
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر۔(المومن٦٠) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ہر نبی کے لیے ایک دعا ہوتی ہے جو وہ مانگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنی دعا کو اٹھا رکھو جو آخرت میں میری امت کی شفاعت ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ وَلِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ؛ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہوتی ہے جو مقبول ہوتی ہے؛٨ص٦٧؛حدیث نمبر٦٣٠٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہر نبی کے سوال کرنے کا ایک سوال ہوتا ہے تھا یا فرمایا کہ ہر نبی کے مانگنے کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جو مقبول فرمائی جاتی ہے پس میں نے اپنی دعا کو بروز قیامت اپنی امت کے شفاعت قرار دے لیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ وَلِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ؛ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہوتی ہے جو مقبول ہوتی ہے؛٨ص٦٧؛حدیث نمبر٦٣٠٥)
تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے ۔تم پر شرّاٹے کا مینہ بھیجے گا۔اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔(نوح١٠تا ا٢) اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں۔(آل عمران ١٣٥) شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ سیدالاستغفاریہ ہے یوں کہے «اللهم أنت ربي، لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك على وأبوء بذنبي، اغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت".» ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے دل سے ان کو کہہ لیا اور اسی دن اس کا انتقال ہو گیا شام ہونے سے پہلے، تو وہ جنتی ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ أَفْضَلِ الاِسْتِغْفَارِ؛افضل استغفار؛٨ص٦٧؛حدیث نمبر٦٣٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:خدا کی قسم،میں روزانہ ستر دفعہ سے زیادہ بارگاہ الہی میں استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ اسْتِغْفَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دن اور رات میں استغفار کرنا؛٨ص٦٧؛حدیث نمبر٦٣٠٧)
قتادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سچی پکی نفع بخش توبہ کرنی چاہیے۔ حارث بن سوید کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دو احادیث (بیان کیں) ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسرا ان کا اپنا قول ہے۔اپنا قول یہ بیان کیا کہ مومن اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس کے اوپر نہ گر جائے اور بدکار اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح ہلکا سمجھتا ہے کہ وہ اس کے ناک کے پاس سے گزری اور اس نے اپنے ہاتھ سے یوں اس طرف اشارہ کیا۔ ابوشہاب نے ناک پر اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اس کی کیفیت بتائی پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے کسی پرخطر جگہ پڑاؤ کیا ہو اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو اور اس پر کھانے پینے کی چیزیں موجود ہوں۔ وہ سر رکھ کر سو گیا ہو اور جب بیدار ہوا ہو تو اس کی سواری غائب رہی ہو۔ آخر بھوک و پیاس یا جو کچھ اللہ نے چاہا اسے سخت لگ جائے وہ اپنے دل میں سوچے کہ مجھے اب گھر واپس چلا جانا چاہئے اور جب وہ واپس ہوا اور پھر سو گیا لیکن اس نیند سے جو سر اٹھایا تو اس کی سواری وہاں کھانا پینا لیے ہوئے سامنے کھڑی ہے تو خیال کرو اس کو کس قدر خوشی ہوگی۔ ابوشہاب کے ساتھ اس حدیث کو ابوعوانہ اور جریر نے بھی اعمش سے روایت کیا، اور شعبہ اور ابومسلم (عبیداللہ بن سعید) نے اس کو اعمش سے روایت کیا، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے حارث بن سوید سے اور ابومعاویہ نے یوں کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے عمارہ سے انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ اور ہم سے اعمش نے بیان کیا انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے حارث بن سوید سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّوْبَةِ؛توبہ کرنا؛٨ص٦٨؛حدیث نمبر٦٣٠٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جیسے تم میں سے کسی کا اونٹ جنگل میں گم ہونے کے بعد دوبارہ اسے مل جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التوبۃ؛٨ص٦٧؛حدیث نمبر٦٣٠٩)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔پھر جب فجر طلوع ہوجاتی تو دو خفیف رکعتیں پڑھتے،پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے حتیٰ کہ مؤذن آپ کو بلانے کے لئے آتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الضَّجْعِ عَلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ؛داہنی کروٹ لیٹنا؛٨ص٦٨؛حدیث نمبر٦٣١٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تو سونے لگے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر پھر دائیں کروٹ لیٹ جا اور یہ دعا پڑھ «اللهم أسلمت نفسي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رهبة ورغبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت.» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیری اطاعت میں دے دیا۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کر دیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے۔ خوف کی وجہ سے اور تیرے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجا ہے۔“ اس کے بعد اگر تم مر گئے تو فطرت (دین اسلام) پر مرو گے پس ان کلمات کو (رات کی) سب سے آخری بات بناؤ جنہیں تم اپنی زبان سے ادا کرو (براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) میں نے عرض کی «وبرسولك الذي أرسلت.» کہنے میں کیا وجہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں «وبنبيك الذي أرسلت» کہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ إِذَا بَاتَ طَاهِرًا؛جو حالت طہارت میں رہے؛٨ص٦٨؛حدیث نمبر٦٣١١)
ربعی بن حراش کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو کہتے:"تیرے نام کے ساتھ سوتا اور جاگتا ہوں۔"جب آپ بیدار ہوتے تو کہتے:"خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں مرنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔" (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا نَامَ؛سوتے وقت کیا پڑھے؛٨ص٦٩؛حدیث نمبر٦٣١٢)
ابواسحاق نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو حکم دیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے ابواسحاق ہمدانی نے بیان کیا، اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو وصیت کی اور فرمایا کہ جب بستر پر جانے لگو تو یہ دعا پڑھا کرو «اللهم أسلمت نفسي إليك، وفوضت أمري إليك، ووجهت وجهي إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت.» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی اور اپنا معاملہ تجھے سونپا اور اپنے آپ کو تیری طرف متوجہ کیا اور تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رغبت ہے تیرے خوف کی وجہ سے، تیرے سوا کوئی جائے پناہ نہیں، میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر جنہیں تو نے بھیجا۔“ پھر اگر وہ مرا تو فطرت (اسلام) پر مرے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا نَامَ؛سوتے وقت کیا پڑھے؛٨ص٦٩؛حدیث نمبر٦٣١٣)
ربعی بن حراش نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں بستر پر جاتے تو اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ کہتے «اللهم باسمك أموت وأحيا» ”اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ سوتا ہوں اور جاگتا ہوں۔“ اور جب آپ بیدار ہوتے تو کہتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور".» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں زندہ کیا مرنے کے بعد(مراد نیند ہے) اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ وَضْعِ الْيَدِ الْيُمْنَى تَحْتَ الْخَدِّ الأَيْمَنِ؛داہنے ہاتھ کو دائیں رخسار کے نیچے رکھے؛٨ص٦٩؛حدیث نمبر٦٣١٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو دائیں پہلو پر لیٹتے اور پھر کہتے «اللهم أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، ونبيك الذي أرسلت.» اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے یہ دعا پڑھی اور پھر اس رات اگر اس کی وفات ہو گئی تو اس کی وفات فطرت پر ہو گی۔ قرآن مجید میں جو «سترهبوهم» کا لفظ آیا ہے یہ بھی «رهبت» سے نکالا ہے ( «رهبت» کے معنی ڈر کے ہیں) «ملكوت» کا معنی ملک یعنی سلطنت جیسے کہتے ہیں کہ «رهبوت»، «رحموت» سے بہتر ہے یعنی ڈرنا رحم کرنے سے بہتر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ النَّوْمِ عَلَى الشِّقِّ الأَيْمَنِ؛داہنی کروٹ سونا؛٨ص٦٩؛حدیث نمبر٦٣١٥)
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حضرت میمونہ (رضی اللہ عنہا) کے یہاں ایک رات سویا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور جب اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ دھوئے اور پھر سو گئے اس کے بعد آپ کھڑے ہو گئے اور مشکیزہ کے پاس گئے اور آپ نے اس کا منہ کھولا پھر درمیانہ وضو کیا یعنی تھوڑا یا زیادہ پانی استعمال نہ فرمایا۔ البتہ پانی ہر جگہ پہنچا دیا۔ پھر آپ نے نماز پڑھی۔ میں بھی کھڑا ہوا اور آپ کے پیچھے ہی رہا کیونکہ میں اسے پسند نہیں کرتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھیں کہ میں آپ کا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے بھی وضو کر لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا کان پکڑ کر دائیں طرف کر دیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کی اقتداء میں) تیرہ رکعت نماز مکمل کی۔ اس کے بعد آپ سو گئے اور آپ کی سانس میں آواز پیدا ہونے لگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تھے تو آپ کی سانس میں آواز پیدا ہونے لگتی تھی۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کی اطلاع دی چنانچہ آپ نے (نیا وضو) کئے بغیر نماز پڑھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ کہتے تھے «اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفوقي نورا، وتحتي نورا، وأمامي نورا، وخلفي نورا، واجعل لي نورا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر، میری نظر میں نور پیدا کر، میرے کان میں نور پیدا کر، میرے دائیں طرف نور پیدا کر، میرے بائیں طرف نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔“ کریب (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ میرے پاس مزید سات لفظ محفوظ ہیں۔ پھر میں نے عباس رضی اللہ عنہما کے ایک صاحب زادے سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے ان کے متعلق بیان کیا کہ «عصبي ولحمي ودمي وشعري وبشري، وذكر خصلتين.» ”میرے پٹھے، میرا گوشت، میرا خون، میرے بال اور میرا چمڑا ان سب میں نور بھر دے۔“ اور دو چیزوں کا اور بھی ذکر کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا انْتَبَهَ بِاللَّيْلِ؛رات کو بیدار ہو تو یہ دعا مانگے؛٨ص٦٩؛حدیث نمبر٦٣١٦)
طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے «اللهم لك الحمد، أنت نور السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد، أنت الحق ووعدك حق، وقولك حق، ولقاؤك حق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق، والنبيون حق، ومحمد حق، اللهم لك أسلمت وعليك توكلت وبك آمنت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت، وما أعلنت، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں تو آسمان و زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کا نور ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں تو آسمان اور زمین اور ان میں موجود تمام چیزوں کا قائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیرا قول حق ہے، تجھ سے ملنا حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں۔ اے اللہ! تیرے سپرد کیا، تجھ پر بھروسہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری طرف رجوع کیا، دشمنوں کا معاملہ تیرے سپرد کیا، فیصلہ تیرے سپرد کیا، پس جو میں نے پہلے کیا اور آئندہ کروں اسے معاف کر۔اور جو میں نے چھپایا اور ظاہر کیا تو ہی سب سے پہلے تھا اور تو ہی سب کے بعد ہے کوئی عبادت کے لائق نہیں مگر تو اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں"۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا انْتَبَهَ بِاللَّيْلِ؛٨ص٧٠؛حدیث نمبر٦٣١٧)
ابن ابی لیلیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی تکلیف کی وجہ سے کہ ان کے مبارک ہاتھ کو صدمہ پہنچتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم مانگنے کے لیے حاضر ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہیں تھے۔ اس لیے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا۔ جب آپ تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ہم اس وقت تک اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں کھڑا ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتا دوں جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہو۔ جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو تینتیس (33) مرتبہ «الله اكبر» کہو، تینتیس (33) مرتبہ «سبحان الله» کہو اور تینتیس (33) مرتبہ «الحمد الله» کہو، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے اور شعبہ سے روایت ہے ان سے خالد نے، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا کہ سبحان اللہ چونتیس (34) مرتبہ کہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ عِنْدَ الْمَنَامِ؛سوتے وقت تکبیر اور تسبیح پڑھنا؛٨ص٧٠؛حدیث نمبر٦٣١٨)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جانے لگتے تو سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھ کر اپنے دونوں مبارک ہاتھوں پر دم فرماتے اور پھر انہیں اپنے جسم انور پر مل لیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ وَالْقِرَاءَةِ عِنْدَ الْمَنَامِ؛سوتے وقت تعوذ اور کچھ قرأت کرنا؛٨ص٧٠؛حدیث نمبر٦٣١٩)
ابو سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر لیٹے تو پہلے اپنا بستر اپنے ازار کے اگلے حصے سے جو زائد ہے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی بےخبری میں کیا چیز اس پر آ گئی ہے پھر یہ دعا پڑھے «باسمك رب وضعت جنبي، وبك أرفعه، إن أمسكت نفسي فارحمها، وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به الصالحين".»" اے رب! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیرے ہی نام سے اٹھاؤں گا اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر چھوڑ دیا (زندگی باقی رکھی) تو اس کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تو صالحین کی حفاظت کرتا ہے۔“ اس کی روایت ابوضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ کے حوالے سے کی اور یحییٰ اور بشر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت امام مالک اور ابن عجلان نے کی ہے۔ ان سے سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَاب التعوذ والقراءۃ عند المنام؛٨ص٧٠؛حدیث نمبر٦٣٢٠)
أبوعبدالله اغر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف اپنی شان کے مطابق نزول فرماتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ؛آدھی رات کے وقت کی دعا؛٨ص٧١؛حدیث نمبر٦٣٢١)
عبد العزيز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہونے لگتے تو کہتے"اے اللہ!میں ناپاکی اور ناپاکوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْخَلاَءِ؛بیت الخلاء جاتے وقت کی دعا؛٨ص٧١؛حدیث نمبر٦٣٢٢)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سید الاستغفار یہ ہے «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أبوء لك بنعمتك، وأبوء لك بذنبي، فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، أعوذ بك من شر ما صنعت.» ”اے اللہ! تو میرا پالنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور جو تجھ سے عہد وعدہ کیا تھا اس پر مقدور بھر قائم ہوں،تیری نعمت کا طالب ہو کر تیری پناہ میں آتا ہوں اور اپنے گناہوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے برے کاموں سے۔ اگر کسی نے رات ہوتے ہی یہ کہہ لیا اور اسی رات اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنت میں جائے گا۔ یا (فرمایا کہ) وہ اہل جنت میں ہو گا اور اگر یہ دعا صبح کے وقت پڑھی اور اسی دن اس کی وفات ہو گئی تو بھی ایسا ہی ہو گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛جب صبح کرے تو کیا پڑھے؛٨ص٧١؛حدیث نمبر٦٣٢٣)
ربعی بن حراش نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے"اے اللہ!میں تیرے نام کے ساتھ سوتا ہوں اور جاگتا ہوں اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو کہتے:خدا کا شکر ہے جس نے ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛جب صبح کرے تو کیا پڑھے؛٨ص٧١؛حدیث نمبر٦٣٢٤)
حرشہ بن حر کا بیان ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رات کے وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو کہتے:"اے اللہ!میں تیرے نام کے ساتھ مرتا اور جیتا ہوں۔"اور جب بیدار ہوتے تو کہتے:"خدا کا شکر ہے جس نے ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔" (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ؛جب صبح کرے تو کیا پڑھے؛٨ص٧١؛حدیث نمبر٦٣٢٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں پڑھا کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کہا کر «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا، ولا يغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي مغفرة من عندك، وارحمني، إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کو تیرے سوا کوئی معاف نہیں کرتا پس میری مغفرت کر اپنی خاص مغفرت کے ساتھ اور مجھ پر رحم کر بلاشبہ تو بڑا مغفرت کرنے ولا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔“ اور عمرو بن حارث نے بھی اس حدیث کو یزید سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آخر تک۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فی الصلاۃ؛نماز میں دعا؛٨ص٧٢؛حدیث نمبر٦٣٢٦)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آیت:ترجمہ کنز الایمان:"اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ۔(بنی اسرائیل ١١٠)یہ دعا کے متعلق نازل فرمائی گئی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فی الصلاۃ؛نماز میں دعا؛٨ص٧٢؛حدیث نمبر٦٣٢٧)
ابووائل کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نماز میں یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک دن فرمایا کہ اللہ خود سلام ہے اس لیے جب تم نماز میں بیٹھو تو یہ پڑھا کرو «التحيات لله»سے «الصالحين.» تک اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو آسمان و زمین میں موجود اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہر صالح بندہ کو (یہ سلام) پہنچے گا۔پھر کہے «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» اس کے بعدجو دعا چاہو پڑھو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فی الصلاۃ؛نماز میں دعا؛٨ص٧٢؛حدیث نمبر٦٣٢٨)
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مالدار لوگ تو بلند درجات اور ہمیشہ کی نعمتوں میں سبقت لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیسے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جس طرح ہم جہاد کرتے ہیں وہ بھی جہاد کرتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ اپنا زائد مال بھی (اللہ کے راستہ میں) خرچ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتاؤں جو جس کے سبب تم ان لوگوں کے برابر ہوجاؤ جو تمہارے بعد آئیں گے اور تمہارے برابر کوئی نہیں ہو سکے گا۔مگر وہ جو تمہاری طرح کرے (اور وہ عمل یہ ہے) کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ «سبحان الله» پڑھا کرو، دس مرتبہ «الحمد الله» پڑھا کرو اور دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھا کرو۔ اس کی روایت عبیداللہ بن عمر نے سمی اور رجاء بن حیوہ سے کی اور اس کی روایت جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے کی، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے۔ اور اس کی روایت سہیل نے اپنے والد سے کی، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فی الصلاۃ؛نماز میں دعا؛٨ص٧٢؛حدیث نمبر٦٣٢٩)
وراد مولیٰ مغیرہ بن شعبہ کا بیان ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو یہ کہا کرتے تھے «لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد".» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کے لیے ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو نے دیا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو نے روک دیا اسے کوئی دینے والا نہیں کوئی شان والا اپنی مرضی سے نفع نہیں پہنچا سکتا کیونکہ شان کا عطاء کرنے والا تو ہے اور شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا کہ میں نے مسیب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فی الصلاۃ؛نماز میں دعا؛٨ص٧٢؛حدیث نمبر٦٣٣٠)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے لئے دعا کیجئے۔فرمان الہی ترجمہ کنز الایمان:اور ان کے حق میں دعاے خیر کرو۔(التوبہ١٠٣)اور جس نے اپنے علاوہ اپنے بھائی کو دعا میں یاد رکھا۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:"اے اللہ!عبید اللہ بن عامر کی مغفرت فرما۔اے اللہ!عبد اللہ بن قیس کے گناہ معاف فرما"۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَصَلِّ عَلَيْهِمْ}؛٨ص٧٢) یزید بن ابو عبید مولیٰ سلمہ کا بیان ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر گئے (راستہ میں) مسلمانوں میں سے کسی شخص نے کہا اے عامر کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ہمیں اپنے اشعار سنائیں!۔ وہ حدی پڑھنے لگے اور کہنے لگے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ ہدایت نہ فرماتا تو ہم ہدایت نہ پاتے“ اس کے علاوہ دوسرے اشعار بھی انہوں نے پڑھے مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔ (اونٹ حدی سن کر تیز چلنے لگے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سواریوں کو کون ہنکا رہا ہے، لوگوں نے کہا کہ عامر بن اکوع ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے،ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!کاش،آپ ہمیں ان سے نفع اٹھانے دیتے۔ پھر جب صف بندی ہوئی تو مسلمانوں نے کافروں سے جنگ کی اور عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی جو خود ان کے پاؤں پر لگ گئی اور ان کی موت ہو گئی۔ شام ہوئی تو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ آگ کیسی ہے، اسے کیوں جلایا گیا ہے؟ صحابہ نے کہا کہ پالتو گدھوں (کا گوشت پکانے) کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ ہانڈیوں میں گوشت ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اجازت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لیں کہ ہانڈیوں میں جو کچھ ہے اسے پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا یہی کر لو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَصَلِّ عَلَيْهِمْ}؛٨ص٧٢؛حدیث نمبر٦٣٣١)
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی صدقہ لے کر آتا تو آپ کہتے:اے اللہ فلاں کی آل پر رحمت نازل فرما۔چناچہ اسی طرح میرے والد حاضر بارگاہ ہوئے تو کہا:"اے اللہ!ال ابی اوفی پر رحمت نازل ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَصَلِّ عَلَيْهِمْ}؛٨ص٧٢؛حدیث نمبر٦٣٣٢)
قیس بن ابو حازم کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم مجھے ذوالخلصہ کے غم سے نجات دلاؤ گے؟وہ ایک بت تھا جس کو جاہلیت میں لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ کہا کرتے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس خدمت کے لیے میں تیار ہوں لیکن میں گھوڑے پر ٹھیک جم کر بیٹھ نہیں سکتا ہوں آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مبارک پھیر کر دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے ثابت قدمی عطا فرما اور اس کو ہدایت کرنے والا اور نور ہدایت پانے والا بنا۔ جریر نے کہا کہ پھر میں اپنی قوم احمس کے پچاس آدمی لے کر نکلا اور ابی سفیان نے یوں نقل کیا کہ میں اپنی قوم کی ایک جماعت لے کر نکلا اور میں وہاں گیا اور اسے جلا دیا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس نہیں آیا جب تک میں نے اسے جلے ہوئے خارش زدہ اونٹ کی طرح سیاہ نہ کر دیا۔ پس آپ نے قبیلہ احمس اور اس کے گھوڑوں کے لیے دعا فرمائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَصَلِّ عَلَيْهِمْ}؛٨ص٧٣؛حدیث نمبر٦٣٣٣)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ام سلیم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ انس تو آپ کا خادم ہے آپ نے دعا کی:اے اللہ اس کے مال اور اولاد کو بڑھا اور جو اسے عطاء فرمایا ہے اس میں برکت دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَصَلِّ عَلَيْهِمْ}؛٨ص٧٣؛حدیث نمبر٦٣٣٤)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد کروادیں جو میں فلاں فلاں سورتوں سے بھول گیا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَصَلِّ عَلَيْهِمْ}؛٨ص٧٣؛حدیث نمبر٦٣٣٥)
ابووائل کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم فرمائی تو ایک شخص بولا اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ اس پر غصہ ہوئے اور میں نےغصے کے آثار آپ کے چہرہ مبارک پر دیکھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَصَلِّ عَلَيْهِمْ}؛٨ص٧٣؛حدیث نمبر٦٣٣٦)
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ لوگوں کو وعظ ہفتہ میں صرف ایک دن جمعہ کو کیا کر، اگر زیادہ کی خواہش ہو تو دو مرتبہ اور اگر تم زیادہ ہی کرنا چاہتے ہو تو پس تین دن اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتا نہ دینا، ایسا نہ ہو کہ تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو، وہ اپنی باتوں میں مصروف ہوں اور تم پہنچتے ہی ان سے اپنی بات (بشکل وعظ) بیان کرنے لگو اور ان کی آپس کی گفتگو کو کاٹ دو کہ اس طرح وہ اکتا جائیں، بلکہ (ایسے مقام پر) تمہیں خاموش رہنا چاہئے۔ جب وہ تم سے کہیں تو پھر تم انہیں اپنی باتیں سناؤ۔ اس طرح کہ وہ بھی اس تقریر کے خواہشمند ہوں اور دعا میں قافیہ بندی سے پرہیز کرتے رہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ السَّجْعِ فِي الدُّعَاءِ؛دعا میں الفاظ کو سجانا پسندیدہ نہیں؛٨ص٧٤؛حدیث نمبر٦٣٣٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اسے چاہئے کہ عزم کے ساتھ سوال کرے اور یوں نہ کہے کہ اے اللہ!اگر تو چاہے تو مجھے فلاں چیز عطاء فرما دے کیونکہ خدا پر زور دینے والا کوئی نہیں ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ؛عزم کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اس پر کسی کا زور نہیں؛٨ص٧٤؛حدیث نمبر٦٣٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی یوں دعا نہ کرے:"اے اللہ!اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے۔اے اللہ!اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما۔"بلکہ عزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اس پر زور دینے والا کوئی نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ؛عزم کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اس پر کسی کا زور نہیں؛٨ص٧٤؛حدیث نمبر٦٣٣٩)
ابو عبید مولیٰ ابن ازہر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تک تم میں سے کوئی جلدی نہ کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے لیکن یوں کہنے لگتا ہے کہ میں نے دعا کی لیکن تو نے قبول نہ فرمائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَعْجَلْ؛جلدی نہ کرے تو بندے کی دعا قبول ہوتی ہے؛٨ص٧٤؛حدیث نمبر٦٣٤٠)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ میں نے آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے کہ:"اے اللہ!جو خالد نے کیا میں تیری بارگاہ میں اس سے بری ہوں۔" حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھاے حتیٰ کہ میں نے آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ رَفْعِ الأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ؛دعا میں ہاتھوں کا اٹھانا؛٨ص٧٤؛حدیث نمبر٦٣٤١)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ ہمارے لیے بارش برسائے(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی) اور آسمان پر بادل چھا گیا اور بارش برسنے لگی، یہ حال ہو گیا کہ ہمارے لیے گھر تک پہنچنا مشکل تھا۔ یہ بارش اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی صحابی یا کوئی دوسرے صحابی اس دوسرے جمعہ کو کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اب بارش کو ہم سے ہٹا لے ہم تو ڈوب گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بستیوں کو سیراب کر اور ہم پر بارش بند کر دے۔ چنانچہ بادل ٹکڑے ہو کر مدینہ کے چاروں طرف بستیوں میں چلا گیا اور مدینہ والوں پر بارش رک گئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةِ؛بغیر قبلہ رو ہوے دعا کرنا؛٨ص٧٤؛حدیث نمبر٦٣٤٢)
یحییٰ بن عباد بن تمیم نے حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کرنے کے لئے عید گاہ کی جانب تشریف لے گئے۔چناچہ آپ نے بارش کے لئے دعا مانگی۔پھر قبلہ رو ہوگئے اور آپ نے اپنی چادر الٹ دی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ؛قبلہ رو ہوکر دعا کرنا؛٨ص٧٤؛حدیث نمبر٦٣٤٣)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میری والدہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ!اپنے خادم انس کے لیے دعا کیجئے۔آپ نے دعا کی"اے اللہ!اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر دے اور جو اسے عطاء فرمایا ہے اس میں برکت دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛ بَابُ دَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ بِطُولِ الْعُمُرِ وَبِكَثْرَةِ مَالِهِ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے خادم کے لیے بھی عمر اور مال بڑھنے کا دعا کرنا؛٨ص٧٥؛حدیث نمبر٦٣٤٤)
ابو العالیہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں یوں دعا کرتے تھے:"نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ جو عظمت اور حلم والا ہے۔نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ؛تکلیف میں دعا؛٨ص٧٥؛حدیث نمبر٦٣٤٥)
قتادہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں یوں دعا کیا کرتے تھے:"نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے نہیں ہے کوئی معبود مگر جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عزت والے عرش کا رب ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ؛تکلیف میں دعا؛٨ص٧٥؛حدیث نمبر٦٣٤٦)
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت بلا،بدبختی کے آنے،بری تقدیر اور دشمنوں کے طعن و تنقید سے پناہ مانگا کرتے تھے۔سفیان راوی کا بیان ہے کہ حدیث میں تین باتوں کا ذکر تھا،ایک کا مجھ سے اضافہ ہوگیا۔لیکن مجھے یہ علم نہیں کہ وہ ایک کون سی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ جَهْدِ الْبَلاَءِ؛سخت بلا سے پناہ مانگنا؛٨ص٧٥؛حدیث نمبر٦٣٤٧)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے علم والوں کے سامنے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار نہیں تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی جاتی تو پہلے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے، اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے (کہ چاہیں دنیا میں رہیں یا جنت میں چلیں) چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وقت آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی طاری ہوئی۔ پھر جب آپ کو اس سے کچھ ہوش ہوا تو چھت کی طرف دیکھا، پھر فرمایا «اللهم الرفيق الأعلى» ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔“ میں نے سمجھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب ہمیں اختیار نہیں کر سکتے، میں سمجھ گئی کہ جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحت کے زمانے میں بیان فرمایا کرتے تھے، یہ وہی بات ہے۔ بیان کیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے زبان سے ادا فرمایا کہا «اللهم الرفيق الأعلى» ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛ بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا"اے اللہ!مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے"؛٨ص٧٥؛حدیث نمبر٦٣٤٨)
قیس بن ابو حازم کا بیان ہے کہ میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو انہوں نے سات داغ لگواے ہوے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موت کی دعا کرنے سے ممانعت نہ فرمائی ہوتی تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ بِالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ؛موت اور زندگی کی دعا؛٨ص٧٦؛حدیث نمبر٦٣٤٩)
قیس کا بیان ہے کہ میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو انہوں نے سات داغ لگواے ہوے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موت کی دعا کرنے سے ممانعت نہ فرمائی ہوتی تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ بِالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ؛موت اور زندگی کی دعا؛٨ص٧٦؛حدیث نمبر٦٣٥٠)
عبد العزيز صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص تکلیف کے سبب موت کی آرزو نہ کرے جو اسے پہنچے اور اگر موت کی تمنا کرنے کے سوا چارہ نہ ہو تو یوں کہنا چاہیے:اے اللہ!مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے اور مجھے وفات دینا جبکہ موت میرے لیے بہتر ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ بِالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ؛موت اور زندگی کی دعا؛٨ص٧٦؛حدیث نمبر٦٣٥١)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے برکت کی دعا فرمائی۔ جعد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہوئےسنا، انہوں نے بیان کیا کہ میری خالہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا۔ اس کے بعد میں آپ کی پشت کی طرف کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو دونوں شانوں کے درمیان میں تھی جو حجلہ کے انڈے کی مثل تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلصِّبْيَانِ بِالْبَرَكَةِ وَمَسْحِ رُءُوسِهِمْ؛بچوں کے لئے برکت کی دعا کرنا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا؛٨ص٧٦؛حدیث نمبر٦٣٥٢)
سعید بن ابو ایوب نے ابوعقیل سے روایت کی ہے کہ انہیں ان کے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ ساتھ لے کر بازار سے نکلتے یا بازار جاتے اور کھانے کی کوئی چیز خریدتے، پھر اگر عبداللہ بن زبیر یا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ان سے ملاقات ہو جاتی تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس میں شریک کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی تھی۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا کہ سواری پر لدا ہوا غلہ جتنا لے جاتے اتنا ہی گھر واپس آجاتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلصِّبْيَانِ بِالْبَرَكَةِ وَمَسْحِ رُءُوسِهِمْ؛بچوں کے لئے برکت کی دعا کرنا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا؛٨ص٧٦؛حدیث نمبر٦٣٥٣)
عبد العزيز بن عبد اللہ،ابراهيم بن سعد،صالح بن کیسان،ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے محمود بن ربیع نے بتایا کہ جن کے چہرہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کنویں کا پانی کے کر کلی کی جب کہ وہ بچے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلصِّبْيَانِ بِالْبَرَكَةِ وَمَسْحِ رُءُوسِهِمْ؛بچوں کے لئے برکت کی دعا کرنا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا؛٨ص٧٦؛حدیث نمبر٦٣٥٤)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بچے لاے جاتے تو آپ ان کے لئے دعا کرتے چناچہ ایک بچہ لایا گیا تو اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا۔پس آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا اور اسے نہ دھویا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلصِّبْيَانِ بِالْبَرَكَةِ وَمَسْحِ رُءُوسِهِمْ؛بچوں کے لئے برکت کی دعا کرنا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا؛٨ص٧٦؛حدیث نمبر٦٣٥٥)
زہری کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ صُعَیر رضی اللہ عنہ نے بتایا جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک پھیرا تھا کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک وتر پڑھتے ہوے دیکھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلصِّبْيَانِ بِالْبَرَكَةِ وَمَسْحِ رُءُوسِهِمْ؛بچوں کے لئے برکت کی دعا کرنا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا؛٨ص٧٦؛حدیث نمبر٦٣٥٦)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا کہ میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ (یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو «اللهم صل على محمد، وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد، وعلى آل محمد، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔ اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا؛٨ص٧٧؛حدیث نمبر٦٣٥٧)
عبداللہ بن خباب نے بیان کیا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام کرنا تو یہ ہے، لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك، كما صليت على إبراهيم، وبارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم» ”اے اللہ! اپنی رحمت نازل کر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جو تیرے بندے ہیں اور تیرے رسول ہیں جس طرح تو نے رحمت نازل کی ابراہیم پر اور برکت بھیج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور ان کی آل پر جس طرح برکت بھیجی تو نے ابراہم پر اور آل ابراہیم پر۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا؛٨ص٧٧؛حدیث نمبر٦٣٥٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:"اور ان کے حق میں دعاے خیر کرو بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے"(التوبہ ١٠٣) عمرو بن مرہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شخص اپنی صدقہ لے کر آتا تو آپ فرماتے «اللهم صل عليه"» ”اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ میرے والد بھی صدقہ لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم صل على آل أبي أوفى"» ”اے اللہ! آل ابی اوفی پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ هَلْ يُصَلَّى عَلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسروں پر درود بھیجے؛٨ص٧٧؛حدیث نمبر٦٣٥٩)
عمرو بن سلیم زرقی کا بیان ہے کہ ہم کو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته، كما صليت على آل إبراهيم، وبارك على محمد وأزواجه وذريته، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر اپنی رحمت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی اور محمد اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی۔ بلاشبہ تو تعریف کیا گیا شان و عظمت والا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ هَلْ يُصَلَّى عَلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسروں پر درود بھیجے؛٨ص٧٧؛حدیث نمبر٦٣٦٠)
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوے سنا کہ اے اللہ!جس مؤمن کے لیے میں نے برا کہا ہو تو بروز قیامت اسے اپنے قرب کا ذریعہ بنا دینا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آذَيْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک؛جسے میں نے اذیت پہنچائی اسے کفارہ اور رحمت بنا دے؛٨ص٧٧؛حدیث نمبر٦٣٦١)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا،حتیٰ کہ سوالات کا سلسلہ طویل ہوگیا تو آپ ناراض ہوے اور منبر پر بیٹھ کر آپ نے فرمایا:آج تم مجھ سے جو بات پوچھو گے میں بتاؤں گا۔ اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ سر اپنے کپڑوں میں لپیٹے ہوئے رو رہے تھے، ایک صاحب جن کا اگر کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف (طعنہ کے طور پر) منسوب کیا جاتا تھا۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرے باپ کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حذافہ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا ہم اللہ سے راضی ہیں کہ ہمارا رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ سچے رسول ہیں، ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے آج کی طرح خیر و شر کو پہلے نہیں دیکھا،بےشک مجھے جنت اور دوزخ دکھائی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے اوپر دیکھا۔ قتادہ اس حدیث کو بیان کرتے وقت (سورۃ المائدہ کی) اس آیت کا ذکر کیا کرتے تھے «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ”اے ایمان والو!ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔“(المائدہ ١٠١) (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْفِتَنِ؛فتنوں سے پناہ؛٨ص٧٧؛حدیث نمبر٦٣٦٢)
عمرو بن ابو عمرو،مولیٰ مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے لڑکوں میں سے کوئی بچہ تلاش کرو جو میرا کام کر دیا کرے۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھا کر لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر ہوتے تو میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا اکثر پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، والعجز والكسل، والبخل والجبن، وضلع الدين، وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی و کمزوری سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور انسانوں کے غلبہ سے۔“ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا۔ پھر ہم خیبر سے واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کوساتھ لے رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے عبا یا چادر سے پردہ کیا اور انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ جب ہم مقام صہبا پہنچے تو آپ نے ایک چرمی دستر خوان پر کچھ مالیدہ تیار کرا کے رکھوایا پھر مجھے بھیجا اور میں کچھ صحابہ کو بلا لایا اور سب نے اسے کھایا، یہ آپ کی دعوت ولیمہ تھی۔ اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور احد پہاڑ دکھائی دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ آپ جب مدینہ منورہ پہنچے تو فرمایا ”اے اللہ! میں اس شہر کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقہ کو اس طرح حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا۔ اے اللہ! یہاں والوں کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ غَلَبَةِ الرِّجَالِ؛لوگوں کے غلبے سے پناہ؛٨ص٧٨؛حدیث نمبر٦٣٦٣)
موسیٰ بن عقبہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے فرمایا کہ میرے سوا کسی نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی۔وہ فرماتی ہیں کہ میں نے سنا کہ آپ عذاب قبر سے پناہ طلب فرما رہے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛عذاب قبر سے پناہ؛٨ص٧٨؛حدیث نمبر٦٣٦٤)
عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے مصعب بن سعد نے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہمیں پانچ باتوں کا حکم دیتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا حکم فرمایا کرتے«اللهم إني أعوذ بك من البخل، وأعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بك من فتنة الدنيا يعني فتنة الدجال وأعوذ بك من عذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ بہت ضعیفی مجھ پر آ جائے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ سے، اس سے مراد دجال کا فتنہ ہے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛٨ص٧٨؛حدیث نمبر٦٣٦٥)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب ہو گا۔ لیکن میں نے انہیں جھٹلایا اور ان کی (بات کی) تصدیق نہیں کر سکی۔ پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دو بوڑھی عورتیں تھیں، پھر میں آپ سے واقعہ کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے صحیح کہا، قبر والوں کو عذاب ہو گا اور ان کے عذاب کو تمام چوپائے سنیں گے۔ پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛٨ص٧٨؛حدیث نمبر٦٣٦٦)
معتمر نے اپنے والد کو اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے:"اے اللہ!میں عاجزی،سستی،بزدلی، بخل،ضعیفی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ؛زندگی اور موت کے فتنے سے پناہ؛٨ص٧٩؛حدیث نمبر٦٣٦٧)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کیا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم، والمأثم والمغرم، ومن فتنة القبر وعذاب القبر، ومن فتنة النار وعذاب النار، ومن شر فتنة الغنى، وأعوذ بك من فتنة الفقر، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل عني خطاياى بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، بہت زیادہ بڑھاپے سے،گناہ سے، قرض سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور دوزخ کی آزمائش سے اور دوزخ کے عذاب سے اور مالداری کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں محتاجی کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کی آزمائش سے۔ اے اللہ! میری خطاؤں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک و صاف کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک صاف کر دیا اور مجھ میں اور میرے خطاؤں میں اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اور مغرب میں دوری ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛ بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ؛گناہ اور قرض سے پناہ؛٨ص٧٩؛حدیث نمبر٦٣٦٨)
عمرو بن ابو عمرو کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے:"میں رنج و غم سے، عاجزی اور سستی سے،بزدلی اور بخل سے،قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْجُبْنِ وَالْكَسَلِ؛بزدلی اور سستی سے پناہ مانگنا؛٨ص٧٩؛حدیث نمبر٦٣٦٩)
البخل والبخل واحد، مثل الحزن والحزن. «بخل» (باء کے ضمہ اور خاء کے سکون) اور «بخل» (باء کے نصب اور خاء کے نصب کے ساتھ) ایک ہی ہیں جیسے «حزن» اور «حزن» ۔ عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے مصعب بن سعد نے بیان کیا اور ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان پانچ باتوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیتےاور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے«اللهم إني أعوذ بك من البخل، وأعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بك من فتنة الدنيا، وأعوذ بك من عذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ضعیفی کے عمر کو پہنچنے سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْبُخْلِ؛بخل سے پناہ؛٨ص٧٩؛حدیث نمبر٦٣٧٠)
{اراذلنا} اسقاطنا. (سورۃ ہود(ھود ٢٧)میں جو لفظ) «أراذلنا» آیا ہے اس سے «سقاطنا»ہمارے کمینے لوگ مراد ہیں۔ عبد العزیز بن صہیب کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے ہوئے کہا کرتے:"اے اللہ!میں سستی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور بہت ضعیفی کی عمر پہنچنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور بخل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ؛بہت ضعیفی کی عمر سے پناہ؛٨ص٧٩؛حدیث نمبر٦٣٧١)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:«اللهم حبب إلينا المدينة، كما حببت إلينا مكة أو أشد، وانقل حماها إلى الجحفة، اللهم بارك لنا في مدنا وصاعنا» ”اے اللہ! ہمارے دل میں مدینہ کی ایسی ہی محبت پیدا کر دے جیسی تو نے مکہ کی محبت ہمارے دل میں پیدا کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کے بخار کو جحفہ میں منتقل کر دے، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما"۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛ بَابُ الدُّعَاءِ بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْوَجَعِ؛دعا وبا اور مصیبت کو دور کر دیتی ہے؛٨ص٨٠؛حدیث نمبر٦٣٧٢)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میری اس بیماری نے مجھے موت سے قریب کر دیا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں پہنچا دیا ہے اور میرے پاس مال و دولت ہے اور سوا ایک لڑکی کے اس کا اور کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنی دولت کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آدھی کا کر دوں؟ فرمایا کہ نہیں۔میں نے عرض کی کہ تہائی؟فرمایا کہ تہائی بھی زیادہ ہے اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں کنگال چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ ہھیلاے اور یقین رکھو کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہوئی تمہیں تو اس پر ثواب ملے گا، یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو (تو اس پر بھی ثواب ملے گا) میں نے عرض کیا میں اپنے ساتھیوں سے جدا ہو جاؤں گا؟فرمایا کہ تم جدا نہیں ہو گے بلکہ تم رضاے الہی کے لیے کام کرو گے جس کے سبب تمہارے مرتبے اور عزت میں اضافہ ہوگا اور شاید تم طویل عمر پاؤ اور کچھ لوگ تم سے فائدہ اٹھائیں گی اور کچھ نقصان اٹھائیں گی۔ اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو کامل فرما دے اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر، البتہ افسوس رہا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا۔ سعد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ معظمہ میں ہو گیا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛ بَابُ الدُّعَاءِ بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْوَجَعِ؛دعا وبا اور مصیبت کو دور کر دیتی ہے؛٨ص٨٠؛حدیث نمبر٦٣٧٣)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ مانگو جن کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك من البخل، وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بك من فتنة الدنيا، وعذاب القبر» ”اے اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے، تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے، اور بہت ضعیفی کی عمر پہنچنے سے، تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَفِتْنَةِ النَّارِ؛بہت ضعیفی کی عمر،دنیا اور دوزخ کے فتنے سے پناہ؛٨ص٨٠؛حدیث نمبر٦٣٧٤)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کیا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم، اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنة النار وعذاب القبر، وشر فتنة الغنى، وشر فتنة الفقر، ومن شر فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے،ضعیفی کی عمر سے،قرض سے اور گناہ سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے، دوزخ کی آزمائش سے، قبر کے عذاب سے، مالداری کے فتنے کے شر سے، محتاجی کے فتنے کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا فاصلہ مشرق و مغرب میں ہے۔" (بخاری شریف؛كِتَاب الدَّعَوَاتِ؛بَابُ الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَفِتْنَةِ النَّارِ؛بہت ضعیفی کی عمر،دنیا اور دوزخ کے فتنے سے پناہ؛٨ص٨٠؛حدیث نمبر٦٣٧٥)
عروہ بن زبیر نے اپنی خالہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں پناہ مانگا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار ومن عذاب النار، وأعوذ بك من فتنة القبر، وأعوذ بك من عذاب القبر، وأعوذ بك من فتنة الغنى، وأعوذ بك من فتنة الفقر، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» ”اے اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے فتنے سے، دوزخ کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مالداری کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى؛مالداری کے فتنے سے پناہ طلب کرنا؛٨ص٨٠؛حدیث نمبر٦٣٧٦)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کیا کرتے تھے:«اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار، وفتنة القبر وعذاب القبر، وشر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر، اللهم إني أعوذ بك من شر فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل قلبي بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياي، كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم إني أعوذ بك من الكسل، والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے فتنہ سے اور دوزخ کے عذاب سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کی آزمائش سے اور محتاجی کی آزمائش سے اور مسیح دجال کی آزمائش سے۔ اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑے کو میل سے صاف کرتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی دوری مشرق و مغرب میں ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، گناہ سے اور قرض سے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ؛غریبی کے فتنے سے پناہ؛٨ص٨١؛حدیث نمبر٦٣٧٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! انس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم أكثر ماله، وولده، وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو اسے دے اس میں برکت عطا فرما۔“ اور ہشام بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ بِكَثْرَةِ الْمَالِ مَعَ الْبَرَكَةِ؛مال کی کثرت اور برکت کی دعا؛٨ص٨١؛حدیث نمبر٦٣٧٨ و حدیث نمبر ٦٣٧٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بارگاہ رسالت میں عرض کی:انس آپ کا خادم ہے۔چناچہ آپ نے دعا کی:اے اللہ!اس کے مال و اولاد کو بڑھا اور اس میں اسے برکت عطاء فرما جو اسے دیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَاب الدُّعَاءِ بِكَثْرَةِ الولد مَعَ الْبَرَكَةِ؛اولاد کی کثرت اور برکت کی دعا؛٨ص٨١؛حدیث نمبر٦٣٨٠ و حدیث نمبر ٦٣٨١)
محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے، قرآن کی سورت کی طرح (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب تم میں سے کوئی شخص کسی (مباح) کام کا ارادہ کرے (ابھی پکا عزم نہ ہوا ہو) تو دو رکعات (نفل) پڑھے اس کے بعد یوں دعا کرے کہ اے اللہ! میں بھلائی مانگتا ہوں (استخارہ) تیری بھلائی سے، تو علم والا ہے، مجھے علم نہیں اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے، اے اللہ!اگر یہ کام تیرے علم کے مطابق میرے دین کے اعتبار سے، میری معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے بہتر ہے یا حال یا مال میں بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اگر یہ کام میرے لیے برا ہے میرے دین کے لیے، میری زندگی کے لیے اور میرے انجام کار کے لیے یا حال اور مال کے طور پر تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں کہیں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس سے مطمئن کر دے (یہ دعا کرتے وقت) اپنی ضرورت کا بیان کر دینا چاہئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الاِسْتِخَارَةِ؛استخارہ کے وقت دعا؛٨ص٨١؛حدیث نمبر٦٣٨٢)
ابوبردہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس سے وضو کیا، پھر ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی ”اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔“ میں نے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ”اے اللہ! قیامت کے دن اسے اپنی مخلوق میں سے بلند مرتبہ عطا فرمانا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْوُضُوءِ؛وضو کے وقت دعا؛٨ص٨١؛حدیث نمبر٦٣٨٣)
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا قرآن میں جو «خير عقباء» آیا ہے تو «عاقبة» اور «عقب» کے ایک ہی معنی ہیں جن سے آخرت مراد ہے۔ ابوعثمان کا بیان ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے تو تکبیر کہتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگو! اپنے اوپر رحم کرو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ہو تم تو اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا، بہت زیادہ دیکھنے والا ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں اس وقت اپنے دل میں کہ رہا تھا«لا حول ولا قوة إلا بالله» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عبداللہ بن قیس کہو «لا حول ولا قوة إلا بالله» کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے“ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ”میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا عَلاَ عَقَبَةً؛بلندی پر چڑھتے وقت کی دعا؛٨ص٨٢؛حدیث نمبر٦٣٨٤)
اس میں ایک حدیث یحییٰ بن اسحاق سے مروی ہے جو انہوں نے انس سے روایت کی ہے۔ نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس ہوتے تو زمین سے ہر بلند چیز پر چڑھتے وقت تین تکبیریں کہا کرتے تھے۔اس کے بعد یوں گویا ہوتے«لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير. آيبون تائبون عابدون، لربنا حامدون. صدق الله وعده. ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لوٹتے ہیں ہم توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور حمد بیان کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندہ کی مدد کی اور تنہا تمام لشکر کو شکست دی۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَوْ رَجَعَ؛سفر کا قصد کرتے وقت اور واپسی پر دعا؛٨ص٨٢؛حدیث نمبر٦٣٨٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف پر زرد نشانات دیکھے تو فرمایا:کیا معاملہ ہے:عرض کی کہ میں نے گٹھلی کے برابر سونا دے کر ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی میسر آئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمُتَزَوِّجِ؛دولہا کے لیے دعا؛٨ص٨٢؛حدیث نمبر٦٣٨٦)
عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میرے والد کا وصال ہوگیا تو انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی تھیں (راوی کو تعداد میں شبہ تھا) پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جابر کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا بیوہ سے۔ فرمایا، کسی لڑکی (کنواری) سے کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ میں نے عرض کی، میرے والد (عبداللہ)فوت ہوگئے اور سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں۔ اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی لڑکی لاؤں۔ چنانچہ میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو ان کی نگرانی کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلمہ نے عمرو سے روایت میں ”اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے“ کے الفاظ نہیں کہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمُتَزَوِّجِ؛دولہا کے لیے دعا؛٨ص٨٢؛حدیث نمبر٦٣٨٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا» ”اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو کچھ تو ہمیں عطا فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔“ تو اگر اس صحبت سے کوئی اولاد مقدر میں ہو گی تو شیطان اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ؛بیوی کے پاس آکر کیا دعا کرے؛٨ص٨٢؛حدیث نمبر٦٣٨٨)
عبد العزيز کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے:اے اللہ!ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے بچا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول"اے رب!دنیا میں بھلائی عطاء فرما؛٨ص٨٣؛حدیث نمبر٦٣٨٩)
مصعب بن سعد کا بیان ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جیسے تمہیں لکھنا سکھایا جاتا ہے«اللهم إني أعوذ بك من البخل، وأعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك أن نرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بك من فتنة الدنيا، وعذاب القبر".» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا؛دنیا کے فتنے سے پناہ؛٨ص٨٣؛حدیث نمبر٦٣٩٠)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیاتو حالت یہ ہوئی کہ آپ ایک کام کے متعلق گمان فرماتے کہ کر لیا ہے،لیکن کیا نہیں ہوتا تھا۔چناچہ آپ نے اپنے رب سے دعا کی۔پھر فرمایا:کیا تمہیں معلوم ہے کہ مجھے اللہ نے وہ بات بتا دی ہے جو میں معلوم کرنا چاہتا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کیسے؟ فرمایا میرے پاس دو مرد آئے اور ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کے پاس۔ پھر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا، ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا، ان پر جادو ہوا ہے۔ پہلے نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پوچھا وہ جادو کس چیز میں ہے؟ جواب دیا کہ کنگھی پر کھجور کے خوشہ میں۔ پوچھا وہ ہے کہاں؟ کہا کہ ذروان میں اور ذروان بنی زریق کا ایک کنواں ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دوبارہ واپس آئے تو فرمایا واللہ! اس کا پانی مہدی سے نچوڑے ہوئے پانی کی طرح تھا اور وہاں کے کھجور کے درخت شیطان کے سر کی طرح تھے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہیں کنویں کے متعلق بتایا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پھر آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے شفاء دے دی اور میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ لوگوں میں ایک بری چیز پھیلاؤں۔ عیسیٰ بن یونس اور لیث نے ہشام سے اضافہ کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تو آپ برابر دعا کرتے رہے اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛باب تکریر الدعاء؛دعا میں تکرار؛٨ص٨٣؛حدیث نمبر ٦٣٩١)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:"اے اللہ!ان پر حضرت یوسف جیسے سات سال مسلط فرما اور دعا کی:اے اللہ ابوجہل کو سنبھال۔" حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دعا کی:"اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت فرما"حتی کہ اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرما دیا:ترجمہ کنز الایمان:یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں۔(آل عمران ١٣٥) (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے خلاف دعا؛٨ص٨٣) ابن ابی خالد نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کی فوج کے خلاف دعا کی:اے اللہ کتاب نازل فرمانے والے،جلد حساب لینے والے،کفار کی فوجوں کو شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے خلاف دعا؛٨ص٨٣؛حدیث نمبر٦٣٩٢)
ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی آخر رکعت میں (رکوع سے اٹھتے ہوئے) «سمع الله لمن حمده» کہنے کے بعد قنوت پڑھی«اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور ناتواں مومنوں کو نجات دے، اے اللہ!قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ کو سخت کر دے، اے اللہ! وہاں ایسا قحط پیدا کر دے جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا تھا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے خلاف دعا؛٨ص٨٤؛حدیث نمبر٦٣٩٣)
عاصم بن سلیمان نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم بھیجی، جس میں شریک لوگوں کو قراء (یعنی قرآن مجید کے قاری) کہا جاتا تھا۔ ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے خلاف دعا؛٨ص٨٤؛حدیث نمبر٦٣٩٤)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے «السام عليك.» آپ کو موت آئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ «عليكم السام واللعنة.» تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جانے دو اے عائشہ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں «وعليكم» (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے خلاف دعا؛٨ص٨٤؛حدیث نمبر٦٣٩٥)
عبیدہ نے بیان کیا،فرماتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہمیں «صلاة الوسطى» (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی جب تک کہ سورج غروب ہو گیا اور یہ عصر کی نماز تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے خلاف دعا؛٨ص٨٤؛حدیث نمبر٦٣٩٦)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قبیلہ دوس نے نافرمانی کی ہے اور حق کا انکار کیاہے، آپ ان کے لیے ہلاکت کی دعا کیجئے۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے بددعا ہی کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں (میرے پاس) بھیج دے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمُشْرِكِينَ؛مشرکین کے لیے دعا؛٨ص٨٤؛حدیث نمبر٦٣٩٧)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے«رب اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري كله، وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي خطاياى وعمدي وجهلي وهزلي، وكل ذلك عندي، اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت، أنت المقدم، وأنت المؤخر، وأنت على كل شىء قدير» ”اے میرے رب! میری خطا،جہل اور تمام کام میں کی گئی زیادتی کو معاف فرما اور وہ گناہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میری مغفرت کر، میری خطاؤں میں، میرے بالارادہ اور بلا ارادہ کاموں میں اور میرے ہنسی مزاق کے کاموں میں اور یہ سب میری ہی طرف سے ہیں۔ اے اللہ! میری مغفرت کر ان کاموں میں جو میں کر چکا ہوں اور انہیں جو کروں گا اور جنہیں میں نے چھپایا اور جنہیں میں نے ظاہر کیا ہے، تو سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ اور عبیداللہ بن معاذ (جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں) نے بیان کیا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا"میرے پہلے اور بعد کے کئے ہوئے کو معاف فرما"؛٨ص٨٤؛حدیث نمبر٦٣٩٨)
ابوبکر بن ابو موسیٰ اور ابوبردہ نے میرے خیال میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے«اللهم اغفرلي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري، وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي هزلي وجدي وخطاى وعمدي، وكل ذلك عندي".» ”اے اللہ!میری خطائیں،جہل اور کام میں کی گئی زیادتی کو معاف فرما دے جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! مزاق میں کیے ہوئے،جان بوجھ کر کئے ہوئے، بھول کر کئے اور قصداً کی ہوئی خطاؤں کو معاف فرما دے کیونکہ وہ سب میری طرف سے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ»؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا"میرے پہلے اور بعد کے کئے ہوئے کو معاف فرما"؛٨ص٨٥؛حدیث نمبر٦٣٩٩)
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان اس حال میں پا لے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو بھلائی بھی وہ مانگے گا اللہ عنایت فرمائے گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور ہم نے اس سے یہ سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھڑی کے مختصر ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛ بَابُ الدُّعَاءِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جمعہ کی خاص ساعت میں دعا؛٨ص٨٥؛حدیث نمبر٦٤٠٠)
ابن ابی ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ کچھ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا «السام عليك.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا «وعليكم".» لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «السام عليكم، ولعنكم الله وغضب عليكم.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جانے دو اے عائشہ! نرمی اختیار کر اور سختی اور بری بات سے بچو۔ انہوں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ یہودی کیا کہہ رہے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے نہیں سنا کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور میری ان کے بدلے میں دعا قبول کی گئی اور ان کی میرے بارے میں قبول نہیں کی گئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسْتَجَابُ لَنَا فِي الْيَهُودِ، وَلاَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا»؛حضور کا فرمان کہ یہود کے خلاف ہماری دعا مقبول ہے لیکن ہمارے خلاف یہود کی دعا مقبول نہیں؛٨ص٨٥؛حدیث نمبر٦٤٠١)
سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قرآن پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ اس وقت ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ ہوتی ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ التَّأْمِينِ؛آمین کہنا؛٨ص٨٥؛حدیث نمبر٦٤٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے یہ کلمہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ دن میں سو دفعہ پڑھا اسے دس غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی اور اس دن وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا شام تک کے لیے اور کوئی شخص اس دن اس سے بہتر کام کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا، سوا اس کے جو اس سے زیادہ کرے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ فضل التہلیل؛لاالہ الا اللہ کہنے کی فضیلت؛٨ص٨٥؛حدیث نمبر٦٤٠٣)
عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو نے، کہا کہ ہم سے عمر بن ابی زائد نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس نے یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھ لیا وہ ایسا ہو گا جیسے اس نے ایک عربی غلام آزاد کیا۔ اسی سند سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع بن خثیم نے یہی مضمون تو میں نے ربیع بن خثیم سے پوچھا کہ تم نے کس سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرو بن میمون اودی سے۔ پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابن ابی لیلیٰ سے۔ (پھر میں) ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے، وہ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے اور ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی ہند نے،، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع نے موقوفاً ان کا قول نقل کیا۔ اور آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ہلال بن یساف سے سنا، ان سے ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون دونوں نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔ اور اعمش اور حصین دونوں نے ہلال سے بیان کیا، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یہی حدیث روایت کی۔ اور ابو محمد حضرمی نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً اسی حدیث کو روایت کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ فضل التہلیل؛لاالہ الا اللہ کہنے کی فضیلت؛٨ص٨٦؛حدیث نمبر٦٤٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے دن میں سبحان اللہ وبحمدہ سو دفعہ کہا۔اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جاتی ہے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ؛سبحان اللہ کہنے کی فضیلت کا بیان؛٨ص٨٦؛حدیث نمبر٦٤٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو کلمے ایسے ہیں جس زبان پر آسان میزان میں بھاری اور خداے رحمان کو پیارے ہیں یعنی:: سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده"۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛باب فضل التسبیح؛سبحان اللہ کہنے کی فضیلت؛٨ص٨٦؛حدیث نمبر٦٤٠٦)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛باب فضل ذکر اللہ عزوجل؛اللہ تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت؛٨ص٨٦؛حدیث نمبر٦٤٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ پھر جہاں وہ کچھ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہو گیا۔ پھر وہ آسمان دنیا تک اس پر اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں ۔ پھر ان سے ان کا رب پوچھتا ہے .... حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے .... کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا جب وہ مجھے دیکھے ہوئے ہوتے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کر لیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی سب سے زیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ اے رب! انہوں نے تیری جنت نہیں دیکھی۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے ان کا اس وقت کیا عالم ہوتا اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ خواہشمند ہوتے، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں، دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جہنم دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ، انہوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ یہ (ذاکرین) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا۔ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا لیکن اس کو مرفوع نہیں کیا۔ اور سہیل نے بھی اس کو اپنے والدین ابوصالح سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛باب فضل ذکر اللہ عزوجل؛اللہ تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت؛٨ص٨٦؛حدیث نمبر٦٤٠٨)
ابوعثمان کا بیان ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ٹیلے یا پہاڑی پر تشریف لے جانے لگے۔ بیان کیا کہ جب ایک اور صحابی بھی اس پر چڑھ گئے تو انہوں نے بلند آواز سے «لا إله إلا الله والله أكبر.» کہا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے۔ پھر فرمایا، ابوموسیٰ یا تو یوں (فرمایا) اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ میں نے عرض کیا، ضرور ارشاد فرمائیں، فرمایا کہ «لا حول ولا قوة إلا بالله»۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ قَوْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ؛«لا حول ولا قوة إلا بالله» کہنا؛٨ص٨٧؛حدیث نمبر٦٤٠٩)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں،انہیں جو شخص بھی یاد کر لے گا وہ جنت میں کاے گا۔اور وہ وتر ہے اور وہ وتر کو پسند کرتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ لِلَّهِ مِائَةُ اسْمٍ غَيْرَ وَاحِدٍ؛اللہ پاک کے ایک کم سو نام ہیں؛٨ص٨٧؛حدیث نمبر٦٤١٠)
شقیق نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے کہ یزید بن معاویہ آئے۔ ہم نے کہا، تشریف رکھئے لیکن انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، میں اندر جاؤں گا اور تمہارے ساتھ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو باہر لاؤں گا۔ اگر وہ نہ آئے تو میں ہی تنہا آ جاؤں گا اور تمہارے ساتھ بیٹھوں گا۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور وہ یزید بن معاویہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے پھر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے کہنے لگے میں جان گیا تھا کہ تم یہاں موجود ہو۔ لیکن مجھے تمہاری طرف جانے سے یہ بات مانع ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مقررہ دنوں میں وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے،کیونکہ آپ کو یہ پسند نہ تھا کہ ہم اکتا جائیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الدعوات؛بَابُ الْمَوْعِظَةِ سَاعَةً بَعْدَ سَاعَةٍ؛وعظ وقفے وقفے سے ہو؛٨ص٨٧؛حدیث نمبر٦٤١١)
Bukhari Shareef : Kitabud Dawate
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الدَّعَوَاتِ
|
•