
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ایک "مد" کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع پانی کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٧٩،حديث نمبر ٢٦٧)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم ﷺ ایک مد پانی کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع پانی کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٦٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ ایک مد (پانی) کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع (پانی) کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٦٩)
عبد اللہ بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ایک مد (پانی) وضو کے لیے کافی ہوتا ہے اور ایک صاع پانی غسل کے لیے کافی ہوتا ہے (راوی نے جب یہ حدیث بیان کی ) تو ایک صاحب بولے ہمارے لیے تو یہ کافی نہیں ہوتا ( تو حدیث بیان کرنے والے راوی نے ) کہا: یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جو تم سے بہتر تھے اور جن کے بال تم سے زیادہ تھے ۔ راوی کی مراد نبی کریم ﷺ تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٧٠)
Ibne Majah Shareef : Abawabut Taharati WA Suna'niha
|
Ibne Majah Shareef : طہارت اور اس کے احکام و مسائل
|
•