہاں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ بیان کیا کہ ہم نے اس سے کہا کہ خط جو تم ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوہ میں تلاشی لی لیکن ہمیں کوئی چیز نہیں ملی۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کوئی خط تو نظر آتا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے کہا، مجھے یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی ہے۔ قسم ہے اس کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تم خط نکالو ورنہ میں تمہیں برہنہ کر دوں گا۔ بیان کیا کہ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں واقعی اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو اس نے ازار باندھنے کی جگہ کی طرف ہاتھ بڑھایا، وہ ایک چادر ازار کے طور پر باندھے ہوئے تھی اور خط نکالا۔ بیان کیا کہ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ حاطب تم نے ایسا کیوں کیا؟عرض کی کہ اس کے اور کچھ نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں،نہ مجھ میں تبدیلی آئی اور نہ میں بدلا ہوں میرا ارادہ ہوا کہ قوم پر کوئی احسان کروں جس کے سبب اللہ میرے جان اور مال کو لوٹنے سے انہیں روکے رکھے اور آپ کے صحابہ میں سے وہاں میرا کوئی رشتہ دار نہیں جس کے سبب اللہ میری جان و مال کی حفاظت فرمائے۔آپ نے فرمایا کہ سچ کہا،ان سے اچھی بات کے سوا اور کچھ نہ کہنا۔راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ!مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن اڑا دوں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا۔اے عمر! تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے حالات پر مطلع ہوتے ہوئے فرمایا کہ جو چاہو کرو،کیونکہ تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی ہے۔حضرت علی کا بیان ہے کہ پھر حضرت عمر اشکبار ہوگئے اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب من نظر فی کتاب من یحذر علی المسلمین لیستبین امرہ؛؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٩)

بَابُ مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ مَنْ يُحْذَرُ عَلَى المُسْلِمِينَ لِيَسْتَبِينَ أَمْرُهُ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ بُهْلُولٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ بْنَ العَوَّامِ وَأَبَا مَرْثَدٍ الغَنَوِيَّ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ، فَقَالَ: «انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ»، فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ المُشْرِكِينَ، مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى المُشْرِكِينَ، قَالَ: فَأَدْرَكْنَاهَا تَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: أَيْنَ الكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ؟ قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَأَنَخْنَا بِهَا، فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا، قَالَ صَاحِبَايَ: مَا نَرَى كِتَابًا، قَالَ: قُلْتُ: لَقَدْ عَلِمْتُ مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ، لَتُخْرِجِنَّ الكِتَابَ أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَتِ الجِدَّ مِنِّي أَهْوَتْ بِيَدِهَا إِلَى حُجْزَتِهَا، وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ، فَأَخْرَجَتِ الكِتَابَ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا حَمَلَكَ يَا حَاطِبُ عَلَى مَا صَنَعْتَ» قَالَ: مَا بِي إِلَّا أَنْ أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَا غَيَّرْتُ وَلاَ بَدَّلْتُ، أَرَدْتُ أَنْ تَكُونَ لِي عِنْدَ القَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِكَ هُنَاكَ إِلَّا وَلَهُ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، قَالَ: «صَدَقَ، فَلاَ تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا» قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ: إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالمُؤْمِنِينَ، فَدَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَالَ: فَقَالَ: " يَا عُمَرُ، وَمَا يُدْرِيكَ، لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الجَنَّةُ " قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَا عُمَرَ وَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6259

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل نے قریش کے چند افراد کے ساتھ انہیں بھی بلا بھیجا یہ لوگ شام تجارت کی غرض سے گئے تھے سب لوگ ہرقل کے پاس آئے پھر انہوں نے واقعہ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور وہ پڑھا گیا خط میں یہ لکھا ہوا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ ہرقل شاہ روم کی طرف، سلام ہو ان پر جنہوں نے ہدایت کی اتباع کی۔ امابعد! (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْكِتَابُ إِلَى أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب کے لئے خط کس طرح لکھا جائے؟؛٨ص٥٨؛حدیث نمبر٦٢٦٠)

بَابٌ: كَيْفَ يُكْتَبُ الكِتَابُ إِلَى أَهْلِ الكِتَابِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَكَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ، فَأَتَوْهُ - فَذَكَرَ الحَدِيثَ - قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُرِئَ، فَإِذَا فِيهِ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، السَّلاَمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهُدَى، أَمَّا بَعْدُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6260

عبدالرحمٰن بن ہرمز نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ انہوں نے لکڑی کا ایک لٹھا لیا اور اس میں سوراخ کر کے ایک ہزار دینار اور خط رکھ دیا وہ ان کی طرف سے ان کے ساتھی (قرض خواہ) کی طرف تھا اور عمر بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے ایک لکڑی لے کر کھوکھلی کی اور مال اس کے اندر رکھ دیا اور ان کے پاس ایک خط لکھا، فلاں کی طرف سے فلاں کے لیے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب؛بمن یبدأفی الکتاب؛٨ص٥٨؛حدیث نمبر٦٢٦١)

بَابٌ: بِمَنْ يُبْدَأُ فِي الكِتَابِ وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا، فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ، وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهِ»، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَجَرَ خَشَبَةً، فَجَعَلَ المَالَ فِي جَوْفِهَا، وَكَتَبَ إِلَيْهِ صَحِيفَةً: مِنْ فُلاَنٍ إِلَى فُلاَنٍ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6261

ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لیے کھڑے ہوجاؤ یا فرمایا کہ اپنے بہتر شخص کے لئے کھڑے ہوجاؤپھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر (قلعہ سے) اتر آئے ہیں (اب تم کیا فیصلہ کرتے ہو)۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں جو جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو حکم فرمایا امام بخاری نے بیان کیا کہ مجھے میرے بعض اصحاب نے ابوالولید کے واسطہ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول ( «على» کے بجائے بصلہ «إلى حكمك‏.‏» نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لیے کھڑے ہوجاؤ؛٨ص٥٨؛حدیث نمبر٦٢٦٢)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ» حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ قَالَ: خَيْرِكُمْ " فَقَعَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ» قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، فَقَالَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ بِمَا حَكَمَ بِهِ المَلِكُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي، عَنْ أَبِي الوَلِيدِ، مِنْ قَوْلِ أَبِي سَعِيدٍ: «إِلَى حُكْمِكَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6262

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا اور میرا ہاتھ آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں تھا۔کعب بن مالک کا بیان ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے۔پس حضرت طلحہ بن عبید اللہ میری طرف بڑھے،مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب المصافحۃ؛٨ص٥٩؛) قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کا دستور تھا؟انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب المصافحۃ؛٨ص٥٩؛حدیث نمبر٦٢٦٣)

بَابُ المُصَافَحَةِ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ، وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ» وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: «دَخَلْتُ المَسْجِدَ، فَإِذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي» حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَكَانَتِ المُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6263

یحییٰ بن سلیمان،ابن وہب،حیات،ابو عقیل زہرہ بن سعد کا بیان ہے کہ ان کے جد امجد حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب المصافحۃ؛٨ص٥٩؛حدیث نمبر٦٢٦٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6264

حماد بن زید نے عبد اللہ بن مبارک کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ ابومعمر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا، اس وقت میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا (اس طرح سکھایا) جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات،‌‌‌‏ السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته،‌‌‌‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين،‌‌‌‏ أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله‏.‏» چونکہ اس وقت آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔جب آپ کا وصال ہوگیا تو ہم اس طرح پڑھنے لگے «السلام‏.‏ على النبي» یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ الأَخْذِ بِالْيَدَيْنِ؛دونوں کا ہاتھ پکڑنا؛٨ص٥٩؛حدیث نمبر٦٢٦٥)

بَابُ الأَخْذِ بِاليَدَيْنِ وَصَافَحَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ابْنَ المُبَارَكِ بِيَدَيْهِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ، التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ القُرْآنِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا، فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا: السَّلاَمُ - يَعْنِي - عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6265

عبداللہ بن کعب کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبداللہ بن کعب بن مالک کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس مرض میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ لوگوں نے کہا: اے ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بحمدللہ بہتر حالات میں ہیں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ عباس رضی اللہ عنہ نے پکڑ کر کہا۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تین دن کے بعد خدا کی قسم تم لاٹھی سے ہانکے جاؤ گے۔ واللہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرض میں آپ وصال فرما جائیں گے۔ میں بنی عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے آثار کو خوب پہچانتا ہوں، اس لیے ہمارے ساتھ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ تاکہ پوچھا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کس کے ہاتھ میں رہے گی اگر وہ ہمیں لوگوں کو ملتی ہے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر دوسروں کے پاس جائے گی تو ہم عرض کریں گے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں کچھ وصیت کریں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کی درخواست کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں کبھی نہیں دیں گے میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں پوچھوں گا کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ الْمُعَانَقَةِ وَقَوْلِ الرَّجُلِ كَيْفَ أَصْبَحْتَ؛معانقہ کرنے اور دوسرے کا مزاج پوچھنا؛٨ص٥٩؛حدیث نمبر٦٢٦٦)

بَابُ المُعَانَقَةِ، وَقَوْلِ الرَّجُلِ كَيْفَ أَصْبَحْتَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا» فَأَخَذَ بِيَدِهِ العَبَّاسُ فَقَالَ: أَلاَ تَرَاهُ، أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ الثَّلاَثِ عَبْدُ العَصَا، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى فِي وَجَعِهِ، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ المَوْتَ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْأَلَهُ: فِيمَنْ يَكُونُ الأَمْرُ، فَإِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا أَمَرْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا، قَالَ عَلِيٌّ: «وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَمْنَعُنَا لاَ يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا، وَإِنِّي لاَ أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6266

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! میں نے کہا «لبيك وسعديك‏.‏» (حاضر ہوں)۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ مجھے اسی طرح مخاطب کیا اس کے بعد فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ (پھر خود ہی جواب دیا) کہ یہ کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا کہ اے معاذ! میں نے عرض کی «لبيك وسعديك‏.‏» فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ یہ کر لیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟جب وہ ایسا کریں تو انہیں عذاب نہ دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أَجَابَ بِلَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ؛جو جواب میں لبیک وسعدیک کہے؛٨ص٦٠؛حدیث نمبر٦٢٦٧)

بَابُ مَنْ أَجَابَ بِلَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ: أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ قَالَ مِثْلَهُ ثَلاَثًا: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ» قُلْتُ: لاَ، قَالَ: «حَقُّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ: أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ " حَدَّثَنَا هُدْبَةُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مُعَاذٍ، بِهَذَا

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6267

ہدبہ،ہمام،قتادہ،حضرت انس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مذکورہ حدیث کو روایت کیا ہے۔ زید بن وہب نے بیان کیا (کہا کہ) واللہ ہم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کے وقت مدینہ منورہ کی کالی پتھروں والی زمین پر چل رہا تھا کہ احد پہاڑ دکھائی دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر! اگر میرے پاس کوہ احد جتنا بھی سونا آے اور ایک رات یا تین راتیں گزر جانے کے بعد میرے پاس ایک اشرفی بھی باقی رہ جائے تو یہ مجھے پسند نہیں ہے مگر یہ کہ کسی کا قرض ادا کرنا ہو،ورنہ اللہ کے بندوں پر یوں یوں اور یوں خرچ کر دوں اور ہمیں اپنے دست مبارک کے اشارے سے منظر دکھایا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر! میں نے عرض کیا «لبيك وسعديك‏.‏» یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وافر مال والے قیامت میں قلاش ہوں گے۔مگر جو اللہ کے بندوں پر یوں یوں اور یوں خرچ کریں پھر فرمایا یہیں ٹھہرے رہو ابوذر! یہاں سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں واپس نہ آ جاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی اور مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پریشانی نہ پیش آ گئی ہو۔ اس لیے میں نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے) جانا چاہا لیکن فوراً ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آیا کہ یہاں سے نہ ہٹنا۔ چنانچہ میں وہیں رک گیا (جب آپ تشریف لائے تو) میں نے عرض کی۔ میں نے آواز سنی تھی اور مجھے خطرہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی پریشانی نہ پیش آ جائے پھر مجھے آپ کا ارشاد یاد آیا اس لیے میں یہیں ٹھہر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ میرے پاس آئے تھے اور مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کا جو شخص بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔ (اعمش نے بیان کیا کہ) میں نے زید بن وہب سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس حدیث کے راوی ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں؟ زید نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث مجھ سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں بیان کی تھی۔ اعمش نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوصالح نے حدیث بیان کی اور ان سے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اسی طرح بیان کیا اور ابوشہاب نے اعمش سے بیان کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أَجَابَ بِلَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ؛جو جواب میں لبیک وسعدیک کہے؛٨ص٦٠؛حدیث نمبر٦٢٦٨)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ أَبُو ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ المَدِينَةِ عِشَاءً، اسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا، يَأْتِي عَلَيَّ لَيْلَةٌ أَوْ ثَلاَثٌ، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» وَأَرَانَا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الأَكْثَرُونَ هُمُ الأَقَلُّونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا» ثُمَّ قَالَ لِي: «مَكَانَكَ لاَ تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ» فَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهَبَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْرَحْ» فَمَكُثْتُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ صَوْتًا، خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لَكَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ فَقُمْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ، أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الجَنَّةَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ : «وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ» قُلْتُ لِزَيْدٍ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَحَدَّثَنِيهِ أَبُو ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ. قَالَ الأَعْمَشُ، وَحَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، نَحْوَهُ، وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الأَعْمَشِ: «يَمْكُثُ عِنْدِي فَوْقَ ثَلاَثٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6268

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ؛کوئی شخص کسی دوسرے بیٹھے ہوئے مسلمان بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے؛٨ص٦٠؛حدیث نمبر٦٢٦٩)

بَابٌ: لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6269

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے تاکہ دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھے، البتہ (آنے والے کو مجلس میں) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ: {إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انْشِزُوا فَانْشِزُوا} الآيَةَ؛٨ص٦٠؛حدیث نمبر٦٢٧٠)

بَابُ (إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي المَجْلِسِ، فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انْشِزُوا فَانْشِزُوا) الآيَةَ حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ آخَرُ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ «يَكْرَهُ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسَ مَكَانَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6270

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا تو لوگوں کو (دعوت ولیمہ پر) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں۔ لیکن لوگ (پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے) پھر بھی کھڑے نہیں ہوئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لیے تشریف لائے لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں آیا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ (تین آدمی) بھی جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔(ترجمہ کنز الایمان)"اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسولُ اللہ کو ایذا دو اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے" (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ أَوْ بَيْتِهِ، وَلَمْ يَسْتَأْذِنْ أَصْحَابَهُ، أَوْ تَهَيَّأَ لِلْقِيَامِ لِيَقُومَ النَّاسُ؛بغیر اجازت مجلس سے یا گھر میں کھڑے ہو جانا یا اس لیے کھڑے ہونا کہ لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوں گے؛٨ص٦١؛حدیث نمبر٦٢٧١)

بَابُ مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ أَوْ بَيْتِهِ وَلَمْ يَسْتَأْذِنْ أَصْحَابَهُ، أَوْ تَهَيَّأَ لِلْقِيَامِ لِيَقُومَ النَّاسُ حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي، يَذْكُرُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا النَّاسَ، طَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ» قَالَ: «فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مَعَهُ مِنَ النَّاسِ وَبَقِيَ ثَلاَثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا القَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا» قَالَ: «فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَرْخَى الحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ» وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} [الأحزاب: 53]- إِلَى قَوْلِهِ - {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: 53]

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6271

نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سرین کے بل دونوں گھٹنوں کو ہاتھوں کے گھیرے لے کر تشریف فرما تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِحْتِبَاءِ بِالْيَدِ وَهُوَ الْقُرْفُصَاءُ؛گھٹنوں کو ہاتھوں کے گھیرے میں لے کر بیٹھنا؛٨ص٦١؛حدیث نمبر٦٢٧٢)

بَابُ الِاحْتِبَاءِ بِاليَدِ، وَهُوَ القُرْفُصَاءُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ الحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الكَعْبَةِ، مُحْتَبِيًا بِيَدِهِ» هَكَذَا

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6272

حضرت خباب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ چادر کا تکیہ بناے ہوئے تھے میں نے عرض کی کہ کیا آپ دعا نہیں کریں گے؟تو آپ اٹھ بیٹھے۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں بہت بڑے گناہ کبیرہ نہ بتاؤں لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ!کیوں نہیں۔فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِحْتِبَاءِ بِالْيَدِ وَهُوَ الْقُرْفُصَاءُ؛گھٹنوں کو ہاتھوں کے گھیرے میں لے کر بیٹھنا؛٨ص٦١؛حدیث نمبر٦٢٧٣)

بَابُ مَنِ اتَّكَأَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ قَالَ خَبَّابٌ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً، قُلْتُ: أَلاَ تَدْعُو اللَّهَ، فَقَعَدَ " حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ أُخْبِرُكُمْ- بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6273

مسدد نے بشر سے حدیث نمبر ٦٢٥٣ کے مثل روایت کی ہے کہ آپ ٹیک لگاے ہوے تھے پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جھوٹ بولنے سے بچنا۔آپ متواتر یہی فرماتے رہے حتیٰ کہ ہم نے کہا؛کاش!اپ سکوت فرماے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِحْتِبَاءِ بِالْيَدِ وَهُوَ الْقُرْفُصَاءُ؛گھٹنوں کو ہاتھوں کے گھیرے میں لے کر بیٹھنا؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٤)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، مِثْلَهُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: «أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ» فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6274

ابن ابی ملیکہ نے حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھی اور پھر تیزی سے کاشانہ اقدس میں داخل ہوگئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ لِحَاجَةٍ أَوْ قَصْدٍ؛جو کسی حاجت کی وجہ سے یا قصداً تیز چلے؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٥)

بَابُ مَنْ أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ لِحَاجَةٍ أَوْ قَصْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الحَارِثِ، حَدَّثَهُ قَالَ: «صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العَصْرَ، فَأَسْرَعَ ثُمَّ دَخَلَ البَيْتَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6275

مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تخت کے درمیان نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی رہتی۔اگر کوئی ضرورت ہوتی تو میں آپ کے سامنے سے گزرنا پسند نہ کرتی اور آہستہ آہستہ ایک طرف ہو جاتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛باب السرير؛ تخت؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٦)

بَابُ السَّرِيرِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَسْطَ السَّرِيرِ، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ القِبْلَةِ، تَكُونُ لِي الحَاجَةُ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَقُومَ فَأَسْتَقْبِلَهُ، فَأَنْسَلُّ انْسِلاَلًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6276

ابوالملیح عامر بن زید نے خبر دی، انہوں نے (ابوقلابہ) کو (خطاب کر کے) کہا کہ میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزے کا ذکر کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ پیش کیا ، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھے اور تکیہ میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ویسا ہی پڑا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے ہر مہینے میں تین دن کے (روزے) کافی نہیں؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پانچ دن رکھا کر۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا سات دن۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا نو دن۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا گیارہ دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!فرمایا کہ داؤدی روزوں پر نفلی روزوں پر فوقیت نہیں ہیں کہ ایک روز روزہ رکھنا اور دوسرے دن روزہ نہ رکھنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أُلْقِيَ لَهُ وِسَادَةٌ؛جس کو تکیہ پیش کیا جائے؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٧)

بَابُ مَنْ أُلْقِيَ لَهُ وِسَادَةٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو المَلِيحِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ وَصَارَتِ الوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ لِي: «أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «خَمْسًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «سَبْعًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «تِسْعًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِحْدَى عَشْرَةَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ، شَطْرَ الدَّهْرِ: صِيَامُ يَوْمٍ، وَإِفْطَارُ يَوْمٍ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6277

ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی ہے کہ وہ ملک شام کی طرف گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ دعا کی اے اللہ! مجھے ایک ہم نشین عطا فرما۔ چنانچہ وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جا بیٹھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا۔ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ کہا کہ اہل کوفہ سے، پوچھا کیا تمہارے یہاں رازوں کے جاننے والے وہ صحابی نہیں ہیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ہے؟ ان کا اشارہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دی تھی؟ اشارہ عمار رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں مسواک اور گدے والے نہیں ہیں؟ ان کا اشارہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ «والليل إذا يغشى‏» کس طرح پڑھتے تھے۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ «والذكر والأنثى‏» پڑھتے تھے۔فرمایا کہ یہ لوگ مجھے مسلسل شک میں ڈالتے رہتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت یونہی سنی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أُلْقِيَ لَهُ وِسَادَةٌ؛جس کو تکیہ پیش کیا جائے؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ - أَنَّهُ قَدِمَ الشَّأْمَ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ذَهَبَ عَلْقَمَةُ، إِلَى الشَّأْمِ، فَأَتَى المَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا، فَقَعَدَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الكُوفَةِ؟ قَالَ: " أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ - يَعْنِي حُذَيْفَةَ - أَلَيْسَ فِيكُمْ - أَوْ كَانَ فِيكُمْ - الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْطَانِ - يَعْنِي عَمَّارًا - أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّوَاكِ وَالوِسَادِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ: {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} [الليل: 1] قَالَ: وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى " فَقَالَ: مَا زَالَ هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي، وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6278

ابو حازم کا بیان ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارا قیلولہ اور کھانا جمعہ کے بعد ہوتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ الْقَائِلَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةَ؛جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٩)

بَابُ القَائِلَةِ بَعْدَ الجُمُعَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الجُمُعَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6279

ابو حازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نام ابوتراب سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ جب ان کو اس نام سے بلایا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ علیہا السلام کے گھر تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہیں پایا تو فرمایا کہ بیٹی تمہارے چچا کے لڑکے (اور شوہر) کہاں گئے ہیں؟ انہوں نے کہا میرے اور ان کے درمیان کوئی بات ہو گئی ہے وہ مجھ پر غصہ ہو کر باہر چلے گئے اور میرے یہاں (گھر میں) قیلولہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں۔ وہ صحابی واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور گرد آلود ہو گئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے، ابوتراب! (مٹی والے) اٹھو، ابوتراب! اٹھو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الْقَائِلَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں قیلولہ کرنا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٨٠)

بَابُ القَائِلَةِ فِي المَسْجِدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي البَيْتِ، فَقَالَ: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ» فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ: «انْظُرْ أَيْنَ هُوَ» فَجَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي المَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6280

ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ(ان کی والدہ)ام سلیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا فرش بچھا دیتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں اسی پر قیلولہ کر لیتے تھے۔ بیان کیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور آپ کے موے مبارک کو جمع کرلیتی اور (پسینہ کو) ایک شیشی میں جمع کیا اور پھر «سك» (ایک خوشبو) میں اسے ملا لیا۔ بیان کیا ہے کہ پھر جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ اس «سك» (جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا تھا) میں سے ان کے کفن میں ملا دیا جائے۔ بیان کیا ہے کہ پھر ان کے کفن میں اسے ملایا گیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَقَالَ عِنْدَهُمْ؛جو کسی قوم میں گیا اور وہاں قیلولہ کیا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٨١)

بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَقَالَ عِنْدَهُمْ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ تَبْسُطُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِطَعًا، فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى ذَلِكَ النِّطَعِ» قَالَ: «فَإِذَا نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَتْ مِنْ عَرَقِهِ وَشَعَرِهِ، فَجَمَعَتْهُ فِي قَارُورَةٍ، ثُمَّ جَمَعَتْهُ فِي سُكٍّ» قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الوَفَاةُ، أَوْصَى إِلَيَّ أَنْ يُجْعَلَ فِي حَنُوطِهِ مِنْ ذَلِكَ السُّكِّ، قَالَ: فَجُعِلَ فِي حَنُوطِهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6281

عبداللہ بن ابو طلحہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر پر سوار ہوکر اس طرح راہ خدا میں میں جہاد کر رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر یا فرمایا کہ تخت پر بادشاہوں کی طرح۔اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا (ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا کہ میری امت کے اور کچھ لوگ پیش کئے گئے جو راہ خدا میں اس سمندر پر ایسے سوار ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر یا تخت پر بادشاہوں کی طرح۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَقَالَ عِنْدَهُمْ؛جو کسی قوم میں گیا اور وہاں قیلولہ کیا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٣٢ و حدیث نمبر ٦٢٨٣)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ، يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا البَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ، أَوْ قَالَ: مِثْلَ المُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ " - شَكَّ إِسْحَاقُ - قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا البَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ، أَوْ: مِثْلَ المُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ " فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ» فَرَكِبَتِ البَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ البَحْرِ، فَهَلَكَتْ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6282/6283

عطاء بن یزید لیثی کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تھا۔ لباس میں تو اشتمال صماء اور احتباء ہیں کہ ایک ہی کپڑے میں اس طرح لپٹ کر بیٹھنا کہ شرمگاہ پر کچھ بھی نہ ہو۔تجارت میں ملامسہ اور منابذہ قسم کی تجارت سے منع فرمایا۔اسی طرح معمر،محمد بن ابو حنیفہ،عبد اللہ بن بدیل نے زہری سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الْجُلُوسِ كَيْفَمَا تَيَسَّرَ؛جس طرح آسانی ہو اس طرح بیٹھنا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٨٤)

بَابُ الجُلُوسِ كَيْفَمَا تَيَسَّرَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِ الإِنْسَانِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَالمُلاَمَسَةِ وَالمُنَابَذَةِ " تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6284

مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواج مطہرات (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں غیر حاضر نہیں تھیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی (بلکہ بہت ہی مشابہ تھی) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ سے سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تم سے آگے جانے والا ہوں“ بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا ”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مسلمانوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ مَنْ نَاجَى بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ، وَمَنْ لَمْ يُخْبِرْ بِسِرِّ صَاحِبِهِ، فَإِذَا مَاتَ أَخْبَرَ بِهِ؛جو لوگوں کے درمیان سرگوشی کرے اور جو اپنے دوست کا راز نہ کھولے؛٨ص٦٤؛حدیث نمبر٦٢٨٥ و حدیث نمبر ٦٢٨٦)

بَابُ مَنْ نَاجَى بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ، وَمَنْ لَمْ يُخْبِرْ بِسِرِّ صَاحِبِهِ، فَإِذَا مَاتَ أَخْبَرَ بِهِ حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ المُؤْمِنِيِنَ، قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا، لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ تَمْشِي، لاَ وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ قَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنَتِي» ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا، فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ، فَقُلْتُ لَهَا أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ: خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا: عَمَّا سَارَّكِ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ، قُلْتُ لَهَا: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الحَقِّ لَمَّا أَخْبَرْتِنِي، قَالَتْ: أَمَّا الآنَ فَنَعَمْ، فَأَخْبَرَتْنِي، قَالَتْ: أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الأَمْرِ الأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي: «أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ العَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلاَ أَرَى الأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ» قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، قَالَ: «يَا فَاطِمَةُ، أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ المُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6285/6286

عبادہ بن تمیم کا بیان ہے کہ میرے عم محترم حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا اور آپ نے ایک قدم مبارک دوسرے قدم مبارک کے اوپر رکھا ہوا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ الاِسْتِلْقَاءِ؛چت لیٹنا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٨٧)

بَابُ الِاسْتِلْقَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي المَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6287

فرمان الہی:ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی مشورت کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھاے جاؤ گے وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بے حکم خدا کے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔(المجادلہ ٩،١٠) اور ارشاد فرمایا اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو یہ تمہارے لئے بہتر اور ستھرا ہے پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو پھر جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی تو نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔(المجادلہ ١٢،١٣) نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم تین افراد ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو شخص سرگوشی نہ کریں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ؛تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کریں؛٨ص٦٤؛حدیث نمبر٦٢٨٨)

بَابُ لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلاَ تَتَنَاجَوْا بِالإِثْمِ وَالعُدْوَانِ، وَمَعْصِيَةِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى} - إِلَى قَوْلِهِ - {وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ المُؤْمِنُونَ} [آل عمران: 122] وَقَوْلُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً، ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [المجادلة: 12]- إِلَى قَوْلِهِ - {وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} [آل عمران: 153] حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةٌ، فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6288

معتمر بن سلیمان نے اپنے والد ماجد سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات بتائی اور میں نے آپ کی وفات کے بعد بھی وہ راز کسی کو نہیں بتایا (ان کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا لیکن میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ حِفْظِ السِّرِّ؛راز کی مخالفت؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٨٩)

بَابُ حِفْظِ السِّرِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: «أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6289

أبو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو شخص سرگوشی نہ کریں،جب تک بہت سے افراد کے ساتھ مل نہ جائے،ورنہ یہ بات اسے دکھ پہنچاے گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثَةٍ فَلاَ بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ؛جب تین سے زیادہ ہوں تو آہستہ بات کرنے اور سرگوشی کرنے میں مضائقہ نہیں؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٠)

بَابُ إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثَةٍ فَلاَ بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالمُنَاجَاةِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً، فَلاَ يَتَنَاجَى رَجُلاَنِ دُونَ الآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ، أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6290

شقیق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ مال تقسیم فرمایا اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی رضامندی کو پیش نظر نہیں رکھا گیا میں نے کہا کہ ہاں! اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا۔چنانچہ میں گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں چپکے سے یہ بات کہی تو آپ غصہ ہو گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا پھر آپ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثَةٍ فَلاَ بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ؛جب تین سے زیادہ ہوں تو آہستہ بات کرنے اور سرگوشی کرنے میں مضائقہ نہیں؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩١)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قِسْمَةً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي مَلَإٍ فَسَارَرْتُهُ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: «رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6291

نجوی یہ ناجیت کا مصدر ہے یہ ان کی عادت بیان کی کہ وہ سرگوشی کرتے ہیں۔ عبد العزیز کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی اقامت کہی گئی اور ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کر رہا تھا۔وہ مسلسل سرگوشی کرتا رہا حتیٰ کہ آپ کے اصحاب میں سے کئی سو گئے پھر آپ نے کھڑے ہوکر نماز پڑھائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ طُولِ النَّجْوَى؛دیر تک سرگوشی کرنا؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٢)

بَابُ طُولِ النَّجْوَى وَقَوْلُهُ: {وَإِذْ هُمْ نَجْوَى} [الإسراء: 47]: مَصْدَرٌ مِنْ نَاجَيْتُ، فَوَصَفَهُمْ بِهَا، وَالمَعْنَى: يَتَنَاجَوْنَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6292

سالم نے اپنے والد ماجد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ لاَ تُتْرَكُ النَّارُ فِي الْبَيْتِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر ٦٢٩٣)

بَابٌ: لاَ تُتْرَكُ النَّارُ فِي البَيْتِ عِنْدَ النَّوْمِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6293

ابوبردہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:مدینہ منورہ میں ایک گھر کو رات کے وقت گھر والوں سمیت آگ لگ گئی۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کا واقعہ عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا:یہ آگ تمہاری دشمن ہے۔جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ لاَ تُتْرَكُ النَّارُ فِي الْبَيْتِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ العَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ مِنَ اللَّيْلِ، فَحُدِّثَ بِشَأْنِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6294

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو، دروازے بند کردیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ بسا اوقات چوہا بتی کھینچ کے لے جاتا ہے اور گھر والوں کو جلا کر راکھ کردیتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ لاَ تُتْرَكُ النَّارُ فِي الْبَيْتِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرٍ هُوَ ابْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمِّرُوا الآنِيَةَ، وَأَجِيفُوا الأَبْوَابَ، وَأَطْفِئُوا المَصَابِيحَ، فَإِنَّ الفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا جَرَّتِ الفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ البَيْتِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6295

جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب رات میں سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو اور دروازے بند کر لیا کرو اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور کھانے پینے کی چیزیں ڈھک دیا کرو۔“ حماد نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا کہ ”اگرچہ ایک لکڑی سے ہی ہو۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٦)

بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْفِئُوا المَصَابِيحَ بِاللَّيْلِ إِذَا رَقَدْتُمْ، وَغَلِّقُوا الأَبْوَابَ، وَأَوْكُوا الأَسْقِيَةَ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ - قَالَ هَمَّامٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَلَوْ بِعُودٍ يَعْرُضُهُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6296

سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا ، بغل کے بال صاف کرنا، مونچھ پست کرنا اور ناخن کاٹنا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٢٩٧)

بَابُ الخِتَانِ بَعْدَ الكِبَرِ وَنَتْفِ الإِبْطِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الفِطْرَةُ خَمْسٌ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6297

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی(٨٠)سال کے بعد قدوم آلے سے اپنا ختنہ کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٢٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ بَعْدَ ثَمَانِينَ سَنَةً، وَاخْتَتَنَ بِالقَدُومِ» مُخَفَّفَةً، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا المُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَالَ: «بِالقَدُّومِ وَهُوَ مَوْضِعٌ مُشَدَّدٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6298

سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال ہوا تو آپ کی عمر کیا تھی؟ کہا کہ ان دنوں میرا ختنہ ہو چکا تھا اور عرب کے لوگوں کی عادت تھی جب تک لڑکا جوانی کے قریب نہ ہوتا اس کا ختنہ نہ کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٢٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِثْلُ مَنْ أَنْتَ حِينَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «أَنَا يَوْمَئِذٍ مَخْتُونٌ» قَالَ: وَكَانُوا لاَ يَخْتِنُونَ الرَّجُلَ حَتَّى يُدْرِكَ،

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6299

ابن اویس،ان کے والد،ابو اسحاق،سعید بن جبیر،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میرے ختنے ہوچکے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٣٠٠)

وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: «قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَتِينٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6300

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں"(لقمان ٦) حمید بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جس نے قسم کھائی اور کہا کہ لات و عزیٰ کی قسم، تو پھر وہ «لا إله إلا الله» کہے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ کر دینا چاہئے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ كُلُّ لَهْوٍ بَاطِلٌ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ؛وہ تمام کھیل باطل ہیں جو اللہ کی اطاعت میں رکاوٹ ہوں اور جو اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٣٠١)

بَابٌ: كُلُّ لَهْوٍ بَاطِلٌ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ} [لقمان: 6] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: بِاللَّاتِ وَالعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6301

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ قیامت کی علامات میں سے ہے جانوروں کے چرانے والے عمارتوں پر فخر کریں گے۔ سعید بن عمرو کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے محفوظ رکھتا ہے اس کی تعمیر میں اللہ کی مخلوق سے کسی نے میری مدد نہیں کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ؛عمارتوں کے بارے میں؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٣٠٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي البِنَاءِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ إِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ البَهْمِ فِي البُنْيَانِ» حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «رَأَيْتُنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَيْتُ بِيَدِي بَيْتًا يُكِنُّنِي مِنَ المَطَرِ، وَيُظِلُّنِي مِنَ الشَّمْسِ، مَا أَعَانَنِي عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6302

عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد نہ میں نے کسی اینٹ پر اینٹ رکھی اور نہ کوئی پودا لگایا ہے۔ سفیان کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث ان کے ایک گھر والوں کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم انہوں نے مکان بنایا۔سفیان کا بیان ہے کہ میں نے کہا:ہو سکتا ہے کہ عمارت بنانے سے پہلے یہ کہا ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ؛عمارتوں کے بارے میں؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٣٠٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُ لَبِنَةً عَلَى لَبِنَةٍ، وَلاَ غَرَسْتُ نَخْلَةً، مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُهُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ بَنَى. قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ: فَلَعَلَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ

Bukhari Shareef, Kitabul Istezan, Hadees No. 6303

Bukhari Shareef : Kitabul Istezan

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ

|

•