
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے تمناؤں کا بیان ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر ان لوگوں کا خیال نہ ہوتا جو میرے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکنے کو برا جانتے ہیں مگر اسباب کی کمی کی وجہ سے وہ شریک نہیں ہو سکتے اور کوئی ایسی چیز میرے پاس نہیں ہے جس پر انہیں سوار کروں تو میں کبھی (غزاوات میں شریک ہونے سے) پیچھے نہ رہتا۔ میری خواہش ہے کہ اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر مارا جاؤں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛تمناؤں کا بیان؛بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَنِّي وَمَنْ تَمَنَّى الشَّهَادَةَ؛آرزو کرنے کے بارے میں اور جس نے شہادت کی آرزو کی؛جلد٩ص٨٢،حدیث نمبر ٧٢٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں جنگ کروں اور قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان الفاظ کو تین مرتبہ دہراتے تھے کہ میں اللہ کو گواہ کر کے کہتا ہوں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛تمناؤں کا بیان؛بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَنِّي وَمَنْ تَمَنَّى الشَّهَادَةَ؛آرزو کرنے کے بارے میں اور جس نے شہادت کی آرزو کی؛جلد٩ص٨٢،حدیث نمبر ٧٢٢٧)
فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم:اگر میرے پاس کوہ احد کے برابر سونا ہوتا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو میں پسند کرتا کہ اگر ان کے لینے والے مل جائیں تو تین دن گزرنے سے پہلے ہی میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی نہ بچے، سوا اس کے جسے میں اپنے اوپر قرض کی ادائیگی کے لیے روک لوں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛ بَابُ تَمَنِّي الْخَيْرِ؛بھلائی کی آرزو؛جلد٩ص٨٣،حدیث نمبر ٧٢٢٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجتہ الوداع کے موقع پر) فرمایا ”اگر مجھ کو اپنے معاملے پہلے سے معلوم ہوتا جو بعد کو معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور لوگوں کے ساتھ ہی احرام کھول دیتا جبکہ دوسرے لوگوں نے کھولے تھے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ»؛فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ مجھے اپنے بارے میں پہلے معلوم ہوتا جس کا بعد میں علم ہوا؛جلد٩ص٨٣،حدیث نمبر ٧٢٢٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے(حجۃ الوداع کے موقع پر) ساتھ تھے، پھر ہم نے حج کے لیے تلبیہ کہا اور 4 ذی الحجہ کو مکہ پہنچے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیت اللہ اور صفا اور مروہ کے طواف کا حکم دیا اور یہ کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں اور اس کے بعد حلال ہو جائیں (سوا ان کے جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ حلال نہیں ہو سکتے) بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا ہم میں سے کسی کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ بھی ہدی تھی اور کہا کہ میں بھی اس کا احرام باندھ کر آیا ہوں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے، پھر دوسرے لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم اپنی عورتوں کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد منیٰ جا سکتے ہیں؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے ہی معلوم ہوتی تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو جاتا۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سراقہ بن مالک نے ملاقات کی۔ اس وقت آپ بڑے شیطان پر رمی کر رہے تھے اور پوچھا یا رسول اللہ! (کیا) یہ ہمارے لیے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی مکہ آئی تھیں لیکن وہ حائضہ تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام اعمال حج ادا کرنے کا حکم دیا، صرف وہ پاک ہونے سے پہلے طواف نہیں کر سکتی تھیں اور نہ نماز پڑھ سکتی تھیں۔ جب سب لوگ بطحاء میں اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ سب لوگ عمرہ و حج دونوں کر کے لوٹیں گے اور میرا صرف حج ہو گا؟ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ حضرت عائشہ کو ساتھ لے کر مقام تنعیم جائیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی ایام حج کے بعد ذی الحجہ میں عمرہ کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ»؛فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ مجھے اپنے بارے میں پہلے معلوم ہوتا جس کا بعد میں علم ہوا؛جلد٩ص٨٣،حدیث نمبر ٧٢٣٠)
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک مرد میرے لیے آج رات پہرہ دیتا۔“ اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ بتایا گیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں یا رسول اللہ! (انہوں نے کہا) میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کے خراٹے کی آواز سنے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب نئے نئے مدینہ آئے تو بحالت بخار حیرانی میں یہ شعر پڑھتے تھے۔ ”کاش میں جانتا کہ میں ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا۔۔۔ (وادی میں) اور میرے چاروں طرف اذخر اور جیل گھاس ہو گی۔“ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی خبر کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْتَ كَذَا وَكَذَا؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ کاش ایسا اور ایسا ہوتا؛جلد٩ص٨٣،حدیث نمبر ٧٢٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "حسد صرف دو شخصوں پر ہو سکتا ہے ایک وہ جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا ہے اور وہ اسے دن رات پڑھتا رہتا ہے اور اس پر (سننے والا) کہے کہ اگر مجھے بھی اس کا ایسا ہی علم ہوتا جیسا کہ اس شخص کو دیا گیا ہے تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسا کہ یہ کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو (دیکھنے والا) کہے کہ اگر مجھے بھی اتنا دیا جاتا جیسا اسے دیا گیا ہے تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسا کہ یہ کر رہا ہے۔“ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے پھر یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛بَابُ تَمَنِّي الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ؛قرآن مجید اور علم کی آرزو کرنا۔؛جلد٩ص٨٤،حدیث نمبر ٧٢٣٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بے شک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔(نساء ٣٢) نضر بن انس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ کاش!میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا۔"موت کی آرزو نہ کیا کرو"۔ورنہ ضرور میں موت کی؛ آرزو کرتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّمَنِّي؛جس کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد٩ص٨٤،حدیث نمبر ٧٢٣٣)
قیس نے بیان کیا کہ ہم حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ انہوں نے سات داغ لگوائے تھے، پھر انہوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّمَنِّي؛جس کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد٩ص٨٤،حدیث نمبر ٧٢٣٤)
زہری نے حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جن کا نام سعد بن عبید ہے، عبدالرحمٰن بن ازہر کے مولیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّمَنِّي؛جس کی تمنا کرنا منع ہے؛جلد٩ص٨٤،حدیث نمبر ٧٢٣٥)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود ہمارے ساتھ مٹی اٹھایا کرتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ مٹی نے آپ کے پیٹ کی سفیدی کو چھپا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”اگر تو ہدایت کی توفیق نہ دیتا(اے اللہ!) تو ہم نہ ہدایت پاتے، نہ ہم صدقہ دیتے، نہ نماز پڑھتے۔ پس ہم پر دل جمعی نازل فرما۔ اس معاندین کی جماعت نے ہمارے خلاف حد سے آگے بڑھ کر حملہ کیا ہے۔ جب یہ فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات نہیں مانتے، نہیں مانتے۔ اس پر آپ آواز کو بلند کر دیتے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا؛آدمی کا یہ کہنا کہ خدا نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاتے؛جلد٩ص٨٤،حدیث نمبر ٧٢٣٦)
اس کو اعرج،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ ابو النضر جو عمر بن عبید کے آزاد کردہ غلام اور کاتب نے ان کے لیے خط لکھا۔جب انہوں نے پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کیا کرو بلکہ اللہ سے عافیت طلب کیا کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛بَابُ كَرَاهِيَةِ التَّمَنِّي لِقَاءَ الْعَدُوِّ؛دشمن سے مقابلے کی تمنا کرنا مکروہ ہے؛جلد٩ص٨٤،حدیث نمبر ٧٢٣٧)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اگر میرا تم پر بس چلتا"(ہود ٨٠) قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو اس پر عبداللہ بن شداد نے پوچھا: کیا یہی وہ ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہ کے رجم کرتا تو اسے کرتا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں وہ ایک (اور) عورت تھی جو کھلے عام (فحش کام) کرتی تھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز؛جلد٩ص٨٥،حدیث نمبر ٧٢٣٨)
عمرو بن دینار کا بیان ہے فرماتے ہیں ہم سے عطاء بن ابو رباح نے بیان کیا کہ ایک رات ایسا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کی۔ آخر عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! نماز پڑھئے عورتیں اور بچے سونے لگے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم (حجرے سے) برآمد ہوئے آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا (غسل کر کے باہر تشریف لائے) فرمانے لگے اگر میری امت پر یا یوں فرمایا کہ لوگوں پر دشوار نہ ہوتا۔ سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں اس وقت (اتنی رات گئے) ان کو یہ نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔ اور ابن جریج نے (اسی سند سے سفیان سے، انہوں نے (ابن جریج سے) انہوں نے عطاء سے روایت کی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز (یعنی عشاء کی نماز میں دیر کی۔ عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! عورتیں بچے سو گئے۔ یہ سن کر آپ باہر تشریف لائے، اپنے سر کی ایک جانب سے پانی پونچھ رہے تھے، فرما رہے تھے اس نماز کا وقت یہی ہے اگر میری امت پر شاق نہ ہو۔ عمرو بن دینار نے اس حدیث میں یوں نقل کیا۔ ہم سے عطاء نے بیان کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا لیکن عمرو نے یوں کہا آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ اور ابن جریج کی روایت میں یوں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے ایک جانب سے پانی پونچھ رہے تھے۔ اور عمرو نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا۔ اور ابن جریج نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو اس نماز کا (افضل) وقت تو یہی ہے۔ اور ابراہیم بن المنذر (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن مسلم نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث نقل کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز؛جلد٩ص٨٥،حدیث نمبر ٧٢٣٩)
عبد الرحمن اعرج کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر مجھے اپنی امت کی دشواری کا خیال نہ ہوتا تو انہیں ضرور مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز؛جلد٩ص٨٥،حدیث نمبر ٧٢٤٠)
ثابت کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کے آخری دنوں میں صوم وصال رکھا تو بعض صحابہ نے بھی صوم وصال رکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس مہینے کے دن اور بڑھ جاتے تو میں اتنے دن متواتر وصال کرتا تاکہ میری ریس کرنے والے اپنی ریس چھوڑ دیتے، میں تم تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں اس طرح دن گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ اس روایت کی متابعت سلیمان بن مغیرہ نے کی، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا جو اوپر مذکور ہوا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز؛جلد٩ص٨٥،حدیث نمبر ٧٢٤١)
سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع کیا تو صحابہ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کون مجھ جیسا ہے، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے لیکن جب لوگ نہ مانے تو آپ نے ایک دن کے ساتھ دوسرا دن ملا کر (وصال کا) روزہ رکھا، پھر لوگوں نے (عید کا) چاند دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ ہوتا تو میں اور وصال کرتا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنبیہ کرنے کے لیے ایسا فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز؛جلد٩ص٨٥،حدیث نمبر ٧٢٤٢)
اسود بن یزید نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (خانہ کعبہ کے) حطیم کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ بھی خانہ کعبہ کا حصہ ہے؟ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے کہا: پھر کیوں ان لوگوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کی کمی ہو گئی تھی، میں نے کہا کہ یہ خانہ کعبہ کا دروازہ اونچائی پر کیوں ہے؟ فرمایا کہ یہ اس لیے انہوں نے کیا ہے تاکہ جسے چاہیں اندر داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں۔ اگر تمہاری قوم (قریش) کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا اور مجھے خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل ناپسند کریں گے تو میں حطیم کو بھی خانہ کعبہ میں شامل کر دیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے برابر کر دیتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز؛جلد٩ص٨٦،حدیث نمبر ٧٢٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک شخص ہوتا۔اگر سب لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں یا گھاٹی میں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز؛جلد٩ص٨٦،حدیث نمبر ٧٢٤٤)
عباد بن تمیم نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ اس روایت کی متابعت ابوالتیاح نے کی، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس میں بھی گھاٹی کا ذکر ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّمَنِّي؛لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز؛جلد٩ص٨٦،حدیث نمبر ٧٢٤٥)
Bukhari Shareef : Kitabut Tamanna
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ التَّمَنِّي
|
•