
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا۔(المائدہ٨٩)جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ میں روزے،صدقہ اور قربانی کا حکم دیا۔ابن عباس،عطاء اور عکرمہ سے منقول ہے کہ قرآن کریم میں جہاں اَو کے ساتھ حکم ہے وہاں ایک چیز کا اختیار ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو فدیہ اختیار دیا تھا۔ عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ کا بیان ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا۔نزدیک آؤ۔میں نزدیک ہوگیا فرمایا کیا جوئیں تمہیں ایذا دیتی ہے عرض کی ہاں۔فرمایا کہ اس کا روزے یا خیرات یا قربانی سے فدیہ دے دو۔ابو شہاب کو ابن عون نے ایوب کے حوالے سے بتایا کہ تین روز کے روزے،بکری کی قربانی اور چھ مسکینوں کو کھانا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛٨ص١٤٤؛حدیث نمبر٦٧٠٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:بیشک اللہ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا اتار مقرر فرمادیا اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔(التحریم ٢) امیر اور فقیر پر کفارہ کب واجب ہوتا ہے۔ حمید بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( «عرق» ایک بڑا پیمانہ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (صدقہ کر دوں)؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگےاور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں ہی کو کھلا دینا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلاَكُمْ وَهْوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ}؛٨ص١٤٤؛حدیث نمبر٦٧٠٩)
حمید بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( «عرق» ایک بڑا پیمانہ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (صدقہ کر دوں)؟قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ان دونوں وادیوں کے درمیان کسی کے گھر والے ہم سے زیادہ حاجتمند نہیں پھر فرمایا جاؤ اور اپنے گھر والے کو کھلا دو۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ مَنْ أَعَانَ الْمُعْسِرَ فِي الْكَفَّارَةِ؛جو کفارہ دینے میں کسی غریب کی مدد کرے؛٨ص١٤٤؛حدیث نمبر٦٧١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ دریافت فرمایا، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا کہ نہیں، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ان دونوں وادیوں کے درمیان ہم سے زیادہ غریب تو کوئی بھی نہیں پھر فرمایا کہ انہیں لے لو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ يُعْطِي فِي الْكَفَّارَةِ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ، قَرِيبًا كَانَ أَوْ بَعِيدًا؛کفارے میں دس مسکینوں کو دیا جائے قریبی ہوں یا دور کے؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١١)
جعید بن عبد الرحمن نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں صاع ایک مد اور تہائی کے برابر ہوتا ہے یعنی پھر اس میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہد مبارک میں اضافہ کیا گیا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ ومد النبي صلى الله عليه وسلم وبركته وما توارث اهل المدينة من ذلك قرنا بعد قرن. اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (ایک پیمانہ) اور اس میں برکت، اور بعد میں بھی اہل مدینہ کو نسلاً بعد نسل جَو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١٢)
نافع نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان المبارک کی زکاۃ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ادا کرتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے۔ ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس کے ساتھ ادائگی کرو گے؟میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے ادائگی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ ومد النبي صلى الله عليه وسلم وبركته وما توارث اهل المدينة من ذلك قرنا بعد قرن. اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (ایک پیمانہ) اور اس میں برکت، اور بعد میں بھی اہل مدینہ کو نسلاً بعد نسل جَو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:اے اللہ!انہیں ان کے پیمانوں میں۔ان کے صاع میں اور ان کے مد میں برکت عطاء فرما۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛قسموں کے کفارے کا بیان؛بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ ومد النبي صلى الله عليه وسلم وبركته وما توارث اهل المدينة من ذلك قرنا بعد قرن. اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (ایک پیمانہ) اور اس میں برکت، اور بعد میں بھی اہل مدینہ کو نسلاً بعد نسل جَو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١٤)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:یا ایک بردہ(غلام)آزاد کرنا۔(المائدہ٨٩) اور کون سا غلام آزاد کرنا بہتر ہے۔ سعید بن مرجانہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچاے گا حتیٰ کہ شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ بچاے گا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ}، وَأَيُّ الرِّقَابِ أَزْكَى؟؛جلد ٨ص١٤٥؛حدیث نمبر٦٧١٥)
اور طاؤس نے کہا کہ مدبر اور ام الولد کا آزاد کرنا کافی ہو گا۔ زید بن عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب نے اپنے غلام کو مدبر بنا لیا اور ان کے پاس اس غلام کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا۔ جب اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ مجھ سے اس غلام کو کون خریدتا ہے۔ نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے خرید لیا۔ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے سال مر گیا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ عِتْقِ الْمُدَبَّرِ وَأُمِّ الْوَلَدِ وَالْمُكَاتَبِ فِي الْكَفَّارَةِ، وَعِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا؛کفارہ میں مدبر، ام الولد اور مکاتب اور ولد الزنا کا آزاد کرنا؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧١٦)
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ بریرہ کو خرید لیں لیکن مالکوں نے ولاء کی شرط رکھی پس میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کا ذکر کیا تو فرمایا کہ خرید لو کیوں کہ ولا اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛ بَابُ إِذَا أَعْتَقَ فِي الْكَفَّارَةِ لِمَنْ يَكُونُ وَلاَؤُهُ؟جب کفارہ میں غلام آزاد کرے گا تو اس کی ولاء کسے حاصل ہو گی؟؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧١٧)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا اور آپ سے سواری کے لیے جانور مانگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ پھر جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے اور جب کچھ اونٹ آئے تو تین اونٹ ہمیں دینے کا حکم فرمایا۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے بعض نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں اللہ اس میں برکت نہیں دے گا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہمیں سواری کے جانور نہیں دے سکتے اور آپ نے عنایت فرمائے ہیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے جانور کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو میں کسی بات پہ قسم نہیں کھاتا،پھر بھلائی اس کے علاوہ میں دیکھتا ہوں تو اپنی قسم کا کفارہ دیکر بھلائی کی طرف جاتا ہوں۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الاِسْتِثْنَاءِ فِي الأَيْمَانِ؛قسم میں استثناء؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧١٨)
ابو النعمان بن حماد سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں اور اس جانب آجاتا ہوں جس میں بھلائی ہو اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الاِسْتِثْنَاءِ فِي الأَيْمَانِ؛قسم میں استثناء؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧١٩)
طاؤس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سلیمان علیہ السلام نے کہا تھا کہ آج رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک بچہ جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی سفیان راوی نے کہا یعنی فرشتے نے ان سے کہا۔ ان شاءاللہ کہئے لیکن آپ بھول گئے اور پھر تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک بیوی کے سوا جس کے یہاں نامکمل بچہ ہوا تھا کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ نہیں ہوا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ان کی قسم بےکار نہ جاتی اور اپنی ضرورت کو پا لیتے اور ایک مرتبہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر انہوں نے انشاء اللہ کہتے۔ اور ہم سے ابوالزناد نے اعرج سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الاِسْتِثْنَاءِ فِي الأَيْمَانِ؛قسم میں استثناء؛جلد ٨ص١٤٦؛حدیث نمبر٦٧٢٠)
زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ہمارے قبیلہ اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارگی اور باہمی حسن معاملہ کی روش تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر کھانا لایا گیا اور کھانے میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ حاضرین میں بنی تیم اللہ کا ایک شخص سرخ رنگ کا بھی تھا جیسے آزاد کردہ غلام ہو۔ بیان کیا کہ وہ شخص کھانے پر نہیں آیا تو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ شریک ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا تھا جب سے اس سے گھن آنے لگی اور اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ کبھی اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ نے کہا: قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاؤں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کے اونٹوں میں سے تقسیم کر رہے تھے۔ ایوب نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو سواری کے لیے تمہیں دے سکوں۔ بیان کیا کہ پھر ہم واپس آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے، تو پوچھا گیا کہ اشعریوں کی جماعت کہاں ہے۔ ہم حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دئیے جانے کا حکم دیا۔ بیان کیا کہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لیے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کا جانور عنایت فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے۔ واللہ ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چلو ہم سب آپ کے پاس واپس چلیں اور آپ کو آپ کی قسم یاد دلائیں۔ چنانچہ ہم واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم پہلے آئے تھے اور آپ سے سواری کا جانور مانگا تھا تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے، ہم نے سمجھا کہ آپ اپنی قسم بھول گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ، تمہیں اللہ نے سواری دی ہے، واللہ اگر اللہ نے چاہا تو میں کوئی قسم نہیں کھاتا پھر بھلائی اس کے علاوہ میں دیکھتا ہوں مگر اس بھلائی کے پہلو کو اختیار کر لیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دیتا ہوں۔ اس روایت کی متابعت حماد بن زید نے ایوب سے کی، ان سے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم کلیبی نے۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ وَبَعْدَهُ؛قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد کفارہ دینا؛جلد ٨ص١٤٧؛حدیث نمبر٦٧٢١)
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبھی تم حکومت کا عہدہ طلب نہ کرنا کیونکہ اگر بلا مانگے تمہیں یہ مل جائے گا تو اس میں تمہاری منجانب اللہ مدد کی جائے گی، لیکن اگر مانگنے پر ملا تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائےگا اور اگر تم کوئی قسم کھا لو اور بھلائی اس کے سوا میں دیکھو تو اس طرف ہوجاؤ جس طرف بھلائی ہو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔ عثمان بن عمر کے ساتھ اس حدیث کو اشہل بن حاتم نے بھی عبداللہ بن عون سے روایت کیا، اس کو ابوعوانہ اور حاکم نے وصل کیا اور عبداللہ بن عون کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور سماک بن عطیہ اور سماک بن حرب اور حمید اور قتادہ اور منصور اور ہشام اور ربیع نے بھی روایت کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛بَابُ الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ وَبَعْدَهُ؛قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد کفارہ دینا؛جلد ٨ص١٤٧؛حدیث نمبر٦٧٢٢)
Bukhari Shareef : Kitabo Kaffaratil Iman
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ كَفَّارَاتِ الأَيْمَانِ
|
•