
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگاہ رہو ! میں ہر خلیل (جگری دوست) کی دلی دوستی سے بری ہوں، اور اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل (مخلص دوست ہے)۔ وکیع کہتے ہیں : آپ ﷺ نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٠،حديث نمبر ٩٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: کسی کے مال نے مجھے اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مال نے مجھے نفع دیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رو پڑے انہوں نے عرض کی: میں اور میرا مال آپ ﷺ کا ہے۔ (یا رسول اللہ ﷺ ) (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٠،حديث نمبر ٩٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تھا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما انبیا اور مسلمین کے علاوہ اہل جنت کے پہلے والے اور بعد والے تمام عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں ۔ اے علی ! جب تک یہ دونوں زندہ ہیں، تم ان دونوں کو یہ بات نہ بتانا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧١،حديث نمبر ٩٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلند درجات کے مالک لوگوں کو ( جنت میں) نچلے درجے والے لوگ اس طرح دیکھیں گئے، جس طرح تم آسمان کے افق میں طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو ابوبکر اور عمر بھی ان ( بلند درجات والوں میں شامل ہوں گے ) اور یہ دونوں کتنے اچھے ہیں۔ اس حدیث سے شیخین (حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہا) کے درجات کی بلندی کا علم ہوتا ہے. (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٢،حديث نمبر ٩٦)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم میں تم لوگوں کے درمیان اور کتنا عرصہ رہوں گا ؟ میرے بعد ان دو لوگوں کی پیروی کرنا نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف اشارہ کر کے یہ بات فرمائی۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٣،حديث نمبر ٩٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی میت ) کو تخت پر رکھا گیا لوگوں نے انہیں گھیر لیا وہ ان کا جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے ان کے لئے دعا کر رہے تھے۔ میں بھی ان میں موجود تھا میرا ذہن اس وقت متوجہ ہوا جب کسی شخص نے میرے کندھے کو پکڑا۔ وہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے رحمت کی اور بولے: آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جس کے بارے میں مجھے یہ پسند ہو کہ میں اس کے عمل کی طرح کا عمل لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اللہ تعالی کی قسم مجھے یہ امید ہے اللہ تعالی آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ رکھے گا کیونکہ مجھے یاد ہے میں نے بکثرت نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ابو بکر اور عمر گئے، میں ابوبکر اور عمر اندر آئے میں ابوبکر اور عمر باہر گئے۔تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ رکھے گا. (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٤،حديث نمبر ٩٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دوسری جانب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: ہمیں ( قیامت کے دن ) اسی طرح مبعوث کیا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٥،حديث نمبر ٩٩)
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ جنت کے (دنیا میں) پہلے آنے والے یا بعد میں آنے والے تمام عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں البتہ انبیاء اور مرسلین کا حکم مختلف ہے. (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٥،حديث نمبر ١٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عرض کی گئی یارسول اللہﷺ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے نبی کریم نے فرمایا عائشہ عرض کی گئی مردوں میں سے کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس کا والد۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٥،حديث نمبر ١٠١)
Ibne Majah Shareef : Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah
|
Ibne Majah Shareef : باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ
|
•