
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ جب انہیں پیدا کر دیا تو فرمایا کہ جاؤ اور ان فرشتوں کو جو بیٹھے ہوئے ہیں، سلام کرو اور غور سے سنو کہ تمہارے سلام کا کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم! فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ، انہوں نے آدم کے سلام پر ”ورحمۃ اللہ“ بڑھا دیا۔ پس جو شخص بھی جنت میں جائے گا وہ حضرت آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا ۔“ان کے بعد سے اب تک انسانوں کے قد میں کمی ہوتی آرہی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ بَدْءِ السَّلاَمِ؛٨ص٥٠؛حدیث نمبر٦٢٢٧)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان "اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکِنوں پر سلام نہ کرلو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو۔ پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ جب بھی بے ما لکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔ اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے اور اللہ جانتا ہے جوتم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو"۔(النور٢٧،٢٨،٢٩) اور سعید بن ابو الحسن نے (اپنے بھائی) حسن بصری سے کہا کہ عجمی عورتیں سینہ اور سر کھولے رہتی ہیں۔ تو حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ ان سے اپنی نگاہ پھیر لو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”مومنوں سے کہہ دیجئیے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔“(النور ٣٠)قتادہ کا بیان ہے کہ یہ ان کے لئے حلال نہیں۔"اور آپ کہہ دیجئیے ایمان والیوں سے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں"(النور٣١)۔ «خائنة الأعين» سے مراد اس چیز کی طرف دیکھنا ہے، جس سے منع کیا گیا ہے۔ زہری نے نابالغ لڑکیوں کو دیکھنے کے سلسلہ میں کہا کہ ان کی بھی کسی ایسی چیز کی طرف نظر نہ کرنی چاہئے جسے دیکھنے سے شہوت نفسانی پیدا ہو سکتی ہو۔ خواہ وہ لڑکی چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ عطاء نے ان لونڈیوں کی طرف نظر کرنے کو مکروہ کہا ہے، جو مکہ میں بیچی جاتی ہیں۔ ہاں اگر انہیں خریدنے کا ارادہ ہو تو جائز ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ بَدْءِ السَّلاَمِ؛٨ص٥٠) سلیمان بن یسار کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو قربانی کے دن اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ وہ خوبصورت شخص تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مسائل بتانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران میں قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔ فضل بھی اس عورت کو دیکھنے لگے۔ اس کا حسن و جمال ان کو بھلا معلوم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو فضل اسے دیکھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر فضل کی تھوڑی پکڑی اور ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔ پھر اس عورت نے عرض کیا:یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا لیکن میرے والد بوڑھے ہو چکے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛باب اور ذکر ہوچکا ہے؛٨ص٥١؛حدیث نمبر٦٢٢٨)
عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو! صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ!ہمیں ایسی جگہوں پر بیٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیوں کہ ہم باتیں کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جب تم ان مجلسوں میں بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستے کا حق ادا کیا کرو یعنی راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے یا رسول اللہ! فرمایا نظر نیچی رکھنا،اذیت دینے والی چیز کو ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛باب اور ذکر ہوچکا ہے؛٨ص٥١؛حدیث نمبر٦٢٢٩)
ارشاد باری تعالیٰ:"جب کوئی تہنیت دے تو اسے بہتر جواب دو یا وہی الفاظ لوٹا دو"(النساء٨٦) شقیق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے ”سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے،سلام ہو جبرائیل پر، سلام ہو میکائیل پر، سلام ہو فلاں پر، پھر (ایک مرتبہ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ ہی سلام ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو «التحيات لله، والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين.» الخ پڑھا کرے۔ کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑھے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی۔ «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ السَّلاَمُ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى؛السلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے؛٨ص٥١؛حدیث نمبر٦٢٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چھوٹا بڑے کو،گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم زیادہ کو سلام کریں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ تَسْلِيمِ الْقَلِيلِ عَلَى الْكَثِيرِ؛کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کرے؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣١)
ثابت مولیٰ عبد الرحمن بن زید کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار پیدل کو،چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم زیادہ کو سلام کریں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي؛سوار پیدل کو سلام کرے؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٢)
ثابت مولیٰ عبد الرحمن بن زید کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار پیدل کو،چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم زیادہ کو سلام کریں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ تَسْلِيمِ الْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ؛پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٣)
عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، گزرنے والا بیٹھنے والے کو اور کم تعداد والے بڑی تعداد والوں کو۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ تَسْلِيمِ الصَّغِيرِ عَلَى الْكَبِيرِ؛چھوٹا بڑے کو سلام کرے؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٤)
معاویہ بن سوید بن مقرن کا بیان ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی مزاج پرسی کرنے کا، جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کے جواب دینے کا۔ کمزور کی مدد کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا،سلام پھیلانے کا اور قسم کا پورا کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا تھا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے ہمیں منع فرمایا تھا۔ میثر (ریشم کی زین) پر سوار ہونے سے، ریشم اور دیباج پہننے، قسی (ریشمی کپڑا) اور استبرق پہننے سے (منع فرمایا تھا)۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِفْشَاءِ السَّلاَمِ؛سلام کو پھیلانا؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٥)
ابوالخیر نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام میں کیا بہتر ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کھانا کھلانا اور سلام کرنا خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ السَّلاَمِ لِلْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِ الْمَعْرِفَةِ؛جاننے والا اور انجان کو سلام کرنا؛٨ص٥٢؛حدیث نمبر٦٢٣٦)
عطاء بن یزید لیثی نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کسی مسلمان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے کہ جب وہ ملے تو ایک ادھر منہ پھیر لے اور دوسرا ادھر اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔سفیان کا بیان ہے کہ انہوں نے اسے تین دفعہ زہری سے سنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ السَّلاَمِ لِلْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِ الْمَعْرِفَةِ؛جاننے والا اور انجان کو سلام کرنا؛٨ص٥٣؛حدیث نمبر٦٢٣٧)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ (ہجرت کر کے) تشریف لائے تو ان کی عمر دس سال تھی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے باقی دس سالوں میں آپ کی خدمت کی اور میں پردہ کے حکم کے متعلق سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ کب نازل ہوا تھا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ پردہ کے حکم کا نزول سب سے پہلے اس رات ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ زفاف کیا۔صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت عروسی میں تھے اور آپ نے صحابہ کو دعوت ولیمہ پر بلایا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ چلے گئے لیکن چند آدمی آپ کے پاس بیٹھے رہ گئے اور بہت دیر تک وہیں ٹھہرے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا تاکہ وہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم چلتے رہے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا اور سمجھا کہ وہ لوگ اب چلے گئے ہیں۔ اس لیے واپس تشریف لائے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا لیکن آپ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ وہاں سے لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ گیا۔ جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی چوکھٹ تک پہنچے تو آپ نے سمجھا کہ وہ لوگ نکل چکے ہوں گے۔ پھر آپ لوٹ کر آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا تو واقعی وہ لوگ جا چکے تھے۔ پھر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ آيَةِ الْحِجَابِ؛پردہ کی آیت کے بارے میں؛٨ص٥٣؛حدیث نمبر٦٢٣٨)
ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت کا شرف بخشا سےتو لوگ اندر آئے اور کھانا کھایا پھر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اظہار کیا گویا آپ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو کھڑے ہو گئے۔ آپ کے کھڑے ہونے پر قوم کے جن لوگوں کو کھڑا ہونا تھا وہ بھی کھڑے ہو گئے لیکن بعض لوگ اب بھی بیٹھے رہے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہونے کے لیے تشریف لائے تو کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے (آپ واپس ہو گئے) اور پھر جب وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور چلے گئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي» ”اے ایمان والو! نبی کے گھر میں نہ حاضر ہو۔“(الاحزاب ٥٣آخر تک۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ آيَةِ الْحِجَابِ؛پردہ کی آیت کے بارے میں؛٨ص٥٣؛حدیث نمبر٦٢٣٩)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کو پردے میں رکھا کیجئے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور ازواج مطہرات رفع حاجت کے لیے صرف رات ہی کے وقت نکلتی تھیں (اس وقت گھروں میں بیت الخلاء نہیں تھے) ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا باہر گئی ہوئی تھیں۔ ان کا قد لمبا تھا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا۔ اس وقت وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا سودہ میں نے آپ کو پہچان لیا یہ انہوں نے اس لیے کہا کیونکہ وہ پردہ کے حکم نازل ہونے کے بڑے متمنی تھے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیت نازل کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ آيَةِ الْحِجَابِ؛پردہ کی آیت کے بارے میں؛٨ص٥٣؛حدیث نمبر٦٢٤٠)
زہری کا بیان ہے کہ مجھے اس حدیث کے صحیح ہونے پر ایسا ہی یقین ہے جیسا تمہارے یہاں ہونے پر کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں سوراخ سے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک کنگھا تھا جس سے آپ سر مبارک کھجا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں اسے تیری آنکھ میں مارتا۔اجازت لینے کا حکم اسی دیکھنے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ؛نظر پڑ جانے کے سبب اجازت لینے کا حکم؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤١)
عبید اللہ بن ابوبکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرے میں جھانک کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل یا کئی پھل لے کر گئے اور گویا یا آپ اسے تلاش کر رہے تھے کہ اس کی آنکھ میں تیر مار دیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤٢)
طاؤس کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے زیادہ لمم سے مشابہ اور کسی کی بات نہیں دیکھی۔دوسری روایت کی ہے کہ میں نے کسی کے قول کو لمم سے مشابہت رکھنے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زنا میں جو انسان کا حصہ مقرر فرما دیا ہے وہ یقیناً اسے مل جاتا ہے،چناچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے،زبان کا زنا بات کرنا،نفس کا زنا خواہش و تمنا کرنا اور شرمگاہ ان سب کی تصدیق یا تردید کردیتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ زِنَا الْجَوَارِحِ دُونَ الْفَرْجِ؛شرمگاہ کے سوا دوسرے اعضاء کا زنا؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤٣)
ثمامہ بن عبد اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام کرتے تو تین مرتبہ کرتے اور جب کچھ فرماتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ التَّسْلِيمِ وَالاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثًا؛سلام کرنا اور تین مرتبہ اجازت لینا؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤٤)
بسر بن سعید کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا، اس لیے واپس چلا آیا (عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا) تو انہوں نے دریافت کیا کہ (اندر آنے میں) کیا بات مانع تھی؟ میں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی اور جب مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو واپس چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت چاہے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلا جانا چاہئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہیں اس حدیث کی صحت کے لیے کوئی گواہ لانا ہو گا۔ (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجلس والوں سے پوچھا) کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہو؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم!آپ کی گواہی دے گا جو لوگوں میں سب سے چھوٹا ہو۔حضرت ابوسعید نے کہا اور میں ہی جماعت کا وہ سب سے کم عمر آدمی تھا میں ان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے۔ اور ابن مبارک نے بیان کیا کہ مجھ کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا، انہوں نے بسر بن سعید سے، کہا میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا پھر یہی حدیث نقل کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ التَّسْلِيمِ وَالاِسْتِئْذَانِ ثَلاَثًا؛سلام کرنا اور تین مرتبہ اجازت لینا؛٨ص٥٤؛حدیث نمبر٦٢٤٥)
سعید نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہی (بلانا) اس کے لیے اجازت ہے۔“ مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کے گھر میں) داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا ”ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جا اور انہیں میرے پاس بلا لا۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بلا لایا۔ وہ آئے اور (اندر آنے کی) اجازت چاہی پھر جب اجازت دی گئی تو داخل ہوئے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ إِذَا دُعِيَ الرَّجُلُ فَجَاءَ هَلْ يَسْتَأْذِنُ؛جب کسی شخص کو بلایا جائے تو کیا وہ بھی اجازت مانگے؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٤٦)
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہی تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛بچوں کو سلام کرنا؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٤٧)
ابو حازم کا بیان ہے کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم جمعہ کے دن کی بڑی خوشی مناتے۔ میں نے عرض کی کس لیے؟ہمارے یہاں ایک بڑی بی تھیں جو ہمیں بضاعہ کی جانب بھیجتی تھیں۔۔ ابن مسلمہ نے کہا کہ بضاعہ مدینہ منورہ کا کھجور کا ایک باغ تھا۔ پھر وہ وہاں سے چقندر لایا کرتی تھیں اور اسے ہانڈی میں ڈالتی تھیں اور جَو کے کچھ دانے پیس کر (اس میں ملاتی تھیں) جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو انہیں سلام کرنے آتے اور وہ یہ چقندر کی جڑ میں آٹا ملی ہوئی دعوت ہمارے سامنے رکھتی تھیں ہم اس وجہ سے جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے اور قیلولہ یا دوپہر کا کھانا ہم جمعہ کے بعد کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ تَسْلِيمِ الرِّجَالِ عَلَى النِّسَاءِ، وَالنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ؛مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٤٨)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں بیان کیا کہ میں نے عرض کیا «وعليه السلام ورحمة الله» آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے ام المؤمنین کا اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔ معمر کے ساتھ اس حدیث کو شعیب اور یونس اور نعمان نے بھی زہری سے روایت کیا ہے یونس اور نعمان کی روایتوں میں «وبركاته.» کا لفظ زیادہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ تَسْلِيمِ الرِّجَالِ عَلَى النِّسَاءِ، وَالنِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ؛مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٤٩)
محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون ہیں؟ میں نے کہا ”میں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں، میں“گویا آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ إِذَا قَالَ مَنْ ذَا فَقَالَ أَنَا؛جب کوئی کہے کہ کونے؟تو جواب میں کہے کہ میں؛٨ص٥٥؛حدیث نمبر٦٢٥٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا:وعلیہ السلام ورحمت اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتوں نے حضرت آدم کو جواب دیا:السلام علیک ورحمت اللہ۔ سعید بن ابو سعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں رونق افروزتھے۔ اس نے نماز پڑھی اور پھر حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعلیک السلام واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور نماز پڑھی۔ پھر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئے اور سلام کیا آپ نے فرمایا وعلیک السلام۔ واپس جاؤ پھر نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور اس نے پھر نماز پڑھی۔ پھر واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا وعلیکم السلام۔ واپس جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ ان صاحب نے دوسری مرتبہ، یا اس کے بعد، عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نماز سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہو، اس کے بعد قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو وہ پڑھو، پھر رکوع کرو حتیٰ کہ رکوع میں اطمینان حاصل ہوجایا کرے تو سر اٹھاؤ۔ جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو پھر سجدہ میں جاؤ، جب سجدہ پوری طرح کر لو تو سر اٹھاؤ اور اچھی طرح سے بیٹھ جاؤ۔ یہی عمل اپنی ہر رکعت میں کرو۔ اور ابواسامہ راوی نے دوسرے سجدہ کے بعد یوں کہا کہ پھر سر اٹھا یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ مَنْ رَدَّ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ:؛جواب میں علیک السلام کہنا؛٨ص٥٦؛حدیث نمبر٦٢٥١) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر سر سجدہ سے اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔ بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ مَنْ رَدَّ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ:؛جواب میں علیک السلام کہنا؛٨ص٥٦؛حدیث نمبر٦٢٥٢)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ ان پر بھی اللہ کی طرف سے سلامتی اور اس کی رحمت نازل ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ إِذَا قَالَ فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ؛جب کوئی کہے کہ فلاں آپ کو سلام کہتا ہے؛٨ص٥٦؛حدیث نمبر٦٢٥٣)
عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دراز گوش پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بٹھایا تھا۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس پر سے گزرے جس میں مسلمان، بت پرست، مشرک اور یہودی موجود تھے۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا۔ مجلس میں مسلمانوں میں سے عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپا لی اور کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بولا،جناب آپ کا یہ عمل مجھے پسند نہیں اگر وہ چیز حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ اس پر ابن رواحہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تکرار ہونے لگی اور قریب تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر لڑ پڑنے پر آمادہ تھے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، سعد تم نے نہیں سنا کہ ابوحباب نے آج کیا بات کہی ہے۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ یہ باتیں کہی ہیں۔ سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجئیے اور درگزر فرمائیے۔اس خدا کی قسم جس نے آپ کو یہ مقام عطاء فرمایا۔ اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ التَّسْلِيمِ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ؛ایسی مجلس کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک کا اختلاط ہو؛٨ص٥٦؛حدیث نمبر٦٢٥٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے کہ شرابی کو سلام نہ کرو۔ عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی تھی اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا تھا اور یہ اندازہ لگاتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب سلام میں لب مبارک ہلائے یا نہیں، آخر پچاس دن گزر گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کے قبول کئے جانے کا نماز فجر کے بعد اعلان کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ مَنْ لَمْ يُسَلِّمْ عَلَى مَنِ اقْتَرَفَ ذَنْبًا، وَلَمْ يَرُدَّ سَلاَمَهُ حَتَّى تَتَبَيَّنَ تَوْبَتُهُ، وَإِلَى مَتَى تَتَبَيَّنُ تَوْبَةُ الْعَاصِي؛جو اس وقت تک گناہ گار شخص کو سلام نہ کرے اور نہ جواب دے جب تک وہ گناہوں سے تائب نہ ہو جائے؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٥)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ «السام عليك.» (تمہیں موت آئے) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا «عليكم السام واللعنة.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» (اور تمہیں بھی)۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ كَيْفَ يُرَدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ السَّلاَمُ؛ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٦)
عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب یہودی تمہیں سلام کرے تو ان کے جواب میں وعلیکم کہ دیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ كَيْفَ يُرَدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ السَّلاَمُ؛ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٧)
عبید اللہ بن ابوبکر بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو ان کے جواب میں وعلیکم کہ دیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ كَيْفَ يُرَدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ السَّلاَمُ؛ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٨)
ابوعبدالرحمٰن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر بن عوام اور ابومرثد غنوی کو بھیجا۔ ہم سب گھوڑ سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین کے پاس بھیجا گیا ہے (اسے لے آؤ)۔ بیان کیا کہ ہم نے اس عورت کو پا لیا وہ اپنے اونٹ پر جا رہی تھی اور وہیں پر ملی (جہاں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ بیان کیا کہ ہم نے اس سے کہا کہ خط جو تم ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوہ میں تلاشی لی لیکن ہمیں کوئی چیز نہیں ملی۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کوئی خط تو نظر آتا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے کہا، مجھے یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی ہے۔ قسم ہے اس کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تم خط نکالو ورنہ میں تمہیں برہنہ کر دوں گا۔ بیان کیا کہ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں واقعی اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو اس نے ازار باندھنے کی جگہ کی طرف ہاتھ بڑھایا، وہ ایک چادر ازار کے طور پر باندھے ہوئے تھی اور خط نکالا۔ بیان کیا کہ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ حاطب تم نے ایسا کیوں کیا؟عرض کی کہ اس کے اور کچھ نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں،نہ مجھ میں تبدیلی آئی اور نہ میں بدلا ہوں میرا ارادہ ہوا کہ قوم پر کوئی احسان کروں جس کے سبب اللہ میرے جان اور مال کو لوٹنے سے انہیں روکے رکھے اور آپ کے صحابہ میں سے وہاں میرا کوئی رشتہ دار نہیں جس کے سبب اللہ میری جان و مال کی حفاظت فرمائے۔آپ نے فرمایا کہ سچ کہا،ان سے اچھی بات کے سوا اور کچھ نہ کہنا۔راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ!مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن اڑا دوں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا۔اے عمر! تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے حالات پر مطلع ہوتے ہوئے فرمایا کہ جو چاہو کرو،کیونکہ تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی ہے۔حضرت علی کا بیان ہے کہ پھر حضرت عمر اشکبار ہوگئے اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب من نظر فی کتاب من یحذر علی المسلمین لیستبین امرہ؛؛٨ص٥٧؛حدیث نمبر٦٢٥٩)
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل نے قریش کے چند افراد کے ساتھ انہیں بھی بلا بھیجا یہ لوگ شام تجارت کی غرض سے گئے تھے سب لوگ ہرقل کے پاس آئے پھر انہوں نے واقعہ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور وہ پڑھا گیا خط میں یہ لکھا ہوا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ ہرقل شاہ روم کی طرف، سلام ہو ان پر جنہوں نے ہدایت کی اتباع کی۔ امابعد! (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْكِتَابُ إِلَى أَهْلِ الْكِتَابِ؛اہل کتاب کے لئے خط کس طرح لکھا جائے؟؛٨ص٥٨؛حدیث نمبر٦٢٦٠)
عبدالرحمٰن بن ہرمز نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ انہوں نے لکڑی کا ایک لٹھا لیا اور اس میں سوراخ کر کے ایک ہزار دینار اور خط رکھ دیا وہ ان کی طرف سے ان کے ساتھی (قرض خواہ) کی طرف تھا اور عمر بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے ایک لکڑی لے کر کھوکھلی کی اور مال اس کے اندر رکھ دیا اور ان کے پاس ایک خط لکھا، فلاں کی طرف سے فلاں کے لیے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب؛بمن یبدأفی الکتاب؛٨ص٥٨؛حدیث نمبر٦٢٦١)
ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لیے کھڑے ہوجاؤ یا فرمایا کہ اپنے بہتر شخص کے لئے کھڑے ہوجاؤپھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر (قلعہ سے) اتر آئے ہیں (اب تم کیا فیصلہ کرتے ہو)۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں جو جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو حکم فرمایا امام بخاری نے بیان کیا کہ مجھے میرے بعض اصحاب نے ابوالولید کے واسطہ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول ( «على» کے بجائے بصلہ «إلى حكمك.» نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لیے کھڑے ہوجاؤ؛٨ص٥٨؛حدیث نمبر٦٢٦٢)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا اور میرا ہاتھ آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں تھا۔کعب بن مالک کا بیان ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے۔پس حضرت طلحہ بن عبید اللہ میری طرف بڑھے،مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب المصافحۃ؛٨ص٥٩؛) قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کا دستور تھا؟انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب المصافحۃ؛٨ص٥٩؛حدیث نمبر٦٢٦٣)
یحییٰ بن سلیمان،ابن وہب،حیات،ابو عقیل زہرہ بن سعد کا بیان ہے کہ ان کے جد امجد حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛باب المصافحۃ؛٨ص٥٩؛حدیث نمبر٦٢٦٤)
حماد بن زید نے عبد اللہ بن مبارک کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ ابومعمر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا، اس وقت میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا (اس طرح سکھایا) جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» چونکہ اس وقت آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔جب آپ کا وصال ہوگیا تو ہم اس طرح پڑھنے لگے «السلام. على النبي» یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ الأَخْذِ بِالْيَدَيْنِ؛دونوں کا ہاتھ پکڑنا؛٨ص٥٩؛حدیث نمبر٦٢٦٥)
عبداللہ بن کعب کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبداللہ بن کعب بن مالک کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس مرض میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ لوگوں نے کہا: اے ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بحمدللہ بہتر حالات میں ہیں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ عباس رضی اللہ عنہ نے پکڑ کر کہا۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تین دن کے بعد خدا کی قسم تم لاٹھی سے ہانکے جاؤ گے۔ واللہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرض میں آپ وصال فرما جائیں گے۔ میں بنی عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے آثار کو خوب پہچانتا ہوں، اس لیے ہمارے ساتھ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ تاکہ پوچھا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کس کے ہاتھ میں رہے گی اگر وہ ہمیں لوگوں کو ملتی ہے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر دوسروں کے پاس جائے گی تو ہم عرض کریں گے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں کچھ وصیت کریں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کی درخواست کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں کبھی نہیں دیں گے میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں پوچھوں گا کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَان؛بَابُ الْمُعَانَقَةِ وَقَوْلِ الرَّجُلِ كَيْفَ أَصْبَحْتَ؛معانقہ کرنے اور دوسرے کا مزاج پوچھنا؛٨ص٥٩؛حدیث نمبر٦٢٦٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! میں نے کہا «لبيك وسعديك.» (حاضر ہوں)۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ مجھے اسی طرح مخاطب کیا اس کے بعد فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ (پھر خود ہی جواب دیا) کہ یہ کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا کہ اے معاذ! میں نے عرض کی «لبيك وسعديك.» فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ یہ کر لیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟جب وہ ایسا کریں تو انہیں عذاب نہ دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أَجَابَ بِلَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ؛جو جواب میں لبیک وسعدیک کہے؛٨ص٦٠؛حدیث نمبر٦٢٦٧)
ہدبہ،ہمام،قتادہ،حضرت انس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مذکورہ حدیث کو روایت کیا ہے۔ زید بن وہب نے بیان کیا (کہا کہ) واللہ ہم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کے وقت مدینہ منورہ کی کالی پتھروں والی زمین پر چل رہا تھا کہ احد پہاڑ دکھائی دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر! اگر میرے پاس کوہ احد جتنا بھی سونا آے اور ایک رات یا تین راتیں گزر جانے کے بعد میرے پاس ایک اشرفی بھی باقی رہ جائے تو یہ مجھے پسند نہیں ہے مگر یہ کہ کسی کا قرض ادا کرنا ہو،ورنہ اللہ کے بندوں پر یوں یوں اور یوں خرچ کر دوں اور ہمیں اپنے دست مبارک کے اشارے سے منظر دکھایا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر! میں نے عرض کیا «لبيك وسعديك.» یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وافر مال والے قیامت میں قلاش ہوں گے۔مگر جو اللہ کے بندوں پر یوں یوں اور یوں خرچ کریں پھر فرمایا یہیں ٹھہرے رہو ابوذر! یہاں سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں واپس نہ آ جاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی اور مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پریشانی نہ پیش آ گئی ہو۔ اس لیے میں نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے) جانا چاہا لیکن فوراً ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آیا کہ یہاں سے نہ ہٹنا۔ چنانچہ میں وہیں رک گیا (جب آپ تشریف لائے تو) میں نے عرض کی۔ میں نے آواز سنی تھی اور مجھے خطرہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی پریشانی نہ پیش آ جائے پھر مجھے آپ کا ارشاد یاد آیا اس لیے میں یہیں ٹھہر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ میرے پاس آئے تھے اور مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کا جو شخص بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔ (اعمش نے بیان کیا کہ) میں نے زید بن وہب سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس حدیث کے راوی ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں؟ زید نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث مجھ سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں بیان کی تھی۔ اعمش نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوصالح نے حدیث بیان کی اور ان سے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اسی طرح بیان کیا اور ابوشہاب نے اعمش سے بیان کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أَجَابَ بِلَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ؛جو جواب میں لبیک وسعدیک کہے؛٨ص٦٠؛حدیث نمبر٦٢٦٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ؛کوئی شخص کسی دوسرے بیٹھے ہوئے مسلمان بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے؛٨ص٦٠؛حدیث نمبر٦٢٦٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے تاکہ دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھے، البتہ (آنے والے کو مجلس میں) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ: {إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انْشِزُوا فَانْشِزُوا} الآيَةَ؛٨ص٦٠؛حدیث نمبر٦٢٧٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا تو لوگوں کو (دعوت ولیمہ پر) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں۔ لیکن لوگ (پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے) پھر بھی کھڑے نہیں ہوئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لیے تشریف لائے لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں آیا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ (تین آدمی) بھی جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔(ترجمہ کنز الایمان)"اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسولُ اللہ کو ایذا دو اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے" (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ أَوْ بَيْتِهِ، وَلَمْ يَسْتَأْذِنْ أَصْحَابَهُ، أَوْ تَهَيَّأَ لِلْقِيَامِ لِيَقُومَ النَّاسُ؛بغیر اجازت مجلس سے یا گھر میں کھڑے ہو جانا یا اس لیے کھڑے ہونا کہ لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوں گے؛٨ص٦١؛حدیث نمبر٦٢٧١)
نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سرین کے بل دونوں گھٹنوں کو ہاتھوں کے گھیرے لے کر تشریف فرما تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِحْتِبَاءِ بِالْيَدِ وَهُوَ الْقُرْفُصَاءُ؛گھٹنوں کو ہاتھوں کے گھیرے میں لے کر بیٹھنا؛٨ص٦١؛حدیث نمبر٦٢٧٢)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ چادر کا تکیہ بناے ہوئے تھے میں نے عرض کی کہ کیا آپ دعا نہیں کریں گے؟تو آپ اٹھ بیٹھے۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں بہت بڑے گناہ کبیرہ نہ بتاؤں لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ!کیوں نہیں۔فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِحْتِبَاءِ بِالْيَدِ وَهُوَ الْقُرْفُصَاءُ؛گھٹنوں کو ہاتھوں کے گھیرے میں لے کر بیٹھنا؛٨ص٦١؛حدیث نمبر٦٢٧٣)
مسدد نے بشر سے حدیث نمبر ٦٢٥٣ کے مثل روایت کی ہے کہ آپ ٹیک لگاے ہوے تھے پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جھوٹ بولنے سے بچنا۔آپ متواتر یہی فرماتے رہے حتیٰ کہ ہم نے کہا؛کاش!اپ سکوت فرماے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الاِحْتِبَاءِ بِالْيَدِ وَهُوَ الْقُرْفُصَاءُ؛گھٹنوں کو ہاتھوں کے گھیرے میں لے کر بیٹھنا؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٤)
ابن ابی ملیکہ نے حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھی اور پھر تیزی سے کاشانہ اقدس میں داخل ہوگئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ لِحَاجَةٍ أَوْ قَصْدٍ؛جو کسی حاجت کی وجہ سے یا قصداً تیز چلے؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٥)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تخت کے درمیان نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی رہتی۔اگر کوئی ضرورت ہوتی تو میں آپ کے سامنے سے گزرنا پسند نہ کرتی اور آہستہ آہستہ ایک طرف ہو جاتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛باب السرير؛ تخت؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٦)
ابوالملیح عامر بن زید نے خبر دی، انہوں نے (ابوقلابہ) کو (خطاب کر کے) کہا کہ میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزے کا ذکر کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ پیش کیا ، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھے اور تکیہ میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ویسا ہی پڑا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے ہر مہینے میں تین دن کے (روزے) کافی نہیں؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پانچ دن رکھا کر۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا سات دن۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا نو دن۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا گیارہ دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!فرمایا کہ داؤدی روزوں پر نفلی روزوں پر فوقیت نہیں ہیں کہ ایک روز روزہ رکھنا اور دوسرے دن روزہ نہ رکھنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أُلْقِيَ لَهُ وِسَادَةٌ؛جس کو تکیہ پیش کیا جائے؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٧)
ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی ہے کہ وہ ملک شام کی طرف گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ دعا کی اے اللہ! مجھے ایک ہم نشین عطا فرما۔ چنانچہ وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جا بیٹھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا۔ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ کہا کہ اہل کوفہ سے، پوچھا کیا تمہارے یہاں رازوں کے جاننے والے وہ صحابی نہیں ہیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ہے؟ ان کا اشارہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دی تھی؟ اشارہ عمار رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں مسواک اور گدے والے نہیں ہیں؟ ان کا اشارہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ «والليل إذا يغشى» کس طرح پڑھتے تھے۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ «والذكر والأنثى» پڑھتے تھے۔فرمایا کہ یہ لوگ مجھے مسلسل شک میں ڈالتے رہتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت یونہی سنی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ أُلْقِيَ لَهُ وِسَادَةٌ؛جس کو تکیہ پیش کیا جائے؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٨)
ابو حازم کا بیان ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارا قیلولہ اور کھانا جمعہ کے بعد ہوتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ الْقَائِلَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةَ؛جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا؛٨ص٦٢؛حدیث نمبر٦٢٧٩)
ابو حازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نام ابوتراب سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ جب ان کو اس نام سے بلایا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ علیہا السلام کے گھر تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہیں پایا تو فرمایا کہ بیٹی تمہارے چچا کے لڑکے (اور شوہر) کہاں گئے ہیں؟ انہوں نے کہا میرے اور ان کے درمیان کوئی بات ہو گئی ہے وہ مجھ پر غصہ ہو کر باہر چلے گئے اور میرے یہاں (گھر میں) قیلولہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں۔ وہ صحابی واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور گرد آلود ہو گئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے، ابوتراب! (مٹی والے) اٹھو، ابوتراب! اٹھو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الْقَائِلَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛مسجد میں قیلولہ کرنا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٨٠)
ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ(ان کی والدہ)ام سلیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا فرش بچھا دیتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں اسی پر قیلولہ کر لیتے تھے۔ بیان کیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور آپ کے موے مبارک کو جمع کرلیتی اور (پسینہ کو) ایک شیشی میں جمع کیا اور پھر «سك» (ایک خوشبو) میں اسے ملا لیا۔ بیان کیا ہے کہ پھر جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ اس «سك» (جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا تھا) میں سے ان کے کفن میں ملا دیا جائے۔ بیان کیا ہے کہ پھر ان کے کفن میں اسے ملایا گیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَقَالَ عِنْدَهُمْ؛جو کسی قوم میں گیا اور وہاں قیلولہ کیا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٨١)
عبداللہ بن ابو طلحہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر پر سوار ہوکر اس طرح راہ خدا میں میں جہاد کر رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر یا فرمایا کہ تخت پر بادشاہوں کی طرح۔اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا (ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا کہ میری امت کے اور کچھ لوگ پیش کئے گئے جو راہ خدا میں اس سمندر پر ایسے سوار ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر یا تخت پر بادشاہوں کی طرح۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَقَالَ عِنْدَهُمْ؛جو کسی قوم میں گیا اور وہاں قیلولہ کیا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٣٢ و حدیث نمبر ٦٢٨٣)
عطاء بن یزید لیثی کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تھا۔ لباس میں تو اشتمال صماء اور احتباء ہیں کہ ایک ہی کپڑے میں اس طرح لپٹ کر بیٹھنا کہ شرمگاہ پر کچھ بھی نہ ہو۔تجارت میں ملامسہ اور منابذہ قسم کی تجارت سے منع فرمایا۔اسی طرح معمر،محمد بن ابو حنیفہ،عبد اللہ بن بدیل نے زہری سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ الْجُلُوسِ كَيْفَمَا تَيَسَّرَ؛جس طرح آسانی ہو اس طرح بیٹھنا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٨٤)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواج مطہرات (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں غیر حاضر نہیں تھیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی (بلکہ بہت ہی مشابہ تھی) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ سے سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تم سے آگے جانے والا ہوں“ بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا ”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مسلمانوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ مَنْ نَاجَى بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ، وَمَنْ لَمْ يُخْبِرْ بِسِرِّ صَاحِبِهِ، فَإِذَا مَاتَ أَخْبَرَ بِهِ؛جو لوگوں کے درمیان سرگوشی کرے اور جو اپنے دوست کا راز نہ کھولے؛٨ص٦٤؛حدیث نمبر٦٢٨٥ و حدیث نمبر ٦٢٨٦)
عبادہ بن تمیم کا بیان ہے کہ میرے عم محترم حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا اور آپ نے ایک قدم مبارک دوسرے قدم مبارک کے اوپر رکھا ہوا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ الاِسْتِلْقَاءِ؛چت لیٹنا؛٨ص٦٣؛حدیث نمبر٦٢٨٧)
فرمان الہی:ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی مشورت کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھاے جاؤ گے وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بے حکم خدا کے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔(المجادلہ ٩،١٠) اور ارشاد فرمایا اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو یہ تمہارے لئے بہتر اور ستھرا ہے پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو پھر جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی تو نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔(المجادلہ ١٢،١٣) نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم تین افراد ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو شخص سرگوشی نہ کریں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ؛تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کریں؛٨ص٦٤؛حدیث نمبر٦٢٨٨)
معتمر بن سلیمان نے اپنے والد ماجد سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات بتائی اور میں نے آپ کی وفات کے بعد بھی وہ راز کسی کو نہیں بتایا (ان کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا لیکن میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ حِفْظِ السِّرِّ؛راز کی مخالفت؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٨٩)
أبو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو شخص سرگوشی نہ کریں،جب تک بہت سے افراد کے ساتھ مل نہ جائے،ورنہ یہ بات اسے دکھ پہنچاے گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثَةٍ فَلاَ بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ؛جب تین سے زیادہ ہوں تو آہستہ بات کرنے اور سرگوشی کرنے میں مضائقہ نہیں؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٠)
شقیق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ مال تقسیم فرمایا اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی رضامندی کو پیش نظر نہیں رکھا گیا میں نے کہا کہ ہاں! اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا۔چنانچہ میں گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں چپکے سے یہ بات کہی تو آپ غصہ ہو گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا پھر آپ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثَةٍ فَلاَ بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ؛جب تین سے زیادہ ہوں تو آہستہ بات کرنے اور سرگوشی کرنے میں مضائقہ نہیں؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩١)
نجوی یہ ناجیت کا مصدر ہے یہ ان کی عادت بیان کی کہ وہ سرگوشی کرتے ہیں۔ عبد العزیز کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی اقامت کہی گئی اور ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کر رہا تھا۔وہ مسلسل سرگوشی کرتا رہا حتیٰ کہ آپ کے اصحاب میں سے کئی سو گئے پھر آپ نے کھڑے ہوکر نماز پڑھائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ طُولِ النَّجْوَى؛دیر تک سرگوشی کرنا؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٢)
سالم نے اپنے والد ماجد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ لاَ تُتْرَكُ النَّارُ فِي الْبَيْتِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر ٦٢٩٣)
ابوبردہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:مدینہ منورہ میں ایک گھر کو رات کے وقت گھر والوں سمیت آگ لگ گئی۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کا واقعہ عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا:یہ آگ تمہاری دشمن ہے۔جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ لاَ تُتْرَكُ النَّارُ فِي الْبَيْتِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو، دروازے بند کردیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ بسا اوقات چوہا بتی کھینچ کے لے جاتا ہے اور گھر والوں کو جلا کر راکھ کردیتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ لاَ تُتْرَكُ النَّارُ فِي الْبَيْتِ عِنْدَ النَّوْمِ؛سوتے وقت آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٥)
جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب رات میں سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو اور دروازے بند کر لیا کرو اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور کھانے پینے کی چیزیں ڈھک دیا کرو۔“ حماد نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا کہ ”اگرچہ ایک لکڑی سے ہی ہو۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٥؛حدیث نمبر٦٢٩٦)
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال صاف کرنا ، بغل کے بال صاف کرنا، مونچھ پست کرنا اور ناخن کاٹنا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٢٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی(٨٠)سال کے بعد قدوم آلے سے اپنا ختنہ کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٢٩٨)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال ہوا تو آپ کی عمر کیا تھی؟ کہا کہ ان دنوں میرا ختنہ ہو چکا تھا اور عرب کے لوگوں کی عادت تھی جب تک لڑکا جوانی کے قریب نہ ہوتا اس کا ختنہ نہ کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٢٩٩)
ابن اویس،ان کے والد،ابو اسحاق،سعید بن جبیر،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میرے ختنے ہوچکے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ إِغْلاَقِ الأَبْوَابِ بِاللَّيْلِ؛رات کو دروازے بند کر لینا؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٣٠٠)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں"(لقمان ٦) حمید بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جس نے قسم کھائی اور کہا کہ لات و عزیٰ کی قسم، تو پھر وہ «لا إله إلا الله» کہے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ کر دینا چاہئے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛بَابُ كُلُّ لَهْوٍ بَاطِلٌ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ؛وہ تمام کھیل باطل ہیں جو اللہ کی اطاعت میں رکاوٹ ہوں اور جو اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٣٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ قیامت کی علامات میں سے ہے جانوروں کے چرانے والے عمارتوں پر فخر کریں گے۔ سعید بن عمرو کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے محفوظ رکھتا ہے اس کی تعمیر میں اللہ کی مخلوق سے کسی نے میری مدد نہیں کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ؛عمارتوں کے بارے میں؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٣٠٢)
عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد نہ میں نے کسی اینٹ پر اینٹ رکھی اور نہ کوئی پودا لگایا ہے۔ سفیان کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث ان کے ایک گھر والوں کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم انہوں نے مکان بنایا۔سفیان کا بیان ہے کہ میں نے کہا:ہو سکتا ہے کہ عمارت بنانے سے پہلے یہ کہا ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ؛عمارتوں کے بارے میں؛٨ص٦٦؛حدیث نمبر٦٣٠٣)
Bukhari Shareef : Kitabul Istezan
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ
|
•