
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ایک "مد" کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع پانی کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٧٩،حديث نمبر ٢٦٧)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم ﷺ ایک مد پانی کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع پانی کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٦٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ ایک مد (پانی) کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع (پانی) کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٦٩)
عبد اللہ بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ایک مد (پانی) وضو کے لیے کافی ہوتا ہے اور ایک صاع پانی غسل کے لیے کافی ہوتا ہے (راوی نے جب یہ حدیث بیان کی ) تو ایک صاحب بولے ہمارے لیے تو یہ کافی نہیں ہوتا ( تو حدیث بیان کرنے والے راوی نے ) کہا: یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جو تم سے بہتر تھے اور جن کے بال تم سے زیادہ تھے ۔ راوی کی مراد نبی کریم ﷺ تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٧٠)
حضرت اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالی صرف وضو کے ساتھ ہی نماز قبول کرتا ہے اور وہ حرام مال میں سے صدقہ قبول نہیں کرتا ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورِ:اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا:،جلد١،ص١٨١،حديث نمبر ٢٧١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وضو کے ساتھ ہی نماز کو قبول کرتا ہے اور وہ حرام مال میں سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورِ: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا:،جلد١،ص١٨٢،حديث نمبر ٢٧٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالٰی وضو کے بغیر نماز کو قبول نہیں کرتا اور حرام مال میں سے دیئے جانے والے صدقے کو قبول نہیں کرتا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورِ: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا:،جلد١،ص١٨٢،حديث نمبر ٢٧٣)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالی وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور حرام مال میں سے دیئے گئے صدقے کو قبول نہیں کرتا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورِ: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا:،جلد١،ص١٨٢،حديث نمبر ٢٧٤)
امام محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: وضو نماز کی کنجی ہے۔ تکبیر کے ذریعے یہ شروع ہوتی ہے اور سلام پھیر کر یہ ختم ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ:نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے:،جلد١،ص١٨٣،حديث نمبر ٢٧٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: وضو نماز کی کنجی ہے۔ تکبیر کے ذریعے یہ شروع ہوتی ہے اور سلام پھیر کر یہ ختم ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ:نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے:،جلد١،ص١٨٤،حديث نمبر ٢٧٦)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” استقامت اختیار کرو اور تم ہر گز گنتی نہیں کر سکتے یہ بات جان لو کہ تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور صرف مومن ہی وضو کی حفاظت کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ:پابندی سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص١٨٤،حديث نمبر ٢٧٧)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم لوگ استقامت اختیار کرو اور تم لوگ گنتی ہر گز نہیں کر سکتے یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سے سب سے افضل نماز ہے اور صرف مومن ہی اپنے وضو کی حفاظت کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ:پابندی سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص١٨٥،حديث نمبر ٢٧٨)
حضرت ابوامامه رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ) تم لوگ استقامت اختیار کرو اگر تم استقامت اختیار کر لیتے ہو تو یہ کتنی اچھی بات ہے اور تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور صرف مومن ہی وضو کی حفاظت کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ:پابندی سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص١٨٦،حديث نمبر ٢٧٩)
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے الحمد للہ پڑھنا میزان کو بھر دیتا ہے سبحان اللہ اور اللہ اکبر پڑھنا آسمانوں اور زمین کو بھر دیتا ہے نماز نور ہے زکوۃ برہان ہے صبر ضیاء ہے قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر شخص اپنے آپ کا سودا کرتا ہے تو یا تو خود کو آزاد کروالیتا ہے یا خود کو ہلاکت کا شکار کر والیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءُ شَطْرُ الإِيمَانِ: وضو آدھا ایمان ہے:،جلد١،ص١٨٦،حديث نمبر ٢٨٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص وضو کرتےہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر وہ مسجد میں آئے اور وہ صرف نماز کی ادائیگی کے لیے وہاں آئے تو وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس شخص کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٨٧،حديث نمبر ٢٨١)
حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اس کے منہ اور ناک میں سے گناہ نکل جاتے ہیں: جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے میں سے گناہ نکل جاتے ہیں: یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پتلیوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں: جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے تو اس کے دونوں بازوؤں میں سے گناہ نکل جاتے ہیں جب وہ اپنے سر میں مسح کرتا ہے تو اس کے سر میں سے گناہ نکل جاتے ہیں : یہاں تک کہ دونوں کانوں میں سے بھی نکل جاتے ہیں :۔ جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں میں سے گناہ نکل جاتے ہیں : یہاں تک کہ اس کے پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں :۔ اور پھر اس کا نماز ادا کرنا اور چل کر مسجد تک جانا اس کے لیے اضافی اجر و ثواب ( کے حصول) کا باعث بنتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٨٨،حديث نمبر ٢٨٨)
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کوئی بندہ وضو کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں جب وہ دونوں بازو دھوتا ہے اور اپنے سر پر مسح کرتا ہے تو اس کے دونوں بازوؤں اور اس کے سر سے گناہ نکل جاتے ہیں جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٨٩،حديث نمبر ٢٨٣)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی یارسول اللہ ! آپ نے اپنی امت میں سے جن افراد کو دیکھا ہی نہیں ہے آپ ﷺ انہیں کیسے پہچانیں گے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ وضو کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانی اور روشن ہاتھ پاؤں والے ہوں گئے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٨٩،حديث نمبر ٢٨٤)
حمران جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ایک بیٹھک میں بیٹھے ہوئے دیکھا آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے نبی کریم ﷺ کو اس جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا ہے آپ نبی کریم نے اسی طرح وضو کیا تھا جس طرح میں نے وضو کیا ہے، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے اس وضو کی مانند وضو کرے تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی۔ تا ہم نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا: تم کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو جانا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٩٠،حديث نمبر ٢٨٥)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب رات کے وقت نماز تہجد ادا کرنے کے لئے بیدار ہوتے تو مسواک کے ذریعے منہ صاف کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩١،حديث نمبر ٢٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اگر مجھے اپنی امت کے مشقت کا شکار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اُنہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩١،حديث نمبر ٢٨٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ رات کے وقت دو دو رکعات ادا کیا کرتے تھے جب آپﷺ اس سے فارغ ہوتے تھے تو مسواک کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩١،حديث نمبر ٢٨٨)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ مسواک کیا کرو کیونکہ مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے جبرائیل علیہ السلام جب بھی میرے پاس آئے انہوں نے مجھے مسواک کی تاکید کی یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ مجھ پر اور میری امت پر فرض قرار نہ دی جائے اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا تو میں یہ ان کے لیے لازم قرار دیتا میں خود مسواک کرتا رہتا ہوں یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہیں میرے منہ کے سامنے والے دانت گر نہ جائیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩٢،حديث نمبر ٢٨٩)
مقدام بن شریح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ طاھرہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: آپ مجھے بتائے کہ نبی کریم ﷺ جب آپ کے ہاں تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : جب نبی کریم ﷺ گھر تشریف لاتے تھے تو آپ ﷺ سب سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩٣،حديث نمبر ٢٩٠)
حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں،تم مسواک کے ذریعے انہیں پاک وصاف کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩٤،حديث نمبر ٢٩١)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فطرت پانچ چیزیں ہیں ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں، ختنہ کروانا ، زیر ناف بال صاف کروانا، ناخن تراشنا بغلوں کے بال صاف کر وانا اور مونچھیں چھوٹی کروانا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْفِطْرَةِ: امور فطرت کا بیان:،جلد١،ص١٩٥،حديث نمبر ٢٩٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ یہ بات ارشاد فرمائی ہے دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں مونچھیں کٹوانا٫ داڑھی بڑھانا ٫ مسواک کرنا٫ پانی کے ذریعے ناک صاف کرنا٫ ناخن تراشنا ٫ جوڑوں کو دھونا ٫ بغلوں کے بال صاف کرنا ٫ زیر ناف بال صاف کرنا اور پانی کے ذریعے استنجاء کرتا۔ زکریا نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے مصعب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میں دسویں بات بھول گیا ہوں تاہم وہ کلی کرنا ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْفِطْرَةِ: امور فطرت کا بیان:،جلد١،ص١٩٥،حديث نمبر ٢٩٣)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” فطرت میں یہ چیزیں شامل ہیں، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا' مسواک کرنا، مونچھیں چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال صاف کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا ، جوڑوں کو دھونا، استنجا کرنا اور ختنہ کرنا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْفِطْرَةِ: امور فطرت کا بیان:،جلد١،ص١٩٦،حديث نمبر ٢٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے لیے مونچھیں چھوٹی کروانے ، زیر ناف بال صاف کرنے، بغلوں کے بال صاف کرنے، ناخن تراشنے کے بارے میں یہ مدت مقرر کی گئی تھی کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ ترک نہ کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْفِطْرَةِ: امور فطرت کا بیان:،جلد١،ص١٩٧،حديث نمبر ٢٩٥)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے قضائے حاجت کی جگہ پر شیاطین حاضر ہوتے ہیں تو جب کوئی شخص وہاں جائے تو وہ یہ پڑھ لئے ۔ اے اللہ میں خبث اور خبائث سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ایک اور سند سے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ:قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص١٩٨،حديث نمبر ٢٩٦)
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” جنات کی آنکھوں اور اولاد آدم کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے: جب کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہونے لگے تو بسم اللہ پڑھ لے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ:قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص١٩٩،حديث نمبر ٢٩٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ جب بیت الخلاء تشریف لے جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ میں خبث اور خبائث سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں۔“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ:قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص١٩٩،حديث نمبر ٢٩٨)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” کوئی بھی شخص اس بات سے عاجز نہ آجائے کہ جب وہ بیت الخلاء میں جائے تو یہ پڑھے۔ "اے اللہ ! میں ناپا کی اور نجاست خبیث اور خبیث کر دینے والی چیز اور مردود شیطان سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم ان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں ۔ میں گندگی اور نجاست سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ انہوں نے یہ کہا ہے میں خبیث چیز خبیث کرنے والی چیز اور مردود شیطان سے پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ:قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص١٩٩،حديث نمبر ٢٩٩)
یوسف بن ابو بردہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی کریم ﷺ جب بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ میں تیری مغفرت کا طلب گار ہوں ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ:قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص٢٠٠،حديث نمبر ٣٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو یہ پڑھتے تھے ہر طرح کی حمد و ثنا اس اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے جس نے مجھ سے تکلیف دینے والی چیز کو دور کیا اور مجھے عافیت بخشی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ:قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص٢٠١،حديث نمبر ٣٠١)
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت الله پاک کا ذکر کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْخَلاَءِ وَالْخَاتَمِ فِي الْخَلاَءِ: پاخانہ میں اللہ کا ذکر کرنے اور اس میں انگوٹھی پہن کر جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٠٢،حديث نمبر ٣٠٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا تشریف لے جاتے تو آپﷺ اپنی انگوٹھی اتار دیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْخَلاَءِ وَالْخَاتَمِ فِي الْخَلاَءِ: پاخانہ میں اللہ کا ذکر کرنے اور اس میں انگوٹھی پہن کر جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٠٢،حديث نمبر ٣٠٣)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی کوئی بھی شخص غسل کی جگہ پر ہرگز پیشاب نہ کرے کیونکہ عام طور پر اسی کی وجہ سے وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یزید کو کہتے سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے علی بن محمد طنافسی کو کہتے ہوئے سنا: یہ ممانعت اس جگہ کے لیے ہے جہاں غسل خانے کچے ہوں، اور پانی جمع ہوتا ہو، لیکن آج کل غسل خانہ میں پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ اب غسل خانے چونا، گچ اور ڈامر (تارکول) کے ذریعے پختہ بنائے جاتے ہیں، اگر ان میں کوئی پیشاب کرے اور پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیں۔ سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا: بَابُ: كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ:غسل خانہ میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٠٢،حديث نمبر ٣٠٤)
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچرے کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا:کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے حکم کا بیان:،جلد١،ص٢٠٣،حديث نمبر ٣٠٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لے جاتے اور آپ ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت دیگر اسناد سے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے اور وہ یہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کچرے کے ڈھیر پر تشریف لے جاتے اور آپﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا:کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے حکم کا بیان:،جلد١،ص٢٠٤،حديث نمبر ٣٠٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ بیان کرتی ہیں کہ تمہیں جو یہ بتاے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو ہرگز اس کی تصدیق نہ کرو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ فی البول قاعدا :بیٹھ کر پیشاب کرنا،جلد١،ص٢٠٥،حديث نمبر ٣٠٧)
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے بیان کرتے ہیں کہ میں کھڑے ہو کر پیشاب کر رہا تھا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اے عمر کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو اس کے بعد سے میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ فی البول قاعدا :بیٹھ کر پیشاب کرنا،جلد١،ص٢٠٦،حديث نمبر ٣٠٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ فی البول قاعدا :بیٹھ کر پیشاب کرنا،جلد١،ص٢٠٦،حديث نمبر ٣٠٩)
عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کوئی شخص پیشاب کرتے وقت اپنی شرمگاہ کو دائین ہاتھ سے نہ پکڑے دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں۔ ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ کراھیۃ مس الذکر بالیمین والاستنجاء بالیمین:،جلد١،ص٢٠٧،حديث نمبر ٣١٠)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا ہے میں نے کبھی گانا نہیں سنا میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں نے کبھی دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ کراھیۃ مس الذکر بالیمین والاستنجاء بالیمین:،جلد١،ص٢٠٧،حديث نمبر ٣١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب کسی شخص نے پاکیزگی حاصل کرنی ہو تو وہ اپنے دائے ہاتھ کے ذریعے پاکیزگی حاصل نہ کرے بلکہ بائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ کراھیۃ مس الذکر بالیمین والاستنجاء بالیمین:،جلد١،ص٢٠٨،حديث نمبر ٣١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بے شک میں تمہارے لیے اسی طرح ہوں جس طرح اولاد کے لیے والد ہوتا ہے میں تمہاری تعلیم و تربیت کرتا ہوں جب تم بیت الخلا میں جاؤ تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرو اور اس کی طرف پیٹھ بھی نہ کرو. راوی کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تین پتھر استعمال کرنے کی ہدایت کی تھی اور مینگنی یا ہڈی کے ذریعے استنجا کرنے سے منع کیا تھا اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ آدمی اپنے دائے ہاتھ کے ذریعے استنجا کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ:پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان:،جلد١،ص٢٠٨،حديث نمبر ٣١٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قضائے حاجات کے لیے تشریف لے گئے اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تین پتھر لے آؤ میں دو پتھر اور ایک مینگنی لے کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس آیا تو اپ علیہ السلام نے پتھر حاصل کر لیے اور مینگنی کو پھینک دیا آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ ناپاک ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ:پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان:،جلد١،ص٢٠٩،حديث نمبر ٣١٤)
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا استنجا کرتے ہوئے تین پتھر ہونے چاہیے ان میں کوئی مینگنی نہیں ہونی چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ:پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان:،جلد١،ص٢٠٩،حديث نمبر ٣١٥)
عبدالرحمن بن یزید حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں کچھ مشرکین نے ان کا مذاق اڑانے کے لیے ان سے یہ کہا کہ ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ اپ کے اقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپ کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت کے اداب بھی بتائے ہیں تو حضرت سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات ہدایت کی ہے کہ ہم قبلہ کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت نہ کرے اور اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں ان میں مینگنی یا ہڈی نہیں ہونی چاہیے پتھر ہی ہونے چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ:پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان:،جلد١،ص٢١٠،حديث نمبر ٣١٦)
حضرت عبداللہ بن حارث زبیری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں وہ سب سے پہلا شخص ہوں جس نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کوئی بھی شخص قبلے کی طرف رخ کر کے ہرگز پیشاب نہ کرے اور میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں کو یہ بات بتائی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١١،حديث نمبر ٣١٧)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جو شخص قضائے حاجت کے لیے جاتا ہے وہ قبلے کی طرف رخ کرے اپ نے فرمایا ہے مدینہ منورہ کے حساب سے مشرق یا مغرب کی طرف رخ کیا کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١١،حديث نمبر ٣١٨)
حضرت معقل بن ابو معقل اسدی رضی اللہ تعالی عنہ جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ یہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے ہم پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے دونوں قبلوں میں سے کسی کی طرف بھی رخ کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٢،حديث نمبر ٣١٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیں ہدایت سنائی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم پاخانہ پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٣،حديث نمبر ٣٢٠)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے میں کھڑے ہو کر کچھ پیوں یا قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کروں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٣،حديث نمبر ٣٢١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے لوگ کہتے ہیں کہ رفع حاجت کے وقت قبلہ یا بیت المقدس کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رفع حاجت کر رہے تھے اور اپ علیہ السلام کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى:صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢١٤،حديث نمبر ٣٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا، لیکن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى:صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢١٤،حديث نمبر ٣٢٣)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں ان کی شرمگاہوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اندازہ تھا کہ وہ لوگ ایسا ہی کریں گے تو تم لوگ میرے بیت الخلاء کا رخ قبلہ کی طرف کر دو یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى:صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢١٥،حديث نمبر ٣٢٤)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع کیا تھا پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وصال کے ایک سال پہلے میں نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى:صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢١٦،حديث نمبر ٣٢٥)
عیسی بن یزید یمانی اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص پیشاب کر لے تو اپنی شرمگاہ کو تین مرتبہ دبائے تاکہ اندر موجود پیشاب کا قطرہ نکل آئے ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِبْرَاءِ بَعْدَ الْبَوْلِ: پیشاب کے بعد طہارت کا بیان:،جلد١،ص٢١٧،حديث نمبر ٣٢٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیشاب کرنے کے لیے تشریف لے گئے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ان کے پیچھے پانی لے کر گئے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دریافت کیا اے عمر رضی اللہ تعالی عنہ یہ کیا ہے انہوں نے عرض کی یہ پانی ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو ساتھ وضو بھی کر لوں اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو یہ چیز سنت بن جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَنْ بَالَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً:پیشاب کر کے پانی استعمال نہ کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢١٧،حديث نمبر ٣٢٧)
ابو سعید حمیری بیان کرتے ہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ وہ روایت بیان کیا کرتے تھے جو دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے نہیں سنی ہوئی ہوتی تھی اور ان چیزوں کو بیان نہیں کرتے تھے جو دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے سنی ہوئی ہوتی تھی ایک مرتبہ ایسا ہی ایک روایت جو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کی اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نہیں سنی ہوئی تھی جب اس بات کی خبر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ملی تو وہ بولے اللہ کی قسم میں نے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو بیت الخلاء کے بارے میں ازمائش میں مبتلا کر دیں گے اس بات کی اطلاع حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو ملی تو وہ ان سے ملے تو حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اے عبداللہ بن عمر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حوالے سے جھوٹی بات بیان کرنامنافقت ہے اور اس کا گناہ اس شخص کو ہوگا جو یہ بیان کرے گا میں نے خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے لعنت کی تین جگہوں سے بچو گھاٹ، سائے اور راستے میں پاخانہ کرنے سے بچو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْخَلاَءِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٨،حديث نمبر ٣٢٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا راستے میں پڑاؤ کرنے سے اور وہاں نماز ادا کرنے سے بچو کیونکہ یہ سانپوں اور درندوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں اور اس جگہ پر قضائے حاجت کرنے سے بھی بچو کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں لعن طعن ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْخَلاَءِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٩،حديث نمبر ٣٢٩)
سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے راستے میں نماز ادا کی جائے یا وہاں قضائے حاجت کی جائے یا وہاں پیشاب کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْخَلاَءِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢٢٠،حديث نمبر ٣٣٠)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٠،حديث نمبر ٣٣١)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھا اپ صلی اللہ علیہ السلام قضائے حاجت کے لیے ایک طرف ہٹ گئے پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے تو اپ علیہ السلام نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢١،حديث نمبر ٣٣٢)
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو اپ علیہ السلام دور چلے جاتے تھے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢١،حديث نمبر ٣٣٣)
حضرت عبدالرحمن بن ابو قراد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا اپ علیہ السلام قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے گئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢١،حديث نمبر ٣٣٤)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب بھی قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو اتنی دور چلے جاتے تھے کہ غائب ہو جاتے تھے اور دکھائی نہیں دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٢،حديث نمبر ٣٣٥)
حضرت بلال بن حارث مذنی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٢،حديث نمبر ٣٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص پتھر استعمال کرتا ہے تو وہ طاق تعداد میں استعمال کریں جو شخص ایسا کرے گا تو یہ اچھا ہے اور جو احسان نہیں کرتا تو اس کو کوئی گناہ بھی نہیں ہے جو شخص خلال کرتا ہے تو وہ خلال کے ذریعے نکلی ہوئی چیز کو پھینک دے اور جو شخص زبان کے ذریعے چیز باہر نکالتا ہے اسے نگل لے جو ایسا کرے گا تو یہ اچھا ہے جو ایسا نہیں کرے گا تو ایسا کوئی گناہ بھی نہیں ہے جو شخص قضائے حاجت کے لیے جاتا ہے وہ پردہ کر لے اگر ایسا پردے کے لیے صرف ریت کا ٹیلا ملتا ہے تو اسے ہی زیادہ کر لے کیونکہ شیطان ادمی کی قضائے حاجت کی جگہ کے ساتھ کھیلتا ہے جو شخص ایسا کرے گا تو وہ اچھا کرے گا اور جو ایسا نہیں کرے گا تو اسے کوئی گناہ بھی نہیں. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٢،حديث نمبر ٣٣٧)
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں جو شخص سرمہ لگاتا ہے تو وہ طاق تعداد میں لگائے جو ایسا کرے گا تو اس نے اچھا کیا اور جو ایسا نہیں کرے گا تو اس کو کوئی گناہ بھی نہیں ہے اور جو شخص زبان کے ذریعے دانتوں میں سے کوئی چیز نکالتا ہے وہ اسے نگل لے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٣،حديث نمبر ٣٣٨)
یعلی بن مرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھا اپ قضائے حاجت کے لیے جانے لگے تو اپ علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا تم ان دو چھوٹی کھجور کے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول علیہ السلام تم دونوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ راوی کہتے ہیں تو وہ اکٹھے ہو گئے نبی کریم علیہ السلام نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی پھر اپ علیہ السلام نے مجھ سے ارشاد فرمایا تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو تم دونوں میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر واپس چلا جائے راوی کہتے ہیں میں نے ان دونوں سے کہا تو وہ دونوں اپنی جگہ پر واپس چلے گئے. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٤،حديث نمبر ٣٣٩)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم علیہ السلام قضائے حاجت کے لیے پرواہ کرتے ہوئے زمین کی بلند حصے یا کھجوروں کے جھنڈ کو پسند کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٤،حديث نمبر ٣٤٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم علیہ السلام ایک طرف ہٹ کر گھاٹی کی طرف چلے گئے وہاں اپ علیہ السلام نے پیشاب کیا یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٥،حديث نمبر ٣٤١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم علیہ السلام کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں وہ آدمی قضائے حاجت کرتے ہوئے بات چیت نہ کرے اس طرح کے ان میں سے ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ رہا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس بات پر ناراض ہوتا ہے۔ ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہلال بن عیاض کے بجائے عیاض بن ہلال ہے، محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: یہی صحیح ہے۔ ایک اور سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے لیکن اس سند میں عیاض بن عبداللہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ الاِجْتِمَاعِ عَلَى الْخَلاَءِ وَالْحَدِيثِ عِنْدَهُ:ایک ساتھ بیٹھ کر پاخانہ کرنا اور اس میں بات چیت کرنی منع ہے:،جلد١،ص٢٢٤،حديث نمبر ٣٤٢)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم علیہ السلام کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں اپ علیہ السلام نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ:ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢٢٦،حديث نمبر ٣٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ:ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢٢٧،حديث نمبر ٣٤٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ:ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢٢٧،حديث نمبر ٣٤٥)
حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اپ علیہ السلام کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی اپ علیہ السلام نے اسے رکھا پھر اپ علیہ السلام بیٹھے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ڈھال کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا کسی غیر مسلم یا کسی منافق نے یہ کہا ان کی طرف دیکھو یہ یوں پیشاب کر رہے ہیں جس طرح عورت پردہ کر کے پیشاب کرتی ہے نبی کریم علیہ السلام نے اس شخص کی یہ بات سن لی اور فرمایا تمہارا ستیاناس ہو کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو کیا مصیبت لاحق ہوئی تھی. ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول یہ حدیث مروی ہے. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ:پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص٢٢٨،حديث نمبر ٣٤٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں: نبی کریم علیہ السلام دو قبروں کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ( بظاہر ) کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا( پھر آپ نے ہمیں خود ہی وضاحت کی ) ان میں سے ایک پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ:پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص٢٢٨،حديث نمبر ٣٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ:پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص٢٢٨،حديث نمبر ٣٤٨)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم علیہ السلام دو قبروں کے پاس سے گزرے اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ان میں سے ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور دوسرے کو غیبت کرنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ:پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص٢٢٩،حديث نمبر ٣٤٩)
حضرت مہاجر بن قنفذ بن عمیر بن جدعان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اپ علیہ السلام اس وقت وضو کر رہے تھے میں نے اپ علیہ السلام کو سلام کیا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا جب اپ علیہ السلام وضو کر کے فارغ ہوئے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں جواب اس لیے نہیں دیا تھا کیونکہ میں اس وقت بے وضو حالت میں تھا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ: پیشاب کے دوران سلام کا جواب:،جلد١،ص٢٢٩،حديث نمبر ٣٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ علیہ السلام اس وقت پیشاب کر رہے تھے اس شخص نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر تیمم کیا پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس شخص کو سلام کا جواب دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ: پیشاب کے دوران سلام کا جواب:،جلد١،ص٢٣١،حديث نمبر ٣٥١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ علیہ السلام اس وقت پیشاب کر رہے تھے اس شخص نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی کریم علیہ السلام نے اس سے فرمایا جب تم مجھے اس طرح کی حالت میں دیکھو تو مجھے سلام نہ کیا کرو اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہارے سلام کا جواب نہیں دوں گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ: پیشاب کے دوران سلام کا جواب:،جلد١،ص٢٣٢،حديث نمبر ٣٥٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے گزرا نبی کریم علیہ السلام اس وقت پیشاب کر رہے تھے اس شخص نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ: پیشاب کے دوران سلام کا جواب:،جلد١،ص٢٣٢،حديث نمبر ٣٥٣)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے ہوئے نہیں دیکھا مگر یہ کہ آپ علیہ السلام پانی استعمال کیا کرتے تھے یعنی اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ:پانی سے استنجاء کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٢،حديث نمبر ٣٥٤)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ یہ بات بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔(ترجمہ) "اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں وہ اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کریں اور اللہ تعالی اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے" (سورہ توبہ ١٠٨) نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا اے انصار کے گروہ اللہ تعالی نے طہارت کے حصول کے حوالے سے تمہاری تعریف کی ہے تو تمہاری طہارت کے حصول کا طریقہ کیا ہے انہوں نے عرض کی ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں جنابت کے بعد غسل کرتے ہیں اور پانی کے ذریعے استنجا کرتے ہیں تو نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا یہی وجہ ہوگی تو تم اس کو اپنے اوپر لازم رکھنا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ:پانی سے استنجاء کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٣،حديث نمبر ٣٥٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم استنجا کے مقام کو تین مرتبہ دھویا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ہم نے بھی ایسا کیا ہے تو ہم نے اس عمل کو ایسا پایا کہ یہ دوا بھی ہے اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بھی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ:پانی سے استنجاء کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٤،حديث نمبر ٣٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔(ترجمہ) "اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں اور اللہ تعالی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے" راوی بیان کرتے ہیں وہ لوگ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ:پانی سے استنجاء کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٤،حديث نمبر ٣٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے قضائے حاجت کی پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پانی کے برتن کے ذریعے استنجا کیا پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے دست مبارک کو زمین پر مل لیا ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول بھی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَنْ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ بَعْدَ الاِسْتِنْجَاءِ: استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑ کر دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٥،حديث نمبر ٣٥٨)
ابراہیم جریر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم درختوں کے جھنڈ میں تشریف لے گئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی حضرت جریر رضی اللہ تعالی عنہ پانی کا برتن لے کر آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کے ذریعے استنجا کیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنے دست مبارک کو مٹی پر مل لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَنْ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ بَعْدَ الاِسْتِنْجَاءِ: استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑ کر دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٥،حديث نمبر ٣٥٩)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم اپنے مشکیزوں کے منہ بند رکھیں اور اپنے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ: برتن کو ڈھانک کر رکھنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٥،حديث نمبر ٣٦٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتے ہیں میں رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے تین برتن تیار کر کے رکھ دیتی تھی جنہیں ڈھانپا گیا ہوتا تھا ایک برتن آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وضو کے لیے تھا ایک آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مسواک کے لیے تھا اور ایک آپ علیہ السلام کے پینے کے لیے تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ: برتن کو ڈھانک کر رکھنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٦،حديث نمبر ٣٦١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے کسی سے مدد نہیں لیتے تھے آپ علیہ السلام صدقہ تقسیم کرنے میں کسی سے مدد نہیں لیتے تھے یعنی جو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے صدقہ کیا ہوتا تھا آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بذات خود یہ کام کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ: برتن کو ڈھانک کر رکھنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٦،حديث نمبر ٣٦٢)
ابو رزین بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر مارتے ہوئے فرمایا تم لوگ یہ سمجھتے ہو میں نبی کریم کے حوالے سے جھوٹی بات بیان کر دوں گا تاکہ تمہارے لیے سہولت ہو جائے اور مجھے گناہ ہو میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم علیہ السلام کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ:جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٧،حديث نمبر ٣٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے پانی پی لے تو اسے سات مرتبہ دھو لو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ:جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٧،حديث نمبر ٣٦٤)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس سے سات مرتبہ دھو لو اور اٹھویں مرتبہ مٹی کے ذریعے مانجھ لو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ:جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٨،حديث نمبر ٣٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھو لے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ:جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٨،حديث نمبر ٣٦٦)
کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے کسی صاحبزادے کی اہلیاں تھیں وہ بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے پانی رکھا تاکہ وہ اس کے ذریعے وضو کر لیں ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے برتن اس کی طرف کر دیا میں ان کی طرف دیکھ رہی تھی انہوں نے فرمایا اے میری بھتیجی کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو نبی کریم علیہ السلام نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے یہ ناپاک نہیں ہے بلکہ یہ گھر میں آنے جانے والے جانوروں میں سے ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٩،حديث نمبر ٣٦٧)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں بعض اوقات میں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کسی ایسے برتن سے وضو کر لیتے تھے جس میں سے اس سے پہلے بلی پانی پی چکی ہوتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٠،حديث نمبر ٣٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بلی (آگے سے گزر کر) نماز نہیں توڑتی ہے کیونکہ یہ گھر کے سامان کا ایک حصہ ہے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٠،حديث نمبر ٣٦٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے ایک برتن میں سے غسل کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے اور اس برتن میں سے غسل یا شاید وضو کرنے لگے اس خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں جنابت کی حالت میں تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانی جنبی نہیں ہوتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ:عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢٤١،حديث نمبر ٣٧٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے غسل جنابت کیا پھر اس خاتون کے بچے ہوئے پانی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) غسل کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ:عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢٤٢،حديث نمبر ٣٧١)
حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان کے غسل جنابت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ:عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢٤٢،حديث نمبر ٣٧٢)
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ مرد عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ:عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت:،جلد١،ص٢٤٣،حديث نمبر ٣٧٣)
حدیث نمبر 374 حضرت عبداللہ بن سر جس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کوئی مرد عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے ذریعے غسل کرے یا کوئی عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے تاہم یہ دونوں ایک ساتھ کسی پانی سے وضو یا غسل کر سکتے ہیں۔ امام ابن ماجہ فرماتے ہیں پہلی روایت درست ہے اور دوسری روایت میں وہم ہے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ: عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت:،جلد١،ص٢٤٤،حديث نمبر ٣٧٤)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ایک ہی برتن کے ذریعےغسل کر لیتے تھے ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کیا کرتا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ: عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت:،جلد١،ص٢٤٥،حديث نمبر ٣٧٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٥،حديث نمبر ٣٧٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٦،حديث نمبر ٣٧٧)
سیدہ ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ بات بیان کی ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کیا تھا جس میں آٹے کا نشان موجود تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٦،حديث نمبر ٣٧٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ازواج ایک ہی برتن سے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٧،حديث نمبر ٣٧٩)
سیدہ زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں وہ یعنی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٧،حديث نمبر ٣٨٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مرد اور عورت یعنی ان کی بیویاں گھر میں اکھٹے وضو کر لیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَتَوَضَّآنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ:مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٧،حديث نمبر ٣٨١)
سیدہ ام صبیہ جہینہ بیان کرتی ہیں بعض اوقات وضو کرتے ہوئے میرے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ہاتھ آگے پیچھے برتن میں داخل ہوتے تھے۔ سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَتَوَضَّآنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ:مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٨،حديث نمبر ٣٨٢)
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات منقول ہے یہ دونوں نماز کے لیے ایک ساتھ وضو کیا کرتے تھے۔ سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَتَوَضَّآنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ:مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٨،حديث نمبر ٣٨٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جنات سے ملاقات کی رات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہارے پاس وضو کے لیے پانی ہے انہوں نے عرض کی جی نہیں ایک برتن میں تھوڑی سی نبیز موجود ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھجور پاک ہوتی ہے اور پانی کے ذریعے طہارت حاصل کر لی جاتی ہے راوی کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کیا یہ روایت وکیع نامی نے روایت کی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ:نبیذ سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٩،حديث نمبر ٣٨٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے جنات سے ملاقات والی رات یہ فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے انہوں نے عرض کی جی نہیں صرف ایک مشکیزے میں نبیز ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھجور پاک ہے اور پانی طہارت دینے والا ہے تم وہی مجھ پر بہا دو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اس نے وہ پانی آپ پر انڈیلا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کر لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ:نبیذ سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٠،حديث نمبر ٣٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہم سمندری سفر کرتے ہیں ہم اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے کر جاتے ہیں اگر ہم اس کے ذریعے وضو کر لیں تو ہم پیاسے رہ جائیں گے تو کیا ہم سمندر کے پانی کے ذریعے وضو کر لیا کریں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا پانی طہارت دیتا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ:سمندر کے پانی سے وضو کا بیان:،جلد١،ص٢٥٠،حديث نمبر ٣٨٦)
ابن فراسی بیان کرتے ہیں میں شکار کیا کرتا تھا میرے پاس ایک مشکیزہ تھا جس میں میں پانی رکھا کرتا تھا اور میں سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کرتا تھا میں نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا پانی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ:سمندر کے پانی سے وضو کا بیان:،جلد١،ص٢٥١،حديث نمبر ٣٨٧)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا پانی طہارت دینے والا اور اس کا مردار حلال ہے۔ ایک اور سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ:سمندر کے پانی سے وضو کا بیان:،جلد١،ص٢٥١،حديث نمبر ٣٨٨)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو میں برتن میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی انڈیلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنا چہرہ مبارک دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں بازو دھونے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبے کے نیچے سے دونوں بازو نکال کر انہیں دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ:وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے:،جلد١،ص٢٥٢،حديث نمبر ٣٨٩)
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا برتن لائی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس سے بہاؤ میں نے اسے بہایا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازو دھوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سرے سے پانی لے کر اس کے ذریعے اپنے سر کے اگے والے اور پیچھے والے حصے کا مسح کیا پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ:وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے:،جلد١،ص٢٥٣،حديث نمبر ٣٩٠)
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے سفر کے دوران اور حضر کے دوران نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وضو کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی انڈیلا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ:وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے:،جلد١،ص٢٥٣،حديث نمبر ٣٩١)
سیدہ ام عیاش نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کنیز تھیں واہ بیان کرتی ہیں میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو وضو کرایا کرتی تھی میں کھڑی ہوتی تھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ:وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے:،جلد١،ص٢٥٤،حديث نمبر ٣٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص رات کے بعد صبح بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اس ہاتھ پر دو یا تین مرتبہ پانی نہ انڈیل کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا :کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟:،جلد١،ص٢٥٤،حديث نمبر ٣٩٣)
سالمہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک داخل نہ کرے جب تک اسے دھو نہ لے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا :کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟:،جلد١،ص٢٥٥،حديث نمبر ٣٩٤)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور وضو کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں اس وقت تک داخل نہ کرے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہاہے یا اس نے اسے کس جگہ پر رکھا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا :کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟:،جلد١،ص٢٥٥،حديث نمبر ٣٩٥)
حارث بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے پانی منگوایا اور پھر انہوں نے برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھویا اور یہ بات ارشاد فرمائی میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا :کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟:،جلد١،ص٢٥٦،حديث نمبر ٣٩٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ھیں اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو وضو کے آغاز میں اس پر اللہ کا نام نہیں لیتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ:بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٦،حديث نمبر ٣٩٧)
رباح بن عبدالرحمن اپنی دادی جو حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی ہیں کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو وضو سے پہلے اللہ کا نام نہیں لیتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ:بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٧،حديث نمبر ٣٩٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہیں ہوتا اور اس کا وضو نہیں ہوتا جو وضو کے آغاز میں اس پر اللہ کا نام نہیں لیتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ:بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٧،حديث نمبر ٣٩٩)
عبدالمہیمن بن عباس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہیں ہوتا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس پر اللہ کا نام نہیں لیتا اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درود نہیں بھیجتا اوراس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو انصار سے محبت نہیں رکھتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ:بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٨،حديث نمبر ٤٠٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ ر اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ کو وضو کرنے میں، کنگھی کرنےمیں اور جوتا پہننے میں دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّيَمُّنِ فِي الْوُضُوءِ: دائیں طرف سے وضو شروع کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٩،حديث نمبر ٤٠١)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب تم وضو کرو تو دائیں طرف سے آغاز کرو " (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّيَمُّنِ فِي الْوُضُوءِ: دائیں طرف سے وضو شروع کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٩،حديث نمبر ٤٠٢)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی کریم ﷺنے ایک ہی چلو کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ:ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٩،حديث نمبر ٤٠٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے وضو کیا، آپ ﷺ نے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا آپ ﷺ نے یہ عمل ایک ہی چلو کے ذریعے کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ:ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٠،حديث نمبر ٤٠٤)
حضرت عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے وضو کے لئے پانی طلب کیا۔ میں پانی لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ایک ہی چلو کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ:ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان:،جلد١،ص٢٦١،حديث نمبر ٤٠٥)
حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: جب تم وضو کرو تو ناک میں پانی ڈالو اور جب تم پتھر (کے ذریعے استنجا کرو) تو طاق تعداد میں کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان:،جلد١،ص٢٦٢،حديث نمبر ٤٠٦)
عاصم بن لقیط اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ!آپ ﷺمجھے وضو کے بارےمیں بتائیے ، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اچھی طرح وضو کرو اور ناک میں پانی ڈالتے ہوئے مبالغہ کرو! البتہ اگر تم روزے کی حالت میں ہو تو حکم مختلف ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان:،جلد١،ص٢٦٢،حديث نمبر ٤٠٧)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"دو مرتبہ یا تین مرتبہ مبالغے کے ساتھ ناک میں پانی ڈالو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان:،جلد١،ص٢٦٢،حديث نمبر ٤٠٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ،وضو کرنے والے شخص کو چاہیے کہ وہ ناک میں پانی ڈالنے اور ڈھیلے استعمال کرنے والے شخص کو طاق تعداد میں ڈھیلے استعمال کرنے چاہئیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان:،جلد١،ص٢٦٣،حديث نمبر ٤٠٩)
ثابت بن ابو صفیہ بیان کرتے ہیں:میں نے ابو جعفر (یعنی امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے آپ کو یہ حدیث سنائی ہے ؟ نبی کریمﷺ نے ایک، ایک مرتبہ اور دو، دو مرتبہ اور تین، تین مرتبہ وضو کیا ہے، انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً:ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٤،حديث نمبر ٤١٠)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً:ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٤،حديث نمبر ٤١١)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو غزوۂ تبوک کے موقع پر دیکھا کہ آپ ﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً:ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٥،حديث نمبر ٤١٢)
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تین تین مرتبہ وضو کرتے ہوئے دیکھاہے ، ان دونوں حضرات نے یہ بات بیان کی ہے :نبی کریمﷺ کا وضو اسی طرح تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٥،حديث نمبر ٤١٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور اس عمل کی نسبت نبی کریمﷺ کی طرف کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٦،حديث نمبر ٤١٤)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ تین تین مرتبہ وضو کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٧،حديث نمبر ٤١٥)
حضرت عبد اللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو تین تین مرتبہ وضو کرتے ہوئے اور ایک مرتبہ سر کا مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٧،حديث نمبر ٤١٦)
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ تین تین مرتبہ وضو کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٧،حديث نمبر ٤١٧)
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ تین تین مرتبہ وضو کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٨،حديث نمبر ٤١٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ وضو ہے، جس کے بغیر اللہ تعالی نماز قبول نہیں کرتا ہے، پھر آپ ﷺ نے دو دو مرتبہ وضو کیا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، یہ وہ وضو ہے، جس کی وجہ سے قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے، پھر آپ ﷺ نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور ارشاد فرمایا: یہ سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ کیا جانے والا وضو ہے، یہ میرا اور اللہ تعالی کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وضو کرنے کا طریقہ ہے ، جو شخص اس طرح وضو کرے اور اس سے فارغ ہونے کے بعد یہ پڑھے۔" میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں" (نبی کریمﷺ فرماتے ہیں) تو اس شخص کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس سے بھی چاہے داخل ہو جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلاَثًا:ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٩،حديث نمبر ٤١٩)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: ”یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے“، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: ”یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: ”یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلاَثًا:ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٧١،حديث نمبر ٤٢٠)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:وضو کے لئے ایک مخصوص شیطان ہے جس کا نام ولہان ہے اس لئے تم پانی کے وسوسے سے بچو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧٠،حديث نمبر ٤٢١)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان ہے نقل کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اس نے آپ ﷺ سے وضو کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی کریمﷺ نے اسے تین،تین مرتبہ وضو کرکے دکھایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧١،حديث نمبر ٤٢٢)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات بسر کی نبی کریمﷺ بیدار ہوئے ، آپ ﷺ نے چھوٹے مشکیزے سے وضو کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: نبی کریمﷺ نے مختصر وضو کیا۔ پھر میں اٹھا اور میں نے ویسا ہی کیا جس طرح نبی کریمﷺ نے کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧١،حديث نمبر ٤٢٣)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ایک شخص کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : تم اسراف نہ کرو ، اسراف نہ کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧١،حديث نمبر ٤٢٤)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ وضو کر رہے تھے ، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ، یہ کیا فضول خرچی ہے، انہوں نے عرض کی: کیا وضو میں بھی فضول خرچی ہوتی ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جی ہاں، اگرچہ تم ایک بہتی ہوئی نہر پر وضو کر رہے ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧٢،حديث نمبر ٤٢٥)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ باب: اچھی طرح وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٧٣،حديث نمبر ٤٢٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی اس کام کی طرف کروں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور اس کی وجہ سے نیکیوں میں اضافہ کر دیتا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب طبیعت آمادہ نہ ہو، اس وقت اچھی طرح وضو کرنا، زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مسجد کی طرف جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ باب: اچھی طرح وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٧٣،حديث نمبر ٤٢٧)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، گناہوں کو ختم کرنے والی چیز طبیعت آمادہ نہ ہو اس وقت وضو کرنا، مساجد کی طرف پیدل چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ باب: اچھی طرح وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٧٤،حديث نمبر ٤٢٨)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی کریمﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٤،حديث نمبر ٤٢٩)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کیا تو اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٥،حديث نمبر ٤٣٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ وضو کرتے ہوئے اپنی دونوں انگلیوں کو کشادہ کر کے اپنی داڑھی مبارک کا دو مرتبہ خلال کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٥،حديث نمبر ٤٣٠)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ وضو کرتے ہوئے اپنے رخسار کو کچھ ملتے تھے پھر نیچے کی طرف سے اپنی انگلیاں داڑھی میں داخل کرکے (اس کا خلال کرتے تھے) (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٥،حديث نمبر ٤٣٢)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے وضو کیا، تو اپنی داڑھی کا خلال بھی کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٧،حديث نمبر ٤٣٣)
عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ان سے یہ کہا: کیا آپ یہ کر سکتے ہیں؟ کہ مجھے یہ دکھائیں کہ نبی کریمﷺ کس طرح وضو کیا کرتے تھے، تو حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں پر اسے بہا دو مرتبہ دھویا پھر انہوں نے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر انہوں نے دونوں بازو کہنیوں تک دو، دو مرتبہ دھوئے پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اپنے سر کا دو مرتبہ مسح کیا وہ پہلے ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے اور بھر پیچھے سے آگے کی طرف آئے انہوں نے سر کے اگلے حصے سے آغاز کیا پھر وہ دونوں ہاتھ پیچھے گدی تک لے گئے تھے پھر انہیں واپس لے آئے تھے اس جگہ، جہاں سے انہوں نے مسح کا آغاز کیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں پیر دھوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٧٨،حديث نمبر ٤٣٤)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٧٨،حديث نمبر ٤٣٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ اپنے سر مبارک کا ایک مرتبہ مسح کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٧٩،حديث نمبر ٤٣٦)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے اپنے سر مبارک پر ایک مرتبہ مسح کیا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨٠،حديث نمبر ٤٣٧)
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے سر پر دو مرتبہ مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨٠،حديث نمبر ٤٣٨)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے اپنے دونوں کانوں کا مسح کیا، آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلیاں کانوں کیے اندر داخل کیں اور انگوٹھوں کو کان کے باہر والے حصہ پر رکھا پھر آپ ﷺ نے اس کے بیرونی اور اندرونی حصے کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الأُذُنَيْنِ باب: کانوں کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨١،حديث نمبر ٤٣٩)
سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے کانوں کے بیرونی اور اندرونی حصے کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الأُذُنَيْنِ باب: کانوں کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨١،حديث نمبر ٤٤٠)
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنی انگلیاں کانوں کے سوراخوں میں داخل کیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الأُذُنَيْنِ باب: کانوں کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨٢،حديث نمبر ٤٤١)
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے سر مبارک اور دونوں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الأُذُنَيْنِ باب: کانوں کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨٢،حديث نمبر ٤٤٢)
حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "دونوں کان" سر کا حصہ ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ:وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے:،جلد١،ص٢٨٢،حديث نمبر ٤٤٣)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دونوں کان " سر کا حصہ ہیں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی کریمﷺ اپنے سر مبارک کا ایک مرتبہ مسح کرتے تھے اور آپ ﷺ اپنی آنکھوں کے اطراف کو بھی ملا کرتے تھے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ:وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے:،جلد١،ص٢٨٣،حديث نمبر ٤٤٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ:وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے:،جلد١،ص٢٨٣،حديث نمبر ٤٤٥)
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے اپنی چھوٹی انگلی کے ذریعے اپنے دونوں پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا تھا۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَخْلِيلِ الأَصَابِعِ: انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان:،جلد١،ص٢٨٣،حديث نمبر ٤٤٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب تم نماز ادا کرنے لگو تو اچھی طرح وضو کرو اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پانی داخل کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَخْلِيلِ الأَصَابِعِ: انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان:،جلد١،ص٢٨٥،حديث نمبر ٤٤٧)
عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، اچھی طرح وضو کرو اور اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَخْلِيلِ الأَصَابِعِ: انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان:،جلد١،ص٢٨٥،حديث نمبر ٤٤٨)
عبید اللہ بن ابو رافع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریمﷺ جب وضو کرتے تھے تو آپ ﷺ اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَخْلِيلِ الأَصَابِعِ: انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان:،جلد١،ص٢٨٦،حديث نمبر ٤٤٩)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا جب کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں (یعنی وہ خشک تھیں) نبی کریمﷺ نے فرمایا ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے تم لوگ اچھی طرح وضو کرو ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٦،حديث نمبر ٤٥٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : (بعض) ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٧،حديث نمبر ٤٥١)
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بعض ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٨،حديث نمبر ٤٥٢)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بعض ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٨،حديث نمبر ٤٥٣)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بعض ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٨،حديث نمبر ٤٥٤)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، حضرت یزید بن سفیان رضی اللہ عنہ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ یہ سب حضرات یہ بات بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی کریمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے مکمل وضو کرو بعض ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٩،حديث نمبر ٤٥٥)
ابو حیہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے پھر یہ ارشاد فرمایا: میں نے یہ چاہا کہ میں تمہیں تمہارے نبی ﷺ کے وضو کا طریقہ دکھا دوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٩،حديث نمبر ٤٥٦)
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے دونوں پاؤں تین، تین مرتبہ دھوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٠،حديث نمبر ٤٥٧)
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا (راوی کہتے ہیں)سیدہ ربیع کی مراد ان کی نقل کردہ وہ حدیث تھی، جس میں انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے، نبی کریمﷺ نے وضو کیا، آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٠،حديث نمبر ٤٥٨)
جامع بن شداد بیان کرتے ہیں: میں نے حمران کو مسجد میں حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو یہ روایت کرتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نبی کریمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا ہے آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: جو شخص مکمل وضو اسی طرح کرے جس طرح اللہ تعالٰی نے یہ حکم دیا ہے، تو فرض نمازیں ان کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى:اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩١،حديث نمبر ٤٥٩)
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک آدمی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ وضو نہیں کرتا جس طرح اللہ تعالٰی نے اسے حکم دیا ہے وہ اپنے چہرے کو دھوئے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے۔ اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى:اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٢،حديث نمبر ٤٦٠)
حضرت حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریمﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں پانی لیا اور اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑک لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ:وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٢،حديث نمبر ٤٦١)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جبرئیل علیہ السّلام نے مجھے وضو کرنے کا طریقہ بتایا: انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اپنے کپڑے کے نیچے پانی چھڑک لوں اس وجہ کہ وضو (کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ) باہر آسکتا ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ:وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٣،حديث نمبر ٤٦٢)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب تم وضو کرو (تو اپنی شرمگاہ پر) پانی چھڑک لو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ:وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٤،حديث نمبر ٤٦٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ:وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٤،حديث نمبر ٤٦٤)
سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمﷺ غسل کرنے کے لئے تشریف لے گئے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ تان لیا پھر نبی کریمﷺ نے کپڑا لیا اسے لحاف کے طور پر لپیٹ لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٤،حديث نمبر ٤٦٥)
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے آپ ﷺ کے لئے پانی رکھا تو آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر ہم نے ورس لگا ہوا ایک رومال آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ ﷺ نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا، آپ ﷺ کے پیٹ کی سلوٹ پر ورس کے نشان کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٥،حديث نمبر ٤٦٦)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں کپڑا لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جب آپ ﷺ غسل جنابت کرکے فارغ ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے وہ کپڑا واپس کر دیا اور ہاتھوں کے ذریعے ہی پانی کو خشک کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٦،حديث نمبر ٤٦٧)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کیا اس کے بعد آپ ﷺ نے جو اونی جبہ پہنا ہوا تھا اسے الٹا کیا اور اس کے ذریعے اپنے چہرے کو پونچھ لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٦،حديث نمبر ٤٦٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر تین مرتبہ یہ پڑھے۔ "میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں"۔ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ الْوُضُوءِ: وضو کے بعد کی دعاؤں کا بیان:،جلد١،ص٢٩٧،حديث نمبر ٤٦٩)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو بھی مسلمان اچھی طرح وضو کرے اور پھر یہ پڑھے۔"میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں" تو اس شخص کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں وہ ان میں سے جس میں چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ الْوُضُوءِ: وضو کے بعد کی دعاؤں کا بیان:،جلد١،ص٢٩٨،حديث نمبر ٤٧٠)
نبی کریمﷺ کے صحابی حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ ﷺ کی خدمت میں پیتل کے برتن میں پانی پیش کیا، تو آپ ﷺ نے اس کے ذریعے وضو کر لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالصُّفْرِ: پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٨،حديث نمبر ٤٧١)
ابراہیم بن محمد اپنے والد کے حوالے سے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ان کے پاس پیتل کا بنا ہوا ایک ٹب تھا وہ بیان کرتی ہیں، میں نبی کریمﷺ کے سر مبارک کو اس میں کنگھی کیا کرتی تھی(یعنی اس برتن میں موجود پانی کے ذریعے دھو کر آپ ﷺ ک بال سنوارا کرتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالصُّفْرِ: پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٩،حديث نمبر ٤٧٢)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے (پتھر یا پیتل)کے برتن میں موجود پانی کے ذریعے وضو کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالصُّفْرِ: پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠٠،حديث نمبر ٤٧٣)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ جب سو جاتے تھے تو خراٹے لینے لگتے تھے پھر آپ ﷺ اٹھ کر نماز ادا کرتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ طنافسی کہتے ہیں وکیع نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی: نبی کریم ﷺ سجدے کی حالت میں سو جایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠٠،حديث نمبر ٤٧٤)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے اور نماز ادا کرنے لگے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠١،حديث نمبر ٤٧٥)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: آپ ﷺ کا یہ سونا بیٹھے ہوئے ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠٠،حديث نمبر ٤٧٦)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، آنکھ، پچھلی شرمگاہ کا سر بند ہے، تو جو شخص سوجائے اسے وضو کر لینا چاہئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠١،حديث نمبر ٤٧٧)
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے، جب ہم سفر کی حالت میں ہوں، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں، البتہ جنابت کی صورت میں اتارنے ہوں گے، لیکن پاخانہ، پیشاب یا سونے(کی وجہ سے وضو ختم ہونے پر دوبارہ وضو کرتے ہوئے انہیں اتاریں گے)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠٢،حديث نمبر ٤٧٨)
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھولے، تو وضو کر لینا چاہئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان،جلد١،ص٣٠٢،حديث نمبر ٤٧٩)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: "جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو اس پر وضو لازم ہوگا"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان،جلد١،ص٣٠٣،حديث نمبر ٤٨٠)
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے وہ وضو کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان،جلد١،ص٣٠٣،حديث نمبر ٤٨١)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے اسے چاہئے کہ وہ وضو کرے"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان،جلد١،ص٣٠٤،حديث نمبر ٤٨٢)
قیس بن طلق حنفی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو سنا آپ ﷺ سے شرمگاہ کو چھونے کےبارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس سے) وضو کرنا لازم نہیں ہوتا یہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ:شرمگاہ چھونے پر وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان:جلد١،ص٣٠٤،حديث نمبر ٤٨٣)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ سے شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارا حصہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ:شرمگاہ چھونے پر وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان:جلد١،ص٣٠٥،حديث نمبر ٤٨٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو چیز آگ پر پکی ہو، اس کو کھانے سے وضو کرنا لازم ہوگا خواہ وہ پنیر کا ٹکڑا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا ہم گرم پانی کی وجہ سے وضو کریں گے؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! جب تم نبی کریمﷺ کےحوالے سے کوئی حدیث سن لو، تو اس کے سامنے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ: آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣٠٦،حديث نمبر ٤٨٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے کے بعد) وضو کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ: آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣٠٦،حديث نمبر ٤٨٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھے اور یہ ارشاد فرمایا: یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو کہ آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے کے بعد) وضو کرو ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ: آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣٠٦،حديث نمبر ٤٨٧)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، نبی کریمﷺ نے (جانور کے ) کندھے کا گوشت کھایا پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کپڑے کے ذریعے صاف کئے جو آپ ﷺ کے نیچے موجود تھا، پھر آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور آپ ﷺ نے نماز ادا کرنا شروع کردی ( یعنی از سر نو وضو نہیں کیا)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٠٨،حديث نمبر ٤٨٨)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روٹی اور گوشت کھایا اور (اس کے بعد از سر نو) وضو نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٠٩،حديث نمبر ٤٨٩)
ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں ولید یا شاید عبد الملک (نامی حکمران) کے ہاں رات کے کھانے میں شریک ہوا جب نماز کا وقت ہوا تو میں وضو کرنے کے لئے اٹھا تو حضرت جعفر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی میں اپنے والد کے حوالے سے گواہی دے کر یہ بات بیان کر رہا ہوں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے آگ پر پکا ہوا کھانا کھایا تھا پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے نماز ادا کی تھی اور از سر نو وضو نہیں کیا تھا۔ اس پر "علی"جو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے بھی یہ بات بیان کی کہ میں اپنے والد کے حوالے سے گواہی دے کر اسی کی مانند بات بیان کرتا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٠٩،حديث نمبر ٤٩٠)
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں نبی کریمﷺ کی خدمت میں بکری کے کندھے کا گوشت پیش کیاگیا آپ ﷺ نے اسے کھا لیا اور نماز ادا کی آپ ﷺ نے پانی استعمال نہیں کیا (یعنی از سر نو وضو نہیں کیا)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٠،حديث نمبر ٤٩١)
حضرت سوید بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ خیبر گئے جب یہ حضرات "صہباء" کے مقام پر پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے عصر کی نماز ادا کی پھر آپ ﷺ نے کھانے کے لئے منگوایا تو آپ ﷺ کی خدمت میں صرف ستو پیش کئے گئے، آپ ﷺ نے انہیں کھا لیا اور پانی پی لیا پھر آپ ﷺ نے پانی منگوا کر کلی کی پھر آپ ﷺ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی (یعنی آپ ﷺ نے از سر نو وضو نہیں کیا)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٠،حديث نمبر ٤٩٢)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا ، پھر آپ ﷺ نے کلی کی دونوں ہاتھ دھوئے اور نماز ادا کرلی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١١،حديث نمبر ٤٩٣)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ سے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بعد وضو کر لیا کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣١١،حديث نمبر ٤٩٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کر لیا کریں، البتہ بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کیا کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣١٢،حديث نمبر ٤٩٥)
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بکریوں کا دودھ پینے کے بعد وضو نہ کرو البتہ اونٹنی کا دودھ پینے کے بعد وضو کر لیا کرو"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣١٢،حديث نمبر ٤٩٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " اونٹوں کا گوشت کھانے کے بعد وضو کر لیا کرو ،بکریوں کا دودھ پینے کے بعد وضو نہ کیا کرو، بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کرو، اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کیا کرو"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣١٢،حديث نمبر ٤٩٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: دودھ پینے کے بعد کلی کر لیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔:جلد١،ص٣١٣،حديث نمبر ٤٩٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی کریمﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب تم دودھ پیو تو کلی کر لیا کرو ، کونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔:جلد١،ص٣١٤،حديث نمبر ٤٩٩)
عبد المہیمن بن عباس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا(حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ، دودھ پینے کے بعد کلی کر لیا کرو، کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔:جلد١،ص٣١٤،حديث نمبر ٥٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے بکری کا دودھ دوہ لیا آپ ﷺ نے اس کے دودھ کو پی لیا پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اوراپنے منہ میں کلی کی پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔:جلد١،ص٣١٥،حديث نمبر ٥٠١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا پھر آپ ﷺ نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے از سر نو وضو نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا وہ آپ ہی ہونگی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرائیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ:بوسہ لے کر وضو کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٥،حديث نمبر ٥٠٢)
سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ وضو کرتے تھے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور نماز ادا کر لیتے تھے آپ ﷺ از سر نو وضو نہیں کرتے تھے، بعض اوقات آپ ﷺ میرے ساتھ بھی ایسا کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ:بوسہ لے کر وضو کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٦،حديث نمبر ٥٠٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے مذی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: مذی ( خارج ہونے ) پر صرف وضو کر نالازم ہوگا اور منی ( خارج ہونے) پر غسل لازم ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ:مذی سے وضو کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣١٦،حديث نمبر ٥٠٤)
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو اپنی عورت کے قریب ہوتا ہے تو اسے انزال نہیں ہوتا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص کو اس طرح کی صورتحال ہو تو وہ (زوجہ محترمہ ) اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے۔ ( راوی کہتے ہیں: ) نبی کریم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ وہ اسے دھو کر وضو کر لیں (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ:مذی سے وضو کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣١٧،حديث نمبر ٥٠٥)
حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری مذی بکثرت خارج ہوا کرتی تھی جس کے نتیجے میں مجھے بکثرت غسل کرنا پڑتا تھا میں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسی صورت میں تمہارے لیے وضو کافی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ جو میرے کپڑے پر لگ جاتا ہے اس کا کیا ہوگا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ایک چلو میں پانی لے کر اسے اپنے کپڑے پر اس جگہ چھڑک دو جہاں وہ لگی ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ:مذی سے وضو کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣١٧،حديث نمبر ٥٠٦)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ ان دونوں صاحبان کے پاس ( گھر سے باہر ) تشریف لائے اور بتایا : میری مذی خارج ہوگئی تھی تو میں نے اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کیا ہے ( اس لیے باہر آنے میں دیر ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا یہ جائز ہے تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ:مذی سے وضو کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣١٨،حديث نمبر ٥٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ رات کے وقت بیدار ہوئے آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے آپ ﷺ نے قضائے حاجت کی پھر آپ ﷺ نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے اور پھر آپ ﷺ سو گئے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: وُضُوءِ النَّوْمِ:سونے کے لیے وضو کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٨،حديث نمبر ٥٠٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے اور ہم تمام نمازوں کے لیے ایک ہی وضو کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان:جلد١،ص٣١٩،حديث نمبر ٥٠٩)
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ نے ایک ہی وضو کے ذریعے تمام نمازیں ادا کی تھیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان:جلد١،ص٣٢٠،حديث نمبر ٥١٠)
فضل بن مبشر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا انہوں نے ایک ہی وضو کے ساتھ تمام نمازیں ادا کیں تو میں نے ان سے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے تو میں تو ویسا ہی کروں گا، جس طرح نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان:جلد١،ص٣٢٠،حديث نمبر ٥١١)
ابو غطیف ہذلی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مسجد میں ان کی مجلس میں سناجب نماز کا وقت ہوا تو وہ اٹھے اور انہوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی اور پھر اپنی محفل میں آکر بیٹھ گئے جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو وہ اٹھے انہوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی اور واپس اپنی محفل میں آکر بیٹھ گئے جب مغرب کا وقت ہوا تو وہ اٹھے انہوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی پھر واپس اپنی محفل میں آکر بیٹھ گئے میں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کی بہتری کرے کیا ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض ہے یا سنت ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دریافت کیا: کیا تم نے اسے میری طرف منسوب کیا ہے یا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ یہ میری طرف سے ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا نہیں۔ اگر میں چاہتا تو صبح کی نماز کے لیے وضو کرنے کے بعد اس وضو کے ذریعے تمام نمازیں ادا کرتا جب تک میں بے وضو نہیں ہوتالیکن میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جو شخص باوضو ہونے کے باوجود وضو کرے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں ۔ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا )میں نے نیکیوں میں رغبت کی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ عَلَى الطَّهَارَةِ: وضو پر وضو کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٢١،حديث نمبر ٥١٢)
عباس بن تمیم اپنے چاچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کی شکایت کی گئی جسے نماز کے دوران کچھ محسوس ہوتا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں۔ جب تک وہ بو کومحسوس نہیں کرتا یا آواز نہیں سنتا (اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹے گا) (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ:حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٢٢،حديث نمبر ٥١٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ سے نماز کے دوران شبہ لاحق ہونے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی اس وقت تک نماز ختم نہیں کرے گا جب تک (ہوا خارج ہونے کی آواز )نہیں سن لیتا یا اسے بو محسوس نہیں ہوتی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ:حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٢٢،حديث نمبر ٥١٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: وضو اس وقت لازمی ہوتا ہے جب آواز آئے یا ہوا ( بد بو ) خارج ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ:حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٢٢،حديث نمبر ٥١٥)
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں میں نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو اپنے کپڑے کو سونگھتے ہوئے دیکھا میں نے دریافت کیا: اس کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے بتایا میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: وضو صرف اس وقت لازم ہوتا ہے جب بو محسوس ہو یا آواز سنائی دے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ:حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٢٤،حديث نمبر ٥١٦)
عبید اللہ بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کوسنا آپ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی ویرانے میں ہوتا ہے اور اس سے درندے اور چوپائے آکر پیتے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب پانی دو قلے ہو جائے تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مِقْدَارِ الْمَاءِ الَّذِي لاَ يَنْجَسُ: پانی کی وہ مقدار جس میں نجاست پڑنے سے پانی نجس نہیں ہوتا:جلد١،ص٣٢٥،حديث نمبر ٥١٧)
عبید اللہ بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب پانی دو قلے ہو جائے یا تین قلے ہو جائے تو اسے کوئی چیز نا پاک نہیں کرتی ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مِقْدَارِ الْمَاءِ الَّذِي لاَ يَنْجَسُ: پانی کی وہ مقدار جس میں نجاست پڑنے سے پانی نجس نہیں ہوتا:جلد١،ص٣٢٦،حديث نمبر ٥١٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے ان حوضوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ہیں جہاں درندے کتے اور گدھے ( آ کر پانی ) پیتے ہیں ان سے وضو کرنے کے بارے میں بھی نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ درندے اپنے پیٹ میں جو ڈال لیتے ہیں وہ ان کا ہوا اور جو وہ چھوڑ جاتے ہیں وہ ہمارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْحِيَاضِ: حوض اور تالاب کا بیان:جلد١،ص٣٢٦،حديث نمبر ٥١٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم لوگ ایک کنویں کے پاس پہنچے تو وہاں اس میں ایک مردار گدھا پڑا ہوا تھا راوی کہتے ہیں: ہم اس پانی سے وضو کرنے سے رک گئے پھر ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا) تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانی کو کوئی چیز نا پاک نہیں کرتی ہے۔ ( راوی کہتے ہیں ) پھر ہم نے اسے پی بھی لیا اور جانوروں کوبھی پلایا اور زادراہ کے طور پر ساتھ بھی رکھ لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْحِيَاضِ: حوض اور تالاب کا بیان:جلد١،ص٣٢٧،حديث نمبر ٥٢٠)
حضرت امامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : " پانی کو کوئی چیز نا پاک نہیں کرتی ہے ماسوائے اس چیز کے جو اس کی بو،ذائقے یا رنگ پر غالب آجائے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْحِيَاضِ: حوض اور تالاب کا بیان:جلد١،ص٣٢٧،حديث نمبر ٥٢١)
سیده لبابه بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا میں نے عرض کی: یارسول اللہ( ﷺ) آپ ﷺ مجھے اپنا کپڑا دیجیے اور آپ ﷺ دوسرا کپڑا پہن لیجیے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا بچے کے پیشاب پر پانی چھڑ کا جائے گا اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٢٨،حديث نمبر ٥٢٢)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بچے کو لایا گیا تو اس نےآپ ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا نبی کریم ﷺ نے اس پر پانی چھڑک دیا آپ ﷺ نے اسے دھویا نہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٢٨،حديث نمبر ٥٢٣)
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک مرتبہ میں اپنے چھوٹے بچے جس نے ابھی کچھ کھانا شروع نہیں کیا تھا، کولے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس بچے نے آپ ﷺ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٢٩،حديث نمبر ٥٢٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٣٠،حديث نمبر ٥٢٥)
حضرت ابو سمح بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کا خادم تھا آپ ﷺ کی خدمت میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کولایا گیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کر دیا لوگوں نے اسے دھونے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس پر پانی بہا دو کیونکہ بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پرپانی بہا دیا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٣٠،حديث نمبر ٥٢٦)
سیده ام کرز بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ ابوالیمان مصری کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث «يرش من الغلام، ويغسل من بول الجارية» بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے کے متعلق پوچھا کہ دونوں میں فرق کی کیا وجہ ہے جب کہ پیشاب ہونے میں دونوں برابر ہیں؟ تو امام شافعی نے جواب دیا: لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے بنا ہے، اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے، اس کے بعد مجھ سے کہا: کچھ سمجھے؟ میں نے جواب دیا: نہیں، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو ان کی چھوٹی پسلی سے حواء پیدا کی گئیں، تو بچے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہوا، اور بچی کا پیشاب خون اور گوشت سے، پھر مجھ سے پوچھا: سمجھے؟ میں نے کہا: ہاں، اس پر انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے نفع بخشے. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٣٠،حديث نمبر ٥٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا لوگ اسے مارنے کے لئے بڑھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم اسے کچھ نہ کہو پھر آپ ﷺ نے پانی کا ڈول منگوا کر اس جگہ بہا دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟:جلد١،ص٣٣١،حديث نمبر ٥٢٨)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی مسجد میں آیا نبی کریم ﷺ اس وقت وہاں تشریف فرما تھے وہ شخص بولا: اے اللہ ! میری اور حضرت محمد ﷺکی مغفرت کر دے ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کرنا ۔تو نبی کریم ﷺ مسکرا دیئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے پھر وہ مڑ کر جانے لگا یہاں تک کہ وہ مسجد کے کونے میں پہنچا اور وہاں پیشاب کرنے لگا ( اس کے بعد پورا واقعہ ہے جس میں آگے چل کر یہ بات ہے)اس چیز کا علم حاصل ہونے کے بعد اس دیہاتی نے کہا پھر نبی کریم ﷺ اٹھ کر میرے پاس آئے میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں نبی کریم ﷺ نے نہ تو مجھے ملامت کی نہ مجھے برا بھلا کہا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس مسجد میں پیشاب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ کے حکم کے تحت پانی کا ایک ڈول اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟:جلد١،ص٣٣٢،حديث نمبر ٥٢٩)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : اے اللہ تو مجھ پر اور حضرت محمد ﷺ پر رحم کراور اپنی رحمت میں ہمارے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کرنا تو نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: تم نے کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے، تمہارا ستیا ناس ہو ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تمہارا خانہ خراب ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص پیشاب کرنے لگا تو نبی کریم ﷺ کے اصحاب نے کہا: ٹھہر جاؤ! تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے کرنے دو پھر نبی کریم ﷺ نے پانی کا ڈول منگوایا اوراس پر بہا دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟:جلد١،ص٣٣٣،حديث نمبر ٥٣٠)
ابراہیم بن عبد الرحمن کی ام ولد بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: میں ایک ایسی عورت ہوں، جس کا دامن لمبا ہوتا ہے اور میں گندگی والی جگہ سے بھی چلتی ہوئی گزرتی ہوں تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نےبتایا نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس کے بعد والا حصہ اسے پاک کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا:پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے:جلد١،ص٣٣٤،حديث نمبر ٥٣١)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ ہم مسجد آ رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات راستے میں کسی نجس حصے کو اپنے پاؤں تلے دیتے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: زمین کا ایک حصہ دوسرے کو پاک کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا:پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے:جلد١،ص٣٣٥،حديث نمبر ٥٣٢)
موسی بن عبد اللہ بن یزید ، بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا : میرے اور مسجد کے درمیان ایسا راستہ ہے جہاں گندگی پڑی ہوتی ہے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تو اس کے بعد ایسا راستہ بھی ہے جو اس سے زیادہ صاف ہو؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کے لیے کافی ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا:پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے:جلد١،ص٣٣٦،حديث نمبر ٥٣٣)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی کسی گلی میں نبی کریم ﷺ سے ان کا سامنا ہو گیا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس وقت جنبی تھے ( وہ بیان کرتے ہیں) میں ایک طرف ہو کر دوسری جانب نکل گیا نبی کریم ﷺ نے انہیں غیر موجود پایا۔ غسل کرنے کے بعد جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: ابو ہریرہ ! تم کہاں چلے گئے تھے؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! جب آپ مجھ سے ملے تھے میں اس وقت جنبی تھا اس لیے مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس حالت میں غسل کیے بغیر آپ ﷺ کے ہمراہ رہوں تو آپ کی تعلیم نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ:جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣٣٦،حديث نمبر ٥٣٤)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے آپ ﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا تو میں دوسری طرف نکل گیا پھر میں غسل کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت کیا تمہیں کیا ہوا تھا ؟ میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان نا پاک نہیں ہوتا. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ:جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣٣٧،حديث نمبر ٥٣٥)
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں: میں نے سلیمان بن یسار سے ایسے کپڑے کے بارے میں دریافت کیا: جس پر منی لگ جاتی ہے؟ کیا ہم اس منی کو دھو لیں گے یا پورے کپڑے کو دھوئیں گے؟ تو سلیمان نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بات بیان کی ہے نبی کریم ﷺ کے کپڑوں پر بھی یہ لگ جاتی تھی تو آپ ﷺ اپنے کپڑے کے اس حصے کو دھو لیتے تھے پھر آپ ﷺ وہی کپڑا پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے حالانکہ میں دھونے کا نشان اس میں دیکھ رہی ہوتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ:منی لگے ہوئے کپڑے کا حکم:جلد١،ص٣٣٧،حديث نمبر ٥٣٦)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات میں نبی کریم ﷺ کے کپڑوں سے اپنے ہاتھوں کے ذریعے (منی کو) کھرچ دیتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ: کپڑے سے منی کھرچنے کا بیان:جلد١،ص٣٣٨،حديث نمبر ٥٣٧)
ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک مہمان ٹھہرا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے زرد رنگ کی ایک چادر بھجوائی اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا اسے اس بات پر شرم آئی کہ وہ اس چادر کو واپس بھیج دے جبکہ اس پر احتلام کا نشان موجود تھا اس نے اسے پانی سے دھولیا، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھجوایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ہمارے چادر کو کیوں خراب کیا ؟ اس کے لئے یہ کافی تھا: وہ اپنی انگلیوں کے ذریعے اسے کھرچ دیتا۔ میں نے کئی مرتبہ نبی کریم ﷺ کے کپڑے سے اپنی انگلیوں کے ذریعے اسے کھرچا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ: کپڑے سے منی کھرچنے کا بیان:جلد١،ص٣٣٨،حديث نمبر ٥٣٨)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد ہے میں نبی کریم ﷺ کے کپڑے میں اسے ( یعنی منی کو ) پاتی تھی تو اسے کھرچ دیتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ: کپڑے سے منی کھرچنے کا بیان:جلد١،ص٣٣٩،حديث نمبر ٥٣٩)
حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے اپنی بہن اور نبی کریم ﷺ کی زوجه محترمه سیده ام حبیبه سے دریافت کیا: کیا نبی کریم ﷺ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے جس میں آپ ﷺ نے صحبت کی ہوتی تھی تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں جب اس میں کوئی ناپا کی نہ لگی ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ:جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم:جلد١،ص٣٤٠،حديث نمبر ٥٤٠)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ ﷺ کے سر سےپانی کے قطرے ٹپک رہے تھے آپ ﷺ نے اسی کپڑے میں ہمیں نماز پڑھادی جسے آپ ﷺ نے تو شیح کے طور پر لپیٹا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اس کے کنارے مخالف سمت میں کندھے پر رکھے ہوئے تھے جب آپ ﷺ نماز کے فرض پڑھ کر فارغ ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے ہمیں ایک ہی کپڑا پہن کر نماز پڑھادی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں میں نے اس میں نماز ادا کی ہے اور اسی میں ۔ ( راوی کہتے ہیں ) نبی کریم ﷺ کی مراد تھی میں نے اس کپڑے میں صحبت بھی کی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ:جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم:جلد١،ص٣٤٠،حديث نمبر ٥٤١)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کر یم ﷺ سے سوال کیا: کیا وہ اس کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے، جس کو پہن کر اس نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی تھی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں البتہ اگر وہ اس کپڑے میں کوئی چیز (یعنی کوئی نجاست لگی ہوئی دیکھے ) تو پھر اسے دھولے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ:جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم:جلد١،ص٣٤١،حديث نمبر ٥٤٢)
ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں: حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر انہوں نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کر لیا ان سے کہا گیا: کیا آپ ایسا کر رہے ہیں، انہوں نے فرمایا میں ایسا کیوں نہ کروں کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم بیان کرتے ہیں: ان لوگوں کو حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ یہ روایت بہت پسند تھی کیونکہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نےسوره مائده نازل ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤١،حديث نمبر ٥٤٣)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے وضو کیا آپ ﷺ نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٢،حديث نمبر ٥٤٤)
حضرت مغیرہ بن شعبه رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بھی پانی کے برتن کے ہمراہ آپ ﷺ کے پیچھے چل دیئے جب نبی کریم ﷺ فارغ ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور وضو کے دوران موزوں پر مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٢،حديث نمبر ٥٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا: کیا آپ لوگ ایسا کرتے ہیں؟ پھر یہ دونوں حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا موزوں پر مسح کے بارے میں میرے بھتیجے کو فتویٰ دیجیے! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم اپنے موزوں پر مسح کر لیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٣،حديث نمبر ٥٤٦)
عبد المهيمن بن عباس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( حضرت سہل بن سعد ساعدی) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے اپنے موزوں پر مسح کیا اور آپ ﷺ نے ہمیں بھی موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٣،حديث نمبر ٥٤٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے دریافت کیا: کیا پانی موجود ہے؟ پھر نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا پھر آپ ﷺ اس کے بعد لشکر کے ساتھ جا کرملےاور ان کی امامت کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٤،حديث نمبر ٥٤٨)
ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نجاشی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دو سیاہ سادے موزے بھیجے تھے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں پہن کر وضو کیا اور ان پر مسح کر لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٥،حديث نمبر ٥٤٩)
حضرت مغیرہ بن شعبه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے موزوں کے اوپر والے حصے پر اور نیچے والے حصے پر مسح کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في مَسْحِ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلِهِ: موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٤٥،حديث نمبر ٥٥٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو وضو کر رہا تھا اور اس نے اپنے موزوں کو دھو لیا تھا تو نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا: یوں جیسے اسے پرے کرنا چاہتے ہوں (پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا) تمہیں مسح کرنے کا حکم دیا گیا ہے نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے اس طرح فرمایا آپ ﷺ پاؤں کی انگلیوں کی طرف سے پنڈلی کی جڑ کی طرف اپنا ہاتھ لے کرگئے اور آپ ﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں کے ذریعے لکیریں بنائیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في مَسْحِ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلِهِ: موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٤٦،حديث نمبر ٥٥١)
شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے فرمایا تم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کیونکہ وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں: میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا کی نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ مقیم شخص ایک دن اور ایک رات تک اور مسافر شخص تین دن تک مسح کر سکتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٧،حديث نمبر ٥٥٢)
حضرت خذیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن مدت مقرر کی ہے اگر سوال کرنے والا شخص اپنے سوال کو جاری رکھتا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اسے پانچ دن بھی کر دیتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٧،حديث نمبر ٥٥٣)
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، تین دن ( راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا )اور تین راتوں تک مسافر کو موزوں پرمسح کرنے کی اجازت ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٨،حديث نمبر ٥٥٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ موزوں پر طہارت حاصل کرنے کی متعین مدت کیا ہوگی؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم شخص کے لیے ایک دن اور ایک رات۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٩،حديث نمبر ٥٥٥)
عبد الرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے مسافر کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ جب وہ وضو کر لے اور موزے پہن لے پھر اس کا وضوٹوٹ جائے تو وہ تین دن اور تین راتوں تک مسح کر سکتا ہے جب کہ مقیم شخص ایک دن اور ایک رات تک کر سکتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٩،حديث نمبر ٥٥٦)
حضرت ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ان کے گھر میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے ان صحابی نے نبی کریم ﷺ سے گزارش کی کیا میں اپنے موزوں پر مسح کر لیا کروں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں انہوں نے دریافت کیا: ایک دن تک نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دو دن تک ان صحابی نے عرض کی: تین دن تک؟ یہاں تک کہ سات تک کا تذکرہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا جتنا تمہیں مناسب محسوس ہو ( اتنے عرصے تک تم اس پر مسح کر سکتے ہو ) (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ بِغَيْرِ تَوْقِيتٍ:موزوں پر مسح کے لیے مدت کی حد نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٥٠،حديث نمبر ٥٥٧)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ مصر سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم نے کتنے عرصے سے اپنے موزے نہیں اتارے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ایک جمعے سے لے کر اگلے جمعے تک تو حضرت عمر رضی نے فرمایا تم نے سنت پر عمل کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ بِغَيْرِ تَوْقِيتٍ:موزوں پر مسح کے لیے مدت کی حد نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٥١،حديث نمبر ٥٥٨)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے وضو کرتے ہوئے دونوں جرابوں اور موزوں پر مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ: جراب (پائے تابہ) اور جوتے پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٢،حديث نمبر ٥٥٩)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے دونوں جرابوں اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ معلی نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میرے علم کے مطابق روایت میں صرف موزوں پر مسح کرنے کا حکم ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ: جراب (پائے تابہ) اور جوتے پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٣،حديث نمبر ٥٦٠)
حضرت کعب بن عجره رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے دونوں موزوں اور چادر پر مسح کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ: پگڑی پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٤،حديث نمبر ٥٦١)
حضرت عمرو بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو موزوں اور عمامہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ: پگڑی پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٥،حديث نمبر ٥٦٢)
ابو مسلم بیان کرتے ہیں: میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے وضو کے لیے اپنے موزے اتار دیے تھے تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم اپنے موزوں پر اپنی چادر پر اپنی پیشانی پر مسح کرو کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے موزوں اور اپنی چادر پرمسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ: پگڑی پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٦،حديث نمبر ٥٦٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے قطری عمامہ باندھا ہوا تھا آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ عمامے کے نیچے داخل کیا اور سر کے آگے والے حصے کا مسح کر لیا، آپ ﷺ نے عمامے کو اتارا نہیں تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ: پگڑی پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٦،حديث نمبر ٥٦٤)
Ibne Majah Shareef : Abawabut Taharati WA Suna'niha
|
Ibne Majah Shareef : طہارت اور اس کے احکام و مسائل
|
•