
حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور بارش کے لئے دعا مانگی اور قبلہ رخ ہوکر چادر کو الٹایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛ترجمہ؛نماز استسقاء؛جلد ٢؛ص٦١١؛حدیث نمبر١٩٦٩)
حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔بارش کے لئے دعا کی قبلہ رخ ہوکر چادر کو الٹایا اور دو رکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١١؛حدیث نمبر١٩٧٠)
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور بارش کے لئے دعا فرمائی اور جب آپ نے دعا مانگنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوکر چادر کو الٹایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١١؛حدیث نمبر١٩٧١)
حضرت عبد بن تمیم مازنی اپنے چچا سے روایت کرتےہیں اور وہ صحابی تھے(رضی اللہ عنہما)وہ فرماتے ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور بارش کے لئے دعا مانگنے لگے۔آپ نے لوگوں کی طرف پیٹھ کر کے قبلہ رخ ہوتے ہوئے دعا مانگی اور اپنی چادر کو الٹایا پھر دورکعتیں پڑھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١١؛حدیث نمبر١٩٧٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ دعا میں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے حتیٰ کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آرہی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛ترجمہ؛نماز استسقاء میں دعا کے لیے دونوں ہاتھوں کا اٹھانا؛جلد ٢؛ص٦١٢؛حدیث نمبر١٩٧٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا مانگتے ہوئے ہتھیلیوں کی پیٹھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٢؛حدیث نمبر١٩٧٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کے علاوہ کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے(اس دعا میں اس قدر ہاتھ اٹھاتے کہ)آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آجاتی۔(مطلب یہ ہے کہ اس قدر مبالغہ کے ساتھ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ورنہ مطلقاً ہاتھ اٹھانا ہر نماز کے بعد جائز ہے۔علامہ غلام رسول سعیدی صاحب فرماتے ہیں۔امام نووی نے شرح المہذب میں باقی دعاؤں کے وقت ہاتھ اٹھانے کے سلسلے میں تیس سے زائد احادیث نقل کی ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٢؛حدیث نمبر١٩٧٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد٢؛ص٦١٢؛حدیث نمبر١٩٧٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن دارالقضاء کی جانب والے دروازے سے مسجد میں داخل ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ پڑھ رہے تھے وہ آپ کی طرف متوجہ ہوکر کھڑا ہوا پھر عرض کیا یا رسول اللہ!مال ہلاک ہوگئے۔اور راستے ٹوٹ گئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بارش عطاء فرمائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر دعامانگی۔یا اللہ ہمیں بارش عطاء فرما،یا اللہ ہمیں بارش عطا فرما۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں آسمان میں کوئی بادل یا بادل کا ٹکڑا دکھائی نہ دیتا تھا اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر اور حویلی نہ تھی پس اس کے پیچھے سے وہاں کی شکل کا بادل آیا حتیٰ کہ جب وہ آسمان کے درمیان بادل پھیل گیا۔پھر بارش برسنے لگی وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہ دیکھا پھر آنے والے جمعہ کے دن وہ شخص اسی دروازے سے آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے۔وہ سامنے کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مال ہلاک ہوگئے اور راستے ٹوٹ گئے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہم سے اس بارش کو روک دے۔ ( راوی)فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھائے پھر یوں دعا کی یااللہ!ہمارے ارد گرد ہو ہمارے اوپر نہ ہو یا اللہ!ٹیلوں پر بلندیوں پر پرندیوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہ پر ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بارش فوراً بند ہوگئی اور ہم دھوپ میں باہر آے۔حضرت شریک فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا یہ وہی پہلا آدمی تھا؟تو انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٣؛حدیث نمبر١٩٧٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عہد رسالت میں لوگ قحط کا شکار ہوئے تو اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ!مال ہلاک اور بچے بھوکے ہوگئے۔آگے حدیث نمبر ١٩٧٧ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا اے اللہ!ہمارے ارد گرد ہو ہمارے اوپر نہ ہو فرماتے ہیں آپ جدھر اشارہ فرماتے وہاں سے بادل چھٹ جاتے حتیٰ کہ میں نے مدینہ طیبہ کو دیکھا وہ گڑھے کی طرح ہوگیا اور وادی قناۃ ایک مہینے تک بہتی رہی اور باہر سے جو بھی آیا اس نے زیادہ بارش کی خوشخبری سنائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٤؛حدیث نمبر١٩٧٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو لوگوں نے کھڑے ہوکر چلانا شروع کر دیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!بارش بند ہوگئی،درخت سرخ ہوگئے اور جانور ہلاک ہوگئے۔آگے حدیث نمبر ١٩٧٧ کی مثل مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے چاروں طرف بارش ہوتی رہی اور مدینہ طیبہ میں ایک قطرہ بھی نہ ہوئی اور وہ ایک دائرہ کی طرح کھلا ہوا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٤؛حدیث نمبر١٩٧٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت پہلے کی طرح ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جوڑ دیا اور ہم ٹھہر گئے حتیٰ کہ میں نے بہادر آدمی کو دیکھا کہ وہ بھی گھر جاتے ہوئے ڈرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٥؛حدیث نمبر١٩٨٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک اعرابی بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ممبر پر تشریف فرما تھے آگے حدیث نمبر ١٩٧٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ یہ اضافہ ہے کہ میں نے بادلوں کو اس طرح پھٹتے ہوئے دیکھا جیسے کپڑوں کو لپیٹ دیا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٥؛حدیث نمبر١٩٨١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب بارش ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا اتار دیا۔حتیٰ کہ آپ پر بارش ہوئی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے ایسا کیوں کیا آپ نے فرمایا اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب عزوجل سے آئی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؛جلد ٢؛ص٦١٥؛حدیث نمبر١٩٨٢)
زوجہ رسول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے فرماتی ہیں جب آندھی یا بادلوں والا دن ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور(خوف کی وجہ سے)متغیر ہوجاتا اور آپ آگے پیچھے چلتے پھر جب بارش ہوتی تو اس پر خوش ہوجاتے اور یہ خوف دور ہوجاتا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا مجھے اس کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ عذاب نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے میری امت پر بھیجا ہو اور بارش کو دیکھ کر فرماتے یہ رحمت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ؛جلد ٢؛ص٦١٦؛حدیث نمبر١٩٨٣)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب تیز آندھی چلتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگتے۔یااللہ!میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جو اس کے اندر ہے اس کی بھلائی اور جسکے ساتھ اسے بھیجا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر کا جو کچھ اس میں ہے اس کے شرکا اور جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔وہ فرماتی ہیں جب آسمان پر بادل گرجتا تو(خوف کی وجہ سے)آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل جاتا اور آپ باہر جاتے اندر آتے آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے پھر بارش ہوتی تو آپ سے(یہ خوف)دور ہوجاتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ صورت حال دیکھ کر آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا(مجھے خوف ہے کہ)جس طرح بادلوں کو دیکھ قوم عاد نے کہا تھا کہ ہم پر بارش ہونے والی ہے(اور ان پر عذاب آگیا)کہیں ایسا نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ؛جلد ٢؛ص٦١٦؛حدیث نمبر١٩٨٤)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کبھی قہقہہ لگا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا(لٹکا ہوا گوشت)نظر آجائے۔آپ صرف تبسم فرماتے تھے۔فرماتی ہیں جب آپ بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے سے معلوم ہوجاتا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں کو دیکھتی ہوں جب وہ بادلوں کو دیکھتے ہیں تو بارش کی امید پر خوش ہوتے ہیں اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ بادل کو دکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناگواری نظر آتی ہے۔ام المومنین فرماتی ہیں آپ نے فرمایا اے عائشہ!میں اس بات سے بے خوف نہیں ہوں کہ اس میں عذاب ہو۔ایک قوم کو آندھی کے ذریعہ عذاب دیا گیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہا یہ ہم پر برسنے والا بادل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابُ التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ؛جلد ٢ص٦١٦؛حدیث نمبر١٩٨٥)
Muslim Shareef Kitabo Salatil Istisqaye Hadees No# 1986
ایک اور سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٩٨٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ؛بَابٌ فِي رِيحِ الصَّبَا وَالدَّبُورِ؛جلد ٢؛ص٦١٧؛حدیث نمبر١٩٨٧)
Muslim Shareef : Kitabo Salatil Istisqaye
|
Muslim Shareef : كِتَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ
|
•