
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو صادق اور مصدوق ہیں۔کہ تم میں سے ہر شخص پہلے اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں «علقة» یعنی خون کی پھٹکی (بستہ خون) بنتا ہے پھر اتنے ہی عرصہ میں «مضغة» (یعنی گوشت کا لوتھڑا) پھر چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کے بارے میں (ماں کے پیٹ ہی میں) چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کی روزی کا، اس کی موت کا، اس کا کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ پس واللہ، تم میں سے ایک شخص دوزخ والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ یا ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنت والوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جنت والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں جاتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آدم بن ابی ایاس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ جب ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛ بَابٌ في الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛٨ص١٢٢؛حدیث نمبر٦٥٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ اے رب! یہ «نطفة» قرار پایا ہے۔ اے رب! اب «علقة» یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے۔ اے رب! اب «مضغة.» (گوشت کا لوتھڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی؟ نیک ہے یا برا؟ اس کی روزی کیا ہو گی؟ اس کی موت کب ہو گی؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛ بَابٌ في الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛٨ص١٢٢؛حدیث نمبر٦٥٩٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ نے اسے باوصف علم کے گمراہ کیا۔(جاثیہ،٢٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ قلم تمہاری تقدیر لکھ کر خشک ہوگیا۔ابن عباس کا قول ہے کہ لہا سابقون سے مراد ہے کہ نیک بختی ان پر غالب آگئی۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ!کیا جنتیوں کو جہنمیوں میں سے پہچان لیا جائے گا؟۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ؛علم الہی کے سامنے قلم خشک ہوگیا؛٨ص١٢٢؛حدیث نمبر٦٥٩٦)
حضرت سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عمل کرنے والوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ؛اللہ تعالیٰ عمل کرنے والوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے؛٨ص١٢٢؛حدیث نمبر٦٥٩٧)
عطاء بن یزید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عمل کرنے والوں کے اعمال کو بہتر جانتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ؛اللہ تعالیٰ عمل کرنے والوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے؛٨ص١٢٣؛حدیث نمبر٦٥٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کوئی بچہ نہیں مگر وہ فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔؟؟؟اس کے والدین اسے یہودی اور نصرانی وغیرہ بنا لیتے ہیں،جیسے چوپائے بچہ دیتے ہیں تو کیا تم ان میں سے کسی کو کان کٹا پاتے ہو؟حتیٰ کہ تم خود ان کے کان نہ کاٹ دو۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ!جو چھوٹی عمر میں مر جائیں ان کے متعلق کیا ارشاد ہے؟فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ عمل کرنے والوں کے اعمال کو بہتر جانتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ؛اللہ تعالیٰ عمل کرنے والوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے؛٨ص١٢٣؛حدیث نمبر٦٥٩٩)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنی کسی (دینی) بہن کی طلاق کا مطالبہ (شوہر سے) نہ کرے کہ اس کے گھر کو اپنے ہی لیے خاص کر لینا چاہے۔ بلکہ اسے نکاح (دوسری عورت کی موجودگی میں بھی) کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے مقدر میں ہو گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ: {وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا}؛اللہ کا حکم ایک مقررہ اندازے پر ہے؛٨ص١٢٣؛حدیث نمبر٦٦٠٠ و حدیث نمبر ٦٦٠١)
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک کا بلاوا آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سعد، ابی بن کعب اور معاذ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ بلانے والے نے آ کر کہا کہ ان کا بچہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ) نزع کی حالت میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کہلا بھیجا کہ اللہ کا ہے جو وہ لے اور اللہ کا ہے جو وہ عطاء فرمائے۔ہر ایک کا وقت انا ہے لہٰذا صبر کرنا اور ثواب کا امید وار رہنا چاہئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ: {وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا}؛اللہ کا حکم ایک مقررہ اندازے پر ہے؛٨ص١٢٣؛حدیث نمبر٦٦٠٢)
عبداللہ بن محیریز جمحی نے خبر دی، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ انصار کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ!ہمیں لونڈیاں ملتی ہیں ہم مال بھی چاہتے ہیں لہٰذا عزل کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تم ایسا کرتے ہو، تمہارے لیے کچھ قباحت نہیں اگر تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جس جان کی بھی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ: {وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا}؛اللہ کا حکم ایک مقررہ اندازے پر ہے؛٨ص١٢٣؛حدیث نمبر٦٦٠٣)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور قیامت تک کوئی چیز ایسی نہیں چھوڑی جس کا بیان نہ کیا ہو، جسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا، جب میں ان کی کوئی چیز دیکھتا ہوں جسے میں بھول چکا ہوں تو اس طرح اسے پہچان لیتا ہوں جس طرح وہ شخص جس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو کہ جب وہ اسے دیکھتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ: {وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا}؛اللہ کا حکم ایک مقررہ اندازے پر ہے؛٨ص١٢٣؛حدیث نمبر٦٦٠٤)
ابوعبدالرحمٰن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی اثناء میں) فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کا جہنم کا یا جنت کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے، ایک شخص نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں عمل کرو کیونکہ ہر ایک کے لیے آسانی پیدا کر دی جاتی ہے۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ ترجمہ کنز الایمان:"تو وہ جس نے دیا اور پرہیز گاری کی"۔(والیل٥) (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ: {وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا}؛اللہ کا حکم ایک مقررہ اندازے پر ہے؛٨ص١٢٣؛حدیث نمبر٦٦٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی میں موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں جو آپ کے ساتھ شریک جہاد تھا اور اسلام کا دعویدار تھا فرمایا کہ یہ جہنمی ہے۔ جب جنگ ہونے لگی تو اس شخص نے بہت جم کر لڑائی میں حصہ لیا اور بہت زیادہ زخمی ہو گیا پھر بھی وہ ثابت قدم رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کے بارے میں آپ کو معلوم ہے جس کے بارے میں ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے وہ تو اللہ کے راستے میں بہت جم کر لڑا ہے اور بہت زیادہ زخمی ہو گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی یہی فرمایا کہ وہ جہنمی ہے۔ ممکن تھا کہ بعض مسلمان شبہ میں پڑ جاتے لیکن اس عرصہ میں اس شخص نے زخموں کی تاب نہ لا کر اپنا ترکش کھولا اور اس میں سے ایک تیر نکال کر اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔ پھر بہت سے مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتے ہوئے پہنچے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کا ارشادسچ کر دکھایا ۔ اس شخص نے گلا چیر کر خودکشی کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ اے بلال! اٹھو اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا اور بےشک اللہ تعالیٰ بدکار آدمی کے ذریعے بھی اس دین کی مدد فرماتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ الْعَمَلُ بِالْخَوَاتِيمِ؛اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے؛٨ص١٢٤؛حدیث نمبر٦٦٠٦)
ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص جو مسلمانوں کی طرف سے بڑی بہادری سے لڑ رہا تھا اور اس غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور فرمایا کہ جو کسی جہنمی شخص کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھ لے چنانچہ وہ شخص جب اسی طرح لڑنے میں مصروف تھا اور مشرکین کو اپنی بہادری کی وجہ سے سخت تر تکالیف میں مبتلا کر رہا تھا تو ایک مسلمان اس کے پیچھے پیچھے چلا، آخر وہ شخص زخمی ہو گیا اور جلدی سے مر جانا چاہا، اس لیے اس نے اپنی تلوار کی دھار اپنے سینے پر لگا لی اور تلوار اس کے شانوں کو پار کرتی ہوئی نکل گئی۔ اس کے بعد پیچھا کرنے والا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتا ہوا حاضر ہوا اور عرض کیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات کیا ہے؟ ان صاحب نے کہا کہ آپ نے فلاں شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھ لے حالانکہ وہ شخص مسلمانوں کی طرف سے بڑی بہادری سے لڑ رہا تھا۔ میں سمجھا کہ وہ اس حالت میں نہیں مرے گا۔ لیکن جب وہ زخمی ہو گیا تو جلدی سے مر جانے کی خواہش میں اس نے خودکشی کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ دوزخیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے (اسی طرح دوسرا بندہ) جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے، بلاشبہ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ الْعَمَلُ بِالْخَوَاتِيمِ؛اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے؛٨ص١٢٤؛حدیث نمبر٦٦٠٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا ہے۔فرمایا کہ یہ قضا کو رد نہیں کرتی۔ہاں اس کے ذریعے بخیل کا مال نکل جاتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛ بَابُ إِلْقَاءِ النَّذْرِ الْعَبْدَ إِلَى الْقَدَرِ؛تقدیر کے سپرد؛٨ص١٢٤؛حدیث نمبر٦٦٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نذر آدمی کو وہ چیز نہیں دلاتی جو اس کے مقدر فرمائی گئی ہو لیکن تقدیر اس کو وہ چیز دلاتی ہے جو اس کے لیے مقدر فرمائی گئی ہے۔ہاں اس کے ذریعے بخیل کا مال نکل جاتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛ بَابُ إِلْقَاءِ النَّذْرِ الْعَبْدَ إِلَى الْقَدَرِ؛تقدیر کے سپرد؛٨ص١٢٥؛حدیث نمبر٦٦٠٩)
ابوعثمان نہدی کا بیان ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے اور جب بھی ہم کسی بلندی پر چڑھتے یا کسی نشیبی علاقہ میں اترتے تو تکبیر بلند آواز سے کہتے۔راوی کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب آئے اور فرمایا ”اے لوگو! اپنے آپ پر ترس کھاؤ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے بلکہ تم اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔“ پھر فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ سکھا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ (وہ کلمہ ہے) «لا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی طاقت و قوت اللہ کے سوا اور کسی کے پاس نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛تقدیر کے بیان میں؛بَابُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ؛٨ص١٢٥؛حدیث نمبر٦٦١٠)
عاصم؛ روکنے والا۔مجاہد کا قول ہے سدا۔عن الحق؛ گمراہی میں ٹھنکتے پھرنا۔دساھا اس کو گمراہ کیا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی کو خلیفہ نہیں بنایا جاتا مگر اس کے دو باطن ہوتے ہیں ایک اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی طرف مائل کرتا ہے۔دوسرا اسے برائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی طرف مائل کرتا ہے۔اور بچتا وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ بچائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛ بَابُ الْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ؛بچتا وہ ہی ہے جسے اللہ بچائے؛٨ص١٢٥؛حدیث نمبر٦٦١١)
ترجمہ کنز الایمان:اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کر دیا کہ پھر لوٹ کر آئے۔(الانبیاء ٩٥) "کہ تمہارے قوم سے مسلمان نہ ہونگے مگر جتنے ایمان لا چکے"((ھود ٣٦) "اور ان کی اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگربدکاری بڑی ناشکر"(نوح ٢٧) منصور بن نعمان عکرمہ بن عباس سے منقول ہے اور حرم حبشہ کی زبان میں نازل ہوا۔ طاؤس کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ جو «لمم» کا لفظ قرآن میں آیا ہے تو میں «لمم» کے مشابہ اس بات سے زیادہ کوئی بات نہیں جانتا جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زنا میں آدمی کا حصہ رکھا ہے جسے وہ ضرور پا لیتا ہے، پس آنکھ کا زنا (غیرمحرم کو) دیکھنا ہے، زبان کا زنا غیرمحرم سے گفتگو کرنا ہے، دل کا زنا خواہش اور شہوت ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔ اور شبابہ نے بیان کیا کہ ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر اس حدیث کو نقل کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛ بَابُ: {وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ}[الانبیاء:٩٥]؛٨ص١٢٥؛حدیث نمبر٦٦١٢)
ترجمہ کنز الایمان:جو(خواب)تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو۔(بنی اسرائیل ٦٠) عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ نے آیت ترجمہ کنز الایمان:جو(خواب)تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو۔(بنی اسرائیل ٦٠) کے متعلق فرمایا کہ یہ آنکھ سے دیکھنا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج بیت المقدس تک دکھایا گیا۔اور فرمایا کہ اور قرآن کریم میں شجرہ زقوم کا آیا ہے اس سے تھوہر کا درخت مراد ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛ بَابُ؛{وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ؛٨ص١٢٦؛حدیث نمبر٦٦١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”آدم اور موسیٰ کی بحث ہوئی۔موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: آدم! آپ ہمارے باپ ہیں مگر آپ نے ہمیں خراب کیا اور جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے برگزیدہ کیا اور یہ آپ کے لئے اپنے دست قدرت سے لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا۔ آخر آدم علیہ السلام بحث میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔ تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔سفیان نے اسی اسناد سے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث نقل کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛ بَابُ؛بَابُ تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى عِنْدَ اللَّهِ؛بارگاہ الہی میں آدم اور موسی علیہما السلام کی بحث؛٨ص١٢٦؛حدیث نمبر٦٦١٤)
حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا لکھ کر بھیجو جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے بعد کرتے سنی ہے۔ چنانچہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو لکھوایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! جو تو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے سامنے دولت والے کی دولت کچھ کام نہیں دے سکتی۔ اور ابن جریج نے کہا کہ مجھ کو عبدہ نے خبر دی اور انہیں وراد نے خبر دی، پھر اس کے بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو اس دعا کے پڑھنے کا حکم دے رہے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛ بَابُ؛ بَابُ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَى اللَّهُ؛اللہ دے تو کوئی مانع نہیں؛٨ص١٢٦؛حدیث نمبر٦٦١٥)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز الایمان:تم فرماؤ میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے اس کی سب مخلوق کی شر سے۔(الفلق ١،٢) ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سخت بلاء،بدبختی کے آنے،بری تقدیر اور دشمنوں کے خوش ہونے سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛بَابُ مَنْ تَعَوَّذَ بِاللَّهِ مِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ؛بدبختی اور بری تقدیر سے اللہ کی پناہ مانگنا؛٨ص١٢٦؛حدیث نمبر٦٦١٦)
سالم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یوں قسم کھایا کرتے۔قسم ہے دلوں کو پھیرنے والے کی۔ سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا تیرے بتانے کے لئے ایک بات دل میں مخفی ہے۔اس نے کہا الدخ فرمایا دور ہٹ،تو اپنے مقام سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ہوا تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے اور اگر یہ وہ نہ ہوا تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛بَابُ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ؛آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونے کا بیان؛٨ص١٢٦؛حدیث نمبر٦٦١٧)
ترجمہ کنز الایمان:تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا۔(التوبہ٥١)مقرر فرما دی۔ اور مجاہد نے «بفاتنين» کی تفسیر میں کہا کہ تم کسی کو گمراہ نہیں کر سکتے مگر اس کو جس کی قسمت میں اللہ نے دوزخ لکھ دی ہے اور مجاہد نے آیت «والذى قدر فهدى» کی تفسیر میں کہا کہ جس نے نیک بختی اور بدبختی سب تقدیر میں لکھ دی اور جس نے جانوروں کو ان کی چراگاہ بتائی۔ یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عذاب تھا اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا، کوئی بھی بندہ اگر کسی ایسے شہر میں ہے جس میں طاعون کی وبا پھوٹی ہوئی ہے اور اس میں ٹھہرا ہے اور اس شہر سے بھاگا نہیں صبر کئے ہوئے ہے اور اس پر اجر کا امیدوار ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس تک صرف وہی چیز پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛بَابُ: {قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا} قَضَى؛سورۃ التوبہ کی اس آیت «قل لن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا» کا بیان؛٨ص١٢٧؛حدیث نمبر٦٦١٨ و حدیث نمبر ٦٦١٩)
اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا۔(اعراف٤٣)اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت فرماتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے۔ ”والله لولا الله ما اهتدينا، ولا صمنا ولا صلينا، فانزلن سكينة علينا، وثبت الاقدام إن لاقينا، والمشركون قد بغوا علينا، إذا ارادوا فتنة ابينا" (بخاری شریف؛كِتَاب الْقَدَرِ؛بَابُ: {وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلاَ أَنْ هَدَانَا اللَّهُ} آیت «وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله» الخ کی تفسیر؛٨ص١٢٧؛حدیث نمبر٦٦٢٠)
Bukhari Shareef : Kitabul Qadare
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ القَدَرِ
|
•