
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پرہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرواسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔(المائدہ ٨٩) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارے کے متعلق آیت نازل فرمائی۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اب اگر میں کوئی قسم کھاؤں گا اور اس کے سوا کوئی چیز بھلائی کی ہو گی تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا۔(اعراف٤٣)اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت فرماتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٧؛حدیث نمبر٦٦٢١)
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا، تو جان، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٧؛حدیث نمبر٦٦٢٢)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ، میں تمہارے لیے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لیے عنایت فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا، واللہ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں، واللہ! کوئی بھی قسم اگر کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ جس میں بھلائی ہو گی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہم ہی سب سے آخر میں ہیں اور قیامت کے دن ہی سب پہلے ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٤)
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے معاملات میں تمہارا اپنی قسموں پر ڈٹے رہنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ ہے،اس کی نسبت کہ جو اللہ تعالیٰ نے کفارہ مقرر فرمایا ہے،وہ ادا کردو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٥)
عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنے گھر والوں کے معاملے میں قسم پر ڈٹا ہے وہ بہت بڑا گناہ گار ہے۔یعنی کفارہ دے دے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٦)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اگر تم لوگ اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد زید کے امیر بنائے جانے پر بھی اعتراض کر چکے ہو اور اللہ کی قسم! «وايم الله» زید امیر بنائے جانے کے قابل تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز تھے اور یہ (اسامہ) ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَايْمُ اللَّهِ»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ویم اللہ فرمانا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٧)
حضرت سعد سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔" ابوقتادہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے واللہ،باللہ،تااللہ کی جگہ لا واللہ کہا۔ سالم کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یہ ہوتی تھی۔"دلوں کو پھیرنے والے کی قسم۔" (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٨)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیصر ہلاک ہو گیا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں اور جب کسریٰ ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٢٩)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہوگا اور جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابٌ: كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے امت محمد!اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣١)
ابوعقیل زہرہ بن معبد نے اپنے جد امجد عبداللہ بن ہشام کو فرماتے ہوئےسنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوا میری اپنی جان کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ (ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر واللہ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر!یہ بات ہوئی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣٢)
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنا جھگڑا پیش کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دوسرے نے، جو زیادہ سمجھ دار تھا کہا کہ ٹھیک ہے، یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیجئیے اور مجھے اجازت دیجئیے کہ اس معاملہ میں کچھ عرض کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو۔ ان صاحب نے کہا کہ میرا لڑکا اس شخص کے یہاں «عسيف» تھا۔ «عسيف»، «الأجير» کو کہتے ہیں۔ ( «الأجير» کے معنی مزدور کے ہیں) اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب میرے لڑکے کو سنگسار کیا جائے گا۔ اس لیے (اس سے نجات دلانے کے لیے) میں نے سو بکریوں اور ایک لونڈی کا انہیں فدیہ دے دیا پھر میں نے دوسرے علم والوں سے اس مسئلہ کو پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا یہ ہے کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے، سنگساری کی سزا صرف اس عورت کو ہو گی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہو گی اور پھر آپ نے اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔ پھر آپ نے انیس اسلمی سے فرمایا کہ مدعی کی بیوی کو لائے اور اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دے۔ اس عورت نے زنا کا اقرار کر لیا اور سنگسار کر دی گئی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣٣ و حدیث نمبر ٦٦٣٤)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو اگر اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد نامراد و ناکام نہ رہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں بیشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے (وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا) ان (تمیم وغیرہ) سے بہتر ہیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣٥)
عروہ کو حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو عامل بنا کر بھیجا۔ عامل اپنے کام پورے کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں۔ (جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لیے) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣٠؛حدیث نمبر٦٦٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣٠؛حدیث نمبر٦٦٣٧)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچا جب آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میری حالت کیسی ہے، کیا مجھ میں (بھی) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے؟ میری حالت کیسی ہے؟ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بےقراری طاری ہو گئی۔ میں نے پھر عرض کی، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے۔ مگر جو اسے یوں خرچ کریں،یوں خرچ کریں،یوں خرچ کریں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣٠؛حدیث نمبر٦٦٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو (تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے) اور سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوتے۔“ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣٠؛حدیث نمبر٦٦٣٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرت کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت ہے؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے الفاظ ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے“ کا ذکر نہیں کیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٠)
عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ (معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماں)نے عرض کی:یا رسول اللہ!پہلے مجھے آپ کے ساتھیوں کی ذلت سے زیادہ روے زمین پر اور کسی کی ذلت عزیز نہ تھی۔اور اب مجھے آپ کے ساتھیوں کی محبت سے زیادہ روے زمین پر اور کسی سے محبت نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،ایسا ہی ہوگا۔پھر ہند کہنے لگی یا رسول اللہ! ابوسفیان تو ایک بخیل آدمی ہے مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے (اپنے بال بچوں کو کھلاؤں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اگر تو دستور کے موافق خرچ کرے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤١)
عمرو بن میمون کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یمنی چمڑے کے خیمہ سے پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کے ایک چوتھائی رہو؟ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم اہل جنت کے ایک تہائی حصہ پاؤ۔ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہوگے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے ایک دوسرے صحابی کو سورۃ اخلاص باربار پڑھتے ہوئے سنا جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور وہ شخص اس تلاوت کو کم شمار کرتا تھاچناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ رکوع اور سجدہ پورے طور پر ادا کیا کرو۔ اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھ لیتا ہوں جب رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٤)
ہشام بن زید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انصاری خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٥)
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ گھوڑے پر سوار ہوکر جا رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ ہوجاؤ،بےشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، جسے قسم کھانی ہے اسے چاہئے کہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ؛باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٤٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا واللہ! پھر میں نے ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔ مجاہد نے کہا سورۃ الاحقاف میں جو «أثرة من علم» ہے اس کا معنی یہ ہے کہ علم کی کوئی بات نقل کرتا ہو۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل اور محمد بن ولید زبیدی اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا اور سفیان بن عیینہ اور معمر نے اس کو زہری سے روایت کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو غیر اللہ کی قسم کھاتے سنا۔ روایت میں لفظ «اثارة» کی تفسیر «اثرا» کی مناسبت سے بیان کر دی کیونکہ دونوں کا مادہ ایک ہی ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ؛باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٤٧)
عبد اللہ بن دینار کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ؛باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٤٨)
ابوقلابہ اور قاسم تیمی کا بیان ہے کہ زہدم نے بیان کیا کہ ان قبائل، جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لیے کھانا لایا گیا۔ اس میں مرغی بھی تھی۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھا لی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لیے دے سکوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہمیں سواریاں عطاء فرمادیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے۔ قسم اللہ کی ہم ہرگز فلاح نہیں پا سکیں گے۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس سواریوں کے لیے حاضر ہوے تھے پس آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوار نہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ؛باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے قسم کھائی اور کہا کہ ”لات و عزیٰ کی قسم“ تو اسے «لا إله إلا الله» کہہ لینا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہئے کہ صدقہ کرے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ يُحْلَفُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى وَلاَ بِالطَّوَاغِيتِ؛لات و عزیٰ اور بتوں کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٥٠)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے، اس کا نگینہ ہتھیلی کے حصے کی طرف رکھتے تھے۔ پھر لوگوں نے بھی ایسی انگوٹھیاں بنوا لیں اس کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اپنی انگوٹھی اتار دی اور فرمایا کہ میں اسے پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی جانب رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى الشَّيْءِ وَإِنْ لَمْ يُحَلَّفْ؛جو کسی چیز کی قسم کھائے حالانکہ قسم نہیں لی گئی؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥١)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ لا الہ الا اللہ کہ لے اور اسے کافر نہیں کہا۔ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے پس وہ ایسا ہی ہے جیسی کہ اس نے قسم کھائی ہے اور جو شخص اپنے نفس کو کسی چیز سے ہلاک کرے وہ دوزخ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کا الزام لگایا پس وہ بھی اس کے قتل کرنے کے برابر ہے۔“ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الإِسْلاَمِ؛اسلام کے سوا کسی اور دین کی قسم کھائے؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے اللہ نے ان کو آزمانے کا ارادہ فرمایا(پھر سارا قصہ بیان کیا) فرشتے کو کوڑھی کے پاس بھیجا وہ اس سے کہنے لگا میرے سب آسرے ٹوٹ چکے ہیںاب اللہ ہی کا آسرا ہے پھر تیرا (یا اب اللہ ہی کی مدد درکار ہے پھر تیری) پھر پوری حدیث کو ذکر کیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ يَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ. وَهَلْ يَقُولُ أَنَا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ؟؛ یہ نہ کہا جائے کہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہے؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے۔(فاطر٤٢) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ!خدا کی قسم مجھے وہ ضرور بتائے جو میں نے جواب کی تعبیر میں غلطی کی ہے۔ارشاد ہوا کہ قسم نہ کھاؤ۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قسمیں پوری کرنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥٤)
ابوعثمان اسامہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ کو بلا بھیجا اس وقت آپ کے پاس اسامہ بن زید اور سعد بن عبادہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے تھے۔ صاحبزادی صاحبہ نے کہلا بھیجا کہ ان کا بچہ مرنے کے قریب ہے آپ تشریف لائیے۔ آپ نے ان کے جواب میں یوں کہلا بھیجا میرا سلام کہو اور کہو سب اللہ کا مال ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے عنایت فرمایا اور ہر چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے، صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو۔ صاحبزادی صاحبہ نے قسم دے کر پھر کہلا بھیجا کہ نہیں آپ ضرور تشریف لائیے۔ اس وقت آپ اٹھے، ہم لوگ بھی ساتھ اٹھے جب آپ صاحبزادی صاحبہ کے گھر پر پہنچے اور وہاں جا کر بیٹھے تو بچے کو اٹھا کر آپ کے پاس لائے۔ آپ نے اسے گود میں بٹھا لیا وہ دم توڑ رہا تھا۔ یہ حال پرملال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رونا رحم کی وجہ سے ہے اور اللہ اپنے جس بندے کے دل میں چاہتا ہے رحم رکھتا ہے یا یہ ہے کہ اللہ اپنے ان ہی بندوں پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لئے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٥٦)
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ جنتی کون ہیں؟ہر کمزور اور ناتواں مگر وہ اللہ کے بھروسے پر اگر قسم کھا بیٹھے تو وہ اسے سچا کر دکھاتا ہے اور اہل جہنم کون ہے؟ہر موٹا لڑاکا اور متکبر۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٥٧)
عبیدہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سے لوگ بہتر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے زمانے کے لوگ پھر جو ان کے بعد ہیں،پھر جو ان کے بعد ہیں، اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جس کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم گواہی سے پہلے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہمارے ساتھی جب ہم کم عمر تھے تو ہمیں قسم کھانے سے منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں قسم کھائیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ، أَوْ شَهِدْتُ بِاللَّهِ؛جو اللہ تعالیٰ کو گواہ بناے یا اللہ کی قسم کھائے؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٥٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے جھوٹی قسم اس مقصد سے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال اس کے ذریعہ ناجائز طریقے پر حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کی تصدیق نازل کی (قرآن مجید میں کہ) ترجمہ کنز الایمان:وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں۔(آل عمران ٧٧) (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ عَهْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اللہ عزوجل کا عہدے ؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٥٩)
سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ اشعث بن قیس نے کہا کہ حضرت عبد اللہ آپ کو کیا بتا رہے تھے؟لوگوں نے بتا دیا تو اشعث نے کہ یہ آیت تو میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں ہے جس کے ساتھ میرا کنواں کے معاملے میں تنازعہ تھا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ عَهْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اللہ عزوجل کا عہدے ؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٦٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے”(اے اللہ!) میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں۔“ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میرا چہرہ دوزخ سے دوسری طرف پھیر دے، ہرگز نہیں، تیری عزت کی قسم، میں کچھ اور تجھ سے نہیں مانگوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے لیے یہ ہے اور اس کے دس گنا اور زیادہ۔ ایوب علیہ السلام نے کہا کہ ”اور تیری عزت کی قسم، تیری برکت سے میں بےنیاز ہوں میں۔“ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا(اپنی شان کے مطابق)قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کے بعض حصے دوسرے بعض حصول سے مل جائیں گے۔“ اس روایت کو شعبہ نے قتادہ سے نقل کیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ؛اللہ تعالیٰ کی عزت،اس کی صفات اور اس کے کلمات کا قسم کھانا؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٦١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے:لعمرک سے تیری حیات کی قسم مراد ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں ہم سے اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق روایت کی کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس عفیفہ کی برات ظاہر فرما دی۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی سے بدلہ لینے کے متعلق فرمایا۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! ( «لعمر الله») ہم ضرور اسے قتل کر دیں گے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لَعَمْرُ اللَّهِ؛آدمی کا لعمر اللہ کہنا؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٢)
ترجمہ کنز الایمان:اللہ تمہیں نہیں پکڑتا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔(بقرہ ٢٢٥) عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت ٢٢٥ لا واللہ اور بلی واللہ وغیرہ قسمیں کھانے کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ}؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٣)
ترجمہ کنز الایمان:اور تم پر اس پر کچھ گناہ نہیں جو نادانستہ تم سے صادر ہوا۔(الاحزاب٥)اور فرمایا:کہا مجھ سے میری بھول پر گرفت نہ کرو۔(الکھف٧٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بےشک میرے امتیوں کو جو وسوسے یا خیالات آتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا ہے جب تک ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ کہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٤)
عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حجۃ الوداع میں) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا (اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ (حلق، رمی اور نحر) کی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو (تقدیم و تاخیر کرنے میں) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٥)
عطاء کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔دوسرے نے کہا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٦)
سعید بن ابو سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک ایک شخص مسجد میں داخل ہوکر نماز پڑھنے لگااور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے رونق افروز تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم پر بھی سلام ہو واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو پھر جو تمہیں قرآن کریم سے تمہیں میسر آئے وہ پڑھو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٧)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا (مسلمانوں سے) کہ اے للہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے (مسلمانوں ہی سے) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو روزے کی حالت میں بھول کر کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کر لے کیوں کہ یہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٦٩)
حضرت عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور نماز پوری کر لی۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٧٠)
علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز ظہر پڑھائی تو اس میں کچھ زیادتی یا کمی کردی۔منصور کا بیان ہے کہ مجھے یہ. معلوم نہیں کہ یہ وہم ابراہیم نخعی کو ہوا یا علقمہ کو۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے (سہو کے) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے (سہو کے) کر لے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٧١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ۔ترجمہ کنز الایمان:کہا مجھ سے میری بھول پر گرفت نہ کرو اور مجھ پر میرے کام میں مشکل نہ ڈالو۔(کھف ٧٣)تو حضرت موسیٰ پر یہ پہلا اعتراض تھا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٧٢)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں، چنانچہ انہوں نے نماز عید الاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ قربانی کریں۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لیے ہی تھی۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٧؛حدیث نمبر٦٦٧٣)
اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٧؛حدیث نمبر٦٦٧٤)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو۔(النحل٩٤) دخلا سے مراد"کرو خیانت" ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا،والدین کی نافرمانی کرنا،کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْيَمِينِ الْغَمُوسِ؛جھوٹی قسم ہھانا؛٨ص١٣٧؛حدیث نمبر٦٦٧٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔(آل عمران ٧٧) اور ارشاد باری تعالیٰ:اللہ کو اپنی قَسَموں کا نشانہ نہ بنالو کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو اور اللہ سنتا جانتا ہے۔(البقرہ٢٢٤) اور ارشاد باری تعالیٰ:اور اللہ کے عہد پر تھوڑے دام مول نہ لو بیشک وہ جو اللہ کے پاس ہے تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔(النحل ٩٥) اور ارشاد باری تعالیٰ:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو بیشک اللہ تمہارے کام جانتا ہے۔(النحل ٩١) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جھوٹی قسم اس لئے کھاے کہ تاکہ کسی کا مال ہڑپ کھا جائے تو جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو وہ اس پر ناراض ہوگا۔پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ترجمہ کنز الایمان:وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔(آل عمران ٧٧) (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛باب اللہ تعالیٰ کا قول جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٣٧؛حدیث نمبر٦٦٧٦)
عبداللہ یہ حدیث بیان کر چکے تھے، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہو گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛باب اللہ تعالیٰ کا قول جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٣٨؛حدیث نمبر٦٦٧٧)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا (کیونکہ موجود نہیں ہیں) اور اس وقت آپ حالت غضب میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا (یہ کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سواریاں عطاء فرما رہا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ؛جس چیز کا مالک نہ ہو یا گناہ کے کام میں یا غصہ میں قسم کھانا؛٨ص١٣٨؛حدیث نمبر٦٦٧٨)
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا (اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين جاءوا بالإفك» کہ ”بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے“ دس آیتوں تک۔ جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لیے ہوئے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولي القربى» الخ(ترجمہ کنز الایمان:اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہیئے کہ معاف کریں اور در گزر کریں کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے(النور ٢٢)۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے۔ چنانچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کر دیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ؛جس چیز کا مالک نہ ہو یا گناہ کے کام میں یا غصہ میں قسم کھانا؛٨ص١٣٨؛حدیث نمبر٦٦٧٩)
زہدم نے بیان کیا کہ ہم حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ کو حالت غضب میں پایا پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ سواریاں نہیں دیں گے۔ اس کے بعد فرمایا: واللہ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم کا کفارہ ادا کروں گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ؛جس چیز کا مالک نہ ہو یا گناہ کے کام میں یا غصہ میں قسم کھانا؛٨ص١٣٨؛حدیث نمبر٦٦٨٠)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل کلام چار ہیں، سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہٰ الا اللہ، اللہ اکبر اور ابوسفیان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو لکھا تھا، آ جاؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر مانا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا کہ «كلمة التقوى»سے مراد لا الہٰ الا اللہ ہے۔ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب ابو طالب کا وقت وفات آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ لا الہ الا اللہ کہ دو تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کچھ عرض کروں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ. فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ، فَهْوَ عَلَى نِيَّتِهِ؛جب کسی نے کہا کہ واللہ، میں آج بات نہیں کروں گا پھر اس نے نماز پڑھی، قرآن مجید کی تلاوت کی، تسبیح کی، حمد یا لا الہٰ الا اللہ کہا تو اس کا حکم اس کی نیت کے موافق ہو گا؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو کلمے زبان پر ہلکے،میزان پر بھاری اور اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔وہ یہ ہیں:سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظيم۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ. فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ، فَهْوَ عَلَى نِيَّتِهِ؛جب کسی نے کہا کہ واللہ، میں آج بات نہیں کروں گا پھر اس نے نماز پڑھی، قرآن مجید کی تلاوت کی، تسبیح کی، حمد یا لا الہٰ الا اللہ کہا تو اس کا حکم اس کی نیت کے موافق ہو گا؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور دوسرا میں نے کہا”حضور نے تو یہ فرمایا جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو گا تو وہ جہنم میں جائے گا۔“ اور میں نے دوسری بات کہی کہ جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو گا وہ جنت میں جائے گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ. فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ، فَهْوَ عَلَى نِيَّتِهِ؛جب کسی نے کہا کہ واللہ، میں آج بات نہیں کروں گا پھر اس نے نماز پڑھی، قرآن مجید کی تلاوت کی، تسبیح کی، حمد یا لا الہٰ الا اللہ کہا تو اس کا حکم اس کی نیت کے موافق ہو گا؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٣)
حمید کا بیان ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام پذیر رہے پھر وہاں سے اترے، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے قسم ایک ماہ کی کھائی تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ شَهْرًا، وَكَانَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جو یہ قسم کھائے کہ وہ اس مہینے اپنی بیوی کے پاس نہیں جاؤں گا اور مہینہ انتیس دن کا ہوا؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٤)
جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے نزدیک نبیذ نہیں ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں، پھر سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، تمہیں معلوم ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ کہا کہ رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا شیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا تھا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَشْرَبَ نَبِيذًا فَشَرِبَ طِلاَءً أَوْ سَكَرًا أَوْ عَصِيرًا، لَمْ يَحْنَثْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِذَةٍ عِنْدَهُ؛نبیذ نہ پینے کی قسم کھائی،پھر طلاء یا سکر یا عصر پی تو قسم نہ ٹوٹی؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہماری ایک بکری مر گئی تو ہم نے اس کی کھال کو دباغت کر لیا مسلسل اس میں نبیذ بناتے رہے حتیٰ کہ وہ مخدوش ہوگئی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَشْرَبَ نَبِيذًا فَشَرِبَ طِلاَءً أَوْ سَكَرًا أَوْ عَصِيرًا، لَمْ يَحْنَثْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِذَةٍ عِنْدَهُ؛نبیذ نہ پینے کی قسم کھائی،پھر طلاء یا سکر یا عصر پی تو قسم نہ ٹوٹی؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٦)
حضرت عابس بن ربیعہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پے در پے تین دن تک سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی نہیں کھائی یہاں تک کہ حق سے جا ملے اور ابن کثیر نے بیان کیا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا حَلَفَ أَنْ لاَ يَأْتَدِمَ، فَأَكَلَ تَمْرًا بِخُبْزٍ، وَمَا يَكُونُ مِنَ الأُدْمِ؛جس نے قسم کھائی کہ سالن نہیں کھاؤں گا پھر کھجور،روٹی اور کوئی چیز سالن کے ساتھ کھائی؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (اپنی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں سن کر آ رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز (فاقوں کی وجہ سے)ضعف پڑ گئی ہے اور میں نے آواز سے آپ کے بھوک کا اندازہ لگایا ہے۔ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں اور ایک اوڑھنی لے کر روٹی کو اس کے ایک کونے سے لپیٹ دیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ میں لے کر گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ ہیں، میں ان کے پاس جا کے کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا جو ساتھ تھے کہ اٹھو اور چلو، میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔ آخر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں پہنچا اور ان کو اطلاع دی۔ ابوطلحہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور ہمارے پاس تو کوئی ایسا کھانا نہیں ہے جو سب کو پیش کیا جا سکے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوطلحہ گھر کی طرف بڑھے اور اندر گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے میرے پاس لاؤ۔ وہ یہی روٹیاں لائیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کو چورا کر دیا گیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک (گھی کی) کپی کو نچوڑا یہی سالن تھا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر کہا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہلوانا چاہا۔اور فرمایا کہ دس دس آدمیوں کو اندر بلاؤ انہیں بلایا گیا اور اس طرح سب لوگوں نے کھایا اور خوب سیر ہو گئے، حاضرین کی تعداد ستر یا اسی آدمیوں کی تھی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا حَلَفَ أَنْ لاَ يَأْتَدِمَ، فَأَكَلَ تَمْرًا بِخُبْزٍ، وَمَا يَكُونُ مِنَ الأُدْمِ؛جس نے قسم کھائی کہ سالن نہیں کھاؤں گا پھر کھجور،روٹی اور کوئی چیز سالن کے ساتھ کھائی؛٨ص١٤٠؛حدیث نمبر٦٦٨٨)
علقمہ بن وقاص لیثی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بلاشبہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو واقعی وہ انہیں کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النِّيَّةِ فِي الأَيْمَانِ؛قسم میں نیت؛٨ص١٤٠؛حدیث نمبر٦٦٨٩)
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کا بیان ہے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ نے انہیں بتایا کہ جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کے بیٹوں میں سے انہیں راستہ بتایا کرتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے واقعہ اور آیت «على الثلاثة الذين خلفوا»(ترجمہ کنز الایمان:اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے۔)کے سلسلہ میں سنا، انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا کہ (میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ) اپنی توبہ کے قبول ہونے کی خوشی میں میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت میں صدقہ کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ وَالتَّوْبَةِ؛جو نذر یا توبہ قبول ہونے پر اپنا سارا مال خیرات کرے؛٨ص١٤٠؛حدیث نمبر٦٦٩٠)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے غیب بتا نے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔بے شک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا اُتار مقرر فرمادیا اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ اور فرمایا:اے ایمان والو حران نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں۔(المائدہ٨٧) عبید بن عمیر کا بیان ہے کہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ام المؤمنین) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے۔ پھر میں نے اور (ام المؤمنین) حفصہ (رضی اللہ عنہا) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینب بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں پیوں گا۔ (کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی اس میں مغافیر کی بو آتی ہے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك» ”اے غیب بتانے والے(نبی)تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے۔“(التحریم١)«إن تتوبا إلى الله» میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے خطاب ہےاور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا»(التحریم ٣)سے اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف ہے کہ ”نہیں“ میں نے شہد پیا ہے۔“ اور مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے ہشام سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب کبھی میں شہد نہیں پیوں گا میں نے قسم کھایا ہے تم یہ نذر پوری کرنا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَرَّمَ طَعَامَهُ؛جب کھانے کو خود پر حرام کرلے؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩١)
"اپنی منتیں پوری کرتے ہیں"(الدھر٧) سعید بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا، کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کر سکتی ہے نہ پیچھے، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر پوری کرنا؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩٢)
عبد اللہ بن مرہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا کہ یہ کسی چیز کو روک نہیں سکتی ہاں اتنا ہے کہ اس کے باعث بخیل کا مال نکلوادیا جاتا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر پوری کرنا؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نذر آدمی کے لیے کسی ایسی چیز کو لے کر نہیں آتی جو اس کے مقدر میں نہ ہو بلکہ نذر تو اسی چیز کو لاتی ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔پس اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ بخیل کا مال نکلوادیتا ہے،لہٰذا وہ اس کے باعث وہ مال دے دیتا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیتا تھا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر پوری کرنا؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩٤)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے،پھر جو لوگ ان کے بعد ہیں،پھر وہ لوگ جو ان کے بعد میں ۔ اس پر حضرت عمران نے بیان کیا کہ مجھے یاد نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے بعد دو کا ذکر کیا تھا یا تین کا (فرمایا کہ) پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو نذر مانے گی اور اسے پورا نہیں کرے گی، خیانت کرے گی اور امانت دار نہیں بنیں گی،اور گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی لی نہیں جائیگی ان پر موٹاپا ظاہر ہوتا ہوگا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ لاَ يَفِي بِالنَّذْرِ؛نذر پوری نہ کرنے کا گناہ؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور تم جو خرچ کرو یا منت مانو اللہ کو اس کی خبر ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں"(البقرہ ٢٧٠) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے ضرور اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے نذر مانی کہ اس کی نافرمانی کروں گا تو اسے نافرمانی نہیں کرنی چاہئے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِي الطَّاعَةِ؛اطاعت کی نذر ماننا؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٦٩٦)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے عرض کی:یا رسول اللہ!میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات دن خانہ کعبہ کا اعتکاف کروں گا۔ارشاد فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا نَذَرَ أَوْ حَلَفَ أَنْ لاَ يُكَلِّمَ إِنْسَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَسْلَمَ؛جب زمانہ جاہلیت میں کسی شخص سے نہ بولنے کی نذر مانی یا قسم کھائی اور پھر مسلمان ہوگیا؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٦٩٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو حکم دیا جس کی ماں نے مسجد قباء میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی کہ اس کی جانب سے نماز پڑھے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ ان کے والدہ ماجدہ پر ایک نذر تھی جس کے پورا کرنے سے پہلے وہ وفات پاگئیں۔چناچہ آپ نے انہیں اس کے پورا کرنے کا فتویٰ دیا۔پس بعد میں یہی طریقہ مقرر ہوگیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ؛جو مر جائے اور اس نے نذر مانی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٦٩٨)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ؛جو مر جائے اور اس نے نذر مانی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٦٩٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی تو اسے ضرور اس کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اس کی نافرمانی کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٧٠٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس آدمی نے جو اپنی جان کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بےپرواہ ہے اور وہ شخص اپنے دو بیٹوں کے سہارے درمیان میں چل رہا تھا۔فزاری، حمید،ثابت نے حضرت انس سے اس کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٧٠١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ رسی یا کسی دوسرے چیز کے ساتھ طواف کر رہا ہے تو آپ نے اسے کاٹ دیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٧٠٢)
طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو دوسرے آدمی کے ناک میں رسی ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسی کو اپنی دست مبارک سے کاٹ دیا اور فرمایا کہ اسے اس کے ہاتھ سے پکڑ کر چلو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٧٠٣)
عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑے ہوئے دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل نامی ہیں۔ انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے ہی رہیں گے، بیٹھیں گے نہیں، نہ کسی چیز کے سایہ میں بیٹھیں گے اور نہ کسی سے بات کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ بات کریں، سایہ کے نیچے بیٹھیں اٹھیں اور اپنا روزہ پورا کر لیں۔ عبدالوہاب نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٣؛حدیث نمبر٦٧٠٤)
ابو حرہ اسلمی نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقر عید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان کے روزوں کو مناسب سمجھتے تھے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ أَيَّامًا فَوَافَقَ النَّحْرَ أَوِ الْفِطْرَ؛جو چند دنوں کی روزے کی نظر مانے اور ان میں قربانی اور عید کے دن آجائے؛٨ص١٤٣؛حدیث نمبر٦٧٠٥)
زیاد بن جبیر نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا۔ اتفاق سے اسی دن کی بقر عید پڑ گئی ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بقر عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس سے صرف اتنی ہی بات کہی اس پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ أَيَّامًا فَوَافَقَ النَّحْرَ أَوِ الْفِطْرَ؛جو چند دنوں کی روزے کی نظر مانے اور ان میں قربانی اور عید کے دن آجائے؛٨ص١٤٣؛حدیث نمبر٦٧٠٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے جس سے عمدہ اور کوئی نہیں۔فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اصل کو روک کر آمدنی صدقہ کر دو۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحا باغ ہے جو مسجد کے سامنے ہے۔ ابو الغیث مولیٰ ابن مطیع کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر سے ہمیں غنیمت میں سونا چاندی نہیں ملا بلکہ زمین،کپڑے اور سامان ملا تھا۔چناچہ بنی ضبیب کے ایک آدمی رفاعہ بن زید نامی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک غلام ہدیہ کے طور پر پیش کیا جس کو مدعم کہا جاتا تھا۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی القرای کی طرف تشریف لے گئے۔حتیٰ کہ جب وادی القریٰ میں پہنچ گئے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھاوے کو اتار رہا تھا تو اسے ایک تیر آکر لگا جس کے سبب وہ ہلاک ہوگیا لوگوں نے کہا کہ اسے جنت مبارک ہو پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر گز نہیں۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو پگڑی اس نے خیبر کے دن نال غنیمت سے بغیر تقسیم کے لے لی تھی وہ آگ بن کر ضرور اس پر جلے گی۔جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔آپ نے فرمایا کہ یہ آگ کا تسمہ یا آگ کے تسمے تھے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛باب ھل یدخل فی الایمان و النذر الارض،والغنم،والزرع،والامتعۃ؛٨ص١٤٣؛حدیث نمبر٦٧٠٧)
Bukhari Shareef : Kitabul Imane Wan Nojore
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ
|
•