
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اکیلی خبروں کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔(توبہ ١٢٢) اور شخص پر بھی گروہ کا اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو اُن میں صلح کراؤ(حجرات ٩) پس دو شخص بھی اس کے معنیٰ میں داخل ہیں اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لاے تو تحقیق کرلو۔(حجرات ٦) اور جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کے بعد ایک امیر روانہ فرمائے تاکہ ایک سے اگر بھول چوک ہو جائے تو دوسرا اسےسنت کی طرف پھیر دے۔ ابوقلابہ کا بیان ہے کہ حضرت مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب جوان اور ہم عمر تھے، ہم آپ کی خدمت میں بیس دن تک ٹھہرے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت شفیق تھے۔ جب آپ نے معلوم کیا کہ اب ہمارا دل اپنے گھر والوں کی طرف مشتاق ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ اپنے پیچھے ہم کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں۔ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر چلے جاؤ اور ان کے ساتھ رہو اور انہیں اسلام سکھاؤ اور دین بتاؤ اور بہت سی باتیں آپ نے کہیں جن میں بعض مجھے یاد نہیں ہیں اور بعض یاد ہیں اور (فرمایا کہ) جس طرح مجھے تم نے نماز پڑھتے دیکھا اسی طرح نماز پڑھو۔ پس جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک تمہارے لیے اذان کہے اور جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٦،حدیث نمبر ٧٢٤٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ صرف اس لیے اذان دیتے ہیں یا نداء کرتے ہیں تاکہ قیام کرنے والے فارغ ہوجائےاور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہو جائیں اور فجر وہ نہیں ہے جو اس طرح لمبی دھار ہوتی ہے۔ یحییٰ نے اس کے اظہار کے لیے اپنے دونوں ہاتھ ملائے اور کہا یہاں تک کہ وہ اس طرح ظاہر ہو جائے اور اس کے اظہار کے لیے انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو پھیلا کر بتلایا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٧،حدیث نمبر ٧٢٤٧)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بیشک بلال کچھ رات ندا کرتے ہیں لہٰذا تم کھاتے پیتے رہا کرو،حتیٰ کہ ابن مکتوم اذان کہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٧،حدیث نمبر ٧٢٤٨)
علقمہ بن قیس کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعت نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا نماز (کی رکعتوں) میں کچھ بڑھ گیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعت نماز پڑھائی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے (سہو کے) کئے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٧،حدیث نمبر ٧٢٤٩)
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعت پر (مغرب یا عشاء کی نماز میں) نماز ختم کر دی تو حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، تکبیر کی اور سجدہ کیا (نماز کے عام) سجدے جیسا یا اس سے طویل، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر تکبیر کہی اور نماز کے سجدے جیسا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٧،حدیث نمبر ٧٢٥٠)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مسجد قباء میں لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والے نے ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات قرآن کی آیت نازل ہوئی ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کر لیں پس تم بھی اسی طرف رخ کر لو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، پھر وہ لوگ کعبہ کی طرف مڑ گئے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٧،حدیث نمبر ٧٢٥١)
ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ اور ان سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے جبکہ آپ کو علم تھا کہ کعبہ کی جانب چہرہ کیا جائے۔پس اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔ترجمہ کنز الایمان:ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرو ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے۔(بقرہ ١٤٤) چنانچہ رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔ ایک صاحب نے عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر وہ مدینہ سے نکل کر انصار کی ایک جماعت تک پہنچے اور کہا کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے چنانچہ سب لوگ کعبہ رخ ہو گئے حالانکہ وہ عصر کی نماز کے رکوع میں تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٧،حدیث نمبر ٧٢٥٢)
عبداللہ بن ابو طلحہ نے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ انصاری، ابوعبیدہ بن الجراح اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ اتنے میں ایک آنے والے شخص نے آ کر خبر دی کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی خبر سنتے ہی کہا: انس! ان مٹکوں کو بڑھ کر سب کو توڑ دے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک لوہے کا دستہ لیا جو ہمارے پاس تھا اور میں نے اس کے نچلے حصہ سے ان مٹکوں پر مارا جس سے وہ سب ٹوٹ گئے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٨،حدیث نمبر ٧٢٥٣)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا ”میں تمہارے پاس ایک امانت دار آدمی جو حقیقی امانت دار ہوگا بھیجوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ منتظر رہے (کہ کون اس صفت سے موصوف ہے) تو آپ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٨،حدیث نمبر ٧٢٥٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہر امت کے لئے ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین حضرت ابوعبیدہ ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٨،حدیث نمبر ٧٢٥٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب تھے(اوس بن خولیٰ نام)جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت نہ کر سکتے اور میں شریک ہوتا تو انہیں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبریں بتاتا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک نہ ہو پاتا اور وہ شریک ہوتے تو وہ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبر مجھے بتاتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٨،حدیث نمبر ٧٢٥٦)
ابوعبدالرحمٰن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ایک صاحب عبداللہ بن حذافہ سہمی کو بنایا، پھر (اس نے کیا کیا کہ) آگ جلوائی اور (لشکریوں سے) کہا کہ اس میں داخل ہو جاؤ۔ جس پر بعض لوگوں نے داخل ہونا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم آگ ہی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو اس میں قیامت تک رہتے۔ اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت حلال نہیں ہے اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٨،حدیث نمبر ٧٢٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ دونوں حضرات کو بتایا کہ دو شخص جھگڑتے ہوے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٨،حدیث نمبر ٧٢٥٨۔٧٢٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ اعرابیوں میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ فرما دیجئیے۔ اس کے بعد ان کا مقابل فریق کھڑا ہوا اور کہا انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے کہنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کیا کرتا تھا، «عسيف» بمعنی «الأجير» مزدور ہے، پھر اس نے ان کی عورت سے زنا کر لیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہو گی لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دیا (اور لڑکے کو چھڑا لیا) پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی بیوی پر رجم کی سزا لاگو ہو گی اور میرے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، باندی اور بکریاں تو اسے واپس کر دو اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ہے اور اے انیس! (قبیلہ اسلم کے ایک صحابی) اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا پھر انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو سنگسار کر دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛خبر واحد کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ؛اذان،نماز،روزہ،فرائض اور احکام؛جلد٩ص٨٨،حدیث نمبر ٧٢٦٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دشمن سے خبر لانے کے لیے) صحابہ سے کہا تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے پھر ان سے کہا تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہی تیار ہوئے۔ پھر کہا، پھر بھی انہوں نے ہی آمادگی دکھلائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میری حواری زبیر ہیں۔اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ روایت ابن المنکدر سے یاد کی اور ایوب نے ابن المنکدر سے کہا، اے ابوبکر! (یہ محمد بن منکدر کی کنیت ہے) ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کیجئے کیونکہ لوگ پسند کرتے ہیں کہ آپ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی احادیث بیان کریں تو انہوں نے اسی مجلس میں کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور چار احادیث میں پے در پے یہ کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ سفیان ثوری تو غزوہ قریظہ کہتے ہیں (بجائے غزوہ خندق کے) انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے ہی یقین کے ساتھ یاد کیا ہے جیسا کہ تم اس وقت بیٹھے ہو کہ انہوں نے غزوہ خندق کہا، سفیان نے کہا کہ یہ دونوں ایک ہی غزوہ ہیں (کیونکہ) غزوہ خندق کے فوراً بعد اسی دن غزوہ قریظہ پیش آیا اور وہ مسکرائے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛ بَابُ بَعْثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزُّبَيْرَ طَلِيعَةً وَحْدَهُ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زبیر رضی اللہ عنہ کو اکیلے کافروں کی خبر لانے کے لیے بھیجنا؛جلد٩ص٨٩،حدیث نمبر ٧٢٦١)
ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ کی نگرانی کا حکم دیا، پھر ایک صحابی آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو۔ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دے دو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ}(احزاب٥٣)ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان"نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ۔"فإذا اذن له واحد جاز؛اجازت کے لیے ایک شخص کا بھی اذن دینا کافی ہے؛جلد٩ص٨٩،حدیث نمبر ٧٢٦٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کا ایک حبشی غلام سیڑھی کے اوپر (نگرانی کر رہا) تھا میں نے اس سے کہا کہ کہو کہ عمر بن خطاب کھڑا ہے اور اجازت چاہتا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ}(احزاب٥٣)ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان"نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ۔"فإذا اذن له واحد جاز؛اجازت کے لیے ایک شخص کا بھی اذن دینا کافی ہے؛جلد٩ص٨٩،حدیث نمبر ٧٢٦٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کلبی کو مکتوب مبارک دے کر حاکم بصرہ کے پاس روانہ فرمایا کہ اسے قیصر روم تک پہنچا دیا جائے۔ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ پرویز شاہ ایران کو خط بھیجا اور قاصد عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ خط بحرین کے گورنر منذر بن ساوی کے حوالہ کریں وہ اسے کسریٰ تک پہنچائے گا۔ جب کسریٰ نے وہ خط پڑھا تو اسے پھاڑ دیا۔ مجھے یاد ہے کہ سعید بن المسیب نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بددعا دی کہ اللہ انہیں بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛بَابُ مَا كَانَ يَبْعَثُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأُمَرَاءِ وَالرُّسُلِ وَاحِدًا بَعْدَ وَاحِدٍ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امرا اور قاصدوں کو ایک ایک کر کے روانہ فرمایا کرتے تھے؛جلد٩ص٨٩،حدیث نمبر ٧٢٦٤)
یزید بن ابو عبید نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ہند بن اسماء سے فرمایا کہ اپنی قوم میں یا لوگوں میں اعلان کر دو عاشورہ کے دن کہ جس نے کھا لیا ہو وہ اپنا بقیہ دن (بے کھائے) پورا کرے اور اس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛بَابُ مَا كَانَ يَبْعَثُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأُمَرَاءِ وَالرُّسُلِ وَاحِدًا بَعْدَ وَاحِدٍ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امرا اور قاصدوں کو ایک ایک کر کے روانہ فرمایا کرتے تھے؛جلد٩ص٩٠،حدیث نمبر ٧٢٦٥)
اس کو مالک بن حویرث نے بیان کیا۔ ابوجمرہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھے خاص اپنے تخت پر بٹھا لیتے تھے۔ انہوں نے ایک بار بیان کیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد آیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کس قوم کا وفد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ قبیلہ کا (عبدالقیس اسی قبیلے کا ایک شاخ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مبارک ہو اس وفد کو یا یوں فرمایا کہ مبارک ہو یہ نہ رسوا ہو یا نادم۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے بیچ میں مضر کافروں کا ملک پڑتا ہے۔ آپ ہمیں ایسی بات کا حکم دیجئیے جس سے ہم جنت میں داخل ہوں اور پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتائیں۔ پھر انہوں نے شراب کے برتنوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار چیزوں سے روکا اور چار چیزوں کا حکم دیا۔ آپ نے ایمان بااللہ کا حکم دیا۔ دریافت فرمایا جانتے ہو ایمان باللہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا کہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنے کا (حکم دیا) اور زکوٰۃ دینے کا۔ میرا خیال ہے کہ حدیث میں رمضان کے روزوں کا بھی ذکر ہے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ (بیت المال) میں دینا اور آپ نے انہیں دباء، حنتم، مزفت اور نقیر کے برتن (جن میں عرب لوگ شراب رکھتے اور بناتے تھے) کے استعمال سے منع کیا اور بعض اوقات مقیر کہا۔ فرمایا کہ انہیں یاد رکھو اور انہیں پہنچا دو جو نہیں آ سکے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛بَابُ وَصَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُفُودَ الْعَرَبِ أَنْ يُبَلِّغُوا مَنْ وَرَاءَهُمْ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عرب کے وفود کو وصیت کہ یہ بات اپنے پیچھے والوں تک پہنچادیں؛جلد٩ص٩٠،حدیث نمبر ٧٢٦٦)
توبہ بن کیسان العنبری نے بیان کیا کہ مجھ سے شعبی نے کہا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ امام حسن بصری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو (مرسلاً) روایت کرتے ہیں۔ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہا لیکن میں نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً اس حدیث کے سوا اور کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی اصحاب جن میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی تھے (دستر خوان پر بیٹھے ہوئے تھے) لوگوں نے گوشت کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے آگاہ کیا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ سب لوگ کھانے سے رک گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاؤ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «كلوا» فرمایا یا «اطعموا») اس لیے کہ حلال ہے یا فرمایا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہی،راوی کو اس میں شبہ ہے لیکن میں اسے نہیں کھایا کرتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ؛بَابُ خَبَرِ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ؛ایک عورت کی خبر؛جلد٩ص٩٠،حدیث نمبر ٧٢٦٧)
Bukhari Shareef : Kitabo Akhbaril Ahaade
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ أَخْبَارِ الآحَادِ
|
•