asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Ibne Majah Shareef

Ibne Majah Shareef

Sunnat Ke Bare Me Rewayaat

From 1 to 58

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کام کا میں تمہیں حکم دوں اس کو بجا لاؤ اور جس سے روکوں اس سے رک جاؤ(باز آجاو)۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 1

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس معاملے میں میں تمہیں چھوڑ دوں تم بمجھے بھی رہنے دو؛کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے نبیوں سے سوالات کرنے اور اختلافات کرنے کی وجہ ہلاکت کا شکار ہوئے اور جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ:أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 2

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے میرا حکم مانا اس نے اللہ عزوجل کا حکم مانا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی؛؛؛؛ ؛ (سنن ابن ماجہ شریف:بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللهُ علیہ وَسَلَّمَ:جلد ١ ص ٤:حدیث نمبر ٣:(

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَی اللَّهَ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 3

حضرت ابو جعفر الباقر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سماعت فرماتے تو اس میں نہ کچھ زیادہ کرتے نہ کچھ کم کرتے؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف؛ باب اتباع سنت سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:جلد ١ ص ٤:حدیث نمبر ٤:(

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ «إِذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ يَعْدُهُ، وَلَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 4

حضرت ابو دردآء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ باہم فقر(غریبی)کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے اور اس سے خوف زدہ تھے؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم فقر سے خوف زدہ ہو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم پر دنیا اس طرح بہادی جائے گی کہ دنیا کی جانب کسی کا ذرا بھی دل متوجہ نہ ہوگا اللہ کی قسم میں تمہیں ایسی حالت میں چھوڑ کر جاؤں گا جس کے شب و روز سفیدی میں برابر ہوں گے؛ حضرت ابو دردآء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اللہ تعالیٰ کی قسم آپ ہمیں اسی حالت میں چھوڑ کر تشریف لے گئے جس کی سفیدی(مالداری)میں شب و روز برابر تھے؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف:بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلم؛ جلد ١ ص ٤؛حدیث نمبر ٥؛(

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَفْطَسُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَذْكُرُ الْفَقْرَ وَنَتَخَوَّفُهُ، فَقَالَ: «آلْفَقْرَ تَخَافُونَ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُصَبَّنَّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا، حَتَّى لَا يُزِيغَ قَلْبَ أَحَدِكُمْ إِزَاغَةً إِلَّا هِيهْ، وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ» قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: صَدَقَ وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَكَنَا وَاللَّهِ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 5

حضرت معاویہ بن قرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیکہ ان کے والد قرۃ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت قیامت تک غالب رہے گی اسے کوئی ذلیل کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف؛ باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد ١ ص ٤؛حدیث نمبر ٦؛(

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 6

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ اللہ عزوجل کے حکم کی تعمیل کرتی رہے گی انہیں انکا کوئی مخالف نقصان نہیں پہنچا سکے گا (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر ٧؛

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ نَصْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَکَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَوَّامَةً عَلَی أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهَا مَنْ خَالَفَهَا

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 7

ابوعبد اللہ، ہشام بن عمار، جراح بن ملیح، ہم سے بیان کیا بکر بن زرعہ نے کہ میں نے ابوعنبہ الخولانی سے سنا ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھی ہے وہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہمیشہ اللہ تعالیٰ-اس- دین-اسلام- میں ایک پودا لگاتا رہے گا اور اسے اپنی اطاعت-یعنی اپنی فرمانبرداری- میں استعمال فرماتا رہے گا (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر ٨

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيَّ وَکَانَ قَدْ صَلَّی الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَزَالُ اللَّهُ يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ غَرْسًا يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِهِ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 8

یعقوب بن حمید بن کاسب، قاسم بن نافع، حجاج بن ارطاة، عمرو بن شعیب، شعیب حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ کھڑے ہوئے حضرت معاویہ-رضی اللہ عنہ-خطبہ دینے کے لئے اور فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے قائم ہونے تک ایک جماعت میری امت سے غالب رہے گی لوگوں پر وہ نہ کسی مخالف کو خطرے میں لائیں گے اور نہ کسی مددگار کی انہیں احتیاج ہوگی؛؛؛؛ ؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر ٩

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ کَاسِبٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا فَقَالَ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا وَطَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرُونَ عَلَی النَّاسِ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ نَصَرَهُمْ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 9

ہشام بن عمار، محمد بن شعیب، سعید بن بشیر، قتادہ، ابوقلابہ، ابواسماء الرحبی، ثوبان فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور کوئی مخالفت کرنے والا اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت لے آئے گا (یعنی اس جماعت کی اللہ عزوجل کی طرف سے مدد کی جائے گی اور اس جماعت کو کوئی مخالفت کرنے والا نقصان ضرر نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ عزوجل کے حکم سے (قیامت) آجائے گی ۔؛؛؛ ؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر ١٠

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يزالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 10

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکیر کھینچی دو لکیریں اس لکیر کی دائیں جانب اور کھینچی اور دو لکیریں اس لکیر کی بائیں جانب اور کھینچی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنا ہاتھ درمیان والی لکیر پر رکھا اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی،(ترجمہ)یہی میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اور جدا جدا راستوں پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہیں سیدھی راہ سے الگ کر دیں گے؛؛؛؛ ؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٦؛حدیث نمبر ١١؛

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَالِدًا يَذْكُرُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَّ خَطًّا، وَخَطَّ خَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ، وَخَطَّ خَطَّيْنِ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَوْسَطِ، فَقَالَ: «هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ» ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ} [الأنعام: ١٥٣] "

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 11

حضرت مقدام بن معدیکرب الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہت جلد ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے تخت پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھا ہوگا؛ اور اس کے سامنے میری حدیث بیان کی جائے گی تو جواب میں وہ کہے گا، ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی اللہ کی کتاب ہے جو کچھ ہم پائیں گے اس میں حلال حلال اسی کو مانیں گے اور جو کچھ ہم اس میں پائیں گے حرام حرام اسی کو مانیں گے؛ ہوشیار؛ خبردار کہ جو کچھ حرام کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح حرام ہے جیسے حرام کیا اللہ نے۔(یعنی اس حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج کے نام نہاد اہل قرآن کہلانے والے کا رد فردیا کیونکہ یہ آج کے نام نہاد اہل قرآن کہتے ہیں کہ ہم بس قرآن مانتے باقی کچھ نہیں؛ ساتھ ہی میرے بھائیوں اس حدیث شریف یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل نے غیب کا علم عطا کیا تھا تبھی تو آپ علیہ السلام نے آنے والے زمانے کے باطل فرقہ یعنی اہل قرآن کے فاسد نظریات کے بارے میں بھی اپنی امت کو آگاہ فردیا؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ؛جلد ١ ص ٦؛حدیث نمبر ١٢؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ معْدِ يكَرِبَ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ، يُحَدَّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَّا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ "

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 12

ابورافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اس حالت میں نہ پاؤں کہ تم میں سے کوئی اپنے بستر پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی حکم یا کوئی ممانعت پہنچے تو وہ اس کے جواب میں یہ کہے ہمیں یہ بات اللہ کی کتاب میں نظر نہیں آتی کہ ہم اس کی پیروی کریں؛؛؛؛؛ (فائدہ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ؛ میں تمہیں اس حالت میں نہ پاؤں؛ یا تو یہ کلمہ دعائیہ ہے کہ میں وہ زمانہ دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ بدترین دور ہوگا؛ یا مقصد یہ ہیکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو اس حالت میں دیکھنا نہیں چاہتا یعنی تم سے یہ توقع نہیں رکھتا؛ یا یہ مقصد ہے کہ تم میں سے کوئی یعنی عامۃ المومنین میں سے کوئی ایسا نہ کرے؛ کیونکہ پھر اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا؛ کاش اس حدیث میں آج کے نام نہاد اہل قرآن کہلانے والے منکرین حدیث پر غور کریں تو شاید انکو بھی ہدایت مل جائے؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛ جلد ١ ص ٦؛حدیث نمبر ١٣؛

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي بَيْتِهِ، أَنَا سَأَلْتُهُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ثُمَّ مَرَّ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: أَوْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ، يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ، أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ "

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 13

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی ہمارے دین میں ایسی کوئی نئی بات پیدا کرے جو دین میں موجود نہ ہو تو وہ مردود ہے؛؛؛؛؛؛؛ (یعنی ہر وہ کام جو قرآن و سنت کے خلاف ہو مردود ہے؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛ جلد ١ ص ٧؛حدیث نمبر ١٤؛

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 14

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی بندیوں(عورتوں) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع نہ کرو ابن عمر کے بیٹے نے جواب دیا اللہ کی قسم ہم ضرور روکیں گے سالم کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا میں تم سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم اس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ جواب دیتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے؛ اور ایک روایت میں ایا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ان سے بات نہ کرنے کی قسم قسم کھائی؛؛؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ ؛جلد ١ ص ٧؛حدیث نمبر ١٥) ==لیکن یاد رہے عورتوں کا اپنے گھر پر نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے بھی افضل ہے اور یہ روایت بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے؛حدیث کے الفاظ یہ ہیں(عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ»ترجمہ=اپنی عورتوں کو مساجد سے مت روکو ، مگر ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں - اس حدیث سے صاف ظاہر ہیکہ عورتوں کے لیے مساجد سے بہتر گھر ہی پر نماز پڑھنا ہے؛ یہ حدیث پاک ابو داؤد شریف جلد ١ ص ١٥٥؛میں موجود ہے حدیث نمبر ٥٦٥ اور اس حدیث وہابیوں کے شیخ البانی نے بھی صحیح کہا ہے اور المستدرک حدیث ٧٥٥ و مسند احمد حدیث نمبر ٥٤٦٨ میں بھی موجود ہے ۔از شبیر؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ» فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا زُبَيْرُ، اسْقِ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ» قَالَ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ، نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [النساء: ٦٥]

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 15

حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک انصاری نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرا کی کھال یعنی چھوٹی نہر کے بارے میں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کچھ نزاع(جھگڑا)کیا جس سے وہ حضرات کھجور کے باغات سیراب کیا کرتے تھے؛انصاری نے یوں کہا تھا کہ پانی کو کھلا چھوڑ دو تاکہ وہ چلتا رہے انہوں نے انکار کیا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر تم اپنے باغ کو سیراب کرنے کے بعد بقیہ پانی اپنے پڑوسی کے لئے چھوڑ دو اس بات پر وہ انصاری غصہ میں آگئے اور کہنے لگے کہ اس لئے کہ یہ آپ کا پھوپھی زاد بھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ (غصہ کی وجہ سے) متغیر ہو گیا پھر فرمایا: زبیر! اپنے باغ وغیرہ کو سیراب کرو اور اس وقت پانی روکے رکھو جب تک کہ وہ منڈیروں تک بلند نہ ہو جائے، حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَ رَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ) النساء : 65)=ترجمہ=قسم ہے تمہارے پروردگار کی یہ اس وقت تک مومن نہ ہوں گے جب تک آپس کے اختلافات میں آپ کو منصف نہ مانیں گے پھر تمہارے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی رنجش بھی نہ پائیں اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردیں (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، قال: أخبرنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الأنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلْ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ. فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ كَانَ ابْن عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ: "يَا زُبَيْرُ، اسْقِ، ثُم َّاحْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ (١) "، قَالَ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (٦٥)} [النساء: ٦٥]

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 16

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مغفل کے پہلو(بازوں)میں ان کا ایک بھتیجا بیٹھا تھا؛ اس نے کنکریاں پھیکنی شروع کیں؛ عبد اللہ نے اسے روکا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ کنکری پھینکنے سے نہ تو شکار کھیلا جا سکتا ہے؛ اور نہ دشمن کو زخمی کیا جاسکتا ہے؛ ہاں یہ فعل کسی کا(راہ چلتے)دانت توڑ سکتا اور آنکھ پھوڑ سکتا ہے؛ سعید بن زبیر کہتے ہیں کہ اس نے یعنی عبد اللہ بن مغفل کے بھیجتے نے دوبارہ یہی حرکت کی عبد اللہ نے فرمایا میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیان کر رہا ہوں اور تو پھر بھی یہی حرکت کر رہے ہو میں تم سے کبھی کلام نہ کروں گا (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ١٧؛)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ وَأَبُو عَمْرٍو حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا إِلَی جَنْبِهِ ابْنُ أَخٍ لَهُ فَخَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا فَقَالَ إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا وَلَا تَنْکِي عَدُوًّا وَإِنَّهَا تَکْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ قَالَ فَعَادَ ابْنُ أَخِيهِ فَخَذَفَ فَقَالَ أُحَدِّثُکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ لَا أُکَلِّمُکَ أَبَدًا

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 17

اسحاق بن قبیصہ روایت کرتے ہیں اپنے والد سے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی حضرت عبادہ بن صامت انصاری سر زمین روم میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑائی میں شریک تھے انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دیناروں اور چاندی کے ٹکروں کی درہموں کے بدلے میں خرید و فروخت کر رہے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ اے لوگوں تم سود کھا رہے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا سونا سونے کے بدلہ میں صرف برابر برابر بیچو جس میں نہ تو کمی ہو نہ زیادتی ہو اور نہ ادھار۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوالولید! میرے نزدیک یہ سود نہیں ہے الاّ یہ کہ ادھار ہو، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتاتا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کرتے ہو۔ اگر اللہ نے مجھے یہاں سے نکلنے کا موقع دیا تو میں آپ کے ساتھ ایسی سر زمین میں نہیں ٹھہروں گا جس کے والی آپ ہوں ، پھر جب وہ لوٹے تو مدینہ منورہ آئے،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا اے ابوالولید کس چیز نے آپ کو واپس کیا؟ انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا اور اپنے ٹھہرنے کے متعلق اپنے قول کا تذکرہ کیا، حضرت عمر نے فرمایا اے ابوالولید اسی سر زمین کی طرف لوٹ جاؤ کیونکہ جس زمین تم اور تمہارے مانند آدمی نہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اس میں مصیبت نازل فرما دے گا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ کو تم کوئی حکم نہ دوگے؛ اور جو کچھ حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے لوگوں سے اسی کی پیروی کراؤ کیونکہ یہی حکم ہے(یہی دین کا حکم ہے) (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ٨؛حدیث نمبر ١٨؛حکم حدیث؛ اس حدیث کو سنن ابن ماجہ کے محقق الارنووط نے ضعیف کہا اور وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ إسناده ضعيف لانقطاعه، قبيصة بن ذؤيب لم يسمع من عبادة بن الصامت)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيَّ النَّقِيبَ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزَا مَعَ مُعَاوِيَةَ أَرْضَ الرُّومِ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ وَهُمْ يَتَبَايَعُونَ كِسَرَ الذَّهَبِ بِالدَّنَانِيرِ، وَكِسَرَ الْفِضَّةِ بِالدَّرَاهِمِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ الرِّبَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَبْتَاعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، لَا زِيَادَةَ بَيْنَهُمَا وَلَا نَظِرَةً» فَقَالَ: لَهُ مُعَاوِيَةُ يَا أَبَا الْوَلِيدِ، لَا أَرَى الرِّبَا فِي هَذَا، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ نَظِرَةٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُحَدِّثُنِي عَنْ رَأْيِكَ لَئِنْ أَخْرَجَنِي اللَّهُ لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ لَكَ عَلَيَّ فِيهَا إِمْرَةٌ، فَلَمَّا قَفَلَ لَحِقَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا أَقْدَمَكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ؟ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، وَمَا قَالَ مِنْ مُسَاكَنَتِهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِلَى أَرْضِكَ، فَقَبَحَ اللَّهُ أَرْضًا لَسْتَ فِيهَا وَأَمْثَالُكَ، وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ: لَا إِمْرَةَ لَكَ عَلَيْهِ، وَاحْمِلِ النَّاسَ عَلَى مَا قَالَ، فَإِنَّهُ هُوَ الْأَمْرُ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 18

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جب میں تمہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کوئی بات بتاؤں تو تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسا گمان کیا کرو جو ان کے شایان شان، صحیح اور پاکیزہ ہو (اس متن کو صرف امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے) (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ٩؛حدیث نمبر ١٩؛حکم حدیث؛ إسناده ضعيف لانقطاعه بين عون -وهو ابن عبد الله بن عتبة بن مسعود- وبين عم أبيه عبد الله بن مسعود.-از الارنووط_

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْخَلَّادِ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 19

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات بتاؤں تو تم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسا گمان کیا کرو جو ان کے لائق شان درست اور پاکیزہ ہو۔(کیونکہ یہ اس کا ارشاد ہے جو سب سے زیادہ ہدایت یافتہ اور سب سے بڑھ کر متقی ہے؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ٩؛حدیث نمبر ٢٠؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: «إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 20

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں تم کو ایسے لوگوں کے بارے میں خبر دیتا ہوں جو اپنے مسند پر بیٹھے ہوں گے اور جب میری حدیث ان کے سامنے بیان کی جائے گی تو وہ کہیں گے صرف قرآن پڑھو؛(پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) یاد رکھو جو عمدہ بات تمہارے سامنے پیش کی جائے تو جان لو کہ اس کا کہنے والا میں ہوں؛؛؛؛ ؛ (سنن ابن ماجہ شریف؛ بَابُ تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ، وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ؛جلد ١ ص ٩؛حدیث نمبر ٢١؛حکم حدیث إسناده ضعيف جدًا، المقبري -وهو عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد- متروك ذاهب الحديث.

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا أَعْرِفَنَّ مَا يُحَدَّثُ أَحَدُكُمْ عَنِّي الْحَدِيثَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ، فَيَقُولُ: اقْرَأْ قُرْآنًا، مَا قِيلَ مِنْ قَوْلٍ حَسَنٍ فَأَنَا قُلْتُهُ "

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 21

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا اے میرے بھتیجے جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کروں تو اس کے مقابلے میں مثالیں بیان نہ کیا کرو...... (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ، وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ؛جلد ١ ص ١٠؛حدیث نمبر ٢٢؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لِرَجُلٍ: يَا ابْنَ أَخِي، «إِذَا حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَا تَضْرِبْ لَهُ الْأَمْثَالَ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 22

حدیث نمبر ٢١ میں جو روایت اسی کے مثل روایت حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ، وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ٢٣؛

قَالَ: أَبُو الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكَرَابِيسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، مِثْلَ حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 23

حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جمعرات کی شام کو جاتا تھا لیکن میں نے انہیں کسی بات پر کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایک شام کو انہوں نے فرمایا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد انہوں نے سر جھکا لیا؛ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ جب ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا گیا تو وہ اس حالت میں کھڑے تھے کہ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے آنکھیں پھٹی ہوئی تھی اور رگیں پھولی ہوئی تھی؛ اس کے بعد انہوں نے فرمایا آپ"یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا تھا یا کم و بیش یا اس کے قریب یا اس کے مانند "یعنی مجھے یاد نہیں" (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٠؛حدیث نمبر ٢٤؛؛؛؛؛(اس حدیث پر ذرا غور کریں جب تک پوری تحقیق نہ ہو کہ یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کہ نہیں تب تک اس فرمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے"" ""

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: " مَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ عَشِيَّةَ خَمِيسٍ إِلَّا أَتَيْتُهُ فِيهِ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ لِشَيْءٍ قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَكَسَ " قَالَ: «فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَهُوَ قَائِمٌ مُحَلَّلَةً، أَزْرَارُ قَمِيصِهِ، قَدْ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ» قَالَ: أَوْ دُونَ ذَلِكَ، أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، أَوْ شَبِيهًا بِذَلِكَ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 24

حضرت محمد بن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرماتے تو اس طرح گھبرا جاتے اور فرماتے یا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛؛؛؛ ؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ٢٥؛؛؛؛؛؛؛؛(اس حدیث سے سبق حاصل کریں وہ لوگ جو اچھے طریقے سے عالم بھی نہیں ہوتے اور درس حدیث دینا شروع کردیتے غور کریں جب اللہ کے رسول کی حدیث بیان کرتے وقت صحابہ کرام اتنا گھبراتے تھے تو جو درست طریقے سے عالم بھی نہیں انکو کتنا گھبرانا چاہیے مگر نہیں آج تو ہر سڑک چھاپ آدمی حدیث میں یہ لکھا وہ لکھا ہے کرنا شروع کردیتا ہے جبکہ فن حدیث سے ذرا بھی واقف نہیں ہے ہم تو بس دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل اس امت پر رحم کرے آمین؛؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، " إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ: أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 25

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کیجیے=تو=انہوں نے فرمایا ہم ضعیف(بوڑھے) ہو گئے ہیں اور بھولنے لگے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کرنا ایک عظیم ذمہ داری ہے"" "" (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ٢٦؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛(اس حدیث پر ذرا غور کریں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حدیث بیان کرنے کے لئے عالم وغیرہ ہونا ضروری نہیں ہر کوئی حدیث بیان کرنے کا اہل ہیں جب ایک صحابی صرف ضعف عمر کی بنا پر حدیث بیان کرنے ڈرتے ہیں تو جس شخص ضعف علم ہو اسکو حدیث بیان کرتے وقت کتنا ڈرنا چاہئے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَبِرْنَا وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 26

حضرت عبداللہ بن ابی السفر فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک سال حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا مگر کبھی انہیں حضور کی جانب سے کوئی بات(منسوب)کرکے حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ٢٧؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 27

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث یاد کرتے تھے اور حدیث یاد ہی کی جاتی ہے؛ لیکن اب تم نے ہر مشکل اور آرام دہ جگہ پر چڑھنا شروع کردیا(یعنی بلا تحقیق) تو تم پر افسوس صد افسوس (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٢؛حدیث نمبر ٢٨؛ (میرے بھائیوں معلوم ہوا کہ حدیث بڑی تحقیق کے بعد بیان کی جاتی اور یہ تحقیق کا کام ہر عام آدمی کے بس کی بات نہیں اہل فہم کا کام ہے یہ

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «إِنّا كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا إِذَا رَكِبْتُمُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ، فَهَيْهَاتَ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 28

حضرت قرطۃ بن کعب فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی طرف بھیجا اور خود بھی ہمیں رخصت کرنے کے لئے مقام صرار تک آئے اور فرمایا تم جانتے ہو میں تمہارے ساتھ کیوں چلتا رہا ہم نے عرض کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی اور حق انصار کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا ساتھ چلنے کا مقصد تم سے ایک خاص بات بیان کرنا ہے تم لوگوں کا فرض ہے کہ میری اس مشایعت کا خیال رکھتے ہوئے ( تم اپنے ساتھ میرے چلنے کا لحاظ رکھتے ہوئے)تم اس بات کو یاد رکھو تم ایسے لوگوں سے ملوگے کہ قرآن کی آواز ان کے سینوں میں ایسی ہی ہوگی جیسے ہانڈی کی آواز(یعنی تم ایسی قوم کے پاس جاؤ گے جن کے سینے قرآن کے شوق سے ایسے ابلیں گے جیسے ہنڈیا) وہ تمہیں دیکھ کر تمہاری جانب اپنی گردنیں بڑھائیں گے اور کہیں گے محمد کے اصحاب آگئے تم ان سے رسول اللہ صلی اللہ کی حدیث کم بیان کرنا تو میں تمہارا شریک رہوں گا (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٢؛حدیث نمبر ٢٩؛

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الْكُوفَةِ وَشَيَّعَنَا، فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ، فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ؟» قَالَ: قُلْنَا: لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِحَقِّ الْأَنْصَارِ، قَالَ " لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثٍ أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ، فأردْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَايَ مَعَكُمْ، إِنَّكُمْ تَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ لِلْقُرْآنِ فِي صُدُورِهِمْ هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ، فَإِذَا رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ، وَقَالُوا: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ، فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَنَا شَرِيكُكُمْ "

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 29

حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں مدینہ سے مکہ تک سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں رہا لیکن انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی بیان کرتے نہیں سنا (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٢؛حدیث نمبر ٣٠؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ وَاحِدٍ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 30

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے مجھ پر(جان بوجھ کر) جھوٹ گھڑا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔. (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣١؛ (اس حدیث سے سبق حاصل کریں وہ لوگ جو بغیر تحقیق کہ حدیث ہیکہ پھر بھہ لکھتے ہیں اور فارورڈ کرتے ہیں کہ اتنے لوگوں کو یہ پوسٹ بھیجیں اتنا ثواب یہ فضیلت وہ فضیلت)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 31

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر جھوٹ نہ بولو کیونکہ مجھ پر جھوٹ بولنے سے دوزخ میں ڈالے جاؤ گے"" "" (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣٢؛

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، فَإِنَّ الْكَذِبَ عَلَيَّ يُولِجُ النَّارَ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 32

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ بولا اسے اپنی جگہ دوزخ میں بنا لینی چاہیے"" "" (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣٣؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ - حَسِبْتُهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا - فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 33

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کوئی جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لینا چاہیے؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣٤؛

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 34

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے اپنا(اسے اپنا) ٹھکانہ دوزخ میں بنا لینا چاہیے"" "" (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣٥؛؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 35

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ سے زیادہ احادیث بیان کرنے سے اجتناب کرو؛(کیونکہ) جو مجھ پر کوئی بات کہے اسے سچی بات کہنی چاہیے اور جو شخص وہ بات کہے جو میں نے نہیں کہی(تو اس جھوٹ کی بنا پر) اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لینا چاہیے؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٤؛حدیث نمبر ٣٦؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: «إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ، فَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ صِدْقًا، وَمَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 36

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد زبیر سے عرض کیا کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے نہیں سنتا؛ جیسے حضرت ابن مسعود اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو(حدیث بیان کرتے) سنتا ہوں؛ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں مسلمان ہوا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی الگ نہیں ہوا لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مجھ پر دانستہ جھوٹ بولے اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لینا چاہیے؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٤؛حدیث نمبر ٣٧؛ (اس حدیث سے سمجھ میں آیا کہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کثرت روایت کیوں نہیں ہے؛؛؛ ؛؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، مَا لِيَ لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَفُلَانًا وَفُلَانًا؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً، يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 37

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ پر دانستہ(جان بوجھ کر) جھوٹ بولے اسے اپنا مقام دوزخ میں بنا لینا چاہیے؛ ؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٤؛حدیث نمبر ٣٨؛

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 38

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ سے کوئی حدیث بیان کرے اور اس کو یہ سمجھتا ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٤؛حدیث نمبر ٣٩؛؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 39

حضرت سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بھی اس قسم کی روایت مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری طرف سے کوئی حدیث بیان کرے اور اس کا یہ خیال ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے؛؛ ؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٤٠؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 40

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس قسم کی روایت مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ سے کوئی حدیث بیان کرے اور اس کا یہ خیال ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٤١؛؛؛

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 41

محمد بن عبد؛ حسن بن موسیٰ الاشیب؛ شعبہ اس سند سے بھی یہ روایت(جو ماقبل میں حدیث نمبر ٤١تحت گزری) سمرۃ بن جندب سے مروی ہے (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٤٢؛؛؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، عَنْ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 42

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس قسم کی روایت مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ سے کوئی حدیث بیان کرے اور اس کا یہ خیال ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٤٣؛؛؛؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 43

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور ہمیں بہت عمدہ نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کے دل لرز اٹھے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو ہمیں ایسی نصیحت فرمائی ہے جیسے کوئی کسی کو رخصت کررہا ہو آپ ہم لوگوں سے کوئی عہدہ و پیمان لیجیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اللہ عزوجل کا خوف اور امیر کا حکم سننے اور اطاعت کرنے کو اپنے اوپر لازم سمجھ لو چاہے تمہارا امیر حبشی غلام کیوں نہ ہو؛(پھر فرمایا) تم میرے بعد بہت اختلاف دیکھو گے(تو) تم میری سنت اور خلفائے راشدین المہدین کی سنت کو لازم پکڑ لینا اور ان کے طریقے کو مظبوطی کے ساتھ دانتوں سے پکڑ لینا اور بدعات سے گریز کرنا کیونکہ ہر بدعت گمرہی ہے (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٤٤؛؛؛

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْمُطَاعِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً، وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَعَظْتَنَا مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَاعْهَدْ إِلَيْنَا بِعَهْدٍ، فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، وَسَتَرَوْنَ مِنْ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 44

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل دہل گئے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جیسے آپ ہمیں رخصت فرما رہے ہوں ہم سے کوئی عہد بھی لے لیجیے آپ نے فرمایا میں تمہیں ایسے منور دین پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کے شب و روز برابر ہیں اس دین سے وہی رو گردانی کرے گا جس کی قسمت میں بربادی ہے تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ ایک زبردست اختلاف دیکھیں گے تو تم میری سنت کو جانتے ہوئے خلفائے راشدین المہدین کی سنت کو دانتوں سے مظبوط پکڑ لینا اور اطاعت کو اپنے اوپر لازم کر لینا اگر چہ امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مومن کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے جس کے ہاتھ اس کی نکیل ہو اس کا مطیع اور فرمانبردار ہوتا ہے؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ؛جلد ١ ص ١٦؛حدیث نمبر ٤٥؛؛

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، يَقُولُ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ: «قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ، حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 45

حضرت عرباض ابن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز صبح پڑھائی اور اسکے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر ایک موثر و عمدہ نصیحت فرمائی اور پھر باقی واقعہ مذکورہ حدیث نمبر ٤٥ کی طرح بیان فرمایا؛؛؛ ؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ؛جلد ١ ص ١٧؛حدیث نمبر ٤٦؛

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 46

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک(آنکھ مبارک )سرخ ہو جاتیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی اور غصہ تیر ہو جاتا گویا کہ آپ لوگوں کو کسی لشکر سے خوف دلا رہے ہیں (پھر) فرماتے تمہاری صبح ایسی ہے تمہاری شام ایسی ہے (ایسی ہو گی) اور فرماتے کہ میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں اور انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملاتے ، پھر فرماتے اما بعد!سب سے بہتر حکم اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، سب سے بدترین کام دین میں نئی باتوں کا پیدا کرنا ہے اور ہر نئی بات گمراہی ہے اور فرماتے تھے جس شخص نے بعد وفات مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جس نے قرض یا عیال چھوڑے وہ میرے ذمہ ہے۔؛؛ ؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٧؛حدیث نمبر ٤٧؛؛

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: «صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ» وَيَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ، وَيَقْرِنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى» ثُمَّ يَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْأُمُورِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» وَكَانَ يَقُولُ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا، فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 47

حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دو چیزیں ہیں ایک کلام اور دوسرا طریقہ، پس سب سے بہتر کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، خبردار بدعتوں سے بچنا کیونکہ بدترین کام دین میں نئی چیز پیدا کرنا ہے جبکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے دھیان رکھنا کہ طویل طویل امیدیں باندھنے نہ لگ جانا مبادا کہ تمہارے دل سخت ہوجائیں خبردار وہ آنے والی (موت) قریب ہے دور تو وہ چیز ہے جو پیش آنے والی نہیں ہے ، آگاہ رہو بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہوگیا اور خوش بخت وہ ہے جو اپنے غیر سے نصیحت حاصل کرے، خبردار مومن مسلمان کے ساتھ قتال کفر ہے اور اس کو گالی دینا فسق ہے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے آگاہ رہو اپنے آپ کو جھوٹ سے بچاؤ کیونکہ جھوٹ نہ سنجیدگی کی حالت میں جائز ہے نہ ہنسی مذاق میں کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے کہ پھر اسے پورا نہ کرے کیونکہ جھوٹ نافرمانی تک لے جاتا ہے اور نافرمانی جہنم تک لے جاتی ہے اور سچ نیکی تک لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور سچے شخص کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ کہا بھلائی کی جبکہ جھوٹے کے لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جھوٹ بولا اور نافرمانی کی ، خبردار بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے۔؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٨؛حدیث نمبر ٤٨؛حکم حدیث؛صحح موقوفًا أكثره عن ابن مسعود، وهذا إسناد قابل للتحسين، عبيد بن ميمون روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وباقي رجاله ثقات. والصواب أن أكثر هذه الكلمات موقوفة على ابن مسعود من قوله غير آخره في الكذب والصدق فمرفوع"" ""

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ، الْكَلَامُ وَالْهَدْيُ، فَأَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدِثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، أَلَا لَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ، فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ، أَلَا إِنَّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ، وَإِنَّمَا الْبَعِيدُ مَا لَيْسَ بِآتٍ، أَلَا إِنَّمَا الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، أَلَا إِنَّ قِتَالَ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ بِالْجِدِّ وَلَا بِالْهَزْلِ، وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ صَبِيَّهُ ثُمَّ لَا يَفِي لَهُ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارَ، وَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ: صَدَقَ وَبَرَّ، وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ: كَذَبَ وَفَجَرَ، أَلَا وَإِنَّ الْعَبْدَ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا "

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 48

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی (ھُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَا ءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَا ءَ تَاْوِيْلِه څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِه كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّا اُولُوا الْاَلْبَابِ( ال عمران :٧) ترجمہ= وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے(کنزن الایمان) اور(پھر) ارشاد فرمایا اے عائشہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو آیات متشابہات میں جھگڑ رہے ہیں تو سمجھ لو یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ نے مراد لئے ہیں ان سے بچنا؛؛؛؛ ؛ سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٨؛حدیث نمبر ٤٩؛؛؛؛ (حضرت اہل سنت وجماعت یاد رکھیں کہ(محکم اور متشابہ آیات کی تفسیر میں سلف سے مختلف تعبیرات مننقول ہیں اور سب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہیکہ محکمات وہ آیتیں ہیں کہ جس کے معنی ظاہر ہوں اور ان کی مراد معلوم اور متعین ہو خواہ نفس لغت کے اعتبار سے ان کے معنی ظاہر ہوں یا شریعت کے بیان کردینے سے ان کی مراد متعین ہو یعنی ان کی مراد یا تو اس لئے متعین ہیکہ لغت اور ترکیب اور سیاق و سباق کے اعتبار سے نظم قرآنی میں کوئی ابہام اور اجمال نہیں یا شریعت کے اعتبار سے اس کی مراد متعین ہے؛ مثلا لفظ صلٰوۃ اور لفظ زکوٰۃ اگرچہ لغت کے اعتبار سے دعا اور پاکیزگی کے معنی ہیں جس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن شریعت کے بیان اور نصوص قطعیہ اور اسلام کے مسلمہ اجماع امت یہ قطعاً معتین ہو چکا ہے کہ صلٰوۃ اور زکوٰۃ سے متکلم کی مراد مخصوص طریقہ پر بدنی اور مالی عبادت بجا لانا ہے؛ ایسی آیات کو محکمات کہتے ہیں؛ متشابہات ان آیات کو کہتے ہیں جنکی مراد اور معنی کے معلوم اور متعین کرنے میں کسی قسم کا اشتباہ اور التباس واقع ہو جائے جیسے مقطعات قرآنیہ جیسے؛ الم؛ المر؛ طسم؛ وغیرہ؛ متشابہات کے بارے میں دو قول ہے ایک تو یہ کہ متشابہات کی تاویل سوائے اللہ عزوجل کے کسی کو نہیں معلوم؛ دوسرا قول یہ ہیکہ متشابہات کی تاویل و معنی اللہ عزوجل نے راسخین فی العلم کو بھی علی قدر مراتب بتائے ہیں؛؛؛؛؛؛؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ} [آل عمران: ٧] إِلَى قَوْلِهِ، {وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ} فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ، فَهُمُ الَّذِينَ عَنَاهُمُ اللَّهُ، فَاحْذَرُوهُمْ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 49

حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد ہدایت یافتہ لوگ اس وقت گمراہ ہو جائیں گے جب ان میں جنگ و جدال شروع ہو جائے گا(پھر آپ نے یہ آیت مبارک تلاوت فرمائی ( بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ) 43۔ الزخرف : 58)۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ» ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: ٥٨]

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 50

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بدعتی کا نہ روزہ قبول کرتا ہے نہ صدقہ نہ حج نہ عمرہ نہ جہاد نہ تو توبہ نہ نفل اور وہ(بدعتی) دین سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے بال آٹے سے نکال لیا جاتا ہے"" (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٩؛حدیث نمبر ٥١

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو هَاشِمِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لِصَاحِبِ بِدْعَةٍ صَوْمًا، وَلَا صَلَاةً، وَلَا صَدَقَةً، وَلَا حَجًّا، وَلَا عُمْرَةً، وَلَا جِهَادًا، وَلَا صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 51

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بدعتی کے عمل کو اس وقت تک قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے جب تک کہ وہ(بدعتی انسان) بدعت نہ چھوڑ دے؛؛؛؛ ؛ سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٩ حدیث نمبر ٥٢

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ الْحَنَّاطُ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَى اللَّهُ أَنْ يَقْبَلَ عَمَلَ صَاحِبِ بِدْعَةٍ حَتَّى يَدَعَ بِدْعَتَهُ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 52

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹ کو باطل سمجھ کر ترک کریگا اس کے لیے جنت کے اطراف میں محل تیار کیا جائے گا اور جو شخص جھگڑے کو حق سمجھتے ہوئے چھوڑے گا اس کے لیے جنت کے درمیان میں محل تیار کیا جائے گا اور جو شخص خوش خلقی اختیار کریگا اس کے لیے جنت کے بلند ترین حصہ میں محل تیار کیا جائے گا؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٩ حدیث نمبر ٥٣؛حکم حدیث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سلمة بن وردان. =محقق الارنووط

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ، بُنِيَ لَهُ قَصْرٌ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ، بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَةُ، بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 53

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علم کو ایسے نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے دلوں سے چھین لے؛(ہاں) لیکن علم کو علماء کی موت کے ذریعہ چھینا جائے گا(پھر جب دنیا میں) کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جہلا کو اپنا رئیس(سردار) بنا لیں گے؛ اور (اپنے)ان (جہلہ سردار) سے(دینی معاملات میں) سوالات کریں گے(تب وہ جاہل سردار بے علم عالم)علم کے بغیر فتوی دیں گے اور(اور بے علمی میں فتوی دیکر) خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢٠ حدیث نمبر ٥٤؛؛؛؛(میرے بھائیوں معلوم ہوا کہ بے علم کو جو عالم نہیں ہے اسکو اپنا سردار بنا لینا اور اس سے دینی مسئلہ دریافت کرنا گمراہی کا راستہ ہے اس دینی مسئلہ عالم اہل سنت وجماعت ہی دریافت کرو ورنہ گمراہ ہونے کا خطرہ ہے! شبیر)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمُ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 54

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے بغیر ثبوت کے فتوی دیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢٠ حدیث نمبر ٥٥؛؛ (میرے بھائیوں یاد رکھو دین اسلام کے مخصوص خدام یعنی حضراتِ علماء کرام کے دو طبقے خاص طور پر دین اسلام کی نمایا خدمت انجام دینے میں پیش پیش رہے ہیں ایک علماء محدثین کا طبقہ جن کا مشغلہ احادیث نبوی کی حفاظت اور نشر و اشاعت رہا یعنی اس طبقہ کو احادیث نبوی کی روایت اور ان کے بیان اور اہتمام سے کام رہا اور انہوں نے اسناد اور الفاظ حدیث پر گہری نظر رکھی؛ اور دوسرا طبقہ فقہاء امت کا ہے جنہوں نے قرآنی آیات اور احادیث نبوی سے مسائل اور احکام کا استنباط و استخراج کیا اور الفاظ حدیث سے زیادہ معانی حدیث اور اس کے اصول اور قواعد پر نظر رکھی؛؛ اسی وجہ سے محدثین کو بمنزلہ عطار کے اور فقہاء کو بمنزلہ اطباء کے گہا گیا ہے چنانچہ حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جس مفتی سے کوئی ایسا مسئلہ دریافت کیا جائے جس کا جواب وہ جانتا نہیں ہے تو اس مفتی پر فرض ہے کہ فتوی دینے میں جلدی نہ کرے اور نہ اپنے سے بڑے مفتی سے(اس مسئلہ کا حل) پوچھنے میں شرمائے جبکہ مفتی کے سوا دوسرے کو سکوت اختیار کرنا چاہیے(یعنی جو مفتی نہیں اگر اس سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تو وہ خاموش رہے کیونکہ فتوی دینا اسکا کام نہیں) جبکہ میرے بھائیوں آج حال یہ ہو گیا ہیکہ مفتی تو دور کی بات عالم تو دور کی بات جس نے باضابطہ کسی استاذ کے پاس پڑھا تک نہیں وہ بھی سوالات و جواب کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اللہ اکبر؛ اللہ عزوجل اس امت کو اس فتنہ سے بچائے؛ آمین(از علامہ عبد الحکیم خان اختر شاہجہان پوری تحت مذکورہ حدیث سنن ابن ماجہ مترجم جلد ١ ص ٤٧؛ناشر رضا اکیڈمی ممبئی؛ ؛؛

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا غَيْرَ ثَبَتٍ، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 55

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اصل علم تین ہیں ان(تین علم کے) علاوہ سب غیر ضروری(علم) ہیں(1)آیات محکمات کا علم(2)سنت قائمہ کا علم(3)اور اجتہادی احکام(کا علم) (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢٠ حدیث نمبر ٥٦؛؛؛

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الْإِفْرِيقِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ، فَمَا وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ "

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 56

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا(سردار بنا کر) تو ارشاد فرمایا جس کا تمہیں علم ہو اس کا فیصلہ کرنا اور جس شئی کا تمہیں علم نہ ہو اس میں سکوت(خاموشی) اختیار کرنا جب تک کہ وہ تمہارے سامنے بیان نہ کردی جائے یا اس کے بارے میں کچھ تمہارے لیے تحریر کیا نہ جائے؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢١؛حدیث نمبر ٥٧؛

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ: " لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: «لَا تَقْضِيَنَّ وَلَا تَفْصِلَنَّ إِلَّا بِمَا تَعْلَمُ، وإنْ أَشْكَلَ عَلَيْكَ أَمْرٌ، فَقِفْ حَتَّى تَبَيَّنَهُ أَوْ تَكْتُبَ إِلَيَّ فِيهِ»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 57

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل اس وقت تک ٹھیک رہے جب تک ان میں صحیح اولاد ہوتی رہی اور جب ان میں دوسرے لوگ اور قیدیوں کی اولاد شریک ہو گئی تو انہوں نے اپنی رائے سے فتوی دینے شروع کئے خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسرے کو بھی گمراہ کیا؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢١ حدیث نمبر ٥٨؛؛؛(میرے بھائیوں ذرا غور کرو بنی اسرائیل کی گمراہی کا ایک یہ سبب بھی ہے جو مذکور ہوا؛آج بھی اس امت میں جو گمراہی پھیل رہی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہیکہ جو اہل نہیں ہے وہ صاحب اہل بنے ہوئے ہیں یعنی جو فتوی دینے کے قابل نہیں ہیں وہ بھی فتوی دے رہے ہیں اور مفتی بنے ہوئے ہیں خود بھی گمراہ ہو رہے ہیں دوسرے کو بھی گمراہ کر رہے ہیں؛؛؛

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى نَشَأَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ، وَأَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، فَقَالُوا بِالرَّأْيِ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

Ibne Majah Shareef, Sunnat Ke Bare Me Rewayaat, Hadees No. 58

Ibne Majah Shareef : Sunnat Ke Bare Me Rewayaat

|

Ibne Majah Shareef : سنت کے بارے میں روایات

|

•