
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنا قیس بن مسلم نے طارق بن شہاب سے روایت کی ہے کہ یہودی میں سے ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:اے امیر المومنین!اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی۔ترجمہ کنز الایمان:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام دین کو پسند کیا۔(المائدہ٣)تو ضرور ہم اسے عید کا دن بنا لیتے۔پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔یہ عرفہ کے دن جمعۃ المبارک کو نازل ہوئی تھی۔اسے سفیان نے مسعر سے،مسعر نے قیس سے اور قیس نے طارق بن شہاب سے سنا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٦٨)
Bukhari Sharif Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnte Hadees No# 7269
عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے مبارک سینے سے چمٹا لیا اور کہا۔اے اللہ!اس کو قرآن کریم سکھادے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٧٠)
ابومنہال کا بیان ہے کہ انہوں نے سنا کہ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ:بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں،اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے غنی کردیا یا مالا مال کردیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٧١)
عبد اللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبد الملک بن مروان سے بیعت کرتے ہوئے اس کے لیے خط میں لکھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق اپنی استطاعت کے مطابق آپ کی بات سننے اور ماننے کا اقرار کرتا ہوں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٧٢)
سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے «جوامع الكلم» (مختصر الفاظ میں بہت سے معانی کو سمو دینا) کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی اور میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں رکھ دی گئیں۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو چلے گئے اور تم مزے کر رہے ہو یا اسی جیسا کوئی کلمہ کہا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ»؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ«جوامع الكلم»کے ساتھ بھیجا گیا ہوں؛جلد٩ص٩١،حدیث نمبر ٧٢٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں جن کو کچھ نشانیاں (یعنی معجزات) نہ دئیے گئے ہوں جن کے مطابق ان پر ایمان لایا گیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) انسان ایمان لائے اور مجھے جو بڑا معجزہ دیا گیا وہ قرآن مجید ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا، پس میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میں تمام انبیاء سے زیادہ پیروی کرنے والے میرے ہوں گے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ»؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ«جوامع الكلم»کے ساتھ بھیجا گیا ہوں؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٧٤)
Bukhari Sharif Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnte Hadees No# 7275
زید بن وہب نے بیان کیا کہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امانت داری آسمان سے بعض لوگوں کے دلوں کی تہ میں نازل فرمائی گئی اور قرآن مجید نازل ہوا۔پس قرآن کریم پڑھو اور سنت کا علم حاصل کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٧٦)
مرہ ہمدانی کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب سے عمدہ کلام اللہ کی کتاب ہے اور سب سے عمدہ رہنمائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے اور برے کام دین میں اختراع ہیں اور تم سے کیا گیا وعدہ پورا ہوکر رہے گا اور تم عاجز کردینے والے نہیں ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٧٧)
عبید اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا میں تمہارے درمیان ضرور اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٧٨۔٧٢٧٩)
عطاء بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٢،حدیث نمبر ٧٢٨٠)
سعید بن میناء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ کچھ فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سوئے ہوئے تھے۔ ایک نے کہا کہ یہ سوئے ہوئے ہیں، دوسرے نے کہا کہ ان کی آنکھیں سو رہی ہیں لیکن ان کا دل بیدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے ان صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مثال ہے وہ مثال بیان کرو۔ تو ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ سو رہے ہیں، دوسرے نے کہا کہ آنکھ سو رہی ہے اور دل بیدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور وہاں کھانے کی دعوت کی اور بلانے والے کو بھیجا، پس جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کر لی وہ گھر میں داخل ہو گیا اور دستر خوان سے کھایا اور جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نہیں کی وہ گھر میں داخل نہیں ہوا اور دستر خوان سے کھانا نہیں کھایا، پھر ایک نے ان میں سے کہا کہ اس کا مطلب بیان کیجئے تاکہ بات سمجھ میں آجائے ۔ بعض نے کہا کہ یہ تو سوئے ہوئے ہیں لیکن بعض نے کہا کہ آنکھیں گو سو رہی ہیں لیکن دل بیدار ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ گھر تو جنت ہے اور بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پس جو ان کی اطاعت کرے گا وہ اللہ کی اطاعت کرے گا اور جو ان کی نافرمانی کرے گا وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اور برے لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ محمد بن عبادہ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبہ بن سعید نے بھی لیث سے روایت کیا، انہوں نے خالد بن یزید مصری سے، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے۔ (پھر یہی حدیث نقل کی)۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٣،حدیث نمبر ٧٢٨١)
حمام کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے قرآن پاک کا علم حاصل کرنے والو!سیدھے راستے پر چلو تو تم لوگوں سے بہت زیادہ سبقت لے جاؤ گے اور اگر دائیں یا بائیں طرف جھکے تو گمراہ ترین ہو جاؤ گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٣،حدیث نمبر ٧٢٨٢)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں صاف طور پر تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس کی جو میری اطاعت کریں اور جو میں لایا ہوں اس کی پیروی کریں اور اس کی مثال ہے جو میری نافرمانی کریں اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اسے جھٹلائیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٣،حدیث نمبر ٧٢٨٣)
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال فرمایا اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا اور عرب کے کئی قبائل کافر ہوگئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں سے کس بنیاد پر جنگ کریں گے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں پس جو شخص اقرار کر لے کہ لا الہٰ الا اللہ تو میری طرف سے اس کا مال اور اس کی جان محفوظ ہے۔ البتہ کسی حق کے بدل ہو تو وہ اور بات ہے (مثلاً کسی کا مال مار لے یا کسی کا خون کرے) اب اس کے باقی اعمال کا حساب اللہ کے حوالے ہے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں تو اس شخص سے جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ہے کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے، واللہ! اگر وہ مجھے ایک رسی بھی دینے سے رکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے ان کے انکار پر بھی جنگ کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے تو یہی دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سینہ جہاد کے لیے کھول دیا پس میں نے جان لیا کہ وہ حق پر ہیں۔ ابوبکیر اور عبداللہ بن صالح نے لیث سے «عناقا» (کی بجائے «عقلا») کہا یعنی بکری کا بچہ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٣،حدیث نمبر ٧٢٨٤)
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عیینہ بن حذیفہ بن بدر مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے الحر بن قیس بن حصن کے یہاں قیام کیا۔ الحر بن قیس ان لوگوں میں سے تھے جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے قریب رکھتے تھے۔ قاری حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شریک مجلس و مشورہ رہتے تھے، خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان۔ پھر عیینہ نے اپنے بھتیجے حر سے کہا: بھتیجے! کیا امیرالمؤمنین کے یہاں کچھ رسوخ حاصل ہے کہ تم میرے لیے ان کے یہاں حاضری کی اجازت لے دو؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے لیے اجازت مانگوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر انہوں نے عیینہ کے لیے اجازت چاہی (اور آپ نے اجازت دی) پھر جب عیینہ مجلس میں پہنچے تو کہا کہ اے ابن خطاب، واللہ! تم ہمیں بہت زیادہ نہیں دیتے اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے، یہاں تک کہ آپ نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کر لیا۔ اتنے میں الحر نے کہا: امیرالمؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ترجمہ کنز الایمان:”اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔“(اعراف ١٩٩)اور یہ شخص جاہلوں میں سے ہے۔ پس واللہ! عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے جب یہ آیت انہوں نے تلاوت کی تو آپ ٹھنڈے ہو گئے اور عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ اللہ کی کتاب پر فوراً عمل کرتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٤،حدیث نمبر ٧٢٨٥۔٧٢٨٦)
فاطمہ بنت منذر کا بیان ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئی۔ جب سورج گرہن ہوا تھا اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے (کہ بے وقت نماز پڑھ رہے ہیں) تو انہوں نے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سبحان اللہ! میں نے کہا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”کوئی چیز ایسی نہیں لیکن میں نے آج اس جگہ سے اسے دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت و دوزخ بھی اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم لوگ قبروں میں بھی آزمائے جاؤ گے، دجال کے فتنے کی طرح سخت ہوگا پس مومن یا مسلم مجھے یقین نہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کون سا لفظ کہا تھا تو وہ (قبر میں فرشتوں کے سوال پر کہے گا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس روشن نشانات لے کر آئے اور ہم نے ان کی دعوت قبول کی اور ایمان لائے۔ اس سے کہا جائے گا کہ آرام سے سو رہو، ہمیں معلوم تھا کہ تم مومن ہو اور منافق یا شک میں مبتلا مجھے یقین نہیں کہ ان میں سے کون سا لفظ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا تھا، تو وہ کہے گا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال پر کہ) مجھے معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا وہی میں نے بھی بک دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٤،حدیث نمبر ٧٢٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ میں تمہیں چھوڑے ہوں کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے کثرت سوال اور انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔ پس جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم بھی اس سے رک جاؤ اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو بجا لاؤ جس حد تک تم میں طاقت ہو۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٤،حدیث نمبر ٧٢٨٨)
اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔(مائدہ ١٠١) عامر بن سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٨٩)
بسر بن سعید نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں بورئے کا ایک حجرہ بنا لیا اور چند راتیں اس کے اندر نماز پڑھی پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنکارنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩٠)
ابوبردہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا گیا جنہیں آپ نے ناپسند کیا جب لوگوں نے بہت زیادہ پوچھنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلال آگیا اور فرمایا: پوچھو! اس پر ایک صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر دوسرا صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا میرے والد کون ہیں؟ فرمایا کہ تمہارے والد شیبہ کے مولیٰ سالم ہیں۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر غصہ کے آثار محسوس کئے تو عرض کیا ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩١)
کاتب وراد نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے وہ مجھے لکھئیے تو انہوں نے انہیں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد کہتے تھے «لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”تنہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں،بادشاہی اسی کی ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے! اے اللہ جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی بزرگ کی بزرگی تجھے نفع نہیں دیتی اور انہیں یہ بھی لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےفائدہ بہت سوال کرنے سے منع کرتے تھے اور مال ضائع کرنے سے اور آپ ماؤں کی نافرمانی کرنے سے منع کرتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے اور بےضرورت مانگنے سے منع فرماتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩٢)
ثابت کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تکلف کرنے سے منع کیا گیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩٣)
زہری کا بیان ہے کہ مجھ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کسی چیز کے متعلق سوال کرنا چاہے تو سوال کرے۔ آج مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں اس کا جواب دوں گا جب تک میں اپنی اس جگہ پر ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر لوگ بہت زیادہ رونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار وہی فرماتے تھے کہ مجھ سے پوچھو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر کوئی شخص کھڑا ہوا اور پوچھا، میری جگہ کہاں ہے۔ (جنت یا جہنم میں) یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ جہنم میں۔ پھر عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا میرے والد کون ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا کہ تمہارے والد حذافہ ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ مسلسل کہتے رہے کہ مجھ سے پوچھو، مجھ سے پوچھو، آخر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہا: ہم اللہ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات کہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ابھی مجھ پر جنت اور جہنم اس دیوار کے سامنے پیش کی گئیں جب میں نماز پڑھ رہا تھا، آج کی طرح میں نے خیر و شر کو نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٥،حدیث نمبر ٧٢٩٤)
موسیٰ بن انس کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ایک آدمی عرض گزار ہوا کہ یا نبی اللہ!میرا باپ کون ہے؟فرمایا کہ تمہارا باپ فلاں ہے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی:اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔(مائدہ ١٠١) (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٦،حدیث نمبر ٧٢٩٥)
عبد اللہ بن عبد الرحمن کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لوگ مسلسل پوچھتے رہیں گے حتیٰ کہ کہیں کہ اللہ نے تو سب چیزوں کو پیدا کیا ہے مگر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٦،حدیث نمبر ٧٢٩٦)
علقمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ یہودی ادھر سے گزرے تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ لیکن دوسروں نے کہا کہ ان سے نہ پوچھو۔ کہیں ایسی بات نہ سنا دیں جو تمہیں ناپسند ہے۔ آخر آپ کے پاس وہ لوگ آئے اور کہا: ابوالقاسم! روح کے بارے میں ہمیں بتائیے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کھڑے دیکھتے رہے میں سمجھ گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ میں تھوڑی دور ہٹ گیا، یہاں تک کہ وحی کا نزول پورا ہو گیا،پھر آپ نے فرمایا۔ترجمہ کنز الایمان:اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا۔(بنی اسرائیل٨٥) (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ؛بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے؛جلد٩ص٩٦،حدیث نمبر ٧٢٩٧)
عبداللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تو دوسرے لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دی اور فرمایا کہ میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِأَفْعَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کی پیروی کرنا؛جلد٩ص٩٦،حدیث نمبر ٧٢٩٨)
اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اے کتاب والو اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ۔(نساء ٣٢) ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم صوم وصال (افطار و سحر کے بغیر کئی دن کے روزے) نہ رکھا کرو۔ صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم جیسا نہیں ہوں۔ میں رات گزارتا ہوں اور میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے لیکن لوگ صوم وصال سے نہیں رکے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن یا دو راتوں میں صوم وصال کیا، پھر لوگوں نے چاند دیکھ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ نظر آتا تو میں اور وصال کرتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد انہیں تنبیہ کرنا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٧،حدیث نمبر ٧٢٩٩)
ابراہیم تیمی نے بیان کیا،کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں اینٹ کے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دئیں۔ آپ تلوار لیے ہوئے تھے جس میں ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: واللہ! ہمارے پاس کتاب اللہ کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جسے پڑھا جائے اور سوا اس صحیفہ کے۔پھر انہوں نے اسے کھولا تو اس میں دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا۔ (کہ دیت میں اتنی اتنی عمر کے اونٹ دئیے جائیں) اور اس میں یہ بھی تھا کہ مدینہ طیبہ کی زمین عیر پہاڑی سے ثور پہاڑی تک حرم ہے۔ پس اس میں جو کوئی نئی بات نکالے گا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ اللہ اس سے کسی فرض یا نفل عبادت کو قبول نہیں کرے گا اور اس میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کی ذمہ داری (عہد یا امان) ایک ہے اس کا ذمہ دار ان میں سب سے ادنیٰ مسلمان بھی ہو سکتا ہے پس جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا، اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ اللہ اس کی نہ فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل عبادت اور اس میں یہ بھی تھا کہ جس نے کسی سے اپنی والیوں کی اجازت کے بغیر ولاء کا رشتہ قائم کیا اس پر اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اللہ نہ اس کی فرض نماز قبول کرے گا نہ نفل۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٧،حدیث نمبر ٧٣٠٠)
مسروق نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا جس سے بعض لوگوں نے پرہیز کرنا اختیار کیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو ایسی چیز سے پرہیز کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں، واللہ! میں ان سے زیادہ اللہ کے متعلق علم رکھتا ہوں اور ان سے زیادہ خشیت رکھتا ہوں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٧،حدیث نمبر ٧٣٠١)
نافع بن عمر نے بیان کیا کہ ابن ابی ملکیہ نے بیان کیا کہ امت کے دو بہترین انسان قریب تھا کہ ہلاک ہو جاتے (یعنی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی تمیم کا وفد آیا تو ان میں سے ایک صاحب (عمر رضی اللہ عنہ) نے بنی مجاشع میں سے اقرع بن حابس حنظلی رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار بنائے جانے کا مشورہ دیا (تو انہوں نے یہ درخواست کی کہ کسی کو ہمارا سردار بنا دیجئیے) اور دوسرے صاحب (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے دوسرے (قعقاع بن سعید بن زرارہ) کو بنائے جانے کا مشورہ دیا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے میری مخالف کا ارادہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری نیت آپ کی مخالفت کرنا نہیں ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دونوں بزرگوں کی آواز بلند ہو گئی۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّاکر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسولُ اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔(الحجرات ٢۔٣) ابن ابی ملکیہ نے اور ابن زبیر نے بیان کیا کہ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور انہوں نے اپنے نانا کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا کہ وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ عرض کرتے تو اتنی آہستگی سے جیسے کوئی کان میں بات کرتا ہے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بات سنائی نہ دیتی تو آپ دوبارہ پوچھتے کیا کہا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٧،حدیث نمبر ٧٣٠٢)
ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں حضرت عائشہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی شدت کی وجہ سے اپنی آواز لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے اس لیے آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم کہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو شدت بکاء کی وجہ سے لوگوں کو سنا نہیں سکیں گے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حضرت یوسف کے ہم نشینوں کی طرح ہو؟ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ بعد میں حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے آپ سے بھلائی نہیں پائی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٨،حدیث نمبر ٧٣٠٣)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی کے پاس آیا اور کہا اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے، کیا آپ لوگ مقتول کے بدلہ میں اسے قتل کر دیں گے؟ عاصم! میرے لیے آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ دیجئیے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لیکن آپ نے اس طرح کے سوال کو ناپسند کیا اور معیوب جانا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوال کو ناپسند کیا ہے۔ اس پر عویمر رضی اللہ عنہ بولے کہ واللہ! میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا خیر عویمر آپ کے پاس آئے اور عاصم کے لوٹ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا ہے، پھر آپ نے دونوں (میاں بیوی) کو بلایا۔ دونوں آگے بڑھے اور لعان کیا۔ پھر عویمر نے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر میں اسے اب بھی اپنے پاس رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں چنانچہ اس نے فوری اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جدا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھتے رہو اس کا بچہ لال لال پست قد حرۃ کی طرح کا پیدا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ عویمر ہی کا بچہ ہے۔ عویمر نے عورت پر جھوٹا طوفان باندھا اور اور اگر سانولے رنگ کا بڑی آنکھ والا بڑے بڑے سرین والا پیدا ہو، جب میں سمجھوں گا کہ عویمر سچا ہے پھر اس عورت کا بچہ اس مکروہ صورت کا یعنی جس مرد سے وہ بدنام ہوئی تھی، اسی صورت کا پیدا ہوا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٨،حدیث نمبر ٧٣٠٤)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ حضرت مالک بن اوس نضری نے خبر دی کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے اس سلسلہ میں ذکر کیا تھا، پھر میں مالک کے پاس گیا اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں روانہ ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اتنے میں ان کے دربان یرفاء آئے اور کہا کہ عثمان، عبدالرحمٰن، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، کیا انہیں اجازت دی جائے؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ سب لوگ اندر آ گئے اور سلام کیا اور بیٹھ گئے، پھر یرفاء نے آ کر پوچھا کہ کیا علی اور عباس کو اجازت دی جائے؟ ان حضرات کو بھی اندر بلایا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امیرالمؤمنین! میرے اور ظالم کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے۔ آپس میں دونوں نے سخت کلامی کی۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی جماعت نے کہا کہ امیرالمؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئیے تاکہ دونوں کو آرام حاصل ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صبر کرو میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کی اجازت سے آسمان و زمین قائم ہیں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری میراث تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خود اپنی ذات مراد لی تھی۔ جماعت نے کہا کہ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ پھر آپ علی اور عباس رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا؟ انہوں نے بھی کہا کہ ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد کہا کہ پھر میں آپ لوگوں سے اس بارے میں گفتگو کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فئے کے مال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت عطاء فرمائی جو آپ کے سوا کسی دوسرے کو عطاء نہیں فرمائی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان:اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان ان سے تو تم نے نہ ان پر اپنے گھوڑے دوڑاے تھے اور نہ اونٹ۔(الحشر ٢٨)تو یہ مال خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، پھر واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے سوا کسی کو نہیں دیا اور نہ آپ پر کسی کو ترجیح دی اور آپ لوگوں کو عطاء فرماتے رہے اور ان کے درمیان تقسيم فرماتے رہے حتیٰ کہ اس میں سے یہی مال بچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال سے اپنے اہل و عیال کا سال کا خرچ چلاتے اور باقی کو لے کر اللہ کے مال کی طرح خرچ کرتے رہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر اس کے مطابق عمل کیا۔ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ کو اس کا علم ہے؟ صحابہ نے کہا کہ ہاں پھر آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے کہا، میں آپ دونوں حضرات کو بھی اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ لوگوں کو اس کا علم ہے؟ انہوں نے بھی کہا کہ ہاں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہونے کی حیثیت سے اس پر قبضہ کیا اور اس میں اسی طرح عمل کیا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ آپ دونوں حضرات بھی یہیں موجود تھے۔ آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر یہ بات کہی اور آپ لوگوں کا خیال تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اس معاملے میں خطاکار ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اس معاملے میں سچے اور نیک اور سب سے زیادہ حق کی پیروی کرنے والے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وفات دی اور میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوا اس طرح میں نے بھی اس جائیداد کو اپنے قبضے میں دو سال تک رکھا اور اس میں اسی کے مطابق عمل کرتا رہا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، پھر آپ دونوں حضرات میرے پاس آئے اور آپ لوگوں کا معاملہ ایک ہی تھا، کوئی اختلاف نہیں تھا۔ آپ (عباس رضی اللہ عنہ!) آئے اپنے بھائی کے لڑکے کی طرف سے اپنی میراث لینے اور یہ (علی رضی اللہ عنہ) اپنی بیوی کی طرف سے ان کے والد کی میراث کا مطالبہ کرنے آئے۔ میں نے تم سے کہا کہ یہ جائیداد تقسیم تو نہیں ہو سکتی لیکن تم لوگ چاہو تو میں اہتمام کے طور پر آپ کو یہ جائیداد دے دوں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ لوگوں پر اللہ کا عہد اور اس کی میثاق ہے کہ اس کو اسی طرح خرچ کرو گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور جس طرح میں نے اپنے زمانہ ولایت میں کیا اگر یہ منظور نہ ہو تو پھر مجھ سے اس معاملہ میں بات نہ کریں۔ آپ دونوں حضرات نے کہا کہ اس شرط کے ساتھ ہمارے حوالہ جائیداد کر دیں۔ چنانچہ میں نے اس شرط کے ساتھ آپ کے حوالہ جائیداد کر دی تھی۔ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا میں نے ان لوگوں کو اس شرط کے ساتھ جائیداد دی تھی۔ جماعت نے کہا کہ ہاں، پھر آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ کیا میں نے جائیداد آپ لوگوں کو اس شرط کے ساتھ حوالہ کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر آپ نے کہا، کیا آپ لوگ مجھ سے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہیں۔ پس اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، اس میں، اس کے سوا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ اگر آپ لوگ اس کا انتظام نہیں کر سکتے تو پھر میرے حوالہ کر دو میں اس کا بھی انتظام کر لوں گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي الْعِلْمِ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالْبِدَعِ؛تعمق،علم میں جھگڑنا،دین میں غلو کرنا اور بدعت بری ہے؛جلد٩ص٩٩۔١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٥)
اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ عاصم نے بیان کیا،کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے؟ فرمایا کہ ہاں فلاں جگہ عیر سے فلاں جگہ (ثور) تک۔ اس علاقہ کا درخت نہیں کاٹا جائے گا جس نے اس حدود میں کوئی نئی بات شروع کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔عاصم کا بیان ہے کہ پھر مجھے موسیٰ بن انس نے بتایااور انہوں نے"اودی محدثا"کہا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ آوَى مُحْدِثًا؛جو شخص بدعتی کو ٹھکانا دے، اس کو اپنے پاس ٹھہرائے؛جلد٩ص١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٦)
{ولا تقف} لا تقل {ما ليس لك به علم}(الإسراء ٣٦ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورۃ بنی اسرائیل میں) «ولا تقف، لا تقل، ما ليس لك به علم» یعنی ”نہ کہو وہ بات جس کا تم کو علم نہ ہو۔“ عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ حج کیا تو میں نے انہیں یہ کہتے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ علم کو، اس کے بعد کہ تمہیں دیا ہے ایک دم سے نہیں اٹھا لے گا بلکہ اسے اس طرح ختم کرے گا کہ علماء کو ان کے علم کے ساتھ اٹھا لے گا پھر کچھ جاہل لوگ باقی رہ جائیں گے، ان سے فتویٰ پوچھا جائے گا اور وہ فتویٰ اپنی رائے کے مطابق دیں گے۔ پس وہ لوگوں کو گمراہ کریں گے اور وہ خود بھی گمراہ ہوں گے۔ پھر میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی۔ ان کے بعد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے دوبارہ حج کیا تو ام المؤمنین نے مجھ سے کہا کہ بھانجے عبداللہ کے پاس جاؤ اور میرے لیے اس حدیث کو سن کر خوب مضبوط کر لو جو حدیث تم نے مجھ سے ان کے واسطہ سے بیان کی تھی۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے وہ حدیث بیان کی، اسی طرح جیسا کہ وہ پہلے مجھ سے بیان کر چکے تھے، پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی تو انہیں تعجب ہوا اور بولیں کہ واللہ عبداللہ بن عمرو نے خوب یاد رکھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَمِّ الرَّأْيِ وَتَكَلُّفِ الْقِيَاسِ؛راے کی مذمت اور قیاس میں تکلف کرنا؛جلد٩ص١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٧)
اعمش کا بیان ہے کہ میں نے ابووائل سے پوچھا تم صفین کی لڑائی میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں، پھر میں نے سہل بن حنیف کو کہتے سنا(جنگ صفین کے موقع پر) کہا کہ لوگوں! اپنے دین کے مقابلہ میں اپنی رائے کو بےحقیقت سمجھو میں نے اپنے آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے دن (صلح حدیبیہ کے موقع پر) دیکھا کہ اگر میرے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہٹنے کی طاقت ہوتی تو میں اس دن آپ سے انحراف کرتا (اور کفار قریش کے ساتھ ان شرائط کو قبول نہ کرتا) اور ہم نے جب کسی مہم پر اپنی تلواریں کاندھوں پر رکھیں (لڑائی شروع کی) تو ان تلواروں کی بدولت ہم کو ایک آسانی مل گئی جسے ہم پہچانتے تھے مگر اس مہم میں (یعنی جنگ صفین میں مشکل میں گرفتار ہیں دونوں طرف والے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں) ابواعمش نے کہا کہ ابووائل نے بتایا کہ میں صفین میں موجود تھا اور صفین کی لڑائی بھی کیا بری لڑائی تھی جس میں مسلمان آپس میں کٹ مرے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ ذَمِّ الرَّأْيِ وَتَكَلُّفِ الْقِيَاسِ؛راے کی مذمت اور قیاس میں تکلف کرنا؛جلد٩ص١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٨)
جیسا کہ فرمان الہی ہے کہ جو تمہیں اللہ نے دیکھایا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق دریافت کیا گیا تو خاموش ہوگئے حتیٰ کہ وحی نازل ہوئی۔ محمد بن المنکر نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عیادت کے لیے تشریف لائے۔ یہ دونوں بزرگ پیدل چل کر آئے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، اس سے مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور بعض اوقات سفیان نے یہ الفاظ بیان کئے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کے بارے میں کس طرح فیصلہ کروں، میں اپنے مال کا کیا کروں؟ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ مِمَّا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَيَقُولُ: «لاَ أَدْرِي»لم يجب حتى ينزل عليه الوحي، ولم يقل براي ولا بقياس لقوله تعالى: {بما اراك الله}نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک وحی نازل نہ ہوتی کچھ نہ فرماتے اور فرماتے میں نہیں جانتا حتیٰ کہ وحی نازل ہو جاتی اور اپنی رائے اور قیاس سے کچھ نہ فرماتے؛جلد٩ص١٠٠،حدیث نمبر ٧٣٠٩)
ابوصالح ذکوان نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی۔ (یعنی ان کی وفات ہو جائے گی) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، لَيْسَ بِرَأْيٍ وَلاَ تَمْثِيلٍ؛حضور نے اپنی امت کے مردوں اور عورتوں کو اپنی رائے اور تمثیل سے نہیں بلکہ اللہ کے سکھانے کے مطابق تعلیم دی؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١٠)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ کبھی مغلوب نہ ہوگا غالب رہے گا حتیٰ کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ لوگ غالب ہی ہوں گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ» . وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ؛فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میری امت کا ایک گروہ کبھی مغلوب نہ ہوگا غالب رہے گا،وہ حق پرلڑتے رہیں گے اور وہ اہل علم ہیں؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١١)
حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ، وہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ يُقَاتِلُونَ» . وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ؛فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میری امت کا ایک گروہ کبھی مغلوب نہ ہوگا غالب رہے گا،وہ حق پرلڑتے رہیں گے اور وہ اہل علم ہیں؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١٢)
عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی۔ترجمہ کنز الایمان:تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے۔(انعام٦٥)تو آپ نے کہا کہ میں تیرے وجہ کریم کی پناہ لیتا ہوں:یا تمہارے پاؤں کے تلے سے:تو آپ نے کہا کہ میں تیرے وجہ کریم کی پناہ لیتا ہوں:پھر نازل ہوئی:یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھاے۔(انعام ٦٥)فرمایا یہ دونوں باتیں زیادہ سہل ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا}:ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کر کے؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١٣)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہیں۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ کہا کہ سرخ ہیں۔ پوچھا کہ ان میں کوئی بھورا بھی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ان میں بھورا بھی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَنْ شَبَّهَ أَصْلاً مَعْلُومًا بِأَصْلٍ مُبَيَّنٍ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ حُكْمَهُمَا، لِيُفْهِمَ السَّائِلَ؛جو معلوم کو واضح سے تشبیہ دے کر اللہ کا حکم بیان کرے تو سائل کو سمجھ آجائے؛جلد٩ص١٠١،حدیث نمبر ٧٣١٤)
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ (ادائیگی سے پہلے ہی) وفات پا گئیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے حج کر لو۔ تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو تم اسے پورا کرتیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس قرض کو بھی پورا کر جو اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس قرض کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَنْ شَبَّهَ أَصْلاً مَعْلُومًا بِأَصْلٍ مُبَيَّنٍ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ حُكْمَهُمَا، لِيُفْهِمَ السَّائِلَ؛جو معلوم کو واضح سے تشبیہ دے کر اللہ کا حکم بیان کرے تو سائل کو سمجھ آجائے؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(مائدہ ٤٥) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صاحب حکمت کی مدح فرمائی ہے جو حکم بھرے فیصلے کرے اور اس کی تعلیم دے اور اپنی جانب سے کوئی تکلیف نہ کرے اور خلفا سے مشورے کرے اور اہل علم سے پوچھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حسد دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے، ایک وہ جیسے اللہ نے مال دیا اور اسے (مال کو) راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى؛قاضیوں کے اجتہاد سے متعلق؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٦)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے متعلق (صحابہ سے) پوچھا۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے پیٹ پر مار دیا گیا (جبکہ وہ حاملہ ہو) ہو اور اس کا ناتمام (ادھورا) بچہ گر گیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے سنی ہے۔ پوچھا کیا حدیث ہے؟ میں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اب چھوٹ نہیں سکتے یہاں تک کہ تم نے جو حدیث بیان کی ہے اس سلسلے میں نجات کا کوئی ذریعہ (یعنی کوئی شہادت کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی) لاؤ۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى؛قاضیوں کے اجتہاد سے متعلق؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٧)
پھر میں باہر نکلا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور میں انہیں لایا اور انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں ایک غلام یا باندی کی تاوان ہے۔ ہشام بن عروہ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی الزناد نے بھی اپنے باپ سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي اجْتِهَادِ الْقُضَاةِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى؛قاضیوں کے اجتہاد سے متعلق؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں، ایران یا روم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں یہی تو ہیں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ»فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے طریقوں کی پیروی کروگے؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣١٩)
عطاء بن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔“ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ»فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے طریقوں کی پیروی کروگے؛جلد٩ص١٠٢،حدیث نمبر ٧٣٢٠)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور کچھ بوجھ ان کے جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں۔(نحل ٢٥) مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے (گناہ کا) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی پڑے گا۔“ بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ”اس کے خون کا“ کیونکہ اسی نے سب سے پہلا وہی ہے جس نے سب سے پہلے قتل کرنا ایجاد کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ إِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ أَوْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً؛گمراہی کی جانب بلانا یا برا طریقہ ایجاد کرنا گناہ ہے؛جلد٩ص١٠٣،حدیث نمبر ٧٣٢١)
محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ میں اس کو بخار آنے لگی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت توڑ دیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ وہ پھر آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کیا۔ اس کے بعد وہ مدینہ سے نکل کر اپنے جنگل کو چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی طرح ہے جو اپنی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور پاکیزگی کو رہنے دیتا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٣،حدیث نمبر ٧٣٢٢)
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (قرآن مجید) پڑھایا کرتا تھا۔ جب وہ آخری حج آیا جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو عبدالرحمٰن نے منیٰ میں مجھ سے کہا کاش تم امیرالمؤمنین کو آج دیکھتے جب ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اگر امیرالمؤمنین کا انتقال ہو جائے تو ہم فلاں سے بیعت کر لیں گے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آج سہ پہر کو کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سناؤں گا اور ان کو ڈراؤں کا جو (عام مسلمانوں کے حق کو) غصب کرنا چاہتے ہیں اور خود اپنی رائے سے امیر منتخب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ موسم حج میں ہر طرح کے ناواقف اور معمولی لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کثرت سے آپ کی مجلس میں جمع ہو جائیں گے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کے ارشادات کو درست طور پر پیش نہیں کریں گے اس لیے جب آپ مدینے پہنچیں جو دار الہجرت اور دار السنہ ہے تو وہاں آپ کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، مہاجرین و انصار خالص ایسے ہی لوگ ملیں گے وہ آپ کی بات کو یاد رکھیں گے اور اس کا مطلب بھی ٹھیک بیان کریں گے۔ اس پر امیرالمؤمنین نے کہا کہ واللہ! میں مدینہ پہنچ کر جو پہلا خطبہ دوں گا اس میں اس کا بیان کروں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینے آئے تو عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دوپہر ڈھلے برآمد ہوئے اور خطبہ سنایا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر قرآن اتارا، اس قرآن میں رجم کی آیت بھی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٣،حدیث نمبر ٧٣٢٣)
محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے کیسری رنگ میں رنگے ہوئے زیب تن کر رکھے تھے۔ انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے،حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، حالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٤)
عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں میں اس وقت کم سن تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری نہ ہوتی تو کم عمری کے سبب میں آپ کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس جھنڈے کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے اور وہاں آپ نے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں زیوروں کا صدقہ دینے کے لیے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا، وہ آئے اور صدقہ میں ملی ہوئی چیزوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٥)
عبد اللہ بن دینار نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں کبھی پیدل اور کبھی سوار ہو کر تشریف لایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٦)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبد الرحمن بن زبیر سے فرمایا کہ مجھے میری سوکن کے پاس دفن کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھر میں دفن نہ کرنا کیونکہ میں اپنے ذکر کو ناپسند کرتی ہوں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٧)
ہشام نے اپنے والد ماجد عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے پیغام بھیجا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے پاس دفن کیا جاؤں۔انہوں نے کہا۔ہاں خدا کی قسم،راوی کا بیان ہے کہ صحابہ کرام میں سے جب کوئی آپ کے پاس یہ پیغام بھیجتا تو فرماتیں۔خدا کی قسم،میں ان پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٨)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر عوالی میں تشریف لاتے اور سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔لیث نے یونس سے اتنا زائد روایت کیا ہے کہ عوالی چار یا تین میل کے فاصلے پر ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٢٩)
جعید بن عبد الرحمن نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا صعاع تمہارے ایک مد اور تہائی مد کے برابر تھا اور اب اس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٤،حدیث نمبر ٧٣٣٠)
اسحاق بن عبداللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:اے اللہ!ان کے پیمانوں میں برکت دے اور انہیں ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما یعنی اہل مدینہ منورہ کو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣١)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے رجم کا حکم دیا اور انہیں مسجد کی ایک جگہ کے قریب رجم کیا گیا جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٢)
عمرو مولیٰ مطلب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ احد پہاڑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (راستے میں) دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اور میں اس کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی علاقہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں۔ اس روایت کی متابعت حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احد کے متعلق کی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٣)
ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مسجد نبوی کی جانب قبلہ والی دیوار اور منبر کے درمیان اتنا فاصلہ تھا جہاں سے بکری گزر سکے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٤)
حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض کوثر پر ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٥)
نافع نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دوڑ کرائی اور وہ گھوڑے چھوڑے گئے جو گھوڑ دوڑ کیلئے تیار کئے گئے تھے تو ان کے دوڑنے کا میدان مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک تھا اور جو تیار نہیں کئے گئے تھے ان کے دوڑنے کا میدان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک تھا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں تھے جنہوں نے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٦)
قتیبہ،لیث،نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے (دوسری سند) اور مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ اور ابن ادریس نے خبر دی اور ابن ابی غنیہ نے خبر دی، انہیں ابوحیان نے، انہیں شعبی نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر (خطبہ دیتے) سنا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٧)
زہری کا بیان ہے کہ مجھے سائب بن یزید نے خبر دی، انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے ہمیں خطاب دے رہے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٨)
ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ لگن رکھی جاتی تھی اور ہم سب اس میں سے پانی استعمال کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٣٩)
عاصم احوال نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور قریش کے درمیان میرے اس گھر میں بھائی چارہ کرایا جو مدینہ منورہ میں ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٤٠)
ابو بردہ نے بیان کیا، کہا کہ میں مدینہ منورہ آیا اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ گھر چلو تو میں تمہیں اس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور پھر ہم اس نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھیں گے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا اور انہوں نے مجھے ستو پلایا اور کھجور کھلائی اور میں نے ان کے نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٥،حدیث نمبر ٧٣٤١۔٧٣٤٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس آج رات ایک میرے رب کی طرف سے آنے والا آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی عقیق میں تھے اور کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھئیے اور کہئیے کہ عمرہ اور حج (کی نیت کرتا ہوں) اور ہارون بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے علی نے بیان کیا (ان الفاظ کے ساتھ) «عمرة في حجة.»۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٣)
عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد کے لیے مقام قرن، جحفہ کو اہل شام کے لیے اور ذوالحلیفہ کو اہل مدینہ کے لیے میقات مقرر کیا۔ بیان کیا کہ میں نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل یمن کے لیے یلملم (میقات) ہے اور عراق کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عراق نہیں تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٤)
سالم بن عبداللہ نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ رات کے آخری حصے میں مقام ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے، خواب دکھایا گیا اور کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ:وما اجمع عليه الحرمان مكة، والمدينة، وما كان بها من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرين، والانصار، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم والمنبر والقبر؛ جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا اور اہل علم نے جس پر اتفاق کیا اور علمائے حرمین کا جس پر اجماع ہے۔مکہ اور مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین و انصار کے متبرک مقامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اور منبر شریف روضہ اطہر؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٥)
سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں یہ دعا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پڑھتے «اللهم ربنا ولك الحمد» ”اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی ترجمہ کنز الایمان:یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں۔(آل عمران ١٢٨) (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٦)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہیں ان کے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے اور فاطمہ بنت رسول اللہ علیہا السلام والصلٰوۃ کے گھر ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے تو ہم کو اٹھا دے گا۔ جوں ہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ پیٹھ موڑ کر واپس جانے لگے اور کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے آپ اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ترجمہ کنز الایمان”اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے“(عنکبوت ٤٦)امام بخاری نے فرمایا کہ اگر کوئی تمہارے پاس رات میں آئے تو «طارق» کہلائے گا اور قرآن میں جو «والطارق» کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ستارہ ہے اور «ثاقب» بمعنی چمکتا ہوا۔ عرب لوگ آگ جلانے والے سے کہتے ہیں «ثقب نارك» یعنی آگ روشن کر۔ اس سے لفظ «ثاقب» ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً}ترجمہ کنز الایمان:اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔(کھف ٥٤)اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اے مسلمانو!کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر"؛جلد٩ص١٠٦،حدیث نمبر ٧٣٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد نبوی میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ چنانچہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک ہم بیت المدارس تک پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر انہیں آواز دی اور فرمایا، اے یہودیو! اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے۔ اس پر یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم! آپ نے اللہ کا حکم پہنچا دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے فرمایا کہ یہی میرا مقصد ہے، اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے۔ انہوں نے کہا ابوالقاسم! آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات تیسری بار کہی اور فرمایا، جان لو کہ ساری زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس جگہ سے باہر کر دوں۔ پس تم میں سے جو کوئی اپنی جائیداد کے بدلے میں کوئی قیمت پاتا ہو تو اسے بیچ لے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے (تم کو یہ شہر چھوڑنا ہو گا)۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً}ترجمہ کنز الایمان:اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔(کھف ٥٤)اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اے مسلمانو!کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر"؛جلد٩ص١٠٧،حدیث نمبر ٧٣٤٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل۔(بقرہ ١٤٣)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت کو لازم پکڑنے کا حکم فرمایا اس سے اہل علم کی جماعت مراد ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا، کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ عرض کریں گے کہ ہاں، اے رب! پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ نوح علیہ السلام سے پوچھے گا، تمہارے گواہ کون ہیں؟ نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت پھر تمہیں لایا جائے گا اور تم لوگ ان کے حق میں شہادت دو گے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(بقرہ ١٤٣) اسحاق بن منصور سے جعفر بن عون نے روایت کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان فرمائی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل(بقرہ ١٤٣؛جلد٩ص١٠٧،حدیث نمبر ٧٣٤٩)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کام کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہے۔ سعید بن مسیب نے حضرت ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عدی الانصاری کے ایک صاحب سودا بن عزیہ کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تو وہ عمدہ قسم کی کھجور وصول کر کے لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم ایسی ایک صاع کھجور دو صاع (خراب) کھجور کے بدلے خرید لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو بلکہ (جنس کو جنس کے بدلے) برابر برابر میں خریدو، یا یوں کرو کہ ردی کھجور نقدی بیچ ڈالو پھر یہ کھجور اس کے بدلے خرید لو، اسی طرح ہر چیز کو جو تول کر بکتی ہے اس کا حکم ان ہی چیزوں کا ہے جو ناپ کر بکتی ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ إِذَا اجْتَهَدَ الْعَامِلُ أَوِ الْحَاكِمُ فَأَخْطَأَ خِلاَفَ الرَّسُولِ مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ، فَحُكْمُهُ مَرْدُودٌ؛عامل یا حاکم کا اجتہاد اگر بغیر علم کے غلط یا خلاف رسول ہو تو وہ مردود ہے؛جلد٩ص١٠٧،حدیث نمبر ٧٣٥٠۔٧٣٥١)
ابو قیس مولیٰ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے (اجتہاد کا) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور عبدالعزیز بن المطلب نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ؛جب حاکم نے اجتہاد کیا تو درست ہو یا غلط،اجر ملے گا؛جلد٩ص١٠٨،حدیث نمبر ٧٣٥٢)
عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے (ملنے کی) اجازت چاہی اور یہ دیکھ کر کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مشغول ہیں آپ جلدی سے واپس چلے گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں نے ابھی عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ انہیں بلا لو۔ چنانچہ انہیں بلایا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا؟ (جلدی واپس ہو گئے) انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ، ورنہ میں تمہارے ساتھ یہ (سختی) کروں گا۔ چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں گئے انہوں نے کہا کہ اس کی گواہی ہم میں سب سے چھوٹا دے سکتا ہے۔ چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمیں دربار نبوی سے اس کا حکم دیا جاتا تھا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھے معلوم نہیں تھا، مجھے بازار کے کاموں خرید و فروخت نے اس حدیث سے غافل رکھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ إِنَّ أَحْكَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ ظَاهِرَةً:وما كان يغيب بعضهم من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم وامور الإسلام؛اس پر حجت جس کا کہنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ظاہر تھے اور جو صحابہ غیر حاضر تھے امور اسلام سے مکمل باخبر نہ تھے؛جلد٩ص١٠٨،حدیث نمبر ٧٣٥٣)
اعرج نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ حضرت ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ حدیث بیان کرتے ہیں، اللہ کے حضور میں سب کو جانا ہے۔ بات یہ تھی کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھر روٹی کے لیے ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا لیکن مہاجرین کو بازار کے کاروبار مشغول رکھتے تھے اور انصار کھیتی باڑی کے دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی۔ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا، یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کر لوں اور پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔ چنانچہ میں نے اپنی چادر جو میرے جسم پر تھی، پھیلا دی اور اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تھا پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی،نہیں بھولا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛ بَابُ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ إِنَّ أَحْكَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ ظَاهِرَةً:وما كان يغيب بعضهم من مشاهد النبي صلى الله عليه وسلم وامور الإسلام؛اس پر حجت جس کا کہنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ظاہر تھے اور جو صحابہ غیر حاضر تھے امور اسلام سے مکمل باخبر نہ تھے؛جلد٩ص١٠٨،حدیث نمبر ٧٣٥٤)
محمد بن منکدر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ابن صیاد ہی دجال ہے کے واقعہ پر اللہ کی قسم کھاتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اللہ کی قسم کھاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھاتے دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةً لاَ مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ؛جس کی راے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کرنا تو حجت ہے لیکن دوسرے کا حجت نہیں؛جلد٩ص١٠٩،حدیث نمبر ٧٣٥٥)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے وغیرہ کے احکام بیان کئے پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت بیان فرمائی"ترجمہ کنز الایمان:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا(الزلزالہ ٧)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خود اسے نہیں کھاتا اور (دوسروں کے لیے) اسے حرام بھی نہیں قرار دیتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر گوہ کھایا گیا اور اس سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے استدلال کیا کہ وہ حرام نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے تین طرح کے لوگوں کے لیے ہیں۔ ایک شخص کے لیے ان کا رکھنا کار ثواب ہے، دوسرے کے لیے برابر برابر نہ عذاب نہ ثواب اور تیسرے کے لیے وبال جان ہیں۔ جس کے لیے وہ اجر ہیں یہ وہ شخص ہے جس نے اسے اللہ کے راستے کے لیے باندھ کر رکھا اور اس کی رسی چراہ گاہ میں دراز کر دی تو وہ گھوڑا جتنی دور تک چراہ گاہ میں گھوم کر چرے گا وہ مالک کی نیکیوں میں ترقی کا ذریعہ ہو گا اور اگر گھوڑے نے اس دراز رسی کو بھی تڑوا لیا اور ایک یا دو دوڑ اس نے لگائی تو اس کے نشانات قدم اور اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث اجر و ثواب ہو گی اور اگر گھوڑا کسی نہر سے گزرا اور اس نے نہر کا پانی پی لیا، مالک نے اسے پلانے کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا تب بھی مالک کے لیے یہ اجر کا باعث ہو گا اور ایسا گھوڑا اپنے مالک کے لیے ثواب ہوتا ہے اور دوسرا شخص برابر برابر والا ہوتا ہے جو گھوڑے کو اظہار بے نیازی یا اپنے بچاؤ کی غرض سے باندھتا ہے اور اس کی پشت اور گردن پر اللہ کے حق کو بھی نہیں بھولتا تو یہ گھوڑا اس کے لیے نہ عذاب ہے نہ ثواب اور تیسرا وہ شخص ہے جو گھوڑے کو فخر اور ریا کے لیے باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق کچھ نازل نہیں فرمایا مگر یہ آیت جو لاجواب اور جامع ہے۔ترجمہ کنز الایمان:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اس دیکھے گا(الزلزالہ٧۔٨) (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١٠٩،حدیث نمبر ٧٣٥٦)
سفیان بن عیینہ نے بیان کیا،ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے کی والدہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے محمد نے بیان کیا یعنی ابن عقبہ نے، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان النمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے متعلق پوچھا کہ اس سے غسل کس طرح کیا جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک لگا ہوا ایک کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس عورت نے پوچھا: یا رسول اللہ! میں اس سے پاکی کس طرح حاصل کروں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کرو۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ کس طرح پاکی حاصل کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ پاکی حاصل کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا سمجھ گئی اور اس عورت کو میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور انہیں طریقہ سکھا دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١٠٩،حدیث نمبر ٧٣٥٧)
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ام حفید بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی اور پنیر اور گوہ کا تحفہ میں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیزیں قبول فرما لیں اور آپ کے دستر خوان پر انہیں کھایا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (گوہ کو) ہاتھ نہیں لگایا، جیسے آپ کو پسند نہ ہو اور اگر وہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا اور نہ آپ کھانے کے لیے کہتے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١١٠،حدیث نمبر ٧٣٥٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کچی لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے یا (یہ فرمایا کہ) ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے (یہاں تک کہ وہ بو رفع ہو جائے) اور آپ کے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں سبزیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی، پھر آپ کو اس میں رکھی ہوئی سبزیوں کے متعلق بتایا گیا تو آپ نے اپنے بعض صحابی کی طرف جو آپ کے ساتھ تھے اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کے پاس لے جاؤ لیکن جب ان صحابی نے اسے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانا پسند نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے فرمایا کہ تم کھا لو کیونکہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے نہیں کرتے۔ (آپ کی مراد فرشتوں سے تھی) سعید بن کثیر بن عفیر نے جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں، عبداللہ بن وہب سے اس حدیث میں یوں روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں اور لیث و ابوصفوان عبداللہ بن سعید اموی نے بھی اس حدیث کو یونس سے روایت کیا لیکن انہوں نے ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا، اب میں نہیں جانتا کہ ہانڈی کا قصہ حدیث میں داخل ہے یا زہری نے بڑھا دیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١١٠،حدیث نمبر ٧٣٥٩)
محمد بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ان کے والد حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں تو پھر کیا کروں گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے نہ پانا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جانا۔ حمیدی نے ابراہیم بن سعد سے یہ اضافہ کیا کہ غالباً خاتون کی مراد وفات تھی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ الأَحْكَامِ الَّتِي تُعْرَفُ بِالدَّلاَئِلِ، وَكَيْفَ مَعْنَى الدِّلاَلَةِ وَتَفْسِيرِهَا؛وہ احکام جو دلائل سے جانے جاتے ہیں اور دلالت کا معنی اور اس کی تفسیر؛جلد٩ص١١٠،حدیث نمبر ٧٣٦٠)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قریش کی مدنی جماعت سے روایت کی اور حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ یہ جملہ محدثین بہت ہی سچے ہیں جو اہل کتاب سے روایت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان کی روایتوں میں جھوٹ کی ملاوٹ پاتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم:اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦١)
ابو سلمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اہل کتاب توریت کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور اس کی تفسیر مسلمانوں سے عربی میں بیان کرتے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب بلکہ کہہ دیا کرو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور جو تمہاری طرف نازل ہوا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم:اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٢)
عبید اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق کیسے پوچھتے ہو حالانکہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ ہے جس خالص کو تم پڑھتے ہو اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں اور اس نے تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتاب کو بدل دیا اور اس میں کمی زیادتی کر دی اور کتاب کو اپنے ہاتھوں بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے ذریعے دنیا کی ذلیل و قلیل پونجی کمائے بتاؤ کیا جن چیزوں کا تمہارے پاس علم اگیا ان کے متعلق پوچھنے سے تمہیں منع نہیں فرمایا گیا؟ خدا کی قسم ہم تو ان میں سے ایک ادمی بھی نہیں دیکھا جو تم سے اس چیز کے متعلق دریافت کرے جو تم پر نازل کی گئی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم:اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٣)
ابو عمران نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قران کریم کو اس وقت تک پڑھتے رہو جب تک تمہارا دل اس کے ساتھ ملتفت رہے اور جب تمہارے دل اچاٹ ہو جائے تو کھڑے ہو جاؤ۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ؛اختلاف میں ناپسندیدگی ہے؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٤)
ابو عمران جونی نے حضرت جندم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قران کریم اس وقت تک پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس کی طرف ملتفت رہے اور جب تمہارے دل اکتا جائے تو کھڑے ہو جاؤ۔یزید بن ہارون، ہارون اعور،ابو عمران،حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ؛اختلاف میں ناپسندیدگی ہے؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٥)
عبید اللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت جب قریب ایا تو ان کا بیان ہے کہ کاشانہ اقدس میں بہت سارے حضرات موجود تھے جن میں حضرت عمر بن خطاب بھی تھے اپ نے فرمایا کہ مجھے لکھنے کی چیزیں لا کر دو تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم بعد میں گمراہ نہ ہو سکو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قران مجید موجود ہے پس ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے گھر والوں نے اختلاف کیا اور جھگڑنے لگے بعض کہتے تھے کہ سامان لے اؤ تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ایسی تحریر لکھ دیں کہ بعد میں گمراہ نہ ہو سکو اور بعض وہی کہتے تھے جو حضرت عمر نے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیادہ شور و غل اور اختلاف ہوا تو اپ نے فرمایا کہ میرے پاس سے چلے جاؤ حضرت عبید اللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے کہ مصیبت پر مصیبت یہ پیش ائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس تحریر کے درمیان حائل ہوئی جو ان کے لیے لکھی جاتی یعنی لوگوں کا اختلاف اور شور و غل کرنا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ الْخِلاَفِ؛اختلاف میں ناپسندیدگی ہے؛جلد٩ص١١١،حدیث نمبر ٧٣٦٦)
اسی طرح جب لوگوں نے احرام کھول دیا تو اپ نے فرمایا کہ عورتوں کے پاس جاؤ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان پر فرض نہ تھا بلکہ ان کے لیے حلال تھا ام عطیہ نے کہا کہ ہمیں جنازے کے پیچھے جانے سے ممانعت فرمائی گئی لیکن یہ ہم پر حرام نہیں ہیں۔ عطاء سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا،اس وقت اور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا اس کے ساتھ عمرہ کا نہیں باندھا۔ عطاء نے بیان کیا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم 4 ذی الحجہ کی صبح کو آئے اور جب ہم بھی حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال ہو جاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔ عطاء نے بیان کیا اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ان پر یہ ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف حلال کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ہم میں یہ بات ہو رہی ہے کہ عرفہ پہنچنے میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کا حکم دیا ہے، کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ مذی یا منی ہمارے ذکر سے ٹپک رہی ہو۔ عطاء نے کہا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح مذی ٹپک رہی ہو، اس کو ہلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم میں سب سے زیادہ سچا ہوں اور سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میرے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا، پس تم بھی حلال ہو جاؤ۔ اگر مجھے اپنے معاملے پہلے سے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔ چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلاَّ مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت فرمانا تحریم کے سبب ہے سواے اس کے جس کا مباح ہونا بتا دیا گیا،اسی طرح آپ کے اور کاموں کا حکم ہے؛جلد٩ص١١٢،حدیث نمبر ٧٣٦٧)
ابن بریدہ نے حضرت عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لو تیسری مرتبہ اپ نے فرمایا کہ جو پڑھنا چاہے کیونکہ اپ نے یہ ناپسند فرمایا کہ لوگ اسے سنت نہ بنا لے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلاَّ مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت فرمانا تحریم کے سبب ہے سواے اس کے جس کا مباح ہونا بتا دیا گیا،اسی طرح آپ کے اور کاموں کا حکم ہے؛جلد٩ص١١٢،حدیث نمبر ٧٣٦٨)
ارشاد باری تعالی ہے:ترجمہ کنز الایمان: اور ان کا کام ان کے اپس کے مشورے سے ہے۔(شوریٰ ٣٨)اور فرمایا: اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔(آل عمران ١٥٩)اور مشورہ پختہ عزم کرنے اور ظاہر ہونے سے پہلے ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ترجمہ کنز الایمان:اور جب کسی بات کا پکا ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔(آل عمران ١٥٩)چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عزم فرما لیتے تو کسی بشر کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جانے کا حق نہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے احد کے دن مشورہ فرمایا کہ شہر میں رہ کر مقابلہ کیا جائے یا باہر نکل کر چنانچہ لوگوں نے باہر نکلنے کا مشورہ دیا جب اپ ہتھیار پہن چکے اور پختہ عزم فرما لیا تو لوگوں نے شہر میں رہنے کے لیے کہا لیکن اپ نے ارادہ فرما لینے کے بعد ان کی جانب توجہ نہ فرمائی اور فرمایا کہ کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ہتھیار پہننے کے بعد انہیں کھول کر رکھ دے حتی کہ خدا حکم فرمائے اور اپ نے حضرت علی اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ فرمایا جبکہ تہمت لگانے والوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی اور ان کی باتیں سنی حتی کہ قران کریم نازل ہوا اور تہمت لگانے والو کو کوڑے مارے گئے اور ان کے اختلاف کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ وہی فیصلہ فرمایا جو اللہ نے حکم فرمایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ائمہ بھی اہل علم سے مباح امور میں مشورہ کیا کرتے تاکہ سہل پہلو کو حاصل کر سکے اور جب کتاب یا سنت کا حکم واضح ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں دوسرے کی جانب توجہ نہ کرتے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اپ کس طرح ان سے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑتا رہوں حتی کہ وہ کہہ دے کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ چنانچہ جب انہوں نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا تو اپنے خون اور مال کو مجھ سے بچا لیا مگر حق کے ساتھ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم میں ان سے ساتھ ضرور قتال کروں گا جو ان چیزوں میں کمی کریں گے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع فرمایا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ متفق ہو گئے اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مشورے کی جانب توجہ نہیں فرمائی کیونکہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کے متعلق حکم موجود تھا جنہوں نے نماز اور زکوۃ میں فرق کیا نیز دین اور اس کے احکام کو تبدیل کر دینے کا ارادہ کیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو اور قاری حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشیر تھے خواہ وہ عمر رسیدہ تھے یا جوان اور وہ اللہ کی کتاب کے اگے بہت زیادہ رک جانے والے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ}؛جلد٩ص١١٢) عبید اللہ کا بیان ہے کہ جب بہتان لگانے والوں نے ان پر بہتان لگایا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بلوایا جبکہ وحی اترنے میں تاخیر ہو گئی تھی چنانچہ ان دونوں سے اپنی زوجہ کو جدا کر دینے کے متعلق دریافت کیا اور مشورہ کیا پس حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایسا اشارہ کیا کہ وہ اپ کی زوجہ کی پاکیزگی کو جانتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالی اپ پر اس کے متعلق دشواری نہیں ڈالے گا اور ان کے سوا عورتیں اور بہت ہے اور اس لونڈی سے دریافت فرما لیجئے یہ سچ سچ بتا دے گی اپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی مشکوک بات دیکھی اس نے عرض کی کہ میں نے اس کے سوا ان میں کوئی اور بات نہ دیکھی کہ وہ ایک نو عمر لڑکی ہے بسا اوقات گھر کا اٹا گوندھ کر سو جاتی ہے چنانچہ بکری آکر اسے کھا جاتی ہے پس اپ ممبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا اے مسلمانوں!کون ہے جو میری جانب سے اسے سزا دے جس نے میری زوجہ کے متعلق مجھے اذیت پہنچائی ہے خدا کی قسم میں اپنی زوجہ میں بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھتا پھر اپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی برات کا ذکر فرمایا ابو اسامہ نے بھی ہشام سے ایسا ہی نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ}؛جلد٩ص١١٣،حدیث نمبر ٧٣٦٩)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ تم مجھے ان لوگوں کے متعلق کیا مشورہ دیتے ہو جو میری بیوی کو برا کہہ رہے ہیں حالانکہ میں ان میں ہرگز کوئی برائی نہیں دیکھتا عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بہتان کا علم ہوا تو انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ کیا اپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں میں چلی جاؤں چنانچہ اپ نے اجازت عطا فرما دی اور ساتھ ایک غلام کو بھیجا اور انصار میں سے ایک ادمی نے کہا اے اللہ!تو پاک ہے ہمیں یہ حق نہیں کہ اس بارے میں زبان کھولے یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ} {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ}؛جلد٩ص١١٣،حدیث نمبر ٧٣٧٠)
Bukhari Shareef : Kitabul Etesaame Bill Kitabo Was Sunnah
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ
|
•