asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabo Salatil Istisqaye

From 1969 to 1987

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور بارش کے لئے دعا مانگی اور قبلہ رخ ہوکر چادر کو الٹایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛ترجمہ؛نماز استسقاء؛جلد ٢؛ص٦١١؛حدیث نمبر١٩٦٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ، يَقُولُ: «خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَاسْتَسْقَى، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1969

حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔بارش کے لئے دعا کی قبلہ رخ ہوکر چادر کو الٹایا اور دو رکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١١؛حدیث نمبر١٩٧٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1970

حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور بارش کے لئے دعا فرمائی اور جب آپ نے دعا مانگنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوکر چادر کو الٹایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١١؛حدیث نمبر١٩٧١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، وَأَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ، اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1971

حضرت عبد بن تمیم مازنی اپنے چچا سے روایت کرتےہیں اور وہ صحابی تھے(رضی اللہ عنہما)وہ فرماتے ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور بارش کے لئے دعا مانگنے لگے۔آپ نے لوگوں کی طرف پیٹھ کر کے قبلہ رخ ہوتے ہوئے دعا مانگی اور اپنی چادر کو الٹایا پھر دورکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١١؛حدیث نمبر١٩٧٢)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَجَعَلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، يَدْعُو اللهَ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1972

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ دعا میں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے حتیٰ کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آرہی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛ترجمہ؛نماز استسقاء میں دعا کے لیے دونوں ہاتھوں کا اٹھانا؛جلد ٢؛ص٦١٢؛حدیث نمبر١٩٧٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1973

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا مانگتے ہوئے ہتھیلیوں کی پیٹھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٢؛حدیث نمبر١٩٧٤)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى، فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1974

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کے علاوہ کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے(اس دعا میں اس قدر ہاتھ اٹھاتے کہ)آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آجاتی۔(مطلب یہ ہے کہ اس قدر مبالغہ کے ساتھ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ورنہ مطلقاً ہاتھ اٹھانا ہر نماز کے بعد جائز ہے۔علامہ غلام رسول سعیدی صاحب فرماتے ہیں۔امام نووی نے شرح المہذب میں باقی دعاؤں کے وقت ہاتھ اٹھانے کے سلسلے میں تیس سے زائد احادیث نقل کی ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٢؛حدیث نمبر١٩٧٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ». غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الْأَعْلَى، قَالَ: يُرَى بَيَاضُ إِبْطِهِ، أَوْ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1975

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد٢؛ص٦١٢؛حدیث نمبر١٩٧٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1976

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن دارالقضاء کی جانب والے دروازے سے مسجد میں داخل ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ پڑھ رہے تھے وہ آپ کی طرف متوجہ ہوکر کھڑا ہوا پھر عرض کیا یا رسول اللہ!مال ہلاک ہوگئے۔اور راستے ٹوٹ گئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بارش عطاء فرمائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر دعامانگی۔یا اللہ ہمیں بارش عطاء فرما،یا اللہ ہمیں بارش عطا فرما۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں آسمان میں کوئی بادل یا بادل کا ٹکڑا دکھائی نہ دیتا تھا اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر اور حویلی نہ تھی پس اس کے پیچھے سے وہاں کی شکل کا بادل آیا حتیٰ کہ جب وہ آسمان کے درمیان بادل پھیل گیا۔پھر بارش برسنے لگی وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہ دیکھا پھر آنے والے جمعہ کے دن وہ شخص اسی دروازے سے آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے۔وہ سامنے کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مال ہلاک ہوگئے اور راستے ٹوٹ گئے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہم سے اس بارش کو روک دے۔ ( راوی)فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھائے پھر یوں دعا کی یااللہ!ہمارے ارد گرد ہو ہمارے اوپر نہ ہو یا اللہ!ٹیلوں پر بلندیوں پر پرندیوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہ پر ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بارش فوراً بند ہوگئی اور ہم دھوپ میں باہر آے۔حضرت شریک فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا یہ وہی پہلا آدمی تھا؟تو انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٣؛حدیث نمبر١٩٧٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ جُمُعَةٍ، مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللهَ يُغِثْنَا ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ أَغِثْنَا، اللهُمَّ أَغِثْنَا، اللهُمَّ أَغِثْنَا»، قَالَ أَنَسٌ: وَلَا وَاللهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةٍ، وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ، قَالَ: فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ، قَالَ: فَلَا وَاللهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ حَوْلَنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللهُمَّ عَلَى الْآكَامِ، وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» فَانْقَلَعَتْ، وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ قَالَ شَرِيكٌ: فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي،

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1977

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عہد رسالت میں لوگ قحط کا شکار ہوئے تو اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ!مال ہلاک اور بچے بھوکے ہوگئے۔آگے حدیث نمبر ١٩٧٧ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا اے اللہ!ہمارے ارد گرد ہو ہمارے اوپر نہ ہو فرماتے ہیں آپ جدھر اشارہ فرماتے وہاں سے بادل چھٹ جاتے حتیٰ کہ میں نے مدینہ طیبہ کو دیکھا وہ گڑھے کی طرح ہوگیا اور وادی قناۃ ایک مہینے تک بہتی رہی اور باہر سے جو بھی آیا اس نے زیادہ بارش کی خوشخبری سنائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٤؛حدیث نمبر١٩٧٨)

وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ قَالَ «اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا»، قَالَ: فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ إِلَّا تَفَرَّجَتْ، حَتَّى رَأَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ وَسَالَ وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِجَوْدٍ.

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1978

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو لوگوں نے کھڑے ہوکر چلانا شروع کر دیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!بارش بند ہوگئی،درخت سرخ ہوگئے اور جانور ہلاک ہوگئے۔آگے حدیث نمبر ١٩٧٧ کی مثل مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے چاروں طرف بارش ہوتی رہی اور مدینہ طیبہ میں ایک قطرہ بھی نہ ہوئی اور وہ ایک دائرہ کی طرح کھلا ہوا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٤؛حدیث نمبر١٩٧٩)

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا، وَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ قَحَطَ الْمَطَرُ، وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ، وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى: فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا، وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ.

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1979

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت پہلے کی طرح ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جوڑ دیا اور ہم ٹھہر گئے حتیٰ کہ میں نے بہادر آدمی کو دیکھا کہ وہ بھی گھر جاتے ہوئے ڈرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٥؛حدیث نمبر١٩٨٠)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ فَأَلَّفَ اللهُ بَيْنَ السَّحَابِ، وَمَكَثْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1980

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک اعرابی بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ممبر پر تشریف فرما تھے آگے حدیث نمبر ١٩٧٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ یہ اضافہ ہے کہ میں نے بادلوں کو اس طرح پھٹتے ہوئے دیکھا جیسے کپڑوں کو لپیٹ دیا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٥؛حدیث نمبر١٩٨١)

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَزَادَ: فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ كَأَنَّهُ الْمُلَاءُ حِينَ تُطْوَى

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1981

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب بارش ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا اتار دیا۔حتیٰ کہ آپ پر بارش ہوئی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے ایسا کیوں کیا آپ نے فرمایا اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب عزوجل سے آئی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٥؛حدیث نمبر١٩٨٢)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ، حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1982

زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے فرماتی ہیں جب آندھی یا بادلوں والا دن ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور(خوف کی وجہ سے)متغیر ہوجاتا اور آپ آگے پیچھے چلتے پھر جب بارش ہوتی تو اس پر خوش ہوجاتے اور یہ خوف دور ہوجاتا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا مجھے اس کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ عذاب نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے میری امت پر بھیجا ہو اور بارش کو دیکھ کر فرماتے یہ رحمت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ؛جلد ٢؛ص٦١٦؛حدیث نمبر١٩٨٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ، وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي»، وَيَقُولُ، إِذَا رَأَى الْمَطَرَ: «رَحْمَةٌ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1983

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب تیز آندھی چلتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگتے۔یااللہ!میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جو اس کے اندر ہے اس کی بھلائی اور جسکے ساتھ اسے بھیجا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر کا جو کچھ اس میں ہے اس کے شرکا اور جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔وہ فرماتی ہیں جب آسمان پر بادل گرجتا تو(خوف کی وجہ سے)آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل جاتا اور آپ باہر جاتے اندر آتے آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے پھر بارش ہوتی تو آپ سے(یہ خوف)دور ہوجاتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ صورت حال دیکھ کر آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا(مجھے خوف ہے کہ)جس طرح بادلوں کو دیکھ قوم عاد نے کہا تھا کہ ہم پر بارش ہونے والی ہے(اور ان پر عذاب آگیا)کہیں ایسا نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ؛جلد ٢؛ص٦١٦؛حدیث نمبر١٩٨٤)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ، قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ»، قَالَتْ: وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ، تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، وَخَرَجَ وَدَخَلَ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ، سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ، يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} [الأحقاف: ٢٤] "

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1984

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کبھی قہقہہ لگا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا(لٹکا ہوا گوشت)نظر آجائے۔آپ صرف تبسم فرماتے تھے۔فرماتی ہیں جب آپ بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے سے معلوم ہوجاتا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں کو دیکھتی ہوں جب وہ بادلوں کو دیکھتے ہیں تو بارش کی امید پر خوش ہوتے ہیں اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ بادل کو دکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناگواری نظر آتی ہے۔ام المومنین فرماتی ہیں آپ نے فرمایا اے عائشہ!میں اس بات سے بے خوف نہیں ہوں کہ اس میں عذاب ہو۔ایک قوم کو آندھی کے ذریعہ عذاب دیا گیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہا یہ ہم پر برسنے والا بادل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ؛جلد ٢ص٦١٦؛حدیث نمبر١٩٨٥)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا، حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَى النَّاسَ، إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا، رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ؟ قَالَتْ: فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ، فَقَالُوا: {هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} [الأحقاف: ٢٤] "

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1985

Muslim Shareef Kitabo Salatil Istisqaye Hadees No# 1986

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ».

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1986

ایک اور سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٩٨٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابٌ فِي رِيحِ الصَّبَا وَالدَّبُورِ؛جلد ٢؛ص٦١٧؛حدیث نمبر١٩٨٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Istisqaye, Hadees No. 1987

Muslim Shareef : Kitabo Salatil Istisqaye

|

Muslim Shareef : كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ

|

•