asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Faraiz

From 6723 to 6771

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی تو ماں کا چھٹا بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دَین کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔(النساء ١١،١٢) محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے تشریف لائے، دونوں حضرات پیدل چل کر آئے تھے۔ دونوں حضرات جب آئے تو مجھ پر غشی طاری تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی میرے اوپر چھڑکا مجھے ہوش ہوا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنے مال کی (تقسیم) کس طرح کروں؟ یا اپنے مال کا کس طرح فیصلہ کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیتیں نازل ہوئیں۔ (بخاری شریف؛کتاب کفارات الایمان؛كِتَاب الْفَرَائِضِ؛باب اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی جو اوپر مذکور ہوا؛جلد ٨ص١٤٨؛حدیث نمبر٦٧٢٣)

كِتَابُ الفَرَائِضِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ، فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ، وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ، إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ، فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ، مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ، آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لاَ تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا، وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ، فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ، وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ، فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ، مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ، وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلاَلَةً أَوِ امْرَأَةٌ، وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ، فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ، مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا، أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ، وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ} [النساء: 12] حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " مَرِضْتُ فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَهُمَا مَاشِيَانِ، فَأَتَانِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ وَضُوءَهُ فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي؟ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟ فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ المَوَارِيثِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6723

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ گمان کرنے والوں سے پہلے علم حاصل کر لو یعنی جو لوگ گمان سے باتیں کریں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:گمان سے بچتے رہنا کیوں کہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے اور برائیاں تلاش نہ کرو،تجسس نہ کرو کسی سے بغض و عناد نہ رکھو اور تعلقات منقطع نہ کرو بلکہ اے اللہ کے بندوں بھائی بھائی بن کر رہو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛؛جلد ٨ص١٤٨؛حدیث نمبر٦٧٢٤)

بَابُ تَعْلِيمِ الفَرَائِضِ وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ: «تَعَلَّمُوا قَبْلَ الظَّانِّينَ» يَعْنِي: الَّذِينَ يَتَكَلَّمُونَ بِالظَّنِّ " حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الحَدِيثِ، وَلاَ تَحَسَّسُوا وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6724

عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس علیہما السلام،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک اور خیبر کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛3. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٤٩؛حدیث نمبر٦٧٢٥)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ فَاطِمَةَ وَالعَبَّاسَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ، أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِنْ فَدَكَ، وَسَهْمَهُمَا مِنْ خَيْبَرَ،

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6725

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔ بیان کیا کہ اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے تعلق کاٹ لیا اور آخری وقت تک ان سے کلام نہیں کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٤٩؛حدیث نمبر٦٧٢٦)

فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا المَالِ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لاَ أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ، قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6726

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہماری کوئی وارث نہیں،جو ہم چھوڑے وہ صدقہ ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٤٩؛حدیث نمبر٦٧٢٧)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ المُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6727

ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن اوس بن حدثان نے خبر دی کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے مالک بن اوس کی اس حدیث کا ایک حصہ ذکر کیا تھا۔ پھر میں خود مالک بن اوس کے پاس گیا اور ان سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر ان کے حاجب یرفاء نے جا کر ان سے کہا کہ عثمان، عبدالرحمٰن بن زبیر اور سعد آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اچھا آنے دو۔ چنانچہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی۔ پھر کہا، کیا آپ علی و عباس رضی اللہ عنہما کو بھی آنے کی اجازت دیں گے؟ کہا کہ ہاں آنے دو۔ چنانچہ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امیرالمؤمنین میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؟ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذات مراد لیتے تھے۔جملہ حاضرین بولے کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ پھر حضرت عمر، حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا؟ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں اب آپ لوگوں سے اس معاملہ میں گفتگو کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس فے کے معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ حصے مخصوص کر دئیے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ترجمہ کنز الایمان:اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑاے تھے نہ اونٹ ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔(الحشر٦)یہ تو خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمہارے لیے ہی مخصوص کیا تھا اور تمہارے سوا کسی کو اس پر ترجیح نہیں دی تھی، تمہیں کو اس میں سے دیتے تھے اور تقسیم کرتے تھے۔ آخر اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا خرچہ لیتے تھے، اس کے بعد جو کچھ باقی بچتا اسے ان مصارف میں خرچ کرتے جو اللہ کے مقرر کردہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرز عمل آپ کی زندگی بھر رہا۔ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں، کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں۔ پھر آپ نے حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگوں کو یہ معلوم ہے؟ انہوں نے بھی کہا کہ جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوں چنانچہ انہوں نے اس پر قبضہ میں رکھ کر اس طرز عمل کو جاری رکھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی وفات دی تو میں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوں۔ میں بھی دو سال سے اس پر قابض ہوں اور اس مال میں وہی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے ہو۔ آپ دونوں کی بات ایک ہے اور معاملہ بھی ایک ہی ہے۔ آپ (عباس رضی اللہ عنہ) میرے پاس اپنے بھتیجے کی میراث سے اپنا حصہ لینے آئے ہو اور آپ (علی رضی اللہ عنہ) اپنی بیوی کا حصہ لینے آئے ہو جو ان کے والد کی طرف سے انہیں ملتا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ دونوں چاہتے ہیں تو میں اسے آپ کو دے سکتا ہوں لیکن آپ لوگ اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہیں تو اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں اس مال میں اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، قیامت تک۔اگر آپ حضرات اس کے بند و بست سے عاجز آگئے تو مجھے واپس دے دیجئے میں خود اس کا بندوبست کر لوں گا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٢٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الحَدَثَانِ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ذَكَرَ لِي مِنْ حَدِيثِهِ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: انْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى عُمَرَ، فَأَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ، فَقَالَ الرَّهْطُ: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالاَ: قَدْ قَالَ ذَلِكَ. قَالَ عُمَرُ: فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الأَمْرِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ} [الحشر: 7]- إِلَى قَوْلِهِ - {قَدِيرٌ} [الحشر: 6] فَكَانَتْ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ وَلاَ اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا المَالُ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْ هَذَا المَالِ نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ بِذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالاَ: نَعَمْ، فَتَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَهَا فَعَمِلَ بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ: أَنَا وَلِيُّ وَلِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا مَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ، جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ. وَأَتَانِي هَذَا يَسْأَلُنِي نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ، فَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، لاَ أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ فَأَنَا أَكْفِيكُمَاهَا "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6728

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری میراث کے دینار تقسیم نہیں کئے جائیں گے بلکہ جو میں چھوڑوں اس میں سے میری ازواج مطہرات اور میرا کام کرنے والوں کے مصارف سے جو بچے وہ صدقہ ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٢٩)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6729

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوگیا تو آپ کی ازواج مطہرات نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان کو حضرت ابوبکر کے پاس میراث کا سوال کرنے کے لئے بھیجیں تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہماری کوئی میراث نہیں ہم جو چھوڑے وہ صدقہ ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٣٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6730

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں۔جو شخص فوت ہوجائے اور اس کے اوپر قرض ہو لیکن ادا کرنے کے لئے کچھ نہ چھوڑا ہو تو اس کا ادا کرنا ہمارے ذمے ہے اور جو وہ مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مال چھوڑے وہ اس کے گھر والوں کا ہے؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٣١)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ» حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيْنَا قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6731

زید بن ثابت کا قول ہے کہ جب کوئی مرد یا عورت بیٹی چھوڑے تو اس کے لئے نصف اور اگر وہ دو یا زیادہ ہوں تو ان کے لیے دو تہائی اور اگر ان کے ساتھ بیٹا بھی ہو تو دوسرے شرکاء کو دے کر باقی مال سے مرد کو عورت سے دگنا دیا جائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میراث اس کے حقداروں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مِيرَاثِ الْوَلَدِ مِنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٣٢)

بَابُ مِيرَاثِ الوَلَدِ مِنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: «إِذَا تَرَكَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ بِنْتًا فَلَهَا النِّصْفُ، وَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ فَلَهُنَّ الثُّلُثَانِ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُنَّ ذَكَرٌ بُدِئَ بِمَنْ شَرِكَهُمْ فَيُؤْتَى فَرِيضَتَهُ، فَمَا بَقِيَ فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ» حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6732

حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا میں مکہ مکرمہ میں بیمار پڑ گیا اور موت کے قریب پہنچ گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں تو کیا مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصہ کا صدقہ کر دینا چاہئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے، اگر تم اپنے بچوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں ثواب ملے گا یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی ہجرت میں پیچھے رہ جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد تم پیچھے رہ بھی گئے تب بھی جو عمل تم کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو گی تو اس کے ذریعہ درجہ و مرتبہ بلند ہو گا اور میرے بعد تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو گا اور بہتوں کو نقصان پہنچے گا۔لیکن صدمہ ہے سعد بن خولہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ ہوتا رہا کیونکہ ان کا مکہ مکرمہ میں وصال ہوگیا تھا۔سفیان اور سعد بن خولہ نے کہا جو بنی عامر بن لوئ کے ایک فرد تھے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مِيرَاثِ الْبَنَاتِ؛بیٹیوں کی میراث؛جلد ٨ص١٥٠؛حدیث نمبر٦٧٣٣)

بَابُ مِيرَاثِ البَنَاتِ حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ مَرَضًا، فَأَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى المَوْتِ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لاَ» قَالَ: قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ: «لاَ» قُلْتُ: الثُّلُثُ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ كَبِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَرَكْتَ وَلَدَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آأُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي؟ فَقَالَ: «لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، لَكِنِ البَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ» يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ، قَالَ سُفْيَانُ: «وَسَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6733

اسود بن یزید کا بیان ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس یمن میں معلم اور امیر بن کر تشریف لائے تو ہم نے ان سے ایک ایسے فوت شدہ کے متعلق دریافت کیا جس نے ایک بیٹی اور ایک بہن پیچھے چھوڑی تو انہوں نے آدھا مال بیٹی کو اور آدھا بہن کو دیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مِيرَاثِ الْبَنَاتِ؛جلد ٨ص١٥١؛حدیث نمبر٦٧٣٤)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَتَانَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، بِاليَمَنِ مُعَلِّمًا وَأَمِيرًا، " فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ: تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ، فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ وَالأُخْتَ النِّصْفَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6734

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ بیٹے کا بیٹا خود بیٹے کے حکم میں ہے جبکہ ان کے سوا اور اولاد نہ ہو پوتے بیٹوں کی طرح ہے اور پوتیاں بیٹیوں کی طرح ہے اور انہیں بھی اسی طرح ترکہ ملے گا جیسے انہیں اور وہ بھی اسی طرح دوسروں کو محروم کریں گے جیسے یہ لیکن بیٹے کی موجودگی میں ہوتا میراث نہیں پاے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میراث اس کے مستحق افراد تک پہنچا دو اور جو مال باقی بچے وہ اس مرد کا ہے جو سب سے قریب ہو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ ابْنِ الاِبْنِ، إِذَا لَمْ يَكُنِ ابْنٌ؛پوتے کی میراث (کتنی ہے) جب بیٹا نہ ہو؛جلد ٨ص١٥١؛حدیث نمبر٦٧٣٥)

بَابُ مِيرَاثِ ابْنِ الِابْنِ إِذَا لَمْ يَكُنِ ابْنٌ وَقَالَ زَيْدٌ: «وَلَدُ الأَبْنَاءِ بِمَنْزِلَةِ الوَلَدِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُمْ وَلَدٌ ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ، وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ، يَرِثُونَ كَمَا يَرِثُونَ، وَيَحْجُبُونَ كَمَا يَحْجُبُونَ، وَلاَ يَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ» حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6735

ہزیل بن شرحبیل نے بیان کیا کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور بہن کو آدھا ملے گا اور تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے یہاں جا، شاید وہ بھی یہی بتائیں گے۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر ایسا فتویٰ دوں تو گمراہ ہوا اور ہدایت یافتہ لوگوں سے نہ رہا۔میں تو اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، اس طرح دو تہائی پوری ہو جائے گی اور پھر جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ان تک پہنچائی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ تم میں موجود ہیں مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ ابْنَةِ ابْنٍ مَعَ ابْنَةٍ؛بیٹی کی موجودگی میں نواسی کی میراث؛جلد ٨ص١٥١؛حدیث نمبر٦٧٣٦)

بَابُ مِيرَاثِ ابْنَةِ الِابْنِ مَعَ بِنْتٍ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو قَيْسٍ، سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنْ بِنْتٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ، فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَأْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَسَيُتَابِعُنِي، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ المُهْتَدِينَ، أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلاِبْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ ابْنٍ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لاَ تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الحَبْرُ فِيكُمْ

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6736

ابوبکر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ دادا باپ کی طرح ہے؟ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی «يا بني آدم‏» ”اے آدم کے بیٹو!“ «واتبعت ملة آبائي إبراهيم وإسحاق ويعقوب‏» ”اور میں نے اتباع کی ہے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی ملت کی“ اور اس کا ذکر نہیں ملتا کہ کسی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آپ کے زمانہ میں اختلاف کیا ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی تعداد اس زمانہ میں بہت تھی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میرے وارث میرے پوتے ہوں گے بھائی نہیں ہوں گے اور میں اپنے پوتوں کا وارث نہیں ہوں گا۔ عمر، علی، ابن مسعود اور زید رضی اللہ عنہم سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میراث اس کے حقداروں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ اس کا ہے جو سب سے قریب ہو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الْجَدِّ مَعَ الأَبِ وَالإِخْوَةِ؛باپ یا بھائیوں کی موجودگی میں دادا کی میراث کا بیان؛جلد ٨ص١٥١؛حدیث نمبر٦٧٣٧)

بَابُ مِيرَاثِ الجَدِّ مَعَ الأَبِ وَالإِخْوَةِ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ: «الجَدُّ أَبٌ» وَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {يَا بَنِي آدَمَ} [الأعراف: 26] {وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ} «وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّ أَحَدًا خَالَفَ أَبَا بَكْرٍ فِي زَمَانِهِ، وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ «يَرِثُنِي ابْنُ ابْنِي دُونَ إِخْوَتِي، وَلاَ أَرِثُ أَنَا ابْنَ ابْنِي؟» وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْدٍ، أَقَاوِيلُ مُخْتَلِفَةٌ. حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6737

عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اس امت میں کسی کو خلیل بناتا تو اسے بناتا۔لیکن اسلامی دوستی میں زیادہ فضیلت ہے یا فرمایا کہ یہ زیادہ بہتر ہے انہوں نے دادا کو باپ کی جگہ قرار دیا۔یہ فرمایا کہ اس کا فیصلہ باپ کی جگہ کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الْجَدِّ مَعَ الأَبِ وَالإِخْوَةِ؛باپ یا بھائیوں کی موجودگی میں دادا کی میراث کا بیان؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَمَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ خَلِيلًا لاَتَّخَذْتُهُ، وَلَكِنْ خُلَّةُ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ، أَوْ قَالَ: خَيْرٌ، فَإِنَّهُ أَنْزَلَهُ أَبًا، أَوْ قَالَ: قَضَاهُ أَبًا "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6738

عطاء نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پہلے مال کی اولاد مستحق تھی اور والدین کو وصیت کا حق تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو چاہا منسوخ کر دیا اور لڑکوں کو لڑکیوں کے دگنا حق دیا اور والدین کو اور ان میں سے ہر ایک کو چھٹے حصہ کا مستحق قرار دیا اور بیوی کو آٹھویں اور خاوند کے لیے چوتھائی اور اولاد نہ ہو تو خاوند کا نصف اور بیوی کا چوتھائی ملے گا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ؛اولاد کے ساتھ خاوند کو کیا ملے گا؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٣٩)

بَابُ مِيرَاثِ الزَّوْجِ مَعَ الوَلَدِ وَغَيْرِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ المَالُ لِلْوَلَدِ، وَكَانَتِ الوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ، فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ، فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ، وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ، وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6739

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ بنی لحیان کی جس عورت کا بچہ گرا دیا گیا ہے اسے ایک غلام یا لونڈی خون بہا دیا جائے پھر وہ عورت وفات پا گئی جس کو خون بہا دلایا گیا تھا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ میراث اس عورت کے بیٹے اور خاوند کو ملے گی اور خون بہا عصبہ کے لیے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ؛بیوی اور خاوند کو اولاد وغیرہ کے ساتھ کیا ملے گا؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٤٠)

بَابُ مِيرَاثِ المَرْأَةِ وَالزَّوْجِ مَعَ الوَلَدِ وَغَيْرِهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ المَرْأَةَ الَّتِي قَضَى لَهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ العَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6740

ابراهيم نے اسود سے روایت کی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں فیصلہ فرمایا کہ بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف ملے گا پھر سلیمان راوی نے کہا کہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک کا ذکر نہ کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً؛بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں عصبہ ہو جاتی ہیں؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٤١)

بَابٌ: مِيرَاثُ الأَخَوَاتِ مَعَ البَنَاتِ عَصَبَةٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: قَضَى فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النِّصْفُ لِلاِبْنَةِ وَالنِّصْفُ لِلْأُخْتِ» ثُمَّ قَالَ سُلَيْمَانُ: قَضَى فِينَا، وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6741

ابو قیس نے ہزمل سے روایت کی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس کا وہی فیصلہ کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کے لئے نصف پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہے اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً؛بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں عصبہ ہو جاتی ہیں؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٤٢)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «للاِبْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6742

جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میں بیمار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا،پھر اپنے وضو کے پانی سے مجھ پر چھڑکاتو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہنیں ہیں؟ اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ وَالإِخْوَةِ؛بہنوں اور بھائیوں کی میراث کا بیان؛جلد ٨ص١٥٢؛حدیث نمبر٦٧٤٣)

بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ وَالإِخْوَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ نَضَحَ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا لِي أَخَوَاتٌ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الفَرَائِضِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6743

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے محبوب تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں سے اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہرچیز جانتا ہے۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آخری آیت (میراث کی) سورۃ نساء کے آخر کی آیتیں نازل ہوئیں «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة‏» کہ ”آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔“ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛باب قرآن پاک کی آیت جو اوپر ذکر ہوئی؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٤)

بَابُ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الكَلاَلَةِ، إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ، وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ، وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ، يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [النساء: 176] حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ البَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ: {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الكَلاَلَةِ} [النساء: 176] "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6744

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خاوند کو آدھا حصہ ملے گا اور اخیائی بھائی کو چھٹا حصہ (بموجب فرض کے) پھر جو مال بچ رہے گا یعنی ایک ثلث وہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا (کیونکہ دونوں عصبہ ہیں)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مسلمانوں کا ان کی جان سے بھی زیادہ مالک ہوں۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا نگران ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔“ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِلأُمِّ وَالآخَرُ زَوْجٌ؛عورت کے دو چچازاد بھائی ہوں،ایک ان میں سے اس کی اولاد سے اور دوسرا خاوند ہو؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٥)

بَابُ ابْنَيْ عَمٍّ: أَحَدُهُمَا أَخٌ لِلْأُمِّ، وَالآخَرُ زَوْجٌ وَقَالَ عَلِيٌّ: «لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأَخِ مِنَ الأُمِّ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ» حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَالُهُ لِمَوَالِي العَصَبَةِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا أَوْ ضَيَاعًا فَأَنَا وَلِيُّهُ، فَلِأُدْعَى لَهُ» الكَلُّ: العِيَالُ

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6745

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میراث اس کے حقداروں کو پہنچا دو اور جو باقی بچے تو وہ سب سے قریبی مرد کا ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ؛بَابُ ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِلأُمِّ وَالآخَرُ زَوْجٌ؛عورت کے دو چچازاد بھائی ہوں،ایک ان میں سے اس کی اولاد سے اور دوسرا خاوند ہو؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٦)

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا تَرَكَتِ الفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6746

سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «ولكل جعلنا موالي‏» اور «والذين عقدت أيمانكم‏» کے متعلق بتلایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو ذوی الارحام کے علاوہ انصار و مہاجرین بھی ایک دوسرے کی وراثت پاتے تھے۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کرائی تھی، پھر جب آیت «جعلنا موالي‏» نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس نے «والذين عقدت أيمانكم‏»ترجمہ کنز الایمان:اور ہم نے سب کے لیے مال کے مستحق بنا دے ہیں"(النساء آیت نمبر ٣٣)نازل ہوئی تو اس نے حکم کو منسوخ کردیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ ذَوِي الأَرْحَامِ؛ذی رحم رشتے؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٧)

بَابُ ذَوِي الأَرْحَامِ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: حَدَّثَكُمْ إِدْرِيسُ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ} [النساء: 33] (وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ) قَالَ: " كَانَ المُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا المَدِينَةَ يَرِثُ الأَنْصَارِيُّ المُهَاجِرِيَّ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ، لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: {وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ} [النساء: 33] " قَالَ: " نَسَخَتْهَا: (وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ) "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6747

نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیوی پر لعان کیا اور اس کے پیچھے سے انکار کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروادی اور لڑکا عورت کو دلوایا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الْمُلاَعَنَةِ؛لعان کرنے والی عورت کی وراثت کا بیان؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٨)

بَابُ مِيرَاثِ المُلاَعَنَةِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ رَجُلًا لاَعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6748

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ عتبہ اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کر گیا تھا کہ زمعہ کی کنیز کا لڑکا میرا ہے اور اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینا چاہا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ اس پر عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر یہ دونوں یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ!، یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اس نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا لڑکا اور باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد بن زمعہ! یہ تمہارے پاس رہے گا، لڑکا بستر کا حق ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ عتبہ کے ساتھ اس کی شباہت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لی تھی۔ چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو اپنی وفات تک نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً؛بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا؛جلد ٨ص١٥٣؛حدیث نمبر٦٧٤٩)

بَابٌ: الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ: أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامَ الفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي، قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الحَجَرُ» ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: «احْتَجِبِي مِنْهُ» لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6749

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً؛بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الوَلَدُ لِصَاحِبِ الفِرَاشِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6750

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو لڑکا پڑا ہوا ملے اور اس کے ماں باپ نہ معلوم ہوں تو وہ آزاد ہو گا۔ اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لے، ولاء تو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے اور بریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بکری ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَمِيرَاثُ اللَّقِيطِ؛جو آزاد کرے ولا اس کے لیے ہے،گرے پڑے بچے کے متعلق وراثت کا حکم؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥١)

بَابٌ: الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَمِيرَاثُ اللَّقِيطِ وَقَالَ عُمَرُ: «اللَّقِيطُ حُرٌّ» حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِيهَا، فَإِنَّ الوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ» وَأُهْدِيَ لَهَا شَاةٌ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ» قَالَ الحَكَمُ: «وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا» وَقَوْلُ الحَكَمِ مُرْسَلٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «رَأَيْتُهُ عَبْدًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6751

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَمِيرَاثُ اللَّقِيطِ؛جو آزاد کرے ولا اس کے لیے ہے،گرے پڑے بچے کے متعلق وراثت کا حکم؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٢)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6752

ہزیل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مسلمان سائبہ کر کے نہیں چھوڑا کرتے ہاں دور جاہلیت کے لوگ سائبہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ میراث السائبۃ؛سائبہ کی میراث؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٣)

بَابُ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الإِسْلاَمِ لاَ يُسَيِّبُونَ، وَإِنَّ أَهْلَ الجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُسَيِّبُونَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6753

اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدا ہے لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آزاد کر دو کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے یا یہ فرمایا کہ قیمت ادا کردو۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا (کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ میراث السائبۃ؛سائبہ کی میراث؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٤)

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا، وَإِنَّ أَهْلَهَا يَشْتَرِطُونَ وَلاَءَهَا، فَقَالَ: «أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» أَوْ قَالَ: «أَعْطَى الثَّمَنَ» قَالَ: فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا، قَالَ: وَخُيِّرَتْ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَقَالَتْ: لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ قَالَ الأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا " قَوْلُ الأَسْوَدِ مُنْقَطِعٌ. وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُهُ عَبْدًا، أَصَحُّ "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6754

ابراہیم تیمی نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں (کے قصاص) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ (قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِثْمِ مَنْ تَبَرَّأَ مِنْ مَوَالِيهِ؛غلام آقا کی برائی کرے تو گناہ ہے؛جلد ٨ص١٥٤؛حدیث نمبر٦٧٥٥)

بَابُ إِثْمِ مَنْ تَبَرَّأَ مِنْ مَوَالِيهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: فَأَخْرَجَهَا، فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الإِبِلِ، قَالَ: وَفِيهَا: «المَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ القِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ. وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ القِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ. وَذِمَّةُ المُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ القِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6755

عبد اللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِثْمِ مَنْ تَبَرَّأَ مِنْ مَوَالِيهِ؛غلام آقا کی برائی کرے تو گناہ ہے؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٥٦)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الوَلاَءِ وَعَنْ هِبَتِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6756

حسن کے خیال میں اس کے لیے ولا نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولا اس کے لیے ہے جو آزاد کرے تمیم داری سے اس کا مرفوعاً ہونا منقول ہے۔فرمایا کہ ان کی زندگی اور موت میں وہ لوگوں کے ان کی جان سے زیادہ مالک ہیں اور لوگوں نے اس خبر کی صحت میں اختلاف کیا ہے۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کنیز کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو کنیز کے مالکوں نے کہا کہ ہم بیچ سکتے ہیں لیکن ولاء ہمارے ساتھ ہوگی۔ ام المؤمنین نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چیز تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیوں کہ ولاء ہمیشہ اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ؛جس کے ہاتھ پر کوئی مسلمان ہو؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٥٧)

بَابُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ وَكَانَ الحَسَنُ، «لاَ يَرَى لَهُ وِلاَيَةً» وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» وَيُذْكَرُ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، رَفَعَهُ قَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ» وَاخْتَلَفُوا فِي صِحَّةِ هَذَا الخَبَرِ " حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ المُؤْمِنِينَ: أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلاَءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لاَ يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6757

اسود کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہوگی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ؛جس کے ہاتھ پر کوئی مسلمان ہو؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا. فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الوَلاَءَ لِمَنْ أَعْطَى الوَرِقَ» قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا. قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا بِتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6758

نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ لوگ ولاء کی شرط رکھتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے خرید لو کیوں کہ ولاء تو اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَا يَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلاَءِ؛کیا عورت ولا کی وارث ہوگی؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٥٩)

بَابُ مَا يَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الوَلاَءِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ، أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَقَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُمْ يَشْتَرِطُونَ الوَلاَءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6759

اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے لیے ہے جس نے چاندی دی اور نوازا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَا يَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلاَءِ؛کیا عورت ولا کی وارث ہوگی؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٦٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الوَلاَءُ لِمَنْ أَعْطَى الوَرِقَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6760

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے یا جو کچھ آپ نے فرمایا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَابْنُ الأُخْتِ مِنْهُمْ؛قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں شمار ہے اور بھانجا بھی؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٦١)

بَابُ مَوْلَى القَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَابْنُ الأُخْتِ مِنْهُمْ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَوْلَى القَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» أَوْ كَمَا قَالَ

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6761

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہن کا بیٹا اسی قوم سے ہے یا ان ہی میں شامل ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَابْنُ الأُخْتِ مِنْهُمْ؛قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں شمار ہے اور بھانجا بھی؛جلد ٨ص١٥٥؛حدیث نمبر٦٧٦٢)

حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ابْنُ أُخْتِ القَوْمِ مِنْهُمْ - أَوْ: مِنْ أَنْفُسِهِمْ - "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6762

حضرت شریح دشمن کے قبضے میں بھی قیدی کو میراث دلاتے اور فرماتے کہ وہ اس کی زیادہ حاجت رکھتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ قیدی کی وصیت اس کا آزاد کرنا ہے اور اپنے مال میں اس کے تصرف کو جائز سمجھو جب تک اپنے دین سے نہ پھرے کیوں کہ وہ اسی کا مال ہے اس میں جو چاہے کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا تو وہ ہمارے ذمے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مِيرَاثِ الأَسِيرِ؛قیدی کی وراثت کا بیان؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٣)

بَابُ مِيرَاثِ الأَسِيرِ قَالَ وَكَانَ شُرَيْحٌ، يُوَرِّثُ الأَسِيرَ فِي أَيْدِي العَدُوِّ، وَيَقُولُ: «هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ» وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ: «أَجِزْ وَصِيَّةَ الأَسِيرِ، وَعَتَاقَهُ، وَمَا صَنَعَ فِي مَالِهِ، مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ عَنْ دِينِهِ، فَإِنَّمَا هُوَ مَالُهُ يَصْنَعُ فِيهِ مَا يَشَاءُ» حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6763

جو میراث کی تقسیم سے پہلے مسلمان ہوگیا اسے میراث سے حصہ نہیں ملے گا۔ عمر بن عثمان نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کافر کی اور کافر مسلمان کا وارث نہیں۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛ بَابُ لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلاَ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَإِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ فَلاَ مِيرَاثَ لَهُ؛مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کی میراث نہیں پاسکتا؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٤)

بَابٌ: لاَ يَرِثُ المُسْلِمُ الكَافِرَ وَلاَ الكَافِرُ المُسْلِمَ وَإِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ المِيرَاثُ فَلاَ مِيرَاثَ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَرِثُ المُسْلِمُ الكَافِرَ وَلاَ الكَافِرُ المُسْلِمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6764

عیسائی غلام یا مکاتب عیسائی کی وراثت کا بیان اور جو اپنے بیٹے کی نفی کر دے اس کے گناہ کا بیان۔ اس باب میں حدیث نہیں ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا لڑکا ہے آپ اس کی مشابہت اس میں دیکھئیے اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا رسول اللہ! میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی صورت دیکھی تو اس کی عتبہ کے ساتھ صاف مشابہت واضح تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد! لڑکا بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں اور اے سودہ بنت زمعہ! (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) اس لڑکے سے پردہ کیا کر چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛ بَابُ مَنِ ادَّعَى أَخًا أَوِ ابْنَ أَخٍ؛جو بھائی یا بھتیجہ ہونے کا دعویٰ کرے؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٥)

بَابُ مِيرَاثِ العَبْدِ النَّصْرَانِيِّ، وَالمُكَاتَبِ النَّصْرَانِيِّ، وَإِثْمِ مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ بَابُ مَنِ ادَّعَى أَخًا أَوِ ابْنَ أَخٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلاَمٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ» قَالَتْ: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6765

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کے لیے دعویٰ کرے اور اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔ پھر میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں کانوں کے ساتھ سنا اور دل میں یاد رکھا۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ؛جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا، اس کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٦٦٦ و حدیث نمبر ٦٧٦٧)

بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ» فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بَكْرَةَ، فَقَالَ: وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6766/6767

عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو،جو اپنے باپ سے منہ پھیر کر دوسرے کا باپ بناے تو یہ کفر ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ؛جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا، اس کے گناہ کا بیان؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٨)

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الفَرَجِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6768

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، پھر بھیڑیا آیا اور ایک بچے کو اٹھا کر لے گیا اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، دوسری عورت نے کہا کہ وہ تو تیرا بچہ لے گیا ہے۔ وہ دونوں عورتیں اپنا مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ وہ دونوں نکل کر سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے پاس گئیں اور انہیں واقعہ کی اطلاع دی۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چھری لاؤ میں لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو ایک ایک دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے آپ پر اللہ رحم کرے،ایسا نہ کیجئے یہ اسی کا بیٹا ہے۔چناچہ انہوں نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں نے «سكين» چھری کا لفظ سب سے پہلی مرتبہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے) اس دن سنا تھا اور ہم اس کے لیے (اپنے قبیلہ میں)مدیۃ کہا کرتے تھے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ ابْنًا؛کسی عورت کا دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ میرا ہے؛جلد ٨ص١٥٦؛حدیث نمبر٦٧٦٩)

بَابُ إِذَا ادَّعَتِ المَرْأَةُ ابْنًا حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا، جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ وَقَالَتِ الأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لاَ تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا المُدْيَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6769

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مسرور تشریف لائے اور چہرہ انور جگمگا رہا تھا فرمایا کہ تم نے نہیں دیکھا کہ قیافہ شناس نے ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کے قدموں کو دیکھ کر کہا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے ہے۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْقَائِفِ؛قیافہ شناش کا بیان؛جلد ٨ص١٥٧؛حدیث نمبر٦٧٧٠)

بَابُ القَائِفِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا، تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6770

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت مسرور میرے پاس تشریف فرما ہوئے۔پھر فرمایا کہ اے عائشہ!تم نہ دیکھا کہ قیافہ شناس مدلجی آیا۔پھر اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا جبکہ ان پر چادر پڑی ہوئی تھی۔جس سے ان کے سر ڈھکے ہوئے اور پاؤں کھلے ہوئے تھے پھر اس نے کہا کہ ان میں سے ایک کے پاؤں دوسرے سے ہیں۔ (بخاری شریف؛کتاب الفرائض؛بَابُ الْقَائِفِ؛قیافہ شناش کا بیان؛جلد ٨ص١٥٧؛حدیث نمبر٦٧٧١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا المُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ، قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ "

Bukhari Shareef, Kitabul Faraiz, Hadees No. 6771

Bukhari Shareef : Kitabul Faraiz

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الفَرَائِضِ

|

•