
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے۔(النحل ١٠٦) اور فرمایا:مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو۔(آل عمران ٢٨)اور یہ تقیہ ہے۔ اور فرمایا:وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں ہم زمین میں کمزور تھے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔مگر وہ جو دبا لئے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے نہ راستہ جانیں۔ تو قریب ہے کہ اللہ ایسوں کو معاف فرمائے اور اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے۔(نساء ٩٧۔٩٩) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کمزور لوگوں کو اللہ کے احکام نہ بجا لانے سے معذور رکھا اور جس کے ساتھ زبردستی کی جائے وہ بھی کمزور ہی ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس کام سے منع کیا ہے وہ اس کے کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اور امام حسن بصری نے کہا کہ تقیہ کا جواز قیامت تک کے لیے ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جس کے ساتھ چوروں نے زبردستی کی ہو (کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے) اور پھر اس نے طلاق دے دی تو وہ طلاق واقع نہیں ہو گی یہی قول ابن زبیر، شعبی اور حسن کا بھی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛مجبور کئے جانے کا بیان؛جلد٩ص١٩) ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں یوں دعا کرتے تھے۔اے اللہ!عیاش بن ابی ربیعہ، سلمہ بن ہشام اور ولید بن الولید (رضی اللہ عنہم) کو نجات دے۔ اے اللہ بےبس مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی گرفت سخت فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں آئی تھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛باب اوپر جو قرآن کریم کی آیات ذکر ہوئی؛جلد٩ص١٩،حدیث نمبر ٥٩٤٠)
ابوقلابہ نے بیان کیا، اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین خصوصیتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں گی وہ ایمان کی حلاوتیں پا لے گا اول یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے سب سے زیادہ عزیز ہوں۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی شخص سے محبت صرف اللہ ہی کے لیے کرے تیسرے یہ کہ اسے کفر کی طرف لوٹ کر جانا اتنا ناگوار ہو جیسے آگ میں پھینک دیا جانا۔" (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛ بَابُ مَنِ اخْتَارَ الضَّرْبَ وَالْقَتْلَ وَالْهَوَانَ عَلَى الْكُفْرِ؛جو کفر پر مار کھانے،قتل ہوجانے،ذلت سہنے کو اختیار کرے؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤١)
قیس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے مسلمان ہوجانے کے سبب حضرت عمر مجھ کو باندھ دیا کرتے تھے اور تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کیا اگر اس کے سبب کوہ احد پھٹ جائے تو کچھ نہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛ بَابُ مَنِ اخْتَارَ الضَّرْبَ وَالْقَتْلَ وَالْهَوَانَ عَلَى الْكُفْرِ؛جو کفر پر مار کھانے،قتل ہوجانے،ذلت سہنے کو اختیار کرے؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤٢)
قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی انہیں اپنے دین سے نہیں روک سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم!یہ دین مکمل ہوکر رہے گا اور ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہو گا اور نہ بھیڑیوں کا خوف اپنی بکریوں کے متعلق لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛ بَابُ مَنِ اخْتَارَ الضَّرْبَ وَالْقَتْلَ وَالْهَوَانَ عَلَى الْكُفْرِ؛جو کفر پر مار کھانے،قتل ہوجانے،ذلت سہنے کو اختیار کرے؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب ہم بیت المدراس کے پاس پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی اے قوم یہود! اسلام لاؤ تم محفوظ ہو جاؤ گے۔ یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم! آپ نے پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بھی یہی مقصد ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا اور یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم آپ نے پہنچا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی فرمایا۔ اور پھر فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں جلا وطن کرتا ہوں۔ پس تم میں سے جس کے پاس مال ہو اسے چاہئے کہ جلا وطن ہونے سے پہلے اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابٌ في بَيْعِ الْمُكْرَهِ وَنَحْوِهِ فِي الْحَقِّ وَغَيْرِهِ؛مجبور کا اپنا حق وغیرہ بیچنا؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤٤)
اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں تاکہ تم دُنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے۔(نور ٣٣) یزید بن حارثہ انصاری کے دو صاحبزادوں عبدالرحمٰن اور مجمع نے اور ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ان کی ایک شادی اس سے پہلے ہو چکی تھی (اور اب بیوہ تھیں) اس نکاح کو انہوں نے ناپسند کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر دی) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ لاَ يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُكْرَهِ؛مجبور کا نکاح جائز نہیں؛جلد٩ص٢٠،حدیث نمبر ٥٩٤٥)
ابی ملیکہ نے ابوعمرو ذکوان سے روایت کی ہے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت لی جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔ میں نے عرض کیا لیکن کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی تو وہ شرم کی وجہ سے چپ ہو جائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ لاَ يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُكْرَهِ؛مجبور کا نکاح جائز نہیں؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٤٦)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خریدار اگر اس میں سے نذر مانے تو ان کے نزدیک جائز ہے اور اسی طرح اگر مدبر کیا جاے تب بھی۔ عمرو بن دینار نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک انصاری صحابی نے کسی غلام کو مدبر بنایا اور ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ملی تو دریافت فرمایا۔ اسے مجھ سے کون خریدے گا چنانچہ نعیم بن النحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ بیان کیا کہ پھر میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے ہی سال مر گیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛ بَابُ إِذَا أُكْرِهَ حَتَّى وَهَبَ عَبْدًا أَوْ بَاعَهُ لَمْ يَجُزْ؛مجبور کا کسی کو غلام دینا یا خرید و فروخت کرنا جائز نہیں ہے؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٤٧)
كره وكره واحد. «كرها» اور «كرها» کے معنی ایک ہی ہیں۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ شیبانی نے کہا کہ مجھ سے عطاء ابوالحسن السوائی نے بیان کیا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ آیت ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو!تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی۔(نساء ١٩) کے متعلق فرمایا کہ جب کوئی شخص (زمانہ جاہلیت میں) مر جاتا تو اس کے وارث اس کی عورت کے حقدار بنتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا اور چاہتا تو شادی نہ کرتا اس طرح مرنے والے کے وارث اس عورت پر عورت کے وارثوں سے زیادہ حق رکھتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بیوہ عورت عدت گزارنے کے بعد مختار ہے وہ جس سے چاہے شادی کرے اس پر زبردستی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے) (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ مِنَ الإِكْرَاهِ:؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٤٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری کی حالت پر ہی رہیں بخشنے والا مہربان ہے۔(نور ٣٣) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، انہیں صفیہ بنت ابی عبید نے خبر دی کہ حکومت کے غلاموں میں سے ایک نے حصہ خمس کی ایک باندی سے صحبت کر لی اور اس کے ساتھ زبردستی کر کے اس کی بکارت توڑ دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غلام پر حد جاری کرائی اور اسے شہر بدر بھی کر دیا لیکن باندی پر حد نہیں جاری کی۔ کیونکہ غلام نے اس کے ساتھ زبردستی کی تھی۔ زہری نے ایسی کنواری باندی کے متعلق کہا جس کے ساتھ کسی آزاد نے ہمبستری کر لی ہو کہ حاکم کنواری باندی میں اس کی وجہ سے اس شخص سے اتنے دام بھر لے جتنے بکارت جاتے رہنے کی وجہ سے اس کے دام کم ہو گئے ہیں اور اس کو کوڑے بھی لگائے اگر آزاد مرد ثیبہ لونڈی سے زنا کرے تب خریدے۔ ائمہ کرام نے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ اس کو کچھ مالی تاوان دینا پڑے گا بلکہ صرف حد لگائی جائے گی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ إِذَا اسْتُكْرِهَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الزِّنَا، فَلاَ حَدَّ عَلَيْهَا؛جب عورت سے زبردستی زنا کیا گیا ہو تو اس پر حد نہیں ہے؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالموں میں سے ایک ظالم رہتا تھا اس ظالم نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سارہ علیہا السلام کو اس کے پاس بھیجیں آپ نے سارہ کو بھیج دیا وہ ظالم ان کے پاس آنے لگا تو یہ اٹھیں،وضو کیا،نماز پڑھی اور دعا کی۔اے اللہ!اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں تو کافر کو مجھ پر مسلط نہ کرنا۔چناچہ منہ سے ایسی آواز آنے لگی جیسے کوئی اسے ذبح کر رہا ہے اور ایڑیاں رگڑنے لگا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ إِذَا اسْتُكْرِهَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الزِّنَا، فَلاَ حَدَّ عَلَيْهَا؛جب عورت سے زبردستی زنا کیا گیا ہو تو اس پر حد نہیں ہے؛جلد٩ص٢١،حدیث نمبر ٥٩٥٠)
اسی طرح ہر وہ شخص جس پر زبردستی کی جائے اور وہ ڈرتا ہو تو ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس کی مدد کرے ظالم کا ظلم اس پر سے دفع کرے اس کے بچانے کے لیے جنگ کرے اس کو دشمن کے ہاتھ میں نہ چھوڑ دے پھر اگر اس نے مظلوم کی حمایت میں جنگ کی اور اس کے بچانے کی غرض سے ظالم کو مار ہی ڈالا تو اس پر قصاص لازم نہ ہو گا (نہ دیت لازم ہو گی) اور اگر کسی شخص سے یوں کہا جائے تو شراب پی لے یا مردار کھا لے یا اپنا غلام بیچ ڈال یا اتنے قرض کا اقرار کرے یا فلاں چیز ہبہ کر دے یا کوئی عقد توڑ ڈال نہیں تو ہم تیرے باپ یا مسلمان بھائی کو مار ڈالیں گے تو اس کو یہ کام کرنے درست ہو جائیں گے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس سے یوں کہا جائے تو شراب پی لے یا مردار کھا لے نہیں تو ہم تیرے بیٹے یا باپ یا محرم رشتہ دار، بھائی، چچا، ماموں وغیرہ کو مار ڈالیں گے تو اس کو یہ کام کرنے درست نہ ہوں گے نہ وہ مضطر کہلائے گا پھر ان بعض لوگوں نے اپنے قول کا دوسرے مسئلہ میں خلاف کیا۔ کہتے ہیں کہ کسی شخص سے یوں کہا جائے ہم تیرے باپ یا بیٹے کو مار ڈالتے ہیں نہیں تو تو اپنا یہ غلام بیچ ڈال یا اتنے قرض کا اقرار کر لے یا فلاں چیز ہبہ کر دے تو قیاس یہ ہے کہ یہ سب معاملے صحیح اور نافذ ہوں گے مگر ہم کہتے ہیں کہ ایسی حالت میں بیع اور ہبہ اور ہر ایک عقد اقرار وغیرہ باطل ہو گا۔ ان حضرات نے ذی رحم محروم اور دوسروں میں کتاب و سنت کی سند کے بغیر تفریق کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی سارہ کو فرمایا یہ میری بہن ہے اللہ کی راہ میں دین کی رو سے اور ابراہیم نخعی نے کہا اگر قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت معتبر ہو گی اور اگر قسم لینے والا مظلوم ہو تو اس کی نیت معتبر ہوگی۔ سالم کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے (کسی ظالم کے) سپرد کرے اور جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہو گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور حاجت پوری کرے گا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ يَمِينِ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ إِنَّهُ أَخُوهُ، إِذَا خَافَ عَلَيْهِ الْقَتْلَ أَوْ نَحْوَهُ؛کسی آدمی کا اپنے ساتھی کے لئے قسم کھانا کہ یہ میرا بھائی ہے جبکہ اس کے قتل وغیرہ کا خوف ہو؛جلد٩ص٢٢،حدیث نمبر ٥٩٥١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!جب وہ مظلوم ہوتا ہے تو اس کی مدد کرتا ہوں لیکن جو وہ ظالم ہوتا ہے تو اس کی مدد کس طرح کروں آپ نے فرمایا کہ اسے روکو اور ظلم کرنے سے منع کرو کہ اس کی یہی مدد ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْإِكْرَاهِ؛بَابُ يَمِينِ الرَّجُلِ لِصَاحِبِهِ إِنَّهُ أَخُوهُ، إِذَا خَافَ عَلَيْهِ الْقَتْلَ أَوْ نَحْوَهُ؛جلد٩ص٢٢،حدیث نمبر ٥٩٥٢)
Bukhari Shareef : Kitabul Ikrah
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الإِكْرَاهِ
|
•