asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Imane Wan Nojore

From 6621 to 6707

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پرہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرواسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔(المائدہ ٨٩) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارے کے متعلق آیت نازل فرمائی۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اب اگر میں کوئی قسم کھاؤں گا اور اس کے سوا کوئی چیز بھلائی کی ہو گی تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا۔(اعراف٤٣)اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت فرماتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٧؛حدیث نمبر٦٦٢١)

كِتَابُ الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ، وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمْ الأَيْمَانَ، فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ، أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ، وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} [المائدة: 89] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَمْ يَكُنْ يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ قَطُّ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ كَفَّارَةَ اليَمِينِ، وَقَالَ: «لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6621

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا، تو جان، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٧؛حدیث نمبر٦٦٢٢)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الفَضْلِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الحَسَنُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6622

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ، میں تمہارے لیے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لیے عنایت فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا، واللہ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں، واللہ! کوئی بھی قسم اگر کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ جس میں بھلائی ہو گی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٣)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ» قَالَ: ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ، ثُمَّ أُتِيَ بِثَلاَثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَحَمَلَنَا عَلَيْهَا، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا، أَوْ قَالَ بَعْضُنَا: وَاللَّهِ لاَ يُبَارَكُ لَنَا، أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، فَارْجِعُوا بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُذَكِّرُهُ، فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ: " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ - أَوْ: أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي - "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6623

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہم ہی سب سے آخر میں ہیں اور قیامت کے دن ہی سب پہلے ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٤)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6624

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے معاملات میں تمہارا اپنی قسموں پر ڈٹے رہنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ ہے،اس کی نسبت کہ جو اللہ تعالیٰ نے کفارہ مقرر فرمایا ہے،وہ ادا کردو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٥)

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ، لَأَنْ يَلِجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ، آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6625

عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنے گھر والوں کے معاملے میں قسم پر ڈٹا ہے وہ بہت بڑا گناہ گار ہے۔یعنی کفارہ دے دے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن کی آیت جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٦)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينٍ، فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا، لِيَبَرَّ» يَعْنِي الكَفَّارَةَ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6626

عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اگر تم لوگ اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد زید کے امیر بنائے جانے پر بھی اعتراض کر چکے ہو اور اللہ کی قسم! «وايم الله» زید امیر بنائے جانے کے قابل تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز تھے اور یہ (اسامہ) ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَايْمُ اللَّهِ»؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ویم اللہ فرمانا؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٧)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَايْمُ اللَّهِ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمْرَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَتِهِ، فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6627

حضرت سعد سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔" ابوقتادہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے واللہ،باللہ،تااللہ کی جگہ لا واللہ کہا۔ سالم کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یہ ہوتی تھی۔"دلوں کو پھیرنے والے کی قسم۔" (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٨؛حدیث نمبر٦٦٢٨)

بَابٌ: كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سَعْدٌ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ، عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَهَا اللَّهِ إِذًا» يُقَالُ: وَاللَّهِ وَبِاللَّهِ وَتَاللَّهِ " حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « لاَ وَمُقَلِّبِ القُلُوبِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6628

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیصر ہلاک ہو گیا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں اور جب کسریٰ ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٢٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6629

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہوگا اور جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابٌ: كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣٠)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6630

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے امت محمد!اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:«يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6631

ابوعقیل زہرہ بن معبد نے اپنے جد امجد عبداللہ بن ہشام کو فرماتے ہوئےسنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوا میری اپنی جان کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ (ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر واللہ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر!یہ بات ہوئی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ» فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَإِنَّهُ الآنَ، وَاللَّهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الآنَ يَا عُمَرُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6632

عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنا جھگڑا پیش کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دوسرے نے، جو زیادہ سمجھ دار تھا کہا کہ ٹھیک ہے، یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیجئیے اور مجھے اجازت دیجئیے کہ اس معاملہ میں کچھ عرض کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو۔ ان صاحب نے کہا کہ میرا لڑکا اس شخص کے یہاں «عسيف» تھا۔ «عسيف»، «الأجير» کو کہتے ہیں۔ ( «الأجير» کے معنی مزدور کے ہیں) اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب میرے لڑکے کو سنگسار کیا جائے گا۔ اس لیے (اس سے نجات دلانے کے لیے) میں نے سو بکریوں اور ایک لونڈی کا انہیں فدیہ دے دیا پھر میں نے دوسرے علم والوں سے اس مسئلہ کو پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا یہ ہے کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے، سنگساری کی سزا صرف اس عورت کو ہو گی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہو گی اور پھر آپ نے اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔ پھر آپ نے انیس اسلمی سے فرمایا کہ مدعی کی بیوی کو لائے اور اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دے۔ اس عورت نے زنا کا اقرار کر لیا اور سنگسار کر دی گئی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣٣ و حدیث نمبر ٦٦٣٤)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الآخَرُ، وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: «تَكَلَّمْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا - قَالَ مَالِكٌ: وَالعَسِيفُ الأَجِيرُ - زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ العِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ» وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأُمِرَ أُنَيْسٌ الأَسْلَمِيُّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6633/6634

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو اگر اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد نامراد و ناکام نہ رہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں بیشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے (وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا) ان (تمیم وغیرہ) سے بہتر ہیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٢٩؛حدیث نمبر٦٦٣٥)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ تَمِيمٍ، وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَغَطَفَانَ، وَأَسَدٍ خَابُوا وَخَسِرُوا؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6635

عروہ کو حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو عامل بنا کر بھیجا۔ عامل اپنے کام پورے کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں۔ (جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لیے) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣٠؛حدیث نمبر٦٦٣٦)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا، فَجَاءَهُ العَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي. فَقَالَ لَهُ: «أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لاَ؟» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ العَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ، فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ: هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلاَ قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ: هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لاَ يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ " فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلُوهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6636

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣٠؛حدیث نمبر٦٦٣٧)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ هُوَ ابْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6637

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچا جب آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ کعبہ کے رب کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میری حالت کیسی ہے، کیا مجھ میں (بھی) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے؟ میری حالت کیسی ہے؟ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بےقراری طاری ہو گئی۔ میں نے پھر عرض کی، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے۔ مگر جو اسے یوں خرچ کریں،یوں خرچ کریں،یوں خرچ کریں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣٠؛حدیث نمبر٦٦٣٨)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ المَعْرُورِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الكَعْبَةِ، يَقُولُ: «هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الكَعْبَةِ، هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الكَعْبَةِ» قُلْتُ: مَا شَأْنِي أَيُرَى فِيَّ شَيْءٌ، مَا شَأْنِي؟ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْكُتَ، وَتَغَشَّانِي مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6638

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاءاللہ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ نہیں کہا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو (تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے) اور سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوتے۔“ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣٠؛حدیث نمبر٦٦٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ سُلَيْمَانُ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً، كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: قُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ يَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6639

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرت کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت ہے؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے الفاظ ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے“ کا ذکر نہیں کیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ وَيَعْجَبُونَ مِنْ حُسْنِهَا وَلِينِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا» لَمْ يَقُلْ شُعْبَةُ، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6640

عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ (معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماں)نے عرض کی:یا رسول اللہ!پہلے مجھے آپ کے ساتھیوں کی ذلت سے زیادہ روے زمین پر اور کسی کی ذلت عزیز نہ تھی۔اور اب مجھے آپ کے ساتھیوں کی محبت سے زیادہ روے زمین پر اور کسی سے محبت نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،ایسا ہی ہوگا۔پھر ہند کہنے لگی یا رسول اللہ! ابوسفیان تو ایک بخیل آدمی ہے مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے (اپنے بال بچوں کو کھلاؤں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اگر تو دستور کے موافق خرچ کرے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ أَخْبَاءٍ، أَوْ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ، أَوْ خِبَائِكَ شَكَّ يَحْيَى، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ اليَوْمَ أَهْلُ أَخْبَاءٍ، أَوْ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ أَخْبَائِكَ، أَوْ خِبَائِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَيْضًا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6641

عمرو بن میمون کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یمنی چمڑے کے خیمہ سے پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کے ایک چوتھائی رہو؟ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم اہل جنت کے ایک تہائی حصہ پاؤ۔ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہوگے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٢)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ يَمَانٍ، إِذْ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الجَنَّةِ» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «أَفَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الجَنَّةِ» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الجَنَّةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6642

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے ایک دوسرے صحابی کو سورۃ اخلاص باربار پڑھتے ہوئے سنا جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور وہ شخص اس تلاوت کو کم شمار کرتا تھاچناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ القُرْآنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6643

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ رکوع اور سجدہ پورے طور پر ادا کیا کرو۔ اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھ لیتا ہوں جب رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٤)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6644

ہشام بن زید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انصاری خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قسم کھاتے تھے؛٨ص١٣١؛حدیث نمبر٦٦٤٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا أَوْلاَدٌ لَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ» قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6645

نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ گھوڑے پر سوار ہوکر جا رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ ہوجاؤ،بےشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، جسے قسم کھانی ہے اسے چاہئے کہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ؛باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٤٦)

بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ، يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: «أَلاَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6646

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا واللہ! پھر میں نے ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔ مجاہد نے کہا سورۃ الاحقاف میں جو «أثرة من علم‏» ہے اس کا معنی یہ ہے کہ علم کی کوئی بات نقل کرتا ہو۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل اور محمد بن ولید زبیدی اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا اور سفیان بن عیینہ اور معمر نے اس کو زہری سے روایت کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو غیر اللہ کی قسم کھاتے سنا۔ روایت میں لفظ «اثارة» کی تفسیر «اثرا» کی مناسبت سے بیان کر دی کیونکہ دونوں کا مادہ ایک ہی ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ؛باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٤٧)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ» قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا قَالَ مُجَاهِدٌ: {أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4]: يَأْثُرُ عِلْمًا تَابَعَهُ عُقَيْلٌ، وَالزُّبَيْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ الكَلْبِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6647

عبد اللہ بن دینار کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ؛باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٤٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6648

ابوقلابہ اور قاسم تیمی کا بیان ہے کہ زہدم نے بیان کیا کہ ان قبائل، جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لیے کھانا لایا گیا۔ اس میں مرغی بھی تھی۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھا لی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لیے دے سکوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہمیں سواریاں عطاء فرمادیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے۔ قسم اللہ کی ہم ہرگز فلاح نہیں پا سکیں گے۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس سواریوں کے لیے حاضر ہوے تھے پس آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوار نہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ؛باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٤٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَالقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ، أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ المَوَالِي، فَدَعَاهُ إِلَى الطَّعَامِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ آكُلَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَلَأُحَدِّثَنَّكَ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ» فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا، فَقَالَ: «أَيْنَ النَّفَرُ الأَشْعَرِيُّونَ» فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا: مَا صَنَعْنَا؟ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لاَ نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا أَتَيْنَاكَ لِتَحْمِلَنَا، فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا، وَمَا عِنْدَكَ مَا تَحْمِلُنَا، فَقَالَ: «إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَاللَّهِ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6649

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے قسم کھائی اور کہا کہ ”لات و عزیٰ کی قسم“ تو اسے «لا إله إلا الله» کہہ لینا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہئے کہ صدقہ کرے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ يُحْلَفُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى وَلاَ بِالطَّوَاغِيتِ؛لات و عزیٰ اور بتوں کی قسم نہ کھاؤ؛٨ص١٣٢؛حدیث نمبر٦٦٥٠)

بَابُ لاَ يُحْلَفُ بِاللَّاتِ وَالعُزَّى وَلاَ بِالطَّوَاغِيتِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ- مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: بِاللَّاتِ وَالعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6650

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے، اس کا نگینہ ہتھیلی کے حصے کی طرف رکھتے تھے۔ پھر لوگوں نے بھی ایسی انگوٹھیاں بنوا لیں اس کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اپنی انگوٹھی اتار دی اور فرمایا کہ میں اسے پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی جانب رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى الشَّيْءِ وَإِنْ لَمْ يُحَلَّفْ؛جو کسی چیز کی قسم کھائے حالانکہ قسم نہیں لی گئی؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥١)

بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى الشَّيْءِ وَإِنْ لَمْ يُحَلَّفْ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ يَلْبَسُهُ، فَيَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ، ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى المِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الخَاتِمَ، وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ» فَرَمَى بِهِ ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا» فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6651

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ لا الہ الا اللہ کہ لے اور اسے کافر نہیں کہا۔ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے پس وہ ایسا ہی ہے جیسی کہ اس نے قسم کھائی ہے اور جو شخص اپنے نفس کو کسی چیز سے ہلاک کرے وہ دوزخ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کا الزام لگایا پس وہ بھی اس کے قتل کرنے کے برابر ہے۔“ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الإِسْلاَمِ؛اسلام کے سوا کسی اور دین کی قسم کھائے؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥٢)

بَابُ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الإِسْلاَمِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالعُزَّى فَلْيَقُلْ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " وَلَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى الكُفْرِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ مِلَّةِ الإِسْلاَمِ فَهُوَ كَمَا قَالَ، قَالَ: وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَلَعْنُ المُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6652

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے اللہ نے ان کو آزمانے کا ارادہ فرمایا(پھر سارا قصہ بیان کیا) فرشتے کو کوڑھی کے پاس بھیجا وہ اس سے کہنے لگا میرے سب آسرے ٹوٹ چکے ہیںاب اللہ ہی کا آسرا ہے پھر تیرا (یا اب اللہ ہی کی مدد درکار ہے پھر تیری) پھر پوری حدیث کو ذکر کیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛بَابُ لاَ يَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ. وَهَلْ يَقُولُ أَنَا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ؟؛ یہ نہ کہا جائے کہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہے؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥٣)

بَابُ لاَ يَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، وَهَلْ يَقُولُ أَنَا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ؟ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ ثَلاَثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ مَلَكًا، فَأَتَى الأَبْرَصَ، فَقَالَ: تَقَطَّعَتْ بِيَ الحِبَالُ، فَلاَ بَلاَغَ لِي إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ " فَذَكَرَ الحَدِيثَ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6653

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے۔(فاطر٤٢) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ!خدا کی قسم مجھے وہ ضرور بتائے جو میں نے جواب کی تعبیر میں غلطی کی ہے۔ارشاد ہوا کہ قسم نہ کھاؤ۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قسمیں پوری کرنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥٤)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ} [الأنعام: 109] وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ فِي الرُّؤْيَا، قَالَ: «لاَ تُقْسِمْ» حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ البَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبْرَارِ المُقْسِمِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6654

ابوعثمان اسامہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ کو بلا بھیجا اس وقت آپ کے پاس اسامہ بن زید اور سعد بن عبادہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے تھے۔ صاحبزادی صاحبہ نے کہلا بھیجا کہ ان کا بچہ مرنے کے قریب ہے آپ تشریف لائیے۔ آپ نے ان کے جواب میں یوں کہلا بھیجا میرا سلام کہو اور کہو سب اللہ کا مال ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے عنایت فرمایا اور ہر چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے، صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو۔ صاحبزادی صاحبہ نے قسم دے کر پھر کہلا بھیجا کہ نہیں آپ ضرور تشریف لائیے۔ اس وقت آپ اٹھے، ہم لوگ بھی ساتھ اٹھے جب آپ صاحبزادی صاحبہ کے گھر پر پہنچے اور وہاں جا کر بیٹھے تو بچے کو اٹھا کر آپ کے پاس لائے۔ آپ نے اسے گود میں بٹھا لیا وہ دم توڑ رہا تھا۔ یہ حال پرملال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رونا رحم کی وجہ سے ہے اور اللہ اپنے جس بندے کے دل میں چاہتا ہے رحم رکھتا ہے یا یہ ہے کہ اللہ اپنے ان ہی بندوں پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛٨ص١٣٣؛حدیث نمبر٦٦٥٥)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ: عَنْ أُسَامَةَ: أَنَّ بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَسَعْدٌ، وَأُبَيٌّ -، أَنَّ ابْنِي قَدْ احْتُضِرَ فَاشْهَدْنَا، فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلاَمَ وَيَقُولُ: «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَتَحْتَسِبْ» فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَعَدَ رُفِعَ إِلَيْهِ، فَأَقْعَدَهُ فِي حَجْرِهِ، وَنَفْسُ الصَّبِيِّ جُئِّثُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6655

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لئے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٥٦)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ المُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الوَلَدِ تَمَسُّهُ النَّارُ، إِلَّا تَحِلَّةَ القَسَمِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6656

حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ جنتی کون ہیں؟ہر کمزور اور ناتواں مگر وہ اللہ کے بھروسے پر اگر قسم کھا بیٹھے تو وہ اسے سچا کر دکھاتا ہے اور اہل جہنم کون ہے؟ہر موٹا لڑاکا اور متکبر۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛قسموں کا منتوں کا بیان؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٥٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، وَأَهْلِ النَّارِ: كُلُّ جَوَّاظٍ عُتُلٍّ مُسْتَكْبِرٍ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6657

عبیدہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سے لوگ بہتر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے زمانے کے لوگ پھر جو ان کے بعد ہیں،پھر جو ان کے بعد ہیں، اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جس کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم گواہی سے پہلے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہمارے ساتھی جب ہم کم عمر تھے تو ہمیں قسم کھانے سے منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں قسم کھائیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ، أَوْ شَهِدْتُ بِاللَّهِ؛جو اللہ تعالیٰ کو گواہ بناے یا اللہ کی قسم کھائے؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٥٨)

بَابُ إِذَا قَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ، أَوْ شَهِدْتُ بِاللَّه حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ: تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَنْهَوْنَا - وَنَحْنُ غِلْمَانٌ - أَنْ نَحْلِفَ بِالشَّهَادَةِ وَالعَهْدِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6658

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے جھوٹی قسم اس مقصد سے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال اس کے ذریعہ ناجائز طریقے پر حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کی تصدیق نازل کی (قرآن مجید میں کہ) ترجمہ کنز الایمان:وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں۔(آل عمران ٧٧) (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ عَهْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اللہ عزوجل کا عہدے ؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٥٩)

بَابُ عَهْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ، يَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ - أَوْ قَالَ: أَخِيهِ - لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ} [آل عمران: 77]،

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6659

سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ اشعث بن قیس نے کہا کہ حضرت عبد اللہ آپ کو کیا بتا رہے تھے؟لوگوں نے بتا دیا تو اشعث نے کہ یہ آیت تو میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں ہے جس کے ساتھ میرا کنواں کے معاملے میں تنازعہ تھا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ عَهْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛اللہ عزوجل کا عہدے ؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٦٠)

قَالَ سُلَيْمَانُ، فِي حَدِيثِهِ: فَمَرَّ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ؟ قَالُوا لَهُ، فَقَالَ الأَشْعَثُ: نَزَلَتْ فِيَّ وَفِي صَاحِبٍ لِي، فِي بِئْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6660

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے”(اے اللہ!) میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں۔“ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میرا چہرہ دوزخ سے دوسری طرف پھیر دے، ہرگز نہیں، تیری عزت کی قسم، میں کچھ اور تجھ سے نہیں مانگوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے لیے یہ ہے اور اس کے دس گنا اور زیادہ۔ ایوب علیہ السلام نے کہا کہ ”اور تیری عزت کی قسم، تیری برکت سے میں بےنیاز ہوں میں۔“ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا(اپنی شان کے مطابق)قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کے بعض حصے دوسرے بعض حصول سے مل جائیں گے۔“ اس روایت کو شعبہ نے قتادہ سے نقل کیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ؛اللہ تعالیٰ کی عزت،اس کی صفات اور اس کے کلمات کا قسم کھانا؛٨ص١٣٤؛حدیث نمبر٦٦٦١)

بَابُ الحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ» وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، لاَ وَعِزَّتِكَ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا " وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذَلِكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ " وَقَالَ أَيُّوبُ: «وَعِزَّتِكَ لاَ غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ» حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، حَتَّى يَضَعَ رَبُّ العِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6661

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے:لعمرک سے تیری حیات کی قسم مراد ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں ہم سے اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق روایت کی کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس عفیفہ کی برات ظاہر فرما دی۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی سے بدلہ لینے کے متعلق فرمایا۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! ( «لعمر الله») ہم ضرور اسے قتل کر دیں گے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لَعَمْرُ اللَّهِ؛آدمی کا لعمر اللہ کہنا؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٢)

بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: لَعَمْرُ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَعَمْرُكَ} [الحجر: 72]: «لَعَيْشُكَ» حَدَّثَنَا الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، - وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الحَدِيثِ وَفِيهِ - «فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ» فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6662

ترجمہ کنز الایمان:اللہ تمہیں نہیں پکڑتا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔(بقرہ ٢٢٥) عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت ٢٢٥ لا واللہ اور بلی واللہ وغیرہ قسمیں کھانے کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ}؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٣)

بَابُ {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ، وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ} [البقرة: 225] حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} [البقرة: 225] قَالَ: قَالَتْ: " أُنْزِلَتْ فِي قَوْلِهِ: لاَ وَاللَّهِ، بَلَى وَاللَّهِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6663

ترجمہ کنز الایمان:اور تم پر اس پر کچھ گناہ نہیں جو نادانستہ تم سے صادر ہوا۔(الاحزاب٥)اور فرمایا:کہا مجھ سے میری بھول پر گرفت نہ کرو۔(الکھف٧٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بےشک میرے امتیوں کو جو وسوسے یا خیالات آتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا ہے جب تک ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ کہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٤)

بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ} [الأحزاب: 5] وَقَالَ: {لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ} [الكهف: 73] حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ، أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6664

عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حجۃ الوداع میں) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا (اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ (حلق، رمی اور نحر) کی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو (تقدیم و تاخیر کرنے میں) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العَاصِ، حَدَّثَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: كُنْتُ أَحْسِبُ - يَا رَسُولَ اللَّهِ - كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا، لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ» لَهُنَّ كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: «افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6665

عطاء کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔دوسرے نے کہا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: «لاَ حَرَجَ» قَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ: «لاَ حَرَجَ» قَالَ آخَرُ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: «لاَ حَرَجَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6666

سعید بن ابو سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک ایک شخص مسجد میں داخل ہوکر نماز پڑھنے لگااور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے رونق افروز تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم پر بھی سلام ہو واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو پھر جو تمہیں قرآن کریم سے تمہیں میسر آئے وہ پڑھو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٥؛حدیث نمبر٦٦٦٧)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ المَسْجِدَ فَصَلَّى، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةِ المَسْجِدِ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَأَعْلِمْنِي، قَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَسْبِغِ الوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ القِبْلَةَ، فَكَبِّرْ وَاقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6667

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا (مسلمانوں سے) کہ اے للہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے (مسلمانوں ہی سے) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٦٨)

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي المَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " هُزِمَ المُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ اليَمَانِ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: أَبِي أَبِي " قَالَتْ: " فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ " قَالَ عُرْوَةُ: فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6668

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو روزے کی حالت میں بھول کر کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کر لے کیوں کہ یہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٦٩)

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفٌ، عَنْ خِلاَسٍ، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6669

حضرت عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور نماز پوری کر لی۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٧٠)

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَمَضَى فِي صَلاَتِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، فَكَبَّرَ وَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6670

علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز ظہر پڑھائی تو اس میں کچھ زیادتی یا کمی کردی۔منصور کا بیان ہے کہ مجھے یہ. معلوم نہیں کہ یہ وہم ابراہیم نخعی کو ہوا یا علقمہ کو۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے (سہو کے) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے (سہو کے) کر لے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٧١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ عَبْدَ العَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلاَةَ الظُّهْرِ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا، قَالَ مَنْصُورٌ: لاَ أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ وَهِمَ أَمْ عَلْقَمَةُ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لاَ يَدْرِي: زَادَ فِي صَلاَتِهِ أَمْ نَقَصَ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ، فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6671

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ۔ترجمہ کنز الایمان:کہا مجھ سے میری بھول پر گرفت نہ کرو اور مجھ پر میرے کام میں مشکل نہ ڈالو۔(کھف ٧٣)تو حضرت موسیٰ پر یہ پہلا اعتراض تھا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٦؛حدیث نمبر٦٦٧٢)

حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: {لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ، وَلاَ تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا} [الكهف: 73] قَالَ: «كَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6672

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں، چنانچہ انہوں نے نماز عید الاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ قربانی کریں۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لیے ہی تھی۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٧؛حدیث نمبر٦٦٧٣)

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: كَتَبَ إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ البَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ: «وَكَانَ عِنْدَهُمْ ضَيْفٌ لَهُمْ، فَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يَذْبَحُوا قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ، لِيَأْكُلَ ضَيْفُهُمْ، فَذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الذَّبْحَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي عَنَاقٌ جَذَعٌ، عَنَاقُ لَبَنٍ، هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَكَانَ ابْنُ عَوْنٍ، يَقِفُ فِي هَذَا المَكَانِ عَنْ حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ، وَيُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، بِمِثْلِ هَذَا الحَدِيثِ، وَيَقِفُ فِي هَذَا المَكَانِ، وَيَقُولُ: «لاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ غَيْرَهُ أَمْ لاَ» رَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6673

اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ؛جو بھول کر قسم کے خلاف ہو جائے؛٨ص١٣٧؛حدیث نمبر٦٦٧٤)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6674

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو۔(النحل٩٤) دخلا سے مراد"کرو خیانت" ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا،والدین کی نافرمانی کرنا،کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْيَمِينِ الْغَمُوسِ؛جھوٹی قسم ہھانا؛٨ص١٣٧؛حدیث نمبر٦٦٧٥)

بَابُ اليَمِينِ الغَمُوسِ {وَلاَ تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ، فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا، وَتَذُوقُوا السُّوءَ بِمَا صَدَدْتُمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النحل: 94] " دَخَلًا: مَكْرًا وَخِيَانَةً " حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الكَبَائِرُ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَاليَمِينُ الغَمُوسُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6675

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔(آل عمران ٧٧) اور ارشاد باری تعالیٰ:اللہ کو اپنی قَسَموں کا نشانہ نہ بنالو کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو اور اللہ سنتا جانتا ہے۔(البقرہ٢٢٤) اور ارشاد باری تعالیٰ:اور اللہ کے عہد پر تھوڑے دام مول نہ لو بیشک وہ جو اللہ کے پاس ہے تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔(النحل ٩٥) اور ارشاد باری تعالیٰ:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو بیشک اللہ تمہارے کام جانتا ہے۔(النحل ٩١) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جھوٹی قسم اس لئے کھاے کہ تاکہ کسی کا مال ہڑپ کھا جائے تو جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو وہ اس پر ناراض ہوگا۔پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ترجمہ کنز الایمان:وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔(آل عمران ٧٧) (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛باب اللہ تعالیٰ کا قول جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٣٧؛حدیث نمبر٦٦٧٦)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا، أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ، وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [آل عمران: 77] وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {وَلاَ تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا، وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ، وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} [البقرة: 224] وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {وَلاَ تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا، إِنَّمَا عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ، إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [النحل: 95] {وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ، وَلاَ تَنْقُضُوا الأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا، وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا} [النحل: 91] حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ -[138]- تَصْدِيقَ ذَلِكَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] إِلَى آخِرِ الآيَةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6676

عبداللہ یہ حدیث بیان کر چکے تھے، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہو گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛باب اللہ تعالیٰ کا قول جو اوپر ذکر ہوا؛٨ص١٣٨؛حدیث نمبر٦٦٧٧)

فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ» قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6677

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا (کیونکہ موجود نہیں ہیں) اور اس وقت آپ حالت غضب میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا (یہ کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سواریاں عطاء فرما رہا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ؛جس چیز کا مالک نہ ہو یا گناہ کے کام میں یا غصہ میں قسم کھانا؛٨ص١٣٨؛حدیث نمبر٦٦٧٨)

بَابُ اليَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي المَعْصِيَةِ وَفِي الغَضَبِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ العَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ الحُمْلاَنَ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ» وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ: " انْطَلِقْ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ: إِنَّ اللَّهَ، أَوْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6678

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا (اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين جاءوا بالإفك‏» کہ ”بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے“ دس آیتوں تک۔ جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لیے ہوئے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولي القربى‏» الخ(ترجمہ کنز الایمان:اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہیئے کہ معاف کریں اور در گزر کریں کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے(النور ٢٢)۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے۔ چنانچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کر دیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ؛جس چیز کا مالک نہ ہو یا گناہ کے کام میں یا غصہ میں قسم کھانا؛٨ص١٣٨؛حدیث نمبر٦٦٧٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا الحَجَّاجُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الحَدِيثِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ} العَشْرَ الآيَاتِ كُلَّهَا فِي بَرَاءَتِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ: وَاللَّهِ لاَ أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا، بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ، أَنْ يُؤْتُوا أُولِي القُرْبَى} الآيَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: " بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي، فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لاَ أَنْزِعُهَا عَنْهُ أَبَدًا "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6679

زہدم نے بیان کیا کہ ہم حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ کو حالت غضب میں پایا پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ سواریاں نہیں دیں گے۔ اس کے بعد فرمایا: واللہ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم کا کفارہ ادا کروں گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ؛جس چیز کا مالک نہ ہو یا گناہ کے کام میں یا غصہ میں قسم کھانا؛٨ص١٣٨؛حدیث نمبر٦٦٨٠)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ القَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا، ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6680

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل کلام چار ہیں، سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہٰ الا اللہ، اللہ اکبر اور ابوسفیان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو لکھا تھا، آ جاؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر مانا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا کہ «كلمة التقوى»سے مراد لا الہٰ الا اللہ ہے۔ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب ابو طالب کا وقت وفات آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ لا الہ الا اللہ کہ دو تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کچھ عرض کروں۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ. فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ، فَهْوَ عَلَى نِيَّتِهِ؛جب کسی نے کہا کہ واللہ، میں آج بات نہیں کروں گا پھر اس نے نماز پڑھی، قرآن مجید کی تلاوت کی، تسبیح کی، حمد یا لا الہٰ الا اللہ کہا تو اس کا حکم اس کی نیت کے موافق ہو گا؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨١)

بَابُ إِذَا قَالَ: وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ اليَوْمَ، فَصَلَّى، أَوْ قَرَأَ، أَوْ سَبَّحَ، أَوْ كَبَّرَ، أَوْ حَمِدَ، أَوْ هَلَّلَ، فَهُوَ عَلَى نِيَّتِهِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الكَلاَمِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ " قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ: {تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} [آل عمران: 64] وَقَالَ مُجَاهِدٌ: {كَلِمَةُ التَّقْوَى} [الفتح: 26]: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الوَفَاةُ، جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «قُلْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6681

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو کلمے زبان پر ہلکے،میزان پر بھاری اور اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔وہ یہ ہیں:سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظيم۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ. فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ، فَهْوَ عَلَى نِيَّتِهِ؛جب کسی نے کہا کہ واللہ، میں آج بات نہیں کروں گا پھر اس نے نماز پڑھی، قرآن مجید کی تلاوت کی، تسبیح کی، حمد یا لا الہٰ الا اللہ کہا تو اس کا حکم اس کی نیت کے موافق ہو گا؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ القَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي المِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6682

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور دوسرا میں نے کہا”حضور نے تو یہ فرمایا جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو گا تو وہ جہنم میں جائے گا۔“ اور میں نے دوسری بات کہی کہ جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو گا وہ جنت میں جائے گا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ. فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ، فَهْوَ عَلَى نِيَّتِهِ؛جب کسی نے کہا کہ واللہ، میں آج بات نہیں کروں گا پھر اس نے نماز پڑھی، قرآن مجید کی تلاوت کی، تسبیح کی، حمد یا لا الہٰ الا اللہ کہا تو اس کا حکم اس کی نیت کے موافق ہو گا؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً وَقُلْتُ أُخْرَى: «مَنْ مَاتَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ النَّارَ» وَقُلْتُ أُخْرَى: «مَنْ مَاتَ لاَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أُدْخِلَ الجَنَّةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6683

حمید کا بیان ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام پذیر رہے پھر وہاں سے اترے، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے قسم ایک ماہ کی کھائی تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ شَهْرًا، وَكَانَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جو یہ قسم کھائے کہ وہ اس مہینے اپنی بیوی کے پاس نہیں جاؤں گا اور مہینہ انتیس دن کا ہوا؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٤)

بَابُ مَنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ شَهْرًا، وَكَانَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتْ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا؟ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6684

جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے نزدیک نبیذ نہیں ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں، پھر سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، تمہیں معلوم ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ کہا کہ رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا شیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا تھا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَشْرَبَ نَبِيذًا فَشَرِبَ طِلاَءً أَوْ سَكَرًا أَوْ عَصِيرًا، لَمْ يَحْنَثْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِذَةٍ عِنْدَهُ؛نبیذ نہ پینے کی قسم کھائی،پھر طلاء یا سکر یا عصر پی تو قسم نہ ٹوٹی؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٥)

بَابُ إِنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَشْرَبَ نَبِيذًا، فَشَرِبَ طِلاَءً، أَوْ سَكَرًا، أَوْ عَصِيرًا « لَمْ يَحْنَثْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِذَةٍ عِنْدَهُ» حَدَّثَنِي عَلِيٌّ، سَمِعَ عَبْدَ العَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَسَ، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ العَرُوسُ خَادِمَهُمْ، فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا سَقَتْهُ؟» قَالَ: «أَنْقَعَتْ لَهُ تَمْرًا فِي تَوْرٍ مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى أَصْبَحَ عَلَيْهِ، فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6685

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہماری ایک بکری مر گئی تو ہم نے اس کی کھال کو دباغت کر لیا مسلسل اس میں نبیذ بناتے رہے حتیٰ کہ وہ مخدوش ہوگئی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَشْرَبَ نَبِيذًا فَشَرِبَ طِلاَءً أَوْ سَكَرًا أَوْ عَصِيرًا، لَمْ يَحْنَثْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِذَةٍ عِنْدَهُ؛نبیذ نہ پینے کی قسم کھائی،پھر طلاء یا سکر یا عصر پی تو قسم نہ ٹوٹی؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «مَاتَتْ لَنَا شَاةٌ، فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا، ثُمَّ مَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6686

حضرت عابس بن ربیعہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پے در پے تین دن تک سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی نہیں کھائی یہاں تک کہ حق سے جا ملے اور ابن کثیر نے بیان کیا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا حَلَفَ أَنْ لاَ يَأْتَدِمَ، فَأَكَلَ تَمْرًا بِخُبْزٍ، وَمَا يَكُونُ مِنَ الأُدْمِ؛جس نے قسم کھائی کہ سالن نہیں کھاؤں گا پھر کھجور،روٹی اور کوئی چیز سالن کے ساتھ کھائی؛٨ص١٣٩؛حدیث نمبر٦٦٨٧)

بَابُ إِذَا حَلَفَ أَنْ لاَ يَأْتَدِمَ، فَأَكَلَ تَمْرًا بِخُبْزٍ، وَمَا يَكُونُ مِنَ الأُدْمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا شَبِعَ -آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ» وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ: بِهَذَا

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6687

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (اپنی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں سن کر آ رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز (فاقوں کی وجہ سے)ضعف پڑ گئی ہے اور میں نے آواز سے آپ کے بھوک کا اندازہ لگایا ہے۔ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں اور ایک اوڑھنی لے کر روٹی کو اس کے ایک کونے سے لپیٹ دیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ میں لے کر گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ ہیں، میں ان کے پاس جا کے کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا جو ساتھ تھے کہ اٹھو اور چلو، میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔ آخر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں پہنچا اور ان کو اطلاع دی۔ ابوطلحہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور ہمارے پاس تو کوئی ایسا کھانا نہیں ہے جو سب کو پیش کیا جا سکے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوطلحہ گھر کی طرف بڑھے اور اندر گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے میرے پاس لاؤ۔ وہ یہی روٹیاں لائیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کو چورا کر دیا گیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک (گھی کی) کپی کو نچوڑا یہی سالن تھا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر کہا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہلوانا چاہا۔اور فرمایا کہ دس دس آدمیوں کو اندر بلاؤ انہیں بلایا گیا اور اس طرح سب لوگوں نے کھایا اور خوب سیر ہو گئے، حاضرین کی تعداد ستر یا اسی آدمیوں کی تھی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا حَلَفَ أَنْ لاَ يَأْتَدِمَ، فَأَكَلَ تَمْرًا بِخُبْزٍ، وَمَا يَكُونُ مِنَ الأُدْمِ؛جس نے قسم کھائی کہ سالن نہیں کھاؤں گا پھر کھجور،روٹی اور کوئی چیز سالن کے ساتھ کھائی؛٨ص١٤٠؛حدیث نمبر٦٦٨٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ: سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا، أَعْرِفُ فِيهِ الجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا، فَلَفَّتِ الخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبْتُ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي المَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: «قُومُوا» فَانْطَلَقُوا وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ حَتَّى دَخَلاَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ» فَأَتَتْ بِذَلِكَ الخُبْزِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ الخُبْزِ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ» فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: «ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ» فَأَكَلَ القَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6688

علقمہ بن وقاص لیثی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بلاشبہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو واقعی وہ انہیں کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النِّيَّةِ فِي الأَيْمَانِ؛قسم میں نیت؛٨ص١٤٠؛حدیث نمبر٦٦٨٩)

بَابُ النِّيَّةِ فِي الأَيْمَانِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6689

عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کا بیان ہے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ نے انہیں بتایا کہ جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کے بیٹوں میں سے انہیں راستہ بتایا کرتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے واقعہ اور آیت «على الثلاثة الذين خلفوا‏»(ترجمہ کنز الایمان:اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے۔)کے سلسلہ میں سنا، انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا کہ (میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ) اپنی توبہ کے قبول ہونے کی خوشی میں میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت میں صدقہ کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ وَالتَّوْبَةِ؛جو نذر یا توبہ قبول ہونے پر اپنا سارا مال خیرات کرے؛٨ص١٤٠؛حدیث نمبر٦٦٩٠)

بَابُ إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ وَالتَّوْبَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فِي حَدِيثِهِ: {وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا} [التوبة: 118] فَقَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6690

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے غیب بتا نے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔بے شک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا اُتار مقرر فرمادیا اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ اور فرمایا:اے ایمان والو حران نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں۔(المائدہ٨٧) عبید بن عمیر کا بیان ہے کہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ام المؤمنین) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے۔ پھر میں نے اور (ام المؤمنین) حفصہ (رضی اللہ عنہا) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینب بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں پیوں گا۔ (کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی اس میں مغافیر کی بو آتی ہے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك» ”اے غیب بتانے والے(نبی)تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے۔“(التحریم١)«إن تتوبا إلى الله» میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے خطاب ہےاور «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا»(التحریم ٣)سے اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف ہے کہ ”نہیں“ میں نے شہد پیا ہے۔“ اور مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے ہشام سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب کبھی میں شہد نہیں پیوں گا میں نے قسم کھایا ہے تم یہ نذر پوری کرنا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ إِذَا حَرَّمَ طَعَامَهُ؛جب کھانے کو خود پر حرام کرلے؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩١)

بَابُ إِذَا حَرَّمَ طَعَامَهُ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ، تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ، وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ، قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ} وَقَوْلُهُ: {لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ} [المائدة: 87] حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الحَجَّاجُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ: تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ: أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «لاَ، بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ» فَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ} [التحريم: 4]. لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: 3]. لِقَوْلِهِ: «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا»، وقَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى: عَنْ هِشَامٍ: «وَلَنْ أَعُودَ لَهُ، وَقَدْ حَلَفْتُ، فَلاَ تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6691

"اپنی منتیں پوری کرتے ہیں"(الدھر٧) سعید بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا، کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کر سکتی ہے نہ پیچھے، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر پوری کرنا؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩٢)

بَابُ الوَفَاءِ بِالنَّذْرِ وَقَوْلِهِ: {يُوفُونَ بِالنَّذْرِ} [الإنسان: 7] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَوَلَمْ يُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ النَّذْرَ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلاَ يُؤَخِّرُ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِالنَّذْرِ مِنَ البَخِيلِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6692

عبد اللہ بن مرہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا کہ یہ کسی چیز کو روک نہیں سکتی ہاں اتنا ہے کہ اس کے باعث بخیل کا مال نکلوادیا جاتا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر پوری کرنا؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩٣)

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لاَ يَرُدُّ شَيْئًا، وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ البَخِيلِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6693

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نذر آدمی کے لیے کسی ایسی چیز کو لے کر نہیں آتی جو اس کے مقدر میں نہ ہو بلکہ نذر تو اسی چیز کو لاتی ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔پس اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ بخیل کا مال نکلوادیتا ہے،لہٰذا وہ اس کے باعث وہ مال دے دیتا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیتا تھا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ؛نذر پوری کرنا؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ قُدِّرَ لَهُ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ إِلَى القَدَرِ قَدْ قُدِّرَ لَهُ، فَيَسْتَخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مِنَ البَخِيلِ، فَيُؤْتِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي عَلَيْهِ مِنْ قَبْلُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6694

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے،پھر جو لوگ ان کے بعد ہیں،پھر وہ لوگ جو ان کے بعد میں ۔ اس پر حضرت عمران نے بیان کیا کہ مجھے یاد نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے بعد دو کا ذکر کیا تھا یا تین کا (فرمایا کہ) پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو نذر مانے گی اور اسے پورا نہیں کرے گی، خیانت کرے گی اور امانت دار نہیں بنیں گی،اور گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی لی نہیں جائیگی ان پر موٹاپا ظاہر ہوتا ہوگا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ لاَ يَفِي بِالنَّذْرِ؛نذر پوری نہ کرنے کا گناہ؛٨ص١٤١؛حدیث نمبر٦٦٩٥)

بَابُ إِثْمِ مَنْ لاَ يَفِي بِالنَّذْرِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، حَدَّثَنَا زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ - قَالَ عِمْرَانُ: لاَ أَدْرِي: ذَكَرَ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا بَعْدَ قَرْنِهِ - ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ، يَنْذِرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6695

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور تم جو خرچ کرو یا منت مانو اللہ کو اس کی خبر ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں"(البقرہ ٢٧٠) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے ضرور اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے نذر مانی کہ اس کی نافرمانی کروں گا تو اسے نافرمانی نہیں کرنی چاہئے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِي الطَّاعَةِ؛اطاعت کی نذر ماننا؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٦٩٦)

بَابُ النَّذْرِ فِي الطَّاعَةِ {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ، فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ، وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ} [البقرة: 270] حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ المَلِكِ، عَنِ القَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6696

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے عرض کی:یا رسول اللہ!میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات دن خانہ کعبہ کا اعتکاف کروں گا۔ارشاد فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ إِذَا نَذَرَ أَوْ حَلَفَ أَنْ لاَ يُكَلِّمَ إِنْسَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَسْلَمَ؛جب زمانہ جاہلیت میں کسی شخص سے نہ بولنے کی نذر مانی یا قسم کھائی اور پھر مسلمان ہوگیا؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٦٩٧)

بَابُ إِذَا نَذَرَ، أَوْ حَلَفَ: أَنْ لاَ يُكَلِّمَ إِنْسَانًا فِي الجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي المَسْجِدِ الحَرَامِ، قَالَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6697

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو حکم دیا جس کی ماں نے مسجد قباء میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی کہ اس کی جانب سے نماز پڑھے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ ان کے والدہ ماجدہ پر ایک نذر تھی جس کے پورا کرنے سے پہلے وہ وفات پاگئیں۔چناچہ آپ نے انہیں اس کے پورا کرنے کا فتویٰ دیا۔پس بعد میں یہی طریقہ مقرر ہوگیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ؛جو مر جائے اور اس نے نذر مانی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٦٩٨)

بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ وَأَمَرَ ابْنُ عُمَرَ، امْرَأَةً، جَعَلَتْ أُمُّهَا عَلَى نَفْسِهَا صَلاَةً بِقُبَاءٍ، فَقَالَ: «صَلِّي عَنْهَا» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، «فَأَفْتَاهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا»، فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدُ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6698

سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ؛جو مر جائے اور اس نے نذر مانی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٦٩٩)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أُخْتِي قَدْ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاقْضِ اللَّهَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالقَضَاءِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6699

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی تو اسے ضرور اس کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اس کی نافرمانی کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٧٠٠)

بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ المَلِكِ، عَنِ القَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6700

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس آدمی نے جو اپنی جان کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بےپرواہ ہے اور وہ شخص اپنے دو بیٹوں کے سہارے درمیان میں چل رہا تھا۔فزاری، حمید،ثابت نے حضرت انس سے اس کی روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٧٠١)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ» وَرَآهُ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ وَقَالَ الفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6701

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ رسی یا کسی دوسرے چیز کے ساتھ طواف کر رہا ہے تو آپ نے اسے کاٹ دیا۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٧٠٢)

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَطُوفُ بِالكَعْبَةِ بِزِمَامٍ أَوْ غَيْرِهِ فَقَطَعَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6702

طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو دوسرے آدمی کے ناک میں رسی ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسی کو اپنی دست مبارک سے کاٹ دیا اور فرمایا کہ اسے اس کے ہاتھ سے پکڑ کر چلو۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٢؛حدیث نمبر٦٧٠٣)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6703

عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑے ہوئے دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل نامی ہیں۔ انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے ہی رہیں گے، بیٹھیں گے نہیں، نہ کسی چیز کے سایہ میں بیٹھیں گے اور نہ کسی سے بات کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ بات کریں، سایہ کے نیچے بیٹھیں اٹھیں اور اپنا روزہ پورا کر لیں۔ عبدالوہاب نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ؛ایسی نذر ماننا جس پر قادر نہ ہو اور وہ گناہ کی ہو؛٨ص١٤٣؛حدیث نمبر٦٧٠٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا: أَبُو إِسْرَائِيلَ، نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلاَ يَقْعُدَ، وَلاَ يَسْتَظِلَّ، وَلاَ يَتَكَلَّمَ، وَيَصُومَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ» قَالَ عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6704

ابو حرہ اسلمی نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقر عید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان کے روزوں کو مناسب سمجھتے تھے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ أَيَّامًا فَوَافَقَ النَّحْرَ أَوِ الْفِطْرَ؛جو چند دنوں کی روزے کی نظر مانے اور ان میں قربانی اور عید کے دن آجائے؛٨ص١٤٣؛حدیث نمبر٦٧٠٥)

بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ أَيَّامًا، فَوَافَقَ النَّحْرَ أَوِ الفِطْرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الأَسْلَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لاَ يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلَّا صَامَ، فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَقَالَ: " {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21] لَمْ يَكُنْ يَصُومُ يَوْمَ الأَضْحَى وَالفِطْرِ، وَلاَ يَرَى صِيَامَهُمَا "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6705

زیاد بن جبیر نے بیان کیا کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا۔ اتفاق سے اسی دن کی بقر عید پڑ گئی ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بقر عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس سے صرف اتنی ہی بات کہی اس پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛ بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ أَيَّامًا فَوَافَقَ النَّحْرَ أَوِ الْفِطْرَ؛جو چند دنوں کی روزے کی نظر مانے اور ان میں قربانی اور عید کے دن آجائے؛٨ص١٤٣؛حدیث نمبر٦٧٠٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثَلاَثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ مَا عِشْتُ، فَوَافَقْتُ هَذَا اليَوْمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: «أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ» فَأَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ مِثْلَهُ، لاَ يَزِيدُ عَلَيْهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6706

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے جس سے عمدہ اور کوئی نہیں۔فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اصل کو روک کر آمدنی صدقہ کر دو۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحا باغ ہے جو مسجد کے سامنے ہے۔ ابو الغیث مولیٰ ابن مطیع کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر سے ہمیں غنیمت میں سونا چاندی نہیں ملا بلکہ زمین،کپڑے اور سامان ملا تھا۔چناچہ بنی ضبیب کے ایک آدمی رفاعہ بن زید نامی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک غلام ہدیہ کے طور پر پیش کیا جس کو مدعم کہا جاتا تھا۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی القرای کی طرف تشریف لے گئے۔حتیٰ کہ جب وادی القریٰ میں پہنچ گئے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھاوے کو اتار رہا تھا تو اسے ایک تیر آکر لگا جس کے سبب وہ ہلاک ہوگیا لوگوں نے کہا کہ اسے جنت مبارک ہو پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر گز نہیں۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو پگڑی اس نے خیبر کے دن نال غنیمت سے بغیر تقسیم کے لے لی تھی وہ آگ بن کر ضرور اس پر جلے گی۔جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔آپ نے فرمایا کہ یہ آگ کا تسمہ یا آگ کے تسمے تھے۔ (بخاری شریف؛كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ؛باب ھل یدخل فی الایمان و النذر الارض،والغنم،والزرع،والامتعۃ؛٨ص١٤٣؛حدیث نمبر٦٧٠٧)

بَابٌ: هَلْ يَدْخُلُ فِي الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ الأَرْضُ، وَالغَنَمُ، وَالزُّرُوعُ، وَالأَمْتِعَةُ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ عُمَرُ، لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ مِنْهُ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا» وَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ، لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَبُّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ، لِحَائِطٍ لَهُ، مُسْتَقْبِلَةِ المَسْجِدِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلاَ فِضَّةً، إِلَّا الأَمْوَالَ وَالثِّيَابَ وَالمَتَاعَ، فَأَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ، يُقَالُ لَهُ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ، لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلاَمًا، يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي القُرَى، حَتَّى إِذَا كَانَ بِوَادِي القُرَى، بَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا سَهْمٌ عَائِرٌ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ المَغَانِمِ، لَمْ تُصِبْهَا المَقَاسِمُ، لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا» فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ النَّاسُ جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ - أَوْ شِرَاكَيْنِ - إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ - أَوْ: شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ - "

Bukhari Shareef, Kitabul Imane Wan Nojore, Hadees No. 6707

Bukhari Shareef : Kitabul Imane Wan Nojore

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ

|

•