asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Ikrah

From 4941 to 6952

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے۔(النحل ١٠٦) اور فرمایا:مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو۔(آل عمران ٢٨)اور یہ تقیہ ہے۔ اور فرمایا:وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں ہم زمین میں کمزور تھے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔مگر وہ جو دبا لئے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے نہ راستہ جانیں۔ تو قریب ہے کہ اللہ ایسوں کو معاف فرمائے اور اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے۔(نساء ٩٧۔٩٩) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کمزور لوگوں کو اللہ کے احکام نہ بجا لانے سے معذور رکھا اور جس کے ساتھ زبردستی کی جائے وہ بھی کمزور ہی ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس کام سے منع کیا ہے وہ اس کے کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اور امام حسن بصری نے کہا کہ تقیہ کا جواز قیامت تک کے لیے ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جس کے ساتھ چوروں نے زبردستی کی ہو (کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے) اور پھر اس نے طلاق دے دی تو وہ طلاق واقع نہیں ہو گی یہی قول ابن زبیر، شعبی اور حسن کا بھی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛مجبور کئے جانے کا بیان؛جلد٩ص١٩) ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں یوں دعا کرتے تھے۔اے اللہ!عیاش بن ابی ربیعہ، سلمہ بن ہشام اور ولید بن الولید (رضی اللہ عنہم) کو نجات دے۔ اے اللہ بےبس مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی گرفت سخت فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آئی تھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛باب اوپر جو قرآن کریم کی آیات ذکر ہوئی؛جلد٩ص١٩،حدیث نمبر ٥٩٤٠)

كِتَابُ الإِكْرَاهِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النحل: 106] وَقَالَ: {إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً} [آل عمران: 28]: «وَهِيَ تَقِيَّةٌ». وَقَالَ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ المَلاَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ} [النساء: 97]- إِلَى قَوْلِهِ - {عَفُوًّا غَفُورًا} [النساء: 43] وَقَالَ: {وَالمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ القَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا} [النساء: 75]: «فَعَذَرَ اللَّهُ المُسْتَضْعَفِينَ الَّذِينَ لاَ يَمْتَنِعُونَ مِنْ تَرْكِ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ، وَالمُكْرَهُ لاَ يَكُونُ إِلَّا مُسْتَضْعَفًا، غَيْرَ مُمْتَنِعٍ مِنْ فِعْلِ مَا أُمِرَ بِهِ» وَقَالَ الحَسَنُ: «التَّقِيَّةُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فِيمَنْ يُكْرِهُهُ اللُّصُوصُ فَيُطَلِّقُ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ» وَبِهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَالشَّعْبِيُّ، وَالحَسَنُ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ» حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أُسَامَةَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ: «اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَالوَلِيدَ بْنَ الوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ المُسْتَضْعَفِينَ مِنَ المُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَابْعَثْ عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6940

ابوقلابہ نے بیان کیا، اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین خصوصیتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں گی وہ ایمان کی حلاوتیں پا لے گا اول یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے سب سے زیادہ عزیز ہوں۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی شخص سے محبت صرف اللہ ہی کے لیے کرے تیسرے یہ کہ اسے کفر کی طرف لوٹ کر جانا اتنا ناگوار ہو جیسے آگ میں پھینک دیا جانا۔" (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛ بَابُ مَنِ اخْتَارَ الضَّرْبَ وَالْقَتْلَ وَالْهَوَانَ عَلَى الْكُفْرِ؛جو کفر پر مار کھانے،قتل ہوجانے،ذلت سہنے کو اختیار کرے؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤١)

بَابُ مَنِ اخْتَارَ الضَّرْبَ وَالقَتْلَ وَالهَوَانَ عَلَى الكُفْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 4941

قیس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے مسلمان ہوجانے کے سبب حضرت عمر مجھ کو باندھ دیا کرتے تھے اور تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کیا اگر اس کے سبب کوہ احد پھٹ جائے تو کچھ نہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛ بَابُ مَنِ اخْتَارَ الضَّرْبَ وَالْقَتْلَ وَالْهَوَانَ عَلَى الْكُفْرِ؛جو کفر پر مار کھانے،قتل ہوجانے،ذلت سہنے کو اختیار کرے؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤٢)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، سَمِعْتُ قَيْسًا، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّ عُمَرَ مُوثِقِي عَلَى الإِسْلاَمِ، وَلَوْ انْقَضَّ أُحُدٌ مِمَّا فَعَلْتُمْ بِعُثْمَانَ، كَانَ مَحْقُوقًا أَنْ يَنْقَضَّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6942

قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی انہیں اپنے دین سے نہیں روک سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم!یہ دین مکمل ہوکر رہے گا اور ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہو گا اور نہ بھیڑیوں کا خوف اپنی بکریوں کے متعلق لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛ بَابُ مَنِ اخْتَارَ الضَّرْبَ وَالْقَتْلَ وَالْهَوَانَ عَلَى الْكُفْرِ؛جو کفر پر مار کھانے،قتل ہوجانے،ذلت سہنے کو اختیار کرے؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤٣)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الكَعْبَةِ فَقُلْنَا: أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلاَ تَدْعُو لَنَا؟ فَقَالَ: «قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ، يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيهَا، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الحَدِيدِ، مَا دُونَ لَحْمِهِ وَعَظْمِهِ، فَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الأَمْرُ، حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لاَ يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6943

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب ہم بیت المدراس کے پاس پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اے قوم یہود! اسلام لاؤ تم محفوظ ہو جاؤ گے۔ یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بھی یہی مقصد ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اور یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم آپ نے پہنچا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی فرمایا۔ اور پھر فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں جلا وطن کرتا ہوں۔ پس تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہئے کہ جلا وطن ہونے سے پہلے اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابٌ في بَيْعِ الْمُكْرَهِ وَنَحْوِهِ فِي الْحَقِّ وَغَيْرِهِ؛مجبور کا اپنا حق وغیرہ بیچنا؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤٤)

بَابُ فِي بَيْعِ المُكْرَهِ وَنَحْوِهِ، فِي الحَقِّ وَغَيْرِهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي المَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ» فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ المِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ: «يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا» فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا القَاسِمِ، فَقَالَ: «ذَلِكَ أُرِيدُ» ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا القَاسِمِ، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: «اعْلَمُوا أَنَّ الأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6944

اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں تاکہ تم دُنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے۔(نور ٣٣) یزید بن حارثہ انصاری کے دو صاحبزادوں عبدالرحمٰن اور مجمع نے اور ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ان کی ایک شادی اس سے پہلے ہو چکی تھی (اور اب بیوہ تھیں) اس نکاح کو انہوں نے ناپسند کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر دی) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ لاَ يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُكْرَهِ؛مجبور کا نکاح جائز نہیں؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤٥)

بَابُ لاَ يَجُوزُ نِكَاحُ المُكْرَهِ {وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى البِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: 33] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ القَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ، ابْنَيْ يَزِيدَ- بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ: أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ «فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6945

ابی ملیکہ نے ابوعمرو ذکوان سے روایت کی ہے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت لی جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔ میں نے عرض کیا لیکن کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی تو وہ شرم کی وجہ سے چپ ہو جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ لاَ يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُكْرَهِ؛مجبور کا نکاح جائز نہیں؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو هُوَ ذَكْوَانُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: فَإِنَّ البِكْرَ تُسْتَأْمَرُ فَتَسْتَحْيِي فَتَسْكُتُ؟ قَالَ: «سُكَاتُهَا إِذْنُهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6946

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خریدار اگر اس میں سے نذر مانے تو ان کے نزدیک جائز ہے اور اسی طرح اگر مدبر کیا جاے تب بھی۔ عمرو بن دینار نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک انصاری صحابی نے کسی غلام کو مدبر بنایا اور ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ملی تو دریافت فرمایا۔ اسے مجھ سے کون خریدے گا چنانچہ نعیم بن النحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ بیان کیا کہ پھر میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے ہی سال مر گیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛ بَابُ إِذَا أُكْرِهَ حَتَّى وَهَبَ عَبْدًا أَوْ بَاعَهُ لَمْ يَجُزْ؛مجبور کا کسی کو غلام دینا یا خرید و فروخت کرنا جائز نہیں ہے؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٤٧)

بَابُ إِذَا أُكْرِهَ حَتَّى وَهَبَ عَبْدًا أَوْ بَاعَهُ لَمْ يَجُزْ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: «فَإِنْ نَذَرَ المُشْتَرِي فِيهِ نَذْرًا، فَهُوَ جَائِزٌ بِزَعْمِهِ، وَكَذَلِكَ إِنْ دَبَّرَهُ» حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي» فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ قَالَ: فَسَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: عَبْدًا قِبْطِيًّا، مَاتَ عَامَ أَوَّلَ

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6947

كره وكره واحد. ‌‌‌‏ «كرها» اور «كرها» کے معنی ایک ہی ہیں۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ شیبانی نے کہا کہ مجھ سے عطاء ابوالحسن السوائی نے بیان کیا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ آیت ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو!تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی۔(نساء ١٩) کے متعلق فرمایا کہ جب کوئی شخص (زمانہ جاہلیت میں) مر جاتا تو اس کے وارث اس کی عورت کے حقدار بنتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا اور چاہتا تو شادی نہ کرتا اس طرح مرنے والے کے وارث اس عورت پر عورت کے وارثوں سے زیادہ حق رکھتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بیوہ عورت عدت گزارنے کے بعد مختار ہے وہ جس سے چاہے شادی کرے اس پر زبردستی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے) (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ مِنَ الإِكْرَاهِ:؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٤٨)

بَابٌ مِنَ الإِكْرَاهِ كُرْهًا وَكَرْهًا وَاحِدٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ فَيْرُوزَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الشَّيْبَانِيُّ، وَحَدَّثَنِي عَطَاءٌ أَبُو الحَسَنِ السُّوَائِيُّ، وَلاَ أَظُنُّهُ إِلَّا ذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا} [النساء: 19] الآيَةَ. قَالَ: " كَانُوا إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ: إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ تَزَوَّجَهَا، وَإِنْ شَاءُوا زَوَّجَهَا، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجْهَا، فَهُمْ أَحَقُّ بِهَا مِنْ أَهْلِهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6948

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری کی حالت پر ہی رہیں بخشنے والا مہربان ہے۔(نور ٣٣) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، انہیں صفیہ بنت ابی عبید نے خبر دی کہ حکومت کے غلاموں میں سے ایک نے حصہ خمس کی ایک باندی سے صحبت کر لی اور اس کے ساتھ زبردستی کر کے اس کی بکارت توڑ دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غلام پر حد جاری کرائی اور اسے شہر بدر بھی کر دیا لیکن باندی پر حد نہیں جاری کی۔ کیونکہ غلام نے اس کے ساتھ زبردستی کی تھی۔ زہری نے ایسی کنواری باندی کے متعلق کہا جس کے ساتھ کسی آزاد نے ہمبستری کر لی ہو کہ حاکم کنواری باندی میں اس کی وجہ سے اس شخص سے اتنے دام بھر لے جتنے بکارت جاتے رہنے کی وجہ سے اس کے دام کم ہو گئے ہیں اور اس کو کوڑے بھی لگائے اگر آزاد مرد ثیبہ لونڈی سے زنا کرے تب خریدے۔ ائمہ کرام نے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ اس کو کچھ مالی تاوان دینا پڑے گا بلکہ صرف حد لگائی جائے گی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ إِذَا اسْتُكْرِهَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الزِّنَا، فَلاَ حَدَّ عَلَيْهَا؛جب عورت سے زبردستی زنا کیا گیا ہو تو اس پر حد نہیں ہے؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٤٩)

بَابُ إِذَا اسْتُكْرِهَتِ المَرْأَةُ عَلَى الزِّنَا فَلاَ حَدَّ عَلَيْهَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: 33] - وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ: أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ، أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الإِمَارَةِ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ مِنَ الخُمُسِ، فَاسْتَكْرَهَهَا حَتَّى اقْتَضَّهَا، فَجَلَدَهُ عُمَرُ، الحَدَّ وَنَفَاهُ، وَلَمْ يَجْلِدِ الوَلِيدَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ اسْتَكْرَهَهَا» قَالَ الزُّهْرِيُّ: " فِي الأَمَةِ البِكْرِ يَفْتَرِعُهَا الحُرُّ: يُقِيمُ ذَلِكَ الحَكَمُ مِنَ الأَمَةِ العَذْرَاءِ بِقَدْرِ قِيمَتِهَا وَيُجْلَدُ، وَلَيْسَ فِي الأَمَةِ الثَّيِّبِ فِي قَضَاءِ الأَئِمَّةِ غُرْمٌ، وَلَكِنْ عَلَيْهِ الحَدُّ "

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6949

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالموں میں سے ایک ظالم رہتا تھا اس ظالم نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سارہ علیہا السلام کو اس کے پاس بھیجیں آپ نے سارہ کو بھیج دیا وہ ظالم ان کے پاس آنے لگا تو یہ اٹھیں،وضو کیا،نماز پڑھی اور دعا کی۔اے اللہ!اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں تو کافر کو مجھ پر مسلط نہ کرنا۔چناچہ منہ سے ایسی آواز آنے لگی جیسے کوئی اسے ذبح کر رہا ہے اور ایڑیاں رگڑنے لگا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ إِذَا اسْتُكْرِهَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الزِّنَا، فَلاَ حَدَّ عَلَيْهَا؛جب عورت سے زبردستی زنا کیا گیا ہو تو اس پر حد نہیں ہے؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ بِسَارَةَ، دَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ المُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الجَبَابِرَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ: أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا، فَأَرْسَلَ بِهَا، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، فَلاَ تُسَلِّطْ عَلَيَّ الكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6950

اسی طرح ہر وہ شخص جس پر زبردستی کی جائے اور وہ ڈرتا ہو تو ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس کی مدد کرے ظالم کا ظلم اس پر سے دفع کرے اس کے بچانے کے لیے جنگ کرے اس کو دشمن کے ہاتھ میں نہ چھوڑ دے پھر اگر اس نے مظلوم کی حمایت میں جنگ کی اور اس کے بچانے کی غرض سے ظالم کو مار ہی ڈالا تو اس پر قصاص لازم نہ ہو گا (نہ دیت لازم ہو گی) اور اگر کسی شخص سے یوں کہا جائے تو شراب پی لے یا مردار کھا لے یا اپنا غلام بیچ ڈال یا اتنے قرض کا اقرار کرے یا فلاں چیز ہبہ کر دے یا کوئی عقد توڑ ڈال نہیں تو ہم تیرے باپ یا مسلمان بھائی کو مار ڈالیں گے تو اس کو یہ کام کرنے درست ہو جائیں گے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس سے یوں کہا جائے تو شراب پی لے یا مردار کھا لے نہیں تو ہم تیرے بیٹے یا باپ یا محرم رشتہ دار، بھائی، چچا، ماموں وغیرہ کو مار ڈالیں گے تو اس کو یہ کام کرنے درست نہ ہوں گے نہ وہ مضطر کہلائے گا پھر ان بعض لوگوں نے اپنے قول کا دوسرے مسئلہ میں خلاف کیا۔ کہتے ہیں کہ کسی شخص سے یوں کہا جائے ہم تیرے باپ یا بیٹے کو مار ڈالتے ہیں نہیں تو تو اپنا یہ غلام بیچ ڈال یا اتنے قرض کا اقرار کر لے یا فلاں چیز ہبہ کر دے تو قیاس یہ ہے کہ یہ سب معاملے صحیح اور نافذ ہوں گے مگر ہم کہتے ہیں کہ ایسی حالت میں بیع اور ہبہ اور ہر ایک عقد اقرار وغیرہ باطل ہو گا۔ ان حضرات نے ذی رحم محروم اور دوسروں میں کتاب و سنت کی سند کے بغیر تفریق کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی سارہ کو فرمایا یہ میری بہن ہے اللہ کی راہ میں دین کی رو سے اور ابراہیم نخعی نے کہا اگر قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت معتبر ہو گی اور اگر قسم لینے والا مظلوم ہو تو اس کی نیت معتبر ہوگی۔ سالم کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے (کسی ظالم کے) سپرد کرے اور جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہو گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور حاجت پوری کرے گا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ يَمِينِ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ إِنَّهُ أَخُوهُ، إِذَا خَافَ عَلَيْهِ الْقَتْلَ أَوْ نَحْوَهُ؛کسی آدمی کا اپنے ساتھی کے لئے قسم کھانا کہ یہ میرا بھائی ہے جبکہ اس کے قتل وغیرہ کا خوف ہو؛جلد٩ص٢٢،حدیث نمبر ٥٩٥١)

يَمِينِ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ: إِنَّهُ أَخُوهُ إِذَا خَافَ عَلَيْهِ القَتْلَ أَوْ نَحْوَهُ " وَكَذَلِكَ كُلُّ مُكْرَهٍ يَخَافُ، فَإِنَّهُ يَذُبُّ عَنْهُ المَظَالِمَ، وَيُقَاتِلُ دُونَهُ وَلاَ يَخْذُلُهُ، فَإِنْ قَاتَلَ دُونَ المَظْلُومِ فَلاَ قَوَدَ عَلَيْهِ وَلاَ قِصَاصَ. وَإِنْ قِيلَ لَهُ: لَتَشْرَبَنَّ الخَمْرَ، أَوْ لَتَأْكُلَنَّ المَيْتَةَ، أَوْ لَتَبِيعَنَّ عَبْدَكَ، أَوْ تُقِرُّ بِدَيْنٍ، أَوْ تَهَبُ هِبَةً، وَتَحُلُّ عُقْدَةً، أَوْ لَنَقْتُلَنَّ أَبَاكَ أَوْ أَخَاكَ فِي الإِسْلاَمِ، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، وَسِعَهُ ذَلِكَ " لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ» وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَوْ قِيلَ لَهُ لَتَشْرَبَنَّ الخَمْرَ، أَوْ لَتَأْكُلَنَّ المَيْتَةَ، أَوْ لَنَقْتُلَنَّ ابْنَكَ أَوْ أَبَاكَ، أَوْ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ، لَمْ يَسَعْهُ، لِأَنَّ هَذَا لَيْسَ بِمُضْطَرٍّ. ثُمَّ نَاقَضَ فَقَالَ: إِنْ قِيلَ لَهُ: لَنَقْتُلَنَّ أَبَاكَ أَوِ ابْنَكَ، أَوْ لَتَبِيعَنَّ هَذَا العَبْدَ، أَوْ تُقِرُّ بِدَيْنٍ أَوْ تَهَبُ، يَلْزَمُهُ فِي القِيَاسِ، وَلَكِنَّا نَسْتَحْسِنُ وَنَقُولُ: البَيْعُ وَالهِبَةُ، وَكُلُّ عُقْدَةٍ فِي ذَلِكَ بَاطِلٌ. فَرَّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي رَحِمٍ مُحَرَّمٍ، وَغَيْرِهِ، بِغَيْرِ كِتَابٍ وَلاَ سُنَّةٍ " وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِامْرَأَتِهِ: هَذِهِ أُخْتِي، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ " وَقَالَ النَّخَعِيُّ: «إِذَا كَانَ المُسْتَحْلِفُ ظَالِمًا فَنِيَّةُ الحَالِفِ، وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَنِيَّةُ المُسْتَحْلِفِ» حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمًا، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6951

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!جب وہ مظلوم ہوتا ہے تو اس کی مدد کرتا ہوں لیکن جو وہ ظالم ہوتا ہے تو اس کی مدد کس طرح کروں آپ نے فرمایا کہ اسے روکو اور ظلم کرنے سے منع کرو کہ اس کی یہی مدد ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ يَمِينِ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ إِنَّهُ أَخُوهُ، إِذَا خَافَ عَلَيْهِ الْقَتْلَ أَوْ نَحْوَهُ؛جلد٩ص٢٢،حدیث نمبر ٥٩٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ مَظْلُومًا، أَفَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ أَنْصُرُهُ؟ قَالَ: «تَحْجُزُهُ، أَوْ تَمْنَعُهُ، مِنَ الظُّلْمِ فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Ikrah, Hadees No. 6952

Bukhari Shareef : Kitabul Ikrah

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الإِكْرَاهِ

|

•