
علقمہ بن وقاص لیثی نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے خطبہ میں سنا انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اے لوگو! اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو اسے ہجرت (کا ثواب ملے گا) اور جس کی ہجرت کا مقصد دنیا ہوگی کہ جسے وہ حاصل کر لے یا کوئی عورت ہو گی جس سے وہ شادی کر لے تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛حیلوں کا بیان؛بَابٌ في تَرْكِ الْحِيَلِ وَأَنَّ لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فِي الأَيْمَانِ وَغَيْرِهَا؛حیلے کو چھوڑنا اور ہر کسی کے لیے وہی ہے جس کی قسم وغیرہ میں اس نے نیت کی؛جلد٩ص٢٢،حدیث نمبر ٥٩٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کسی کا وضو ٹوٹ جائے اس کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا،حتیٰ کہ وضو کرلے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛حیلوں کا بیان؛بَابٌ فی الصلاۃ؛جلد٩ص٢٢،حدیث نمبر ٥٩٥٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے اتنی زکوٰۃ فرض کی جو مقدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی تھی۔اس کے ساتھ یہ بھی لکھ بھیجا کہ زکاۃ کے خوف سے جمع شدہ اشیاء کو علیحدہ اشیاء کو اکٹھا نہ کیا جائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛حیلوں کا بیان؛بَابٌ في الزَّكَاةِ وَأَنْ لاَ يُفَرَّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلاَ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ؛زکاۃ میں حیلہ،زکوٰۃ ادا کرنے کے خوف سے جمع شدہ اشیاء کو علیحدہ اور علیحدہ اشیاء کو جمع نہ کرے؛جلد٩ص٢٢،حدیث نمبر ٥٩٥٥)
مالک بن ابو عامر نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ اس کے سر کے بال پراگندہ تھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں۔ سوا ان نمازوں کے جو تم نفلی پڑھو۔ اس نے کہا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے روزے فرض کئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے روزے سوا ان کے جو تم نفلی رکھو۔ اس نے پوچھا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کتنی فرض کی ہے؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے مسائل بیان کئے۔ پھر اس اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یہ عزت بخشی ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کیا ہے اس میں نہ میں کسی قسم کی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے صحیح کہا ہے تو جنت میں جائے گا۔بعض لوگوں کو ایک ایک سو بیس اونٹوں کے متعلق کہا کہ دو حصے دینے ہوں گے۔اگر وہ ایک کو دانستہ ہلاک کردے یا کسی کو دے ڈالے یا زکاۃ سے بھاگنے کے لیے کوئی اور حیلہ کرے تو اس پر کچھ نہیں ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛حیلوں کا بیان؛بَابٌ في الزَّكَاةِ وَأَنْ لاَ يُفَرَّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلاَ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ؛زکاۃ میں حیلہ،زکوٰۃ ادا کرنے کے خوف سے جمع شدہ اشیاء کو علیحدہ اور علیحدہ اشیاء کو جمع نہ کرے؛جلد٩ص٢٣،حدیث نمبر ٥٩٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن تم میں سے کسی کا خزانہ چتکبرا سانپ بن کر آئے گا اس کا مالک اس سے بھاگے گا لیکن وہ اسے تلاش کر رہا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا خزانہ ہوں۔ فرمایا واللہ وہ مسلسل تلاش کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ شخص اپنا ہاتھ پھیلا دے گا اور سانپ اسے لقمہ بنائے گا"۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛حیلوں کا بیان؛بَابٌ في الزَّكَاةِ وَأَنْ لاَ يُفَرَّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلاَ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ؛زکاۃ میں حیلہ،زکوٰۃ ادا کرنے کے خوف سے جمع شدہ اشیاء کو علیحدہ اور علیحدہ اشیاء کو جمع نہ کرے؛جلد٩ص٢٣،حدیث نمبر ٥٩٥٧)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جانوروں کے مالک جنہوں نے ان کا شرعی حق ادا نہیں کیا ہوگا قیامت کے دن ان پر وہ جانور مسلط کر دئیے جائیں گے اور وہ اپنی کھروں سے اس کے چہرے کو نوچیں گے۔بعض لوگوں نے کہا کہ کسی آدمی کے پاس اونٹ ہیں۔وہ زکاۃ واجب ہونے کے خوف سے ان اونٹوں کو اونٹوں کے عوض فروخت کردے یا بکریوں،گایوں یا درہموں کے عوض حیلہ کرتے ہوئے تو کچھ نہیں حالانکہ وہی کہتا ہے کہ اونٹوں کی زکوۃ کوئی دن یا ایک سال پہلے بھی ادا کردے تو جائز ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛حیلوں کا بیان؛بَابٌ في الزَّكَاةِ وَأَنْ لاَ يُفَرَّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلاَ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ؛زکاۃ میں حیلہ،زکوٰۃ ادا کرنے کے خوف سے جمع شدہ اشیاء کو علیحدہ اور علیحدہ اشیاء کو جمع نہ کرے؛جلد٩ص٢٣،حدیث نمبر ٥٩٥٨)
عبیداللہ بن عتبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں سوال کیا جو ان کی والدہ پر تھی اور ان کی وفات نذر پوری کرنے سے پہلے ہی ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو ان کی طرف سے پوری کر۔ اس کے باوجود بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب اونٹ کی تعداد بیس ہو جائے تو اس میں چار بکریاں لازم ہیں۔ پس اگر سال پورا ہونے سے پہلے اونٹ کو ہبہ کر دے یا اسے بیچ دے۔ زکوٰۃ سے بچنے یا حیلہ کے طور پر تاکہ زکوٰۃ اس پر ختم ہو جائے تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہو گی۔ یہی حال اس صورت میں ہے اگر اس نے ضائع کر دیا اور پھر مر گیا تو اس کے مال پر کچھ واجب نہیں ہو گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛حیلوں کا بیان؛بَابٌ في الزَّكَاةِ وَأَنْ لاَ يُفَرَّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلاَ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ؛زکاۃ میں حیلہ،زکوٰۃ ادا کرنے کے خوف سے جمع شدہ اشیاء کو علیحدہ اور علیحدہ اشیاء کو جمع نہ کرے؛جلد٩ص٢٣،حدیث نمبر ٥٩٥٩)
نافع نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ میں نے نافع سے پوچھا شغار کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کہ کوئی شخص بغیر مہر کسی کی لڑکی سے نکاح کرتا ہے یا اس سے بغیر مہر کے اپنی لڑکی کا نکاح کرتا ہے پس اس کے سوا کوئی مہر مقرر نہ ہو۔بعض لوگوں کا قول ہے کہ اگر حیلہ کے ساتھ شغار کرے تو جائز ہے لیکن شرط باطل ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ متعہ میں نکاح فاسد ہے اور شرط باطل ہے اور بعض لوگوں نے یہ کہا ہے متعہ اور شغار دونوں جائز ہے اور شرط باطل ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ الْحِيلَةِ فِي النِّكَاحِ؛نکاح میں حیلہ کرنے کا بیان؛جلد٩ص٢٤،حدیث نمبر ٥٩٦٠)
محمد بن علی نے بیان کیا،ان سے ان کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عورتوں کے متعہ میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے موقع پر متعہ سے اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا۔بعض لوگوں نے کہا کہ اگر حیلہ کے ساتھ متعہ کرے تو نکاح فاسد ہے اور ان کے دوسرے بعض نے کہا کہ نکاح جائز ہے اور شرط باطل ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ الْحِيلَةِ فِي النِّكَاحِ؛نکاح میں حیلہ کرنے کا بیان؛جلد٩ص٢٤،حدیث نمبر ٥٩٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اضافی پانی سے اس لئے نہ روکے کہ زائد گھاس سے روکے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الاِحْتِيَالِ فِي الْبُيُوعِ،ولا يمنع فضل الماء ليمنع به فضل الكلإ؛خرید و فروخت میں حیلہ اور فریب کرنا منع ہے،اضافی پانی سے اس لئے نہ روکے کہ اضافی گھاس سے روکے گا؛جلد٩ص٢٤،حدیث نمبر ٥٩٦٢)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملی بھگت سے ممانعت فرمائی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الاِحْتِيَالِ فِي الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت میں حیلہ اور فریب کرنا منع ہے؛جلد٩ص٢٤،حدیث نمبر ٥٩٦٣)
ایوب کا قول ہے کہ لوگ تو اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دیتے ہیں جس طرح لوگوں سے دھوکا بازی کرتے ہیں اگر وہ دیانت سے کام کریں تو معاملہ بہت آسان ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کچھ خریدا کرو تو کہہ دیا کرو کہ اس میں کوئی دھوکہ نہ ہونا چاہئے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ الْخِدَاعِ فِي الْبُيُوعِ؛خرید و فروخت میں دھوکہ دینے کی ممانعت۔؛جلد٩ص٢٤،حدیث نمبر ٥٩٦٤)
زہری کا بیان ہے کہ ان سے عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں۔“(نساء ٣)آپ نے کہا کہ اس آیت میں ایسی یتیم لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی لڑکی کے مال اور اس کے حسن سے رغبت رکھتا ہو اور چاہتا ہو کہ عورتوں (کے مہر وغیرہ کے متعلق) جو سب سے معمولی طریقہ ہے اس کے مطابق اس سے نکاح کرے تو ایسے ولیوں کو ان لڑکیوں کے نکاح سے منع کیا گیا ہے۔ سوا اس صورت کے کہ ولی مہر کو پورا کرنے میں انصاف سے کام لے۔ پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويستفتونك في النساء» ”اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں۔“(نساء ١٢٧)اور آگے پورا واقعہ کا ذکر کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛ بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ الاِحْتِيَالِ لِلْوَلِيِّ فِي الْيَتِيمَةِ الْمَرْغُوبَةِ، وَأَنْ لاَ يُكَمِّلَ صَدَاقَهَا؛ولی کا اپنی پسندیدہ یتیم لڑکی سے نکاح کرنا اور پورا مہر نہ دینے کے لئے حیلہ کرنا منع ہے؛جلد٩ص٢٤،حدیث نمبر ٥٩٦٥)
بعض لوگوں کا قول ہے کہ قیمت وصول کر لینے کے سبب لونڈی غاصب کی ہوگی اور بہانہ کیا کہ وہ مر گئی،حتیٰ کہ مالک نے اس کی قیمت لے لی،لہذا غاصب کے لیے دوسرے کی لونڈی جائز ہوگی۔چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک دوسرے کے مال تم پر حرام ہیں اور فرماتے ہیں قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا (تاکہ سب کو اس کی دغا بازی کا حال معلوم ہو جائے)۔ عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بروز قیامت ہر دھوکا باز کے لیے ایک جھنڈا ہوگا جس کے سبب وہ پہچانا جائے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ إِذَا غَصَبَ جَارِيَةً فَزَعَمَ أَنَّهَا مَاتَتْ،فقضی بقیمۃ الجاریۃ المیتۃ،ثم وجدها صاحبها فهي له ويرد القيمة ولا تكون القيمة ثمنا؛جب کسی شخص نے لونڈی زبردستی چھین لی اور کہا کہ وہ لونڈی مر گئی ہے،اب لونڈی کے مالک نے اس پر دعویٰ کیا تو چھیننے والے نے یہ کہا کہ وہ لونڈی مر گئی۔ حاکم نے اس سے قیمت دلا دی اب اس کے بعد مالک کو وہ لونڈی زندہ مل گئی تو وہ اپنی لونڈی لے لے گا اور چھیننے والے نے جو قیمت دی تھی وہ اس کو واپس کر دے گا یہ نہ ہو گا کہ جو قیمت چھیننے والے نے دی وہ لونڈی کا مول ہو جائے،وہ لونڈی چھیننے والے کی ملک ہو جائے؛جلد٩ص٢٥،حدیث نمبر ٥٩٦٦)
زینت بنت ام سلمہ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں بھی ایک بشر ہوں اور بعض اوقات جب تم باہمی جھگڑا لاتے ہو تو ممکن ہے کہ تم میں سے بعض اپنے فریق مخالف کے مقابلہ میں اپنا مقدمہ پیش کرنے میں زیادہ چالاکی سے بولنے والا ہو اور اس طرح میں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں جو میں تم سے سنتا ہوں۔ پس جس شخص کے لیے بھی اس کے بھائی کے حق میں سے، میں کسی چیز کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے۔ کیونکہ اس طرح میں اسے اگ کا ایک ٹکڑا دیتا ہوں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛باب....؛جلد٩ص٢٥،حدیث نمبر ٥٩٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لیا جائے۔“عرض کیا گیا:یا رسول اللہ! اس (کنواری) کی اجازت کی کیا صورت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی اجازت ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کنواری لڑکی سے اجازت نہ لی گئی اور نہ اس نے نکاح کیا۔ لیکن کسی شخص نے حیلہ کر کے دو جھوٹے گواہ کھڑے کر دئیے کہ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے اس کی مرضی سے اور قاضی نے بھی اس کے نکاح کا فیصلہ کر دیا۔ حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے کہ گواہی جھوٹی تھی اس کے باوجود اس لڑکی سے صحبت کرنے میں اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ نکاح صحیح ہو گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابٌ في النِّكَاحِ؛نکاح میں حیلہ؛جلد٩ص٢٥،حدیث نمبر ٥٩٦٨)
یحییٰ بن سعید نےقاسم بن محمد بن ابوبکر سے روایت کی ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک خاتون کو اس کا خطرہ ہوا کہ ان کا ولی (جن کی وہ زیر پرورش تھیں) ان کا نکاح کر دے گا۔ حالانکہ وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے قبیلہ انصار کے دو شیوخ عبدالرحمٰن اور مجمع کو جو جاریہ کے بیٹے تھے کہلا بھیجا انہوں نے تسلی دی کہ کوئی خوف نہ کریں۔ کیونکہ خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد کر دیا تھا۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن کو اپنے والد سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ خنساء رضی اللہ عنہا آخر حدیث تک بیان کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابٌ في النِّكَاحِ؛نکاح میں حیلہ؛جلد٩ص٢٥،حدیث نمبر ٦٩٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی بیوہ سے اس وقت تک شادی نہ کی جائے جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لیا جائے اور کسی کنواری سے اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس کی اجازت کا کیا طریقہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ کہ وہ خاموش ہو جائے۔“ پھر بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہا اگر کسی شخص نے دو جھوٹے گواہوں کے ذریعہ حیلہ کیا (اور یہ جھوٹ گھڑا) کہ کسی بیوہ عورت سے اس نے اس کی اجازت سے نکاح کیا ہے اور قاضی نے بھی اس مرد سے اس کے نکاح کا فیصلہ کر دیا جبکہ اس مرد کو خوب خبر ہے کہ اس نے اس عورت سے نکاح نہیں کیا ہے تو یہ نکاح جائز ہے اور اس کے لیے اس عورت کے ساتھ رہنا جائز ہو جائے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابٌ في النِّكَاحِ؛نکاح میں حیلہ؛جلد٩ص٢٥،حدیث نمبر ٦٩٧٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی۔“ میں نے پوچھا کہ کنواری لڑکی شرمائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔ اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی شخص اگر کسی یتیم لڑکی یا کنواری لڑکی سے نکاح کا خواہشمند ہو۔ لیکن لڑکی راضی نہ ہو اس پر اس نے حیلہ کیا اور دو جھوٹے گواہوں کی گواہی اس کی دلائی کہ اس نے لڑکی سے شادی کر لی ہے پھر جب وہ لڑکی جوان ہوئی اور اس نکاح سے وہ بھی راضی ہو گئی اور قاضی نے اس جھوٹی شہادت کو قبول کر لیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سارا ہی جھوٹ اور فریب ہے تب بھی اس سے جماع کرنا جائز ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابٌ في النِّكَاحِ؛نکاح میں حیلہ؛جلد٩ص٢٦،حدیث نمبر ٦٩٧١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلوہ (یعنی میٹھی چیز) اور شہد پسند کرتے تھے اور جب نماز عصر پڑھ لیتے تو اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے قریب ہوتے۔ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور ان کے یہاں اس سے زیادہ دیر تک ٹھہرے رہے جتنی دیر تک ٹھہرنے کا آپ کا معمول تھا۔میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی قوم کی ایک خاتون نے شہد کی ایک کپی انہیں ہدیہ کی تھی اور انہوں نے اس میں سے پلایا۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ خدا کی قسم میں اس کے متعلق ضرور کوئی حیلہ کروں گی۔ چنانچہ میں نے اس کا ذکر سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے یہاں آئیں تو آپ کے قریب بھی آئیں گے اس وقت تم آپ سے کہنا یا رسول اللہ! شاید آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ اس پر آپ جواب دیں گے کہ نہیں۔ تم کہنا کہ پھر یہ بو کس چیز کی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناگوار تھی کہ آپ کے جسم کے کسی حصہ سے بو آئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب یہ دیں گے کہ حفصہ نے مجھے شہد پلایا تھا۔ اس پر کہنا کہ شہد کی مکھیوں نے غرفط کا رس چوسا ہو گا اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سودہ کے یہاں تشریف لے گئے تو ان کا بیان ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ حضور ابھی دروازے پر ہی تھے لیکن میں نے چاہا کہ میں وہ بات کہ دوں جو انہوں نے مجھ سے کہی تھی۔ آخر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریب آئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر بو کیسی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے میں نے کہا اس شہد کی مکھیوں نے غرفط کا رس چوسا ہو گا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جب آپ تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا۔ اس کے بعد جب حفصہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ شہد میں پھر آپ کو پلاؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ بیان کیا ہے کہ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں۔ سبحان اللہ یہ ہم نے کیا کیا گویا شہد آپ پر حرام کر دیا، میں نے کہا چپ رہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنِ احْتِيَالِ الْمَرْأَةِ مَعَ الزَّوْجِ وَالضَّرَائِرِ،وما نزل على النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك؛عورت کا اپنے خاوند اور سوکنوں کے ساتھ حیلہ کرنا پسندیدہ نہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بارے میں حکم نازل ہوا؛جلد٩ص٢٦،حدیث نمبر ٦٩٧٢)
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (سنہ 18 ھ ماہ ربیع الثانی میں) شام تشریف لے گئے۔ جب مقام سرغ پر پہنچے تو ان کو یہ خبر ملی کہ شام وبائی بیماری کی لپیٹ میں ہے۔ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ کسی سر زمین میں وبا پھیلی ہوئی ہے تو اس میں داخل مت ہو، لیکن اگر کسی جگہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو وبا سے بھاگنے کے لیے تم وہاں سے نکلو بھی مت۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مقام سرغ سے واپس آ گئے۔ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث سن کر واپس ہو گئے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الاِحْتِيَالِ فِي الْفِرَارِ مِنَ الطَّاعُونِ؛طاعون سے بھاگنے کے لیے حیلہ کرنا منع ہے؛جلد٩ص٢٦،حدیث نمبر ٦٩٧٣)
عامر بن سعد بن ابی وقاص نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے جس کے ذریعہ بعض امتوں کو عذاب دیا گیا تھا اس کے بعد اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اور وہ کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی واپس آ جاتا ہے۔ پس جو شخص کسی سر زمین پر اس کے پھیلنے کے متعلق سنے تو وہاں نہ جائے لیکن اگر کوئی کسی جگہ ہو اور وہاں یہ وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الاِحْتِيَالِ فِي الْفِرَارِ مِنَ الطَّاعُونِ؛طاعون سے بھاگنے کے لیے حیلہ کرنا منع ہے؛جلد٩ص٢٧،حدیث نمبر ٦٩٧٤)
اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو ہزار درہم یا اس سے زیادہ ہبہ کئے اور یہ درہم موہوب کے پاس برسوں رہ چکے پھر واہب نے حیلہ کر کے ان کو لے لیا۔ ہبہ میں رجوع کر لیا۔ ان میں سے کسی پر زکوٰۃ لازم نہ ہو گی اور ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی اور زکوٰۃ کو ساقط کردیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہبہ کی ہوئی کسی چیز کو واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو چاٹ لیتا ہے۔یہ بری مثال ہمارے لئے نہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابٌ في الْهِبَةِ وَالشُّفْعَةِ؛ہبہ اور شفعہ میں حیلہ کرنا؛جلد٩ص٢٧،حدیث نمبر ٦٩٧٥)
ابوسلمہ کا بیان ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حکم ہر اس چیز میں دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو۔ پس جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ کر دئیے جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ شفعہ کا حق پڑوسی کو بھی ہوتا ہے پھر خود ہی اپنی بات کو غلط قرار دیا اور کہا کہ اگر کسی نے کوئی گھر خریدا اور اسے خطرہ ہے کہ اس کا پڑوسی حق شفعہ کی بنا پر اس سے گھر لے لے گا تو اس نے اس کے سو حصے کر کے ایک حصہ اس میں سے پہلے خرید لیا اور باقی حصے بعد میں خریدے تو ایسی صورت میں پہلے حصے میں تو پڑوسی کو شفعہ کا حق ہو گا۔ گھر کے باقی حصوں میں اسے یہ حق نہیں ہو گا اور اس کے لیے جائز ہے کہ یہ حیلہ کرے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابٌ في الْهِبَةِ وَالشُّفْعَةِ؛ہبہ اور شفعہ میں حیلہ کرنا؛جلد٩ص٢٧،حدیث نمبر ٦٩٧٦)
عمرو بن شرید کا بیان ہے کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے میرے مونڈھے پر اپنا ہاتھ رکھا پھر میں ان کے ساتھ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو ابورافع نے اس پر کہا کہ آپ ان سے یہ کیوں نہیں کہتے کہ میرے اس کمرے کو خرید لیں جو میرے مکان میں ہے انہوں نے فرمایا کہ اس کا چار سو سے زیادہ میں نہیں دے سکتا اور وہ بھی قسطوں میں دوں گا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کے پانچ سو نقد مل رہے تھے اور میں نے انکار کر دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ بیچتا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے اس پر پوچھا کہ معمر نے اس طرح نہیں بیان کیا ہے۔ سفیان نے کہا کہ لیکن مجھ سے تو ابراہیم بن میسرہ نے یہ حدیث اسی طرح نقل کی۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ شفیع کو حق شفعہ نہ دے تو اسے حیلہ کرنے کی اجازت ہے اور حیلہ یہ ہے کہ جائیداد کا مالک خریدار کو وہ جائیداد ہبہ کر دے پھر خریدار یعنی موہوب لہ اس ہبہ کے معاوضہ میں مالک جائیداد کو ہزار درہم مثلاً ہبہ کر دے اس صورت میں شفیع کو شفعہ کا حق نہ رہے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابٌ في الْهِبَةِ وَالشُّفْعَةِ؛ہبہ اور شفعہ میں حیلہ کرنا؛جلد٩ص٢٧،حدیث نمبر ٦٩٧٧)
ابورافع کا بیان ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے ایک گھر کی چار سو مثقال قیمت میں خریدا انہوں نے کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی شفعہ کا زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ دیتا۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی گھر کا حصہ خریدا اور چاہا کہ اس کا حق شفہ باطل کر دے تو اسے اس گھر کو اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کر دینا چاہیے، اب نابالغ پر قسم بھی نہیں ہوگی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابٌ في الْهِبَةِ وَالشُّفْعَةِ؛ہبہ اور شفعہ میں حیلہ کرنا؛جلد٩ص٢٧،حدیث نمبر ٦٩٧٨)
عروہ بن زبیر نے حضرت ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بنی سلیم کے صدقات کی وصولی کے لیے عامل بنایا ان کا نام ابن اللتیبہ تھا پھر جب یہ عامل واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حساب لیا ‘ اس نے سرکاری مال علیحدہ کیا اور کچھ مال کی نسبت کہنے لگا کہ یہ (مجھے) تحفہ میں ملا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر کیوں نہ تم اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھے رہے اگر تم سچے ہو تو وہیں یہ تحفہ تمہارے پاس آ جاتا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! میں تم میں سے کسی ایک کو اس کام پر عامل بناتا ہوں جس کا اللہ نے مجھے والی بنایا ہے پھر وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارا مال اور یہ تحفہ ہے جو مجھے دیا گیا تھا۔ اسے اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا رہنا چاہئیے تھا تاکہ اس کا تحفہ وہیں پہنچ جاتا۔ اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی ناحق کوئی چیز لے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس چیز کو اٹھائے ہوئے ہو گا بلکہ میں تم میں ہر اس شخص کو پہچان لوں گا جو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اونٹ اٹھائے ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا یا گائے اٹھائے ہو گا جو اپنی آواز نکال رہی ہوگی یا بکری اٹھائے ہو گا جو اپنی آواز نکال رہی ہو گی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی دکھائی دینے لگی اور فرمایا، اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا۔ یہ فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں سے سنا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ احْتِيَالِ الْعَامِلِ لِيُهْدَى لَهُ؛عامل کا تحفہ لینے کے لیے حیلہ کرنا؛جلد٩ص٢٨،حدیث نمبر ٦٩٧٩)
ابورافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پڑوسی شفعہ کا زیادہ حقدار ہے۔“ اور بعض لوگوں نے کہا اگر کسی شخص نے ایک گھر بیس ہزار درہم کا خریدا (تو شفعہ کا حق ساقط کرنے کے لیے) یہ حیلہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ مالک مکان کو نو ہزار نو سو ننانوے درہم نقد ادا کرے اب بیس ہزار کے تکملہ میں جو باقی رہے یعنی دس ہزار اور ایک درہم اس کے بدل مالک مکان کو ایک دینار دیدے۔ اس صورت میں اگر شفیع اس مکان کو لینا چاہے گا تو اس کو بیس ہزار درہم پر لینا ہو گا ورنہ وہ اس گھر کو نہیں لے سکتا۔ ایسی صورت میں اگر بیع کے بعد یہ گھر (بائع کے سوا) اور کسی کا نکلا تو خریدار بائع سے وہی قیمت واپس لے گا جو اس نے دی ہے یعنی نو ہزار نو سو ننانوے درہم اور ایک دینار کیونکہ جب وہ گھر کسی اور کا نکلا تو اب وہ بیع صرف جو بائع اور مشتری کے بیچ میں ہو گئی تھی بالکل باطل ہو گئی (تو اصل) دینار پھرنا لازم ہو گا نہ کہ اس کے ثمن (یعنی دس ہزار اور ایک درہم) اگر اس گھر میں کوئی عیب نکلا لیکن وہ بائع کے سوا کسی اور کی ملک نہیں نکلا تو خریدار اس گھر کو بائع کو واپس اور بیس ہزار درہم اس سے لے سکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا تو ان لوگوں نے مسلمانوں کے آپس میں مکر و فریب کو جائز رکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ مسلمان کی بیع میں جو مسلمان کے ساتھ ہو نہ عیب ہونا چاہئیے یعنی (بیماری) نہ خباثت نہ کوئی آفت۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ احْتِيَالِ الْعَامِلِ لِيُهْدَى لَهُ؛عامل کا تحفہ لینے کے لیے حیلہ کرنا؛جلد٩ص٢٨،حدیث نمبر ٦٩٨٠)
ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن شرید نے کہ ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو ایک گھر چار سو مثقال میں بیچا اور کہا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی شفعہ کا زیادہ حقدار ہے تو میں آپ کو یہ گھر نہ دیتا (اور کسی کے ہاتھ بیچ ڈالتا) (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛بَابُ احْتِيَالِ الْعَامِلِ لِيُهْدَى لَهُ؛عامل کا تحفہ لینے کے لیے حیلہ کرنا؛جلد٩ص٢٨،حدیث نمبر ٦٩٨١)
Bukhari Shareef : Kitabul Hile
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الحِيَلِ
|
•