asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Bukhari Shareef

Bukhari Shareef

Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah

From 6345 to 7370

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنا قیس بن مسلم نے طارق بن شہاب سے روایت کی ہے کہ یہودی میں سے ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:اے امیر المومنین!اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی۔ترجمہ کنز الایمان:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام دین کو پسند کیا۔(المائدہ٣)تو ضرور ہم اسے عید کا دن بنا لیتے۔پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔یہ عرفہ کے دن جمعۃ المبارک کو نازل ہوئی تھی۔اسے سفیان نے مسعر سے،مسعر نے قیس سے اور قیس نے طارق بن شہاب سے سنا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٦٨)

كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ اليَهُودِ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، لَوْ أَنَّ عَلَيْنَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]، لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ، نَزَلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ، فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ» سَمِعَ سُفْيَانُ مِنْ مِسْعَرٍ، وَمِسْعَرٌ قَيْسًا، وَقَيْسٌ طَارِقًا "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7268

Bukhari Sharif Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnte Hadees No# 7269

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ، الغَدَ حِينَ بَايَعَ المُسْلِمُونَ أَبَا بَكْرٍ، وَاسْتَوَى عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَشَهَّدَ قَبْلَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَاخْتَارَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عِنْدَهُ عَلَى الَّذِي عِنْدَكُمْ، وَهَذَا الكِتَابُ الَّذِي هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَكُمْ، فَخُذُوا بِهِ تَهْتَدُوا وَإِنَّمَا هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَهُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7269

عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے مبارک سینے سے چمٹا لیا اور کہا۔اے اللہ!اس کو قرآن کریم سکھادے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٧٠)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ضَمَّنِي إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الكِتَابَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7270

ابومنہال کا بیان ہے کہ انہوں نے سنا کہ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ:بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں،اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے غنی کردیا یا مالا مال کردیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٧١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفًا، أَنَّ أَبَا المِنْهَالِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُغْنِيكُمْ - أَوْ نَعَشَكُمْ - بِالإِسْلاَمِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «وَقَعَ هَاهُنَا يُغْنِيكُمْ، وَإِنَّمَا هُوَ نَعَشَكُمْ يُنْظَرُ فِي أَصْلِ كِتَابِ الِاعْتِصَامِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7171

عبد اللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبد الملک بن مروان سے بیعت کرتے ہوئے اس کے لیے خط میں لکھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق اپنی استطاعت کے مطابق آپ کی بات سننے اور ماننے کا اقرار کرتا ہوں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٧٢)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، " كَتَبَ إِلَى عَبْدِ المَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ: وَأُقِرُّ لَكَ بِذَلِكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7272

سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے «جوامع الكلم» (مختصر الفاظ میں بہت سے معانی کو سمو دینا) کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی اور میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں رکھ دی گئیں۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو چلے گئے اور تم مزے کر رہے ہو یا اسی جیسا کوئی کلمہ کہا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ»؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ«جوامع الكلم»کے ساتھ بھیجا گیا ہوں؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٧٣)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الكَلِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَلْغَثُونَهَا، أَوْ تَرْغَثُونَهَا، أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7273

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں جن کو کچھ نشانیاں (یعنی معجزات) نہ دئیے گئے ہوں جن کے مطابق ان پر ایمان لایا گیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) انسان ایمان لائے اور مجھے جو بڑا معجزہ دیا گیا وہ قرآن مجید ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا، پس میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میں تمام انبیاء سے زیادہ پیروی کرنے والے میرے ہوں گے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ»؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ«جوامع الكلم»کے ساتھ بھیجا گیا ہوں؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٧٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مِنَ الآيَاتِ مَا مِثْلُهُ أُومِنَ، أَوْ آمَنَ، عَلَيْهِ البَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنِّي أَكْثَرُهُمْ تَابِعًا يَوْمَ القِيَامَةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7274

Bukhari Sharif Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnte Hadees No# 7275

بَابُ الِاقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا} [الفرقان: 74] " قَالَ: أَيِمَّةً نَقْتَدِي بِمَنْ قَبْلَنَا، وَيَقْتَدِي بِنَا مَنْ بَعْدَنَا " وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: " ثَلاَثٌ أُحِبُّهُنَّ لِنَفْسِي وَلِإِخْوَانِي: هَذِهِ السُّنَّةُ أَنْ يَتَعَلَّمُوهَا وَيَسْأَلُوا عَنْهَا، وَالقُرْآنُ أَنْ يَتَفَهَّمُوهُ وَيَسْأَلُوا عَنْهُ، وَيَدَعُوا النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ " حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ فِي هَذَا المَسْجِدِ، قَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ فِي مَجْلِسِكَ هَذَا، فَقَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلاَ بَيْضَاءَ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ المُسْلِمِينَ»، قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: «لِمَ؟»، قُلْتُ: لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ، قَالَ: «هُمَا المَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7275

زید بن وہب نے بیان کیا کہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امانت داری آسمان سے بعض لوگوں کے دلوں کی تہ میں نازل فرمائی گئی اور قرآن مجید نازل ہوا۔پس قرآن کریم پڑھو اور سنت کا علم حاصل کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٧٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَأَلْتُ الأَعْمَشَ، فَقَالَ: عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاءِ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، وَنَزَلَ القُرْآنُ فَقَرَءُوا القُرْآنَ، وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7276

مرہ ہمدانی کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب سے عمدہ کلام اللہ کی کتاب ہے اور سب سے عمدہ رہنمائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے اور برے کام دین میں اختراع ہیں اور تم سے کیا گیا وعدہ پورا ہوکر رہے گا اور تم عاجز کردینے والے نہیں ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٧٧)

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعْتُ مُرَّةَ الهَمْدَانِيَّ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «إِنَّ أَحْسَنَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَإِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ، وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7277

عبید اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا میں تمہارے درمیان ضرور اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٧٨۔٧٢٧٩)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7278/7279

عطاء بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: «مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7280

سعید بن میناء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ کچھ فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سوئے ہوئے تھے۔ ایک نے کہا کہ یہ سوئے ہوئے ہیں، دوسرے نے کہا کہ ان کی آنکھیں سو رہی ہیں لیکن ان کا دل بیدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے ان صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مثال ہے وہ مثال بیان کرو۔ تو ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ سو رہے ہیں، دوسرے نے کہا کہ آنکھ سو رہی ہے اور دل بیدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور وہاں کھانے کی دعوت کی اور بلانے والے کو بھیجا، پس جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کر لی وہ گھر میں داخل ہو گیا اور دستر خوان سے کھایا اور جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نہیں کی وہ گھر میں داخل نہیں ہوا اور دستر خوان سے کھانا نہیں کھایا، پھر ایک نے ان میں سے کہا کہ اس کا مطلب بیان کیجئے تاکہ بات سمجھ میں آجائے ۔ بعض نے کہا کہ یہ تو سوئے ہوئے ہیں لیکن بعض نے کہا کہ آنکھیں گو سو رہی ہیں لیکن دل بیدار ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ گھر تو جنت ہے اور بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پس جو ان کی اطاعت کرے گا وہ اللہ کی اطاعت کرے گا اور جو ان کی نافرمانی کرے گا وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اور برے لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ محمد بن عبادہ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبہ بن سعید نے بھی لیث سے روایت کیا، انہوں نے خالد بن یزید مصری سے، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے۔ (پھر یہی حدیث نقل کی)۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٣،حدیث نمبر ٧٢٨١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، حَدَّثَنَا - أَوْ سَمِعْتُ - جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " جَاءَتْ مَلاَئِكَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ العَيْنَ نَائِمَةٌ، وَالقَلْبَ يَقْظَانُ، فَقَالُوا: إِنَّ لِصَاحِبِكُمْ هَذَا مَثَلًا، فَاضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ العَيْنَ نَائِمَةٌ، وَالقَلْبَ يَقْظَانُ، فَقَالُوا: مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا، وَجَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً وَبَعَثَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ المَأْدُبَةِ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ المَأْدُبَةِ، فَقَالُوا: أَوِّلُوهَا لَهُ يَفْقَهْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ العَيْنَ نَائِمَةٌ، وَالقَلْبَ يَقْظَانُ، فَقَالُوا: فَالدَّارُ الجَنَّةُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ " تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ جَابِرٍ، خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7281

حمام کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے قرآن پاک کا علم حاصل کرنے والو!سیدھے راستے پر چلو تو تم لوگوں سے بہت زیادہ سبقت لے جاؤ گے اور اگر دائیں یا بائیں طرف جھکے تو گمراہ ترین ہو جاؤ گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٣،حدیث نمبر ٧٢٨٢)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «يَا مَعْشَرَ القُرَّاءِ اسْتَقِيمُوا فَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِيدًا، فَإِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا، لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلاَلًا بَعِيدًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7282

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں صاف طور پر تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس کی جو میری اطاعت کریں اور جو میں لایا ہوں اس کی پیروی کریں اور اس کی مثال ہے جو میری نافرمانی کریں اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اسے جھٹلائیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٣،حدیث نمبر ٧٢٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمًا فَقَالَ: يَا قَوْمِ، إِنِّي رَأَيْتُ الجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ العُرْيَانُ، فَالنَّجَاءَ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَدْلَجُوا، فَانْطَلَقُوا عَلَى مَهَلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الحَقِّ "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7283

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال فرمایا اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا اور عرب کے کئی قبائل کافر ہوگئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں سے کس بنیاد پر جنگ کریں گے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں پس جو شخص اقرار کر لے کہ لا الہٰ الا اللہ تو میری طرف سے اس کا مال اور اس کی جان محفوظ ہے۔ البتہ کسی حق کے بدل ہو تو وہ اور بات ہے (مثلاً کسی کا مال مار لے یا کسی کا خون کرے) اب اس کے باقی اعمال کا حساب اللہ کے حوالے ہے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں تو اس شخص سے جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ہے کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے، واللہ! اگر وہ مجھے ایک رسی بھی دینے سے رکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے ان کے انکار پر بھی جنگ کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے تو یہی دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سینہ جہاد کے لیے کھول دیا پس میں نے جان لیا کہ وہ حق پر ہیں۔ ابوبکیر اور عبداللہ بن صالح نے لیث سے «عناقا» (کی بجائے «عقلا») کہا یعنی بکری کا بچہ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٣،حدیث نمبر ٧٢٨٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ العَرَبِ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ، إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ "، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ المَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: «فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الحَقُّ»، قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ عَنِ اللَّيْثِ عَنَاقًا وَهُوَ أَصَحُّ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7284

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عیینہ بن حذیفہ بن بدر مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے الحر بن قیس بن حصن کے یہاں قیام کیا۔ الحر بن قیس ان لوگوں میں سے تھے جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے قریب رکھتے تھے۔ قاری حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شریک مجلس و مشورہ رہتے تھے، خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان۔ پھر عیینہ نے اپنے بھتیجے حر سے کہا: بھتیجے! کیا امیرالمؤمنین کے یہاں کچھ رسوخ حاصل ہے کہ تم میرے لیے ان کے یہاں حاضری کی اجازت لے دو؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے لیے اجازت مانگوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر انہوں نے عیینہ کے لیے اجازت چاہی (اور آپ نے اجازت دی) پھر جب عیینہ مجلس میں پہنچے تو کہا کہ اے ابن خطاب، واللہ! تم ہمیں بہت زیادہ نہیں دیتے اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے، یہاں تک کہ آپ نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کر لیا۔ اتنے میں الحر نے کہا: امیرالمؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ترجمہ کنز الایمان:”اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔“(اعراف ١٩٩)اور یہ شخص جاہلوں میں سے ہے۔ پس واللہ! عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے جب یہ آیت انہوں نے تلاوت کی تو آپ ٹھنڈے ہو گئے اور عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ اللہ کی کتاب پر فوراً عمل کرتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٤،حدیث نمبر ٧٢٨٥۔٧٢٨٦)

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ، فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الحُرِّ بْنِ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ، وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ، وَكَانَ القُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ، كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا، فَقَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ: يَا ابْنَ أَخِي، هَلْ لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الأَمِيرِ فَتَسْتَأْذِنَ لِي عَلَيْهِ؟ قَالَ: سَأَسْتَأْذِنُ لَكَ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاسْتَأْذَنَ لِعُيَيْنَةَ، فَلَمَّا دَخَلَ، قَالَ: يَا ابْنَ الخَطَّابِ، وَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا الجَزْلَ، وَمَا تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالعَدْلِ، فَغَضِبَ عُمَرُ، حَتَّى هَمَّ بِأَنْ يَقَعَ بِهِ، فَقَالَ الحُرُّ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {خُذِ العَفْوَ وَأْمُرْ بِالعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الجَاهِلِينَ} [الأعراف: 199]، وَإِنَّ هَذَا مِنَ الجَاهِلِينَ، «فَوَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلاَهَا عَلَيْهِ، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7285/7286

فاطمہ بنت منذر کا بیان ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئی۔ جب سورج گرہن ہوا تھا اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے (کہ بے وقت نماز پڑھ رہے ہیں) تو انہوں نے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سبحان اللہ! میں نے کہا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”کوئی چیز ایسی نہیں لیکن میں نے آج اس جگہ سے اسے دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت و دوزخ بھی اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم لوگ قبروں میں بھی آزمائے جاؤ گے، دجال کے فتنے کی طرح سخت ہوگا پس مومن یا مسلم مجھے یقین نہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کون سا لفظ کہا تھا تو وہ (قبر میں فرشتوں کے سوال پر کہے گا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس روشن نشانات لے کر آئے اور ہم نے ان کی دعوت قبول کی اور ایمان لائے۔ اس سے کہا جائے گا کہ آرام سے سو رہو، ہمیں معلوم تھا کہ تم مومن ہو اور منافق یا شک میں مبتلا مجھے یقین نہیں کہ ان میں سے کون سا لفظ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا تھا، تو وہ کہے گا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال پر کہ) مجھے معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا وہی میں نے بھی بک دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٤،حدیث نمبر ٧٢٨٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ المُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ وَالنَّاسُ قِيَامٌ، وَهِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي، فَقُلْتُ: مَا لِلنَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَاءِ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ قَالَتْ بِرَأْسِهَا: أَنْ نَعَمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَرَهُ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي القُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، فَأَمَّا المُؤْمِنُ - أَوِ المُسْلِمُ لاَ أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ، فَأَجَبْنَاهُ وَآمَنَّا، فَيُقَالُ: نَمْ صَالِحًا عَلِمْنَا أَنَّكَ مُوقِنٌ، وَأَمَّا المُنَافِقُ - أَوِ المُرْتَابُ لاَ أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ: لاَ أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7287

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ میں تمہیں چھوڑے ہوں کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے کثرت سوال اور انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم بھی اس سے رک جاؤ اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو بجا لاؤ جس حد تک تم میں طاقت ہو۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٤،حدیث نمبر ٧٢٨٨)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «دَعُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7288

اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔(مائدہ ١٠١) عامر بن سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٨٩)

بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ المُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَعْظَمَ المُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7289

بسر بن سعید نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں بورئے کا ایک حجرہ بنا لیا اور چند راتیں اس کے اندر نماز پڑھی پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنکارنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي المَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً، فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: «مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاَةِ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلاَةَ المَكْتُوبَةَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7290

ابوبردہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا گیا جنہیں آپ نے ناپسند کیا جب لوگوں نے بہت زیادہ پوچھنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلال آگیا اور فرمایا: پوچھو! اس پر ایک صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر دوسرا صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا میرے والد کون ہیں؟ فرمایا کہ تمہارے والد شیبہ کے مولیٰ سالم ہیں۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر غصہ کے آثار محسوس کئے تو عرض کیا ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩١)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ المَسْأَلَةَ غَضِبَ وَقَالَ: «سَلُونِي»، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: «أَبُوكَ حُذَافَةُ»، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ: «أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ»، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الغَضَبِ قَالَ: إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7291

کاتب وراد نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے وہ مجھے لکھئیے تو انہوں نے انہیں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد کہتے تھے «لا إله إلا الله،‌‌‌‏ وحده لا شريك له،‌‌‌‏ له الملك وله الحمد،‌‌‌‏ وهو على كل شىء قدير،‌‌‌‏ اللهم لا مانع لما أعطيت،‌‌‌‏ ولا معطي لما منعت،‌‌‌‏ ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”تنہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں،بادشاہی اسی کی ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے! اے اللہ جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی بزرگ کی بزرگی تجھے نفع نہیں دیتی اور انہیں یہ بھی لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےفائدہ بہت سوال کرنے سے منع کرتے تھے اور مال ضائع کرنے سے اور آپ ماؤں کی نافرمانی کرنے سے منع کرتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے اور بےضرورت مانگنے سے منع فرماتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩٢)

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ المُغِيرَةِ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى المُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ» وَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّهُ «كَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ المَالِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقُوقِ الأُمَّهَاتِ، وَوَأْدِ البَنَاتِ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7292

ثابت کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تکلف کرنے سے منع کیا گیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩٣)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ: «نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7293

زہری کا بیان ہے کہ مجھ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کسی چیز کے متعلق سوال کرنا چاہے تو سوال کرے۔ آج مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں اس کا جواب دوں گا جب تک میں اپنی اس جگہ پر ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر لوگ بہت زیادہ رونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار وہی فرماتے تھے کہ مجھ سے پوچھو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر کوئی شخص کھڑا ہوا اور پوچھا، میری جگہ کہاں ہے۔ (جنت یا جہنم میں) یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ جہنم میں۔ پھر عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا میرے والد کون ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا کہ تمہارے والد حذافہ ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ مسلسل کہتے رہے کہ مجھ سے پوچھو، مجھ سے پوچھو، آخر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہا: ہم اللہ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات کہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ابھی مجھ پر جنت اور جہنم اس دیوار کے سامنے پیش کی گئیں جب میں نماز پڑھ رہا تھا، آج کی طرح میں نے خیر و شر کو نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى المِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ، وَذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لاَ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا»، قَالَ أَنَسٌ: فَأَكْثَرَ النَّاسُ البُكَاءَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: «سَلُونِي»، فَقَالَ أَنَسٌ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «النَّارُ»، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَبُوكَ حُذَافَةُ»، قَالَ: ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ: «سَلُونِي سَلُونِي»، فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا، فِي عُرْضِ هَذَا الحَائِطِ، وَأَنَا أُصَلِّي، فَلَمْ أَرَ كَاليَوْمِ فِي الخَيْرِ وَالشَّرِّ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7294

موسیٰ بن انس کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ایک آدمی عرض گزار ہوا کہ یا نبی اللہ!میرا باپ کون ہے؟فرمایا کہ تمہارا باپ فلاں ہے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی:اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔(مائدہ ١٠١) (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٦،حدیث نمبر ٧٢٩٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي؟ قَالَ: «أَبُوكَ فُلاَنٌ»، وَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ} [المائدة: 101] الآيَةَ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7295

عبد اللہ بن عبد الرحمن کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لوگ مسلسل پوچھتے رہیں گے حتیٰ کہ کہیں کہ اللہ نے تو سب چیزوں کو پیدا کیا ہے مگر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٦،حدیث نمبر ٧٢٩٦)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7296

علقمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ یہودی ادھر سے گزرے تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ لیکن دوسروں نے کہا کہ ان سے نہ پوچھو۔ کہیں ایسی بات نہ سنا دیں جو تمہیں ناپسند ہے۔ آخر آپ کے پاس وہ لوگ آئے اور کہا: ابوالقاسم! روح کے بارے میں ہمیں بتائیے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کھڑے دیکھتے رہے میں سمجھ گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ میں تھوڑی دور ہٹ گیا، یہاں تک کہ وحی کا نزول پورا ہو گیا،پھر آپ نے فرمایا۔ترجمہ کنز الایمان:اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا۔(بنی اسرائیل٨٥) (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٦،حدیث نمبر ٧٢٩٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ، فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ اليَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ؟ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لاَ تَسْأَلُوهُ، لاَ يُسْمِعُكُمْ مَا تَكْرَهُونَ، فَقَامُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا: يَا أَبَا القَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنِ الرُّوحِ، فَقَامَ سَاعَةً يَنْظُرُ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَتَأَخَّرْتُ عَنْهُ حَتَّى صَعِدَ الوَحْيُ، ثُمَّ قَالَ: " {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي} [الإسراء: 85] "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7297

عبداللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تو دوسرے لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دی اور فرمایا کہ میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِأَفْعَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٦،حدیث نمبر ٧٢٩٨)

بَابُ الِاقْتِدَاءِ بِأَفْعَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ» فَنَبَذَهُ، وَقَالَ: «إِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا»، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7298

اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے کتاب والو اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ۔(نساء ٣٢) ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم صوم وصال (افطار و سحر کے بغیر کئی دن کے روزے) نہ رکھا کرو۔ صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم جیسا نہیں ہوں۔ میں رات گزارتا ہوں اور میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے لیکن لوگ صوم وصال سے نہیں رکے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن یا دو راتوں میں صوم وصال کیا، پھر لوگوں نے چاند دیکھ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ نظر آتا تو میں اور وصال کرتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد انہیں تنبیہ کرنا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٧،حدیث نمبر ٧٢٩٩)

بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي العِلْمِ، وَالغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالبِدَعِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَا أَهْلَ الكِتَابِ لاَ تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلاَ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ} [النساء: 171] حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لاَ تُوَاصِلُوا»، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي»، فَلَمْ يَنْتَهُوا عَنِ الوِصَالِ، قَالَ: فَوَاصَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ أَوْ لَيْلَتَيْنِ، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَأَخَّرَ الهِلاَلُ لَزِدْتُكُمْ» كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7299

ابراہیم تیمی نے بیان کیا،کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں اینٹ کے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دئیں۔ آپ تلوار لیے ہوئے تھے جس میں ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: واللہ! ہمارے پاس کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جسے پڑھا جائے اور سوا اس صحیفہ کے۔پھر انہوں نے اسے کھولا تو اس میں دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا۔ (کہ دیت میں اتنی اتنی عمر کے اونٹ دئیے جائیں) اور اس میں یہ بھی تھا کہ مدینہ طیبہ کی زمین عیر پہاڑی سے ثور پہاڑی تک حرم ہے۔ پس اس میں جو کوئی نئی بات نکالے گا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ اللہ اس سے کسی فرض یا نفل عبادت کو قبول نہیں کرے گا اور اس میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کی ذمہ داری (عہد یا امان) ایک ہے اس کا ذمہ دار ان میں سب سے ادنیٰ مسلمان بھی ہو سکتا ہے پس جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا، اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ اللہ اس کی نہ فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل عبادت اور اس میں یہ بھی تھا کہ جس نے کسی سے اپنی والیوں کی اجازت کے بغیر ولاء کا رشتہ قائم کیا اس پر اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ نہ اس کی فرض نماز قبول کرے گا نہ نفل۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٧،حدیث نمبر ٧٣٠٠)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ وَعَلَيْهِ سَيْفٌ فِيهِ صَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا مِنْ كِتَابٍ يُقْرَأُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فَنَشَرَهَا، فَإِذَا فِيهَا أَسْنَانُ الإِبِلِ، وَإِذَا فِيهَا: «المَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ عَيْرٍ إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلًا»، وَإِذَا فِيهِ: «ذِمَّةُ المُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلًا»، وَإِذَا فِيهَا: «مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7300

مسروق نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا جس سے بعض لوگوں نے پرہیز کرنا اختیار کیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو ایسی چیز سے پرہیز کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں، واللہ! میں ان سے زیادہ اللہ کے متعلق علم رکھتا ہوں اور ان سے زیادہ خشیت رکھتا ہوں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٧،حدیث نمبر ٧٣٠١)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تَرَخَّصَ فِيهِ، وَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ، فَوَاللَّهِ إِنِّي أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7301

نافع بن عمر نے بیان کیا کہ ابن ابی ملکیہ نے بیان کیا کہ امت کے دو بہترین انسان قریب تھا کہ ہلاک ہو جاتے (یعنی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی تمیم کا وفد آیا تو ان میں سے ایک صاحب (عمر رضی اللہ عنہ) نے بنی مجاشع میں سے اقرع بن حابس حنظلی رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار بنائے جانے کا مشورہ دیا (تو انہوں نے یہ درخواست کی کہ کسی کو ہمارا سردار بنا دیجئیے) اور دوسرے صاحب (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے دوسرے (قعقاع بن سعید بن زرارہ) کو بنائے جانے کا مشورہ دیا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے میری مخالف کا ارادہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری نیت آپ کی مخالفت کرنا نہیں ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دونوں بزرگوں کی آواز بلند ہو گئی۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّاکر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسولُ اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔(الحجرات ٢۔٣) ابن ابی ملکیہ نے اور ابن زبیر نے بیان کیا کہ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور انہوں نے اپنے نانا کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا کہ وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ عرض کرتے تو اتنی آہستگی سے جیسے کوئی کان میں بات کرتا ہے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بات سنائی نہ دیتی تو آپ دوبارہ پوچھتے کیا کہا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٧،حدیث نمبر ٧٣٠٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَادَ الخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ، أَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ التَّمِيمِيِّ الحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِغَيْرِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: إِنَّمَا أَرَدْتَ خِلاَفِي، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: 2] إِلَى قَوْلِهِ {عَظِيمٌ} [الحجرات: 3]، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَكَانَ عُمَرُ بَعْدُ، وَلَمْ يَذْكُرْ- ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ حَدَّثَهُ كَأَخِي السِّرَارِ لَمْ يُسْمِعْهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7302

ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں حضرت عائشہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی شدت کی وجہ سے اپنی آواز لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے اس لیے آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم کہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو شدت بکاء کی وجہ سے لوگوں کو سنا نہیں سکیں گے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حضرت یوسف کے ہم نشینوں کی طرح ہو؟ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ بعد میں حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے آپ سے بھلائی نہیں پائی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٨،حدیث نمبر ٧٣٠٣)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أُمِّ المُؤْمِنِينَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ»، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ البُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ»، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ البُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ»، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7303

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی کے پاس آیا اور کہا اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے، کیا آپ لوگ مقتول کے بدلہ میں اسے قتل کر دیں گے؟ عاصم! میرے لیے آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ دیجئیے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لیکن آپ نے اس طرح کے سوال کو ناپسند کیا اور معیوب جانا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوال کو ناپسند کیا ہے۔ اس پر عویمر رضی اللہ عنہ بولے کہ واللہ! میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا خیر عویمر آپ کے پاس آئے اور عاصم کے لوٹ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا ہے، پھر آپ نے دونوں (میاں بیوی) کو بلایا۔ دونوں آگے بڑھے اور لعان کیا۔ پھر عویمر نے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر میں اسے اب بھی اپنے پاس رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں چنانچہ اس نے فوری اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جدا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھتے رہو اس کا بچہ لال لال پست قد حرۃ کی طرح کا پیدا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ عویمر ہی کا بچہ ہے۔ عویمر نے عورت پر جھوٹا طوفان باندھا اور اور اگر سانولے رنگ کا بڑی آنکھ والا بڑے بڑے سرین والا پیدا ہو، جب میں سمجھوں گا کہ عویمر سچا ہے پھر اس عورت کا بچہ اس مکروہ صورت کا یعنی جس مرد سے وہ بدنام ہوئی تھی، اسی صورت کا پیدا ہوا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٨،حدیث نمبر ٧٣٠٤)

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ العَجْلاَنِيُّ، إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَيَقْتُلُهُ، أَتَقْتُلُونَهُ بِهِ، سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَسَائِلَ، وَعَابَهَا، فَرَجَعَ عَاصِمٌ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ المَسَائِلَ، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى القُرْآنَ خَلْفَ عَاصِمٍ، فَقَالَ لَهُ: «قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكُمْ قُرْآنًا» فَدَعَا بِهِمَا، فَتَقَدَّمَا، فَتَلاَعَنَا، ثُمَّ قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَفَارَقَهَا وَلَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهَا، فَجَرَتِ السُّنَّةُ فِي المُتَلاَعِنَيْنِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا مِثْلَ وَحَرَةٍ، فَلاَ أُرَاهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلاَ أَحْسِبُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا» فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الأَمْرِ المَكْرُوهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7304

ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت مالک بن اوس نضری نے خبر دی کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے اس سلسلہ میں ذکر کیا تھا، پھر میں مالک کے پاس گیا اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں روانہ ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اتنے میں ان کے دربان یرفاء آئے اور کہا کہ عثمان، عبدالرحمٰن، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، کیا انہیں اجازت دی جائے؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ سب لوگ اندر آ گئے اور سلام کیا اور بیٹھ گئے، پھر یرفاء نے آ کر پوچھا کہ کیا علی اور عباس کو اجازت دی جائے؟ ان حضرات کو بھی اندر بلایا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امیرالمؤمنین! میرے اور ظالم کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے۔ آپس میں دونوں نے سخت کلامی کی۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی جماعت نے کہا کہ امیرالمؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے تاکہ دونوں کو آرام حاصل ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صبر کرو میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کی اجازت سے آسمان و زمین قائم ہیں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری میراث تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خود اپنی ذات مراد لی تھی۔ جماعت نے کہا کہ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ پھر آپ علی اور عباس رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا؟ انہوں نے بھی کہا کہ ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد کہا کہ پھر میں آپ لوگوں سے اس بارے میں گفتگو کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فئے کے مال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت عطاء فرمائی جو آپ کے سوا کسی دوسرے کو عطاء نہیں فرمائی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان:اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان ان سے تو تم نے نہ ان پر اپنے گھوڑے دوڑاے تھے اور نہ اونٹ۔(الحشر ٢٨)تو یہ مال خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، پھر واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے سوا کسی کو نہیں دیا اور نہ آپ پر کسی کو ترجیح دی اور آپ لوگوں کو عطاء فرماتے رہے اور ان کے درمیان تقسيم فرماتے رہے حتیٰ کہ اس میں سے یہی مال بچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال سے اپنے اہل و عیال کا سال کا خرچ چلاتے اور باقی کو لے کر اللہ کے مال کی طرح خرچ کرتے رہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر اس کے مطابق عمل کیا۔ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ کو اس کا علم ہے؟ صحابہ نے کہا کہ ہاں پھر آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے کہا، میں آپ دونوں حضرات کو بھی اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ لوگوں کو اس کا علم ہے؟ انہوں نے بھی کہا کہ ہاں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہونے کی حیثیت سے اس پر قبضہ کیا اور اس میں اسی طرح عمل کیا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ آپ دونوں حضرات بھی یہیں موجود تھے۔ آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر یہ بات کہی اور آپ لوگوں کا خیال تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اس معاملے میں خطاکار ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اس معاملے میں سچے اور نیک اور سب سے زیادہ حق کی پیروی کرنے والے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وفات دی اور میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوا اس طرح میں نے بھی اس جائیداد کو اپنے قبضے میں دو سال تک رکھا اور اس میں اسی کے مطابق عمل کرتا رہا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، پھر آپ دونوں حضرات میرے پاس آئے اور آپ لوگوں کا معاملہ ایک ہی تھا، کوئی اختلاف نہیں تھا۔ آپ (عباس رضی اللہ عنہ!) آئے اپنے بھائی کے لڑکے کی طرف سے اپنی میراث لینے اور یہ (علی رضی اللہ عنہ) اپنی بیوی کی طرف سے ان کے والد کی میراث کا مطالبہ کرنے آئے۔ میں نے تم سے کہا کہ یہ جائیداد تقسیم تو نہیں ہو سکتی لیکن تم لوگ چاہو تو میں اہتمام کے طور پر آپ کو یہ جائیداد دے دوں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ لوگوں پر اللہ کا عہد اور اس کی میثاق ہے کہ اس کو اسی طرح خرچ کرو گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور جس طرح میں نے اپنے زمانہ ولایت میں کیا اگر یہ منظور نہ ہو تو پھر مجھ سے اس معاملہ میں بات نہ کریں۔ آپ دونوں حضرات نے کہا کہ اس شرط کے ساتھ ہمارے حوالہ جائیداد کر دیں۔ چنانچہ میں نے اس شرط کے ساتھ آپ کے حوالہ جائیداد کر دی تھی۔ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا میں نے ان لوگوں کو اس شرط کے ساتھ جائیداد دی تھی۔ جماعت نے کہا کہ ہاں، پھر آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا میں نے جائیداد آپ لوگوں کو اس شرط کے ساتھ حوالہ کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر آپ نے کہا، کیا آپ لوگ مجھ سے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہیں۔ پس اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، اس میں، اس کے سوا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ اگر آپ لوگ اس کا انتظام نہیں کر سکتے تو پھر میرے حوالہ کر دو میں اس کا بھی انتظام کر لوں گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٩۔١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ النَّصْرِيُّ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي ذِكْرًا مِنْ ذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَالِكٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: انْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى عُمَرَ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ، قَالَ: نَعَمْ، فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا وَجَلَسُوا، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ، فَأَذِنَ لَهُمَا، قَالَ العَبَّاسُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ الظَّالِمِ اسْتَبَّا، فَقَالَ الرَّهْطُ: - عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ -: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا، وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الآخَرِ، فَقَالَ: اتَّئِدُوا، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ؟ قَالَ الرَّهْطُ: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالاَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الأَمْرِ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا المَالِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ} [الحشر: 6] الآيَةَ، فَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلاَ اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، وَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا المَالُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا المَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَعَمِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ حَيَاتَهُ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ: هَلْ تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ: أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ، هَلْ تَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالاَ: نَعَمْ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ - وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ - تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهَا كَذَا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي وَكَلِمَتُكُمَا عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ، جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكِ، وَأَتَانِي هَذَا يَسْأَلُنِي نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ، لَتَعْمَلاَنِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِمَا عَمِلَ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ، وَبِمَا عَمِلْتُ فِيهَا مُنْذُ وَلِيتُهَا، وَإِلَّا فَلاَ تُكَلِّمَانِي فِيهَا، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا بِذَلِكَ، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ؟ قَالَ الرَّهْطُ: نَعَمْ، فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ، هَلْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ؟ قَالاَ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَوَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، لاَ أَقْضِي فِيهَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا- إِلَيَّ، فَأَنَا أَكْفِيكُمَاهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7305

اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ عاصم نے بیان کیا،کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے؟ فرمایا کہ ہاں فلاں جگہ عیر سے فلاں جگہ (ثور) تک۔ اس علاقہ کا درخت نہیں کاٹا جائے گا جس نے اس حدود میں کوئی نئی بات شروع کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔عاصم کا بیان ہے کہ پھر مجھے موسیٰ بن انس نے بتایااور انہوں نے"اودی محدثا"کہا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ آوَى مُحْدِثًا؛جو شخص بدعتی کو ٹھکانا دے، اس کو اپنے پاس ٹھہرائے؛جلد٩ص١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٦)

بَابُ إِثْمِ مَنْ آوَى مُحْدِثًا رَوَاهُ عَلِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، لاَ يُقْطَعُ شَجَرُهَا، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»، قَالَ عَاصِمٌ: فَأَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: «أَوْ آوَى مُحْدِثًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7306

{ولا تقف} لا تقل {ما ليس لك به علم}(الإسراء ٣٦ ‌‌‌‏ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ بنی اسرائیل میں) «ولا تقف‏، لا تقل، ما ليس لك به علم‏» یعنی ”نہ کہو وہ بات جس کا تم کو علم نہ ہو۔“ عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ حج کیا تو میں نے انہیں یہ کہتے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ علم کو، اس کے بعد کہ تمہیں دیا ہے ایک دم سے نہیں اٹھا لے گا بلکہ اسے اس طرح ختم کرے گا کہ علماء کو ان کے علم کے ساتھ اٹھا لے گا پھر کچھ جاہل لوگ باقی رہ جائیں گے، ان سے فتویٰ پوچھا جائے گا اور وہ فتویٰ اپنی رائے کے مطابق دیں گے۔ پس وہ لوگوں کو گمراہ کریں گے اور وہ خود بھی گمراہ ہوں گے۔ پھر میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی۔ ان کے بعد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے دوبارہ حج کیا تو ام المؤمنین نے مجھ سے کہا کہ بھانجے عبداللہ کے پاس جاؤ اور میرے لیے اس حدیث کو سن کر خوب مضبوط کر لو جو حدیث تم نے مجھ سے ان کے واسطہ سے بیان کی تھی۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے وہ حدیث بیان کی، اسی طرح جیسا کہ وہ پہلے مجھ سے بیان کر چکے تھے، پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی تو انہیں تعجب ہوا اور بولیں کہ واللہ عبداللہ بن عمرو نے خوب یاد رکھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَمِّ الرَّأْيِ وَتَكَلُّفِ الْقِيَاسِ؛راے کی مذمت اور قیاس میں تکلف کرنا؛جلد٩ص١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٧)

بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَمِّ الرَّأْيِ وَتَكَلُّفِ القِيَاسِ {وَلاَ تَقْفُ} [الإسراء: 36] «لاَ تَقُلْ» {مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ} [هود: 46] حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: حَجَّ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْزِعُ العِلْمَ بَعْدَ أَنْ أَعْطَاكُمُوهُ انْتِزَاعًا، وَلَكِنْ يَنْتَزِعُهُ مِنْهُمْ مَعَ قَبْضِ العُلَمَاءِ بِعِلْمِهِمْ، فَيَبْقَى نَاسٌ جُهَّالٌ، يُسْتَفْتَوْنَ فَيُفْتُونَ بِرَأْيِهِمْ، فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ»، فَحَدَّثْتُ بِهِ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَجَّ بَعْدُ فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَاسْتَثْبِتْ لِي مِنْهُ الَّذِي حَدَّثْتَنِي عَنْهُ، فَجِئْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ كَنَحْوِ مَا حَدَّثَنِي، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا فَعَجِبَتْ فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ حَفِظَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7307

اعمش کا بیان ہے کہ میں نے ابووائل سے پوچھا تم صفین کی لڑائی میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں، پھر میں نے سہل بن حنیف کو کہتے سنا(جنگ صفین کے موقع پر) کہا کہ لوگوں! اپنے دین کے مقابلہ میں اپنی رائے کو بےحقیقت سمجھو میں نے اپنے آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے دن (صلح حدیبیہ کے موقع پر) دیکھا کہ اگر میرے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہٹنے کی طاقت ہوتی تو میں اس دن آپ سے انحراف کرتا (اور کفار قریش کے ساتھ ان شرائط کو قبول نہ کرتا) اور ہم نے جب کسی مہم پر اپنی تلواریں کاندھوں پر رکھیں (لڑائی شروع کی) تو ان تلواروں کی بدولت ہم کو ایک آسانی مل گئی جسے ہم پہچانتے تھے مگر اس مہم میں (یعنی جنگ صفین میں مشکل میں گرفتار ہیں دونوں طرف والے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں) ابواعمش نے کہا کہ ابووائل نے بتایا کہ میں صفین میں موجود تھا اور صفین کی لڑائی بھی کیا بری لڑائی تھی جس میں مسلمان آپس میں کٹ مرے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَمِّ الرَّأْيِ وَتَكَلُّفِ الْقِيَاسِ؛راے کی مذمت اور قیاس میں تکلف کرنا؛جلد٩ص١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٨)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ، هَلْ شَهِدْتَ صِفِّينَ؟ قَالَ: نَعَمْ فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ، وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ لَرَدَدْتُهُ، وَمَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا، إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ، غَيْرَ هَذَا الأَمْرِ»، قَالَ: وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ «شَهِدْتُ صِفِّينَ وَبِئْسَتْ صِفُّونَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7308

جیسا کہ فرمان الہی ہے کہ جو تمہیں اللہ نے دیکھایا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق دریافت کیا گیا تو خاموش ہوگئے حتیٰ کہ وحی نازل ہوئی۔ محمد بن المنکر نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عیادت کے لیے تشریف لائے۔ یہ دونوں بزرگ پیدل چل کر آئے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، اس سے مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور بعض اوقات سفیان نے یہ الفاظ بیان کئے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کے بارے میں کس طرح فیصلہ کروں، میں اپنے مال کا کیا کروں؟ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ مِمَّا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَيَقُولُ: «لاَ أَدْرِي»لم يجب حتى ينزل عليه الوحي، ولم يقل براي ولا بقياس لقوله تعالى: {بما اراك الله}نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک وحی نازل نہ ہوتی کچھ نہ فرماتے اور فرماتے میں نہیں جانتا حتیٰ کہ وحی نازل ہو جاتی اور اپنی رائے اور قیاس سے کچھ نہ فرماتے؛جلد٩ص١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٩)

بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ مِمَّا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيْهِ الوَحْيُ، فَيَقُولُ: «لاَ أَدْرِي»، أَوْ لَمْ يُجِبْ حَتَّى يُنْزَلَ عَلَيْهِ الوَحْيُ، وَلَمْ يَقُلْ بِرَأْيٍ وَلاَ بِقِيَاسٍ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ} [النساء: 105] وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ فَسَكَتَ حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ المُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: مَرِضْتُ فَجَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي-، وَأَبُو بَكْرٍ، وَهُمَا مَاشِيَانِ فَأَتَانِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَبَّ وَضُوءَهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، - وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ - كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟ - كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي؟ - قَالَ: فَمَا أَجَابَنِي بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ: «آيَةُ المِيرَاثِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7309

ابوصالح ذکوان نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی۔ (یعنی ان کی وفات ہو جائے گی) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، لَيْسَ بِرَأْيٍ وَلاَ تَمْثِيلٍ؛حضور نے اپنی امت کے مردوں اور عورتوں کو اپنی رائے اور تمثیل سے نہیں بلکہ اللہ کے سکھانے کے مطابق تعلیم دی؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١٠)

بَابُ تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، لَيْسَ بِرَأْيٍ وَلاَ تَمْثِيلٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ: «اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا»، فَاجْتَمَعْنَ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلاَثَةً، إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ»، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوِ اثْنَيْنِ؟ قَالَ: فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7310

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ کبھی مغلوب نہ ہوگا غالب رہے گا حتیٰ کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ لوگ غالب ہی ہوں گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ» . وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ؛فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میری امت کا ایک گروہ کبھی مغلوب نہ ہوگا غالب رہے گا،وہ حق پرلڑتے رہیں گے اور وہ اہل علم ہیں؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١١)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الحَقِّ» يُقَاتِلُونَ وَهُمْ أَهْلُ العِلْمِ " حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7311

حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ، وہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ» . وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ؛فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میری امت کا ایک گروہ کبھی مغلوب نہ ہوگا غالب رہے گا،وہ حق پرلڑتے رہیں گے اور وہ اہل علم ہیں؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١٢)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَخْطُبُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ، وَلَنْ يَزَالَ أَمْرُ هَذِهِ الأُمَّةِ مُسْتَقِيمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَوْ: حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7312

عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی۔ترجمہ کنز الایمان:تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے۔(انعام٦٥)تو آپ نے کہا کہ میں تیرے وجہ کریم کی پناہ لیتا ہوں:یا تمہارے پاؤں کے تلے سے:تو آپ نے کہا کہ میں تیرے وجہ کریم کی پناہ لیتا ہوں:پھر نازل ہوئی:یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھاے۔(انعام ٦٥)فرمایا یہ دونوں باتیں زیادہ سہل ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا}:ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کر کے؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١٣)

بَابُ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا} [الأنعام: 65] حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ هُوَ القَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ} [الأنعام: 65]، قَالَ: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ»، {أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ} [الأنعام: 65] قَالَ: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ»، فَلَمَّا نَزَلَتْ: {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} [الأنعام: 65] قَالَ: «هَاتَانِ أَهْوَنُ، - أَوْ أَيْسَرُ -»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7313

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہیں۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ کہا کہ سرخ ہیں۔ پوچھا کہ ان میں کوئی بھورا بھی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ان میں بھورا بھی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَنْ شَبَّهَ أَصْلاً مَعْلُومًا بِأَصْلٍ مُبَيَّنٍ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ حُكْمَهُمَا، لِيُفْهِمَ السَّائِلَ؛جو معلوم کو واضح سے تشبیہ دے کر اللہ کا حکم بیان کرے تو سائل کو سمجھ آجائے؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١٤)

بَابُ مَنْ شَبَّهَ أَصْلًا مَعْلُومًا بِأَصْلٍ مُبَيَّنٍ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ حُكْمَهُمَا، لِيُفْهِمَ السَّائِلَ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الفَرَجِ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ، وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟»، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا أَلْوَانُهَا؟»، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟»، قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: «فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِرْقٌ نَزَعَهَا، قَالَ: «وَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ»، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7314

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ (ادائیگی سے پہلے ہی) وفات پا گئیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے حج کر لو۔ تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو تم اسے پورا کرتیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس قرض کو بھی پورا کر جو اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس قرض کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَنْ شَبَّهَ أَصْلاً مَعْلُومًا بِأَصْلٍ مُبَيَّنٍ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ حُكْمَهُمَا، لِيُفْهِمَ السَّائِلَ؛جو معلوم کو واضح سے تشبیہ دے کر اللہ کا حکم بیان کرے تو سائل کو سمجھ آجائے؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٥)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟»، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: «اقْضُوا اللَّهَ الَّذِي لَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ بِالوَفَاءِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7315

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(مائدہ ٤٥) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صاحب حکمت کی مدح فرمائی ہے جو حکم بھرے فیصلے کرے اور اس کی تعلیم دے اور اپنی جانب سے کوئی تکلیف نہ کرے اور خلفا سے مشورے کرے اور اہل علم سے پوچھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حسد دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے، ایک وہ جیسے اللہ نے مال دیا اور اسے (مال کو) راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى؛قاضیوں کے اجتہاد سے متعلق؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ القُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لِقَوْلِهِ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: 45] «وَمَدَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الحِكْمَةِ حِينَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا» لاَ يَتَكَلَّفُ مِنْ قِبَلِهِ، وَمُشَاوَرَةِ الخُلَفَاءِ وَسُؤَالِهِمْ أَهْلَ العِلْمِ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لاَ حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الحَقِّ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7316

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے متعلق (صحابہ سے) پوچھا۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے پیٹ پر مار دیا گیا (جبکہ وہ حاملہ ہو) ہو اور اس کا ناتمام (ادھورا) بچہ گر گیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے سنی ہے۔ پوچھا کیا حدیث ہے؟ میں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اب چھوٹ نہیں سکتے یہاں تک کہ تم نے جو حدیث بیان کی ہے اس سلسلے میں نجات کا کوئی ذریعہ (یعنی کوئی شہادت کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی) لاؤ۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى؛قاضیوں کے اجتہاد سے متعلق؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ عَنْ إِمْلاَصِ المَرْأَةِ، هِيَ الَّتِي يُضْرَبُ بَطْنُهَا فَتُلْقِي جَنِينًا، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟ فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِيهِ غُرَّةٌ، عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ»، فَقَالَ: لاَ تَبْرَحْ حَتَّى تَجِيئَنِي بِالْمَخْرَجِ فِيمَا قُلْتَ،

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7317

پھر میں باہر نکلا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور میں انہیں لایا اور انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں ایک غلام یا باندی کی تاوان ہے۔ ہشام بن عروہ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی الزناد نے بھی اپنے باپ سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى؛قاضیوں کے اجتہاد سے متعلق؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٨)

فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَجِئْتُ بِهِ، فَشَهِدَ مَعِي: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِيهِ غُرَّةٌ، عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ» تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ المُغِيرَةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7318

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں، ایران یا روم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں یہی تو ہیں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ»فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے طریقوں کی پیروی کروگے؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٩)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ» حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِأَخْذِ القُرُونِ قَبْلَهَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ»-، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَفَارِسَ وَالرُّومِ؟ فَقَالَ: «وَمَنِ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7319

عطاء بن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔“ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ»فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے طریقوں کی پیروی کروگے؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ، مِنَ اليَمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ»، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اليَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: «فَمَنْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7320

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں۔(نحل ٢٥) مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے (گناہ کا) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی پڑے گا۔“ بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ”اس کے خون کا“ کیونکہ اسی نے سب سے پہلا وہی ہے جس نے سب سے پہلے قتل کرنا ایجاد کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ أَوْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً؛گمراہی کی جانب بلانا یا برا طریقہ ایجاد کرنا گناہ ہے؛جلد٩ص١٠٣،حدیث نمبر ٧٣٢١)

بَابُ إِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ، أَوْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَة لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ} [النحل: 25] الآيَةَ حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا - وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ مِنْ دَمِهَا - لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ القَتْلَ أَوَّلًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7321

محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ میں اس کو بخار آنے لگی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت توڑ دیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ وہ پھر آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کیا۔ اس کے بعد وہ مدینہ سے نکل کر اپنے جنگل کو چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی طرح ہے جو اپنی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور پاکیزگی کو رہنے دیتا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٣،حدیث نمبر ٧٣٢٢)

بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ العِلْمِ، وَمَا أَجْمَعَ عَلَيْهِ الحَرَمَانِ مَكَّةُ، وَالمَدِينَةُ، وَمَا كَانَ بِهَا مِنْ مَشَاهِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالمُهَاجِرِينَ، وَالأَنْصَارِ، وَمُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالمِنْبَرِ وَالقَبْرِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا المَدِينَةُ كَالكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طِيبُهَا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7322

عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (قرآن مجید) پڑھایا کرتا تھا۔ جب وہ آخری حج آیا جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو عبدالرحمٰن نے منیٰ میں مجھ سے کہا کاش تم امیرالمؤمنین کو آج دیکھتے جب ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اگر امیرالمؤمنین کا انتقال ہو جائے تو ہم فلاں سے بیعت کر لیں گے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آج سہ پہر کو کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سناؤں گا اور ان کو ڈراؤں کا جو (عام مسلمانوں کے حق کو) غصب کرنا چاہتے ہیں اور خود اپنی رائے سے امیر منتخب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ موسم حج میں ہر طرح کے ناواقف اور معمولی لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کثرت سے آپ کی مجلس میں جمع ہو جائیں گے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کے ارشادات کو درست طور پر پیش نہیں کریں گے اس لیے جب آپ مدینے پہنچیں جو دار الہجرت اور دار السنہ ہے تو وہاں آپ کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، مہاجرین و انصار خالص ایسے ہی لوگ ملیں گے وہ آپ کی بات کو یاد رکھیں گے اور اس کا مطلب بھی ٹھیک بیان کریں گے۔ اس پر امیرالمؤمنین نے کہا کہ واللہ! میں مدینہ پہنچ کر جو پہلا خطبہ دوں گا اس میں اس کا بیان کروں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینے آئے تو عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دوپہر ڈھلے برآمد ہوئے اور خطبہ سنایا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر قرآن اتارا، اس قرآن میں رجم کی آیت بھی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٣،حدیث نمبر ٧٣٢٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ أُقْرِئُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَلَمَّا كَانَ آخِرُ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِمِنًى: لَوْ شَهِدْتَ أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ أَتَاهُ رَجُلٌ قَالَ: إِنَّ فُلاَنًا يَقُولُ: لَوْ مَاتَ أَمِيرُ المُؤْمِنِينَ لَبَايَعْنَا فُلاَنًا، فَقَالَ عُمَرُ: «لَأَقُومَنَّ العَشِيَّةَ، فَأُحَذِّرَ هَؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ»، قُلْتُ: لاَ تَفْعَلْ، فَإِنَّ المَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ، يَغْلِبُونَ عَلَى مَجْلِسِكَ، فَأَخَافُ أَنْ لاَ يُنْزِلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَيُطِيرُ بِهَا كُلُّ مُطِيرٍ، فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ المَدِينَةَ دَارَ الهِجْرَةِ - وَدَارَ السُّنَّةِ، فَتَخْلُصَ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ المُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ، فَيَحْفَظُوا مَقَالَتَكَ وَيُنْزِلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لَأَقُومَنَّ بِهِ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ»، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَدِمْنَا المَدِينَةَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحَقِّ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الكِتَابَ، فَكَانَ فِيمَا أُنْزِلَ آيَةُ الرَّجْمِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7323

محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے کیسری رنگ میں رنگے ہوئے زیب تن کر رکھے تھے۔ انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے،حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، حالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٤)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَّانٍ، فَتَمَخَّطَ، فَقَالَ: «بَخْ بَخْ، أَبُو هُرَيْرَةَ يَتَمَخَّطُ فِي الكَتَّانِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ مَغْشِيًّا عَلَيَّ، فَيَجِيءُ الجَائِي فَيَضَعْ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي، وَيُرَى أَنِّي مَجْنُونٌ، وَمَا بِي مِنْ جُنُونٍ مَا بِي إِلَّا الجُوعُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7324

عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں میں اس وقت کم سن تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری نہ ہوتی تو کم عمری کے سبب میں آپ کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس جھنڈے کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے اور وہاں آپ نے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں زیوروں کا صدقہ دینے کے لیے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا، وہ آئے اور صدقہ میں ملی ہوئی چیزوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَشَهِدْتَ العِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلاَ مَنْزِلَتِي مِنْهُ، مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، «فَأَتَى العَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلاَ إِقَامَةً، ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ» فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ، «فَأَمَرَ بِلاَلًا فَأَتَاهُنَّ»، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7325

عبد اللہ بن دینار نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں کبھی پیدل اور کبھی سوار ہو کر تشریف لایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٦)

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءً مَاشِيًا وَرَاكِبًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7326

عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبد الرحمن بن زبیر سے فرمایا کہ مجھے میری سوکن کے پاس دفن کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھر میں دفن نہ کرنا کیونکہ میں اپنے ذکر کو ناپسند کرتی ہوں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: «ادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي، وَلاَ تَدْفِنِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي البَيْتِ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُزَكَّى»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7327

ہشام نے اپنے والد ماجد عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے پیغام بھیجا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے پاس دفن کیا جاؤں۔انہوں نے کہا۔ہاں خدا کی قسم،راوی کا بیان ہے کہ صحابہ کرام میں سے جب کوئی آپ کے پاس یہ پیغام بھیجتا تو فرماتیں۔خدا کی قسم،میں ان پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٨)

وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ: ائْذَنِي لِي أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ، فَقَالَتْ: «إِي وَاللَّهِ»، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرْسَلَ إِلَيْهَا مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَتْ: «لاَ وَاللَّهِ، لاَ أُوثِرُهُمْ بِأَحَدٍ أَبَدًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7328

ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر عوالی میں تشریف لاتے اور سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔لیث نے یونس سے اتنا زائد روایت کیا ہے کہ عوالی چار یا تین میل کے فاصلے پر ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٩)

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي العَصْرَ، فَيَأْتِي العَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ»، وَزَادَ اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ: وَبُعْدُ العَوَالِيَ أَرْبَعَةُ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلاَثَةٌ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7329

جعید بن عبد الرحمن نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا صعاع تمہارے ایک مد اور تہائی مد کے برابر تھا اور اب اس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٣٠)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا القَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الجُعَيْدِ، سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: «كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ اليَوْمَ، وَقَدْ زِيدَ فِيهِ» سَمِعَ القَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الجُعَيْدَ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7330

اسحاق بن عبداللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:اے اللہ!ان کے پیمانوں میں برکت دے اور انہیں ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما یعنی اہل مدینہ منورہ کو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ- بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ» يَعْنِي أَهْلَ المَدِينَةِ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7331

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے رجم کا حکم دیا اور انہیں مسجد کی ایک جگہ کے قریب رجم کیا گیا جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٢)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ اليَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا، قَرِيبًا مِنْ حَيْثُ تُوضَعُ الجَنَائِزُ عِنْدَ المَسْجِدِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7332

عمرو مولیٰ مطلب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ احد پہاڑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (راستے میں) دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اور میں اس کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی علاقہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں۔ اس روایت کی متابعت حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احد کے متعلق کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٣)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى المُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ، فَقَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا» تَابَعَهُ سَهْلٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُحُدٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7333

ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مسجد نبوی کی جانب قبلہ والی دیوار اور منبر کے درمیان اتنا فاصلہ تھا جہاں سے بکری گزر سکے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ: «أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ جِدَارِ المَسْجِدِ مِمَّا يَلِي القِبْلَةَ وَبَيْنَ المِنْبَرِ مَمَرُّ الشَّاةِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7334

حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض کوثر پر ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٥)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7335

نافع نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دوڑ کرائی اور وہ گھوڑے چھوڑے گئے جو گھوڑ دوڑ کیلئے تیار کئے گئے تھے تو ان کے دوڑنے کا میدان مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک تھا اور جو تیار نہیں کئے گئے تھے ان کے دوڑنے کا میدان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک تھا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں تھے جنہوں نے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٦)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ «سَابَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الخَيْلِ، فَأُرْسِلَتِ الَّتِي ضُمِّرَتْ مِنْهَا، وَأَمَدُهَا إِلَى الحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الوَدَاعِ، وَالَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ أَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ» وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ فِيمَنْ سَابَقَ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7336

قتیبہ،لیث،نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے (دوسری سند) اور مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ اور ابن ادریس نے خبر دی اور ابن ابی غنیہ نے خبر دی، انہیں ابوحیان نے، انہیں شعبی نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر (خطبہ دیتے) سنا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، وَابْنُ إِدْرِيسَ، وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «سَمِعْتُ عُمَرَ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7337

زہری کا بیان ہے کہ مجھے سائب بن یزید نے خبر دی، انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے ہمیں خطاب دے رہے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، «سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ خَطَبَنَا عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7338

ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ لگن رکھی جاتی تھی اور ہم سب اس میں سے پانی استعمال کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدْ «كَانَ يُوضَعُ لِي وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا المِرْكَنُ، فَنَشْرَعُ فِيهِ جَمِيعًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7339

عاصم احوال نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور قریش کے درمیان میرے اس گھر میں بھائی چارہ کرایا جو مدینہ منورہ میں ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٤٠)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الأَنْصَارِ وَقُرَيْشٍ فِي دَارِي الَّتِي بِالْمَدِينَةِ، وَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7340

ابو بردہ نے بیان کیا، کہا کہ میں مدینہ منورہ آیا اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ گھر چلو تو میں تمہیں اس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور پھر ہم اس نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھیں گے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا اور انہوں نے مجھے ستو پلایا اور کھجور کھلائی اور میں نے ان کے نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٤١۔٧٣٤٢)

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ المَدِينَةَ فَلَقِيَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ، فَقَالَ لِي: " انْطَلِقْ إِلَى المَنْزِلِ، فَأَسْقِيَكَ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ صَلَّى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَسَقَانِي سَوِيقًا، وَأَطْعَمَنِي تَمْرًا، وَصَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7341/7342

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس آج رات ایک میرے رب کی طرف سے آنے والا آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی عقیق میں تھے اور کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھئیے اور کہئیے کہ عمرہ اور حج (کی نیت کرتا ہوں) اور ہارون بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے علی نے بیان کیا (ان الفاظ کے ساتھ) «عمرة في حجة‏.‏»۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٣)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، وَهُوَ بِالعَقِيقِ، أَنْ صَلِّ فِي هَذَا الوَادِي المُبَارَكِ، وَقُلْ: عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ " وَقَالَ هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ: «عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7343

عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد کے لیے مقام قرن، جحفہ کو اہل شام کے لیے اور ذوالحلیفہ کو اہل مدینہ کے لیے میقات مقرر کیا۔ بیان کیا کہ میں نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل یمن کے لیے یلملم (میقات) ہے اور عراق کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عراق نہیں تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: وَقَّتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَرْنًا لِأَهْلِ نَجْدٍ، وَالجُحْفَةَ لِأَهْلِ الشَّأْمِ، وَذَا الحُلَيْفَةِ لِأَهْلِ المَدِينَةِ»، قَالَ: سَمِعْتُ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَلِأَهْلِ اليَمَنِ يَلَمْلَمُ»، وَذُكِرَ العِرَاقُ فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ عِرَاقٌ يَوْمَئِذٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7344

سالم بن عبداللہ نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ رات کے آخری حصے میں مقام ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے، خواب دکھایا گیا اور کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ المُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الفُضَيْلُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ أُرِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الحُلَيْفَةِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 6345

سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں یہ دعا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پڑھتے «اللهم ربنا ولك الحمد» ”اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی ترجمہ کنز الایمان:یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں۔(آل عمران ١٢٨) (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٦)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: 128] حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي صَلاَةِ الفَجْرِ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا، وَلَكَ الحَمْدُ فِي الأَخِيرَةِ»، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ العَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: 128]

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7346

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہیں ان کے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے اور فاطمہ بنت رسول اللہ علیہا السلام والصلٰوۃ کے گھر ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے تو ہم کو اٹھا دے گا۔ جوں ہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ پیٹھ موڑ کر واپس جانے لگے اور کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے آپ اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ترجمہ کنز الایمان”اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے“(عنکبوت ٤٦)امام بخاری نے فرمایا کہ اگر کوئی تمہارے پاس رات میں آئے تو «طارق» کہلائے گا اور قرآن میں جو «والطارق» کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ستارہ ہے اور «ثاقب» بمعنی چمکتا ہوا۔ عرب لوگ آگ جلانے والے سے کہتے ہیں «ثقب نارك» یعنی آگ روشن کر۔ اس سے لفظ «ثاقب» ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً}ترجمہ کنز الایمان:اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔(کھف ٥٤)اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اے مسلمانو!کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر"؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٧)

بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54] وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلاَ تُجَادِلُوا أَهْلَ الكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [العنكبوت: 46] حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ - بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: «أَلاَ تُصَلُّونَ؟»، فَقَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعَهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ، يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54]، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: " يُقَالُ: مَا أَتَاكَ لَيْلًا فَهُوَ طَارِقٌ "، وَيُقَالُ {الطَّارِقُ} [الطارق: 2]: «النَّجْمُ»، وَ {الثَّاقِبُ} [الطارق: 3]: «المُضِيءُ»، يُقَالُ: «أَثْقِبْ نَارَكَ لِلْمُوقِدِ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7347

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد نبوی میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ چنانچہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک ہم بیت المدارس تک پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر انہیں آواز دی اور فرمایا، اے یہودیو! اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے۔ اس پر یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم! آپ نے اللہ کا حکم پہنچا دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے فرمایا کہ یہی میرا مقصد ہے، اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے۔ انہوں نے کہا ابوالقاسم! آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات تیسری بار کہی اور فرمایا، جان لو کہ ساری زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس جگہ سے باہر کر دوں۔ پس تم میں سے جو کوئی اپنی جائیداد کے بدلے میں کوئی قیمت پاتا ہو تو اسے بیچ لے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے (تم کو یہ شہر چھوڑنا ہو گا)۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً}ترجمہ کنز الایمان:اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔(کھف ٥٤)اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اے مسلمانو!کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر"؛جلد٩ص١٠٧،حدیث نمبر ٧٣٤٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي المَسْجِدِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ»، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ المِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا»، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا القَاسِمِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ أُرِيدُ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا»، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا القَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ أُرِيدُ»، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: «اعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَرْضِ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7348

ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل۔(بقرہ ١٤٣)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت کو لازم پکڑنے کا حکم فرمایا اس سے اہل علم کی جماعت مراد ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا، کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ عرض کریں گے کہ ہاں، اے رب! پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ نوح علیہ السلام سے پوچھے گا، تمہارے گواہ کون ہیں؟ نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت پھر تمہیں لایا جائے گا اور تم لوگ ان کے حق میں شہادت دو گے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(بقرہ ١٤٣) اسحاق بن منصور سے جعفر بن عون نے روایت کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان فرمائی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل(بقرہ ١٤٣؛جلد٩ص١٠٧،حدیث نمبر ٧٣٤٩)

بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} [البقرة: 143] وَمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُزُومِ الجَمَاعَةِ، وَهُمْ أَهْلُ العِلْمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِنُوحٍ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، يَا رَبِّ، فَتُسْأَلُ أُمَّتُهُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا جَاءَنَا مِنْ نَذِيرٍ، فَيَقُولُ: مَنْ شُهُودُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيُجَاءُ بِكُمْ، فَتَشْهَدُونَ "، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} [البقرة: 143]- قَالَ: عَدْلًا - {لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ، وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} [البقرة: 143]، وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7349

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کام کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہے۔ سعید بن مسیب نے حضرت ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عدی الانصاری کے ایک صاحب سودا بن عزیہ کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تو وہ عمدہ قسم کی کھجور وصول کر کے لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم ایسی ایک صاع کھجور دو صاع (خراب) کھجور کے بدلے خرید لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو بلکہ (جنس کو جنس کے بدلے) برابر برابر میں خریدو، یا یوں کرو کہ ردی کھجور نقدی بیچ ڈالو پھر یہ کھجور اس کے بدلے خرید لو، اسی طرح ہر چیز کو جو تول کر بکتی ہے اس کا حکم ان ہی چیزوں کا ہے جو ناپ کر بکتی ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ إِذَا اجْتَهَدَ الْعَامِلُ أَوِ الْحَاكِمُ فَأَخْطَأَ خِلاَفَ الرَّسُولِ مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ، فَحُكْمُهُ مَرْدُودٌ؛عامل یا حاکم کا اجتہاد اگر بغیر علم کے غلط یا خلاف رسول ہو تو وہ مردود ہے؛جلد٩ص١٠٧،حدیث نمبر ٧٣٥٠۔٧٣٥١)

بَابُ إِذَا اجْتَهَدَ العَامِلُ أَوِ الحَاكِمُ، فَأَخْطَأَ خِلاَفَ الرَّسُولِ مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ، فَحُكْمُهُ مَرْدُودٌ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ» حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ المَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ المُسَيِّبِ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَاهُ: أَنَّ- رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الأَنْصَارِيَّ، وَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ، فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟»، قَالَ: لاَ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الجَمْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَفْعَلُوا، وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ، أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا، وَكَذَلِكَ المِيزَانُ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7350/7351

ابو قیس مولیٰ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے (اجتہاد کا) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور عبدالعزیز بن المطلب نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ؛جب حاکم نے اجتہاد کیا تو درست ہو یا غلط،اجر ملے گا؛جلد٩ص١٠٨،حدیث نمبر ٧٣٥٢)

بَابُ أَجْرِ الحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ المُقْرِئُ المَكِّيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الحَارِثِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ العَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ العَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا حَكَمَ الحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ»، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ المُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7352

عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے (ملنے کی) اجازت چاہی اور یہ دیکھ کر کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مشغول ہیں آپ جلدی سے واپس چلے گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں نے ابھی عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ انہیں بلا لو۔ چنانچہ انہیں بلایا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا؟ (جلدی واپس ہو گئے) انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ، ورنہ میں تمہارے ساتھ یہ (سختی) کروں گا۔ چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں گئے انہوں نے کہا کہ اس کی گواہی ہم میں سب سے چھوٹا دے سکتا ہے۔ چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمیں دربار نبوی سے اس کا حکم دیا جاتا تھا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھے معلوم نہیں تھا، مجھے بازار کے کاموں خرید و فروخت نے اس حدیث سے غافل رکھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ إِنَّ أَحْكَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ ظَاهِرَةً:وما كان يغيب بعضهم من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم وامور الإسلام؛اس پر حجت جس کا کہنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ظاہر تھے اور جو صحابہ غیر حاضر تھے امور اسلام سے مکمل باخبر نہ تھے؛جلد٩ص١٠٨،حدیث نمبر ٧٣٥٣)

بَابُ الحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ: إِنَّ أَحْكَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ ظَاهِرَةً، وَمَا كَانَ يَغِيبُ بَعْضُهُمْ مِنْ مَشَاهِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُورِ الإِسْلاَمِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ائْذَنُوا لَهُ، فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ فَقَالَ: «إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا»، قَالَ: فَأْتِنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لاَ يَشْهَدُ إِلَّا أَصَاغِرُنَا، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الخُدْرِيُّ فَقَالَ: «قَدْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا»، فَقَالَ عُمَرُ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7353

اعرج نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ حضرت ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ حدیث بیان کرتے ہیں، اللہ کے حضور میں سب کو جانا ہے۔ بات یہ تھی کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھر روٹی کے لیے ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا لیکن مہاجرین کو بازار کے کاروبار مشغول رکھتے تھے اور انصار کھیتی باڑی کے دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی۔ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا، یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کر لوں اور پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔ چنانچہ میں نے اپنی چادر جو میرے جسم پر تھی، پھیلا دی اور اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تھا پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی،نہیں بھولا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ إِنَّ أَحْكَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ ظَاهِرَةً:وما كان يغيب بعضهم من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم وامور الإسلام؛اس پر حجت جس کا کہنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ظاہر تھے اور جو صحابہ غیر حاضر تھے امور اسلام سے مکمل باخبر نہ تھے؛جلد٩ص١٠٨،حدیث نمبر ٧٣٥٤)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الأَعْرَجِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ المَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا، أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، وَكَانَ المُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ القِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَالَ: «مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ثُمَّ- يَقْبِضْهُ، فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي» فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7354

محمد بن منکدر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ابن صیاد ہی دجال ہے کے واقعہ پر اللہ کی قسم کھاتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اللہ کی قسم کھاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھاتے دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةً لاَ مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ؛جس کی راے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کرنا تو حجت ہے لیکن دوسرے کا حجت نہیں؛جلد٩ص١٠٩،حدیث نمبر ٧٣٥٥)

بَابُ مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةً، لاَ مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ: أَنَّ ابْنَ الصَّائِدِ الدَّجَّالُ، قُلْتُ: تَحْلِفُ بِاللَّهِ؟ قَالَ: «إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7355

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے وغیرہ کے احکام بیان کئے پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت بیان فرمائی"ترجمہ کنز الایمان:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا(الزلزالہ ٧)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خود اسے نہیں کھاتا اور (دوسروں کے لیے) اسے حرام بھی نہیں قرار دیتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر گوہ کھایا گیا اور اس سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے استدلال کیا کہ وہ حرام نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے تین طرح کے لوگوں کے لیے ہیں۔ ایک شخص کے لیے ان کا رکھنا کار ثواب ہے، دوسرے کے لیے برابر برابر نہ عذاب نہ ثواب اور تیسرے کے لیے وبال جان ہیں۔ جس کے لیے وہ اجر ہیں یہ وہ شخص ہے جس نے اسے اللہ کے راستے کے لیے باندھ کر رکھا اور اس کی رسی چراہ گاہ میں دراز کر دی تو وہ گھوڑا جتنی دور تک چراہ گاہ میں گھوم کر چرے گا وہ مالک کی نیکیوں میں ترقی کا ذریعہ ہو گا اور اگر گھوڑے نے اس دراز رسی کو بھی تڑوا لیا اور ایک یا دو دوڑ اس نے لگائی تو اس کے نشانات قدم اور اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث اجر و ثواب ہو گی اور اگر گھوڑا کسی نہر سے گزرا اور اس نے نہر کا پانی پی لیا، مالک نے اسے پلانے کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا تب بھی مالک کے لیے یہ اجر کا باعث ہو گا اور ایسا گھوڑا اپنے مالک کے لیے ثواب ہوتا ہے اور دوسرا شخص برابر برابر والا ہوتا ہے جو گھوڑے کو اظہار بے نیازی یا اپنے بچاؤ کی غرض سے باندھتا ہے اور اس کی پشت اور گردن پر اللہ کے حق کو بھی نہیں بھولتا تو یہ گھوڑا اس کے لیے نہ عذاب ہے نہ ثواب اور تیسرا وہ شخص ہے جو گھوڑے کو فخر اور ریا کے لیے باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق کچھ نازل نہیں فرمایا مگر یہ آیت جو لاجواب اور جامع ہے۔ترجمہ کنز الایمان:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اس دیکھے گا(الزلزالہ٧۔٨) (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١٠٩،حدیث نمبر ٧٣٥٦)

بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرُهَا « وَقَدْ أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَ الخَيْلِ وَغَيْرِهَا، ثُمَّ سُئِلَ عَنِ الحُمُرِ، فَدَلَّهُمْ عَلَى قَوْلِهِ تَعَالَى»: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ} [الزلزلة: 7] وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ: «لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ» وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّبُّ، فَاسْتَدَلَّ ابْنُ عَبَّاسٍ بِأَنَّهُ لَيْسَ بِحَرَامٍ " حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الخَيْلُ لِثَلاَثَةٍ: لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ: فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ المَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا، فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ، كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، وَهِيَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ أَجْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا، وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلاَ ظُهُورِهَا، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً، فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ " وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الحُمُرِ، قَالَ: «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الآيَةَ الفَاذَّةَ الجَامِعَةَ» {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 8]

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7356

سفیان بن عیینہ نے بیان کیا،ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے کی والدہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے محمد نے بیان کیا یعنی ابن عقبہ نے، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان النمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے متعلق پوچھا کہ اس سے غسل کس طرح کیا جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک لگا ہوا ایک کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس عورت نے پوچھا: یا رسول اللہ! میں اس سے پاکی کس طرح حاصل کروں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کرو۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ کس طرح پاکی حاصل کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ پاکی حاصل کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا سمجھ گئی اور اس عورت کو میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور انہیں طریقہ سکھا دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١٠٩،حدیث نمبر ٧٣٥٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا الفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ شَيْبَةَ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الحَيْضِ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْهُ؟ قَالَ: «تَأْخُذِينَ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِينَ بِهَا»، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّئِي»، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّئِينَ بِهَا»، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَرَفْتُ الَّذِي يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَعَلَّمْتُهَا

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7357

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ام حفید بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی اور پنیر اور گوہ کا تحفہ میں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیزیں قبول فرما لیں اور آپ کے دستر خوان پر انہیں کھایا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (گوہ کو) ہاتھ نہیں لگایا، جیسے آپ کو پسند نہ ہو اور اگر وہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا اور نہ آپ کھانے کے لیے کہتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١١٠،حدیث نمبر ٧٣٥٨)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ «أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَدَعَا بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ، فَتَرَكَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُتَقَذِّرِ لَهُنَّ»، وَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ، وَلاَ أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7358

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کچی لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے یا (یہ فرمایا کہ) ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے (یہاں تک کہ وہ بو رفع ہو جائے) اور آپ کے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں سبزیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی، پھر آپ کو اس میں رکھی ہوئی سبزیوں کے متعلق بتایا گیا تو آپ نے اپنے بعض صحابی کی طرف جو آپ کے ساتھ تھے اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کے پاس لے جاؤ لیکن جب ان صحابی نے اسے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانا پسند نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے فرمایا کہ تم کھا لو کیونکہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے نہیں کرتے۔ (آپ کی مراد فرشتوں سے تھی) سعید بن کثیر بن عفیر نے جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں، عبداللہ بن وہب سے اس حدیث میں یوں روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں اور لیث و ابوصفوان عبداللہ بن سعید اموی نے بھی اس حدیث کو یونس سے روایت کیا لیکن انہوں نے ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا، اب میں نہیں جانتا کہ ہانڈی کا قصہ حدیث میں داخل ہے یا زہری نے بڑھا دیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١١٠،حدیث نمبر ٧٣٥٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا، أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ»، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي طَبَقًا، فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ عَنْهَا فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ البُقُولِ، فَقَالَ: «قَرِّبُوهَا»، فَقَرَّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ: «كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لاَ تُنَاجِي»، وَقَالَ ابْنُ عُفَيْرٍ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ: بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ، وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ، وَأَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ قِصَّةَ القِدْرِ فَلاَ أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ فِي الحَدِيثِ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7359

محمد بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ان کے والد حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں تو پھر کیا کروں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے نہ پانا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جانا۔ حمیدی نے ابراہیم بن سعد سے یہ اضافہ کیا کہ غالباً خاتون کی مراد وفات تھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١١٠،حدیث نمبر ٧٣٦٠)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَعَمِّي، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ أَجِدْكَ؟ قَالَ: «إِنْ لَمْ تَجِدِينِي، فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ» زَادَ لَنَا الحُمَيْدِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ كَأَنَّهَا تَعْنِي المَوْتَ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7360

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قریش کی مدنی جماعت سے روایت کی اور حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ یہ جملہ محدثین بہت ہی سچے ہیں جو اہل کتاب سے روایت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان کی روایتوں میں جھوٹ کی ملاوٹ پاتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم:اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦١)

بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ» وَقَالَ أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يُحَدِّثُ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ بِالْمَدِينَةِ، وَذَكَرَ كَعْبَ الأَحْبَارِ فَقَالَ: «إِنْ كَانَ مِنْ أَصْدَقِ هَؤُلاَءِ- المُحَدِّثِينَ الَّذِينَ يُحَدِّثُونَ عَنْ أَهْلِ الكِتَابِ، وَإِنْ كُنَّا مَعَ ذَلِكَ لَنَبْلُو عَلَيْهِ الكَذِبَ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7361

ابو سلمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہل کتاب توریت کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور اس کی تفسیر مسلمانوں سے عربی میں بیان کرتے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب بلکہ کہہ دیا کرو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور جو تمہاری طرف نازل ہوا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم:اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الكِتَابِ وَلا تُكَذِّبُوهُمْ» وَقُولُوا: {آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: 136] وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ الآيَةَ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7362

عبید اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کیسے پوچھتے ہو حالانکہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ ہے جس خالص کو تم پڑھتے ہو اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں اور اس نے تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتاب کو بدل دیا اور اس میں کمی زیادتی کر دی اور کتاب کو اپنے ہاتھوں بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے ذریعے دنیا کی ذلیل و قلیل پونجی کمائے بتاؤ کیا جن چیزوں کا تمہارے پاس علم اگیا ان کے متعلق پوچھنے سے تمہیں منع نہیں فرمایا گیا؟ خدا کی قسم ہم تو ان میں سے ایک ادمی بھی نہیں دیکھا جو تم سے اس چیز کے متعلق دریافت کرے جو تم پر نازل کی گئی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم:اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٣)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ، تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ أَهْلَ الكِتَابِ بَدَّلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَغَيَّرُوهُ، وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الكِتَابَ، وَقَالُوا: هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا؟ أَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ العِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ؟ لاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ "

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7363

ابو عمران نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قران کریم کو اس وقت تک پڑھتے رہو جب تک تمہارا دل اس کے ساتھ ملتفت رہے اور جب تمہارے دل اچاٹ ہو جائے تو کھڑے ہو جاؤ۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ؛اختلاف میں ناپسندیدگی ہے؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٤)

بَابُ كَرَاهِيَةِ الخِلاَفِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَءُوا القُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَلَّامًا»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7364

ابو عمران جونی نے حضرت جندم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قران کریم اس وقت تک پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس کی طرف ملتفت رہے اور جب تمہارے دل اکتا جائے تو کھڑے ہو جاؤ۔یزید بن ہارون، ہارون اعور،ابو عمران،حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ؛اختلاف میں ناپسندیدگی ہے؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الجَوْنِيُّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اقْرَءُوا القُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ»، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَارُونَ الأَعْوَرِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدَبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7365

عبید اللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت جب قریب ایا تو ان کا بیان ہے کہ کاشانہ اقدس میں بہت سارے حضرات موجود تھے جن میں حضرت عمر بن خطاب بھی تھے اپ نے فرمایا کہ مجھے لکھنے کی چیزیں لا کر دو تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم بعد میں گمراہ نہ ہو سکو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قران مجید موجود ہے پس ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے گھر والوں نے اختلاف کیا اور جھگڑنے لگے بعض کہتے تھے کہ سامان لے اؤ تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ایسی تحریر لکھ دیں کہ بعد میں گمراہ نہ ہو سکو اور بعض وہی کہتے تھے جو حضرت عمر نے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیادہ شور و غل اور اختلاف ہوا تو اپ نے فرمایا کہ میرے پاس سے چلے جاؤ حضرت عبید اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے کہ مصیبت پر مصیبت یہ پیش ائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس تحریر کے درمیان حائل ہوئی جو ان کے لیے لکھی جاتی یعنی لوگوں کا اختلاف اور شور و غل کرنا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ؛اختلاف میں ناپسندیدگی ہے؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٦)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَفِي البَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، قَالَ: «هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ»، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ القُرْآنُ فَحَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ البَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلاَفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قُومُوا عَنِّي»، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الكِتَابَ مِنَ اخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ»

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7366

اسی طرح جب لوگوں نے احرام کھول دیا تو اپ نے فرمایا کہ عورتوں کے پاس جاؤ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان پر فرض نہ تھا بلکہ ان کے لیے حلال تھا ام عطیہ نے کہا کہ ہمیں جنازے کے پیچھے جانے سے ممانعت فرمائی گئی لیکن یہ ہم پر حرام نہیں ہیں۔ عطاء سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا،اس وقت اور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا اس کے ساتھ عمرہ کا نہیں باندھا۔ عطاء نے بیان کیا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم 4 ذی الحجہ کی صبح کو آئے اور جب ہم بھی حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال ہو جاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔ عطاء نے بیان کیا اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ان پر یہ ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف حلال کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ہم میں یہ بات ہو رہی ہے کہ عرفہ پہنچنے میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کا حکم دیا ہے، کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ مذی یا منی ہمارے ذکر سے ٹپک رہی ہو۔ عطاء نے کہا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح مذی ٹپک رہی ہو، اس کو ہلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم میں سب سے زیادہ سچا ہوں اور سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میرے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا، پس تم بھی حلال ہو جاؤ۔ اگر مجھے اپنے معاملے پہلے سے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔ چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلاَّ مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت فرمانا تحریم کے سبب ہے سواے اس کے جس کا مباح ہونا بتا دیا گیا،اسی طرح آپ کے اور کاموں کا حکم ہے؛جلد٩ص١١٢،حدیث نمبر ٧٣٦٧)

بَابُ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلَّا مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ، وَكَذَلِكَ أَمْرُهُ نَحْوَ قَوْلِهِ حِينَ أَحَلُّوا: «أَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءِ» وَقَالَ جَابِرٌ: «وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ» وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: «نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَازَةِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا» حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ البُرْسَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ عُمْرَةٌ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الحِجَّةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ، وَقَالَ: «أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءِ»، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، فَبَلَغَهُ أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِي عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا المَذْيَ، قَالَ: وَيَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ هَكَذَا وَحَرَّكَهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلاَ هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، فَحِلُّوا، فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ»، فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7367

ابن بریدہ نے حضرت عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لو تیسری مرتبہ اپ نے فرمایا کہ جو پڑھنا چاہے کیونکہ اپ نے یہ ناپسند فرمایا کہ لوگ اسے سنت نہ بنا لے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلاَّ مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت فرمانا تحریم کے سبب ہے سواے اس کے جس کا مباح ہونا بتا دیا گیا،اسی طرح آپ کے اور کاموں کا حکم ہے؛جلد٩ص١١٢،حدیث نمبر ٧٣٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، عَنِ الحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ المُزَنِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلُّوا قَبْلَ صَلاَةِ المَغْرِبِ»، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «لِمَنْ شَاءَ»، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7368

ارشاد باری تعالی ہے:ترجمہ کنز الایمان: اور ان کا کام ان کے اپس کے مشورے سے ہے۔(شوریٰ ٣٨)اور فرمایا: اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔(آل عمران ١٥٩)اور مشورہ پختہ عزم کرنے اور ظاہر ہونے سے پہلے ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ترجمہ کنز الایمان:اور جب کسی بات کا پکا ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔(آل عمران ١٥٩)چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عزم فرما لیتے تو کسی بشر کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جانے کا حق نہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے احد کے دن مشورہ فرمایا کہ شہر میں رہ کر مقابلہ کیا جائے یا باہر نکل کر چنانچہ لوگوں نے باہر نکلنے کا مشورہ دیا جب اپ ہتھیار پہن چکے اور پختہ عزم فرما لیا تو لوگوں نے شہر میں رہنے کے لیے کہا لیکن اپ نے ارادہ فرما لینے کے بعد ان کی جانب توجہ نہ فرمائی اور فرمایا کہ کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ہتھیار پہننے کے بعد انہیں کھول کر رکھ دے حتی کہ خدا حکم فرمائے اور اپ نے حضرت علی اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ فرمایا جبکہ تہمت لگانے والوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی اور ان کی باتیں سنی حتی کہ قران کریم نازل ہوا اور تہمت لگانے والو کو کوڑے مارے گئے اور ان کے اختلاف کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ وہی فیصلہ فرمایا جو اللہ نے حکم فرمایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ائمہ بھی اہل علم سے مباح امور میں مشورہ کیا کرتے تاکہ سہل پہلو کو حاصل کر سکے اور جب کتاب یا سنت کا حکم واضح ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں دوسرے کی جانب توجہ نہ کرتے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اپ کس طرح ان سے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑتا رہوں حتی کہ وہ کہہ دے کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ چنانچہ جب انہوں نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا تو اپنے خون اور مال کو مجھ سے بچا لیا مگر حق کے ساتھ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم میں ان سے ساتھ ضرور قتال کروں گا جو ان چیزوں میں کمی کریں گے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع فرمایا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ متفق ہو گئے اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مشورے کی جانب توجہ نہیں فرمائی کیونکہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کے متعلق حکم موجود تھا جنہوں نے نماز اور زکوۃ میں فرق کیا نیز دین اور اس کے احکام کو تبدیل کر دینے کا ارادہ کیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو اور قاری حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشیر تھے خواہ وہ عمر رسیدہ تھے یا جوان اور وہ اللہ کی کتاب کے اگے بہت زیادہ رک جانے والے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ}؛جلد٩ص١١٢) عبید اللہ کا بیان ہے کہ جب بہتان لگانے والوں نے ان پر بہتان لگایا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بلوایا جبکہ وحی اترنے میں تاخیر ہو گئی تھی چنانچہ ان دونوں سے اپنی زوجہ کو جدا کر دینے کے متعلق دریافت کیا اور مشورہ کیا پس حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایسا اشارہ کیا کہ وہ اپ کی زوجہ کی پاکیزگی کو جانتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالی اپ پر اس کے متعلق دشواری نہیں ڈالے گا اور ان کے سوا عورتیں اور بہت ہے اور اس لونڈی سے دریافت فرما لیجئے یہ سچ سچ بتا دے گی اپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی مشکوک بات دیکھی اس نے عرض کی کہ میں نے اس کے سوا ان میں کوئی اور بات نہ دیکھی کہ وہ ایک نو عمر لڑکی ہے بسا اوقات گھر کا اٹا گوندھ کر سو جاتی ہے چنانچہ بکری آکر اسے کھا جاتی ہے پس اپ ممبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا اے مسلمانوں!کون ہے جو میری جانب سے اسے سزا دے جس نے میری زوجہ کے متعلق مجھے اذیت پہنچائی ہے خدا کی قسم میں اپنی زوجہ میں بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھتا پھر اپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی برات کا ذکر فرمایا ابو اسامہ نے بھی ہشام سے ایسا ہی نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ}؛جلد٩ص١١٣،حدیث نمبر ٧٣٦٩)

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} [الشورى: 38]، {وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ} [آل عمران: 159] «وَأَنَّ المُشَاوَرَةَ قَبْلَ العَزْمِ وَالتَّبَيُّنِ لِقَوْلِهِ»: {فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ} [آل عمران: 159] «فَإِذَا عَزَمَ الرَّسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِبَشَرٍ التَّقَدُّمُ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ» وَشَاوَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي المُقَامِ وَالخُرُوجِ، فَرَأَوْا لَهُ الخُرُوجَ، فَلَمَّا لَبِسَ لَأْمَتَهُ وَعَزَمَ قَالُوا: أَقِمْ، فَلَمْ يَمِلْ إِلَيْهِمْ بَعْدَ العَزْمِ، وَقَالَ: «لاَ يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ يَلْبَسُ لَأْمَتَهُ فَيَضَعُهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ» وَشَاوَرَ عَلِيًّا، وَأُسَامَةَ فِيمَا رَمَى بِهِ أَهْلُ الإِفْكِ عَائِشَةَ فَسَمِعَ مِنْهُمَا حَتَّى- نَزَلَ القُرْآنُ، فَجَلَدَ الرَّامِينَ، وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَى تَنَازُعِهِمْ، وَلَكِنْ حَكَمَ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ وَكَانَتِ الأَئِمَّةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَشِيرُونَ الأُمَنَاءَ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ فِي الأُمُورِ المُبَاحَةِ لِيَأْخُذُوا بِأَسْهَلِهَا، فَإِذَا وَضَحَ الكِتَابُ أَوِ السُّنَّةُ لَمْ يَتَعَدَّوْهُ إِلَى غَيْرِهِ، اقْتِدَاءً بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى أَبُو بَكْرٍ قِتَالَ مَنْ مَنَعَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ثُمَّ تَابَعَهُ بَعْدُ عُمَرُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ أَبُو بَكْرٍ إِلَى مَشُورَةٍ إِذْ كَانَ عِنْدَهُ حُكْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِينَ فَرَّقُوا بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَأَرَادُوا تَبْدِيلَ الدِّينِ وَأَحْكَامِهِ» وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ» وَكَانَ القُرَّاءُ أَصْحَابَ مَشُورَةِ عُمَرَ كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَدَّثَنَا الأُوَيْسِيُّ عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، وَابْنُ المُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا، قَالَتْ: وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، حِينَ اسْتَلْبَثَ الوَحْيُ، يَسْأَلُهُمَا وَهُوَ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ، فَأَمَّا أُسَامَةُ: فَأَشَارَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ: لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ، وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ، وَسَلِ الجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ. فَقَالَ: «هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ؟»، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَمْرًا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ، تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا، فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ، فَقَامَ عَلَى المِنْبَرِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ المُسْلِمِينَ، مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا» فَذَكَرَ بَرَاءَةَ عَائِشَةَ،وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7369

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ تم مجھے ان لوگوں کے متعلق کیا مشورہ دیتے ہو جو میری بیوی کو برا کہہ رہے ہیں حالانکہ میں ان میں ہرگز کوئی برائی نہیں دیکھتا عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بہتان کا علم ہوا تو انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ کیا اپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں میں چلی جاؤں چنانچہ اپ نے اجازت عطا فرما دی اور ساتھ ایک غلام کو بھیجا اور انصار میں سے ایک ادمی نے کہا اے اللہ!تو پاک ہے ہمیں یہ حق نہیں کہ اس بارے میں زبان کھولے یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ}؛جلد٩ص١١٣،حدیث نمبر ٧٣٧٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الغَسَّانِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: مَا تُشِيرُونَ عَلَيَّ فِي قَوْمٍ يَسُبُّونَ أَهْلِي، مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوءٍ قَطُّ "، وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: لَمَّا أُخْبِرَتْ عَائِشَةُ بِالأَمْرِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْطَلِقَ إِلَى أَهْلِي؟ فَأَذِنَ لَهَا، وَأَرْسَلَ مَعَهَا الغُلاَمَ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا، سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ

Bukhari Shareef, Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah, Hadees No. 7370

Bukhari Shareef : Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah

|

Bukhari Shareef : كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ

|

•