
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہوتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر «الله أكبر» کہتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ:نماز شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص٥،حديث نمبر ٨٠٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور سب تعریف تیرے لیے ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ:نماز شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص٦،حديث نمبر ٨٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تکبیر اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بتائیے آپ تکبیر و قرآت کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں تو اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ پڑھتا ہوں: «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كالثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ میرے اور میری کوتاہیوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے اے اللہ مجھے میری کوتاہیوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے کپڑے کو صاف کیا جاتا ہے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کر دیا جاتا ہے اے اللہ میری کوتاہیوں کو پانی برف اور اولو کے ذریعے دھو دے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ:نماز شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص٦،حديث نمبر ٨٠٥)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور ساری تعریفیں تیرے لیے ہیں، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ:نماز شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص٧،حديث نمبر ٨٠٦)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ نے «الله أكبر كبيرا» تین مرتبہ، «الحمد لله كثيرا» تین مرتبہ، «سبحان الله بكرة وأصيلا» تین مرتبہ کہا، اور پھر «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پڑھا ”اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ شیطان کا «ہمز» اس کا جنون، «نفث» اس کا شعر ہے، اور «نفخ» اس کا کبر ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان:جلد٢، ص٧،حديث نمبر ٨٠٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم وهمزه ونفخه ونفثه» ”اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ راوی کہتے ہیں: «ہمز» سے مراد اس کا جنون ہے، «نفث» سے مراد شعر ہے اور «نفخ» سے مراد کبر و غرور ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان:جلد٢، ص٨،حديث نمبر ٨٠٨)
قبیصہ بن ہلب اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو اپ نے اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں کے ذریعے پکڑا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٩،حديث نمبر ٨٠٩)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں دست مبارک کے ساتھ بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان:جلد٢، ص١٠،حديث نمبر ٨١٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایسے گزرے میں نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا دائیں ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان:جلد٢، ص١٠،حديث نمبر ٨١١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کا آغاز "الحمدللہ رب العالمین" سے کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ:نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص١١،حديث نمبر ٨١٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ قرآت کا آغاز "الحمدللہ رب العالمین" سے کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ:نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص١١،حديث نمبر ٨١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کا آغاز "الحمدللہ رب العالمین" سے کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ:نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص١٢،حديث نمبر ٨١٤)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں میں نے کم ہی کوئی ایسا شخص دیکھا ہوگا جو اسلام میں کوئی نئی چیز پیدا کرنے کی حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے زیادہ شدید مخالف کرتا ہوں ۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے سنا میں نے (قرآت کرتے ہوئے) بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھ لی تو انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے نئے طریقہ ایجاد کرنے سے بچو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی قرآت کے آغاز میں (بلند اواز میں بسم اللہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا)تو تم جب قرآت کرو تو الحمدللہ رب العالمین سے شروع کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ:نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص١٢،حديث نمبر ٨١٥)
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے ہوئے سنا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٣،حديث نمبر ٨١٦)
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ فجر میں: «فلا أقسم بالخنس الجوار الكنس» کی قراءت فرما رہے تھے، گویا کہ میں یہ قراءت اب بھی سن رہا ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٣،حديث نمبر ٨١٧)
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں 60 سے لے کر100 آیات تک تلاوت کی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٤،حديث نمبر ٨١٨)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٤،حديث نمبر ٨١٩)
حضرت عبداللہ بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں سورہ مومنون کی تلاوت کی جب اس آیت پہ پہنچے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے، تو آپ کو کھانسی آ گئی، اور آپ رکوع میں چلے گئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٥،حديث نمبر ٨٢٠)
Ibne Majah Shareef : Iqamat e Salat Aur Uske Sunan WA Aadab....
|
Ibne Majah Shareef : اقامت نماز اور اس کے سنن و آداب و احکام و مسائل
|
•