
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگلے دو دن تم ہمارے ساتھ نماز ادا کرو۔ (راوی کہتے ہیں) جب سورج ڈھل گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی وہ ظہر کی نماز کے لیے اقامت کہیں پھر (جب عصر کا وقت ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تو انہوں نے عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی حالانکہ اس وقت سورج بلند سفید اور روشن تھا۔ پھر جب سورج غروب ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تو انہوں نے مغرب کی نماز کے لیے اقامت کہی۔ پھر جب شفق غروب ہو گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تو انہوں نے عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہی پھر جب صبح صادق ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر انہوں نے فجر کی نماز کے لیے اقامت کہی۔ اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تو انہوں نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دی۔انہوں نے ٹھنڈے وقت میں یہ کام کیا خوب اچھی طرح ٹھنڈا کیا(یعنی تاخیر کی)۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج ابھی بلند تھا لیکن اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دن کے مقابل میں اسے ذرا تاخیر سے ادا کیا۔مغرب کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفق غروب ہونے سے پہلے ادا کی اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد ادا کی۔ فجر کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب روشن کر کے پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس شخص نے عرض کی میں ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:جلد١، ص٤٢٥،حديث نمبر ٦٦٧)
ابن شہاب کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز مدینہ منورہ کے گورنر تھے اس وقت ابن شہاب ان کے پاس ان کے بچھونے پر بیٹھے ہوئے تھے ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں ذرا تاخیر کر دی تو عروہ نے ان سے کہا حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کی۔ تو عروہ بن عبد العزیز نے ان سے یہ کہا اے عروہ ذرا دھیان دے کہ اپ کیا کہہ رہے ہیں تو عروہ نے بتایا میں نے حضرت بشیر بن ابو مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے میری امامت کی اور میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ پھر میں نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔انہوں نے اپنی انگلیوں پر حساب لگا کر پانچ نمازوں کا تذکرہ کیا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:جلد١، ص٤٢٦،حديث نمبر ٦٦٨)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں مومن خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں فجر کی نماز ادا کر کے اپنے گھروں کو واپس جاتی تھی اور کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔(راوی کہتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مراد یہ تھی کہ اندھیرے کی وجہ سے انہیں پہچانا نہیں جا سکتا تھا) (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:باب وقت صلاۃ الفجر:نماز فجر کا وقت:جلد١، ص٤٢٦،حديث نمبر ٦٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالی ہے(ترجمہ)"اور فجر کی تلاوت بے شک فجر کی تلاوت میں حاضری ہوتی ہے" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس میں رات اور دن کے فرشتے شریک ہوتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:باب وقت صلاۃ الفجر:نماز فجر کا وقت:جلد١، ص٤٢٧،حديث نمبر ٦٧٠)
مغیث بن سمی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہما کی اقتداء کی فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کی جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس آیا اور میں نے کہا یہ نماز پڑھنے کا کون سا وقت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا یہ وہ نماز ہے جو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پھر روشنی میں یہ نماز ادا کرنے لگے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:باب وقت صلاۃ الفجر:نماز فجر کا وقت:جلد١، ص٤٢٨،حديث نمبر ٦٧١)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں صبح کی نماز (روشنی میں) ادا کیا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ تمہارے لیے زیادہ اجر کا باعث ہے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:باب وقت صلاۃ الفجر:نماز فجر کا وقت:جلد١، ص٤٢٩،حديث نمبر ٦٧٢)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر کی نماز ادا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الظُّهْرِ: نماز ظہر کا وقت:جلد١، ص٤٢٩،حديث نمبر ٦٧٣)
حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کی نماز جسے آپ لوگ ظہر کہتے ہیں اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الظُّهْرِ: نماز ظہر کا وقت:جلد١، ص٤٢٩،حديث نمبر ٦٧٤)
حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریت کی گرمی کی شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الظُّهْرِ: نماز ظہر کا وقت:جلد١، ص٤٣٠،حديث نمبر ٦٧٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریت کی گرمی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الظُّهْرِ: نماز ظہر کا وقت:جلد١، ص٤٣٢،حديث نمبر ٦٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب گرمی شدید ہو تو (ظہر کی) نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ؛باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔:جلد١، ص٤٣٣،حديث نمبر ٦٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب گرمی شدید ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ؛باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔:جلد١، ص٤٣٣،حديث نمبر ٦٧٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کیا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ؛باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔:جلد١، ص٤٣٣،حديث نمبر ٦٧٩)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ظہر کی نماز جلدی ادا کر لیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ؛باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔:جلد١، ص٤٣٤،حديث نمبر ٦٨٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ؛باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔:جلد١، ص٤٣٤،حديث نمبر ٦٨١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج بلند اور چمکدار ہوتا تھا اس کے بعد کوئی شخص عوالی علاقے کی طرف جاتا تو سورج پھر بھی بلند ہی ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ:نماز عصر کا وقت:جلد١، ص٤٣٥،حديث نمبر ٦٨٢)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جب دھوپ ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کے حجرے میں موجود ہوتی تھی اور ان کے حجرے کا سایہ پھیلا نہیں ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ:نماز عصر کا وقت:جلد١، ص٤٣٥،حديث نمبر ٦٨٣)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن ارشاد فرمایا اللہ تعالی ان کفار کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کیونکہ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز ادا کرنے کا موقع نہیں دیا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ:باب:نماز عصر کی محافظت:جلد١، ص٤٣٦،حديث نمبر ٦٨٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی عصر کی نماز رہ جائے گویا اس کے اہل خانہ اور اس کا مال برباد ہو گئے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ:باب:نماز عصر کی محافظت:جلد١، ص٤٣٦،حديث نمبر ٦٨٥)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز ادا نہیں کرنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز نہیں ادا کرنے دی اللہ تعالی ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ:باب:نماز عصر کی محافظت:جلد١، ص٤٣٧،حديث نمبر ٦٨٦)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے تو نماز پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد کوئی شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ:باب: نماز مغرب کا وقت:جلد١، ص٤٣٨،حديث نمبر ٦٨٨)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج پردے میں چھپ جاتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ:باب: نماز مغرب کا وقت:جلد١، ص٤٣٨،حديث نمبر ٦٨٩)
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت اس وقت تک فطرت پر گامزن رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز کو اتنی تاخیر سے ادا نہیں کریں یہ کے ستارے چمکنے لگی۔ امام ابن ماجہ کہتے ہیں میں نے محمد بن یحیی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے بغداد میں لوگ اس حدیث کے حوالے سے مضطرب ہو گئے تو میں اور ابوبکر اعین نے ہمیں عوام عباد بن عوام کی خدمت میں لے کر گئے تو انہوں نے اپنے والد کی اصلی نسخہ ہمارے سامنے نکال کر دکھائی اس میں یہ حدیث موجود تھی۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: وَقْتِ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ:باب: نماز مغرب کا وقت:جلد١، ص٤٣٨،حديث نمبر ٦٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اپنی امت کو مشقت میں مبتلا کرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ ہدایت کرتا کہ وہ عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کریں۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ وقت صلاۃ العشاء:جلد١، ص٤٣٩،حديث نمبر ٦٩٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اپنی امت کو مشقت میں مبتلا کرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ ہدایت کرتا کہ عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات تک یا نصف رات تک مؤخر کریں۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ وقت صلاۃ العشاء:جلد١، ص٤٣٩،حديث نمبر ٦٩١)
حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پہنی ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف رات کے قریب تک عشاء کی نماز کو موخر کیا۔نماز ادا کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کیا اور ارشاد فرمایا۔ کچھ لوگ نماز ادا کر کے سو چکے ہیں اور کچھ لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے اس وقت تک نماز کی حالت میں شمار ہوئے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ وقت صلاۃ العشاء:جلد١، ص٤٤١،حديث نمبر ٦٩٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ نصف رات گزر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ نماز ادا کر کے سو بھی چکے ہیں اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے تم نماز کی حالت میں شمار ہو گئے ہو اگر بوڑھے اور بیمار لوگوں کا سوال نہ ہوتا تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کرتا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ وقت صلاۃ العشاء:جلد١، ص٤٤١،حديث نمبر ٦٩٣)
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابرآلود دن میں نماز جلد ادا کر لیا کرو کیونکہ جس شخص کے عصر کی نماز فوت ہو جائے اس کا عمل ضائع ہو جائے گا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ میقات الصَّلاَةِ فی الغیم:جلد١، ص٤٤١،حديث نمبر ٦٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو نماز سے غافل ہو جاتا ہے یا نماز کے وقت سویا رہ جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اسے جب یاد آئے وہ اسے ادا کر لے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ من نام عن الصَّلاَةِ او نسیھا:جلد١، ص٤٤٣،حديث نمبر ٦٩٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے وہ اسے اس وقت ادا کرے جب اسے یاد آئے ۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ من نام عن الصَّلاَةِ او نسیھا:جلد١، ص٤٤٣،حديث نمبر ٦٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے آخری پہر پڑاؤ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا آج رات تم نے ہماری نگرانی کرنی ہے پھر جتنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے نصیب میں تھا اتنی دیر وہ نماز ادا کرتے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سو گئے۔ انہوں نے اس وقت اپنے پالان کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی شخص بیدار نہیں ہوا یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اے بلال(تم کیوں سو گئے تھے) تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں جس ذات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند طاری کی۔ اس نے مجھے بھی نیند کا شکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ اپنے جانوروں کی لگامیں تھام کر چل پڑو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی لگامیں پکڑے تھوڑا سا آگے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی نماز مکمل کر لینے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جیسے ہی اسے یاد آئے تو وہ اسے ادا کر لے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا" میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو" ابن شہاب اس لفظ کو صصذ کری پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ من نام عن الصَّلاَةِ او نسیھا:جلد١، ص٤٤٥،حديث نمبر ٦٩٧)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ لوگوں نے ان کے سامنے نیند میں تفریط کا ذکر کیا تو انہوں نے بتایا ایک مرتبہ لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سونے میں تفریط نہیں ہوتی؟ بیداری میں ہوتی ہے جب کوئی نماز ادا کرنا بھول جائے اور نماز کے وقت سویا رہ جائے تو جیسے ہی اسے یاد آئے اسے ادا کر کے یا اگلے دن اسے اس کے وقت میں ادا کرے۔ عبداللہ بن رباح نامی راوی بیان کرتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو بولے اے نوجوان تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا حدیث بیان کر رہے ہو؟ کیونکہ اس وقت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ عبداللہ بن رباح کہتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی کسی بات کا انکار نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ من نام عن الصَّلاَةِ او نسیھا:جلد١، ص٤٤٥،حديث نمبر ٦٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لے اس نے اس نماز کو پا لیا اور اگر سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت پا لے تو اس نے اس نماز کو پا لیا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ وقت الصَّلاَةِ فی العذر والضرورۃ:جلد١، ص٤٤٥،حديث نمبر ٦٩٩)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت کو پالے اس نے اس کو پا لیا اور جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پالے اس نے اسے پا لیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ وقت الصَّلاَةِ فی العذر والضرورۃ:جلد١، ص٤٤٧،حديث نمبر ٧٠٠)
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَعَنِ الْحَدِيثِ بَعْدَهَا:عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٤٧،حديث نمبر ٧٠١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے کبھی نہیں سوئے اور عشاء کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بات چیت نہیں کی۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَعَنِ الْحَدِيثِ بَعْدَهَا:عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٤٨،حديث نمبر ٧٠٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد گفتگو کرنے میں ہمیں ڈانٹا تھا۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَعَنِ الْحَدِيثِ بَعْدَهَا:عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٤٨،حديث نمبر ٧٠٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے دیہاتی لوگ تمہاری اس نماز کے نام کے حوالے سے تم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ یہ عشاء ہے اور وہ لوگ اس وقت اونٹوں کا دودھ دوہ کر فارغ ہوتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ صَلاَةُ الْعَتَمَةِ:عشاء کو عتمہ کی نماز کہنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٥٠،حديث نمبر ٧٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے حوالے سے تم پر غالب نہ آجائیں۔ ابن حرملہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں یہ عشاء ہے وہ لوگ اسے عتمہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ اونٹوں کا کام کاج کرنے کے حوالے سے تاخیر کر دیتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:بَابُ: أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ:اوقات نماز کا بیان:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ صَلاَةُ الْعَتَمَةِ:عشاء کو عتمہ کی نماز کہنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٥٠،حديث نمبر ٧٠٥)
Ibne Majah Shareef : Abawabu Mawaqeetis Salaat
|
Ibne Majah Shareef : اوقات نماز کا بیان
|
•