asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabo Kaffaratil Iman

From 6708 to 6722

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا۔(المائدہ٨٩)جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ میں روزے،صدقہ اور قربانی کا حکم دیا۔ابن عباس،عطاء اور عکرمہ سے منقول ہے کہ قرآن کریم میں جہاں اَو کے ساتھ حکم ہے وہاں ایک چیز کا اختیار ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو فدیہ اختیار دیا تھا۔ عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ کا بیان ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا۔نزدیک آؤ۔میں نزدیک ہوگیا فرمایا کیا جوئیں تمہیں ایذا دیتی ہے عرض کی ہاں۔فرمایا کہ اس کا روزے یا خیرات یا قربانی سے فدیہ دے دو۔ابو شہاب کو ابن عون نے ایوب کے حوالے سے بتایا کہ تین روز کے روزے،بکری کی قربانی اور چھ مسکینوں کو کھانا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛٨ص١٤٤؛حدیث نمبر٦٧٠٨)

كِتَابُ كَفَّارَاتِ الأَيْمَانِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ} [المائدة: 89] وَمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196] وَيُذْكَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَطَاءٍ، وَعِكْرِمَةَ: «مَا كَانَ فِي القُرْآنِ أَوْ أَوْ، فَصَاحِبُهُ بِالخِيَارِ» وَقَدْ خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَعْبًا فِي الفِدْيَةِ " حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «ادْنُ» فَدَنَوْتُ، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ» وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: «صِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ، وَالمَسَاكِينُ سِتَّةٌ»

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6708

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:بیشک اللہ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا اتار مقرر فرمادیا اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔(التحریم ٢) امیر اور فقیر پر کفارہ کب واجب ہوتا ہے۔ حمید بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( «عرق» ایک بڑا پیمانہ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (صدقہ کر دوں)؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگےاور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں ہی کو کھلا دینا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلاَكُمْ وَهْوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ}؛٨ص١٤٤؛حدیث نمبر٦٧٠٩)

بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ، وَاللَّهُ مَوْلاَكُمْ وَهُوَ العَلِيمُ الحَكِيمُ} [التحريم: 2] مَتَى تَجِبُ الكَفَّارَةُ عَلَى الغَنِيِّ وَالفَقِيرِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَكْتُ. قَالَ: «وَمَا شَأْنُكَ؟» قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «تَسْتَطِيعُ تُعْتِقُ رَقَبَةً» قَالَ: لاَ. قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» قَالَ: لاَ. قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَ: لاَ. قَالَ: «اجْلِسْ» فَجَلَسَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ - وَالعَرَقُ المِكْتَلُ الضَّخْمُ - قَالَ: «خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ» قَالَ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا؟ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: «أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ»

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6709

حمید بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( «عرق» ایک بڑا پیمانہ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (صدقہ کر دوں)؟قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ان دونوں وادیوں کے درمیان کسی کے گھر والے ہم سے زیادہ حاجتمند نہیں پھر فرمایا جاؤ اور اپنے گھر والے کو کھلا دو۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ مَنْ أَعَانَ الْمُعْسِرَ فِي الْكَفَّارَةِ؛جو کفارہ دینے میں کسی غریب کی مدد کرے؛٨ص١٤٤؛حدیث نمبر٦٧١٠)

بَابُ مَنْ أَعَانَ المُعْسِرَ فِي الكَفَّارَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَكْتُ، فَقَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: وَقَعْتُ بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «تَجِدُ رَقَبَةً» قَالَ: لاَ، قَالَ: «هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» قَالَ: لاَ، قَالَ: «فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَ: لاَ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِعَرَقٍ - وَالعَرَقُ المِكْتَلُ - فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: «اذْهَبْ بِهَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ» قَالَ: أَعَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ، مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ»

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6710

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ دریافت فرمایا، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا کہ نہیں، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ان دونوں وادیوں کے درمیان ہم سے زیادہ غریب تو کوئی بھی نہیں پھر فرمایا کہ انہیں لے لو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ يُعْطِي فِي الْكَفَّارَةِ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ، قَرِيبًا كَانَ أَوْ بَعِيدًا؛کفارے میں دس مسکینوں کو دیا جائے قریبی ہوں یا دور کے؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١١)

بَابُ يُعْطِي فِي الكَفَّارَةِ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ، قَرِيبًا كَانَ أَوْ بَعِيدًا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلَكْتُ، قَالَ: «وَمَا شَأْنُكَ؟» قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً» قَالَ: لاَ، قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» قَالَ: لاَ، قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَ: لاَ أَجِدُ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: «خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ» فَقَالَ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا؟ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا، ثُمَّ قَالَ: «خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ»

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6711

جعید بن عبد الرحمن نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں صاع ایک مد اور تہائی کے برابر ہوتا ہے یعنی پھر اس میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہد مبارک میں اضافہ کیا گیا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ ومد النبي صلى الله عليه وسلم وبركته وما توارث اهل المدينة من ذلك قرنا بعد قرن. ‌‌‌‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (ایک پیمانہ) اور اس میں برکت، اور بعد میں بھی اہل مدینہ کو نسلاً بعد نسل جَو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١٢)

بَابُ صَاعِ المَدِينَةِ، وَمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَرَكَتِهِ، وَمَا تَوَارَثَ أَهْلُ المَدِينَةِ مِنْ ذَلِكَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا القَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ المُزَنِيُّ، حَدَّثَنَا الجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ اليَوْمَ، فَزِيدَ فِيهِ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ العَزِيزِ»

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6712

نافع نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان المبارک کی زکاۃ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ادا کرتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے۔ ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس کے ساتھ ادائگی کرو گے؟میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے ادائگی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ ومد النبي صلى الله عليه وسلم وبركته وما توارث اهل المدينة من ذلك قرنا بعد قرن. ‌‌‌‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (ایک پیمانہ) اور اس میں برکت، اور بعد میں بھی اہل مدینہ کو نسلاً بعد نسل جَو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١٣)

حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الوَلِيدِ الجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ وَهْوَ سَلْمٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: «كَانَ ابْنُ عُمَرَ، يُعْطِي زَكَاةَ رَمَضَانَ بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُدِّ الأَوَّلِ، وَفِي كَفَّارَةِ اليَمِينِ بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ أَبُوقُتَيْبَةَ: قَالَ لَنَا مَالِكٌ: «مُدُّنَا أَعْظَمُ مِنْ مُدِّكُمْ، وَلاَ نَرَى الفَضْلَ إِلَّا فِي مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَقَالَ لِي مَالِكٌ: لَوْ جَاءَكُمْ أَمِيرٌ فَضَرَبَ مُدًّا أَصْغَرَ مِنْ مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تُعْطُونَ؟ قُلْتُ: كُنَّا نُعْطِي بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفَلاَ تَرَى أَنَّ الأَمْرَ إِنَّمَا يَعُودُ إِلَى مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6713

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:اے اللہ!انہیں ان کے پیمانوں میں۔ان کے صاع میں اور ان کے مد میں برکت عطاء فرما۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ ومد النبي صلى الله عليه وسلم وبركته وما توارث اهل المدينة من ذلك قرنا بعد قرن. ‌‌‌‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (ایک پیمانہ) اور اس میں برکت، اور بعد میں بھی اہل مدینہ کو نسلاً بعد نسل جَو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ وَصَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ»

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6714

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:یا ایک بردہ(غلام)آزاد کرنا۔(المائدہ٨٩) اور کون سا غلام آزاد کرنا بہتر ہے۔ سعید بن مرجانہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچاے گا حتیٰ کہ شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ بچاے گا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ}، وَأَيُّ الرِّقَابِ أَزْكَى؟؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١٥)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ} [المائدة: 89] وَأَيُّ الرِّقَابِ أَزْكَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ، حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6715

اور طاؤس نے کہا کہ مدبر اور ام الولد کا آزاد کرنا کافی ہو گا۔ زید بن عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب نے اپنے غلام کو مدبر بنا لیا اور ان کے پاس اس غلام کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا۔ جب اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ مجھ سے اس غلام کو کون خریدتا ہے۔ نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے خرید لیا۔ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے سال مر گیا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ عِتْقِ الْمُدَبَّرِ وَأُمِّ الْوَلَدِ وَالْمُكَاتَبِ فِي الْكَفَّارَةِ، وَعِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا؛کفارہ میں مدبر، ام الولد اور مکاتب اور ولد الزنا کا آزاد کرنا؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧١٦)

بَابُ عِتْقِ المُدَبَّرِ وَأُمِّ الوَلَدِ وَالمُكَاتَبِ فِي الكَفَّارَةِ، وَعِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا وَقَالَ طَاوُسٌ: «يُجْزِئُ المُدَبَّرُ وَأُمُّ الوَلَدِ» حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا لَهُ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي» فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: عَبْدًا قِبْطِيًّا، مَاتَ عَامَ أَوَّلَ

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6716

اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ بریرہ کو خرید لیں لیکن مالکوں نے ولاء کی شرط رکھی پس میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کا ذکر کیا تو فرمایا کہ خرید لو کیوں کہ ولا اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛ بَابُ إِذَا أَعْتَقَ فِي الْكَفَّارَةِ لِمَنْ يَكُونُ وَلاَؤُهُ؟جب کفارہ میں غلام آزاد کرے گا تو اس کی ولاء کسے حاصل ہو گی؟؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧١٧)

بَابُ إِذَا أَعْتَقَ فِي الكَفَّارَةِ، لِمَنْ يَكُونُ وَلاَؤُهُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا الوَلاَءَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6717

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا اور آپ سے سواری کے لیے جانور مانگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ پھر جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے اور جب کچھ اونٹ آئے تو تین اونٹ ہمیں دینے کا حکم فرمایا۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے بعض نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں اللہ اس میں برکت نہیں دے گا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہمیں سواری کے جانور نہیں دے سکتے اور آپ نے عنایت فرمائے ہیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے جانور کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو میں کسی بات پہ قسم نہیں کھاتا،پھر بھلائی اس کے علاوہ میں دیکھتا ہوں تو اپنی قسم کا کفارہ دیکر بھلائی کی طرف جاتا ہوں۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الاِسْتِثْنَاءِ فِي الأَيْمَانِ؛قسم میں استثناء؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧١٨)

بَابُ الِاسْتِثْنَاءِ فِي الأَيْمَانِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ» ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَأُتِيَ بِإِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِثَلاَثَةِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لاَ يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ»،

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6718

ابو النعمان بن حماد سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں اور اس جانب آجاتا ہوں جس میں بھلائی ہو اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الاِسْتِثْنَاءِ فِي الأَيْمَانِ؛قسم میں استثناء؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَقَالَ: " إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ - أَوْ: أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ - "

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6719

طاؤس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سلیمان علیہ السلام نے کہا تھا کہ آج رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک بچہ جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی سفیان راوی نے کہا یعنی فرشتے نے ان سے کہا۔ ان شاءاللہ کہئے لیکن آپ بھول گئے اور پھر تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک بیوی کے سوا جس کے یہاں نامکمل بچہ ہوا تھا کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ نہیں ہوا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ان کی قسم بےکار نہ جاتی اور اپنی ضرورت کو پا لیتے اور ایک مرتبہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر انہوں نے انشاء اللہ کہتے۔ اور ہم سے ابوالزناد نے اعرج سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الاِسْتِثْنَاءِ فِي الأَيْمَانِ؛قسم میں استثناء؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧٢٠)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: " قَالَ سُلَيْمَانُ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً، كُلٌّ تَلِدُ غُلاَمًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ - قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي المَلَكَ - قُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَنَسِيَ، فَطَافَ بِهِنَّ فَلَمْ تَأْتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ بِوَلَدٍ إِلَّا وَاحِدَةٌ بِشِقِّ غُلاَمٍ " فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَرْوِيهِ: قَالَ: " لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ دَرَكًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ " - وَقَالَ مَرَّةً: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَوِ اسْتَثْنَى»، وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ: مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6720

زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ہمارے قبیلہ اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارگی اور باہمی حسن معاملہ کی روش تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر کھانا لایا گیا اور کھانے میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ حاضرین میں بنی تیم اللہ کا ایک شخص سرخ رنگ کا بھی تھا جیسے آزاد کردہ غلام ہو۔ بیان کیا کہ وہ شخص کھانے پر نہیں آیا تو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ شریک ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا تھا جب سے اس سے گھن آنے لگی اور اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ کبھی اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ نے کہا: قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاؤں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کے اونٹوں میں سے تقسیم کر رہے تھے۔ ایوب نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو سواری کے لیے تمہیں دے سکوں۔ بیان کیا کہ پھر ہم واپس آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے، تو پوچھا گیا کہ اشعریوں کی جماعت کہاں ہے۔ ہم حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دئیے جانے کا حکم دیا۔ بیان کیا کہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لیے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کا جانور عنایت فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے۔ واللہ ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چلو ہم سب آپ کے پاس واپس چلیں اور آپ کو آپ کی قسم یاد دلائیں۔ چنانچہ ہم واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم پہلے آئے تھے اور آپ سے سواری کا جانور مانگا تھا تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے، ہم نے سمجھا کہ آپ اپنی قسم بھول گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ، تمہیں اللہ نے سواری دی ہے، واللہ اگر اللہ نے چاہا تو میں کوئی قسم نہیں کھاتا پھر بھلائی اس کے علاوہ میں دیکھتا ہوں مگر اس بھلائی کے پہلو کو اختیار کر لیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دیتا ہوں۔ اس روایت کی متابعت حماد بن زید نے ایوب سے کی، ان سے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم کلیبی نے۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ وَبَعْدَهُ؛قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد کفارہ دینا؛جلد ٨ص١٤٧؛حدیث نمبر٦٧٢١)

بَابُ الكَفَّارَةِ قَبْلَ الحِنْثِ وَبَعْدَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ القَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الجَرْمِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الحَيِّ مِنْ جَرْمٍ إِخَاءٌ وَمَعْرُوفٌ، قَالَ: فَقُدِّمَ طَعَامٌ، قَالَ: وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، قَالَ: وَفِي القَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ، أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى، قَالَ: فَلَمْ يَدْنُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: ادْنُ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ أَطْعَمَهُ أَبَدًا، فَقَالَ: ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ - قَالَ أَيُّوبُ: أَحْسِبُهُ قَالَ: وَهُوَ غَضْبَانُ - قَالَ: «وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ»، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَقِيلَ: «أَيْنَ هَؤُلاَءِ الأَشْعَرِيُّونَ» فَأَتَيْنَا، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، قَالَ: فَانْدَفَعْنَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَحْمِلَنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا، نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لاَ نُفْلِحُ أَبَدًا، ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ، فَرَجَعْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلْتَنَا، فَظَنَنَّا - أَوْ: فَعَرَفْنَا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ - قَالَ: «انْطَلِقُوا، فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ، إِنِّي وَاللَّهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا»، تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَالقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ الكُلَيْبِيِّ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَالقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، بِهَذَا، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ القَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، بِهَذَا

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6721

عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبھی تم حکومت کا عہدہ طلب نہ کرنا کیونکہ اگر بلا مانگے تمہیں یہ مل جائے گا تو اس میں تمہاری منجانب اللہ مدد کی جائے گی، لیکن اگر مانگنے پر ملا تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائےگا اور اگر تم کوئی قسم کھا لو اور بھلائی اس کے سوا میں دیکھو تو اس طرف ہوجاؤ جس طرف بھلائی ہو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔ عثمان بن عمر کے ساتھ اس حدیث کو اشہل بن حاتم نے بھی عبداللہ بن عون سے روایت کیا، اس کو ابوعوانہ اور حاکم نے وصل کیا اور عبداللہ بن عون کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور سماک بن عطیہ اور سماک بن حرب اور حمید اور قتادہ اور منصور اور ہشام اور ربیع نے بھی روایت کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ وَبَعْدَهُ؛قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد کفارہ دینا؛جلد ٨ص١٤٧؛حدیث نمبر٦٧٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ» تَابَعَهُ أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، وَتَابَعَهُ يُونُسُ، وَسِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ، وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، وَحُمَيْدٌ، وَقَتَادَةُ، وَمَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ، وَالرَّبِيعُ

Bukhari Shareef, Kitabo Kaffaratil Iman, Hadees No. 6722

Bukhari Shareef : Kitabo Kaffaratil Iman

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ كَفَّارَاتِ الأَيْمَانِ

|

•