asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Ibne Majah Shareef

Ibne Majah Shareef

Abawabut Taharati WA Suna'niha

From 267 to 564

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ایک "مد" کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع پانی کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٧٩،حديث نمبر ٢٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 267

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم ﷺ ایک مد پانی کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع پانی کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 268

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ ایک مد (پانی) کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور ایک صاع (پانی) کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٦٩)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 269

عبد اللہ بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ایک مد (پانی) وضو کے لیے کافی ہوتا ہے اور ایک صاع پانی غسل کے لیے کافی ہوتا ہے (راوی نے جب یہ حدیث بیان کی ) تو ایک صاحب بولے ہمارے لیے تو یہ کافی نہیں ہوتا ( تو حدیث بیان کرنے والے راوی نے ) کہا: یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جو تم سے بہتر تھے اور جن کے بال تم سے زیادہ تھے ۔ راوی کی مراد نبی کریم ﷺ تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان:،جلد١،ص١٨٠،حديث نمبر ٢٧٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، وَعَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زَبَّانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُجْزِئُ مِنَ الْوُضُوءِ مُدٌّ، وَمِنَ الْغُسْلِ صَاعٌ"، فَقَالَ رَجُلٌ: لَا يُجْزِئُنَا، فَقَالَ:" قَدْ كَانَ يُجْزِئُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، وَأَكْثَرُ شَعَرًا"، يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 270

حضرت اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالی صرف وضو کے ساتھ ہی نماز قبول کرتا ہے اور وہ حرام مال میں سے صدقہ قبول نہیں کرتا ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورِ:اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا:،جلد١،ص١٨١،حديث نمبر ٢٧١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ خَتَنُ الْمُقْرِئِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً إِلَّا بِطُهُورٍ، وَلَا يَقْبَلُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ". حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَشَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 271

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وضو کے ساتھ ہی نماز کو قبول کرتا ہے اور وہ حرام مال میں سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورِ: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا:،جلد١،ص١٨٢،حديث نمبر ٢٧٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً إِلَّا بِطُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 272

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالٰی وضو کے بغیر نماز کو قبول نہیں کرتا اور حرام مال میں سے دیئے جانے والے صدقے کو قبول نہیں کرتا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورِ: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا:،جلد١،ص١٨٢،حديث نمبر ٢٧٣)

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا يَقْبَلُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 273

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالی وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور حرام مال میں سے دیئے گئے صدقے کو قبول نہیں کرتا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورِ: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کی نماز کو قبول نہیں کرتا:،جلد١،ص١٨٢،حديث نمبر ٢٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 274

امام محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: وضو نماز کی کنجی ہے۔ تکبیر کے ذریعے یہ شروع ہوتی ہے اور سلام پھیر کر یہ ختم ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ:نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے:،جلد١،ص١٨٣،حديث نمبر ٢٧٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 275

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: وضو نماز کی کنجی ہے۔ تکبیر کے ذریعے یہ شروع ہوتی ہے اور سلام پھیر کر یہ ختم ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ:نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے:،جلد١،ص١٨٤،حديث نمبر ٢٧٦)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَرِيفٍ السَّعْدِيِّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 276

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” استقامت اختیار کرو اور تم ہر گز گنتی نہیں کر سکتے یہ بات جان لو کہ تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور صرف مومن ہی وضو کی حفاظت کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ:پابندی سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص١٨٤،حديث نمبر ٢٧٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 277

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم لوگ استقامت اختیار کرو اور تم لوگ گنتی ہر گز نہیں کر سکتے یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سے سب سے افضل نماز ہے اور صرف مومن ہی اپنے وضو کی حفاظت کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ:پابندی سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص١٨٥،حديث نمبر ٢٧٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 278

حضرت ابوامامه رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ) تم لوگ استقامت اختیار کرو اگر تم استقامت اختیار کر لیتے ہو تو یہ کتنی اچھی بات ہے اور تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور صرف مومن ہی وضو کی حفاظت کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوُضُوءِ:پابندی سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص١٨٦،حديث نمبر ٢٧٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَسِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، قَالَ:" اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنْ تَسْتَقيِمُوا، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 279

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے الحمد للہ پڑھنا میزان کو بھر دیتا ہے سبحان اللہ اور اللہ اکبر پڑھنا آسمانوں اور زمین کو بھر دیتا ہے نماز نور ہے زکوۃ برہان ہے صبر ضیاء ہے قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر شخص اپنے آپ کا سودا کرتا ہے تو یا تو خود کو آزاد کروالیتا ہے یا خود کو ہلاکت کا شکار کر والیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءُ شَطْرُ الإِيمَانِ: وضو آدھا ایمان ہے:،جلد١،ص١٨٦،حديث نمبر ٢٨٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانِ، وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالزَّكَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا، أَوْ مُوبِقُهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 280

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص وضو کرتےہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر وہ مسجد میں آئے اور وہ صرف نماز کی ادائیگی کے لیے وہاں آئے تو وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس شخص کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٨٧،حديث نمبر ٢٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 281

حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اس کے منہ اور ناک میں سے گناہ نکل جاتے ہیں: جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے میں سے گناہ نکل جاتے ہیں: یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پتلیوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں: جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے تو اس کے دونوں بازوؤں میں سے گناہ نکل جاتے ہیں جب وہ اپنے سر میں مسح کرتا ہے تو اس کے سر میں سے گناہ نکل جاتے ہیں : یہاں تک کہ دونوں کانوں میں سے بھی نکل جاتے ہیں :۔ جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں میں سے گناہ نکل جاتے ہیں : یہاں تک کہ اس کے پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں :۔ اور پھر اس کا نماز ادا کرنا اور چل کر مسجد تک جانا اس کے لیے اضافی اجر و ثواب ( کے حصول) کا باعث بنتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٨٨،حديث نمبر ٢٨٨)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَأَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ، وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 282

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کوئی بندہ وضو کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں جب وہ دونوں بازو دھوتا ہے اور اپنے سر پر مسح کرتا ہے تو اس کے دونوں بازوؤں اور اس کے سر سے گناہ نکل جاتے ہیں جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٨٩،حديث نمبر ٢٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَر مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ ذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 283

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی یارسول اللہ ! آپ نے اپنی امت میں سے جن افراد کو دیکھا ہی نہیں ہے آپ ﷺ انہیں کیسے پہچانیں گے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ وضو کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانی اور روشن ہاتھ پاؤں والے ہوں گئے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٨٩،حديث نمبر ٢٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 284

حمران جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ایک بیٹھک میں بیٹھے ہوئے دیکھا آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے نبی کریم ﷺ کو اس جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا ہے آپ نبی کریم نے اسی طرح وضو کیا تھا جس طرح میں نے وضو کیا ہے، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے اس وضو کی مانند وضو کرے تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی۔ تا ہم نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا: تم کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو جانا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ثَوَابِ الطُّهُورِ:وضو (طہارت) کا ثواب:،جلد١،ص١٩٠،حديث نمبر ٢٨٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَقْعَدِي هَذَا تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَا تَغْتَرُّوا". حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 285

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب رات کے وقت نماز تہجد ادا کرنے کے لئے بیدار ہوتے تو مسواک کے ذریعے منہ صاف کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩١،حديث نمبر ٢٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 286

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اگر مجھے اپنی امت کے مشقت کا شکار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اُنہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩١،حديث نمبر ٢٨٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 287

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ رات کے وقت دو دو رکعات ادا کیا کرتے تھے جب آپﷺ اس سے فارغ ہوتے تھے تو مسواک کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩١،حديث نمبر ٢٨٨)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِاللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَسْتَاكُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 288

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ مسواک کیا کرو کیونکہ مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے جبرائیل علیہ السلام جب بھی میرے پاس آئے انہوں نے مجھے مسواک کی تاکید کی یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ مجھ پر اور میری امت پر فرض قرار نہ دی جائے اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا تو میں یہ ان کے لیے لازم قرار دیتا میں خود مسواک کرتا رہتا ہوں یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہیں میرے منہ کے سامنے والے دانت گر نہ جائیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩٢،حديث نمبر ٢٨٩)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَسَوَّكُوا فَإِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ، مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ إِلَّا أَوْصَانِي بِالسِّوَاكِ، حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيَّ وَعَلَى أُمَّتِي، وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُهُ لَهُمْ، وَإِنِّي لَأَسْتَاكُ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مَقَادِمَ فَمِي".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 289

مقدام بن شریح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ طاھرہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: آپ مجھے بتائے کہ نبی کریم ﷺ جب آپ کے ہاں تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : جب نبی کریم ﷺ گھر تشریف لاتے تھے تو آپ ﷺ سب سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩٣،حديث نمبر ٢٩٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرِينِي بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: كَانَ" إِذَا دَخَلَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 290

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں،تم مسواک کے ذریعے انہیں پاک وصاف کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: السِّوَاكِ: مسواک کا بیان:،جلد١،ص١٩٤،حديث نمبر ٢٩١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَاجٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" إِنَّ أَفْوَاهَكُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْآنِ، فَطَيِّبُوهَا بِالسِّوَاكِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 291

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فطرت پانچ چیزیں ہیں ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں، ختنہ کروانا ، زیر ناف بال صاف کروانا، ناخن تراشنا بغلوں کے بال صاف کر وانا اور مونچھیں چھوٹی کروانا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْفِطْرَةِ: امور فطرت کا بیان:،جلد١،ص١٩٥،حديث نمبر ٢٩٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ، الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 292

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ یہ بات ارشاد فرمائی ہے دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں مونچھیں کٹوانا٫ داڑھی بڑھانا ٫ مسواک کرنا٫ پانی کے ذریعے ناک صاف کرنا٫ ناخن تراشنا ٫ جوڑوں کو دھونا ٫ بغلوں کے بال صاف کرنا ٫ زیر ناف بال صاف کرنا اور پانی کے ذریعے استنجاء کرتا۔ زکریا نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے مصعب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میں دسویں بات بھول گیا ہوں تاہم وہ کلی کرنا ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْفِطْرَةِ: امور فطرت کا بیان:،جلد١،ص١٩٥،حديث نمبر ٢٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ، قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ بِالْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ"، قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 293

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” فطرت میں یہ چیزیں شامل ہیں، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا' مسواک کرنا، مونچھیں چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال صاف کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا ، جوڑوں کو دھونا، استنجا کرنا اور ختنہ کرنا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْفِطْرَةِ: امور فطرت کا بیان:،جلد١،ص١٩٦،حديث نمبر ٢٩٤)

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مِنَ الْفِطْرَةِ، الْمَضْمَضَةُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَالسِّوَاكُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَالِانْتِضَاحُ، وَالِاخْتِتَانُ". حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، مِثْلَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 294

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے لیے مونچھیں چھوٹی کروانے ، زیر ناف بال صاف کرنے، بغلوں کے بال صاف کرنے، ناخن تراشنے کے بارے میں یہ مدت مقرر کی گئی تھی کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ ترک نہ کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْفِطْرَةِ: امور فطرت کا بیان:،جلد١،ص١٩٧،حديث نمبر ٢٩٥)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، وَنَتْفِ الْإِبِطِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 295

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے قضائے حاجت کی جگہ پر شیاطین حاضر ہوتے ہیں تو جب کوئی شخص وہاں جائے تو وہ یہ پڑھ لئے ۔ اے اللہ میں خبث اور خبائث سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ایک اور سند سے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ:قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص١٩٨،حديث نمبر ٢٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ". حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 296

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” جنات کی آنکھوں اور اولاد آدم کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے: جب کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہونے لگے تو بسم اللہ پڑھ لے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ:قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص١٩٩،حديث نمبر ٢٩٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ ، حَدَّثَنَا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ ، عَنِ الْحَكَمِ النَّصَرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِتْرُ مَا بَيْنَ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ، أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 297

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ جب بیت الخلاء تشریف لے جاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ میں خبث اور خبائث سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں۔“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ:قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص١٩٩،حديث نمبر ٢٩٨)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 298

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” کوئی بھی شخص اس بات سے عاجز نہ آجائے کہ جب وہ بیت الخلاء میں جائے تو یہ پڑھے۔ "اے اللہ ! میں ناپا کی اور نجاست خبیث اور خبیث کر دینے والی چیز اور مردود شیطان سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم ان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں ۔ میں گندگی اور نجاست سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ انہوں نے یہ کہا ہے میں خبیث چیز خبیث کرنے والی چیز اور مردود شیطان سے پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ:قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص١٩٩،حديث نمبر ٢٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَعْجِزْ أَحَدُكُمْ إِذَا دَخَلَ مِرْفَقَهُ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ، الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ، الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ إِنَّمَا، قَالَ:" مِنَ الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ، الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 299

یوسف بن ابو بردہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی کریم ﷺ جب بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ میں تیری مغفرت کا طلب گار ہوں ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ:قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص٢٠٠،حديث نمبر ٣٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَمِعْتُهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، قَالَ: غُفْرَانَكَ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 300

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو یہ پڑھتے تھے ہر طرح کی حمد و ثنا اس اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے جس نے مجھ سے تکلیف دینے والی چیز کو دور کیا اور مجھے عافیت بخشی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ:قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے؟:،جلد١،ص٢٠١،حديث نمبر ٣٠١)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 301

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت الله پاک کا ذکر کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْخَلاَءِ وَالْخَاتَمِ فِي الْخَلاَءِ: پاخانہ میں اللہ کا ذکر کرنے اور اس میں انگوٹھی پہن کر جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٠٢،حديث نمبر ٣٠٢)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 302

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا تشریف لے جاتے تو آپﷺ اپنی انگوٹھی اتار دیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْخَلاَءِ وَالْخَاتَمِ فِي الْخَلاَءِ: پاخانہ میں اللہ کا ذکر کرنے اور اس میں انگوٹھی پہن کر جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٠٢،حديث نمبر ٣٠٣)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 303

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی کوئی بھی شخص غسل کی جگہ پر ہرگز پیشاب نہ کرے کیونکہ عام طور پر اسی کی وجہ سے وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یزید کو کہتے سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے علی بن محمد طنافسی کو کہتے ہوئے سنا: یہ ممانعت اس جگہ کے لیے ہے جہاں غسل خانے کچے ہوں، اور پانی جمع ہوتا ہو، لیکن آج کل غسل خانہ میں پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ اب غسل خانے چونا، گچ اور ڈامر (تارکول) کے ذریعے پختہ بنائے جاتے ہیں، اگر ان میں کوئی پیشاب کرے اور پانی بہا دے تو کوئی حرج نہیں۔ سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا: بَابُ: كَرَاهِيَةِ الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ:غسل خانہ میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٠٢،حديث نمبر ٣٠٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ، يَقُولُ:" إِنَّمَا هَذَا فِي الْحَفِيرَةِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا، فَمُغْتَسَلَاتُهُمُ الْجِصُّ، وَالصَّارُوجُ، وَالْقِيرُ، فَإِذَا بَالَ فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا بَأْسَ بِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 304

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچرے کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا:کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے حکم کا بیان:،جلد١،ص٢٠٣،حديث نمبر ٣٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَهُشَيْمٌ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 305

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لے جاتے اور آپ ﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت دیگر اسناد سے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے اور وہ یہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کچرے کے ڈھیر پر تشریف لے جاتے اور آپﷺ کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ قَائِمًا:کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے حکم کا بیان:،جلد١،ص٢٠٤،حديث نمبر ٣٠٦)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا". قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ عَاصِمٌ يَوْمَئِذٍ: وَهَذَا الْأَعْمَشُ يَرْوِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَمَا حَفِظَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ مَنْصُورًا ؟ فَحَدَّثَنِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 306

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ بیان کرتی ہیں کہ تمہیں جو یہ بتاے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو ہرگز اس کی تصدیق نہ کرو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ فی البول قاعدا :بیٹھ کر پیشاب کرنا،جلد١،ص٢٠٥،حديث نمبر ٣٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ، أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 307

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے بیان کرتے ہیں کہ میں کھڑے ہو کر پیشاب کر رہا تھا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اے عمر کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو اس کے بعد سے میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ فی البول قاعدا :بیٹھ کر پیشاب کرنا،جلد١،ص٢٠٦،حديث نمبر ٣٠٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 308

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ فی البول قاعدا :بیٹھ کر پیشاب کرنا،جلد١،ص٢٠٦،حديث نمبر ٣٠٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ قَائِمًا"،

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 309

عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کوئی شخص پیشاب کرتے وقت اپنی شرمگاہ کو دائین ہاتھ سے نہ پکڑے دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں۔ ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ کراھیۃ مس الذکر بالیمین والاستنجاء بالیمین:،جلد١،ص٢٠٧،حديث نمبر ٣١٠)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ". حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 310

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا ہے میں نے کبھی گانا نہیں سنا میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں نے کبھی دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ کراھیۃ مس الذکر بالیمین والاستنجاء بالیمین:،جلد١،ص٢٠٧،حديث نمبر ٣١١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ:" مَا تَغَنَّيْتُ، وَلَا تَمَنَّيْتُ، وَلَا مَسِسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 311

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب کسی  شخص نے پاکیزگی حاصل کرنی ہو تو وہ اپنے دائے ہاتھ کے ذریعے پاکیزگی حاصل نہ کرے بلکہ بائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ کراھیۃ مس الذکر بالیمین والاستنجاء بالیمین:،جلد١،ص٢٠٨،حديث نمبر ٣١٢)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 312

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بے شک میں تمہارے لیے اسی طرح ہوں جس طرح اولاد کے لیے والد ہوتا ہے میں تمہاری تعلیم و تربیت کرتا ہوں جب تم بیت الخلا میں جاؤ تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرو اور اس کی طرف پیٹھ بھی نہ کرو. راوی کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تین پتھر استعمال کرنے کی ہدایت کی تھی اور مینگنی یا ہڈی کے ذریعے استنجا کرنے سے منع کیا تھا اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ آدمی اپنے دائے ہاتھ کے ذریعے استنجا  کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ:پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان:،جلد١،ص٢٠٨،حديث نمبر ٣١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ، أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ، وَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 313

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  قضائے حاجات کے لیے تشریف لے گئے اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تین پتھر لے آؤ میں دو پتھر اور ایک مینگنی لے کر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس آیا تو اپ علیہ السلام نے پتھر حاصل کر لیے اور مینگنی کو پھینک دیا آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ ناپاک ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ:پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان:،جلد١،ص٢٠٩،حديث نمبر ٣١٤) ‎

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هِيَ رِكْسٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 314

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ  روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا استنجا کرتے ہوئے تین پتھر ہونے چاہیے ان میں کوئی مینگنی نہیں ہونی چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ:پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان:،جلد١،ص٢٠٩،حديث نمبر ٣١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الِاسْتِنْجَاءِ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 315

عبدالرحمن بن یزید حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں کچھ مشرکین نے ان کا مذاق اڑانے کے لیے ان سے یہ کہا کہ ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ اپ کے اقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپ کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت کے اداب بھی بتائے ہیں تو حضرت سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات ہدایت کی ہے کہ ہم قبلہ کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت نہ کرے اور اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں ان میں مینگنی یا ہڈی نہیں ہونی چاہیے پتھر ہی ہونے چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ:پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان:،جلد١،ص٢١٠،حديث نمبر ٣١٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةِ، قَالَ: أَجَلْ،" أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ، وَلَا عَظْمٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 316

حضرت عبداللہ بن حارث زبیری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں وہ سب سے پہلا شخص ہوں جس نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کوئی بھی شخص قبلے کی طرف رخ کر کے ہرگز پیشاب نہ کرے اور میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں کو یہ بات بتائی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١١،حديث نمبر ٣١٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّه سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ"، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِك.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 317

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جو شخص قضائے حاجت کے لیے جاتا ہے وہ قبلے کی طرف رخ کرے اپ نے فرمایا ہے مدینہ منورہ کے حساب سے مشرق یا مغرب کی طرف رخ کیا کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١١،حديث نمبر ٣١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَةَ"، وَقَالَ:" شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 318

حضرت معقل بن ابو معقل اسدی رضی اللہ تعالی عنہ جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ یہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے ہم پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے دونوں قبلوں میں سے کسی کی طرف بھی رخ کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٢،حديث نمبر ٣١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى الثَّعْلَبِيِّينَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ، وَقَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 319

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیں ہدایت سنائی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم پاخانہ پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٣،حديث نمبر ٣٢٠)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ،" نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 320

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے میں کھڑے ہو کر کچھ پیوں یا قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کروں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ:پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٣،حديث نمبر ٣٢١)

قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَدَّثَنَاهُ عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ الدَّوْنَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانِي أَنْ أَشْرَبَ قَائِمًا، وَأَنْ أَبُولَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 321

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے لوگ کہتے ہیں کہ رفع حاجت کے وقت قبلہ یا بیت المقدس کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رفع حاجت کر رہے تھے اور اپ علیہ السلام کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى:صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢١٤،حديث نمبر ٣٢٢)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ:" يَقُولُ أُنَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْغَائِطِ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْأَيَّامِ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا،" فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ" هَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 322

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا، لیکن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى:صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢١٤،حديث نمبر ٣٢٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ"، قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ:" فِي الصَّحْرَاءِ لَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا"، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ، اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 323

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں ان کی شرمگاہوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اندازہ تھا کہ وہ لوگ ایسا ہی کریں گے تو تم لوگ میرے بیت الخلاء کا رخ قبلہ کی طرف کر دو یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى:صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢١٥،حديث نمبر ٣٢٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا بِفُرُوجِهِمُ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ:" أُرَاهُمْ قَدْ فَعَلُوهَا اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، مِثْلَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 324

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع کیا تھا پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وصال کے ایک سال پہلے میں نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى:صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢١٦،حديث نمبر ٣٢٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ"، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 325

عیسی بن یزید یمانی اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص پیشاب کر لے تو اپنی شرمگاہ کو تین مرتبہ دبائے تاکہ اندر موجود پیشاب کا قطرہ نکل آئے ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِبْرَاءِ بَعْدَ الْبَوْلِ: پیشاب کے بعد طہارت کا بیان:،جلد١،ص٢١٧،حديث نمبر ٣٢٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ الْيَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْتُرْ ذَكَرَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 326

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیشاب کرنے کے لیے تشریف لے گئے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ان کے پیچھے پانی لے کر گئے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دریافت کیا اے عمر رضی اللہ تعالی عنہ یہ کیا ہے انہوں نے عرض کی یہ پانی ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو ساتھ وضو بھی کر لوں اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو یہ چیز سنت بن جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَنْ بَالَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً:پیشاب کر کے پانی استعمال نہ کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢١٧،حديث نمبر ٣٢٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟" قَالَ: مَاءٌ، قَالَ:" مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 327

ابو سعید حمیری بیان کرتے ہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ وہ روایت بیان کیا کرتے تھے جو دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے نہیں سنی ہوئی ہوتی تھی اور ان چیزوں کو بیان نہیں کرتے تھے جو دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ نے سنی ہوئی ہوتی تھی ایک مرتبہ ایسا ہی ایک روایت جو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کی اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نہیں سنی ہوئی تھی جب اس بات کی خبر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ملی تو وہ بولے اللہ کی قسم میں نے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو بیت الخلاء کے بارے میں ازمائش میں مبتلا کر دیں گے اس بات کی اطلاع حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو ملی تو وہ ان سے ملے تو حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اے عبداللہ بن عمر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حوالے سے جھوٹی بات بیان کرنامنافقت ہے اور اس کا گناہ اس شخص کو ہوگا جو یہ بیان کرے گا میں نے خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے لعنت کی تین جگہوں سے بچو گھاٹ، سائے اور راستے میں پاخانہ کرنے سے بچو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْخَلاَءِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٨،حديث نمبر ٣٢٨) ‎

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَتَحَدَّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَسْكُتُ عَمَّا سَمِعُوا، فَبَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا، وَأَوْشَكَ مُعَاذٌ أَنْ يَفْتِنَكُمْ فِي الْخَلَاءِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَقِيَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّ التَّكْذِيبَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِفَاقٌ، وَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَالظِّلِّ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 328

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا راستے میں پڑاؤ کرنے سے اور وہاں نماز ادا کرنے سے بچو کیونکہ یہ سانپوں اور درندوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں اور اس جگہ پر قضائے حاجت کرنے سے بھی بچو کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں لعن طعن ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْخَلاَءِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢١٩،حديث نمبر ٣٢٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ، قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ، وَالصَّلَاةَ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ، وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلَاعِنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 329

سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے راستے میں نماز ادا کی جائے یا وہاں قضائے حاجت کی جائے یا وہاں پیشاب کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْخَلاَءِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢٢٠،حديث نمبر ٣٣٠) ‎

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، أَوْ يُضْرَبَ الْخَلَاءُ عَلَيْهَا، أَوْ يُبَالَ فِيهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 330

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٠،حديث نمبر ٣٣١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْن عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 331

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھا اپ صلی اللہ علیہ السلام قضائے حاجت کے لیے ایک طرف ہٹ گئے پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے تو اپ علیہ السلام نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢١،حديث نمبر ٣٣٢) ‎

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 332

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو اپ علیہ السلام دور چلے جاتے تھے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢١،حديث نمبر ٣٣٣) ‎

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 333

حضرت عبدالرحمن بن ابو قراد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا اپ علیہ السلام قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے گئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢١،حديث نمبر ٣٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ، قَالَ:" حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَبْعَدَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 334

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب بھی قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو اتنی دور چلے جاتے تھے کہ غائب ہو جاتے تھے اور دکھائی نہیں دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٢،حديث نمبر ٣٣٥) ‎

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلَا يُرَى".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 335

حضرت بلال بن حارث مذنی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ:قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٢،حديث نمبر ٣٣٦)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 336

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص پتھر استعمال کرتا ہے تو وہ طاق تعداد میں استعمال کریں جو شخص ایسا کرے گا تو یہ اچھا ہے اور جو احسان نہیں کرتا تو اس کو کوئی گناہ بھی نہیں ہے جو شخص خلال کرتا ہے تو وہ خلال کے ذریعے نکلی ہوئی چیز کو پھینک دے اور جو شخص زبان کے ذریعے چیز باہر نکالتا ہے اسے نگل لے جو ایسا کرے گا تو یہ اچھا ہے جو ایسا نہیں کرے گا تو ایسا کوئی گناہ بھی نہیں ہے جو شخص قضائے حاجت کے لیے جاتا ہے وہ پردہ کر لے اگر ایسا پردے کے لیے صرف ریت کا ٹیلا ملتا ہے تو اسے ہی زیادہ کر لے کیونکہ شیطان ادمی کی قضائے حاجت کی جگہ کے ساتھ کھیلتا ہے جو شخص ایسا کرے گا تو وہ اچھا کرے گا اور جو ایسا نہیں کرے گا تو اسے کوئی گناہ بھی نہیں. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٢،حديث نمبر ٣٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَنْ لَاكَ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ ذَاكَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْخَلَاءَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَمْدُدْهُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ ابْنِ آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 337

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں جو شخص سرمہ لگاتا ہے تو وہ طاق تعداد میں لگائے جو ایسا کرے گا تو اس نے اچھا کیا اور جو ایسا نہیں کرے گا تو اس کو کوئی گناہ بھی نہیں ہے اور جو شخص زبان کے ذریعے دانتوں میں سے کوئی چیز نکالتا ہے وہ اسے نگل لے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٣،حديث نمبر ٣٣٨) ‎

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ،" وَمَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ لَاكَ فَلْيَبْتَلِعْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 338

یعلی بن مرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھا اپ قضائے حاجت کے لیے جانے لگے تو اپ علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا تم ان دو چھوٹی کھجور کے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول علیہ السلام تم دونوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ راوی کہتے ہیں تو وہ اکٹھے ہو گئے نبی کریم علیہ السلام نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی پھر اپ علیہ السلام نے مجھ سے ارشاد فرمایا تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو تم دونوں میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر واپس چلا جائے راوی کہتے ہیں میں نے ان دونوں سے کہا تو وہ دونوں اپنی جگہ پر واپس چلے گئے. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٤،حديث نمبر ٣٣٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَقَالَ لِي:" ائْتِ تِلْكَ الْأَشَاءَتَيْنِ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ، قَالَ أبُو بَكْرٍ: فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا، فَاجْتَمَعَتَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ قَالَ لِي:" ائْتِهِمَا، فَقُلْ لَهُمَا: لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا"، فَقُلْتُ لَهُمَا فَرَجَعَتَا.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 339

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم علیہ السلام قضائے حاجت کے لیے پرواہ کرتے ہوئے زمین کی بلند حصے یا کھجوروں کے جھنڈ کو پسند کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٤،حديث نمبر ٣٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ:" كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 340

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم علیہ السلام ایک طرف ہٹ کر گھاٹی کی طرف چلے گئے وہاں اپ علیہ السلام نے پیشاب کیا یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان:،جلد١،ص٢٢٥،حديث نمبر ٣٤١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الشِّعْبِ فَبَالَ، حَتَّى أَنِّي آوِي لَهُ مِنْ فَكِّ وَرِكَيْهِ حِينَ بَالَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 341

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم علیہ السلام کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں وہ آدمی قضائے حاجت کرتے ہوئے بات چیت نہ کرے اس طرح کے ان میں سے ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ رہا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس بات پر ناراض ہوتا ہے۔ ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہلال بن عیاض کے بجائے عیاض بن ہلال ہے، محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: یہی صحیح ہے۔ ایک اور سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے لیکن اس سند میں عیاض بن عبداللہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ الاِجْتِمَاعِ عَلَى الْخَلاَءِ وَالْحَدِيثِ عِنْدَهُ:ایک ساتھ بیٹھ کر پاخانہ کرنا اور اس میں بات چیت کرنی منع ہے:،جلد١،ص٢٢٤،حديث نمبر ٣٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ عَلَى غَائِطِهِمَا، يَنْظُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَهُوَ الصَّوَابُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 342

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم علیہ السلام کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں اپ علیہ السلام نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا ۔ ‎(سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ:ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢٢٦،حديث نمبر ٣٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 343

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ:ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢٢٧،حديث نمبر ٣٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 344

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ:ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے:،جلد١،ص٢٢٧،حديث نمبر ٣٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ النَّاقِعِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 345

حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اپ علیہ السلام کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی اپ علیہ السلام نے اسے رکھا پھر اپ علیہ السلام بیٹھے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ڈھال کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا کسی غیر مسلم یا کسی منافق نے یہ کہا ان کی طرف دیکھو یہ یوں پیشاب کر رہے ہیں جس طرح عورت پردہ کر کے پیشاب کرتی ہے نبی کریم علیہ السلام نے اس شخص کی یہ بات سن لی اور فرمایا تمہارا ستیاناس ہو کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو کیا مصیبت لاحق ہوئی تھی. ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول یہ حدیث مروی ہے. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ:پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص٢٢٨،حديث نمبر ٣٤٦) ‎

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهِ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 346

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں: نبی کریم علیہ السلام دو قبروں کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ( بظاہر ) کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا( پھر آپ نے ہمیں خود ہی وضاحت کی ) ان میں سے ایک پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ:پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص٢٢٨،حديث نمبر ٣٤٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 347

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ:پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص٢٢٨،حديث نمبر ٣٤٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 348

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم علیہ السلام دو قبروں کے پاس سے گزرے اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ان میں سے ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور دوسرے کو غیبت کرنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ:پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص٢٢٩،حديث نمبر ٣٤٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَذَّبُ فِي الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُعَذَّبُ فِي الْغَيْبَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 349

حضرت مہاجر بن قنفذ بن عمیر بن جدعان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اپ علیہ السلام اس وقت وضو کر رہے تھے میں نے اپ علیہ السلام کو سلام کیا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا جب اپ علیہ السلام وضو کر کے فارغ ہوئے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں جواب اس لیے نہیں دیا تھا کیونکہ میں اس وقت بے وضو حالت میں تھا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ: پیشاب کے دوران سلام کا جواب:،جلد١،ص٢٢٩،حديث نمبر ٣٥٠)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ، قَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 350

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ علیہ السلام اس وقت پیشاب کر رہے تھے اس شخص نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر تیمم کیا پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس شخص کو سلام کا جواب دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ: پیشاب کے دوران سلام کا جواب:،جلد١،ص٢٣١،حديث نمبر ٣٥١)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَتَيَمَّمَ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 351

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ علیہ السلام اس وقت پیشاب کر رہے تھے اس شخص نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی کریم علیہ السلام نے اس سے فرمایا جب تم مجھے اس طرح کی حالت میں دیکھو تو مجھے سلام نہ کیا کرو اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہارے سلام کا جواب نہیں دوں گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ: پیشاب کے دوران سلام کا جواب:،جلد١،ص٢٣٢،حديث نمبر ٣٥٢) ‎

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 352

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے گزرا نبی کریم علیہ السلام اس وقت پیشاب کر رہے تھے اس شخص نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبُولُ: پیشاب کے دوران سلام کا جواب:،جلد١،ص٢٣٢،حديث نمبر ٣٥٣) ‎

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ العسقلاني ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 353

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے ہوئے نہیں دیکھا مگر یہ کہ آپ علیہ السلام پانی استعمال کیا کرتے تھے یعنی اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ:پانی سے استنجاء کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٢،حديث نمبر ٣٥٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ قَطُّ إِلَّا مَسَّ مَاءً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 354

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ یہ بات بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔(ترجمہ) "اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں وہ اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کریں اور اللہ تعالی اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے" (سورہ توبہ ١٠٨) نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا اے انصار کے گروہ اللہ تعالی نے طہارت کے حصول کے حوالے سے تمہاری تعریف کی ہے تو تمہاری طہارت کے حصول کا طریقہ کیا ہے انہوں نے عرض کی ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں جنابت کے بعد غسل کرتے ہیں اور پانی کے ذریعے استنجا کرتے ہیں تو نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا یہی وجہ ہوگی تو تم اس کو اپنے اوپر لازم رکھنا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ:پانی سے استنجاء کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٣،حديث نمبر ٣٥٥)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ، فَمَا طُهُورُكُمْ"؟ قَالُوا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ، قَالَ:" فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 355

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم استنجا کے مقام کو تین مرتبہ دھویا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ہم نے بھی ایسا کیا ہے تو ہم نے اس عمل کو ایسا پایا کہ یہ دوا بھی ہے اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بھی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ:پانی سے استنجاء کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٤،حديث نمبر ٣٥٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْسِلُ مَقْعَدَتَهُ ثَلَاثًا"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً وَطُهُورًا. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 356

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔(ترجمہ) "اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں اور اللہ تعالی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے" راوی بیان کرتے ہیں وہ لوگ پانی کے ذریعے استنجا کرتے تھے تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ:پانی سے استنجاء کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٤،حديث نمبر ٣٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَزَلَتْ فِي أَهْلِ قُبَاءَ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108 قَالَ:" كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 357

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے قضائے حاجت کی پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پانی کے برتن کے ذریعے استنجا کیا پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے دست مبارک کو زمین پر مل لیا ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول بھی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَنْ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ بَعْدَ الاِسْتِنْجَاءِ: استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑ کر دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٥،حديث نمبر ٣٥٨) ‎

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ اسْتَنْجَى مِنْ تَوْرٍ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 358

ابراہیم جریر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم درختوں کے جھنڈ میں تشریف لے گئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی حضرت جریر رضی اللہ تعالی عنہ پانی کا برتن لے کر آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کے ذریعے استنجا کیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنے دست مبارک کو مٹی پر مل لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَنْ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ بَعْدَ الاِسْتِنْجَاءِ: استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑ کر دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٥،حديث نمبر ٣٥٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ الْغَيْضَةَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَأَتَاهُ جَرِيرٌ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ فَاسْتَنْجَى مِنْهَا، وَمَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 359

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم اپنے مشکیزوں کے منہ بند رکھیں اور اپنے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ: برتن کو ڈھانک کر رکھنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٥،حديث نمبر ٣٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُوكِيَ أَسْقِيَتَنَا وَنُغَطِّيَ آنِيَتَنَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 360

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتے ہیں میں رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے تین برتن تیار کر کے رکھ دیتی تھی جنہیں ڈھانپا گیا ہوتا تھا ایک برتن آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وضو کے لیے تھا ایک آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مسواک کے لیے تھا اور ایک آپ علیہ السلام کے پینے کے لیے تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ: برتن کو ڈھانک کر رکھنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٦،حديث نمبر ٣٦١)

حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَضَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً إِنَاءً لِطَهُورِهِ، وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ، وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 361

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے کسی سے مدد نہیں لیتے تھے آپ علیہ السلام صدقہ تقسیم کرنے میں کسی سے مدد نہیں لیتے تھے یعنی جو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے صدقہ کیا ہوتا تھا آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بذات خود یہ کام کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ: برتن کو ڈھانک کر رکھنے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٦،حديث نمبر ٣٦٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُطَهَّرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكِلُ طُهُورَهُ إِلَى أَحَدٍ، وَلَا صَدَقَتَهُ الَّتِي يَتَصَدَّقُ بِهَا يَكُونُ هُوَ الَّذِي يَتَوَلَّاهَا بِنَفْسِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 362

ابو رزین بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر مارتے ہوئے فرمایا تم لوگ یہ سمجھتے ہو میں نبی کریم کے حوالے سے جھوٹی بات بیان کر دوں گا تاکہ تمہارے لیے سہولت ہو جائے اور مجھے گناہ ہو میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم علیہ السلام کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ:جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٧،حديث نمبر ٣٦٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، أَنْتُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَكُونَ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْإِثْمُ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 363

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے پانی پی لے تو اسے سات مرتبہ دھو لو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ:جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٧،حديث نمبر ٣٦٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 364

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس سے سات مرتبہ دھو لو اور اٹھویں مرتبہ مٹی کے ذریعے مانجھ لو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ:جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٨،حديث نمبر ٣٦٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 365

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھو لے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ:جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٨،حديث نمبر ٣٦٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 366

کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے کسی صاحبزادے کی اہلیاں تھیں وہ بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے پانی رکھا تاکہ وہ اس کے ذریعے وضو کر لیں ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے برتن اس کی طرف کر دیا میں ان کی طرف دیکھ رہی تھی انہوں نے فرمایا اے میری بھتیجی کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو نبی کریم علیہ السلام نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے یہ ناپاک نہیں ہے بلکہ یہ گھر میں آنے جانے والے جانوروں میں سے ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان:،جلد١،ص٢٣٩،حديث نمبر ٣٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ بَعْضِ وَلَدِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهَا صَبَّتْ لِأَبِي قَتَادَةَ مَاءً يَتَوَضَّأُ بِهِ، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَةَ أَخِي أَتَعْجَبِينَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ، أَوِ الطَّوَّافَاتِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 367

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں بعض اوقات میں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کسی ایسے برتن سے وضو کر لیتے تھے جس میں سے اس سے پہلے بلی پانی پی چکی ہوتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٠،حديث نمبر ٣٦٨)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَتَوَضَّأُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ قَدْ أَصَابَتْ مِنْهُ الْهِرَّةُ قَبْلَ ذَلِكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 368

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بلی (آگے سے گزر کر) نماز نہیں توڑتی ہے کیونکہ یہ گھر کے سامان کا ایک حصہ ہے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٠،حديث نمبر ٣٦٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْهِرَّةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ لِأَنَّهَا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 369

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے ایک برتن میں سے غسل کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے اور اس برتن میں سے غسل یا شاید وضو کرنے لگے اس خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں جنابت کی حالت میں تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانی جنبی نہیں ہوتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ:عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢٤١،حديث نمبر ٣٧٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ، أَوْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، قَالَ:" الْمَاءُ لَا يُجْنِبُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 370

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے غسل جنابت کیا پھر اس خاتون کے بچے ہوئے پانی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) غسل کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ:عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢٤٢،حديث نمبر ٣٧١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ، فَتَوَضَّأَ، أَوِ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 371

حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان کے غسل جنابت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ:عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان:،جلد١،ص٢٤٢،حديث نمبر ٣٧٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 372

حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ مرد عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ:عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت:،جلد١،ص٢٤٣،حديث نمبر ٣٧٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 373

حدیث نمبر 374 ‎حضرت عبداللہ بن سر جس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کوئی مرد عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے ذریعے غسل کرے یا کوئی عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے تاہم یہ دونوں ایک ساتھ کسی پانی سے وضو یا غسل کر سکتے ہیں۔ امام ابن ماجہ فرماتے ہیں پہلی روایت درست ہے اور دوسری روایت میں وہم ہے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ: عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت:،جلد١،ص٢٤٤،حديث نمبر ٣٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، وَلَكِنْ يَشْرَعَانِ جَمِيعًا". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةْ: الصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ، وَالثَّانِي، وَهْمٌ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 374

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ایک ہی برتن کے ذریعےغسل کر لیتے تھے ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کیا کرتا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ: عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت:،جلد١،ص٢٤٥،حديث نمبر ٣٧٥) ‎

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَغْتَسِلُ أَحَدُهُمَا بِفَضْلِ صَاحِبِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 375

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٥،حديث نمبر ٣٧٦) ‎

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، نَبَّأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 376

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ ‎(سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٦،حديث نمبر ٣٧٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 377

سیدہ ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ بات بیان کی ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کیا تھا جس میں آٹے کا نشان موجود تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٦،حديث نمبر ٣٧٨)

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اغْتَسَلَ وَمَيْمُونَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 378

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ازواج ایک ہی برتن سے غسل کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٧،حديث نمبر ٣٧٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 379

سیدہ زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں وہ یعنی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان:،جلد١،ص٢٤٧،حديث نمبر ٣٨٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّهَا" كَانَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 380

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مرد اور عورت یعنی ان کی بیویاں گھر میں اکھٹے وضو کر لیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَتَوَضَّآنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ:مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٧،حديث نمبر ٣٨١)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ الرِّجَالُ، وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 381

سیدہ ام صبیہ جہینہ بیان کرتی ہیں بعض اوقات وضو کرتے ہوئے میرے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ہاتھ آگے پیچھے برتن میں داخل ہوتے تھے۔ سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَتَوَضَّآنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ:مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٨،حديث نمبر ٣٨٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ النُّعْمَانِ وَهُوَ ابْنُ سَرْج ، عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ ، قَالَتْ:" رُبَّمَا اخْتَلَفَتْ يَدِي، وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ابْنُ مَاجَةَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: أُمُّ صُبَيَّةَ هِيَ خَوْلَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، فَذَكَرْتُ لِأَبِي زُرْعَةَ، فَقَالَ: صَدَقَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 382

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات منقول ہے یہ دونوں نماز کے لیے ایک ساتھ وضو کیا کرتے تھے۔ سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَتَوَضَّآنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ:مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٨،حديث نمبر ٣٨٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرَمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُمَا كَانَا يَتَوَضَّآَنِ جَمِيعًا لِلصَّلَاةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 383

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جنات سے ملاقات کی رات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہارے پاس وضو کے لیے پانی ہے انہوں نے عرض کی جی نہیں ایک برتن میں تھوڑی سی نبیز موجود ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھجور پاک ہوتی ہے اور پانی کے ذریعے طہارت حاصل کر لی جاتی ہے راوی کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کیا یہ روایت وکیع نامی نے روایت کی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ:نبیذ سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٤٩،حديث نمبر ٣٨٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ:" عِنْدَكَ طَهُورٌ"؟ قَالَ: لَا، إِلَّا شَيْءٌ مِنْ نَبِيذٍ فِي إِدَاوَةٍ، قَالَ:" تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ"، فَتَوَضَّأَ هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 384

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے جنات سے ملاقات والی رات یہ فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے انہوں نے عرض کی جی نہیں صرف ایک مشکیزے میں نبیز ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھجور پاک ہے اور پانی طہارت دینے والا ہے تم وہی مجھ پر بہا دو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اس نے وہ پانی آپ پر انڈیلا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کر لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ:نبیذ سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٠،حديث نمبر ٣٨٥)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةَ الْجِنِّ:" مَعَكَ مَاءٌ"؟ قَالَ: لَا، إِلَّا نَبِيذًا فِي سَطِيحَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ صُبَّ عَلَيَّ"، قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ بِهِ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 385

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہم سمندری سفر کرتے ہیں ہم اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے کر جاتے ہیں اگر ہم اس کے ذریعے وضو کر لیں تو ہم پیاسے رہ جائیں گے تو کیا ہم سمندر کے پانی کے ذریعے وضو کر لیا کریں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا پانی طہارت دیتا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ:سمندر کے پانی سے وضو کا بیان:،جلد١،ص٢٥٠،حديث نمبر ٣٨٦) ‎

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ هُوَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّار، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 386

ابن فراسی بیان کرتے ہیں میں شکار کیا کرتا تھا میرے پاس ایک مشکیزہ تھا جس میں میں پانی رکھا کرتا تھا اور میں سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کرتا تھا میں نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا پانی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ:سمندر کے پانی سے وضو کا بیان:،جلد١،ص٢٥١،حديث نمبر ٣٨٧)

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ ، قَالَ:" كُنْتُ أَصِيدُ، وَكَانَتْ لِي قِرْبَةٌ أَجْعَلُ فِيهَا مَاءً، وَإِنِّي تَوَضَّأْتُ بِمَاءِ الْبَحْرِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 387

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا پانی طہارت دینے والا اور اس کا مردار حلال ہے۔ ایک اور سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ:سمندر کے پانی سے وضو کا بیان:،جلد١،ص٢٥١،حديث نمبر ٣٨٨) ‎

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهَسْتَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 388

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو میں برتن میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی انڈیلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر اپنا چہرہ مبارک دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں بازو دھونے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبے کے نیچے سے دونوں بازو نکال کر انہیں دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ:وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے:،جلد١،ص٢٥٢،حديث نمبر ٣٨٩)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 389

سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا برتن لائی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس سے بہاؤ میں نے اسے بہایا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازو دھوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سرے سے پانی لے کر اس کے ذریعے اپنے سر کے اگے والے اور پیچھے والے حصے کا مسح کیا پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے۔ ‎(سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ:وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے:،جلد١،ص٢٥٣،حديث نمبر ٣٩٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيضَأَةٍ، فَقَالَ:" اسْكُبِي، فَسَكَبْتُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذِرَاعَيْهِ، وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ، وَمُؤَخَّرَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 390

حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے سفر کے دوران اور حضر کے دوران نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وضو کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی انڈیلا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ:وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے:،جلد١،ص٢٥٣،حديث نمبر ٣٩١)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ:" صَبَبْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي السَّفَرِ، وَالْحَضَرِ فِي الْوُضُوءِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 391

سیدہ ام عیاش نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کنیز تھیں واہ بیان کرتی ہیں میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو وضو کرایا کرتی تھی میں کھڑی ہوتی تھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ:وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے:،جلد١،ص٢٥٤،حديث نمبر ٣٩٢)

حَدَّثَنَا كُرْدُوسُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي رَوْحُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ أُمِّ عَيَّاشٍ ، وَكَانَتْ أَمَةً لِرُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" كُنْتُ أُوَضِئُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمَةٌ وَهُوَ قَاعِدٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 392

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص رات کے بعد صبح بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اس ہاتھ پر دو یا تین مرتبہ پانی نہ انڈیل کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا :کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟:،جلد١،ص٢٥٤،حديث نمبر ٣٩٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ: أنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 393

سالمہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں اس وقت تک داخل نہ کرے جب تک اسے دھو نہ لے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا :کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟:،جلد١،ص٢٥٥،حديث نمبر ٣٩٤)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَجَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 394

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور وضو کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں اس وقت تک داخل نہ کرے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہاہے یا اس نے اسے کس جگہ پر رکھا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا :کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟:،جلد١،ص٢٥٥،حديث نمبر ٣٩٥)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ النَّوْمِ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ، وَلَا عَلَى مَا وَضَعَهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 395

حارث بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے پانی منگوایا اور پھر انہوں نے برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھویا اور یہ بات ارشاد فرمائی میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا :کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟:،جلد١،ص٢٥٦،حديث نمبر ٣٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: دَعَا عَلِيٌّ بِمَاءٍ" فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 396

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ھیں اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو وضو کے آغاز میں اس پر اللہ کا نام نہیں لیتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ:بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٦،حديث نمبر ٣٩٧) ‎

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِى سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 397

رباح بن عبدالرحمن اپنی دادی جو حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی ہیں کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو وضو سے پہلے اللہ کا نام نہیں لیتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ:بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٧،حديث نمبر ٣٩٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو ثِفَالٍ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّتَهُ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، تَذْكُرُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 398

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہیں ہوتا اور اس کا وضو نہیں ہوتا جو وضو کے آغاز میں اس پر اللہ کا نام نہیں لیتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ:بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٧،حديث نمبر ٣٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 399

عبدالمہیمن بن عباس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہیں ہوتا اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس پر اللہ کا نام نہیں لیتا اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درود نہیں بھیجتا اوراس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو انصار سے محبت نہیں رکھتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الْوُضُوءِ:بسم اللہ کہہ کر وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٨،حديث نمبر ٤٠٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُحِب الْأَنْصَارَ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَرْحُومٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 400

سیدہ عائشہ صدیقہ ر اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ کو وضو کرنے میں، کنگھی کرنےمیں اور جوتا پہننے میں دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّيَمُّنِ فِي الْوُضُوءِ: دائیں طرف سے وضو شروع کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٩،حديث نمبر ٤٠١)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي الطُّهُورِ إِذَا تَطَهَّرَ، وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ، وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 401

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب تم وضو کرو تو دائیں طرف سے آغاز کرو " (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: التَّيَمُّنِ فِي الْوُضُوءِ: دائیں طرف سے وضو شروع کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٩،حديث نمبر ٤٠٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِمَيَامِنِكُمْ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَة: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بْنُ صَالِحٍ، وَابْنُ نُفَيْل وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 402

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی کریم ﷺنے ایک ہی چلو کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ:ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان:،جلد١،ص٢٥٩،حديث نمبر ٤٠٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غُرْفَةٍ وَاحِدَةٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 403

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے وضو کیا، آپ ﷺ نے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا آپ ﷺ نے یہ عمل ایک ہی چلو کے ذریعے کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ:ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٠،حديث نمبر ٤٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 404

حضرت عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے وضو کے لئے پانی طلب کیا۔ میں پانی لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ایک ہی چلو کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ:ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان:،جلد١،ص٢٦١،حديث نمبر ٤٠٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنَا وَضُوءًا؟ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 405

حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: جب تم وضو کرو تو ناک میں پانی ڈالو اور جب تم پتھر (کے ذریعے استنجا کرو) تو طاق تعداد میں کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان:،جلد١،ص٢٦٢،حديث نمبر ٤٠٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْثُرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 406

عاصم بن لقیط اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ!آپ ﷺمجھے وضو کے بارےمیں بتائیے ، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اچھی طرح وضو کرو اور ناک میں پانی ڈالتے ہوئے مبالغہ کرو! البتہ اگر تم روزے کی حالت میں ہو تو حکم مختلف ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان:،جلد١،ص٢٦٢،حديث نمبر ٤٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ؟ قَالَ:" أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 407

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"دو مرتبہ یا تین مرتبہ مبالغے کے ساتھ ناک میں پانی ڈالو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان:،جلد١،ص٢٦٢،حديث نمبر ٤٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ الْمُرِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 408

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ،وضو کرنے والے شخص کو چاہیے کہ وہ ناک میں پانی ڈالنے اور ڈھیلے استعمال کرنے والے شخص کو طاق تعداد میں ڈھیلے استعمال کرنے چاہئیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان:،جلد١،ص٢٦٣،حديث نمبر ٤٠٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، وَدَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 409

ثابت بن ابو صفیہ بیان کرتے ہیں:میں نے ابو جعفر (یعنی امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے آپ کو یہ حدیث سنائی ہے ؟ نبی کریمﷺ نے ایک، ایک مرتبہ اور دو، دو مرتبہ اور تین، تین مرتبہ وضو کیا ہے، انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً:ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٤،حديث نمبر ٤١٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ الثُّمَالِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثْتَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: نَعَمْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 410

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً:ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٤،حديث نمبر ٤١١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ غُرْفَةً غُرْفَةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 411

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو غزوۂ تبوک کے موقع پر دیکھا کہ آپ ﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً:ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٥،حديث نمبر ٤١٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنْبَأَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ،" تَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 412

شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تین تین مرتبہ وضو کرتے ہوئے دیکھاہے ، ان دونوں حضرات نے یہ بات بیان کی ہے :نبی کریمﷺ کا وضو اسی طرح تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٥،حديث نمبر ٤١٣)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ عُثْمَانَ ، وَعَلِيًّا " يَتَوَضَّآَنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَيَقُولَانِ: هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَاهُ أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 413

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور اس عمل کی نسبت نبی کریمﷺ کی طرف کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٦،حديث نمبر ٤١٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 414

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ تین تین مرتبہ وضو کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٧،حديث نمبر ٤١٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 415

حضرت عبد اللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو تین تین مرتبہ وضو کرتے ہوئے اور ایک مرتبہ سر کا مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٧،حديث نمبر ٤١٦)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ فَائِدِ أَبِى الْوَرْقَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 416

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ تین تین مرتبہ وضو کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٧،حديث نمبر ٤١٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 417

سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ تین تین مرتبہ وضو کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا:تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٨،حديث نمبر ٤١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 418

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ وضو ہے، جس کے بغیر اللہ تعالی نماز قبول نہیں کرتا ہے، پھر آپ ﷺ نے دو دو مرتبہ وضو کیا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، یہ وہ وضو ہے، جس کی وجہ سے قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے، پھر آپ ﷺ نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور ارشاد فرمایا: یہ سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ کیا جانے والا وضو ہے، یہ میرا اور اللہ تعالی کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وضو کرنے کا طریقہ ہے ، جو شخص اس طرح وضو کرے اور اس سے فارغ ہونے کے بعد یہ پڑھے۔" ‎ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں" ‎(نبی کریمﷺ فرماتے ہیں) تو اس شخص کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس سے بھی چاہے داخل ہو جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلاَثًا:ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٦٩،حديث نمبر ٤١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً، فَقَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَلَاةً إِلَّا بِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثِنْتَيْنِ ثِنْتَيْنِ، فَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ الْقَدْرِ مِنَ الْوُضُوءِ، وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَقَالَ: هَذَا أَسْبَغُ الْوُضُوءِ، وَهُوَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ خَلِيلِ اللَّهِ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 419

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: ”یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے“، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: ”یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: ”یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلاَثًا:ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٧١،حديث نمبر ٤٢٠)

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ قَعْنَبٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحَوَارِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً فَقَالَ:" هَذَا وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ" أَوْ قَالَ:" وُضُوءٌ مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأْهُ، لَمْ يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً، ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوءٌ مَنْ تَوَضَّأَهُ، أَعْطَاهُ اللَّهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، فَقَالَ:" هَذَا وُضُوئِي، وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 420

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:وضو کے لئے ایک مخصوص شیطان ہے جس کا نام ولہان ہے اس لئے تم پانی کے وسوسے سے بچو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧٠،حديث نمبر ٤٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: وَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 421

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان ہے نقل کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اس نے آپ ﷺ سے وضو کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی کریمﷺ نے اسے تین،تین مرتبہ وضو کرکے دکھایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧١،حديث نمبر ٤٢٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ؟ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ، أَوْ تَعَدَّى، أَوْ ظَلَمَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 422

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات بسر کی نبی کریمﷺ بیدار ہوئے ، آپ ﷺ نے چھوٹے مشکیزے سے وضو کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: نبی کریمﷺ نے مختصر وضو کیا۔ پھر میں اٹھا اور میں نے ویسا ہی کیا جس طرح نبی کریمﷺ نے کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧١،حديث نمبر ٤٢٣)

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ كُرَيْبًا ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ،" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 423

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ایک شخص کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : تم اسراف نہ کرو ، اسراف نہ کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧١،حديث نمبر ٤٢٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: لَا تُسْرِفْ، لَا تُسْرِفْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 424

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ وضو کر رہے تھے ، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ، یہ کیا فضول خرچی ہے، انہوں نے عرض کی: کیا وضو میں بھی فضول خرچی ہوتی ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جی ہاں، اگرچہ تم ایک بہتی ہوئی نہر پر وضو کر رہے ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان:،جلد١،ص٢٧٢،حديث نمبر ٤٢٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ:" مَا هَذَا السَّرَفُ"؟ فَقَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 425

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ باب: اچھی طرح وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٧٣،حديث نمبر ٤٢٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 426

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی اس کام کی طرف کروں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور اس کی وجہ سے نیکیوں میں اضافہ کر دیتا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب طبیعت آمادہ نہ ہو، اس وقت اچھی طرح وضو کرنا، زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مسجد کی طرف جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ باب: اچھی طرح وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٧٣،حديث نمبر ٤٢٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ"؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 427

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، گناہوں کو ختم کرنے والی چیز طبیعت آمادہ نہ ہو اس وقت وضو کرنا، مساجد کی طرف پیدل چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ باب: اچھی طرح وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٧٤،حديث نمبر ٤٢٨)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَفَّارَاتُ الْخَطَايَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَإِعْمَالُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 428

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی کریمﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٤،حديث نمبر ٤٢٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 429

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کیا تو اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٥،حديث نمبر ٤٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْقَزْوِينِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 430

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ وضو کرتے ہوئے اپنی دونوں انگلیوں کو کشادہ کر کے اپنی داڑھی مبارک کا دو مرتبہ خلال کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٥،حديث نمبر ٤٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ، وَفَرَّجَ أَصَابِعَهُ مَرَّتَيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 431

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ وضو کرتے ہوئے اپنے رخسار کو کچھ ملتے تھے پھر نیچے کی طرف سے اپنی انگلیاں داڑھی میں داخل کرکے (اس کا خلال کرتے تھے) (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٥،حديث نمبر ٤٣٢)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأَ عَرَكَ عَارِضَيْهِ بَعْضَ الْعَرْكِ، ثُمَّ شَبَكَ لِحْيَتَهُ بِأَصَابِعِهِ مِنْ تَحْتِهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 432

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے وضو کیا، تو اپنی داڑھی کا خلال بھی کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:باب مَا جَاءَ فی تخلیل اللحیۃ:،جلد١،ص٢٧٧،حديث نمبر ٤٣٣)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 433

عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ان سے یہ کہا: کیا آپ یہ کر سکتے ہیں؟ کہ مجھے یہ دکھائیں کہ نبی کریمﷺ کس طرح وضو کیا کرتے تھے، تو حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں پر اسے بہا دو مرتبہ دھویا پھر انہوں نے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر انہوں نے دونوں بازو کہنیوں تک دو، دو مرتبہ دھوئے پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اپنے سر کا دو مرتبہ مسح کیا وہ پہلے ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے اور بھر پیچھے سے آگے کی طرف آئے انہوں نے سر کے اگلے حصے سے آغاز کیا پھر وہ دونوں ہاتھ پیچھے گدی تک لے گئے تھے پھر انہیں واپس لے آئے تھے اس جگہ، جہاں سے انہوں نے مسح کا آغاز کیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں پیر دھوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٧٨،حديث نمبر ٤٣٤)

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ : نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا، وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 434

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٧٨،حديث نمبر ٤٣٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 435

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ اپنے سر مبارک کا ایک مرتبہ مسح کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٧٩،حديث نمبر ٤٣٦)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 436

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے اپنے سر مبارک پر ایک مرتبہ مسح کیا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨٠،حديث نمبر ٤٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 437

سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے سر پر دو مرتبہ مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ: سر کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨٠،حديث نمبر ٤٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّتَيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 438

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے اپنے دونوں کانوں کا مسح کیا، آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلیاں کانوں کیے اندر داخل کیں اور انگوٹھوں کو کان کے باہر والے حصہ پر رکھا پھر آپ ﷺ نے اس کے بیرونی اور اندرونی حصے کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الأُذُنَيْنِ باب: کانوں کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨١،حديث نمبر ٤٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ أُذُنَيْهِ دَاخِلَهُمَا بِالسَّبَّابَتَيْنِ، وَخَالَفَ إِبْهَامَيْهِ إِلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ، فَمَسَحَ ظَاهِرَهُمَا، وَبَاطِنَهُمَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 439

سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے کانوں کے بیرونی اور اندرونی حصے کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الأُذُنَيْنِ باب: کانوں کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨١،حديث نمبر ٤٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَسَحَ ظَاهِرَ أُذُنَيْهِ، وَبَاطِنَهُمَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 440

سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنی انگلیاں کانوں کے سوراخوں میں داخل کیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الأُذُنَيْنِ باب: کانوں کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨٢،حديث نمبر ٤٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْن عَفْرَاءَ ، قَالَتْ:" تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي جُحْرَيْ أُذُنَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 441

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے سر مبارک اور دونوں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الأُذُنَيْنِ باب: کانوں کے مسح کا بیان:،جلد١،ص٢٨٢،حديث نمبر ٤٤٢)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّأَ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا، وَبَاطِنَهُمَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 442

حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "دونوں کان" سر کا حصہ ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ:وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے:،جلد١،ص٢٨٢،حديث نمبر ٤٤٣)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 443

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دونوں کان " سر کا حصہ ہیں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی کریمﷺ اپنے سر مبارک کا ایک مرتبہ مسح کرتے تھے اور آپ ﷺ اپنی آنکھوں کے اطراف کو بھی ملا کرتے تھے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ:وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے:،جلد١،ص٢٨٣،حديث نمبر ٤٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ، وَكَانَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً، وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 444

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ:وضو کے باب میں کان سر میں داخل ہے:،جلد١،ص٢٨٣،حديث نمبر ٤٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأُذُنَانِ مِنِ الرَّأْسِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 445

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے اپنی چھوٹی انگلی کے ذریعے اپنے دونوں پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا تھا۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَخْلِيلِ الأَصَابِعِ: انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان:،جلد١،ص٢٨٣،حديث نمبر ٤٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصِرِهِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا خَازِمٌ بْنُ يَحْيَي الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 446

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب تم نماز ادا کرنے لگو تو اچھی طرح وضو کرو اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پانی داخل کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَخْلِيلِ الأَصَابِعِ: انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان:،جلد١،ص٢٨٥،حديث نمبر ٤٤٧)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَاجْعَلِ الْمَاءَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 447

عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، اچھی طرح وضو کرو اور اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَخْلِيلِ الأَصَابِعِ: انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان:،جلد١،ص٢٨٥،حديث نمبر ٤٤٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 448

عبید اللہ بن ابو رافع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریمﷺ جب وضو کرتے تھے تو آپ ﷺ اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: تَخْلِيلِ الأَصَابِعِ: انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان:،جلد١،ص٢٨٦،حديث نمبر ٤٤٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا تَوَضَّأَ حَرَّكَ خَاتَمَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 449

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا جب کہ ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں (یعنی وہ خشک تھیں) نبی کریمﷺ نے فرمایا ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے تم لوگ اچھی طرح وضو کرو ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٦،حديث نمبر ٤٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 450

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : (بعض) ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٧،حديث نمبر ٤٥١)

قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 451

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بعض ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٨،حديث نمبر ٤٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَتْ عَائِشَةُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَتْ: أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 452

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بعض ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٨،حديث نمبر ٤٥٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 453

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: بعض ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٨،حديث نمبر ٤٥٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 454

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، حضرت یزید بن سفیان رضی اللہ عنہ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ یہ سب حضرات یہ بات بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی کریمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے مکمل وضو کرو بعض ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: غَسْلِ الْعَرَاقِيبِ: ایڑیوں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٩،حديث نمبر ٤٥٥)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل الدِّمَشْقِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ الْأَحْنَفِ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، وَشُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَعَمْرَو بْنِ الْعَاصِ ، كُلُّ هَؤُلاءِ سَمِعُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتِمُّوا الْوُضُوءَ، وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 455

ابو حیہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے پھر یہ ارشاد فرمایا: میں نے یہ چاہا کہ میں تمہیں تمہارے نبی ﷺ کے وضو کا طریقہ دکھا دوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٨٩،حديث نمبر ٤٥٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 456

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے دونوں پاؤں تین، تین مرتبہ دھوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٠،حديث نمبر ٤٥٧)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 457

حضرت ربیع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا (راوی کہتے ہیں)سیدہ ربیع کی مراد ان کی نقل کردہ وہ حدیث تھی، جس میں انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے، نبی کریمﷺ نے وضو کیا، آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٠،حديث نمبر ٤٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ ، قَالَتْ: أَتَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ تَعْنِي حَدِيثَهَا الَّذِي ذَكَرَتْ: أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّاسَ أَبَوْا إِلَّا الْغَسْلَ، وَلَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا الْمَسْحَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 458

جامع بن شداد بیان کرتے ہیں: میں نے حمران کو مسجد میں حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو یہ روایت کرتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نبی کریمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا ہے آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: جو شخص مکمل وضو اسی طرح کرے جس طرح اللہ تعالٰی نے یہ حکم دیا ہے، تو فرض نمازیں ان کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى:اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩١،حديث نمبر ٤٥٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ يُحَدِّثُ، أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 459

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک آدمی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ وضو نہیں کرتا جس طرح اللہ تعالٰی نے اسے حکم دیا ہے وہ اپنے چہرے کو دھوئے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے۔ اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى:اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٢،حديث نمبر ٤٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ، حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 460

حضرت حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریمﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں پانی لیا اور اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑک لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ:وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٢،حديث نمبر ٤٦١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ، قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 461

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جبرئیل علیہ السّلام نے مجھے وضو کرنے کا طریقہ بتایا: انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اپنے کپڑے کے نیچے پانی چھڑک لوں اس وجہ کہ وضو (کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ) باہر آسکتا ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ:وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٣،حديث نمبر ٤٦٢)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ ، عَنْ أَبِيِه زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَّمَنِي جِبْرَائِيلُ الْوُضُوءَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْضَحَ تَحْتَ ثَوْبِي لِمَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَوْلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التَّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنِ لَهِيعَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 462

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب تم وضو کرو (تو اپنی شرمگاہ پر) پانی چھڑک لو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ:وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٤،حديث نمبر ٤٦٣)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سَلَمَةَ الْيَحْمِدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 463

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ:وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٤،حديث نمبر ٤٦٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ فَرْجَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 464

سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمﷺ غسل کرنے کے لئے تشریف لے گئے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ تان لیا پھر نبی کریمﷺ نے کپڑا لیا اسے لحاف کے طور پر لپیٹ لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٤،حديث نمبر ٤٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ،" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ، ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 465

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے آپ ﷺ کے لئے پانی رکھا تو آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر ہم نے ورس لگا ہوا ایک رومال آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ ﷺ نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا، آپ ﷺ کے پیٹ کی سلوٹ پر ورس کے نشان کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٥،حديث نمبر ٤٦٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ مَاءً فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 466

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں کپڑا لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جب آپ ﷺ غسل جنابت کرکے فارغ ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے وہ کپڑا واپس کر دیا اور ہاتھوں کے ذریعے ہی پانی کو خشک کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٦،حديث نمبر ٤٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ حِينَ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَرَدَّهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 467

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے وضو کیا اس کے بعد آپ ﷺ نے جو اونی جبہ پہنا ہوا تھا اسے الٹا کیا اور اس کے ذریعے اپنے چہرے کو پونچھ لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ وَبَعْدَ الْغُسْلِ: وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٦،حديث نمبر ٤٦٨)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ ، حَدَّثَنَا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَقَلَبَ جُبَّةَ صُوفٍ كَانَتْ عَلَيْهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 468

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر تین مرتبہ یہ پڑھے۔ "میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں"۔ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ الْوُضُوءِ: وضو کے بعد کی دعاؤں کا بیان:،جلد١،ص٢٩٧،حديث نمبر ٤٦٩)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ أَبُو سُلَيْمَانَ النَّخَعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 469

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو بھی مسلمان اچھی طرح وضو کرے اور پھر یہ پڑھے۔"میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں" تو اس شخص کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں وہ ان میں سے جس میں چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ الْوُضُوءِ: وضو کے بعد کی دعاؤں کا بیان:،جلد١،ص٢٩٨،حديث نمبر ٤٧٠)

حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 470

نبی کریمﷺ کے صحابی حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ ﷺ کی خدمت میں پیتل کے برتن میں پانی پیش کیا، تو آپ ﷺ نے اس کے ذریعے وضو کر لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالصُّفْرِ: پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٨،حديث نمبر ٤٧١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمَاجِشُونِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 471

ابراہیم بن محمد اپنے والد کے حوالے سے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ان کے پاس پیتل کا بنا ہوا ایک ٹب تھا وہ بیان کرتی ہیں، میں نبی کریمﷺ کے سر مبارک کو اس میں کنگھی کیا کرتی تھی(یعنی اس برتن میں موجود پانی کے ذریعے دھو کر آپ ﷺ ک بال سنوارا کرتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالصُّفْرِ: پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٢٩٩،حديث نمبر ٤٧٢)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا مِخْضَبٌ مِنْ صُفْرٍ، قَالَتْ:" فَكُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 472

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے (پتھر یا پیتل)کے برتن میں موجود پانی کے ذریعے وضو کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ بِالصُّفْرِ: پیتل کے برتن سے وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠٠،حديث نمبر ٤٧٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فِي تَوْرٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 473

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ جب سو جاتے تھے تو خراٹے لینے لگتے تھے پھر آپ ﷺ اٹھ کر نماز ادا کرتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ طنافسی کہتے ہیں وکیع نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی: نبی کریم ﷺ سجدے کی حالت میں سو جایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠٠،حديث نمبر ٤٧٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنَامُ حَتَّى يَنْفُخَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي، وَلَا يَتَوَضَّأُ"، قَالَ الطَّنَافِسِيُّ: قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي وَهُوَ سَاجِدٌ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 474

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے اور نماز ادا کرنے لگے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠١،حديث نمبر ٤٧٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 475

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: آپ ﷺ کا یہ سونا بیٹھے ہوئے ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠٠،حديث نمبر ٤٧٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ أَبِي مَطَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ نَوْمُهُ ذَلِكَ وَهُوَ جَالِسٌ"، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 476

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، آنکھ، پچھلی شرمگاہ کا سر بند ہے، تو جو شخص سوجائے اسے وضو کر لینا چاہئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠١،حديث نمبر ٤٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّهِ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 477

حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے، جب ہم سفر کی حالت میں ہوں، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں، البتہ جنابت کی صورت میں اتارنے ہوں گے، لیکن پاخانہ، پیشاب یا سونے(کی وجہ سے وضو ختم ہونے پر دوبارہ وضو کرتے ہوئے انہیں اتاریں گے)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان:،جلد١،ص٣٠٢،حديث نمبر ٤٧٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ، وَبَوْلٍ، وَنَوْمٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 478

سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھولے، تو وضو کر لینا چاہئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان،جلد١،ص٣٠٢،حديث نمبر ٤٧٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 479

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: "جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو اس پر وضو لازم ہوگا"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان،جلد١،ص٣٠٣،حديث نمبر ٤٨٠)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 480

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے وہ وضو کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان،جلد١،ص٣٠٣،حديث نمبر ٤٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 481

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے اسے چاہئے کہ وہ وضو کرے"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ: شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان،جلد١،ص٣٠٤،حديث نمبر ٤٨٢)

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 482

قیس بن طلق حنفی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو سنا آپ ﷺ سے شرمگاہ کو چھونے کےبارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس سے) وضو کرنا لازم نہیں ہوتا یہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ:شرمگاہ چھونے پر وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان:جلد١،ص٣٠٤،حديث نمبر ٤٨٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ الْحَنَفِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سُئِلَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ فِيهِ وُضُوءٌ إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 483

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ سے شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارا حصہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ:شرمگاہ چھونے پر وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان:جلد١،ص٣٠٥،حديث نمبر ٤٨٤)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ:" سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ جِذْيَةٌ مِنْكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 484

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو چیز آگ پر پکی ہو، اس کو کھانے سے وضو کرنا لازم ہوگا خواہ وہ پنیر کا ٹکڑا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا ہم گرم پانی کی وجہ سے وضو کریں گے؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! جب تم نبی کریمﷺ کےحوالے سے کوئی حدیث سن لو، تو اس کے سامنے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ: آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣٠٦،حديث نمبر ٤٨٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ؟ فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَا تَضْرِبْ لَهُ الْأَمْثَالَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 485

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے کے بعد) وضو کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ: آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣٠٦،حديث نمبر ٤٨٦)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 486

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھے اور یہ ارشاد فرمایا: یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو کہ آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے کے بعد) وضو کرو ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ: آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣٠٦،حديث نمبر ٤٨٧)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَيَقُولُ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 487

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، نبی کریمﷺ نے (جانور کے ) کندھے کا گوشت کھایا پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کپڑے کے ذریعے صاف کئے جو آپ ﷺ کے نیچے موجود تھا، پھر آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور آپ ﷺ نے نماز ادا کرنا شروع کردی ( یعنی از سر نو وضو نہیں کیا)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٠٨،حديث نمبر ٤٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا، ثُمَّ مَسَحَ يَدَيْهِ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 488

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روٹی اور گوشت کھایا اور (اس کے بعد از سر نو) وضو نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٠٩،حديث نمبر ٤٨٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَلَمْ يَتَوَضَّئُوا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 489

ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں ولید یا شاید عبد الملک (نامی حکمران) کے ہاں رات کے کھانے میں شریک ہوا جب نماز کا وقت ہوا تو میں وضو کرنے کے لئے اٹھا تو حضرت جعفر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی میں اپنے والد کے حوالے سے گواہی دے کر یہ بات بیان کر رہا ہوں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے آگ پر پکا ہوا کھانا کھایا تھا پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے نماز ادا کی تھی اور از سر نو وضو نہیں کیا تھا۔ اس پر "علی"جو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے بھی یہ بات بیان کی کہ میں اپنے والد کے حوالے سے گواہی دے کر اسی کی مانند بات بیان کرتا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٠٩،حديث نمبر ٤٩٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: حَضَرْتُ عَشَاءَ الْوَلِيدِ، أَوْ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قُمْتُ لِأَتَوَضَّأَ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" أَكَلَ طَعَامًا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بِمِثْلِ ذَلِكَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 490

سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں نبی کریمﷺ کی خدمت میں بکری کے کندھے کا گوشت پیش کیاگیا آپ ﷺ نے اسے کھا لیا اور نماز ادا کی آپ ﷺ نے پانی استعمال نہیں کیا (یعنی از سر نو وضو نہیں کیا)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٠،حديث نمبر ٤٩١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهُ، وَصَلَّى، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 491

حضرت سوید بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ لوگ ‌نبی کریم ﷺ کے ساتھ خیبر گئے جب یہ حضرات "صہباء" کے مقام پر پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے عصر کی نماز ادا کی پھر آپ ﷺ نے کھانے کے لئے منگوایا تو آپ ﷺ کی خدمت میں صرف ستو پیش کئے گئے، آپ ﷺ نے انہیں کھا لیا اور پانی پی لیا پھر آپ ﷺ نے پانی منگوا کر کلی کی پھر آپ ﷺ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی (یعنی آپ ﷺ نے از سر نو وضو نہیں کیا)۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٠،حديث نمبر ٤٩٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ،" أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ" صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِأَطْعِمَةٍ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 492

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا ، پھر آپ ﷺ نے کلی کی دونوں ہاتھ دھوئے اور نماز ادا کرلی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١١،حديث نمبر ٤٩٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ فَمَضْمَضَ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ، وَصَلَّى".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 493

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ سے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بعد وضو کر لیا کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣١١،حديث نمبر ٤٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ فَقَالَ:" تَوَضَّئُوا مِنْهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 494

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کر لیا کریں، البتہ بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کیا کریں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣١٢،حديث نمبر ٤٩٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 495

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بکریوں کا دودھ پینے کے بعد وضو نہ کرو البتہ اونٹنی کا دودھ پینے کے بعد وضو کر لیا کرو"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣١٢،حديث نمبر ٤٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّه مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَكَانَ ثِقَةً 72، وَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ عَنْهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الإِبِلِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 496

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " اونٹوں کا گوشت کھانے کے بعد وضو کر لیا کرو ،بکریوں کا دودھ پینے کے بعد وضو نہ کیا کرو، بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کرو، اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کیا کرو"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان:جلد١،ص٣١٢،حديث نمبر ٤٩٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ هُبَيْرَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 497

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: دودھ پینے کے بعد کلی کر لیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔:جلد١،ص٣١٣،حديث نمبر ٤٩٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَضْمِضُوا مِنَ اللَّبَنِ فَإِنَّ لَهُ دَسَمًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 498

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی کریمﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب تم دودھ پیو تو کلی کر لیا کرو ، کونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔:جلد١،ص٣١٤،حديث نمبر ٤٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَرِبْتُمُ اللَّبَنَ فَمَضْمِضُوا فَإِنَّ لَهُ دَسَمًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 499

عبد المہیمن بن عباس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا(حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ، دودھ پینے کے بعد کلی کر لیا کرو، کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔:جلد١،ص٣١٤،حديث نمبر ٥٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَضْمِضُوا مِنَ اللَّبَنِ فَإِنَّ لَهُ دَسَمًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 500

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے بکری کا دودھ دوہ لیا آپ ﷺ نے اس کے دودھ کو پی لیا پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اوراپنے منہ میں کلی کی پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ الْمَضْمَضَةِ مِنْ شُرْبِ اللَّبَنِ: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔:جلد١،ص٣١٥،حديث نمبر ٥٠١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" حَلَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً وَشَرِبَ مِنْ لَبَنِهَا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 501

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا پھر آپ ﷺ نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے از سر نو وضو نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا وہ آپ ہی ہونگی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرائیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ:بوسہ لے کر وضو کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٥،حديث نمبر ٥٠٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، قُلْتُ: مَا هِيَ إِلَّا أَنْتِ، فَضَحِكَتْ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 502

سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ وضو کرتے تھے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور نماز ادا کر لیتے تھے‌ آپ ﷺ از سر نو وضو نہیں کرتے تھے، بعض اوقات آپ ﷺ میرے ساتھ بھی ایسا کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ:بوسہ لے کر وضو کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٦،حديث نمبر ٥٠٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ زَيْنَبَ السَّهْمِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُقَبِّلُ وَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ، وَرُبَّمَا فَعَلَهُ بِي".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 503

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے مذی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: مذی ( خارج ہونے ) پر صرف وضو کر نالازم ہوگا اور منی ( خارج ہونے) پر غسل لازم ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ:مذی سے وضو کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣١٦،حديث نمبر ٥٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ؟، فَقَالَ:" فِيهِ الْوُضُوءُ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 504

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو اپنی عورت کے قریب ہوتا ہے تو اسے انزال نہیں ہوتا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص کو اس طرح کی صورتحال ہو تو وہ (زوجہ محترمہ ) اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے۔ ( راوی کہتے ہیں: ) نبی کریم ﷺ کی‌ مراد یہ تھی کہ وہ اسے دھو کر وضو کر لیں (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ:مذی سے وضو کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣١٧،حديث نمبر ٥٠٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجْلِ يَدْنُو مِنِ امْرَأَتِهِ فَلَا يُنْزِلُ؟ قَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ، يَعْنِي لِيَغْسِلْهُ وَيَتَوَضَّأْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 505

حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری مذی بکثرت خارج ہوا کرتی تھی جس کے نتیجے میں مجھے بکثرت غسل کرنا پڑتا تھا میں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسی صورت میں تمہارے لیے وضو کافی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ جو میرے کپڑے پر لگ جاتا ہے اس کا کیا ہوگا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ایک چلو میں پانی لے کر اسے اپنے کپڑے پر اس جگہ چھڑک دو جہاں وہ لگی ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ:مذی سے وضو کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣١٧،حديث نمبر ٥٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ:" كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً فَأُكْثِرُ مِنْهُ الِاغْتِسَالَ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ قَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكَ كَفٌّ مِنْ مَاءٍ تَنْضَحُ بِهِ مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 506

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ ان دونوں صاحبان کے پاس ( گھر سے باہر ) تشریف لائے اور بتایا : میری مذی خارج ہوگئی تھی تو میں نے اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کیا ہے ( اس لیے باہر آنے میں دیر ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا یہ جائز ہے تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ:مذی سے وضو کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣١٨،حديث نمبر ٥٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَتَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَهُ عُمَرُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ:" إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ"، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَ يُجْزِئُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 507

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ رات کے وقت بیدار ہوئے آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے آپ ﷺ نے قضائے حاجت کی پھر آپ ﷺ نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے اور پھر آپ ﷺ سو گئے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: وُضُوءِ النَّوْمِ:سونے کے لیے وضو کرنے کا بیان:جلد١،ص٣١٨،حديث نمبر ٥٠٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ لِزَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ : يَا أَبَا الصَّلْتِ هَلْ سَمِعْتَ فِي هَذَا شَيْئًا؟ فَقَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ نَامَ". حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَنْبَأَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ: فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَحَدَّثَنِي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 508

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے اور ہم تمام نمازوں کے لیے ایک ہی وضو کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان:جلد١،ص٣١٩،حديث نمبر ٥٠٩)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَكُنَّا نَحْنُ نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 509

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ نے ایک ہی وضو کے ذریعے تمام نمازیں ادا کی تھیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان:جلد١،ص٣٢٠،حديث نمبر ٥١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 510

فضل بن مبشر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا انہوں نے ایک ہی وضو کے ساتھ تمام نمازیں ادا کیں تو میں نے ان سے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے تو میں تو ویسا ہی کروں گا، جس طرح نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ: ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان:جلد١،ص٣٢٠،حديث نمبر ٥١١)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ " يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا، فَأَنَا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 511

ابو غطیف ہذلی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مسجد میں ان کی مجلس میں سناجب نماز کا وقت ہوا تو وہ اٹھے اور انہوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی اور پھر اپنی محفل میں آکر بیٹھ گئے جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو وہ اٹھے انہوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی اور واپس اپنی محفل میں آکر بیٹھ گئے جب مغرب کا وقت ہوا تو وہ اٹھے انہوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی پھر واپس اپنی محفل میں آکر بیٹھ گئے میں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کی بہتری کرے کیا ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض ہے یا سنت ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دریافت کیا: کیا تم نے اسے میری طرف منسوب کیا ہے یا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ یہ میری طرف سے ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا نہیں۔ اگر میں چاہتا تو صبح کی نماز کے لیے وضو کرنے کے بعد اس وضو کے ذریعے تمام نمازیں ادا کرتا جب تک میں بے وضو نہیں ہوتالیکن میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جو شخص باوضو ہونے کے باوجود وضو کرے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں ۔ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا )میں نے نیکیوں میں رغبت کی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْوُضُوءِ عَلَى الطَّهَارَةِ: وضو پر وضو کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٢١،حديث نمبر ٥١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مَجْلِسِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْمَغْرِبُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ، فَقُلْتُ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَفَرِيضَةٌ أَمْ سُنَّةٌ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ؟ قَالَ: أَوَ فَطِنْتَ إِلَيَّ، وَإِلَى هَذَا مِنِّي، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: لَا، لَوْ تَوَضَّأْتُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ لَصَلَّيْتُ بِهِ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا مَا لَمْ أُحْدِثْ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى كُلِّ طُهْرٍ فَلَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ"، وَإِنَّمَا رَغِبْتُ فِي الْحَسَنَاتِ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 512

عباس بن تمیم اپنے چاچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کی شکایت کی گئی جسے نماز کے دوران کچھ محسوس ہوتا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں۔ جب تک وہ بو کومحسوس نہیں کرتا یا آواز نہیں سنتا (اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹے گا) (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ:حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٢٢،حديث نمبر ٥١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ:" شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" لَا حَتَّى يَجِدَ رِيحًا، أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 513

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ سے نماز کے دوران شبہ لاحق ہونے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی اس وقت تک نماز ختم نہیں کرے گا جب تک (ہوا خارج ہونے کی آواز )نہیں سن لیتا یا اسے بو محسوس نہیں ہوتی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ:حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٢٢،حديث نمبر ٥١٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّشَبُّهِ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ:" لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 514

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: وضو اس وقت لازمی ہوتا ہے جب آواز آئے یا ہوا ( بد بو ) خارج ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ:حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٢٢،حديث نمبر ٥١٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ، أَوْ رِيحٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 515

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں میں نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو اپنے کپڑے کو سونگھتے ہوئے دیکھا میں نے دریافت کیا: اس کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے بتایا میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: وضو صرف اس وقت لازم ہوتا ہے جب بو محسوس ہو یا آواز سنائی دے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ حَدَثٍ:حدث کے بغیر وضو کے واجب نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٢٤،حديث نمبر ٥١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَشُمُّ ثَوْبَهُ، فَقُلْتُ: مِمَّ ذَلِكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ رِيحٍ، أَوْ سَمَاعٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 516

عبید اللہ بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کوسنا آپ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی ویرانے میں ہوتا ہے اور اس سے درندے اور چوپائے آکر پیتے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب پانی دو قلے ہو جائے تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مِقْدَارِ الْمَاءِ الَّذِي لاَ يَنْجَسُ: پانی کی وہ مقدار جس میں نجاست پڑنے سے پانی نجس نہیں ہوتا:جلد١،ص٣٢٥،حديث نمبر ٥١٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنَ الْأَرْضِ، وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ، وَالسِّبَاعِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ". حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 517

عبید اللہ بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب پانی دو قلے ہو جائے یا تین قلے ہو جائے تو اسے کوئی چیز نا پاک نہیں کرتی ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مِقْدَارِ الْمَاءِ الَّذِي لاَ يَنْجَسُ: پانی کی وہ مقدار جس میں نجاست پڑنے سے پانی نجس نہیں ہوتا:جلد١،ص٣٢٦،حديث نمبر ٥١٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُو سَلَمَةَ، وَابْنُ عَائِشَةَ الْقُرَشِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 518

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے ان حوضوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ہیں جہاں درندے کتے اور گدھے ( آ کر پانی ) پیتے ہیں ان سے وضو کرنے کے بارے میں بھی نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ درندے اپنے پیٹ میں جو ڈال لیتے ہیں وہ ان کا ہوا اور جو وہ چھوڑ جاتے ہیں وہ ہمارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْحِيَاضِ: حوض اور تالاب کا بیان:جلد١،ص٣٢٦،حديث نمبر ٥١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السِّبَاعُ، وَالْكِلَابُ، وَالْحُمُرُ، وَعَنِ الطَّهَارَةِ مِنْهَا؟ فَقَالَ لَهَا:" مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا، وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 519

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم لوگ ایک کنویں کے پاس پہنچے تو وہاں اس میں ایک مردار گدھا پڑا ہوا تھا راوی کہتے ہیں: ہم اس پانی سے وضو کرنے سے رک گئے پھر ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا) تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانی کو کوئی چیز نا پاک نہیں کرتی ہے۔ ( راوی کہتے ہیں ) پھر ہم نے اسے پی بھی لیا اور جانوروں کوبھی پلایا اور زادراہ کے طور پر ساتھ بھی رکھ لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْحِيَاضِ: حوض اور تالاب کا بیان:جلد١،ص٣٢٧،حديث نمبر ٥٢٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَرِيفِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: انْتَهَيْنَا إِلَى غَدِيرٍ فَإِذَا فِيهِ جِيفَةُ حِمَارٍ، قَالَ: فَكَفَفْنَا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ"، اسْتَقَيْنَا، وَأَرْوَيْنَا، وَحَمَلْنَا.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 520

حضرت امامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : " پانی کو کوئی چیز نا پاک نہیں کرتی ہے ماسوائے اس چیز کے جو اس کی بو،ذائقے یا رنگ پر غالب آجائے (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْحِيَاضِ: حوض اور تالاب کا بیان:جلد١،ص٣٢٧،حديث نمبر ٥٢١)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، إِلَّا مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ، وَطَعْمِهِ، وَلَوْنِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 521

سیده لبابه بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا میں نے عرض کی: یارسول اللہ( ﷺ) آپ ﷺ مجھے اپنا کپڑا دیجیے اور آپ ﷺ دوسرا کپڑا پہن لیجیے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر مایا بچے کے پیشاب پر پانی چھڑ کا جائے گا اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٢٨،حديث نمبر ٥٢٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: بَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي ثَوْبَكَ، وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 522

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بچے کو لایا گیا تو اس نےآپ ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا نبی کریم ﷺ نے اس پر پانی چھڑک دیا آپ ﷺ نے اسے دھویا نہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٢٨،حديث نمبر ٥٢٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ وَلَمْ يَغْسِلْهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 523

سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک مرتبہ میں اپنے چھوٹے بچے جس نے ابھی کچھ کھانا شروع نہیں کیا تھا، کولے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس بچے نے آپ ﷺ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٢٩،حديث نمبر ٥٢٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ:" دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّ عَلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 524

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٣٠،حديث نمبر ٥٢٥)

حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَنْبَأَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ:" يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 525

حضرت ابو سمح بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کا خادم تھا آپ ﷺ کی خدمت میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کولایا گیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کر دیا لوگوں نے اسے دھونے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس پر پانی بہا دو کیونکہ بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پرپانی بہا دیا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٣٠،حديث نمبر ٥٢٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو السَّمْحِ ، قَالَ: كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَجِيءَ بِالْحَسَنِ أَوْ الْحُسَيْنِ، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُشَّهُ فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُرَشُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 526

سیده ام کرز بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ ابوالیمان مصری کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث «يرش من الغلام، ويغسل من بول الجارية» بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے کے متعلق پوچھا کہ دونوں میں فرق کی کیا وجہ ہے جب کہ پیشاب ہونے میں دونوں برابر ہیں؟ تو امام شافعی نے جواب دیا: لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے بنا ہے، اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے، اس کے بعد مجھ سے کہا: کچھ سمجھے؟ میں نے جواب دیا: نہیں، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو ان کی چھوٹی پسلی سے حواء پیدا کی گئیں، تو بچے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہوا، اور بچی کا پیشاب خون اور گوشت سے، پھر مجھ سے پوچھا: سمجھے؟ میں نے کہا: ہاں، اس پر انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے نفع بخشے. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ:کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم:جلد١،ص٣٣٠،حديث نمبر ٥٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَوْلُ الْغُلَامِ يُنْضَحُ، وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَالْمَاءَانِ جَمِيعًا وَاحِدٌ؟ قَالَ:" لِأَنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، وَبَوْلَ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ، ثُمَّ قَالَ لِي: فَهِمْتَ، أَوْ قَالَ: لَقِنْتَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ، خُلِقَتْ حَوَّاءُ مِنْ ضِلْعِهِ الْقَصِيرِ، فَصَارَ بَوْلُ الْغُلَامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، وَصَارَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ، قَالَ: قَالَ لِي: فَهِمْتَ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ لِي: نَفَعَكَ اللَّهُ بِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 527

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا لوگ اسے مارنے کے لئے بڑھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم اسے کچھ نہ کہو پھر آپ ﷺ نے پانی کا ڈول منگوا کر اس جگہ بہا دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟:جلد١،ص٣٣١،حديث نمبر ٥٢٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُزْرِمُوهُ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 528

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی مسجد میں آیا نبی کریم ﷺ اس وقت وہاں تشریف فرما تھے وہ شخص بولا: اے اللہ ! میری اور حضرت محمد ﷺکی مغفرت کر دے ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کرنا ۔تو نبی کریم ﷺ مسکرا دیئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے پھر وہ مڑ کر جانے لگا یہاں تک کہ وہ مسجد کے کونے میں پہنچا اور وہاں پیشاب کرنے لگا ( اس کے بعد پورا واقعہ ہے جس میں آگے چل کر یہ بات ہے)اس چیز کا علم حاصل ہونے کے بعد اس دیہاتی نے کہا پھر نبی کریم ﷺ اٹھ کر میرے پاس آئے میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں نبی کریم ﷺ نے نہ تو مجھے ملامت کی نہ مجھے برا بھلا کہا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس مسجد میں پیشاب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ کے حکم کے تحت پانی کا ایک ڈول اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟:جلد١،ص٣٣٢،حديث نمبر ٥٢٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَلِمُحَمَّدٍ، وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا"، ثُمَّ وَلَّى، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ، فَقَامَ: إِلَيَّ بِأَبِي وَأُمِّي، فَلَمْ يُؤَنِّبْ، وَلَمْ يَسُبَّ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لَا يُبَالُ فِيهِ، وَإِنَّمَا بُنِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ، وَلِلصَّلَاةِ"، ثُمَّ أَمَرَ بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأُفْرِغَ عَلَى بَوْلِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 529

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : اے اللہ تو مجھ پر اور حضرت محمد ﷺ پر رحم کراور اپنی رحمت میں ہمارے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کرنا تو نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: تم نے کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے، تمہارا ستیا ناس ہو ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تمہارا خانہ خراب ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص پیشاب کرنے لگا تو نبی کریم ﷺ کے اصحاب نے کہا: ٹھہر جاؤ! تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے کرنے دو پھر نبی کریم ﷺ نے پانی کا ڈول منگوایا اوراس پر بہا دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟:جلد١،ص٣٣٣،حديث نمبر ٥٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هُوَ عِنْدَنَا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَمُحَمَّدًا، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا، فَقَالَ:" لَقَدْ حَظَرْتَ وَاسِعًا وَيْحَكَ، أَوْ وَيْلَكَ"، قَالَ: فَشَجَ يَبُولُ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 530

ابراہیم بن عبد الرحمن کی ام ولد بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: میں ایک ایسی عورت ہوں، جس کا دامن لمبا ہوتا ہے اور میں گندگی والی جگہ سے بھی چلتی ہوئی گزرتی ہوں تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نےبتایا نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس کے بعد والا حصہ اسے پاک کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا:پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے:جلد١،ص٣٣٤،حديث نمبر ٥٣١)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ" أُطِيلُ ذَيْلِي فَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ؟، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 531

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ ہم مسجد آ رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات راستے میں کسی نجس حصے کو اپنے پاؤں تلے دیتے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: زمین کا ایک حصہ دوسرے کو پاک کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا:پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے:جلد١،ص٣٣٥،حديث نمبر ٥٣٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ الْمَسْجِدَ فَنَطَأُ الطَّرِيقَ النَّجِسَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 532

موسی بن عبد اللہ بن یزید ، بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا : میرے اور مسجد کے درمیان ایسا راستہ ہے جہاں گندگی پڑی ہوتی ہے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تو اس کے بعد ایسا راستہ بھی ہے جو اس سے زیادہ صاف ہو؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تو یہ اس کے لیے کافی ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا:پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے:جلد١،ص٣٣٦،حديث نمبر ٥٣٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ" بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقًا قَذِرَةً؟ قَالَ:" فَبَعْدَهَا طَرِيقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَذِهِ بِهَذِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 533

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی کسی گلی میں نبی کریم ﷺ سے ان کا سامنا ہو گیا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس وقت جنبی تھے ( وہ بیان کرتے ہیں) میں ایک طرف ہو کر دوسری جانب نکل گیا نبی کریم ﷺ نے انہیں غیر موجود پایا۔ غسل کرنے کے بعد جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: ابو ہریرہ ! تم کہاں چلے گئے تھے؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! جب آپ مجھ سے ملے تھے میں اس وقت جنبی تھا اس لیے مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس حالت میں غسل کیے بغیر آپ ﷺ کے ہمراہ رہوں تو آپ کی تعلیم نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ:جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣٣٦،حديث نمبر ٥٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ فَانْسَلَّ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ:" أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ لَا يَنْجُسُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 534

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے آپ ﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا تو میں دوسری طرف نکل گیا پھر میں غسل کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت کیا تمہیں کیا ہوا تھا ؟ میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان نا پاک نہیں ہوتا. (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ:جنبی سے مصافحہ کے حکم کا بیان:جلد١،ص٣٣٧،حديث نمبر ٥٣٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَحِدْتُ عَنْهُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ"، قُلْتُ: كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 535

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں: میں نے سلیمان بن یسار سے ایسے کپڑے کے بارے میں دریافت کیا: جس پر منی لگ جاتی ہے؟ کیا ہم اس منی کو دھو لیں گے یا پورے کپڑے کو دھوئیں گے؟ تو سلیمان نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بات بیان کی ہے نبی کریم ﷺ کے کپڑوں پر بھی یہ لگ جاتی تھی تو آپ ﷺ اپنے کپڑے کے اس حصے کو دھو لیتے تھے پھر آپ ﷺ وہی کپڑا پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے حالانکہ میں دھونے کا نشان اس میں دیکھ رہی ہوتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ:منی لگے ہوئے کپڑے کا حکم:جلد١،ص٣٣٧،حديث نمبر ٥٣٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الْمَنِيُّ أَنَغْسِلُهُ، أَوْ نَغْسِلُ الثَّوْبَ كُلَّهُ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ ثَوْبَهُ فَيَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فِي ثَوْبِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، وَأَنَا أَرَى أَثَرَ الْغَسْلِ فِيهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 536

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات میں نبی کریم ﷺ کے کپڑوں سے اپنے ہاتھوں کے ذریعے (منی کو) کھرچ دیتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ: کپڑے سے منی کھرچنے کا بیان:جلد١،ص٣٣٨،حديث نمبر ٥٣٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 537

ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک مہمان ٹھہرا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے زرد رنگ کی ایک چادر بھجوائی اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا اسے اس بات پر شرم آئی کہ وہ اس چادر کو واپس بھیج دے جبکہ اس پر احتلام کا نشان موجود تھا اس نے اسے پانی سے دھولیا، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھجوایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ہمارے چادر کو کیوں خراب کیا ؟ اس کے لئے یہ کافی تھا: وہ اپنی انگلیوں کے ذریعے اسے کھرچ دیتا۔ میں نے کئی مرتبہ نبی کریم ﷺ کے کپڑے سے اپنی انگلیوں کے ذریعے اسے کھرچا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ: کپڑے سے منی کھرچنے کا بیان:جلد١،ص٣٣٨،حديث نمبر ٥٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ، فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ، فَاحْتَلَمَ فِيهَا فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ، فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" لِمَ أَفْسَدْتَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَفْرُكَهُ بِإِصْبَعِكَ، رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِي".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 538

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد ہے میں نبی کریم ﷺ کے کپڑے میں اسے ( یعنی منی کو ) پاتی تھی تو اسے کھرچ دیتی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ: کپڑے سے منی کھرچنے کا بیان:جلد١،ص٣٣٩،حديث نمبر ٥٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَجِدُهُ فِي ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحُتُّهُ عَنْهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 539

حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے اپنی بہن اور نبی کریم ﷺ کی زوجه محترمه سیده ام حبیبه سے دریافت کیا: کیا نبی کریم ﷺ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے جس میں آپ ﷺ نے صحبت کی ہوتی تھی تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں جب اس میں کوئی ناپا کی نہ لگی ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ:جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم:جلد١،ص٣٤٠،حديث نمبر ٥٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَه أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ أَذًى".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 540

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ ﷺ کے سر سےپانی کے قطرے ٹپک رہے تھے آپ ﷺ نے اسی کپڑے میں ہمیں نماز پڑھادی جسے آپ ﷺ نے تو شیح کے طور پر لپیٹا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اس کے کنارے مخالف سمت میں کندھے پر رکھے ہوئے تھے جب آپ ﷺ نماز کے فرض پڑھ کر فارغ ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے ہمیں ایک ہی کپڑا پہن کر نماز پڑھادی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں میں نے اس میں نماز ادا کی ہے اور اسی میں ۔ ( راوی کہتے ہیں ) نبی کریم ﷺ کی مراد تھی میں نے اس کپڑے میں صحبت بھی کی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ:جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم:جلد١،ص٣٤٠،حديث نمبر ٥٤١)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ أُصَلِّي فِيهِ، وَفِيهِ أَيْ قَدْ جَامَعْتُ فِيهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 541

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کر یم ﷺ سے سوال کیا: کیا وہ اس کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے، جس کو پہن کر اس نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی تھی ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں البتہ اگر وہ اس کپڑے میں کوئی چیز (یعنی کوئی نجاست لگی ہوئی دیکھے ) تو پھر اسے دھولے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ:جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم:جلد١،ص٣٤١،حديث نمبر ٥٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ الزِّمِّيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يَأْتِي فِيهِ أَهْلَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا أَنْ يَرَى فِيهِ شَيْئًا فَيَغْسِلَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 542

ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں: حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر انہوں نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کر لیا ان سے کہا گیا: کیا آپ ایسا کر رہے ہیں، انہوں نے فرمایا میں ایسا کیوں نہ کروں کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم بیان کرتے ہیں: ان لوگوں کو حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ یہ روایت بہت پسند تھی کیونکہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نےسوره مائده نازل ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤١،حديث نمبر ٥٤٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ:" بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا؟ قَالَ:" وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ"، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 543

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے وضو کیا آپ ﷺ نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٢،حديث نمبر ٥٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 544

حضرت مغیرہ بن شعبه رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بھی پانی کے برتن کے ہمراہ آپ ﷺ کے پیچھے چل دیئے جب نبی کریم ﷺ فارغ ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور وضو کے دوران موزوں پر مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٢،حديث نمبر ٥٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 545

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا: کیا آپ لوگ ایسا کرتے ہیں؟ پھر یہ دونوں حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا موزوں پر مسح کے بارے میں میرے بھتیجے کو فتویٰ دیجیے! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم اپنے موزوں پر مسح کر لیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٣،حديث نمبر ٥٤٦)

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ سَعْدٌ لِعُمَرَ: أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ :" كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا لَمْ نَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ؟ قَالَ: نَعَمْ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 546

عبد المهيمن بن عباس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( حضرت سہل بن سعد ساعدی) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے اپنے موزوں پر مسح کیا اور آپ ﷺ نے ہمیں بھی موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٣،حديث نمبر ٥٤٧)

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَأَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 547

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے دریافت کیا: کیا پانی موجود ہے؟ پھر نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا پھر آپ ﷺ اس کے بعد لشکر کے ساتھ جا کرملےاور ان کی امامت کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٤،حديث نمبر ٥٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ:" هَلْ مِنْ مَاءٍ؟ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 548

ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نجاشی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دو سیاہ سادے موزے بھیجے تھے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں پہن کر وضو کیا اور ان پر مسح کر لیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:موزوں پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٤٥،حديث نمبر ٥٤٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ،" أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 549

حضرت مغیرہ بن شعبه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے موزوں کے اوپر والے حصے پر اور نیچے والے حصے پر مسح کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في مَسْحِ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلِهِ: موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٤٥،حديث نمبر ٥٥٠)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 550

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو وضو کر رہا تھا اور اس نے اپنے موزوں کو دھو لیا تھا تو نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا: یوں جیسے اسے پرے کرنا چاہتے ہوں (پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا) تمہیں مسح کرنے کا حکم دیا گیا ہے نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے اس طرح فرمایا آپ ﷺ پاؤں کی انگلیوں کی طرف سے پنڈلی کی جڑ کی طرف اپنا ہاتھ لے کرگئے اور آپ ﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں کے ذریعے لکیریں بنائیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابٌ في مَسْحِ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلِهِ: موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرنے کا بیان:جلد١،ص٣٤٦،حديث نمبر ٥٥١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُنْذِرٌ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَتَوَضَّأُ وَيَغْسِلُ خُفَّيْهِ، فَقَالَ بِيَدِهِ، كَأَنَّهُ دَفَعَهُ:" إِنَّمَا أُمِرْتَ بِالْمَسْحِ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا:" مِنْ أَطْرَافِ الْأَصَابِعِ إِلَى أَصْلِ السَّاقِ، وَخَطَّطَ بِالْأَصَابِعِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 551

شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے فرمایا تم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کیونکہ وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں: میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا کی نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ مقیم شخص ایک دن اور ایک رات تک اور مسافر شخص تین دن تک مسح کر سکتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٧،حديث نمبر ٥٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا فَسَلْهُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَن الْمَسْحِ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ نَمْسَحَ لِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 552

حضرت خذیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن مدت مقرر کی ہے اگر سوال کرنے والا شخص اپنے سوال کو جاری رکھتا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اسے پانچ دن بھی کر دیتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٧،حديث نمبر ٥٥٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا، وَلَوْ مَضَى السَّائِلُ عَلَى مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 553

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، تین دن ( راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا )اور تین راتوں تک مسافر کو موزوں پرمسح کرنے کی اجازت ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٨،حديث نمبر ٥٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ"، أَحْسِبُهُ قَالَ:" وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 554

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ موزوں پر طہارت حاصل کرنے کی متعین مدت کیا ہوگی؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم شخص کے لیے ایک دن اور ایک رات۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٩،حديث نمبر ٥٥٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ الثُّمَالِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الطُّهُورُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ:" لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 555

عبد الرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے مسافر کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ جب وہ وضو کر لے اور موزے پہن لے پھر اس کا وضوٹوٹ جائے تو وہ تین دن اور تین راتوں تک مسح کر سکتا ہے جب کہ مقیم شخص ایک دن اور ایک رات تک کر سکتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ لِلْمُقِيمِ وَالْمُسَافِرِ: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان:جلد١،ص٣٤٩،حديث نمبر ٥٥٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَبِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ أَبُو مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ إِذَا تَوَضَّأَ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَحْدَثَ وُضُوءًا أَنْ يَمْسَحَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 556

حضرت ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ان کے گھر میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے ان صحابی نے نبی کریم ﷺ سے گزارش کی کیا میں اپنے موزوں پر مسح کر لیا کروں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں انہوں نے دریافت کیا: ایک دن تک نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دو دن تک ان صحابی نے عرض کی: تین دن تک؟ یہاں تک کہ سات تک کا تذکرہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا جتنا تمہیں مناسب محسوس ہو ( اتنے عرصے تک تم اس پر مسح کر سکتے ہو ) (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ بِغَيْرِ تَوْقِيتٍ:موزوں پر مسح کے لیے مدت کی حد نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٥٠،حديث نمبر ٥٥٧)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ الْقِبْلَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: يَوْمًا، قَالَ:" وَيَوْمَيْنِ"، قَالَ: وَثَلَاثًا حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا، قَالَ لَهُ:" وَمَا بَدَا لَكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 557

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ مصر سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم نے کتنے عرصے سے اپنے موزے نہیں اتارے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ایک جمعے سے لے کر اگلے جمعے تک تو حضرت عمر رضی نے فرمایا تم نے سنت پر عمل کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ بِغَيْرِ تَوْقِيتٍ:موزوں پر مسح کے لیے مدت کی حد نہ ہونے کا بیان:جلد١،ص٣٥١،حديث نمبر ٥٥٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ مِصْرَ، فَقَالَ:" مُنْذُ كَمْ لَمْ تَنْزِعْ خُفَّيْكَ؟ قَالَ: مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، قَالَ:" أَصَبْتَ السُّنَّةَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 558

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے وضو کرتے ہوئے دونوں جرابوں اور موزوں پر مسح کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ: جراب (پائے تابہ) اور جوتے پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٢،حديث نمبر ٥٥٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 559

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے دونوں جرابوں اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ معلی نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میرے علم کے مطابق روایت میں صرف موزوں پر مسح کرنے کا حکم ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ: جراب (پائے تابہ) اور جوتے پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٣،حديث نمبر ٥٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، وَبِشْرُ بْنُ آدَمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ"، قَالَ الْمُعَلَّى فِي حَدِيثِهِ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: وَالنَّعْلَيْنِ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 560

حضرت کعب بن عجره رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے دونوں موزوں اور چادر پر مسح کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ: پگڑی پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٤،حديث نمبر ٥٦١)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ بِلَالٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 561

حضرت عمرو بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو موزوں اور عمامہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ: پگڑی پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٥،حديث نمبر ٥٦٢)

حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو ، عِنْ أَبِيِه ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 562

ابو مسلم بیان کرتے ہیں: میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے وضو کے لیے اپنے موزے اتار دیے تھے تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم اپنے موزوں پر اپنی چادر پر اپنی پیشانی پر مسح کرو کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے موزوں اور اپنی چادر پرمسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ: پگڑی پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٦،حديث نمبر ٥٦٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ فَرَأَى رَجُلًا يَنْزِعُ خُفَّيْهِ لِلْوُضُوءِ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ : امْسَحْ عَلَى خُفَّيْكَ، وَعَلَى خِمَارِكَ، وَبِنَاصِيَتِكَ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 563

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺ نے قطری عمامہ باندھا ہوا تھا آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ عمامے کے نیچے داخل کیا اور سر کے آگے والے حصے کا مسح کر لیا، آپ ﷺ نے عمامے کو اتارا نہیں تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الطہارۃ وسننھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ: پگڑی پر مسح کا بیان:جلد١،ص٣٥٦،حديث نمبر ٥٦٤)

حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضْ الْعِمَامَةَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Taharati WA Suna'niha, Hadees No. 564

Ibne Majah Shareef : Abawabut Taharati WA Suna'niha

|

Ibne Majah Shareef : طہارت اور اس کے احکام و مسائل

|

•