
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ:روزے کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص٥٥٧،حديث نمبر١٦٣٨)
قبیلہ عامر بن صعصعہ کے مطرف نامی ایک فرد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ منگایا، تو انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”روزہ جہنم سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں ڈھال ہوتی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ:روزے کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص٥٥٨،حديث نمبر١٦٣٩)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکارا جائے گا، کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟ تو جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ اس دروازے سے داخل ہو گا اور جو اس میں داخل ہو گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ:روزے کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص٥٥٨،حديث نمبر١٦٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ:ماہ رمضان کی فضیلت:جلد٢ص٥٥٨،حديث نمبر١٦٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، منادی پکارتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ، اور اے برائی کے چاہنے والے! اپنی برائی سے رک جا، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے، اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ:ماہ رمضان کی فضیلت:جلد٢ص٥٥٩،حديث نمبر١٦٤٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ:ماہ رمضان کی فضیلت:جلد٢ص٥٦٠،حديث نمبر١٦٤٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رمضان آیا تو رسول کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ آ گیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا وہ ہر طرح کے خیر (بھلائی) سے محروم رہا، اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہے گا جو (واقعی) محروم ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ:ماہ رمضان کی فضیلت:جلد٢ص٥٦٠،حديث نمبر١٦٤٤)
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم شک والے دن میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے ان کے پاس ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی بعض لوگ اس کو دیکھ کر الگ ہو گئے، (کیونکہ وہ روزے سے تھے) عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے دن میں روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ:شک کے دن کے روزے کا بیان:جلد٢ص٥٦١،حديث نمبر١٦٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ:شک کے دن کے روزے کا بیان:جلد٢ص٥٦١،حديث نمبر١٦٤٦)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے پہلے منبر پر فر مار ہے تھے: ”روزہ فلاں فلاں دن شروع ہو گا، اور ہم اس سے پہلے سے روزہ رکھنے والے ہیں لہٰذا جس کا جی چاہے پہلے سے روزہ رکھے، اور جس کا جی چا ہے مؤخر کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ:شک کے دن کے روزے کا بیان:جلد٢ص٥٦٢،حديث نمبر١٦٤٧)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وِصَالِ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ:شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملانے کا بیان:جلد٢ص٥٦٣،حديث نمبر١٦٤٨)
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وِصَالِ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ:شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملانے کا بیان:جلد٢ص٥٦٣،حديث نمبر١٦٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَتَقَدَّمَ رَمَضَانَ بِصَوْمٍ إِلاَّ مَنْ صَامَ صَوْمًا فَوَافَقَهُ:رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے:جلد٢ص٥٦٤،حديث نمبر١٦٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نصف شعبان ہو جائے، تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَتَقَدَّمَ رَمَضَانَ بِصَوْمٍ إِلاَّ مَنْ صَامَ صَوْمًا فَوَافَقَهُ:رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے:جلد٢ص٥٦٤،حديث نمبر١٦٥١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رات میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں“؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال اٹھو، اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ لوگ کل روزہ رکھیں“۔ ابوعلی کہتے ہیں: ایسے ہی ولید بن ابی ثور اور حسن بن علی کی روایت ہے، اس کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے، اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا اور کہا: تو بلال رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ لوگ قیام اللیل کریں (یعنی صلاۃ تراویح پڑھیں) اور روزہ رکھیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ:رویت ہلال (چاند دیکھنے) کی گواہی کا بیان:جلد٢ص٥٦٥،حديث نمبر١٦٥٢)
ابوعمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے انصاری چچاؤں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہمارے اوپر شوال کا چاند مشتبہ ہو گیا تو اس کی صبح ہم نے روزہ رکھا، پھر شام کو چند سوار آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور دوسرے دن صبح عید کے لیے نکلیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ:رویت ہلال (چاند دیکھنے) کی گواہی کا بیان:جلد٢ص٥٦٦،حديث نمبر١٦٥٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر ہی روزہ توڑا کرو، اور اگر چاند بادل کی وجہ سے مشتبہ ہو جائے تو تیس دن کی تعداد پوری کرو“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاند نکلنے کے ایک روز پہلے سے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ»:چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر روزہ توڑنے کا بیان:جلد٢ص٥٦٧،حديث نمبر١٦٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب چاند دیکھو تو روزہ توڑ دو، اگر بادل آ جائے تو تیس روزے پورے کرو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ»:چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر روزہ توڑنے کا بیان:جلد٢ص٥٦٧،حديث نمبر١٦٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں؟“ ہم نے عرض کیا: بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، اور تیسری بار ایک انگلی بند کر لی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»:مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس کا بیان:جلد٢ص٥٦٨،حديث نمبر١٦٥٦)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، تیسری دفعہ میں ۲۹ کا عدد بنایا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»:مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس کا بیان:جلد٢ص٥٦٩،حديث نمبر١٦٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»:مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس کا بیان:جلد٢ص٥٦٩،حديث نمبر١٦٥٨)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي شَهْرَيِ الْعِيدِ:عید کے دونوں مہینوں کا بیان:جلد٢ص٥٧٠،حديث نمبر١٦٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي شَهْرَيِ الْعِيدِ:عید کے دونوں مہینوں کا بیان:جلد٢ص٥٧٠،حديث نمبر١٦٦٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے، اور نہیں بھی رکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ:سفر میں روزہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٧١،حديث نمبر١٦٦١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: میں روزہ رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ:سفر میں روزہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٧٢،حديث نمبر١٦٦٢)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ:سفر میں روزہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٧٢،حديث نمبر١٦٦٣)
حضرت کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ:سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٧٣،حديث نمبر١٦٦٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ:سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٧٣،حديث نمبر١٦٦٥)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہے جیسے کہ حضر میں روزہ نہ رکھنے والا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ:سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٧٤،حديث نمبر١٦٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی عبدالاشہل کے اور علی بن محمد کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عبداللہ بن کعب کے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آ جاؤ اور کھاؤ“ میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھو میں تمہیں روزے کے سلسلے میں بتاتا ہوں“ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کر دی ہے، اور مسافر، حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) سے روزہ معاف کر دیا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں باتیں فرمائیں، یا ایک بات فرمائی، اب میں اپنے اوپر افسوس کرتا ہوں کہ میں نے آپ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ لِلْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ:حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزہ نہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٧٥،حديث نمبر١٦٦٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو، رخصت دی کہ وہ دونوں روزے نہ رکھیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ لِلْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ:حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزہ نہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٧٦،حديث نمبر١٦٦٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوتے تھے میں ان کی قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آ جاتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ:رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کا بیان:جلد٢ص٥٧٦،حديث نمبر١٦٦٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا تو آپ ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ:رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کا بیان:جلد٢ص٥٧٧،حديث نمبر١٦٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کرو“، اس نے کہا: میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو“، اس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ“ اس نے کہا: مجھے اس کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“ وہ بیٹھ گیا، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آ گیا، اس ٹوکرے کو «عرق» کہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جاؤ اسے صدقہ کر دو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو“۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ایسے ہی بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی جگہ پر ایک دن کا روزہ رکھ لو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ: رمضان کا کوئی روزہ چھوڑنے کا کفارہ:جلد٢ص٥٧٧،حديث نمبر١٦٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے تو اسے پورے سال کے روزے (بھی) کافی نہ ہوں گے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ: رمضان کا کوئی روزہ چھوڑنے کا کفارہ:جلد٢ص٥٧٩،حديث نمبر١٦٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھول کر کھا لیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کر لے (توڑے نہیں) اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَفْطَرَ نَاسِيًا: روزہ میں بھول کر کھا پی لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٥٧٩،حديث نمبر١٦٧٣)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کر لیا، پھر سورج نکل آیا، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟، انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَفْطَرَ نَاسِيًا: روزہ میں بھول کر کھا پی لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٥٨٠،حديث نمبر١٦٧٤)
حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ روزہ رکھا کرتے تھے، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دن تو آپ کے روزے کا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آج میں نے قے کی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّائِمِ يَقِيءُ:روزہ دار قے کر دے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٥٨٠،حديث نمبر١٦٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے خود بہ خود قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّائِمِ يَقِيءُ:روزہ دار قے کر دے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٥٨١،حديث نمبر١٦٧٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ وَالْكُحْلِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار کے مسواک کرنے اور سرمہ لگانے کا بیان:جلد٢ص٥٨٢،حديث نمبر١٦٧٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ وَالْكُحْلِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار کے مسواک کرنے اور سرمہ لگانے کا بیان:جلد٢ص٥٨٣،حديث نمبر١٦٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار کے پچھنا لگوانے کا بیان:جلد٢ص٥٨٣،حديث نمبر١٦٧٩)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار کے پچھنا لگوانے کا بیان:جلد٢ص٥٨٤،حديث نمبر١٦٨٠)
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار کے پچھنا لگوانے کا بیان:جلد٢ص٥٨٥،حديث نمبر١٦٨١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ روزے سے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار کے پچھنا لگوانے کا بیان:جلد٢ص٥٨٥،حديث نمبر١٦٨٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ: روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٥٨٧،حديث نمبر١٦٨٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ: روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٥٨٧،حديث نمبر١٦٨٤)
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کابیان:جلد٢ص٥٨٨،حديث نمبر١٦٨٥)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اس حال میں کہ دونوں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ: روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کابیان:جلد٢ص٥٨٩،حديث نمبر١٦٨٦)
اسود اور مسروق ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مباشرت کرتے (ساتھ سوتے) تھے؟، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ایسا کرتے تھے، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان:جلد٢ص٥٨٩،حديث نمبر١٦٨٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ:روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان:جلد٢ص٥٩٠،حديث نمبر١٦٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالرَّفَثِ لِلصَّائِمِ:غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان:جلد٢ص٥٩٠،حديث نمبر١٦٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کئی روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنہیں روزہ رکھنے کے نتیجے میں صرف بھوک حاصل ہوتی ہے اور کئی نوافل ادا کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نوافل ادا کر کے صرف رات کو جاگنا ہوتا ہے۔ (یعنی انہیں اجر و ثواب نہیں ملتا) (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالرَّفَثِ لِلصَّائِمِ:غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان:جلد٢ص٥٩١،حديث نمبر١٦٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو گندی اور فحش باتیں اور جماع نہ کرے، اور نہ ہی جہالت اور نادانی کا کام کرے، اگر کوئی اس کے ساتھ جہالت اور نادانی کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالرَّفَثِ لِلصَّائِمِ:غیبت اور فحش کلامی پر روزہ دار کے لیے وارد وعید کا بیان:جلد٢ص٥٩٢،حديث نمبر١٦٩١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، سحری میں برکت ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي السُّحُورِ:سحری کھانے کا بیان:جلد٢ص٥٩٢،حديث نمبر١٦٩٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن کے روزے میں سحری کھانے سے مدد لو، اور قیلولہ سے رات کی عبادت میں مدد لو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي السُّحُورِ:سحری کھانے کا بیان:جلد٢ص٥٩٣،حديث نمبر١٦٩٣)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ کہا: پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ:سحری دیر سے کھانے کا بیان:جلد٢ص٥٩٣،حديث نمبر١٦٩٤)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری فجر کے طلوع ہو جانے کے وقت کھائی، لیکن ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ:سحری دیر سے کھانے کا بیان:جلد٢ص٥٩٤،حديث نمبر١٦٩٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے، وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ تم میں سونے والا (سحری کھانے کے لیے) جاگ جائے، اور قیام (یعنی تہجد پڑھنے) والا اپنے گھر چلا جائے، اور فجر اس طرح سے نہیں ہے، بلکہ اس طرح سے ہے کہ وہ آسمان کے کنارے عرض (چوڑان) میں ظاہر ہوتی ہے“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ:سحری دیر سے کھانے کا بیان:جلد٢ص٥٩٤،حديث نمبر١٦٩٦)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، ہمیشہ خیر میں رہیں گے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الإِفْطَارِ:افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان:جلد٢ص٥٩٥،حديث نمبر١٦٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر میں رہیں گے، تم لوگ افطار میں جلدی کرو اس لیے کہ یہود اس میں دیر کرتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الإِفْطَارِ:افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان:جلد٢ص٥٩٦،حديث نمبر١٦٩٨)
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرے، اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ عَلَى مَا يُسْتَحَبُّ الْفِطْرُ:کن چیزوں سے افطار مستحب ہے؟:جلد٢ص٥٩٧،حديث نمبر١٦٩٩)
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا روزہ نہیں جو صبح صادق ہونے سے پہلے اس کی نیت نہ کر لے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ وَالْخِيَارِ فِي الصَّوْمِ:رض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان:جلد٢ص٥٩٨،حديث نمبر١٧٠٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور پوچھتے: ”کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے“؟ ہم کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے: ”میں روزے سے ہوں“، اور اپنے روزے پر قائم رہتے، پھر کوئی چیز بطور ہدیہ آتی تو روزہ توڑ دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی روزہ رکھتے، اور کبھی کھول دیتے، میں نے پوچھا: یہ کیسے؟ تو کہا: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ نکالے پھر کچھ دے اور کچھ رکھ لے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ وَالْخِيَارِ فِي الصَّوْمِ:رض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان:جلد٢ص٦٠٠،حديث نمبر١٧٠١)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رب کعبہ کی قسم! یہ بات کہ کوئی جنابت کی حالت میں صبح کرے تو روزہ توڑ دے، میں نے نہیں کہی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ:روزے کا ارادہ رکھتے ہوئے صبح تک جنبی رہنے کا بیان:جلد٢ص٦٠١،حديث نمبر١٧٠٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں رات گزارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے تو آپ اٹھتے اور غسل فرماتے، میں آپ کے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر آپ نکلتے تو میں نماز فجر میں آپ کی آواز سنتی۔ مطرف کہتے ہیں: میں نے عامر سے پوچھا: کیا ایسا رمضان میں ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ رمضان اور غیر رمضان سب برابر تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ:روزے کا ارادہ رکھتے ہوئے صبح تک جنبی رہنے کا بیان:جلد٢ص٦٠٢،حديث نمبر١٧٠٣)
نافع کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو جنابت کی حالت میں صبح کرے، اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے، اور آپ کی جنابت جماع سے ہوتی نہ کہ احتلام سے، پھر غسل کرتے اور اپنا روزہ پورا کرتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ:روزے کا ارادہ رکھتے ہوئے صبح تک جنبی رہنے کا بیان:جلد٢ص٦٠٤،حديث نمبر١٧٠٤)
حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے نہ تو روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ:مَا جَاءَ فِي صِيَامِ الدَّهْرِ:ہمیشہ روزے رکھنا کیسا ہے؟:جلد٢ص٦٠٤،حديث نمبر١٧٠٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس کا روزہ ہی نہیں ہوا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ:مَا جَاءَ فِي صِيَامِ الدَّهْرِ:ہمیشہ روزے رکھنا کیسا ہے؟:جلد٢ص٦٠٥،حديث نمبر١٧٠٦)
حضرت منہال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض کے روزہ کے رکھنے کا حکم دیتے تھے یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں تاریخ کے روزے کا، اور فرماتے: ”یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مثل ہے“۔ ایک اور سند سے بھی قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں شعبہ نے غلطی کی ہے، اور ہمام نے صحیح طرح سے روایت کی ہے، ”عبدالملک بن منہال“ کے بجائے صحیح عبدالملک بن قتادہ بن ملحان ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ:ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان:جلد٢ص٦٠٥،حديث نمبر١٧٠٧)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہر مہینہ تین دن روزہ رکھا تو گویا اس نے ہمیشہ روزہ رکھا“ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی تصدیق نازل فرمائی: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» (جو کوئی ایک نیکی کرے اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی) تو ایک روزے کے دس روزے ہوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ:ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان:جلد٢ص٦٠٦،حديث نمبر١٧٠٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے، معاذہ عدویہ کہتی ہیں: میں نے پوچھا: کون سے تین دنوں میں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سا دن ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ:ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان:جلد٢ص٦٠٧،حديث نمبر١٧٠٩)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے جائیں گے، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھیں گے ہی نہیں، اور میں نے آپ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ سوائے چند روز کے پورے شعبان روزے رکھتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کا بیان:جلد٢ص٦٠٨،حديث نمبر١٧١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے چھوڑیں گے ہی نہیں، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے رکھیں گے ہی نہیں، اور جب سے آپ مدینہ آئے آپ نے رمضان کے سوا کسی بھی مہینے کا روزہ لگاتار نہیں رکھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کا بیان:جلد٢ص٦٠٩،حديث نمبر١٧١١)
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ حضرت داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داود علیہ السلام کی نماز ہے، آپ آدھی رات سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے تھے، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ:حضرت داود علیہ السلام کے روزے کا بیان:جلد٢ص٦٠٩،حديث نمبر١٧١٢)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، پھر انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری یہ خواہش ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ:حضرت داود علیہ السلام کے روزے کا بیان:جلد٢ص٦١٠،حديث نمبر١٧١٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ ہمیشہ روزہ رکھا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ:حضرت نوح علیہ السلام کے روزے کا بیان:جلد٢ص٦١١،حديث نمبر١٧١٤)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا“ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» یعنی ”جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ:ماہ شوال کے چھ روزوں کا بیان:جلد٢ص٦١١،حديث نمبر١٧١٥)
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کا روزہ رکھا، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو وہ پورے سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ:ماہ شوال کے چھ روزوں کا بیان:جلد٢ص٦١٢،حديث نمبر١٧١٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جہاد کے سفر میں ایک روز بھی روزہ رکھا، تو اللہ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في صِيَامِ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:(فی سبیل اللہ) جہاد میں روزے رکھنے کا بیان:جلد٢ص٦١٢،حديث نمبر١٧١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جہاد کے سفر میں ایک دن بھی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في صِيَامِ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : (فی سبیل اللہ) جہاد میں روزے رکھنے کا بیان:جلد٢ص٦١٤،حديث نمبر١٧١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منیٰ کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ:ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے:جلد٢ص٦١٤،حديث نمبر١٧١٩)
حضرت بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا: ”جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا، اور یہ (ایام تشریق) کھانے اور پینے کے دن ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ:ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے:جلد٢ص٦١٥،حديث نمبر١٧٢٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اور عید الاضحی کو روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى:عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا منع ہے:جلد٢ص٦١٦،حديث نمبر١٧٢١)
ابوعبید کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید شروع کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو عید الفطر، دوسرے عید الاضحی، رہا عید الفطر کا دن تو وہ تمہارے روزے سے افطار کا دن ہے، اور رہا عید الاضحی کا دن تو اس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى:عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا منع ہے:جلد٢ص٦١٦،حديث نمبر١٧٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں رکھا جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن کا روزہ:جلد٢ص٦١٧،حديث نمبر١٧٢٣)
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن کا روزہ:جلد٢ص٦١٧،حديث نمبر١٧٢٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن کا روزہ:جلد٢ص٦١٨،حديث نمبر١٧٢٥)
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو، سوائے فرض روزہ کے، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے“ (لیکن روزہ نہ رکھے)۔ حضرت عبداللہ بن بسر کی بہن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر اسی جیسی روایت بیان کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ:سنیچر کے دن روزہ رکھنے کا بیان:جلد٢ص٦١٩،حديث نمبر١٧٢٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ الْعَشْرِ:عشرہ ذی الحجہ کا روزہ:جلد٢ص٦٢٠،حديث نمبر١٧٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کے کسی دن میں عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان دس دنوں میں ہے، اور ان میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے، اور ان میں ایک رات شب قدر (قدر کی رات) کے برابر ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ الْعَشْرِ:عشرہ ذی الحجہ کا روزہ:جلد٢ص٦٢٠،حديث نمبر١٧٢٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ الْعَشْرِ:عشرہ ذی الحجہ کا روزہ:جلد٢ص٦٢١،حديث نمبر١٧٢٩)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب اللہ تعالیٰ یہ دے گا کہ اگلے پچھلے ایک سال کے گناہ بخش دے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ:عرفہ کے دن کا روزہ:جلد٢ص٦٢١،حديث نمبر١٧٣٠)
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا تو اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ:عرفہ کے دن کا روزہ:جلد٢ص٦٢٢،حديث نمبر١٧٣١)
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے گھر ملنے گیا تو ان سے عرفات میں عرفہ کے روزے کے سلسلے میں پوچھا؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ:عرفہ کے دن کا روزہ:جلد٢ص٦٢٢،حديث نمبر١٧٣٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ) کا روزہ رکھتے، اور اس کے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:یوم عاشوراء کا روزہ:جلد٢ص٦٢٣،حديث نمبر١٧٣٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے“؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی، اور فرعون کو پانی میں ڈبو دیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن اللہ تعالیٰ کے شکر میں روزہ رکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا، اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:یوم عاشوراء کا روزہ:جلد٢ص٦٢٤،حديث نمبر١٧٣٤)
حضرت محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عاشوراء کے دن فرمایا: ”آج تم میں سے کسی نے کھانا کھایا ہے“؟ ہم نے عرض کیا: بعض نے کھایا ہے اور بعض نے نہیں کھایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھایا ہے اور جس نے نہیں کھایا ہے دونوں شام تک کچھ نہ کھائیں، اور «عروض» والوں کو کہلا بھیجو کہ وہ بھی باقی دن روزہ کی حالت میں پورا کریں“۔ راوی نے کہا اہل عروض سے آپ مدینہ کے آس پاس کے دیہات کو مراد لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:یوم عاشوراء کا روزہ:جلد٢ص٦٢٥،حديث نمبر١٧٣٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو محرم کی نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا“۔ ابوعلی کہتے ہیں: اسے احمد بن یونس نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے: اس خوف سے کہ عاشوراء آپ سے فوت نہ ہو جائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:یوم عاشوراء کا روزہ:جلد٢ص٦٢٦،حديث نمبر١٧٣٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے تو رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:یوم عاشوراء کا روزہ:جلد٢ص٦٢٦،حديث نمبر١٧٣٧)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاعاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالی کے فضل سے یہ امید ہے یہ اس سے پہلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:یوم عاشوراء کا روزہ:جلد٢ص٦٢٦،حديث نمبر١٧٣٨)
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کا اہتمام کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ:دوشنبہ (سوموار) اور جمعرات کا روزہ:جلد٢ص٦٢٧،حديث نمبر١٧٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے، تو پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو شنبہ اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے سوائے دو ایسے لوگوں کے جنہوں نے ایک دوسرے سے قطع تعلق کر رکھا ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان دونوں کو چھوڑو یہاں تک کہ باہم صلح کر لیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ:دوشنبہ (سوموار) اور جمعرات کا روزہ:جلد٢ص٦٢٨،حديث نمبر١٧٤٠)
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو تکلیف دو“؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقتور ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو“ میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو“ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کے مہینہ میں روزے رکھو، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ أَشْهُرِ الْحُرُمِ:حرمت والے مہینوں کا روزہ:جلد٢ص٦٢٩،حديث نمبر١٧٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے مہینے کا جسے تم لوگ محرم کہتے ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ أَشْهُرِ الْحُرُمِ:حرمت والے مہینوں کا روزہ:جلد٢ص٦٣٠،حديث نمبر١٧٤٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب کے مہینے میں روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ أَشْهُرِ الْحُرُمِ:حرمت والے مہینوں کا روزہ:جلد٢ص٦٣٠،حديث نمبر١٧٤٣)
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما حرمت والے مہینوں میں روزے رکھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شوال میں روزے رکھو“، تو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنا چھوڑ دیا، پھر برابر شوال میں روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: صِيَامِ أَشْهُرِ الْحُرُمِ:حرمت والے مہینوں کا روزہ:جلد٢ص٦٣١،حديث نمبر١٧٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی زکاۃ ہے، اور بدن کی زکاۃ روزہ ہے“ محرز کی روایت میں اتنا اضافہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ آدھا صبر ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الصَّوْمِ زَكَاةُ الْجَسَدِ: روزہ جسم کی زکاۃ ہے:جلد٢ص٦٣٢،حديث نمبر١٧٤٥)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في ثَوَابِ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا: روزہ افطار کرانے والے کا ثواب:جلد٢ص٦٣٢،حديث نمبر١٧٤٦)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: ”تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في ثَوَابِ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا: روزہ افطار کرانے والے کا ثواب:جلد٢ص٦٣٣،حديث نمبر١٧٤٧)
حضرت ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے (اور وہ صبر کرے) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الصَّائِمِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ: روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جائے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٦٣٤،حديث نمبر١٧٤٨)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الصَّائِمِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ: روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جائے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٦٣٤،حديث نمبر١٧٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے، اور وہ روزے سے ہو، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ: روزہ دار کو کھانے کی دعوت دینے کا بیان:جلد٢ص٦٣٥،حديث نمبر١٧٥٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی کو کھانے کے لیے دعوت دی جائے، اور وہ روزے سے ہو تو وہ دعوت قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ: روزہ دار کو کھانے کی دعوت دینے کا بیان:جلد٢ص٦٣٥،حديث نمبر١٧٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في «الصَّائِمُ لاَ تُرَدُّ دَعَوْتُهُ»:روزہ دار کی دعا رد نہ ہونے کا بیان:جلد٢ص٦٣٦،حديث نمبر١٧٥٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی“۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت كل شيء أن تغفر لي» ”اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في «الصَّائِمُ لاَ تُرَدُّ دَعَوْتُهُ»:روزہ دار کی دعا رد نہ ہونے کا بیان:جلد٢ص٦٣٦،حديث نمبر١٧٥٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ:عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان:جلد٢ص٦٣٧،حديث نمبر١٧٥٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر میں عید گاہ اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک کہ اپنے (مساکین) صحابہ کو اس صدقہ فطر میں سے کھلا نہ دیتے (جو آپ کے پاس جمع ہوتا)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ:عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان:جلد٢ص٦٣٨،حديث نمبر١٧٥٥)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ (عید گاہ سے) واپس نہ آ جاتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ:عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان:جلد٢ص٦٣٨،حديث نمبر١٧٥٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر جائے، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ رَمَضَانَ قَدْ فَرَّطَ فِيهِ:کوتاہی سے میت کے رہ جانے والے روزوں کے حکم کا بیان:جلد٢ص٦٣٩،حديث نمبر١٧٥٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن کا انتقال ہو گیا، اور اس پہ مسلسل دو ماہ کے روزے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری بہن پہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں“؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ادا کرتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا زیادہ اہم ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ مِنْ نَذْرٍ:میت کے نذر والے روزے کے حکم کا بیان:جلد٢ص٦٤٠،حديث نمبر١٧٥٨)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور اس پر روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ مِنْ نَذْرٍ:میت کے نذر والے روزے کے حکم کا بیان:جلد٢ص٦٤٠،حديث نمبر١٧٥٩)
عطیہ بن سفیان کہتے ہیں کہ ہمارے اس وفد نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تھا، ہم سے بنو ثقیف کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کیا کہ بنو ثقیف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا، جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، تو رمضان کے جو دن باقی رہ گئے تھے، ان میں انہوں نے روزے رکھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: فِيمَنْ أَسْلَمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ:جو رمضان میں اسلام لائے اس کے روزے کا بیان:جلد٢ص٦٤١،حديث نمبر١٧٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر عورت رمضان کے علاوہ کسی دن (نفلی روزہ) نہ رکھے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا:شوہر کی اجازت کے بغیر عورت نفلی روزہ رکھے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٦٤٤،حديث نمبر١٧٦١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو منع فرمایا کہ وہ اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَصُومُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا:شوہر کی اجازت کے بغیر عورت نفلی روزہ رکھے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٦٤٥،حديث نمبر١٧٦٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی کسی قوم کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: فِيمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَلاَ يَصُومُ إِلاَّ بِإِذْنِهِمْ:مہمان میزبان کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے:جلد٢ص٦٤٥،حديث نمبر١٧٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا صبر کرنے والے روزہ دار کے ہم رتبہ ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: فِيمَنْ قَالَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا ثواب میں صبر کرنے والے روزہ دار کے ہم رتبہ ہے:جلد٢ص٦٤٦،حديث نمبر١٧٦٤)
صحابی رسول حضرت سنان بن سنۃ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والے کو صبر کرنے والے صائم کے برابر ثواب ملتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: فِيمَنْ قَالَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ: کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا ثواب میں صبر کرنے والے روزہ دار کے ہم رتبہ ہے:جلد٢ص٦٤٧،حديث نمبر١٧٦٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شب قدر خواب میں دکھائی گئی لیکن پھر مجھ سے بھلا دی گئی، لہٰذا تم اسے رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈھو“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في لَيْلَةِ الْقَدْرِ: لیلۃ القدر (شب قدر) کا بیان:جلد٢ص٦٤٨،حديث نمبر١٧٦٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں (عبادت) میں ایسے مصروف رہتے کہ آپ اور دنوں میں ایسا مصروف نہیں رہتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في فَضْلِ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ:رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص٦٤٩،حديث نمبر١٧٦٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جاگتے اور کمر کس لیتے، اور اپنے گھر والوں کو جگاتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في فَضْلِ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ:رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص٦٥٠،حديث نمبر١٧٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن کا اعتکاف کرتے تھے، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا اور ہر سال ایک بار قرآن کا دور آپ سے کرایا جاتا تھا، جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال دو بار آپ سے دور کرایا گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِعْتِكَافِ:اعتکاف کا بیان:جلد٢ص٦٥٠،حديث نمبر١٧٦٩)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال آپ نے سفر کیا (تو اعتکاف نہ کر سکے) جب دوسرا سال ہوا تو آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِعْتِكَافِ:اعتکاف کا بیان:جلد٢ص٦٥١،حديث نمبر١٧٧٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نماز فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا گیا، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے (بھی) ایک خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کا خیمہ دیکھا تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا: ”کیا ثواب کے لیے تم سب نے ایسا کیا ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رمضان میں اعتکاف نہیں کیا بلکہ شوال کے مہینہ میں دس دن کا اعتکاف کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ يَبْتَدِئُ الاِعْتِكَافَ وَقَضَاءِ الاِعْتِكَافِ: اعتکاف شروع کر کے چھوڑ دینے پر اس کی قضاء کا بیان:جلد٢ص٦٥١،حديث نمبر١٧٧١)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في اعْتِكَافِ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ:ایک دن یا ایک رات کے اعتکاف کا حکم:جلد٢ص٦٥٢،حديث نمبر١٧٧٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے وہ جگہ دکھائی ہے جہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الْمُعْتَكِفِ يَلْزَمُ مَكَانًا مِنَ الْمَسْجِدِ:معتکف اعتکاف کے لیے مسجد میں ایک جگہ خاص کر لے:جلد٢ص٦٥٣،حديث نمبر١٧٧٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرتے تو آپ کا بستر بچھا دیا جاتا تھا یا چارپائی توبہ کے ستون کے پیچھے ڈال دی جاتی تھی۔ (یہ وہی ستون ہے جس میں ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو باندھ لیا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا وہ اسی طرح بندھے رہیں گے۔) (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الْمُعْتَكِفِ يَلْزَمُ مَكَانًا مِنَ الْمَسْجِدِ:معتکف اعتکاف کے لیے مسجد میں ایک جگہ خاص کر لے:جلد٢ص٦٥٤،حديث نمبر١٧٧٤)
حضرت ابوسعیدی خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف کیا، اس کے دروازے پہ بورئیے کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا، آپ نے اس بورئیے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اسے ہٹا کر خیمہ کے ایک گوشے کی طرف کر دیا، پھر اپنا سر باہر نکال کر لوگوں سے باتیں کیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: الاِعْتِكَافِ فِي خَيْمَةِ الْمَسْجِدِ:مسجد کے خیمہ میں اعتکاف کرنے کا بیان:جلد٢ص٦٥٤،حديث نمبر١٧٧٥)
حضرت عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں (اعتکاف کی حالت میں) گھر میں ضرورت (قضائے حاجت) کے لیے جاتی تھی، اور اس میں کوئی بیمار ہوتا تو میں اس کی بیمار پرسی چلتے چلتے کر لیتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ضرورت ہی کے تحت گھر میں جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجَنَائِزَ:معتکف بیمار کی عیادت کرے اور جنازہ میں شریک ہو:جلد٢ص٦٥٥،حديث نمبر١٧٧٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معتکف جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے، اور بیمار کی عیادت کر سکتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجَنَائِزَ:معتکف بیمار کی عیادت کرے اور جنازہ میں شریک ہو:جلد٢ص٦٥٦،حديث نمبر١٧٧٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُعْتَكِفِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَيُرَجِّلُهُ:معتکف اپنا سر دھو سکتا ہے اور کنگھی کر سکتا ہے:جلد٢ص٦٥٦،حديث نمبر١٧٧٨)
ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لیے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہیں“ ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور یہ بات ان دونوں پہ گراں گزری، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دل میں کوئی غلط بات نہ ڈال دے“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُعْتَكِفِ يَزُورُهُ أَهْلُهُ فِي الْمَسْجِدِ: معتکف کے گھر والے مسجد میں آ کر اس سے مل سکتے ہیں:جلد٢ص٦٥٧،حديث نمبر١٧٧٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في الْمُسْتَحَاضَةِ تَعْتَكِفُ:استحاضہ والی عورت کا اعتکاف:جلد٢ص٦٥٧،حديث نمبر١٧٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا: ”اعتکاف کرنے والا تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے، اور اس کو ان نیکیوں کا ثواب جن کو وہ نہیں کر سکتا ان تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابٌ في ثَوَابِ الاِعْتِكَافِ:اعتکاف کا ثواب:جلد٢ص٦٥٨،حديث نمبر١٧٨١)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے اللہ کی عبادت کرے گا، تو اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دل مردہ ہو جائیں گے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الصیام:بَابُ: فِيمَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی رات میں عبادت کرنے والے کا ثواب:جلد٢ص٦٥٨،حديث نمبر١٧٨٢)
Ibne Majah Shareef : Roze Ke Ahkaam o Masayil
|
Ibne Majah Shareef : ابواب الصیام
|
•